Al-Baqara 2:252

Al-Baqara · from ayah 252

2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ ؕ— وَاِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۟تِلۡكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَـتۡلُوۡهَا عَلَيۡكَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ وَاِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدﷺ) تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

These are the verses of Allah which We recite to you, [O Muhammad], in truth. And indeed, you are from among the messengers.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 33 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:252

یہ اللہ کی آیات ہیں، جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سنا رہے ہیں اور تم یقیناً ان لوگوں میں سے ہو، جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدﷺ) تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم حقانیت کے ساتھ آپ پر پڑھتے ہیں، بالیقین آپ رسولوں میں سے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کے سامنے ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں، اور آپ بیشک ان پیغمبروں میں سے ہیں جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم اے محبوب تم پر ٹھیک ٹھیک پڑھتے ہیں، اور تم بےشک رسولوں میں ہو۔

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ اﷲ کی آیتیں ہیں ہم انہیں (اے حبیب!) آپ پر سچائی کے ساتھ پڑھتے ہیں، اور بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اللہ کی آیات ہیں، ہم انھیں حق کے ساتھ تجھ پر پڑھتے ہیں اور بلاشبہ تو یقینا رسولوں میں سے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں جنہیں ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں اور بلاشبہ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں رسول بنا کر مبعوث کیا گیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں سناتے ہیں مقصد کے ساتھ اور بیشک تم اللہ کے رسولوں میں سے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم پڑھ کر سناتے ہیں آپ کو اے پیغمبر حق کے ساتھ اور بیشک آپ رسولوں میں سے ہیں۔

— مولانا اسحاق مدنی

یہ اللہ کی آیتیں ہیں ہم انہیں آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں ٹھیک ٹھیک۔ اور آپ یقیناً مرسلین میں سے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ ﷺ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں حق کے ساتھ اور یقیناً (اے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (اللہ کے) رسولوں میں سے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں اور تم یقیناً ان لوگوں میں سے ہو جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

These are Allah's revelations, which We are conveying to you accurately. And O Muhammad, most surely you are of those who have been sent as Messengers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

These are the verses of Allah that We recite to you (O Prophet) , with all veracity, and certainly you are among the Messengers.

— Muhammad Taqi Usmani

These are the verses of Allah that We recite to you (O Prophet) , with all veracity, and certainly you are among the Messengers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

These are the verses of Allah, We recite them to you (O Muhammad) in truth, and surely, you are one of the Messengers (of Allah).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

These are the portents of Allah which We recite unto thee (Muhammad) with truth, and lo! thou art of the number of (Our) messengers;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

These are the verses of Allah which We recite to you, [O Muhammad], in truth. And indeed, you are from among the messengers.

— Saheeh International

(Muhammad), these are the revelations which We recite to you for a genuine purpose. Certainly you are one of Our Messengers.

— Muhammad Sarwar

These are the communications of Allah: We recite them to you with truth; and most surely you are (one) of the apostles.

— Muhammad Habib Shakir

These are the revelations of Allah We rehearse them unto thee with truth, and verily thou art of the sentones.

— Abdul Majid Daryabadi

These are the Signs of Allah: we rehearse them to thee in truth: verily Thou art one of the messengers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:252

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

یہ واقعات اور یہ تمام حق کی باتیں اے نبی ﷺ ہماری سچی وحی سے تمہیں معلوم ہوئیں، تم میرے سچے رسول ہو، میری ان باتوں کی اور خود آپ کی نبوت کی سچائی کا علم ان لوگوں کو بھی ہے جن کے ہاتھوں میں کتاب ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے زوردار پر تاکید الفاظ میں قسم کھا کر اپنے نبی ﷺ کی نبوت کی تصدیق کی۔ فالحمداللہ۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 251–252

