Ayah 2:4وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ج
(یہ کتاب ہدایت ہے) ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں، اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی ہے اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے )
قرآن کریم کی ہدایت کے نتیجے میں متقین میں جو صفات پید اہوتی ہیں۔ ان میں سے یہ چوتھی صفت ہے۔ پہلی صفت تھی، ” ایمان بالغیب “ ، دوسری صفت تھی،” اقامت صلوٰۃ “ یعنی عبادت اور تیسری صفت تھی ،” انفاق فی سبیل اللہ “ ، یعنی صدقات واجبہ اور صدقات نافلہ کا ادا کرنا۔ اب یہ چوتھی صفت بیان ہو رہی ہے کہ متقی وہ لوگ ہیں، جو ہر اس چیز پر ایمان لاتے ہیں، جو آپ ﷺ کی طرف نازل کی گئی ہے اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ہے۔
آنحضرت ﷺ سے پہلے کم وبیش تین سو تیرہ یا تین سو چودہ رسول آئے۔ رسول وہ ہوتا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نئی کتاب یا نیا صحیفہ نازل فرماتا ہے۔ جس کے ذریعے وہ نئی شریعت یا حکمت شریعت عطا فرماتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے نزول سے پہلے تین سو تیرہ یاتین سو چودہ کتابیں یا صحیفے نازل ہوچکے تھے۔ یہاں فرمایا جارہا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیمات کے فیض سے ایک مومن میں جو ذہن اور ذوق تیار ہوتا ہے، اس میں یہ بات پیوست ہوتی ہے کہ مجھے ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کو قبول کرنا ہے اور اس پر ایمان لانا ہے۔ وہ جب بھی نازل ہو اور جہاں بھی نازل ہو چونکہ ایک ہی سرچشمہ ہدایت سے وہ نکلنے والی تعلیم ہے، میں اس پر ایمان لائوں گا۔ اس لیے یہاں فرمایا گیا ہے کہ جو کچھ حضور پر نازل کیا گیا ہے، قرآن سے استفادہ کرنے والے اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور جو کتابیں آپ ﷺ سے پہلے نازل ہوچکی ہیں، انھیں بھی وہ اللہ کی کتابیں تسلیم کرتے ہیں۔ اگر مزید تدبر سے کام لیں، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں چند باتوں کی طرف رہنمائی فرمائی گئی ہے۔
1 انسان اگرچہ حواس اور عقل کی دولت رکھتا ہے اور وہ عقل کی مدد سے وہ کچھ جان لیتا ہے اور وہاں تک اس کی رسائی ہوجاتی ہے، جہاں کسی اور مخلوق کا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن اپنے دل و دماغ کی تمام تر قوت کے باوجود وہ اس قابل نہیں ہے، کہ وہ یہ جان سکے کہ میرا خالق ومالک کن باتوں میں راضی ہوتا ہے اور کن باتوں میں ناراض۔ اسے زندگی گزارنے کے لیے ایسا نظام فکر اور نظام عمل در کر ہے جو اس کی دنیا وعقبیٰ کی کامیابی کا ضامن ہو، ظاہر ہے کہ جو عقل کے بل بوتے پر تجویز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ عقل اپنی تمام تر خوبیوں اور رعنائیوں کے باوجود، زندگی کے ہر معاملے میں رہنمائی دینے کے قابل نہیں۔ اس کا دائرئہ فکر محسوسات اور معقولات کی دنیا تک محدود ہے اور انسانی زندگی کا تعلق چونکہ مابعد الطبیعات سے بھی ہے اور اس کی روحانی زندگی کے ڈانڈے چونکہ عالم الہٰیات اور عالم غیب سے بھی علاقہ رکھتے ہیں۔ اس لیے صرف عقل کی مدد سے ان ضرورتوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا۔ مزید براں یہ کہ زندگی کے اجتماعی معاملات میں، چونکہ انسانی عقلوں میں بہت تفاوت ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی کہ عقل جذبات، خواہشات اور مفادات کی ہوس سے عموماً مغلوب و مقہور ہوجاتی ہے۔ اس لیے اخلاقی دنیا میں اور انسان کی اجتماعی اقدار میں، عقل سے رہنمائی لینا، نہ قابل عمل ہے اور نہ خطرے سے خالی ہے۔ لیکن جو آدمی یا جو معاشرہ، اس بات پر یقین رکھتاہو کہ مجھے وحی الہٰی کی رہنمائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ میری رہنمائی کے لیے میری عقل کفایت کرتی ہے اور یا وہ یہ سمجھتا ہو کہ انسان از خود ترقی کرکے براہ راست اللہ سے راہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔ تو اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ایسے شخص کے لیے قرآن کریم میں کوئی ہدایت نہیں۔
2 جو آدمی وحی الہٰی کی راہنمائی کی ضرورت کا قائل تو ہو، لیکن قومی تعصب کا شکار ہو کر یہ سمجھے کہ میں تو اس وحی الہٰی کو تسلیم کروں گا، جو اس ذات گرامی پر نازل ہوئی تھی، جسے میں اپنا رسول سمجھتا ہوں اور اس کے علاوہ اگر یہ وحی کسی اور پر نازل ہوتی ہے، تو میں اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ جس طرح اہل کتاب آسمانی رہنمائی کو تسلیم کرتے تھے۔ یہود تورات کو مانتے تھے اور عیسائی انجیل کو۔ لیکن جب انھیں قرآن کریم پر ایمان لانے کے لیے کہا جاتا، کہ تم جانتے ہو کہ یہ بھی اللہ کی کتاب ہے اور اس کی صداقت کی گواہی تمہاری کتابوں میں موجود ہے۔ تو وہ صاف کہتے کہ ہم تو صرف اس کتاب کو مانتے ہیں، جسے ہم پر نازل کیا گیا تھا۔ اس لیے ہم اس کے علاوہ کسی اور رسول پر اترنے والی کتاب کو ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ قرآن کریم نے ان کی اس گمراہی کو ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَا اُنْزِلَ اللّٰہُ قَالُوْانُؤْمِنُ بِمَا اَنْزَلَ عَلَیْنَا وَیَکْفُرُوْنَ بِمَا وَرَائَـہٗ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لائو اس پر جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں، جو ہم پر نازل کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ نازل کیا گیا ہے، اس سے کفر کرتے ہیں) ۔ یعنی اصلاً وہ لوگ گروہی تعصب کا شکار ہیں۔ ان کے نزدیک رہنمائی کے لیے اللہ کی طرف سے کتاب کا آنا کافی نہیں، بلکہ اس کتاب کا ان کے اپنے گروہ پر اترنا ضروری ہے۔ یہاں یہ فرمایا جارہا ہے کہ جو لوگ اصل سرچشمہء ہدایت سے تعلق نہیں رکھتے، بلکہ صرف اپنی کتاب کو ماننے کے دعوے دار ہیں، وہ اس قرآن کریم کی ہدایت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔
3 اس آیت کے الفاظ پر غور کیجئے، یومنون بالقرآن نہیں کہا، بلکہ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ فرمایا گیا ہے۔ یعنی قرآن کریم سے استفادہ کرنے والے وہ لوگ ہیں، جو ہر اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں، جو آپ ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔ اگر یہاں قرآن کریم کا نام لیا جاتا، تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن فرمایا یہ جارہا ہے کہ وہ ہر اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں، جو آپ ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح وہ قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ وہ آپ ﷺ پر اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اسی طرح وہ حدیث اور سنت پر بھی ایمان رکھتے ہیں کیونکہ اس کا مفہوم ومعنی بھی آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کی جانب سے ہیں۔ لیکن حدیث کا معنی اور مفہوم اللہ کی جانب سے نازل ہوتا رہا ہے، لیکن اس کے الفاظ حضور ﷺ کے اپنے ہیں۔ چناچہ یہاں یہ فرمایا جارہا ہے، کہ وہ لوگ صرف قرآن پاک پر ایمان لانے کو کافی نہیں سمجھتے، بلکہ قرآن پاک کی عملی تشریح اور اس کے مبہمات کی وضاحت اور اس کے مجملات کی تفصیل جو حدیث کی شکل میں ہے، اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حدیث کو نظر انداز کرکے نہ قرآن پاک کو سمجھنا ممکن ہے اور نہ اس پر عمل کرنا۔ اور جو شخص حدیث کا انکار کرتا ہے اور صرف قرآن پاک کو کافی سمجھتا ہے، وہ قرآن پاک کی ہدایت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
