Explained with ayahs 250–251
جالوت مارا گیا
یعنی جس وقت مسلمانوں کی اس مختصر جماعت نے کفار کے ٹڈی دل لشکر دیکھے تو جناب باری میں گڑگڑا کر دعائیں کرنی شروع کیں کہ اے اللہ ہمیں صبر و ثبات کا پہاڑ بنا دے۔ لڑائی کے وقت ہمارے قدم جما دے، منہ موڑنے اور بھاگنے سے ہمیں بچا لے اور ان دشمنوں پر ہمیں غالب کر، چناچہ ان کی عاجزانہ اور مخلصانہ دعائیں قبول ہوتی ہیں، اللہ کی مدد نازل ہوتی ہے اور یہ مٹھی بھر جماعت اس ٹڈی دل لشکر کو تہس نہس کردیتی ہے اور حضرت داؤد کے ہاتھوں مخالفین کا سردار اور سرتاج جالوت مارا جاتا ہے، اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی مروی ہے کہ حضرت طالوت نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم جالوت کو قتل کرو گے تو میں اپنی بیٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 251–252
سورة الْبَقَرَة 273
داؤد ؑ اس وقت ایک کم سن نوجوان تھے۔ اتفاق سے طالوت کے لشکر میں عین اس وقت پہنچے، جبکہ فلسطینیوں کی فوج کا گراں ڈیل پہلوان جالوت (جولِیَت) بنی اسرائیل کی فوج کو دعوت مبارزت دے رہا تھا اور اسرائیلیوں میں سے کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ اس کے مقابلے کو نکلے۔ حضرت داؤد یہ رنگ دیکھ کر بےمحابا اس کے مقابلے پر میدان میں جا پہنچے اور اس کو قتل کردیا۔ اس واقعے نے انہیں تمام اسرائیلیوں کی آنکھوں کا تارا بنادیا، طالوت نے اپنی بیٹی ان سے بیاہ دی اور آخر کار وہی اسرائیلیوں کے فرمانروا ہوئے۔ (تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سموئیل اوّل۔ باب 17 و 18)
سورة الْبَقَرَة 274
یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–251
(3) قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ اس امتحان کی حکمت اور توجیہ احقر کے ذوق میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر جوش و خروش میں بھیڑ بھڑکا بہت ہوجایا کرتا ہے لیکن وقت پر جمنے والے کم ہوتے ہیں اور اس وقت ایسوں کا اکھڑ جانا باقی لوگوں کے پاؤں بھی اکھاڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کا علیحدہ کرنا منظور تھا اس کا یہ امتحان مقرر کیا گیا جو کہ نہایت ہی مناسب ہے کیونکہ قتال میں ضرورت استقلال وجفاکشی کی ہوتی ہے سو شدت پیاس کے وقت بےمنت پانی ملنے پر ضبط کرنا دلیل استقلال کی اور اندھے باؤ لوں کی طرح جا گرنا دلیل بےاستقلالی کی ہے، آگے خرق عادت ہے کہ زیادہ پانی پینے والے غیبی طور پر…
Read the full tafseer →فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ، میں اس حقیقت نفس الامری کا اظہار ہے کہ فتح ہو یا شکست، جو کچھ بھی پیش آتا ہے اس کا اصل تعلق قلت و کثرت اور وسائل و تدابیر سے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔ اس وجہ سے اصل اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہئے نہ کہ اسباب وسائل پر۔ اس سے مقصود اسباب و وسائل کے اختیار کرنے کی نفی نہیں بلکہ تنہا انہی کو وسیلہ ظفر سمجھ لینے کی نفی ہے۔ حضرت داود جنہوں نے ایک دیوہیکل سورما کو ایک پتھر سے ڈھیر کردیا، اگرچہ اس زمانے تک نبی نہیں تھے، لیکن اس حقیقت سے آگاہ تھے، چناچہ انہوں نے جالوت کو مخاطب کر کے یہ کہا تھا کہ“ اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خداوند تلوار اور بھالے کے ذریعے سے نہیں…
Read the full tafseer →251۔ 1 حضرت داؤد ؑ جو ابھی پیغمبر نہ بادشاہ تھے اس لشکر طالوت میں ایک سپاہی کے طور پر شامل تھے ان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے جالوت کا خاتمہ کیا اور تھوڑے سے اہل ایمان کے ذریعے ایک بڑی قوم کو شکست فاش دلوائی۔
251۔ 2 اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو بادشاہت بھی عطا فرمائی اور نبوت بھی لفظ حکمت سے بعض نے نبوت بعض نے صنعت آہن گری اور بعض نے ان امور کی سمجھ مراد لی جو اس موقع جنگ پر اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادے سے فیصلہ کن ثابت ہوئے۔
Read the full tafseer →168: جالوت دشمن کی فوج کا بڑا قوی ہیکل پہلوان تھا، سموئیل ؑ کے نام پر جو پہلی کتاب بائبل میں ہے اس میں مذکور ہے کہ وہ کئی روز تک بنی اسرائیل کو چیلنج دیتا رہا کہ کوئی اس کے مقابلے کے لئے آئے، مگر کسی کو اس سے دوبدو لڑنے کی جرأت نہ ہوئی، داؤد ؑ اس وقت نوعمر نوجوان تھے، ان کے تین بھائی جنگ میں شریک تھے، مگر وہ چونکہ سب سے چھوٹے تھے اس لئے اپنے بوڑھے والد کی خدمت کے لئے ان کے پاس رہ گئے تھے، جب میدان جنگ شروع ہوئے کئی دن گزر گئے تو ان کے والد نے انہیں اپنے تین بھائیوں کی خبر لینے کے لئے میدان جنگ بھیجا، یہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ جالوت مسلسل چیلنج دے رہا ہے اور کوئی اس سے لڑنے کے لئے آگے نہیں…
