Ayah 2:265وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمُ ابْتِغَـآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَتَثْبِیْتًامِّنْ اَنْفُسِہِمْ کَمَثَلِ جَنَّۃٍ م بِرَبْوَۃٍ اَصَابَہَا وَابِلٌ فَاٰ تَتْ اُکُلَہَا ضِعْفَیْنِ ج فَاِنْ لَّمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
(اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی خوشنودیاں حاصل کرنے اور اپنے دلوں کو جمائے رکھنے کے لیے۔ ان کی مثال اس باغ جیسی ہے جو بلندی پر واقع ہو ‘ اس پر زور کا مینہ برسے تو وہ دو چند پھل لائے۔ پس اگر اس پر بارش نہ برسی تو پھوار بھی کافی ہوگئی۔ اور اللہ تعالیٰ جو تم کر رہے ہو سب دیکھ رہا ہے) (265)
انفاق… تربیت اور تشکیل کردار کا ذریعہ بھی ہے
گزشتہ مثال ان لوگوں کی تھی جو اللہ کے راستے میں خرچ تو کرتے ہیں لیکن اس کے بعد احسان جتلا کر یا دوسرے طریقوں سے ایذاء پہنچا کر اپنی خیرات کو ضائع کردیتے ہیں۔ اور ان لوگوں کی مثال تھی جو اپنے نیک اعمال یا اپنی خیرات اللہ کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نیکیوں اور ان کے صدقات کے نتیجے میں اجر وثواب میں سے کوئی چیز ان کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ وہ مال خرچ کر کے بھی اور نیکیوں کی تکلیف اٹھا کر بھی محروم رہتے ہیں۔ اب مثال ان لوگوں کی دی جا رہی ہے جو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے دلوں میں پختگی پیدا کرنے اور استحکام لانے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ صدقہ اللہ کے یہاں قبولیت کا مقام پائے گا جو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیا گیا ہو۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی بھی عمل کی حقیقی معراج یہ ہے کہ اسے صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے کیا جائے۔ اس سے بڑھ کر ایک مومن کے سامنے نہ کوئی ہدف ہوسکتا ہے اور نہ اس سے بڑی کوئی خوش قسمتی ہوسکتی ہے۔ لیکن اس آیت کریمہ میں ایک دوسری حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی گی ہے کہ صدقات اور ہر نیک عمل کا ہدف تو یہی ہونا چاہیے کہ اسے اللہ کی خوشنودی کے لیے کیا جائے کیونکہ اسی کے نتیجے میں جنت نصیب ہوگی اور آخرت میں ایک مومن سرخرو ہوگا۔ لیکن ِخود ایک مومن کی تربیت اور اس کے تشکیل کردار کے لیے جس طرح نماز اور روزہ نہایت موثر عامل کی حیثیت رکھتے ہیں کہ نماز ایک مومن میں اللہ کی وفاداری کے جذبے کو پختہ کرتی۔ اسے بندگی کی حقیقی لذت سے آشنا کرتی اور اس کی زندگی میں ایک نظم و ضبط پیدا کرتی ہے۔ علاوہ ازیں اور بہت سے فوائد اور مقاصد ہیں جو نماز سے پورے ہوتے ہیں۔ اسی طرح روزہ مومن کی تربیت کے لیے سب سے زیادہ اثر رکھنے والی عبادت ہے۔ ہر عبادت کی ادائیگی کے وقت ریا اور ظاہر داری کے امکانات باقی رہ جاتے ہیں لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں براہ راست ظاہری زندگی کے ساتھ ساتھ آدمی کی تنہائیاں بھی عبادت میں شریک ہوتی ہیں۔ آدمی کے باطن کا قدم قدم پر امتحان ہوتا ہے۔ اس عبادت کا اصل ہدف ایک مومن کے باطن کو پاکیزہ بنانا ہے۔ تو جس طرح یہ عبادات تربیت اور تشکیل کردار کے لیے بہت اہم حیثیت رکھتی ہیں اسی طرح سخاوت ‘ فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ بھی جس طرح اللہ کی رضا جوئی کا ذریعہ ہے اسی طرح مومن کی تربیت اور تشکیل کردار کا بھی ذریعہ ہے۔ میں اس سے پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ انسان کی جو محبوب چیزیں ہیں جنھیں وہ حتیٰ الامکان چھوڑنا نہیں چاہتا ان میں مال و دولت بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ ایک مومن جذبے کا اسیر ہو کر اللہ کے راستے میں بڑی سے بڑی خیرات کردیتا ہے ‘ لیکن پھر مال و دولت کی محبت اس کے دل کو کچوکے لگانے لگتی ہے کہ تم نے یہ کیا غلطی کی۔ جب تمہیں خود ضرورتیں پیش آئیں گی تو کہاں سے پوری کرو گے ؟ بعض دفعہ خرچ کرنے والا زبان سے کچھ نہیں کہتا لیکن دل میں وہ اس طرح پریشان ہوتا ہے جیسے کوئی محبوب چیز اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ہو۔ دل سے کسی محبوب کی یاد کو کم کرنے کا سب سے موثر طریقہ یہی ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی محبوب کی محبت کو اختیار کیا جائے جسے عقل اور ایمان دونوں تسلیم کریں کہ اصل محبت کے لائق تو یہ ہے ‘ پہلے محبوب سے محبت کر کے ہم نے غلطی کی ہے۔ اور پھر جب اس محبوب کو اس حقیقی محبوب کے لیے بار بار چھوڑا جائے گا تو دل میں حقیقی محبوب کی محبت بڑھتی جائے گی اور پہلے اور مصنوعی محبوب کی محبت کم ہوتی جائے گی۔ مال و دولت کی محبت کو کم کرنے اور دل کو اس کی محبت کے مقابلے میں مضبوط کرنے اور جمانے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ اسے بار بار اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور اس کے دین کی محبت کی خاطر خرچ کیا جائے۔ جیسے جیسے یہ عمل دہرایا جائے گا ویسے ویسے دل میں توانائی آتی جائے گی۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ جب دولت کو روک کر افسوس ہوگا اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے لطف و لذت اور سکون کا احساس ہوگا۔ اللہ کی خوشنودی کے حصول اور دل کی مضبوطی اور استحکام کے لیے یوں تو کسی وقت بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرنا مفید اور موثر ہے لیکن اگر یہ خرچ ایسی حالت میں کیا جائے جب کہ قحط کا زمانہ ہو ‘ دینے والا خود ضرورتمند ہو اور ایسے مال میں سے دیا جائے جو نہایت عزیز اور محبوب ہو اور ان عزیزوں کو دیا جائے جن سے تعلقات ناگواری کی حد تک بگڑے ہوئے ہوں تو یہ وہ صدقہ اور انفاق ہے جس سے اللہ کی خوشنودی کے حاصل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور خرچ کرنے والے کے دل کی مضبوطی اور استحکام کی بھی زیادہ امید کی جاسکتی ہے۔
تمثیل کی وضاحت