ختم نبوت کی طرف اشارہ
4 آیت کے اس حصے میں آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کی طرف بھی اشارہ ہے کیونکہ اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ متقی وہ لوگ ہیں، جو ہر اس چیز پر ایمان لاتے ہیں، جو آپ ﷺ پر نازل کی گئی ہے اور جو آپ ﷺ سے پہلے نازل کی گئی ہے۔ حالانکہ جو کتابیں پہلے نازل ہوئی ہیں، وہ اپنا زمانہ گزار چکی ہیں۔ تحریف اور ترمیم کا شکار ہو کر اپنی اصل حیثیت کھو بیٹھی ہیں۔ ان میں بیان کردہ اللہ کی شریعت کے متعدد احکام مٹادیئے گئے یا بدل دیئے گئے، اس لیے قرآن کریم کے آنے کے بعد وہ منسوخ ہوگئیں۔ اب اگر کوئی شخص ان پر ایمان نہیں لاتاتو بظاہر قرآن پر ایمان لانے کے بعد، شرعی زندگی میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا اور اللہ کی عطاکردہ رہنمائی میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی کیونکہ قرآن کریم کی رہنمائی اپنے وقت نزول سے لیکر قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے کافی وشافی ہے۔ با ایں ہمہ قرآن کریم ان پر ایمان لانے کو لازمی قرار دیتا ہے، کیونکہ آج اگرچہ ان پر عمل کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ قابل عمل نہیں رہیں۔ لیکن ان پر ایمان لانا بہر حال ضروری ہے، کیونکہ وہ بہرصورت اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔ ان پر ایمان نہ لانے کا مطلب اللہ پر ایمان نہ لانے کے مترادف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کتاب کسی دور میں بھی نازل ہو، اس پر ایمان لانا اس لیے ضروری ہے کہ اس پر ایمان لانا اللہ پر ایمان لانے کو مستلزم ہے اور اس کو نہ ماننے کا مطلب اللہ کا انکار کرنا ہے۔ اگر یہ بات سمجھ لی جائے، تو پھر یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہتا کہ اگر آنحضرت ﷺ کے بعد بھی اگر کسی رسول کو آنا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ قرآن کریم اس کا ذکر نہ کرتا۔ کیونکہ جب سابقہ رسول اور کتابیں، جن پر ایمان لانا یا نہ لانا عملی طور پر برابر ہے۔ ان کا ذکر پورے اہتمام سے کیا جارہا ہے، تو آئندہ آنے والے رسول اور اس پر اترنے والی کتاب کا تذکرہ یقینا بےحد اہمیت کا حامل تھا کیونکہ آئندہ آنے والی نسلوں کا ایمان و عمل اسی سے وابستہ تھا اور ان کی دنیوی اور اخروی کامیابیوں کا دارومدار یقینا اسی پر تھا۔ لیکن پورا قرآن کریم پڑھ جائیے، آپ کو بیسیوں جگہ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ سابقہ کتب اور سابقہ پیغمبروں پر ایمان لانے کا ذکر ملے گا۔ لیکن کہیں بھی آپ یہ نہیں دیکھیں گے کہ کسی آنے والے پیغمبر اور اس پر نازل ہونے والی کتاب پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہو۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جس طرح سابقہ آسمانی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کے آنے کی خبر دی گئی، اگر آپ ﷺ کے بعد بھی کسی کو آنا ہوتا، تو یقینا قرآن کریم اس کی بھی خبر دیتا اور اس پرا یمان لانے کو لازم ٹھہراتا اور اس آیت کریمہ میں وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ کے بعد وماینزل بعدک کا لفظ ہوتا۔
وَبِالآْخِرَۃِ ھُمْ یُؤْقِنُوْنَ (البقرۃ : 4)
(اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں)
سورة فاتحہ کی توضیح و تفصیل کے ضمن میں آخرت پر مفصل گفتگو ہوچکی ہے۔ اس لیے اب اسے دہرانا مناسب نہیں۔ البتہ اختصار کے ساتھ چند باتوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
1 غیب میں آخرت بھی شامل ہے۔ جو آدمی غیب پر ایمان رکھتا ہے، وہ یقینا آخرت کو بھی مانتا ہے۔ لیکن اس کا مستقلاً الگ ذکر کرنا، یہ معنی رکھتا ہے کہ قرآن کریم جو انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے اور انسانی زندگی میں جس تبدیلی کا داعی ہے، اس کے لیے آخرت پر یقین بےحد ضروری ہے۔ اللہ، اس کے رسول ﷺ اور قرآن کو ماننا یقینا ہدایت کی بنیاد ہے۔ لیکن جب تک آخرت کی فکر دل و دماغ میں راسخ نہیں ہوتی، اس وقت تک اللہ کی ذات وصفات کا صحیح استحضار اور قرآن کریم سے صحیح استفادہ اور ذات رسالت مآب ﷺ سے صحیح وابستگی پیدا نہیں ہوتی۔
2 آخرت کا معنی تو ہے دوسری زندگی۔ جو قیامت کے بعد جن وانس کو ملے گی، لیکن اس کا اطلاق چند عقائد و حقائق پر ہے۔ ان میں سے ہر ایک پر یقین آخرت کے یقین کو مکمل کرتا ہے۔
1 ان میں سے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں میں یہ تصور پیدا کرتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے غیر ذمہ دار نہیں بنایا۔ وہ کوئی خود کاشتہ پودا نہیں، جو یونہی مَل دَل کے ختم ہوجائے اور نہ وہ شتر بےمہار ہے جو جدھر منہ اٹھائے چلتا پھرے۔ بلکہ اس کی زندگی کا مقصد ہے اور اس مقصد کے مطابق زندگی گزارنے کا اسے پابند بنایا گیا ہے۔ قیامت کے دن جسے آخرت کہا گیا ہے، اس سے اس مقصد کے حوالے سے باز پرس ہوگی۔ مختصر یہ کہ بازپرس کا یقین رکھنا اور اس کے لیے ایک دن کے آنے کا یقین رکھنا یہ آخرت کا پہلا تصور ہے۔
2 دوسری بات یہ کہ دنیا کا موجودہ نظام اور دنیا کی یہ زندگی دائمی اور ابدی نہیں۔ ایک وقت ایسا آئیگا جب یہ پورا کارخانہ تباہ ہوجائے گا۔ زمین پھٹ جائے گی آسمان ٹوٹ پھوٹ جائیں گے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ ہر طرف تباہی اور موت کی حکومت ہوگی۔
3 تیسری بات یہ کہ جس طرح دنیاکو موت کا شکار ہونا ہے اور اس زندگی کو ہمیشہ باقی نہیں رہنا، اسی طرح یہ تباہی اور بربادی بھی ہمیشہ نہیں رہے گی اس دنیا کے خاتمے کے ایک عرصے بعد اللہ تعالیٰ ایک دوسرا عالم بنائے گا اور اس میں تمام نوع انسانی کو جو ابتدائِ آفرینش سے لے کر قیامت تک زمین پر پید اہوئی تھی، بیک وقت دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا اور پھر انھیں میدانِ حشر میں جمع کیا جائے گا۔ جہاں سب کے اعمال کا حساب ہوگا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔
4 چوتھی بات یہ کہ جو لوگ اللہ کے فیصلے کے نتیجے میں نیک قرار پائیں گے، وہ جنت میں جائیں گے اور ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جو لوگ اپنی بد اعمالیوں کے باعث بد ثابت ہوں گے، وہ جہنم کی نذر کردیئے جائیں گے۔
