Ayah 2:249فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ لا قَالَ اِنَّ اللَّہَ مُبْتَلِیْـکُمْ بِنَہَرٍج فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ ج وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْہُ فَاِنَّـہٗ مِنِّیْٓ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃً م بِیَدِہٖ ج فَشَرِبُوْا مِنْہُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ ط فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ھُوَوَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ لا قَالُوْا لَاطَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ ط قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰـقُوا اللُّہِ لا کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً م بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۔
(پھر جب طالوت فوجوں کو لے کر چلے تو انھوں نے (اپنی فوجوں سے کہا) بیشک اللہ تمہیں آزمانے والا ہے ایک نہر کے ذریعے۔ جو اس نہر سے پی لے گا وہ میرا ساتھی نہیں۔ اور جو اس کو نہیں چکھے گا تو وہ یقینا میرا ساتھی ہے۔ الا یہ کہ کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے۔ تو سب نے اس میں سے پی لیا مگر تھوڑے سے لوگ ان میں سے بچے۔ پھر جب دریا پار کر گئے طالوت اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ثابت قدم رہے تو انھوں نے کہا کہ ہم میں آج جالوت اور اس کی فوجوں سے لڑنے کی طاقت نہیں۔ تو ان لوگوں نے کہا جو یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں۔ کہ کتنی چھوٹی جماعتیں رہی ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آگئی ہیں۔ اللہ تو ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے) (249)
گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت سموئیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے طالوت کو بنی اسرائیل کا امیر مقرر کیا۔ انھوں نے اس کی امارت کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں اعتراضات کیے ‘ لیت و لعل سے کام لیا ‘ لیکن حضرت سموئل (علیہ السلام) کے سمجھانے اور تابوتِ سکینہ کے معجزانہ طریقے سے واپس مل جانے کے بعد وہ حضرت طالوت کی امارت پر یکسو ہوگئے۔ حضرت سموئل تو عرصہ دراز سے ان کی اصلاح کا کام کر رہے تھے۔ اب حضرت طالوت کے امیر بن جانے کے بعد طالوت نے بھی ان کے کام میں معاونت شروع کی۔ اصلاحی پروگرام کو آگے بڑھایا لیکن وہ اصل کام جس کے لیے انھیں امیر بنایا گیا تھا اس کے لیے اگرچہ عقیدہ و عمل کی اصلاح خشت اول کی حیثیت رکھتی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی بےحد ضروری تھی کہ اس قوم میں شیرازہ بندی کی جائے ‘ ان میں ڈسپلن پیدا ہو ‘ ان کے عزائم میں توانائی آئے اور ان میں حربی صلاحیت اور جہادی روح پیدا کرکے دشمنوں سے اپنے علاقے واگزار کرائے جائیں اور وہ قومی افتخار جو قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے اس کی بحالی کا اہتمام کیا جائے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ طالوت کو اس کام میں کتنا عرصہ لگا لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ اب قوم کی اجتماعی حالت پہلے سے بہتر ہوگئی ہے تو وہ اپنی فوجوں کو فلسطینیوں کے مقابلے میں لے کر نکلے جن کا سردار جاتی جو لیت تھا جسے قرآن کریم نے جالوت کے نام سے یاد کیا ہے۔ جاتی جو لیت معلوم ہوتا ہے عبرانی لفظ ہے جو معرب ہو کر جالوت ہوگیا۔ حضرت سموئیل اور حضرت طالوت کی اصلاحی کوششوں اور انتظامی اقدامات سے اگرچہ بنی اسرائیل میں بہت کچھ بہتری کے آثار پیدا ہوگئے تھے لیکن ابھی تک حضرت سموئل اور حضرت طالوت دشمن کے سامنے ان کی ثابت قدمی کے حوالے سے پوری طرح مطمئن نہ تھے اس لیے حضرت سموئیل نے حضرت طالوت کو اللہ کا یہ حکم پہنچایا کہ میدان جنگ میں پہنچنے سے پہلے ساتھ جانے والے فوجیوں کا امتحان لے لینا چاہیے ‘ ایسا نہ ہو کہ وہ میدانِ جنگ میں جا کر بزدلی دکھائیں اور اس کے نتیجے میں کوئی بڑا حادثہ پیش آئے۔ چناچہ حضرت طالوت نے ان کے ڈسپلن اور اطاعت و وفاداری کا امتحان لینے کے لیے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتے ہیں کہ تم اللہ کے راستے میں جہاد و قتال کے جذبے میں کہاں تک مخلص ہو۔ چونکہ یہ حکم اللہ ہی نے دیا تھا اس لیے اس کی نسبت بھی طالوت نے اپنی طرف کرنے کے بجائے اللہ کی طرف کی۔
فوج کی ثابت قدمی کا امتحان
اِنَّ اللَّہَ مُبْتَلِیْـکُمْ بِنَہَرٍ (اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر کے ذریعے آزمانے والا ہے) نہر عربی زبان میں دریا کو بھی کہتے ہیں اور ندی نالے کو بھی۔ تعین سے یہ بات کہنا مشکل ہے کہ وہ دریائے اردن تھا یا راستے کا کوئی ندی نالہ۔ دریائے اردن بھی کوئی بہت بڑا دریا نہیں اس کی براہ راست لمبائی کل پینسٹھ میل ہے۔ البتہ اس کے خم و پیچ کو ملا کر اس کا طول دو سو میل ہوجاتا ہے۔ علاقہ فلسطین میں اہم ترین دریا یہی ہے اور یہ ملک کی قدرتی سرحد کا کام بھی دیتا ہے۔ اس کا بہائو شمال سے جنوب کی جانب ہے اور بحرجلیل اور بحرطبریہ سے ہوتا ہوا بحر مردار میں جا گرتا ہے۔ اس کا پانی شروع میں تو صاف ‘ شفاف ‘ شیریں ہے لیکن آگے جا کر گدلا ‘ بدبودار اور مضر ہوجاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ لشکر دریائے اردن پار کر کے فلستیوں کے ساتھ نبردآزما ہونے والا تھا۔ جالوت اپنا لشکر لے کر وہیں ان کا انتظار کر رہا تھا۔ یا ممکن ہے کوئی اور ندی نالہ مراد ہو اصل مقصود تو صرف یہ بتلانا ہے کہ طالوت نے اللہ کے حکم سے ان کی اطاعت و وفاداری کو دیکھنے اور ان کی ثابت قدمی کو جانچنے کے لیے اعلان کیا کہ آگے جو دریا یا ندی نالہ آرہا ہے تمہیں اس کے پانی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ گرمی اور سفر کی وجہ سے تمہیں پیاس تنگ کر رہی ہے ‘ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ تم اللہ کے راستے میں کہاں تک تکالیف برداشت کرسکتے ہو۔ اس لیے تمہارے لیے حکم یہ ہے کہ تم اس کے پانی کو چکھ بھی نہیں سکتے۔ لیکن پھر اس حکم میں تخفیف کرتے ہوئے فرمایا کہ ہاں تم میں سے اگر کسی نے ہاتھ سے ایک چلو بھر کے پانی پی لیا تو وہ معاف ہے ‘ لیکن جس نے اس سے زیادہ پانی پیا تو اس کا تعلق میری فوج سے نہیں ہوگا۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ ان میں سے ایک محدود تعداد کے سوا پوری فوج نے اس حکم کو توڑ ڈالا اور انھوں نے جی بھر کے پانی پیا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ انھیں پانی پینے کی سزا یہ دی گئی کہ وہ ڈھیر ہو کر رہ گئے۔ ان میں اٹھنے کی ہمت نہ رہی لیکن جن لوگوں نے اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے امیر کا ساتھ دیا اور ثابت قدمی دکھائی وہ تروتازہ اور شاداب چہروں کے ساتھ دریا کو عبور کر گئے اور پانی نہ پینے کے باوجود ان کی پیاس ختم کردی گئی۔ یہ تو ان پر اللہ کا انعام ہوا لیکن اصل بات جو دیکھنے کی تھی وہ صرف یہ تھی کہ جو لوگ چند گھنٹوں کے لیے پانی پینے پر صبر نہیں کرسکتے وہ میدانِ جنگ میں کیا پامردی دکھائیں گے اور ایسے بےصبر اور کم ظرف لوگوں سے کس معرکے کی توقع ہوسکتی ہے۔ چناچہ جو لوگ اس معمولی سے امتحان میں کامیاب نہ ہوسکے انھیں اس لشکر سے الگ کردیا گیا۔ اب آگے وہ لوگ بڑھے جو واقعتا زندگی کی تلخیوں پر صبر کرنے کی صلاحیت سے مالا مال تھے۔ جو مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرسکتے تھے۔ جن کے پیش نظر اپنی ضروریات کا حصول اور اپنے راحت و آرام کا خیال نہ تھا۔ بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم اللہ کے راستے میں ایک فیصلہ کن معرکہ سر انجام دینے کے لیے نکلے ہیں۔ یہ لوگ حضرت طالوت کے ساتھ آگے بڑھ کر جب میدانِ جنگ میں پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ جالوت ایک لشکرجرار کے ساتھ میدان میں موجود ہے اور خود جالوت کی جسمانی وجاہت کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے قدوقامت اور اپنی بہادری میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ اور اس کے ساتھ اتنی بڑی افرادی قوت ہے کہ بنی اسرائیل کی فوج اس کے مقابلے میں نہایت قلیل اور کمزور ہے۔ نہ اس کی تعداد سے ان کی تعداد کا مقابلہ ہوسکتا ہے نہ اس کے اسلحہ جنگ کے مقابلہ میں ان کے پاس اسلحہ جنگ موجود ہے۔ بعض محققین کا خیال یہ ہے کہ یہ جنگ بالکل ایسی ہی تھی جیسے جنگ بدر۔ جس میں ایک طرف قریش کا ایک عظیم لشکر تھا جو اسلحہ جنگ کے اعتبار سے پوری طرح مسلح تھا اور دوسری طرف مسلمانوں کا لشکرجن کی تعداد ان سے ایک تہائی بھی نہیں تھی۔ اور اسلحہ جنگ بھی واجبی سا تھا۔ دیکھنے والی نگاہیں دونوں لشکروں میں مقابلے کا کوئی امکان نہیں دیکھتی تھیں۔ ایسا لگتا تھا کہ مسلمان موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح کی کیفیت طالوت اور جالوت کی فوجوں کے درمیان بھی تھی۔ چناچہ طالوت کی فوج کے کچھ لوگوں نے جالوت اور اس کی فوجوں کو دیکھتے ہی کہا :
یہ قول کس کا ہے ؟
لاَ طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِہٖ (آج جالوت اور اس کی فوجوں سے لڑنے کی ہم میں طاقت نہیں) اس میں بظاہر کمزوری اور بزدلی کا اظہار ہوتا ہے اس لیے اس کی تاویل میں مفسرین کے دو گروہ ہوگئے۔ ایک گروہ نے یہ کہا کہ یہ قول ان لوگوں کا ہے جو دریا پر پانی پی کر ڈھیر ہوگئے تھے اور وہ آگے بڑھنے والے ساتھیوں کے حوصلوں کو توڑنے یا اپنے تئیں حقیقت کا اظہار کرنے کے لیے پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ دیکھو خودکشی نہ کرو آج جتنی طاقت جالوت اور اس کی فوجوں کے پاس ہے اسے دیکھتے ہوئے ان سے لڑنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ہم اس کے مقابلے میں جانے کی غلطی نہیں کرسکتے۔ تمہیں اگر مذہبی جنون نے پاگل کردیا ہے تو تم جا کر جان دو ۔ مفسرین کے دوسرے گروہ کا کہنا یہ ہے کہ یہ قول طالوت کے ساتھ آگے بڑھنے والوں میں سے ایک گروہ کا تھا۔ انھوں نے جیسے ہی جالوت اور اس کی فوجوں کی تعداد اور اسلحہ کی فراوانی کو دیکھا تو بیساختہ پکار اٹھے کہ اتنی عظیم فوج اور ایسے گرانڈیل جوان جرنیل کے ساتھ کون لڑ سکتا ہے۔ لیکن اس میں بزدلی یا کم ہمتی کا اظہار نہیں تھا بلکہ ایک امر واقعی کا اعتراف تھا۔ یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے جنگ یرموک میں مسلمانوں کے ایک محدود لشکر کے مقابلے میں رومیوں کی لا تعداد فوج کو دیکھ کر ایک سپاہی نے بےساختہ حضرت خالد بن ولید سے کہا کہ کوئی حد ہے رومیوں کی فوج کی تعداد کی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی فوجیں زمین سے امڈتی چلی آرہی ہیں۔ تو حضرت خالد بن ولید نے اسے تھپڑ مارا اور کہا اگر میرے گھوڑے کے سم نہ گھس گئے ہوتے تو میں انھیں کہتا کہ اتنی ہی فوج اور لے آئو۔ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جنگیں فوجوں کی کثرت سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ جذبہ بےپناہ اور اللہ کی تائید و نصرت سے لڑی جاتی ہیں۔ لیکن کہنے والے کے پیش نظر بھی کسی کمزوری کا اظہار نہ تھا بلکہ فوجوں کی کثرت پر حیرانی کا اظہار تھا۔ یہاں بھی بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے ان کی کثرت تعداد اور اسلحہ کی فراوانی پر حیرت کا اظہار کیا تھا مقصود یہ تھا کہ ہمیں اس پہلو پر بھی غور کرلینا چاہیے۔ یہ لوگ کامل الایمان تھے۔ ان کے ایمان میں کوئی کمزوری نہیں تھی۔ البتہ اسباب پر اللہ کی نصرت کو غالب کردینے کی ابھی مشق نہیں ہوئی تھی۔ وہ اللہ سے مدد مانگتے تھے لیکن ساتھ ہی معروضی حقیقتوں کو بھی سامنے رکھتے تھے۔ لیکن ان کے وہ ساتھی جو اکمل الایمان ہونے کا درجہ رکھتے تھے انھوں نے انھیں ٹوکا اور وہ نعرہ لگایا جس کے سامنے اسباب بےاثر ہو کر رہ جاتے ہیں۔
فتح و شکست کا انحصار کثرت و قلت پر نہیں
کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً م بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (کتنی چھوٹی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی بڑی جماعتوں اور لشکروں پر غالب آئی ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) یہ ایک ایسا انقلابی اور سرفروشانہ نعرہ ہے جو صرف ان لوگوں کی زبان پر آسکتا ہے جنھیں دو باتوں کا یقین ہو ایک تو یہ بات کہ اصل طاقت کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے۔ انسانوں کی طاقت یا دنیوی طاقت کے اسباب دوسرے اسباب کے مقابلے میں تو کام آتے ہیں لیکن اللہ کی طاقت کے مقابلے میں کبھی کام نہیں آتے۔ جس طرح تلوار چاہے کیسی ہی کاٹ کیوں نہ رکھتی ہو اس کی اصل طاقت وہ ہاتھ ہے جو اسے استعمال کرتا ہے۔ وہ تلوار جو بزدل کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ کبھی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ لیکن وہی تلوار خالد بن ولید کے ہاتھ میں آجائے تو صفیں الٹ دیتی ہے۔ کیونکہ اصل طاقت اس ہاتھ میں ہے جس میں تلوار چمکتی ہے۔ اسی طرح وہ بندہ خدا یا بندگانِ خدا کا گروہ جو اللہ کے فوجدار بن کر صرف اس کی رضا کے حصول کے لیے میدانِ جنگ میں یہ سمجھ کے آتے ہیں کہ ہماری زندگیاں اللہ کی ہیں۔ یہ اسی کی دین ہیں اس لیے ضروری ہے کہ اسی کی رضا کے لیے اور اسی کے راستے میں قربان کی جائیں۔ مقابلے میں کوئی چھوٹی طاقت ہو یا بڑی جس آدمی کی نظروں میں صرف اللہ کے حکم کو سربلند کرنا اور اس کے لیے جان دینا مقصد زندگی ٹھہرے اس کے لیے یہ چیزیں بےمعنی ہوجاتی ہیں۔ جان لینے کے لیے تو شاید بڑی طاقت درکار ہو لیکن جان دینے اور تعمیل حکم کے لیے تو کسی بڑی طاقت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایسے لوگ عقل سے نہیں ایمان سے سوچتے ہیں۔ وہ جب اس بات میں یکسو ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا راستہ یہی ہے اور آج اس راستے کا مطالبہ یہ ہے کہ میں اس کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے اپنی جان نذر کر دوں تو پھر طاقت اور قوت کے فلسفے ان پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ وہ بڑی سے بڑی طاقت سے دیوانہ وار ٹکرا جاتے ہیں انھیں یقین ہوتا ہے کہ ہماری پشت پر اللہ کی طاقت ہے۔ اور اللہ کی طاقت پر کوئی دوسری طاقت غالب نہیں آسکتی۔ آنحضرت ﷺ جب ایک درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے کہ ایک بدو برہنہ شمشیر لے کر آپ ﷺ کے سر پر آپہنچا اور کہنے لگا کہ بتائو تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے نہایت اطمینان سے فرمایا ” اللہ “ اس بےساختہ جواب پر اس کے ہاتھ میں کپکپی طاری ہوئی اور تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔ غارِ ثور میں جب دشمن غار کے دہانے تک پہنچ گیا۔ صدیق اکبر پریشان ہوئے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر تمہاری ان دو آدمیوں کے بارے میں کیا رائے ہے جن کا تیسرا خدا ہے ؟ مطلب واضح ہے کہ ہم دو ہیں ہمارے ساتھ تیسرا خدا ہے جو ہماری حفاظت کر رہا ہے۔ ہمیں کسی دشمن سے کیا ڈر ہوسکتا ہے اور ہمارا کوئی کیا بگاڑسکتا ہے۔
اور دوسری یہ بات کہ جس آدمی کو یہ یقین ہوجائے کہ یہ جسم و جان میرے نہیں اللہ کے ہیں۔ یہ اس کی امانت ہیں۔ جب بھی اس کی طرف سے ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ انھیں حوالہ کیے بغیر غلبہ دین کا کام مکمل نہ ہوتا ہو تو پھر ضروری ہے کہ میں انھیں اس کے راستے میں قربان کر دوں اور اس بات کا یقین رکھوں کہ یہ قربانی کوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔ بلکہ یہ ایسا سودا ہے جس کا نفع بےانتہا اور یقینی ہے میری جان نکلتے ہی جنت کے پٹ میرے لیے کھل جائیں گے ‘ جنت کی حوریں میرے لیے چشم براہ ہوں گی ‘ اللہ کی رحمت جھوم کر مجھ پر نثار ہوگی۔ یہ یقین ایک ایسی قوت ہے جس کے سامنے کوئی قوت ٹھہر نہیں سکتی۔ اس کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات سامانِ سفر بن جاتی ہیں۔ اس یقین سے سرشار لوگوں کے لیے مرنا آسان اور زندہ رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے سر کو کندھے کا بوجھ سمجھنے لگتے ہیں اور ان کی روح اس وقت سرشار ہوجاتی ہے جب یہ بوجھ اتر جاتا ہے۔ ایک صحابی جنھوں نے جنگ احد میں آنحضرت ﷺ سے پوچھا اور شاید وہ اسی روز مسلمان ہوئے تھے کہ حضور اب مجھے کیا کرنا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔ وہ کھجوریں کھا رہے تھے ‘ کھجوریں حضور ﷺ کے حوالے کیں اور کہا کھجوروں کو ختم کرنا لمبی زندگی ہے ‘ کون اتنا انتظار کرے۔ دیوانہ وار آگے بڑھے اور لڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ آنحضرت ﷺ نے انھیں خود قبر میں اتارا اور فرمایا عمل قلیلا واجر کثیرا (اس شخص نے کام تھوڑا کیا لیکن اجر بہت پا گیا) اس کی روح جنت میں سیر کر رہی ہے۔
انسانوں کا جو گروہ اس انقلابی سوچ سے سرشار ہو کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا طوفانِ بےپناہ ہوتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔ چناچہ ایسی ہی سوچ سے سرشار لوگوں نے یہ بات کہی کہ کتنی چھوٹی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑے بڑے لشکروں پر غالب آگئیں۔ ہم اگر تھوڑے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ‘ ہم اگر کمزور ہیں تو اللہ تو کمزور نہیں ‘ نہ اس کی طاقت چھوٹی ہے ‘ ہمیں اسی پر اعتماد اور توکل کرتے ہوئے آگے بڑھنا اور دشمن سے ٹکرانا ہے۔ شرط صرف ایک ہے کہ ہمارے قدموں میں تزلزل نہ آنے پائے۔ ہم صبر کی چٹان بن کر ان کے راستے میں حائل ہوجائیں۔ اللہ کو اگر منظور ہوا تو وہ ہماری کمزوری کو بھی طاقت میں بدل دے گا اور اگر اس کو منظور نہ ہوا تو ہم اس کے نام پر قربان ہو کر حقیقی زندگی سے بہروہ ور ہوجائیں گے۔ ایک ایسی زندگی جسے کبھی زوال نہیں۔
Ayah 2:250راہِ حق میں نکلنے والوں کی دعا
وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجُالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ قَالُوْا رَبَّنَـآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقُوْمِ الْـکٰفِرِیْنَ ۔
(اور جب سامنا ہوا جالوت اور اس کی فوجوں سے تو انھوں نے دعا کی اے ہمارے پروردگار ! ہم پر صبر انڈیل دے ‘ ہمارے قدم جمائے رکھ اور کافر قوم کے خلاف ہماری مدد فرما) (250)