Read the full tafseer →نتیجہ وہی ہوا جس کے وہ منتظر تھے ، جس کا انہیں پوری طرح یقین تھا فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِآخر کار انہوں نے کافروں کو مار بھگایا ” اللہ کے اذن سے “ کا لفظ استعمال کرکے یہ بتایا جاتا ہے کہ فتح ونصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اور مسلمانوں کو اس معاملے میں اپنا ذہن اچھی طرح صاف کرلینا چاہئے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کے اذن سے ہوتا ہے ، اس قوت کی منشا کے مطابق ہوتا ہے جو اس کائنات کو چلارہی ہے ۔ مومن تو دراصل قدرت کا ایک ہاتھ ہیں ۔ ان کے ذریعے اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جو چاہتا ہے ان کے ذریعے نافذ کرتا ہے ۔ وہ خود مختار نہیں ہیں نہ ان کے ہاتھ میں کوئی قدرت ہے ۔ نہ ان کے پاس کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–251
2 جب سامنے ہوئے جالوت کے یعنی وہی تین سو تیرہ آدمی اور انہی تین سو تیرہ میں حضرت داؤد کے والد اور ان کے چھ بھائی اور خود حضرت داؤد بھی تھے حضرت داؤد کو راہ میں تین پتھر ملے اور بولے کہ اٹھا لے ہم کو ہم جالوت کو قتل کریں گے جب مقابلہ ہوا جالوت خود باہر نکلا اور کہا میں اکیلا تم سب کو کافی ہوں میرے سامنے آتے جاؤ حضرت شموئیل نے حضرت داؤد کے باپ کو بلایا کہ اپنے بیٹے مجھکو دکھلا اس نے چھ بیٹے دکھائے جو قد آور تھے حضرت داؤد کو نہیں دکھایا ان کا قد چھوٹا تھا اور بکریاں چراتے تھے پیغمبر نے ان کو بلوایا اور پوچھا کہ تو جالوت کو مارے گا انہوں نے کہا ماروں گا پھر جالوت کے سامنے گئے اور انہی تینوں…
Read the full tafseer →آیت 251 فَہَزَمُوْہُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ قف۔
اہل ایمان نے اللہ کے اذن سے اور اللہ کی مشیتّ سے دشمنوں کو شکست دی۔
وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ
یہ داؤد وہی حضرت داؤد علیہ السلام ہیں جو جلیل القدر نبی اور بادشاہ ہوئے۔ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام تھے۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ داؤد ایک گڈریے تھے اور جنگل میں اپنی بھیڑ بکریاں چرایا کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک گوپیا ہوتا تھا ‘ جس کے اندر پتھر رکھ کر وہ اس کو گھما کر مارتے تھے۔ نشانہ اتنا صحیح تھا کہ اس سے وہ اپنی بکریوں پر حملہ کرنے والے جنگلی جانوروں کے جبڑے توڑ دیا کرتے تھے۔ جب طالوت اور جالوت کے لشکر آمنے سامنے تھے تو داؤد اتفاقاً وہاں آ نکلے۔…
Read the full tafseer →351 حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے بکریاں چرایا کرتے تھے، پھرتیلا، مضبوط اور چست بدن تھا۔ بہت اچھے نشانہ باز تھے اور جو وحشی جانور بکریوں کے ریوڑ پر حملہ آور ہوتے۔ پتھروں کے ذریعہ ہی انہیں مار ڈالتے یا مار بھگاتے تھے۔ وہ اتنے جرات مند اور طاقتور تھے کہ اگر کوئی درندہ ان کے ہتھے چڑھ جاتا تو اس کے نچلے جبڑے پر پاؤں رکھ کر اوپر کے جبڑے کو اس زور سے کھینچتے تھے کہ اسے چیر کے رکھ دیتے تھے۔
352 جب مقابلہ شروع ہوا تو جالوت خود سامنے آیا، اور آ کر دعوت مبارزت دینے لگا وہ سارے کا سارا لوہے میں ڈوبا ہوا تھا، صرف چہرہ اور آنکھیں ننگی تھیں۔ داؤد (علیہ السلام) نے راہ میں سے دو…
Read the full tafseer →957 ۔ (آیت) ” فھزموھم “ انہوں نے انہیں یعنی طالوت کے لشکر نے جالوت والوں کو شکست دے دی۔ اذن۔ یہاں بھی حکم وتوفیق کے معنی میں ہے۔ توریت میں فلسطینیوں کی اس شکست فاش کی منظر کشی یوں کی گئی ہے :۔ ” اور فلسطیوں نے جو دیکھا کہ ان کا پہلوان مارا پڑا تو وہ بھاگ نکلے، اور اسرائیل اور یہوداہ کے لوگ اٹھے اور للکارے، اور فلسطیوں کو وادی تک اور عفران کے پھاٹک کی راہ تک رگیدا “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 17:52)
958 ۔ (آیت) ” داؤد۔ داؤد بن یسی بن عویبد ( 1024 تا 963 ق، م) ایک پیغمبر برحق ہوئے ہیں۔ قرآن میں آپ کا ذکر 16 مقاموں پر آیا ہے۔ طالوت کی فوج میں محض ایک نوجوان سپاہی کی حیثیت سے شامل تھے۔ اس وقت تک نہ نبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–252
آیت نمبر 249 تا 252
