Ayahs 2:122–123یٰبَنِیْٓ اِسْرَائِیْلَ اذْکُرُوْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّی فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ وَاتَّقُوْا یَوْمًا لَّاتَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّلَا یُقْبَلُ مِنْھَاعَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُھَا شَفَاعَۃٌ وَّلاَھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔
(اے بنی اسرائیل ! میری وہ نعمتیں یاد کرو جو میں نے تم کو بخشیں اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا جہان والوں پر فضیلت دی۔ اور اس روز سے ڈرو جب نہ کوئی کسی کے کام آئے گا اور نہ اس کی طرف سے معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ اسے سفارش نفع پہنچا سکے گی اور نہ انھیں مدد ہی پہنچ سکے گی۔ ) (البقرۃ : 122 تا 123)
یہ دونوں آیتیں، اس سے پہلے سنتالیس اور اڑتالیس نمبر کے تحت تھوڑے سے فرق کے ساتھ گزر چکی ہیں۔ وہاں ان کی بقدر استعداد وضاحت ہوچکی ہے۔ البتہ ! یہاں ایک بات غور طلب ہے کہ بنی اسرائیل کے تذکرے کے آغاز میں جب یہ آیات گزر چکی ہیں تو اب دوبارہ انھیں کیوں لایا گیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ کے آغاز میں سب سے پہلے بنی اسرائیل کو یاد دلا یا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر کیسے کیسے احسانات کیے تھے حتیٰ کہ تمہیں اس وقت کے اہل دنیا پر فضیلت عطا فرمائی تھی۔ ساری دنیا میں تم ہی توحید کے علم بردار اور دعوت دین کے امانت دا ر تھے تمہیں حامل دعوت امت کا منصب سونپا گیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی وارننگ دی گئی تھی کہ تمہیں اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک ایسے دن سے بھی واسطہ پڑنے والا ہے جس دن کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ ذمہ داریوں کی کوتاہی کی صورت میں اگر گرفت ہوئی تو نہ کوئی سفارش چلے گی، نہ معاوضہ قبول کیا جائے گا۔ لیکن تم نے ان ذمہ داریوں کے ساتھ جو سلوک کیا اور اپنے منصب کی جو ناقدری کی اور جس طرح تم نے اپناملی چہرہ بگاڑا اور جس طرح تم نے شریعت کا پیراہن تار تار کیا گذشتہ دس رکوعوں میں اس کا مفصل تذکرہ فرمایا گیا ہے۔ جس سے خوب اندازہ ہوجاتا ہے کہ بنی اسرائیل اب اس قابل نہیں رہے کہ اپنے عظیم منصب پر فائز رہ سکیں۔ اب دوبارہ ان آیات کو لاکر پھر یاد دلایا گیا ہے کہ تمہیں اللہ نے ایک عظیم منصب سے نوازا تھا اور ساتھ ہی اس کی باز پرس کے سلسلے میں تمہیں آگاہ بھی کردیا تھا۔ لیکن تم نے چند ایسے غلط تصورات اپنا لیے جس نے تمہاری دینی زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ تم اپنے منصب کی نزاکتوں کو تو کیا ملحوظ رکھتے تم تو عام بھلے انسانوں کی سطح سے بھی نیچے گرگئے۔ لیکن تمہیں آج تک یہ پندار سہار ادے رہا ہے کہ تم اللہ کے نبیوں کی اولاد بلکہ اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہو۔ دنیا میں کوئی قوم تمہاری ہم سر نہیں ہوسکتی اور آخرت میں تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ تمہاری اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ہم تمہارے سامنے تمہاری تاریخ کا وہ باب ِ اول واشگاف کررہے ہیں جس باب کے نظروں سے اوجھل ہونے کے باعث تم فکری اور عملی گمراہیوں میں مبتلا ہوئے۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ سے اس کا آغاز کیا جارہا ہے۔
Ayah 2:124وَاِذِا بْتَلٰٓی اِبْرَاھٖمَ رَبُّـہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّط قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًاط قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ ط قَالَ لاَ یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ (البقرۃ : 124)
(اور ( وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم کو ان کے پروردگار نے چند امور میں آزمایا اور انھوں نے وہ انجام دے دیئے ارشاد ہوا کہ میں یقینا تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں، بولے اور میری نسل سے بھی ؟ ارشاد ہوا کہ میرا وعدہ نافرمانوں کو نہیں پہنچتا)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو انسانی ہدایت کے لیے مقتدیٰ اور امام بنایا گیا۔ انہی سے تاریخ کی دو عظیم قومیں وجود میں آئیں بنی اسرائیل اور بنی اسمٰعیل، دونوں کے جدامجد آپ ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو عظیم بیٹے عطا فرمائے، جن میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بڑے تھے۔ انھیں مکہ کی سرزمین میں آباد کیا گیا اور ان کی اولاد بنی اسماعیل کہلائی۔ قریش انھیں کی اولاد میں سے ہیں۔ دوسرے بیٹے حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ انھیں اللہ نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) جیسا بیٹا دیا۔ ان کے بارہ بیٹے ہوئے، انھیں کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے کیونکہ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب تھا، جس کا معنی ہے عبداللہ۔ بنی اسرائیل کا معنی ہے ” اسرائیل یعنی عبداللہ کی اولاد “۔ مزید تفصیل سے پہلے ہم چاہتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعارف کرادیا جائے۔ یہ نام پہلی بار قرآن کریم میں آیا ہے۔ قرآن کے مخاطبِ اول اہل عرب تھے جو شخصیتیں ان کے لیے معلوم و معروف تھیں، قرآن ان کے نام ان کے سامنے بےتکلف بغیر کسی تعارف کے لے آتا ہے اور پھر ابراہیم تو وہ بزرگ تھے جن سے مشرکینِ عرب کے ساتھ ساتھ یہود و نصاریٰ بھی خوب واقف تھے۔ ان کا تعارف اور بھی غیر ضروری تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) وہی ہیں جو اسلامی عقیدہ کے علاوہ یہودی اور نصرانی عقیدہ میں بھی ایک بڑے جلیل القدر پیغمبر ہو گزرے ہیں۔ تورات میں آپ کا نام ابرام اور ابراہم دونوں طرح سے آیا ہے تورات کی روایت ہے کہ آپ کے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس پشتوں کا فرق ہے یعنی آپ ان کی گیارہویں پشت میں تھے لیکن خود تورات ہی کے شارحین کا خیال بعض قوی قرائن کی بناپریہ ہے کہ تورات میں نسب نامہ کی کچھ پشتیں چھوٹ گئی ہیں۔ سالِ ولادت سرچارلس مارسٹن محقق اثریات کی جدید ترین تحقیق کے مطابق 2160 ق م ہے اور عمر شریف تورات میں 175 سال درج ہے۔ سالِ وفات اسی حساب سے 1985 ق م ٹھہرتا ہے۔ والد کا نام تارح تھا یا عربی تلفظ میں آزر تھا۔ آزر نام کا تلفظ قدیم زبانوں میں کئی طرح سے آیا ہے۔ مسلمانوں کے لیے قرآنی لفظ آزر کافی ہے۔ وطن آبائی ملک بابل کا کلدانیہ (انگریزی تلفظ میں کا لڈیہ) تھا۔ جدید جغرافیہ میں اسی کو ملک عراق کہتے ہیں۔ جس شہر میں آپ کی ولادت ہوئی اسی کا نام تورات میں (Ur) آیا ہے۔ مدتوں یہ شہر نقشہ سے غائب رہا۔ اب از سر نو نمودار ہوگیا ہے کھدائی کے کام کی داغ بیل 1894 ء ہی میں پڑگئی تھی۔ 