سورة الْبَقَرَة 273 داؤد ؑ اس وقت ایک کم سن نوجوان تھے۔ اتفاق سے طالوت کے لشکر میں عین اس وقت پہنچے، جبکہ فلسطینیوں کی فوج کا گراں ڈیل پہلوان جالوت (جولِیَت) بنی اسرائیل کی فوج کو دعوت مبارزت دے رہا تھا اور اسرائیلیوں میں سے کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ اس کے مقابلے کو نکلے۔ حضرت داؤد یہ رنگ دیکھ کر بےمحابا اس کے مقابلے پر میدان میں جا پہنچے اور اس کو قتل کردیا۔ اس واقعے نے انہیں تمام اسرائیلیوں کی آنکھوں کا تارا بنادیا، طالوت نے اپنی بیٹی ان سے بیاہ دی اور آخر کار وہی اسرائیلیوں کے فرمانروا ہوئے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سموئیل اوّل۔ باب 17 و 18) سورة الْبَقَرَة 274 یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر چونکہ قرآن کریم کا ایک بڑا مقصد نبی کریم ﷺ کی نبوت کا اثبات بھی ہے اس لئے جس جگہ مضمون کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے اس کا اعادہ کردیا جاتا ہے اس موقع پر اس قصہ کی صحیح صحیح خبر دینا جب کہ آپ نے نہ کسی سے پڑھا نہ کہیں سنا نہ دیکھا، ایک معجزہ ہے جو آپ کی نبوت کی صحیح دلیل ہے اس لئے ان آیات میں آپ کی نبوت پر استدلال فرماتے ہیں۔ نبوت محمدیہ پر استدلال یہ (آیتیں جن میں یہ قصہ مذکور ہوا) اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو صحیح صحیح طور ہم تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ) آپ بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نبی ﷺ کی طرف التفات اور آپ کی رسالت کا اثبات : یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت، یہ دونوں آیتیں سلسلہ کلام کے بیچ میں بطور التفات وارد ہیں یعنی اصل سلسلہ کلام کو روک کر نبی ﷺ کو مخاطب فرمایا اور ارشاد ہوا کہ بنی اسرائیل نے اپنی تاریخ کی ایک نہایت اہم سرگزشت بالکل بےمقصد اور بےمعنی بنا کر رکھ دی تھی۔ اب ہم نے اس کو بالکل ٹھیک ٹھیک اس کے نتائج و فوائد اور اس کے حکم و مصالح کے ساتھ تمہیں سنایا ہے تاکہ اس آئینے میں تم اور تمہارے ساتھی اپنے مستقبل کے نقشہ کار کو دیکھ سکو اور یہ اس بات کی نہایت روشن دلیل ہے کہ تم انبیاء و رسل کے مبارک سلسلے کی کڑی ہو ورنہ جس چیز کے تمہارے پاس جاننے کا کوئی ذریعہ نہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

252۔ 1 یہ گزشتہ واقعات جو آپ ﷺ پر نازل کردہ کتاب کے ذریعے سے دنیا کو معلوم ہو رہے ہیں اے محمد ﷺ یقینا آپ کی رسالت و صداقت کی دلیل ہیں کیونکہ آپ ﷺ نے یہ نہ کسی کتاب میں پڑھے ہیں نہ کسی سے سنے ہیں جس سے یہ واضح ہے کہ یہ غیب کی وہ خبریں جو بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ آپ پر نازل فرما رہا ہے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر گزشتہ امتوں کے واقعات کو بیان کرکے آپ ﷺ کی صداقت کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

169: طالوت بادشاہ کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک پر ان آیات کا جاری ہونا آپ کے رسول ہونے کی دلیل ہے اس لئے آپ کے پاس ان واقعات کو جاننے کا وحی کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے، اور ٹھیک ٹھیک کے الفاظ سے شاید اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ اہل کتاب نے ان واقعات کو بیان کرنے میں کہیں مبالغے سے کام لیا ہے اور کہیں من گھڑت قصے مشہور کردئے ہیں قرآن کریم ان میں سے صرف صحیح باتیں بیان کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ آیات عالی مقام ہیں ، دوررس مقاصد کی حامل ہیں ، اور اللہ تعالیٰ خود ان کو اپنے نبی کو پڑھ کر سناتے ہیں نَتْلُوهَا عَلَيْكَ ” ہم خود تم کو سنا رہے ہیں ۔ “ ہم خود سنا رہے ہیں ۔ کس قدر عظیم بات ہے ۔ انتہائی مہیب حقیقت ہے یہ ۔ سوچنے کی بات ہے کہ خود رب ذوالجلال ان آیات کو پڑھ کر سنارہا ہے اور جو بالحق سچائی کے ساتھ ۔ خود ذات باری یہ آیات سنارہی ہے جسے سنانے کا حق ہے ۔ جس کے حکم پر یہ آیات نازل ہورہی ہیں ، جس کے حکم سے یہ انسانوں کا دستور العمل بنی ہیں ۔ اللہ کے سوا یہ مقام کسی کو حاصل نہیں ہے ۔ اس لئے جو شخص انسانوں کے لئے از خود کوئی نظام تجویز کرتا ہے وہ مفتری ہے ۔ وہ حق تعالیٰ پر افتراء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یہ قصہ جو بنی اسرائیل کا گزرا یعنی ہزاروں کا نکلنا اور ان کا دفعۃً مرنا اور جینا اور طالوت کا بادشاہ ہونا یہ سب اللہ کی آیتیں ہیں جو تجھ کو سنائی جاتی ہیں اور تم بیشک اللہ کے رسولوں میں ہو یعنی جیسے پہلے پیغمبر ہوچکے ہیں ویسے ہی تم بھی یقیناً رسول ہو کہ ان قصص قرون ماضیہ کو ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہو حالانکہ نہ کسی کتاب میں آپ نے دیکھا اور نہ کسی آدمی سے سنا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 252 تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بالْحَقِّ ط۔ یہ قول گویا حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرف منسوب ہوگا۔ یہ رسول اللہ ﷺ اور تمام مسلمانوں سے خطاب ہے کہ یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ ﷺ کو سنا رہے ہیں حق کے ساتھ۔ یہ ایک بامقصد سلسلہ ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

