2. Surah Al-Baqara
البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن
الٓمّٓۚ Open ayah 2:1 in the Quran reader
(الٓمّٓ
الٓـمّٓ
حروفِ مقطعات کا تعارف
الٓـمّٓ بہت ساری سورتوں کے شروع میں چند حرفوں سے مرکب کچھ کلمات لائے گئے ہیں۔ جیسے الم، حم، طسم وغیرہ۔ انھیں حروف مقطعات کہا جاتا ہے۔ اگر یہ حروف، حروف تہجی کے طور پر استعمال ہوں تو یہ معرب ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے آخر میں اعراب ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات کے طور پر آتے ہیں، تو ان کا ہر حرف آخر میں ساکن ہوتا ہے۔ مثلاً الم کو الفٌ، لامٌ اور میمٌ نہیں پڑھیں گے بلکہ الف، لام اور میم پڑھیں گے۔ اہل علم کی ان کے بارے میں مختلف آراء اور مختلف اقوال ہیں۔ ہم سب سے پہلے چند اقوال کا ذکر کرتے ہیں۔
1 ایک قول یہ ہے کہ عربی زبان کے اٹھائیس حروف تہجی ہیں۔ جن میں سے تقریبا چودہ حروف، حروف مقطعات کی شکل میں 29 سورتوں کے آغاز میں آئے ہیں۔ ان میں اشارہ اس بات کی جانب ہے کہ دیکھو انھیں حروف تہجی سے ہم نے قرآن پاک کے الفاظ کی چمن آرائی کی ہے اور ایک ایسی کتاب نازل کی ہے، جس کا ایک ایک لفظ، الفاظ کا دروبست، الفاظ کی ترکیب اور جملوں کی ساخت ایسا معجزہ ہے، جس کی مثال لانے سے جن وانس عاجز ہیں حالانکہ یہ سب کچھ انھیں حروف تہجی ہی سے آراستہ کیا گیا ہے۔ تم اگر اسے اللہ کی کتاب نہیں مانتے ہو تو یہی حروف تہجی تمہارے پاس بھی ہیں، تم انھیں سے قرآن جیسی، ایک سورة ہی ترتیب دے کر دکھائو۔
2 حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) فرماتے ہیں کہ یہ حروف مقطعات اشارات ہیں۔ مثلاً الم میں الف سے مراد ” آلاء اللہ “ ہیں۔ لام سے مراد ” لطف “ اور میم سے مراد ” ملک “ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ملک کی تمام نعمتیں اسی کے لطف و کرم کا صدقہ ہیں۔
3 بعض اہل علم کا خیال ہے کہ جیسے اب ہمارے یہاں اختصار نویسی یعنی شارٹ ہینڈ ایک فن بن گیا ہے۔ نزول قرآن کے وقت بھی اختصار نویسی ایک فن کے طور پر تو نہیں، ایک ضرورت کے تحت مروج تھی۔ بولنے والے حسب ضرورت بجائے فقروں کے لفظوں کی صورت میں اپنا مفہوم ادا کردیتے تھے اور سننے والے چونکہ اس کے عادی تھے، وہ بھی اسے سمجھ لیتے تھے۔ آپ اسے اس دور کے code words کہہ لیجئے۔ مثلاً عربی میں ایک تلمیح مشہور ہے۔ قلتُ لہا قفی فقالت لی قاف کہ میں نے اس خاتون سے کہا ٹھہر جاؤ، اس نے کہا میں ٹھہر گئی۔ جملے کے آخر میں جو قاف ہے یہ اصل میں قِفْتُ کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ گویا یہ قاف، قِفْتُ کا مخفف ہے۔ یہی طریقہ حروف مقطعات کی صورت میں قرآن کریم میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔
4 بعض لوگوں کا گمان یہ ہے کہ یہ حروف مقطعات اصل میں حروف ابجد ہیں اور ابجد کے حساب سے اقوام وملل کی تاریخ اور ان کے عروج وزوال کی طرف اشارات کیے گئے ہیں۔ یہود کا یہی خیال تھا۔ احادیث میں یہود کے ایک وفد کا حضور ﷺ کی خدمت میں آکر اسی طرح کی گفتگو کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن حضور ﷺ نے تبسّم کے سوا ان کی باتوں کا جواب دینا پسند نہیں فرمایا۔ اس طرح کے متعدد اقوال ہیں، جس کا بعض اہل علم کی طرف انتساب کیا گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے اقوال کی کوئی علمی بنیاد نہیں۔ البتہ بعض آراء ایسی ہیں جنھیں قابل لحاظ کہا جاسکتا ہے۔ ہم ان میں سے تین آراء کا ذکر کرتے ہیں۔
1 سب سے پہلی رائے جسے جمہور کی رائے کہنا چاہیے اور صحابہ کی تائید بھی اسے حاصل ہے۔ اس رائے کا خلاصہ یہ ہے، جسے امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ ہر آسمانی کتاب میں اللہ تعالیٰ کے کچھ خاص رموز و اسرار ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ حروف مقطعات، قرآن میں حق تعالیٰ کا راز ہیں۔ ہمارے لیے ان میں بحث و گفتگو بھی جائز نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ ہمارے فائدے سے خالی نہیں۔ اوّل تو ان پر ایمان لانا، پھر ان کا پڑھنا، ہمارے لیے ثواب عظیم ہے۔ دوسرے ان کے پڑھنے کے معنوی فوائد و برکات ہیں، جو اگرچہ ہمیں معلوم نہ ہوں، مگر غیب سے ہمیں پہنچتے ہیں۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ خلفائے راشدین اور جمہور صحابہ کا ان حروف کے بارے میں یہی عقیدہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسرار ہیں (ہمیں ان پر ایمان لانا چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور جس طرح سے آئے ہیں ان کی تلاوت کرنا چاہیے۔ مگر معنی معلوم کرنے کی فکر میں پڑنا درست نہیں۔ ) اسی لیے اکثر تراجم ِ قرآن میں ان حروف کے نیچے یہی حروف لکھ دئیے جاتے ہیں اور یا تفاسیر میں ان کے نیچے لکھ دیا جاتا ہے، اللہ اعلم بمرادہ (اللہ اپنی مراد کو بہتر جانتے ہیں) اس رائے پر بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ قرآن کریم کے بارے میں خود قرآن کا دعویٰ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے عربی مبین میں نازل کیا ہے۔ یعنی ایک ایسی عربی زبان میں جس کا معنی اور مفہوم بالکل واضح ہے۔ تو جس کتاب کا ایک ایک لفظ معنی اور مطلب کے اعتبار سے واضح ہو، اس میں سورتوں کے شروع میں ایسے مرکب حروف کا آنا، جس کی مراد کوئی نہ جانتاہو، یہ تو قرآن کریم کے اپنے دعویٰ کی نفی ہے۔ مزید یہ بات بھی کہ یہ قرآن تو سرتاپا ہدایت ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ ہدایت بن کر نازل ہوا، تو کوئی لفظ جس کی مراد واضح نہ ہو، کس طرح ہدایت کا سامان بن سکتا ہے ؟ بات یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات، حقیقت میں قلت تدبر کا نتیجہ ہیں۔ قرآن کریم یقینا ہدایت کی کتاب ہے اور اس کے نزول کا یہی مقصد ہے۔ لیکن اس سے یہ استدالال کرنا کہ ہدایت اسی لفظ سے ممکن ہے، جس کا معنی اور مراد واضح ہو۔ یہ کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ اہل علم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ہدایت جس طرح الفاظ کی مدد سے کی جاتی ہے، اسی طرح بعض دفعہ خاموشی الفاظ سے بڑھ کر ہدایت کا سامان بنتی ہے کہ مربی اور ہادی کے اشارات چہرے کے تأثرات اور نگاہوں کے تیور وہ کچھ سمجھادیتے ہیں، جہاں تک الفاظ کی رسائی نہیں ہوتی۔ اس لیے الفاظ کو معنی اور مفہوم پر منحصر کرنا صحیح نہیں۔ مثال کے طور پر ان الفاظ کا ایک اور محمل بھی ہے، اس پر بھی غور کرلینا چاہیے۔ وہ یہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی ذات کے بارے میں ہم صرف اپنے عقیدے سے نہیں بلکہ فہم و فراست سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کی ذات تو خالق کل اور منتہائے علم کمال ہے۔ اس کی صفات میں سے ایک ایک صفت کی مراد کو پالینا اور اس کے مفہوم کی تہہ تک اترجانا، یہ بھی انسان کی بساط سے باہر ہے۔ وہ قادر مطلق ہے۔ لیکن اس کی قدرت کی انتہا کو کوئی نہیں جانتا۔ وہ سرتاپا جمال ہے، اس کا جمال ظاہری ہی ہمارے مشاہدے کی قوت سے ماورا نہیں بلکہ ہم تو اس کے جمال معنوی کو بھی پوری طرح سمجھنے پر قادر نہیں۔ اسی طرح کلام بھی اس کی صفت ہے۔ اس کے ہر کلام کو اور کلام کے ایک ایک لفظ کو احاطہء ادراک میں لے آنا انسانی طاقت سے بعید ہے۔ گر اس کا ایک ایک لفظ ہماری گرفت میں اس طرح آجائے، جس طرح انسانی الفاظ آجاتے ہیں، تو پھر اسے کلام خداوندی کہنا بہت مشکل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات کی ایک قسم متشابہات بھی ہے اور قرآن کریم میں اس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ان متشابہات کا مفہوم اور مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ حروف مقطعات متشابہات میں شامل ہیں۔ تو ان کی مراد کو جاننا انسان کے لیے کس طرح ممکن ہے۔ البتہ اس طرح کی آیات یا اس طرح کے حروف مقطعات سمجھ نہ آنے کے باوجود بھی ہمارے لیے ہدایت کا سامان ہیں۔ وہ اس طرح کہ جس طرح ہم اپنے خالق ومالک کے بارے میں یہ جانتے ہیں کہ ہم اس کو کماحقہ نہیں جان سکتے اور ہمیں اس کے سامنے اپنے عجز کا اعتراف ہے اور یہ اعتراف ہماری بندگی اور عبدیت کا ایک ایسا جوہر اور ایک ایسی متاع بےبہا ہے کہ جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ اس متاع بےبہا میں اضافہ صرف اسی بات سے ہوتا ہے کہ آدمی کے دل و دماغ میں اللہ کی کبریائی اترتی چلی جائے اور اسے اپنے عجز کا اعتراف روزبروز بڑھتا چلاجائے۔ وہ جیسے جیسے بندگی میں راسخ ہوتاچلا جاتا ہے اور اس پر اپنی حقیقت روشن ہوتی چلی جاتی ہے ویسے ویسے اللہ کی کبریائی اور اس کی عظمت اس کے نہاں خانہء دل کو نہ صرف روشنی دیتی ہے۔ بلکہ ایسی قوت بھی عطا کرتی ہے کہ یہ نہایت عاجز بندہ اس قدر مضبوط اور توانا ہوجاتا ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی قوت اسے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ اقبال نے شاید اسی پر فخر کرتے ہوئے کہا تھا ؎
متاعِ بےبہا ہے درد و سوز آرزو مندی
متاعِ بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی
قرآن کریم کا پہلا ہی حرف اگر اتنی بڑی دولت کے حصول کے لیے کلید بن جاتا ہے۔ تو یہ بھی قرآن کریم کے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہوگا کہ اس کے جس حرف کا راز کسی پر نہ کھل سکا اور اس کی پیدا کردہ کاوش ہزاروں سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے دلیل راہ بنی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ، جو اس کی شخصیت بننے میں مانع ہوتی ہے، وہ اس کا اپنی حقیقت سے بےبہرہ ہونا ہے۔ وہ حقیقت کے اعتبار سے بندہ ہے، لیکن اس کی ساری زندگی بندگی کی بجائے آقائی کالبادہ اوڑھنے میں گزر جاتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنے آپ سے محروم رہتا ہے، جب تک اسی طرح اس کے اندر اعتراف کی شمع روشن نہیں ہوتی۔ اگر قرآن کریم کے پہلے لفظ سے یہ شمع جل اٹھے اور آدمی اعتراف کی منزلیں طے کرتا ہوا اپنے اندر بندگی کے خلاف بننے والے ہر طلسم کو توڑ ڈالے، تو ایک وقت ضرور آتا ہے جب وہ یہ کہہ سکے :
ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی
اور یہی وقت اس کی زندگی اور اس کی انسانیت کی معراج کا ہے۔
2 بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ نزول قرآن کے وقت، عربوں میں جو اسالیبِ بیان مروج تھے۔ ان میں اس طرح حروف مقطعات کا استعمال عام طور پر معروف تھا۔ خطیب اپنے خطبوں میں اور شعراء اپنے اشعار میں انھیں استعمال کرتے تھے اور چونکہ یہ اسلوب بالعموم پہچانا جاتا تھا تو سننے والے کبھی اس میں اجنبیت محسوس نہیں کرتے تھے۔ چناچہ اب بھی دور جاہلیت کے جو ادبی نمونے محفوظ ہیں، ان میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ اس استعمال عام کی وجہ سے یہ مقطعات کوئی چیستان نہ تھے، جن کو بولنے والے کے سوا کوئی نہ سمجھتاہو بلکہ سامعین خوب جانتے تھے کہ ان کی مراد کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اور نبی کریم ﷺ کے خلاف مخالفین نے ہر طرح کی باتیں کہیں، لیکن یہ اعتراض کبھی نہیں کیا کہ سورتوں کے شروع میں یہ بےمعنی حروف کیسے ہیں ؟ اور صحابہ بھی چونکہ انھیں سمجھتے تھے، اس لیے انھوں نے بھی آنحضرت ﷺ سے ان کے بارے میں کبھی نہ پوچھا۔ بعد میں یہ اسلوب عربی زبان میں متروک ہوتا چلا گیا، تو بعد کے آنے والے اہل علم کو اس کے معنی متعین کرنے میں مشکل پیش آگئی۔ لیکن اس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ ان حروف کا استعمال تو عربوں میں ضرور مروج تھا۔ لیکن ان کی حیثیت ایسے حروف کی تھی، جو محض تحسین کلام کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور یا محض خطابیات کا حصہ ہوتے ہیں۔ کلام کے مفہوم میں انھیں کوئی دخل نہیں ہوتا۔
3 بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہ حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، یہ درحقیقت سورتوں کے نام ہیں اور بعض سورتوں میں قرآن کریم نے ذٰلِکَ اور تِلْکَ کے ذریعے ان کے نام ہونے کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ اگرچہ تمام سورتیں جن کے آغاز میں یہ حروف آئے ہیں، ان ناموں سے مشہور تو نہیں ہوئیں، لیکن بعض سورتیں انھیں ناموں سے معروف بھی ہیں۔ مثلاً طٰہٰ ، یٰس، ق، اور ن وغیرہ۔ اس رائے میں اس لحاظ سے تو ایک وزن معلوم ہوتا ہے کہ آج بھی جب اہل عرب کا لٹریچر پڑھا جاتا ہے، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب اس طرح کے حروف سے اشیا کے نام رکھنے کے عادی تھے۔ وہ اپنی مختلف اشیا، اشخاص، گھوڑوں، جھنڈوں، تلواروں حتی کہ قصائد اور خطبات تک کے نام اسی سے ملتے جلتے رکھتے تھے۔ نام چونکہ مسمّٰی کی شناخت کے لیے رکھا جاتا ہے، اس لیے ضروری نہیں ہے کہ اسم اور مسمی میں کوئی معنوی مناسبت بھی ہو۔ چناچہ جب یہ معلوم ہوجائے کہ یہ لفظ یاحرف فلاں چیز کا نام ہے، تو پھر یہ بحث نہیں کی جاتی کہ اس لفظ یا حرف کا معنی کیا ہے۔ حروف سے اشیا کا نام رکھنا، یہ ایک ایسی حقیقت ہے، جس کے اثرات آج بھی ہم عربی زبان اور دوسری زبانوں میں محسوس کرتے ہیں۔ مثلاً عین، آج بھی مختلف اشیا پر بولا جاتا ہے۔ نون، آج بھی مچھلی کو کہتے ہیں۔ ق، ایک پہاڑ کا نام ہے۔ ہمارے ہاں بھی کوہ قاف مشہور ہے۔ اس لحاظ سے تو قرآن کریم میں جہاں بھی حروف مقطعات آئے ہیں۔ انھیں اگر سورتوں کا نام سمجھ لیاجائے، تو معنی کی بحث ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ چونکہ قرآن پاک میں پروردگار نے یہ نام رکھے ہیں۔ اس وجہ سے طبیعتوں میں یہ شوق پیدا ہونے لگتا ہے کہ ضرور یہ کسی نہ کسی مناسبت کی بناء پر رکھے گئے ہوں گے۔ چناچہ یہی شوق، شوق جستجو میں ڈھل جاتا ہے، تو اہل علم اس کے معنی کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے ذکر ہوچکا کہ ہر دور کے اصحاب علم نے اس جستجو میں کچھ نہ کچھ محنت کی۔ چناچہ اسی شوق ِجستجو کی ایک قابل قدر مثال ہمارے دور میں مولانا حمید الدین فراہی ( رح) کی بھی ہے جسے مولانا امین احسن اصلاحی نے تدبر قرآن میں ذکر کیا ہے۔ ہم وہیں سے اسے نقل کرتے ہیں۔
