2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayahs 2:132–133

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور ابراہیم نے اسی ملت کی وصیت اپنے بیٹوں کو کی اور اسی کی وصیت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو کی، اے میرے بیٹو ! اللہ نے تمہارے لیے دین اسلام کو منتخب فرمایا تو تم نہ مرنا مگر اسلام کی حالت پر

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا جب اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا تم میرے بعد کس کی پرستش کروگے وہ بولے کہ ہم تیرے معبود اور تیرے آبائو اجداد ابراہیم، اسمعیل اور اسحق۔ کے معبود کی پرستش کریں گے جو ایک ہی معبود ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔

وَوَصّٰی بِھَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوْبُط یَبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنُ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ ط اَمْ کُنْتُمْ شُھَدَآئَ اِذْحَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُلا اِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْم بَعْدِیْ ط قَالُوْا نَعْبُدُاِلٰھَکَ وَاِلٰہَ اٰبَآئِکَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰھًا وَّاحِدًاج وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 132 تا 133) (اور ابراہیم نے اسی ملت کی وصیت اپنے بیٹوں کو کی اور اسی کی وصیت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو کی، اے میرے بیٹو ! اللہ نے تمہارے لیے دین اسلام کو منتخب فرمایا تو تم نہ مرنا مگر اسلام کی حالت پر۔ کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا جب اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا تم میرے بعد کس کی پرستش کروگے وہ بولے کہ ہم تیرے معبود اور تیرے آبائو اجداد ابراہیم، اسمعیل اور اسحق۔ کے معبود کی پرستش کریں گے جو ایک ہی معبود ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں) وصّٰی کا مصدر توصیۃ ہے۔ جس کا معنی ہے ” وصیت کرنا “۔ لیکن یہ یاد رہے کہ عربی کا لفظ وصیت اردو کے وصیت سے کہیں زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اردو میں بستر مرگ کی خواہشوں اور مرنے والے کی آخری ہدایتوں کو وصیت کہا جاتا ہے لیکن عربی میں اس کا معنی تعلیم اور تلقین کرنا ہے چاہے یہ تعلیم و تلقین کوئی شخص اپنی وفات کے وقت کرے یا زندگی کے کسی دوسرے مرحلے پر اور قرآن کریم نے اسے حکم دینے کے معنی میں بھی استعمال کیا ہے اور عام عربی زبان میں بھی اس معنی میں اس کا استعمال عام ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے آٹھ تھے۔ 1:۔ حضرت اسمٰعیل، حضرت ِہاجرہ مصریہ کے بطن سے، 2:۔ حضرت ِ اسحق، حضرت سارہ عراقیہ کے بطن سے، 3:۔ زمران، 4:۔ یقسان، 5:۔ مدان، 6:۔ مدیان 7:۔ اسیاق 8:۔ سوخ۔ یہ سب حضرت قتورہ کے بطن سے تھے۔ حضرت یعقوب، حضرت ابراہیم کے پوتے اور حضرت اسحاق کے فرزند ہیں۔ اسرائیل آپ ہی کا دوسرا نام ہے۔ عمر حسب روایت تورات 147 سال کی پائی، زمانہ غالباً 2000 ق م تا 1853، ولادت کنعان فلسطین میں ہوئی، 1870 میں اپنے نامور فرزند حضرت یوسف نبی کے پاس منتقل ہوگئے اور وہیں وفات پائی۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چار ازواجِ مطہرات سے بارہ فرزند تھے۔ ان کے نام حسب تصریح تورات حسب ذیل ہیں۔ 1: روبن، 2: شمعون، 3: لاوی، 4: یہوداہ، 5: اشکار، 6: زبلون، 7: یوسف (علیہ السلام) ، 8: بن یامین، 9: دان 10: نفتالی، 11: جد، 12: آشر۔ (پیدائش 35: 24، 26) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت حضرت ابراہیم کی اس وصیت کا ذکر اگرچہ یہود کے صحیفوں میں کہیں نہیں ملتالیکن انسانی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمیشہ بڑے لوگوں نے جن پر خصوصاً اللہ کے دین کی ذمہ داریاں رہی ہیں انھوں نے جس طرح اللہ کے دین کی سربلندی اور اپنی اولاد کو اس سے وابستہ رکھنے کے لیے زندگی بھر کام کیا اسی طرح جب وہ دیکھتے ہیں کہ ہمارا صحیفہ حیات اختتام کو پہنچ رہا ہے تو کسی مناسب وقت پر اپنی اولاد یا اپنے خاندان کے بڑے لوگوں کو جمع کرکے ان باتوں کی ضرور وصیت کرتے رہے ہیں، جنھیں وہ اپنی اولاد اور خاندان کے لیے دینی اور قومی حوالے سے انتہائی ضروری سمجھتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جس طرح پوری زندگی خلق اللہ کی ہدایت اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے گزری اس میں یہ بات انتہائی قرین قیاس ہے کہ آپ نے اپنے بیٹوں کو نہائت اہتمام سے اس کی وصیت فرمائی ہوگی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تیسری پشت تک یہ اہتمام پورے عروج پر رہا حضرت یعقوب آپ کے پوتے ہیں انھوں نے بھی اپنے بیٹوں کو اسی طرح نصیحت فرمائی اور مضمون چونکہ واحد ہے اس لیے قرآن کریم نے ایک ہی جگہ دونوں کو ذکر فرمایا تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واسطے سے قریش کو اس طرف توجہ دلائی جائے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے حوالے سے بنی اسرائیل کو سوچنے پر مجبور کیا جائے۔ وصیت میں اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا کیا نصیحتیں فرمائی گئی ہوں گی، لیکن ان میں دو باتیں جو اساس کی حیثیت رکھتی ہیں، ان کا اختصار سے یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک تو یہ بات فرمائی کہ ” اے میرے بیٹو ! تم زندگی کے معاملات اور طرز عمل میں آزاد نہیں ہو کہ جس طرح چاہو زندگی گزارو بلکہ اللہ نے تمہارے لیے ایک دین یعنی طرز عمل اور ضابطہ حیات چن لیا ہے اور وہ سابق آیت کریمہ کے مطابق اسلام ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اپنی زندگی کا یہ رویہ بنانا ہوگا کہ تمہیں ہر معاملے میں اللہ کی ہدایت کو دیکھنا اور اسی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اور سب کچھ اسی کے لیے قربان کرنا اور سپرد کردینا ہے۔ یہی وہ دین اسلام ہے جسے قرآن کریم نے بھی باربار ذکر کیا ہے اور یہاں تک فرمایا : اَفَغَیْرَدِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہ اَسْلَمَ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ (کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں طوعًا یا کرھًا سب اسی کے مطیع ہیں اور سب اسی کی جانب لوٹیں گے ) دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ اس دین سے وابستگی زندگی کے کسی خاص دور کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ تو پوری زندگی کا معمول ہے یہی زندگی کا قانون اور دستور ہے اسی سے تنہائیاں آباد ہوتی ہیں، اسی سے شخصیتیں بنتی ہیں، اسی سے زندگی کو آداب ملتے ہیں۔ زندگی ڈھل جاتی ہے یہ دین نہیں ڈھلتا۔ اسی کے ساتھ وابستگی میں زندگی کا سفر تمام ہوجاتا ہے۔ لیکن دین اپنی آب وتاب کے ساتھ انسانیت کو روشنی دیتارہتا ہے۔ اس لیے فرمایا : فلَاَ تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ تمہیں پوری زندگی مرتے دم تک مسلم بن کر گزارنی ہے، اس میں یہودیت یا نصرانیت کی کوئی جگہ نہیں کیونکہ یہ دونوں چیزیں حضرت ابراہیم کے سینکڑوں سال بعد وجود میں آئی ہیں، ان کا ملت ابراہیم سے کوئی تعلق نہیں۔ وصیت کا نفسیاتی پہلو حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) کی اسی وصیت کو ایک دوسرے پہلو سے نہائت موثر بنایا جارہا ہے۔ انسانی فطرت یہ ہے کہ ایسی اولاد جو زندگی میں اپنے ماں باپ کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتی اور ماں باپ ہمیشہ ان سے شاکی رہتے ہیں، لیکن جب ماں باپ کا آخری وقت آتا ہے اور یہ بےنیاز اولاد جب دیکھتی ہے کہ ماں باپ کا ساتھ چھوٹنے لگا ہے تو انھیں اپنے رویے پر کچھ نہ کچھ توجہ ہوتی ہے۔ جو وقت گزر گیا اسے تو اولاد لوٹا نہیں سکتی لیکن آخری وقت کی نصیحتوں کو وہ ضرور کوشش کرتی ہے کہ آویزہ گوش بنائے۔ یہاں اسی انسانی فطرت کو متوجہ کیا گیا ہے کہ اے اہل کتاب تم نے آج تک اپنے بزرگ آبائواجداد کی نصیحتوں کو توڑنے مروڑنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ لیکن کاش تمہیں معلوم ہو تاکہ انھوں نے بوقت مرگ کیا نصیحتیں کی تھیں۔ تم انھیں یہودیت یا نصرانیت کے مورث اعلیٰ سمجھتے ہو کیا تم اس وقت موجود تھے۔ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا آخری وقت آیا تم یقینا موجود نہیں تھے لیکن تمہارا خدا تو موجود تھا۔ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ آخری وقت میں حضرت یعقوب نے کیا نصیحت کی تھی۔ تم نے اگر آج تک ان کی تعلیمات اور فرمودات پر کان نہیں دھرا تو ان کی آخری وقت کی وصیت کا تو خیال کرو۔ انھوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کرکے پوچھا تھا کہ بتائو تم ہمارے بعد کس کی بندگی کرو گے تو ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہم یہودیت اور نصرانیت کے تقاضوں کو پورا کریں گے۔ یا ہم آپ کی پوجا کریں گے۔ کیونکہ آپ اللہ کے نبی ہیں ہمارے باپ ہیں اللہ کی برگزیدہ شخصیت ہیں۔ آپ سے بڑھ کر بندگی اور پوجا پاٹ کا اور کون مستحق ہوسکتا ہے ؟ انھوں نے نہائت عاجزی اور وثوق کے ساتھ جواب دیا تھا کہ ہم اسی معبود کو پوجیں گے جو آپ کے آبائواجداد کا معبود ہے اور جس طرح آپ نے اسی کی تسلیم وانقیاد میں زندگی گزاری ہے ہم بھی اسی تسلیم وانقیاد کو اپنا وطیرہ بنائیں گے۔ جس طرح آپ اس کے مسلم بن کے رہے ہیں ہم بھی اس کے اسی طرح مسلم بن کر رہیں گے۔ تورات سے قرآن کی تائید اس وصیت کا ذکر اگرچہ تورات میں نہیں ملتا لیکن یہود کے لٹریچر میں اس وصیت سے ملتی جلتی جو روایت ملتی ہے اس کے الفاظ اگرچہ قرآن کے الفاظ سے کچھ مختلف ہیں لیکن ان سے تائید قرآن کے بیان ہی کی ہوتی ہے۔ مولانا عبدالماجد دریا آبادی نے اپنی تفسیر میں یہود کے لٹریچر سے مندرجہ ذیل دو حوالے نقل کیے ہیں۔ ایک حضرت اسحاق کی وصیت سے متعلق ہے دوسرا حضرت یعقوب کی وصیت سے متعلق ہے۔ ” جب اسحاق نے دیکھا کہ اس کا وقت موعود آپہنچا تو انھوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا اور کہا : میں تمہیں خدا تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جس کی صفات اعلیٰ ، عظیم، قیوم، عزیز ہیں اور جو آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا خالق ہے کہ تم خوف اسی کا رکھنا اور عبادت اسی کی کرنا۔ “ (گنزبرگ، قصص یہود، جلد اول صفحہ 416) ” یعقوب نے اپنے بیٹوں سے کہا مجھے اندیشہ ہے کہ تم میں سے کوئی بت پرستی کا میلان رکھتا ہے۔ اس کے جواب میں بارہ بیٹوں نے کہا : سن اے اسرائیل ! اے ہمارے باپ ! ہمارا خدا وہی خدائے لم یزل ہے، جس طرح تیرا دلی ایمان ایک خدا پر ہے، اسی طرح ہم سب کا دلی ایمان ایک خدا پر ہے۔ “ (گنز برگ کی قصص یہود جلد 2، صفحہ 41) ان وصیتوں کی واضح حکمتیں اس وصیت میں غور کیجئے ! اس میں متعدد باتیں سرسری نظر سے بھی محسوس ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب کی نگاہ میں سب سے اہم بات جس کو انھوں نے زندگی کے آخری لمحوں میں بطور امانت اپنی اولاد کے سپرد کیا ہے۔ وہ اللہ کی توحید اور اللہ کے احکام کی بےساختہ اطاعت ہے۔ ان کی پوری زندگی اس امانت سے عبارت ہونی چاہیے۔ وہ زندگی کے جھمیلوں میں اور کچھ بھی بھول جائیں تو مضائقہ نہیں مگر یہ کبھی نہ بھولیں کہ ان کا معبود اور ان کا حاکم حقیقی صرف اللہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ یہ زندگی اسی کی امانت ہے اس لیے اسی کی اطاعت اور بندگی میں گزرنی چاہیے۔ دوسری بات جو محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کی چوتھی نسل تک بھی اس بات میں کوئی تردد نہیں تھا کہ جس طرح ان کے آبائواجداد ایک اللہ کے پوجنے والے تھے اور ان کی زندگی اسلام کی سچی تصویر تھی ہماری زندگی بھی ہوبہو اسی طرح ہونی چاہیے اور ہمیں بھی انھیں کے نقوش قدم پر زندگی کا سفر رواں دواں رکھنا چاہیے اور تیسری بات جو محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل نے بنی اسماعیل کے بارے میں عجیب و غریب تصورات بنا لیے ہیں اور ان کو اپنے ہم مرتبہ سمجھنے کے لیے تیار نہیں حتیٰ کہ ان کے جدامجد حضرت اسماعیل سے اپنا تعلق یکسر توڑ لیا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی پہلی نسل میں ہمیں ایسا کوئی اثر محسوس نہیں ہوتا وہ پورے احترام کے ساتھ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو بھی اپنے آبائواجداد میں شمار کرتے ہیں اور انھیں بھی اللہ کا عظیم رسول سمجھتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ جس طرح حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی دوسری نسل اس وقت وجود میں آچکی تھی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی بھی دوسری نسل سرزمین مکہ میں پھیل رہی ہوگی۔ اس وقت تک حضرت یعقوب کی اولاد یعنی بنی اسرائیل میں حضرت اسماعیل اور ان کی اولاد کے بارے میں کوئی منفی تاثر نظر نہیں آتاوہ یقینا ان کے بارے میں اپنے دلوں میں وہی احساسات رکھتے ہوں گے جو بھائیوں کی صالح اولاد ایک دوسرے کے لیے رکھتی ہے بلکہ تورات میں جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی وحی میں بنی اسماعیل کو ان کا بھائی کہہ کر ذکر کیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ان کا تذکرہ بھائی کہہ کر ہی کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حسد اور عناد کا جذبہ جو بعد میں بنی اسرائیل میں بنی اسماعیل کے بارے میں پیدا ہوا اس وقت تک پیدا نہیں ہوا تھا۔ اللہ بہتر جانتا ہے یہ منفی جذبات کب پیدا ہوئے اور کیوں پیدا ہوئے۔ اگلی آیت کریمہ میں بحث سمیٹ کر اس کا خلاصہ مخاطب کے سامنے رکھا جارہا ہے جو درحقیقت دل و دماغ میں اتارنا مقصود ہے۔
Ayah 2:134