355 یہاں آیات اللہ سے مراد وہ معجزہ نما واقعات ہیں جو بنی اسرائیل کو پیش آئے تھے۔ جیسے وبا سے ڈر کر گھر بار چھوڑنے والے ہزاروں لوگ جنہیں اللہ نے موت کے بعد زندہ کردیا یا جیسے داؤد کا اکیلے جالوت جیسے جابر بادشاہ کو مار ڈالنا اور اللہ تعالیٰ کی ایک مختصر سی جماعت کو غلبہ عطا فرمانا اور داؤد جیسے ایک گمنام چرواہے کو بادشاہی اور نبوت سے سرفراز فرمانا وغیرہ یہ واقعات ٹھیک ٹھیک ہم نے بذریعہ وحی آپ سے بیان کردیئے ہیں اور آپ کا قرون ماضیہ کے ٹھیک ٹھیک حالات لوگوں کو بتلانا یقینا آپ کی رسالت پر ایک بڑی دلیل ہے۔ کیونکہ وحی الٰہی کے علاوہ آپ کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس کی بنا پر آپ ایسے گزشتہ صحیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

962 ۔ (آیت) ” بالحق “ یعنی بالکل بےکم وکاست، اپنی اصلی حالت میں، اور غرض صحیح کے ساتھ۔ بالیقین الذی لا یشک فیہ اھل الکتب (مدارک) بالوجہ المطابق الذی لایشک فیہ اھل الکتاب وارباب التواریخ (بیضاوی) اے ملتبسۃ بالیقین الذی لایرتاب فیہ احد من اھل الکتاب وارباب التواریخ) (ابوسعود) گویا یہاں یہ ظاہر کردیا کہ صحیح ومستند بیان صرف قرآن ہی کا ہے۔ دوسری الہامی کتابوں اور مذہبی نوشتوں کی طرح اس کے قصے غلط سلط اور مسخ شدہ ہو کر نہیں رہ گئے ہیں۔ اور اس کی ایک مثال خود یہی قصہ طالوت ہے۔ بائبل والوں نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ 963 ۔ (بس آپ اپنے پیغمبر برحق ہونے اصلا شک نہ کیجئے، ان حقائق کا نزول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 249–252

آیت نمبر 249 تا 252 ترجمہ : جب حضرت طالوت بیت المقدس سے لشکر لے کر نکلے تو اس وقت شدید گرمی تھی لشکریوں نے طالوت سے پانی کا مطالبہ کیا، تو حضرت طالوت نے فرمایا اللہ تعالیٰ تم کو ایک نہر کے ذریعہ آزمائے گا تاکہ تم میں سے فرمانبردار اور نافرمان ممتاز ہوجائیں، اور یہ نہر اردن اور فلسطین کے درمیان واقع ہے، جس نے اس میں سے پانی پی لیا تو وہ میری اتباع کرنے والوں میں سے نہیں ہے، اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے اِلاَّ یہ کہ اپنے ہاتھ سے ایک آدھ چلو بھرلے، غُرْفۃ فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، یعنی جس نے ایک چلو پر اکتفاء کیا، اور اس سے زیادہ نہ پیا تو وہ میرے متبعین میں سے ہے، جب نہر پر پہنچے تو خوب سیراب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تِلْكَ ( یہ) تلک مبتداء ہے اور آگے اسکی خبر ہے یہ مذکورہ قصوں کی طرف اور طالوت کو بادشاہ کرنے اور تابوت بھیجنے اور سرکش لوگوں کو بھگانے اور داؤد ( علیہ السلام) کے جالوت کو مار ڈالنے اور انکو سلطنت اور حکم اور جو چاہا انہیں سکھا دینے کی طرف اشارہ ہے۔ اٰيٰتُ اللّٰهِ ( اللہ کی آیتیں ہیں) یعنی اس کی قدرت اور تمہاری نبوت کی دلیلیں ہیں۔ نَتْلُوْھَا عَلَيْكَ بالْحَقِّ ( ہم سچائی کے ساتھ پڑھ کر تمہیں سناتے ہیں) یعنی اس طریقہ پر جو واقعہ کے مطابق ہے جس میں اہل کتاب کو بھی شک نہیں۔ وَاِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ( اور بیشک تم پیغمبروں میں سے ہو) اور یہ آیتیں تمہاری پیغمبری پر یقینی شاہد ہیں کیونکہ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(252) لیکن اللہ تعالیٰ دشمن کے دور کرنے میں بڑا فضل کرنے والا ہے یہ قرآن کریم جو گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرتا ہے ہم جبریل امین ؑ کے ذریعے آپ پر نازل کرتے ہیں، تاکہ حق و باطل نکھر جائے، اور بلا شبہ آپ تمام جنات اور انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یعنی پچھلی امتوں کے یہ واقعات جو ہم آپ کو سنا رہے ہیں، یہ آپ کے نبی صادق ہونے کی واضح دلیل ہیں، کیونکہ آپ نے انھیں نہ کسی کتاب میں پڑھا اور نہ کسی سے سنا، پھر بھی انھیں اس طرح ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں کہ بنی اسرائیل بھی ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ کافروں کی طرف سے آپ کی رسالت کے انکار پر انتہائی تاکیدی الفاظ ”اِنَّ“ اور ”لام تاکید“ کے ساتھ آپ کی رسالت کا اثبات ہے۔ کافر آپ کی رسالت کے انکاری تھے، جیسا کہ فرمایا : (وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا)[ الرعد : 43 ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہتے ہیں، تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار کا رد کرتے ہوئے فرمایا :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(آیت) تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق، وانک لمن المرسلین “۔ یہ آیتیں ہیں اللہ کی ہم پڑھتے ہیں انہیں آپ پر (اے حبیب) ٹھیک ٹھیک اور یقینا آپ رسولوں میں سے ہیں “۔ تلک مبتدا ہے اور (آیت) ” ایت اللہ “ اس کی خبر ہے اور اگر چاہے تو بدل بنالے اور خبر (آیت) ” نتلوھا علیک بالحق “۔ بنالے۔ (آیت) ” وانک لمن المرسلین “ یہ انکی خبر ہے یعنی وانک لمرسل “۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کا آگاہ فرمایا ہے کہ یہ آیات وہ ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور انہیں نبی مرسل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 250–252