5 پانچویں یہ بات کہ قیامت کے دن کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ایمان وعمل پر ہوگا۔ جس نے زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گذاری ہوگی، وہ کامیاب ٹھہرے گا۔ کیونکہ کامیابی اور ناکامی کا دارومدار موجودہ زندگی کی خوشحالی یا بدحالی پر نہیں، بلکہ حقیقی کامیاب وہ ہے، جو آخرت میں جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا۔ دنیا میں اگر کسی نے کبھی خوشی نہیں دیکھی اور ساری زندگی دکھوں میں گذاری۔ لیکن اس کی پوری زندگی پر ایمان وعمل کی حکمرانی رہی اور اس نے ہمیشہ اپنے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کی، تو اس کی دنیا کی محرومیاں آخرت میں اس کے لیے توشہ ثابت ہوں گی۔ لیکن جس نے دنیا میں عیش و عشرت میں زندگی گذاری، اس کا یہ عیش و عشرت قیامت میں اس کے لیے حسرت کا سامان بن جائے گا۔
یہ چند عقائد اور حقائق ہیں جن پر یقین رکھنے کو ایمان بالآخرت کہتے ہیں۔
یہاں غور فرمائیے کہ آخرت کے ساتھ ” ایمان “ کے لفظ کی بجائے ” ایقان “ کا لفظ آیا ہے یہ نہیں کہا یُؤْمِنُوْنَ بِالْآخِرَۃِ (وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں) بلکہ فرمایا وَبِالآْخِرَۃِ ھُمْ یُؤْقِنُوْنَ (وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ) ۔
ایمان اور ایقان میں فرق
” ایمان “ کے معنی تصدیق کرنے اور مان لینے کے ہیں۔ اس کی ضد کفر و انکار اور تکذیب ہے۔” ایقان “ کا معنی یقین کرنے کے ہیں۔ اس کی ضد گمان اور شک ہے۔ جس طرح کسی شے پر یقین رکھنے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی اس پر ایمان بھی رکھتاہو، اسی طرح کسی چیز پر ایمان رکھنے کے لیے اس پر یقین کرنا شرط نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آدمی کا ایمان محض گمان غالب پر مبنی ہو اور وہ آہستہ آہستہ گمان کی منزل سے نکل کر یقین کی منزل تک پہنچ جائے اور اس طرح اس کے ایمان کی تکمیل ہوجائے۔ دونوں کی مثالیں قرآن کریم اور تاریخ میں موجود ہیں۔ فرعون اور آل فرعون کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ ان لوگوں نے مسلسل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر دل سے یقین کرلیا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن وہ اپنی سرکشی اور ظلم کے باعث ایمان لانے سے محروم رہے۔ ابو جہل کی یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ میں محمد (e) کو جھوٹا نہیں کہتا، میں جانتا ہوں اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، لیکن میں اس پر ایمان اس لیے نہیں لاسکتا کہ ایمان لانے کے بعد بنی ہاشم کا قبیلہ ہمیشہ کے لیے ہم سے بڑھ جائے گا اور مزید یہ کہ ہمیں جو عزت حاصل ہے، وہ ایمان لانے کے بعد باقی نہیں رہے گی، کیونکہ اسلام تو ہر طرح کے تفاوت کو ختم کردیتا ہے۔ وہاں تو صرف تقویٰ سے عزت ملتی ہے، خاندانی انتساب سے کچھ نہیں ملتا۔ دور نہ جائیے، برطانیہ کا مشہور ادیب برناڈ شا، اسلام کو سچا مذہب سمجھتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ آج کے دور میں اگر کوئی مذہب چل سکتا ہے، تو وہ صرف اسلام ہے اور اگر کوئی شخصیت آج کے دور کی رہنما ہوسکتی ہے، تو وہ صرف محمد ﷺ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ مسلمان نہ ہوا اور ایسا تو بارہا ہوتا ہے کہ آدمی غالب گمان پر کسی چیز کو تسلیم کرلیتا ہے، لیکن پھر تجربے سے اس کا غالب گمان یقین میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یقینا ایسے لوگ قرن اول میں بھی ہوں گے کہ جو جب ایمان لائے تو یقین کی معراج پر نہ تھے۔ بالخصوص فتح مکہ کے موقع پر ایمان لانے والوں میں ایسے لوگوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ لیکن رفتہ رفتہ ان کا ایمان یقین کی صورت اختیار کرگیا۔ یقین بہرحال انسانی شعور اور انسانی احساسات کی سب سے اعلیٰ منزل ہے۔ اس کے بعد عمل، ایثار اور شہادت کے راستے میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی، تو آخرت پر ایمان لانے کو اسی یقین کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ کیونکہ آخرت کا عقیدہ ہی فرد اور قوم دونوں کی زندگیوں میں انقلاب کا سبب بنتا ہے۔ جس آدمی کو یقین آجائے کہ مجھے اپنے ایک ایک عمل اور زندگی کے ایک ایک لمحے کا اللہ کو حساب دینا ہے اور کچھ پتہ نہیں کہ کب اللہ کی طرف سے بلاوا آجائے، ایسا شخص کبھی گناہ کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔
Ayah 2:5اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ ق وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (البقرۃ : 5)
(یہی لوگ ہیں، جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہیں، جو کامیاب ہیں)
ہدایت کا تکمیلی مفہوم
جن لوگوں نے پورے احساس اور شعور کے ساتھ قرآن پاک سے استفادہ کیا اور جس کے نتیجے میں ان کے اندر متذکرہ بالا صفات پیدا ہوگئیں یہی وہ لوگ ہیں، جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ یہاں ہدایت اپنے تکمیلی مفہوم میں ہے۔ یعنی یہی وہ لوگ ہیں، جن کے لیے قرآن پاک کے دیئے ہوئے نظام زندگی پر چلنا آسان ہوجاتا ہے۔ جنھیں قلبی نور اور بصیرت عطا ہوتی ہے، نہ ان کی فکر میں کوئی کجی ہوتی ہے اور نہ ان کے عمل میں کوئی کو تاہی۔ اللہ کے ہر حکم اور قرآن کریم کی ہر آیت سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن کی ہر بات انھیں اپنے دل کی آواز محسوس ہوتی ہے وہ اسلامی زندگی کے تقاضوں کی طرف لپکتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اللہ ان کو دنیا میں بھی فلاح کی دولت سے نوازتا ہے اور آخرت میں بھی فلاح ان کا نصیب ہوگی۔ اہل لغت کہتے ہیں کہ فلاح کا لفظ دنیا اور آخرت کی ہر طرح کی بھلائیوں کو محیط ہے۔ دنیا میں جب کسی شخص یا کسی معاشرے کے افراد کو یہ فلاح کی دولت ملتی ہے، تو وہ ہر طرح سے آسودہ ہوجاتے ہیں اور قیامت کے دن اللہ کے فضل و عنایت سے وہ اس طرح نہال ہوں گے کہ ان کے تصور کے پیمانے ان نعمتوں اور خوشیوں کو ناپنے سے قاصر رہ جائیں گے۔
Ayah 2:6اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاسَوَآئٌ عَلَیْھِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْ ھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ ۔ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْط وَعَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ ز وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔
(البقرۃ : 6 تا 7)
(جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے یکساں ہے ڈرائو یا نہ ڈرائو۔ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے )
انسانوں میں کوئی تفریق نہیں سوائے ایمان اور کفر کے
اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام انسان ایک وحدت میں شریک ہیں۔ جس کی بنیاد وحدت رب اور وحدت اب ہے یعنی ان کا رب بھی ایک ہے اور ان کا باپ (حضرت آدم۔ ) بھی ایک ہے۔ اس لحاظ سے انسانوں میں کوئی تقسیم نہیں کوئی انسان کسی جغرافیائی علاقے سے تعلق رکھتاہو، رنگ اس کا کوئی سا بھی ہو، وہ تعلیم یافتہ ہو یا جاہل، دولت مند ہو یا نان شبینہ کا محتاج، انسان ہونے کے اعتبار سے وہ اسی زنجیر کی ایک کڑی ہے جسے ہم نوع انسانی کہتے ہیں۔ انسانی حقوق میں رنگ و نسل اور جغرافیہ کے حوالے سے کوئی فرق نہیں۔ جو حقوق ابوبکر وعمر ( رض) کو خالص عرب ہونے کے لحاظ سے حاصل ہیں وہی حقوق بلال حبشی، صہیب رومی، حسن بصری اور سلمان فارسی کو حاصل ہیں۔ البتہ ایک تقسیم ہے، جس کا اسلام قائل ہے اور وہ اس تقسیم پر اصرار بھی کرتا ہے اور اس کے علاوہ ہر تقسیم کو قبول کرنے سے یکسر انکار کرتا ہے۔ وہ تقسیم ہے، مومن اور کافر کی۔ چونکہ یہ کائنات اللہ کی ملکیت ہے، اس زمین اور اس پر بسنے والوں پر اللہ کی حاکمیت ہے اس حاکم کی مخلوقات میں جن وانس کو مکلف مخلوق بنایا گیا ہے۔ کسی انسان اور کسی جن کو انسان اور جن ہونے کے لحاظ سے تو کسی پر کوئی برتری نہیں، البتہ ان میں اگر کوئی فرق ہوسکتا ہے تو وہ ان کے حاکم حقیقی کے اعتبار سے ہوسکتا ہے۔ جس طرح کسی ملک میں رہنے والے شہری، اس وقت تک سب برابر ہیں۔ جب تک وہ اس ملک کے اقتدار کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن جب ان میں سے کوئی اس ملک کی مقتدرذات کا انکار کردیتا ہے، تو وہ فوراً دوسروں سے الگ ہوجاتا ہے۔ ملک کا قانون حرکت میں آتا ہے اور اب انکار کرنے والے کے ساتھ بالکل مختلف سلوک ہوتا ہے۔ یہی حال اس زمین پر بسنے والوں کا بھی ہے کہ ان میں سے جو لوگ اللہ کی حاکمیت کو اور اس کے دیئے ہوئے قانون کو تسلیم کرکے مومن بن جاتے ہیں۔ تو وہ اللہ کے پسندیدہ بندے ٹھہرتے ہیں اور جو اسے ماننے یا اس کے قانون کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں، تو انہیں منکر اور باغی قرار دے کر اپنے پسندیدہ اور فرماں بردار بندوں سے الگ کردیا جاتا ہے۔ پیش نظر آیات میں اسی بنیادی حقیقت کے اعتبار سے انسانوں کی تقسیم کی گئی ہے۔ پہلی چار آیتوں میں، ان انسانوں کا ذکر کیا گیا ہے، جو اللہ کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور دنیوی اور اخروی کامیابیاں جن کا مقدر ہیں۔ اور ان آیات میں ان لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جو اللہ کے ناپسندیدہ بندے ہیں۔ وہ اپنی محنت اور صلاحیت سے دنیا میں بظاہر کیسی ہی کامیابی حاصل کرلیں، لیکن آخر کار وہ اللہ کی طرف سے عذاب عظیم کا شکار ہوں گے۔ پیش نظر دو آیتوں میں ان نا مقبول بندوں کی ایک حالت یا ایک قسم کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے بعد مسلسل تیرہ آیات میں انہی نامقبول بندوں میں سے دوسری قسم کے لوگوں کے حالات اور خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ انھیں پڑھتے ہوئے ایک قاری کو مسلسل اپنی حالت پر نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ کے مقبول بندوں کی جو پانچ بنیادی صفات بیان کی گئی ہیں، کیا یہ صفات میرے اندر ہیں یان ہیں اور اگر اس اعتبار سے کوئی کمی محسوس ہو تو فوراً اس کے ازالے کے لیے فکر مند ہونا چاہیے اور پھر نامقبول بندوں کی دونوں قسموں کو، جس طرح پندرہ آیات میں بیان کیا گیا ہے، اسے پڑھتے ہوئے مسلسل اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ان میں سے کوئی خرابی میرے اندر تو موجود نہیں اور اگر کسی ایسی بری صفت کا اپنے اندر شبہ بھی ہو تو اسے دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے۔ اسی طرح اپنی حالت کے ساتھ ساتھ امت کی حالت کا جائزہ بھی لیتے رہنا چاہیے کہ قرآن کریم کے بیان کردہ اس معیار کے حوالے سے امت کہاں کھڑی ہے اور اس لحاظ سے مجھ پر کیا ذمہ داریاں ہیں، کیونکہ قیامت کے دن جس طرح آدمی ذاتی زندگی کے بارے میں مسئول اور ماخوذ ہوگا اسی طرح اپنے گردو پیش، اپنے زیر اثر اور اپنے دائرہ کار کے بارے میں بھی اسے جواب دہی کرنا پڑے گی۔
کفر کا معنی اور مفہوم
اب ہم پیش نظر آیات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے الفاظ کو دیکھئے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (بےشک جن لوگوں نے کفر کیا “ کفر کے اصل معنی ڈھانکنے اور چھپانے کے ہیں۔ قرآن کریم نے اسے دو طرح استعمال کیا ہے۔ کبھی شکر کی ضد کی حیثیت سے اور کبھی ایمان کی ضد کی حیثیت سے۔ اگر شکر کی ضد کی حیثیت سے استعمال ہو تو پھر اس کا معنی ہوتا ہے ناشکری، مثلاً : لَئِنْ شَکَرْتُمْ لاَ زِیْدَنَّـکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْد (اگر تم شکر کروگے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر کفر یعنی ناشکری کروگے تو میرا عذاب بڑا شدید ہے) ۔ یہاں دیکھئے کفر ناشکری کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور اگر ایمان کی ضد کی حیثیت سے استعمال ہوا تو پھر اس کا معنی ہے انکار کرنا اور کفر کرنا۔ جیسے فَمِنْکُمْ کَافِرُوَمِنْکُمْ مُؤْمِنْ (تم میں سے کافر بھی ہیں اور مومن بھی “۔ یعنی ایمان لانے والے بھی اور انکار کرنے والے بھی تو یہاں کفر انکار کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کبھی یہ لفظ مطلق، یعنی بغیر مفعول کے استعمال ہوا ہے اور کبھی مفعول کے ساتھ۔ جہاں مفعول کے ساتھ استعمال ہوا ہے وہاں تو متعین طور پر اس مفعول ہی کا کفر و انکار مراد ہوگا۔ لیکن جہاں کہیں کسی مفعول کے بغیر مطلق صورت میں استعمال ہوا ہے، وہاں بالعموم ان تمام ضروریات دین کے انکار کے معنی میں استعمال ہوا ہے جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔
سَوَآئٌ عَلَیْھِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُم ! سَوَآئٌ۔ فَعَالٌ کے وزن پر ہے۔ اس کے بنیادی معنی تو ہیں، برابری یا برابر ہونا۔ پھر یہ مصدر اسم فاعل کے معنی میں یعنی برابر ہونے والا، بطور صفت یاظرف استعمال ہوتا ہے۔ اور اس طرح اس میں ” برابر، درمیان، ٹھیک درمیان، یکساں، وسط یا مثل “ کے معنی پیدا ہوتے ہیں، مثلاً ثَوْبٌ سَوَائٌ۔ ایسا کپڑا جس کا طول وعرض برابر ہو۔ یا سَوَائُ النَّہَار۔” دن کا ٹھیک درمیان یعنی دوپہر “۔ لفظ سوائٌ مصدر ہونے کی بناء پر واحد تثنیہ جمع اور مذکر مونث سب کے لیے یکساں رہتا ہے۔ سوائٌ علیھم کا معنی ہوگا، برابر ہے ان پر یا یکساں ہے ان پر یا یکساں ہے ان کے حق میں۔ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ ۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ اور اس کے معنی ہوتے ہیں ” کیا “۔ لیکن جب اس کا استعمال سوائٌ کے ساتھ ہوتا ہے، تو پھر اس ہمزہ کو ہمزۃ التسویہ کہتے ہیں۔ اس صورت میں ہمزہ کا معنی کیا نہیں ہوتا، بلکہ خواہ یا چاہے کے ساتھ کیا جاتا ہے اور اردو میں اسی چاہے یا خواہ کی تکرار ہوتی ہے۔ یا اس تکرار کی بجائے درمیان میں ایک یا استعمال کرتے ہیں۔ مگر عربی میں دوسرے خواہ یا چاہے کے لیے ” اَم “ لے آتے ہیں۔ جیسے آیت کے اس جملے میں ہے۔ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمکا معنی ہوگا۔” آپ چاہے انھیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں “۔ یعنی انھیں ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ الفاظ کی اس وضاحت کے بعد ہم آیت کے مفہوم اور مراد پر غور کرتے ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سے کون مراد ہیں