ترجمہ : جب حضرت طالوت بیت المقدس سے لشکر لے کر نکلے تو اس وقت شدید گرمی تھی لشکریوں نے طالوت سے پانی کا مطالبہ کیا، تو حضرت طالوت نے فرمایا اللہ تعالیٰ تم کو ایک نہر کے ذریعہ آزمائے گا تاکہ تم میں سے فرمانبردار اور نافرمان ممتاز ہوجائیں، اور یہ نہر اردن اور فلسطین کے درمیان واقع ہے، جس نے اس میں سے پانی پی لیا تو وہ میری اتباع کرنے والوں میں سے نہیں ہے، اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے اِلاَّ یہ کہ اپنے ہاتھ سے ایک آدھ چلو بھرلے، غُرْفۃ فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، یعنی جس نے ایک چلو پر اکتفاء کیا، اور اس سے زیادہ نہ پیا تو وہ میرے متبعین میں سے ہے، جب نہر پر پہنچے تو خوب سیراب…
Read the full tafseer →فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ( پھر انہوں نے اللہ کے حکم سے (یعنی اس کی مدد سے) ان کو بھگا دیا) داؤد ( علیہ السلام) مع اپنے والد اور تیرہ بھائیوں کے طالوت کے لشکر میں تھے اور طالوت کے ساتھ وہ بھی نہر اتر گئے تھے داؤد سب بھائیوں میں چھوٹے تھے بکریاں چرایا کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے نبی کی طرف وحی بھیجی کہ جالوت کو یہ (لڑکا) مارے گا اور اس راستہ میں تین پتھروں نے ان سے کہا کہ ہم سے تم جالوت کو مارو گے اس لیے داؤد نے انہیں اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال لیا۔ طالوت انہیں ایک گھوڑا اور ایک زرہ اور ایک تلوار دینے لگے تو انہوں نے جواب دیا اگر اللہ نے میری مدد نہ کی تو یہ تلوار وغیرہ مجھے…
Read the full tafseer →(251) چناچہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان کو شکست دے دی اور داؤد ؑ نے جالوت جو کافروں کا سرغنہ تھا کہ مار ڈالا، اللہ تعالیٰ نے داؤد ؑ کو بنی اسرائیل کی بادشاہت عطا فرمائی اور ان کو فہم اور نبوت عطا فرمائی اور بغیر آلات کے ذرہ بنانا سکھایا۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کے ذریعہ بنی اسرائیل سے جالوت کے شر کو رفع کیا اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین تمام تر فساد سے بھر جاتی یعنی اللہ تعالیٰ انبیاء کرام ؑ کے ذریعے مومنین سے ان کے دشمنوں کے شر کو اور مجاہدین کے ذریعہ اہل باطل کے شرکو دور فرماتے ہیں اگر ایسا نہ ہو تو روئے زمین فساد سے پر ہوجائے۔
Read the full tafseer →فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ : چناچہ ان تھوڑے سے مسلمانوں نے جالوت کے لشکروں کو اللہ کے حکم سے شکست دی اور داؤد ؑ نے، جو اس وقت ایک سپاہی تھے، کفار کے بادشاہ جالوت کو قتل کردیا، جس کے نتیجے میں طالوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں سلطنت اور حکمت یعنی نبوت عطا فرمائی اور جو چاہا سکھایا، ان کو سکھائے گئے علوم میں سے قرآن مجید میں ان کے اسلحہ سازی کے علم، پرندوں کی بولی کے علم اور حکم یعنی قوت فیصلہ کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ان کی خوش الحانی اور پرندوں اور پہاڑوں کے ان کے ساتھ تسبیح کرنے کا بھی ذکر ہے۔
نادان لوگ کہتے ہیں کہ لڑائی کرنا نبیوں کا کام نہیں، اس قصہ سے معلوم ہوا کہ جہاد ہمیشہ سے رہا ہے…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 251۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” فھزموھم باذن اللہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر مدد ونصرت نازل فرمائی۔ (آیت) ” فھزموھم “ تو انہوں نے انہیں شکست دی (ان کمر توڑ دی) اور الھزم کا معنی ہے توڑنا، اور اسی سے ہے سقاء متھزم “ ، یعنی ایسی مشک جو خشکی کے سبب ٹوٹ جائے اور اسی سے وہ قول ہے جو زمزم کے بارے میں کہا گیا ہے یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا گڑھا ہے (ھزمۃ جبریل) یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے زمین کو اپنے پاؤں سے نیچے دبایا، گڑھا بن گیا اور پانی نکل آیا، اور الھزم سے مراد وہ خشک لکڑی بھی ہے جو ٹوٹ جاتی ہے۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” وقتل داؤد جالوت “ اس لئے کہ طالوت بادشاہ تھا اور جالوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–252