(1) فریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ طالوت لشکر پر امیر تھے داؤد کے باپ نے اسے بھائیوں کی طرف سے کوئی چیز دے کر بھیجا۔ اور داؤد نے طالوت سے فرمایا میرے لئے کیا انعام ہوگا اگر میں جالوت کو قتل کر دوں ؟ طالوت نے کہا تیرے لئے میری ملکیت میں سے ایک تہائی حصہ ہوگا۔ اور میں تجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح بھی کر دوں گا۔ داؤد نے تو برہ اٹھایا اور اس میں تین پتھر رکھے پھر انہوں نے نام لیا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا اور پھر اپنے ہاتھ کو اس میں داخل کرتے فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو میرا اور میرے آباؤ اجداد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[تِلْکَ : یہ ] [اٰیٰتُ اللّٰہِ : اللہ کی آیات ہیں ] [نَتْلُوْہَا : ہم پڑھ کر سناتے ہیں انہیں ] [عَلَیْکَ : آپ ﷺ ‘ کو ] [بِالْحَقِّ : حق سے ] [وَاِنَّکَ : اور بیشک آپ ﷺ ] [لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ : بھیجے ہوئوں میں سے ہیں ] ترکیب : ” تِلْکَ “ مبتدأ ہے اور مرکب اضافی ” اٰیٰتُ اللّٰہِ “ اس کی خبر ہے۔ ” نَتْلُوْھَا “ میں ” ھَا “ کی ضمیر مفعولی ” اٰیٰت “ کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 249–252

طالوت کے لشکر کا عمالقہ پر غالب ہونا اور جالوت کا مقتول ہونا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا حکمران مقرر کردیا گیا اور ان کے نبی کی خبر کے مطابق مذکورہ تابوت فرشتے لے کر آگئے تو اب بنی اسرائیل کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہی، اور جہاد کرنے کے لیے نکلنا پڑا۔ جب دشمن سے جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت طالوت نے اپنے لشکروں سے فرمایا کہ تم لوگوں کا امتحان ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تم کو مبتلا فرمائے گا اور یہ ابتلا اور امتحان ایک پانی کی نہر کے ذریعہ ہوگا، چونکہ گرمی سخت تھی اور پیاس سے بےتاب ہو رہے تھے اس لیے اکثر افراد امتحان میں نا کام ہوگئے۔ مفسرین نے لکھا ہے یہ نہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 246–252

قصہ طالوت وجالوت۔ برائے ترغیب جہاد و قتال ورعایت آداب جہاد۔ قال تعالی، الم ترالی الملاء من بنی اسرائیل من بعد موسی۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ المرسلین۔ ربط) ۔ حق جل شانہ ان آیات میں بنی اسرائیل کا دوسرا قصہ بیان فرماتے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تخمینا اور اندازا گیارہ سو سال پہلے گذرا ہے اس قصہ سے جہاد و قتال کی ترغیب اور آداب جہاد کی تعلیم اور صبر و تحمل کی تلقین مقصود ہے نیز گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کا قابض اور باسط ہونا مذکور ہوا، واللہ یقبض ویبصط والیہ ترجعون۔ آیت۔ اب ان آیات اور اس قصہ میں جو یہاں مذکور ہو اس کے قبض اور بسط کی دلیل ہے کہ وہ مالک الملک ایساقابض اور باسط ہے کہ جب چاہتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