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاسے بظاہر اندازہ نہیں ہوتا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں۔ کیونکہ یہاں کفروا کا لفظ مطلق استعمال ہوا ہے۔ لیکن اس کے بعد ان لوگوں کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں سارے کافر مراد نہیں بلکہ اس سے کوئی خاص گروہ مراد ہے۔ ان کی پہلی صفت یہ بیان ہوئی ہے۔ کہ انھیں ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے وہ کسی صورت میں بھی ایمان لانے والے نہیں اور دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کردی گئی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے گئے ہیں۔ ان صفات کو دیکھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ حال سارے کافروں کا نہ تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت تمام لوگ کافر تھے۔ لیکن آپ ﷺ کی تبلیغ و دعوت کے نتیجے میں رفتہ رفتہ ہزاروں لوگ مسلمان ہوئے۔ اگر اس آیت سے سارے کافر مراد ہوتے تو پھر کسی کو بھی مسلمان نہیں ہونا چاہیے تھا اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے وہ کافر مراد ہیں جنھوں نے اپنے دل و دماغ کے دروازے آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کے لیے بند کردئیے تھے۔ وہ آپ ﷺ کی کسی بات کے سننے کے روادار نہ تھے۔ اس کی نہائت نمایاں مثال دیکھنی ہو تو طائف کے سرداروں کا حال پڑھ لیجئے۔ جن کے پاس حضور ﷺ اسلام کی دعوت لے کر گئے تھے۔ انھوں نے کس طرح آپ ﷺ کی بات سننے سے انکار کیا۔ اہل کتاب کا حال تو اور بھی زیادہ برا تھا، کہ وہ آپ ﷺ کی ذات، آپ ﷺ کی دعوت اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کو اپنی کتابوں میں بیان کردہ علامتوں کے باعث اچھی طرح پہچانتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ ایمان لانے کے لیے کسی طرح تیار نہ تھے۔ آنحضرت ﷺ کی ایک زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت صفیہ ( رض) بنو نضیر کے سردار کی بیٹی تھیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو میرے والد اور چچا، آپ ﷺ سے ملنے کے لیے گئے۔ آپ ﷺ سے ملاقات کے بعد جب لوٹ کے گھر آئے تو چچا نے بڑے بھائی سے پوچھا کہ آپ کا ان صاحب کے بارے میں کیا خیال ہے۔ اس نے کہا کہ یہ یقینا وہی پیغمبر ہے جس کا ذکر ہماری کتابوں میں ہے۔ چھوٹے بھائی نے پوچھا کہ تو پھر کیا ارادہ ہے، جواب ملا کہ جب تک جان میں جان ہے اس کی بات چلنے نہیں دوں گا۔ سردارانِ قریش کا حال بھی اس سے مختلف نہ تھا ان میں بیشتر لوگ آپ ﷺ کی دعوت کو سچا سمجھتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ نے کبھی زندگی بھر جھوٹ نہیں بولا۔ آپ ﷺ کی پاکیزہ زندگی کا ایک ایک لمحہ آپ ﷺ کی سچائی کی گواہی دیتا تھا۔ باایں ہمہ وہ ایمان لانے کے لیے ہرگز تیار نہ تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب ہوں یا عمائدین قریش یا مدینہ کے منافقین کے رئیس یہ تمام لوگ اس آیت کا مصداق ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے اس کا مصداق اہل کتاب کے ان ہٹ دھرم لوگوں کو ٹھہرایا ہے، جو ان تمام پیشگوئیوں کو جھٹلاچکے تھے، جو نبی کریم ﷺ کے بارے میں ان کے صحیفوں میں موجود تھیں۔ اور حضرت ربیع بن انس ( رض) کے نزدیک اس سے ان مختلف پارٹیوں کے لیڈر مراد ہیں، جو اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ مقصود دونوں کا ایک ہی ہے۔ البتہ حضرت ربیع بن انس کی بات زیادہ جامع معلوم ہوتی ہے اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی صداقت کو پہچان چکے تھے اور آپ ﷺ کی حقانیت کے دل سے معترف تھے تو پھر آخر انکار میں وہ اتنے شدید کیوں تھے ؟ دوسری آیت کریمہ میں (خَتَمَ ) کے لفظ سے اس کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ لیکن اس کی وضاحت کرنے سے پہلے ہم ایک اور بات کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں آپ نے یہ لفظ پڑھا ہے ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْ ھُم کہ آپ انھیں انذار کریں یا نہ کریں، یہ انذار کیا ہے ؟ کیونکہ اس سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوتی ہے۔
انذارکا مفہوم
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کے اسلوبِ تبلیغ و دعوت میں تین باتیں نمایاں ہیں۔ کہیں تو وہ اپنا نقطہ نگاہ سمجھانے کے لیے دلائل سے کام لیتا ہے۔ کبھی آفاقی دلائل پیش کرتا ہے اور کبھی انفسی دلائل اور کبھی کبھی مخاطب کے مسلمات کو دلیل بناتا ہے اور کہیں جب اولوالباب کو خطاب کرتا ہے۔ تو عقلی اور فطری مقدمات سے بھی کام لیتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی دعوت کا زیادہ زور تبشیر اور انذار کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یعنی کبھی وہ دلوں کو مائل کرنے کے لیے یہ کہتا ہے کہ اگر تم میری دعوت کو قبول کرلو اور اس صراط مستقیم پر چلنا شروع کردو جو تمہارے لیے قرآن کریم نے کھولی ہے۔ تو میں تمہیں دنیوی واخروی کامیابیوں کی بشارت دیتا ہوں۔ تمہاری انفرادی اور اجتماعی زندگی اس طرح آسودگی سے گزرے گی کہ کوئی پریشانی تمہارے عیش کو مکدر نہیں کرسکے گی۔ اس راستے پر چلنے والوں کے لیے کانٹے بھی پھول بن جاتے ہیں اور اس راہ میں آنے والی مشکلات اخروی کامیابیوں کی ضمانت بن جاتی ہیں۔ گھرسکون کی جگہ اور معاشرہ اجتماعی حصار کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ حکمران اللہ کا سایہ بن جاتے ہیں اور اگر تم اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرو تو میں تمہیں تمہارے انجام سے ڈراتا ہوں۔ میں تمہیں باخبر کرتا ہوں ان خطرات ومہالک سے جن سے تمہیں یقینا واسطہ پڑے گا۔ دنیا تمہاری محرومیوں کا مرقع بن جائے گی اور آخرت کا ہولناک عذاب تمہارا مقدر ٹھہرے گا۔ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کا یہ سہ گونہ اسلوبِ تبلیغ موقع کی مناسبت سے اختیار کیا جاتا ہے۔ جو طبیعتیں تبشیر سے متأثر ہوتی ہیں انھیں بشارتیں سنائی جاتی ہیں اور جن طبیعتوں کو دلائل سے زیادہ مناسبت ہو وہاں ضرورت کے مطابق متنوع دلائل سے کام لیا جاتا ہے۔ لیکن جو طبیعتیں ہٹ دھرم اور اکھڑ ہوں، اور جن پر ملائم بات اثر نہ کرتی ہو۔ انھیں آنے والے خطرات ومہالک سے آگاہ کرکے انذار کیا جاتا ہے۔ یعنی انھیں ڈرایا جاتا ہے کہ اگر تم راہ راست اختیار نہیں کروگے تو پھر تمہیں ایسے ایسے خوفناک انجام سے واسطہ پڑیگا۔ اس آیت سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ مخاطب وہ لوگ ہیں جو اسلام کا نام سننے کے بھی روادار نہیں اور وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے لیے دلوں میں معمولی نرم گوشہ بھی نہیں رکھتے۔ ایسے مخاطب لوگوں کے لیے نہ دلائل کام دیتے ہیں نہ بشارتیں سنانا۔ ان کے لیے تو ضروری ہے کہ دعوت کا وہ اسلوب اختیار کیا جائے، جس سے دلوں کی دنیا تہ وبالا ہوجائے اگر ان میں حق کو قبول کرنے کی معمولی صلاحیت بھی ہوگی تو وہ یقینا اس انذار سے فکر مند ہو کر ہدایت کی طرف متوجہ ہوں گے۔ اور مزید یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ یا تو ترغیب سے کسی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے اور یا ترہیب اس کا راستہ بدلتی ہے۔ اور پیغمبر کا ترہیب وانذار محض مفروضوں یاذ ہنی مقدمات پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ وہ پورے یقین کے ساتھ لوگوں سے یہ بات کہتا ہے، کہ لوگو ! جس طرح تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ سنکھیا کھانے سے موت واقع ہوجاتی ہے اور آگ میں ہاتھ ڈالنے سے ہاتھ جل جاتا ہے۔ میں تمہیں اس سے بڑھ کر یقین دلاتا ہوں کہ کفر اور شرک کی زندگی تمہاری دنیا اور آخرت کے لیے اس سے زیادہ تباہ کن ہے۔ تم جسم کی موت کو تو آنکھوں سے دیکھتے ہو لیکن اخلاقی اور روحانی زندگی کی موت تمہیں دکھائی نہیں دیتی حالانکہ وہ موت اس سے زیادہ سنگین ہے اور پھر پیغمبر کا لفظ لفظ چونکہ اس کے دل سے نکلتا ہے اور اس کی ذاتی زندگی ان حقائق کی عکاس ہوتی ہے اس لحاظ سے یہ انذار قلوب کی حالت کو بدل دیتا ہے۔ لیکن جن پر یہ بھی اثر نہ کرے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے قانونِ ختم کی زد میں آچکے ہیں۔
Ayah 2:7خَتَمَ کا مفہوم
خَتَمَ کا معنی عربی زبان میں ” موم یا مٹی یا اسی طرح کی کسی چیز پر ٹھپہ لگانے “ کے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ خط پر مہر لگانے اور کسی چیز کے منہ کو اس طرح بند کردینے کے لیے استعمال ہونے لگا جس کے بعد نہ اس میں کوئی چیز داخل ہوسکے اور نہ کوئی چیز اس سے نکل سکے۔ اس لیے آپ اس آیت کریمہ میں دیکھتے ہیں قلوب اور سمع کے لیے تو ختم کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے۔ لیکن ابصار کے لیے غشاوۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے گئے ہیں۔ سبب یہ ہے کہ کانوں اور دل میں ہر طرف سے آواز داخل ہوتی ہے اس پر مہر کرنے کی یہی صورت ہے کہ انھیں بالکل بند کردیا جائے لیکن آنکھیں چونکہ صرف سامنے دیکھتی ہیں، اس لیے اس لیے انھیں بند کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ان پر پردہ ڈال دینا کافی ہے اس لیے آنکھوں کے لیے پردے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مزید دیکھئے کہ قلوب اور ابصارجمع ہیں۔ لیکن سمع واحد ہے حالانکہ ان دونوں کی جمع ہونے کی وجہ سے اسے بھی جمع ہونا چاہیے تھا۔ لیکن قرآن کریم نے اسے واحد استعمال کیا ہے اس کی دو وجہ ہیں ایک تو یہ کہ سمع مصدر ہے اور مصدر واحد کی صورت میں واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے کیونکہ قریش کی زبان عرب میں معیاری زبان سمجھی جاتی تھی۔ کسی لفظ کا فیصلہ کرنا ہو تو قریش کے استعمال کو دیکھا جاتا تھا۔ اس لحاظ سے جب عرب کی اس معیاری زبان کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمع کو ہمیشہ واحد کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے شاید اسی معیار کو سامنے رکھتے ہوئے بیس بائیس مقامات پر قلوب اور ابصار کے ساتھ اسے واحد ہی استعمال کیا ہے۔ تو یہ کلام کا کوئی نقص نہیں بلکہ معیاری زبان کی ایک مثال ہے۔ الفاظ کی اس وضاحت کے بعد یہ جاننا چاہیے کہ مہر کردینے کا مفہوم کیا ہے کیونکہ اس کے نہ جاننے کیے نتیجے میں عموما یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی بندے کے دل و دماغ پر اللہ کی طرف سے مہر کردی جاتی ہے اور وہ قبولیت حق سے بالکل محروم ہوجاتا ہے تو پھر اس کے ایمان قبول نہ کرنے کی آخر اس پر ذمہ داری کیوں کر ہوئی۔ اگر ایک شخص کو کسی صلاحیت سے محرورم کردیا جائے تو پھر اس شخص کو اس بات کی سزا تو نہیں دی جاسکتی کہ تم نے اس صلاحیت سے کام کیوں نہیں لیا۔ دراصل یہ سوال یا یہ اشتباہ قلت فہم کا نتیجہ ہے کیونکہ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی پیدائشی طور پر مختوم نہیں بنایا یعنی کسی کو پیدائشی طور پر صلاحیتوں سے محروم نہیں کیا۔ مزید یہ بھی کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے وہ دنیا کے باقی معاملات میں کہیں بھی بند نہیں ہوتے۔ ہر جگہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لاتے ہیں۔ وہ تاجر ہیں تو تجارت کی ایک ایک بات کو سمجھتے ہیں یا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کھلاڑی ہیں تو گیم کے رموز کو جانناشب وروز ان کا معمول ہوتا ہے یعنی جس کام کو بھی کرنے کا فیصلہ کرلیتے ہیں وہ کام ان کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ اس نے اس طرح انسان کو بنایا ہے کہ وہ جس صلاحیت سے زیادہ سے زیادہ کام لیتا ہے وہ صلاحیت پروان چڑھتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں نئی نئی مہارت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ کسی باڈی بلڈر کو دیکھ لیجئے اس کے اعصاب دوسروں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ کسی پہلوان کو دیکھ لیجئے وہ دوسروں سے زیادہ زور آور ہوتا ہے۔ کھلاڑی کو دیکھ لیجئے اس کی ٹانگیں دوسروں سے زیادہ تیز رفتار ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ انھوں نے اپنی ان صلاحیتوں کو مسلسل حرکت اور محنت سے دوسروں سے بہتر بنالیا ہے۔ لیکن جو لوگ کوئی بھی محنت کا کام نہیں کرتے اور مسلسل بیٹھنے کے سوا ان کی کوئی مصروفیت نہیں ہوتی۔ عموما ان کے اعضاء اور ان کے اعصاب وقت سے پہلے جواب دے جاتے ہیں۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے جو دنیوی مصروفیات اور مرغوبات میں اس طرح ڈوب جاتے ہیں کہ دنیا ہی ان کا مقصود ان کا مطمح ِنظر اور ان کا ہدف بن جاتی ہے۔ اور اس کی ایک ایک بات کو وہ بتمام و کمال سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن آخرت اور آخرت کی تیاری کے لیے کبھی انھوں نے وقت نہیں نکالا۔ اور کبھی ان کے دماغ نے اس پر سوچنے کی زحمت نہیں کی نتیجہ اس کا وہی نکلتا ہے جو نکلنا چاہیے کہ دنیوی معاملات میں وہ انتہائی چابک دست اور معاملہ فہم ثابت ہوتے ہیں اور آخرت کی بات انھیں اجنبی معلوم ہونے لگتی ہے اور مسلسل اس سے لاپرواہی اور بےاعتنائی ان کی اس صلاحیت کو ختم کرکے رکھ دیتی ہے۔ قرآن پاک ان کے بارے میں کہتا ہے : یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًامِّنَ الْحَیٰواۃِ الدُّنْیَاوَھُم عَنِ الْآخِرَۃِ ھُم غٰفِلُون۔ (وہ حیات دنیا کو خوب جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل غافل ہیں) ۔ یہ آخرت سے غفلت بالآخر ان کی اس صلاحیت کو بالکل ختم کرکے رکھ دیتی ہے اور اسی کو ختم قلوب کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل، یا کان یا آنکھوں پر مہر نہیں لگاتا بلکہ اللہ کا یہ قانون (کہ تمہارے ہر طرح کے اعمال سے نتائج جنم لیتے ہیں اچھا عمل کرو گے تو اچھا نتیجہ نکلے گا اور برا عمل کروگے تو برے نتیجے کا ظہور ہوگا) منطقی انداز میں بروئے کار آتا ہے۔ غور کیجئے ! اللہ کے نبی تشریف لائے ان کی دل آویز اور زور دار شخصیت نے پوری قوت سے ان کے سامنے دعوت حق پیش کی۔ اللہ کی کتاب کا زور دار بیان ان کے دلوں کو ہلاتارہا۔ ان کے ایک ایک اعتراض کا کھول کھول کے جواب دیا گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے پیغمبر کے معجزات دیکھے۔ اس کے باوجود اگر وہ بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں اور دنیوی زندگی کی مصروفیات کے سوا اور کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کے بھی روادار نہیں، تو اس کے سوا اور کیا ہوگا کہ اللہ کا قانون حرکت میں آئے اور ان کو قبولیتِ حق سے محروم کردیا جائے۔ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کے دلوں پر مہر لگانے کا ذکر کرتے ہوئے اس کا یہی سبب بیان فرمایا ہے کہ جب ان کی بد اعمالیوں نے دین کا ایک ایک رشتہ توڑ ڈالا اور عہد و پیمان کی دھجیاں اڑا دیں تو تب اللہ کی طرف سے یہ قانون حرکت میں آیا اور ان کی محرومی کا فیصلہ کردیا گیا۔ ارشاد فرمایا :
فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ وَکُفْرِ ھِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَقَتْلِھِمُ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِھِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ط بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْہَا بِکُفْرِھِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۔ (النساء : 155)
(پس بوجہ اس کے کہ انھوں نے عہد کو توڑا، اللہ کی آیات کا انکار کیا، انبیاء کو ناحق قتل کیا اور کہا کہ ہمارے دل تو بند ہیں بلکہ اللہ نے ان کے دلوں پر ان کے کفر کے سبب سے مہر کردی ہے تو وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت کم)
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ذات قادر مطلق اور رحیم و کریم ہونے کے ساتھ ساتھ عادل بھی ہے۔ جس طرح اس کے عدل کا تقاضا ہے کہ کسی کو زبردستی کافر یا نافرمان بناکر جہنم کا سزاوار نہ بنایا جائے اسی طرح اس کے عدل کا یہ بھی تقاضا ہے کہ کسی کو زبردستی مومن اور فرمانبردار بھی نہ بنایا جائے بلکہ عدل کی فرماں روائی یہ ہے کہ جو جس راستے پر چلے اس کے لیے اسی راستے پر چلنے کی سہولت بہم پہنچائی جائے۔ اس لیے فرمایا : کُلاً نَّمِدُّھٰؤُلٓائِ وَھٰؤُلٓائِ مِن عَطَائِ رَبِّک کہ ہم اس کی بھی اور اس کی بھی مدد کرتے ہیں۔ یعنی جو ایمان کی طرف جانا چاہتا ہے اسے ایمان کی توفیق دے دیتے ہیں اور جو کفر کی طرف جانا چاہتا ہے اس کے لیے کفر کا راستہ کھول دیتے ہیں۔ (فرمایا) تیرے رب کی توفیق ہر ایک کو اس کے حال کے مطابق شامل حال ہے۔ دوسری جگہ فرمایا : نولہ ما تولیٰ جو جدھر جانا چاہتا ہے ہم اسے اسی طرف پھیر دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ ایمان دنیا و آخرت کی سب سے بڑی دولت ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارا پروردگار جو رحیم وکریم ہونے کے ساتھ ساتھ غیور بھی ہے۔ وہ یہ دولت بغیر طلب کیے کسی کو دے دے یا کوئی نہ چاہتا ہو تو زبردستی اس کا گھر اس دولت سے بھر دے۔ اس لیے فرمایا : اَنُلْزِمُکُمُوْ ھَاوَاَنتُم لَھَاکَارِھُوْنَ کیا ہم زبردستی تمہیں ایمان کی دولت دے دیں جب کہ تم اسے پسند بھی نہیں کرتے ہو “۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان تو اپنی کوشش اور اللہ کی توفیق سے ملتا ہے اور جو اس طرف آنے کی زحمت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسے ایمان کی دولت دے دی جائے بلکہ ایمان کی طرف سے کسی کی بےنیازی اگر نفرت اور دشمنی تک پہنچ جائے تو پھر بہت امکان پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کی محرومی کے قانون کی گرفت میں نہ آجائے۔ آنحضرت ﷺ نے اسی بات کو ایک حدیث میں نہائت آسان طریقے سے واضح فرمایا :
ان المومن اذا اذنب کانت نکتہ سوداء فی قلبہ فان تاب ونزع واستعتب صقل قلبہ وان زادت حتی تعلوقلبہ فذلک الران الذی قال اللہ تعالیٰ کلابل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون۔
(مومن جب کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس کے سبب سے اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیتا ہے اور اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتا ہے، تو اس کے دل کا وہ دھبہ صاف ہوجاتا ہے اور اگر اس کے گناہوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کی سیاہی اس کے پورے دل پرچھا جاتی ہے )
تو یہ وہ رین ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِم مَّاکَانُوْایَکْسِبُو۔ (ہرگز نہیں ! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی سیاہی چھاگئی ہے) (ابن کثیر بحوالہ ترمذی)
سلف صالحین کے نزدیک بھی ختم قلوب کی یہی حقیقت ہے۔ ابن کثیر نے اعمش کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ اعمش کہتے ہیں کہ مجاہد نے ایک مرتبہ ہمیں سمجھایا کہ (صحابہ ( رض) دل کو اس ہتھیلی کے مانند سمجھتے تھے۔ جب آدمی کسی گناہ میں آلودہ ہوتا ہے تو (انھوں نے اپنی انگلی سکیڑ تے ہوئے سمجھایا) دل اس طرح سکڑ جاتا ہے۔ پھر جب مزید گناہ کرتا ہے تو دوسری انگلی کو سکیڑتے ہوئے بتایا۔ دل اس طرح بھینچ جاتا ہے۔ اسی طرح تیسری انگلی کو سکیڑا۔ یہاں تک کہ یکے بعد دیگے تمام انگلیوں کو سکیڑ لیا۔ پھر فرمایا کہ جب دل گناہوں کے غلبہ سے اس طرح بھینچ جاتا ہے تو اس پر مہر کردی جاتی ہے۔ مجاہد نے بتایا (صحابہ) اسی چیز کو وہ رین قرار دیتے تھے۔ جس کا ذکر کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِم الآیہ میں آیا ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