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

یہ ایک گروہ تھا جو گزر گیا اس کو ملے گا جو کچھ اس نے کمایا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے کمایا اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کے بارے میں تم سے سوال نہیں کیا جائے گا۔

تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ ج لَھَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَاکَسَبْتُمْ ج وَلَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (یہ ایک گروہ تھا جو گزر گیا اس کو ملے گا جو کچھ اس نے کمایا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے کمایا اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کے بارے میں تم سے سوال نہیں کیا جائے گا) (البقرۃ : 134) بحث کو سمیٹ کر ایمان و عمل اور آخرت کی جواب دہی کی طرف متوجہ کیا گیا اسی سلسلہ بیان میں گزشتہ کسی جگہ یہ بات گزر چکی ہے کہ یہود کی گمراہی اور دین سے لاتعلقی کے متعدداسباب تھے، لیکن ان میں ایک اہم تر سبب یہ تھا کہ وہ ایمان وعمل کو نجات کی بنیاد بنانے کی بجائے نسل اور نسب کو بنیا دبنا چکے تھے۔ انھیں اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں تھا کہ ہماری بد اعمالیوں کے نتائج کیا ہوں گے بلکہ ان کے اعتماد اور بھروسے کی سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو انبیائے کرام کی اولاد اور اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ کا رشتہ دار سمجھتے تھے۔ اس نسبت کو وہ اتنا عظیم جانتے تھے کہ اس کی موجودگی میں کسی اور چیزکو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کا یقین تھا کہ دنیا کی سرافرازیاں ہمارے سوا کسی اور کے لیے نہیں اور آخرت میں جنت کے لیے اس سے بڑا استحقاق اور کیا ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کے نبیوں کی اولاد ہیں۔ جنت میں اگر ہم نہیں جائیں گے تو کیا ایرے غیرے لوگ جائیں گے۔ یہ سہارے انھیں لے بیٹھے اور ان کی دینی اور اجتماعی زندگی انھیں مفروضوں کے باعث ایمان و عمل کے نور سے محروم ہوگئی۔ چناچہ اس بحث کو سمیٹتے ہوئے خلاصے کے طور پر انھیں یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ انبیاء اور اللہ کے نیک بندوں کا گروہ جن کا تذکرہ ہم نے گذشتہ آیات میں کیا ہے، اپنی مقدس اور سرفروشانہ زندگی گزار کر اپنے اللہ کے پاس جاچکے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے اعمال انھیں کے کام آئیں گے وہ اپنے کارہائے جلیلہ کے باعث اللہ کے بیش از بیش تقرب کے مستحق ہوں گے۔ لیکن ان کے یہ اعمال اور یہ کارنامے کسی اور کے لیے سہارا نہیں بنیں گے، وہاں کسی گروہ یا کسی فرد سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم کس کی اولاد ہو بلکہ صرف ایمان وعمل کے بارے میں سوال ہوگا۔ ایمان وعمل ہی وہ سکہ ہوگا جو قیامت کے دن چلے گا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت ِ فاطمہ ( رض) اپنی پھوپھی حضرت صفیہ ( رض) اور ایک موقع پر بنی ہاشم کے بڑے بڑے سرداروں سے فرمایا کہ آج جو کچھ کرسکتے ہو کرلو تمہارا یہی سرمایہ کل کو کام آئے گا۔ ایسا نہ ہو کہ تم خالی ہاتھ محشر میں پہنچ جاؤ اور پھر مغفرت کے لیے میرے پاس آئو۔ میں تمہارے لیے وہاں کچھ نہیں کرسکوں گا۔ ہر پیغمبر نے اپنے ماننے والوں کو یہی تعلیم دی۔ پیغمبر اپنے ماننے والوں کی شفاعت ضرور کریں گے، لیکن اس کا تعلق اعمال کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے ساتھ ہوگا۔ ایمان وعمل سے محرومی کی صورت میں کسی شفاعت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ وہاں تو ہر ایک سے اس کا اپنا سرمایہ عمل پیش کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ کسی دوسرے کا عمل اس کے کسی کام نہیں آئے گا۔ اولاد ماں باپ کے کام نہیں آئے گی، ماں باپ اولاد کے کام نہیں آئیں گے۔ مرشد مسترشد کے کام نہیں آئے گا اور مسترشد مرشد کے کام نہیں آئے گا۔ وہاں ہر ایک کو اپنی صلیب خود اٹھا نا ہوگی، کسی سے کسی دوسرے کے اعمال کے بارے میں باز پرس نہیں ہوگی۔ جب اپنے ہی اعمال وہاں کام آئیں گے تو پھر اعمال کی جگہ تو یہ دنیا ہے، یہی دارالعمل ہے۔ یہاں مہلت عمل میسر ہے، موقعہ ہے یہاں کچھ تیاری کرلی جائے۔ جس نے آج یہ موقعہ کھو دیا کل کو آبائو اجداد کے اعمال چاہے وہ اللہ کے نبی کیوں نہ ہوں اولاد کے کام نہیں آئیں گے۔ یہی بات اس آیت کریمہ میں خلاصہ بحث کے طور پر بنی اسرائیل سے خصوصاً اور تمام نوع انسانی سے عموماً فرمائی جارہی ہے۔
Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہودی بنو یا نصرانی تو ہدایت پاجائوگے۔ کہو ! بلکہ ابراہیم کی ملت کی پیروی کروجو اللہ کی طرف یکسو تھا اور مشرکین میں سے نہ تھا۔

