2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم پر فرض کیا گیا ہے مقتولوں کا قصاص لینا، آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، پھر جس کسی کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا گیا تو اس کے لیے دستور کی پیروی کرنا اور خوبی کے ساتھ اس کو ادا کرنا ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک آسانی اور مہربانی ہے پھر جو زیادتی کرے اس فیصلہ کے بعد تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی ط اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی ط فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ م بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآئٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ ط ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ ط فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰآُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ اے ایمان والو ! تم پر فرض کیا گیا ہے مقتولوں کا قصاص لینا، آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، پھر جس کسی کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا گیا تو اس کے لیے دستور کی پیروی کرنا اور خوبی کے ساتھ اس کو ادا کرنا ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک آسانی اور مہربانی ہے پھر جو زیادتی کرے اس فیصلہ کے بعد تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے اے عقل والو ! تاکہ تم حدود الٰہی کی پابندی کرو) (البقرۃ : 178 تا 179) قصاص کا معنی و مفہوم قصاص عام مفہوم میں ” خون کے بدلے “ کو کہتے ہیں۔ یعنی قاتل کے ساتھ وہی کیا جائے جو اس نے مقتول کے ساتھ کیا ہے۔ لیکن اس کا لفظی معنی ” مماثلت “ ہے۔ جس سے قصاص کی اصل روح کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ مماثلت کا مساوات کے بغیرحق ادا نہیں ہوتا اور حقیقی مساوات اور ہر سطح پر مساوات قصاص کی اصل روح ہے۔ اسی طرح اس کا معنی ” کسی کے پیچھے اس کے نقش قدم کے ساتھ ساتھ چلنا “ بھی ہے۔ قرآن کریم نے مختلف آیات میں اس لفظ کو اس معنی میں استعمال کیا ہے۔ مثلاً سورة قصص آیت نمبر 11 میں فرمایا گیا ہے : وَقَالَتْ لِاُخْتِہٖ قُصِّیْہِ ز فَبَصُرَتْ بِہٖ عَنْ جُنُبٍ وَّھُمْ لَایَشْعُرُوْنَ ۔ (اور اس نے اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا تو وہ دور سے اسے دیکھتی رہی اور لوگوں کو اس کا علم نہیں ہوا) قصیہ قصاص سے ہے اور اس کا معنی ہے اس کے پیچھے پیچھے جاؤ “ یہ امر واحد مونث حاضر ہے۔ اس معنی میں بھی اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ قصاص کے مفہوم میں قاتل کا کھوج لگانا اس کا تعاقب کرنا، اس کے نقوش قدم کو تلاش کرنا اور پھر اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے قاتل تک پہنچنا اور آخر اسے کیفر کردار تک پہنچانایہ قصاص کا مقصد ہے۔ لفظ کا معنی جان لینے کے بعد آیت کریمہ کے الفاظ پر غور کیجیے۔ فرمایا : مسلمانوں تم پر مقتولوں کے بارے میں قصاص لینا فرض کیا گیا ہے۔ قَتْلٰی ” قتیل “ کی جمع ہے اور قتیل ” مقتول “ کو کہتے ہیں۔ اس میں دیکھئے کہ مسلمانوں کو خطاب کرکے مقتولوں کے قصاص کی فرضیت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس خطاب کے اصل مخاطب کون ہیں ؟ مقتول کے ورثایاعام مسلمان معاشرہ ؟ اگر مقتول کے ورثا مراد لیے جائیں اور یہ سمجھا جائے کہ قصاص لینا ان پر فرض کیا گیا ہے تو پھر انھیں قاتل یا اس کے خاندان سے کسی طرح کی مفاہمت کی اجازت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاجب کہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام نے مقتول کے وارثوں کو قاتل سے مفاہمت کی اجازت دی ہے۔ وہ چاہیں تو قاتل کو قصاص معاف کردیں چاہیں تو دیت پر سمجھوتہ کرلیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خطاب وارثوں کو نہیں بلکہ مسلمان معاشرے یا ان کی نمائندہ حکومت کو ہے۔ ایک آدمی کا قتل، جسدِ امت کے ایک عضوکا کٹ جانا ہے اسلام کی نگاہ میں اگر کہیں قتل ہوتا ہے تو وہ اگرچہ براہ راست نقصان اس گھر اور اس خاندان کا ہے جس کے ساتھ مقتول کی رشتہ داری ہے اور وہی براہ راست صدمہ کا شکار بھی ہوں گے۔ لیکن حقیقت میں یہ نقصان صرف مقتول کے وارثوں کا نھیں بلکہ پوری مسلمان سوسائٹی اور مسلمان معاشرے کا ہے کیونکہ مسلمان جسدِ واحد کی حیثیت رکھتے ہیں جسم کا اگر ایک عضو کٹ جائے یا ہاتھ کی ایک انگلی کٹ جائے تو یہ نقصان صرف ہاتھ کا ہی نہیں بلکہ پورے جسم کا ہے۔ انگلی کٹنے کی تکلیف صرف ہاتھ ہی محسوس نہیں کرتا بلکہ پورا جسم اس سے بےچین اور بےخواب ہوتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی مسلمان قتل ہوتا ہے تو وہ جسدِ امت کا ایک عضو کٹتا ہے۔ مسلمان اگر ایک عمارت کی مانند ہیں تو عمارت کی ایک دیوارگرتی ہے اور اگر وہ ایک درخت کی حیثیت رکھتے ہیں تو اس کا ایک تنا ٹوٹتا ہے اس لحاظ سے مقتول صرف اپنے خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ مسلمان معاشرے اور اسلامی حکو مت کا مسئلہ ہے بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہنا چاہیے کہ سوال صرف مسلمان کا نھیں بلکہ مسلمانوں کے زیر تحفظ کسی غیر مسلم کی جان بھی جاتی ہے تو تب بھی پورے اسلامی معاشرے کو بےچین ہوجانا چاہیے کیونکہ قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ ایک آدمی کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ارشاد ہے : مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْفَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط وَمَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآاَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ط جس نے کسی جان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان ماری ہو یا زمین میں فساد مچایاہو قتل کردیا تو گویا اس نے سارے ہی لوگوں کو قتل کردیا اور جس نے اس کو زندہ کیا تو گویا سب لوگوں کو زندہ کیا) (المآئدہ : 32) ایک آدمی کا قتل انسانیت کا قتل ہے اس طرح سے قرآن کریم ایک شخص کے قتل کو مقتول کے وارثوں کا نھیں انسانیت کا مسئلہ قرار دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اس نقصان کی تلافی کے لیے بےقراری اور بےچینی صرف مقتول کے وارثوں کو نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے مسلمان معاشرے، پوری انسانیت، اور اسلامی حکومت کو ہونی چاہیے۔ قتل اللہ تعالیٰ کے قانون کی پامالی ہے اگر ایک اور پہلو سے دیکھا جائے تو یہ معاملہ اور بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ جس طرح ایک شخص کا قتل انسانیت کا قتل ہے اسی طرح ایک شخص کا قتل اللہ کے قانون کی پامالی بھی ہے۔ حرمت جان کا تصور اور اس کی حفاظت کا قانون اللہ کی ہر شریعت میں موجود رہا ہے اور ہر دور کے رسول نے اپنی اپنی امت کو اس کی تعلیم دی ہے اور بنی اسرائیل کو بڑی تاکید کے ساتھ اس حکم کا پابند کیا گیا ہے۔ تو مسلمان معاشرے میں جب ایک شہ رگ کٹتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اللہ کے ایک قانون کی ایک دفعہ گرجاتی ہے۔ جب کہیں بھی خون بہتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اللہ کے قانون کی بےحرمتی اور پامالی ہوتی ہے تو اس بےحرمتی اور پامالی کو روکنا صرف مقتول کے وارثوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام مسلمان معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں مسلمان معاشرے یا اسلامی حکومت پر مقتول کے قاتل سے قصاص لینا فرض کیا گیا ہے اور اس قصاص کے عمل کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے جو کچھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ان میں سے ایک ایک اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قاتل کا کھوج لگانا، اس کی تحقیق وتفتیش کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانا اور اگر قاتل کسی بڑی حیثیت کا مالک یا کسی بڑے گینگ سے تعلق رکھتا ہے تو پوری قوت سے اس پر ہاتھ ڈالنا اور پھر عدالت میں اس معاملے کو لے جاکرفیصلے تک پہنچانا اور پھر فیصلے کو نافذ کرنا، ان میں سے کوئی بات بھی مقتول کے وارثوں کے ذمہ نہیں بلکہ یہ تمام حکومت کے فرائض ہیں۔ اس لیے کہ قاتل کی تحقیق و تفتیش عام لوگوں کے بس کی بات نہیں ہوتی اور مقتول ضروری نہیں کہ اپنے پیچھے ایسے وسائل چھوڑ جائے جس سے اس کے وارث تحقیق و تفتیش کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھاسکیں اور پھر اگر قاتل یا اس کا خاندان بڑی حیثیت کا مالک ہوتوان سے عہد برأ ہونامقتول کے وارثوں کے لیے بسا اوقات ممکن نہیں ہوتا۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ حالات کی ستم ظریفی یا دبائو کے باعث مقتول کے وارث تحقیق وتفتیش کے چکر میں پڑنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ اپنے لیے اسے خطرہ سمجھ کر قاتل کی ہم نوائی کرنا شروع کردیتے ہیں یا اس سے لاتعلق ہوجاتے ہیں۔ ان تمام مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ قاتل کی تلاش کرے اور اسے کیفر کردار تک پہنچائے۔ البتہ ! اس میں حکومت کو بعض باتوں کا پابند بھی کیا گیا ہے اورا سے اپنے طور پر فیصلہ کرنے کی مکمل آزادی نہیں دی گئی۔ ان کے لیے یہ لازم ٹھہرایا گیا ہے کہ وہ بجائے خود فیصلہ کرنے کے مقتول کے اولیا کو یہ اختیار دے کہ وہ اسلامی قانون کی حدود کے اندرقاتل کے ساتھ جو معاملہ کرنا چاہیں کریں۔ اسے قتل کردیں یا اس سے خوں بہا لے لیں، حکومت کا کام ان کے لیے ایسے حالات اور ایسا تحفظ فراہم کرنا ہے جس میں وہ اپنے اختیار کے مطابق فیصلہ کرسکیں۔ مقتول کے وارثوں کو یہ اختیار دینادوررس نتائج کا حامل ہے۔ چناچہ مقتول کے وارث جب دیکھتے ہیں کہ قاتل پر ہم کو اختیار دے دیا گیا ہے اور ہم چاہیں تو قصاص میں اس کی جان لے سکتے ہیں اور چاہیں تو اس کے ساتھ کوئی نرم رویہ بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ تو اس اختیار مل جانے سے ان کے بہت بڑے اور بہت گہرے زخم کے اندمال کی ایک صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کا گیا ہوا عزیز واپس تو نہیں آسکتا لیکن ان کو ایک حوصلہ ضرور ملتا ہے کہ ہم اس معاشرے میں تنہا نہیں اور پھر جب اس اختیار کے بعد وہ قاتل کو معاف کریں گے یا اس سے دیت لینے پر راضی ہوجائیں گے تو یہ قاتل اور اس کے خاندان پر براہ راست ان کا احسان ہوگا۔ جس سے اس انتہائی خطرناک دشمنی میں کمی ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔ قتل دو خاندانوں میں انتقام کی آگ بھردیتا ہے اور یہ معافی ازسر نوٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دینے کا کام کرسکتی ہے۔ اس لیے اسلام نے مقتول کے اولیا کو یہ حق دیا تاکہ اس ظلم کے آثار مٹائے جاسکیں۔ اگر یہ سارا اختیار پولیس اور عدالت ہی کو سونپ دیا جاتاجیسا کہ موجودہ قوانین میں ہے تو پھر ان بہتر نتائج کے پیدا ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ قصاص کی روح کو زندہ کرنے والی ہدایت اب اگر مقتول کے وارث یہ فیصلہ کرلیں کہ ہمیں بہرصورت قاتل سے قصاص ہی لینا ہے اور ہم کسی مفاہمت کے لیے تیار نہیں تو پھر قرآن کریم نے اس آیت کریمہ کے دوسرے جز میں ایک ایسی ہدایت عطا فرمائی ہے جس نے قصاص کی روح کو زندہ کردیا ہے۔ قصاص کا تصور تو اسلام سے پہلے بھی موجود تھا لیکن وہ ایک انتہائی انتقام کی شکل اختیار کرچکا تھا۔ جس میں عدل اور احسان کا کوئی شمہ باقی نہیں رہا تھا۔ اگر کسی بڑے قبیلے کا کوئی فرد مارا جاتا اور قاتل چھوٹے قبیلے کا ہوتا تو بڑے قبیلے کے سردار مطالبہ کرتے کہ ہم اپنے مقتول کے بدلے میں صرف ایک قاتل کو ہی قصاص میں قتل نہیں کریں گے بلکہ ہم اپنی حیثیتِ عرفی کے مطابق قاتل کے ساتھ مزید چند افراد کا خون بھی بہائیں گے کیونکہ اس چھوٹے قبیلے کا ایک فرد ہمارے قبیلے کے ایک فرد کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اگر مقتول کسی چھوٹے قبیلے کا ہوتا اور قاتل کسی بڑے قبیلے کا تو اولاً تو بڑے اور طاقتور قبیلے سے کسی طرح کا قصاص لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاکیون کہ وہ یہ دعویٰ کرتے کہ ان کا کوئی فرد چونکہ ہمارے کسی فرد کے برابر نہیں تو ہم ایک معمولی آدمی کے قتل کے بدلے میں اپنے نہایت معزز قاتل کا گلا کیسے پیش کردیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ یا تو اس مقتول کا خون رائیگاں جاتا اور یا پھر انھیں مجبوراً دیت لیناپڑتی۔ ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ بات آئے کہ یہ تو دور جاہلیت کی باتیں ہیں جبکہ ہر قبیلہ اپنے آپ کو سب سے زیادہ معزز خیال کرتا تھا۔ آج کا دور تو علم کی روشنی کا دور ہے آج تو اس طرح کی باتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کی جاہلیتِ جدیدہ جاہلیتِ قدیمہ سے بھی زیادہ انسانیت کی قاتل ہے۔ آج کی طاقتور دنیا سے کوئی کمزور ملک قصاص کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ اب تو اندھیر نگری کا عالم یہ ہے کہ دنیا کے پانچ بڑے ملک اپنے پاس ” ویٹو “ کا اختیار رکھتے ہیں جس کی موجود گی میں کسی ایسے معاملے کا تصفیہ نہیں ہوسکتا جو ان کی ہوائے نفس اور مفادات کے مطابق نہ ہو۔ امریکہ طاقت کے زعم میں یہ بات کہتا ہوا ہرگز نہیں شرماتا کہ ہمیں دنیا کے کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا حق ہے اور کسی دوسرے ملک کو ہمارے ملک یا ہماری فوج کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف میں جانے کا کوئی حق نہیں۔ جاہلیتِ قدیمہ میں انسان انسان پر ظلم توڑتا تھا لیکن اس کی وسعت بڑی محدود تھی اور پھر اسی جاہلیت میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ظلم کو ظلم کہتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں ظلم کی وسعتوں سے زمین تنگ ہوگئی ہے اور ظلم کو الفاظ کا وہ جامہ پہنادیا گیا ہے کہ وہ ظلم ہونے کے باجود عدل دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس آیت میں حکم دیا کہ قاتل اور مقتول انسان ہونے کے لحاظ سے سب برابر ہیں کسی کو کسی پر کوئی فوقیت نہیں۔ جو قتل کرے گا وہی قتل کے بدلے میں قتل کیا جائے گا، چاہے وہ کسی بھی حیثیت کا مالک ہو اور ہر مقتول کے قتل کا بدلہ قاتل سے لیا جائے گا، چاہے وہ مقتول اپنی حیثیت میں کتنا بھی فروترکیوں نہ ہو۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت، سب برابر پکڑے جائیں گے کوئی ان میں تبدیلی نہیں کرسکتا کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ہمارا غلام تمہارے آزاد سے بہتر ہے۔ اس لیے ہم اپنے غلام کے بدلے میں آزاد کی جان لیں گے اور اپنی عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کریں گے۔ اس مساواتِ انسانی کا اعلان فرماکر زمانہ جاہلیت کی تمام بےاعتدالیوں اور ناہمواریوں کا خاتمہ کردیا۔ یہود نے بھی اس معاملے میں شریف اور رذیل اور اسرائیلی اور غیر اسرائیلی کے درمیان امتیاز قائم کررکھا تھا، اس اعلان سے وہ بھی ختم ہوگیا۔ اسلام نے خلافتِ راشدہ اور اس کے بعد بھی اسی کامل مساوات کے ساتھ فیصلے کیے۔ لیکن عدل و مساوات کے علمبردار یورپ اور امریکہ کو آج بھی کالوں اور گوروں کے امتیاز پر نظر ڈالنے کی کبھی جرأت نہیں ہوئی۔ فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ ” پس جس کسی کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ رعائت کی گئی “۔ اس جملے کے الفاظ پر غور کیجیے ! اخ ” بھائی “ کس کو قرار دیا جارہا ہے ؟” مقتول کے قاتل “ کو۔ مقتول کے وارثوں سے کہا جارہا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ قاتل نے تمہیں ایسا زخم لگایا ہے جس کی تلافی اور اندمال کی کوئی صورت نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود تمہیں معلوم ہے کہ وہ تمہارا انسانی بھائی ہے اور اگر وہ کسی وقتی اشتعال میں آکر یا غلط فہمی سے ایسا کر بیٹھا ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ دینی بھائی بھی ہو۔ اس طرح بھائی کہہ کر پروردگار سفارش فرما رہے ہیں کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ نرمی اختیار کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام قتل جیسے معاملات کو بھی ہیجان کا ذریعہ بننے نہیں دیتا۔ وہ قتل کو بھی قابل راضی نامہ سمجھتا ہے۔ وہ اس آگ کو الائو بنانے کی بجائے اسے بجھادینا چاہتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس ذہنیت کو پنپنے کا موقعہ دیا جائے اور لوگوں کی جانیں غیرمحفوظ ہوجائیں۔ دونوں پہلوئوں کا توازن کرتے ہوئے اگر مقتول کے وارث انسانی اخوت کے رشتہ کا پاس کرتے ہوئے قاتل کے ساتھ یہ رعائیت کرنے کے لیے تیار ہوجائیں کہ ہم قصاص نہیں دیت لے لیں گے تو پھر قاتل اور اس کے قبیلے کو ہدایت کی جارہی ہے : فَاتِّبَاعٌ م بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآئٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ ” قاتل اور اس کے خاندان والوں کا فرض ہے کہ وہ احسان مندی اور شکرگزاری کے جذبے کے ساتھ معروف کے مطابق دیت ادا کریں اور دیت کی ادائیگی نہایت احسن طریق سے کریں “۔ معروف کا مفہوم معروف کا لفظ قرآن کریم نے کئی جگہ استعمال کیا ہے۔ اس سے مراد عربوں کا وہ طریقہ ہے جس پر عموماً ان کے معاشرے کا اتفاق ہوتا ہے اور جسے تمام عقلاء عقل کی بات سمجھتے اور عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جس میں کوئی بات مذہب کے مزاج سے متصادم نہیں ہوتی۔ اسلام نے متعدد مواقع پر اس کو قبول کیا ہے جب تک اللہ کی طرف سے کوئی حکم نہیں آیا تو آنحضرت ﷺ نے معروف پر عمل فرمایا اور جب حکم آگیا تو حکم خداوندی کے بعد تو کسی بھی حکم کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ جاتی تو معروف کی اہمیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ قصاص کے معاملے میں بھی عرب کا ایک معروف تھا کہ اگر دیت کی ادائیگی کا فیصلہ ہوجاتا تو ان کے ہاں دیت کی جو مالیت مقرر تھی اور جو ان کا معروف کہلاتی تھی، قرآن کریم نے اسی کو باقی رکھا اور اسلام نے اسے قانون کی حیثیت دے دی۔ یہاں اہل عرب کا وہی رواج اور دستور مراد ہے۔ ان کے ہاں جو دیت مروج تھی اور جسے اسلام نے قانونی شکل دے دی وہ سواونٹ یا ہزار دینار یادس ہزار درہم تھے۔ درہم آج کل کے مروجہ وزن کے اعتبار سے تقریباً ساڑھے تین ماشہ چاندی کا ہوتا ہے، تو پوری دیت دوہزار نوسو تولے آٹھ ماشے چاندی ہوگی یعنی 36 سیر 36 تولے 8 ماشے۔ اس دیت کے بارے میں فرمایا جارہا ہے کہ تم پر اگر مقتول کے وارثوں نے احسان کیا ہے تو تمہیں اس کی قدر کرتے ہوئے حسن نیت کے ساتھ اس کی ادائیگی کرنی چاہیے کیونکہ اگر نیت اچھی نہ ہو تو دیت میں چونکہ عام طور پر اونٹ، بکریاں، غلہ اور کھجور وغیرہ ادا کی جاتی تھی، تو اس میں بڑی آسانی سے دھوکہ دیاجاسکتا تھا کہ جانور دئیے جائیں تو مریل دئیے جائیں، محض گنتی پوری کردی جائے اور غلہ یاکھجور ادا کی جائے تو وہ بھی گھٹیا اور ردی قسم کی تو اس طرح سے کہنے کو تو دیت ادا ہوجائے گی لیکن حقیقت میں دیت نہیں ہوگی۔ کہا دیکھو تم ایسا نہ کرنا بلکہ احسان کا جواب احسان سے دینا اور دیت کی ادائیگی میں فیاضی اور کشادہ دلی کا ثبوت دینا۔ مزید فرمایا کہ قصاص میں قتل کی بجائے اللہ نے جو دیت کی اجازت دی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس لیے اگر ایک طرف تمہیں مقتول کے وارثوں کا شکر گزار ہونا چاہیے تو دوسری طرف اللہ کا بھی شکر بجالانا چاہیے۔ اعْتَدٰیکا مفہوم آخر میں فرمایا : فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ” اس پر بھی جو زیادتی کرے تو اس کے لیے عذاب الیم ہے “۔ روئے سخن دونوں کی طرف ہے قاتل کی طرف بھی اور مقتول کے وارثوں کی طرف بھی کیونکہ زیادتی کا امکان دونوں طرف سے ہوسکتا ہے۔ بعض دفعہ مقتول کے وارث یہ سازش کرتے ہیں کہ اس وقت تو دیت لے کر اپنی مالی مشکلات کو دور کرلیں اور بظاہر قاتل کو معاف کردیں لیکن جب کوئی مناسب موقعہ ہاتھ آئے گا تو ہم اس قاتل کو ٹھکانے لگادیں گے اور یہ محض مفروضہ نہیں مقتول کے وارث اگر ایسا نہ بھی سوچنا چاہیں تو عموماً دائیں بائیں کے لوگ انھیں ایسا سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اسلام نے دیت کو جواز دے کر اگر قاتل پر احسان کیا ہے کہ اس کی جان بچ گئی ہے تو مقتول کے وارثوں پر بھی احسان کیا ہے کہ مرنے والے کے یتیم بچوں کی گزر بسر کا ایک ذریعہ پیدا ہوگیا ہے۔ لیکن لوگ ہمیشہ یہ کہہ کرمقتول کے وارثوں کو اشتعال دلاتے ہیں کہ تم نے اپنے مرحوم کا خون بیچ ڈالا، تم نے اس کی قیمت لے لی یا تم نے ڈر کر یہ سمجھوتہ کرلیا۔ اسی طرح قاتل اور اس کے وارث وہ بھی بعض دفعہ سوچتے ہیں کہ ایک طرف پھانسی کا پھندا ہے اور دوسری طرف دیت کی مالیت ہے۔ اس وقت اگر ہم دیت دے کر جان بخشی کرالیں اور زندگی بچ جائے تو اس وقت ایسا کرلینا چاہیے۔ لیکن جب کبھی موقعہ ہاتھ آئے گا تو ہم ان کو کوئی نہ کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ دونوں سے فرمایا جارہا ہے کہ سمجھوتہ اور تصفیہ ہوجانے کے باعث دونوں میں سے جس نے بھی زیادتی ارتکاب کیا تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔ دنیا میں تو تم ایک دوسرے سے فریب کرسکتے ہو لیکن اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکو گے۔ قصاص میں زندگی ہے آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے جس طرح دنیا بدامنی کا جہنم بنی ہوئی تھی، اس کا ایک بہت بڑا سبب یہ تھا کہ انسانوں میں مساوات ختم ہوگئی تھی اونچ نیچ اور ذات پات کے تصور نے انسانوں کے ایک طبقے کو ظالم اور دوسرے کو مظلوم بنادیا تھا۔ لوگ قتل ہوتے تھے اور قاتل کو اس کے بدلے میں مارے جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا تھا۔ جب ظالم اور قاتل کو ظلم کی چھٹی مل جائے اور یک طرفہ خون بہتا رہے تو پھر خوں ریزی اور فساد سے دنیا محفوظ نہیں ہوسکتی۔ آج بھی دنیا اپنی ساری ترقی اور روشنیِ علم وہنر کے باوجود بدامنی کا جہنم بنی ہوئی ہے۔ اس کا سبب بھی یہی عدم مساوات اور ظالم کو ظلم کی کھلی چھوٹ ملنا ہے۔ اس پر ارشاد فرمایا جارہا ہے :
Ayahs 2:179–180

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے اے عقل والو ! تاکہ تم حدود الٰہی کی پابندی کرو

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچے اور وہ کچھ مال چھوڑ رہا ہو تو تم پر فرض کیا گیا ہے والدین اور قرابت مندوں کے لیے دستور کے مطابق وصیت کرنا یہ حق ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے

وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ ” اے عقلمندو ! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے “ تم اگر چاہتے ہو کہ دنیا میں امن قائم ہو اور انسانوں کی جان محفوظ ہوجائے تو اس کے سوا کوئی صورت ممکن نہیں کہ تم قصاص سے کام لو پورے عدل اور انصاف سے مساوات کی روح کے مطابق اگر ہر خون کا بدلہ ملے اور ہر قاتل کیفر کردار کو پہنچے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ دنیا میں امن قائم نہ ہوسکے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ تم خالص اور غیرجانبدار عقل سے کام لو۔ تم عقل سے سوچنے کی بجائے جذبات سے سوچتے ہو اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا نے اس کا عجیب فلسفہ تراش لیا ہے کہ جب کوئی آدمی کسی کو قتل کرتا ہے تو اس کا یہ کام اس کی ذہنی ناہمواری، دماغی بیماری اور نفسیاتی عوارض کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ ایک بیمار ہے جس کی وجہ سے اس سے اس طرح کے اعمال ظہور پذیر ہوتے ہیں تو بیمار آدمی تو ہمدردی کا مستحق ہوتا ہے نہ کہ سزا کا ‘ اس لیے قاتل کو سزا دینا سراسر اس پر ظلم ہے۔ یوں تو یہ فلسفہ بہت قدیم ہے لیکن قریبی دور میں بطور خاص اس کی بڑی پزیرائی ہوئی، گاندھی اور ٹالسٹائی جیسے لوگ اس کے وکیل رہے۔ چناچہ اسی جذباتیت کا نتیجہ ہے کہ بہت سارے ملکوں نے پھانسی کی سزا ختم کردی حالانکہ معمولی عقل کا آدمی بھی اس کو سمجھتا ہے کہ ہر بیماری رحم و مروت کی مستحق نہیں ہوتی اور نہ ہر زخم مرہم سے مندمل ہوتا ہے۔ اگر کسی آدمی کو سرطان (کینسر) ہوجائے تو آپ اس کے علاج کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب آپ دیکھتے ہیں کہ یہ جسم میں پھیلنا شروع ہوگیا ہے۔ تو ایسی صورتحال میں کوئی رحیم وکریم ڈاکٹر بھی یہ مشورہ دینے کی جرأت نہیں کرے گا کہ بیمار عضو تو ہمدردی کا مستحق ہے اس کو باقی رہنے دیجیے بلکہ وہ تو پہلی فرصت میں اس جوڑ کو کاٹ دے گا تاکہ جسم کے باقی اعضاء کو بچایاجاسکے۔ مجرمانہ ذہنیت کا علاج عقل اور حکمت سے ہونا چاہیے چوری، ڈاکہ، زنا اور قتل یہ ایسی بیماریاں ہیں کہ جن کا وجود جسدِامت کے لیے متعدی مرض کی حیثیت رکھتا ہے اور جن کو چھوڑ دینا باقی جسدِ امت کو ہلاک کرنے کے مترادف ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو ایک آدمی تو قتل ہوگیا لیکن دوسرا آدمی اس کے قصاص میں قتل نہیں ہونا چاہیے اس طرح سے دو آدمیوں کا نقصان ہوگا۔ لیکن اگر تم عقل سے کام لو اور جذبات سے اپنے آپ کو الگ کرلوو تو تب تمہیں اندازہ ہوگا کہ ایک آدمی کا قاتل پوری انسانیت کا قاتل ہے۔ اس آدمی کو بچانے کا مطلب یہ ہے کہ تم پوری انسانیت کو قتل کردینا چاہتے ہو کیونکہ ہلاکت کی طرف جو شگاف اس نے کھولا ہے تم اسے بند نہیں کرنا چاہتے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اے عقلمندو ! اگر تم اس بات کو سمجھ جاؤ تو ممکن ہے کہ تم انسانیت کو تباہی سے بچا لو اور اگر نہیں سمجھو گے تو اس کا نتیجہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے اور تاریخ بھی اس کے شواہد سے معمو رہے۔ آپ امریکہ ہی کو لے لیجیے ! ذہنی بالیدگی، نفسیاتی آسودگی، کے جتنے وسائل وہاں میسر ہیں شائد کہیں اور نہ ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے احتسابی ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ باایں ہمہ جرائم کی رفتار جس قدر وہاں تیز ہے ترقی پذیرممالک تو اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ ان کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کی سالانہ رپورٹیں پڑھ کر دیکھ لیجیے آپ حیران رہ جائیں گے کہ وہاں قتل کی وارداتیں دوسرے جرائم کے ساتھ ساتھ کس کثرت سے ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انھوں نے عقل کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے بالمقابل سعودی عرب کو دیکھ لیجیے وہاں چونکہ قانونِ قصاص نافذ ہے، اس لیے وہاں گنتی کی وارداتیں ہوتی ہیں۔ اس لیے فرمایا : لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ تم مستقبل کے اندیشوں سے اسی صورت بچ سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ قانونِ قصاص کو قبول کرلو۔ مغرب اور امریکہ کو مظلوم سے زیادہ ظالم سے ہمدردی ہے حیرانی کی بات یہ ہے کہ انسانی اقدار اور اخلاق کا تقاضایہ ہے کہ جو شخص یا جو خاندان کسی حادثے یا نقصان سے دوچار ہوتا ہے اس سے ہمدردی کی جائے اور اس کے نقصان کی تلافی کی کوشش کی جائے اور جو شخص اس نقصان کا باعث بنتا ہے اسے مجرم قرار دے کر قرار واقعی سزا دی جائے اور اسے انسانیت کا دشمن سمجھا جائے۔ لیکن یورپ اور امریکہ کے دانشوروں کا عجیب حال ہے اور انہی کے پیروکار مشرقی دانشور بھی انھیں کی جگالی کرنے لگے ہیں۔ آپ ان کے دلائل دیکھئے ان کا رویہ ملاحظہ فرمائیے، آپ کو اندازہ ہوگا کہ انھیں متاثر ہونے والے فریق سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ ان کی ساری ہمدردی اس شخص یا اس گروہ کے ساتھ ہیں جو دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے اور پھر یہ ثابت بھی ہوجاتا ہے کہ انھوں نے نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن یہ دانشور اپنی پوری دانش اور علم کا سرمایہ لے کر اسے بچانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، جس کا گھر لٹ رہا ہے اس سے انھیں کوئی ہمدردی نہیں ہے، لیکن چو رکے ہاتھ نہیں کٹنے چاہئیں یہ سنگدلی ہے۔ جس کی عزت لٹتی ہے، وہ ان کے نزدیک قابل توجہ نہیں، رحم کے قابل وہ ہے جس کو اس جرم کی پاداش میں قانون سزادینا چاہتا ہے۔ اسی طرح جو شخص خاک وخوں میں غلطاں ہوتا ہے اور اپنے پیچھے بیوہ اور یتیم چھوڑ جاتا ہے، جنھیں سہارا دینے والا کوئی نہیں ‘ کتنی زندگیاں ہیں جو اس حادثے کی وجہ سے اندھیروں میں ڈوب جاتی ہیں۔ لیکن جس شخص کی درندگی اور سنگدلی نے یہ ظلم ڈھایا اور ایک گھر کا چراغ بجھایا ہے جب اس کے گلے تک قانون کا ہاتھ پہنچتا ہے یا یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ شخص قاتل ہے تو فوراً قانون کے محافظ اور قانون کی بالادستی کے علمبردار اس کی مدد کو آپہنچتے ہیں۔ کبھی کسی نفسیاتی عارضہ کا بہانہ اور کبھی انسانیت کے نام سے ایک جان بچانے کی کوشش۔ یہ مغرب اور امریکہ کا وہ رویہ ہے جس نے ان کو مجرموں کا ساتھی بنادیا ہے اور شائد اسی کے نتائج ہیں کہ ان کا حکمران اور پالیسی ساز طبقہ پوری دنیا کے لیے سب سے زیادہ ظالم ثابت ہورہا ہے اور وہ اسے ظلم سمجھنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ ان کی انسانیت اس حدتک مرگئی ہے کہ وہ درندگی کو انسانیت کا نام دینے لگے ہیں۔ قرآن کریم شائداسی صورتحال کی طرف لَعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ کہہ کرمتوجہ کررہا ہے۔ حرمتِ جان کے بعد حرمت مال حرمتِ جان کے بعد جس چیز کی حرمت اسلامی معاشرے میں بےحد اہمیت کی حامل ہے اور جس کا حرمت جان سے نہایت گہرا رشتہ ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شائد غلط نہ ہو کہ حرمت جان کو جب بھی کوئی صدمہ پہنچتا یا نقصان لاحق ہوتا ہے تو بالعموم حرمت مال کے تصور کے مجروح ہونے کے بعد پہنچتا ہے۔ جب بھی معاشرے میں مال و دولت سے تعلق حدود سے تجاوز کرتا ہے تو پھر مال و دولت کے حصول میں دست درازیاں ہونے لگتی ہیں حد سے بڑھتی ہوئی طلب کے نتیجے میں جائز ناجائز اور حرام و حلال کی تمیز مٹنے لگتی ہے۔ پھر یہی رشتہ سب رشتوں پر غالب آجاتا ہے، تمام اقدار اس کے سامنے ماند پڑجاتی ہیں۔ رحم، مروت، ہمدردی، مدد، اعانت، غریب پروری، دوسرے کی ملکیت کا احترام، ان میں سے ایک ایک چیز اپنی قدر کھو دیتی ہے، تمام جذبات پر حبِّ مال کا جذبہ غالب آجاتا ہے۔ رشتے اسی رشتے سے وجود میں آتے اور اسی سے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اس کی موجودگی عزت کی علامت بن جاتی ہے اور اس سے محرومی ذلت کے مترادف سمجھ لی جاتی ہے۔ اس کی اس اہمیت اور خطرناکی کی وجہ سے حرمت جان کے قانون کو بیان کرنے کے بعد حرمت مال کے قانون کی طرف توجہ فرمائی گئی ہے۔ حرمت مال کے تحفظ اور اس کی تقویت کے لیے سب سے پہلے یہ بات ضروری ہے کہ قانون ہر آدمی کے حقوق متعین کرے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کے حقوق متعین اور محفوظ کردئیے جائیں اور دوسرے لوگوں میں یہ اخلاقی سپرٹ پیدا کی جائے کہ وہ اس قانون کا احترام کریں۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں حرمت مال کے ضمن میں ایک عارضی قانون کے ذریعے سے اعزہ اور اقربا کے حقوق کا تعین کرکے ان کی حفاظت کا سامان کیا گیا ہے۔ کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَکَ خَیْرَنِ ا صلے ج الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ ج حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ۔ (جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچے اور وہ کچھ مال چھوڑ رہا ہو تو تم پر فرض کیا گیا ہے والدین اور قرابت مندوں کے لیے دستور کے مطابق وصیت کرنا یہ حق ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے) (البقرۃ : 180) حرمتِ قانون کا عارضی قانون یہ آیات کریمہ معلوم ہوتا ہے مدینہ منورہ کے قیام کے ابتدائی سالوں میں نازل ہوئی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب ابھی مدینے میں مخلوط آبادی ہے مسلمان، غیرمسلم اور منافقین ملے جلے رہ رہے ہیں۔ مدینے کے اطراف میں اعراب کا بسیرا ہے اور مضافاتی علاقوں میں یہود رہ رہے ہیں۔ آبادی کے ایک بڑے حصے نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے ابھی تک مدینے کی ریاست کو پوری طرح پائوں جمانے کا موقعہ نہیں ملا۔ ریاست کی ناتمام شکل کی وجہ سے بعض معاملات میں مکمل ہدایات یا مستقل قانون دینے کا ابھی وقت نہیں آیا لیکن ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کے معاملات کو درست کرنے اور ہر سطح پر ان کی تربیت کی انتہائی ضرورت ہے جسے التوا میں نہیں ڈالاجاسکتا۔ اس ضروت کے پیش نظر قرآن کریم نے بعض معاملات میں عارضی قوانین دیئے ہیں، جو مستقل قوانین آنے کے بعد منسوخ ہوگئے، انھیں میں سے وراثت کے قوانین بھی ہیں۔ ابھی تک چونکہ ایک مستقل تفصیلی قانون نازل نہیں ہوا تھا لیکن حرمت مال کا تصور برابر اس کا تقاضاکررہا تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہر مرنے والے کو یہ حکم دیا کہ وہ مرنے سے پہلے ایک وصیت کرے جس میں اپنے والدین اور اپنے اقربا کے حقوق کا تعین کرے۔ کُتِبَ عَلَیْکُمْ کا معنی ہے ” تم پر فرض کردیا گیا ہے “ کَتَبَ کے ساتھ جب علٰیآتا ہے تو اس کے معنی میں فرضیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس جملے کا ترجمہ ہوگا کہ تم میں سے ہر شخص کے لیے وصیت کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی دو شرائط کا ذکر بھی فرمایا، ایک تو یہ کہ جب تم محسوس کرو کہ موت کا وقت قریب آرہا ہے بیماری بڑھتی جارہی ہے صحت کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں اور کمزوری روز بروز بڑھتی جارہی ہے تو سمجھ لو کہ موت اب زیادہ دور نہیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ تم اپنے پیچھے کوئی مال چھوڑ کر جا رہے ہو۔ اگر مرنے والا گھر میں سوائے غربت کے اور کچھ نہیں چھوڑرہا تو اس کے لیے وصیت کی کیا ضرورت ہے ؟ کیونکہ وصیت کا مقصد یہ ہے کہ بعد میں وارث اپنااپنا حصہ مقرر نہ ہونے کی وجہ سے لڑناشروع نہ کردیں اور عدم تعین کی صورت میں چونکہ اس کا غالب اندیشہ ہوتا ہے اس لیے فرمایا اگر تم اپنے پیچھے کوئی مال چھوڑ رہے ہو تو وصیت ضرور کرو۔ وصیت کا معنی ہوتا ہے ” کسی بڑے کی طرف سے چھوٹوں کو تلقین و ہدایت کرنا یاحکم دینا “۔ یہ زندگی میں کیا جائے یا موت کے وقت کے قریب دونوں صورتوں میں اس کا مفہوم ایک ہی ہے۔ مال خیر ہے یہاں دیکھئے مال کو خیر سے تعبیر کیا گیا ہے تاکہ یہ نہ سمجھاجائے کہ اسلام رہبانیت کا دین ہے اور اس میں مال و دولت سے نفرت سکھائی جاتی ہے مال و دولت بجائے خود سرتاپا خیر ہے۔ یہ فی ذاتہٖ کوئی شر نہیں رکھتا البتہ اس کا غلط استعمال اور اسے غلط حیثیت دے دینے سے زندگی میں مفاسد پیدا ہوتے ہیں۔ یہ زندگی کی بہت اہم ضرورت ہے اور ایک بہت بڑی قوت ہے۔ لیکن جب اس سے تعلق میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے یا اس کا استعمال غلط ہوتا ہے تو پھر اس سے زیادہ تباہ کن چیز بھی کوئی نہیں۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) فرماتے تھے : (زندگی کشتی کی مانند ہے اور مال و دولت دریا کے پانی کی طرح، کشتی کی اصل قوت پانی ہے، اگر پانی نہ ہو تو کشتی بےکا رہے۔ لیکن یہ قوت اس وقت تک ہے جب تک یہ پانی کشتی کے نیچے ہے لیکن اگر خدانخواستہ یہ کشتی کے اندر داخل ہوجائے تو پھر کشتی کے لیے اس سے زیادہ تباہ کن کوئی چیز نہیں۔ اسی طرح مال و دولت بھی جب تک ہاتھ کی چھڑی ہے یا جیب کی گھڑی تو کوئی نقصان نہیں دیتی۔ لیکن جب یہ دل کا محبوب بن جائے تو پھر اس سے زیادہ مہلک چیز کوئی نہیں ) وصیت سے متعلق تفصیل عربوں کا معروف یہ تھا کہ ان کے دوتہائی مال میں اولاد کے حصے مقرر تھے اور ایک تہائی مال میں مرنے والا اپنے والدین اور اقربا کے لیے وصیت کرتا تھا جس میں وہ ان کے حقوق کا تعین کردیتا تھا۔ چناچہ اسلام نے مستقل قانونِ میراث دینے سے پہلے اس معروف کو باقی رکھا اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اسی کا حکم دیا گیا ہے کہ تم پر یہ بات فرض کردی گئی ہے کہ اپنی موت کے قریب تم اپنے چھوڑے ہوئے مال میں والدین اور قریبی عزیزوں کے حقوق مقرر کردو اور ان کے لیے وصیت چھوڑجاؤ اور اس وقت کے حالات میں اسے حق یعنی واجب قرار دیا گیا۔ لیکن قانونِ میراث کے نازل ہوجانے کے بعد ایک تو یہ بات منسوخ ہوگئی کہ دوتہائی صرف اولاد کے لیے ہوگا اور ایک تہائی میں والدین اور قریبی عزیزوں کے وصیت کے ذریعے حصے مقرر کیے جائیں گے۔ اللہ نے تمام وارثوں کے حقوق متعین فرمادئیے، اب کسی کو اس میں کمی بیشی کرنے کا حق نہ رہا اور دوسرا یہ حکم دیا گیا کہ اب تم اپنے کسی وارث کے لیے وصیت نہیں کرسکتے یعنی اللہ نے جو اس کے لیے حق مقرر کردیا ہے تم وصیت کے ذریعے نہ اسے کم کرسکتے ہو نہ زیادہ کرسکتے ہو۔ ہاں ! ایک صورت ممکن ہے کہ اگر تم اپنے کسی وارث کو زیادہ دینا چاہتے ہو مثلاً تم یہ دیکھتے ہو کہ وہ اپنے بھائیوں میں مالی اعتبار سے سب سے کمزور ہے یا کوئی اور ضرورت اسے لاحق ہے جسے پورا کرنے کے لیے اس کے پاس وسائل نہیں اور تم اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اسے فائدہ پہنچانا چاہتے ہو تو پھر تم اپنے وارثوں کو اپنی بیماری کے دنوں میں جمع کرکے ان سے وصیت کرنے کی اجازت لے لو۔ اگر وہ اس پر راضی ہوجائیں تو اب تم ان سے متعلق وصیت کرسکتے ہو اور اگر وہ راضی نہ ہوں تو پھر تمہیں کسی بھی وارث کے لیے وصیت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ حجۃ الوداع میں ڈیڑھ لاکھ انسانوں کے سامنے آنحضرت ﷺ نے اس کا اعلان فرمایا : لَاوَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ ” وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں “۔ یہ حدیث معنوی طور پر متواتر سمجھی جاتی ہے۔ دوسری یہ بات کہ اس میں وصیت کرنا جو فرض قرار دیا گیا تھا احکامِ میراث آجانے کے بعد وہ فرضیت بھی ساقط ہوگئی۔ البتہ اگر کسی آدمی کے پاس لوگوں کی امانتیں ہوں یا کسی کا قرض یا کسی کے حقوق اس کے ذمہ ہوں تو حضور کا ارشاد ہے کہ بغیر وصیت کیئے اس پر تین دن نہیں گزرنے چاہئیں اور تیسری یہ بات کہ ایک تہائی میں اب بھی وصیت کرنے کی اجازت ہے۔ ایسا شخص جو اس کے وارثوں میں شامل نہیں، چاہے وہ رشتہ داروں میں سے ہو اور چاہے بےگانہ۔ ایک تہائی میں اس کے لیے وصیت کرسکتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی دینی یارفاہی ادارے کو اگر وہ کچھ دینا چاہتا ہے تو ایک تہائی مال میں سے اس کے لیے بھی وصیت کرسکتا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ایک تہائی مال میں وصیت کرنا اب بھی ضروری ہے تاکہ اگر خاندان میں کچھ ایسے لوگ موجود ہوں مثلاً پوتا یا نواسہ جو انتہائی ضرورتمند ہیں لیکن وراثت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں تو یہ وصیت ان کے لیے حوصلے کا سامان ہوسکتی ہے۔ ان آیات کے نزول کے زمانے میں قانون کے نفاذ کا زیادہ تر دارومدار شاہدوں اور گواہوں کی امانت ودیانت پر تھا اور خود وصیت بھی عموماً زبانی کی جاتی تھی اور جو گواہوں ہی کے واسطے سے وارثوں تک پہنچتی تھی۔ اب اگر یہ گواہ گواہی میں خیانت کرے تو وراثت کے حقوق میں اختلاف پیدا ہوسکتا ہے۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں گواہوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا :
Ayah 2:181

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پس جو لوگ اس وصیت کو بدل ڈالیں اس کے سننے کے بعد تو اس کا گناہ ان لوگوں پر ہے جو اس کو بدلتے ہیں، بیشک اللہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے

فَمَنْ م بَدَّلَـہٗ بَعْدَ مَاسَمِعَہٗ فَاِنَّمَآ اِثْمُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَـہٗ ط اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (پس جو لوگ اس وصیت کو بدل ڈالیں اس کے سننے کے بعد تو اس کا گناہ ان لوگوں پر ہے جو اس کو بدلتے ہیں، بیشک اللہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے) (البقرۃ : 181) گواہوں کی عظیم ذمہ داری اس آیت کریمہ میں گواہوں کو ان کے فرض کی اہمیت کا احساس دلایا جارہا ہے کہ وصیت کا ٹھیک ٹھیک نفاذ اس بات کا محتاج ہے کہ وصیت کے محفوظ ہونے کے اعتبار سے کوئی کمی نہ رہنے پائے اور وصیت کی امانت کے حامل چونکہ گواہ ہیں اس لیے اگر وہ چاہتے ہیں کہ وصیت کے نفاذ میں کوئی کمی بیشی نہ ہو تاکہ کسی کے حقوق پر ضرب نہ پڑے تو انھیں حتی المقدور اس کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر تو وصیت کے سننے میں کوئی کمی رہ گئی اور یہ اندازہ نہ ہوسکا کہ وصیت کرنے والے نے اصل میں کیا بات کہی تھی اس پر شائد اللہ مواخذہ نہ فرمائیں۔ لیکن اگر وصیت کو ٹھیک ٹھیک سنا اور اس کو محفوظ بھی کرلیا اور پھر اس کے بعد جان بوجھ کر اس میں کوئی تبدیلی کردی تو اللہ فرماتا ہے اس تبدیلی اور اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری ان گواہوں پر ہوگی اور اللہ کے یہاں گواہی کو تبدیل کرنے کی وجہ سے وہ سب گناہ کے مجرم ٹھہرائے جائیں گے۔ اس لیے گواہوں کو سخت عذاب سے بچنے کے لیے ایسی غلطی کبھی نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر وہ یہ سمجھ کر کمی بیشی کرتے ہیں کہ کسی کو کیا خبر کہ اصل وصیت کیا تھی تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ سمیع بھی ہے علیم بھی ہے۔ جب تم نے گواہی سنی تھی تو اللہ نے بھی سنی تھی۔ اس لیے اسے خوب معلوم ہے کہ گواہی حقیقت میں کیا تھی اور تم نے جس فسادِ نیت یا جس برے جذبے سے اس میں تبدیلی کی ہے اللہ اسے بھی جانتا ہے۔ جس طرح تمہیں گواہی میں تبدیلی کرنے پر وہ سزا دے گا اسی طرح اس کے پس پردہ جذباتِ بد پر بھی تمہاری گرفت کرے گا۔ تم بظاہر ایک جرم کروگے لیکن سزا تمہیں دو جرموں کی ملے گی۔ حق تلفی اور ظلم جس طرح گواہوں کے وصیت بدلنے سے ظہور پذیر ہوتا ہے اسی طرح اس ظلم کو اس وقت بھی راستہ ملتا ہے جب وصیت کرنے والا غلط جذبات اور بری نیت سے وصیت کرتا ہے۔ اور اس میں اپنی خواہشِ نفس کو دخیل کرتا ہے۔ چناچہ اس جرم کو روکنے کے لیے پروردگار نے اگلی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا :
Ayah 2:182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

پس جس شخص کو اندیشہ ہو وصیت کرنے والے سے بےجا جانبداری یا حق تلفی کا تو وہ آپس میں صلح کرادے اس پر کوئی گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والارحم کرنے والا ہے۔

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْاِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَھُمْ فَلَآاِثْمَ عَلَیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (پس جس شخص کو اندیشہ ہو وصیت کرنے والے سے بےجا جانبداری یا حق تلفی کا تو وہ آپس میں صلح کرادے اس پر کوئی گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والارحم کرنے والا ہے) (البقرۃ : 182) وصیت کرنے والے کو بھی حق تلفی سے روکا جائے خوف کا معنی جس طرح ” ڈرنا “ ہوتا ہے اسی طرح اس کا معنی ” گمان کرنا، خیال کرنا، توقع کرنا اور اندیشہ کرنا “ بھی ہوتا ہے۔ یہاں یہ اندیشہ کرنے کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے۔ جَنَفَ کا معنی تو ” مائل ہونا “ ہے۔ لیکن یہ عموماً ” بےجا جانبداری “ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اِثْمَ ” حق تلفی “ کو کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ سابقہ آیت میں اگرچہ وصیت میں ہر طرح کی تبدیلی سے روکا گیا ہے اور اسے ایسا گناہ قرار دیا گیا ہے جس کا وبال اس جرم کرنے والے پر پڑے گا۔ لیکن اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ہم نے جس تبدیلی سے روکا ہے وہ وہ تبدیلی نہیں ہے جو وصیت کرنے والے کی بےجا جانبداری کی وجہ سے پیدا ہونے والے ظلم کو روکنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کی اجازت دی گئی ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ اگر گواہ یہ محسوس کریں کہ وصیت کرنے والا بےجا جانبداری سے کسی حق دار کی حق تلفی کا سبب بن رہا ہے اور اس کی وصیت کے نفاذ سے واقعی کسی کا حق مجروح ہوگا تو انھیں اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اس ظلم کو روکنے کی کوشش کریں۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اولاً تو وہ وصیت کرنے والے کو سمجھا بجھا کر اس ظلم سے رکنے پر آمادہ کریں اور اسے عدل و انصاف کی طرف آنے کی ترغیب دیں۔ لیکن اگر اس کا موقع نہ ہو تو پھر وہ وارثوں کے درمیان مفاہمت کی کوشش کریں کہ اگر وصیت کرنے والے نے کسی کے حق تلفی کی کوشش کی ہے یا کسی کو ناجائز فائدہ پہنچانے کا ارادہ کیا ہے تو تمام وارثوں کو بلاکر انھیں اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اس صورتحال کو قبول کرنے سے انکار کردیں جسے حق سے زیادہ مل رہا ہے اسے سمجھائیں کہ وہ ایسی چیز قبول نہ کرے جو اس کا حق نہیں ہے اور جس کی حق تلفی ہورہی ہے اسے حق دلانے کی کوشش کریں۔ اسی طرز عمل کو فَاَصْلَحَ بَیْنَھُمْ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اگر تم نے حسن نیت سے ایسا کیا اور پھر بھی کوئی کمی بیشی رہ گئی تو اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ سابقہ آیات میں حرمت جان اور حرمت مال کی اہمیت کے پیش نظر اور انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ان کے اثرات کے باعث ان کے قوانین کو بیان کیا گیا۔ حرمت جان اور حرمت مال کو متاثر کرنے والی چیزیں چونکہ بنیادی طور پر طمع اور اشتعال، لالچ اور انتقام، خواہش اور ہیجان، جیسے جذبات کا غیر معتدل ہونا ہے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ ایک ایسی عبادت فرض کی جائے جو نماز اور زکوٰۃ سے زیادہ مندرجہ بالا منفی جذبات کو اعتدال میں لانے اور صحیح رخ پر ڈالنے میں موثر ثابت ہو۔ روزہ جس طرح قلبی اور باطنی طور پر انسان کے ارادہ ونیت کی تطہیر کرتا اور سیرت و کردار کی تعمیر کرتا ہے اس سے زیادہ کسی اور موثر عامل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چناچہ ارشاد فرمایا :