2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:111

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اہلِ کتاب نے کہا ! ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا، مگر وہ شخص جو یہودی ہو یا عیسائی یہ ان کی آرزوئیں ہیں۔ فرمادیجئے ! (اے پیغمبر ! ) اپنی دلیل لائو اگر تم سچے ہو۔

وَقَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّامَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰٰرٰی ط تِلْکَ اَمَانِیُّھُمْط قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (اہلِ کتاب نے کہا ! ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا، مگر وہ شخص جو یہودی ہو یا عیسائی یہ ان کی آرزوئیں ہیں۔ فرمادیجئے ! (اے پیغمبر ! ) اپنی دلیل لائو اگر تم سچے ہو) (البقرۃ : 111) راہِ نجات کیا ہے ؟ سابقہ آیات میں یہود و نصاریٰ کی شرارتوں سازشوں اور گستاخیوں کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو آگاہ کیا گیا تاکہ وہ ان کی شرارتوں کے اثراتِ بد سے محفوظ رہ سکیں۔ پیش نظر آیات کریمہ میں مسلمانوں کو ان کی مزید ایک شرارت سے متنبہ کیا گیا ہے جس کا تعلق انسانی نجات سے ہے۔ جس شخص کا تعلق بھی مذہب سے ہے اس کے لیے سب سے بنیادی بات جو ازبس اہمیت رکھتی ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا میں کامیابی اور آخرت میں نجات کا راستہ کیا ہے ؟ ہر مذہب نے انسانوں کو اس راستے کی دعوت دی ہے۔ یہود و نصاریٰ مسلمانوں اور دوسرے لوگوں سے یہ کہتے تھے کہ تم نئے آنے والے نبی کے پاس اس لیے جاتے ہو کہ وہ تمہیں نجات کا راستہ بتائیں حالانکہ اس سے پہلے یہودیت اور نصرانیت یہ راستہ کھول چکی ہیں اور اسلام ان دونوں کی صداقت کو تسلیم کرتا ہے۔ یہود اپنے آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں اور عیسائی، عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور قرآن کریم ان دونوں نبیوں اور ان پر نازل ہونے والی تورات اور انجیل کی صداقت کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہود و نصاریٰ جس طرح اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کی صداقت کے علم بردار ہیں، اسی طرح نبی آخرالزمان ﷺ اور قرآن کریم ان کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس سے از خود یہ بات واضح جاتی ہے کہ نبیوں اور کتابوں کا اصل فریضہ یہ ہے کہ وہ دنیا کے سامنے راہ نجات واضح کریں اور یہودیت اور عیسائیت یہ کام پہلے سے کرتے چلے آرہے ہیں اور اسلام بھی اسے تسلیم کرتا ہے۔ تو پھر آخر ایک نئی نبوت اور نئی کتاب کی ضرورت کیا ہے ؟ یہ تو بلاوجہ ایک فتنہ پیدا کرنے کی کوشش ہے جبکہ اس کے بغیر ضرورت پوری ہورہی ہے۔ یہ وہ بات ہے جو یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے دلوں میں پیدا کررہے تھے کہ تمہیں اگر نجات مطلوب ہے تو اس کے لیے تم یہودیت کا راستہ کا اختیار کرو یا عیسائیت کا، تم نجات پاجاؤ گے۔ اسلام کے چکر میں پڑکر بلاوجہ نہ اپنے لیے مشکل پیدا کرو اور نہ دوسروں کے لیے۔ قرآن کریم نے اس کا جواب دیتے ہوئے سب سے پہلے ان کے مذہب کی حقیقت کو اجاگر کیا کہ مذہب دنیا میں انسانی اصلاح کے لیے آتا ہے، جس میں عقیدہ، اخلاق، معاشرت، معاملات اور آداب تک ہر چیز کی اصلاح کی جاتی ہے اور پوری زندگی کو اس راستے پر ڈال دیا جاتا ہے، جس سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ یہ محض چند آرزئوں یا خواہشوں کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک ضابطہ حیات اور دستورالعمل ہوتا ہے۔ جس کے مطابق فکری زندگی کی تعمیر ہوتی ہے اور زندگی کا پورا تانا بانا اسی کی ہدایت کے مطابق بنا جاتا ہے۔ انسان آزادی سے اپنی خواہشات کے مطابق زندگی نہیں گزارتا بلکہ اس کی زندگی ان اصولوں اور ان آداب کی پابندی میں گزرتی ہے جو مذہب پیش کرتا ہے۔ لیکن یہود و نصاریٰ نے اپنے مذہب کو چند خوبصورت تصورات، چند خواہشات اور چند رسم و رواج کا نام دے رکھا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم زندگی گزارنے کے لیے اللہ کی طرف سے کسی عطا کردہ قانون کے پابند نہیں بلکہ ہم آزاد مخلوق ہیں جو چاہیں سو کریں ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہماری نجات کے لیے یہ بات کافی ہے کہ ہم اپنا انتساب یہودیت کی طرف رکھتے ہیں یا عیسائیت کی طرف۔ جنت ہمارے ہی لیے پیدا کی گئی ہے۔ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں اس لیے آخرت میں کسی طرح کی ناکامی کا ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ اس طرح سے انھوں نے اپنے مذہب کو خوبصورت آرزئوں کا نام دے کر مذہب کی آزادیوں سے اپنے آپ کو آزاد کرلیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے : یہ امانی اور یہ آرزئوئیں یہ تمہارا مذہب ہیں۔ جس میں نہ کوئی فکری تطہیر کا سامان ہے اور نہ عملی پابندیوں کا۔ اس کے بعد ان سے سوال فرمایا جارہا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک مذہب صرف خواہشات کا نام ہے کہ جس میں تمہیں کوئی عمل کیے بغیر جنت مل سکتی ہے، تو پھر یہ کوئی ایسی بات تو نہیں جسے خود سے اختیار کرلیا جائے۔ جنت اللہ کی ہے وہ محض چند خواہشات کے سہارے زندگی گزارنے والوں کو تو عطا نہیں کرے گا اور اگر تم سمجھتے ہو کہ تم اپنے دعوے میں سچے ہو، تو پھر تمہارے پاس جو اللہ کی کتابیں ہیں ان میں سے کوئی دلیل پیش کروجس سے یہ معلوم ہوسکے کہ نجات کے لیے صرف یہودی یاعیسائی ہونا کافی ہے ایمان وعمل کی صعوبت اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس سوال کے جواب میں یہود و نصاریٰ کو سانپ سونگھ گیا وہ اس کا کیا جواب دے سکتے تھے چناچہ اگلی آیت کریمہ میں پروردگار نے خود اس کا جواب ارشاد فرمایا :
Ayah 2:112

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

کیوں نہیں ! جس نے سپرد کردیا اپنی ذات کو، اللہ کے اور وہ محسن بھی ہو، تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔ نہ انھیں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