(1) فریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ طالوت لشکر پر امیر تھے داؤد کے باپ نے اسے بھائیوں کی طرف سے کوئی چیز دے کر بھیجا۔ اور داؤد نے طالوت سے فرمایا میرے لئے کیا انعام ہوگا اگر میں جالوت کو قتل کر دوں ؟ طالوت نے کہا تیرے لئے میری ملکیت میں سے ایک تہائی حصہ ہوگا۔ اور میں تجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح بھی کر دوں گا۔ داؤد نے تو برہ اٹھایا اور اس میں تین پتھر رکھے پھر انہوں نے نام لیا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا اور پھر اپنے ہاتھ کو اس میں داخل کرتے فرمایا اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو میرا اور میرے آباؤ اجداد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب…
Read the full tafseer →[فَـہَزَمُوْہُمْ : تو ان لوگوں نے شکست دی ان لوگوں کو ] [بِاِذْنِ اللّٰہِ : اللہ کے اذن سے ] [وَقَتَلَ : اور قتل کیا ] [دَاوٗدُ : دائود نے ] [جَالُوْتَ : جالوت کو ] [وَاٰتٰٹہُ : اور دیا اس کو ] [اللّٰہُ : اللہ نے ] [الْمُلْکَ : ملک ] [وَالْحِکْمَۃَ : اور دانائی ] [وَعَلَّمَہٗ : اور اس نے سکھایا اس کو ] [مِمَّا : اس میں سے جس میں سے ] [یَشَآئُ : اس نے چاہا ] [وَلَوْلاَ : اور اگر نہ ہوتا ] [دَفْعُ اللّٰہِ : اللہ کا دفع کرنا ] [النَّاسَ : لوگوں کو ] [بَعْضَہُمْ : ان کے بعض کو ] [بِبَعْضٍ : بعض سے ] [لَّـفَسَدَتِ الْاَرْضُ : تو بگڑ جاتی زمین (نظم کے توازن میں) ] [وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ : اور لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–252
طالوت کے لشکر کا عمالقہ پر غالب ہونا اور جالوت کا مقتول ہونا
جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا حکمران مقرر کردیا گیا اور ان کے نبی کی خبر کے مطابق مذکورہ تابوت فرشتے لے کر آگئے تو اب بنی اسرائیل کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہی، اور جہاد کرنے کے لیے نکلنا پڑا۔ جب دشمن سے جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت طالوت نے اپنے لشکروں سے فرمایا کہ تم لوگوں کا امتحان ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تم کو مبتلا فرمائے گا اور یہ ابتلا اور امتحان ایک پانی کی نہر کے ذریعہ ہوگا، چونکہ گرمی سخت تھی اور پیاس سے بےتاب ہو رہے تھے اس لیے اکثر افراد امتحان میں نا کام ہوگئے۔ مفسرین نے لکھا ہے یہ نہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–252
قصہ طالوت وجالوت۔
برائے ترغیب جہاد و قتال ورعایت آداب جہاد۔
قال تعالی، الم ترالی الملاء من بنی اسرائیل من بعد موسی۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ المرسلین۔
ربط) ۔ حق جل شانہ ان آیات میں بنی اسرائیل کا دوسرا قصہ بیان فرماتے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تخمینا اور اندازا گیارہ سو سال پہلے گذرا ہے اس قصہ سے جہاد و قتال کی ترغیب اور آداب جہاد کی تعلیم اور صبر و تحمل کی تلقین مقصود ہے نیز گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کا قابض اور باسط ہونا مذکور ہوا، واللہ یقبض ویبصط والیہ ترجعون۔ آیت۔ اب ان آیات اور اس قصہ میں جو یہاں مذکور ہو اس کے قبض اور بسط کی دلیل ہے کہ وہ مالک الملک ایساقابض اور باسط ہے کہ جب چاہتا ہے کہ…
Read the full tafseer →492 داؤد سے حضرت داؤد بن ایشا پیغمبر مراد ہیں اور حکمت سے مراد نبوت ہے یا عام ہے۔ جو حکومت وسلطنت کیلئے ضروری دانائی اور نبوت کو بھی شامل ہے اور مایشاء ان تمام جنگی اور صنعتی علوم وفنون کو شامل ہے جو اللہ نے ان کو عطا فرمائے تھے فلسطینی عمالقہ کا سردار جالوت حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھوں مارا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل کی حکومت دی اور نبوت سے سرفراز فرمایا اور مختلف علوم وفنون سکھائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) ابھی کمسن نوجوان تھے۔ اور اپنی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ یہ طالوت کی فوج میں پہلے شامل نہیں تھے البتہ ان کے ساتھ انکے بڑے بھائی شریک جہاد تھے۔ یہ تو محض لڑائی دیکھنے کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–251
ربطہ آیات
گذشتہ درس میں طالوت کے لشکر کی روانگی کا تذکرہ تھا کہ جب وہ دشمن کی طرف چلے تو راستے میں طالوت نے اپنی فوج کو آزمایا کہ یہ لوگ کس حد تک تکالیف برداشت کرسکتے ہیں۔ راستے میں نہر پڑتی ہے اللہ کے حکم سے طالوت نے اپنے سپاہیوں کو اس نہر سے پانی پینے سے منع کردیا۔ اور پیاس برداشت کر نیکی تلقین کی۔ ہاں البتہ سخت شدت کی صورت میں چلو بھر پانی پی لینے کی اجازت دی مگر لشکر کی اکثریت پیاس برداشت نہ کرسکی اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا جسکی وجہ سے ان میں سستی اور کاہلی پیدا ہوگئی اور وہ آگے سفر کرنے کے قابل نہ رہے لہٰذا تھک ہار کر وہیں بیٹھ گئے۔ طالوت صرف 313 سپاہیوں کا لشکر لے کر نہر سے پار…
