2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayahs 2:65–66

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور تم خوب جان چکے ہو ان لوگوں کو جنھوں نے تم میں سے سبت کے بارے میں تجاوز کیا تھا تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندرہوجائو

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے عبرت بنادیا اس زمانہ کے اور اس کے بعد کے لوگوں کے لیے اور نصیحت بنادیا اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے۔

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِیْ السَّبْتِ فَقُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خَاسِئِیْنَ ۔ فَجَعَلْنٰھَا نَکَالًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْھَا وَمَا خَلْفَھَاوَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔ (البقرۃ : 65 تا 66) (اور تم خوب جان چکے ہو ان لوگوں کو جنھوں نے تم میں سے سبت کے بارے میں تجاوز کیا تھا تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندرہوجاؤ۔ پھر ہم نے اسے عبرت بنادیا اس زمانہ کے اور اس کے بعد کے لوگوں کے لیے اور نصیحت بنادیا اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ) نقض عہد کی مثال گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل کو اللہ نے نہایت اہتمام کے ساتھ اور ترغیب اور ترہیب سے کام لیتے ہوئے تورات حوالے کی اور ان پر اچھی طرح یہ بات واضح کردی کہ تورات کے احکام پر عمل کرنے ہی میں تمہارے لیے فلاح و کامرانی کا راز مضمر ہے۔ لیکن بنی اسرائیل نے ایک وقت آیا کہ ان ساری تاکیدات کو نظر انداز کرتے ہوئے احکامِ تورات سے روگردانی کی۔ ظاہر ہے کہ یہ روگردانی اور اعراض کا مکمل عمل بیک وقت رونما تو نہیں ہوا ہوگا۔ مختلف وقتوں میں سرکشی یا نافرمانی کی مختلف صورتیں سامنے آئی ہوں گی۔ چناچہ ان کے اعراض کی جستہ جستہ مثالیں اگلے رکوعوں میں دور تک بیان کی گئی ہیں۔ چناچہ اس کی سب سے پہلی مثال اس آیت کریمہ میں دی گئی ہے۔ یہ واقعہ کہاں پیش آیا ؟ سورة الاعراف میں اس واقعہ کو کسی حد تک تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے ہم بھی اگر اللہ کو منظور ہوا تو وہیں اس کی تفصیل عرض کریں گے۔ لیکن آیت کی وضاحت کے لیے اجمالاً عرض یہ ہے کہ یہ واقعہ سورة اعراف کے بیان کے مطابق ایک ایسے شہر میں پیش آیا جہاں بنی اسرائیل کی کوئی شاخ آباد تھی اور وہ شہر ساحل سمندر پر واقع تھا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کا زمانہ حضرت دائود (علیہ السلام) کا زمانہ ہے۔ حضرت دائود کا زمانہ حکومت ” 1013 قبل مسیح تا 973 قبل مسیح “ کا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس شہر کا نام ” ایلات “ تھا۔ اسی بستی کو ” ایلہ “ بھی کہا گیا ہے۔ یہ فلسطین کے جنوب میں عرب کی عین شمالی سرحد پر قدیم علاقہ ادوم میں بحر قلزم کی مشرقی خلیج میں لب ساحل واقع ہے۔ موجودہ جغرافیہ میں اس کو ” عقبہ “ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور عقبہ، خلیج عقبہ کی مشہور بندرگاہ ہے۔ اس شہر میں یہودی آباد تھے۔ انھیں اللہ نے حکم دیا تھا کہ تم سبت کے دن کو اللہ کی یاد اور عبادت کے لیے مخصوص کردو۔” سبت “ ، ہفتہ کے دن کو کہتے ہیں۔ یہ دن ان کے لیے محترم بنایا گیا تھا اور اس دن کے بارے میں حکم دیا کہ اس روز تجارت، زراعت، شکار وغیرہ ہر قسم کا دنیوی کام ممنوع ہوگا اور جو اس دن کوئی دنیوی کام کرے گا اس کی سزا قتل ہوگی۔ چناچہ تورات میں آج بھی یہ الفاظ موجود ہیں۔ پس سبت کو مانواس لیے کہ وہ تمہارے لیے مقدس ہے اور جو کوئی اس کو پاک نہ جانے وہ ضرور مارڈالا جائے .... جو کوئی سبت کے دن کام کرے وہ ضرور مارڈالا جائے (خروج 31: 14، 15) “ یہاں اس واقعہ کی طرف صرف اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن وہ اشارہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے : وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ یہاں ” لام اور قد “ دو حرف تاکید کے لیے آئے ہیں۔ قد، تحقیق کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور لام حرف تاکید ہے۔ اس لیے تاکید کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ تم اس واقعہ کو جانتے ہو۔ یعنی تمہاری تاریخوں میں یہ واقعہ محفوظ ہے اور لوگوں میں چونکہ اکثر اس کا تذکرہ رہتا ہے اس لیے سب اس واقعہ سے آگاہ ہیں۔ جو واقعہ اس قدر مشہور ہو اس کی تفصیل بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں ہوتی۔ مزید یہ بھی فرمایا کہ تم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہو کہ تم نے یعنی تمہارے اسلاف نے سبت کے بارے میں حدود سے تجاوز کیا تھا۔ یعنی انھیں سبت کے احترام اور اس کے تقدس کو ملحوظ رکھنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کو انھوں نے پائوں تلے روند ڈالا۔ انھیں دنیوی کاروبار کرنے کی ممانعت کی گئی تھی لیکن انھوں نے طریقے طریقے سے کاروبار جاری رکھا۔ یہ لوگ چونکہ ساحل بحر پر آباد تھے اور ساحل بحر پر رہنے والے لوگوں کی گزر بسر کا بڑا ذریعہ مچھلی کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی فرمانبرداری کو آزمانے کے لیے حکم دیا گیا کہ تم ہفتے کے چھ دن شوق سے شکار کرو لیکن سبت کے روزسبت کے احترام میں شکار کرنے پر پابندی ہے۔ لیکن جب انھوں نے نافرمانی کارویہ اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آزمائش میں شدت پید اکردی اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ ہفتے کے چھ دن بہت کم مچھلی ملتی۔ لیکن سبت کے دن سطح آب پر مچھلیاں درانہ وار اٹھکیلیاں کرتی نظر آتیں۔ مچھلی ہمیشہ پانی میں ڈوب کرتیرتی ہے۔ لیکن قرآن کریم نے بتایا ہے کہ سبت کے دن مچھلیاں سر اٹھائے سطح آب پر تیزی سے شکاریوں کی طرف بڑھتی چلی آتیں۔ چناچہ بنی اسرائیل اس آزمائش کی تاب نہ لاسکے انھوں نے اس حکم کو توڑنے کے لیے حیلے نکالے۔ سمندر سے کچھ فاصلے پر گڑھے کھود لیے اور ان گڑھوں تک نالیاں نکال لیں۔ چناچہ سبت کے دن ان نالیوں کے دہانے کھول دیتے اور مچھلیاں اپنے گڑھوں میں بھر لیتے اور اتوار کے دن گڑھوں سے مچھلیاں پکڑ لیتے اس طرح سے وہ یہ تاثر دیتے کہ ہم نے اللہ کے حکم کی تعمیل بھی کی اور اپنی ضرورت بھی پوری کرلی۔ اس طریقے سے انھوں نے اللہ کے حکم کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا۔ اس پر اللہ کا عذاب حرکت میں آیا اور یہ سارے نافرمان لوگ بندر بنادیئے گئے۔ مسخ حقیقی تھا یا معنوی بعض لوگوں کو گمان یہ ہے کہ وہ ظاہری طور پر بندر نہیں بنائے گئے تھے بلکہ یہ مسخ اور چہروں کا بگاڑ معنوی طور پر ہوا تھا کہ شکلیں ان کی انسانوں کی تھیں لیکن طور اطوار بندروں جیسے ہوگئے تھے۔ یہ سزا بھی کوئی کم سزانھیں لیکن جس طرح اس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے اور جن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور مزید فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اس واقعہ کو اس وقت کی دنیا اور بعد کے آنے والوں کے لیے عبرت بنادیا ہے کہ جنھوں نے انھیں دیکھاوہ بھی کانپتے رہے اور جنھوں نے ان کے بارے میں سنا ان پر بھی لرزہ طاری ہوا۔ اس صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ الفاظ کو حقیقی معنی میں لیا جائے۔ روایات سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کیا یہ موجودہ بندر انھیں کی اولاد ہیں ؟ آنحضرت نے جواب دیا کہ نہیں۔ بندر اس واقعہ سے پہلے بھی موجود تھے، موجودہ بندر انھیں بندروں کی اولاد ہیں۔ لیکن بنی اسرائیل کے لوگوں کو جو بندر بنایا گیا تھا وہ تین دن کے بعد مرگئے تھے۔ وہ تین دن تک ایک دوسرے کو دیکھ کر روتے رہے چیختے رہے بالآخر فنا کے گھاٹ اتار دئیے گئے۔ اس واقعہ میں عبرت کا سامان تو اس قدر ہے کہ آدمی اگر بالکل دل کا اندھا نہ ہوجائے تو وہ اسے محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس میں نصیحت بھی ہے۔ لیکن نصیحت ہمیشہ ان لوگوں کو ملتی ہے جوگوشِ نصیحت نیوش رکھتے ہوں اور جن کے پہلو میں قلب سلیم موجود ہو۔ آئیے اس واقعہ میں دیکھیں کہ اس میں ہمارے لیے کیا کیا نصیحتیں مضمر ہیں۔ اس واقعہ میں مضمر نصیحتیں 1 سبت کا دن ان کے لیے مقدس بنایا گیا تھا۔ یعنی اسے ذکر اللہ اور عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا تھا تاکہ ہفتہ بھر دنیوی جھمیلوں کی مصروفیت دلوں پر جو زنگ چڑھا دیتی ہے اس کے اتارنے کا سامان ہوتا رہے۔ آدمی ہزار کوشش کرے کہ وہ ہر کام کو اللہ کے احکام کے مطابق انجام دے۔ لیکن انسانی فطرت یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں کوتاہی بھی ہوجاتی ہے اور کبھی نہ کبھی طبیعت خواہشات سے زنگ آلود بھی ہوجاتی ہے۔ دنیوی مشاغل اپنے اثرات ضرور چھوڑتے ہیں۔ اللہ سے تعلق میں یکسوئی نہیں رہتی۔ اس کے علاج کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ایک دن ایسا ہو جس میں تمام دنیوی آلائشوں سے یکسو ہو کر آدمی اللہ کو یاد کرسکے۔ چناچہ سبت کا دن اسی غرض کے لیے بنی اسرائیل کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ عیسائیوں نے شائد اسی غرض کو سامنے رکھتے ہوئے اتوار کے دن کو اپنے لیے مقدس بنالیا۔ انجیل سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ ان کے لیے اتوار کے دن کو مقدس ٹھہرایا گیا ہو۔ لیکن عیسائی بہرحال اس دن کو ایسا ہی مقدس سمجھتے ہیں جیسے یہود کے لیے سبتکادن۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد جب ایک نئی امت وجود میں آئی تو پروردگار نے ان کے لیے جمعہ کے دن کو مقدس ٹھہرایا۔ یہود کی طرح مسلمانوں کو یہ حکم تو نہیں دیا گیا کہ تم اس میں کوئی دنیا کا کاروبار نہیں کرسکتے۔ البتہ ! یہ ضرور تاکید فرمائی گئی کہ جمعہ کی اہمیت اور عظمت کو ہمیشہ یاد رکھنا۔ جمعہ کی نماز کی اہتمام کے ساتھ پابندی کرنا اور اس دن کو ذکر اللہ اور تذکیرودعوت کے لیے زیادہ سے زیادہ مخصوص کرنے کی کوشش کرنا۔ چناچہ قرون اولیٰ میں ہم مسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ جمعہ کے دن عموماً دنیوی کاروبار سے احتراز کرتے تھے، دن ڈھلنے سے پہلے ہی جمعہ کی نماز کے لیے مسجدیں بھر جاتی تھیں اور جمعہ کے لیے مسلمانوں کے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے تھے۔ انھیں اجتماعات میں خلفاء بڑے بڑے فیصلوں کے اعلانات کرتے تھے۔ اس دن کی عظمت کے لیے حضور نے بیشمار فضائل بیان فرمائے اور یہاں تک تاکید فرمائی کہ جمعرات ہی سے جمعہ کی تیاری شروع ہوجانی چاہیے۔ آنحضرت کا ارشاد ہے : ” جو شخص جمعہ کی صبح کو اٹھ کر یہ پوچھتا ہے کہ آج کونسا دن ہے ؟ وہ بربادہوگیا۔ “ مزید فرمایا کہ ” جمعہ کے دن اللہ کی جانب سے فرشتے مسجدوں کے دروازے میں رجسٹر لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ جس میں ہر آنے والے کا نام لکھتے ہیں اور یہ نام لکھنے کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھتے ہیں جب تک خطیب خطبہ دینے کے لیے منبر پر فروکش نہیں ہوجاتا۔ خطیب کے آجانے کے بعد وہ رجسٹر بند کرکے خود خطبہ سننے میں شریک ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد جو لوگ آتے ہیں وہ جمعہ کی نماز سے تو ضرور سبکدوش ہوجائیں گے لیکن ثواب و درجات سے محروم کردئیے جائیں گے۔ “ ہمیں سوچنا چاہیے کہ مسلمانوں کا آج کا طرز عمل جمعہ کے بارے میں کس حد تک بگڑ گیا ہے۔ ظہر کی چار رکعتوں کی بجائے دو رکعت پڑھنے کا اس لیے حکم دیا گیا ہے تاکہ دو رکعت کی جگہ دین سیکھنے کے لیے خطیب کی تقریر سننے کا اہتمام کیا جائے کیونکہ جمعہ کا اصل مقصدتذکیر و دعوت ہے صرف عبادت نہیں اور تذکیر و دعوت تقریر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ قوموں کی تاریخ کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہر قوم نے اپنے مقدس دن کو اپنی شناخت کا ذریعہ بھی بنایا ہے۔ اسرائیل کی حکومت یہودی ہونے کی وجہ سے سبت کی عظمت کو سمجھتی ہے اس لیے انھوں نے اپنی مملکت میں سبت کی اہمیت کے پیش نظر اسے چھٹی کا دن بنایا ہے۔ کیونکہ جب ہفتے میں چھٹی کا دن آتا ہے تو ہر عمر کے آدمی کے ذہن میں یہ بات ضرور آتی ہے کہ چھٹی آخر اسی دن کیوں کی جاتی ہے ؟ کسی اور دن کیوں نہیں ؟ اسی سے اس کے سامنے اس دن کی اہمیت اور عظمت واضح ہوتی ہے اور اس سے انھیں اپنی شناخت میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ عیسائی باوجود اس کے کہ صدیوں سے مذہب کی حقیقت سے بےگانہ ہوچکے ہیں ان کے یہاں مذہب کے نام کے سوا شائد ہی کوئی چیز باقی رہ گئی ہو۔ بایں ہمہ انھوں نے اتوار کے دن کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔ وہ جہاں بھی گئے انھوں نے اتوار کو اپنی شناخت بنائے رکھا۔ برصغیر میں جب ان کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو انھوں نے یہاں بھی اتوار کے دن کو چھٹی کے دن کے طور پر مقرر کیا۔ لیکن ہماری بدنصیبی کا عجیب عالم ہے کہ ہم نے اپنے مقدس دن کو شناخت کے طور پر استعمال کرنا تو دور کی بات ہے عبادت کے نور سے بھی محروم کردیا۔ کاروبار سے نکل کر یا دفتر سے چھٹی ہونے کے بعد جمعہ کے لیے ایسے وقت میں پہنچنا کہ خطیب کی تقریر سننے کا بھی موقع ملے یہ ہمارے لیے مشکل ہو کر رہ گیا ہے۔ اذانیں گونجتی رہتی ہیں کاروبار جاری رہتا ہے۔ دفتر سے نکل کر گھر پہنچتے جمعہ کا اکثر وقت نکل جاتا ہے۔ لوگ یا تو جمعہ ہی نہیں پڑھتے یا جمعہ پڑھتے ہیں تو صرف عربی خطبہ یا دو رکعت نما زکی حد تک۔ کاش ! ہم کبھی اپنی ان محرومیوں پر غور کرسکیں۔ 2 اس بستی کے رہنے والوں پر جو عذاب آیا اس کا سبب صرف یہ نہیں تھا کہ انھوں نے سبت کے تقدس کو پامال کیا تھا۔ بلکہ اس پامالی کی شکل میں انھوں نے احکامِ خداوندی کا تمسخراڑایا تھا۔ انھیں شکار کھیلنے سے روکا گیا تھا تو انھوں نے مخالفت اور نافرمانی کے لیے حیلے تجویز کرلیے۔ چناچہ دین کو اس طرح مذاق بنانے اور اللہ کے احکام کو بگاڑنے کی انھیں یہ سزاملی کہ وہ بندر بنادیئے گئے اور آج تک بطور عبرت ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ہمارے لیے اس میں سوچنے کا مقام یہ ہے کہ انھوں نے ایک حکم کا مذاق اڑایا تو ان کا انجام یہ ہوا۔ ہم نے تو دین کا بند بند توڑ ڈالا۔ معاشرت، معیشت، سیاست، قانون، تہذیب اور تمدن میں کون سی چیز ایسی ہے جس میں ہم نے احکامِ خداوندی کی پرواہ کی ہے۔ جن کی معاشرت اللہ کے احکام کے مطابق ہے ہم انھیں دقیانوسی سمجھتے ہیں۔ جو تہذیبی طور پر مسلمان رہنا چاہتے ہیں، ہم انھیں آثار قدیمہ میں شمار کرتے ہیں۔ جو اللہ کے قانون کی بالادستی پر اصرار کرتے ہیں انھیں ہم انتہاپسند قرار دیتے ہیں۔ سود کے معاملے میں ہم نے اللہ کے قانون کا وہ مذاق اڑایا ہے کہ پناہ بخدا۔ شرم وحیا کو اللہ کے رسول نے نصف ایمان قرار دیا ہے۔ ہم نے بےحیائی کو اپنی تہذیب سمجھ لیا ہے اور اس میں ہماری جسارتوں کا عالم یہ ہے کہ ہمارا پورا میڈیا اس میں غرق ہوگیا ہے اور جو زیادہ بےحیائی کا کردار کامیابی سے ادا کرتا ہے، ہم اسے تمغہ دینا ضروری سمجھتے ہیں اور اگر وہ مرجاتا ہے تو ہم اسے ناقابلِ تلافی نقصان سمجھتے ہیں۔ احکامِ شریعت کا مذاق اڑانا اور انھیں پرانے وقتوں کی باتیں قرار دینا ہمارے دانشور طبقے کا معمول ہوگیا ہے۔ اگر بنی اسرائیل پر چند احکام کا تمسخر اڑانے سے اللہ کا عذاب ٹوٹتا ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارا انجام کیا ہوگا ؟ یہ تو آنحضرت ﷺ کی دعائوں کا نتیجہ ہے کہ ہم مسخ کے عذاب سے بچے ہوئے ہیں ورنہ ہم نے بھی اپنے چہرے بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس وقت پورا عالم اسلام ذلت کے جس عذاب میں مبتلا ہے وہ ہمارے اپنے اعمال کا شرعی نتیجہ ہے۔ جب کوئی اللہ کا بندہ مسلمانوں کی اس حالت ِ زار پر اپنے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو ادھر سے آواز آتی ہے ؎ جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ 3 زیر بحث آیت کریمہ میں غور کرنے سے ایک سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کو سبت کے احترام کے سلسلے میں بطور خاص یہ حکم دیا گیا کہ تم سبت کے دن شکار نہ کھیلو۔ وہ لوگ چونکہ ساحل بحر پر رہنے والے تھے اور ساحل کے مکینوں کی غذا میں عموماً مچھلی کو غالب حصہ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے یہ بات تو قابل فہم ہے کہ مچھلی کے شکار کے بغیر ان کے لیے غذائی ضرورت کو پورا کرنا آسان نہیں تھا۔ لیکن اس کے لیے یہ کیا ضروری تھا کہ وہ سبت کے دن بھی مچھلی پکڑتے۔ باقی ہفتے کے 6 دن کیا مچھلی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کفایت نہیں کرسکتے تھے۔ آج کی متمدن دنیا میں بھی متعدد ملکوں میں ہفتے کے دنوں میں ایک دن گوشت کا ناغہ ہوتا ہے اور اس سے قومی سطح پر کبھی کوئی مسئلہ پیدانھیں ہوا۔ اگر وہ ایک دن مچھلی کا گوشت حاصل نہ کر پاتے تو یقینا ان کے لیے بھی کوئی بڑا مسئلہ نہ ہوتا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ انھیں پیغمبر کے ذریعے اچھی طرح یہ بات واضح کردی گئی تھی کہ اگر تم نے سبت کے احترام میں شکار کھیلنا نہ چھوڑا تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ بایں ہمہ انھوں نے شکار پر ضد کی۔ البتہ اس کے لیے ایسے حیلے تلاش کیے جس سے اللہ کا حکم مذاق ہو کر رہ گیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر انھوں نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ گوشت کی ایک دن کی کمی کو برداشت کیوں نہ کرسکے ؟ بعض اہل علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ ان کی بےصبری کی وجہ یہ تھی کہ ہفتے کے چھ دنوں میں بہت کم مچھلی دریا میں آتی تھیں۔ لیکن سبت کے دن مچھلی ہجوم کر کے آتی تھیں، جس سے باقی چھ دنوں کی کمی بھی پوری ہوجاتی۔ اب اگر وہ سبت کے دن بھی مچھلی نہ پکڑتے تو یقینا ان کی غذائی ضرورت پورا نہ ہوتی۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یقینا ایسا ہی ہوا ہوگا۔ لیکن اس سے سوال کا مکمل جواب نہیں ملتا البتہ سوال ایک قدم آگے بڑھ جاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ جو اپنی مخلوق کو غذا فراہم کرتا ہے۔ اس میں عام طور پر کبھی ایسا نہیں ہو تاکہ غذا کی بہم رسانی کا جو ذریعہ ہے اس میں اچانک رکاوٹ پیدا کردی جائے یا اسے کسی دن کے ساتھ مخصوص کردیا جائے۔ اس کا تو مستقل ایک تکوینی نظام ہے جو اللہ کی مشیت اور حکمت کے مطابق چلتا رہتا ہے اور جب کبھی کہیں کسی ایسی تبدیلی کا ظہور ہوتا ہے تو اس کے پیچھے یقینا کوئی سبب کارفرما ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں بھی ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ ایسا سبب کیا پیدا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اللہ کے نظام میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔ قرآن کریم میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ اللہ کا جب کوئی بندہ اللہ کے حکم کے مطابق حلال رزق پر اکتفا کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے حلال رزق میں ایسی برکت ڈال دیتا ہے کہ وہ تھوڑا بھی ہو جب بھی اس کی ضرورتوں کے لیے کفایت کرجاتا ہے۔ لیکن اگر وہ حلال رزق پر اکتفا کی بجائے حرام رزق پر ہاتھ مارتا ہے بلکہ حلال رزق پر صبر کرنے سے انکار کردیتا ہے اور وہ اللہ کے حکم کو یکسر نظر انداز کرکے اپنے نفس یا شیطان کی بندگی کرنے لگتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی طبیعت کو اس طرح کا بنا دیتے ہیں کہ حلال رزق اس کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ وہ چاہے بڑی تعداد میں بھی ہو لیکن وہ یہی محسوس کرتا ہے کہ میرا اس سے گزارہ نہیں ہوگا۔ شیطان اسے ضروریات کی فراوانی سے ڈراتا ہے۔ کبھی فقر کی تباہ ناکیاں اس کے سامنے لا کھڑی کردیتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ حرام کو اپنی ضرورت سمجھنے لگتا ہے۔ آج بھی ہم اگر اپنے گردوپیش پر نظر دوڑائیں تو دیکھ سکتے ہیں کہ جو لوگ رشوت سے پرہیز کرتے ہیں اور ہر طرح کے حرام مال سے اجتناب کرتے ہیں، اللہ انھیں برکت عطا فرماتا ہے اور ان کی تنخواہ ان کے لیے کافی ہوجاتی ہے۔ لیکن جو لوگ حرام ذرائع تلاش کرلیتے ہیں اور پھر اس میں بڑھتے چلے جاتے ہیں، ان کی یہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ انھیں ہزار سمجھائو کہ تم حرام کھا رہے ہو کل کو اللہ کو جاکر کیا جواب دو گے ؟ تو وہ بڑی عاجزی سے جواب دیتے ہیں کہ کیا کریں ؟ تنخواہ میں گزارہ نہیں ہوتا۔ ہمارے حلال ذرائع اس کے لیے کفایت نہیں کرتے حالانکہ انھیں کے ساتھ کام کرنے والے انھیں جیسی ضروریات رکھنے والے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو تنخواہ ہی میں گزارہ کرتے ہیں اور ان کا گزارہ ہوجاتا ہے۔ ان کے حق میں اللہ کا یہی قانون حرکت میں آتا ہے کہ ان کے مال میں بےبرکتی کردی جاتی ہے اور ان کی طبیعت میں یہ بات اتاردی جاتی ہے کہ تم حرام کے بغیر گزارا نہیں کرسکتے۔ یہی کیفیت بنی اسرائیل کی ہوگئی تھی۔ مسلسل اللہ کی نافرمانیوں کے باعث وہ اللہ کے قانون کی زد میں آگئے اور بےصبری میں حدود سے تجاوز کرگئے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب نے انھیں اہل دنیا کے لیے عبرت بنادیا۔ اگلی آیات کریمہ میں بنی اسرائیل کے نقض عہد اور سرکشی کی ایک اور مثال بیان فرمائی گئی ہے۔
Ayah 2:67