وَقَالُوْا کُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْنَصٰرٰی تَھْتَدُوْاط قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰھٖمَ حَنِیْفًا ط وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ ” اور وہ کہتے ہیں کہ یہودی بنو یا نصرانی تو ہدایت پاجاؤ گے۔ کہو ! بلکہ ابراہیم کی ملت کی پیروی کروجو اللہ کی طرف یکسو تھا اور مشرکین میں سے نہ تھا۔ “ (البقرۃ : 135) یہودیت اور نصرانیت کے برسرباطل ہونے پر مضبوط دلیل اس آیت کریمہ سے پہلے کا سلسلہ ٔ کلام دیکھتے ہوئے جب ہم اس آیت کو پڑھتے ہیں تو یہ آیت بظاہر بےربط سی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جب اس کو گہری نظر سے دیکھتے ہیں تو یہ فصاحت و بلاغت اور علم کلام کا ایک شاہکار دکھائی دیتی ہے۔ سب سے پہلی جو چیز ذہن میں ابھرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت سے پہلے کئی آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تاریخ اور تعارف کے حوالے سے جو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں اور اسی کے ضمن میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کو جس طرح دعائے خلیل کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے اور پھر جس طرح حضرت ابراہیم اور آپ کی اولاد کے اعتقادات اور زندگی کی روش کو نمایاں کیا گیا ہے، اس کے بعد یہودیت یا نصرانیت جیسے تصورات کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ آدمی ان دلائل کو پڑھتے ہوئے توقع کرنے لگتا ہے کہ یہودی بالخصوص ان دلائل سے متاثر ہو کر یا تو اسلام کے دامن میں آجائیں گے یا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کریں گے۔ لیکن جب ہم اچانک ان کی طرف سے اس آیت کی صورت میں یہودیت اور نصرانیت کی دعوت کو دیکھتے ہیں اور اس پر ان کا اصرار دیکھتے ہیں کہ وہ اسی کو ہدایت کا ذریعہ سمجھتے ہیں تو اس بات کا یقین ہونے لگتا ہے کہ قوموں کا جب زوال مکمل ہوجاتا ہے تو ان کے لیے اپنی روش میں ترمیم کرنا اور صحیح بات کو قبول کرنا واقعی سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے وہ اپنے طرز کہن کو کسی طرح بھی بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اقبال نے اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا ؎ آئینِ نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں یہود و نصاریٰ کا بالکل یہی حال معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کریم کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ متعصب اور بندذہن لوگوں کی طرح صرف دعوے ہیں کہ ہدایت صرف ہمارے پاس ہے۔ اسلام کی اس حوالے سے کوئی گنجائش نہیں۔ ظاہر ہے علم کی دنیا میں بےدلیل دعوئوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ دوسری بات جو اس آیت کریمہ کو پڑھتے ہوئے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ دلائل کی دنیا میں اس حدتک بےبس ہوگئے تھے کہ اب وہ بظاہر دعویٰ کی صورت میں جو بات کہتے ہیں اس میں کوئی وزن نہیں۔ بلکہ وہ تضادکا شاہکار ہے۔ ان کے اسی دعوے کو دیکھئے وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انسان کو نجات کے لیے ہدایت کی ضرورت ہے اور ہدایت صرف یہودیت اور نصرانیت میں ہے۔ اسلام تو محض ایک نئی بات ہے ہدایت کی موجودگی میں ایک نئی بات فتنہ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک یہودی یہ کہنا چاہتا ہے کہ تم اگر نجات کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہو تو بیشک تم یہودیت اختیار نہ کرو نصرانی بن جاؤ نجات پاجاؤ گے اور عیسائی یہ کہنا چاہتا ہے کہ تم اگر ہدایت کے طالب ہو تو بیشک عیسائیت اخیتار نہ کرو یہودی ہوجاؤ تو ہدایت مل جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہدایت پر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہود نے نہ صرف عیسائیت کا انکار کیا ہے بلکہ عیسائیت جن کی طرف منسوب کی جاتی ہے یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف۔ انھوں نے نہ صرف انھیں ماننے سے انکار کیا بلکہ وہ انھیں عدالت کے کٹہرے تک لے گئے اور وہاں بزعم خود صلیب دینے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی وجہ سے آج تک یہ دونوں مذاہب ایک دوسرے کی تکفیر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی مذہبی حیثیت کو تسلیم کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں۔ عام عقل انسانی سے فیصلہ لے لیجئے کہ جب یہ دونوں مذاہب ایک دوسرے کی صداقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو دونوں ایک دوسرے کو ہدایت کا ذریعہ کیسے قرار دے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا کھلا تضاد ہے جس کا کوئی جواب ممکن نہیں۔ اس سے صرف ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ دلائل کی دنیا میں بےبس ہونے کے بعد دونوں نے اپنی بقا کے لیے ایک ہی راستہ دیکھا ہے کہ مسلمانوں کی دشمنی کے جذبے سے اکٹھے ہوجاؤ اور اپنے اختلافات کو بھلاکر اپنی زندگی کے تحفظ کا راستہ اختیار کرو۔ غور فرمائیے کہ قرآن کریم نے ہوبہو دعوت کی صورت میں ان کا دعویٰ نقل کیا ہے لیکن درحقیقت ان کے برسر باطل اور غلط ہونے کی کتنی مضبوط دلیل ہے۔ اس کو ممکن ہے آپ الزامی دلیل سمجھیں لیکن اس آیت کے دوسرے حصے میں نہائت مثبت انداز میں تاریخ کا سینہ چیر کر ان کے اس دعوے کا رد کیا گیا ہے جس کا جواب وہ قیامت تک نہیں دے سکتے۔ تفہیم القرآن میں مولانا مودودی نے بڑی خوبی سے اس کا ذکر فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں : اس جواب کی لطافت کے لیے دو باتیں نگاہ میں رکھئے : ” ایک یہ کہ یہودیت اور عیسائیت دونوں بعد کی پیداوار ہیں ” یہودیت “ اپنے اس نام اور اپنی مذہبی خصوصیات اور رسوم وقواعد کے ساتھ تیسری چوتھی صدی قبل مسیح میں پیدا ہوئی اور ” عیسائیت “ جن عقائد اور مخصوص مذہبی تصورات کے مجموعے کا نام ہے وہ تو حضرت مسیح کے بھی ایک مدت بعد وجود میں آئے ہیں۔ اب یہ سوال خودبخود پیدا ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے برسر ہدایت ہونے کا مدار یہودیت یا عیسائیت اختیار کرنے ہی پر ہے تو حضرت ابراہیم اور دوسرے انبیا اور نیک لوگ جو ان مذہبوں کی پیدائش سے صدیوں پہلے پیدا ہوئے تھے اور جن کو یہودی اور عیسائی بھی ہدایت یافتہ مانتے ہیں وہ آخر کس چیز سے ہدایت پاتے تھے ؟ ظاہر ہے کہ وہ ” یہودیت “ یا ” عیسائیت “ نہ تھی۔ لہٰذا یہ بات آپ سے آپ واضح ہوگئی کہ انسان کے ہدایت یافتہ ہونے کا مدار ان مذہبی خصوصیات پر نہیں ہے جن کی وجہ سے یہ یہودی اور عیسائی وغیرہ مختلف فرقے بنے ہیں بلکہ دراصل اس کا مدار اس عالمگیر صراط مستقیم کے اختیار کرنے پر ہے، جس سے ہر زمانے میں انسان ہدایت پاتے رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ یہود و نصاریٰ کی اپنی مقدس کتابیں اس بات پر گواہ ہیں کہ حضرت ابراہیم ایک اللہ کے سوا کسی دوسرے کی پرستش، تقدیس، بندگی اور اطاعت کے قائل نہ تھے اور ان کا مشن ہی یہ تھا کہ خدائی صفات و خصوصیات میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایاجائے۔ لہٰذا یہ بالکل ظاہر ہے کہ یہودیت اور نصرانیت دونوں اس راہ راست سے منحرف ہوگئی ہیں، جس پر حضرت ابراہیم چلتے تھے کیونکہ ان دونوں میں شرک کی آمیزش ہوگئی ہے۔ “ حنیف کا مفہوم حاصل کلام یہ کہ ہدایت کا راستہ یہودیت یا نصرانیت نہیں بلکہ ملت ابراہیم ہے اور حضرت ابراہیم کے بارے میں یہ بات مسلّم ہے کہ وہ حنیف تھے۔ حنیف، حنف سے ہے، جس کے اصل معنی مائل ہونے اور جھکنے کے ہیں۔ حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو ہر طرف سے کٹ کر پوری یکسوئی کے ساتھ خدا کا ہورہے۔ حضرت ابراہیم نے پوری یکسوئی کے ساتھ ہر طرف سے کٹ کر جو راستہ اختیار کیا تھا وہ نہ مشرکین کا راستہ تھا اور نہ یہود و نصاریٰ کے انتسابات تھے بلکہ وہ وہ راستہ تھا جسے ملت ابراہیم کہا جارہا ہے اور جس کی گزشتہ آیات میں وضاحت گزر گئی۔ اس لیے اب ہدایت کا راستہ ایک ہی ہے کہ ملت ابراہیم کی پیروی کی جائے۔ اس لیے اس آیت ِ کریمہ میں مِلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَکو منصوب لایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے کوئی فعل محذوف ہے۔ یعنی یہ کہا جارہا ہے : اِتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ ” ملت ابراہیم کی پیروی کرو “۔ جن کو تم مورث اعلیٰ مانتے ہو، جن کی اولاد میں سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، ان کی ساری زندگی اسلام کی سچی تصویر تھی اور وہ زندگی بھر اسی شاہراہ پر چلتے رہے ہیں۔ آج بھی اس کے سوا کوئی ہدایت اور نجات کا رستہ نہیں ہے۔
Ayah 2:136