بَلٰی ق مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَھُوَمُحْسِنٌ فَلَـہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ص وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ ” کیوں نہیں ! جس نے سپرد کردیا اپنی ذات کو، اللہ کے اور وہ محسن بھی ہو، تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے، نہ انھیں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ “ (البقرۃ : 112) ” بلیٰ “ اپنے ماسبق کی نفی و تردید کے لیے ہوتا ہے۔ یعنی نجات یہودی یا نصرانی ہونے میں نہیں بلکہ نجات کا اصل اور صحیح اصول یہ ہے کہ نجات دو باتوں پر منحصر ہے۔ 1: اسلام، 2: احسان۔ اصولِ نجات 1 اسلام کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی ذات کو اللہ کے سپرد کردے۔ فکری طور پر بھی اور عملی طور پر بھی۔ اس کے اعتقادات کی بنیاد صرف اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی ہدایات ہوں اور اس کے عمل کا دارومدار اس کی نازل کردہ شریعت پر ہو۔ وہ ہر اس بات کو صحیح سمجھے جسے اللہ کی کتاب اور اس کا نبی صحیح قرار دے اور ہر اس بات کو باطل سمجھے جسے وحی الہٰی باطل قراردے۔ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے تمام پیغمبروں کو برحق جانے۔ وہ کسی نبی کی محبت میں غلو کی وجہ سے دوسرے نبی کا انکار نہ کرے۔ وہ ہر نبی کو سچا سمجھے لیکن عمل اس شریعت پر کرے جو اس کی زندگی میں نئے نبی پر نازل ہو۔ وہ چونکہ اپنی ذات کو اللہ کے سپرد کرچکا ہے، اس لیے اس کا اصل مطلوب اور مقصود اللہ کی ذات ٹھہرے۔ 2 دوسری چیز احسان ہے۔ احسان کا معنی ہے اللہ کے احکام کی تعمیل حسب استطاعت بہتر سے بہتر انداز میں کرنے کی کوشش کرنا۔ یعنی جو شخص اپنی ذات کو اللہ کے سپرد کرنے کے باعث اس کے ہر حکم کو تسلیم کرتا ہے، تو اس کا محض تسلیم کرنا کافی نہیں بلکہ نجات کے لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ وہ ان احکام پر بہتر سے بہتر انداز میں نہائت اخلاص کے ساتھ اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس کو زندہ رکھتے ہوئے عمل کرنے کی کوشش کرے۔ جس شخص میں یہ دو صفات جمع ہوجائیں گی یعنی وہ ایمان وعمل میں پختہ ہوجائے گا اسے کسی گروہی انتساب کی ضرورت نہیں، یہی دو صفات اس کی نجات کی ضامن ہیں کیونکہ ان دونوں صفات کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آدمی گروہی تعصبات سے آزاد ہوجاتا ہے اور ہر طرح کی آلودگیاں اس کے دل و دماغ سے نکل جاتی ہیں۔ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اللہ کا نبی سمجھتا ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اللہ کا نبی جانتا ہے اور وہ بجا طور پر دونوں کا احترام کرتا ہے، لیکن نجات کو ان میں منحصر نہیں سمجھتا۔ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ ان کے بعد اللہ نے نبی آخرالزمان کو آخری کتاب اور آخری شریعت دے کر مبعوث فرمایا ہے، تو اب اس کے عمل کا دارومدار تمام سابقہ انبیاء پر ایمان کے ساتھ ساتھ نبی آخرالزمان پر ایمان اور ان کی شریعت پر ہوگا کیونکہ سابقہ انبیاء کے زمانے میں منشائے ایزدی یہ تھا کہ ان کی لائی ہوئی شریعتوں پر عمل کیا جائے۔ لیکن جب آخری رسول تشریف لے آئے اور آخری شریعت آگئی تو اب ان پر ایمان لانا اور قیامت تک ان کی شریعت پر عمل کرنا نجات کے لیے لازمی ٹھہرا۔ یہی وہ نسخہ کیمیا ہے، جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے نسخہ شفا ہے اور اسی کے نیتجے میں ان کو وہ زندگی ملے گی جو ہر طرح کے خوف اور حزن سے پاک ہوگی۔ لاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ جنت کی تعبیر ہے خوف کا تعلق مستقبل سے ہوتا ہے اور حزن کا تعلق ماضی کے واقعات سے۔ دنیا میں یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ ایک آدمی مستقبل میں خوف سے محفوظ ہوجائے اور ماضی کے واقعات پر اسے کبھی حزن وغم نہ ہو۔ اللہ کے نبی بھی آنے والے دنوں میں ناگوار حوادث سے محفوظ نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک کو اولاد کی خوشیاں بھی دیں اور پھر بیٹوں کی موت کا صدمہ بھی دیا جس کی وجہ سے حضور اشکبار بھی ہوئے۔ البتہ ! ان میں اور ان کے راستوں پر چلنے والوں میں طرّہ امتیاز یہ ہے کہ غم والم کا شکار تو وہ بھی ہوتے ہیں، لیکن وہ اللہ سے شکایت کبھی نہیں کرتے۔ ان کی آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں لیکن دل ہمیشہ اللہ کے فیصلوں پر مطمئن رہتا ہے۔ اس لیے جب قرآن کریم اس طرح کے الفاظ استعمال کرتا ہے کہ ان کے لیے نہ تو خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، تو اس سے دو باتیں مراد ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ دنیا میں ان کو حوادث سے سابقہ پیش آسکتا ہے، لیکن یہ حوادث ان کی حوصلہ مندیوں کے لیے چیلنج نہیں بن سکتے۔ ان کے اعتماد اور توکل میں کبھی کمی نہیں آتی۔ ان کے دل ہمیشہ اللہ سے مطمئن اور شاداں اور فرحاں رہتے ہیں اور دوسری بات یہ مراد ہوتی ہے کہ اللہ ان کو آخرت میں جنت جیسی نعمت عطا فرمائے گا جس کی بنیادی شناخت یہ ہے کہ جو شخص جنت میں جائے گا اسے کبھی حزن وغم سے واسطہ نہیں پڑے گا کیونکہ حزن و غم اور پریشانیاں جنت میں داخل نہیں ہوسکیں گی، اس لحاظ سے یہ تعبیر جنت کا متبادل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایسا اجر عطا فرمائے گا، جس کی وجہ سے نہ انھیں کوئی خوف ہوگا نہ حزن۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں جنت عطا فرمائے گا۔ اگلی آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کے فکری، قولی اور عملی تضاد کو واضح کیا جارہا ہے۔ ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جنت میں داخلے کے لیے یہودی یا نصرانی ہونا ضروری ہے یعنی دونوں ایک دوسرے کے لیے اس حد تک روادار ہیں کہ یہودی نصرانی کو جنتی قرار دے رہا ہے اور نصرانی یہودی کو اور دونوں ہی تورات پر عمل کے داعی بھی ہیں۔ لیکن اصل حقیقت کیا ہے ؟
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

(اور یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ کسی بنیاد پر نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود کسی بنیاد پر نہیں درآنحالیکہ وہ سب ( ایک ہی) کتاب آسمانی پڑھتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ بھی کہنے لگے انھیں ساقول جو (کچھ بھی) علم نہیں رکھتے۔ سو اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن اس باب کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ جھگڑتے رہتے ہیں۔

وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیْئٍ ص وَقَالَتِ النَّصٰرٰی لَیْسَتِ الْیَہُوْدُ عَلٰی شَیْئٍ لا وَھُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ ط کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ لَایَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِھِمْ ج فَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ (اور یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ کسی بنیاد پر نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود کسی بنیاد پر نہیں درآنحالیکہ وہ سب ( ایک ہی) کتاب آسمانی پڑھتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ بھی کہنے لگے انھیں ساقول جو (کچھ بھی) علم نہیں رکھتے۔ سو اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن اس باب کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ جھگڑتے رہتے ہیں) (البقرۃ : 113) یہود و نصاریٰ کے باہمی تعلقات کی حقیقت اصل حقیقت یہ ہے کہ یہود نصاریٰ کو شرعی حوالے سے کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں اور نصاریٰ یہود کے بارے میں ایسا ہی احساس رکھتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے نزدیک صرف گمراہ ہی نہیں بلکہ کافر ہیں۔ یہود تو نصاریٰ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے باعث مرتد اور کافر قرار دیتے تھے خود اگرچہ مختلف قسم کے شرک میں مبتلا تھے، لیکن عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کو صریحاً کفر سمجھتے تھے اور جہاں تک عیسائیوں کا تعلق ہے، وہ بھی یہود کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھتے تھے۔ شریعتِ موسوی سے متعلق موجودہ انجیلوں میں تذکرہ ان الفاظ میں ملتا ہے۔ ” آدمی شریعت کے اعمال سے نہیں بلکہ صرف یسوع مسیح پر ایمان لانے سے راست باز ٹھہرتا ہے۔ “ (گلتیون۔ 2: 16) ” شریعت کے اعمال سے کوئی بشر راست باز نہ ٹھہرے گا۔ “ (ایضاً 2: 17) ” راست بازی اگر شریعت کے وسیلہ سے ملتی تو مسیح کا مرنا عبث ہوتا “ (ایضاً 2: 20) یہ بات پیش نظر رہے کہ اصطلاحِ انجیل میں مطلق شریعت سے مراد شریعت موسوی ہی ہوتی ہے۔ اس لیے اوپر حوالوں میں جو شریعت کا لفظ آیا ہے، اس سے مراد شریعتِ موسوی ہے۔ وھم یتلون الکتٰب سے ان کے تضاد کو مزید واضح کیا گیا ہے۔ یہود و نصاریٰ ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ دونوں کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، یعنی مجموعہ صحائفِ بنی اسرائیل جس کو آج عہدنامہ عتیق کہتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ دونوں ان صحیفوں کے الہامی اور مقدس ہونے کے قائل ہیں اور انھیں پڑھتے اور ان سے استفادہ بھی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اندازہ کیجئے کہ دونوں ایک دوسرے کی تکفیر اور تفسیق کرتے ہیں۔ اگر ان دونوں کا ایک دوسرے کو کافر ٹھہرانا صحیح ہے، تو پھر دونوں کا ایک دوسرے کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کا مذہب قبول کرنے سے جنت میں داخلہ ہوجائے گا، کہاں تک صحیح ہے اور اگر واقعی یہودی یا نصرانی ہونے سے جنت کا استحقاق ثابت ہوتا ہے، تو پھر دونوں ایک دوسرے کو کافر کیوں قرار دیتے ہیں ؟ یقینا اس کے پیچھے کوئی اور جذبہ کام کررہا ہے۔ لیکن اس کا ذکر کرنے سے پہلے مزید ایک حیران کن بات دیکھ لیجئے کہ جس طرح یہود و نصاریٰ ایک دوسرے کو کافر ٹھہراتے ہیں اور صرف اپنے آپ کو برحق سمجھتے ہیں، یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے جو شریعت ونبوت کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے، مراد اس سے مشرکین عرب ہیں۔ وہ بھی یہود و نصاریٰ کے بارے میں یہی سمجھتے اور کہتے تھے کہ ان کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے، وہ سراسر گمراہ لوگ ہیں۔ یہود و نصاریٰ بھی ان کے بارے میں ایسی ہی رائے رکھتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے مقابلے میں اہل کتاب نے ان کو مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ قرار دیا، ان کے اسی تضاد اور مسلمانوں سے دشمنی کو واضح کرنے کے لیے پروردگار نے ایک جگہ ارشاد فرمایا : اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْـبًا مِّنَ الْـکِتٰبِ یُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھٰٓـؤُلَائِ اَھْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً ۔ (کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں جبت پر اور طاغوت پر اور کہتے ہیں ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا (مشرکینِ عرب) کہ یہ مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں) مسلمانوں سے دشمنی نے ان کو متحد کر رکھا ہے اب پوری صورتحال کو از سر نو ایک دفعہ دیکھ لیجئے کہ یہود و نصاریٰ ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ جنت میں جانے کے لیے یہودی یا نصرانی ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح یہ مشرکینِ عرب کو کافر قرار دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی انھیں مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ بھی سمجھتے ہیں اس کھلے تضاد کے پیچھے جو جذبہ کارفرما ہے، وہ صرف اسلام اور مسلمان دشمنی کا ہے۔ اس دشمنی کے جذبے نے ان کے درمیان ایک اتحادپیدا کردیا ہے ان کی آپس کی دشمنی مسلمانوں سے دشمنی کے سامنے دب کر رہ گئی ہے اور وہ دنیا کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ حقیقت اور صداقت صرف ہمارے درمیان دائر ہے، اسلام اور مسلمانوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام سراسر گمراہی کا نام ہے اور مسلمان بالاتفاق گمراہ ہیں، ہماری آپس کی دشمنی پر نہ جائیے، ہم مسلمانوں کے مقابلے میں بالکل متحد اور یک رائے ہیں۔ آیتِ کریمہ کے آخر میں فرمایا : فَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ” سو اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن اس باب میں فیصلہ کردے گا جس میں وہ جھگڑتے رہتے ہیں۔ “ مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا آپس میں اختلاف اور پھر مشرکینِ عرب اور ان کا آپس میں اختلاف، دنیا میں اس کے فیصلے کی ایک ہی شکل تھی کہ یہ لوگ نبی آخرالزمان ﷺ پر ایمان لاتے اور اس طرح ان کے تمام اعتقادی اور عملی اختلافات کا حل انھیں مل جاتا کیونکہ جب بھی امتیں اختلافات کا شکار ہوئی ہیں تو نئی نبوت اور نئی شریعت نے ان کے درمیان فیصلہ کیا آخری نبی ﷺ کی تشریف آوری سے تمام دنیا کے اختلافات کے ختم ہونے کی سبیل پیدا ہوئی، لیکن یہود و نصاریٰ نے چونکہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کردیا اس لیے اب دنیا میں تو ان کے اختلافات کے حل ہونے کی کوئی صورت نہیں صرف ایک صورت ہے کہ یہ لوگ قیامت کا انتظار کریں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ محسوس طور پر ان حقائق کو کھول کر رکھ دے گا جنھیں آج تسلیم کرنا انھیں مشکل ہو رہا ہے۔ لیکن وہ فیصلہ ایسا ہوگا جس سے انھیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس فیصلے کی روشنی میں انھیں تلافی مافات کی مہلت نہیں ملے گی بلکہ اس کے نتیجے میں یہ ہمیشہ کی سزا کے حوالے کردئیے جائیں گے۔ ہم اس سے پہلے بھی پڑھ چکے ہیں کہ یہود اہل کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا ایک تعلیمی نظام بھی رکھتے تھے ان میں بڑے بڑے علماء موجود تھے۔ ان کے مدارس، مدراس کے نام سے قائم تھے اور اپنی قوم کی تعلیمی اور مذہبی ضرورتیں پوری کرتے تھے۔ ان کے اس علم کا تمام اہل عرب پر ایک رعب تھا، چناچہ مشرکینِ عرب اپنا ہم مذہب نہ جانتے ہوئے بھی ان کے علم سے مرعوب رہتے تھے اور جب بھی کبھی کوئی مذہبی بحث چھڑتی تو وہ عموماً انھیں کی طرف رجوع کرتے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی کہ یہود علماء ومشائخ نے اپنے تورع، تقویٰ اور تقدس کا ایسا بھرم قائم کر رکھا تھا کہ خواہی نہ خواہی ان کی مخالفت کو ایک اہمیت دی جاتی تھی۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری پر بھی عرب انھیں کی طرف دیکھ رہے تھے کہ یہ لوگ مذہب کو جاننے والے اور اللہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ اس لیے اگر یہ اس نئے نبی کو مان لیتے ہیں تو ہم بھی ایمان لے آئیں گے اور اگر یہ ماننے سے انکار کرتے ہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی سچا نبی نہیں ورنہ یہود کبھی اس سے انکار نہ کرتے۔ چناچہ اگلی آیات کریمہ میں ان کی بعض بداعمالیوں اور فکری کج رویوں کا ذکر فرماکر ان کا اصل چہرہ دکھایا گیا ہے۔
Ayahs 2:114–115

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں کو اس سے روک دے کہ ان میں اس کا نام لیاجائے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔ یہ لوگ اس لائق ہی نہیں کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں (بھی بڑی) رسوائی ہے اور آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے مشرق (بھی) اور مغرب (بھی) سو تم جدھر کو بھی منہ پھیرو اللہ ہی کی ذات ہے۔ اللہ بڑاوسعت والا ہے بڑا علم والا ہے۔