494 یہ جملہ معترضہ ہے جو نبی اکرم ﷺ کی صداقت کے اظہار کیلئے لایا گیا ہے۔ یعنی گذشتہ واقعات کا صحیح صحیح علم جو ہم آپ کو بتا رہے ہیں یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ آپ سچے پیغمبر ہیں کیونکہ ان کا علم وحی الٰہی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ نبة اللہ تعالیٰ نبی ه ﷺ ان ھذہ الایات التی تقدم ذکرھا لایعلمھا الا نبی مرسل وقرطبی ص 261 ج 3) حیث تخبر بتلک الایات وقصص القرون الماضیة واخبارھا علی ماھی علیہ من غیر مطالعة کتاب ولا اجتماع باحد یخبر بذالک (روح ص 175 ج 2)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 252–253

ربطہ آیات بنی اسرائیل کے واقعات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کی نبوت کا بطور خاص اور پھر تمام انبیاء کی نبوت کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں جہاد کی حکمت بیان فرمائی تھی۔ اور معترضین کے اعتراض کا ردّ تھا۔ اور واضح کیا تھا کہ اگر جہاد فرض نہ کیا جاتا تو مفسدین زمین میں فساد برپا کرکے اس کو خراب کردیتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت فرمائی اور بد امنی کے خاتمے کے لیے جہاد کا حکم دیا تمام انبیاء اپنے اپنے دور میں جہاد کرتے آئے ہیں۔ اسی ضمن میں طالوت کا ذکر کیا جو کہ سموئیل نبی کے زمانے میں ہوا ہے۔ آپ کے نام پر بائیبل میں د و صحیفے بھی موجود ہیں۔ آپ خود بھی جہاد میں شریک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تِلْكَ اٰيٰتُ اللہِ نَتْلُوْھَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ۝ 0 ۭ وَاِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۝ 252 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 248–252

ترکیب : ان یاتیکم جزان۔ التابوت اصل وزن اس کا فاعول ہے فیہ سکینۃ جملہ موضع حال میں ہے اور اسی طرح تحملہ الملائکۃ۔ من ربکم صفت ہے سکینۃ کی و بقیتہً اصل اس کی بقیتہ ہے لام کلمہ ہی ہے۔ الامن اغترف استثناء ہے جنس سے اور ممکن ہے کہ اول من سے ہو اور یہ محل نصب میں ہے غرفۃ غین کے فتح اور ضمہ دونوں سے جائز ہے۔ یہ مصدر ہے اور بعض کہتے ہیں بالفتح کے معنی ایک بار چلو بھرنا اور بالضم کے معنے چلو۔ الاقلیلا منصوب ہے کیونکہ استثناء ہے۔ موجب سے لا کا اسم طاقۃ اس کا عین کلمہ واو ہے لانہ من الطوق وہوالقدرۃ لنا اس کی خبر الیوم اور جالوت میں عامل معنی استقراء ہے۔ کم من فِئَۃٍ ‘ کم اس جگہ خبر یہ ہے اور موضع اس کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تِلْـکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ ط وَاِنَّـکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم پر پڑھ کے سناتے ہیں مقصد کے ساتھ اور بیشک تم اللہ کے رسولوں میں سے ہو) (252) نبی کریم ﷺ کی طرف التفات اور آپ ﷺ کی رسالت کا اثبات اس آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تین باتوں پر زور دیا گیا ہے۔ پہلی یہ بات کہ یہ قرآن کریم کی شکل میں ہم جو کچھ بھی تم پر نازل کر رہے ہیں اور ہمارا فرشتہ تمہیں پڑھ کر سنا رہا ہے یہ اللہ کی آیات ہیں۔ اس لیے کسی کو یہ شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ محمد ﷺ نے اسے خود لکھ لیا ہے۔ وہ تو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے اور جو لکھنا پڑھنا جانتے ہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : قلیل اور ضعیف جماعت کا اپنے سے طاقت ور اور زیادہ پر غالب آنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے اس فرمان میں آپ ﷺ کی کامیابی کی پیش گوئی ہے۔ جو واقعات، حقائق اور نتائج ہم آپ کے سامنے پڑھتے ہیں یہ بالکل سچ ہیں۔ جس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے معزز اور محترم امت بنایا تھا۔ ان کی راہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بعد حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو پیغمبر بنایا گیا تاآنکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے۔ بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور سخت ترین احکامات، حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی حکومت و حکمت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مافوق الفطرت خلقت،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیات کا مفہوم : 252 : تِلْکَ ٰایٰتُ اللّٰہِ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں۔ نحو : تلک مبتداء اور آیات اللہ خبر ہے۔ مطلب یہ ہوا یہ ہزاروں کے واقعات جو بیان کیے گئے اور ان کی موت کا تذکرہ ہوا اور پھر زندگی بخشنے کا اور طالوت کی بادشاہت۔ جابروں پر ایک بچہ کے ذریعہ ان کا غلبہ وغیرہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ نَتْلُوْہَا (ہم ان کو پڑھ کر سنا رہے ہیں) نحو : یہ ٰایٰتُ اللّٰہِ سے حال ہے اور اس کا عامل تلک کا معنی ہے۔ یا ٰایٰتُ اللّٰہِ یہ تلک سے بدل ہے اور نتلوھا اس کی خبر ہے۔ عَلَیْکَ بِالْحَقِّ (آپ پر حق کے ساتھ) یعنی اس یقین کے ساتھ کہ جس میں اہل کتاب کو شک کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ واقعات ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 252۔: اللہ تعالیٰ مؤمن کے ذریعے کافر کو دفع کرتا ہے اور نیک کے ذریعے برے کو ، ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے فرمایا (بےشک اللہ تعالیٰ نیک مسلم کی برکت سے اس کے سو پڑوسیوں سے مصیبت ٹال دیتے ہیں) پھر ابن عمر ؓ نے فرمایا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 250–252