جو لوگ ان احساسات کے ساتھ اپنا مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسے ہے جیسے ایک بلند اور ہموار جگہ پر ایک باغ ہو اور پھر اس پر موسلادھار بارش برسے۔ چونکہ یہ باغ بلندجگہ پر ہے تو اسے بارش کی تیزی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ تیزی سے پانی آئے گا اور اس کے دائیں بائیں بہتا ہوا نکل جائے گا۔ البتہ تیز بارش اس کے ایک ایک پھل دار پودے کی جڑوں تک سرایت کر جائے گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ پہلے سے دوگنا پھل لائے گا۔ اور اگر اس پر زور کی بارش نہیں ہوتی صرف ہلکی پھوار پڑتی ہے (” طلٌ“ پھوار کو بھی کہتے ہیں اور شبنم کو بھی۔ بات ایک ہی ہے) تو معمولی سی تراوت بھی اس کی شادابی کے لیے کافی ہوجاتی ہے۔ نشیبی جگہوں میں باغات تیز بارش اور پہاڑوں سے اترنے والے سیل کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ نتیجتاً باغ کے اکثر پودے جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں اور باغ ویران ہوجاتا ہے۔ اور اگر زور کی بارش نہ آئے معمولی پھوار برسے تو اس کا اثر نشیب یا عام کھلی زمین کے باغوں پر اتنا نہیں پہنچتا کہ وہ پھل لانے کے قابل ہو سکیں۔ اس لیے اس مثال میں ” ربوہ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو بلند اور ہموار جگہ کو کہتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کے راستے میں محض اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے صدقہ دیتے ہیں وہ ایک ایسا باغ لگاتے ہیں جو ایک ہموار اور بلند جگہ پر ہو۔ یعنی جس طرح بلند جگہ کا باغ ہرحال میں پھل لاتا ہے اسی طرح ان کے صدقات اور خیرات بھی ہرحال میں اللہ کی رضا کا ذریعہ بنیں گے اور اللہ انھیں برگ و بار دے گا۔
آخر میں تسکین اور تسلی کے لیے فرمایا وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے) یعنی اللہ کے نیک بندے اللہ کی رضا کے حصول اور اپنے نفس کی تربیت کے لیے جس طرح صدقات دیتے اور خیرات کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ اس سے بیخبر ہے ‘ وہ صدقے کے ایک ایک دانے سے باخبر ہے اور دلوں کے احساسات کو بھی خوب جانتا ہے۔ وہ یقینا اپنے نیک بندوں کو ان کے جذبہ خیر پر زیادہ سے زیادہ اجر وثواب سے نوازے گا اور ان کی محنت اور ایثار کا پورا پورا بدلہ دے گا۔
Ayah 2:266اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَـکُوْنَ لَـہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُلا لَـہٗ فِیْہَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ لا وَاَصَابَہُ الْـکِبَرُ وَلَـہٗ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَـآئُ صلے ص فَاَصَابَہَـآ اِعْصَارٌ فِیْہِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّـکُمْ تَتَـفَـکَّرُوْنَ ۔ ع
کیا پسند کرے گا تم میں سے کوئی کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں کا اور انگوروں کا جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں۔ اس کے لیے اس میں ہر قسم کے اور پھل بھی ہوں۔ اور وہ بوڑھا ہوجائے اور اس کے بچے بھی ابھی کمزور ہوں۔ پس پھرجائے اس باغ پر سموم کا بگولا اور وہ جل کر خاک ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتا ہے تمہارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم غور و فکر کرو) (266)
گزشتہ سے پیوستہ آیت کریمہ میں ان لوگوں کی تمثیل فرمائی گئی ہے جو ریاکاری ‘ احسان داری اور ایذاء رسانی جیسی آفتوں سے اپنے انفاق کو برباد کردیتے ہیں۔ یہ تمثیل اس کی مزید وضاحت بھی ہے اور نصیحت کو مزید موثر کرنے کا ایک ذریعہ بھی۔ پہلی مثال میں تو صرف یہ بتایا گیا ہے کہ چند آفات ہیں جن کے نتیجے میں تمہارے اعمال باطل ہوسکتے ہیں۔ اور اسی کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک ایسی مثال دی جا رہی ہے جس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ تمہیں اپنے اعمال کے باطل ہونے اور اپنا گھر اجڑ جانے کا اس وقت پتہ چلے گا جب کہ تمہارے پاس کسی نئے عمل کو کرنے کا وقت نہیں ہوگا اور از سر نو گھر کی آبادی کا کوئی موقع نہیں ہوگا۔ اس مثال کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس مثال میں استعمال ہونے والے چند الفاظ کو سمجھ لیا جائے۔
اس مثال میں باغ کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اور یہ وہ نقشہ ہے جو عرب کے تصور کے مطابق کسی بھی بہترین باغ کی تصویر ہوسکتی ہے۔ اس کی نسبتاً زیادہ وضاحت قرآن کریم نے دوسری جگہ فرمائی ہے۔ اسے اگر ساتھ ملا لیا جائے تو عرب کے پسندیدہ باغ کی پوری تصویر نظروں میں آجاتی ہے۔ ارشاد ہے جعلنا لاحدہما جنتین من اعناب وحففناہما بنخل وجعلنا بینہما زرعاً ۔ کلتا الجنتین اتت اکلہا ولم تظلم منہ شیئا وفجرنا خلالہما نہرا (33۔ 34 کہف) (ان میں سے ایک کے لیے ہم نے انگور کے دو باغ بنائے اور ان کو گھیر لیا کھجوروں سے اور ان کے درمیان کھیتی بھی رکھی۔ دونوں باغ خوب پھل لائے ذرا کمی نہ کی اور ہم نے ان کے درمیان ایک نہر جاری کی) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کا پسندیدہ باغ وہ ہوتا تھا کہ اس کے کنارے کنارے کھجوروں کے درخت ہوں۔ بیچ میں انگور کی بیلیں ہوں۔ مناسب فاصلے پر مختلف فصلوں کی کاشت کے لیے قطعات ہوں ‘ باغ بلندی پر ہو ‘ اس کے نیچے نہر بہہ رہی ہو جس کی نالیاں باغ کے اندر دوڑا دی گئی ہوں۔ اس طرح کے باغ کو عرب میں سب سے پسندیدہ باغ اس لیے سمجھا جاتا تھا کہ باغ کے کناروں پر کھجوروں کے درخت گرمی ‘ لو ‘ تیز ہوا اور آفتاب کی تمازت کو بھی روکتے تھے اور پھل بھی دیتے تھے۔ اور باغ کی رونق اور خوبصورتی میں اضافہ بھی کرتے تھے۔ بیچ میں انگور اور دوسرے پھلدار درخت لگائے جاتے تھے جو پھل بھی دیتے تھے اور گھنا سایہ بھی مہیا کرتے تھے۔ اور مناسب فاصلے پر مختلف فصلیں لگائی جاتی تھیں تاکہ ان سے غلہ اور سبزیاں حاصل کی جائیں ‘ کیونکہ ثمرات سے مراد صرف پھل ہی نہیں بلکہ ہر طرح کی پیداوار کو اور غلہ جات پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔
اعصار کا مفہوم
اعصارٌ کا معنی ہے بگولہ۔ ” فیہ نار “ کا لفظی معنی تو ہے (اس میں آگ) یعنی ایک ایسا بگولہ جس میں آگ ہو ‘ لیکن مراد اس سے یہ نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا بگولہ جس میں سموم ہو اور تپش ہو۔ پہلے تو یہ عرب کے صحرائوں کی خصوصیت سمجھا جاتا تھا لیکن اب تو ایسے بگولے جن میں سموم اور بعض میں بجلیاں تک ہوتی ہیں ہر ملک میں متعارف ہیں۔ جب کہیں بدقسمتی سے کسی آبادی ‘ باغ یا لہلہاتے کھیتوں پر یہ بگولہ گزر جاتا ہے تو ہر چیز کو فنا کر کے رکھ دیتا ہے۔
تمثیل کی وضاحت