جو لوگ عربی رسم الخط کی تاریخ سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ عربی زبان کے حروف عبرانی سے لیے گئے ہیں اور عبرانی کے یہ حروف ان حروف سے ماخوذ ہیں، جو عرب قدیم میں رائج تھے۔ عرب قدیم کے ان حروف کے متعلق استاذ امام کی تحقیق یہ ہے کہ انگریزی اور ہندی کے حروف کی طرح صرف آواز ہی نہیں بتاتے، بلکہ یہ چینی زبان کے حروف کی طرح معانی اور اشیا پر بھی دلیل ہوتے تھے۔ جن معانی یا اشیا پر وہ دلیل ہوتے تھے، عموماً انہی کی صورت وہیئت پر لکھے بھی جاتے تھے۔ مولانا ( رح) کی تحقیق یہ ہے کہ یہی حروف ہیں جو قدیم مصریوں نے اخذ کیے اور اپنے تصورات کے مطابق ان میں ترمیم واصلاح کرکے ان کو اس خط تمثالی کی شکل دی، جس کے آثاراہرام مصر کے کتبات میں موجود ہیں۔
ان حروف کے معانی کا علم اب اگرچہ مٹ چکا ہے تاہم بعض حروف کے معنی اب بھی معلوم ہیں اور ان کے لکھنے کے ڈھنگ میں بھی ان کی قدیم شکل کی کچھ نہ کچھ جھلک پائی جاتی ہے۔ مثلاً الف کے متعلق معلوم ہے کہ گائے کے معنی بتاتا تھا اور گائے کے سر کی صورت ہی پر لکھا جاتا تھا۔ ب کو عبرانی میں بیت کہتے ہیں اور اس کے معنی بھی بیت (گھر) کے ہیں۔ ج کا عبرانی تلفظ جیمل ہے۔ جس کے معنی جمل (اونٹ) کے ہیں۔ ط سانپ کے معنی میں آتا تھا اور لکھا بھی کچھ سانپ ہی شکل پر جاتا تھا۔ م پانی کی لہر پر دلیل ہوتا تھا اور اس کی شکل بھی لہر سے ملتی جلتی بنائی جاتی تھی۔
مولانا اپنے نظریہ کی تائید میں سورة ” ن “ کو پیش کرتے ہیں۔ حرف ” نون “ اب بھی اپنے قدیم معنی ہی میں بولا جاتا ہے۔ اس کے معنی مچھلی کے ہیں۔ اور جو سورة اس نام سے موسوم ہوئی ہے اس میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر صاحب الحوت (مچھلی والے) کے نام سے آیا ہے۔ مولانا اس نام کو پیش کرکے فرماتے ہیں۔ کہ اس سے ذہن قدرتی طور پر اس طرف جاتا ہے کہ اس سورة کا نام ” ن “ اسی وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس میں صاحب الحوت ’ ’ یونس۔ “ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ پھر کیا عجب ہے کہ بعض دوسری سورتوں کے شروع میں جو حرف آئے ہیں وہ بھی اپنے قدیم معانی اور سورتوں کے مضامین کے درمیان کسی مناسبت ہی کی بناء پر آئے ہوں۔
قرآن مجید کی بعض اور سورتوں کے ناموں سے بھی مولانا کے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً حرف ” ط “ کے معنی، جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا ہے، سانپ کے تھے اور اس کے لکھنے کی ہیئت بھی سانپ کی ہیئت سے ملتی جلتی ہوتی تھی۔ قرآن میں سورة طٰـہٰ کو دیکھئے جو ” ط “ سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں ایک مختصر تمہید کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی لٹھیا کے سانپ بن جانے کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اسی طرح طسم، طس، وغیرہ بھی ” ط “ سے شروع ہوتی ہیں اور ان میں بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی لٹھیا کے سانپ کی شکل اختیار کرلینے کا معجزہ مذکور ہے۔
” الف “ کے متعلق ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ گائے کے سر کی ہیئت پر لکھا بھی جاتا تھا اور گائے کے معنی بتاتا بھی تھا۔ اس کے کے دوسرے معنی اللہ واحد کے ہوتے تھے۔ اب قرآن کریم میں دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ سورة بقرۃ میں جس کا نام الف سے شروع ہوتا ہے، گائے کے ذبح کا قصہ بیان ہوا ہے۔ دوسری سورتیں جن کے نام الف سے شروع ہوئے ہیں۔ توحید کے مضمون میں مشترک نظر آتی ہیں۔ یہ مضمون ان میں خاص اہتمام کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان ناموں کا یہ پہلو بھی خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جن سورتوں کے نام ملتے جلتے ہیں ان کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں۔ بلکہ بعض سورتوں میں تو اسلوب بیان تک ملتا جلتا ہے۔
میں نے مولانا کا یہ نظریہ جیسا کہ عرض کرچکا ہوں، محض اس خیال سے پیش کیا ہے کہ اس سے حروف مقطعات پر غور کرنے کے لیے ایک علمی راہ کھلتی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ابھی تک ایک نظریہ سے زیادہ نہیں ہے۔ جب تک تمام حروف کے معنی کی تحقیق ہو کر ہر پہلو سے ان ناموں اور ان سے موسوم سورتوں کی مناسبت واضح نہ ہوجائے اس وقت تک اس پر ایک نظریہ سے زیادہ اعتماد کرلینا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ محض علوم ِقرآن کے قدردانوں کے لیے ایک اشارہ ہے۔ جو لوگ مزید تحقیق و جستجو کی ہمت رکھتے ہیں وہ اس راہ میں قسمت آزمائی کریں۔ شائد اللہ تعالیٰ اس راہ سے یہ مشکل آسان کر دے۔
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader
اس کتاب میں کوئی شک نہیں۔ (یہ کتاب ) ” ہدایت ہے ڈرنے والوں کے لیے۔
ذٰ ٰلِکَ ا لْکِتَابُ لَارَیْبَ صلے فِیْہِ ج
(اس کتاب میں کوئی شک نہیں )
اسمِ اشارہ قریب اور بعید کا مفہوم
ذلک کے بارے میں اہل علم نے گفتگو کی ہے عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ ذلک اسم اشارہ بعید کے لیے اور ھذا اسم اشارہ قریب کے لیے ہے۔ یعنی اگر کسی فاصلہ کی چیز کی طرف یعنی دور کی کسی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو تو ذلک لایا جاتا ہے اور اگر قریب کی کسی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو تو ھذا لایا جاتا ہے۔ یہاں کتاب کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے اور وہ دور نہیں قریب ہے تو یہاں قواعد کے اعتبار سے ھذا لانا چاہیے تھا ذلک کیوں لایا گیا۔ اہل علم نے اس کے مختلف جواب دیئے ہیں۔
1 ہم قریب اور بعید کا جو مطلب لیتے ہیں اہل نحو اس کا وہ مطلب نہیں لیتے بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز مخاطب کے علم میں ہے یا جس کا ذکر گفتگو میں ہوچکا ہے اگر اس کی طرف اشارہ کرنا ہو تو وہاں ذلک استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اگر کسی ایسی چیز کی طرف اشارہ کرنا ہو جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ تو وہاں ھٰذا لایا جاتا ہے۔ تو یہاں بھی جس کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے وہ الکتاب نہیں بلکہ الم ہے۔ کہ وہ الم جس کا ذکر ہوچکا ہے وہ کتاب ہے یعنی وہ اس کتاب الٰہی کا حصہ ہے۔ اس قاعدے کے اعتبار سے یہاں ذلک کا استعمال صحیح ہے۔
2 اگر کسی ایسی چیز کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوجوبہت عظیم اور بےپناہ اہمیت کی حامل ہو اور وہ قریب بھی ہو تو اس کی عظمت کی وجہ سے اسم اشارہ بعید یعنی ذلک لایا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ نہایت عظمت والا ہے اس کی عظمت اور اس کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اسے سامنے لاکھڑا کیا جائے اور ھذا سے اس کی طرف اشارہ کیا جائے۔ یہاں اشارہ تو الکتاب ہی کی طرف ہے لیکن وہ چونکہ بہت شان والی اور عظمت والی ہے۔ اس لیے اس کی طرف ذلک یعنی اسم اشارہ بعید سے اشارہ کیا گیا ہے۔ تو اس کا مطلب وہ کتاب نہیں ہوگا بلکہ وہ ذیشان اور عظمت والی کتاب ہوگا۔