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

مسلمانو ! کہو ! ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور اس ہدایت پر ایمان لائو جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی اور ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم صرف اسی کے فرماں بردار ہیں۔

قُوْلُوْآ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ اِلٰٓی اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّھِمْ ج لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْز وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ (مسلمانو ! کہو ! ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور اس ہدایت پر ایمان لائو جو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی اور ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم صرف اسی کے فرماں بردار ہیں) (البقرۃ : 136) یہود و نصاریٰ کی دعوت کے جواب میں کلمہ جامعہ اس آیت کریمہ میں یہودونصاریٰ کی دعوت کا جواب بھی ہے اور ملت ابراہیم کی تشریح و تعبیر بھی کہ تم ہمیں یہ دعوت دیتے ہو کہ یہودی یا نصرانی بن جاؤ تو ہدایت پاجاؤ گے۔ لیکن ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ہم اللہ کی ہدایت کے مطابق اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس ہدایت پر ایمان رکھتے ہیں جو اللہ کی طرف سے ہمارے رسول پاک ﷺ کے واسطے سے ہم پر اتاری گئی ہے۔ اسی طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اس ہدایت پر جو ابراہیم، اسمٰعیل، اسحق، یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد کی مختلف شاخوں پر ان کے انبیاء کے واسطہ سے اتری ہے اور ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے۔ یعنی ہم ایسا نہیں کرتے کہ کسی نبی کو مانیں اور کسی کا انکار کردیں۔ کسی نبی پر اترنے والی کتاب کو مانیں اور کسی کو ماننے سے انکار کردیں۔ ہم چونکہ اللہ کے فرماں بردار ہیں اس کی فرمانبرداری کا تقاضایہ ہے کہ وہ اپنے برگزیدہ بندوں میں سے جنھیں نبوت عطا کرتا ہے ہم ان کی نبوت پر ایمان لائیں اور جو ہدایات ان پر نازل فرماتا ہے ان کو بھی تسلیم کریں کیونکہ اگر ہم اللہ کے نبیوں کے درمیان تفریق کرنے لگیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم جسے چاہتے ہیں اسے نبوت دے دیتے ہیں۔ اللہ کے کسی کو نبی بنانے سے ہم اس کو نبی ماننے کے پابند نہیں ہوتے۔ یہ نہ صرف نبی کی نبوت سے انکار ہے بلکہ اللہ کے اس حق کا بھی انکار ہے کہ نبوت عطا کرنا اور انسانوں کی ہدایت کے لیے کتابیں اتارنا یہ صرف اللہ کا حق ہے کسی کو اس میں شریک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ آیت کریمہ ایک ایسا کلمہ جامعہ ہے جو مسلمانوں کو عطا کیا گیا ہے۔ جس کی بنیاد پر مسلمان تمام انبیائے کرام، رسولانِ عظام اور تمام آسمانی کتابوں اور صحیفوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ البتہ گزشتہ انبیائے کرام اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں کے بارے میں ان کا موقف یہ ہے کہ اللہ کے رسول اور نبیوں نے اللہ کی طرف سے اپنی اپنی امتوں کو جو تعلیمات دی تھیں ان کی امتوں نے یا تو ان میں ملاوٹ کردی یا ان کے کچھ حصہ کو فراموش کردیا بعض احکام کو ترمیم اور تحریف کی نذر کر ڈالا، بعض احکامات کو حالات کے دبائو کے تحت بدل ڈالا یا کتاب اللہ ہی سے نکال دیا۔ اس لیے اب موجودہ صورت میں جو شریعتیں ان کے پاس ہیں وہ نہائت ناقص نہائت غیر محفوظ، اور ناقابلِ عمل ہیں۔ ان کی اسی حالت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری رسول بھیجا اور آخری کتاب اتاری جو سابقہ تمام کتابوں کی جامع اور قیامت تک کے لیے نہ صرف قابل عمل بلکہ واجب العمل ہے۔ ہم سابقہ تمام انبیائے کرام کی صداقت اور حقانیت پر یقین رکھتے ہیں۔ ان پر اترنے والی تمام کتابوں کو منزل من اللہ سمجھتے ہیں لیکن وہ محفوظ نہ رہنے کے باعث اب قابل عمل نہ رہیں اس لیے اب پروردگار نے آخری نبی بھیجا اور آخری کامل شریعت آگئی جس پر عمل کرنا ہمارے لیے فرض اور واجب ٹھہرا۔ لیکن یہود اور نصاریٰ نے جو رویہ اختیار کیا ہے انھوں نے صرف یہ نہیں کیا کہ آنحضرت ﷺ کو ماننے سے انکار کیا ہو بلکہ ان کا سابقہ رویہ بھی یہ رہا ہے اور اب بھی یہی ہے کہ وہ سابقہ انبیاء میں سے بھی کسی کو مانتے ہیں اور کسی کو نہیں مانتے۔ یہود اس سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کرچکے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنے والے کتنے انبیاء کرام ہیں جن کو انھوں نے نہ صرف تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کو قتل تک کرڈالا اور جن کو تسلیم بھی کیا تو وہ بھی اس طرح کیا کہ تسلیم نہ کرتے تو اچھا تھا۔ مثلاً حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اللہ کا عظیم پیغمبر بھی مانتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان پر بدکاری کا الزام بھی رکھتے ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نبوت کے ساتھ ساتھ ان کی شوکت اور عظمت کو بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی کہتے ہیں کہ ان کی غیرمعمولی قوتیں ان کے سحروعلمِ نجوم کے باعث تھیں اور اسی سحر کی مدد سے وہ جنات پر حکومت کرتے رہے ان کی اس روش کو قرآن کریم نے بیان کرتے ہوئے ایک حقیقی اور خطرناک نتیجے کی نشاندہی فرمائی ہے۔ ارشاد فرمایا : وَ یُرِیْدُ وْنَ اَنْ یُّـفَرِّ قُوْا بَیْنَ ا للّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیَـقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍلا وَّیُرِیْدُ وْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰ لِکَ سَبِیْلًا۔ (النسآء : 150) (اور وہ چاہتے ہیں کہ تفریق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بیچ سے راہ پیدا کریں) اس آیت پر غور کیجئے ! یہود کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ بعض نبیوں کو مانتے ہیں اور بعض کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جن نبیوں کو وہ مانتے ہیں تو یہی سمجھ کر مانتے ہیں نا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں اور اللہ نے ان کو نبوت عطا کی ہے اور جس کو اللہ نبوت عطا کرے اللہ کے بندوں کے لیے اس کا ماننا لازم ہوجاتا ہے لیکن جن کو ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں آخر وہ کیوں کرتے ہیں ؟ اگر وہ واقعی اللہ کے نبی ہیں تو ان کا انکار درحقیقت اللہ کا انکار ہے اور یہ ایسا جرم ہے جو نبیوں کے نہ ماننے سے بھی بڑا جرم ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ درحقیقت اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کررہے ہیں اور وہ اس کے درمیان کوئی تیسرا راستہ نکالنا چاہتے ہیں کہ اللہ کے نبیوں کا ماننا اللہ کے حکم سے نہ ہو بلکہ ان کی اپنی پسند اور خواہشات کے تابع ہو کر رہ جائے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہود کا یہ طرز عمل کس طرح قدم قدم پر تضادات کو ابھار رہا ہے اور کیسے نئے نئے سوالات کو جنم دے رہا ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمانوں کا کلمہ جامعہ کس قدر اللہ کے سامنے تسلیم وانقیاد کا اظہا رہے۔ وہ ہر نبی کو اپنے سرکا تاج اور ان کی تعلیمات کو اپنی آنکھوں کا نور سمجھتے ہیں وہ جس طرح سابقہ انبیاء اور ان کی تعلیمات کو تسلیم کرتے ہیں اسی طرح نبی آخرالزمان ﷺ اور ان پر نازل ہونے والی کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ یہ سب ایک ہی منبع نور سے پھوٹنے والی شعائیں ہیں۔ اور وہی تعلیمات ہیں جنھیں جامع اور کامل شکل میں قرآن کریم نے پیش کیا ہے اور وہی احکامِ شریعت ہیں جو نئی شکل نئی شان اور نئے کمال کے ساتھ شریعت اسلامی کی صوت میں نازل کیے گئے ہیں۔ ہر شریعت اپنے دور کی رہنمارہی ہے، جیسے جیسے انسانی فکر ارتقا پذیر ہوئی ہے ویسے ویسے شرعی احکام تکمیل کے مراحل طے کرتے گئے ہیں۔ حتی کہ جب انسان بلوغ کی عمر کو پہنچ گیا اور پوری دنیائے انسانیت سمٹ کر ایک دوسرے کے قریب آنے لگی تو قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کی شکل میں ایک کامل اور مکمل شریعت نازل کی گئی اور قرآن کریم میں تکمیل دین کا اعلان فرمادیا گیا اور اس دین کی بنیادی روح چونکہ تسلیم وانقیاد رہی ہے اس لیے اس کا نام بھی اسلام رکھا گیا ہے۔ اس کا آغاز بھی اسی نام سے تھا اور اسی کی تکمیل بھی اسی نام سے ہوئی ہے۔
Ayah 2:137