الفاظ کو سمجھنے کے بعد اب اس تمثیل کو سمجھنے کی کوشش فرمائیں۔ یہ تمثیل ایک ایسے شخص کی ہے جس نے انگوروں ‘ کھجوروں اور ہر طرح کے پھلدار پودوں کا ایک خوبصورت باغ لگایا۔ اس کے پھلوں کے رسیلے پن اور باغ کی خوبصورتی اور اس کی سایوں کے گھنے ہونے کے تذکرے لوگوں کی زبانوں پر رہتے تھے۔ اس کے اندر مختلف اجناس کی فصلیں بھی تھیں ‘ بیچ میں ایک نہر جاری تھی جو پورے باغ کی سیرابی اور اس کے موسم کو خوشگوار رکھنے کی ضمانت تھی۔ مالک اس کا بوڑھا ہوچکا تھا اور بچے اس کے چھوٹے چھوٹے تھے جو ابھی کام کرنے کے قابل نہیں تھے۔ لیکن مالک اپنے باغ کی آمدنی پر نازاں وفرحاں تھا۔ بچوں کے بارے میں بھی اسے کوئی تردد نہ تھا۔ اسے اطمینان تھا کہ اب میرا بڑھاپا آسودگی سے گزرے گا اور اس کی آمدنی میرے بعد میرے بچوں کی گزر بسر کے لیے کافی ہوگی۔ اچانک ایک دن سموم کا ایک بگولہ اس باغ پر گزرا اور وہ سارا باغ تباہ ہو کر رہ گیا۔ اب اس بوڑھے مالک کی پریشانی اور محرومی کا اندازہ کیجئے۔ وہ خود اس قابل نہیں کہ از سر نو محنت کرے اور باغ لگا دے۔ اس کی ہڈیوں میں گودہ تک باقی نہیں رہا اور بچے اتنے چھوٹے ہیں کہ وہ محنت کرسکتے ہیں اور نہ پریشانیوں کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ اس بوڑھے کی پریشانی اور محرومی کا اب کون اندازہ کرسکتا ہے۔ اس حادثے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ یہ بوڑھا دنیا کا سب سے ناکام اور پریشان حال آدمی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس بات کا کسی نہ کسی حد تک امکان ضرور ہے کہ اس کی برادری کے لوگ اس کے کام آئیں یا کسی غیر میں انسانی ہمدردی جاگ اٹھے اور وہ اس کی پریشانیوں میں اس کا ہاتھ بٹائے ‘ لیکن اس شخص کی پریشانی کا کون مداوا کرسکتا ہے جس نے زندگی بھر اپنے تئیں نیکیوں کا باغ لگایا ‘ اس میں قسم قسم کے اعمال کے پودے لگائے ‘ لیکن قیامت کے دن جب اس کا نامہ عمل سامنے آیا تو اس نے دیکھا کہ میں عجیب بدنصیب تھا کہ ایک طرف تو میں صدقات اور اعمالِ خیر کا باغ لگاتا رہا اور دوسری طرف آتش خرمن سوز کو دعوت دیتا رہا۔ یعنی ریا کاری ‘ احسان داری اور ایذاء رسانی جیسی آفتوں سے اپنی نیکیوں کے باغ کی کبھی حفاظت نہ کی۔ بلکہ یہ آفتیں بھی میں خود اپنے ہاتھوں سے پالتا رہا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ بجلیاں میری آستینوں میں چھپی رہیں۔ بالآخر انھوں نے اپنا کام کردکھایا اور میرا تمام باغ جلا کر راکھ کردیا۔ زندگی کا وقت گزر گیا ‘ مہلت عمل ختم ہوگئی ‘ آج یہاں کوئی کسی کا مددگار نہیں ‘ ہر ایک اپنی فکر میں ہے ‘ ایسے حال میں میرا باغ جل چکا ہے جبکہ میرے پاس اس کی تلافی کی کوئی شکل نہیں۔ اندازہ فرمایئے اس کی پریشانیوں کا عالم کیا ہوگا ؟ یہ وہ بات ہے جس کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اگر تم اس حادثہ فاجعہ سے قیامت کے دن دوچار نہیں ہوتا تو آج اپنے انفاق کو کو برباد کرنے والی ان آفتوں سے بچانے کی تدبیر کرو۔
Ayah 2:267یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّـآ اَخْرَجْنَا لَـکُمْ مِنَ الْاَرْضِ ص وَلَاتَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ ط وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔
(اے ایمان والو ! خرچ کرو اپنے کمائے ہوئے پاکیزہ مال سے اور ان چیزوں سے جنھیں ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے اور ارادہ بھی نہ کرو اپنی کمائی میں سے ردی چیز کا کہ تم اسے خرچ کرو اور تم خود اس چیز کو لینے والے نہیں ہو بجز اس کے کہ تم آنکھیں میچ لو اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ غنی اور ستودہ صفات ہے) (267)
ربطِ کلام
گزشتہ رکوع میں اللہ کے راستے میں انفاق کی ترغیب دی گئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ جو مال اللہ کے راستے میں خرچ کیا جاتا ہے اللہ اس میں کس قدر اضافہ فرماتا ہے۔ اسے مثالوں سے واضح کیا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ انفاق سے ان لوگوں کو تو فائدہ پہنچتا ہی ہے جن پر وہ مال خرچ کیا جاتا ہے اور اس مقصد کو بھی فروغ ملتا ہے جس مقصد کے لیے یہ مال صرف کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دلوں کی اصلاح اور مال و دولت کی محبت کے مقابلے میں ان کے استحکام اور مضبوطی کے حوالے سے جو کردار جنم لیتا ہے وہ بجائے خود مسلمانوں کا بہت بڑا سرمایہ ہے۔ اور پھر اس انفاق کے جذبے کو سرد کرنے اور عمل انفاق کو باطل اور ضائع کرنے میں جو آفات اپنا کام دکھاتی ہیں پھر ان کا ذکر فرمایا گیا تاکہ مسلمان اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہوئے ایسی تمام بد اعمالیوں سے بچیں جن کی وجہ سے ان کا سارا کیا دھرا تباہ ہو کر رہ جائے گا اور پھر اسے مثالوں سے واضح فرمایا۔ پیش نظر رکوع میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے قابل کون سی چیزیں ہیں ‘ ہر چیز اس کے راستے میں خرچ نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ اگر ایسی چیز خرچ کی جائے جو خرچ کے لائق نہیں تو نہ تو اسے انفاق فی سبیل اللہ کہا جائے گا کہ جس پر اللہ کی جانب سے اجر وثواب ملتا ہے اور نہ وہ نفس کے جمانے اور اس کے استحکام میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ آگے چل کر خرچ کے کچھ آداب بھی سکھائے گئے ہیں۔ اور یہ بات بھی انگلی رکھ کر بتادی گئی ہے کہ خرچ کرنے کی جگہیں کون سی ہیں۔
طیبات کا مفہوم
پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ تم اگر اللہ کے راستے میں خرچ کرنا چاہتے ہو تو وہ کیا چیزیں ہیں جنھیں تمہیں خرچ کرنا چاہیے اور وہ اللہ کے یہاں قبولیت کا مقام بھی پاسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں فرمایا کہ مسلمانو تم نے اپنی محنت سے جو کمائی کی ہے اور جسے تم نے پسینہ بہا کر وقت صرف کر کے اور مشقت اٹھا کر کمایا ہے سب سے پہلے تو یہ دیکھو کہ کمانے کے طریقے تم نے کیا اختیار کیے ہیں ؟ کیونکہ صرف کمانے کی محنت اور مشقت کسی چیز کو حلال نہیں بنا دیتی۔ بلکہ کسی چیز کے حلال ہونے کے لیے یہ دیکھا جاتا ہے کہ جو چیز آپ نے محنت سے حاصل کی ہے اسے آپ نے حلال ذریعہ سے حاصل کیا ہے یا حرام ذریعہ سے۔ اور پھر وہ چیز بجائے خود حلال بھی ہے یا نہیں۔ اس لیے کہ کسی بھی چیز کا محنت سے حاصل کرنا اس کے حلال ہونے کے لیے ضمانت نہیں ہے۔ ڈاکہ ڈالنے والا اور سمگلنگ کرنے والا محنت اور مشقت بھی کرتا ہے ‘ تکلیف بھی اٹھاتا ہے اور خطرات سے بھی کھیلتا ہے اور بعض دفعہ اس راستے میں جان بھی چلی جاتی ہے۔ لیکن یہ ساری تگ و دو ، محنت اور مشقت اس کی حاصل کردہ چیز کو حلال نہیں بناتی۔ اللہ نے جن جن طریقوں سے مال کمانے سے منع فرمایا ہے ان ممنوع ذرائع اور طریقوں سے جو مال بھی کمایا جائے گا وہ حرام ہوگا۔ رشوت ‘ غبن ‘ سود ‘ قمار ‘ سٹہ ‘ ذخیرہ اندوزی اور کالا دھن یہ سب حرام ذرائع ہیں۔ ایسے ذریعوں سے حاصل ہونے والی کمائی یقینا حرام ہے۔ اس کمائی میں سے کچھ بھی اللہ کے راستے میں دینا نہ صرف یہ کہ قابل قبول نہیں بلکہ انتہائی گناہ کی بات ہے۔ کیونکہ جو شخص حرام ذریعے سے ایک چیز حاصل کرتا ہے اور پھر وہی چیز اللہ کے راستے میں دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عمل سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ اللہ نے جن ذریعوں کو حرام کیا ہے میں نے انہی سے یہ مال کمایا اور پھر اسی مال کو حرام کرنے والے کے راستے میں دے کر میں اس کا منہ چڑا رہا ہوں کہ دیکھ تیرے احکام کی میری نزدیک ذرہ برابر قدرو قیمت نہیں۔ تو نے روکا ‘ میں نے رکنے سے انکار کردیا۔ تو نے کہا میرے راستے میں حلال خرچ کرو میں نے وہی حرام تمہارے راستے میں دے مارا۔ یہ ایک طرح کا چیلنج ہے کہ بتا تو میرا کیا بگاڑ سکتا ہے اور ایک طرح سے توہین کرنا ہے کہ مجھے تیری کسی ہدایت کی پرواہ نہیں۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ اپنی کمائی میں سے طیبات یعنی پاکیزہ چیزیں اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ یعنی وہ چیزیں جنھیں تم نے حلال اور پاکیزہ طریقوں سے کمایا ہے۔ اور ساتھ ہی اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم نے اگر کوئی چیز حلال ذریعے سے کمائی ہے لیکن وہ چیز بجائے خود حرام ہے تو حلال ذریعے سے کمانا اسے طیب نہیں بنا دیتا۔ تجارت ایک حلال ذریعہ ہے۔ لیکن کوئی شخص کتوں اور خنزیروں کی تجارت کرتا ہے اور پھر کتے اللہ کے راستے میں دینا چاہتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے اسلامی اصولوں کے مطابق تجارت کی اور اس کے نتیجے میں یہ جانور حاصل کیے ہیں۔ حقیقت یہ کہ یہ جانور چونکہ بجائے خود حرام ہیں انھیں کسی طرح بھی حاصل کرنا ‘ ان کی خریدو فروخت اور اللہ کے راستے میں دینا سبھی حرام۔ اسی پر آپ باقی مثالوں کو قیاس کرلیجئے۔
طیبات کے سلسلے میں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ طیب جس طرح پاکیزہ چیز کو کہتے ہیں اسی طرح پسندیدہ چیز کو بھی کہتے ہیں۔ یہاں طیبات کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ کے راستے میں جو مال یا جو چیز بھی دو اسے بجائے خود عمدہ اور اچھا اور پسندیدہ ہونا چاہیے۔ اگر ایک چیز اس قدر بےوقعت ‘ گھٹیا اور نکمی ہے کہ دیکھنے والے کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی تو وہ طیبات میں شامل نہیں۔ ایسی چیز کو اللہ کے راستے میں دینا بھی گناہ ہے۔ اس کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح کی چیز اگر تمہیں دی جائے تو تم اسے لینا کبھی پسند نہ کرو۔ اور اگر تمہیں لینے پر مجبور کیا جائے اور یا تمہاری ضرورت اس قدر شدید ہو کہ اسے قبول کیے بغیر چارہ نہ ہو تو تب بھی تم اسے آمادگی سے قبول نہیں کرو گے بلکہ تمہارا حال یہ ہوگا کہ ہاتھ اسے لینے کے لیے بڑھے گا لیکن آنکھیں اسے دیکھنا گوارا نہیں کریں گی۔ جب تمہارا اپنا رویہ کسی چیز کے بارے میں ایسا ہو تو ذرا سوچو کہ جس اللہ نے تمہیں سب کچھ عطا کیا ہے اور جو تم اس کے راستے میں دیتے ہو وہ بھی اسی کا عطا کردہ ہے ‘ تو کیا اس کریم اور غنی ذات کو ایسی گندی اور خبیث چیز دینا چاہتے ہو ‘ فرمایا اسے دینا تو دور کی بات ہے اسے دینے کا خیال تک نہ کرو۔ ایسا خیال اور ایسا ارادہ بھی بجائے خود گناہ ہے۔
البتہ یہ ضرور ہے کہ کبھی نہ کبھی ہر معاشرے میں ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ عمدہ چیزیں ضرورت مندوں کی ضرورت کے لیے کفائت نہیں کرتیں۔ مثلا سیلاب آگیا ہے ‘ مکان بہہ گئے ‘ سامان پانی کی نذر ہوگیا ‘ لوگ بڑی مشکل سے جانیں بچا کر خشک اور بلند جگہ پر پناہ لینے میں کامیاب ہوئے۔ اب ان کی ضروریات ہر طرح کی ہیں۔ انھیں اشیائے خوردو نوش بھی چاہییں ‘ لباس بھی چاہیے ‘ گھروں کی دوبارہ بحالی کا سامان بھی چاہیے ‘ بسا اوقات حکومت اور گرد و نواح کے لوگ ان کی ضرورتیں پوری کرنے سے عاجز ہوجاتے ہیں تو ایسی کسی مصیبت کے وقت ہر طرح کی چیزوں کا دینا چاہے وہ ردی ہی سمجھی جائیں قابل قبول ہوسکتا ہے۔ جو لوگ باہر سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں انھیں جیسا بھی لحاف مل جائے ان کے لیے قابل قبول ہے۔ جو تن سے ننگے ہیں انھیں جیسے بھی کپڑے میسر آجائیں چاہے وہ پرانے ‘ پھٹے ہوئے بھی کیوں نہ ہوں ان کے لیے غنیمت ہیں۔ اس لیے پسندیدگی اور نا پسندیدگی کا فیصلہ حالات اور مواقع کو دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک اضافی امر ہے جس کے بارے میں ایک متعین بات کہنا مشکل ہے۔
طیبات کو اس آیت کریمہ میں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک تو وہ طیبات یعنی پاکیزہ مال و دولت اور نعمتیں ہیں جنھیں آدمی تجارت ‘ صنعت ‘ اور مزدوری سے کماتا ہے اور دوسری وہ ہیں جو زراعت کے نتیجے میں زمین سے اللہ تعالیٰ پیدا فرماتے ہیں۔ ان دونوں کو الگ الگ بیان فرمایا۔ اس لیے کہ زکوۃ دینے کی صورت میں دونوں کے احکام جدا جدا ہیں۔ مال و دولت کا اپنا نصاب ہے اور زرعی پیداوار کا اپنا نصاب۔ پھر مال و دولت کے نصاب پر سال گزرنے کے بعدزکوۃ فرض ہوتی ہے ‘ لیکن زرعی پیداوار پر فصل کٹتے ہی زکوۃ یعنی عشر فرض ہوجاتا ہے۔ اور مزید یہ کہ ہر طرح کے مال تجارت اور مال و دولت پر زکوۃ فرض ہے۔ لیکن زمین کی ہر طرح کی پیداوار پر زکوۃ فرض نہیں ہوتی۔ اسی طرح صدقاتِ نافلہ میں بھی دونوں کی حیثیتیں الگ الگ ہیں۔ اس اختلاف کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے پروردگار نے دونوں کو الگ الگ ذکر فرمایا۔ اور ہدایت دونوں کے بارے میں ایک ہی ارشاد فرمائی کہ جو بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو اسے طیب ہونا چاہیے۔ خبیث چیز کا دینا خواہ اس کا تعلق کسی بھی کمائی سے ہو یہ ایک ایسی جسارت ہے جو بجائے خود گناہ بھی ہے اور گناہ کا باعث بھی۔
غَنِیٌّ حَمِیْدٌ کا مفہوم
