2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:104

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

(اے وہ لوگو ! جو ایمان رکھتے ہو، تم ” رَاعِنَا “ نہ کہو ” اُ نْظُرْنَا “ کہا کرو اور غور سے سنا کرو اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْارَاعِنَا وَقُوْلُوْا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْاط وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (البقرۃ : 104) (اے وہ لوگو ! جو ایمان رکھتے ہو، تم ” رَاعِنَا “ نہ کہو ” اُنْظُرْنَا “ کہا کرو اور غور سے سنا کرو اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے) یہود کے خبث باطن کا اظہار یہود کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ رویہ زیر بحث ہے۔ اس سلسلے میں ان کا طرز عمل، ان کی دلچسپیاں، ان کی ترجیحات، ان کے تعصبات، حامل دعوت امت ہونے کے باوجود ان کی اللہ اور اس کے دین کے مقابلے میں جرأت و جسارت اور پھر آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف ان کی شوخیاں اور سازشیں ایک ایک چیز کو مختلف اسالیب سے ذکر کیا جارہا ہے۔ اسی سلسلے میں مسلمانوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ یہود جب تمہاری مجالس میں آتے ہیں اور خاص طور پر آنحضرت ﷺ کی صحبت میں بیٹھتے ہیں تو تم بجائے اس کے کہ ان کی شرارتوں کو سمجھو تم حسن ظن اور خوش فہمی کے باعث ان کے طرز عمل کو ان کے حسن نیت اور نیک ارادوں پر محمول کرتے ہو اور اسی وجہ سے تم ان کے اصل اردوں کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہو۔ چناچہ مسلمانوں کی سادہ لوحی اور مومنانہ اخلاص کے باعث وہ جو حرکتیں کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے اور جن کی وجہ سے اسلام کی دعوت اور آنحضرت کی وجاہت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا تھا۔ ان آیات میں ان سے پردہ اٹھایا جارہا ہے تاکہ مسلمان یہود کے اصل چہرے کو پہچاننے میں کامیاب ہوجائیں اور پھر ان کی سازشوں سے محفوظ رہیں۔ اس آیت کریمہ میں ان کی جس شرارت کو ذکر کیا جارہا ہے، وہ یہ تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوتے۔ حضور جب دین کی کوئی بات سکھاتے یا کوئی نصیحت فرماتے تو وہ آگے بڑھ بڑھ کر آپ کو متوجہ کرنے کے لیے باربار راعناکہتے۔ راعنا کا معنی ہوتا ہے۔ آپ ہماری رعائت فرمائیے ہمیں بات سمجھنے کا موقع دیجئے۔ اپنی بات کو دوبارہ بیان فرمادیجئے تاکہ ہم اچھی طرح سمجھ جائیں۔ یہ بالکل اسی طرح کا جملہ ہے جیسے انگریزی میں کہتے ہیں I beg your pardon ان کے اس طرز عمل سے مسلمان یہ سمجھتے کہ ان لوگوں کو علم سے کتنی محبت ہے اور یہ دین کے معاملے میں کتنے فکر مند ہیں کہ بار بار آنحضرت ﷺ کو متوجہ کرکے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے اس طرز عمل سے مسلمانوں کو ان کے ایمان لانے کی امید پیدا ہوگئی اور وہ اپنے دلوں میں اس بات سے خوشی محسوس کرنے لگے کہ یہ لوگ اگر مسلمان ہوجائیں، چونکہ یہ مذہب کو سمجھنے والے لوگ ہیں اور صدیوں سے ان کا دین سے ایک رشتہ ہے تو اس سے یقینا اسلامی دعوت کو تقویت ملے گی۔ اور اہل کتاب میں تیزی سے یہ دین مقبول ہوجائے گا اور وہ اپنے حسن ظن کے باعث اس طرف بہت کم توجہ دیتے تھے کہ یہود راعنا کہتے ہوئے اصل میں کچھ اور کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پروردگار نے ان کی اس شرارت اور خباثت سے پردہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کو متوجہ کیا کہ تم غور سے ان کی بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ یہ یہاں دین سیکھنے کے لیے نہیں آتے بلکہ اپنے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لیے آتے ہیں۔ اصل بات یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ جب گفتگو کررہے ہوتے تو وہ باربار یہ تأثر دینے کے لیے کہ ہم آپ کی بات کو بڑی توجہ سے سن رہے ہیں لیکن جب کسی بات کے سمجھنے میں ہمیں دشواری پیش آتی ہے تو ہم راعنا کہہ کر آپ کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ راعنا کہتے ہوئے اپنی خباثتِ نفس کا اظہار کرتے تھے۔ بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ آنحضرت کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں لیکن درپردہ وہ آپ کی بات کو ہلکا کرنے، مذاق اڑانے یا آپ کی توہین کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ راعناکا مفہوم راعنا کا عربی زبان میں تو مفہوم یہی ہے کہ آپ ہماری رعایت فرمائیے لیکن عبرانی زبان میں یہ کلمہ بد گوئی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یا پھر وہ یہ حرکت کرتے کہ راعنا کو ذرا نیچے کی طرف دبا کر اس طرح ادا کرتے کہ وہ راعینابن جاتا۔ جس کا معنی بالکل بگڑ کر رہ جاتا۔ راعی عربی زبان میں چرواہے کو کہتے ہیں اور ” نا “ ضمیر متکلم ہے۔ تو اس کا معنی ہے ” ہمارا چرواہا “۔ اس طرح کی حرکتوں سے ان کے اندرونی بغض کو تسکین ملتی اور وہ دل ہی دل میں خوشی محسوس کرتے اور جب ان مجالس سے اٹھ کر آپس میں تنہا ہوتے تو کھلکھلا کر ہنستے اور قہق ہے لگاتے کہ دیکھو ہم نے مسلمانوں اور ان کے پیغمبر کو نعوذباللہ کس طرح مذاق بنا رکھا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی عزت و حرمت کو بچانے کے لیے اللہ نے حکم دیا کہ ایک ایسا لفظ جس کو غلط معنوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے اسے اپنی مجلسی زندگی سے بالکل نکال دو اور اس کی جگہ وہ لفظ اختیار کرو جس سے اس طرح کا احتمال پیدا نہ ہوسکتا ہو۔ اس لیے فرمایا کہ راعنا کی بجائے اُنْظُرْنا کہا کرو۔ اس کا معنی ہے ” ہماری طرف توجہ فرمائیے، ہمیں مہلت دیجئے، ہمارا انتظار فرمائیے، ذرا توقف فرمائیے، “۔ یہ جو ہم نے کہا وہ ایک سیدھے سادے لفظ کو توڑ مروڑ کو اس طرح استعمال کرتے جس سے انھیں اپنے خبث باطن کی تسکین کو موقع ملتا۔ یہ محض ہماری ذہنی اپچ نہیں بلکہ پروردگار نے قرآن کریم میں صراحت سے یہی بات بیان فرمائی ہے ایک جگہ ارشاد فرمایا : مِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الکَلِمَ عَن مَّوَاضِعِہٖ وَیَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لیاً بِاَلسِنَتِہِم وَطَعْنًافِی الدِّیْنِ (یہود میں وہ لوگ بھی ہیں جو کلام کو اس کے موقع ومحل سے ہٹاتے ہیں اور اپنی زبانوں کو لچکا کر کہتے ہیں سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ اور رَاعِنَا دین پر طنز کرنے کے لیے ) اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ راعنا کے تلفظ میں زبان لچکا کر اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے تھے اور مزید یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان کی یہ خباثت صرف اسی لفظ تک محدود نہیں تھی بلکہ جب بھی ان کو موقع ملتاوہ یہ حرکت ضرور کرتے۔ مثلاً جب حضور کوئی حکم دیتے یا نصیحت کرتے تو وہ کہتے سمعنا کہ ہم نے آپ کی بات سن لی اور دبی زبان میں سرجھکا کر منہ نیچا کرکے عَصَینَا بھی کہتے جس کا معنی ہے کہ ” ہم نے نافرمانی کی “۔ لیکن عَصَینَا کو اس طرح ادا کرتے کہ سننے والا اسے اَطَعْنَا سمجھے اور کبھی اپنی بات گوش گزار کرنے کے لیے کہتے وَاسْمَعْ جس کا معنی ہے ” ہماری بات سماعت فرمائیے “۔ لیکن ساتھ ہی چپکے سے کہتے غَیرَ مُسْمَع ” اللہ کرے تجھے کوئی بات سنائی نہ دے “ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھو جو بات کہی جا رہی ہے وہ کیسی ناشنیدنی اور نہ سننے کے قابل بات ہے۔ آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس طرح کی حرکتوں سے آنحضرت کی مجلس کی سنجیدگی اور آپ کی ذاتی وجاہت کو کس قدر نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ اس لیے یک قلم اس طرح کے الفاظ کو مجلسی الفاظ سے خارج کردیا گیا تاکہ کسی کو اس طرح دل کے پھپھولے پھوڑنے کا موقع نہ ملے۔ اس سے ہمیں چند باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ الفاظ اپنا وزن رکھتے ہیں اور ان میں ایک نفسیاتی اثر بھی ہے ایک تو یہ بات کہ الفاظ بہرحال اپنا وزن رکھتے ہیں اور ان کی ایک نفسیاتی حقیقت بھی ہے اس لیے اگر کسی لفظ کے بارے میں یہ گمان ہو کہ اس سے غلط فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور اس کے استعمال سے رسول اللہ ﷺ کی عزت یا دین کی حرمت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تو اس کے استعمال سے خود بھی بچنا چاہیے اور ماحول کو بھی اس سے محفوظ رکھنا چاہیے اور جدید دنیا کا تو تجربہ بھی ہے کہ شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے میں اور نظریات کو پختہ کرنے اور ہلکا کرنے میں الفاظ کا کھیل سب سے زیادہ ہے۔ بظاہر معصوم سے الفاظ کے ذریعے قیامت اٹھا دی جاتی ہے۔ الفاظ ہی کے استعمال سے مقدس اور معصوم شخصیتیں محل نظر بنادی جاتی ہیں اور انھیں کی سخاوت سے بونے لوگ قدآور بنادیئے جاتے ہیں۔ اور قابل نفرت اشیا کو مرغوب بنادیا جاتا ہے۔ اور محترم چیزوں کو بےاعتبار کردیا جاتا ہے۔ مشتبہ الفاظ سے سبھی مسلمانوں کو بچنا چاہیے اسلامی اعتقادات میں چونکہ اللہ اور اس کے رسول کی شخصیت بنیاد اور اساس کا درجہ رکھتی ہیں۔ اسی طرح کردار کی تعمیر میں بنیادی عقائد اور اخلاقی اقدار سب سے موثر عامل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں الفاظ کے طوطے مینا اڑانے کی کبھی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ یہی وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات اور رسول اللہ ﷺ کی صفات کو توقیفی حیثیت دی ہے تاکہ کسی کو ان کے بارے میں غلط الفاظ کے استعمال کی جرات نہ ہو اور مکارمِ اخلاق کو بھی سنت کے ستون کے ساتھ باندھ دیا ہے تاکہ کسی کو سخن طرازیِ ناروا کے گل کھلانے کا موقع نہ ملے۔ دوسری بات اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر کسی جائز فعل سے دوسروں کو ناجائز کاموں کی گنجائش ملتی معلوم ہو تو یہ جائز فعل بھی ناجائز ہو کر رہ جاتا ہے۔ جیسے اگر کسی عالم کے جائز فعل سے جاہلوں کے مغالطہ میں پڑنے اور ناجائز کاموں میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو اس عالم کے لیے یہ جائز فعل بھی ممنوع ہوجائے گا۔ بشرطیکہ یہ فعل شرعاً ضروری اور مقاصدشرعیہ میں سے نہ ہو۔ جس طرح آنحضرت ﷺ کی خواہش تھی کہ بیت اللہ کو دوبارہ بنائے ابراہیمی کے مطابق تعمیر کیا جائے کیونکہ قریش مکہ نے جب اس کو بنایا تھا تو مصارف کی کمی کے باعث انھوں نے اس کا ایک حصہ بیت اللہ میں شامل نہیں کیا جسے ” حطیم “ کہتے ہیں اور اس عمارت میں بعض تبدیلیاں بھی کردیں جو بنائے ابراہیمی کے خلاف تھیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے جب دیکھا کہ نو اور دس ہجری میں تیزی سے لوگ اسلام میں داخل ہورہے ہیں لیکن ابھی تک انھیں تربیت کا موقع نہیں ملا جس سے ان کا مزاج پوری طرح اسلامی قالب میں ڈھل جاتاتو آپ نے اپنی خواہش پر عمل کرنے سے گریز فرمایا بلکہ حضرت عائشہ ( رض) سے فرمایا کہ تیری قوم اگر حدیث الاسلام نہ ہوتی یعنی لوگ نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو میں بیت اللہ کو اس طرح تعمیر کرتا جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ لیکن اب چونکہ عوام کے فتنہ میں پڑجانے کا احتمال ہے تو میں اس نیک کام کو نہیں کروں گا اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کا کام بھی جو فتنہ کا باعث ہوسکتا ہو اس کو عمل میں لانے سے گریز کرنا سنت نبوی کا منشا ہے۔ الفاظ کے استعمال پر یہ پابندی بظاہر کوئی بڑی پابندی نہیں لیکن اگر بعض الفاظ کا استعمال عادت بن جائے تو اس کا چھوڑنا یقینا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ مزید یہ بات بھی کہ اگر ماحول ایسا ہو جس میں منافقین یا دشمنانِ دین بھی موجود ہوں تو پھر ایسی پابندی مخلص اور غیر مخلص میں فرق کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے کیونکہ صریح ممانعت کے بعد اگر پھر بھی کوئی شخص ممنوع الفاظ کے استعمال کی جرأت کرتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے دل میں اسلام کے خلاف حسد یا دشمنی کی آگ بھڑک رہی ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی اس پابندی سے یہی فائدہ ہوا کہ یہودیوں کا آناجانا بند ہوگیا اور اگر کوئی آیا بھی تو اس کے لیے اپنا اعتبار باقی رکھنے کی خاطر اس حکم کی تعمیل ضروری ہوگئی تاکہ مسلمانوں کے سامنے اس کا بھرم قائم ہوجائے اور پھر اس حکم کو حقیقی موثر بنانے کے لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا۔ اسمعوا کہ تم غور اور توجہ سے سنو یعنی یہودی تو اب اپنے خبث باطن کا اظہار نہیں کرسکیں گے اب اگر وہ کوئی بات پوچھیں گے تو راعنا کی بجائے انظرنا کہہ کر پوچھیں گے۔ لیکن اللہ کے رسول کی عظیم شخصیت سے باربار سوال کرنا بھی ادب کے اعلیٰ تقاضوں کے مطابق نہیں۔ سوال کی ضرورت یا آپ سے رعایت کے لیے عرض کرنے کی ضرورت تب ہوگی جب آپ کے ارشادات کو پوری طرح غور سے نہیں سنا جائے گا۔ اس لیے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی ایک ایک بات کو پوری توجہ اور انہماک سے سنیں۔ ویسے بھی آنحضرت ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ دینی فرائض کی تعلیم دیتے ہوئے کبھی رواں دواں گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ آپ ٹھہر ٹھہر کر اس طرح گفتگو فرماتے کہ اگر کوئی آدمی آپ کے الفاظ شمار کرنا چاہے تو وہ شمار کرسکتا تھا۔ اور مزید یہ کہ جس بات پر آپ زور دینا چاہتے یا اسے دل و دماغ میں اتارنا چاہتے تو آپ اسے دہرا کر بیان کرتے تھے بعض دفعہ اسے تین دفعہ دہراتے۔ اس اہتمام اور احتیاط کی گفتگو کے بعد پوچھنے کی ضرورت بہت کم پید اہوتی اور شاید یہی وجہ ہے کہ پورے قرآن کریم میں صحابہ کے جن سوالات کو ذکر کیا گیا ہے ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا : وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْم ” اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے “۔ یہاں عام کفر کا ذکر نہیں بلکہ یہاں مراد وہ کفر ہے جو آنحضرت ﷺ کی صحبت میں اپنے خبث باطن کے باعث الفاظ کے غلط استعمال سے پید اہو۔ یعنی اگر تم راعنا جیسا کوئی لفظ بگاڑ کر اس طرح ادا کرتے ہو جس سے آنحضرت ﷺ کی شان اور قدرومنزلت کو نقصان پہنچتا ہے تو یہ وہ کفر ہے کہ جس کا ارتکاب کرنے والوں کو قیامت میں صرف عذاب نہیں بلکہ عذاب الیم ہوگا۔ اَلِیْمکا معنی ہے ” دردناک “ یعنی وہ عذاب اس قدر شدید ہوگا کہ خود عذاب بھی اس عذاب سے عذاب میں ہوگا۔ کیونکہ دردناک اس درد کو کہتے ہیں جس سے درد بھی درد محسوس کرے۔ حدیث میں آتا ہے، حضور نے فرمایا کہ جہنم کی بعض وادیاں ایسی ہیں جس سے باقی جہنم پناہ مانگتا ہے، یعنی جہنم بھی اس کی ہولناکی سے درد اور عذاب محسوس کرتا ہے۔