1922 ء میں برطانیہ اور امریکہ کے ماہرین ِ اثریات کی ایک مشترک تحقیقی مہم برٹش میوزیم اور پنسلونیایونیورسٹی کے زیر اہتمام عراق کو روانہ ہوئی اور کھدائی کا کام پورے سات سال تک جاری رہا۔ رفتہ رفتہ پورا شہر نمودار ہوگیا اور عراق گورنمنٹ کے محکمہ آثار قدیمہ نے عجائب خانہ کے حکم میں لاکر ان کھنڈروں کو محفوظ کردیا۔ یہ شہر خلیج فارس کے دہانہ فرات اور عراق کے پایہ تخت بغداد کے تقریباً درمیانی مسافت پر ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی بزرگی اور نبوت چونکہ مسلمانوں کے علاوہ یہود اور نصرانیوں کو بھی مسلّم ہے اس لیے ان قوموں کے علما نے بھی آپ کے حالات کی تحقیق و جستجو میں کوئی درجہ کاوش کا اٹھا نہیں رکھا ہے۔ موجودہ محرّف بائبل میں تاریخی غلطیوں کی کثرت سے اکتاکر بعض روشن خیال محققین نے انیسویں صدی کے ربع آخر میں کہنا شروع کردیا تھا کہ ابراہیم نامی کوئی تاریخی شخصیت گزری ہی نہیں یہ محض ایک نوعی نام تھا یا ہر شیخ قبیلہ کا لقب۔ لیکن اب پھر تحقیق کا رخ بدلا اور بیسویں صدی کے ربع اول کے ختم ہوتے ہوتے پھر آپ کی تاریخی شخصیت کا پوری طرح قائل ہوجانا پڑا۔ نسلِ اسرائیل اور نسل اسماعیل دونوں میں ایک طرح کی رقابت اور چشمک مدتوں سے چلی آرہی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دونوں سلسلوں کے مورث اعلیٰ تھے اللہ کی نعمت خاص الخاص یعنی توحید کی علمبرداری اب نسل اسرائیل سے اس کی مسلسل نافرمانیوں کی پاداش میں چھن کر ایک اسمٰعیلی پیغمبر کے واسطہ سے اب ساری دنیا کے لیے عام ہورہی ہے۔ ضرورت ہے کہ ابراہیمی شخصیت اور ان کے ضمن میں اسمٰعیلی شخصیت کی مرکزیت اور اہمیت سے دنیا کو روشناس کردیا جائے چناچہ یہاں یہی ہورہا ہے۔ (ماخوذ از تفسیر ماجدی)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ایک تو یہ تعارف ہے جو تاریخ نے ہمارے سپرد کیا ہے اور دوسرا تعارف وہ ہے جو قرآن کریم کراتا ہے۔ قریش اور بنی اسرائیل دونوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اولاد ہونے کا تعلق رکھتے ہیں اور دونوں کو اس بات پر اصرا رہے کہ ہم چونکہ حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں اور اللہ نے ابراہیم کو تمام دنیا کی امامت کے منصب پر فائز کیا تھا اور آپ کی اولاد ہی میں ہزاروں سال تک نبوت چلی اس لیے کوئی قوم دنیا میں ہماری ہمسر نہیں ہوسکتی۔ زندگی میں ہم چاہے کیسے ہی کرتوت کریں ہماری نسلی شرافت جس طرح دنیا میں ہمارے لیے عزت کا باعث ہے اسی طرح آخرت میں بھی ہماری نجات کا ذریعہ ہے اور پھر بنی اسرائیل اس نسلی شرافت و کرامت کے نشے میں اس حد تک مخمور ہیں کہ وہ بنی اسماعیل کو بھی اہمیت دینے کو تیار نہیں ان کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہی نہیں بلکہ ان کی امامت کے وارث بھی ہیں۔ اللہ نے بنی اسرائیل ہی میں انبیاء پیدا کیے کتابیں اتاریں اور انھیں حامل دعوت امت ہونے کا شرف عطاکرکے ساری دنیا پر فضیلت دے دی۔ اس لیے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہماری ہمسری کا دعویٰ کرے اور نہ یہ بات مانی جاسکتی ہے کہ ہمارے خاندان کے سوا کسی اور خاندان میں نبوت آسکے۔ قرآن کریم حضرت ابراہیم کی نسل کی ان دونوں شاخوں کی ہدایت اور اصلاح کے لیے حضرت ابراہیم کا وہ تعارف پیش کرتا ہے، جس کا تعلق نسل اور نسب سے نہیں بلکہ ُ اس حقیقت سے ہے جس کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا کی امامت پر فائز کیا گیا تھا۔
ابتلاء کا مقصد
اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی جارہی ہے کہ ابراہیم ہمارے نبی تھے، لیکن ان کو دنیا کی امامت و قیادت کے منصب پر فائز کرنے سے پہلے ان تمام آزمائشوں میں ڈالا گیا، جن آزمائشوں میں سے گزرنا اس منصب کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے۔ اگر کسی کو بغیر کسی آزمائش میں پورا اترے اور بغیر چند صفات کو اپنے اندر پیدا کیے امامت و قیادت مل سکتی، تو اس کے سب سے زیادہ مستحق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے کیونکہ وہ اللہ کے نبی تھے اور اللہ نے اس کار خاص کے لیے ان کو منتخب فرمایا تھا۔ لیکن یہ اللہ کی سنت ہے جو کبھی نہیں بدلے گی کہ وہ جب کسی فرد یا قوم کے سپرد دنیا کی ہدایت کا کام کرتا ہے تو اسے سب سے پہلے ان آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے، جس سے اس کے اندر اللہ کی اطاعت، اللہ کا خوف، اللہ پر بھروسہ، دنیا سے بےالتفاتی، آخرت میں کامیابی کی حرص اور بےخوف وخطر خلق خدا کی اصلاح جیسی صفات پیدا ہوتی ہوں۔ آزمائشوں میں مبتلا کرنا اذیت رسانی یا دکھ میں مبتلا کرنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس سے مقصود وہ صلاحیتیں پیدا کرنا اور انھیں نشو و نما دینا ہوتا ہے جو اللہ نے بندوں کے اندر ودیعت فرمائی ہیں، یہ آزمائشیں کبھی نرم ہوتی ہیں کبھی سخت، کبھی سرد ہوتی ہیں کبھی گرم، کبھی حوصلہ افزا ہوتی ہیں کبھی ہمت آزما، ہر طرح کے حالات میں مبتلا کرکے اس کار عظیم کے لیے تیار کرنا مقصود ہوتا ہے جسے بندوں کی ہدایت یا انسانوں کی امامت و قیادت کہا جاتا ہے۔
کلمات سے کیا مراد ہے ؟
” ابتلٰی “ فعل ماضی ہے۔ اس کا مصدر ہے ” ابتلاء “۔ اس کا معنی ” جانچنا، پرکھنا، آزمانا اور امتحان کرنا “ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو امتحان کرنے اور آزمانے کے لیے مختلف قسم کی آزمائشوں میں مبتلا کیا وہ آزمائشیں کیا تھیں۔ ان کے لیے کلمات کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جو کلمہ کی جمع ہے اس کے معنی ” لفظ کے یا بات “ کے ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں مراد اللہ تعالیٰ کے وہ احکام ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عزیمت اور استقامت کو آزمایا۔ سب سے پہلے انھیں اپنے اہل خانہ اور اپنے والد کو توحید کی دعوت دینے کا حکم ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے اور ان کے والد ملک کے امیر کبیر آدمی ہی نہیں تھے بلکہ اثر واقتدار میں بہت بڑی حیثیت کے مالک تھے۔ عراق کے سب سے بڑے بت خانے کے پروہت تھے۔ جس طرح ہندوستان میں راجہ کے بعد پروہت ہی کا مقام سمجھا جاتا ہے اور یہ دونوں باہمی ملی بھگت سے اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں۔ یہی حال عراق میں بھی تھا۔ آپ چونکہ اکلوتے تھے اس لیے جانتے تھے کہ باپ کے مرنے کے بعد یہ ساری دولت و قیادت میرے حصے میں آئے گی اور باپ کو ناراض کرنے کی صورت میں دنیا میرے قدموں کے نیچے سے کھینچ لی جائے گی۔ لیکن آپ نے یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی بےدریغ اپنے والد اور اپنے خاندان کو توحید کی دعوت دی اور شرک کی مذمت کرتے ہوئے انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ نتیجہ وہی ہو اجو ہونا چاہیے تھا، انھیں گھر سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد آپ کو عام لوگوں اور حکومت کو توحید کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا چناچہ آپ نے عمومی دعوت کے ساتھ ساتھ ایک دن موقع پاکر اپنی قوم کے بت کدے میں اذان بلند کی اور ان کے بتوں کو پاش پاش کردیا۔ چناچہ انھیں دین آبائی کی توہین کے جرم میں آگ میں ڈالنے کا فیصلہ ہوا۔ ایک بہت بڑا آگ کا الائو جلا یا گیا جسے دیکھ کر ہی پتہ پانی ہوتا تھا آپ بےخطر اس الائو میں کود گئے اور اللہ نے آپ کی اس عزیمت اور استقامت کو دیکھتے ہوئے آپ کے لیے آگ کو گلزار بنادیا پھر بادشاہ کے سامنے آپ کو پیش ہونا پڑا اور اس نے اپنے اقتدار اور حکومت کے جبر اور رعب سے آپ کو دین حق سے پھیرنا چاہامگر بجائے اس کے کہ مرعوب ہوتے آپ نے حجتِ ابراہیمی سے اس کو مبہوت کرکے رکھ دیا۔ اقتدار جب دلیل کی جنگ ہار گیا اور آپ کے حوصلوں کو شکست دینے میں کامیاب نہ ہوسکاتو وطن چھوڑنے کا حکم دیا۔ اللہ کی جانب سے بھی ہجرت کا حکم آگیا۔ چناچہ آپ سالوں تک مختلف ملکوں میں اللہ کی توحید اور دین کی دعوت لے کرمارے مارے پھرتے رہے۔ آج فلسطین میں ہیں تو کل شرق اردن میں، آج بابل میں ہیں تو کل مصر میں، نہ جانے کہاں کہاں آپ نے اللہ کی دین کی خاطر غربت کی صعوبتیں اٹھائیں اسی حق ِامانت کی ادائیگی ہی میں عمر چوراسی سال کو پہنچ گئی کہ اللہ نے بیٹا عطا فرمایا۔ بڑھاپے کی اولاد اور وہ بھی اکلوتی کسے پیاری نہیں ہوتی۔ حضرت اسماعیل آپ کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بن گئے۔ لیکن ابھی بچے نے دودھ نہیں چھوڑا تھا کہ اللہ کی طرف سے حکم آگیا کہ ماں اور بیٹے کو صحرائے عرب میں اللہ کے گھر کے پڑوس میں چھوڑ آئو جہاں کل کو اللہ کا گھر آباد ہونے والا تھا۔ لیکن وہاں گھاس کی پتی تک نہیں اگتی تھی۔ کہیں کہیں خانہ بدوشوں کے سوا کوئی انسانی آبادی نہیں تھی آپ بلاتأمل ماں بیٹے کو ساتھ لے کر اس دشت غربت میں پہنچے اور معمولی ساسامانِ خورد ونوش ان کے حوالے کرکے واپس لوٹ گئے۔ اللہ اپنے بندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا بچے نے پیاس سے جب ایڑیاں رگڑیں تو اللہ نے وہیں سے پانی کا چشمہ جاری فرمادیا جسے دست ہاجرہ نے جلدی جلدی منڈیر بنا کر بہنے سے روک دیا اور وہ گہرا ہوتے ہوتے کنواں بن گیا جسے آج بیئرزم زم کہتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ حضرت ہاجرہ پر رحم فرمائے اگر وہ پانی کو بہنے سے نہ روکتیں تو وہ رواں دریا بن جاتا۔ اللہ نے حضرت ِ ہاجرہ اور ان کے صاحبزادے کی گزر بسر کے اور اسباب بھی مہیا فرمادیئے بچہ پروان چڑھنے لگاجب وہ اس قابل ہوگیا کہ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاسکے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو ایسی سخت آزمائش میں ڈالاجس کا تصور بھی کپکپادینے کے لیے کافی ہے اور اس پر طرفہ یہ کہ آپ کی اطاعت اور محبت کے امتحان کے لیے صراحتاً حکم نہیں دیا بلکہ خواب دکھایا کہ آپ حضرت اسماعیل کو ذبح کررہے ہیں۔
بیٹے کی قربانی کا کٹھن امتحان
پیغمبر کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے اس لیے حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ مجھ سے بیٹے کی قربانی مانگی جارہی ہے۔ اندازہ کیجئے ! ایک طرف بڑھاپے کا سہارا، اکلوتا اور محبوب فرزند کہ زندگی بھر کے ارمان اس کی ذات سے وابستہ ہیں اور دوسری طرف اللہ جل جلالہ کا حکم۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ایمان اور اللہ سے بےپناہ محبت دیکھئے کہ آپ نے بےدریغ اس بازی کے لیے آستینیں چڑھالیں اور یہ ثابت کردیا کہ گھر ہو یا وطن، دولت ہو یا اقتدار، بیوی ہو یا فرزند، یہ تعلق اور محبت کے تمام حوالے بہت عزیز ہیں، لیکن اللہ سے تعلق اور اس کی محبت ان سب سے بڑھ کر اور ان سب پر غالب ہے۔ اس کے مقابلے میں ان میں سے کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ تو وہ کڑے اور سخت امتحانات تھے جن سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو گزارا گیا لیکن ان بڑے بڑے امتحانات کے ساتھ ساتھ ایسے بہت سے اعمال و احکام کی پابندیاں بھی آپ پر عائد کی گئیں جن پر عام حالات میں عمل کرنا اور پھر اس پر مداومت اختیار کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن آپ نے ان میں سے ہر ایک پر بتمام و کمال عمل کرکے دکھایا۔ ان اعمال کا تذکرہ بعض احادیث میں فطری احکام کے تحت آیا ہے۔
ابنِ کثیر نے حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں انھوں نے ذکر فرمایا ہے کہ پورا اسلام تیس حصوں میں دائر ہے۔ جس میں دس سورة برات میں مذکور ہیں اور دس سورة احزاب میں اور دس سورة مومنون میں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان تمام چیزوں کا پورا حق ادا کیا اور ان سب امتحانات میں پورے اترے اور کامیاب رہے۔
سورة برأت میں مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کی دس مخصوص علامات وصفات کا اس طرح بیان کیا گیا ہے۔
اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاھُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِط وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔
(التوبۃ : 112)
(وہ ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع و سجدہ کرنیوالے، نیک باتوں سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کا خیال رکھنے والے اور ایسے مومنین کو آپ خوشخبری سنادیجئے )
اور سورة مومنون کی دس صفات یہ ہیں :
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلاَتِھِمْ خٰشِعُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْن۔ وَالَّذِ یْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوجِھِمْ حٰفِظُوْنَ ۔ اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُمَلُوْمِیْنَ ۔ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِ ھِمْ رٰعُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوٰتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ ۔ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْوٰرِثُوْنَ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوَْسط ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔
(یقینا ان مسلمانوں نے فلاح پائی۔ جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں۔ اور جو لغو باتوں سے برکنار رہنے والے ہیں۔ اور جو اپنے آپ کو پاک کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ لیکن اپنی بیویوں سے یا اپنی لونڈیوں سے کیونکہ ان پر کوئی الزام نہیں۔ ہاں ! جو اس کے علاوہ طلب گار ہوں ایسے لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا خیال رکھنے والے ہیں۔ اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں جو فردوس کے وارث ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
(المومنون : 1 تا 11)