آیت کے آخر میں فرمایا کہ انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے یہ بات ذہن نشین کرلو کہ اللہ تعالیٰ غنی بھی ہے اور حمید بھی۔ وہ تمہیں انفاق کا حکم دیتا ہے یا تم سے قرض مانگتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ تمہارا محتاج ہے ‘ اس کی ضرورتیں مجبور کرتی ہیں تو دست سوال تمہاری طرف بڑھاتا ہے۔ وہ تو غنی ہے ‘ مالدار ہے ‘ بےنیاز ہے ‘ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور ساتھ ہی وہ حمید بھی ہے ہر طرح کی حمد و تعریف کا سزاوار اور ہر خیر اور جود کا سرچشمہ اور ہر بھلائی کا منبع ‘ ساری دنیا اس سے زندگی اور رزق کا فیض پا رہی ہے۔ ہر مخلوق کی بقا اس کی عنایت اور مہربانی سے ہے۔ وہ تمہیں خرچ کرنے کا حکم اس لیے دیتا ہے تاکہ اس سے خود تمہارے اندر ایک مستحکم کردار پیدا ہو۔ تمہارے اندر استغنا اور بےنیازی کی صفات جنم لیں۔ تمہیں اتنا سیر چشم اور بندہ مولیٰ صفات بنادیا جائے کہ مال و دولت کی محبت تم میں کوئی کمزوری پیدا نہ کرسکے۔ اور دنیا کا بڑے سے بڑا لالچ تمہاری استقامت میں تزلزل پیدا نہ کرسکے۔ اور دوسری یہ بات کہ تمہارے خوشحال لوگوں کے انفاق سے فقراء کی ضرورتیں پوری ہوں اور اعلائے کلمتہ الحق کی یہ تحریک اپنی مالی ضرورتیں پوری کرسکے۔ اور ان تمام باتوں کا فائدہ بالآخر تمہیں پہنچے گا ‘ جو فقیر لوگ ہیں وہ بھی تمہاری برادری کے اور تمہارے بھائی بند ہیں۔ اور جس فکری قافلے کے تم فرد ہو اس کی کامیابیاں بالآخر تمہاری کامیابیاں ہیں۔ اس لحاظ سے انفاق فی سبیل اللہ کی ضرورت تمہیں ہے۔ اس لیے تمہیں اس کا حکم دیا جا رہا ہے۔
Ayahs 2:268–270اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآئِ ط وَاللّٰہُ یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَ فَضْلًا ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ لا صلے یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُ ج وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا ط وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوالْاَلْبَابِ ۔
(شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی طرف سے مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے۔ اور جسے حکمت عطا کی گئی یقینا اسے خیر کثیر دے دی گئی۔ اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر عقل والے) (268 تا 269)
انفاق کے موانع
اس آیت کریمہ میں ان موانع اور رکاوٹوں کا ذکر ہے جن کے ذریعے شیطان انفاق فی سبیل اللہ سے روکتا ہے۔ اس میں نہایت بصیرت افروز باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
فقر کا خوف اور بےحیائی کے کاموں میں ملوث ہونا
پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جب کوئی شخص اعلائے کلمتہ الحق جہاد فی سبیل اللہ ‘ دینی مراکز کی مدد اور اعانت ‘ بھلائی اور خیر کے فروغ ‘ خلق خدا کی خدمت اور ضرورت مندوں کی اعانت کے لیے خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان وسوسوں کے ذریعے اسے اس مقصد سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ ابھی تو تمہاری اولاد چھوٹی ہے ‘ تمہارے مصارف کم ہیں ‘ بچے جب بڑے ہوں گے تو ان کے اخراجات بھی بڑھیں گے ‘ اسکول کے بعد کالج ‘ کالج کے بعد یونیورسٹی پھر ہو سکے تو اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک سے باہرجانا پڑے گا۔ آج اگر تم نے ہاتھ روک کے نہ رکھا اور جو ذاتی ضروریات سے بچا اسے اللہ کے راستے میں خرچ کر ڈالا تو پھر یہ اخراجات جو سامنے نظر آرہے ہیں انھیں کہاں سے پورا کرو گے۔ مکان تمہارا سرکاری ہے یا تم کرائے کے مکان میں رہتے ہو ‘ جب تک نوکری یا کاروبار ہے تو شاید تمہیں محسوس نہ ہو لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد کرائے کے مکان میں کیسے رہ سکو گے۔ تمہیں اپنی چھت کی ضرورت ہے۔ اگر تم نے ابھی سے اس کی فکر نہ کی تو مکان بنانا کوئی بچوں کا کھیل تو نہیں۔ اس کے لیے زرِ کثیر چاہیے۔ تمہارا خرچ کرنے کا یہی جذبہ تمہارے پاس کچھ نہیں چھوڑے گا۔ بتائو بڑھاپے میں کیا کرو گے ؟ اس طرح کے وسوسے اور اندیشے آدمی کا ہاتھ روک لیتے ہیں اور وہ تصور ہی میں پریشان ہونے لگتا ہے کہ واقعی آج اگر میں نے کچھ بچا کے نہ رکھا تو پھر کیا بنے گا ؟ شیطان کا یہ وہ حربہ ہے جو بڑی آسانی سے ہر ایک پر آزماتا ہے اور ہمیشہ انسان کو آنے والے دنوں میں فکر اور تنگدستی کے اندیشے سے پریشان رکھتا ہے۔ اور جو شخص ان اندیشوں میں ڈوب جاتا ہے وہ ساری عمر اس گائے کی طرح زندگی گزارتا ہے جو روزانہ چراگاہ میں گھاس چرنے کے لیے جاتی ‘ سبز سبز گھاس چرتی جاتی اور ساتھ ساتھ یہ سوچ کے پریشان بھی ہوتی جاتی کہ آج تو مجھے یہ سرسبز کھ اس کھانے کو مل گئی کل کو کیا ہوگا ؟ یہ کل کا اندیشہ اسے ساری عمر پریشان رکھتا ہے۔ وہ ایک دن بھی خالی پیٹ چراگاہ سے واپس نہیں آئی ‘ لیکن ایک دن کے لیے بھی پریشانیوں نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ ہر شخص کو شیطان ایسی گائے بنا کے رکھتا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ پھر وہ یہ بھی برداشت نہیں کرتا کہ چلیے یہ شخص اگر اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا اور میں اسے خرچ کرنے نہیں دیتا تو پھر اس کا مال محفوظ رہے ‘ اس کے بچوں کے کام آئے ‘ اس کے بڑھاپے میں اس کے لیے سہارا بنے اور یہ شخص ایک آسودہ زندگی گزارے جس میں مستقبل کا کوئی خوف اسے پریشان نہ کرے۔ لیکن شیطان کو یہ بھی گوارا نہیں۔ وہ تو انسان بلکہ مسلمان کا کھلم کھلا دشمن ہے۔ انسانوں کے جد امجد کو سجدہ نہ کرنے کے باعث جب اسے راندہ درگاہ کردیا گیا تو اس نے اللہ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی ‘ مہلت ملنے پر اس نے نہایت بےباکی سے چیلنج دیا کہ میں اولادِ آدم کو ایمان و عمل کی زندگی نہیں گزارنے دوں گا۔ ہر طرف سے ان پر حملہ آور ہوں گا اور پروردگار سے کہا کہ میں تیرے بندوں کی اکثریت کو تیرا شکر گزار نہیں رہنے دوں گا۔ اس طرح اس نے اپنی دشمنی پہلے دن ہی ظاہر کردی اور پھر اس نے اسے کبھی چھپا کے نہیں رکھا۔ اس لیے جب وہ کسی شخص کے دل میں مستقبل میں فقر کے وسوسے ڈالتا ہے تو مقصد اس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا نہیں ہوتا بلکہ اسے ان سعادتوں سے محروم رکھنا ہے جو خرچ کرنے کے نتیجے میں نصیب ہوتی ہیں۔ اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کو اس استحکام سے عاری رکھنا ہے جو مسلمان معاشرے کے افراد کی سخاوت و فیاضی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے جب وہ اس میں کامیاب ہوجاتا ہے اور مسلمان کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے روک دیتا ہے تو اب اس کی دوسری کوشش یہ ہوتی ہے کہ میں اس شخص کو ایسے کاموں میں لگائوں جس سے اس کے مال کے ضائع ہونے کے امکانات روز بروز بڑھتے چلے جائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب مال برباد ہوجائے گا تو اب اللہ کے راستے میں اس مال کے خرچ ہونے کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جب یہ شخص بری صحبتوں میں برے اعمال کے ارتکاب کا عادی ہوجائے گا تو پھر اس کی سوچ اور اس کا مزاج اسے کبھی یہ سوچنے کی مہلت بھی نہیں دے گا کہ فی سبیل اللہ بھی کوئی چیز ہے اور خرچ کرنا بھی کوئی سعادت ہے۔ چناچہ راہ خدا میں خرچ کرنے سے روک کر فوراً وہ اس شخص کو فحشاء کی طرف موڑ دیتا ہے۔ فحشاء کھلی ہوئی بےحیائیوں اور بدکاریوں کو کہتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس لفظ کو زنا ‘ لواطت اور عریانی جیسے بڑے بڑے جرائم کے لیے استعمال کیا ہے۔ چناچہ شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ نیک آدمی کو شروع میں طریقے طریقے سے غلط صحبت کا عادی بناتا ہے ‘ چار یاری اسے عزیز ہونے لگتی ہے گھر سے نفرت اور عیاش دوستوں کی صحبت پسندیدہ ہوجاتی ہے ‘ پھر ان عیاش دوستوں کی صحبت آہستہ آہستہ شراب نوشی تک لے جاتی ہے۔ شراب نوشی ایسی ام الامراض ہے جس سے تمام بےحیائیاں پھوٹتی ہیں۔ جب کسی مجلس میں اس کا چلن ہوجاتا ہے پھر وہاں بدکاری کا آجانا ایک لازمی سے بات ہے۔ شراب اور عورت جڑواں بیماریاں سمجھی جاتی ہیں پھر قحبہ خانوں میں آنا جانا اس بازار کے پھیرے اور آئے دن نفس امارہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے نئی نئی صحبتوں اور نئے نئے مشاغل کی تلاش ایک محبوب عمل بن جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر گنج قارون بھی ہو تو وہ بھی خالی ہوجاتا ہے۔ اس طرح کے مشاغل اور اس طرح کی عیاشیاں دنوں میں خوشحال آدمی کو قلاش بنا دیتی ہیں۔ شیطان نے جس شخص کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے اس لیے روکا کہ کہیں وہ فقر کی نذرنہ ہوجائے اسے وہ دنوں میں غلط صحبتوں ‘ غلط مشاغل اور غلط ذوق میں مبتلا کر کے واقعی فقیر کر کے رکھ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کی دونوں تصویریں سامنے رکھ دی ہیں۔ ایک تصویر اس مرد مومن کی ہے جو کماتا ہے تاکہ اپنی ضرورتوں پر خرچ کرے اور جو بچ جائے اسے ملک و ملت اور اعلائے کلمتہ الحق کے لیے صرف کرے اور اللہ پر بھروسہ رکھے کہ جس نے آج دیا ہے وہ کل بھی دے گا اور دوسری تصویر اس شخص کی ہے جس نے اللہ کے راستے میں اس اندیشے کی وجہ سے خرچ کرنے سے انکار کردیا کہ میں نادار نہیں ہونا چاہتا ‘ میری اپنی آنے والی ضرورتیں کیسے پوری ہوں گی ‘ لیکن شیطان نے اسے ان مشاغل میں الجھا دیا اور فسق و فجور میں اس طرح مبتلا کیا کہ دنوں میں اس کی خوشحالی قصہ ماضی بن گئی۔ شراب اور بدکاری کی عادتیں ایسی طبیعتِ ثانیہ بنیں کہ انھیں حاصل کیے بغیر چین کا ایک لمحہ بھی مشکل ہوگیا۔ اور جب کمائی کے جائز ذرائع ختم ہوئے تو مجبوراً ناجائز ذرائع پر ہاتھ مارا۔ کبھی قانون کی گرفت میں آیا ‘ کبھی معاشرے میں گالی بن کر رہ گیا اور اگر احساس مرا نہیں تو خود کشی کی نذر ہوگیا۔ زندگی کی یہ دو تصوریں فرضی نہیں ‘ اپنے دائیں بائیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ اخباروں میں روز یہ کہانیاں چھپتی ہیں۔ ہر خاندان میں یہ افسانے زندہ حقیقتوں کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں اور اگر اس پر ایک اور حقیقت کا اضافہ کردیا جائے تو شاید اسے سمجھنا آسان ہوجائے کہ جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ واقعی اس کے رزق میں اضافہ کرتا ہے۔ ہم نے آج تک کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے ہاتھ نہ روکا ہو اور اللہ نے اسے دینے سے میں ہاتھ روک لیا ہو۔ وہ اسے یکسوئی اور غنا کی دولت عطا فرماتا ہے ‘ اچھی شہرت دیتا ہے ‘ عزت سے نوازتا ہے اور صالح اولاد کی صورت میں اسے بڑھاپے کی وہ سہولتیں عطا فرماتا ہے جو مال و دولت سے کبھی حاصل نہیں کی جاسکتیں۔ لیکن جو شخص مال و دولت کو سینت سینت کے رکھتا ہے وہ بری صحبتوں میں نہ بھی پڑے تو اس کی ناخلف اولاد اس کی زندگی ہی میں دولت اڑا دیتی ہے۔ اور ایسے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں کہ باپ یہ دیکھ کر کہ میرے بچے آوارہ ہیں ان میں دولت تقسیم نہیں کرتا تو بچے باپ کو مروا دیتے ہیں یا ذہنی مریض بنا کر پاگل خانے میں داخل کروا دیتے ہیں اور اس کے بعد آپس میں دولت تقسیم کر کے دنوں میں اڑا دیتے ہیں۔
یأمرکم بالفحشاء کا مفہوم
یأمرکم بالفحشائ اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ شیطان تمہیں بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیطان انھیں کیسے حکم دے سکتا ہے ؟ وہ ہمیں نظر نہیں آتا ‘ ہم اس کی آواز نہیں سنتے تو پھر حکم دینے کا کیا مطلب ؟ اس سلسلے میں دو باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔ ایک تو یہ کہ ” یأمرکم “ کا معنی ہمشہ حکم دینا ہی نہیں ہوتا ‘ بلکہ جب ” ب “ کے ساتھ اس کا صلہ آتا ہے تو عموماً اس کا ترجمہ ہوتا ہے ” وہ تمہیں مشورہ دیتا ہے ‘ وہ تمہیں سجھاتا ہے ‘ وہ تمہارے دل میں یہ بات ڈالتا ہے “ اور دل میں بات ڈالنا جسے وسوسہ اندازی کہتے ہیں ‘ یہ وہ چیز ہے جس کی اللہ نے شیطان کو صلاحیت دے رکھی ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” شیطان تمہارے خون کے ساتھ گردش کرتا ہے۔ “ وہ دلوں میں وسوسہ اندازی کے ذریعے وہ سارے کام کرواتا ہے جنھیں بےحیائی کے کام کہا گیا ہے۔ شیطان عموماً اسی وسوسہ اندازی کے ذریعے انسانوں کو گمراہ کرتا ہے۔ اس لحاظ سے ہم اس کا ترجمہ کرسکتے ہیں کہ ” شیطان تمہیں بےحیائی کی باتیں سجھاتا ہے “ یعنی تمہارے دل میں ڈالتا ہے۔ لیکن اگر اس کا ترجمہ ” حکم دینا “ کیا جائے تو یہ بھی غلط نہیں۔ اس لیے کہ گمراہی کا ہر کام شیطان خود نہیں کرتا ‘ وہ جنوں اور انسانوں میں سے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے کرواتا ہے۔ جن انسانوں کو وسوسہ اندازی کے ذریعے وہ اس قدر گمراہ کردیتا ہے کہ وہ شر کی ہر بات کے مبلغ اور مناد بن جاتے ہیں اور خیر کی ہر قوت سے لڑنا اور اسے روکنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں اور اس راستے میں انھیں کوئی بھی نقصان اٹھانا پڑے تو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شیطان کی ایجنٹی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اس لیے شیطان جب کسی فرد یا کسی قوم سے حکماً بےحیائی کے کام کروانا چاہتا ہے تو وہ شر کی ان قوتوں کو آگے بڑھاکران سے وہ کام لیتا ہے۔ کسی ریاست کا حکمران اگر مسلمانوں کے مفادات کے خلاف غیر مسلم مفادات کا امین بن کر مسلمانوں کو مارتا اور انھیں نقصان پہنچاتا ہے تو وہ حقیقت میں شیطان کا ایجنٹ بن کر یہ سب کچھ کرتا ہے۔ اور وہ اپنی قوت نافذہ اور حکومت کے ذریعے وہ سب کچھ کر گزرتا ہے جو شیطان وسوسہ اندازی کے ذریعے نہیں کرسکتا۔ وہ ایک شخص کو بہکا دیتا ہے جس کے ہاتھ میں طاقت ہے۔ اب اس شخص کی طاقت شیطان کی طاقت بن جاتی ہے۔ اور وہ اس طاقت کے بل بوتے پر جو چاہتا ہے اس کا حکم دیتا ہے۔ میں اس بات کی وضاحت کے لیے ایک ایسا حوالہ دیتا ہوں جس کا آج کل اخبارات میں کسی حد تک ذکر ہو رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اتاترک کے زمانے سے ترکی کوشش کر رہا ہے کہ وہ یورپ کو یقین دلا دے کہ اسلام سے اس کا تعلق نام کی حد تک واجبی سا ہے ‘ ورنہ حقیقت میں وہ اسلام سے اپنا رشتہ کاٹ چکا ہے۔ وہ دن گزر گئے جب ترکی خلافت عثمانیہ کا مرکز تھا اور تمام مسلمان ممالک اس کی نگرانی میں تھے۔ لیکن اب ترکی مسلمان ملکوں سے نہیں بلکہ یورپی یونین سے اپنا تعلق قائم کرنا چاہتا ہے۔ سالہا سال گزر گئے ابھی تک یورپ کو اس بات کا یقین نہیں آیا کہ ترکی واقعی ہمارا ہے۔ وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ترک قوم اسلام سے اپنا رشتہ کاٹ چکی ہے۔ اس لیے وہ اسے اپنے اندر شامل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اب ترکی کو کچھ امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید یورپ ہمیں اپنے ساتھ شامل کرلے ‘ لیکن عجیب اتفاق یہ ہوا کہ ترک پارلیمنٹ میں ایک بل پیش ہوا کہ ترک پارلیمنٹ کو بدکاری پر پابندی لگانی چاہیے اور امکان پیدا ہوا کہ پارلیمنٹ اس کی منظوری دے دیگی۔ یورپ نے دھمکی دی کہ اگر تم نے بدکاری یعنی زنا پر پابندی لگائی تو ہم کبھی تمہیں یورپی یونین میں شامل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ کیونکہ یورپ ان خباثتوں کو ” ہیومن ارج “ یعنی فطری تقاضوں کا نام دیتا ہے۔ اور ان باتوں پر پابندی لگانا انسان کی فطری امنگوں پر پابندی سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں زنا بالجبر جرم ہے ‘ زنا بالرضا نہیں۔ یعنی جرم زنا اور بدکاری نہیں بلکہ زبردستی ہے۔ اگر باہمی رضا مندی سے یہ خباثت ہوتی رہے تو انھیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ تو اس سے آگے بڑھ کر باہم جنس پرستی کا قانون بھی پاس کرچکی ہے۔ اب یہ کوئی برائی نہیں ‘ بلکہ ایک علم بن چکا ہے۔ آپ امریکہ کی لائبریریوں میں جائیں تو وہاں آپ کو اس برائی کے حق میں لکھی ہوئی کتابوں پر مشتمل علیحدہ سیکشن ملے گا جس کا عنوان ہے ” گے اسٹائل آف لائف “۔
برسوں سے امریکہ میں بہن سے نکاح کے مطالبے ہو رہے ہیں اور بعض ریاستوں میں باقاعدہ اس کے حق میں جلوس نکالے گئے ہیں۔ پہلے استلذاذ بالاقاربکو طبی نقصانات کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ‘ لیکن آج اسے ” ہیومن ارج “ قرار دے کر انسان کا بنیادی حق تسلیم کروانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سے آپ اندازہ کیجئے کہ یورپ کی بہیمیت اور سفلی جذبات کی بالا دستی کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ اس لیے ان کے یہاں تو بدکاری کسی برائی کا نام نہیں ‘ بلکہ یہ انسان کی خواہش کی تکمیل ہے جس میں رکاوٹ ڈالنا برائی سمجھا جاتا ہے۔ ترکی ان سے اپنا رشتہ جوڑنا چاہتا ہے تو انھوں نے باقاعدہ دھمکی دی کہ اگر تم نے یہ بل پاس کردیا تو پھر ہم سے تمہارا کوئی رشتہ قائم نہیں ہوسکتا۔ اب ترکی پارلیمنٹ نے اس معاملے کو موخر کردیا ہے۔ اس مثال سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ بےحیائی کی باتوں کا حکم تو شیطان دیتا ہے ‘ لیکن وہ ذریعہ بعض دفعہ افراد کو بناتا ہے اور بعض دفعہ بڑی بڑی حکومتیں اس کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اس لحاظ سے اگر اس کا ترجمہ ” حکم دینا “ کیا جائے تو غلط نہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” اللہ تم سے مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے “ مغفرت فحشاء کے مقابلے میں ہے اور فضل فقر کے مقابلے میں۔ شیطان تو تمہیں فقر سے ڈراتا ہے کہ اگر تم نے اس کے راستے میں خرچ کیا تو تم فقیر اور نادار ہوجاؤ گے لیکن اللہ تعالیٰ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ تم اس کے راستے میں خرچ کر کے فقیر نہیں ہوسکتے بلکہ تم سے وہ فضل و کرم کا معاملہ فرمائے گا اور وہ زیادہ سے زیادہ تمہیں عطا فرمائے گا۔ اور مسلمانوں کی تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ مسلمان جب مدینہ طیبہ میں آئے تو اکثریت نان شبینہ کی محتاج تھی۔ ایک چھوٹی سی بستی پر ہزاروں کھانے والوں کا بوجھ آپڑا۔ لیکن چند ہی سالوں میں اللہ نے ان کے دن پھیردیئے کہ وہ نان شبینہ کے محتاج جو پیٹ پر پتھر باندھ کر دن بھر کی مزدوری اللہ کے راستے میں دے دیتے تھے اللہ نے انھیں اتنی خوشحالی عطا فرمائی کہ وہ زکوۃ کا مال لے کر زکوۃ لینے والے کو ڈھونڈتے تھے لیکن ملتا نہیں تھا۔ جس کے پاس جاتے کہ گزشتہ سال میں نے تمہیں زکوۃ دی تھی اسی لیے اب میں لے کے آیا ہوں تو وہ معذرت کرتا ہوا کہتا کہ اب تو اللہ تعالیٰ نے مجھے خود زکوۃ دینے کے قابل بنادیا ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے پیچھے گیارہ بیٹے چھوڑے ‘ جنھیں اپنے باپ کی وراثت سے پانچ پانچ درہم حصہ ملا۔ لیکن لوگوں نے چند سالوں کے بعد ان کے بڑے بیٹے عبدالعزیز کو دیکھا کہ انھوں نے ایک دن میں سو غلام خرید کے اللہ کے راستے میں آزاد کیے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ان کی دولت میں کس قدر وسعت تھی۔
ہشام بن عبدالملک نے بھی اپنے پیچھے گیارہ بیٹے چھوڑے۔ ہشام کے مرنے پر ایک ایک بیٹے کو جو وراثت ملی وہ گیارہ گیارہ لاکھ درہم تھی۔ لیکن ایک وقت آیا لوگوں نے ہشام کے بیٹوں کو مانگتے ہوئے دیکھا۔ ان دونوں مثالوں میں جو چیز سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے سب کچھ اللہ کے راستے میں لٹا دیا تو اللہ نے ان کے بیٹوں کو اپنے فضل سے نوازا اور ہشام نے ظلم اور غبن کے ذریعے دولت اکٹھی کی ‘ اللہ نے اس کی اولاد کو نان شبینہ تک کا محتاج بنا ڈالا۔
اور دوسری بات ارشاد فرمائی کہ شیطان تمہیں بےحیائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے مغفرت اور بخشش کا وعدہ فرماتا ہے۔ یعنی وہ تمہیں عیش و عشرت ‘ مے نوشی ‘ سینما بینی ‘ غلط صحبتوں میں شرکت اور اللے تللوں میں دولت اڑانے پر اکساتا ہے اور تمہیں بےحیائی کا خوگر بنا کر تمہاری تمام دولت بےحیائی کے کاموں میں صرف کروا دیتا ہے۔ لیکن اللہ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ اگر تم اپنی دولت اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے تو زندگی بھی آسودگی سے گزرے گی اور آخرت میں تمہاری یہ فیاضی ‘ تمہارے لیے جنت میں جانے کا سبب بنے گی۔ اللہ اس کے بدلے میں تمہاری مغفرت اور بخشش فرمائے گا۔ دیکھ لو دونوں میں سے کون سا راستہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اور اللہ بڑی وسعت والا ہے اور علم والا ہے۔ تم اس کے راستے میں دو گے ‘ تو اس کے وسیع خزانے تم پر نچھاور ہوجائیں گے۔ اور وہ اپنے علم کی وجہ سے خوب جانتا ہے کہ کس نے کیا خرچ کیا اور کس جذبے سے خرچ کیا۔ اس لیے اس کے مطابق وہ قیامت کے دن اجر وثواب سے نوازے گا۔
