Al-Baqara 2:251

Al-Baqara · from ayah 251

2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۙ۫— وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَاٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ ؕ— وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ ۙ— لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۟فَهَزَمُوۡهُمۡ بِاِذۡنِ اللّٰهِ ۙ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوۡتَ وَاٰتٰٮهُ اللّٰهُ الۡمُلۡكَ وَالۡحِکۡمَةَ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَآءُ ‌ؕ وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ اور خدا نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا۔ اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے ہٹاتا نہ رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So they defeated them by permission of Allah, and David killed Goliath, and Allah gave him the kingship and prophethood and taught him from that which He willed. And if it were not for Allah checking [some] people by means of others, the earth would have been corrupted, but Allah is full of bounty to the worlds.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 33 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:251

آخر کا ر اللہ کے اذن سے اُنہوں نے کافروں کو مار بھگایا اور داؤدؑ نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا، اس کو علم دیا اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے ہٹاتا نہ رہتا، تو زمین کا نظام بگڑ جاتا، لیکن دنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے (کہ وہ اِس طرح دفع فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے)

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ اور خدا نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا۔ اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے ہٹاتا نہ رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی اور (حضرت) داؤد ؑ کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے داؤد ؑ کو مملکت وحکمت اور جتنا کچھ چاہا علم بھی عطا فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا، لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل وکرم کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ انہوں نے اللہ کے حکم سے ان (جالوت کے ساتھیوں) کو شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا، اور اللہ نے اس کو سلطنت اور دانائی عطا کی، اور جو علم چاہا اس کو عطا فرمایا۔ اگر اللہ لوگوں کا ایک دوسرے کے ذریعے دفاع نہ کرے تو زمین میں فساد پھیل جائے، لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہوں نے ان کو بھگا دیا اللہ کے حکم سے، اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر انہوں نے ان (جالوتی فوجوں) کو اللہ کے امر سے شکست دی، اور داؤد ؑ نے جالوت کو قتل کر دیا اور اﷲ نے ان کو (یعنی داؤد علیہ السلام کو) حکومت اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں جو چاہا سکھایا، اور اگر اﷲ لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے نہ ہٹاتا رہتا تو زمین (میں انسانی زندگی بعض جابروں کے مسلسل تسلّط اور ظلم کے باعث) برباد ہو جاتی مگر اﷲ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انھوں نے اللہ کے حکم سے انھیں شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے بادشاہی اور دانائی عطا کی اور جتنا کچھ چاہتا تھا سکھادیا۔ اور اگر اللہ کا لوگوں کو ان کے بعض کو بعض کے ساتھ ہٹانا نہ ہوتا تو یقینا زمین برباد ہوجاتی اور لیکن اللہ جہانوں پر بڑے فضل والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس تھوڑی سی جماعت نے اللہ کے حکم سے انہیں شکست دے دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے داؤد کو بادشاہی اور حکمت عطا فرمائی اور جو کچھ چاہا اسے سکھلا دیا اور اگر اللہ اسی طرح لوگوں کے ایک (شرپسند) گروہ کو دوسرے (صالح) گروہ سے ہٹاتا نہ رہتا تو زمین میں فساد ہی مچا رہتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اقوام عالم پر بڑا فضل کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اللہ کے حکم سے انہوں نے ان کو شکست دی اور داوٗد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اس کو بادشاہی اور حکمت بخشی اور اس علم سے اس کو سکھایا جس میں سے وہ چاہتا ہے۔ اور اگر اللہ ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین فساد سے بھر جاتی۔ لیکن اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو اس کے نتیجے میں انہوں نے شکست دے دی ان کافروں کو اللہ کے اذن سے اور قتل کردیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے نواز دیا ان کو بادشاہی اور حکمت کی دولت سے اور ان کو سکھا دیا وہ کچھ جو وہ چاہتا تھا اور اگر اللہ اسی طرح لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے ہٹاتا اور مٹاتا نہ رہتا تو یقینا زمین بھر جاتی فتنہ و فساد سے مگر اللہ بڑا ہی فضل والا اور مہربان ہے تمام لوگوں پر

— مولانا اسحاق مدنی

پھر انہوں نے ان کو اللہ کے حکم سے شکست دے دی۔ اور داؤد ؑ نے جالوت کو قتل کردیا۔ اور اللہ نے داؤد ؑ کو بادشاہت اور دانائی عطا کی اور جو کچھ چاہا انہیں سکھایا۔ اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو (روئے) زمین پر فساد برپا ہوجاتا۔ لیکن اللہ تو جہان والوں پر بڑا فضل رکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو انہوں نے مار بھگایا ان کو اللہ کے حکم سے اور داؤد ؑ نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا کی اور جو کچھ چاہا اسے سکھا دیا اور اگر (اس طریقے سے) اللہ ایک گروہ کو دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا لیکن اللہ تعالیٰ تو تمام جہانوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آخرکار اللہ کے اذن سے انہوں نے کافروں کو مار بھگایا اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا اس کو علم دیا۔ اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعہ سے ہٹاتا نہ رہتا تو زمین کا نظام بگڑ جاتا۔ لیکن دنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے کہ وہ اس طرح دفع فساد کرتا رہتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Consequently, by Allah's grace, they routed the unbelievers, and David killed Goliath; and Allah gave him kingship and wisdom and taught him whatever other things He willed. And if Allah had not been repelling one set of people by means of another, the earth would have been filled with chaos. But Allah is bountiful to the world (and so repels chaos in this way).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, they defeated them by the will of Allah, and Dawud (David) killed Jalut, and Allah gave him the kingdom and the wisdom and taught him what He willed. Had Allah not been pushing back some people by means of others, the earth would have been spoiled. But Allah is All-Gracious to all the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