ایک محدود تعداد اسلحہ جنگ کی کمی اور دشمن کے مقابلے میں بےسروسامانی کو محسوس کرتے ہوئے ان سرفروشوں نے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیے کہ الٰہی دشمن بہت طاقتور ہے اور ہم نہایت کمزور ہیں۔ اس کی طاقت کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔ البتہ تیری ذات پر بےپناہ اعتماد رکھتے ہیں۔ تیری قدرت و قوت کی کوئی انتہا نہیں۔ تو ہی بےکسوں کا سہارا اور بےبسوں کی طاقت ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم اس منہ زور طاقت سے ٹکرا جائیں۔ لیکن کمزور دلوں کو حوصلہ دینا اور استقلال اور استقامت کی دولت عطا کرنا تیرے ہاتھ میں ہے۔ تو ہی جانتا ہے کہ طاقت ور دشمن کے مقابلے میں ہم پر کیا گزرے گی۔ ہر طرح کی صورت حال میں تو ہمیں ثبات قدم کی دولت عطا فرما۔ ہمیں مصائب کے مقابلے میں دل جمعی اور استقلال کے ساتھ کھڑا رہنے کا حوصلہ عطا فرما۔ ہماری کمزوری کو قوت میں تبدیل فرما دے اور دشمن کے مقابلے میں ان قوتوں سے ہماری مدد فرماجن سے تو ہمیشہ اپنے بندوں کی مدد فرماتا ہے۔ کافر لوگ اپنی قوت کے بل بوتے پر غرور اور تکبر کا اظہار کرتے ہوئے میدانِ جنگ میں آئے ہیں تو ان کے خلاف ہماری مدد فرما اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما۔ جس طرح ایمان ‘ یقین اور صبر مومن کے ہتھیار ہیں اسی طرح اللہ کی تائید و نصرت اس کا اصل سرمایہ ہیں۔ جب یہ دونوں جمع ہوجاتی ہیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اللہ کے بندوں پر غالب نہیں آسکتی۔ لیکن جب ان میں کمزوری پیدا ہوتی ہے ‘ بجائے صبر کی تصویر بننے کے حالات کی طغیانی اور قہرمانی کو دیکھتے ہوئے حالات اور طاقت کے سامنے سپر انداز ہوجاتے ہیں۔ بجائے اللہ سے حوصلہ طلب کرنے کے حوصلہ ہار جاتے ہیں اور اللہ سے لو لگانے کی بجائے ان قوتوں پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں جو اللہ اور اس پر ایمان لانیو الوں کی دشمن ہیں تو پھر اللہ کی نظر التفات ایسے لوگوں کی طرف سے ہٹ جاتی ہے۔ پھر انھیں انہی لوگوں کے حوالے کردیا جاتا ہے جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں۔ مومن اور مسلمان ہوتے ہوئے بھی وہ کافروں کا تر نوالہ بن جاتے ہیں۔ ان پر ذلت کی پھٹکار پڑتی ہے اور وہ تاریخ میں عبرت کے طور پر یاد رکھے جاتے ہیں۔ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کے اس واقعے کو بھی بیان کیا ہے کہ جب اسے ارض مقدسہ پر حملہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے ارض مقدسہ پر قابض قوتوں کی طاقت کو دیکھتے ہوئے نہ صرف لڑنے سے انکار کیا بلکہ بزدلی کی انتہا کردی۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اللہ نے چالیس سال تک انھیں صحرائے تیہ کے حوالے کردیا۔ ارض مقدسہ ان کے لیے حرام کردی گئی۔ بزدلوں کی پوری نسل اس صحرا کی نذر ہو کر رہ گئی۔ دوسری نسل صحرا میں پل کر جوان ہوئی تو تب ان کو عزت کی زندگی کا راستہ ملا۔ اور اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل کے اس گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جنھوں نے کمزور اور بےمایہ ہوتے ہوئے بھی ایک بڑی قوت سے ٹکرانے کا حوصلہ کیا۔ کسی کمزوری کا شکار ہونے کے بجائے اللہ کی تائید و نصرت پر اعتماد کیا۔ تو اللہ نے معجزانہ طریقے سے ان کی مدد فرمائی۔ جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں آرہا ہے۔
Ayah 2:251فَھَزَمُوْہُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ قف لا وَقَتَلَ دَاؤُدُ جَالُوْتَ وَاٰ تٰـہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآئُ ط وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لا لَّـفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْعٰـلَمِیْنَ ۔
(تو بنی اسرائیل نے انھیں اللہ کے حکم سے شکست دی اور دائود نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے بادشاہی اور حکمت عطا کی۔ اور اسے اس علم میں سے سکھایا جس میں سے وہ چاہتا ہے اور اگر اللہ ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین فساد سے بھر جاتی۔ لیکن اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے) (251)
اس آیت کریمہ میں مختلف باتیں ارشاد فرمائی گئیں ہیں۔ لیکن وہ تمام کی تمام سیاق کلام سے مربوط اور موضوع سے مطابق ہیں۔
اصل قوت اللہ پر بھروسہ ہے
فَھَزَمُوْہُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِپہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ معروضی حقائق پر نگاہ رکھنے والے اپنی فوج کی قلت اور دشمن کی فوج کی کثرت کو دیکھ کر سوچ رہے تھے کہ اس بےجوڑ مقابلے کا انجام کیا ہوگا۔ لیکن جن لوگوں کو اللہ کی ذات اور اس کی قدرتوں پر بےپناہ توکل تھا وہ پکار اٹھے کہ فتح و شکست کا تعلق قلت و کثرت سے نہیں بلکہ اللہ کی تائید و نصرت اور عدم نصرت پر ہے۔ ہم چونکہ اس کے راستے میں اس کے سپاہی بن کر اسی کے دین کی سربلندی کے لیے پوری آمادگی اور وفاداری کے ساتھ نکلے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم نے دشمن کے مقابلے میں صبر کے تقاضوں کو پورا کیا تو وہ ضرور ہمیں فتح عطا فرمائے گا۔ چناچہ اس آیت کریمہ کے آغاز ہی میں فرمایا کہ جنھیں دنیا قلیل اور کمزور سمجھ رہی تھی انھوں نے طاقتوروں کو شکست دے دی۔ یعنی طالوت کی فوج نے جالوت اور اس کے عظیم لشکر کو ایسی شکست فاش دی کہ وہ لوگ سر پر پائوں رکھ کر بھاگے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یقین و ایمان سے سرشار لوگوں نے جو بات کہی تھی وہ سچ ثابت ہوئی۔ اور عمل کی دنیا میں یہ بات تاریخ کا حصہ بن گئی کہ یہ محض مفروضے نہیں ہیں کہ اصل قوت اللہ پر توکل اور مشکلاتِ راہ پر صبر کرنا ہے ‘ یعنی حوصلہ ‘ سیرت و کردار اور یقین و ایمان وہ اسلحہ جنگ ہے جس کے مقابلہ میں بڑی سے بڑی فوج اور جدید ترین اسلحہ بھی شکست کھا جاتا ہے۔
حضرت دائود (علیہ السلام) کا حیرت انگیز کارنامہ اور آپ کی پُرافتخار زندگی کا آغاز
وَقَتَلَ دَاؤُدُ جَالُوْتَ دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ کہی گئی کہ اس معرکہ حق و باطل میں صرف یہی ایک حیران کن حقیقت معرض وجود میں نہیں آئی کہ قلت نے کثرت کو شکست دے دی ‘ بلکہ اس سے بھی حیران کن بات یہ ہوئی کہ دائود نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ جالوت ایک گرانڈیل جوان ‘ تجر بہ کار جنگجو ‘ اپنے وقت کا ناقابل تسخیر جرنیل اور جنگی حکمتوں سے بہ تمام و کمال آشنا اور اس کے مقابلے میں دائود ایک نو خیز ‘ الھڑ اور ناتجربہ کار نوجوان جسے صرف بھیڑیں چرانے کا تجربہ ہے۔ اس نے اس سے پہلے شاید کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس جنگ کے وقت بھی وہ کسی چراگاہ میں اپنے مویشی چرا رہا تھا اور اس کی کم عمری کے باعث اسے جنگ میں بھیجا نہیں گیا تھا بلکہ اس کے باپ نے اس کو حکم دیا کہ تم اپنے بڑے بھائیوں کو جو طالوت کی فوج میں شریک ہیں کھانے کی کوئی چیزیں دے آئو۔ دائود وہ کھانے کی چیزیں لے کر میدانِ جنگ میں پہنچا تو جالوت مبارزت طلب کر رہا تھا اور بار بار طالوت اور اس کی فوج کو اپنے مقابلے کی دعوت دے رہا تھا۔ لیکن اس کی بہادری اور اس کے تن و توش کو دیکھ کر کوئی اس کے مقابلے میں جانے کی جرأت نہیں کر رہا تھا۔ جب دائود نے یہ منظر دیکھا تو اس کی غیرت جوش میں آئی۔ بےساختہ طالوت کے پاس پہنچا اور کہا اس نامختون فلسطینی کی یہ مجال کہ وہ زندہ خدا کی فوجوں کو رسوا کرے۔ آپ مجھے اجازت دیجئے میں اس کا مقابلہ کرنے کو تیار ہوں۔ طالوت نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا کہ وہ ایک نوخیز ‘ خوش رو اور خوش قامت نوجوان ہے۔ اس کی کم عمری اور نا تجربہ کاری کے باعث اسے کس طرح ایک ایسے جنگجو کے مقابلے میں بھیجا جاسکتا ہے جو سر سے پائوں تک لوہے میں ڈوبا ہوا ہے۔ لیکن حضرت دائود کے جوش و جذبہ کو دیکھتے ہوئے انھوں نے اجازت دے دی۔ دائود اپنے اسی چرواہے کے لباس میں فلاخن اٹھائے اس کے مقابلے میں جاپہنچے۔ اس نے دیکھا کہ ایک نوعمر چرواہا میرے سامنے آکھڑا ہوا ہے تو اس نے اس کا مذاق اڑایا۔ حضرت دائود نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ باتوں میں زچ ہو کر جالوت نے غضب ناک ہو کر کہا کہ دیکھ ابھی میں تیرا گوشت چیلوں اور کو وں کو کھلاتا ہوں۔ غصے میں لال بگوکا ہو کر دیوانوں کی طرح آگے بڑھا۔ لیکن حضرت دائود نے اپنے فلاخن میں پتھر رکھ کر اس زور سے نشانہ باندھ کے مارا کہ وہ پتھر اس کے سر سے چپک کر رہ گیا۔ پتھر کی چوٹ اور اس کی تیزی کی قوت نے اس کے پائوں اکھاڑ دیے اور وہ دھڑام سے زمین پر آرہا۔ اس غیر معمولی اور حیرت انگیز طریقے سے ایک مشہور و معروف جنگی پہلوان اور جرنیل کا مارا جانا ایسا واقعہ نہیں تھا کہ فوج اس سے اثر قبول نہ کرتی۔ فوج نے جیسے ہی دیکھا کہ ایک نوخیز لڑکے نے ہمارے جرنیل کو قتل کردیا ہے تو وہ سراسیمہ ہو کر بھاگے اور میدان خالی ہوگیا۔ بنی اسرائیل کا جالوت اور اس کی فوجوں کو شکست دینے کا اصل سبب حضرت دائود کی معجزانہ جسارت اور شجاعت تھی۔ دائود اور بنی اسرائیل کی فتح کے نتیجے میں جہاں بنی اسرائیل کی تاریخ نے ایک نئی کروٹ لی اور جغرافیہ تبدیل ہونا شروع ہوا وہیں حضرت دائود کی زندگی میں بھی ایک حیرت انگیز انقلاب آیا۔ اب تک آپ عام چرواہوں کی طرح ایک چرواہا تھے۔ لیکن اس واقعے نے ان کی شہرت اور ان کی عظمت میں چار چاند لگا دیے۔ تورات کی روایت کے مطابق عورتوں نے یہ گیت گایا کہ (سائول نے ہزاروں کو مارا پر دائود نے لاکھوں کو مارا) یہی واقعہ ان کی حقیقی شناخت کا سبب بنا۔ اسی حیرت انگیز کارنامے نے انھیں طالوت کی نظروں کا تارا بنادیا۔ پہلے طالوت نے انھیں اپنا مقرب بنایا اور فوج میں اہم ذمہ داریاں تفویض کیں ‘ اس کے بعد انھیں اپنا داماد بنایا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتیں نکھرتی گئیں۔ حضرت طالوت کے انتقال کے بعد اللہ نے انھیں ملک کی حکومت دے دی۔ یہ دنیا کے حیرت انگیز واقعات میں سے ایک واقعہ ہے کہ ایک چرواہا چند ہی سالوں میں ملک کے تخت و تاج کا مالک بن گیا۔ خود حضرت دائود کا اپنے بارے میں یہ قول مشہور ہے کہ ” خداوند نے مجھے بھیڑ سالے سے نکالا اور اسرائیل کے تخت پر لا بٹھایا۔ “
حکمت و دانش
وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآئُ اسی پر بس نہیں بلکہ اس کے بعد اللہ نے اس سے بڑھ کر انعام و اکرام سے نوازا کہ آپ کو نبوت عطا فرمائی ‘ آپ کو حکمت کا خزانہ بخشاجس کا مظہر زبور ہے۔ اور پھر آپ کو وہ کچھ سکھایا جو ہمیشہ وہ اپنے بندوں کو سکھاتا ہے۔ یہ زندگی کی وہ حقیقتیں ہیں ‘ سیرت و کردار کی وہ عظمتیں ہیں ‘ علم و دانش کے وہ بلند آفاق ہیں جن کے پیچھے صرف پیغمبر جھانک سکتا ہے۔ دنیا سے بےنیازیاں اور آخرت سے آشنائیاں ہیں جس کے نتیجے میں تخت پر فائز حکمران ساری عظمتوں کے باوجود اپنے آپ کو ایک فقیر سے زیادہ نہیں سمجھتے اور دل دماغ اور سیرت و کردار کی یہ وہ عظمت ہے جس کے حامل دنیا میں انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ اللہ نے پیغمبر بھیجے اور اس سے دنیا کی اصلاح فرمائی ‘ بادشاہ پیدا کیے جس سے دنیا کا انتظام و انصرام کیا ‘ لیکن وہ علم و دانش جو پیغمبر لیکر آتے ہیں اور وہ اقتدار جو بادشاہوں سے وابستہ ہوتا ہے ان دونوں کی یکجائی کی صورت کم کم رہی ہے۔ دوسری قومیں چونکہ اس سے بہت کم آشنا ہوئی ہیں اس لیے انھوں نے دنیاکو مذہب سے بیگانہ کردیا۔ ان میں اگر اس یکجائی کی مثالیں ہیں تو وہ حضرت طالوت ‘ دائود اور حضرت سلیمان (علیہم السلام) ہیں۔ لیکن وہ صحرا نشین پیغمبر جو دنیا کے سب سے پسماندہ علاقے سے اٹھا اس نے حیرت انگیز طریقے سے اللہ کی راہنمائی میں ان دونوں قوتوں کو اس طرح یکجا کیا کہ جس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں ہمیں ابوبکر و عمر ‘ عثمان و علی ؓ اور عمر بن عبدالعزیز کے راستے پر چلنے والے بہت سے حکمران دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے فقر و سلطنت کو اس طرح جمع کیا کہ وہ اللہ کی رحمت کا ذریعہ بن گئے۔ اقبال نے آنحضرت ﷺ کے اسی کارنامے کو دوسروں پر تعریض کرتے ہوئے بڑی حقیقت بیانی سے واضح کیا ہے۔
کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
سماتی کہاں اس فقیری میں میری
سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا
چلی کچھ نہ پیر کلیسا کی پیری
یہ اعجاز ہے ایک صحرا نشیں کا
فقیری ہے آئینہ دار نذیری
فلسفہ جہاد اور اس کی ضرورت
وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لا لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ آیت کریمہ کے اس حصے میں جہاد کی ضرورت اور اس کا فلسفہ بیان ہوا ہے۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں پر غلبہ ‘ بڑائی اور حکومت قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ افراد بھی آپس میں اپنی بڑائی اور عظمت منوانے کی کوشش کرتے ہیں اور انسانوں کے گروہ بھی اپنے علاقوں میں دوسرے گروہوں پر غلبہ حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں اور مختلف حکومتیں دوسری حکومتوں سے اپنی عظمت کو منوانے یا ان پر قبضہ کرنے کی تدابیر بروئے کار لاتی رہتی ہیں۔ اس کشمکش میں یقینا کوئی نہ کوئی گروہ دوسرے گروہوں پر غالب آجاتا ہے۔ اگر تو غالب آنے والا گروہ مصلح ‘ حق پسند ‘ عادل اور اللہ سے ڈرنے والا ہے تو دنیا خیر اور بھلائی کا گہوارا بن جاتی ہے اور اس میں رہنے والے آرام کی زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن اگر کسی خطے میں حکومت پر براجمان لوگ مفسد ‘ خواہش نفس کے پجاری ‘ ہوس زر اور ہوس اقتدار کے پرستار ہوتے ہیں تو وہ ملک بدی اور برائی کا مرکز بن جاتا ہے۔ اس کے رہنے والے آئے دن نئے نئے مظالم کا شکار ہوتے ہیں۔ دنیا دکھوں سے بھر جاتی ہے۔
اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں اللہ سے ڈرنے والے اور دوسروں کا بھلا چاہنے والے کم ہوتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری تو ایسی خطرناک ذمہ داری ہے کہ اس پر فائز ہونے والے لوگ اقتدار سے پہلے اگر نیک ہوتے ہیں تو اقتدار میں آ کر یکسر بدل جاتے ہیں۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں عموماً ایسی حکومتیں یا ایسے لوگ برسر اقتدار رہتے ہیں جو دنیا میں اصلاح کے عمل کو بروئے کار لانے کے بجائے فساد کو پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ دولت و حکومت کی کسی حد پر بھی ان کو اطمینان نہیں ہوتا۔ ان کی ہوس ہمیشہ انھیں آگے بڑھنے پر اکساتی ہے۔ وہ اپنی خود غرض طبیعت کے باعث ایثار و قربانی سے یکسر بےنیاز ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ خیر سے آگاہی ‘ انسانیت سے محبت اور اللہ کا خوف پیدا کرنے کے لیے دنیا میں عموماً پیغمبر بھیجتا رہتا ہے۔ پیغمبروں پر ایمان لانے والے دعوت و نصیحت سے خیر کو پھیلانے اور شر کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر شر کی قوتیں اتنی توانا ہوجاتی ہیں کہ خیر کا کوئی داعی اور بھلائی کا کوئی مرکز ان کی دسترس سے محفوظ نہیں رہتا اور ان کی سرکشی تمام حدود سے گزر جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی دوسری سنت حرکت میں آتی ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کی کمزوریوں کے باوجود ان کو جہاد و قتال کا حکم دیتا ہے اور شر کی قوتوں کو سرنگوں کرنے کے لیے ان کی تائید و نصرت فرماتا ہے۔ کسی بھی خطہ زمین پر اگر کوئی بھی حق کا گروہ صبر و استقامت کی تصویر بن کر اللہ پر توکل کرتے ہوئے شر کی قوتوں کی سرکوبی کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد کرتے ہیں اور اسے فتح و نصرت سے نوازتے ہیں۔ وہ تھوڑے بھی ہوتے ہیں تو بڑے بڑے گروہوں پر غالب آجاتے ہیں۔ لیکن اگر حق کی کوئی قوت بھی سر اٹھانے کی جرأت نہیں کرتی اور وہ شر سے دب کر خاموش رہتی یا اس سے سمجھوتا کرلیتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے اور سب کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔ حضرت سموئیل پر ایمان لانے والے طالوت کی قیادت میں چونکہ خیر کی قوت بن کر شر کی سرکوبی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے تو اللہ نے ان کی مدد فرمائی۔ اور ان کو فتح سے ہمکنار کیا اور پھر اپنی سنت کو واضح فرمایا کہ طالوت اور اس کی فوج کو کامیابی عطا کرنا کوئی خصوصی واقعہ نہیں بلکہ یہ ہماری ایک مستقل سنت اور قانون ہے۔ جب بھی ہمارے راستے میں کوئی بھی خیر کی قوت ہم سے مدد مانگے گی تو ہم کبھی اسے مایوس نہیں کریں گے۔ کیونکہ اگر ہم خیر کی قوتوں کی مدد نہ کریں اور شر کی قوتوں کو منہ زور ہونے دیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہماری زمین فساد سے بھر جائے گی۔ ہم مفسد قوتوں کو ایک خاص حد تک ہی بڑھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ جب وہ تمام حدود سے تجاوز کرنے لگتے ہیں تو پھر ہم پسے ہوئے اور کمز ور لوگوں کو اٹھاتے ہیں اور یا ہم عذاب نازل کردیتے ہیں۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو قرآن کریم میں ارشاد کے مطابق ” کوئی عبادت خانہ اور کوئی خیر کا مرکز مسمار ہونے سے محفوظ نہ رہے اور کہیں بھی اللہ کا ذکر نہ کیا جاسکے “ لیکن یہ چیز چونکہ ہماری سنت کے خلاف ہے اس لیے ہم اس کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرتے اور اس صورت حال کو بدلنے کے لیے ہم جہاد و قتال کا حکم دیتے ہیں۔ بظاہر جہاد میں گردنیں اترتی ہیں ‘ بازو کٹتے ہیں ‘ خون بہتا ہے ‘ لیکن حقیقت میں یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ جو اس راستے میں کام آتے ہیں وہ شہادت کے خلعت فاخرہ سے نوازے جاتے ہیں۔ لیکن ان کی قربانیوں کے نتیجے میں دنیا تباہی سے بچ جاتی ہے۔ اللہ کا یہ قانون ایک تشریعی قانون ہے۔ لیکن درحقیقت اس کے تکوینی قانون کا عکس ہے۔ کیونکہ جس سرزمین میں جھاڑ جھنگاڑ بڑھ جاتا ہے اسے اکھاڑ دیا جاتا ہے۔ پھول کے ساتھ بھی کانٹا ہوتا ہے لیکن کانٹوں کا بڑھ جانا فطرت کبھی گوارا نہیں کرتی۔ یہی انسانی زندگی میں بھی ہوتا ہے۔ سچ کہا سالک نے ؎
چھٹیں جو چند ڈالیاں نمو ہو نخل تاک کی
کٹیں جو چند گردنیں تو قوم کی ہو زندگی
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
Ayah 2:252تِلْـکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ ط وَاِنَّـکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔
(یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم پر پڑھ کے سناتے ہیں مقصد کے ساتھ اور بیشک تم اللہ کے رسولوں میں سے ہو) (252)
نبی کریم ﷺ کی طرف التفات اور آپ ﷺ کی رسالت کا اثبات
اس آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تین باتوں پر زور دیا گیا ہے۔ پہلی یہ بات کہ یہ قرآن کریم کی شکل میں ہم جو کچھ بھی تم پر نازل کر رہے ہیں اور ہمارا فرشتہ تمہیں پڑھ کر سنا رہا ہے یہ اللہ کی آیات ہیں۔ اس لیے کسی کو یہ شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ محمد ﷺ نے اسے خود لکھ لیا ہے۔ وہ تو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے اور جو لکھنا پڑھنا جانتے ہیں بلکہ انھیں اپنی فصاحت و بلاغت پر بڑا ناز ہے وہ بھی قرآن پاک کی ایک سورت جیسی سورت بنا کر نہیں لاسکتے اور مزید یہ بات کہ چونکہ یہ اللہ کا کلام ہے تو اللہ کے کلام کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے پہلے آسمانی کتابوں میں جو کچھ تحریف اور ترمیم کا کاروبار ہوتا رہا ہے اور جس کی وجہ سے وہ کتابیں من جانب اللہ ہوتے ہوئے بھی غیر محفوظ ہو کر رہ گئی ہیں ‘ ضروری ہے کہ جب ان کے بیان کردہ کسی واقعے کو بھی قرآن کریم میں بیان کیا جائے تو ضروری حد تک ان غلطیوں کی اصلاح کردی جائے جو پورے واقعے کو متاثر کرتی ہیں۔ چناچہ قرآن کریم میں متذکرہ بالا واقعات کو بیان کرتے ہوئے اس تقاضے کو پورا کیا گیا ہے۔ اس لیے جو جو باتیں اس میں کہی گئی ہیں اور جس طرح کہی گئی ہیں وہی ان کی اصل حقیقت ہیں۔ اس سے مختلف جو کچھ دوسری آسمانوں کتابوں میں کہا گیا ہے وہ یکسر غلط ہے۔ قرآن اور تورات کے بیان کردہ واقعات میں اختلافات تو بہت ہیں لیکن متذکرہ بالا واقعات کے حوالے سے ہم صرف چند ایک کا ذکر کرتے ہیں تاکہ اس آیت کریمہ کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔
تورات کے تضادات کی اصلاح
1 حضرت سموئیل (علیہ السلام) نے جس شخص کو اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کا حکمران یا امیر لشکر بنایا تورات میں اس کا نام سائول روایت کیا گیا ہے ‘ لیکن قرآن کریم نے اس کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا نام طالوت تھا۔ یا وہ اسی نام سے پکارے جاتے تھے اور کسی مشہور واقعے کو بیان کرتے ہوئے تاریخ کا اصول بھی یہ ہے کہ جب کسی کردار کا ذکر کیا جائے تو اس کا وہ نام لیا جائے جس سے وہ پکارا جاتا ہو۔ طالوت اصل میں طولوت ہے جس کا معنی ہے لمبا تڑنگا۔ وہ اپنے قد کی طوالت کے باعث یقینا اسی نام سے پکارے جاتے ہوں گے۔ کیونکہ ان کے قد کی طوالت کا ذکر تو تورات نے اس طرح کیا ہے کہ ” جب وہ لوگوں کے درمیان کھڑا ہوا تو ایسا قد آور تھا کہ لوگ اس کے کندھے تک آتے تھے۔ “ چناچہ قرآن کریم نے اصلاح کرتے ہوئے اس کے معروف نام سے اسے پکارا ہے۔
2 قرآن کریم اور تورات دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل پر جب زوال آیا اور وہ اللہ کی تائید و نصرت سے محروم ہوگئے تو ان کی ہمسایہ ریاستوں نے وقتاً فوقتاً ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر یلغار کرنا شروع کی۔ کبھی ان کا کوئی علاقہ چھین لیا جاتا اور کبھی کسی شہر پر قبضہ کرلیا جاتا۔ لیکن وہ پھر بھی اپنی غفلت سے بیدار نہ ہوئے۔ ان کی کمزوری ‘ ناتوانی اور غفلت یہاں تک بڑھی کہ فلسطینیوں نے ان سے تابوتِ سکینہ بھی چھین لیا۔ تابوتِ سکینہ کا چھن جانا کعبہ کے چھن جانے کے مترادف تھا۔ یہی وہ تابوت تھا جسے وہ اپنی نمازوں میں سامنے رکھتے تھے اور جنگوں میں اسی سے حوصلہ پاتے تھے۔ وہ اپنی زندگی کی بقا اسی سے وابستہ سمجھتے تھے۔ اس کے چھن جانے کے باعث اجتماعی طور پر ان پر مردنی چھا گئی۔ لیکن اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت سموئیل (علیہ السلام) نے ان میں اصلاح اور بیداری کا کام کیا۔ آہستہ آہستہ ان میں احساس جاگا ‘ حتیٰ کہ انھوں نے خود اپنے پیغمبر سے خواہش کی کہ آپ ہم پر کسی نوجوان اور توانا آدمی کو امیر مقرر کریں۔ تاکہ ہم اپنے دشمن سے عہدہ برآ ہو سکیں۔ چناچہ حضرت طالوت کو ان کا امیر مقرر کیا گیا۔ طالوت نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے کام لے کر حضرت سموئیل (علیہ السلام) کی رہنمائی میں ان کی شیرازہ بندی کی اور قوم کے حوصلوں کو مزید جلا دینے اور ان کے دل و دماغ میں یہ بات پختہ کرنے کے لیے کہ طالوت کا تقرر اللہ کی جانب سے ہے ‘ تابوتِ سکینہ کو غیر معمولی طریقے سے ان کے ملک میں پہنچا دیا۔ اور یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ تابوتِ سکینہ فلسطینیوں نے خود ان کی طرف بھیجا ہو۔ کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ یہ قوم بڑی تیزی سے منظم ہو رہی ہے اور اگر ہم نے تابوتِ سکینہ کو انھیں واپس نہ دیا تو یہ ہم پر چڑھائی کردیں گے اور یقینا اس میں اس بات کا بھی دخل تھا کہ اللہ نے غیر مرئی طریقے سے بنی اسرائیل کی طرف سے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا ہو۔ یہ وہ بات ہے جسے قرآن کریم تابوتِ سکینہ کی واپسی کے لیے بیان کرتا ہے۔ لیکن اس کے بالمقابل تورات کا بیان یہ ہے کہ تابوتِ سکینہ سات مہینے کے بعد ہی بنی اسرائیل کو واپس مل گیا تھا۔ سبب اس کا یہ ہوا کہ فلسطینی اسے چھین کر تو لے گئے لیکن وہ جس شہر میں بھی اسے رکھتے وہاں وبائیں پھوٹ پڑتیں جس سے ہزاروں آدمی مرجاتے۔ انھوں نے اس مصیبت سے جان چھڑانے کے لیے اسے واپس بھیج دیا۔ اندازہ فرمایئے کیا قوموں کے فیصلے جن کے ساتھ قومی عظمت بھی وابستہ ہو ان معمولی باتوں کے حوالے سے ہوا کرتے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑی بات یہ کہ تورات ایک طرف تو یہ کہتی ہے کہ سات مہینے کے بعد انھوں نے تابوتِ سکینہ واپس کردیا لیکن دوسری جگہ اس کا کہنا یہ ہے ” اور جس دن سے صندوق قریت یعریم میں رہا تب سے مدت ہوگئی۔ یعنی بیس برس گزرے اور اسرائیل کا سارا گھرانہ خداوند کے پیچھے نوحہ کرتا رہا۔ “ (سموئیل باب 7 1)
غور فرمایئے کہ ایک طرف تو بنی اسرائیل تابوتِ سکینہ کے چھن جانے کے باعث بیس سال تک نوحہ کرتے رہے اور دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ سات مہینہ کے بعد یہ تابوت واپس آگیا۔
قرآن کہتا ہے کہ اسے فرشتے لے کے آئے۔ تورات کہتی ہے کہ ایک چھکڑے پر جسے دو بچوں والی گائیاں جنھیں اس سے پہلے کبھی کسی سواری میں جوتا نہیں گیا ہو اس حال میں کھینچ کر لائیں کہ بچے ان سے چھین کر گھروں میں بند کردیے گئے ‘ لیکن وہ اس کے باوجود ڈکارتی ہوئیں سیدھی بیت شمس جا پہنچیں۔ اندازہ فرمائیں کہ اگر ان گائیوں کو کوئی غیر مرئی طاقت ہانک نہیں رہی تھی اور انھیں سیدھا چلنے پر مجبور نہیں کر رہی تھی تو کیا عقل اس بات کو باور کرتی ہے کہ جن گائیوں کے بچے بھی چھین لیے جائیں اور انھوں نے کبھی چھکڑا نہ کھینچا ہو اور راستے سے بھی بیخبر ہوں ‘ وہ ڈکارتی ہوئی یعنی خوشی خوشی پورا راستہ طے کر جائیں ‘ یہ سراسر ایک افسانہ نویسی ہے۔ لیکن قرآن کریم نے جو کچھ کہا وہ عقل کے مطابق اور روحانیت کی روح ہے۔ اسی سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ قرآن کریم کس طرح ایک ایک بات کی اصلاح کر رہا ہے۔