3 ذلک اشارہ بعید کے لیے آتا ہے۔ اور یہاں بھی اسے بعید ہی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ تم نے اللہ سے جس ہدایت کی دعا مانگی تھی اور جس صراط مستقیم کے لیے اس سے التجا کی تھی وہ ہدایت اور وہ صراط مستقیم کتاب کی شکل میں تمہیں عطا کردیا گیا۔
الکتاب کا مفہوم
الکتاب عربی زبان میں مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے اور قرآن کریم نے بھی اسے مختلف معنوں میں استعمال کیا ہے۔ لیکن قرآن کریم میں بھی اور پہلی آسمانی کتابوں میں بھی اگر کوئی قرینہ نہ ہو تو الکتاب کے لفظ کو کتاب الٰہی کے معنی میں ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی دوسرے معنی کے لیے قرینہ موجود ہے جیسے ملکہ بلقیس نے اپنے درباریوں اور امراء سے کہا انی القی الی کتابٌ کریم (میرے پاس ایک گرامیِ نامہ بھجوایا گیا ہے) ۔ اس جملے کی ساخت بجائے خود قرینہ ہے کہ ملکہ بلقیس کے پاس خط تو بھیجا جاسکتا ہے اس پر اکتاب الٰہی نہیں اترتی۔ تو اس طرح قرینہ نے کتاب کے معنی کو متعین کردیا لیکن جب بغیر کسی قرینہ کے یا ایسے قرینہ کی موجود گی میں جو کتاب الہی کے معنی کو متعین کرتاہو الکتاب کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس سے کتاب الٰہی ہی مراد ہوگا۔ پہلی آسمانی کتابوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر صحیفہ کوسفر کہا گیا ہے، جس کی جمع اسفار ہے۔ جس کا معنی کتاب ہے۔ اسی طرح عیسائی مترجموں نے اسفار کے مجموعے کو بائبل کا نام دیا ہے۔ بائبل کا معنی بھی یونانی زبان میں کتاب ہی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں الکتاب کا لفظ قرآن ِکریم کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
لاریب کا صحیح مفہوم اور اس کا صحیح محمل
لاریب فیہ ریب، راب کا مصدر ہے۔ اس کا معنی ہے شک یا شبہ، تو لاریب فیہ کا معنی ہوگا اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں اب سوال یہ ہے کہ ایک کتاب کا مطالعہ ہم شروع کرنا چاہتے ہیں۔ تو اس کا مصنف سب سے پہلی بات یہ کہتا ہے کہ جس کتاب کو تم پڑھنے لگے ہو اس کے بارے میں یقین رکھو کہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں اس سے پہلے کہ میں اس بات کی وضاحت کروں کہ شک وشبہ کی نفی کس بات سے کی جارہی ہے۔ میں یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کتاب پڑھنے کے بعد یہ قاری کا حق ہے کہ وہ کتاب کے بارے میں رائے قائم کرے۔ مصنف کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ وہ قاری کے رائے قائم کرنے سے پہلے اپنی رائے اس پر ٹھونسے۔ بنا بریں کتاب کے آغاز ہی میں یہ کہنا کہ اس کتاب میں کوئی شبہ نہیں یہ تو قاری پر اپنی رائے ٹھونسنے کے مترادف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ غلط فہمی قلت فہم سے پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والا جب قرآن کریم کو یہ سمجھ کے ہاتھ میں لیتا ہے کہ اس کا مصنف پروردگار عالم ہے۔ کوئی انسان نہیں۔ تو از خود وہ اپنے ذہن میں یہ بات طے کرلیتا ہے کہ چونکہ یہ کتاب اللہ کی کتاب ہے جس کا علم ہر غلطی سے پاک ہے۔ لہٰذا اس کی کتاب میں بھی یقینا کسی غلطی یا کسی شک کا گمان نہیں ہوسکتا۔ شک و شبہ یا غلط ہونا یہ انسانی علم کی کمزوریاں ہیں۔ انسان کا علم انفرادی ہو یا اجتماعی وہ کلیۃً کبھی شک وشبہ یا غلطی سے پاک نہیں ہوسکتا۔ قرآن کریم کے آغاز میں اس آیت کو لاکر ایک طرح سے تنبیہ کی گئی ہے کہ دیکھنا اس کتاب کو کسی انسان کی تصنیف سمجھ کر شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوجانا اسے اللہ کی کتاب سمجھنا جس کا علم صرف یقین دیتا ہے شک وشبہ کی وہاں کوئی گنجائش نہیں۔
علاوہ ازیں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ قرآن کریم ایسی کتاب نہیں جو محض وقت گزاری یاتفریح کے لیے پڑھی جاتی ہے۔ یا اس سے مقصود کسی فن میں معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے۔ بلکہ یہ کتاب زندگی اور کتاب ِہدایت ہے۔ اس سے زندگی گزارنے کا ڈھب آتا ہے۔ اور حقیقی زندگی کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ اور یہ اپنے پڑھنے والے کو ترغیب دیتی ہے کہ اگر تم ایک کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہو تو اس کا دارومدار ایمان وعمل پر ہے۔ اگر تم نے یہ سرمایہ حاصل کرلیا تو تم بامراد ہوگئے۔ اور اگر تم نے اس میں ناکامی دکھائی تویہاں بھی ناکام ٹھہرو گے اور مرنے کے بعد بھی ہولناک صورتحال سے واسطہ پڑیگا۔ اندازہ کیجئے جس کتاب کی دعوت ایمان وعمل کی دعوت ہے اور جو کتاب زندگی بخش پیغام لے کر آئی ہے کیا اس کے بھیجنے والے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہر شخص کو جو اس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے پہلے ہی مرحلے میں آگاہ کردے کہ تم اگر اس کتاب سے زندگی کا سبق لینا چاہتے ہو تو نہایت اطمینان اور اعتماد سے اس کو پڑھنا اور ذہن میں یہ بات کبھی نہ آنے دینا کہ اس کی کوئی بات صداقت و حقانیت کے ترازو میں ناکام بھی ہوسکتی ہے۔ اور اگر تم نے اسے شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا اور بےدلی سے اسے پڑھا اور اس کے نتائج کو ظن و گمان کا نتیجہ سمجھا تو تم اس کتاب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکو گے۔ کیونکہ زندگی کے سفر میں سب سے خطرناک چیز جو آدمی کو آمادہ عمل نہیں ہونے دیتی وہ صرف شک وشبہ ہے۔ آدمی کو دسترخوان پر بیٹھ کر یہ شبہ ہوجائے کہ میرے سامنے جو خوان ِنعمت سجا ہوا ہے اس کے کسی کھانے میں زہر بھی شامل ہے وہ بقائمی ہوش و حواس کبھی کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھائے گا۔ ایک مسافر کو راستے میں کھائی کا شبہ بھی ہوجائے تو وہ راستہ بدل لیتا ہے۔ تو جو کتاب زندگی کے عمل پر اکساتی ہے اگر اس کے بارے میں یہ اطمینان نہ دلایا جائے تو کوئی شخص اس سے استفادہ کیوں کر کرے گا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات ذہن میں رکھئے کہ لاریب فیہ خبر ہے حکم نہیں یعنی یہ کتاب اپنے قاری کو بتلاتی ہے کہ تمہارے لیے اس کتاب میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس کی ایک ایک بات یقینی اور محکم ہے۔ وہ یہ خبر دے کر قاری کو آزاد چھوڑ دیتی ہے اسے ماننے کے لیے مجبور نہیں کرتی۔ اب یہ قاری کا کام ہے کہ وہ دوسرے قرائن کو دیکھ کر اس بات کو قبول کرلے یارد کردے۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جو فرمایا جارہا ہے کہ اس میں کسی قسم کا شک نہیں یہ کس بات کے بارے میں ہے۔ اس پر جب ہم غور کرتے ہیں تو تین باتیں سمجھ میں آتی ہیں اور یہی تینوں باتیں اہل علم نے ارشاد فرمائی ہیں۔