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو ! جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ذبح کرو ایک گائے۔ وہ بولے کہ آپ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں ہوجائوں۔

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖٓ اِنَّ اللّٰہَ یَامُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃًط قَالُوْٓا اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًاط قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ ۔ (البقرۃ : 67) (اور وہ وقت یاد کرو ! جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ذبح کرو ایک گائے، وہ بولے کہ آپ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں ہوجاؤں) نقضِ عہد کی دوسری مثال تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی امیر آدمی کا ایک بیٹا تھا۔ جو اس کا تنہا وارث تھا۔ اس کی زندگی میں کوئی دوسرا اس کا وارث نہیں ہوسکتا تھا۔ چناچہ اس کے چچا کے بیٹوں نے سوچا کہ اگر یہ لڑکا زندہ رہتا ہے تو ہمیں تو وراثت سے کوئی حصہ نہیں ملے گا اس لیے بوڑھے تایا کی وراثت میں حصہ لینے کی ایک ہی صورت ہے کہ اس کے بیٹے کو قتل کردیا جائے چناچہ دولت کے لالچ میں انھوں نے یہ قتل ناحق کیا اور اس کی لاش اٹھا کر آبادی سے باہر پھینک آئے اور خود ہی اس کے لیے مدعی بھی بن بیٹھے۔ اب جب کہ قاتل کی تلاش شروع ہوئی تو کسی کو ان پرتو شبہ بھی نہیں ہوا اور ان کے علاوہ اگر کوئی قاتل ہوتا تو ممکن ہے تلاش سے مل جاتا۔ مایوسی پر انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ اللہ سے دعا کریں تاکہ مقتول کے قاتل کا پتہ چلے۔ اس پر پروردگار نے انھیں حکم دیا کہ تم ایک گائے ذبح کرو۔ ” بقرۃ “ عربی زبان میں گائے اور بیل دونوں پر بھی بولا جاتا ہے اور صرف گائے پر بھی۔ قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں بقرۃ کا معنی گائے ہے بیل نہیں۔ یہاں بعض اہل علم نے اس حکم کو قسامہ پر قیاس کیا ہے۔ اس لیے ان کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل میں چونکہ قسامہ کا طریقہ مروج تھا اس لیے اسی کے مطابق اللہ نے انھیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ قسامہ کے طریقے کی تفصیل تورات کی کتاب استثنا سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قتل ہوجاتا اور آبادی سے باہر اس کی لاش ملتی اور یہ معلوم نہ ہوتا کہ اس کا قاتل کون ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں قاتل کی تلاش کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کے بزرگ اور قاضی نکل کردیکھیں کہ لاش کے سب سے زیادہ قریب کون سی بستی اور شہر ہے۔ پھر اس شہر کے بزرگ کوئی ایسی کم عمر گائے لیں، جس سے کبھی کوئی کام نہ لیا گیا ہو اور نہ وہ جوئے میں جوتی گئی ہو۔ اسے لے جاکر ایک ایسی زمین میں ذبح کریں۔ جس میں کاشت نہ کی گئی ہو اور پھر اس شہر کے سارے بزرگ جو اس مقتول کے سب سے قریب رہنے والے ہوں۔ اس گائے کے اوپر ہاتھ دھوئیں اور یہ کہیں کہ نہ ہم نے اس مقتول کو قتل کیا ہے اور نہ ہماری آنکھوں نے کسی اور کو قتل کرتے دیکھا ہے۔ یہ گویا قسم کا طریقہ تھا جسے قسامہ کہا جاتا تھا۔ لیکن یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب انھیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیاتو انھوں نے کہا کہ کیا آپ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں حالانکہ وہ قسامہ سے تو واقف تھے۔ اس لیے اسے وہ کسی طرح مذاق سے تعبیر نہیں کرسکتے تھے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ انھیں گائے ذبح کرنے کا حکم یہ کہہ کردیا گیا تھا کہ اس سے تمہارے مقتول کے قاتل کا پتہ چل جائے گا۔ اس لیے انھوں نے کہا کہ قاتل کے پتہ چلانے سے گائے کے ذبح کا کیا تعلق ہے ؟ گائے ذبح بھی ہوجائے تو یہ کیسے معلوم ہوسکے گا کہ مقتول کا قاتل کون ہے ؟ اللہ کے نبی نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ اللہ کے حکم کو لوگوں تک پہنچاتے ہوئے مذاق کا تصور کرنا بھی جہالت ہے۔ یہ حرکت تو تم بھی نہیں کرسکتے۔ میں اللہ کا رسول ہو کر یہ جاہلوں والی حرکت کیسے کرسکتا ہوں ؟ اصل بات یہ ہے کہ بنی اسرائیل صدیوں تک مصر اور مصریوں کے درمیان رہتے رہتے بہت سے مشرکانہ رسوم سیکھ گئے تھے۔ انہی میں سے یہ بھی ایک بات تھی کہ گائے کی عظمت بلکہ تقدیس ان کے دلوں میں رچ بس گئی تھی۔ ہندوستان کی طرح مصر میں بھی گائے کی تقدیس مشرکانہ مذہب کا ایک جز تھی۔ گائے کی یہ تقدیس ان کے دلوں سے نکالنے کے لیے تورات کی روایت کے مطابق مختلف مواقع پر انھیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا جاتارہا۔ انھیں میں سے یہ بھی ایک موقعہ تھا۔ مقصود یہ تھا کہ جب وہ اپنے ہاتھوں سے گائے کے گلے پر چھری چلائیں گے تو گائے کی الوہیت کے تصور اور اس کی تقدیس کے عقیدے پر ضرب لگے گی اور یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ جس کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کیا جاسکتا ہے۔ وہ مقدس یا معبود کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور جب اسی کے واسطے سے قاتل کی خبر ملے گی تو انھیں یقین آجائے گا کہ اگر گائے میں کوئی عظمت ہوتی تو اس کی لاش ہمارے سامنے نہ پڑی ہوتی۔ عظیم وہ ذات ہے جس نے ہمارے ہاتھوں سے گائے کو ذبح کروایا اور پھر اسی کے ذریعے قاتل کا پتہ بھی دیا۔ اگلی آیات میں تفصیل بیان کی گئی ہے کہ کس طرح بنی اسرائیل نے اللہ کے حکم کی بجاآوری سے بچنے کے لیے بہانے تراشے اور سوالات کے ذریعے راستے نکالنے کی کوشش کی۔ جس سے شریعت الہٰی کے بارے میں ان کے طرز عمل اور ذہنیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے سب سے پہلے یہ پوچھا کہ وہ گائے کیسی ہو ؟ اس پرا انھیں بتادیا گیا کہ نہ وہ بالکل بوڑھی ہو نہ بالکل چھوٹی عمر کی۔ گائے کی پہچان کے لیے یہ وضاحت کافی تھی۔ لیکن انھوں نے پھر اس کے رنگ کے بارے میں سوال کیا، جب رنگ کے بارے میں بھی بتادیا گیا تو پھر مزید سوال کیا بلکہ پہلے سوال ہی کو دہرایا کہ وہ گائے کیسی ہو ؟ کس قسم کی ہو ؟ جب اس پر مزید وضاحت کی گئی تو تب انھوں نے محسوس کیا کہ اس حکم کی تعمیل کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : اس بےیقینی اور بےدلی کے ساتھ انھوں نے گائے ذبح تو کر ڈالی لیکن وہ کرنا چاہتے نہیں تھے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ آخری سوال کرتے ہوئے انشاء اللہ کا لفظ ان کے منہ سے نکل گیا تھا اس لفظ کی برکت سے انھیں اس عمل کی توفیق ہوگئی ورنہ شائد وہ اس سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتے۔ اب دیکھئے وہ آیات کریمہ جن کا ترجمہ ہی وضاحت کے لیے کافی ہے۔
Ayahs 2:68–71