(250 ۔ 252) ۔ جب جالوت کے ایک بہت بڑے لشکر سے طالوت اور اصحاب طالوت کا مقابلہ ہوا اس وقت طالوت کے لشکر کے ایمان دار لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ صبر اور استقامت کی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور دشمن کے لشکر پر ان کو فتح دی اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور پھر حضرت شمویل کے انتقال کے بعد نبوت اور طالوت کے انتقال کے بعد بادشاہت سب کچھ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا۔ اس کے بعد آیت میں ایک عادت الٰہی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض سرکشوں کی سرکشی اپنے بعض بندوں کے ذریعہ سے ہمیشہ اسی طرح رفع کرتارہتا ہے جس طرح جالوت کی سرکشی جو بڑا جابر مشہور تھا طالوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 249–252

جب بنی اسرائیل پر طالوت کی حکومت قائم ہوگئی اور مستحکم ہوگئی تو قوم نے دشمن سے مقابلے کی تیاری کی۔ طالوت بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ تو اس نے اللہ کے حکم سے ان کا امتحان لیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ثابت قدم رہنے والا کون کون ہے اور دوسری طرح کا (بھگوڑا) کو نکون ہے ؟ چناچہ فرمایا : (آیت) اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّىْ ۚ ” سنو ! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے جس نے اس میں سے پانی پی لیا، وہ میرا نہیں۔ “ پس وہ نافرمان ہے۔ اس کی بےصبر اور گناہ کی سزا یہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نہ آئے : (آیت) وَمَنْ لَّمْ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 250–256

قول باری ہے (لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی، (a) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط بات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے) ۔ ضحاک، سدی اور سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے (یآیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین، (a) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو) ۔ نیز یہ قول باری ہے (فاقتلوا المشرکین، (a) مشرکین کو قتل کرو) حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے حق میں جزیہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف ایک ہی راستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

721 آنحضرت کی رسالت کی ایک عظیم الشان دلیل اور واضح ثبوت : پس یہ آپ ﷺ کی رسالت و نبوت، اور آپ کی حقانیت و صداقت کی ایک عظیم الشان اور واضح دلیل ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ اور ان کی قوموں سے متعلق صدیوں پہلے کے یہ حالات و واقعات آپ اس طرح ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں، جبکہ آپ ﷺ نے دنیا میں کسی سے ایک حرف بھی کبھی نہیں پڑھا تھا، جس سے واضح ہوگیا کہ آپ ﷺ کے علم کا ماخذ وحی خداوندی ہی ہے، اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ ﷺ یہ سب کچھ وحی کے ذریعے ہی بتا رہے ہیں، ورنہ دوسرا کوئی ذریعہ اس علم و آگہی کا وہاں موجود نہیں تھا۔ سو یہ آپ ﷺ کی صداقت کا ایک کھلا ثبوت ہے۔ (علیہ الصلوۃ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