Read the full tafseer →فَہَزَمُوْھُمْ بِـاِذْنِ اللہِ 0 ۣ ۙ وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَاٰتٰىہُ اللہُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَۃَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا يَشَاۗءُ 0 ۭ وَلَوْ لَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ 0 ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ 251
هزم
أصل الهَزْمِ : غمز الشیء الیابس حتی ينحطم، كَهَزْمِ الشّنّ ، وهَزْمِ القثّاء والبطّيخ، ومنه : الهَزِيمَةُ لأنه كما يعبّر عنه بذلک يعبّر عنه بالحطم والکسر . قال تعالی: فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ
[ البقرة/ 251] ، جُنْدٌ ما هُنالِكَ مَهْزُومٌ مِنَ الْأَحْزابِ
[ ص/ 11] وأصابته هَازِمَةُ الدّهر . أي : کا سرة کقولهم : فاقرة،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 248–252
ترکیب : ان یاتیکم جزان۔ التابوت اصل وزن اس کا فاعول ہے فیہ سکینۃ جملہ موضع حال میں ہے اور اسی طرح تحملہ الملائکۃ۔ من ربکم صفت ہے سکینۃ کی و بقیتہً اصل اس کی بقیتہ ہے لام کلمہ ہی ہے۔ الامن اغترف استثناء ہے جنس سے اور ممکن ہے کہ اول من سے ہو اور یہ محل نصب میں ہے غرفۃ غین کے فتح اور ضمہ دونوں سے جائز ہے۔ یہ مصدر ہے اور بعض کہتے ہیں بالفتح کے معنی ایک بار چلو بھرنا اور بالضم کے معنے چلو۔ الاقلیلا منصوب ہے کیونکہ استثناء ہے۔ موجب سے لا کا اسم طاقۃ اس کا عین کلمہ واو ہے لانہ من الطوق وہوالقدرۃ لنا اس کی خبر الیوم اور جالوت میں عامل معنی استقراء ہے۔ کم من فِئَۃٍ ‘ کم اس جگہ خبر یہ ہے اور موضع اس کا…
Read the full tafseer →فَھَزَمُوْہُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ قف لا وَقَتَلَ دَاؤُدُ جَالُوْتَ وَاٰ تٰـہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآئُ ط وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لا لَّـفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْعٰـلَمِیْنَ ۔
(تو بنی اسرائیل نے انھیں اللہ کے حکم سے شکست دی اور دائود نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے بادشاہی اور حکمت عطا کی۔ اور اسے اس علم میں سے سکھایا جس میں سے وہ چاہتا ہے اور اگر اللہ ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین فساد سے بھر جاتی۔ لیکن اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے) (251)
اس آیت کریمہ میں مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–251
فہم القرآن
جب طالوت کے لشکر کا جالوت کے لشکروں کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو جذبۂ ایمان سے سرشارمجاہد اپنے رب کے حضور دعائیں مانگنے لگے کہ بار الٰہا ! ہمیں حوصلہ، ثابت قدمی اور کفار پر غلبہ عطا فرما ! سو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ جناب داوٗد (علیہ السلام) نے کفار کے کمانڈر جالوت کو قتل کیا۔ جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو بہت بڑی مملکت سونپتے ہوئے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ یہ وہی داوٗد (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا جو پیغمبر بھی تھے اور حکمران بھی۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا علم وفضل عطا کرتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →آیت 251 :
فَہَزَمُوْہُمْ (پس انہوں نے ان کو شکست دی) یعنی طالوت اور مؤمنین نے جالوت اور اس کے لشکروں کو۔
فیصلہ قضاء و قدر :
بِاِذْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے اذن سے) یعنی اس کے فیصلہ قضا و قدر سے
تذکرہ دائود۔ :
وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ (اور دائود نے جالوت کو قتل کیا) دائود ( علیہ السلام) کے والد ایشٰی بھی طالوت کے لشکر میں اپنے چھ بیٹوں سمیت شامل تھے۔ دائود ان میں ساتویں تھے۔ اور وہ اپنے تمام بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اور بکریاں چراتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ دائود ہی جالوت کو قتل کرے گا۔
انہوں نے ان کے والد سے دائود کو طلب کیا وہ آگئے۔ راستے میں…