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

انھوں نے کہا ! ہماری طرف سے اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہمیں بتائے کہ وہ گائے کیسی ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، دونوں عمروں کے درمیان ہو۔ سو اب کرڈالو جو کچھ تمہیں حکم دیا جارہا ہے

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

وہ بولے ! اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں بتائے کہ اس کا رنگ کیساہو ؟ کہا : وہ فرماتا ہے کہ گائے خوب گہرے زرد رنگ کی ہو۔ دیکھنے والوں کو اچھی معلوم ہوتی ہو

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

وہ بولے ! اپنے پروردگار سے ہماری طرف سے درخواست کیجئے کہ وہ اچھی طرح واضح کر دے کہ وہ کیسی ہو ؟ اس لیے کہ گایوں کے امتیاز میں گھپلا ہورہا ہے اور اللہ نے چاہا تو ہم ضرور راہ پاجائیں گے

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے محنت کرنے والی نہ ہو، جو زمین کو جوتتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو۔ بالکل یک رنگ ہو۔ اس میں کسی اور رنگ کی آمیزش نہ ہو۔ وہ بولے ! اب تم واضح بات لائے ہو۔ پھرا نہوں نے اسے ذبح کیا اور وہ ایسا کرتے معلوم نہیں ہوتے تھے)

قَالُوْاادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَط قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِکْرٌطعَوَانٌم بَیْنَ ذٰلِکَط فَافْعَلُوْا مَاتُؤْمَرُوْنَ ۔ قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُھَاط قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآئُ لا فَاقِعٌ لَّوْنُھَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ ۔ قَالُوْاادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَلا اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَاط وَاِنَّآ اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَمُھْتَدُوْنَ ۔ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَج مُسَلَّمَۃٌ لَّاشِیَۃَ فِیْھَاط قَالُوْا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّط فَذَبَحُوْھَاوَمَا کَادُوْایَفْعَلُوْنَ ۔ (البقرۃ : 68 تا 71) (انھوں نے کہا ! ہماری طرف سے اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہمیں بتائے کہ وہ گائے کیسی ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، دونوں عمروں کے درمیان ہو۔ سو اب کرڈالو جو کچھ تمہیں حکم دیا جارہا ہے۔ وہ بولے ! اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں بتائے کہ اس کا رنگ کیساہو ؟ کہا : وہ فرماتا ہے کہ گائے خوب گہرے زرد رنگ کی ہو۔ دیکھنے والوں کو اچھی معلوم ہوتی ہو۔ وہ بولے ! اپنے پروردگار سے ہماری طرف سے درخواست کیجئے کہ وہ اچھی طرح واضح کر دے کہ وہ کیسی ہو ؟ اس لیے کہ گایوں کے امتیاز میں گھپلا ہورہا ہے اور اللہ نے چاہا تو ہم ضرور راہ پاجائیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے محنت کرنے والی نہ ہو، جو زمین کو جوتتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو۔ بالکل یک رنگ ہو۔ اس میں کسی اور رنگ کی آمیزش نہ ہو۔ وہ بولے ! اب تم واضح بات لائے ہو۔ پھرا نہوں نے اسے ذبح کیا اور وہ ایسا کرتے معلوم نہیں ہوتے تھے) روایات میں ہے کہ بنی اسرائیل میں کوئی نیک آدمی تھے، جن کا ایک ہی بیٹا تھا اور ایک ہی ان کے پاس بچھیا تھی۔ انتقال کے وقت انھوں نے دونوں کو اللہ کے سپرد کیا۔ اللہ نے اس بچے کے مال میں اس طرح برکت دی کہ بنی اسرائیل نے جب گائے ذبح کرنے کے حکم کی تعمیل میں حیل وحجت سے کام لیا اور سوالات کرتے گئے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگر وہ کوئی عام سی گائے بھی ذبح کردیتے، تو قبول کرلی جاتی۔ لیکن ان کے سوالات کے نتیجے میں گائے کی صفات میں اضافہ ہوتا گیا، جو ان کے لیے پابندیاں بن گئیں۔ اب جب ان متذکرہ صفات کی حامل گائے کی تلاش شروع ہوئی، تو پوری آبادی میں کوئی گائے ویسی نہ ملی۔ سوائے اس گائے کے، جس کا مالک مذکور مرحوم کا بیٹا تھا۔ اس نے منہ مانگے داموں پر گائے ان کے ہاتھ بیچی۔ جو بالآخر انھیں لینا پڑی۔ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ گائے اپنی صفات کے باعث بالکل ویسی تھی جس طرح کی گائے مصر کے لوگ اپنی پوجا کے لیے منتخب کیا کرتے تھے۔ یوں تو ان کے ہاں ہر گائے مقدس تھی لیکن جس گائے کی بڑی چاہت سے پوجا کی جاتی اور اس کو بہت مقدس سمجھا جاتا وہ ایسی ہی صفات کی حامل گائے ہوتی تھی۔ اس طرح کی گائے کو بنی اسرائیل کے ہاتھوں ذبح کروانے ہی سے ان کے اندر سے گائے کی تقدیس کا شرک نکل سکتا تھا۔ ورنہ وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ صحیح ہے کہ ہم نے گائے ذبح کی ہے لیکن درحقیقت جو گائے اپنے اندر الوہیت کی شان رکھتی ہے وہ عام گائے نہیں ہوتی بلکہ وہ خصوصی صفات کی حامل گائے ہوتی ہے۔ تو متذکرہ صفات کی حامل گائے ان کے ہاتھوں سے ذبح کرواکران کے مشرکانہ جذبات کو پوری طرح کچل ڈالنے کی سعی کی گئی۔ اب اگلی آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کے مشرکانہ احساسات کی اصلاح کے لیے تو کسی وقت بھی گائے ذبح کرنے کا حکم دیاجاسکتا تھا لیکن قاتل کی تلاش کے سلسلے میں گائے کے ذبح کرنے کا حکم کیا سبب رکھتا تھا ؟ اسے واضح کیا جارہا ہے۔
Ayahs 2:72–73