3 قرآن کریم کہتا ہے کہ بنی اسرائیل کو جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے میں ایک بڑا معرکہ درپیش تھا۔ اور ایسا معرکہ کوئی ایسی فوج سر نہیں کرسکتی جن میں حوصلے ‘ ثابت قدمی اور اولو العزمی کی کمی ہو۔ اس کے لیے اگر ایسے لوگوں کی بھیڑ جمع کرلی جائے جو سرفروشی اور ایثار کے جذبات سے تہی دامن ہو تو وہ پسپائی کا سامان تو کرسکتی ہے ‘ معرکہ آرائی کا نہیں۔ اس لیے اللہ کے حکم سے پیغمبر کی راہنمائی میں حضرت طالوت نے میدانِ جنگ تک پہنچنے سے پہلے راستے میں ان کی آزمائش کی۔ جو لوگ اس آزمائش میں ناکام ہوئے انھیں راستے میں چھوڑ دیا گیا اور جو کامیاب ٹھہرے وہی مرد میدان ثابت ہوئے۔ چناچہ انہی کے ایمان و یقین کی قوت کی وجہ سے اللہ نے انھیں فتح عطا فرمائی۔ لیکن اس کے برعکس تورات کا کہنا یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی آزمائش ضرور کی گئی ‘ لیکن معرکہ جنگ سے پہلے نہیں ‘ بلکہ بعد میں۔ طالوت نے حکم دیا کہ جب تک میں اپنے دشمن سے انتقام نہ لے لوں تمہارا لیے کچھ کھانا حرام ہے۔ جنگ ہوچکی ‘ قتل عام باقی ہے ‘ اب آزمائش کی کیا ضرورت ہے ؟ اور مزید یہ کہ اس میں تضادات کی کمی نہیں۔ حضرت طالوت کے بڑے صاحبزادے کو ایک جگہ تو نہایت بلند کردار دکھایا گیا مثلاً تورات میں کہا گیا :
” سو یونتن نے اس جوان سے جو اس کا سلاح بردار تھا کہا آ ہم اوپر ان نا مختونوں کی چوکی کو چلیں ممکن ہے کہ خدا ہمارا کام بنا دے کیونکہ خداوند کے لیے بہتوں یا تھوڑوں کے ذریعے سے بچانے کی قید نہیں۔ “
اس عبارت میں دیکھئے یونتن کو کتنا بڑا صبر و استقامت اور عزم و ہمت کا پیکر دکھایا گیا۔ اور دوسری جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ طالوت نے اپنی قوم کو کھانا کھانے سے منع کیا تھا اور کہا تھا کہ جو کھائے گا وہ ملعون ہوگا۔ لیکن اس حکم کو سب سے پہلے اسی صاحبزادے نے توڑا اور کہا ” کہ دیکھو میرے باپ نے دکھ دیا ہے۔ دیکھو میری آنکھوں میں ذرا سا شہد چکھنے سے کیسی روشنی آئی۔ کتنا زیادہ اچھا ہوتا اگر سب لوگ دشمن کی لوٹ میں سے جو ان کو ملی دل کھول کر کھاتے “……سو وہ لوگ لوٹ پر گرے اور بھیڑوں ‘ بکریوں ‘ بیلوں اور بچھڑوں کو لے کر ان کو زمین پر ذبح کیا اور خون سمیت کھانے لگے۔ “
4 تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ طالوت کی پوری فوج امتحان میں ناکام رہی۔ یہاں تک کہ خود ان کے فرزند بھی ناکام رہے۔ بلکہ انہی صاحبزادے نے پوری فوج کے لیے اس ناکامی کی راہ کھولی۔ اس کے برعکس قرآن کریم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اندر سے ایک جماعت اپنے عزم و ایمان پر قائم رہی۔ اور اسی عزم و ایمان کی بدولت اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فلسطینیوں پر فتح عطا فرمائی۔
دوسری بات جس پر قرآن کریم زور دیتا ہے وہ یہ ہے کہ تورات نے جس طرح ان واقعات کو بیان کیا ہے وہ قصہ گوئی کی مشق کے سوا اور کچھ نہیں۔ جزوی واقعات کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ‘ لیکن یہ واقعات کیوں پیش آئے ؟ بنی اسرائیل کی اصل کمزوریاں کیا تھیں ؟ حضرت سموئیل نے ان میں جو اصلاحی کام کیا اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ طالوت نے کس طرح ان کے اندر ملی شعور پیدا کیا ؟ اور ان کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنے عظمت رفتہ کو واپس لے سکیں اور پھر طالوت اور جالوت کی جنگ سے پیدا ہونے والے عبرت آموز واقعات اور حقائق جن کی ہمیشہ اہل ایمان کو ضرورت رہے گی اور پھر بنی اسرائیل کی کامیابی ‘ حضرت دائود کا غیر معمولی ظہور اور آپ کی حکمت و دانش … ان میں سے کسی بات کو تورات نے نمایاں نہیں کیا اور قرآن کریم نے واقعات کے ان اجزاء کو بیان کیا جس سے مسلمانوں کو وہ حکمتیں سمجھائی جاسکتی تھیں جو ان کی قومی اور ملی زندگی کے لیے ضروری تھیں۔ اور قرآن کریم جب بھی کسی تاریخی واقعے کو بیان کرتا ہے تو اس کے پیش نظر صرف یہی ایک مقصد ہوتا ہے کہ ان واقعات کی مدد سے غلطیوں پر تنبیہ کی جائے اور قابل تقلید باتوں کو نمایاں کیا جائے تاکہ ہر دور کا انسان اس کتاب سے ہدایت حاصل کرسکے کیونکہ یہ کتاب کتاب ہدایت ہے تاریخ کی کتاب نہیں۔ اور یہاں بالحق سے یہی مراد ہے۔
تیسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ پہلی آسمانی کتابوں کی غلطیوں کی اصلاح اور ٹھیک ٹھیک واقعات کا بیان اور ان واقعات سے پیدا ہونے والے عبرت و نصیحت کے جواہر جو قرآن کی صورت میں آپ کی زبان سے پیش کیے جا رہے ہیں ‘ یہ اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ کیونکہ تاریخ نے ان واقعات کے بارے میں جو کچھ کہا۔ آپ ﷺ چونکہ امی محض ہیں اس لیے آپ ﷺ کے پاس ان کے جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ لیکن نہ جانتے ہوئے بھی آپ ﷺ ان واقعات کو بیان کر رہے ہیں اور مزید یہ کہ صرف واقعات بیان ہی نہیں کر رہے بلکہ ان کی اصلاح بھی کر رہے ہیں ‘ غلطیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں اور صحیح بات کو نمایاں کر رہے ہیں۔ جبکہ آج دنیا میں ان کی اصلاح کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ کیونکہ ان واقعات کو صرف تورات نے یا اس کے شارحین نے بیان کیا ہے۔ وہاں سے ان واقعات کو نقل تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی غلطیوں کی اصلاح کسی کے بس کی بات نہیں۔ تورات کے علماء بھی ان غلطیوں سے باخبر نہیں ہوسکتے۔ ایسے حقائق جن سے آگاہی کا ذریعہ اللہ کے سوا اور کوئی نہ ہو اس سے اگر کوئی ذات باخبر کرے اور وہ نہایت اعتماد کے ساتھ ایک ایک بات پر متنبہ کرے تو ایسی ہی ذات کو اللہ کا رسول کہا جاتا ہے۔ چناچہ ان واقعات کا بیان اور اس میں مستور حکمتوں اور مصلحتوں کی نشاندہی اور اس کے نتائج و فوائد کی طرف راہنمائی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ یقینا اللہ کے رسول ہیں اور اہل کتاب کو بالخصوص اور اہل دنیا کو بالعموم ان دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے آپ ﷺ کی رسالت کا یقین کرلینا چاہیے۔ کیونکہ اس سے بڑھ کر بےساختہ دلیل اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ اب اگر اہل کتاب اتنی واضح دلیل کے بعد بھی آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تو اس کا سبب ان کا وہ گروہی تعصب ہے جس میں مبتلا ہو کر وہ سب کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ کے معجزات اور آپ ﷺ کی صداقت کے منہ بولتے دلائل کو دیکھ کر بھی صرف ان تعصبات کی وجہ سے ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کیونکہ وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا اور کوئی اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا۔ اور اگر ہو بھی تو ان جیسی خصوصیات کا حامل نہیں ہوسکتا۔ تو ان کی موجودگی میں ہم کسی دوسرے کو رسول کیوں تسلیم کریں۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اسی حقیقت کو بیان کیا جا رہا ہے۔