اور سورة احزاب میں مذکورہ دس صفات یہ ہیں۔
اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقیِْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیِْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِیْنَ وَالصّٰٓئِمٰتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ وِالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًاوَّالذّٰکِرٰتِ اَعْدَاللّٰہُ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا۔
(بےشک اسلام کے کام کرنے والے مرد اور اسلام کے کام کرنے والی عورتیں اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں اور فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں اور راستبازمرد اور راستباز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور بکثرت اللہ کو یاد کرنے والی عورتیں ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجرعظیم تیار کررکھا ہے) (الاحزاب : 35)
مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کے لیے جتنی علمی، عملی، اخلاقی صفات مطلوب ہیں وہ ان تینوں سورتوں کی چند آیات میں جمع کردی گئی ہیں اور یہی صفات وہ کلمات ہیں جن میں حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کا امتحان لیا گیا اور آیت وَاِذِابْتَلٰٓی اِبْرَاھٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ میں انھیں صفات کی طرف اشارہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احکام کی تعمیل اور امتحانِ الہٰی میں کامیابی انسان کو دینی پیشوائی اور سرداری کا مستحق بنادیتی ہے انبیائے کرام اور آپ کے راستے پر چلنے والوں کا یہی امتیاز ہے۔ آپ تاریخ میں ایسے بہت سے صالح انسانوں کو دیکھیں گے جو اعمال صالحہ کے انجام دینے میں نمونے کے لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن حق و باطل کی آویزش میں یا عزیمت اور استقامت کے مقام پر کمزور ثابت ہوتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ملیں گے جن کا عزم و ارادہ پہاڑوں کو شرما دیتا ہے۔ لیکن اعمال پر مداومت میں بہت کمزور ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) احکام کی تعمیل اور عزیمت اور استقامت کے امتحان دونوں میں سرخرو ٹھہرے۔
مختصر یہ کہ جب زندگی کی ہر چاہت اور محبت اللہ کے راستے میں قربان کر ڈالی اور دنیا کا ہر خطرہ اور ہر مشکل جو آدمی کے حوصلے کے لیے چیلنج بن سکتی ہے اللہ کے راستے میں برداشت کرلی تو تب اللہ نے فرمایا کہ ابراہیم میں تجھے لوگوں کا امام بنا رہا ہوں۔
کلمہ کے ایک اور پہلو سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی کا ایک ایک صفحہ جاں بازی اور جاں سپاری کے کارناموں سے درخشاں ہے۔ جن میں سے ہم نے چند ایک کا ذکر کیا ہے لیکن کلمات کے لفظ کو دیکھتے ہوئے ان کارناموں کی گہرائی کا کچھ اور اندازہ کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم اور دیگر آسمانی کتابیں پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو جب احکام دیتا ہے تو عموماً اس پر عمل کو آسان کرنے کے لیے ترغیب سے بھی کام لیتا ہے اور اجر وثواب کا ذکر بھی فرماتا ہے۔ ترغیب سے طبیعتیں عمل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اجروثواب اور صلے کو دیکھ کر قربانی کا جذبہ ابھرتا ہے۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کو جتنے احکامات دیئے گئے ہیں جو آپ کے لیے امتحان کا درجہ رکھتے ہیں وہ بغیر کسی ترغیب اور اجر وثواب کا ذکر کیے محض کلمات کی صورت میں یعنی محض احکام کی شکل میں دیئے گئے۔ جس طرح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی محض خواب دکھا کر طلب کی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے دیکھنا یہ مقصود تھا کہ کیا میرا خلیل ترغیب اور اجروثواب کی امید پر ہماری طرف مائل ہوتا ہے یا ہر وقت اس کا دل ہمارے لیے تڑپتا اور ہماری رضا پر قربان ہونے کے لیے بےچین رہتا ہے۔ چناچہ خلیل اللہ نے ثابت کردیا کہ جس طرح زیتون کا تیل شعلہ آتش کے قریب آنے سے بھڑک اٹھتا ہے اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا دل اللہ کا حکم آنے سے تعمیل اور قربانی کے لیے بےقرار ہوجاتا ہے۔ ایسی ہی شخصیت اس قابل ہے کہ وہ دنیا کی امامت و قیادت کے منصب پر فائز کی جائے۔
امامت کا منصب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی صفات کا امین
اس پوری صورتحال سے بنی اسرائیل کو یہ بتانا مقصود ہے کہ دنیا کی امامت کا جو تاج تمہارے سروں پر رکھا گیا تھا وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی ان صفات اور اس روایت کا امین تھا۔ اس کا تعلق آپ کے نسب یا نسل سے نہیں تھا بلکہ ان ذمہ داریوں ان وفاشعاریوں اور ان جاں سپاریوں سے تھا جس کی درخشاں تاریخ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے روشن ہے۔ تمہیں تو انھیں کی طرح عزیمت و استقامت اور اطاعت و محبت الہٰی کا ثبوت دینا تھا۔ لیکن تم نے جو کچھ کیا اس کی ایک مجمل تاریخ گذشتہ دس رکوعوئوں میں گزر گئی۔
اس آیت کریمہ کے دوسرے حصے نے اس حقیقت کو مزید مبرہن کردیا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے امامت کی خوشخبری سنائی تو آپ نے عرض کی کہ یہ امامت کا منصب صرف میرے لیے ہے یا میری اولاد بھی اس سے نوازی جائے گی۔ اس کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا : لاَ یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ ” میرا یہ وعدہ ان لوگوں کو شامل نہیں ہے جو ظالم ہوں گے “ یعنی آپ کی امامت آپ کی صفات کے ساتھ مشروط ہے آپ کی ذات یا آپ کے نسب کے ساتھ نہیں۔ جو شخص آپ کی اولاد میں سے ہوگا لیکن ان صفات سے اور ایمان وعمل سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہوگا اس کا اس منصب سے کوئی رشتہ نہیں۔ قرآن کریم میں جابجا ظلم کا لفظ حق شکنی اور حق تلفی کے ساتھ ساتھ شرک، بدعملی اور نافرمانی کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ ایک جگہ فرمایا :
َومِنْ ذُرِّیَّتِھِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّـنَـفْسِہٖ مُبِیْنٌ۔ (الصٰفٰت : 113)
(اور ان دونوں کی اولاد میں ٹھیک عمل کرنے والے بھی ہیں اور اپنی جانوں پر کھلا ہوا ظلم کرنے والے بھی)