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو ! ) جب تم نے ایک شخص کو قتل کرڈالا تھا، پھر تم آپس میں اس باب میں جھگڑنے لگے اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا جسے تم چھپا رہے تھے

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

تو ہم نے کہا : اس (میت) پر اس گائے کا کوئی ٹکڑا مارو، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔

وَاِذْ قَتَلْتُْمْ نَفْسًا فَادّٰرَئْ تُمْ فِیْھَاط وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ۔ فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا ط کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰیلا وَیُرِیْکُمْ اٰیٰـتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (اور (وہ وقت یاد کرو ! ) جب تم نے ایک شخص کو قتل کرڈالا تھا، پھر تم آپس میں اس باب میں جھگڑنے لگے اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا جسے تم چھپا رہے تھے تو ہم نے کہا : اس (میت) پر اس گائے کا کوئی ٹکڑا مارو، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو) (البقرۃ : 72 تا 73) اس آیت کریمہ میں ادّٰرَئْ تُمکا لفظ آیا ہے۔ یہ درء سے ہے۔ درء کے معنی ” جھگڑنے کے بھی ہیں اور دفع کرنے کے بھی “۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر دفع کرنے کے معنی میں ہی آیا ہے۔ مثلاً فَادْرَؤُاعَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ ۔ وَیُدْرَأُعَنھَاالعَذَاب۔ یَدْرَئُ وْنَ بِالحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃ اس آیت کریمہ میں ادّٰرَئْ تُم بروزنِ اِفَّاعَلتُم سے مراد آپس میں جھگڑنا اور ایک دوسرے پر الزام لگانا ہے۔ اس آیت کریمہ میں وہ اصل مقصد بیان کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے انھیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ میں اس سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ ایک شخص قتل ہوگیا تھا اس کے قاتل کے بارے میں معلوم نہیں ہورہا تھا اور لوگ ایک دوسرے پر اس کے قتل کا الزام لگا رہے تھے معلوم ہوتا ہے یہ الزام تراشی فساد تک پہنچ رہی تھی۔ تب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا کرنے پر اللہ نے حکم دیا کہ تم ایک گائے ذبح کرو اور اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا لے کر مقتول کی لاش کو مارو یعنی اسے چھوا دو ۔ مقتول زندہ ہو کر بتائے گا کہ قاتل کون ہے ؟ چناچہ اس گائے کو ذبح کرنے کے بعد ایسا ہی کیا گیا۔ مقتول زندہ ہوگیا اور اس نے بتایا کہ میرے چچا کے بیٹوں نے مجھے قتل کیا ہے۔ یہ بتانے کے بعد وہ مرگیا۔ اس طرح اس کے قتل کا معمہ تو حل ہوگیا اور قوم میں اس واقعہ کے نتیجے میں جو تفرقہ پیدا ہورہا تھا اس سے بچ گئی۔ لیکن دوسری آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو اور نشانیوں کے اصل مقصد کو سمجھو۔ اب ہمیں غور یہ کرنا چاہیے کہ یہاں کیا نشانیاں دکھائی گئی ہیں اور ہمیں ان سے کیا سبق لینا چاہیے۔ گہرے غور وفکر سے تو حسب توفیق بہت ساری باتیں سمجھ میں آسکتی ہیں۔ لیکن معمولی غور وفکر سے بھی دو باتیں تو بالکل سامنے کی بات معلوم ہوتی ہیں۔ 1 پہلی بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اس طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ تم ذرا غور کرو کہ گائے بھی باقی جانوروں کی طرح ایک جانور ہے۔ وہ اگر دودھ دیتی ہے تو کئی اور جانور بھی دودھ دیتے ہیں۔ اس کا اگر گوشت کھایا جاتا ہے تو کئی اور جانوروں کا گوشت اس سے ہر لحاظ سے بہتر بھی ہے۔ اس کا اگر چمڑہ کام آتا ہے تو یہی افادیت دوسرے جانوروں کے چمڑوں میں بھی ہے۔ تو پھر آخر کس وجہ سے تم گائے کی تقدیس کے قائل ہوگئے ہو ؟ اور تم انسان ہو کر اس معمولی درجہ کے جانور کے سامنے جھکتے ہو اور اس کا احترام بجا لاتے ہو، بظاہر تو گائے میں تقدیس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ البتہ ! صرف ایک بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ مصر کے رہنے والے لوگ گائے کے بارے میں یہ سمجھتے تھے کہ اس کے اندر صفات الوہیت پائی جاتی ہیں اور وہ اپنی ذات میں بڑی قدرتوں کی حامل ہے۔ اگر تم بھی مصریوں کی طرح یہ سمجھتے ہو تو ذرا کھلی آنکھوں سے دیکھو کہ تمہارے چند آدمیوں نے اسے پکڑ کر زمین پر لٹایا پھر زبردستی چھری سے اس کا گلا کاٹ ڈالاپھر اس کے گوشت کے پارچے بناڈالے یعنی اس کا انگ انگ کاٹ ڈالا۔ اگر گائے میں واقعی کوئی قدرت اور طاقت تھی اور وہ غیر معمولی صفات کی حامل تھی تو اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے مدافعت کیوں نہ کی ؟ اگر وہ واقعی غیر معمولی تقدیس کی مالک ہے تو اس کے گلا کاٹ دینے پر تم پر کوئی عذاب کیوں نہیں آیا ؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمہارے ہاتھ شل ہوجاتے، زمین پھٹ جاتی اور تم پر اللہ کا غضب بھڑکتا۔ لیکن اس میں سے کچھ بھی نہیں ہوا اور ہونا بھی نہیں چاہیے تھا کیوں کہ گائے بچاری ایک جانور کے سوا کچھ نہیں۔ اسے انسانوں کی ضرورت اور خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ انسانوں کی بےسمجھی ہے کہ وہ گائے میں نہ جانے کیا کیا فرض کربیٹھے ہیں۔ 2 دوسری بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اب جبکہ گائے کی لاش تمہارے سامنے پڑی ہے اور تم نے اس کا گلا کاٹ کر دیکھ لیا کہ اس کے اندر کوئی غیر معمولی قوت نہیں اور جو اس میں معمولی حیوانی مزاحمت تھی۔ ذبح ہونے کے بعدوہ بھی ختم ہوگئی۔ اب تو وہ ایک بےجان لاشہ ہے لیکن جب تم اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا اٹھاکر مقتول کے جسم سے مس کرتے ہو تو مقتول زندہ ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قوت وقدرت نہ گائے میں ہے نہ تم میں، قوت اور قدرت کا مالک اصل میں وہ ہے جس کے حکم سے تم نے گائے کو ذبح کیا اور اسی کے حکم سے تم نے اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم سے مس کیا اور مقتول زندہ ہوگیا۔ جس خداوندِ زوالجلال کے حکم سے مردے زندہ ہوجائیں اور وہ اپنے حکم سے جس چیز کو چاہے زندگی کا سبب بنادے۔ عجیب بات ہے کہ تم اس کے سامنے جھکنے کی بجائے جانوروں کے سامنے جھکتے ہو اور اس سے ڈرنے کی بجائے جانوروں کے بارے میں عجیب و غریب تصورات اختیار کرتے ہو۔ قوت وقدرت کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے۔ اس کے حکم سے ہر چیز وجود میں آتی ہے اور اسی کے حکم سے ہر وجود فنا ہوتا ہے۔ اسی کے حکم سے بنی اسرائیل جیسی قوم کو جسے غلامی نے مار ڈالا تھا ازسر نو قومی زندگی ملی اور وہ ظالم جو اپنے آپ کو ربی الاعلیٰ کہتا تھا بحر قلزم کی موجوں کی نذر ہوگیا۔ اسی کے حکم سے بنی اسرائیل کے لیے بحر قلزم میں بارہ راستے بنے۔ اسی کے حکم سے اے بنی اسرائیل کے لوگو تمہیں من وسلویٰ مل رہا ہے اور بادل تمہارے سروں پر سایہ کررہے ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ان ساری قدرتوں کے پیچھے تمہیں وہ قادر مطلق نظر نہیں آتا۔ لیکن گائے کی صورت میں تمہیں نہ جانے کیا دکھائی دیتا ہے کہ کبھی تم اس کی تقدیس کے قائل ہوجاتے ہو اور کبھی تم اس کی پرستش کرنے لگتے ہو۔ ہر مخلوق کی کمزوری اور بےبسی کا یقین کرلو، چاہے وہ مخلوق جانوروں کی شکل میں ہو یا تخت پر فائز حکمرانوں کی شکل میں یا مشیخیت اور تقدس کے دعوے داروں کی صورت میں اور صرف اللہ کی قدرت اور حکمرانی کا یقین پیدا کرو۔ چاہے اس کی دعوت دینے والے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے بےنوا درویش ہوں یا حضرت محمد ﷺ جیسے گدڑی پوش ہوں۔ وہ جب اپنی قدرت کا اظہار کرنے پر آتا ہے تو کبھی بحر قلزم کی منہ زورموجوں سے اظہار کرتا ہے اور کبھی غارثور کے دہانے پر مکڑی کے جالے سے کرتا ہے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ بحر قلزم کی موجیں تو خود اپنے اندر ایک قوت رکھتی ہیں۔ اس لیے خود انھوں نے فرعون کو غرق کردیا۔ لیکن مکڑی کا جالا تو سب سے کمزور چیز ہے لیکن عرب کے سورما تعاقب کرتے ہوئے جب غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے تو مکڑی کے جالے نے انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا تو مکڑی کے جالے کی بےبسی اللہ کی قدرت سے طاقت میں ڈھل گئی۔ تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ وہ خدائے لم یزل کسی چیز کا محتاج نہیں۔ ہر چیز اس کی محتاج ہے، کسی کی قوت اپنی قوت نہیں، ہر ایک کی قوت اسی کی عطا ہے۔ یہ بات اگر سمجھ میں آجائے جو بنی اسرائیل کو سمجھائی جارہی تھی تو آج بھی امت مسلمہ کی کایا پلٹ سکتی ہے اور وہ قوت کے اصل سرچشمہ سے اپنا تعلق جوڑ کر اپنی بےبسی کا مداوا کرسکتے ہیں۔
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے، پس وہ پتھر کی مانند ہوگئے یا ان سے بھی زیادہ سخت، پتھروں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی جاری ہوجاتا ہے اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں اور اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو۔