So, they defeated them by the will of Allah, and Dawud (David) killed Jalut, and Allah gave him the kingdom and the wisdom and taught him what He willed. Had Allah not been pushing back some people by means of others, the earth would have been spoiled. But Allah is All-Gracious to all the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So they routed them by Allah's leave and Dawud (David) killed Jalut (Goliath), and Allah gave him (Dawud) the kingdom [after the death of Talut and Samuel] and Al-Hikmah (prophethood), and taught him of that which He willed. And if Allah did not check one set of people by means of another, the earth would indeed be full of mischief. But Allah is full of bounty to the `Alamin (mankind, Jinn and all that exists).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So they routed them by Allah's leave and David slew Goliath; and Allah gave him the kingdom and wisdom, and taught him of that which He willeth. And if Allah had not repelled some men by others the earth would have been corrupted. But Allah is a Lord of Kindness to (His) creatures.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So they defeated them by permission of Allah, and David killed Goliath, and Allah gave him the kingship and prophethood and taught him from that which He willed. And if it were not for Allah checking [some] people by means of others, the earth would have been corrupted, but Allah is full of bounty to the worlds.

— Saheeh International

They defeated their enemy through God's will. David slew Goliath and God granted David the kingdom and wisdom and also taught him whatever He wanted. Had God not made one group of people repel the other, the earth would have become full of corruption, but God is generous to His creatures.

— Muhammad Sarwar

So they put them to flight by Allah's permission. And Dawood slew Jalut, and Allah gave him kingdom and wisdom, and taught him of what He pleased. And were it not for Allah's repelling some men with others, the earth would certainly be in a state of disorder; but Allah is Gracious to the creatures.

— Muhammad Habib Shakir

Then they vanquished them by the leave of Allah, and Da'ud slew Jalut, and Allah vouchsafed him dominion, and Wisdom and taught him of that which He Willed. And, it not for Allah's repelling people, some of them by means of others, the earth surely were corrupted; but Allah is Gracious unto the Worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

By Allah's will they routed them; and David slew Goliath; and Allah gave him power and wisdom and taught him whatever (else) He willed. And did not Allah Check one set of people by means of another, the earth would indeed be full of mischief: But Allah is full of bounty to all the worlds.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:251

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 250–251

جالوت مارا گیا یعنی جس وقت مسلمانوں کی اس مختصر جماعت نے کفار کے ٹڈی دل لشکر دیکھے تو جناب باری میں گڑگڑا کر دعائیں کرنی شروع کیں کہ اے اللہ ہمیں صبر و ثبات کا پہاڑ بنا دے۔ لڑائی کے وقت ہمارے قدم جما دے، منہ موڑنے اور بھاگنے سے ہمیں بچا لے اور ان دشمنوں پر ہمیں غالب کر، چناچہ ان کی عاجزانہ اور مخلصانہ دعائیں قبول ہوتی ہیں، اللہ کی مدد نازل ہوتی ہے اور یہ مٹھی بھر جماعت اس ٹڈی دل لشکر کو تہس نہس کردیتی ہے اور حضرت داؤد کے ہاتھوں مخالفین کا سردار اور سرتاج جالوت مارا جاتا ہے، اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی مروی ہے کہ حضرت طالوت نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم جالوت کو قتل کرو گے تو میں اپنی بیٹی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 251–252

سورة الْبَقَرَة 273 داؤد ؑ اس وقت ایک کم سن نوجوان تھے۔ اتفاق سے طالوت کے لشکر میں عین اس وقت پہنچے، جبکہ فلسطینیوں کی فوج کا گراں ڈیل پہلوان جالوت (جولِیَت) بنی اسرائیل کی فوج کو دعوت مبارزت دے رہا تھا اور اسرائیلیوں میں سے کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ اس کے مقابلے کو نکلے۔ حضرت داؤد یہ رنگ دیکھ کر بےمحابا اس کے مقابلے پر میدان میں جا پہنچے اور اس کو قتل کردیا۔ اس واقعے نے انہیں تمام اسرائیلیوں کی آنکھوں کا تارا بنادیا، طالوت نے اپنی بیٹی ان سے بیاہ دی اور آخر کار وہی اسرائیلیوں کے فرمانروا ہوئے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سموئیل اوّل۔ باب 17 و 18) سورة الْبَقَرَة 274 یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 249–251

(3) قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ اس امتحان کی حکمت اور توجیہ احقر کے ذوق میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر جوش و خروش میں بھیڑ بھڑکا بہت ہوجایا کرتا ہے لیکن وقت پر جمنے والے کم ہوتے ہیں اور اس وقت ایسوں کا اکھڑ جانا باقی لوگوں کے پاؤں بھی اکھاڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کا علیحدہ کرنا منظور تھا اس کا یہ امتحان مقرر کیا گیا جو کہ نہایت ہی مناسب ہے کیونکہ قتال میں ضرورت استقلال وجفاکشی کی ہوتی ہے سو شدت پیاس کے وقت بےمنت پانی ملنے پر ضبط کرنا دلیل استقلال کی اور اندھے باؤ لوں کی طرح جا گرنا دلیل بےاستقلالی کی ہے، آگے خرق عادت ہے کہ زیادہ پانی پینے والے غیبی طور پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ، میں اس حقیقت نفس الامری کا اظہار ہے کہ فتح ہو یا شکست، جو کچھ بھی پیش آتا ہے اس کا اصل تعلق قلت و کثرت اور وسائل و تدابیر سے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔ اس وجہ سے اصل اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہئے نہ کہ اسباب وسائل پر۔ اس سے مقصود اسباب و وسائل کے اختیار کرنے کی نفی نہیں بلکہ تنہا انہی کو وسیلہ ظفر سمجھ لینے کی نفی ہے۔ حضرت داود جنہوں نے ایک دیوہیکل سورما کو ایک پتھر سے ڈھیر کردیا، اگرچہ اس زمانے تک نبی نہیں تھے، لیکن اس حقیقت سے آگاہ تھے، چناچہ انہوں نے جالوت کو مخاطب کر کے یہ کہا تھا کہ“ اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خداوند تلوار اور بھالے کے ذریعے سے نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