1 اس کے کتاب الٰہی اور منزل من اللہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ یعنی اس بات کا یقین کرو اور یہ اس کتاب سے استفادہ کے لیے ضروری ہے کہ اس کتاب کو اللہ نے نازل کیا ہے۔ اسے محمد ﷺ یا کسی اور شخص نے تصنیف نہیں کیا۔ کیونکہ اگر اسی بنیادی بات میں شبہ ہوجائے تو قرآن پاک کی دعوت ختم ہو کر وہ جاتی ہے۔ کیونکہ اس کو پیش کرنے والی ذات گرامی نے اسے یہ کہہ کر پیش کیا ہے کہ یہ کتاب مجھ پر اللہ نے نازل کی ہے۔ اس کی ایک ایک بات اللہ کا حکم ہے۔ تم اگر اللہ کو مانتے ہو اور اسے حاکم حقیقی سمجھتے ہو تو پھر اس کتاب کے دئیے ہوئے نظام زندگی کو قبول کرنا تم پر لازم ہوگا۔ اسی سے تمہیں اس کے کیے ہوئے وعدے نصیب ہوں گے اور اگر تم اسے قبول نہیں کروگے تو پھر اس کے عذاب سے تمہیں دوچار ہونا پڑے گا۔ غور فرمائیے جس کتاب کی تعلیم اس بات پر انحصار کرتی ہے کہ وہ اللہ کی جانب سے ہے تو اسے اگر منزل من اللہ نہیں مانا جائے گا تو اس کتاب کی تمام تر تعلیم کی بنیاد ختم ہو کر رہ جائے گی۔ اور پیغمبر ﷺ کی دعوت اپنی بنیاد کھو دے گی۔ رہی یہ بات کہ آخر اس بات کو قبول کیوں کیا جائے اور کس طرح قبول کرلیا جائے ؟ بات یہ ہے کہ اس قرآن کریم کا ایک ایک لفظ اس کی عبارت آرائی اس کا طرز بیان اس کی فصاحت وبلاغت، اس کے عطا کردہ نظام زندگی کا فطرت اور زندگی کے مطابق ہونا اور اس کی بیان کردہ پیش گوئیوں کا برحق ثابت ہونا، اور اس کے بیان کردہ تاریخی واقعات اور تاریخی حقائق کا ہر ترازو میں ٹھیک ٹھیک تلنا اور ایسی ایسی باتیں بیان کرنا جس کا تعلق آنے والی دنیا سے تھا اور پھر ان کا صحیح ثابت ہونا اور ان سب باتوں کا ایک ایسے امی کی زبان سے ادا ہونا جس نے زندگی بھر نہ کسی استاد سے پڑھا نہ کسی مدرسے کا رخ کیا۔ جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا جانتا تھا۔ لیکن اس کی زبان سے تئیس (23) سال تک علم کا یہ چشمہ ابلتارہا اور جس نے دنیا کے اصحاب علم و فضل کو اس وقت بھی ورطہ حیرت میں ڈالے رکھا اور آج بھی دنیا اس کے علم کے سامنے سر اٹھا کر مخالفت کرنے سے عاجز ہے۔ بتائیے اس سے بڑھ کر اس کے منزل من اللہ ہونے کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے۔
2 اس کے محفوظ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ یہ بھی ایک ایسا دعویٰ ہے جو سراسر غیر انسانی ہے۔ انسان ترقی کرتا ہوا کہاں تک جاپہنچا ہے کسی بھی دستاویز کی حفاظت کے لیے انسان کے پاس کیا کچھ نہیں۔ لائبریریاں ہیں، مائیکرو فلمیں ہیں، انٹرنیٹ ہے، کمپیوٹر ہیں، لاکرز ہیں، کیسٹس اور سی ڈیز ہیں، باایں ہمہ آج کا انسان کسی دستاویز کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ ہم نے ہمیشہ کے لیے اسے محفوظ کردیا ہے۔ اور اگر کوئی دعویٰ کرے تو علمی دنیا کبھی اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ لیکن آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے قرآن کریم کے نازل کرنے والے نے اسے محفوظ رکھنے کا دعویٰ کیا۔ صدیاں گزر گئیں دشمنوں نے ہرچند کوششیں کیں لیکن اس کا ایک شوشہ بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹایا جاسکا۔ پہلی آسمانی کتابوں کے ماننے والے بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ وہ محفوظ نہیں رہیں۔ لیکن اس کتاب کے دشمن بھی یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ یہ کتاب پوری طرح محفوظ ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ غیر مسلم دنیا نے شعوری طور اس میں تبدیلیاں کرنے کی کوششیں کیں۔ غالباً 1956 ء میں انھوں نے آیات اور سُوَر کی ترتیب بدل کر نیا قرآن پاک شائع کیا جس کی پہلی سورة ، سورة الزلزال تھی اور سورة البقرۃ انیسویں نمبر پر تھی لاکھوں کی تعداد میں اسے شائع کیا صرف نصف ڈالر اس کی قیمت رکھی۔ لیکن آپ پوری دنیائے اسلام میں اللہ کے فضل و کرم سے اس کا کہیں وجود نہیں پائیں گے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ قرآن پاک نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں ہے اور اہل علم جانتے ہیں کہ زبانیں چند صدیوں میں کیا سے کیا ہوجاتی ہیں۔ لیکن اس کتاب خداوندی کی وجہ سے عربی زبان اسی طرح آراستہ پیراستہ اور شگفتہ ہے، جس طرح نزول قرآن کے وقت تھی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ اس کتاب الٰہی کے محفوظ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
3 کتاب الٰہی کے محفوظ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ بالکل صحیح ہے اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہ صحیح ہے کہ قرآن کریم کی ایک ایک بات بالکل صداقت پر مبنی ہے اور اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ لیکن اس دعویٰ سے قرآن کریم کی عظمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اس لیے کہ ایسا دعویٰ تو اقلیدس یا ریاضی کی کوئی کتاب لکھنے والا بھی کرسکتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاضی یا اقلیدس یا بعض اس طرح کے فنون کی کتابوں کے مصنف یقینا یہ دعویٰ کرسکتے ہیں اور اس دعوے کی کوئی اہمیت بھی نہیں۔ کیونکہ ہر پڑھا لکھا آدمی یہ بات سمجھتا ہے کہ یہ مضامین ہی ایسے ہیں کہ جس میں ایسی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ جس میں غلطی کا صدور بہت کم ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کریم میں جن امور کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یوں تو وہ تمام امور ہی ایسے ہیں جس میں کسی بھی وقت غلطی ہوسکتی ہے۔ لیکن وہ امور اور وہ مسائل جن کا تعلق مابعد الطبیعات اور ماورائے ادراک سے ہے۔ ان کے بارے میں پروردگار کے سوا کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ ان امور کے بارے میں جو کچھ ہم نے کہا ہے وہ بالکل صحیح ہے اس لیے کہ جب بھی کوئی آدمی ان امور پر بحث کرتا ہے تو اس کے پاس سوائے ظن و گمان کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ خود بھی اس کے بارے میں یقین کی دولت سے بہرہ ور نہیں ہوتا تو وہ اس طرح کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے لیکن اس کتاب میں زندگی کے بنیادی حقائق کی جو تعلیم دی گئی ہے وہ تمام تر ایسے ہی امور پر Case کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ٹھہرا کہ اس کتاب کے پڑھنے والے کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ کسی انسان کی تصنیف نہیں یہ پروردگار کا کلام ہے جس کی ایک ایک بات سراسر علم حقیقت پر مبنی ہے۔ وہ اگر عالم برزخ کی بات کرتا ہے تو وہ اس کا خالق ہے وہ موت وحیات کی حقیقت کو کھولتا ہے تو وہ بھی اسی کی تخلیق ہے۔ وہ ملائکہ، عالم آخرت، حشر ونشر، جنت و دوزخ اور مبداء ومعاد کے حوالے سے جو کچھ بھی ارشاد فرماتا ہے وہ اس لیے صحیح ہے کہ یہ سب کچھ اسی کی تخلیق ہے۔ اور وہ زندگی اور زندگی سے پیدا ہونے والے مسائل انسانی فطرت کی ترجیحات خواہشات اور نفسانیت سے اٹھنے والے فتنے اور ان کا حل اجتماعی زندگی کے تقاضے اور اس سے صالح نتائج پیدا کرنے کے اسباب، قوموں کے عروج وزوال کے اخلاقی مسلمات، اس طرح کی ہزاروں باتیں ہیں جو انسان کی گرفت میں نہیں آتیں لیکن پروردگار عالم بتمام و کمال انھیں جانتا ہے اس لیے وہ انسانی زندگی کی ضرورتوں کے مطابق اپنی کتاب میں جو ہدایات نازل فرماتا ہے وہ یقینا ہر شک وشبہ سے پاک ہیں۔
ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔
(یہ کتاب ) ” ہدایت ہے ڈرنے والوں کے لیے۔ “ (البقرۃ : 2)
ھدًی کی وضاحت اور تسہیل
قرآن کریم کا ایک ایک لفظ اپنے ظاہری حسن اور معنوی وسعت و جامعیت کے اعتبار سے اپنے اندر ایک اعجازی شان رکھتا ہے۔ بظاہر سیدھے سادے الفاظ کھائی دیتے ہیں۔ مگر حقیقت میں ان کے اندر مفہوم ومعنی کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے۔ انہی دونوں لفظوں کو دیکھئے دونوں لفظ نہایت سادہ اور سہل ہیں۔ لیکن معنوی وسعت اور جامعیت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں۔ ھدًیکے بھی ایک سے زیادہ معنی ہیں اور معنی اور مفہوم میں حیرت انگیز وسعت ہے اور متقین کا بھی یہی حال ہے۔ اب ہم اس کی تھوڑی سے تفصیل عرض کرتے ہیں۔
ھدًی اور ہدایت۔ دونوں مصدر ہیں۔ اور دونوں کا معنی رہنمائی ہے۔ ہدایت کا لفظ قرآن کریم نے استعمال نہیں کیا۔ البتہ ھدًی یا الہدیٰ تقریباً دو سو جگہ استعمال ہوا ہے۔ اور ہر جگہ اس کی معنوی وسعت کے اعتبار سے قرائن کی مدد سے مفہوم کا تعین کرنا پڑتا ہے۔ ھدًی یا الہدی کا معنی تو رہنمائی ہے۔ لیکن رہنمائی کے مصداق بیسیوں ہیں۔ اس لحاظ سے اس کے مفہوم میں تبدیلی کا پیدا ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ ایک راہ چلنے والاکسی واقف حال سے رستہ پوچھتا ہے یعنی اسے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اس رہنمائی کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں۔
1 رہنمائی دینے والا اس مسافر کو وہیں کھڑے کھڑے ہاتھ یا چھڑی کے اشارے سے منزل کی سمت بتادیتا ہے اور راستے کے کچھ نشانات واضح کردیتا ہے۔ اسے اراء الطریق کہتے ہیں۔
2 بتانے والا محسوس کرتا ہے کہ راستہ بڑا پرپیچ ہے مسافر زبانی رہنمائی سے شاید منزل تک نہ پہنچ سکے اور اس کی فکر مندی دیکھ کر وہ خود بھی فکر مند ہوجاتا ہے۔ اب وہ بجائے اسے ہاتھ کے اشارے سے بتانے کے اسے اپنے ساتھ لیتا ہے اور اسے اس کی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ اسے ایصال الی المطلوب کہتے ہیں۔
3 کبھی رہنمائی محسوس چیزوں میں نہیں ہوتی بلکہ رہنمائی کی ضرورت معنوی، نظریاتی اور فکری ہوتی ہے۔ یعنی ایک آدمی زندگی سے متعلق تصورات میں الجھا ہوا ہے۔ وہ اس کی حقیقت اس کی ضروریات اور اسکے مسائل کو سمجھنا چاہتا ہے لیکن الجھ کر رہ گیا ہے اب ضرورت ہے کہ اسے ایسی رہنمائی دی جائے جو اس حوالے سے اسے یکسو کرسکے۔ اس فکری رہنمائی کے لیے اسے زندگی سے متعلق ایسے واضح تصورات اور اس پر کامیابی سے چلنے والے واضح نقوش قدم مہیا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ وہ اپنی فکری الجھنوں سے بھی نجات پاسکے اور عملی مثالیں اس کی فکر کو عملی توانائی بھی دے سکیں۔
4 اجتماعی زندگی اپنے سفر پر رواں دواں ہے۔ اس کے اجتماعی ادارے وجود میں آچکے ہیں۔ افراد کی شیرازہ بندی ہورہی ہے۔ حکومت و ریاست اور افراد ریاست کا باہمی تعلق تشکیل پارہا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ایک ایسا آئین وجود میں آئے جو تمام اجتماعی اور ادارتی ضرورتوں کو اور فرد سے لے کر حکومت و ریاست تک ہر طرح کی رہنمائی کا حق ادا کرسکے۔
5 سمتِ سفر اور منزل کے متعین ہوجانے یا ریاست کے ہمہ نوعی اداروں کے وجود پاجانے کے بعد اور قوم کی شیرازہ بندی ہوجانے کے بعد کبھی ایسی صورتحال بھی پیدا ہوتی ہے کہ ذمہ داریوں کی شدت کا احساس کرتے ہوئے اور راہ کی مشکلات کو محسوس کرتے ہوئے حوصلے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اور آمادئہ عمل ہونے سے پہلے ہی ہمتیں جواب دینے لگتی ہیں۔ اس صورت میں بھی رہنمائی کی ضرورت ہے، جو حوصلوں کو باندھ سکے اور ہمتوں کو توانا کرسکے۔
یہ کم سے کم رہنمائی کی ضرورتیں اور صورتیں ہیں اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہر ضرورت دوسرے سے مختلف ہے۔ ایسے تمام مواقع پر راہنمائی کی ایک ہی شکل تو ہو نہیں سکتی۔ ہر نئی ضرورت پیدا ہوجانے کے بعد رہنمائی بھی ایک نئی شکل میں متشکل ہوگی۔ شکل کچھ بھی ہو اور قالب کوئی بھی اختیار کیا جائے اسے بہرحال رہنمائی ہی کہا جائے گا۔ لیکن اس سے یہ تو اندازہ ہورہا ہے کہ رہنمائی یا ہدایت لفظ کی صورت میں تو ایک ہے لیکن معنوی وسعت کے اعتبار سے اس کے کتنے رنگ اور کتنی صورتیں ہیں۔
متذکرہ بالا پانچوں ضرورتوں کو سامنے رکھ کر دیکھئے۔ کہ پہلی صورت میں جب کہ زندگی کا مسافر منزل تک پہنچنے کا راستہ پوچھنا چاہتا ہے اور یہ اس کے سفر کی بالکل ابتداء ہے اور ابھی وہ اس میدان میں بالکل نووارد ہے۔ ہدایت کے احساس نے ابھی اس کے اندر جنم لیا ہے۔ قرآن اس کے لیے بھی ہدایت ہے۔ وہ صرف سمت سفر معلوم کرنا چاہتا ہے تو قرآن انگلی اٹھا کے اسے سمت سفر بتادیتا ہے۔ اور راستے کے کچھ نشانات بھی واضح کردیتا ہے۔ تو اس آیت کریمہ میں قرآن کریم کو اس حوالے سے بھی ہدایت کہا گیا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جسے ھدی للناس کہا گیا ہے۔ یعنی یہ قرآن سب لوگوں کے لیے ہدایت ہے کہ وہ سب لوگوں کو راستہ دکھاتا ہے۔
دوسری صورت میں جبکہ اس کی فکر مندی میں اضافہ ہوچکا ہے۔ اب وہ بہرصورت منزل تک پہنچنے کے لیے بےتاب ہے اور زندگی کے نشیب و فراز نے اسے پریشان کردیا ہے۔ اب وہ خود کو رہنماکے حوالے کرکے التجا کرتا ہے کہ مجھے منزل تک پہنچنے کے لیے مدد کی جائے۔ تو قرآن اس کے لیے بھی ہدایت ہے۔ ارشاد فرماتا ہے وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْ ا فِینَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا جو لوگ ہم تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے بےچین ہوتے ہیں ہم ان کے لیے اپنے راستے کھول دیتے ہیں۔
نمبر 3 میں ہم نے جس ضرورت کا ذکر کیا ہے کہ انسان فکری طور پر الجھ کر رہ جاتا ہے وہ چلنا چاہتا ہے لیکن اسے راستہ نہیں ملتا۔ قرآن کریم اس کے لیے بھی ہدایت ہے کہ وہ اسے اس طرح فکری رہنمائی دیتا ہے کہ قرآن کریم کا مطالعہ اس میں قلبی نور و بصیرت پیدا کردیتا ہے۔ اب مشکل سے مشکل مراحل میں بھی اس کی بصیرت اسے رہنمائی دیتی ہے اور دل کا نور راستہ روشن کرتا ہے۔ اسی کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ والذین اھتدو زادھم ھدی (کہ جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں اللہ ان کی قلبی بصیرت میں اضافہ فرماتا ہے) ۔