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَھِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْاَشَدُّ قَسْوَۃًط وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُمِنْہُ الْاَنْھٰرُط وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآئُط وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (البقرۃ : 74) (پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے، پس وہ پتھر کی مانند ہوگئے یا ان سے بھی زیادہ سخت، پتھروں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی جاری ہوجاتا ہے اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں اور اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو) ثُمَّ استبعاد کے لیے بھی آتا ہے اور ترتیب وتراخی کے لیے بھی۔ یہاں ان کے رویے پر استبعاد کے اظہار کے لیے آیا ہے۔ گزشتہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں ایک گائے ذبح کروائی گئی اور اسی کے گوشت کے ایک ٹکڑے کے مس کرنے سے اللہ کے حکم سے مقتول زندہ ہوگیا اور اس نے خود بتایا کہ میرا قاتل کون ہے۔ جس طرح اس سے پہلے مختلف مواقع پر بنی اسرائیل نے اللہ کی قدرتوں کو علانیہ بچشم سر دیکھا اسی طرح اب بھی انھوں نے اپنی آنکھوں سے مردہ کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھا اور بولتے ہوئے سنا۔ اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ ان کے دلوں میں اللہ کی کبریائی اور اس کی قدرت کاملہ کا یقین پوری طرح سرایت کرجاتا اللہ کے ذکر سے ان کے دل کانپتے اور وہ اس کے احکام کے سامنے جھکتے چلے جاتے۔ لیکن بجائے اس کیفیت کے پید اہونے کے انھوں نے ہر موقعہ پر جس طرح لیت ولعل اور بےعملی اور بد عملی کو اپنا وتیرہ بنائے رکھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دلوں میں قبولیتِ حق کی نرمی پید اہونے کی بجائے تنگی اور سختی پیدا ہوگئی اور رفتہ رفتہ وہ اتنے سخت ہوگئے کہ پتھروں کی سختی اور سنگینی بھی ان کے سامنے ماند پڑگئی۔ دل کب سخت ہوتا ہے انسان کا عجیب حال ہے کہ وہ ماننے پر آتا ہے تو پتھروں کے سامنے جھک جاتا ہے اور اکڑنے پر آتا ہے تو اللہ کے سامنے اکڑ جاتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانی قلوب میں جتنا مروت، ہمدردی، خیرخواہی، رحمت اور مؤدت کا احساس اور جذبہ پایا جاتا ہے کسی اور میں نہیں پایا جاتاوہ بسا اوقات دوسروں کے لیے جان دے دیتا ہے، دوسروں کے لیے بھوکا رہ سکتا ہے، دوسروں کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوجاتا ہے، بڑے سے بڑا دکھ دوسروں کے لیے اٹھانے سے دریغ نہیں کرتا، اس کے دل کا سوز و گداز اللہ کی بےپایاں رحمت کا آئینہ دار ہے۔ لیکن جب وہ سخت ہوجاتا ہے تو پھر دنیا کا ہر ظلم، ہر جبر اور ہر سنگینی اس کے سامنے ہیچ دکھائی دیتی ہے۔ وہ محض شوق سے بستیاں اجاڑتا ہے، قوت اور طاقت کے گھمنڈ میں لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنا دیتا ہے، وہ انسانوں کو تڑپتا ہوا دیکھ کر سکون محسوس کرتا ہے۔ لیکن یہ صورت حال اچانک پید انھیں ہوتی انسان فطری طور پر ویسا ہی بنایا گیا ہے جیسا اسے ہونا چاہیے۔ لیکن جب وہ اللہ کے احکام سے منہ موڑتا ہے، عمل کے معاملے میں لیت ولعل کا شکار ہوجاتا ہے۔ پیغمبروں کی صالح زندگی کی پیروی کرنے کی بجائے وہ ان سے اختلاف کرتا ہے اور اپنے لیے دوسرے نمونے اختیار کرتا ہے تو پھر اس کا دل اور اس کے احساسات بگڑنے لگتے ہیں۔ جو بگڑتے بگڑتے اس انتہا کو پہنچ جاتے ہیں کہ پتھروں کی سنگینی اور سختی بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ بنی اسرائیل نے بھی جب اللہ کے احکام کے معاملے میں ایسی ہی روش اختیار کی تو وہ اس حد تک بگڑے کہ اللہ کے نبیوں کو قتل کرنا بھی ان کے مشکل نہ رہا۔ اسرائیلی صحیفوں میں ان کے اس رویے کا باربار تذکرہ کیا گیا ہے جس سے قرآن کریم کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت یرمیاہ ایک پیغمبر گزرے ہیں، ان کے صحیفے میں بنی اسرائیل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ تربیت پذیر نہ ہوئے۔ انھوں نے اپنا چہرہ چٹان سے سخت تر بنایا، انھوں نے پھرنے سے انکار کیا۔ سارے بنی اسرائیل بےحیائی کی پیشانی رکھتے اور سنگدل ہیں۔ (یرمیاہ 315) البتہ قرآن کریم نے ” اَو “ کا لفظ استعمال کرکے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ بنی اسرائیل سارے ایک جیسے نہیں تھے ان کی طبیعتوں کی سنگینی اور سختی میں فرق تھا، کچھ تو پتھرجی سے سخت تھے اور کچھ اس سے بھی زیادہ سخت۔ انسان کا پتھر سے زیادہ سخت ہونا حقیقت ہے ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ کوئی انسان پتھر جیسا یا اس سے زیادہ سخت کیسے ہوسکتا ہے ؟ یہ شائد مبالغہ کا اسلوبِ بیان ہے جو قرآن کریم نے اختیار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت کی تعبیر ہے۔ پتھروں میں جو سختی ہوتی ہے وہ ان کو ان صلاحیتوں سے محروم نہیں کرتی جو قدرت نے ان کے اندر ودیعت کی ہوتی ہیں۔ پتھر چاہے کتناہی سخت کیوں نہ ہو اگر اس کے اندر اللہ نے پانی کی سوت جاری کرنے کی صلاحیت رکھی ہے تو وہ کبھی اس سے محروم نہیں ہوتا۔ اس کی سختی پانی کے راستے میں حائل نہیں ہوتی۔ لیکن انسان جب بگڑتا ہے تو اس کا بگاڑ آہستہ آہستہ قانونِ الہٰی کے بموجب ان تمام صلاحیتوں سے اسے محروم کردیتا ہے جو فطرت کی طرف سے اسے ودیعت ہوتی ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جب کوئی فرد یا کوئی قوم اللہ کے اس قانون کے مطابق دل کی سختی کا شکارہوتی ہے تو پھر نہ اس کا علم اس کے کام آتا ہے نہ اس کی تہذیب اس کا راستہ روکتی ہے۔ وہ چاہے جمہوریت کا داعی کیوں نہ ہو لیکن وہ اپنے مفادات کی پاس داری کے لیے جمہوریت کا ایک ایک ٹان کہ توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ساری دنیا میں حقوق کی دہائی دینے کے باوجود کمزور قوموں کے حقوق پائوں تلے روندتا ہے۔ انسانی آزادیاں اس کے نزدیک بےمعنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ آج اگر پتھروں سے بھی بڑھ کر سنگین دلوں کے مصداق تلاش کرنے ہوں تو آپ کو امریکہ اور برطانیہ کی طرف دیکھ لینا ہی کافی ہے۔ جس سے یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ آجاتی ہے کہ دلوں کے سخت ہوجانے کا کیا مفہوم ہے اور اگر بنی اسرائیل ہی کی تاریخ کے حوالے سے ان کے دلوں کی سنگینی کا اندازہ کرنا ہو تو آج کی اسرائیلی ریاست کے ذمہ داروں کا فلسطینیوں کے ساتھ رویہ دیکھ لیجئے۔ لیکن قرآن کریم ان کے سامنے خصوصاً اور پوری دنیا کے سامنے عموماً یہ آئینہ رکھ رہا ہے، جس میں ہر قوم اپنی شکل پہچان سکتی ہے۔ جہاں تک پتھروں سے پانی کا جاری ہونے یا اللہ کے خوف سے پتھروں کے لڑھک جانے کا تعلق ہے تو یہ کوئی شاعرانہ اسلوبِ بیان نہیں بلکہ بنی اسرائیل تو اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے کیونکہ ان کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا مارنے سے اکٹھے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور یہ بھی انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ طور کے ایک حصہ پر جب اللہ کی تجلی پڑی تو وہ پاش پاش ہوگیا۔ لیکن افسوس یہ سب کچھ دیکھ کر بھی ان کے دلوں کی سنگینی بڑھتی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس امت کو آگاہی دیتے ہوئے فرمایا تھا : اِنَّمَا اَھْلَکَ الّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُم کَثْرۃُ مَسَائِلِھِم وَاِختِلَافِھِم عَلٰی اَنْبِیَائِھِم (اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تم سے پہلے لوگوں کو سوالات کی کثرت نے اور اپنے نبیوں کی مخالفت نے ہلاک کیا) یعنی جب بھی ان کے سامنے اللہ کے احکام پیش کیے گئے تو انھوں نے فوراً آمادگی کا اظہار نہیں کیا۔ ان کے سامنے سر نہیں جھکایا بلکہ ہمیشہ کوشش کی کہ سوالات کے راستے سے بچ نکلنے کی کوشش کریں اور اس طرح سے اپنی بےعملی کا جواز پیدا کریں اور اپنی زندگی بنانے کے لیے بجائے اپنے نبیوں کے اسوہ حسنہ کے اتباع کرنے کے انھوں نے ہمیشہ ان سے اختلاف کیا اور مخالفت کی۔ یہی بےعملی آہستہ آہستہ دل کی سنگینی کا باعث بنتی ہے جو ہلاکت تک پہنچا کر چھوڑتی ہے۔ ہمیں متنبہ کیا گیا تھا کہ دیکھنا تم یہ راستہ اختیار نہ کرنا۔ لیکن نہایت دکھ سے کہنا پڑتا ہے آج ہمارا رویہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ قانونِ اسلامی کے لیے ہماری آمادگی ایک قصہ پارینہ بن چکی ہے ہم نے قرآن وسنت کے منصوص احکام کو بھی عجیب و غریب سوالات اٹھا کر متنازع بنا کر رکھ دیا ہے۔ غیر ملکی تہذیب و تمدن کے آثار نے ہمارے تعامل اور روایات کو شکست وریخت کا شکار کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی اسلامی زندگی کی ایک ایک قدر گم کرتے جارہے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے جس راستہ پر چل کر بنی اسرائیل تباہ ہوئے اور ہم اسی راستہ پر بگٹٹ بھاگے جارہے ہیں۔