Ayah 2:105

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

نہیں چاہتے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور نہ مشرکین کہ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے کوئی رحمت نازل ہو اور اللہ خاص کرلیتا ہے اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے اللہ بڑے فضل والا ہے۔

مَایََوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ط وَاللّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوْ الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ (نہیں چاہتے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور نہ مشرکین کہ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے کوئی رحمت نازل ہو اور اللہ خاص کرلیتا ہے اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے اللہ بڑے فضل والا ہے) (البقرۃ : 105) معاندین کے باطن پر روشنی اس آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ سوال صرف چند الفاظ کے استعمال کا نہیں جو یہود اپنے خبث باطن کے اظہار کے لیے کرتے ہیں بلکہ اصل مسئلہ ان کی ذہنیت اور سوچ کا ہے۔ وہ بظاہر تمہارے پاس آکر ہمدردی جتانے کی کوشش کرتے ہیں اور تمہیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ انھیں تمہارے دین اور ایمان کی بہت فکر ہے اور وہ خود بھی اسلام کے بارے میں مخلصانہ طرز عمل رکھتے ہیں اور اس کو جاننے اور سیکھنے کی تڑپ رکھتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اہل کتاب ہوں یا مشرکین وہ اس درد میں یکساں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت جیسی رحمت بنی اسمعیل کے گھر میں کیسے نازل کردی۔ ان کو یہ حسد کسی قیمت چین نہیں لینے دیتا کہ نبوت تو نبی اسرئیل کا ورثہ تھی ہمیشہ انھیں میں سے نبی اٹھائے گئے اور انھیں میں وحی الہٰی کی رحمت اترتی رہی یہ اچانک آخر کیا ہوگیا کہ بنی اسرائیل کو محروم کرکے بنی اسماعیل کو اس سے نواز دیا گیا اور مشرکین اس بات پر سیخ پا ہیں کہ قبائل میں ہمیشہ عزت و کرامت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے کوششیں جاری رہتی ہیں۔ ہر قبیلہ دوسروں سے معزز ہونے کے لیے ایسے کارنامے انجام دیتا ہے۔ جس سے وہ دوسروں کی ہمسری کے قابل ہوسکے بلکہ ان سے آگے بڑھ جائے۔ لیکن یہ نبوت ایک ایسی فضیلت ہے جس کو کوئی اپنے زور بازو سے حاصل نہیں کرسکتا۔ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ بنی ہاشم کو یہ فضیلت عطاکردی گئی ہے تو وہ تو ہمیشہ کے لیے دوسرے قبیلوں سے آگے بڑھ گئے اور پھر اسی پر بس نہیں ان کے ہاں فضیلت کے اسباب میں سے سب سے بڑا سبب دولت و ثروت ہے۔ لیکن یہ کیا اندھیر مچا کہ ایک ایسے شخص کو نبوت دے دی گئی جو ان کے معاشرے کا ایک غریب ترین شخص تھا جو یتیم پیدا ہوا اور جس نے وراثت میں ایک اونٹنی اور ایک لونڈی کے سوا کچھ نہیں پایا آج وہ سب کے لیے صرف اس لیے محترم ہوتا جارہا ہے کہ اس کے سر پر نبوت کا تاج رکھ دیا گیا ہے۔ یہ دلوں کے وہ زخم ہیں جو نہ اہل کتاب کو چین لینے دیتے تھے نہ مشرکین کو اللہ تعالیٰ جواب میں صرف ایک بات فرماتے ہیں کہ نبوت یقینا اللہ کی رحمت ہے اور یہ رحمت اللہ کی ملکیت ہے وہ جسے چاہتا ہے اس رحمت کا حق دار بنا دیتا ہے اور اس فضیلت کے لیے خاص کردیتا ہے۔ تم آخر اس پر اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہو ؟ تمہارا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ تمہیں نبوت نہیں ملی بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ محمد ﷺ کو کیوں ملی ؟ اللہ بڑے فضل والا ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے مسلمان اس فضل سے نوازے گئے ہیں تو انھیں اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اہل کتاب اور مشرکین کی ذہنیت اور ان کے حسد اور بغض کو بھی سمجھ لینا چاہیے تاکہ وہ اپنے آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرسکیں۔
Ayahs 2:106–107

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

جو ہم منسوخ کرتے ہیں کوئی آیت یا کوئی آیت نظر انداز کردیتے ہیں تو لے آتے ہیں ہم اس سے بہتر یا اس کے مانند کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست ہے نہ مدد گار۔

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَا اَوْمِثْلِھَاط اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَمَالَکُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَانَصِیْرٍ ۔ (جو ہم منسوخ کرتے ہیں کوئی آیت یا کوئی آیت نظر انداز کردیتے ہیں تو لے آتے ہیں ہم اس سے بہتر یا اس کے مانند کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست ہے نہ مدد گار) (البقرۃ : 106 تا 107) یہود کی ایک شرارت کا ذکر اور جواب یہود کی شرارتوں کے بارے میں مسلمانوں کو آگاہ کیا جارہا ہے اور وہ مسلمانوں کو فکری اور عملی اعتبار سے غیر مطمئن کرنے کے لیے جو سوالات اٹھاتے تھے، ان کا جواب بھی دیا جارہا ہے۔ پیش نظر آیات میں ان کی اسی قسم کی ایک شرارت کو ذکر فرمایا جارہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کا جواب دیا جارہا ہے۔ ان کی شرارت یہ تھی کہ دیکھو ! تمہارا پیغمبر اور تم پر اترنے والی کتاب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ اور تورات اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب ہدایت ہے۔ اور ان دونوں باتوں کو تسلیم کرنا تمہارے ایمانیات کا ایک لازمی جزو بھی ہے۔ اس کے باوجود یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ تورات کو کتاب ہدایت تسلیم کرنے کے باوجود اسے منسوخ ٹھہرا کر عمل اور اختیار کے اعتبار سے معطل کردیا گیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی ماننے کے باوجود ان کے اتباع کو ختم کردیا گیا ہے حالانکہ نبی کی سنت بھی موجود ہے اور اس پر اترنے والی کتاب بھی تمہارے سامنے ہے۔ تو ان دونوں کی موجودگی میں ایک نئی نبوت کا دعویٰ اور نئی کتاب کی پیش کردہ شریعت کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت آخر کیا معنی رکھتی ہے۔ اگر پہلے نبی موجود ہیں اور وہ برحق ہیں تو نئے نبی کے آنے سے ایک نئے اختلاف کو پیدا کرنے کی ضرورت کیا ہے ؟ اور پہلی شریعت موجود ہے تو پھر نئی کتاب کی شکل میں ایک نئی شریعت پیش کرنے کا فائدہ کیا ؟ البتہ ! یہ نتیجہ ضرور نکلے گا بلکہ نکل رہا ہے کہ نئی نبوت اور نئی کتاب پر ایمان لانے والے پہلے سے نبوت اور کتاب رکھنے والوں کو کافر کہہ رہے ہیں اور یہ پہلی نبوت اور کتاب کے حامل لوگ نئے نبی پر ایمان لانے والوں کو مرتد ٹھہرا رہے ہیں۔ نتیجتاً ایک ایسی چپقلش اور ایک ایسا تصادم وجود میں آگیا جس سے امن درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس نئے تجربے کو روک دیا جائے اور پہلے سے موجود شریعت پر عمل کیا جائے۔ مزید براں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر اس اصول کو تسلیم کرلیا جائے کہ پروردگار نے اپنے آخری نبی اور اپنی آخری کتاب بھیج کر پہلی نبوت اور شریعتوں کو منسوخ کردیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کو طویل انسانی تجربے کے بعد یہ احساس ہوا ہے کہ میں نے پہلے جو شریعت بھیجی تھی اس میں مجھے حالات کا اندازہ کرنے میں غلطی ہوئی۔ لیکن اب حالات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر انسانی زندگی کی بقا اور اس کی بہتری منظور ہے تو اب ایک نئی شریعت آنی چاہیے تاکہ انسان آج کے حالات کے تناظر میں اپنی زندگی کی ضروریات کو پورا کرسکے۔ غور کیجئے ! یہ کتنا سنگین الزام ہے جو نسخ کی صورت میں منطقی انداز میں لازم آتا ہے اور یقینا جب یہ باتیں مسلمانوں سے سرگوشی کے انداز میں کہی جارہی ہوں گی اور دبے دبے طریقے سے انھیں مسلمانوں میں پھیلا یا جاتا ہوگا، تو اس سے کس قدر برے اثرات پیدا ہوتے ہوں گے۔ قرآن کریم نے اس کا جواب دیتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی ہے کہ یہود اس بات کو ایک خطرناک نتیجے کے طور پر پیش کررہے ہیں حالانکہ وہ اس کائنات کی ایک ایسی حقیقت ہے جو تمہیں اپنے گردو پیش میں دکھائی دیتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صبح ہوتی ہے تو شام آکر اسے منسوخ کردیتی ہے۔ پھر صبح ہوتی ہے تو شام پر خط نسخ پھرجاتا ہے اور انسانی زندگی کا حسن صبح وشام کے اسی انقلاب اور اسی نسخ میں ہے۔ اسی طرح ہم موسموں کے تغیرات کو دیکھتے ہیں کبھی بہار آتی ہے اور کبھی خزاں، کبھی گرمی اور کبھی سردی اور کبھی چلچلاتی دھوپ اور کبھی گھنگھور گھٹائیں یہ وہ حقائق ہیں جن کا شب وروز ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور انھیں سے انسانی زندگی میں نہ صرف ایک حسن ہے بلکہ اس کی ضرورتوں کی بجاآوری اور اس میں آرام و راحت کے حصول کے لیے بھی ان چیزوں کا وجود لازمی ہے۔ نسخ کا مفہوم نسخ کے اصل معنی ” ہٹانے اور مٹانے “ کے ہیں۔ اور اصطلاح میں ” ایک حکم کو دوسرے حکم سے بدل دینا “ ہے۔ چاہے یہ تبدیلی نئے حکم کی شکل میں ہو یا پہلے حکم کو ختم کردینے کی شکل میں ہو۔ یہ نسخ پہلی شریعتوں اور قوموں میں بھی ہوا اور موجودہ شریعت میں بھی ہوا۔ پہلی قوموں اور شریعتوں میں تبدیلی یانسخ کے حوالے سے چند باتیں ذہن نشین رہنی چاہییں۔ نسخ ارتقاء کا لازمی نتیجہ ہے 1 ہر پڑھا لکھا آدمی جانتا ہے کہ انسانی زندگی اس کے احساسات اور انفعالات، اس کا ذہنی افق، اس کے خیالات کی وسعت، اس کے رحمی اور قرابتی رشتے اور فرد سے قبیلے تک اور قبیلے سے قوم تک کا تصوریہ سب کچھ ایک ارتقا کی شکل میں وجود میں آیا ہے۔ انسانی زندگی مسلسل ارتقا کے نتیجے میں ترقی کرتی رہی ہے اس کی بنیادی ضرورتیں تو ہمیشہ ایک جیسی رہی ہیں لیکن اس کے مسائل ووسائل، اس کے جبلی احساسات، اس کی فکری توانائیاں، اس کے تہذیبی اور تمدنی مدارج وقت اور تجربے کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر رہے ہیں۔ اس ارتقا کے سفر کو دیکھتے ہوئے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انسان کو زندگی گزارنے کے لیے پہلے دنوں کا دیا ہوا دستور، آئین اور دستورالعمل اگلے مراحل میں کام نہیں دے سکتا تھا اس میں بھی ارتقا کی ضروت تھی اور وہ ارتقا اسی صورت میں ممکن تھا کہ ضرورت کے اختتام پر پہلی ہدایت اور رہنمائی منسوخ کی جاتی اور نئی ضروریات کے مطابق نئی رہنمائی مہیا کی جاتی۔ اسی کا نام نسخ ہے اور یہ نسخ انسانی ارتقا کے ساتھ ساتھ تبدیلی سے ہمکنار ہوتا رہا ہے۔ البتہ ایک بات یاد رہے، نسخ کا تعلق تمام تر احکام و قوانین سے ہے، عقائد و ایمانیات یا اخلاق وصفات یا واقعات و حقائق سے اس کا کوئی تعلق نہیں عقائد اور ایمانیات ایسی چیزیں نہیں جن میں مختلف حالات میں تبدیلی پیدا کی جائے یہ ہمیشہ ایک جیسے رہے ہیں۔ اسی طرح واقعات و حقائق بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کبھی نہیں بدلا کرتے۔ البتہ احکام و قوانین میں حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ تبدیلی کا عمل ناگزیر ہوتا ہے۔ البتہ یہ تبدیلی خود قانون دینے والے کی طرف سے ہونی چاہیے کسی اور کی طرف سے نہیں۔ انسان کے ارتقائی سفر میں ہر دور کے حالات کے مطابق شریعت نازل ہوتی رہی ہے اور نئی ضرورتیں پیدا ہونے کے وقت نئی شریعت سے سابقہ شریعت کے بعض احکام منسوخ بھی ہوتے رہے ہیں۔ لیکن جب انسان اپنی زندگی میں بلوغ کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کے احساسات اور انفعالات پختہ ہوگئے تو نبی آخرالزماں تشریف لائے اور انھیں آخری شریعت دے کر پہلی شریعتوں کے وہ احکام منسوخ کردیئے گئے جو آئندہ زندگی میں چلنے کے قابل نہ تھے۔ جس سے انسانی سفر کو نقصان پہنچ سکتا تھا اور آخری نبی کی زبان سے تکمیلِ دین کا مژدہ سنا کر یہ خبر دے دی کہ اللہ کا قانون مکمل ہوگیا ہے یہ قیامت تک کے انسانوں کی ضرورتیں پوری کرے گا اس میں کسی قسم کے نسخ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ نسخ کے ذریعے پہلی شریعتوں کی تسہیل ‘ تجدید اور تکمیل ہوئی 2 یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ سابقہ آسمانی کتابیں ترمیم اور تحریف کا شکا رہوئیں۔ بعض احکام نکال دئیے گئے یا اپنی خواہشات کے مطابق انھیں تبدیل کردیا گیا۔ بعض بدعات کو شریعت کا حصہ بنادیا گیا، حلت و حرمت میں تبدیلیاں کی گئیں۔ انبیائے کرام کی عصمت کے بنیادی تصور کو بدلا گیا۔ اللہ کے نبیوں کی طرف ایسے ایسے افعال منسوب کیے گئے جو کسی شریف آدمی کی طرف بھی منسوب نہیں کیے جاسکتے۔ اللہ کی صفات میں کبھی تشبیہ کو داخل کیا گیا کبھی تعطیل کو۔ قرآن کریم نے ان تمام چیزوں کی اصلاح کی اور اسے نسخ کا نام دیا۔ قرآن کریم میں ارشاد ِ باری ہے : فَیَنْسَخَ اللّٰہُ مَایُلقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہ (شیطان جو کچھ داخل کردیتا ہے اللہ اسے مٹاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے ) اس نسخ کے ذریعے پہلی شریعتوں کی تسہیل کی گئی اور کہیں نئے احکام دے کر تجدید کی گئی اور کہیں وہ احکام جسے اہل کتاب نے بالکل بھلادیا تھا یا تو ان کی تجدید کی گئی اور یا انھیں نظر انداز کرکے ان کی جگہ نئے احکام دئیے گئے اور اس طرح شریعت کو محکم اور مکمل فرمایا گیا۔ یہ تو وہ نسخ ہے جس کا تعلق ادیانِ سابقہ سے ہے اور یہاں بطور خاص اسی کا ذکر کیا جارہا ہے۔ البتہ دوسرا نسخ وہ ہے جو اسلامی شریعت میں ہوا ہے۔ اس میں مسلمانوں میں مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔ اسلامی شریعت میں نسخ کے حوالے سے معتزلہ کا مؤقف ایک نقطہ نگاہ معتزلہ کا ہے جو ابو مسلم اصفہانی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اسلامی شریعت اور قرآن کریم میں نسخ ممکن تو ہے لیکن یہ عملی طور پر ہوا نہیں، قرآن کریم کی تمام آیات محکم ہیں۔ اس لیے کسی آیت کو منسوخ نہیں کہا جاسکتا اور جو آیتیں منسوخ معلوم ہوتی ہیں کیونکہ اسلامی شریعت میں عمل اس سے مختلف احکام پر ہورہا ہے۔ تو وہ بھی درحققیت منسوخ نہیں ان آیات کی حقیقت یہ ہے کہ ان میں بیان کردہ حکم خاص حالات کے لیے تھا جب حالات بدل گئے تو نیا حکم آگیا، لیکن پہلے حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا وہ اپنی جگہ باقی ہے۔ اگر کبھی مسلمان معاشرے میں پھر وہی حالات پیدا ہوجائیں تو پھر ان احکام پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ نقطہ نگاہ نہ صرف کہ غلط ہے بلکہ نہایت خطرناک بھی ہے۔ آج اگر کسی حکومت کے ہاتھ میں یہ اختیار دے دیا جائے تو وہ پوری شریعت کو موم کی ناک بنا کر رکھ دے گی۔ احکام پر عمل کرنا تو ہمیشہ ہی خواہشِ نفس کے لیے گراں ہوتا ہے یہ اسی گرانی کو بہانہ بنا کر بیشتر احکام کو معطل کرکے رکھ دے گی اور یہ کہے گی کہ جب حالات حسب حال ہوں گے تو تب ان احکام پر عمل کیا جائے گا۔ ناموافق حالات میں ہمیں اس صورتحال پر عمل کرنا چاہیے جو احکام کے نزول سے پہلے تھی۔ اس کا نتیجہ وہی ہوگا جس طرح ایک شخص نے اہل حق کے نام سے مضامین لکھے تھے تو اس نے نمازوں کی تعداد کو کم کرتے ہوئے یہ دلیل دی تھی کہ نماز کی ادائیگی کے لیے خشوع و خضوع لازمی ہے اس کے بغیر نماز ادانھیں ہوتی۔ ظہر کا وقت چونکہ انتہائی کاروباری مصروفیت کا وقت ہے ایسے مصروف وقت میں نما زادا کرنا خشوع و خضوع کے ساتھ تو کسی طرح ممکن نہیں کیونکہ آدمی ہزار کوشش کرے اس کی تمام تر توجہ اپنی مصروفیت کی طرف ہوگی۔ اس لیے ظہر کی نماز کے فرض ہونے کا تو کوئی سوال پید انھیں ہوتا اور جہاں تک عصر کی نماز کا تعلق ہے اس میں آدمی تھکا ماندہ گھر کو لوٹتا ہے اور پھر یہی وقت حصول تفریح کے لیے کلب جانے کا ہوتا ہے۔ اس طرح کی مصروفیات میں بھی خشوع خضوع کا حصول ناممکن ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عصر کی نماز کے فرض ہونے کی بھی کوئی عقلی وجہ نہیں ہوسکتی۔ باقی تین نمازیں رہ جاتی ہیں یہی تینوں خشوع خضوع کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں۔ اس سے انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ نمازیں درحقیقت تین ہیں پانچ نہیں۔ قرآن کریم سے بھی یہی ثابت ہوتی ہیں لوگوں نے نہ جانے پانچ نمازیں کہاں سے نکال لیں۔ اندازہ فرمائیے ! اس طرح کے دلائل سے کون سا حکم ترمیم کا شکار نہیں کیا جاسکتا۔ درحقیقت اس طرح کے لوگوں کے دماغ میں یہ تصور بیٹھا ہوا ہے کہ نسخ شائد کوئی عیب ہے جو قرآن کریم میں نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اللہ کی کتاب ہر طرح کے عیب سے پاک ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح دنیا کے قانون ساز ایک قانون بناتے ہیں بعد میں جب انھیں غلطی کا احساس ہوتا ہے تو بعضاحکام کو ختم کرتے ہیں بعض کا اضافہ کرتے ہیں یا حالات کے بدلنے کے باعث محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب قوانین میں تبدیلی ہونا چاہیے کیونکہ قانون بنانے والے نہیں جانتے تھے کہ آئندہ چل کر حالات بدل جائین گے اور قانون کے عمل درآمد میں دشواریاں ہوں گی۔ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ قرآن کریم میں بھی نسخ ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور آنے والے دنوں میں حالات کیا صورت حال اختیار کریں گے، پروردگار کو اس بارے میں کوئی خبر نہیں ہوتی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ احکام انسانی زندگی کی تربیت اور انسانی زندگی کی آسانی کے لیے ہیں اور یہ تقریباً ایسے ہی ہے جیسے ایک حاذق حکیم اپنے مریض کے لیے نسخہ لکھتا ہے۔ پہلے وہ چند دنوں تک ایک دوا استعمال کرواتا ہے اور پھر چند دنوں کے بعد پہلی دوا کو ختم کرکے دوسرا نسخہ تجویز کرتا ہے۔ لیکن یہ نیا نسخہ تجویز کرنا اس لیے نہیں کہ پہلا غلط تھا بلکہ اس لیے ہے کہ پہلے نسخے سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا گیا اس نسخے کی افادیت اتمام کو پہنچ گئی، اب باقی مرض کے علاج کے لیے نیا نسخہ درکا رہے اور حکیم کو پہلے سے معلوم تھا کہ چند دنوں کے بعد مریض کے لیے نیا نسخہ لکھنا ہوگا۔ چناچہ جب وہ وقت آتا ہے تو وہ مریض کے لیے نیا نسخہ تجویز کرتا ہے۔ پروردگار نے بھی قرآن کریم میں بعض عبوری احکام دیئے اور جب وقت آگیا کہ اب ایک مستقل قانون دیا جائے تو عبوری احکام کو منسوخ کردیا گیا اور مستقل قانون عطا کردیا گیا کیونکہ جب عبوری احکام دیئے جارہے تھے تو اس وقت مسلمان معاشرے کی حالت ایسی نہ تھی کہ اس کو ایک مستقل قانون دیا جاتا۔ مثلاً وراثت کے احکام سے پہلے وصیت کا حکم دیا گیا اور اس میں یہ حق دیا گیا کہ وصیت لکھنے والا اپنی مرضی سے قرابت داروں کے حصے کا تعین کرے۔ لیکن بعد میں قانونِ وراثت نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ اسی طرح یہ حکم دیا گیا کہ اگر مسلمان عورت پر چار گواہوں کی گواہی سے بدکاری کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے گھر میں بند کردو اور موت آنے تک اسے گھر سے باہر نہ نکلنے دو ۔ لیکن جب حد زنا کا قانون آگیا تو اس نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ جب پہلا حکم نازل کیا گیا تھا تو اس وقت مسلمان معاشرے کے حالات ایسے نہ تھے کہ وہ مستقل قانون کا بوجھ اٹھاسکتا، اس وقت تک مسلمان اور غیر مسلم ملے جلے رہتے تھے اور یہود کا بھی آزادانہ آنا جانا تھا۔ ایسی صورت میں منکرات سے پرہیز کرنے کے لیے وہ مضبوط تربیت فراہم نہ کی جاسکتی تھی، جس سے معاشرے میں پاکیزگی پیدا ہوتی اور دوسری یہ بات کہ اگر گناہ کا فریق ثانی کوئی غیر مسلم ہوتا تو ابھی مسلمانوں کی حکومت اتنی مستحکم نہ ہوئی تھی کہ اسے بھی سزا دے سکتی۔ اس لیے ضروری تھا کہ جب تک اسلامی حکومت مستحکم نہ ہوجائے اور مسلمان معاشرہ غیر مسلموں کی آلودگی سے پاک نہ ہوجائے اس وقت تک مستقل قانون نہ دیا جائے۔ قرونِ اولیٰ میں نسخ کا مفہوم دوسرا نقطہ نگاہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا ہے۔ ان کے نزدیک نسخ کا ایک وسیع مفہوم ہے وہ ہر طرح کی تبدیلی کو نسخ قرار دیتے تھے۔ مثلاً پہلے اگر کوئی حکم عام ہے بعد میں کوئی آیت اتری جس نے اس میں خصوصیت پید اکردی یا پہلے ایک حکم مجمل نازل ہوا اس کے بعد اس کی تفصیل نازل ہوگئی یا کہیں کسی مطلق کو مقید کردیا گیا یا کہیں استثنا پیدا کردیا گیا۔ تو سلف صالحین اس طرح کی تبدیلیوں کو بھی نسخ قرار دے دیتے تھے حالانکہ ایسے مواقع پر عام اور خاص، مجمل اور مفصل، مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ اور مطلق اور مقید میں توفیق پید ا کی جاسکتی تھی۔ لیکن متقدمین ایسی کوئی سی کوشش کے بھی روادار نہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ متقدمین کے نزدیک منسوخ آیات کی تعداد پانچ سو تک پہنچ گئی۔ متأخرین کا نقطہ نگاہ تیسرا نقط نگاہ متاخرین کا ہے۔ ان کے نزدیک نسخ صرف اس تبدیلی کا نام ہے جس کی پہلے حکم کے ساتھ کسی طرح تطبیق نہ ہوسکے۔ چناچہ متاخرین نے جب اس طرح کی کوشش کی تو منسوخ آیات کی تعداد بہت کم ہوگئی۔ متاخرین میں علامہ سیوطی ( رح) نے صرف بیس آیتوں کو منسوخ قرار دیا۔ ان کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ ( رح) نے ان میں بھی تطبیق کی صورت پیدا کرکے صرف پانچ آیتوں کو منسوخ فرمایا ہے۔ جن میں کوئی تطبیق بغیر توجیہ بعید کے ممکن نہیں۔ یہی نقطہ نگاہ، جمہور کا نقطہ نگاہ ہے اور یہی صحیح بھی ہے۔ اب رہی یہ بات وہ منسوخ آیات کون سی ہیں۔ تو یہ بحث اصول فقہ سے تعلق رکھتی ہے، ہماری مختصر گفتگو میں اس کے لیے گنجائش مشکل ہے۔ آیت کے آخر میں یہود اور مسلمانوں دونوں سے خطاب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ تم ذرا اس بات پر غور کرو کہ کیا اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو شریعت سے نوازتا ہے تو کیا کتاب شریعت اتارنے کے بعد اپنی قدرت اور اپنے اختیار سے محروم ہوجاتا ہے کہ اسے ایک دفعہ تو اختیار تھا کہ جیسے چاہے احکام نازل کردے لیکن اب ان میں کمی بیشی کرنا اس کے اختیارات سے باہر ہے۔ اسے اس بات کا ہرگز اختیار نہیں کہ اگر وہ قوم جسے اس نے شریعت دی تھی اس نے بیشک کئی احکام میں ترمیم کر ڈالی ہو، کئی پر تحریف کا آرہ چلایاہو اور بعض احکام سرے سے غائب کردیئے ہوں اور مرور زمانہ سے انسانی تربیت کے حوالے سے نئی ضرورتیں پیدا ہوچکی ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو ہرگز اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ نئے شرعی احکام نازل کرے یا پہلے احکام جنھیں لوگ نظر انداز کرچکے یا مٹاچکے ہوں ان کی تجدید کرے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو پھر تو یقینا نسخ غلط ہے لیکن اگر تم اللہ کو ہر چیز پر قادر جانتے ہو اور اس کی قدرتوں پر تمہیں کامل یقین ہے تو پھر نسخ کے انکار کی کوئی وجہ معقول معلوم نہیں ہوتی۔ نسخ یقینا اللہ کی قدرت سے انکار کے مترادف ہے اور اللہ کی قدرت سے انکار صریحاً کفر ہے، جو کسی ایسے فرد یا قوم سے متوقع نہیں ہوسکتا جو اپنے آپ کو اہل کتاب کہے۔ نسخ پر اعتراض کی اصل وجہ دوسری آیت کریمہ میں یہود کی ذہنیت کو کھول کر رکھ دیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ یہود اصل میں نسخ پر جو شور مچا رہے ہیں یہ تو محض ایک پردہ ہے اصل میں ان کاروگ اور ہے۔ وہ درحقیقت آخری رسول کے آنے، آخری کتاب کے اترنے اور ایک نئی امت کے برپا ہونے سے یہ بات سمجھ گئے ہیں کہ اب صرف تورات کے بعض احکام منسوخ نہیں ہوں گے مسئلہ صرف نسخ احکام کا نہیں بلکہ ہمیں منصب امامت سے معزول کیا جارہا ہے۔ اور ہماری جگہ ایک دوسری امت کا نصب اور تقرر ہورہا ہے۔ ہم صدیوں تک جس عزت اور عظمت سے نوازے گئے ہیں وہ تاج ہمارے سروں سے اتارا جارہا ہے اور جن لوگوں کو اُمیّ کہہ کر ہم تذلیل کرتے رہے ہیں یہ تاج ان کے سروں پر سجایا جارہا ہے۔ پروردگار ان کے اس پوشیدہ روگ کو افشا فرما رہے ہیں اور ہر قرآن کے پڑھنے والے اور ہر اس شخص سے جو اس دعوت کا مخاطب ہے سوال کررہے ہیں کہ تم بتائو کیا اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے تاجدار نہیں ؟ کیا اس کے سوا آسمانوں او زمینوں کا کوئی اور حاکم اعلیٰ بھی ہے ؟ اگر واقعی اس کی حاکمیت اور تاجوری میں کوئی شریک اور ہمسر نہیں تو پھر وہ اگر احکام اور قوموں کا نسخ کر رہا ہے اور یہود کو معزول کرکے امت محمدیہ کو اس پر فائز کررہا ہے تو یہود کو اس پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے ؟ یہود کو یہ بات یا درکھنی چاہیے کہ یہ تبدیلی آکر رہے گی اور وہ وقت دور نہیں جب تمہیں اپنے لیے کوئی حمایتی اور کوئی مددگار میسر نہیں آئے گا۔ عرب کی سرزمین تمہارے لیے تنگ ہوجائے گی تم نے جس طرح اللہ کے دین کو اپنی زندگیوں سے نکالا اسی طرح تمہیں بھی تمہارے گھروں اور تمہارے وطن سے نکلنا پڑے گا۔
Ayahs 2:108–109

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اس طرح کے سوال کرو جس طرح کے سوال اس سے پہلے موسیٰ سے کیے گئے اور جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل دیں گے وہ شاہراہ سے بھٹک گئے

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

بہت سے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہارے ایمان کے بعد پھر تمہیں کفر کی حالت میں پلٹادیں محض اپنے حسد کی وجہ سے، حق کے اچھی طرح واضح ہوجانے کے باوجود تو درگزر کرو اور نظر انداز کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمائے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْارَسُوْلَکُمْ کَمَا سُئِلَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُط وَمَنْ یَّتَبَدَّلِ الْکُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلَ ۔ وَدَّکَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِنْم بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًاج حَسَدًامِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّج فَاعْفُوْاوَاصْفَحُوْاحَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (البقرۃ : 108 تا 109) (کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اس طرح کے سوال کرو جس طرح کے سوال اس سے پہلے موسیٰ سے کیے گئے اور جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل دیں گے وہ شاہراہ سے بھٹک گئے۔ بہت سے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہارے ایمان کے بعد پھر تمہیں کفر کی حالت میں پلٹادیں محض اپنے حسد کی وجہ سے، حق کے اچھی طرح واضح ہوجانے کے باوجود تو درگزر کرو اور نظر انداز کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمائے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے) دلوں اور دماغوں کے مسموم کرنے کے لیے یہود کی مزید شرارتیں اور مسلمانوں کو تنبیہ پیشِ نظر آیات کریمہ میں بھی یہودیوں کی سازشوں اور شرارتوں کی طرف اشارہ فرما کر کمزور مسلمانوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم یہود کے طرز عمل کو سمجھنے میں کوتاہی کررہے ہو۔ وہ تمہارے سامنے آکر ایمان وعمل کے حوالے سے ایسی باتیں کررہے ہیں اور ایسے سوالات سجھاتے ہیں جسے تم ان کی خیر خواہی پر معمول کرتے ہو۔ تم یہ حسن ظن رکھتے ہو کہ وہ تمہارے ایمان اور دین کے بارے میں بڑے فکر مند ہیں اس لیے تمہیں وہ آکر سمجھاتے ہیں کہ تم اپنے پیغمبر سے یہ سوال کرو وہ سوال کرو اور فلاں فلاں بات کی وضاحت چاہو، تمہیں خوش فہمی یہ ہے کہ ان سوالات کے ذریعے یہود تمہارے ایمان میں پختگی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور تمہارے علم میں اضافے کے خواہش مند ہیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ سوال ہمیشہ مفید نہیں ہوتا۔ اگر تو یہ علمی تحقیق اور ایمان کی سیرابی کے لیے ہو تو یقینا مفید ہے، لیکن اگر سوالات کے ذریعے شک وارتیاب کی فضا پیدا کرنا اور طبیعت کو یکسو نہ ہونے دینا مقصود ہو اور یہی یہود کا مقصود بھی ہے تو اس سے بڑھ کر خطرناک بات کوئی اور نہیں ہوتی اور پھر مسلمانوں کو یہود کی تاریخ کی طرف توجہ دلائی کہ یہود کی ایمانی اور عملی حالت تمہارے سامنے ہے یہ لوگ اس حال کو اچانک نہیں پہنچے بلکہ تم اگر انھیں تاریخ کے تناظر میں دیکھو تو محسوس کرو گے کہ یہ بجائے ایمان کی پختگی کے ایمان میں ہمیشہ اضمحلال کا شکا ررہے ہیں اور کامل اطاعت کارویہ اختیار کرنے کی بجائے انھوں نے سوالات کے ذریعے ہمیشہ چور دروازے نکالے ہیں جس کے نتیجے میں نہ ان کے اندر ایمان کی قوت پید اہوئی اور نہ پیغمبر کی سنت سے وابستگی نصیب ہوئی اور بالآخر تباہی کا شکار ہوگئے۔ باربار ان کا ایمان کفر سے ہم آغوش ہوتا رہا، وہ تمہارے لیے بھی یہی چاہتے ہیں کہ بجائے اللہ اور رسول پر پختہ یقین پیدا ہونے کے تمہیں سوالات کی دلدل میں غرق کیا جائے۔ انسانی فطرت یہ ہے کہ جب اس میں یقین کی روشنی پیدا ہوتی ہے تو اس کے لیے اطاعت کی راہیں روشن ہوجاتی ہیں اسے شریعت کی ہر بات آسان اور روشن معلوم ہوتی ہے۔ اس کی ساری کوشش ہر حکم پر عمل کرنا ہوتی ہے لیکن جب اس میں یقین پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر بات کو شک کے ترازو میں تولتا ہے تو پھر وہ اپنی اس کمزوری کے علاج کی بجائے سوالات کے ذریعے اس کمزوری کے لیے راستہ نکالتا ہے تاکہ اس کی بےیقینی پر پردہ پڑا رہے اور عمل کی مشقت اور صعوبت سے جان بچی رہے۔ بات بات پر سوال کرنا کسی تحقیق یا اطمینان کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ بےعملی کے لیے کوئی راستہ نکلے اور شخصیت کا بھرم بھی قائم رہے۔ اس کا خطرناک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عمل کی قوتیں آہستہ آہستہ مفلوج ہوجاتی ہیں، ترجیحات بدل جاتی ہیں اور آدمی ہر وہ کام کرتا ہے جس سے ضمیر جاگنے کی بجائے سویا رہے۔ یہود اسی لعنت میں گرفتار تھے اور مسلمانوں کو بھی وہ اسی مرض میں مبتلا کرنا چاہتے تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ پرانے مسلمانوں کو یہ بیماری لگادی جائے اور نئے مسلمانوں کو یکسو نہ ہونے دیا جائے۔ اس لیے یہاں صاف صاف فرمایا کہ کیا تم بھی یہ چاہتے ہو کہ اسی طرح کے سوالات کرو جس طرح کے سوالات موسیٰ (علیہ السلام) سے کیے گئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے جو سوالات کیے تھے ان میں بنیادی طور پر موسیٰ (علیہ السلام) پر بےاطمینانی کا اظہار ہوتا۔ کبھی وہ یہ کہتے کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تورات واقعی اللہ کا کلام ہے اور اس نے اسے آپ پر اتارا ہے اور کبھی اصرار کرتے کہ جب تک ہم اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں اس وقت تک ہم آپ پر ایمان نہیں لاسکتے۔ مسلمانوں کو بھی وہ اسی طرح کی باتیں سجھاتے تھے کہ تورات موسیٰ (علیہ السلام) پر یکبارگی نازل ہوئی تھی تم اپنے پیغمبر سے پوچھو قرآن ان پر ایک ہی دفعہ نازل کیوں نہیں ہوا ؟ اور جس طرح تورات تختیوں پر کندہ کرکے دی گئی تھی اسی طرح قرآن لکھ کر نازل کیوں نہیں کیا گیا ؟ مسلمانوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ دین کی اصل روح سمع و اطاعت، یقین، اللہ کی خشیت اور تقویٰ ہے اور اس طرح کے سوالات ان میں سے کسی چیز کو باقی نہیں رہنے دیتے۔ اس لیے یہ یاد رکھو یہ سوالات ایمان کو کفر سے بدلنے کی ایک کوشش ہے تو کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ نے تمہیں جو ایمان کی دولت بخشی ہے اسے کفر میں تبدیل کردو ؟ اگر ایسا ہوا تو یوں سمجھو کہ سواء السبیل تم نے ہاتھوں سے کھو دی اور تم صراط مستقیم سے محروم ہوگئے۔ آنحضرت ﷺ کی نگاہ میں یہ بات اس قدر اہم ہے کہ آپ نے ایک موقعہ پر تاکید کے انداز میں ارشاد فرمایا : اِنَّمَا اَھْلَکَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ کَثُرَتْ مَسَائِلِھِم وَاِخْتَلَافِھِم عَلٰی اَنبِیَائِھِم (تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کردیا ہے سوالات کی کثرت نے اور اپنے نبیوں سے اختلاف نے) ‘ سوالات کی کثرت جیسا کہ پہلے عرض کیا قوت عمل کو مفلوج کردیتی ہے اور یقین اور یمان سے محروم کردیتی ہے۔ اور نبیوں سے اختلاف نہ صرف عملی آمادگی پیدا ہونے نہیں دیتا بلکہ صالح تہذیب و تمدن کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ جس آدمی کو اللہ تعالیٰ ایمان وعمل کی یکسوئی نصیب کرتا ہے وہ کبھی سوالات کے بکھیڑے میں نہیں پڑتا۔ وہ صرف یہ جاننے کی خواہش رکھتا ہے کہ اللہ اور رسول کے احکام کیا ہیں ؟ اس کے بعد اس کی ساری توجہ اطاعت اور عمل پر ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک غیرمسلم مسلمان ہوئے تو انھیں اسلام کی تعلیم دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ چیز فرض ہے یہ واجب ہے، یہ سنت ہے، یہ مستحب ہے تاکہ انھیں احکام میں ترتیب کا اندازہ ہوجائے تو انھوں نے اپنے استاد کو روک کر کہا کہ آپ یہ فرمائیے کہ ان سب باتوں پر عمل کرنا ہے انھوں نے کہا ہاں ! تو وہ صاحب کہنے لگے کہ بس میرے لیے یہ بات کافی ہے۔ مجھے اس کی تفصیل جاننے کی ضرورت نہیں۔ جب یہ سب باتیں کرنے کی ہیں تو میں سب پر عمل کروں گا پھر جب ان کو بتایا گیا کہ یہ نواہی ہیں یعنی ان سے رکنا ہے۔ ساتھ ہی تفصیل بھی بتائی گئی کہ یہ حرام ہے، یہ مکروہ ہے وغیرہ تو انھوں نے پھر وہی بات کہی کہ اس کا مطلب ہے کہ مجھے ان سب سے بچنا ہے تو بس میں ان سب سے پرہیز کروں گا۔ مجھے تفصیل کی کوئی ضرورت نہیں درحقیقت یہ وہ روح ہے جو اسلام اپنے ماننے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے اور بےجا سوالات کی عادت یہ وہ چیز ہے جو اس روح کی قاتل ہے۔ یہود کی شرارتوں پر برہمی کی بجائے عفو و صفح کی ہدایت اگلی آیت کریمہ میں یہود کی ذہنیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہود میں سے بیشتر لوگ ایسے ہیں جن کی خواہش یہ ہے کہ وہ کسی طرح تمہیں دوبارہ کافر بنادیں اور اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ بہروپ بدل بدل کر تمہارے پاس آتے ہیں اور تم اپنی سادگی سے انھیں اپنا ہمدرد سمجھتے ہو تمہیں نہیں معلوم کہ ان کے دلوں میں تمہارے خلاف حسد کی آگ جل رہی ہے یہی وہ آگ ہے جس نے ان کے دلوں کی صلاحیت کو جلا کر رکھ دیا ہے۔ اب وہ اسلام کی کسی بات کو صحیح تناظر میں سننے اور قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔ انھیں اپنا کفر اس حد تک عزیز ہے کہ وہ تمہیں بھی کافر بنانے کے لیے رات دن کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اس لیے تم ان کا اصل چہرہ پہچاننے کی کوشش کرو۔ اس طرح سے قرآن کریم نے ان کے چہروں سے نقاب نوچ کر پھینک دیئے اور مسلمانوں کے سامنے ان کا اصل چہرہ ننگا کردیا۔ لیکن اس سے یہ اندیشہ پیدا ہوگیا کہ مسلمان برہمی میں کہیں ان سے الجھ نہ پڑیں، جب کہ حالات ابھی اس کی اجازت نہیں دے رہے تھے کیونکہ ایک ساتھ مختلف محاذ کھول دینا قرین مصلحت نہیں ہوتا۔ اس لیے جذبات پر قابو پانے کے لیے حکم دیا فَاعْفُوْاوَاصْفَحُوْاحَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہ۔ عفو کا معنی ” دل سے معاف کردینا “ بھی ہوتا ہے اور ” نظرانداز کردینا “ بھی۔ یہاں دوسرا معنی مراد ہے۔ قرآن کریم نے دونوں معنوں میں اس لفظ کو استعمال کیا ہے اور صفح کا معنی ” چشم پوشی کرنا “ بھی ہے اور ” نظرانداز کرنا “ بھی۔ یہاں معلوم ہوتا ہے چشم پوشی کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور نظر انداز کرنا بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ عرب شاعر بھی اسی معنی میں اس کو استعمال کرتے تھے۔ مثلاً ایک حماسی شاعر کا شعر ہے صفحنا عن بنی ذہلٍ و قلنا القوم اخوانٌ ہم نے بنی ذہل سے چشم پوشی کی اور ہم نے کہا یہ لوگ اپنے ہی بھائی ہیں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہود جو کچھ کررہے ہیں وہ تم دیکھ رہے ہو اور جو ان کے دلی ارادے ہیں ان کو ہم نے واضح کردیا ہے۔ لیکن ابھی ان سے تعرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابھی ان کے کرتوتوں کو نظر انداز کرو اور چشم پوشی سے کام لو۔ وہ بظاہر تم سے خیر خواہی کا اظہار کریں تو تم ان کا شکریہ ادا کردو۔ لیکن دل میں اس بات کا یقین رکھو کہ یہ لوگ ہمارے دشمن ہیں۔ وہ وقت دور نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں تمہیں مزید ہدایات اور احکامات دے جس سے ان کے فتنے کا علاج ہوسکے۔ جس وقت یہ آیت اتری ہے اس وقت اس بات کا سان گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہود کی تباہی کے دن قریب آرہے ہیں لیکن آیت کے اس ٹکڑے نے آنے والے دنوں کی خبر دے دی کہ عنقریب اسلام ترقی کرے گا اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اتنی طاقت دے گا کہ پھر اللہ کے حکم سے کسی قبیلے کو مدینے سے نکالیں گے، کسی پر جزیہ عائد کریں گے اور کسی قبیلے کو ان کے جرائم کی پاداش میں تہ تیغ کردیا جائے گا۔ چناچہ بنو قینقاع اور بنو نضیر کو مدینہ سے نکال دیا گیا پھر ان پر جزیہ عائد کردیا گیا اور بنو قریظہ کو جنگ خندق کے دوران شدید قسم کی عہد شکنی کے جرم میں تورات کے فیصلے کے مطابق تہ تیغ کردیا گیا۔ جب یہ آیت کریمہ نازل ہورہی تھی تو حالات کی اس کروٹ کا کسی کو تصور بھی نہیں ہوسکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حالات کچھ بھی ہوں اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ بےکسوں کو طاقت ور بنا دیتا ہے اور طاقت ور شرپسندوں کو ہلاکت کے گھاٹ اتاردیتا ہے۔
Ayah 2:110

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور جو نیکی بھی تم اپنے لیے کروگے اسے اللہ کے پاس پائو گے جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

وَاَقِیْمُوْالصَّلٰوۃَ وَاٰتُوْاالزَّکٰوۃَ ط وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَ نْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍتَجِدُوْہُ عِنْدَاللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْلَمُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور جو نیکی بھی تم اپنے لیے کروگے اسے اللہ کے پاس پائو گے جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے) (البقرۃ : 110) معرکہ سر پر ہے ‘ تیاری کرو مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ یہود کے تمام تر برے ارادوں کے باوجود تمہیں ابھی ان کو برداشت کرنا ہے۔ ان سے معرکہ جلد ہونے والا ہے۔ اسلیے ضروری ہے کہ تم اس کے لیے تیاری کرو۔ تیاری دو طرح کی ہوگی، ایک تیاری تو یہ ہے کہ تم اپنا تعلق اللہ سے مضبوط کرو۔ تمہارا تعلق جتنا اللہ سے مضبوط ہوتاجائے گا تمہاری شخصیت اتنی مضبوط ہوتی جائے گی۔ تمہارے اندر یقین کی قوت ایک طرف تو تمہیں ہر طرح کے خوف سے بےنیاز کردے گی اور دوسری طرف مخالفین کی وسوسہ اندازیاں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی۔ تم روحانی اور اخلاقی لحاظ سے روزبروز بہتر ہوتے چلے جاؤ گے۔ اللہ سے مضبوط تعلق کے باعث تمہارے دل و دماغ میں ہر وقت اللہ کی ذات وصفات کا تصور مستحضر رہے گا۔ جس کی وجہ سے کسی قوت کے سامنے جھکنا کسی گناہ کی طرف ہاتھ بڑھانا کسی پر ظلم کرنا تمہارے لیے مشکل ہوجائے گا۔ تمہارے دل و دماغ کی اس طرح تطہیر ہوگی کہ کوئی برا ارادہ جنم نہیں لے سکے گا اور کوئی غلط خیال جگہ نہیں بناسکے گا۔ اللہ سے تعلق کی وجہ سے تمہاری باہمی شیرازہ بندی پختہ سے پختہ تر ہوتی جائے گی۔ مسلمانوں کو اس تعلق کی یکسانی ایک لڑی میں پرو دے گی۔ جس میں ہم خیالی بھی ہوگی، ہم رنگی بھی اور ہم دلی بھی ہوگی۔ دوسری تیاری یہ کرنی ہے کہ باطل کی تمام قوتیں تمہیں مٹا دینے کا فیصلہ کرچکی ہیں۔ ایک اجتماعی کشمکش تمہاری طرف بڑھ رہی ہے اس میں جہاں مضبوط عقیدے اور پاکیزہ اخلاق کی ضرورت ہے، وہیں جنگ کی تیاری کے لیے اسباب کی فراہمی بھی لازمی ہے۔ دشمنوں نے اگرچہ تمہارے لیے کمائی کے پیشتر مواقع بند کردئیے ہیں لیکن جو کچھ بھی تمہارے خوشحال لوگوں کے پاس ہے اسے اسلامی قوت کے لیے فراہم کرنا اور بھی ضروری ہوگیا ہے۔ اس لیے زکوٰۃ اور انفاق کے ذریعے ایک طرف تو مسلمانوں کی ضروریات کی فراہمی کا انتظام کرو اور دوسری طرف آلات جنگ اور سامانِ جنگ کی تیاری میں اسے صرف کرو کیونکہ بڑے سے بڑا مومن بھی تلوار اور گھوڑے کے بغیر بالعموم جنگ نہیں کرسکتا۔ تم پیٹ پر پتھر باندھ کر چند دنوں تک جی سکتے ہو لیکن بغیر آلات جنگ کے دشمن کا سامنا نہیں کرسکتے۔ اس لیے نماز کے ذریعے ایک مومن کامل تیار ہوگا اور زکوٰۃ کے ذریعے جہاد کی ضرورتیں پوری ہوں گی۔ مسلمان چونکہ ایسے حالات سے گزر رہے ہیں جس میں مالی دشواریاں بےپناہ ہیں۔ اللہ کے راستے میں زکوٰۃ اور انفاق آسان نہیں۔ اس لیے ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ تم جو کچھ بھی اللہ کے راستے میں خرچ کروگے اس کا اجر وثواب اللہ کے ہاں موجود پائو گے۔ اللہ کے ہاں اجروثواب کی موجودگی میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمانوں کو تو ہمیشہ اللہ نے دنیا میں بھی اس کا صلہ دیا ہے۔ خلافتِ راشدہ کی تاریخ دیکھ لیجئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان بےمایہ لوگوں کو زمین کے بڑے حصے پر حکومت عطا فرمائی اور زمین کے خزانے ان کے لیے کھول دیئے۔ مزید آیت کے آخر میں یہ بھی فرمایا کہ مسلمانوں تم جن حالات سے گزر رہے ہو اور ان ناموافق حالات میں تم جو کچھ کررہے ہو اس کی ایک ایک چیز ہماری نگاہوں میں ہے۔ تمہارا کوئی عمل ہم سے مخفی نہیں اور دشمنوں کی کسی سازش سے بھی ہم بیخبر نہیں۔ وہ اپنے انجام سے دوچارہوں گے اور تم اپنے درخشاں مستقبل سے نوازے جاؤ گے۔