اجتماعی زندگی کی شیرازہ بندی اور اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے آئینی رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے۔ جس کا ذکر ہم نے نمبر چار پر کیا ہے۔ قرآن کریم اس کے لیے بھی رہنمابن کر آیا ہے۔ یعنی وہ صرف کتاب نصیحت ہی نہیں بلکہ ضابطہء حیات اور اسلامی ریاست و حکومت کا آئین بھی ہے۔ اس لیے فرمایا اِنَّ الھُدیٰ ھُدَی اللّٰہ (کہ بیشک شریعت اور آئین تو اللہ ہی کا آئین ہے ) (یعنی قرآن کریم )
نمبر 5 میں ہم نے جس ضرورت کا ذکر کیا ہے۔ قرآن کریم یہ ضرورت بھی پوری کرتا ہے یعنی حوصلوں کو باندھتا اور توانا کرتا ہے اور اس لحاظ سے اسے ہدایت کہا گیا ہے۔ جس طرح ” اصحاب کہف “ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ چند لڑکے بالے تھے۔ جب وہ ایمان لے آئے تو حالات کی طغیانی ان کے حوصلوں کو توڑنے لگی۔ تو اللہ فرماتا ہے : زِدْنَاھُمْ ھُدًی وَرَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ (ہم نے پھر ان کی ہدایت میں اضافہ کیا یعنی ان کے دلوں کو باندھ دیا اور حوصلوں کو توانا کردیا ) ۔
ہم نے رہنمائی اور ہدایت کی چند آسان ضرورتیں آپ کے سامنے واضح کیں اور آپ نے دیکھا کہ قرآن کریم ان تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے رہنمائی کا حق ادا کرتا ہے۔ اور اس متنوع رہنمائی کو جس کی وسعتوں کی کوئی انتہاء نہیں صرف ایک لفظ ھدًی سے تعبیر کیا گیا ہے اس سے آپ اس لفظ کی وسعتوں کا اندازہ ر کرسکتے ہیں۔
تقویٰ کا مفہوم اور تقویٰ کے مدارج
اسی طرح متقین کے لفظ میں بھی ایسی ہی وسعتیں رکھی گئی ہیں۔ متقین متقی کی جمع ہے۔ اور متقی اسے کہتے ہیں، جسے تقویٰ کی دولت نصیب ہو۔ ہدایت کی طرح تقویٰ کی بھی مختلف جہتیں اور مختلف مدارج ہیں۔ کبھی تو تقویٰ کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کے نقصان سے بچنا، یعنی آدمی یہ دیکھتا ہے کہ فلاں کام کرنے سے یا فلاں جگہ جانے سے مجھے یہ نقصان پہنچ سکتا ہے تو آدمی اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن کریم میں تقویٰ اس معنی میں بھی استعمال ہوا ہے جیسا کہ :
فَکَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَ انُ شِیْبًا (مزمل : 17)
(اگر تم نے کفر کیا تو اس دن سے کیسے بچ سکو گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا) ۔
وَاتَّقُوْ فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْامِنْکُمْ خَاصَّۃً ج (انفال : 25)
(اور اس آفت سے چوکنے رہو جو خاص طور پر انہی پر نہیں آئے گی جنھوں نے تم میں سے ظلم کا ارتکاب کیا ہوگا) ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم ان لوگوں کے لیے ہدایت ہے جن میں اتنا شعور زندہ ہے کہ وہ اپنی اور کائنات کی حقیقت پر غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس کائنات کے خالق نے کوئی چیز بھی بےمقصد پیدا نہیں کی اور مزید یہ کہ اس کی پیدا کردہ ہر مخلوق اس کے احکام کے تحت اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مشغول ہے۔ اور جو مخلوق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہوجاتی ہے اسے مٹا دیا جاتا ہے۔ درخت جب تک پھل دیتا یا سایہ دیتا ہے اور اس کی سرسبزی باقی رہتی ہے تو وہ قائم رہتا ہے۔ اور جب وہ اپنی ان ذمہ داریوں سے قاصر ہوجاتا ہے تو اسے ختم کردیا جاتا ہے۔ یہی حال ہر مخلوق کا ہے یہ انسان جسے اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے اور جس پر تمام مخلوقات سے زیادہ انعامات کی بارش کی گئی ہے۔ اور پھر اسے جوہر عقل سے بھی نوازا گیا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو۔ اور اگر واقعی کوئی مقصد ہے اور یقینا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ اگر اپنے مقصد کے مطابق زندگی نہ گزارے تو اسے ہمیشہ باقی رکھاجائے اور اس سے کبھی باز پرس نہ ہو۔ جو آدمی اتنا سا شعور اپنے اندر رکھتا ہے یہ قرآن اس کے لیے بھی ہدایت ہے، اور یہ تقویٰ کی پہلی منزل ہے۔
تقویٰ کا ایک معنی گناہ سے اس کے برے نتائج اور اللہ کے ڈر سے بچتے رہنا بھی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ گزشتہ بیان کردہ معنی کی نسبت اگلی منزل کا نام ہے کہ اسے صرف مقصد کا شعور ہی برے انجام سے بچنے کی ترغیب نہیں دیتا بلکہ یہ احساس اس کے اندر ایسی شدت اختیار کرگیا ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ میرا ہر گناہ اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے۔ میں جو کچھ بھی کرتا ہوں اسی پر میرے انجام کا ترتب ہوتا ہے۔ جس طرح سنکھیا کھانے سے آدمی مرجاتا ہے اور مرغن غذا کھانے سے قوت آتی ہے۔ اسی طرح گناہ سے برا انجام جنم لیتا ہے جس کا نتیجہ اللہ کی ناراضگی ہوتا ہے۔ اور نیکی سے آخرت سنورتی ہے اور زندگی پنپتی ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ کی خوشنودی نصیب ہوتی ہے۔ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نیکی کا شوق اور اللہ کے غضب سے بچنے کے لیے گناہ سے نفرت یہ وہ تقویٰ ہے جس کے حاملین کے لیے یہ قرآن پاک ہدایت بن کر آیا ہے یعنی جس طرح ہدایت کے مختلف مدارج ہیں ایک ہدایت عام آدمی کی ہے اور ایک ہدایت درجہ بدرجہ ہدایت کے راستے پر چلنے والوں کی ہے جس کی آخری منزل کی کوئی انتہاء نہیں۔ اسی طرح تقویٰ ایک عام آدمی کا ہے اور ایک تقویٰ اس آدمی کا ہے جو گناہ سے نفرت کرتا ہے اور نیکی کی طرف لپکتا ہوا جاتا ہے۔ اللہ کی ناراضی اس کے لیے زندگی کی سب سے بڑی ناکامی ہے اور اس کی خوشنودی زندگی کی حقیقی منزل ہے۔ یہ پوری تفصیلات اگر ذہن میں رہیں تو پھر اس طرح کے اعتراضات کا کوئی موقع نہیں جو بعض لوگوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں کہ قرآن کریم تو سب کے لیے ہدایت بن کر آیا ہے لیکن یہاں فرمایا جارہا ہے کہ وہ صرف متقین کے لیے ہدایت ہے۔ بات بالکل واضح ہے کہ جو بھی زندگی میں بداطواریوں کے انجام سے بچنے کے لیے قرآن کریم کی طرف رجوع کرتا ہے وہ بھی متقی ہے اور یہ قرآن کریم اس کے لیے بھی ہدایت ہے اور جو درجہ بدرجہ اللہ کے قرب کی طرف بڑھتا جاتا ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں وہ بھی متقی ہے اور قرآن کریم اس کے لیے بھی ہدایت ہے یہ تو قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ بظاہر ان ضروتوں میں کس قدر تفاوت دکھائی دیتا ہے لیکن قرآن کریم کے فیضان نے سب کے لیے اپنی آغوش کھول رکھی ہے اور ہر کوئی بقدر ہمت اس سے اپنا حصہ وصول کررہا ہے۔ البتہ ایک عامیانہ سا سوال باقی رہ جاتا ہے کہ چلیے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ قرآن کریم کی ہدایت کے بھی مدارج ہیں اور تقویٰ کے بھی مدارج ہیں۔ لیکن اس سے یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ جس آدمی میں تقویٰ نام کی کوئی چیز نہیں۔ اس کے لیے تو قرآن کریم ہدایت نہیں ہوسکتا اور ویسے بھی تقویٰ کا سفر تو قرآن کریم کی ہدایت کے بعد کا ہے اس سے پہلے تقویٰ کیسے نصیب ہوسکتا ہے ؟ یہ خیال سراسر قلّتِ فہم سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ دنیا کی کوئی بھی موثر قوت جو اپنی اثر اندازی میں بےمثال بھی ہو وہ اس وقت تک کسی پر اثر انداز نہیں ہوسکتی جب تک کوئی اثر پذیری کے لیے اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔ سورج سب کو روشنی دیتا ہے اور اس سے بڑھ کر روشنی کے سرچشمے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس روشنی سے فائدہ اٹھانے کے لیے آنکھیں کھولنا ضروری ہے۔ جو شخص آنکھیں نہ کھولے یابینائی سے محروم ہو اسے سورج کی روشنی کوئی فائدہ پہنچانھیں سکتی۔ چمن میں بلبل ہزار چہ کے۔ لیکن اگر ایک شخص بہرہ ہے تو وہ اس کے چہکنے سے کیا لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ یہاں بھی یہی فرمایا جارہا ہے کہ قرآن کے نور اور سرچشمہء ہدایت ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ لیکن اس سے وہی شخص فائدہ اٹھاسکتا ہے جس میں اثر پذیری یا متوجہ ہونے کی کم سے کم صلاحیت موجود ہو۔ وہ اپنے انجام کے بارے میں فکر مند ہو زندگی میں بداطواریوں سے نالاں ہو اور انھیں بدلنے کی فکر بھی رکھتاہو اور یہی تقویٰ کی پہلی منزل ہے اور یہی انسان کی فطری صلاحیت ہے۔ اس لیے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی “ (اس میں اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے درس عبرت ہے) (نازعات : 26) ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْاَلْقَیْ السَّمْعَ وَھُوَ شَھِیْدٌ“ (بےشک اس کے اندر یاددہانی ہے اس کے لیے جس کے پاس بیدار دل ہو یا وہ پوری طرح متوجہ ہو کر بات سنے) (ق : 37)
ہدایت اور تقویٰ میں چولی دامن کا ساتھ ہے
حاصل کلام یہ کہ قرآن کریم پوری نوع انسانی کے لیے ہدایت بن کے آیا اور یہ آفتاب جہاں تاب سے بڑھ کر اہل دنیا کے لیے ہدایت کا نور پھیلا رہا ہے۔ لیکن لِلْمُتَّقِیْنَ میں لام انتفاع کے لیے ہے۔ یعنی اس ہدایت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر تقویٰ ہو۔ تقویٰ بالکل ابتدائی درجے میں سادہ احساس کی حد تک بھی ہوگا تو قرآن تب بھی اسے ہدایت دے گا اور اگر درجہ بدرجہ ترقی کرتا ہوامقام قرب تک پہنچ جائے گا تو قرآن تب بھی اس کے لیے ہدایت ہے۔ لیکن اگر ایک شخص مسلمان ہوتے ہوئے بھی اپنے اندر اپنے انجام کی فکر نہیں پیدا کرتاوہ بس اس لیے مسلمان ہے کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا مستقبل کی فکر مندی، گناہ سے نفرت، نیکی کا شوق، اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس، یعنی تقویٰ کی کوئی رمق بھی اس کے اندر موجود نہیں وہ قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کرے گا اور اگر قرآن اس کی زندگی میں نافذ کردیا جائے تو مسلمان ہوتے ہوئے بھی اس سے بغاوت کردے گا۔ اس کی واضح مثال آج امت ِمسلمہ کی اکثریت ہے۔ حکمران مسلمان ہیں لیکن قرآنی تعلیمات سے الرجک، عوام مسلمان ہیں لیکن قرآن پاک کی تعلیمات کو زندگی میں داخل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مجموعی طور پر ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ چند مستثنیات کو چھوڑ کر قرآنی افکار سے بےنیاز ہوچکا ہے۔ اس سے یہ بات سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم کی ہدایت کے لیے متقی ہونے کا ذکر کیوں کیا گیا ہے کیونکہ تقویٰ ہی وہ اصل صفت ہے جو ایک مسلمان کو بھی اپنے انجام کے بارے میں فکر مند بناتی ہے اور یہی فکر ہدایت کے حصول کا سبب بنتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے زمانے میں بعض اسلامی احکام کے اجراء کی کوشش کی گئی لیکن خود مسلمانوں کے ہاتھوں ان کے نفاذ کو ناکام بنادیا گیا وہ ایک تکلیف دہ داستان ہے۔ جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر آدمی میں خدا خوفی نہ ہو تو قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے کے باوجود بھی وہ قرآن کریم کی ہدایت سے محروم رہتا ہے۔
یہ تلخ حقیقت کہ کوئی قوم خواہ وہ صاحب ایمان بھی ہو لیکن اگر اس کے اندر تقویٰ یعنی خدا خوفی نہ پائی جاتی ہو اور وہ اعمال کی مسلسل خرابیوں کے باعث اپنے دلوں کی دنیا اس حد تک اجاڑ چکے ہوں کہ ان پر کوئی نصیحت بھی اثر نہ کرے۔ تو امتوں کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ان کے بارے میں انبیاء کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور ان کی دعائوں کی قبولیت کے لیے یہ شرط عائد کردی جاتی ہے کہ جب تک یہ لوگ اپنے اندر تقویٰ پیدا نہیں کریں گے اس وقت تک یہ اللہ کی رحمت کے مستحق نہیں ہوسکتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں جب بنی اسرائیل گوسالہ پرستی میں مبتلا ہوئے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کرنے کے لیے ان کو سخت آزمائشوں سے گزارا۔ تو اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو آئندہ غضب الٰہی سے بچانے کے لیے پروردگار سے دعا مانگی : ” یا اللہ ! آئندہ ان کو اپنے غضب سے محفوظ رکھنا اور اپنی رحمت سے کبھی محروم نہ رکھنا “ لیکن پروردگار نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں ارشاد فرمایا : وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ فَسَأَ کْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَیُوْتُوْنَ الزَّکٰوْۃُ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰ یَاتِنَایُؤْمِنُوْنَ (اور میری رحمت ہر چیز کو حاوی ہے پس میں اس کو لکھ رکھوں گا ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ پر قائم رہیں گے، زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور ان لوگوں کے لیے جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے) ۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت انھیں لوگوں کو ملتی ہے جو تقویٰ اختیار کرنے والے، زکوٰۃ ادا کرنے والے اور اللہ کی آیتوں پر ایمان لانے والے ہوں۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کٹھن امتحانوں سے گزارنے کے بعد جب قوموں کی امامت پر سرفراز فرمانے کا وعدہ فرمایا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ یہ منصب میری اولاد کو بھی حاصل رہے گا یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا : لاَ یَنَالُ عَہْدِیْ الظّٰالِمِیْنَ (کہ میرا یہ عہد تمہاری اولاد میں سے ان لوگوں کو حاصل نہیں ہوگا جو ظالم ہوں گے۔ ) ظالم سے مراد ظاہر ہے کہ وہ لوگ ہیں جو توحید و اخلاص سے عاری اور تقویٰ و خشیت سے خالی ہوں۔
تقویٰ سے پھوٹنے والی پہلی کونپل ایمان بالغیب ہے
ان توضیحات سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کی اخری کتاب ہے اس سے استفادہ کے لیے ہر سطح پر تقویٰ کا ہونا کیوں ضروری ہے ؟ کیونکہ اثرپذیری کی یہ کم سے کم صلاحیت ہے جس کے بغیر قرآن کریم سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ یہ صلاحیت جیسے جیسے ترقی کرتی جاتی ہے۔ ویسے ویسے قرآن کریم کی ہدایت اور اللہ کی رحمت بندے کے شامل حال ہوتی جاتی ہیں۔