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر وہ اعراض کریں تو پھر وہ درپے مخالفت ہیں ان کے مقابلے میں تمہارے لیے اللہ کافی ہوگا وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِاھْتَدَوْا ج وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِیْ شِقَاقٍ ج فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُط وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر وہ اعراض کریں تو پھر وہ درپے مخالفت ہیں ان کے مقابلے میں تمہارے لیے اللہ کافی ہوگا وہ سننے والا اور جاننے والا ہے) (البقرۃ : 137) کلمہ جامعہ پر ایمان اور ایمان کے لیے نمونہ گزشتہ آیت کریمہ کی صورت میں جس طرح ایک کلمہ جامعہ پیش کیا گیا جس کے ماننے سے آدمی اس راستے کا مسافر بن جاتا ہے جو اسلام کا راستہ ہے اور جس کی منزل جنت ہے۔ اسی طرح اس کلمہ کو ماننے والوں اور اس کے مطابق زندگی گزارنے والوں کا نمونہ بھی پیش کیا گیا کہ اگر تم اس کلمہ پر ایمان لاتے ہو تو تمہیں کس طرح ایمان لانا چاہیے اور اس کے تقاضے کس طرح پورے کرنے چاہییں، اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اس کا نمونہ مسلمان ہیں۔ ان کا ایک ایک فرد اس کلمے کی تصویر ہے۔ یہی بات اسی سورة کے دوسرے رکوع میں بھی فرمائی گئی ہے : اِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَا اٰمَنَ النَّاسُ ” جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لائو جس طرح لوگ ایمان لائے ہیں “۔ ( یہاں لوگوں سے مراد صحابہ کرام ہیں۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا آدمی ان لوگوں میں شامل ہے) تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس طرح ایمان لائیں جس طرح یہ بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں۔ انھوں نے پوری زندگی ایمان کے حوالے کردی ہے۔ اگر ان کا دین ان سے مال مانگتا ہے تو یہ پیش کردیتے ہیں، ان سے وقت مانگتا ہے تو انھیں انکار نہیں ہوتا، ان سے وطن کی قربانی مانگتا ہے تو وطن چھوڑ دیتے ہیں، انھیں میدانِ جنگ میں بلاتا ہے تو جان تک نذر کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ انھوں نے تو اپنا سب کچھ اس راستے میں لٹادیا ہے، تو یہ تو سراسر دیوانگی ہے، پاگل پن ہے، ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ یہاں بھی یہی فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں اللہ کی رضا عزیز نہیں، تمہیں اپنے گروہی تعصبات عزیز ہیں۔ تمہیں اسلام کی خاطر سب کچھ اللہ کے راستے میں سپرد کردینا گوارہ نہیں کیونکہ اس طرح تمہارے وہ تمام مفادات جو تم نے دین کے نام پر حاصل کر رکھے ہیں وہ ایک ایک کرکے تمہارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے ہدایت کا راستہ اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ اس لیے یہاں فرمایا جارہا ہے کہ اسلام کوئی سیاست بازی نہیں یہ تو دنیا وعقبیٰ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اس میں نہ سخن سازیاں کام آتی ہیں، نہ دکھاوے کی چلت پھرت اور نہ وقت گزاری کے حربے۔ یہ تو پوری زندگی بدلنے کا ایک معاملہ ہے، اس لیے اپنے گروہی تعصبات کو چھوڑ کر اگر اسلام کی طرف آنے کا حوصلہ ہے تو پھر اس طرح آئو جس طرح تم اصحابِ رسول ﷺ کو دیکھ رہے ہو۔ اگر اس طرح اپنے آپ کو بدلوگے تو ہدایت پاجاؤ گے۔ تمہارے دعوے کے مطابق یہودیت اور نصرانیت میں ہدایت نہیں بلکہ ہدایت یکسر اللہ کے احکام کے مطابق اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ سپرد کردینے کا نام ہے اور اسی کو اسلام کہتے ہیں۔ اگر تم یہ روش اختیار کرتے ہو تو تم وہی مقام پالوگے جو اصحابِ رسول کا ہے۔ لیکن اگر تم اس طرح اپنے آپ کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ پھر تمہیں یہود کے بارے میں کھلے ذہن کے ساتھ یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ ان کے ساتھ یکجائی تو دور کی بات ہے معمولی تعلق بھی رکھنا خطرے سے خالی نہیں کیونکہ وہ صاف صاف تمہاری مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ کسی طرح بھی اپنی انفرادیت اسلام میں گم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کی از اول تا آخر یہ کوشش ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو مٹادیں۔ تمہارے دلوں میں اگر ان کے لیے کوئی نرم گوشہ ہے تو اسے نکال دیجئے اور یہ بات سمجھ لیجئے کہ تمہارا ان کے ساتھ یہ تصادم چند دن کی بات نہیں بلکہ یہ ان کی قومی اور ملی پالیسی کا لازمی عنصر ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔ اس کے لیے یہود و نصاریٰ میں اتحاد بھی ہوگا اس کے لیے مشرکین کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے سے بھی انھیں دریغ نہیں ہوگا وہ مسلمانوں کے مقابلے میں ہر قوت کو اپنے ساتھ لے کر چلیں گے۔ یہ ان کی ایک ایسی مستقل پالیسی ہے جو ہمیشہ قائم رہے گی۔ قرآن کریم نے مختلف جگہوں پر اہل کتاب کی اس روش کو نمایاں کیا ہے تاکہ مسلمان اپنی قومی اور ملی پالیسیوں میں ان کی ظاہری روش سے کبھی دھوکہ نہ کھائیں۔ لیکن افسوس ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ بالخصوص پالیسی ساز طبقہ نجانے اس حقیقت کو بار بار کیوں نظر انداز کرتا ہے۔ اقبال نے ان کے گھر میں بیٹھ کر ان کے حسن وقبح کا اندازہ کیا۔ اس نے جیسے جیسے ان کے اندر جھانکا ویسے ویسے بدمزہ ہوتا گیا۔ کبھی تو اس نے اپنی قوم کو توجہ دلانے کے لیے کہا نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے اور کبھی اپنے گہرے تاثر کو اس طرح قلم بند کیا نشستم با، نکویانِ فرنگی ازاں بےسوز تر روزے ندیدم اور فرنگی کے بارے میں اس نے زندگی بھر کے تجربات کو نچوڑتے ہوئے کہا کرے قبول اگر دین مصطفیٰ انگریز سیاہ روز مسلماں رہے گا پھر بھی غلام مسلمانوں کی ذمہ داری یہاں بھی اسی حقیقت سے آگاہ کرنے کے بعد فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں اب فکر ان سے مقابلے کی ہونی چاہیے۔ یہ ہر میدان میں تمہارے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔ لیکن اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، یہ چونکہ سازشی لوگ تھے اور سازشی ہمیشہ بزدل بھی ہوتا ہے۔ یہ بھی سامنے آکر وار کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن درپردہ مسلسل کوشش کرتے رہتے تھے کہ کسی طرح آنحضرت ﷺ پر مہلک وار کریں۔ کئی مرتبہ ان بدبختوں نے حضور کو قتل کرنا چاہا، لیکن ہمیشہ اللہ کی حفاظت نے حضور کو محفوظ رکھا چونکہ ان کا اصل ہدف آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی رہتی تھی اس لیے براہ راست آنحضرت کو خطاب کرکے آپ کو اور مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ اہل کتاب کی روش آپ کے سامنے رہنی چاہیے لیکن گھبرانے کی بات نہیں فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ ” ان کے مقابلے میں تمہارے لیے اللہ کافی ہوگا “۔ یہ اہل کتاب جو کچھ کرتے ہیں انھیں کرنے دیجئے، آپ اللہ کی ہدایت کے مطابق ان کی طرف سے ہوشیار رہتے ہوئے اپنا فرض انجام دیتے رہیے، یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اگر لڑائی آپ کی اور ان کی ہوتی تو پھر شائد کوئی پریشانی کی بات ہوتی مگر جب آپ کی طرف سے اللہ کافی ہے تو پھر آپ کی لڑائی اللہ تعالیٰ خود لڑیں گے اور جس کا سب کچھ اس کا اللہ ہو اسے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ ہزار سازشیں کریں لیکن انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ اسے سنتابھی ہے اور جانتابھی ہے۔ کیونکہ وہ سمیع بھی ہے اور علیم بھی ہے۔
Ayah 2:138