گزشتہ نشانیاں تشریح : اس آیت میں ایک تو اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ قرآن پاک میں جو بھی مضامین اور واقعات سابقہ قوموں کے بیان کئے گئے ہیں وہ بالکل ٹھیک اور اصل صورت میں بیان کئے گئے ہیں پچھلی قوموں کی آسمانی کتابوں کی طرح تبدیل نہیں کردیا گیا قرآن مجید کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ اس میں قیامت تک کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی یہ اللہ کا وعدہ ہے اور یہ تمام واقعات بالکل ٹھیک سنانے میں کئی مصلحتیں ہیں۔ مثلاً : پہلی بات یہ ہے کہ یہ بالکل سچے قصے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آنے والی قوموں اور نسلوں کو ان کی زندگیوں سے سبق دینا مطلوب ہے کہ نیکی اور بدی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ خلوص اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 249–253

آیات 249- 253 اسرارو معارف فلما فصل طالوت………………لمن المرسلین۔ اب جہاد کی تیاری شروع ہوئی اور حضرت طالوت لشکر کو لے کر چلے تو فرمایا اللہ نے تمہارا امتحان مقرر کیا ہے کہ راستے میں نہر پڑتی ہے لیکن اس سے پانی پینے کی اجازت نہیں ہاں اگر کوئی چلو بھر کر پی لے تو اجازت ہے۔ اب سفر اور گرمی کے مارے ہوئے لوگ صبر نہ کرسکے سوائے ایک محدود تعداد کے جن کے ایمان مضبوط تھے۔ جس نے پیٹ بھر کر پانی پیا وہ چلنے کے قابل ہی نہ رہا اور نہ اس کی پیاس ہی بجھ سکی۔ جنہوں نے چند گھونٹ لئے پیاس بھی بجھ گئی اور جہاد کی فضیلت بھی نصیب ہوئی۔ مگر جب جالوت کے لشکر کا سامنا ہوا تو یہ تعداد میں بہت کم تھے کچھ لوگ گھبراگئے کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی پچھلی امتوں کے یہ وقعات جو ہم آپ سنا رہے ہیں آپ کے نبی صادق ہونے کی واضح دلیل ہیں کیونکہ آپ نے نہیں کسی کتاب میں پڑھا اور نہ کسی سے سنا۔ بھر بھی انہیں اس طرح ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں کہ بن اسرائیل بھی ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ (ابن کثیر، رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 251–252

(2:251) فھزموھم باذن اللہ۔ ای ان اللہ تعالیٰ استجاب الدعاء المؤمنین فافرغ علیہم الصبر وثبت اقدامھم ونصرھم علی القوم الکافرین حین التقوا فھزموھم باذن اللہ یعنی بقضائہ وارادتہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی دعا قبول فرمالی ان پر صبر کے دہانے کھول دیئے۔ ان کو ثابت قدمی عطا کی۔ اور قوم کفار کے ساتھ مڈ بھیڑ ہونے پر اپنے ارادہ و حکم سے فتح نصیب فرمائی۔ ھذموھم۔ فعل ماضی جمع مذکر غائب ضمیر فاعل مؤمنون کی طرف راجع ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کافروں کے لئے ہے۔ ھزم (باب ضرب) مصدر۔ انہوں نے ان کو شکست دی۔ اتہ اللہ۔ انی ماضی واحد مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ اس نے دیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 252–254

لغات القرآن : آیت نمبر 252 تا 254 نتلوا (ہم تلاوت کرتے ہیں) ۔ المرسلین (بھیجے گئے ہیں (المرسل) ۔ تلک الرسل (یہ رسول) ۔ فضلنا (ہم نے بڑائی دی) ۔ کلم (کلام کیا) ۔ رفع (بلند کیا) ۔ ایدناہ (ہم نے اس کو قوت دی) ۔ انفقوا (خرچ کرو) ۔ ان یاتی (یہ کہ آئے) ۔ لا بیع (تجارت نہیں ہے) ۔ لا خلۃ (دوستی نہیں ہے) ۔ لا شفاعۃ (سفارش نہیں ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 252 تا 254 جہاد کے بیان میں یہ چند آیتیں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمائی جا رہی ہیں۔ ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل نے اپنی تاریخ کی ایک نہایت اہم سرگزشت کو بےمعنی اور بےمقصد بنا کر رکھ دیا تھا۔ اب ہم نے اس کو بالکل ٹھیک ٹھیک اس کے نتائج اور انجام کے ساتھ آپ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

یہ قصے جو سراسر معجزات ہیں صحیح طور اے محبوب ﷺ ! ہم تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں اور کیوں نہ بیان کریں کہ تم ہمارے رسول ﷺ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 251–252