251۔ 1 حضرت داؤد ؑ جو ابھی پیغمبر نہ بادشاہ تھے اس لشکر طالوت میں ایک سپاہی کے طور پر شامل تھے ان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے جالوت کا خاتمہ کیا اور تھوڑے سے اہل ایمان کے ذریعے ایک بڑی قوم کو شکست فاش دلوائی۔ 251۔ 2 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو بادشاہت بھی عطا فرمائی اور نبوت بھی لفظ حکمت سے بعض نے نبوت بعض نے صنعت آہن گری اور بعض نے ان امور کی سمجھ مراد لی جو اس موقع جنگ پر اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادے سے فیصلہ کن ثابت ہوئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

168: جالوت دشمن کی فوج کا بڑا قوی ہیکل پہلوان تھا، سموئیل ؑ کے نام پر جو پہلی کتاب بائبل میں ہے اس میں مذکور ہے کہ وہ کئی روز تک بنی اسرائیل کو چیلنج دیتا رہا کہ کوئی اس کے مقابلے کے لئے آئے، مگر کسی کو اس سے دوبدو لڑنے کی جرأت نہ ہوئی، داؤد ؑ اس وقت نوعمر نوجوان تھے، ان کے تین بھائی جنگ میں شریک تھے، مگر وہ چونکہ سب سے چھوٹے تھے اس لئے اپنے بوڑھے والد کی خدمت کے لئے ان کے پاس رہ گئے تھے، جب میدان جنگ شروع ہوئے کئی دن گزر گئے تو ان کے والد نے انہیں اپنے تین بھائیوں کی خبر لینے کے لئے میدان جنگ بھیجا، یہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ جالوت مسلسل چیلنج دے رہا ہے اور کوئی اس سے لڑنے کے لئے آگے نہیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

نتیجہ وہی ہوا جس کے وہ منتظر تھے ، جس کا انہیں پوری طرح یقین تھا فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِآخر کار انہوں نے کافروں کو مار بھگایا ” اللہ کے اذن سے “ کا لفظ استعمال کرکے یہ بتایا جاتا ہے کہ فتح ونصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اور مسلمانوں کو اس معاملے میں اپنا ذہن اچھی طرح صاف کرلینا چاہئے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کے اذن سے ہوتا ہے ، اس قوت کی منشا کے مطابق ہوتا ہے جو اس کائنات کو چلارہی ہے ۔ مومن تو دراصل قدرت کا ایک ہاتھ ہیں ۔ ان کے ذریعے اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جو چاہتا ہے ان کے ذریعے نافذ کرتا ہے ۔ وہ خود مختار نہیں ہیں نہ ان کے ہاتھ میں کوئی قدرت ہے ۔ نہ ان کے پاس کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 250–251

2 جب سامنے ہوئے جالوت کے یعنی وہی تین سو تیرہ آدمی اور انہی تین سو تیرہ میں حضرت داؤد کے والد اور ان کے چھ بھائی اور خود حضرت داؤد بھی تھے حضرت داؤد کو راہ میں تین پتھر ملے اور بولے کہ اٹھا لے ہم کو ہم جالوت کو قتل کریں گے جب مقابلہ ہوا جالوت خود باہر نکلا اور کہا میں اکیلا تم سب کو کافی ہوں میرے سامنے آتے جاؤ حضرت شموئیل نے حضرت داؤد کے باپ کو بلایا کہ اپنے بیٹے مجھکو دکھلا اس نے چھ بیٹے دکھائے جو قد آور تھے حضرت داؤد کو نہیں دکھایا ان کا قد چھوٹا تھا اور بکریاں چراتے تھے پیغمبر نے ان کو بلوایا اور پوچھا کہ تو جالوت کو مارے گا انہوں نے کہا ماروں گا پھر جالوت کے سامنے گئے اور انہی تینوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 251 فَہَزَمُوْہُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ قف۔ اہل ایمان نے اللہ کے اذن سے اور اللہ کی مشیتّ سے دشمنوں کو شکست دی۔ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ یہ داؤد وہی حضرت داؤد علیہ السلام ہیں جو جلیل القدر نبی اور بادشاہ ہوئے۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام تھے۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ داؤد ایک گڈریے تھے اور جنگل میں اپنی بھیڑ بکریاں چرایا کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک گوپیا ہوتا تھا ‘ جس کے اندر پتھر رکھ کر وہ اس کو گھما کر مارتے تھے۔ نشانہ اتنا صحیح تھا کہ اس سے وہ اپنی بکریوں پر حملہ کرنے والے جنگلی جانوروں کے جبڑے توڑ دیا کرتے تھے۔ جب طالوت اور جالوت کے لشکر آمنے سامنے تھے تو داؤد اتفاقاً وہاں آ نکلے۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

351 حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے بکریاں چرایا کرتے تھے، پھرتیلا، مضبوط اور چست بدن تھا۔ بہت اچھے نشانہ باز تھے اور جو وحشی جانور بکریوں کے ریوڑ پر حملہ آور ہوتے۔ پتھروں کے ذریعہ ہی انہیں مار ڈالتے یا مار بھگاتے تھے۔ وہ اتنے جرات مند اور طاقتور تھے کہ اگر کوئی درندہ ان کے ہتھے چڑھ جاتا تو اس کے نچلے جبڑے پر پاؤں رکھ کر اوپر کے جبڑے کو اس زور سے کھینچتے تھے کہ اسے چیر کے رکھ دیتے تھے۔ 352 جب مقابلہ شروع ہوا تو جالوت خود سامنے آیا، اور آ کر دعوت مبارزت دینے لگا وہ سارے کا سارا لوہے میں ڈوبا ہوا تھا، صرف چہرہ اور آنکھیں ننگی تھیں۔ داؤد (علیہ السلام) نے راہ میں سے دو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