Read the full tafseer →(تفسیر) 251۔:
(آیت)” فھزموھم باذن اللہ “۔ اللہ تعالیٰ کے علم کے ساتھ (آیت)” وقتل داؤد جالوت “۔ جالوت کے قتل کا بیان اس طرح ہے ، اہل تفسیر فرماتے ہیں طالوت کے ساتھ جن لوگوں نے نہر (دریا) کو عبور کیا تھا حضرت داؤد (علیہ السلام) کے والد ایشا بھی تھے جو اپنے تیرہ بیٹوں سمیت شریک تھے حضرت داؤد (علیہ السلام) ان تیرہ میں سے چھوٹے بیٹے تھے اور پتھر پھینکنے کا کام کیا کرتے تھے ۔ ایک دن انہوں نے باپ کو کہا اباجان ! میں جس کسی کو پتھر مارتا ہوں اسے گرا دیتا ہوں تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے والد نے کہا بیٹے خوش ہوجاؤ ، اللہ تعالیٰ نے تمہارا رزق اسی میں کیا ہے پھر ایک اور دفعہ اپنے والد کے پاس آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–252
(250 ۔ 252) ۔ جب جالوت کے ایک بہت بڑے لشکر سے طالوت اور اصحاب طالوت کا مقابلہ ہوا اس وقت طالوت کے لشکر کے ایمان دار لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ صبر اور استقامت کی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور دشمن کے لشکر پر ان کو فتح دی اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور پھر حضرت شمویل کے انتقال کے بعد نبوت اور طالوت کے انتقال کے بعد بادشاہت سب کچھ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا۔ اس کے بعد آیت میں ایک عادت الٰہی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض سرکشوں کی سرکشی اپنے بعض بندوں کے ذریعہ سے ہمیشہ اسی طرح رفع کرتارہتا ہے جس طرح جالوت کی سرکشی جو بڑا جابر مشہور تھا طالوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–252
جب بنی اسرائیل پر طالوت کی حکومت قائم ہوگئی اور مستحکم ہوگئی تو قوم نے دشمن سے مقابلے کی تیاری کی۔ طالوت بنی اسرائیل کے لشکروں کو لے کر روانہ ہوا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ تو اس نے اللہ کے حکم سے ان کا امتحان لیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ثابت قدم رہنے والا کون کون ہے اور دوسری طرح کا (بھگوڑا) کو نکون ہے ؟ چناچہ فرمایا : (آیت) اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّىْ ۚ ” سنو ! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے جس نے اس میں سے پانی پی لیا، وہ میرا نہیں۔ “ پس وہ نافرمان ہے۔ اس کی بےصبر اور گناہ کی سزا یہ ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نہ آئے : (آیت) وَمَنْ لَّمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–256
قول باری ہے (لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی، (a) دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط بات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے) ۔ ضحاک، سدی اور سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی ناسخ یہ آیت ہے (یآیھا النبی جاھد الکفار والمنافقین، (a) اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو) ۔
نیز یہ قول باری ہے (فاقتلوا المشرکین، (a) مشرکین کو قتل کرو) حسن بصری اور قتادہ سے مروی ہے کہ یہ آیت اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا تھا۔ مشرکین عرب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے کیونکہ ان کے حق میں جزیہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف ایک ہی راستہ…
Read the full tafseer →716 صدق و اخلاص والی دعا کی فوری قبولیت کا ایک نمونہ : یعنی ان حضرات کی اپنے رب کے حضور یہ عاجزانہ دعاء فوراً قبول ہوگئی، اور اس کے نتیجے میں انہوں نے اتنی تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود دشمن کو اس قدر آسانی سے اور اتنی جلدی شکست اور ایسی شکست فاش دے دی، کیونکہ وہ اپنے عقیدہ و ایمان میں پکے سچے اور مخلص تھے، اور ان کی دعاء بھی صدق دل سے اور اپنے خالق ومالک حقیقی کے حضور ہی تھی۔ اور یہی کامیابی کی راہ ہے، کہ کامیابی کیلئے اپنے خالق ومالک کے حضور دعا مانگی جائے اور پورے صدق و اخلاص سے مانگی جائے۔ بہرکیف اس ارشاد سے حقیقت نفس الامری کا اظہار فرما دیا گیا کہ فتح و شکست جو بھی کچھ پیش آتا ہے، اسکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–251
صبر و استقامت