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم اسی کی بندگی کرتے ہیں۔

صِبْغَۃَ اللّٰہِ ج وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً ز وَنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 138) (اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم اسی کی بندگی کرتے ہیں) گزشتہ آیات میں یہود کی طرف سے یہودیت اور نصرانیت کی دعوت کے جواب میں انھیں دعوت دی گئی تھی کہ تم اس طرح اللہ اور رسول پر ایمان لائو جس طرح مسلمان ایمان لائے ہیں۔ یہ ایمان ایسا ہے جس میں تمام سابق انبیاء اور سابقہ شریعتوں پر ایمان بھی شامل ہے۔ اس ایمان میں کسی ذہنی تحفظ، کسی قومی انانیت، اور کسی گروہی انفرادیت کا کوئی جواز نہیں۔ جس طرح مسلمانوں نے تمام انتسابات مٹاکر اور تمام تعصبات کو یکسر ختم کرکے ملت ابراہیم یعنی اللہ کے دین کا دامن پکڑا ہے اور اپنا سب کچھ اس کے سپرد کردیا ہے، تم بھی اسی طرح کلیۃً اسلام کی آغوش میں آجاؤ۔ اب اس آیت کریمہ میں انھیں بتایا جارہا ہے کہ جب تم اس طرح مکمل طور پر اسلام کی آغوش میں آجاؤ گے اور غیر اللہ سے تمام علاقات توڑ لوگے اور ہر طرح کے تحفظات اور تعصبات سے دامن چھڑا لو گے تو پھر تم پر حقیقی معنوں میں وہ رنگ چڑھے گا جسے اللہ کا رنگ کہا جاتا ہے۔ اور تمہاری شخصیت میں وہ نکھا رآئے گا جس پر صرف اللہ کی رحمت کا سایہ ہوگا۔ یہود و نصاریٰ پر تعریض یہاں صبغۃ یعنی رنگ کا لفظ لاکر یہود و نصاریٰ کے رویے پر تعریض بھی ہے کہ تم جب کسی کو یہودی بناتے ہو تو اسے غسل دیتے ہو اور اس سے یہ سمجھتے ہو کہ جس کو غسل دیا گیا ہے اس پر ایک نیا رنگ چڑھ گیا ہے جو یہودیت کا رنگ ہے اور یہی رنگ اللہ کو پیارا ہے۔ لیکن یہ رنگ وہ ہے جسے تم اپنے تخیل میں محسوس تو کرسکتے ہو لیکن اس کا اثر یہودیت قبول کرنے والے پر دور دور تک نہیں ہوتا اور نہ کوئی دوسرا شخص اس آدمی کو کسی دوسری شخصیت میں ڈھلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ بلکہ یہ محض ایک ظاہری اور فارمل کارروائی ہے۔ جسے یہودیت کے نام سے اختیار کررکھا ہے اور جس کا زندگی کی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح عیسائی بھی پیدا ہونے والے بچے کو رنگ دار پانی سے غسل دیتے تھے اور عیسائی ہونے والے کو بھی اسی رنگ دار پانی سے نہلایا جاتا تھا۔ اسے وہ عیسائیت کا رنگ سمجھتے تھے اور اس کا نام اصطباغ رکھتے تھے۔ لیکن یہ رنگ بھی پیدا ہونے والے بچے یا عیسائیت قبول کرنے والے کی شخصیت پر بالکل اثرانداز نہیں ہوتا تھا۔ اللہ کا رنگ عبدیت کا رنگ ہے یہود و نصاریٰ کو یہاں توجہ دلائی جارہی ہے کہ مذہب کے نام پر یہ ظاہری کارروائیاں مذہبی تکلف کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقی تبدیلی جس کے نتیجے میں ایک بہتر انسان وجود میں آتا ہے وہ صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ رنگین پانی کا رنگ نہ چڑھایا جائے بلکہ اللہ کے رنگ میں دل و دماغ کو رنگا جائے ظاہری شخصیت سے لے کر باطنی اور معنوی شخصیت تک صرف اللہ کا رنگ جھلکتا ہوا محسوس ہو یہ وہ رنگ ہے جس سے بڑھ کر کوئی رنگ نہیں۔ یہ رنگ اصل میں عبدیت کا رنگ ہے اس لیے فرمایا وَنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ ’ ’ اور ہم اسی کی بندگی کرتے ہیں “۔ بندہ کا حقیقی رنگ بندگی ہے اور بندگی کا تقاضا سب کچھ اللہ کی اطاعت میں دے دینا، دل کو اس کی محبت سے آباد کرنا اور اپنی پوری شخصیت کو اس طرح اس کے دین میں ڈھال دینا ہے کہ ہر دیکھنے والی نگاہ اس کی بندگی میں اللہ کی کبریائی اور اس کی حاکمیت کی چھاپ دیکھے۔ اس کی ذات اس کے دین کی امین، اسکی صلاحیتیں اس کی رضا کی پاسبان، اس کا اقتدار اس کی حاکمیت کا خادم، اس کی روح اس کے عشق میں سرشار، اس کی عقل اس کے دین کے نور سے روشن اور اس کے راستے میں مرمٹنا اس کی بندگی کی معراج ہو۔ یہ ہے اللہ کا دین اور اس کا رنگ جسے اختیار کرنے سے وہ زندگی نصیب ہوتی ہے جسے اختیار کرنے کی یہود اور نصاریٰ کو دعوت دی جارہی ہے۔
Ayah 2:139