957 ۔ (آیت) ” فھزموھم “ انہوں نے انہیں یعنی طالوت کے لشکر نے جالوت والوں کو شکست دے دی۔ اذن۔ یہاں بھی حکم وتوفیق کے معنی میں ہے۔ توریت میں فلسطینیوں کی اس شکست فاش کی منظر کشی یوں کی گئی ہے :۔ ” اور فلسطیوں نے جو دیکھا کہ ان کا پہلوان مارا پڑا تو وہ بھاگ نکلے، اور اسرائیل اور یہوداہ کے لوگ اٹھے اور للکارے، اور فلسطیوں کو وادی تک اور عفران کے پھاٹک کی راہ تک رگیدا “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 17:52) 958 ۔ (آیت) ” داؤد۔ داؤد بن یسی بن عویبد ( 1024 ؁ تا 963 ؁ ق، م) ایک پیغمبر برحق ہوئے ہیں۔ قرآن میں آپ کا ذکر 16 مقاموں پر آیا ہے۔ طالوت کی فوج میں محض ایک نوجوان سپاہی کی حیثیت سے شامل تھے۔ اس وقت تک نہ نبوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 249–252

آیت نمبر 249 تا 252 ترجمہ : جب حضرت طالوت بیت المقدس سے لشکر لے کر نکلے تو اس وقت شدید گرمی تھی لشکریوں نے طالوت سے پانی کا مطالبہ کیا، تو حضرت طالوت نے فرمایا اللہ تعالیٰ تم کو ایک نہر کے ذریعہ آزمائے گا تاکہ تم میں سے فرمانبردار اور نافرمان ممتاز ہوجائیں، اور یہ نہر اردن اور فلسطین کے درمیان واقع ہے، جس نے اس میں سے پانی پی لیا تو وہ میری اتباع کرنے والوں میں سے نہیں ہے، اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے اِلاَّ یہ کہ اپنے ہاتھ سے ایک آدھ چلو بھرلے، غُرْفۃ فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، یعنی جس نے ایک چلو پر اکتفاء کیا، اور اس سے زیادہ نہ پیا تو وہ میرے متبعین میں سے ہے، جب نہر پر پہنچے تو خوب سیراب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ( پھر انہوں نے اللہ کے حکم سے (یعنی اس کی مدد سے) ان کو بھگا دیا) داؤد ( علیہ السلام) مع اپنے والد اور تیرہ بھائیوں کے طالوت کے لشکر میں تھے اور طالوت کے ساتھ وہ بھی نہر اتر گئے تھے داؤد سب بھائیوں میں چھوٹے تھے بکریاں چرایا کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے نبی کی طرف وحی بھیجی کہ جالوت کو یہ (لڑکا) مارے گا اور اس راستہ میں تین پتھروں نے ان سے کہا کہ ہم سے تم جالوت کو مارو گے اس لیے داؤد نے انہیں اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال لیا۔ طالوت انہیں ایک گھوڑا اور ایک زرہ اور ایک تلوار دینے لگے تو انہوں نے جواب دیا اگر اللہ نے میری مدد نہ کی تو یہ تلوار وغیرہ مجھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(251) چناچہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان کو شکست دے دی اور داؤد ؑ نے جالوت جو کافروں کا سرغنہ تھا کہ مار ڈالا، اللہ تعالیٰ نے داؤد ؑ کو بنی اسرائیل کی بادشاہت عطا فرمائی اور ان کو فہم اور نبوت عطا فرمائی اور بغیر آلات کے ذرہ بنانا سکھایا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کے ذریعہ بنی اسرائیل سے جالوت کے شر کو رفع کیا اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین تمام تر فساد سے بھر جاتی یعنی اللہ تعالیٰ انبیاء کرام ؑ کے ذریعے مومنین سے ان کے دشمنوں کے شر کو اور مجاہدین کے ذریعہ اہل باطل کے شرکو دور فرماتے ہیں اگر ایسا نہ ہو تو روئے زمین فساد سے پر ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ : چناچہ ان تھوڑے سے مسلمانوں نے جالوت کے لشکروں کو اللہ کے حکم سے شکست دی اور داؤد ؑ نے، جو اس وقت ایک سپاہی تھے، کفار کے بادشاہ جالوت کو قتل کردیا، جس کے نتیجے میں طالوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں سلطنت اور حکمت یعنی نبوت عطا فرمائی اور جو چاہا سکھایا، ان کو سکھائے گئے علوم میں سے قرآن مجید میں ان کے اسلحہ سازی کے علم، پرندوں کی بولی کے علم اور حکم یعنی قوت فیصلہ کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ان کی خوش الحانی اور پرندوں اور پہاڑوں کے ان کے ساتھ تسبیح کرنے کا بھی ذکر ہے۔ نادان لوگ کہتے ہیں کہ لڑائی کرنا نبیوں کا کام نہیں، اس قصہ سے معلوم ہوا کہ جہاد ہمیشہ سے رہا ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(آیت) ” نمبر 251۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” فھزموھم باذن اللہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر مدد ونصرت نازل فرمائی۔ (آیت) ” فھزموھم “ تو انہوں نے انہیں شکست دی (ان کمر توڑ دی) اور الھزم کا معنی ہے توڑنا، اور اسی سے ہے سقاء متھزم “ ، یعنی ایسی مشک جو خشکی کے سبب ٹوٹ جائے اور اسی سے وہ قول ہے جو زمزم کے بارے میں کہا گیا ہے یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا گڑھا ہے (ھزمۃ جبریل) یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے زمین کو اپنے پاؤں سے نیچے دبایا، گڑھا بن گیا اور پانی نکل آیا، اور الھزم سے مراد وہ خشک لکڑی بھی ہے جو ٹوٹ جاتی ہے۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” وقتل داؤد جالوت “ اس لئے کہ طالوت بادشاہ تھا اور جالوت کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 250–252