تشریح : اس آیت میں گزشتہ آیت سے رابطہ قائم کرتے ہوئے بتایا جارہا ہے کہ جب طالوت کا لشکر جالوت کے مقابلہ میں آیا تو انہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے فتح و کامیابی کی دعا کی کہ ” اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو صبر اور مضبوطی عطا کر، ہمارے قدم مضبوط کر دے، ہماری پوری مدد کر اور ہمیں کافروں کی قوم پر فتح نصیب کر۔ “ اللہ کی مدد کافروں پر فتح حاصل کرنے کے لئے مانگی گئی تھی اور بڑے خلوص اور اعتماد سے مانگی گئی تھی سو اللہ تعالیٰ نے قبول کی، ان کی مدد فرمائی اور انہوں نے کافروں کو شکست دی واقعہ اس طرح ہوا کہ جب جالوت نے آکر مقابلہ کی دعوت دی تو کوئی بھی اس کے مقابلہ کی ہمت نہ کرسکا اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–253
آیات 249- 253
اسرارو معارف
فلما فصل طالوت………………لمن المرسلین۔
اب جہاد کی تیاری شروع ہوئی اور حضرت طالوت لشکر کو لے کر چلے تو فرمایا اللہ نے تمہارا امتحان مقرر کیا ہے کہ راستے میں نہر پڑتی ہے لیکن اس سے پانی پینے کی اجازت نہیں ہاں اگر کوئی چلو بھر کر پی لے تو اجازت ہے۔
اب سفر اور گرمی کے مارے ہوئے لوگ صبر نہ کرسکے سوائے ایک محدود تعداد کے جن کے ایمان مضبوط تھے۔ جس نے پیٹ بھر کر پانی پیا وہ چلنے کے قابل ہی نہ رہا اور نہ اس کی پیاس ہی بجھ سکی۔ جنہوں نے چند گھونٹ لئے پیاس بھی بجھ گئی اور جہاد کی فضیلت بھی نصیب ہوئی۔ مگر جب جالوت کے لشکر کا سامنا ہوا تو یہ تعداد میں بہت کم تھے کچھ لوگ گھبراگئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 250–251
ف 4 انہی تین سو تیرہ میں سے ایک حضرت داؤد (علیہ السلام) تھے۔ اسرائیل روایات میں ہے کہ ان کے ہاتھ میں غلیل تھی جس سے انہوں نے یکے بعد دیگرے جالوت کو تین پتھر مارے جو اس کے ماتھے پر لگے اور وہ مرگیا۔ طالوت نے ان سے وعدہ کررکھا تھا کہا گر وہ جالوت کو قتل کردیں گے تو ان سے اپنی بیٹی کی شادی کر دے گا اور سلطنت میں انہیں اپنا سہیم بنالے گا چناچہ طالوت نے اپنا وعدہ پورا کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت دادؤد کے متعلق فرمایا : اور اللہ تعالیٰ نے اسے سلطنت دی، یعنی حضرت شمو ئیل (علیہ السلام) کے بعد نبوت (ابن کثیر) اور علمہ ممایشاء سے ان آیات کی طرف اشارہ ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھیں۔ (معالم)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 251–252
(2:251) فھزموھم باذن اللہ۔ ای ان اللہ تعالیٰ استجاب الدعاء المؤمنین فافرغ علیہم الصبر وثبت اقدامھم ونصرھم علی القوم الکافرین حین التقوا فھزموھم باذن اللہ یعنی بقضائہ وارادتہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی دعا قبول فرمالی ان پر صبر کے دہانے کھول دیئے۔ ان کو ثابت قدمی عطا کی۔ اور قوم کفار کے ساتھ مڈ بھیڑ ہونے پر اپنے ارادہ و حکم سے فتح نصیب فرمائی۔ ھذموھم۔ فعل ماضی جمع مذکر غائب ضمیر فاعل مؤمنون کی طرف راجع ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کافروں کے لئے ہے۔ ھزم (باب ضرب) مصدر۔ انہوں نے ان کو شکست دی۔
اتہ اللہ۔ انی ماضی واحد مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ اس نے دیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 246–251
لغات القرآن : آیت نمبر 246 تا 251
الملاء (سردار) ۔ ابعث (اٹھا دے) ۔ ملک (بادشاہ) ۔ نقاتل (ہم جہاد کریں گے) ۔ ھل عسیتم (کیا تم سے یہی توقع نہیں ہے) ۔ الا تقاتلوا (یہ کہ تم جہاد نہ کرو گے) ۔ مالنا (ہمیں کیا ہوا) ۔ اخرجنا (ہم نکالے گئے ہیں ) ۔ نحن احق (ہم زیادہ حق دار ہیں) ۔ لم یؤت (نہیں دیا گیا) ۔ سعۃ (گنجائش، وسعت) ۔ اصطفہ (اس نے اس کو منتخب کرلیا ہے) ۔ بسطۃ (پھیلاؤ) ۔ سکینۃ (سکون) ۔ فصل (وہ جدا ہوا) ۔ مبتلی (آزمانے والا ) ۔ لم یطعمہ (جس نے نہیں چکھا ) ۔ اغترف (بھر لیا، چلو بھر لینا) ۔
تشریح : آیت نمبر 246 تا 251
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا کی تھیں مگر انہوں نے نا شکریوں اور…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اگر ہم بعض آدمیوں کو بعض کے اوپر مسلط نہ کرتے تو البتہ زمین خراب ہوجاتی یعنی کفر کی سیاہی پھیل جاتی اور زمین کی منفعتیں زائل ہوجاتیں، اور بہت لوگ ایمان کی نعمت سے محروم رہ جاتے۔ لیکن اللہ تو اپنے بندوں پر مہر بان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 251–252
[170] داؤد (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے دوسرے بادشاہ ہیں۔ پہلے بادشاہ طالوت تھے۔ آپ انہی کے داماد تھے۔ طالوت کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے آپ کو بادشاہ منتخب کیا۔ سلیمان (علیہ السلام) آپ ہی کے فرزند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا تھا۔