ارشاد فرمایا : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَاللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَفِیْھَااسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِھَا ط اُوْلٰئِکَ مَاکَانَ لَھُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَائِفِیْنَ ۔ لَھُمْ فِیْ الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَھُمْ فِیْ الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ وَلِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ق فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ (اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں کو اس سے روک دے کہ ان میں اس کا نام لیاجائے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔ یہ لوگ اس لائق ہی نہیں کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں (بھی بڑی) رسوائی ہے اور آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے۔ اور اللہ ہی کا ہے مشرق (بھی) اور مغرب (بھی) سو تم جدھر کو بھی منہ پھیرو اللہ ہی کی ذات ہے۔ اللہ بڑاوسعت والا ہے بڑا علم والا ہے) (البقرۃ : 114 تا 115) ایک دوسرے کے معابد کی تخریب اور ان میں عبادت سے روکنا مذہب کے ماننے والے لوگوں میں جب انحراف شروع ہوتا ہے تو بڑی سے بڑی بد عملی کا ارتکاب بھی ان میں غیر متوقع نہیں ہوتا البتہ اللہ کے گھروں کی بربادی اور بےحرمتی اور ان میں اللہ کے ذکر کرنے سے روکنا، یہ بہت کم وقوع پذیر ہوتا ہے۔ لوگ دین کی روح سے بےگانہ ہوجاتے ہیں لیکن دین کے مظاہر سے عموماً جڑے رہتے ہیں۔ لیکن جب کوئی مذہب کا ماننے والا گروہ اللہ کے گھروں کی بےحرمتی کرنے لگے اور ان میں اللہ کا نام لینے سے روکنے لگے تو یہ ایک ایسی بدعملی ہے جس پر ہمیشہ لعنت اور پھٹکار کی جاتی ہے۔ کوئی فرد اس کا ارتکاب کرے تو اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور کوئی قوم یہ حرکت کرے تو وہ داستانِ عبرت بن جاتی ہے اور دنیا انھیں سب سے بڑا ظالم گروہ سمجھتی ہے۔ ان آیات میں یہود و نصاریٰ اور اشارۃً مشرکینِ عرب کا اسی مکروہ حرکت کے حوالے سے ذکر کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے اپنی پاکدامنی کی حکایت تو بہت دراز کر رکھی ہے اور کرتوت ان کے یہ ہیں کہ ان میں سے ہر گروہ اللہ کے گھر کی بےحرمتی کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ان میں سے ہر گروہ نے جب بھی اسے موقعہ ملا اس نے دوسرے گروہ کے عبادت خانوں کو مسمار کیا، بےحرمتی کی اور لوگوں کو اس میں داخل ہونے سے روکا۔ مشرکینِ مکہ نے تو مسلمانوں کے لیے حرم کعبہ کو ممنوع قرار دے دیا تھا، حتیٰ کہ حضور جب عمرہ کے ارادہ سے مکہ کے جوار میں حدیبیہ میں پہنچ گئے تو قریش نے آپ کو حرم کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ اسی طرح ٹائٹس رومی کے عہد میں رومی مشرکین نے یہود اہل توحید کو بیت المقدس میں اللہ کا ذکر کرنے سے روک دیا تھا۔ یمن کے حکمران ابرہہ نے بیت اللہ کو گرانے کے لیے ساٹھ ہزار انسانی فوج اور ہاتھیوں کی ایک بڑی تعدا ساتھ لے کر حملہ کیا۔ اللہ کی غیرت جوش میں آئی اور اس نے ان میں سے ایک ایک کو چن چن کر جہنم واصل کیا۔ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ابرہہ عیسائی تھا اور افریقہ کی عیسائی حکومت کے ماتحت تھا۔ اس نے یہ حملہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ قیصر (عیسائی بادشاہ) کے اشارے سے کیا تھا تاکہ لوگ بیت اللہ کو بھول جائیں اور بیت المقدس کی پوجا کرنے لگیں۔ تاریخ میں بیشمار واقعات کا سراغ ملتا ہے جس میں یہود و نصاری نے ایک دوسرے کے معابد کی بےحرمتی کی اور طاقت ملنے پر انھیں مسمار کرڈالا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ تو اس قابل نہیں ہوتے کہ انھیں مسجدوں میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے کیونکہ مسجد تو اللہ کا گھر ہے یہاں تو اللہ سے ڈرتے ہوئے داخل ہونا چاہیے اور جس کے دل میں اللہ کا خوف اور اللہ کے گھر کا احترام نہ ہو اس کے لیے اللہ کے گھر میں کوئی گنجائش نہیں ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب عظیم ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کی باہمی مذہبی لڑائیوں کی طرف ایک اور پہلو سے اشارہ فرمایا گیا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ بیت المقدس یہود و نصاریٰ دونوں کا قبلہ ہے۔ لیکن نصاریٰ اس کی مشرقی جانب کو محترم سمجھتے ہیں اور یہود اس کے مقابل میں مغربی جانب کو۔ عیسائیوں کا خیال یہ ہے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) بیت المقدس کے مشرقی گوشے میں معتکف ہوئی تھیں، اس لیے وہ ہمارے لیے زیادہ محترم ہے۔ قرآن کریم نے سورة مریم میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ چناچہ جب یہ لوگ بیت المقدس میں عبادت کرتے تو مشرقی جانب کو اپنا قبلہ بناتے۔ یہود نے، معلوم ہوتا ہے ان کی مخالفت میں مغربی جانب کو اپنا قبلہ بنالیا۔ چناچہ بیت المقدس کے اندر یہ لڑائی ہمیشہ جاری رہتی اور جب یہ لوگ سفر میں ہوتے تو وہاں بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نہیں بلکہ عیسائی مشرقی جانب اور یہود اس کی مغربی جانب منہ کرکے عبادت کرتے۔ اس طرح سے انھوں نے مشرق اور مغرب کی جہتوں کو قبلہ بناڈالا اور اس پر سالہا سال ان میں لڑائیاں ہوتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس گمراہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مشرق ہو یا مغرب شمال ہو یا جنوب سب اللہ کی مخلوق اور مملوک ہے کسی سمت کو دوسری سمت پر اہمیت حاصل نہیں۔ تم بیت المقدس کو قبلہ بناکر جس جہت کی طرف بھی رخ کرتے ادھر تم اللہ کو پاتے۔ ہر سمت اور ہر جہت اللہ تعالیٰ کے لیے یکساں ہے۔ وہ سب کا یکساں خالق ہے، حاکم ہے، مالک ہے، کسی خاص سمت میں کوئی بھی خاص تقدیس، کوئی شائبہ الوہیت، کوئی شان حق نمائی موجود نہیں۔ مشرک قوموں میں ایک مشترک گمراہی عموماً موجود رہی ہے کہ وہ اللہ کو مجسم سمجھنے کے باعث کسی جگہ پر اس کو متمکن سمجھتے ہیں۔ اس تمکن کی وجہ سے وہ کسی نہ کسی جہت کو مقدس قرار دے دیتے، مصری، ہندی، رومی، تمام مشرک قوموں نے خدا کو کسی نہ کسی جہت میں فرض کرکے خود اس جہت کو مقدس مانا ہے اور چونکہ سورج دیوتا کا مرتبہ مذاہبِ شرکیہ میں عموماً اہمیت کا حامل رہا ہے، اس لیے شاہ خ اور کے طفیل میں سمت مشرق ہی عموماً مقدس سمجھی گئی اور دنیا کے اکثر علاقوں میں پجتی رہی۔ معلوم ہوتا ہے سمت پرستی کا شرک اہل کتاب میں دوسری مشرک قوموں کی طرف سے آیا اور مسیحی مذہب چونکہ عقائد و عبادات دونوں میں اپنے وقت کے رائج رومی مذہب ہی کا مثنیٰ یا پرتو ہے۔ اس لیے وہ تو کھلم کھلا مشرق پرستی میں مبتلا ہوگیا اور یہود جنھیں اپنی توحید پر ناز تھا وہ بھی تمام تر محفوظ نہ رہ سکے بلکہ ان کے بعض فرقے تو پوری طرح اس کی لپیٹ میں آگئے۔ بعض قوموں نے مشرق کے جوڑ پر مغرب کے تقدس کا کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔ انھوں نے دیکھا کہ مشرق اگر خطہ حیات ہونے کے بنا پر مقدس ہے تو مغرب بھی خطہ موت اور دیار ہلاکت ہے۔ شاہ خ اور کا طلوع اگر مشرق سے ہوتا ہے، تو روزانہ غروب اور فناتو مغرب ہی میں ہوتا ہے، تو پھر مغرب کو مقدس کیوں نہ سمجھا جائے۔ قرآن کریم نے اس آیت کریمہ سے اس شرک کی جڑ بھی اکھاڑ دی اور یہود و نصاریٰ کا پول بھی کھول دیا اور آگے اللہ تعالیٰ کی قدرت وحاکمیت کی ہمہ گیری بھی واضح فرمادی۔
Ayahs 2:116–117

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک بیٹا بنا لیا ہے۔ پاک ہے وہ بلکہ اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب اس کے فرماں بردار ہیں

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

وہ موجد ہے آسمانوں اور زمین کا اور جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اتنا ہی اس سے کہتا ہے کہ ہوجا بس وہ ہوجاتا ہے۔