(1) فریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ طالوت لشکر پر امیر تھے داؤد کے باپ نے اسے بھائیوں کی طرف سے کوئی چیز دے کر بھیجا۔ اور داؤد نے طالوت سے فرمایا میرے لئے کیا انعام ہوگا اگر میں جالوت کو قتل کر دوں ؟ طالوت نے کہا تیرے لئے میری ملکیت میں سے ایک تہائی حصہ ہوگا۔ اور میں تجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح بھی کر دوں گا۔ داؤد نے تو برہ اٹھایا اور اس میں تین پتھر رکھے پھر انہوں نے نام لیا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا اور پھر اپنے ہاتھ کو اس میں داخل کرتے فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو میرا اور میرے آباؤ اجداد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَـہَزَمُوْہُمْ : تو ان لوگوں نے شکست دی ان لوگوں کو ] [بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کے اذن سے ] [وَقَتَلَ : اور قتل کیا ] [دَاوٗدُ : دائود نے ] [جَالُوْتَ : جالوت کو ] [وَاٰتٰٹہُ : اور دیا اس کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [الْمُلْکَ : ملک ] [وَالْحِکْمَۃَ : اور دانائی ] [وَعَلَّمَہٗ : اور اس نے سکھایا اس کو ] [مِمَّا : اس میں سے جس میں سے ] [یَشَآئُ : اس نے چاہا ] [وَلَوْلاَ : اور اگر نہ ہوتا ] [دَفْعُ اللّٰہِ : اللہ کا دفع کرنا ] [النَّاسَ : لوگوں کو ] [بَعْضَہُمْ : ان کے بعض کو ] [بِبَعْضٍ : بعض سے ] [لَّـفَسَدَتِ الْاَرْضُ : تو بگڑ جاتی زمین (نظم کے توازن میں) ] [وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ : اور لیکن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 249–252

طالوت کے لشکر کا عمالقہ پر غالب ہونا اور جالوت کا مقتول ہونا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا حکمران مقرر کردیا گیا اور ان کے نبی کی خبر کے مطابق مذکورہ تابوت فرشتے لے کر آگئے تو اب بنی اسرائیل کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہی، اور جہاد کرنے کے لیے نکلنا پڑا۔ جب دشمن سے جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت طالوت نے اپنے لشکروں سے فرمایا کہ تم لوگوں کا امتحان ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تم کو مبتلا فرمائے گا اور یہ ابتلا اور امتحان ایک پانی کی نہر کے ذریعہ ہوگا، چونکہ گرمی سخت تھی اور پیاس سے بےتاب ہو رہے تھے اس لیے اکثر افراد امتحان میں نا کام ہوگئے۔ مفسرین نے لکھا ہے یہ نہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 246–252

قصہ طالوت وجالوت۔ برائے ترغیب جہاد و قتال ورعایت آداب جہاد۔ قال تعالی، الم ترالی الملاء من بنی اسرائیل من بعد موسی۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ المرسلین۔ ربط) ۔ حق جل شانہ ان آیات میں بنی اسرائیل کا دوسرا قصہ بیان فرماتے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تخمینا اور اندازا گیارہ سو سال پہلے گذرا ہے اس قصہ سے جہاد و قتال کی ترغیب اور آداب جہاد کی تعلیم اور صبر و تحمل کی تلقین مقصود ہے نیز گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کا قابض اور باسط ہونا مذکور ہوا، واللہ یقبض ویبصط والیہ ترجعون۔ آیت۔ اب ان آیات اور اس قصہ میں جو یہاں مذکور ہو اس کے قبض اور بسط کی دلیل ہے کہ وہ مالک الملک ایساقابض اور باسط ہے کہ جب چاہتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

492 داؤد سے حضرت داؤد بن ایشا پیغمبر مراد ہیں اور حکمت سے مراد نبوت ہے یا عام ہے۔ جو حکومت وسلطنت کیلئے ضروری دانائی اور نبوت کو بھی شامل ہے اور مایشاء ان تمام جنگی اور صنعتی علوم وفنون کو شامل ہے جو اللہ نے ان کو عطا فرمائے تھے فلسطینی عمالقہ کا سردار جالوت حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھوں مارا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل کی حکومت دی اور نبوت سے سرفراز فرمایا اور مختلف علوم وفنون سکھائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) ابھی کمسن نوجوان تھے۔ اور اپنی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ یہ طالوت کی فوج میں پہلے شامل نہیں تھے البتہ ان کے ساتھ انکے بڑے بھائی شریک جہاد تھے۔ یہ تو محض لڑائی دیکھنے کیلئے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 250–251

ربطہ آیات گذشتہ درس میں طالوت کے لشکر کی روانگی کا تذکرہ تھا کہ جب وہ دشمن کی طرف چلے تو راستے میں طالوت نے اپنی فوج کو آزمایا کہ یہ لوگ کس حد تک تکالیف برداشت کرسکتے ہیں۔ راستے میں نہر پڑتی ہے اللہ کے حکم سے طالوت نے اپنے سپاہیوں کو اس نہر سے پانی پینے سے منع کردیا۔ اور پیاس برداشت کر نیکی تلقین کی۔ ہاں البتہ سخت شدت کی صورت میں چلو بھر پانی پی لینے کی اجازت دی مگر لشکر کی اکثریت پیاس برداشت نہ کرسکی اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا جسکی وجہ سے ان میں سستی اور کاہلی پیدا ہوگئی اور وہ آگے سفر کرنے کے قابل نہ رہے لہٰذا تھک ہار کر وہیں بیٹھ گئے۔ طالوت صرف 313 سپاہیوں کا لشکر لے کر نہر سے پار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَہَزَمُوْھُمْ بِـاِذْنِ اللہِ۝ 0 ۣ ۙ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَاٰتٰىہُ اللہُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَۃَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا يَشَاۗءُ۝ 0 ۭ وَلَوْ لَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ۝ 0 ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ۝ 251 هزم أصل الهَزْمِ : غمز الشیء الیابس حتی ينحطم، كَهَزْمِ الشّنّ ، وهَزْمِ القثّاء والبطّيخ، ومنه : الهَزِيمَةُ لأنه كما يعبّر عنه بذلک يعبّر عنه بالحطم والکسر . قال تعالی: فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ [ البقرة/ 251] ، جُنْدٌ ما هُنالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزابِ [ ص/ 11] وأصابته هَازِمَةُ الدّهر . أي : کا سرة کقولهم : فاقرة،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 248–252