یہاں ظالم کا لفظ محسن کے مقابلے میں آیا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حسن عمل سے محروم ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی روش پر قائم نہیں ہیں وہ ظالم ہیں اور ظالموں کو امامت سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ اس وضاحت سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ بنی اسرائیل اگرچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور انھیں ایک وقت میں امامت وسیادت کا منصب بھی دیا گیا تھا۔ لیکن جب رفتہ رفتہ حضرت ابراہیم کی روش اور اللہ کے نبیوں کی لائی ہوئی شریعت و ہدایت سے بےگانہ ہوگئے۔ تو وہ اس امامت و سیادت سے محروم کردیئے گئے اور جہاں تک بنی اسماعیل کا تعلق ہے ان پر اگرچہ حامل دعوت ہونے کی ذمہ داری تو نہیں ڈالی گئی لیکن ایمان وعمل کی ذمہ داریوں کے وہ بھی مکلف تھے۔ انھوں نے آہستہ آہستہ شریعت کا ایک ایک تسمہ توڑ ڈالا اور ایمان وعمل کی تمام ذمہ داریوں سے بیگانہ ہوگئے۔ اس لیے ان کا تو سرے سے حضرت ابراہیم کی وراثت سے کوئی تعلق باقی نہ رہا۔ حاصل کلام یہ کہ بنی اسرائیل ہوں یا بنی اسمعیل اللہ تعالیٰ نے اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ” میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والاہوں “ فرماکر یہ واضح کردیا کہ حضرت ابراہیم بنی اسرائیل کے بھی امام ہوں گے اور بنی اسمعیل کے بھی۔ آپ کی نسل سے وجود میں آنے والی یہ دونوں شاخیں صرف آپ کی اولاد ہی نہیں ہوں گی بلکہ آپ ان کے امام اور پیشوا بھی ہوں گے۔ البتہ آپ کی امامت اور پیشوائی کے وارث وہ لوگ ہوں گے جو ایمان وعمل سے بہرہ ور اور حضرت ابراہیم کی روش پر قائم ہوں گے۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی سے پھوٹنے والی بات کہی گئی ہے کہ جب بنی اسمعیل اور بنی اسرائیل دونوں کے امام اور پیشوا حضرت ابراہیم ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ ان دونوں شاخوں کا قبلہ بھی وہی ہو جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر کریں گے اور اس کو قبلہ ٹھہرائیں گے۔
Ayah 2:125وَاِذْ جَعَلْنَاالْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًاط وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰاہٖمَ مُصَلًّیط وَعَھِدْنَآاِلٰٓی اِبْرٰاھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَھِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّـآئِفِیْنَ وَالْعٰـکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ۔
(اور یاد کرو ! جب کہ ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ بنایا اور حکم دیا کہ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالو اور ابراہیم اور اسماعیل کو ذمہ دار بنایا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو) (البقرۃ : 125)
البیت کا مفہوم
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امامت کا ذکر کرنے کے بعد یہ بتایا جارہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو قبلہ بنایا آپ کی اولاد بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں کے لیے اسے قبلہ ٹھہرایا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جس گھر کی تعمیر کی قرآن کریم نے اسے البیت سے تعبیر کیا ہے جس سے مراد ” بیت اللہ “ یعنی ” خانہ کعبہ “ ہے۔ تورات کی کتاب پیدائش باب بارہ میں اس کو ” بیت ایل “ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایل عبرانی میں ” اللہ “ کو کہتے ہیں تو ” بیت ایل “ کا ترجمہ ہوگا ” بیت اللہ “۔ قرآن کریم نے اس گھر کو سب سے قدیم گھر قراردیا ہے۔ اس لیے اسے البیت العتیق سے تعبیر فرمایا مسیحیت کو کعبہ کی تقدیس و برکت کے ساتھ ساتھ کعبہ کی قدامت بھی نہائت گراں گزرتی ہے، لیکن ان کے لیے مشکل یہ ہے کہ آج تک وہ انکار کی کوئی ایسی دلیل پیش نہ کرسکے جوقابلِ تسلیم ہوتی بلکہ انیسیویں صدی عیسوی کے ربع آخر میں انگریز مصنف باسورتھ سمتھ کو لکھنا پڑا :
” یہ وہ معبد ہے جس کی قدامت عہد تاریخ سے پرے ہے۔ “ (محمڈ اینڈ محمڈن ازم : صفحہ 166)
پھر آگے مشہور وقدیم رومی مورخ ڈایوڈگورس سکولس جس کا زمانہ خود حضرت مسیح سے ایک صدی قبل کا ہے کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس وقت بھی یہ معبد قدیم ترین تھا اور ساری نسل عرب کا نہائت مقدس مرجع تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بیت اللہ کا قدیم ہونا اور سب کا قبلہ ہونا یہ خود تورات کے مطالعہ سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ تورات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہود کو شروع ہی سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنی قربانیوں کا قبلہ مکہ معظمہ کی سمت کو قرار دیں۔ اسی طرح جس قربانی کا نام ان کے ہاں قدس الاقدس ہے، اس کا رخ جنوب کی طرف ہونا ضروری تھا۔ سالانہ قربانی جو ان کے ہاں سب سے بڑی قربانی خیال کی جاتی تھی اس کا رخ بھی جانب جنوب ہی ہوتا۔ ان کے خیمہ عبادت کا رخ بھی جانب جنوب ہی ہوتا تھا۔ بیت المقدس کی تعمیر بھی اس طرح ہوئی تھی کہ اس کا رخ جنوب کی جانب تھا اور یہ بات یاد رہے کہ بیت المقدس سے مکہ معظمہ جنوب کی جانب ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح ہم خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نمازیں پڑھتے ہیں اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کی تمام ذریت کی عبادت و قربانی کا قبلہ بھی خانہ کعبہ ہی تھا۔ اسی رخ پر ان کا خیمہ عبادت بھی تھا اور جیسا کہ عرض کیا گیا ہے اسی رخ پر بیت المقدس کی تعمیر ہوئی تھی۔
یہود کی تحریفات پر تنقید
یہود نے حضرت ابراہیم کا تعلق خانہ کعبہ سے توڑنے کے لیے عجیب و غریب تحریفات سے کام لیا ہے۔ انھوں نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حضرت ابراہیم نے جس بیٹے کی قربانی کی وہ حضرت اسمعیل نہیں بلکہ حضرت اسحاق ہیں اور جس جگہ قربانی کی وہ جبل یروشلم ہے نہ کہ مروہ اور اللہ کی عبادت کے لیے انھوں نے جو گھر بنایا وہ بیت المقدس ہے نہ کہ بیت اللہ اور حضرت ابراہیم نے ہجرت کے بعد جس جگہ سکونت اختیار کی وہ جوار بیت اللہ نہیں وہ کنعان ہے۔ اور ان باتوں کو ثابت کرنے کے لیے حقائق کی وہ قطع وبرید کی کہ الآمان والحفیظ۔ مولانا حمید الدین فراہی کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے، انھوں نے اپنے رسالہ مَن ھُوَالذَّبِیْح میں ان تحریفات کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا اور تورات ہی کے بیانات سے یہ ثابت کیا کہ حضرت ابراہیم نے اپنے وطن سے نکلنے کے بعد حضرت اسحاق کی والدہ کو تو کنعان میں چھوڑا اور خود حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ کے ساتھ بیرسبع کے بیابان میں قیام کیا۔ یہ جگہ غیرآباد جگہ تھی۔ اس وجہ سے انھوں نے سات کنویں کھودے اور درخت لگائے۔ یہیں ان کو خواب میں اکلوتے بیٹے کی قربانی کا حکم صادر ہوا اور وہ حضرت اسماعیل کو لے کر مروہٰ کی پہاڑی کے پاس آئے اور اس حکم کی تعمیل کی۔ اسی پہاڑی کے پاس انھوں نے حضرت اسماعیل کو آباد کیا۔ پھر یہاں سے لوٹ کر وہ بیرسبع گئے اور اپنے قیام کے لیے ایسی جگہ منتخب کی جو خانہ کعبہ سے قریب بھی ہو اور جہاں سے وقتاً فوقتاً حضرت اسحاق کو دیکھنے کے لیے بھی جانا آسانی سے ممکن ہو۔ ظاہر ہے کہ جب حضرت ابراہیم نے قیام اسی علاقہ میں فرمایا نہ کہ شام میں تو ان کو نماز کے لیے ایک مرکز کی تعمیر بھی اسی علاقے میں کرنے کا حکم ہونا چاہیے تھا چناچہ آپ نے اللہ کے حکم سے مکہ معظمہ میں بیت اللہ کی تعمیر کی۔ جہاں تک بیت المقدس کا تعلق ہے، اس کی تعمیر تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھوں ہوئی اور ان کا زمانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے سینکڑوں سال بعد کا ہے۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں بیت اللہ کی تعمیر پہلی تعمیر نہیں تھی بلکہ یہ سابقہ تعمیر کی تجدید تھی۔ اس بارے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے کہ سب سے پہلے بیت اللہ کو کس نے تعمیر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلی تعمیر فرشتوں نے کی دوسری تعمیر حضرت آدم (علیہ السلام) نے۔ طوفانِ نوح کے وقت بیت اللہ کو اٹھالیا گیا یا مسمار ہوگیا۔ اس کے بعد اس کی تاریخ کیا ہے، تاریخ سے کوئی بات ثابت نہیں۔ قرآن کریم سے اشارۃً یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس جگہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بیوی اور بچے کو ٹھہرانے کا حکم دیاوہ بیت اللہ کے قریب جگہ تھی۔ وَاِذْ بَوَّأ نَالِاِبْرَاھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ” اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو بیت اللہ کی جگہ بتلادی “۔ روایات میں کہا گیا ہے کہ اس وقت اللہ کا گھر ایک ٹیلے کی شکل میں تھا اس ٹیلے کے نیچے اس کی بنیادیں مدفون تھیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس ٹیلے کی مٹی کو ہٹایا تو بیت اللہ کی بنیادیں نکل آئیں اور انھیں پر بیت اللہ کی تعمیر ہوئی۔ اس لیے میں نے عرض کیا کہ یہ تعمیر درحقیقت سابق تعمیر کی تجدید تھی۔ اس کے بعد بیت اللہ کی تاریخ پوری روشنی میں ہے۔ کسی عمارت بلکہ کسی بھی تاریخی جگہ کے وجود اور اس کے حالات کے بارے میں اتنی بڑی تعداد میں اور اس تواتر میں شہادتیں موجود نہیں ہوں گی جس طرح بیت اللہ کے بارے میں ہیں۔ پورا عرب بیت اللہ سے عقیدت رکھتا تھا اور دنیا بھر کے مخالفین اس کے اثرات کی ہمہ گیری کو دیکھ کر تلملاتے رہے۔ ان تاریخی شہادتوں کے علاوہ خود اس گھر کی اندورنی شہادتیں اسے اللہ کا گھر ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس آیت کریمہ میں ان شہادتوں میں سے دو کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1:۔ مثابۃ 2:۔ امنا۔ اب ہم اس کی مختصر سی وضاحت کرتے ہیں۔
مثابۃ کا مفہوم
مثابۃ :۔ مصدر ” ثوب “ کے معنی میں ہے اس کا معنی ہے کسی چیز کا اپنی اصلی حالت یا حالت مقصود کی طرف لوٹنا۔ جب کچھ لوگ کسی مقام کی طرف لوٹتے ہیں تو کہا جاتا ہے ثاب القوم اور اسی سے مثابۃ اسم ظرف ہے۔ اس میں ” ۃ “ مبالغہ کی ہے۔ جس سے اس کے معنی میں زور اور تاکید پیدا ہوگئی ہے۔ اس لحاظ سے مثابۃ کا معنی ہوگا وہ مقام جس کی طرف انسان بار بار رجوع کرے اور پھر بھی جی نہ بھرے۔ اندازہ لگایئے ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اس گھر کی تعمیر فرمائی تو اس کے چاروں طرف خشک پہاڑوں کے سوا کچھ نہ تھا چند خانہ بدوشوں کے خیمے تھے اور چند ببول کے درخت۔ خاردار جھاڑیوں کے سوا کوئی سرسبز چیز دکھائی نہ دیتی تھی۔ چشمہ زم زم جاری ہونے کی وجہ سے بنو جرہم کے کچھ لوگ آباد ہوگئے تھے اور کھجور کے چند درخت اگ آئے تھے۔ اس حال میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا جاتا ہے کہ آپ ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر مخلوقِ خدا کو پکاریں کہ وہ اس گھر کی زیارت کے لیے آئیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حیران ہو کر عرض کی یا اللہ ! میری آواز تو ان ٹیلوں میں گم ہو کر رہ جائے گی، کون سنے گا اور کون آئے گا ؟ لیکن حکم دیا گیا، جس طرح سورة حج میں اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اَذِّنُ فِی النَّاسِ یَأ تُوکَ رِجَالًا الخ ” ابراہیم لوگوں کو پکارو، لوگ تمہاری پکار پر آئیں گے، پیدل بھی اور دبلی سواریوں پر سوار ہو کر بھی، وہ ہر تنگ گھاٹی اور دروں سے نکلتے ہوئے آئیں گے “۔ راستے تو ان سے آباد ہوں گے ہی پہاڑ بھی ان کا راستہ نہ روک سکیں گے۔ چار ہزار سال سے زیادہ عرصہ بیت گیا جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے یہ ندا دی تھی۔ اسلام سے پہلے بھی اور اسلام کے بعد بھی اللہ کی مخلوق کا ہجوم ہے جو کشاں کشاں بیت اللہ کی طرف چلاآتا ہے اور یہ ہجوم صرف حج ہی کے موقع پر نہیں بلکہ سارا سال بھی اس گھر کی زیارت کے لیے زائرین کا ایک تانتا بندھا رہتا ہے۔ روئے زمین کے ہر خطے، ہر علاقے اور ہر ملک میں رہنے والے لوگ اس گھر کی حقیقت سے بہرہ ور اور اس کی زیارت کے لیے بےتاب رہتے ہیں۔ اس پر مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ جو ایک دفعہ زیارت سے مشرف ہوتا ہے وہ باربار آنے کے لیے تڑپتا ہے حالانکہ جب یہ گھر بنایا گیا تھا تو اس گھر کی زیارت کے لیے آنا جاناجان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف تھا اور آج بھی اس گھر کے گردوپیش ایسے کوئی قدرتی مناظر نہیں جنھیں دیکھنے کے لیے لوگ لپکتے ہوئے آئیں لیکن اس کے باوجود لوگوں کا ہجوم ہے کہ دنیا کی کسی خوبصورت ترین جگہ پر بھی یہ ہجوم دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ اس کی وجہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مثابہ بنایا ہے کہ لوگ اس میں جمع ہوں گے ہجوم اس کی طرف امڈ کر آئے گا اور جو ایک دفعہ آئے گا وہ بار بار آنے کی آرزو کرے گا۔ ایک سیدھا سادہ مکان ہے جو سیاہ قبا پہنے کھڑا ہے بظاہر اس میں خوبصورتی اور دلکشی کی کوئی صورت نہیں لیکن دل ہیں کہ اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ لوگ دیوانہ وار اس کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ حجرِ اسود کو چومنے کے لیے بےقرار ہوتے ہیں۔ آدمی حیران ہو کر سوچتا ہے ؎
کوئی بات تو ہے آخر مے کدے میں ضرور
جو دور دور سے مے خوار آ کے پیتے ہیں
اٰمنا کا مفہوم اور اس کی وضاحت
اس کی دوسری صفت ” امناً “ بیان کی گئی ہے۔ امناً ،” مامن “ کے معنی میں ہے۔ یعنی امن کی جگہ۔ جس شخص کی نگاہوں میں نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل کی تاریخ ہے وہ خوب جانتا ہے کہ جس قدر بد امنی، سفاکی، ظلم، لوٹ مار، اور جان ومال کا غیر محفوظ ہونا جزیرہ عرب میں تھا شائد دنیا کے کسی علاقے میں نہ تھا۔ جزیرہ عرب کی سرزمین بدامنی کا ایک جہنم تھی۔ جس کی لپٹوں میں قبیلے کے قبیلے جل رہے تھے۔ اکیلے وکیلے سفر کرنے کا تو تصور ہی نہیں کیا جاسکتا تھا قافلے بھی محافظوں کی موجودگی کے باوجود لٹنے سے محفوظ نہیں تھے۔ اس حالت میں ہم بیت اللہ کو ہی نہیں بلکہ پورے حرم کو دیکھتے ہیں کہ بدامنی کے دہکتے ہوئے جہنم میں یہ حفظ وامان اور محبت اور آشتی کا ایک ایسا جزیرہ تھا جسے چیلنج کرنے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔ وحشی اور منہ زور عرب قبیلے حرم کی حدود میں پہنچتے ہی عجز و انکسار کے پیکر بن جاتے تھے۔ وہ اگر اپنے باپ کے قاتل کو بھی اس جگہ دیکھ لیتے تو اس کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ کرتے تھے۔ وحشی قبائل بھی حرم کی حدود میں کبھی ایک دوسرے پر حملہ کرنے کی جسارت نہیں کرسکتے تھے۔ وہ عام جنگ و قتال کو حرم کی حدود میں حرام سمجھتے تھے۔