وَقَالُوْا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًالا سُبْحٰنَہٗ ط بَلْ لَّہٗ مَافِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط کُلٌّ لَّہٗ قَانِتُوْنَ ۔ بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَاِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فِاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ۔ (اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک بیٹا بنا لیا ہے۔ پاک ہے وہ بلکہ اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے سب اس کے فرماں بردار ہیں وہ موجد ہے آسمانوں اور زمین کا اور جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اتنا ہی اس سے کہتا ہے کہ ہوجا بس وہ ہوجاتا ہے) (البقرۃ : 116 تا 117) ولد کی تحقیق ” ولد “ کا لفظ مذکر مؤنث اور واحد جمع سب کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ اس لفظ سے اولاد کے حوالے سے جو شرک قوموں میں رہا ہے، ان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف چونکہ مذکر مؤنث ہر طرح کی اولاد منسوب کی گئی ہے اس لیے ولد کا لفظ لاکر ان تمام کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق عیسائیوں کی گمراہی بتانا یہ مقصود ہے کہ اہل کتاب جو اپنے آپ کو اللہ کے دین کا وارث اور حامل دعوت امت سمجھتے ہیں اور اپنے مقابلے میں کسی کو مذہبی اور علمی طور پر اہمیت دینے کو تیار نہیں ان کے مذہبی علم کا اندازہ کیجئے کہ ایک طرف وہ توحید کا دعویٰ کرتے ہیں اور دوسری طرف اللہ کے لیے اولاد تسلیم کرتے ہیں اور اس معاملے میں اس حد تک گرجاتے ہیں کہ جس طرح کے شرک میں مشرکینِ عرب مبتلا ہیں اور جنھیں یہ امی کہہ کر تحقیر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسی طرح کے شرک میں یہ بھی مبتلا ہیں۔ مشرکین کا عقیدہ یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور اہل کتاب کے دونوں گروہوں کا حال بھی ان سے بہتر نہیں۔ یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو۔ اس طرح سے یہ تمام گروہ جو مسلمانوں کے خلاف ایک متحدہ محاذ بناچکے ہیں، مذہب کے اعتبار سے نہائت پست سطح پر کھڑے ہیں جبکہ اہل کتاب کو خصوصاً اپنی علمیت کا بڑا زعم ہے۔ بعض اہل علم نے اتَّخَذَوَلَدًا کا ترجمہ کیا ہے ” لے رکھا ہے ایک بیٹا “ یا ” بنا رکھا ہے ایک بیٹا “۔ جس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ کا بیٹا تو کوئی نہیں البتہ اس نے اپنے لیے ایک متبنیٰ بنا رکھا ہے۔ تفسیر ماجدی کے مصنف کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی تلمیحات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے قرآن کے صدہا مقامات کی طرح یہاں بھی اس کی ضرورت ہے کہ نظر اہل باطل کے عقائد و خیالات پر ذرا گہری ہو۔ مسیحیوں کے ہاں ایک زبردست فرقہ Adoptionists کے نام سے گزرا ہے۔ ان کے مرکزی عقیدہ کے لیے اصطلاحی لفظ تبنیت یعنی Adopionism کا ہے۔ عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیح خلقتہً خدا نہیں۔ وہ خدا پیدا نہیں ہوئے، وہ خدا شروع سے بنے بنائے اور آپ سے آپ نہیں ہیں۔ بلکہ اصلاً و خلقتۃً وہ انسان ہی تھے۔ البتہ اقنوم ثالث یعنی روح القدس کا فیضان شروع سے ان پر ہونے لگا تھا۔ اس لیے وہ قدوسیت کے ایسے اوج کمال پر پہنچ گئے اور روح الہٰی ان کے اندر ایسی حلول کرگئی کہ اقنومِ اول یعنی خدائے برتر و اعظم نے انھیں اپنا بیٹا قرا ردے کرا پنا متبنیٰ بناکر شریک الوہیت کرلیا اور اب وہ ربوبیت، مالکیت وغیرہ جملہ صفات الہٰی میں شریک وسہیم ہیں۔ اس عقیدہ کے وجود کی شہادت تاریخ میں 185 عیسوی میں ملتی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں پاپائے روم نے اسے الحادو زندقہ قرار دیا۔ بارہویں صدی میں اس نے پھر زور پکڑا اور پھر یہ لوگ زندیق قرار پائے۔ مسیحیت کے سلسلے میں یہ یاد رہنا چاہیئے کہ مسیحی مذہب میں عقیدہ ابنیت کوئی ثانوی درجہ یا فرعی حیثیت نہیں رکھتا مسیحیت کی روح اور جان یہی عقیدہ ہے۔ اللہ کو بیٹا بنانے کی تردید سُبْحٰنَـہٗکلمہ تنزیہی ہے۔ اس سے اس عقیدہ کی شناعت اور گراوٹ کا اظہار مقصود ہے کہ غضب خدا کا کہ تم ایک طرف تو اللہ کو کائنات کا خالق ومالک مانتے ہو اور پھر ساتھ ہی مخلوقات کے ساتھ اس کی رشتہ داریاں بھی بنالیں۔ کہاں اللہ کی بزرگ و برتر ذات اور کہاں محتاج فانی اور بےبس مخلوق۔ ان دونوں کا آخر آپس میں کیا جوڑ۔ اس طرح کے عقائد اختیار کرنا یقینا اللہ کریم کی کھلی توہین ہے۔ مزید فرمایا کُلٌّ لَّہٗ قَانِتُوْنَ ” سب اس کے فرماں بردار بندے ہیں “۔ مخلوقات میں کوئی چھوٹاہو یا بڑا اللہ کے ساتھ ایک ہی رشتہ ہے وہ ہے غلامی اور فرمانبرداری کا۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جو جبلت کے اعتبار سے یا اپنے ارادے سے اللہ کی تکوینی محکومی اور فرمانبرداری سے بےنیاز ہو۔ کوئی انسان چاہے اللہ کو ماننے سے بھی انکار کردے لیکن وہ تکوینی طور پر اس کی فرمانبرداری سے انکار نہیں کرسکتا۔ کیونکہ انسان اور باقی تمام مخلوقات بھی اپنے مخلوق ہونے کے حصار میں پوری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ کسی مخلوق کی یہ مجال نہیں کہ اللہ کے بنائے ہوئے چوبیس گھنٹوں میں کوئی گھنٹہ، کوئی منٹ، کوئی لمحہ اپنے لیے پیدا کرسکے۔ بڑے سے بڑے ماہرینِ سائنس بھی اس بات پر قادر نہیں کہ اللہ نے زمان ومکان کی جو حدیں مقرر کردی ہیں ان سے قدم باہر نکال سکیں۔ کون ایسا ہے کہ اللہ کی مقرر کی ہوئی فضائے کائنات سے باہر ایک گز، ایک فٹ یا ایک انچ جگہ بھی اپنے لیے تلاش کرسکے ؟ کس کے بس میں ہے کہ اللہ کے پیدا کردہ قانونِ حرارت، برودت اور رطوبت سے بےنیاز رہ سکے اور اس کے باندھے ہوئے قانونِ کششِ اجسام سے بغاوت کرسکے۔ بڑے سے بڑے موجد، بڑے سے بڑے صناع کا کمال بجز اس کے کچھ نہیں کہ اس نے نظام تکوینی کے ضابطوں اور قاعدوں کی مزاج شناسی میں کمال پیدا کرلیا ہے ور نہ مسبب الاسباب کے حضور میں وہ بالکل دوسروں کی طرح فرمانبردار بندے ہیں۔ بدیع کا مفہوم اس کے بعد کی آیت کریمہ میں شرک کی مذمت اور اللہ کی توحید کی وضاحت کے سلسلہ میں مزید فرمایا کہ تم اللہ کے لیے بیٹے بناتے ہو۔ بیٹا تو اسے چاہیے جسے اپنی احتیاجات میں مدد کی ضرورت ہو۔ جو اپنے بڑھاپے میں ایک لاٹھی کی ضرورت کا احساس رکھتا ہو جو اپنے پیچھے اپنے نام کو زندہ رکھنے کے لیے کسی کو پیچھے چھوڑ جانا چاہتا ہو اللہ تعالیٰ کو ان چیزوں میں سے کسی چیز کی حاجت نہیں۔ اس کی قدرت کی بےپناہی کا حال تو یہ ہے کہ وہ صرف زمین و آسمان کا خالق ہی نہیں بلکہ بدیع ہے۔ بدیع یہاں مُبدِع کے معنی میں ہے۔ یعنی وہ ایسی ذات ہے جو ہر چیز کو عدم سے وجود میں لاتی ہے اور پھر یہ عدم سے وجود میں لانا اس طرح نہیں کہ پہلے سے مادہ موجود تھا اس کی مثالیں موجود تھیں اللہ تعالیٰ نے اسی طرح ایک نئی چیز تخلیق فرمادی۔ نہیں ! ایسا نہیں، وہ زمین و آسمان اور باقی مخلوقات کو اس طرح وجود میں لایا ہے کہ نہ پہلے کوئی مادہ موجود تھا نہ کوئی مثال یا نمونہ۔ اسے کائنات کو وجود میں لانے کے لیے نہ کسی آلے کی حاجت پڑی نہ کسی مال مسالے کی۔ پھر اپنی تخلیقات میں نہ وہ کسی مقام و مکان کا پابند ہے نہ زمان ووقت سے مقید۔ نہ کسی نمونہ کا محتاج وہ صناع ہے کاریگر نہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی صفت خلق اور صفت ایجاد میں وحدہٗ لاشریک اور بےمثال ہے، اسی طرح وہ اپنی مخلوق پر پوری طرح قدرت اور حکومت بھی رکھتا ہے وہ صاحب ارادہ، ذی حیات اور صاحب اقتدار خدا ہے۔ وہ یونان کے فلسفیوں اور بعض مشرکوں کے خدا کی طرح ایک بےجان مسلوب الارادہ، علت العلل یا آخری سبب نہیں۔ اس کی قدرت کی ہمہ گیری کا عالم تو یہ ہے کہ وہ جس چیز کو کُن کہتا ہے وہ ہوجاتی ہے۔ کُن کہنے سے یہ مراد نہیں کہ وہ یہ دو حرف بولتا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ارادے کو بروئے کار آنے میں کسی اور چیز کی احتیاج نہیں ہوتی۔ یہ تو ایک اندازِ بیان ہے جو بندوں کے فہم کے مطابق اختیار کیا گیا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں جس بات کا پہلے اشارہ کیا گیا ہے اس کی مثال دے کرا سے کھول دیا گیا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جب لوگ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے دین سے بےنیاز ہو کر اس کے ساتھ مخلوقات کو شریک کرنے لگتے ہیں تو وہ اہل کتاب کی طرح چاہے کتاب کے وارث اور علم دین کے دعوے دار ہی کیوں نہ ہوں ان کی سطح بھی مشرکین عرب سے بلند نہیں ہوتی۔ مشرکینِ عرب علم الہٰی اور وحی الہٰی کی حقیقت سے بالکل بیخبر تھے۔ وہ نبوت و ہدایت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ شرک کے معاملے میں وہ بھی اسی طرح کی باتیں کرتے تھے جس طرح کی اہل کتاب کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک ایک ایسی لعنت ہے جس میں مبتلا لوگ ایک ہی طرح سے سوچنے لگتے ہیں جہالت تو خیر ایک معذوری سمجھی جاتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس جرم کی وجہ سے اہل علم کا علم بھی مسلوب ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے جو علم نہیں رکھتے کہ اللہ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتایا ہمارے پاس کوئی عظیم نشانی کیوں نہیں آجاتی ؟ اسی طرح کہہ چکے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے۔ انھیں کا ساکہنا، ان کے قلوب متشابہ ہوگئے ہم نے اپنی نشانیاں تو کھول کر بیان کی ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔

وَقَالَ الَّذِیْنَ لَایَعْلَمُوْنَ لَوْلَا یُکَلِّمُنَا اللّٰہُ اَوْ تَاْتِیْنَآ اٰیَۃٌ ط کَذٰلِکَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّثْلَ قَوْلِھِمْط تَشَابَہَتْ قُلُوْبُھُمْط قَدْ بَیَّنَّاالْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُوْقِنُوْنَ ۔ (اور کہا ان لوگوں نے جو علم نہیں رکھتے کہ اللہ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتایا ہمارے پاس کوئی عظیم نشانی کیوں نہیں آجاتی ؟ اسی طرح کہہ چکے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے۔ انھیں کا ساکہنا، ان کے قلوب متشابہ ہوگئے ہم نے اپنی نشانیاں تو کھول کر بیان کی ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں) (البقرۃ : 118) مشرکین کے بعض مطالبات کا جواب اس آیت کریمہ میں لَایَعْلَمُوْن سے مشرکین مراد ہیں۔ عموماً قرآن کریم نے اس طرح کے الفاظ سے مشرکینِ مکہ یا مشرکین عرب کا تذکرہ کیا ہے کیونکہ وہی لوگ تھے جو دین کی بنیا دی ضروریات اور بنیادی علم سے بےبہرہ تھے۔ مشرکینِ مکہ میں سے بڑے بڑے لوگ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جواب میں ایک یہ بات بھی کہتے تھے کہ اے محمد ﷺ ! تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ کی تم پر وحی اترتی ہے۔ تم بھی ہماری طرح ایک انسان ہو اگر یہ وحی تم پر اتر سکتی ہے اور اللہ تم سے باتیں کرسکتا ہے تو ہم سے کیوں نہیں کرسکتا۔ ہم دنیوی مال و دولت اور جاہ ومنزلت کے اعتبار سے تم سے بڑھ کر ہیں۔ تو پھر اللہ کے لیے ہم سے بات کرنے میں آخر کیا مانع ہے۔ چلیے اگر ہم سے بات نہیں ہوسکتی تو تم ہمارے پاس کوئی ایسی عظیم نشانی یا معجزہ لے کر آئو جسے دیکھنے کے بعد مانے بغیر چارہ نہ رہے۔ کبھی وہ کہتے کہ مکہ کی سرزمین جو پہاڑوں سے اٹی پڑی ہے اسے میدانی علاقے میں تبدیل کردو اس کے میدانوں میں باغات لہلہانے لگیں۔ کبھی وہ حضور سے مطالبہ کرتے کہ پہاڑوں کو سونے کا بنادو اور اگر یہ سب کچھ نہیں تو اتنا تو ہونا چاہیے کہ تم جب لوگوں کو اللہ کا قرآن سنانے نکلو تو ایک فرشتہ تمہارے ساتھ ہونا چاہیے جو ہٹو بچو کہتا ہوا تمہارا راستہ صاف کرے قرآن کریم ان کی ایسی ہی باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ باتیں کوئی نئی نہیں اسی طرح کی باتیں اہل کتاب کے آبائو اجداد بھی کرتے رہے۔ انھوں نے بھی کبھی اللہ کو دیکھنے اور کبھی اس سے باتیں کرنے کا مطالبہ کیا کبھی اور طرح طرح کی نشانیاں مانگیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شرک اور اللہ کے دین کی نافرمانی انسانی دل و دماغ اور قلبی احساسات کو اس حد تک مفلوج کردیتی ہے کہ وہ اہل علم ہوتے ہوئے بھی اسی طرح کی بےسروپا باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ان کے دل ایک طرح کے احساسات کی زمین بن جاتے ہیں۔ ان کے مطالبات ایک طرح کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ وہ شک وارتیاب کے مریض اور بےیقینی کے اسیر ہوکررہ جاتے ہیں۔ وہ بڑے سے بڑے معجزے کو دیکھ کر بھی مزید معجزات کے طالب ہوتے ہیں، انھیں جتنے بھی معجزات دکھائے جائیں وہ ان کے لیے بےکار ثابت ہوتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یہ لوگ ایک ایک معجزہ طلب کرتے ہیں حالانکہ ہم نے معجزات اور نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی ہیں لیکن ان کی طرف سے آئے دن نئے نئے مطالبات کا سبب یہ نہیں کہ انھیں نشانیاں دکھائی نہیں گئیں بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ یقین و ایمان سے خالی ہیں۔ یہ معجزات دیکھتے ہیں، لیکن ان کا نفس انھیں مزید دیکھنے کے لیے اکساتا ہے اور بڑے سے بڑے معجزے کی بھی کوئی نہ کوئی تاویل کرکے اپنے آپ کو مطمئن کرلیا جاتا ہے۔ پیغمبر جن باتوں کی دعوت دیتا ہے، ان کی صداقت اور حقانیت کے لیے تو زمین اور آسمان کا گوشہ گوشہ گواہی دیتا ہے۔ انسان اگر غور کرے تو اس کے چاروں طرف اللہ کی کبریائی، اس کی حاکمیت، اس کی قدرت، اس کی ربوبیت اور خودا نسان کی بےبسی اور ہدایت کی احتیاج کے دلائل اور نشانات ہر سو پھیلے ہوئے ہیں اور پھر اس کے ساتھ ساتھ پیغمبر کی اپنی ذات بجائے خود ایک معجزہ ہے۔ پیغمبر جس قوم کی طرف آتا ہے وہ اسی قوم کا ایک فرد ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ بھی اگرچہ تمام دنیا کی طرف مبعوث ہوئے لیکن سب سے پہلے آپ نے جن لوگوں کو دعوت دی آپ انھیں میں سے ایک فرد یعنی قریشی تھے۔ آپ نے انھیں کے ماحول میں پرورش پائی۔ انھیں کی آپ زبان بولتے تھے۔ آپ کی معلومات کے وسائل وہی تھے جو ان کے تھے۔ آپ کے کردار کی تعمیر میں وہی عوامل اپنا کردار ادا کررہے تھے، جس سے مکہ کا ایک ایک فرد شناسا تھا۔ لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ آپ ان میں سے ہوتے ہوئے بھی ان جیسے نہیں تھے ؟ آپ اپنی سیرت و کردار میں بالکل ان سے الگ تھے۔ پتھروں کے اس ڈھیر میں آپ ہیرے کی مانند چمکتے تھے۔ چالیس سالہ زندگی میں بھی کسی نے آپ میں کوئی عیب یا کمزوری نہیں دیکھی جبکہ مکہ کا ماحول اپنے اندر برائیوں اور جرائم کے سو اکچھ نہیں رکھتا تھا۔ آپ کو الصادق اور الامین کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ بےحیائی کے اس ماحول میں آپ کنواری لڑکیوں سے بڑھ کر حیا دار تھے۔ مکہ کے باقی نوجوانوں کی طرح آپ نے کسی کے سامنے کبھی زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا تھا۔ لیکن جیسے ہی آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا آپ کی زبان سے علم کے سوتے پھوٹنے لگے۔ آپ ایک ایسی کتاب پڑھ کر سنانے لگے، جس کی زبان کا شکوہ، جس کے لب ولہجے کی دل آویزی، جس کی معلومات کی گہرائی، جس کے بیان کردہ نظام فکر کا اعتدال، جس کے اخبار کی صداقت، جس کے فیصلوں اور حاکمیت کی قطعیت غرضیکہ اس کتاب میں پھیلا ہوا جہانِ معنی ایک ایسا دبستانِ فکر و حکمت اور ایک ایسا قانونِ عدل و احسان ہے کہ جس کی نظیر لانے کے لیے سوچنا بھی انسانی فکر سے ماورا ہے۔ پھرا یک قدم آگے بڑھ کر جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ امی نبی پہلے دن جن کامیابیوں کی خبر دے رہا تھا، ہر آنے والا دن اس کی تعبیر بن کر آرہا تھا۔ حتی کہ جب اس نے دعوت الی اللہ کا آغاز کیا تھا تو سرزمین مکہ جہنم کی طرح دہک اٹھی تھی۔ لیکن جب وہ دنیا سے رخت سفر باندھ رہا تھا تو پورا جزیرہ عرب جنت بداماں بن چکا تھا۔ وہ گردنیں جو بتوں کے سوا کہیں نہیں جھکتی تھیں، وہ اللہ کے سامنے ایسی جھکیں کہ ہر آستانہ انھوں نے اپنے پائوں کی ٹھوکروں پر رکھ لیا۔ یہ حیرت انگیز انقلاب اور اس داستان کا ایک ایک ورق، کیا اپنے اندر نشانات اور معجزات نہیں رکھتا ؟ یقینا رکھتا ہے۔ لیکن اس کے لیے دل ونگاہ کی پاکیزگی اور یقین و ایمان کی دولت چاہیے۔ بحث کو سمیٹتے ہوئے اور دلائل کا حق ادا کرچکنے کے بعداگلی آیت کریمہ میں مخالفین پر اتمام حجت کیا جارہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے۔
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر اور آپ سے اہل دوزخ کی بابت سوال نہیں کیا جائے گا

اِنَّا اَرْسَلْنٰـکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلاَ تُسْئَلُ عَنْ اَصْحَابِ الْجَحِیْمِ ۔ (ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر اور آپ سے اہل دوزخ کی بابت سوال نہیں کیا جائے گا) (البقرۃ : 119) مخالفین سے کہا جارہا ہے کہ دنیا کو جس حق کی ضرورت ہے اور جو سچائی انسان کے اندر کی آواز ہے۔ جس پر قائم رہ کر انسان کو دنیوی اور اخروی کامیابی نصیب ہوسکتی ہے اور جس کی روشنی سے جہالت اور کفر کی تاریکیاں دور ہوسکتی ہیں۔ اور جس پر عمل کے نتیجے میں انسان کو آسودگی نصیب ہوسکتی ہے۔ وہ حق دے کر اللہ تعالیٰ نے اے پیغمبر آپ کو بھیج دیا ہے۔ آپ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اب قیامت تک کے لیے ہدایت آپ کی ذات سے وابستہ ہے۔ آپ پر ایمان اور آپ کی ہدایت پر عمل سے نوع انسانی کو فوزوفلاح مل سکتی ہے اور آپ پر ایمان نہ لانے کی صورت میں آپ کو یہ حق ہے کہ آپ انھیں جہنم کے عذاب سے ڈرائیں اور دنیوی ناکامیوں سے متنبہ کریں۔ حق آپ کی زبان سے بول رہا ہے، آپ کا ایک ایک بول اور ایک ایک فیصلہ دنیا کے لیے قانون بھی ہوگا اور نتیجہ خیز بھی۔ کیونکہ آپ کے بعد اب پروردگار کسی کی زبان سے انسانی بھلائی کے فیصلے نہیں کرے گا اور کوئی انسانوں کو تباہی سے بچنے کے لیے کوئی نیا راستہ نہیں بتاسکے گا۔ مخالفین کو آپ کی اس حیثیت کو سمجھنا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن اگر ان میں سے کچھ لوگ اس راستے پر چلنے سے گریزاں ہیں اور وہ شیطان کے رستے پر چلنے کے لیے اصرار کرتے ہیں، تو پھر اے پیغمبر ! آپ کو اس بات پر فکر مند نہیں ہونا چاہیے کہ یہ لوگ ایمان نہ لاکر جہنم کا ایندھن بنیں گے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن آپ سے پوچھا جائے کہ آپ نے شائد ان کو دین کی دعوت دینے میں سستی کی۔ یہاں فرمایا جارہا ہے کہ آپ اس کا خیال بھی نہ کیجئے۔ وہ لوگ اپنے اعمال کی پاداش میں پکڑے جائیں گے۔ آپ سے اس بارے میں ہرگز باز پرس نہیں ہوگی۔
Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور ہرگز خوش نہیں ہوں گے آپ سے یہود اور نصاریٰ جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ ہوجائیں۔ آپ کہہ دیجئے ! کہ بیشک اللہ کی ہدایت وہی ہدایت ہے، اگر آپ پیروی کرنے لگیں ان کی خواہشات کی بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آچکا تو آپ کے لیے اللہ کی گرفت کے مقابلے میں نہ کوئی دوست ہوگا نہ مددگار۔

وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ ط قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰیط وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآئَ ھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَالَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ ۔ (البقرۃ : 120) (اور ہرگز خوش نہیں ہوں گے آپ سے یہود اور نصاریٰ جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ ہوجائیں۔ آپ کہہ دیجئے ! کہ بیشک اللہ کی ہدایت وہی ہدایت ہے، اگر آپ پیروی کرنے لگیں ان کی خواہشات کی بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آچکا تو آپ کے لیے اللہ کی گرفت کے مقابلے میں نہ کوئی دوست ہوگا نہ مددگار) اہلِ کتاب کی اصل بیماری کا تجزیہ اہلِ کتاب اور مشرکین کی سازشوں کو بھی کھول دیا گیا ہے اور ان کے خیالاتِ باطلہ کی دلائل وبراہین سے تردید بھی کردی گئی۔ اب اس آیت کریمہ میں اہل کتاب کی مذہبی اور قومی سرشت کے بارے میں مسلمانوں کو آگاہی دی جارہی ہے تاکہ مسلمان مستقبل میں ان کے ساتھ تعلقات بناتے اور معاملات کرتے ہوئے ان حقائق کو سامنے رکھیں اور اپنی قومی اور ملی پالیسیاں ان کی روشنی میں طے کریں۔ اہلِ کتاب کی مذہبی اور قومی سرشت کے بارے میں اس آیت کریمہ میں غور کرنے سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ اہل کتاب فکری اور عملی جمود میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ زوال پذیر قوموں کی طرح ان کے فکری سوتے خشک ہوچکے ہیں۔ جن باتوں کو وہ اپنا دین قرار دے چکے ہیں اور صدیوں کی بدعملیوں نے انھیں جس راہ پر پختہ کردیا ہے۔ اس میں وہ کسی ترمیم اور تبدیلی کے لیے تیار نہیں۔ یوں تو ہر قوم کے لیے یہ مشکل مرحلہ ہوتا ہے کہ وہ صدیوں کی جمی ہوئی گرد کو یکلخت کیسے جھاڑ ڈالے اور جن باتوں کو وہ حقائق کا درجہ دے چکی ہے ان کے مقابلے میں نئے حقائق کو کیسے تسلیم کرے۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ؎ آئینِ نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں لیکن تمام قومیں اس حادثے میں یکساں نہیں ہوتیں۔ اگر سب کا حال ایک جیسا ہوتاتو اللہ کی طرف سے ہدایت کا اترنا اور نبیوں کی کاوشیں بیکارہوتیں۔ دنیا میں ہر اصلاحی کوشش وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوتی۔ ہم بہت ساری قوموں کو دیکھتے ہیں وہ زوال میں ڈوب چکی تھیں لیکن مصلحین کی کوششوں سے ان میں نئی زندگی پیدا ہوگئی۔ اسلام کے آنے کے بعد دنیا میں تبدیلی اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں بطور خاص یہود و نصاریٰ کے بارے میں یہ آگاہی دی گئی ہے کہ ان کا جمود اس حد تک مستحکم ہوچکا ہے کہ تمہاری کاوشیں ان میں تبدیلی کے لیے شاید موثر نہ ہوسکیں۔ وہ ایک ایسے مذہبی پندار کا شکار ہیں کہ وہ تم سے اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتے جب تک تم ان کے طریقے کو اختیار نہ کرلو۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہود و نصاریٰ اپنے پاس کتاب کا علم بھی رکھتے ہیں اور ان میں بڑے بڑے علما بھی موجود ہیں لیکن مشکل یہ آپڑی ہے کہ ان کے علم اور ان کے دین نے ان کے اندر راست بازی، حقیقت پسندی، اور طلب حق کا جذبہ پیدا کرنے کی بجائے قومی برتری کا غلو پیدا کردیا۔ انھوں نے اپنی بڑائی اور پاکیزگی کے لیے ایسے ایسے عقائد اختیار کرلیے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن ان تصورات نے ان کو ایسا برخود غلط بنادیا ہے کہ وہ کسی دوسری قوم کو اپنے برابر سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ اسلام چونکہ ان کی کمزوریوں اور خیانتوں کو نمایاں کرتا ہے اور انسانی زندگی کی آسانی کے لیے ایک مکمل نظام حیات دیتا ہے جس کے قبول کرلینے کے بعد زندگی میں وہ راحت ملتی ہے جس کے لیے زندگی ہمیشہ تلاش اور جستجو میں رہی ہے اس لیے یہود اور نصاریٰ اس وہم میں مبتلا ہوگئے کہ اسلام اور مسلمانوں کی زندگی ان کے لیے موت کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ مسلمانوں سے تعلقات قائم رکھنے کے لیے یہ لازمی سمجھتے ہیں کہ مسلمان ان کے دین اور ملت کو اختیار کرلیں۔ حالانکہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ ہدایت کا سرچشمہ اللہ کی ذات کے سوا کوئی اور نہیں ہے اس لیے ہدایت وہی ہے جو اللہ کی جانب سے آئے۔ کبھی وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے آئی تھی کبھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے اور اب محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعے اسی ہدایت کا نزول ہوا ہے۔ اگر یہ لوگ ہدایت کے طالب ہوتے تو یہ آگے بڑھ کر اسلام کا دامن تھامتے لیکن مشکل یہ ہے کہ انھوں نے اپنی خواہشات کو دین کا نام دے دیا ہے اور اس پر اصراریہ ہے کہ ساری دنیا ان کے ہوائے نفس اور خواہشات کی پیروی کرے۔ حالانکہ اس بات کو وہ بھی جانتے ہیں کہ پیروی ہدایت کی کی جاتی ہے خواہشاتِ نفس کی نہیں۔ جب انھوں نے اپنا دین خواہشاتِ نفس کے تابع کردیا تو ان کے اس نام نہاد دین کی پیروی کیسے ممکن ہے۔ لیکن وہ اندھے تعصب سے اپنی بات پر قائم اور اپنی ہٹ دھرمی پر مصر ہیں۔ یہ دو تو وہ پہلو ہیں جو اس آیت کریمہ میں سرسری سا غور کرنے پر بھی سمجھ میں آتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے یہود و نصاریٰ کی تاریخ کو غور سے پڑھا ہے اور ان کے تعصبات کی گہرائی کو ناپا ہے وہ تو یہاں تک کہہ گئے ہیں ؎ کرے قبول اگر دین مصطفیٰ انگریز سیاہ روز مسلماں رہے گا پھر بھی غلام اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے ان کے مذہب کو ” اہواء “ کیوں قرار دیا ہے ؟ قوموں کی ہوائے نفس عام آدمی کی ہوائے نفس سے بہت خطرناک ہوتی ہے۔ اس سے نسلیں متاثر ہوتیں اور جغرافیے تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اخلاقی اقدار کے مفاہیم بدل جاتے ہیں۔ الفاظ کی طلسم آرائی سے ہولناک نتائج برآمد ہونے لگتے ہیں۔ حقوق کی پاس داری کے دعوے دھرے رہ جاتے ہیں اور انسانیت منہ چھپانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال آج کا دور ہے۔ جس میں ایک ملک کا سیکولر صدر کروسیڈی کارروائیاں کرتا ہے لیکن اس کو اخلاقی اقدار اور ریشمی الفاظ کا لبادہ پہناتا ہے۔ جب کوئی قوم اس گراوٹ میں مبتلا ہوجاتی ہے تو پھر اس سے ہدایت قبول کرنے کی توقع کرنا ایک بےکار توقع ہے۔ آنحضرت ﷺ چونکہ اپنے اندر انسانی درد اور نہائت درد مند دل رکھتے تھے اس لیے وہ اپنے بد ترین دشمن کے لیے بھی ہدایت کے لیے کوشاں رہتے اور دعائیں کرتے۔ انھیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ یہود و نصاریٰ کی حرکتیں دیکھ کر آپ دل گرفتہ نہ ہوں یہ لوگ اپنے قومی جمود اور قومی تعلّی کے باعث ہدایت قبول کرنے سے محروم ہوگئے ہیں۔ پھر عتاب آمیز انداز میں فرمایا : اگر آپ ان کے مذہب کی پیروی کرنے لگیں جو سراسر خواہشاتِ نفس کا دوسرا نام ہے حالانکہ آپ کے پاس وحی الہٰی کا سرمایہ موجود ہے۔ اور وحی کا نور آپ کا راستہ روشن کررہا ہے۔ تو یہ ایک ایسی غلطی ہوگی جس سے آپ اللہ کی تائید اور نصرت سے محروم ہوجائیں گے۔ لیکن یہ بات یا در ہے کہ خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن عتاب یہود و نصاریٰ پر ہے کہ تمہیں اپنی گمراہی کی ہولناکی کا اندازہ نہیں تم تو ایک ایسی گمراہ رورش اختیار کرچکے ہو کہ اگر ہمارا پیغمبر بھی اس کی طرف مائل ہونے لگے تو وہ بھی ہماری نصرت اور تائید سے محروم ہوجائے۔ اس سے تمہیں اندازہ ہونا چاہیے کہ تمہارے اس رویے کے باعث قیامت کے دن تمہارے ساتھ کیا بیتنے والی ہے۔ البتہ اہل کتاب میں سے ایسے لوگ جو ان مذکورہ برائیوں سے محفوظ ہیں ان کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ایمان کی دعوت سے بہرہ ور ہوجائیں۔ ان کے بارے میں فرمایا جارہا ہے۔
Ayah 2:121

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے وہ لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے اور جو کوئی اس سے کفر اختیار کرے گا تو یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰـھُمُ الْـکِتٰبَ یَتْلُوْنَـہٗ حَقَّ تِلاَ وَتِہٖط اُوْلٰٓئِکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖط وَمَنْ یَّـکْفُرْ بِہٖ فَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے وہ لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے اور جو کوئی اس سے کفر اختیار کرے گا تو یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں) (البقرۃ : 121) صالحین اہل کتاب اہلِ کتاب کے بارے میں عام پالیسی بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا جارہا ہے کہ اہل کتاب کی غالب اکثریت اگرچہ خیر سے محروم ہوچکی ہے لیکن ان میں ایک محدود اقلیت ایسے لوگوں کی ضرور موجود ہے جن کے دلوں میں ابھی تک ایمان کی روشنی باقی ہے۔ یہ اہل کتاب کا اگرچہ ایک مختصر سا گروہ ہے لیکن ان کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ درحقیقت اللہ نے کتاب انہی کو عطا کی تھی کیونکہ ان کا کتاب کے ساتھ رشتہ ہمیشہ قائم رہاوہ جب اس کی تلاوت کرتے ہیں تو اس طرح کرتے ہیں جیسے اس کا حق ہے۔ وہ اس کتاب کو کتاب میں ڈوب کر پڑھتے ہیں اور اس یقین کے ساتھ پڑھتے ہیں کہ اسے اللہ نے نازل کیا ہے اور اپنے بندوں کو اس کتاب کے ذریعے وہ زندگی گزارنے کا سلیقہ عطا فرمایا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے۔ وہ اس میں ترمیم و تحریف کا تصور بھی نہیں کرسکتے، اس کا پوری طرح احترام بجا لاتے اور اس کے احکام کے سامنے لرزاں وترساں رہتے ہیں۔ چناچہ یہی لوگ ہیں کہ جو کتاب سے صحیح فائدہ اٹھانے کے نتیجے میں ایمان سے بہرہ ور ہوں گے۔ یہی لوگ دنیا اور آخرت میں نوازے جائیں گے اور جو لوگ اس علم خداوندی اور کتاب ہدایت سے کفر کا راستہ اختیار کریں گے وہ دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھائیں گے اور ہمیشہ کی ذلت اور محرومی ان کا مقدر بن جائے گی۔