ترکیب : ان یاتیکم جزان۔ التابوت اصل وزن اس کا فاعول ہے فیہ سکینۃ جملہ موضع حال میں ہے اور اسی طرح تحملہ الملائکۃ۔ من ربکم صفت ہے سکینۃ کی و بقیتہً اصل اس کی بقیتہ ہے لام کلمہ ہی ہے۔ الامن اغترف استثناء ہے جنس سے اور ممکن ہے کہ اول من سے ہو اور یہ محل نصب میں ہے غرفۃ غین کے فتح اور ضمہ دونوں سے جائز ہے۔ یہ مصدر ہے اور بعض کہتے ہیں بالفتح کے معنی ایک بار چلو بھرنا اور بالضم کے معنے چلو۔ الاقلیلا منصوب ہے کیونکہ استثناء ہے۔ موجب سے لا کا اسم طاقۃ اس کا عین کلمہ واو ہے لانہ من الطوق وہوالقدرۃ لنا اس کی خبر الیوم اور جالوت میں عامل معنی استقراء ہے۔ کم من فِئَۃٍ ‘ کم اس جگہ خبر یہ ہے اور موضع اس کا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَھَزَمُوْہُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ قف لا وَقَتَلَ دَاؤُدُ جَالُوْتَ وَاٰ تٰـہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآئُ ط وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لا لَّـفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (تو بنی اسرائیل نے انھیں اللہ کے حکم سے شکست دی اور دائود نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے بادشاہی اور حکمت عطا کی۔ اور اسے اس علم میں سے سکھایا جس میں سے وہ چاہتا ہے اور اگر اللہ ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین فساد سے بھر جاتی۔ لیکن اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے) (251) اس آیت کریمہ میں مختلف…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 250–251

فہم القرآن جب طالوت کے لشکر کا جالوت کے لشکروں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو جذبۂ ایمان سے سرشارمجاہد اپنے رب کے حضور دعائیں مانگنے لگے کہ بار الٰہا ! ہمیں حوصلہ، ثابت قدمی اور کفار پر غلبہ عطا فرما ! سو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ جناب داوٗد (علیہ السلام) نے کفار کے کمانڈر جالوت کو قتل کیا۔ جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو بہت بڑی مملکت سونپتے ہوئے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ یہ وہی داوٗد (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا جو پیغمبر بھی تھے اور حکمران بھی۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا علم وفضل عطا کرتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 251 : فَہَزَمُوْہُمْ (پس انہوں نے ان کو شکست دی) یعنی طالوت اور مؤمنین نے جالوت اور اس کے لشکروں کو۔ فیصلہ قضاء و قدر : بِاِذْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے اذن سے) یعنی اس کے فیصلہ قضا و قدر سے تذکرہ دائود۔ : وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ (اور دائود نے جالوت کو قتل کیا) دائود ( علیہ السلام) کے والد ایشٰی بھی طالوت کے لشکر میں اپنے چھ بیٹوں سمیت شامل تھے۔ دائود ان میں ساتویں تھے۔ اور وہ اپنے تمام بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اور بکریاں چراتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ دائود ہی جالوت کو قتل کرے گا۔ انہوں نے ان کے والد سے دائود کو طلب کیا وہ آگئے۔ راستے میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 251۔: (آیت)” فھزموھم باذن اللہ “۔ اللہ تعالیٰ کے علم کے ساتھ (آیت)” وقتل داؤد جالوت “۔ جالوت کے قتل کا بیان اس طرح ہے ، اہل تفسیر فرماتے ہیں طالوت کے ساتھ جن لوگوں نے نہر (دریا) کو عبور کیا تھا حضرت داؤد (علیہ السلام) کے والد ایشا بھی تھے جو اپنے تیرہ بیٹوں سمیت شریک تھے حضرت داؤد (علیہ السلام) ان تیرہ میں سے چھوٹے بیٹے تھے اور پتھر پھینکنے کا کام کیا کرتے تھے ۔ ایک دن انہوں نے باپ کو کہا اباجان ! میں جس کسی کو پتھر مارتا ہوں اسے گرا دیتا ہوں تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے والد نے کہا بیٹے خوش ہوجاؤ ، اللہ تعالیٰ نے تمہارا رزق اسی میں کیا ہے پھر ایک اور دفعہ اپنے والد کے پاس آئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 250–252

(250 ۔ 252) ۔ جب جالوت کے ایک بہت بڑے لشکر سے طالوت اور اصحاب طالوت کا مقابلہ ہوا اس وقت طالوت کے لشکر کے ایمان دار لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ صبر اور استقامت کی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور دشمن کے لشکر پر ان کو فتح دی اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور پھر حضرت شمویل کے انتقال کے بعد نبوت اور طالوت کے انتقال کے بعد بادشاہت سب کچھ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا۔ اس کے بعد آیت میں ایک عادت الٰہی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض سرکشوں کی سرکشی اپنے بعض بندوں کے ذریعہ سے ہمیشہ اسی طرح رفع کرتارہتا ہے جس طرح جالوت کی سرکشی جو بڑا جابر مشہور تھا طالوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 249–252

جب بنی اسرائیل پر طالوت کی حکومت قائم ہوگئی اور مستحکم ہوگئی تو قوم نے دشمن سے مقابلے کی تیاری کی۔ طالوت بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ تو اس نے اللہ کے حکم سے ان کا امتحان لیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ثابت قدم رہنے والا کون کون ہے اور دوسری طرح کا (بھگوڑا) کو نکون ہے ؟ چناچہ فرمایا : (آیت) اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّىْ ۚ ” سنو ! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے جس نے اس میں سے پانی پی لیا، وہ میرا نہیں۔ “ پس وہ نافرمان ہے۔ اس کی بےصبر اور گناہ کی سزا یہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نہ آئے : (آیت) وَمَنْ لَّمْ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 250–256