ان دو صفات پر ہی غور کرلیا جائے تو یہ صفات بجائے خود بیت اللہ کے اللہ کے گھر ہونے کی ایسی دلیلیں ہیں جن کا انکار ممکن نہیں۔ ایک ایسا ملک جس میں کوئی قانون نہ ہو، ایک ایسا شہر جس کی کوئی پولیس نہ ہو، کوئی احتسابی ادارہ نہ ہو جو کسی کا احتساب کرسکے، ایسے شہر میں ہزارہا آدمیوں کا جمع ہوناجن میں دشمن قبائل کی کمی بھی نہ ہو، لیکن ان کا کسی سے نہ الجھنا اور حرم کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو ہر طرح کی لڑائی اور سرکشی سے صرف اس لیے دور رکھنا کہ وہ حرم کی حدود میں ہیں اور یہاں اللہ نے ان باتوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ غور فرمائیے ! دلوں کی گہرائیوں تک اترجانے والی یہ تاثیر اللہ کے گھر کے سوا کسی اور گھر میں بھی ہوسکتی ہے ؟
مقام ابراہیم سے کیا مراد ہے ؟
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰاہِیمَ مُصَلًّی ” اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالو “۔ اس گھر کے بیت اللہ ہونے کی یہ ایک تیسری ضمنی دلیل ہے۔ یہ ایک پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر بیت اللہ کی دیواروں کی تعمیر کی تھی۔ اس پتھر کی عجیب خصوصیت تھی کہ یہ دیوار کی بلندی کے ساتھ ساتھ ” گو “ کی طرح بلند ہوتا جاتا تھا اور اس میں مزید حیران کن بات یہ ہے کہ یہ پتھر نبوت کے جلال سے پگھل گیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دونوں پائوں کے نشانات اس میں ثبت ہوگئے۔ چارہزار سال کا زمانہ گزر گیا آج بھی یہ پتھر خلیل اللہ کے پائوں کے نشانات سمیت بیت اللہ کے سامنے موجود ہے اور قوموں کی شہادت اس کے وجود اور اس کی حیثیت کی گواہ ہے۔ آیت کریمہ کے اس جملے میں اسی پتھر کو مقام ابراہیم کہا گیا ہے اور اسے مصلیٰ بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے قول اور عمل سے اس پتھر کو مقام ابراہیم قرار دیا۔ حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب آپ طواف سے فارغ ہوئے تو آپ مقام ابراہیم کے پاس تشریف لائے اور آیت کے اس جملے کی تلاوت فرمائی اور پھر مقام ابراہیم کے پیچھے اس طرح دو رکعت نماز پڑھی کہ منہ تو بیت اللہ کی طرف رہا لیکن درمیان میں مقام ابراہیم بھی تھا۔ اس لیے فقہائے امت نے لکھا ہے کہ طواف کے بعد دونفل پڑھنااحناف کے نزدیک واجب ہیں اور شوافع کے نزدیک سنت۔ البتہ ان دو نوافل کا مقام ابراہیم کے پیچھے ادا کرنا واجب نہیں سنت ہے۔ اگر اس کے پیچھے جگہ نہ ملے اور حرم کی کسی دوسری جگہ پڑھ لے تو نوافل ادا ہوجائیں گے۔
صاف رکھنے کا مفہوم
وَعَھِدْنَآاِلٰٓی اِبْرٰاھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْل۔ ” عھد “ جب الیٰ کے صلہ کے ساتھ آتا ہے تو اس کا معنی ہوتا ہے کسی پر کوئی ذمہ داری ڈالنا یا اس کو کسی شرط کا پابند بنانا۔ یہاں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے ابراہیم اور اسمعیل پر ذمہ داری ڈالی یعنی انھیں بیت اللہ کی تولیت سپرد کی اور ان کی یہ ذمہ داری ٹھہرائی کہ وہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے گھر کا متولی ہو چاہے کوئی فرد یا خاندان ہو یا حکومت اللہ کے گھر کی صفائی اور اس کی تطہیر ان کی پہلی ذمہ داری ہے۔ یہی حال مساجد کا بھی ہے، متولیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مساجد کو بھی اللہ کے گھر کی طرح صاف ستھرا رکھیں۔ اب سوال یہ ہے کہ صاف ستھرا رکھنے سے کیا مفہوم ہے ؟ اس سے مراد ہر اس چیز سے صفائی اور پاک صاف رکھنے کی کوشش ہے جو اس گھر کے مقصد تعمیر کے منافی ہے۔ طواف، اعتکاف اور نماز کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا جسم، آدمی کے کپڑے، آدمی کا گرد وپیش اور ماحول ہر طرح کی گندگی سے پاک وصاف ہو۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ ناپاکی کی حالت میں مسجدوں میں داخل نہ ہونا چہ جائیکہ خانہ کعبہ میں وہاں تو اور بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ناپاک کپڑے پہن کا نہ آنا، منہ سے بدبو نہیں آنی چاہیے، اس لیے سگریٹ، سگاریا حقہ پی کر اللہ کے گھروں میں جانے سے ممانعت کردی گئی اور اللہ کے گھر اور مساجد میں کوئی ایسی گندگی نہیں ہونی چاہیے جس سے طبیعتیں کراہت کرتی ہوں کیونکہ یہ تو دل جمعی اور اللہ سے لو لگانے کی جگہیں ہیں۔ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے مسجد کی دیوار کے ساتھ بلغم لگا ہوا دیکھا آپ نے خود اسے کھرچا اور وہاں پر خوشبو منگوا کرلگائی۔ دوسری چیز جس سے تطہیر کرنی ہے وہ یہ ہے کہ وہاں لہو ولعب کے ہنگامے نہ ہوں آوازیں بلند نہ ہوں دنیا داری کی باتیں نہ ہوں، کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اللہ سے لولگانے میں مانع ہو اور جس سے طبیعتوں کی یکسوئی میں خلل واقع ہو اور سب سے اہم بات یہ کہ اللہ کے گھر کو غیر اللہ کی بندگی اور عبادت سے محفوظ رکھا جائے۔ وہاں اصنام و اوثان نہ ہوں۔ کوئی ایسی حرکت نہ ہو جس سے اللہ کی عبادت کی حقیقت کو نقصان پہنچے۔
مختصر یہ کہ اللہ کے گھر کو ہر نجاستِ ظاہری، معنوی اور اعتقادی سے پاک صاف رکھا جائے اور ان لوگوں کے لیے اسے تیار رکھا جائے جو اس گھر کے مقصد تعمیر سے واقف اور اس سے وابستہ رہنا چاہتے ہیں۔ انھیں تین ناموں سے تعبیر فرمایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس گھر کی تعمیر کا مقصد یہی تین باتیں ہیں۔ 1:۔ طواف۔ 2:۔ اعتکاف۔ 3:۔ نماز۔
طواف : بیت اللہ کے اردگرد پھیرے لگانے کا نام ہے۔ سات پھیرے لگانے سے ایک طواف مکمل ہوتا ہے۔ حجرِ اسود سے طواف کا آغاز ہوتا ہے اور یہیں پر اختتام ہوتا ہے۔ طواف ایک ایسی عبادت ہے جو سب عبادات سے افضل ہے اور وہ صرف بیت اللہ کے ہی ساتھ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ ہر طرح کی عبادت اور نیکی کہیں بھی کی جاسکتی ہے۔ دنیا کے کسی خطے میں نما زبھی پڑھی جاسکتی ہے روزہ بھی رکھا جاسکتا ہے زکوٰۃ بھی دی جاسکتی ہے قربانیاں بھی کی جاسکتی ہیں لیکن طواف صرف بیت اللہ ہی کا ہوتا ہے کسی اور بڑی سے بڑی بارگاہ کا طواف حرام ہے۔ کسی مسجد کا طواف بھی جائز نہیں۔ حتی کہ رسول اللہ ﷺ کے مرقد مبارک کا طواف بھی ناجائز ہے نماز سب سے زیادہ اللہ سے تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن طواف اگر پورے شعور کے ساتھ کیا جائے تو اس میں محبت الہٰی کے جذبات جس طرح ابھرتے ہیں وہ کسی اور عبادت میں ممکن نہیں۔ اس میں تو آدمی ایسی کیفیت اپنے اندر محسوس کرتا ہے، جیسے پروانہ شمع کے گرد منڈلاتا ہے اور بالآخر اسی پر قربان ہوجاتا ہے۔ یہ دراصل ایک استعارہ ہے، جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مسلمان کی ساری عبادتیں سارے اعمال اور ساری زندگی کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے گرد گھومتی ہے۔ اس کا آغاز بھی اللہ پر ایمان سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام بھی اللہ پر قربان ہوجانے سے ہوتا ہے۔