[170] داؤد (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے دوسرے بادشاہ ہیں۔ پہلے بادشاہ طالوت تھے۔ آپ انہی کے داماد تھے۔ طالوت کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے آپ کو بادشاہ منتخب کیا۔ سلیمان (علیہ السلام) آپ ہی کے فرزند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) ان آیات میں بتایا کہ حضور ﷺ جو خود امی ہیں اور امی ماحول میں پلے ہیں ، جب ایسے ایسے معرکۃ الآرا مسائل حل فرما دیتے ہیں اور اخلاق ، سیاست ، مذہب کے باریک نکات سلجھاتے ہیں تو لامحالہ یہ غیب خداوندی پر اطلاع ہے اللہ تعالیٰ براہ راست حضور ﷺ کو آیات وبراہین تلقین فرماتے ہیں ، اور آپ ﷺ کا علم قطعی کسی انسانی استفادہ کا نتیجہ نہیں ۔ کیا یہ ممکن ہے ، کوئی انسان صحرائے عرب کے قلب میں بیٹھا ہوا معرفت و حکمت کے چشمے بہائے کیا ہو سکتا ہے کہ بجز اللہ کی تائید کے کوئی شخص اس ترتیب ، اس نظم کے ساتھ تعلیمات کو پیش کرے ؟ کیا بجز رسول ﷺ اور خدا کے فرستادہ کے ممکن ہے کہ وہ اقوام گزشتہ کے حالات بہ تفصیل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 یہ آیتیں جن بنی اسرائیل کے واقعات مذکور ہوئے یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم آپ کو صحیح اور واقع کے مطابق پڑھ کر سناتے ہیں اور بلا شبہ آپ ہمارے رسولوں اور پیغمبروں میں سے ہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جبریل (علیہ السلام) کے واسطے سے جو یہ کلام آتا ہے تو یہ بھی ہم ہی بھیجتے ہیں ، لہٰذاجبرئیل کا پڑھنا بھی ہمارا ہی پڑھنا ہے ۔ حق کا یہ مطلب ہے کہ جو واقعات ہم بیان کرتے ہیں وہ واقعہ کے عین مطابق ہیں ان کے صحیح ہونے میں تو اہل کتاب کو ذرا شک نہیں اور چونکہ نہ تم نے یہ واقعات ان کی کتابوں میں پڑھے نہ کسی تاریخ میں دیکھے اور نہ تم کو ان کی خبر ہے پھر جو تم ان کو صحیح صحیح بیان کرتے ہو تو بجزو حی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 251–252

ف 4۔ چونکہ قرآن کے اعظم مقاصد میں اثبات نبوت محمدیہ بھی ہے اس لیے اکثر جس جگہ کسی مضمون کے ساتھ مناسبت ہونے سے موقع ہوتا ہے وہاں اس کا اعادہ کیا جاتا ہے چناچہ اس مقام پر اس واقعہ کی صحیح خبردینا ایسے طور پر کہ نہ آپ نے کہیں پڑھا نہ کسی سے سنا نہ آپ نے دیکھا بوجہ معجزہ ہونے کے صریح دلیل ہے صدق دعوئے نبوت کی۔ اس لیے آگے رسول اللہ کی نبوت پر استدلال فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم کی دور رس نظر پکار رہی ہے کہ میں اللہ کا کلام ہوں : 421: اس رکوع کے واقعات پر عیسائیوں نے تاریخی طور پر غلط ہونے یا گڑ بڑ کرنے کا اعتراض کیا ہے۔ گذشتہ صفحات پر آپ پڑھ چکے ہیں کہ دراصل یہ دونوں باتیں انہوں نے خود اپنی کتاب توراۃ میں بھر دیں جن کی کوئی اصل نہ تھی اور پھر جب قرآن کریم کا بیان اس پر فٹ نہ ہوا تو انہوں نے ” اُلٹا چور کو توال کو ڈانٹے “ والاکام کیا اپنی تحریف کو چھپانے کے لئے قرآن کریم پر اعتراض جڑ دیا مگر کیسی حفاظت قرآن کریم کی نظر آتی ہے کہ جہاں اعتراض ہوتا تھا وہیں ان باتوں کا خود ذکر کر کے فرمایا کہ یہ جو کچھ پڑھا گیا ” بِالْحَقِّ 1ؕ“ ہے یعنی یہ واقعات صحیح بھی ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Since the affirmation of the prophethood of the noble Messenger of Allah is also a major objective of the Holy Qur'an, it has been so asserted as and when the occasion warrants. That he is correctly reporting the event (in verses 246-251), while he neither learnt it from someone nor heard it anywhere nor saw it, is a miracle which is a sound proof of his prophethood. Verse 252 here (and verse 253 which follows) demonstrate this proof. It is being said here that these verses in which this event has been mentioned 'are the verses of Allah that We recite to you with all veracity' and this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 251–252

273. David was then in the early years of his youth. By chance he joined the army of Saul just when the mighty champion of the Philistine army had challenged the Israelite army to combat. None of the Israelites had the courage to take up the challenge. On seeing this, David took on Goliath in a duel and slew him. From then on, David could do no wrong in the eyes of the Israelites. Saul gave him the hand of his daughter in marriage and ultimately he became the ruler of the Israelites. (For details see 1 Samuel, chapters 17 and I8.) 274. This enunciates the principle according to which God…

Read the full tafseer →