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

کہہ دو ! کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو حالانکہ وہی ہمارا بھی رب ہے وہی تمہارا بھی رب ہے ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں اور ہم خالص اسی کے لیے ہیں۔

قْلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِیْ اللّٰہِ وَھُوَ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ ج وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ج وَنَحْنُ لَہٗ مُخْلِصُوْنَ ۔ (کہہ دو ! کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو حالانکہ وہی ہمارا بھی رب ہے وہی تمہارا بھی رب ہے ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں اور ہم خالص اسی کے لیے ہیں) (البقرۃ : 139) یہود و نصاریٰ سے اظہارِ برأت آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ آپ یہود و نصاریٰ سے کہیے کہ اگر تم اس کلمہ جامعہ کو قبول کرنے اور اللہ کے رنگ کو اختیار کرنے سے انکار کرتے ہو اور تمہیں اپنی روش پر اصرار ہے کہ تم اللہ کے نبیوں میں تفریق اور تقسیم جاری رکھو گے جس کو چاہو گے مانو گے اور جسے چاہو گے انکار کردو گے حالانکہ تم جانتے ہو کہ تمام انبیائے کرام جن کا تمہاری کتابوں میں بھی ذکر ہے اللہ ہی کے بھیجے ہوئے ہیں اور نبی آخرالزمان ﷺ کی تشریف آوری کے بارے میں تمہاری کتاب میں واضح ہدایات موجود ہیں اور ان کی علامات اس لیے بیان کی گئی ہیں تاکہ تمہیں ان کی پہچان میں غلطی نہ لگے۔ لیکن ان تمام حقائق کے باوجوداگر تمہارے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا اصل جھگڑا ہمارے ساتھ پیغمبروں کے بارے میں نہیں بلکہ اللہ کے بارے میں ہے کیونکہ جب تم جانتے ہو کہ انبیائے کرام اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور جن کتابوں کو وہ پیش کررہے ہیں وہ بھی اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں تو پھر ان انبیائے کرام میں سے کسی کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا یہ درحقیقت اللہ کا انکار ہے اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اپنا خدا الگ بنا رکھا ہے حالانکہ اللہ ایک ہے وہی ہمارا رب ہے اور وہی تمہارا رب ہے۔ لیکن اگر تمہارا تعصب اور عناد یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ تم اللہ کی کبریائی کو بھی چیلنج کرنے لگے ہو تو پھر تم سے کسی قسم کی بحث کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ہر بات تو بحث کے قابل نہیں ہوتی اور ہر بحث کرنے والا بحث کا حق بھی نہیں رکھتا، بحث کے یہاں تک پہنچنے کے بعد ہم اس بحث کا دروازہ بند کرتے ہیں۔ البتہ تم سے ایک بات کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ تمہارے اعمال بھی ترازو میں ہیں اور ہمارے اعمال بھی۔ تم اپنے اعمال کے بارے میں اگر سوچنے کے لیے تیار نہیں ہو تو ہم اعلان کیے دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان سب کچھ اپنے اللہ کے حوالے کردیتا ہے۔ اسی کے احکام سے جیتا اور اسی کے احکام پر مرتا ہے۔ آخری چیز جس کی حفاظت سب سے مشکل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ دل و دماغ میں بھی اللہ کے سوا کسی کا خیال نہ ٹھہر سکے۔ وہاں بھی صرف اللہ ہی کی ذات اور اس کی صفات کا بسیراہو۔ ہم اپنے دل و دماغ کو خالص کرتے ہوئے یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے مخلص ہیں۔ ہمارے دلوں کی گہرائی کا حال نہ کسی فرشتے کو معلوم ہے نہ شیطان کو۔ اسے صرف ہمارا رب جانتا ہے ہم اسے بھی اپنے اللہ کے لیے خالص کرچکے ہیں۔
Ayah 2:140

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا تم دعویٰ کرتے ہو کہ ابراہیم، اسمٰعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد یہودی تھے یا نصرانی۔ پوچھو ! تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی کسی شہادت کو جو ان کے پاس ہے چھپائے اور اللہ اس چیز سے بیخبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو۔

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ کَانُوْا ھُوْدًا اَوْنَصٰرٰیط قُلْ ئَ اَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰہُط وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (کیا تم دعویٰ کرتے ہو کہ ابراہیم، اسمٰعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد یہودی تھے یا نصرانی۔ پوچھو ! تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی کسی شہادت کو جو ان کے پاس ہے چھپائے اور اللہ اس چیز سے بیخبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو) (البقرۃ : 140) بحث کو ختم کرتے ہوئے پھر ایک دفعہ یہود و نصاریٰ پر اتمام حجت کی جارہی ہے اور ان سے پوچھا جارہا ہے کہ کیا تم واقعی یہ کہتے ہو کہ حضرت ابراہیم، اسماعیل اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولادیں یہودی تھے یا نصرانی۔ اگر تمہارا اب بھی یہی خیال ہے تو پھر یہ نہائت خطرناک صورتحال ہے کیونکہ تمہاری کتابیں ان حقائق سے بھرپور ہیں کہ یہ تمہارے بزرگ یہودیت اور نصرانیت کے پیدا ہونے سے بہت پہلے گزرے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں اس بات کو پوری طرح واضح کیا ہے کہ وہ سرتاسرمسلم تھے اور ان کا کسی اور انتساب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن تم اپنی کتابوں کی واضح ہدایتوں کے باوجود ان کے یہودی یا نصرانی ہونے پر اصرار کررہے ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا علم اللہ کے علم سے بڑھ کر ہے۔ اگر تم اتنا بڑ ادعویٰ کرنے کی جرات نہیں کرتے بلکہ اللہ ہی کے علم کو اپنے علم سے بڑھ کر سمجھتے ہو تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی کتابوں کی شہادتوں کو چھپا رہے ہو۔ تمہاری کتابیں گواہی دے رہی ہیں کہ اللہ کے تمام نبی یہودی یا نصرانی نہیں، مسلم تھے۔ لیکن تمہیں مسلسل اپنی بات پر اصرا رہے۔ تو پھر یاد رکھو کہ تم جو کچھ کررہے ہو اللہ اس سے غافل نہیں۔ وہ تمہارے کرتوتوں اور شرارتوں کو خوب جانتا ہے وقت آنے پر وہ تمہیں بدترین سزا دے گا۔