Read the full tafseer →جہاد کیوں ضروری ہے ؟
(ف 1) قرآن حکیم نے جہاد پر بڑا زور دیا ہے اور یہ اس لئے کہ اگر ظالم کے خلاف جنگ نہ کی جائے ، سرکش کی زیادیتوں کو نہ روکا جائے مظلوم کی حمایت نہ کی جائے اور ہر متمرد وفرعون کو موقع دیا جائے کہ وہ جس طرح چاہے ، اپنے ملوکیت پر ستانہ اغراض پورے کرلے تو پھر عدل و انصاف کا قیام ناممکن ہوجائے گا دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا ، اور اللہ کی وسیع و عریض زمین پر کوئی عافیت کی جگہ نہیں رہے گی ۔
Read the full tafseer →ف 2 اس دعا کے بعد طالوت کے ساتھیوں نے جالوت والوں کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے چکنا چور کردیا اور ان کو شکست دے دی اور ایشیا کے لڑکے دائود نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد دائود کو سلطنت اور حکمت یعنی نبوت عطا کی اور بھی جو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا دائود کے لئے مناسب سمجھا اس کو تعلیم کردیا اور سکھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو یعنی اہل باطل کو بعض لوگوں یعنی اہل حق کے ہاتھوں دفع نہ کرائے اور اہل باطل کو شکست نہ دلاتا رہے تو زمین تبا ہ ہوجائے اور زمین اہل شر و فساد کی شرارتوں اور فساد سے بھر جائے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ اہل عالم پر بڑا صاحب فضل ہے کہ بروں کو اچھوں کے ہاتھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 251–252
ف 4۔ چونکہ قرآن کے اعظم مقاصد میں اثبات نبوت محمدیہ بھی ہے اس لیے اکثر جس جگہ کسی مضمون کے ساتھ مناسبت ہونے سے موقع ہوتا ہے وہاں اس کا اعادہ کیا جاتا ہے چناچہ اس مقام پر اس واقعہ کی صحیح خبردینا ایسے طور پر کہ نہ آپ نے کہیں پڑھا نہ کسی سے سنا نہ آپ نے دیکھا بوجہ معجزہ ہونے کے صریح دلیل ہے صدق دعوئے نبوت کی۔ اس لیے آگے رسول اللہ کی نبوت پر استدلال فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →لشکر طالوت نے لشکر جالوت کو شکست سے دو چار کردیا :
420: طالوت کے لشکر نے جالوت والوں کو شکست دے دی۔ اللہ نے ان کی دعا کو شرف اجابت بخشا اور داؤد نے کفار کے سپہ سالار جالوت کی گردن اڑا دی چناچہ ساؤل یعنی طالوت کے بعد داؤد کو بنی اسرائیل کی بادشاہت نوازش کی گئی اور سموئیل کے بعد وہ نبوت سے بھی سرفراز کئے گئے۔ اس طرح دونوں طرح کے انتظامات آپ کے ہاتھ میں دیدیئے گئے۔
دنیا میں اگر لڑائی کا سلسلہ بند ہوجاتا تو تمام کرؤ ارضی شرو فساد کا گھر بن جاتا ۔ مگر اللہ کو ابھی اس کا باقی رکھنا منظور ہے اس لئے کفر اور ارباب کفر کی باطل پر ستانہ سعی و کوشش کو فنا کرنے کے لئے سرفروشوں کو کھڑا کردیا جاتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 249–251
Verse 249: قَالَ إِنَّ اللَّـهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ (He said: Allah is going to test you by a
river).
The wisdom behind this test, as perceived by this humble commentator, appears to be as follows. Not difficult to imagine is the excitement created on such occasions but there are not many who would stay firm in their hour of trial. And should such a time come, the weakness shown by such people becomes contagious making others panic as well. Allah Almighty willed that such people be pruned out. This purpose was accomplished by this test, which is very appropriate, because steadfastness is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 251–252
273. David was then in the early years of his youth. By chance he joined the army of Saul just when the mighty champion of the Philistine army had challenged the Israelite army to combat. None of the Israelites had the courage to take up the challenge. On seeing this, David took on Goliath in a duel and slew him. From then on, David could do no wrong in the eyes of the Israelites. Saul gave him the hand of his daughter in marriage and ultimately he became the ruler of the Israelites. (For details see 1 Samuel, chapters 17 and I8.)
274. This enunciates the principle according to which God…
Read the full tafseer →