عاکفین، عاکف کی جمع ہے۔ عکوف کا لفظی معنی کسی جگہ کے رہنے کو تعظیماً لازم کرلینا ہے۔ اور اس کی اصل روح دوسری چیزوں سے صرف نظر کرکے کسی خاص چیز کو پکڑلینا ہے۔ اصطلاحِ شریعت میں اعتکاف نام ہے مسجد کے اندر بہ نیت عبادت قیام کو کسی مدت کے لیے لازم کرلینا۔ بجز بشری ضرورتوں کے اور کسی حال میں باہر نہ نکلا جائے۔ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف سنت کفایہ موکدہ ہے۔ اس آیت کریمہ میں عاکف سے مراد وہ عکوف یا اعتکاف کرنے والا ہے جو ہر طرف سے کٹ کر اللہ کی یاد کے لیے اس گھر کا ہو کر رہ جائے۔ اس کی شکل رمضان میں اعتکاف کی بھی ہوسکتی ہے اور اس کے علاوہ کسی اور وقت میں اللہ سے لو لگانے کی بھی۔ پائوں توڑ کرلو لگا کر بیٹھ جانا اور شدید ضرورت کے بغیر کہیں نہ جانا یہ وہ چیز ہے جو اللہ کی محبت کے جذبات ابھارنے کے لیے نہائت موثر ہے۔ اس میں اپنی عبدیت کی عاجزی بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ عقل کی حدود بھی واضح ہوجاتی ہیں اور دل کے احساسات بھی آہستہ آہستہ محبت الٰہی میں ڈھلنے لگتے ہیں۔
رکعٌ، راکعٌ کی جمع ہے اور سجود، ساجد کی جمع ہے۔ رکوع اور سجود سے نماز مراد ہے۔ کیونکہ یہ دونوں نماز کے اہم ارکان ہیں۔ کبھی تو اللہ کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا اس کی بندگی کے اقرار کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے اور یہ عزیمت اور استقامت کی ایک علامت بھی ہے اور کفر اور باطل کے مقابلے میں حمیت حق کا اظہار بھی۔ لیکن آدمی جب عجز ونیاز کا سرمایہ اللہ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے تو پھر اس کی سرخوشی کا اظہار رکوع سے شروع ہوتا ہے اور سجدے پر تکمیل پذیر ہوجاتا ہے۔ یہاں ان دونوں کا ذکر کرکے ایک تو بندگی کی تمام صورتوں کو جمع کرنا مقصود ہے اور دوسرا اہل کتاب پر شائد تعریض بھی ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں ان کی نماز کا بھی لازمی ستون تھیں انھوں نے پہلے ان دونوں کا ضائع کیا اور پھر نماز ہی ضائع کرڈالی۔ لیکن اسلام چونکہ ایک مکمل دین ہے، وہ اگرچہ روح دین اور باطن کی اصلاح پر سب سے زیادہ زوردیتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی بندگی کی مخصوص صورت وہیئت کو بھی باقی رکھنے پر اصرار کرتا ہے کیونکہ جس طرح ظاہر باطن کی اصلاح کا محتاج ہے، اسی طرح ظاہر بھی باطن کی اصلاح کی دلیل اور مؤید ہے۔
اس آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا بھی ذکر آیا ہے۔ بیت اللہ کی تولیت دونوں کے سپرد کی گئی تھی۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد حضرت اسماعیل ہی کو یہ ذمہ داری سونپی جانے والی تھی اور انھیں کی پشت سے آنحضرت ﷺ کا ظہور اور امت مسلمہ وجود میں آنے والی تھی۔ اس لیے مناسب ہوگا کہ ان کے تعارف میں بھی چند باتیں عرض کردی جائیں۔
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا تعارف
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے فرزنداکبر تھے، آپ کی مصری بیوی حضرت ہاجرہ کے بطن سے تھے۔ سالِ ولادت غالباً 2074 ق م ہے۔ سالِ وفات غالباً 1937 ق م ہے۔ تورات میں ہے کہ عمر 137 سال کی پائی۔ آپ کے بارہ فرزند ہوئے اور ان سے بارہ نسلیں چلیں۔ تورات میں ان بارہ فرزندوں کے نام درج ہیں اور یہ تصریح ہے کہ ( یہ اپنے قبیلوں کے بارہ رئیس تھے۔ پیدائش : 25، 12) عرب کا مشہور عالی نسب قبیلہ قریش آپ ہی کی نسل سے ہے۔ اس لیے آپ رسول اللہ ﷺ کے بھی مورث اعلیٰ ہوئے۔ اہل کتاب کہلانے والوں نے آپ کے خلاف زہر اگلنے اور اپنے خبث وعناد کا مظاہرہ کرنے میں کوئی کسر اٹھانھیں رکھی۔ تاہم اپنی کتاب کی تصریحات کو کیا کریں گے، جو تحریف وتلبیس کی ہر ممکن کوشش کے بعد بھی نہ مٹ سکیں۔ ان میں ابراہیم خلیل کی دعا بھی شامل ہے اور خداوند کریم کے وعدے بھی اور تاریخ کا بیان بھی۔
( اور ابراہام نے خدا سے کہا کہ کاش ! اسماعیل تیرے حضور جیتا رہے۔ (پیدائش : 17، 18) ۔ اسماعیل کے حق میں میں نے تیری سنی دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے آبرو مند کروں گا اور اسے بہت بڑھائوں گا۔ (پیدائش، 17: 20) ۔ اسے اپنے ہاتھ سے سنبھال کہ میں اسے ایک بڑی قوم بنائوں گا۔ (پیدائش 21: 18) ۔ اور خدا اس لڑکے کے ساتھ تھا اور وہ بڑھا اور بیابان میں رہا کیا اور تیر انداز ہوگیا)
(پیدائش 21: 21)
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت ہاجرہ شاہ مصر کی صاحبزادی تھیں اور مصر کا شاہی خاندان حضرت ابراہیم کے خاندان کی ایک شاخ تھا۔ عراق سے منتقل ہو کر مصر میں آباد ہوگیا تھا۔ جب حضرت ابراہیم اپنے سفر میں ادھر سے گزرے تو بحیثیت ایک شیخ قبیلہ کے آپ کو شاہ مصر نے اپنا مہمان بنایا اور رخصت کے وقت آپ کے اعزاز واکرام میں اپنی صاحبزادی کو بطور تحفہ کے پیش کیا اور تواضع و انکسار کی راہ سے کہ مشرقی میزبانی کا خاصہ ہے۔ کہا کہ یہ آپ کی کنیزی کے لیے ہدیہ ہے، اردو زبان میں یہ محاورہ آج تک چلا ہوا ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر بڑے سے بڑا معزز شخص بھی اپنی لڑکی کو کنیز ہی کہہ کر داماد اور سمدھی کے سامنے پیش کرتا ہے۔ لیکن مشرقی تواضع کے اس عام پیرایہ بیان کے باوجود معاندین اس لفظ کو ایک بڑی معتمد اور مستند دستاویز سمجھتے ہیں اور امِ اسماعیل ان کے ہاں آج تک کنیز ہی چلی آرہی ہے۔ واقعات بہرحال واقعات ہیں انھیں کوئی کہاں تک جھٹلا سکتا ہے۔ اسی جیوش انسائکلوپیڈیا میں اکابر احبار یہود کے حوالہ سے ہے :
(ہاجرہ فرشتہ ہی کو دیکھ کر ہیبت زدہ ہوئی ان کی عصمت مآبی اس سے ظاہر ہے کہ ابراہیم نے انھیں اپنے پاس سے الگ کردیاجب بھی ان کی وفاداری میں فرق نہ آیا۔ ان کے نام کے ایک معنی آراستہ بھی بیان ہوئے ہیں اور یہ اس بنا پر کہ وہ زیور اخلاق وحسن عمل سے آراستہ تھیں) (جلد 6، صفحہ 138)
” اور اسی میں ایک دوسری جگہ یہ روایت بھی درج ہے : ” بادشاہ نے خود اپنی صاحبزادی بطور کنیز ہدیہ کردی۔ “ (جلد 11، صفحہ 55)
اور قصص یہود کا جو مجموعہ گینز برگ نے چار جلدوں میں مرتب کرکے شائع کیا ہے اس میں ہے :
(بادشاہِ مصر نے عہد کرلیا کہ وہ ابراہیم کو ہر طرح پر قوت و شوکت بنا کررہے گا، چناچہ اپنی بیٹی تک ہدیہ دے دی۔ سارہ کی تعلیم و تربیت میں رہ کر وہ بھی ویسی ہی باخدا بن گئیں اور ہر طرح سے ابراہیم کی رفاقت کے قابل) (جلد 1 صفحہ 428 و 237) (ماخوذ از تفسیر ماجدی)