2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

(اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی۔ (غرض) جو کوئی بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے، سو ان سب کے لیے ان کے پروردگار کے پاس ان کا اجر ہے اور نہ کوئی اندیشہ ان کے لیے ہے اور نہ وہ کوئی غم کریں گے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰی وَالصَّابِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ ج وَلاَخَوْفٌ عَلَیْھِم وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ (البقرۃ : 62) (اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی۔ (غرض) جو کوئی بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے، سو ان سب کے لیے ان کے پروردگار کے پاس ان کا اجر ہے اور نہ کوئی اندیشہ ان کے لیے ہے اور نہ وہ کوئی غم کریں گے) اَلَّذِیْنَ ھَادُوْا سے مراد اس آیت کریمہ میں چار گروہوں کا ذکر کرنے کے بعد ایک اصولی بات ارشاد فرمائی ہے۔ ہم اس کی وضاحت کرنے سے پہلے ہم ان چاروں گروہوں کا تعارف کرانا ضروری سمجھتے ہیں۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاسے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والے مومن اور مسلمان مراد ہیں۔ اَلَّذِیْنَ ھَادُوْاسے وہ لوگ مراد ہیں۔ جنھوں نے یہودیت اختیار کی یہودی مذہب کے پیروکار بن گئے اور اپنا نام یہودی رکھ لیا۔ اس لفظ کے استعمال کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل اپنے حقیقی مذہب کے اعتبار سے تو مسلمان ہی تھے۔ لیکن جب ان میں بگاڑ انتہا کو پہنچ گیا تو وہ اپنا اصل نام تک بھول گئے۔ انھوں نے مسلمان کہلانے کی بجائے اپنے آپ کو یہودی کہلا نا شروع کردیا۔ بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ ان میں چونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چوتھے بیٹے یہوذا کی اولاد کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے میں غلبہ حاصل ہوگیا تھا اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے تک پہنچ کر وہ چونکہ اپنے انتہائی عروج کو پہنچ گئے اس لیے انھوں نے اپنا اصل نام چھوڑ کریہوذا کی طرف اپنی نسبت کرلی اور باقی گروہوں نے بھی رفتہ رفتہ اسی نام کو اپنے مذہبی اور قومی نام کے طور پر قبول کرلیا۔ شروع شروع میں ممکن ہے تلفظ کچھ مختلف رہا ہو لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہودی کا لفظ مستحکم ہوگیا۔ اب اس نام کے ساتھ جو لوگ اپنے آپ کو منسوب کررہے تھے۔ ان میں ایک گروہ تو وہ تھا جو نسب کے اعتبار سے بنی اسرائیل کہلاتا تھا اور دوسرا گروہ وہ تھا جنھوں نے یہودیوں کے زیراثر رہنے کی وجہ سے یہ مذہب اختیار کرلیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب یہود ایک نسلی مذہب ہے تبلیغی مذہب نہیں۔ کسی غیر اسرائیلی کو باضابطہ یہودی بنانے کا طریقہ ان کے ہاں بالکل نہیں۔ لیکن عرب میں متعدد قبیلے ایسے آباد تھے جو نہ پیدائشی یہودی تھے نہ نسلاً اسرائیلی بلکہ عرب یا غیربنی اسرائیل تھے۔ لیکن یہود کی صحبت سے متاثر اور ان کے علوم سے مرعوب ہو کر انھوں نے پہلے یہود کے طور طریقے اور پھر ان کے عقیدے اختیار کرلیے اور رفتہ رفتہ ان کا شمار بھی یہودی آبادی میں ہونے لگا۔ بجائے الیہود کے اَلَّذِیْنَ ھَادُوْا لانے میں یہی نکتہ مضمر ہے۔ تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ یہاں ذکر جس گروہ کا ہورہا ہے اس سے مراد صرف بنی اسرائیل نہیں بلکہ وہ تمام لوگ مراد ہیں جو مذہب یہود سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیونکہ بنی اسرائیل کی قومی حکومت ووجاہت کا خاتمہ تو ظہور اسلام سے مدتوں پہلے بلکہ کہنا چاہیے کہ 70 عیسوی میں مشرک رومیوں کے ہاتھوں بیت المقدس کی بربادی کے بعد ہی ہوگیا تھا اور رسول ﷺ کے معاصرین یہود کی حیثیت صرف مذہبی اور دینی فرقہ کی رہ گئی تھی۔ یہاں اسی فرقہ کا ذکر ہورہا ہے۔ نصاریٰ کون ہیں ؟ اَلنَّصٰرٰی : نصاریٰ جمع ہے، نصرانی کی۔ ملک شام (حال فلسطین) میں ایک قصبہ ناصرہ ہے۔ علاقہ گلیلی میں بیت المقدس سے ستر میل شمال میں اور بحر روم سے مشرق میں بیس میل کے فاصلے پر موجودہ آبادی آٹھ اور نوہزار کے درمیان ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آبائی وطن یہی قصبہ ہے اور آپ یسوع ناصری اسی مناسبت سے کہلاتے ہیں۔ ناصرہ ہی کو عربی تلفظ میں نصران بھی کہتے ہیں۔ نصرانی کا انتساب اسی قصبہ کی جانب ہے۔ سموا بذٰلک انتساباً الی قریۃ یقال لھا نصران (راغب) نصران قریۃ بالشام ینسب الیہ النصٰرٰی (جوہری) یہی اشتقاق ایک روایت میں حضرت ابن عباس صحابی سے ابن جریر نے نقل کیا ہے اور یہی قول قتادہ وابن جریج تابعین کا ہے۔ بعض نے اسے عربی کا لفظ فرض کرکے نصرت سے مستشق سمجھا ہے۔ لیکن قول صحیح یہی ہے جو ابھی گزر چکا ہے۔ خوب خیال کرلیاجائے کہ قرآن یہاں ذکر مسیحیوں کا نہیں نصاریٰ کا کررہا ہے اور قرآن کریم کا ہر لفظ پرحکمت ہوتا ہے۔ مسیحی وہ ہیں جو اناجیلِ اربع پر ایمان رکھتے ہیں۔ مسیح کو خدا کا نبی نہیں، خدا کا بیٹامانتے ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ان کے قالب میں حلول کر آیا تھا۔ آخرت میں نجات دینے والا خدا کو نہیں مسیح ابن اللہ کو یقین کرتے ہیں۔ اور خدائی کو تین اقنوموں میں تقسیم کرکے ایک ناقابلِ فہم فلسفہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ہر اقنوم بجائے خود بھی خدا ہے اور تین اقنوم مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں۔ اس کھلے ہوئے شرک کے قائلوں کا ذکر ہرگز اس مقام پر مقصود نہیں اس لیے نام بھی جو مشہور اور چلا ہوا تھا اسے ترک کرکے نصاریٰ لایا گیا۔ نصاریٰ ۔ نصرانی معرب ہے Nazarene کا۔ حضرت مسیح کے سچے پیرو ان کو نبی ماننے والے ابتدائی زمانے میں Nazarenes کہلاتے تھے۔ یہ توحید کے قائل تھے اور بجائے اناجیلِ اربع کے صرف انجیل متی کو مانتے تھے۔ آگے چل کریہی لوگ ابونیہ بھی کہلائے۔ لیکن جب مشرکانہ عقائد کا زور بندھا اور اصل مسیحیت حلولیت اور تثلیث ہی قرار پاگئی تو قدرۃً نصرانیت کا ستارہ بھی گردش میں آیا اور نصرانی اور نصرانیت کے الفاظ بجائے عزت و تکریم کے تحقیر کے موقع اور ذم کے محل میں استعمال ہونے لگے۔ موجودہ مسیحیت سرتاسر پولوسیت ہے۔ اور تمام تر پولوس Paul طرسوسی کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ یہ حضرت مسیح کے چند روز بعد ہی شروع ہوگئی تھی اور نصرانی اس کے بالکل منکر تھے۔ (تفسیر ماجدی) اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم جس گروہ کا نصاریٰ کے نام سے ذکر کرتا ہے۔ وہ موجودہ عیسائی نہیں ہیں جو اپنے آپ کو مسیحی کہلانا پسند کرتے ہیں اور نصاریٰ کے لفظ کو باعث تحقیر سمجھتے ہیں۔ قرآن کریم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے جن پیروکاروں کی تعریف کی ہے اور جنھیں مسلمانوں کے قریب قرار دیا ہے، وہ وہ لوگ تھے جو کہتے تھے، انانصاریٰ ” ہم نصاریٰ ہیں “ اور اس پر فخر کرتے تھے۔ یہ لوگ خلیفہ برحق شمعون کے پیروکار تھے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے جانشینوں نے آنحضرت ﷺ پر ایمان لاکر اسلام کی دولت پائی۔ صابیوں سے کون مراد ہیں ؟ اَلصَّابِئِیْنَ : صابی کی جمع ہے۔ اس کے لفظی معنی میں مختلف باتیں کہی جاتی ہیں۔ بعض اہل علم کا گمان ہے کہ یہ لفظ ” صباء “ سے بنا ہے۔ صباء کے معنی ” طلوع ہونے “ کے ہوتے ہیں۔ ممکن ہے یہ لوگ اپنی ستارہ شناسی اور معرفت نجوم میں مہارت کے سبب سے اس نام سے موسوم ہوئے ہوں۔ لیکن مشرکین مکہ نے جس طرح اس لفظ کا استعمال کیا اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ صابی اس شخص کو کہتے تھے جو اپنے دین کو چھوڑ کر دوسرے دین میں آجائے یا اس کی طرف مائل ہوجائے۔ امام راغب نے اس کا یہی معنی کیا ہے۔ یہ ایک مذہبی فرقہ گزرا ہے، جو عرب کے شمال مشرق میں شام و عراق کی سرحد پر آباد تھا اور بعض لوگ جزیرہ موصل کو اس کا مسکن قرار دیتے ہیں۔ ان کے اعتقادات کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ یہ لوگ دین توحید اور عقیدہ رسالت کے قائل تھے اور اس لیے اصلاً اہل کتاب میں سے تھے۔ اپنے آپ کو نصاریٰ یحییٰ کہتے تھے۔ گویا حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی امت تھے۔ حضرت عمر اور حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) جیسے محقق صحابہ نے ان کا شمار اہل کتاب میں کیا ہے۔ اس لیے وہ ان کے ذبیحہ کو حلال سمجھتے تھے۔ البتہ مجاہد اور حسن کا خیال یہ ہے کہ یہ لوگ کسی خاص دین کے پیرو نہیں تھے بلکہ یہودیت اور مجوسیت کے مابین تھے۔ لیکن قتادہ اور حسن بصری سے یہاں تک منقول ہے کہ وہ اہل قبلہ تھے اور پانچ وقت کی نماز پڑھتے تھے اور امام ابوحنیفہ ( رح) جو خود بھی عراقی تھے اس لیے زیادہ امکان ہے کہ وہ ان کے بارے میں زیادہ آگاہی رکھتے ہوں۔ وہ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال سمجھتے تھے اور ان کی عورتوں سے نکاح بھی جائز قرار دیتے تھے۔ تاریخِ عراق پر ایک مستند مستشرق کی کتاب کا اردو ترجمہ کچھ عرصہ پہلے انجمنِ ترقی اردو دہلی نے شائع کیا ہے۔ اس کے صفحہ 47 پر فاضل مترجم ڈاکٹر شیخ محمد اقبال اور ینٹل کالج لاہور لفظ مینڈین Mandean پر حاشیہ دیتے ہیں۔ (مینڈین بزبان آرامی بمعنی اولوالعلم اس فرقہ کے لوگ عراق میں اب بھی موجود ہیں اور صابیون کہلاتے ہیں۔ وہ لوگ اگرچہ عیسائی نہیں ہیں تاہم جان دی بپٹسٹ کو مانتے ہیں۔ عراق کے عوام الناس ان کو حضرت یحییٰ کی امت کہتے ہیں) (ایران بہ عہد ساسانیاں) حقیقت یہ ہے کہ یہ محض اندازے ہیں اس مذہب کے ماننے والوں کا اب کہیں وجود نہیں ملتا، نہ کوئی ان کی مستند تاریخ موجود ہے۔ اس وجہ سے ان کے متعلق اعتماد سے کوئی بات کہنا مشکل ہے۔ لیکن قرآن مجید کے زمانہ نزول میں معلوم ہوتا ہے کہ ایک فرقہ کی حیثیت سے ان لوگوں کا وجود بالکل معروف تھا۔ گزشتہ آیات کریمہ میں بنی اسرائیل جو اللہ کے نبیوں کی اولاد تھے، پروردگار نے ان پر اپنے بےپایاں احسانات کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ ان کی بداعتقادیوں اور بد اعمالیوں کا تذکرہ بھی فرمایا۔ آخر میں نتیجہ نکالتے ہوئے یہ فرمایا کہ یہ بنی اسرائیل جب اپنی سرکشی کے باعث حدود سے تجاوز کرگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی پھٹکار ماری۔ جس کے نتیجے میں یہ لوگ نمونہ عبرت بن گئے۔ اس لیے اے دنیا کے تمام مذہبی گروہو ! تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ خاندانی یا گروہی انتساب اللہ کے یہاں سرخ رو ہونے کے لیے کافی نہیں۔ بلکہ اس کی بارگاہ میں قبولیت پانے کے لیے جو سرمایہ درکار ہے اس کا نام ایمانِ خالص اور عمل صالح ہے تمہاری نسبت چاہے کسی گروہ سے بھی ہے حتیٰ کہ اگر تم مسلمانوں سے بھی تعلق رکھتے ہو اور امت محمدیہ میں ہونے کا تمہیں شرف حاصل ہے تو یاد رکھو ایمان وعمل کے بغیر محض ایمان کا دعویٰ یا محض گروہی نسبتیں تمہارے کسی کام نہیں آئیں گی۔ اگر یہ نسبتیں کام آنے والی ہوتیں تو بنی اسرائیل اپنے انجامِ بد کو نہ پہنچتے۔ بین السطور میں یہ بات بھی جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ بنی اسرائیل یا یہودی ہی اصل میں تمام مذہبی گروہوں کی بنیاد ہیں۔ عیسائی اور صابی ان کے بعد وجود میں آئے اور انھیں کا بگاڑ دوسرے گروہوں پر اثر انداز ہوتا رہا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بنی اسرائیل میں جتنی گمراہیاں پیدا ہوئیں اس کا سبب ان کا یہ بنیادی تصور تھا نحن ابناء اللہ واحباء ہ ” ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں “۔ اس لیے قیامت کے دن ہمیں کسی بازپرس کا اندیشہ نہیں اور اگر کوئی معمولی بازپرس ہوئی بھی تو ہوسکتا ہے چند دنوں کے لیے جہنم جانا پڑے لیکن اس کے بعد پھر جنت ہی ہمارا ٹھکانہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے چہیتوں کے سوا کسی اور کو جنت کیسے دے سکتا ہے ؟ ان کے اس غلط اعتماد نے ان کی پوری عملی زندگی کو ویران کردیا۔ وہ جز اور سزا سے بےنیاز ہو کر ہر برائی پر جری ہوگئے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں امت محمدیہ کے سامنے بھی اس پوری تاریخ کے تناظر میں یہ بات فرمائی جارہی ہے کہ تم بھی کہیں اپنی نسبت پر مغرور ہو کر اپنی اعتقادی اور عملی زندگی کو تباہ نہ کرلینا۔ کیونکہ اگر ایمان اور عمل کی خرابیاں اللہ کے نبیوں کی اولاد کو تباہ کرسکتی ہیں تو تم اس برے انجام سے کیسے بچ سکو گے۔ اس لیے سب سے پہلے ان کا ذکر فرمایا گیا ہے اور باقی گروہوں کا ذکر تاریخی آئینہ کے طور پر ان کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ بس یہی وہ حقیقت ہے جو اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔ اس آیت سے بعض لوگوں کے اخذ کردہ غلط مفہوم کی تردید سیاقِ کلام کو دیکھتے ہوئے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اس آیت میں یہ بیان کرنا ہرگز مقصود نہیں کہ نجات کے لیے کن کن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ بلکہ صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ گروہی وابستگیاں ایمان وعمل کے بغیر تباہی کا باعث تو ہوسکتی ہیں نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔ لیکن نہ جانے کس طرح بعض متکلمین اور منکرین سنت نے اس سے یہ بات اخذ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ان مذاہب کے ماننے والے اگر اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کرتے رہے تو ان کی نجات کے لیے کافی ہے۔ انھیں محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہر مذہب بنیادی طور پر سچائی کا حامل ہے اس لیے کسی دوسرے مذہب کو ماننایا کسی دوسرے نبی کو تسلیم کرنا اس کی کوئی ضرورت نہیں حالانکہ یہ بات اگر تسلیم کرلی جائے تو نہ صرف مذہب کی تاریخ تلپٹ ہو کر رہ جاتی ہے بلکہ سیاق کلام سے بھی اس کا کوئی جوڑ باقی نہیں رہتا اور ساتھ ہی ساتھ جو لوگ قرآن کریم کو مانتے ہیں اور پھر اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں تو ان کے لیے اس سوال کا جواب دینا ناممکن ہوجاتا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا اور قرآن کریم کو ماننا ضروری نہیں تو پھر جن آیات میں آنحضرت اور قرآن پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے آخر ان آیات کا کیا مفہوم ہوگا ؟ اور مزید یہ بات بھی کہ رسول اللہ ﷺ نے جو سالہاسال تک اہل کتاب کو دعوت دی وہ کس بات کی دعوت تھی اور پھر حضور کی دعوت اور اہل کتاب کے درمیان جو کشمکش رہی ہے اور جس کے نتیجے میں یہود کو ملک چھوڑنا پڑا۔ حتی کہ خلافتِ راشدہ میں پورے جزیرئہ عرب سے انھیں نکال دیا گیا۔ اس کی آخر کیا توجیہ کی جائے گی ؟ یہ تو بالکل سامنے کی باتیں ہیں جو معمولی غور وفکر کرنے والا آدمی بھی محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن اس خیال سے کہ اس بات کو برسوں سے بڑی شدومد سے پھیلا یا جارہا ہے اور آج بھی ہمارا دانشور طبقہ جو صریحاً اسلام کا انکار کرنے کی جرات نہیں رکھتا وہ اس طرح کی باتوں کی اوٹ میں اپنے خبث باطن کا اظہار کرتارہتا ہے اور دلیل کے طور پر اس آیت کریمہ کو پیش کرتا ہے۔ اس لیے ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس پر ایک مختصر گفتگو کی جائے۔ کسی بھی کتاب کی کسی بات کو سمجھنے کے لیے تین باتوں کی پابندی کرنا پڑتی ہے۔ 1 سب سے پہلے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ جس سیاق کلام میں یہ بات کہی جارہی ہے اس بات کو اس سیاق کلام سے مربوط ہونا چاہیے یہ نہیں ہوسکتا کہ سیاق کلام سے کوئی اور بات مفہوم ہورہی ہو لیکن اسی سلسلے کی کسی عبارت کا مفہوم بالکل اس کے برعکس مراد لے لیاجائے۔ 2 کتاب کی کسی بھی عبارت کا مفہوم وہ معتبر سمجھا جاتا ہے جو کتاب کی مجموعی تعلیمات سے مطابقت رکھتاہو اور اگر کوئی ایسا مفہوم مراد لے لیاجائے جو کتاب کی مجموعی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا تو یہ کتاب کا ایسا تضاد ہے جس سے بڑھ کر کوئی اور عیب نہیں ہوسکتا۔ 3 کتاب میں اگر کسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور اس کتاب کی کسی عبارت سے اس حکم کے خلاف کسی بات کا اگر وہم ہورہا ہے تو اس وہم کو جھٹک دیا جائے گا۔ عبارت کا مفہوم وہ لیا جائے گا جو اس حکم کے مطابق ہوگا۔ آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان تینوں حوالوں سے اس آیت کریمہ کا وہ مفہوم جو منکرینِ حدیث لے رہے ہیں۔ صحیح بیٹھتا ہے یا غلط ؟ سب سے پہلے ہم سیاق کلام کو دیکھتے ہیں۔ سورة بقرۃ کا جو مرکزی مضمون ہے وہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت ہے کیونکہ ان دونوں میں سے کسی ایک پر ایمان لانادوسرے پر ایمان لانے کو مستلزم ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مانتا ہوں تو اسے یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ وہ قرآن کریم کو بھی اللہ کی کتاب مانے کیونکہ حضور نے زندگی بھر قرآن کریم کو اپنی دعوت کی بنیاد بنایا اور باربار یہ دعویٰ کیا کہ جس خدا نے مجھے رسول بنایا ہے اس نے مجھ پر قرآن جیسی کتاب اتاری ہے۔ اسی طرح کوئی آدمی اگر قرآن کریم کو اللہ کی کتاب مانتا ہے تو اس کے لیے لازم ہوجاتا ہے کہ جس ذات عزیز پر وہ کتاب نازل ہوئی ہے اسے بھی اللہ کا رسول تسلیم کرے کیونکہ کتابیں ہمیشہ رسولوں پر نازل ہوتی ہیں خلا میں معلق نہیں ہوتیں۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سورة بقرۃ کی آیت نمبر 40 اور 41 پڑھیئے۔ آیت نمبر چالیس میں بنی اسرائیل سے وعدہ پورا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور وہ وعدہ کیا تھا کہ جب بھی نبی آخرالزماں تشریف لائیں گے تم ان پر ایمان لائو گے۔ اور اس کے بعد فرمایا وَاٰمِنُوْابِمَآاَنْزَلْتُ مُصَدِّقَالِّمَا مَعَکُمْ ” اور ایمان لائو اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے جو تصدیق کرنے والی ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے۔ “ وَلاَ تَکُوْنُوْااَوَّلَ کَافِرٍ بِہٖ ” اور تم سب سے پہلے اس کے کفر کرنے والے مت بنو “ اسی کی چند آیات کے بعد یہ آیت کریمہ ہے جو ہمارے پیش نظر ہے۔ غور فرمائیے ! چند آیات پیشتر پروردگار حکم دے رہے ہیں کہ جس نبی پر ایمان لانے کا تم سے ہمیشہ وعدہ لیا گیا وہ نبی تشریف لے آئے اور ان پر ہم نے کتاب بھی نازل کردی۔ اب ایفائے عہد کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس کتاب پر ایمان لائو اور اس نبی پر ایمان لائو جس پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے۔ اسی سلسلہ ٔ کلام میں آگے جاکر یہ فرمایا جارہا ہے کہ کوئی بھی مذہبی گروہ ہو اس کی نجات کے لیے ایمان وعمل ضروری ہے محض گروہی وابستگی کافی نہیں۔ انصاف سے کہیے کہ یہاں جس ایمان کی بات ہورہی ہے کیا وہ ایمان صرف اپنے اپنے مذہب پر ایمان ہے یا اس ایمان سے وہ ایمان مراد ہے جس کا آیت نمبر 41 میں حکم دیا گیا ہے۔ یقینا سیاق وسباق کو دیکھتے ہویے یہ ماننا پڑے گا کہ یہاں جس ایمان کا ذکرہورہا ہے وہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان کے بغیر قابل قبول نہیں ہوسکتا کیونکہ آیت نمبر 41 میں صاف فرمایا گیا ہے کہ اگر تم قرآن پاک اور نبی کریم ﷺ پر ایمان نہیں لائو گے تو یہ صریحاً کفر ہوگا اور دیکھو تم سب سے پہلے کفر کرنے والے نہ بنو۔ میں نہیں سمجھتاجو شخص اس آیت کریمہ کا وہ مفہوم مراد لیتا ہے جو سابقہ آیات کے بالکل خلاف ہے وہ قرآن کریم کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے کہ جس کتاب میں اس قدر کھلا تضاد ہو کہ جس بات کو وہ خود کفر قرار دے چند آیات کے بعد اسی کا حکم دینے لگے ایسی غلطی تو معمولی مصنف بھی نہیں کرسکتا، چہ جائیکہ خالق کائنات اور غلطیوں سے پاک علم رکھنے والی ذات اپنی کتاب میں ایسی غلطی کا ارتکاب کرے۔ آئیے ! ہم اسی بات کو ایک دوسرے پہلو سے دیکھتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ قرآن پاک نے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کانہ صرف حکم دیا ہے بلکہ اسی کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ضامن ٹھہرایا ہے۔ اور پھر اس میں مزید احتیاط یہ کی گئی ہے کہ عام انسانوں کو آنحضرت کی بعثت عامہ کے حوالے سے الگ حکم دیا اور اہل کتاب کے لیے الگ ذکر فرمایا تاکہ آنے والی دنیا میں کوئی اس تاویل کا سہارا نہ لے سکے کہ عام انسانوں کے لیے تو آنحضرت پر ایمان لانا ضروری ہے لیکن اہل کتاب چونکہ پہلے ہی اپنے اپنے نبیوں اور کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں اس لیے ان کے لیے اس کی کوئی پابندی نہیں۔ اب دونوں کی مثالیں قرآن مجید میں دیکھئے۔ عام لوگوں کے لیے آنحضرت کی بعثت کا ذکر فرماکر بطور خاص اللہ پرا اور آپ پر ایمان لانے کا حکم دیاحالان کہ جب یہ کہہ دیا جائے کہ فلاں پیغمبر فلاں قوم کے لیے مبعوث ہوئے ہیں تو اس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ ان پر ایمان لانا ہوگا لیکن پروردگار نے کسی بات کو بھی مبہم نہیں رہنے دیا۔ ارشاد فرمایا : قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَانِ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُو َیُحْیِ وَیُمِیْتُص فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِیِّ الَّذِیْ یُوْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ (کہہ دو ! اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ اس اللہ کا جس کے لیے ہے آسمان اور زمین کی بادشاہی۔ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہ۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ پس ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول نبی امی پر جو ایمان لاتا ہے اللہ اور اس کے کلمات پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ ایاب ہو) (الاعراف : 157) اس آیت کریمہ میں دیکھئے کہ تمام انسانوں کی طرف آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس میں اگرچہ کوئی ابہام نہیں لیکن بہانہ جُو طبیعتیں یہ کہہ سکتی تھی کہ اس سے مراد شائدصرف عرب کے لوگ ہیں۔ اس لیے اس ابہام کو بھی یہ کہہ کر ختم کردیا کہ آپ اس اللہ کے رسول بن کر آئے ہیں، جس کی حکومت اور جس کی مملکت میں زمین اور آسمان سب شامل ہیں۔ اس لیے اس کا رسول بھی جہاں جہاں بھی جن اور انس کا وجود ہے سب کے لیے رسول بن کر آیا ہے۔ پھر آیت کے دوسرے حصے میں رسول کے لفظ کو بھی مبہم نہیں رہنے دیا بلکہ آپ کا وصفی نام جس کا تذکرہ پہلی آسمانی کتابوں میں ہے۔ اس کا ذکر فرماکر پوری طرح بات کو کھول کر رکھ دیا۔ جیسے میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ جب آپ تمام انسانوں کی طرف رسول بن کر آئے ہیں تو ان میں اہل کتاب بھی شامل ہیں۔ لیکن پروردگار نے قرآن کریم میں اہل کتاب کا اس حوالے سے الگ ذکر فرمایا اور ان کی فلاح و کامرانی کو اسی ایمان پر منحصر قرار دیا۔ سورة الاعراف میں موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنی امت کے لیے دعا کا ذکر کیا گیا ہے جس میں آپ نے اپنی امت کے لیے اللہ سے رحمت مانگی ہے۔ اس کے جواب میں پروردگار نے فرمایا کہ یہ رحمت ان لوگوں کے لیے خاص ہوگی جو تقویٰ اختیار کریں گے، زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے اور ان میں سے جن کو پیغمبر آخرالزمان کا زمانہ ملے گا وہ ان پر ایمان بھی لائیں گے۔ بلکہ ان کے لیے اللہ کی رحمت کا تمام تر دارومدار اللہ اور اس کے آخری رسول پر ایمان لانے پر ہوگا۔ ارشاد فرمایا : وَاکْتُبْ لَنَا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ اِنَّا ھُدْنَآاِلَیْکَ ط قَالَ عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآئُج وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍط فَسَاَکْتُُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَیُؤتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِیْ التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِط یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوْاالنُّوْرَالَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ لا اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (الاعراف : 155 تا 156) (اور ہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ دے ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ فرمایا، میں اپنا عذاب جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز کو عام ہے۔ سو میں اس کو لکھ رکھوں گا، ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کریں گے اور زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے۔ جو اس رسول نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جس کو لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، جو ان کو حکم دیتا ہے نیکی کا اور روکتا ہے برائی سے اور حلال ٹھہراتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ناپاک چیزیں اور ان سے دور کرتا ہے وہ بوجھ اور پھندے جو ان پر تھے۔ پس جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جنھوں نے اس کی تائید اور مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں) ان آیات پر غور کیجئے ! ان میں نہایت مبہم انداز میں اہل کتاب اور دوسرے تمام انسانوں کو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے اور پھر دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دارومدار اسی پر رکھا گیا ہے۔ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ یہاں ان آیات میں قرآن پاک میں جو حکم دیا ہے وہ اپنی جگہ صحیح ہے لیکن زیربحث آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مذہبی گروہ کے لیے اپنے اعتقادات کے مطابق عمل کرنے میں ہی نجات ہے محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا ان کے لیے ضروری نہیں تو اندازہ فرمائیے اس سے بڑھ کر کسی کتاب کے اندر تضاد کی اور بدتر سے بدتر مثال کیا ہوسکتی ہے ؟ حالانکہ قرآن پاک کے طالب علم جانتے ہیں کہ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ ایک آیت دوسری آیت کی تشریح کرتی ہے۔ ایک جگہ اگر وہ ایک بات کو مبہم یا مجمل انداز میں ذکر کرتا ہے تو دوسری جگہ اس اجمال یا ابہام کو کھول دیتا ہے۔ اور یہ تفصیل اور توضیح پہلی آیت کی تفسیر بن جاتی ہے۔ جب بھی کوئی قرآن کریم کا طالب علم ان آیتوں کا مفہوم متعین کرنا چاہے گا تو وہ دونوں آیتوں کو سامنے رکھے گا۔ یہاں بھی زیر بحث آیت کریمہ کا وہی مفہوم معتبر ہوگا جو مندرجہ بالا مفصل آیات کریمہ کی روشنی میں واضح ہورہا ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی عام تعلیمات سے اس آیت کی وضاحت میں ہمیں کیا مدد ملتی ہے ؟ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے جہاں بھی ایمان کا ذکر فرمایا ہے وہاں ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کو اکٹھے ذکر فرمایا ہے۔ اس لیے قرآن کریم میں آپ سینکڑوں جگہ آمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ کے الفاظ دیکھیں گے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ مزید ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ سورة نساء میں رسول اللہ کے احکام سے پہلو تہی کو نفاق قرار دیا گیا ہے اور پروردگار نے قسم کھا کر یہ بات فرمائی کہ یہ لوگ ہزار ایمان کا دعویٰ کریں لیکن جب تک آپ کو زندگی کے ہر معاملے میں فیصلہ کن اتھارٹی تسلیم نہیں کریں گے اس وقت تک یہ صاحب ایمان نہیں ہوں گے۔ علاوہ ازیں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جو لوگ بظاہر اپنے آپ کو مومن کہتے تھے لیکن وہ حقیقت میں مومن نہیں تھے تو ان سے صراحتہً فرمایا : یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اٰمِنُوْاباللّٰہِ وَرَسُولِہٖ وَالکِتَابِ الَّذِی نَزَّلَ عَلٰی رَسُولِہ ” اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہوا (یعنی ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو) ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے۔ “ اندازہ فرمائیے ! اللہ کو وہ ایمان قبول نہیں جس میں رسول اور کتاب پر ایمان شامل نہ ہو۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں جہاں بھی قرآن کریم نے مجمل ایمان کا ذکر کیا ہے وہاں پوری امت نے بالاجماع ان تمام چیزوں پر ایمان لانا مراد لیا ہے جن پر ایمان لانا ضروری ہے۔ مثلاً سورة العصر کو دیکھ لیجئے اس میں صرف ایمان کا ذکر ہے۔ لیکن تمام مفسرین نے اس میں تمام ایمانیات کو شامل کیا ہے۔ جن میں اللہ، اس کے رسول اور قرآن کریم پر ایمان کو اساسی حیثیت حاصل ہے۔ ہم نے تین پہلوئوں سے زیر بحث آیت کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ آپ ان تینوں پہلوئوں پر غور فرمائیں اور پھر خدا لگتی کہیے کہ کیا قرآن کریم کی کسی آیت میں اس بات کا دور دور تک بھی امکان ہوسکتا ہے کہ ایمان سے مراد اپنے اپنے مذہب کے اعتقادات پر ایمان ہے۔ نہ اس میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان شامل ہے اور نہ قرآن کریم پر ایمان۔ یعنی یہودی یہودی رہے۔ عیسائی عیسائی رہے اور صابی صابی۔ ان سے بالکل نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نبی آخری الزمان پر ایمان کیوں نہ لائے ؟ تم نے قرآن پاک کی تعلیمات کو قبول کیوں نہ کیا ؟ اگر اس بات کو ذرا سا بھی تسلیم کرلیاجائے تو پھر اس بات کا جواب دینا ناممکن ہوجاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کس مقصد کے لیے ہے ؟ اور آپ نے 23 سال تک جس مقصد کی بالا دستی کے لیے جان توڑ کوششیں کیں اور زندگی کا ہر دکھ اٹھایا وہ مقصد آخر کیا تھا ؟ اگر اہل مذہب کو اپنے مذہب ہی پر باقی رہنا تھا تو پھر قرآن کریم کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے : ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالھُدٰی وَدِینِ الحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّینِ کُلِّہ (اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ وہ اسے تمام ادیانِ باطلہ پر غالب کردے) حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد دنیا کے لیے صراط مستقیم پانے اور نجات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ اگر کوئی ہے تو یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لایا جائے اور آپ کی پیروی کی جائے اس کے سوا نجات حاصل کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ صرف اللہ پر ایمان لانا بھی رسول پر ایمان لانے کے بغیر ناممکن بھی ہے اور بےمعنی بھی۔ اللہ کے رسول دنیا میں آکر جس کشمکش سے گزرتے ہیں اس کی بنیاد اللہ کا انکار نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے رسول اور اس کی تعلیمات سے انکار ہوتا ہے کیونکہ رسول کی تعلیمات کے بغیر اللہ پر ایمان ایک ایسی بےمعنی چیز ہے جس کی کوئی شکل متعین نہیں کی جاسکتی۔ اسی لیے دین کے دشمنوں نے ہمیشہ ایمان باللہ سے ایمان بالرسول کو الگ کرنے کی سازش کی ہے تاکہ اس کے ذریعے سے پورے دین کو ایک موم کی ناک بنادیا جائے کہ پھر ہر بدطینت شخص اپنی اپنی مرضی کے مطابق اس کا حلیہ بناتا اور بگاڑتا رہے۔ اس مناسب تنبیہ کے بعداگلی آیات کریمہ میں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کو ذکر کیا جارہا ہے۔ جس کے نتیجے میں ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی ایمان وعمل کے نور سے محروم ہوگئی اور قرآن کریم کے نزول کے وقت ان کے پاس اپنے ماضی کی عظمت کے افسانوں کے سوا کچھ بھی باقی نہ بچا تھا۔ ان کی تاریخ کو ان کے سامنے رکھ کر بتایا جارہا ہے کہ تم ایک خاص مقصد کے لیے ایک خاص منصب پر فائز کیے گئے تھے جب تم نے اس مقصد کو نظرانداز کردیا تو وہ منصب بھی تم سے چھن گیا۔ تم اگر چاہتے ہو کہ دوبارہ تمہیں پھر وہی سرافرازیاں حاصل ہوں تو اس کے لیے تمہیں نبی کریم ﷺ پر ایمان لانا ہوگا ورنہ اس کے بغیر تو تم ایک ایسا گروہ ہو جو دوسروں کے لیے اپنے اندر سامانِ عبرت کے سوا کچھ نہیں رکھتا۔ چناچہ دوسروں کو عبرت اور انھیں شرم دلانے کے لیے ان کے ماضی کے چند اوراق الٹے جارہے ہیں۔
Ayah 2:63

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور یاد کرو ! جب ہم نے تم سے عہد لیا اور ہم نے تمہارے اوپرکوہِ طور کو بلند کیا۔ (اور کہا) پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی کے ساتھ اور جو کچھ اس میں ہے، اس کو یاد رکھوتا کہ تم متقی بن جائو۔

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَـکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَـکُمُ الطُّوْرَط خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰـکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ (البقرۃ : 63) (اور یاد کرو ! جب ہم نے تم سے عہد لیا اور ہم نے تمہارے اوپرکوہِ طور کو بلند کیا۔ (اور کہا) پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی کے ساتھ اور جو کچھ اس میں ہے، اس کو یاد رکھوتا کہ تم متقی بن جاؤ ) قرآن کریم اور تورات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے خود مطالبہ کیا کہ اب جب کہ ہم مصر کی غلامی سے آزادہوکر جزیرہ نمائے سینا میں ایک آزاد زندگی شروع کرچکے ہیں تو ہمارے پاس زندگی گزارنے کا ایک ہدایت نامہ ہونا چاہیے۔ جس کی روشنی میں ہم یہ جان سکیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اور ہماری کن باتوں سے اللہ راضی ہوتا ہے اور کن باتوں سے ناراض ہوتا ہے ؟ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی اور آپ کی دعا کو قبولیت کا شرف ملا اور اللہ تعالیٰ نے تورات جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی۔ جب یہ کتاب بنی اسرائیل کو دی گئی تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کے احکام پر عمل کرنا ان کی حیلہ جو طبیعتوں کے لیے گراں ہونے لگا۔ غلامی نے ان کے اندر خواہشوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت پہلے ہی مفقود کر ڈالی تھی اب جو ان کو ایک ذمہ دار اور آزادی کی حفاظت کرنے والی قوم کی مانند زندگی گزارنے اور اس کی ذمہ داریاں اٹھانے کے احکام دئیے گئے تو انھوں نے بےعملی اور بعض دفعہ انکار کا رویہ اختیار کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو دامن کوہ میں طلب کیا اور ان سے اس کتاب کے بارے میں عہد و پیمان لیے۔ میثاق کا لفظ اسی عہد کے لیے استعمال ہوا ہے۔ میثاق کا مفہوم میثاق اس عہد کو کہتے ہیں جو کسی اہم معاملہ کے لیے پورے شعور اور پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ باندھا گیا ہو اور جس کی وفاداری کا تاکید کے ساتھ حکم دیا گیا ہو چناچہ انھیں بھی نہایت مؤکد طریقے سے تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا اور تورات کے حوالے سے تمام ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند کیا گیا۔ جب ان سے یہ عہد لیا جارہا تھا تو اس وقت قرآن کریم اور تورات کے بیان کے مطابق ان کے سروں پر کوہ طورکومعلق کردیا گیا۔ رَفعِ طور کا مفہوم اس آیت کریمہ میں تو رَفَعْنَاکالفظ استعمال ہوا ہے یعنی ہم نے تم پر طور کو بلند کیا۔ لیکن سورة الاعراف کی آیت نمبر 171 میں یہ فرمایا گیا ہے : وَاِذْ نَتَقْنَا الجَبَلَ فَوْقَھُمْ کَاَنَّـہٗ ظُلَّـۃٌ ” اور یاد کرو ! جب کہ ہم نے ان کے اوپر پہاڑ کو اس طرح اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے۔ “ ان دونوں تعبیروں کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ اگر پہاڑ کے دامن میں کوئی قافلہ ٹھہرا ہوا ہو اور پہاڑ میں زلزلہ آجائے تو دیکھنے والوں کو یقینا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پہاڑ ہم پر گرا ہی چاہتا ہے۔ لیکن پہاڑ میں زلزلے کا آنا اور دیکھنے والوں کا ایسا محسوس کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں، جسے قرآن کریم جیسی ابدی کتاب میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا جاتا۔ اس لیے زیادہ واضح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یقینا ایسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی کہ دیکھنے والے طور کو ایستادہ نہیں دیکھ رہے تھے بلکہ سر پر تنا ہوا دیکھ رہے تھے، جیسے سر پر سائباں تنا ہوتا ہے اور یہ ایسی صورتحال تھی جس نے انھیں بھونچکا کر رکھ دیا۔ کوہِ طور اس آیت میں الطور کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کے بارے میں یاد رہنا چاہیے کہ طور مطلق پہاڑ کو بھی کہتے ہیں اور جزیرہ نمائے سینا کے ایک مخصوص اور متعین پہاڑ کا بھی نام ہے۔ جدید جغرافیہ نویس کہتے ہیں کہ طور کا اطلاق جزیرہ نمائے سینا کے متعدد پہاڑوں پر ہوتا ہے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے سلسلہ میں جبل طور سے مراد جبل سینا ہوتا ہے۔ لیکن خود جبلِ سینا کی کوئی ایک چوٹی نہیں متعدد چوٹیاں ہیں انھیں میں سے کسی کا نام طور ہوگا۔ اس کیفیت میں انھیں یہ حکم دیا گیا کہ جو کتاب ہم نے تمہیں دی ہے اسے مضبوطی سے تھامو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو۔ جیوش انسائیکلوپیڈیا جلدچار صفحہ نمبر 321 میں کہا گیا ہے کہ ” اللہ نے پہاڑ کو ان لوگوں پر الٹ کر اوندھا کردیا اور ان سے کہا کہ تورات کو اگر قبول کرتے ہو تو خیر ورنہ یہیں تمہارا مدفن بن کر رہے گا “۔ قرآن کریم کا بیان زیادہ جامع معلوم ہوتا ہے۔ دونوں جملوں نے انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سمیٹ لیا ہے۔ مضبوطی سے تھامنے میں اجتماعی زندگی کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ اجتماعی زندگی میں اللہ کے احکام کا نفاذ آئین اور قانون کی شکل میں ہوتا ہے۔ جس میں تمام حقوق و فرائض بھی سمٹ آتے ہیں اور کوتاہی کی صورت میں حدود کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ اسی طرح معاملات کے ضمن میں شرع و قضا بھی وجود میں آتے ہیں۔ ہمیشہ اسی میں آکرامتیں کمزوری دکھاتی ہیں۔ انفرادی زندگی میں بھی احکامِ خداوندی کی اطاعت اگرچہ آسان نہیں، لیکن فی الجملہ اس کا تعلق عبادات اور آداب سے ہوتا ہے۔ جس پر عمل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے اس لیے اجتماعی زندگی میں کتاب کو نافذ کرنے کے لیے ایمان کی مضبوطی اور ہیئت اجتماعی کی وابستگی اور قوت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں قوت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اصلاح کا بیک وقت رواں دواں رہناقوموں کی زندگی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے دونوں کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم اور تورات دونوں میں اس کی تاکید کرتے ہوئے ترغیب اور ترہیب سے کام لیا گیا ہے۔ کتاب استثناء 28 میں ہے : (اگر تو کوشش کرکے خداوند اپنے خدا کی آواز سنے تاکہ ان حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ سے فرماتا ہوں دھیان رکھ کر عمل کرے تو خداوند تیرا خدا زمین کی قوموں کی بہ نسبت تجھے سرافراز کرے گا) آگے چل کر تورات میں ارشاد فرمایا گیا ” لیکن اگر تو خداوند اپنے خدا کی آواز کا شنوا نہ ہوگا کہ اس کے سارے شرعوں اور حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو بتاتا ہوں دھیان رکھ کر تو عمل کرے تو ایسا ہوگا کہ یہ ساری لعنتیں تجھ پر اتریں گی اور تجھ تک پہنچیں گی “ وَاذْکُرُوا مَافِیہِ میں جہاں تورات پر انفرادی زندگی میں عمل کرنا مقصود ہے وہیں کتاب کی حفاظت، کتاب کا حفظ، قرأت اور اس کے ادارے کھولنا اور اس کی تعلیمات کو عام کرنا سب کچھ شامل ہے۔ آخر میں فرمایا لَعَلَّـکُمْ تَتَّقُونَ ” اگر تم انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تورات کو پوری طرح نافذ کردو اور اس کی روشنی میں زندگی کی تمام ذمہ داریاں بروئے کار لائو تو پھر امید کی جاسکتی ہے کہ تمہاری زندگی میں پاکیزگی، اللہ کا خوف اور حقوق و فرائض کا احساس توانا ہوجائے اور دوسرا معنی تتقونکا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر تم تورات پر پوری طرح عمل کرو تو پھر تم اللہ کے عذاب سے بچ سکتے ہو۔ ورنہ جس اہتمام کے ساتھ یہ کتاب تمہارے حوالے کی جارہی ہے تمہاری کوتاہیوں کی صورت میں تمہارے لیے وبال اور عذاب کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ایک شبہ کا جواب مندرجہ بالا گزارشات سے ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال پید اہو کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عقل وتمیز دے کر خیر وشر کے معاملے میں فی الجملہ ایک آزادی بخشی اور خیر وشر کا راستہ اختیار کرنے میں یہی آزادی ان کا حقیقی امتحان ہے کہ وہ اللہ کی عطاکردہ قوت تمیز سے کام لے کر خیرکا راستہ اختیار کرتے ہیں یا شر کا۔ خیرکا راستہ اختیار کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں کامیابی اور فلاح کا وعدہ فرمایا گیا ہے اور شر کار استہ اختیار کرنے والوں کے لیے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ اس لیے نہ کسی سے زبردستی ایمان قبول کرایا جاتا ہے اور نہ کسی کو زبردستی کفر کے راستے پر چلایا جاتا ہے۔ بلکہ واضح طور پر فرمایا : لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْن ” دین قبول کرنے میں کوئی زبردستی نہیں “۔ لیکن بنی اسرائیل کے معاملے میں تو معلوم ہوتا ہے کہ تورات پر ایمان وعمل کے لیے انھیں مجبور کیا گیا اور ان کے سروں پر کوہ طور معلق کرکے حکم دیا گیا کہ اس تورات کو مضبوطی سے تھامو ورنہ تمہیں کوہ طور سے کچل دیا جائے گا۔ یہ پروردگار کی طرف سے عطا کردہ آزادی کے سراسر خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض یا اشتباہ قلت فہم کا نتیجہ ہے۔ تھوڑے سے تدبر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بنی اسرائیل مصر ہی میں موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم کرچکے تھے۔ اسی لیے وہ آپ کے حکم کے مطابق ہجرت کرنے پر آمادہ ہوئے۔ تورات ان کو اس لیے نہیں دی گئی کہ وہ اس کے ذریعے ایمان لائیں۔ صاحب ایمان تو وہ ہوچکے تھے تورات تو انھیں ایمان کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے دی گئی تھی۔ دنیا کے ہر مہذب قانون کی طرح اللہ کا قانون بھی یہ ہے کہ جس طرح کوئی قانون زبردستی کسی کو اپنا شہری نہیں بناتا۔ لیکن جب کوئی شخص کسی ملک کی شہریت قبول کرلیتا ہے تو پھرا سے ملکی قانون کی پابندیاں قبول کرنا پڑتی ہیں اور اگر وہ اس میں کوتاہی کرے تو سزا کا مستحق ہوتا ہے اور اگر انکار کرتا ہے تو اسے بغاوت کی سزا ملتی ہے۔ یہی حال اللہ کے قانون کا بھی ہے۔ وہ ایمان لانے پر مجبور نہیں کرتا لیکن جب کوئی شخص ایمان لے آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے قانون کی بالا دستی کو قبول کرلیتا ہے۔ اب وہ اگر اس میں کوتاہی کرے گا یاسرکشی کارویہ اختیار کرے گا تو ضرور طاقت استعمال کی جائے گی۔ بنی اسرائیل چونکہ مومن اور مسلمان ہونے کے بعد سرکشی کا رویہ اختیار کررہے تھے اس لیے انھیں کوہ طور کے دامن میں کھڑا کرکے اللہ کے جلال سے ڈرایا گیا کہ تم یہ مت سمجھو کہ تم جس خدا کے ماننے کا اقرار کرچکے ہو اور موسیٰ (علیہ السلام) جس خد ا کے پیغمبر ہیں وہ کوئی ایسا خدا ہے جس کے پاس کوئی طاقت نہیں اور اس کے احکام نصیحت سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارا خدا ایسی زبردست قوتوں کا مالک ہے کہ اس کے ایک اشارے سے پہاڑ تم پر حملہ آور ہوسکتے ہیں اور اس کائنات کی تمام قوتیں تمہارے خلاف حرکت میں آسکتی ہیں۔ اس لیے اس کے جلال کو اپنے سامنے رکھو اور پھر اپنے طرز عمل کو متعین کرو۔
Ayah 2:64

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر تم نے اس کے بعداعراض کیا تو اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم نامرادوں میں سے ہوچکے ہوتے۔

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَج فَلَوْلَافَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَـکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (پھر تم نے اس کے بعداعراض کیا تو اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم نامرادوں میں سے ہوچکے ہوتے) (البقرۃ : 64) یعنی تورات کو اس تاکید اور اہتمام کے ساتھ ان کے حوالے کرنا اور پھر یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ انھیں کہنا کہ اس تورات کی تعلیمات پر عمل کے نتیجے ہی میں تم اپنی دنیا اور آخرت بنا سکتے ہو اور اگر تم نے اس کے احکام سے روگردانی کی اور اس کتاب کا حق ادا نہ کیا تو تم اللہ کے عذاب کا شکار بھی ہوسکتے ہو اور پھر مسلسل ان احکام کی یاددہانی کے لیے وہ اپنی آنکھوں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات بھی دیکھتے رہے اور اللہ کی رحمتوں کا نزول بھی برابر ان پر ہوتا رہا۔ بایں ہمہ انھوں نے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کتاب سے اعراض کارویہ اختیار کیا۔ کبھی اس کتاب کے احکام کو تاویلوں کا تختہ مشق بنایا، کبھی صریحاً اطاعت سے انکار کردیا، اس سب کچھ کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ اللہ کے عذاب کا کوڑا ان پر برستا اور انھیں تباہ و برباد کردیا جاتا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے ہم عصر اہل کتاب سے یہ کہا جارہا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ یہ سارے جرائم تمہارے اسلاف نے کیے۔ لیکن چونکہ تم ان کے کرتوتوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہو اور تم اپنے آپ کو ان کا ہر لحاظ سے حقیقی جانشین ثابت کررہے ہو اس لحاظ سے ان کے یہ اعمال تمہارے اعمال ہیں کیونکہ تم ان کے فکری اور عملی وارث ہو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انھیں تباہ کردیا جاتا نتیجۃً تمہارا دنیا میں کہیں وجود نہ ہوتا۔ لیکن تمہارا ان تمام بداعمالیوں کے باوجود صفحہ ہستی پر ایک مذہبی گروہ کے طور پر موجود ہونا یہ سراسر اللہ کا فضل ہے کہ تمہاری تاریخ کے مختلف ادوار میں اگرچہ تمہارے اسلاف بڑی سزائوں سے گزر چکے ہیں لیکن تمہیں مکمل طور پر تباہ نہیں کیا گیا یہ صرف اس لیے تاکہ تمہیں پیغمبر آخرالزمان ﷺ کی بعثت سے سنبھلنے کا ایک آخری موقعہ دیا جائے۔ اب یہ تم پر منحصر ہے کہ تم اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر دوبارہ عزت کی زندگی حاصل کرلو۔ ورنہ تمہیں اب تک جس طرح سامانِ عبرت بناکر رکھا گیا ہے آئندہ تمہارے ساتھ اس سے بھی بدتریں سلوک ہوگا۔ امتِ مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ امت محمدیہ کے لیے بھی اس میں لمحہ فکریہ ہے کہ بنی اسرائیل اور یہود جو امت محمدیہ ہی کی طرح ایک حامل دعوت امت تھے ان کے بارے میں صاف صاف بتایا جارہا ہے کہ ان کی بقا اور عزت کا تمام تر دارومدار ان کی طرف نازل ہونے والی کتاب پر عمل کرنے پر تھا۔ جب تک وہ اس پر عامل رہے تو وہ دنیا کی ایک عظیم قوم تھے۔ انھیں بڑے بڑے ملکوں کی حکمرانی بھی حاصل تھی۔ لیکن جب انھوں نے اپنی کتاب سے اعراض کیا تو وہ سامانِ عبرت بن کر رہ گئے۔ آج اس امت کے لیے بھی سوچنے کا موقعہ ہے کہ ہماری قسمت بھی ترازو میں ہے۔ قرآن کریم ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت محفوظ شکل میں ہمارے پاس ہے، ہمارے ساتھ بھی اللہ کا وہی وعدہ ہے جو اہل کتاب کے ساتھ تھا۔ ہماری بقا اور سرافرازی کا دارومدار اسی دین سے وابستگی پر ہے۔ ورنہ اس سے اعراض کی صورت میں ہمارے ساتھ بھی وہی ہوگا جو اہل کتاب کے ساتھ ہوچکا۔