قول باری ہے (لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی، (a) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط بات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے) ۔ ضحاک، سدی اور سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے (یآیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین، (a) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو) ۔ نیز یہ قول باری ہے (فاقتلوا المشرکین، (a) مشرکین کو قتل کرو) حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے حق میں جزیہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف ایک ہی راستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

716 صدق و اخلاص والی دعا کی فوری قبولیت کا ایک نمونہ : یعنی ان حضرات کی اپنے رب کے حضور یہ عاجزانہ دعاء فوراً قبول ہوگئی، اور اس کے نتیجے میں انہوں نے اتنی تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود دشمن کو اس قدر آسانی سے اور اتنی جلدی شکست اور ایسی شکست فاش دے دی، کیونکہ وہ اپنے عقیدہ و ایمان میں پکے سچے اور مخلص تھے، اور ان کی دعاء بھی صدق دل سے اور اپنے خالق ومالک حقیقی کے حضور ہی تھی۔ اور یہی کامیابی کی راہ ہے، کہ کامیابی کیلئے اپنے خالق ومالک کے حضور دعا مانگی جائے اور پورے صدق و اخلاص سے مانگی جائے۔ بہرکیف اس ارشاد سے حقیقت نفس الامری کا اظہار فرما دیا گیا کہ فتح و شکست جو بھی کچھ پیش آتا ہے، اسکا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 250–251

صبر و استقامت تشریح : اس آیت میں گزشتہ آیت سے رابطہ قائم کرتے ہوئے بتایا جارہا ہے کہ جب طالوت کا لشکر جالوت کے مقابلہ میں آیا تو انہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے فتح و کامیابی کی دعا کی کہ ” اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو صبر اور مضبوطی عطا کر، ہمارے قدم مضبوط کر دے، ہماری پوری مدد کر اور ہمیں کافروں کی قوم پر فتح نصیب کر۔ “ اللہ کی مدد کافروں پر فتح حاصل کرنے کے لئے مانگی گئی تھی اور بڑے خلوص اور اعتماد سے مانگی گئی تھی سو اللہ تعالیٰ نے قبول کی، ان کی مدد فرمائی اور انہوں نے کافروں کو شکست دی واقعہ اس طرح ہوا کہ جب جالوت نے آکر مقابلہ کی دعوت دی تو کوئی بھی اس کے مقابلہ کی ہمت نہ کرسکا اس پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 249–253

آیات 249- 253 اسرارو معارف فلما فصل طالوت………………لمن المرسلین۔ اب جہاد کی تیاری شروع ہوئی اور حضرت طالوت لشکر کو لے کر چلے تو فرمایا اللہ نے تمہارا امتحان مقرر کیا ہے کہ راستے میں نہر پڑتی ہے لیکن اس سے پانی پینے کی اجازت نہیں ہاں اگر کوئی چلو بھر کر پی لے تو اجازت ہے۔ اب سفر اور گرمی کے مارے ہوئے لوگ صبر نہ کرسکے سوائے ایک محدود تعداد کے جن کے ایمان مضبوط تھے۔ جس نے پیٹ بھر کر پانی پیا وہ چلنے کے قابل ہی نہ رہا اور نہ اس کی پیاس ہی بجھ سکی۔ جنہوں نے چند گھونٹ لئے پیاس بھی بجھ گئی اور جہاد کی فضیلت بھی نصیب ہوئی۔ مگر جب جالوت کے لشکر کا سامنا ہوا تو یہ تعداد میں بہت کم تھے کچھ لوگ گھبراگئے کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 250–251

ف 4 انہی تین سو تیرہ میں سے ایک حضرت داؤد (علیہ السلام) تھے۔ اسرائیل روایات میں ہے کہ ان کے ہاتھ میں غلیل تھی جس سے انہوں نے یکے بعد دیگرے جالوت کو تین پتھر مارے جو اس کے ماتھے پر لگے اور وہ مرگیا۔ طالوت نے ان سے وعدہ کررکھا تھا کہا گر وہ جالوت کو قتل کردیں گے تو ان سے اپنی بیٹی کی شادی کر دے گا اور سلطنت میں انہیں اپنا سہیم بنالے گا چناچہ طالوت نے اپنا وعدہ پورا کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت دادؤد کے متعلق فرمایا : اور اللہ تعالیٰ نے اسے سلطنت دی، یعنی حضرت شمو ئیل (علیہ السلام) کے بعد نبوت (ابن کثیر) اور علمہ ممایشاء سے ان آیات کی طرف اشارہ ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھیں۔ (معالم)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 251–252

(2:251) فھزموھم باذن اللہ۔ ای ان اللہ تعالیٰ استجاب الدعاء المؤمنین فافرغ علیہم الصبر وثبت اقدامھم ونصرھم علی القوم الکافرین حین التقوا فھزموھم باذن اللہ یعنی بقضائہ وارادتہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی دعا قبول فرمالی ان پر صبر کے دہانے کھول دیئے۔ ان کو ثابت قدمی عطا کی۔ اور قوم کفار کے ساتھ مڈ بھیڑ ہونے پر اپنے ارادہ و حکم سے فتح نصیب فرمائی۔ ھذموھم۔ فعل ماضی جمع مذکر غائب ضمیر فاعل مؤمنون کی طرف راجع ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کافروں کے لئے ہے۔ ھزم (باب ضرب) مصدر۔ انہوں نے ان کو شکست دی۔ اتہ اللہ۔ انی ماضی واحد مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ اس نے دیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 246–251