اس بحث کے سلسلے میں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے۔ جو ممکن ہے آپ کے ذہنوں میں بھی کھٹکتاہو۔ وہ یہ ہے کہ انسانوں کے بگاڑ کی اصلاح اگرچہ ہر دور میں ہوتی رہی، اور اس میں کامیابیاں بھی ہوئیں اور ناکامیاں بھی، لیکن اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ کا رسول جب کسی قوم میں مبعوث ہوتا ہے تو اس کی زور دار شخصیت اور اس کا نہائت موثر کردار اور اس کا دلنشین انداز بیان اور پھر اس پر اترنے والی وحی اور اللہ کی طرف سے مسلسل رحمتوں اور انوار کی بارش ہدایت اور اصلاح کے لیے ایک ایسی فضاء پید ا کردیتی ہے۔ جس کا تصور بھی کسی دوسرے طریقے سے نہیں کیا جاسکتا اور اگر وہ آنے والا رسول آخری رسول ہو اور اس پر اترنے والی کتاب آخری کتاب ہو اور اس طریقے سے اللہ تعالیٰ اہل زمین پر اپنی حجت تمام کردینا چاہتا ہو تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ دلوں کو بدلنے اور طبیعتوں کے اصلاح پذیر ہونے کے کتنے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی اگر لوگ ہدایت قبول کرنے میں تاخیر سے کام لیتے ہیں اور اس دعوت کی مخالفت کے لیے پوری قوت صرف کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے حتی کے بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو اپنی مخالفت اور دین سے بےزاری کے باعث اللہ کے اس قانون کی گرفت میں آجاتے ہیں جس کے بعد وہ قبولیت حق کی ہر استعداد سے محروم ہوجاتے ہیں۔ تو سوچنا پڑتا ہے کہ آخر ایسی وہ کون سی فکری کج رویاں اور عملی کو تاہیاں ہیں جو انسان کو پیغمبر کی موجودگی میں بھی ہدایت سے محروم رکھتی ہیں۔ ایک انسان گرمیوں کے موسم میں لو کے تھپیڑے کھانے کے باعث طبیعت کی خوشگواری سے محروم رہے، یا خزاں کے موسم میں جب کہ ہر طرف اداسی چھا جاتی ہے آدمی بےکیفی محسوس کرے تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ موسم کا اثر ہے۔ لیکن اگر بہار کا موسم پورے جوبن پر ہو پھول مہک رہے ہوں، خوشگوار ہوائیں چل رہی ہوں، بلبل ہر طرف نغمے بکھیر رہے ہوں، فضا کا ذرہ ذرہ رنگ و آہنگ میں ڈوب چکا ہو، اور رگ سنگ تک میں لہو کی گردش رواں ہوگئی ہو اور بھینی بھینی فضا میں فرحت و سرور کی پھواریں پھوٹ رہی ہوں۔ ایسی پر اثر کیفیت میں بھی اگر کوئی آدمی طبیعت میں بےکیفی اور ناخوشگواری محسوس کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کوئی ایسا روگ لگ گیا ہے، جو فرحت ومسرت کے تمام اسباب سے بھی دور نہیں کیا جاسکتا اس کا یا تو علاج ہونا چاہیے اور یا یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ شخص خوشیوں سے محروم ہوگیا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے جو پیغمبر کی تشریف آوری اور قرآن پاک کے نزول کے بعد بھی اس کی ہدایت سے استفادہ نہ کرسکے بلکہ اس کے بدترین مخالف ثابت ہوئے یقینا ان کے اندر کوئی ایسا روگ یا کوئی ایسی بیماری ہے جس نے انھیں ہر بھلائی سے محروم کردیا ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم غور کرتے ہیں تو چند چیزیں نمایاں ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم چیز جو اگرچہ اپنے تئیں بہت وضاحت کی محتاج ہے لیکن ہم صرف اس کی نشان دہی ہی کرسکیں گے یہ وہ چیز ہے جسے قرآن کریم نے مختلف جگہوں میں حیات دنیا کو حیات آخرت پر ترجیح دینے کے نام سے یاد کیا ہے ایک جگہ فرمایا کہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر کی گئی۔ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمُ استَحِبُّوا الحَیٰوۃَ الدُّنیَاعَلَی الْآخِرَۃِ (اس سبب سے کہ انھوں نے حیات دنیا کو حیات آخرت پر ترجیح دی) ۔ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا : فَاَمَّا مَنْ طَغٰی وَآثرالحَیٰوۃَ الدُّنْیَا فَاِنَّ الجَحِیمَ ھِیَ المأوٰی (پس جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی، یقینا اس کا ٹھکانا جہنم ہے) سورة الاعلٰیکی آخری آیات میں بھی اسی حقیقت کو دھرایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں جن لوگوں پر مہر کیے جانے کا ذکر کیا جارہا ہے ان کی سب سے بڑی بیماری یہی تھی۔ وہ اسی حیات دنیا کو سب سے بڑی حقیقت سمجھتے تھے انھیں آخرت کی زندگی کا نہ یقین تھا اور نہ اس کی فکر۔ دنیا ہی کی زندگی کو مقصد بنانے کے نتیجے میں انھیں ہدایت کی ہر بات سے ضد ہوگئی تھی۔ پھر اسی بنیادی بیماری سے اور کئی بیماریاں پھوٹتی ہیں جس کا وہ لوگ شکار تھے۔ مثلاً اہل کتاب نسلی اور قوی تعصب میں اس حد تک اندھے ہوگئے تھے کہ وہ اس بات کو برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ بنی اسرائیل سے باہر کسی پیغمبر کی بعثت ہو۔ اسی طرح قریش مکہ مختلف قبائل کا مجموعہ تھے اور عرب میں اس کے علاوہ بہت سارے قبائل تھے ہر قبیلے کا تعصب انھیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ کسی دوسرے قبیلے کے پیغمبر پر ایمان لایا جائے۔ مسیلمہ کذاب پر ایک بہت بڑی بھیڑ ایمان لے آئی اور یہ سب لوگ اس کے قبیلے کے تھے اور یا وہ لوگ تھے جو قریش سے بدترین عناد رکھتے تھے اور وہ رسول اللہ ﷺ کو قریش کا رسول سمجھتے تھے۔ چناچہ جب بعض ان کے ذمہ دار لوگوں سے کسی صحابی کی بات ہوئی کہ تم نے مسیلمہ کذاب میں آخر کیا خوبی دیکھی کہ اسے رسول مان لیا۔ تو انھوں نے کہا کہ ہمارے قبیلے کا جھوٹا نبی، قریش کے سچے نبی سے ہمارے نزدیک زیادہ قابل قبول ہے۔
ان کی فکری اور عملی کج رویوں میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ وہ دولت وسیادت ہی کو ہر طرح کی فضیلت اور خیر کا سرچشمہ سمجھتے تھے اور جہاں انھیں دولت کی نمود دکھائی نہیں دیتی تھی یا کسی طرح کی سیادت کا احساس نہیں ہوتا تھا، تو ایسے شخص کو وہ نبی ماننے کو تیار نہ تھے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ سے بھی وہ یہی کہتے تھے کہ اللہ کسی کو اگر نبی بناتا تو یقینا وہ رئوسائے مکہ یا رئوسائے طائف میں سے کوئی ہوتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان تمام رئوسا اور امراء کو چھوڑ کر تم جیسے غریب آدمی کو نبی بنادیا جائے یہ ہرگز ممکن نہیں۔
قوموں میں ایک شدید بیماری یہ بھی رہی ہے اور آج بھی ہے اور اس میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ کی بھی تقسیم نہیں کہ انسان پیکر محسوس کو ماننے کا خوگر ہے۔ اس لیے اس کے لیے ان دیکھے خدا کو ماننا اور غیب کی باتوں کا یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ اصرار کرتا ہے کہ میں تو ہر اس چیز کو مانوں گا جسے میں محسوس کرسکوں یا جو میری عقل کی گرفت میں آسکے۔ ایسی ہی چند درچند بیماریاں دور نبوت کے لوگوں میں تھیں وہ اللہ کے رسول کو دیکھ کر بھی ان بیماریوں کی وجہ سے نہ مان سکے اور آج بھی یہی امراض ہیں جس میں پوری دنیا اور امت مسلمہ بھی گرفتار ہے۔ جس امت مسلمہ کو اس دین کا علم بردار بنایا گیا ہے۔ اسے خود حُبِّ دنیا کے بحران میں مبتلاکرکے اور آخرت سے لاپرواہ اور بےنیاز کرکے اس طرح ناکارہ بنادیا گیا ہے کہ اب وہ کہنے کو اللہ اور اس کے رسول اور آپ کے لائے ہوئے دین کی ماننے والی امت ہے۔ لیکن حقیقت میں اس کا رشتہ اس عظیم دین سے بہت کمزور پڑچکا ہے۔ وَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی
اگلی آیات کریمہ میں کفار ہی کی ایک قسم کو بیان کیا جارہا ہے۔ جنھیں بالعموم منافقین کہا جاتا ہے۔ ان کی صفات کو تقریباً تیرہ آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ اب ہم ایک ایک آیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