حکمت کا مفہوم
دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص مال و دولت کو ظاہری پیمانوں سے نہیں ناپنا بلکہ وہ اللہ کے وعدوں پر بھروسہ کرتا ہے وہ سینت سینت کے رکھنے کی بجائے اللہ کے راستے میں لٹاتا ہے اور اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے بدلے میں مجھے اللہ کا فضل و کرم ملے گا اور اللہ کے وعدوں پر اعتماد کو اپنا حقیقی جوہر سمجھتا ہے۔ اس سے جو اصل روح ایمان اور عمل کی پختگی نصیب ہوتی ہے اور آدمی جس گہری بصیرت سے نوازا جاتا ہے یہ وہ چیز ہے جس کو یہاں حکمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کمی بیشی کے ظاہری پیمانوں سے ہر چیز کو ناپنا اور عقل کی ترازو میں ہر چیز کو تولناہر عقلمند آدمی کا شیوہ ہے۔ لیکن اس سے بلند ہو کر ان روحانی پیمانوں پر یقین کرنا جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور دنیا کی بجائے آخرت کو اپنا مقصد بنانا اور یہاں اللہ کے دین کے تقاضوں کے مطابق ہر چیز کو قربان کر کے آخرت کی نعمتوں کو اپنی مقصد بنا لینا اور ان پر ایسا گہرا یقین اور گہری بصیرت کا پیدا ہوجانا کہ اس سے ہٹ کر ایمانی طبیعت کسی چیز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو یہ وہ حکمت ہے جو اللہ تعالیٰ کسی کسی کو عطا فرماتے ہیں۔ اور جس کو یہ حکمت مل جاتی ہے وہ دنیا کے خزف ریزوں کو جمع کرنے کے بجائے اس حکمت کا طالب ہوتا ہے۔ اسے دنیائے فانی کی لذتوں پر فریفتہ ہونے کی بجائے اپنا مال و دولت لٹانے ‘ حتیٰ کہ سر کٹوانے میں مزہ آتا ہے۔ یہی وہ حکمت کا خزانہ ہے جس کا مقام و مرتبہ جوہر عقل سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن اسے سمجھنے کے لیے بھی عقل ہی کی ضرورت پڑتی ہے ‘ لیکن یہ عقل وہ ہے جو ایمان کی تابع ہے۔ جو ایمان کے ساتھ رہ کر اتنی مجلیٰ اور مصفیٰ ہوچکی ہے کہ محسوسات اور معقولات کے پیمانے اسے ناپنے سے عاجز رہ جاتے ہیں۔ وہ فیصلہ کرتی ہے تو ابراہیمی عقل سے کرتی ہے ‘ وہ بحرقلزم کے کنارے کھڑے ہو کر موسیٰ کی زبان سے بولتی ہے ‘ وہ میدانِ بدر میں کثرت و قلت کی پروا کیے بغیر امت کو فتح و کامیابی کا یقین دلاتی ہے۔ یہ وہ حکمت ہے جو سارے خزانوں سے بڑا خزانہ ہے۔
برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ
ہر دم رواں ‘ پیہم جواں ‘ ہر دم دواں ہے زندگی
وَمَـآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَۃٍ اَوْنَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُہٗ ط وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۔
(اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو یا جو کچھ تم منت مانتے ہو یقینا اللہ اسے جانتا ہے۔ اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے) (270)
نذر کی تعریف
امام تفسیر قرطبی نے نذر کی تعریف یہ کی ہے ہو ما اوجبہ المکلف علی نفسہ من عبادات لولم یوجبہ لم یلزمہ (نذر ایسی عبادت کو اپنے اوپر لازم کرلینے کو کہتے ہیں کہ اگر وہ عبادت (نذر ماننے والا) اپنے اوپر واجب نہ کرے تو وہ عبادت اس پر لازم نہیں ہوتی) دوسرے اہل علم بھی اس سے ملتی جلتی بات کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی کسی مراد کے برآنے پر کسی ایسے خرچ یا ایسی عبادت یا ایسی خدمت کو اپنے اوپر لازم کرلے جو اس کے ذمے فرض نہیں تو ایسی نذر کا ماننا اور پورا کرنا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر ماننے کو پسند نہیں کیا گیا۔ یہ ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کو پابند کرنے والی بات ہے جو پسندیدہ نہیں ہے۔ لیکن اگر نذر مان لی جائے تو پھر اسے پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے ‘ لیکن شرط یہ ہے کہ اس نذر میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو۔ یعنی کسی ناجائز کام کے لیے نذر نہ مانی جائے یا کسی جائز کام کے لیے ایسی نذر نہ مانی جائے جس کا مانناشریعت کی رو سے جائز نہیں۔ اگر ایسی شرعی قباحتوں سے وہ نذر محفوظ ہے تو پھر جیسا کہ میں نے عرض کیا اس کا پورا کرنا واجب ہے۔ نذر میں بھی عام طور پر اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ہوتا ہے ‘ اس لیے اس کا ذکر بھی انفاق فی سبیل اللہ کے ذکر میں کیا گیا ہے۔ اور یہ فرمایا گیا ہے کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرو یا تم نذر مان کر اسے پورا کرتے ہوئے خرچ کرو اور چاہو تم ہزار پردوں میں چھپ کر خرچ کرو اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں ‘ اسے جانتا ہے۔ جاننے سے مراد یہ ہے کہ وہ اس کا صلہ بھی دے گا۔ عموماً اللہ تعالیٰ جب اپنی صفات کا ذکر فرماتے ہیں تو اس سے مقصود ان کا لازم ہونا ہے۔ یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ وہ جب تمہارے ہر خرچ اور ہر ایثار کو جانتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ تمہیں اس کا صلہ عطا فرمائے گا۔
اور اس کے بعد فرمایا کہ ” ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا “ ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا۔ اللہ نے ان کو مال و دولت دیا تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ جس نے وہ دولت دی ہے اسی کے راستے میں خرچ کی جائے لیکن انھوں نے اس کے راستے میں خرچ کرنے کی بجائے اسے اللے تللوں میں اڑایا۔ اور اگر کسی پر خرچ کیا بھی تو دکھاوے کے لیے کیا یا خرچ کرنے کے بعد احسان جتلایا ‘ دل آزاری کی اور یا دولت کو معبود بنا کر پوجتے رہے ‘ بجائے خرچ کرنے کے اس کی حفاظت کو مقصود بنا لیا۔ بجائے اس کے کہ انفاق و ایثار اور اللہ کی رحمت کے فضل و کرم پر بھروسہ کرتے انھوں نے اپنے مال و دولت کو معبود بنا کر اس پر بھروسہ کیا اور اسی پر تکیہ کیے بیٹھے رہے۔ اور یہ سمجھتے رہے کہ دنیا میں بھی یہی مال و دولت کام آیا اور آخرت میں بھی یہی ہماری کامیابیوں کی ضمانت ہوگا۔ کہا ایسے اپنی جانوں کے دشمنوں کے لیے قیامت کے دن کوئی مددگار نہیں ہوگا جو اللہ کے عذاب سے انھیں بچا سکے۔