لغات القرآن : آیت نمبر 246 تا 251 الملاء (سردار) ۔ ابعث (اٹھا دے) ۔ ملک (بادشاہ) ۔ نقاتل (ہم جہاد کریں گے) ۔ ھل عسیتم (کیا تم سے یہی توقع نہیں ہے) ۔ الا تقاتلوا (یہ کہ تم جہاد نہ کرو گے) ۔ مالنا (ہمیں کیا ہوا) ۔ اخرجنا (ہم نکالے گئے ہیں ) ۔ نحن احق (ہم زیادہ حق دار ہیں) ۔ لم یؤت (نہیں دیا گیا) ۔ سعۃ (گنجائش، وسعت) ۔ اصطفہ (اس نے اس کو منتخب کرلیا ہے) ۔ بسطۃ (پھیلاؤ) ۔ سکینۃ (سکون) ۔ فصل (وہ جدا ہوا) ۔ مبتلی (آزمانے والا ) ۔ لم یطعمہ (جس نے نہیں چکھا ) ۔ اغترف (بھر لیا، چلو بھر لینا) ۔ تشریح : آیت نمبر 246 تا 251 اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا کی تھیں مگر انہوں نے نا شکریوں اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اگر ہم بعض آدمیوں کو بعض کے اوپر مسلط نہ کرتے تو البتہ زمین خراب ہوجاتی یعنی کفر کی سیاہی پھیل جاتی اور زمین کی منفعتیں زائل ہوجاتیں، اور بہت لوگ ایمان کی نعمت سے محروم رہ جاتے۔ لیکن اللہ تو اپنے بندوں پر مہر بان ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 251–252

[170] داؤد (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے دوسرے بادشاہ ہیں۔ پہلے بادشاہ طالوت تھے۔ آپ انہی کے داماد تھے۔ طالوت کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے آپ کو بادشاہ منتخب کیا۔ سلیمان (علیہ السلام) آپ ہی کے فرزند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

جہاد کیوں ضروری ہے ؟ (ف 1) قرآن حکیم نے جہاد پر بڑا زور دیا ہے اور یہ اس لئے کہ اگر ظالم کے خلاف جنگ نہ کی جائے ، سرکش کی زیادیتوں کو نہ روکا جائے مظلوم کی حمایت نہ کی جائے اور ہر متمرد وفرعون کو موقع دیا جائے کہ وہ جس طرح چاہے ، اپنے ملوکیت پر ستانہ اغراض پورے کرلے تو پھر عدل و انصاف کا قیام ناممکن ہوجائے گا دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا ، اور اللہ کی وسیع و عریض زمین پر کوئی عافیت کی جگہ نہیں رہے گی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اس دعا کے بعد طالوت کے ساتھیوں نے جالوت والوں کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے چکنا چور کردیا اور ان کو شکست دے دی اور ایشیا کے لڑکے دائود نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد دائود کو سلطنت اور حکمت یعنی نبوت عطا کی اور بھی جو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا دائود کے لئے مناسب سمجھا اس کو تعلیم کردیا اور سکھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو یعنی اہل باطل کو بعض لوگوں یعنی اہل حق کے ہاتھوں دفع نہ کرائے اور اہل باطل کو شکست نہ دلاتا رہے تو زمین تبا ہ ہوجائے اور زمین اہل شر و فساد کی شرارتوں اور فساد سے بھر جائے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ اہل عالم پر بڑا صاحب فضل ہے کہ بروں کو اچھوں کے ہاتھوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 251–252

ف 4۔ چونکہ قرآن کے اعظم مقاصد میں اثبات نبوت محمدیہ بھی ہے اس لیے اکثر جس جگہ کسی مضمون کے ساتھ مناسبت ہونے سے موقع ہوتا ہے وہاں اس کا اعادہ کیا جاتا ہے چناچہ اس مقام پر اس واقعہ کی صحیح خبردینا ایسے طور پر کہ نہ آپ نے کہیں پڑھا نہ کسی سے سنا نہ آپ نے دیکھا بوجہ معجزہ ہونے کے صریح دلیل ہے صدق دعوئے نبوت کی۔ اس لیے آگے رسول اللہ کی نبوت پر استدلال فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لشکر طالوت نے لشکر جالوت کو شکست سے دو چار کردیا : 420: طالوت کے لشکر نے جالوت والوں کو شکست دے دی۔ اللہ نے ان کی دعا کو شرف اجابت بخشا اور داؤد نے کفار کے سپہ سالار جالوت کی گردن اڑا دی چناچہ ساؤل یعنی طالوت کے بعد داؤد کو بنی اسرائیل کی بادشاہت نوازش کی گئی اور سموئیل کے بعد وہ نبوت سے بھی سرفراز کئے گئے۔ اس طرح دونوں طرح کے انتظامات آپ کے ہاتھ میں دیدیئے گئے۔ دنیا میں اگر لڑائی کا سلسلہ بند ہوجاتا تو تمام کرؤ ارضی شرو فساد کا گھر بن جاتا ۔ مگر اللہ کو ابھی اس کا باقی رکھنا منظور ہے اس لئے کفر اور ارباب کفر کی باطل پر ستانہ سعی و کوشش کو فنا کرنے کے لئے سرفروشوں کو کھڑا کردیا جاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 249–251

Verse 249: قَالَ إِنَّ اللَّـهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ (He said: Allah is going to test you by a river). The wisdom behind this test, as perceived by this humble commentator, appears to be as follows. Not difficult to imagine is the excitement created on such occasions but there are not many who would stay firm in their hour of trial. And should such a time come, the weakness shown by such people becomes contagious making others panic as well. Allah Almighty willed that such people be pruned out. This purpose was accomplished by this test, which is very appropriate, because steadfastness is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 251–252

273. David was then in the early years of his youth. By chance he joined the army of Saul just when the mighty champion of the Philistine army had challenged the Israelite army to combat. None of the Israelites had the courage to take up the challenge. On seeing this, David took on Goliath in a duel and slew him. From then on, David could do no wrong in the eyes of the Israelites. Saul gave him the hand of his daughter in marriage and ultimately he became the ruler of the Israelites. (For details see 1 Samuel, chapters 17 and I8.) 274. This enunciates the principle according to which God…

Read the full tafseer →