Ayah 2:165وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادً یُّحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ط وَلَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْآ اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ لا اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا لا وَّاَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعَذَاب۔
(اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے علاوہ دوسروں کو اللہ کا ہمسر بناتے ہیں، ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی اللہ سے رکھنی چاہیے اور جو ایمان والے ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں اور اگر یہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے اس وقت کو دیکھ سکتے جبکہ یہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی کہ سارا زور اور اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور اللہ بڑا ہی سخت عذاب دینے والا ہے) (البقرۃ : 165)
اَنْدَادً کا مفہوم
گزشتہ آیت کریمہ میں توحید کے اثبات اور شرک کے رد میں ایسی جامع دلیل بیان فرمائی گئی ہے جس کے بعد شرک کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ دنیا میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جن پر کوئی دلیل اثر انداز نہیں ہوتی، چناچہ اس آیت کریمہ میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر فرمایا جارہا ہے، جو دوسری قوتوں کو اللہ کا شریک اور ہمسر بناتے ہیں اور پھر اسی پر بس نہیں ان سے اس طرح محبت رکھتے ہیں جیسے اللہ سے محبت کرنے کا حق ہے۔ اس میں شریک اور ہمسر کے لیے انداد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ انداد، ند کی جمع ہے۔ ند عربی زبان میں مثل اور مشابہ کو بھی کہتے ہیں اور مخالف اور مدمقابل کو بھی۔ چناچہ انداد کے معنی ” اضداد اور اشباہ “ دونوں کیے گئے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں دونوں طرح کا شرک مروج رہا ہے۔ بہت سی قوموں نے اپنے دیوتائوں کو محض ایک خدائے اصغر یا ماتحت خدا تسلیم کیا ہے اور مجوس نے اہرمن کو یزدان کے حریف و مقابل کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ انداد سے مراد عموماً مورتیاں، بت اور دیوتا لیے گئے ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں اور مفسرین نے اس کی وضاحت کی ہے کہ انداد سے مراد قوموں کے وہ سردار اور وہ لیڈر ہیں جن کے پیچھے لوگ چلتے ہیں۔
بعض اہل علم نے اس لفظ کو اس سے بھی زیادہ وسیع معنوں میں لیا ہے کیونکہ لفظ کے عموم میں ایسے تمام معنی کی گنجائش ہے۔ چناچہ وہ یہ کہتے ہیں کہ انداد سے مراد ایسے لوگ ہیں جن کی عقیدت اور محبت اور جن کی اطاعت کا جذبہ اس حد تک پہنچ جائے کہ قلب و دماغ پر اس کا تسلط ہوجائے۔ چناچہ مشرک قوموں کو دیکھ کر ان تمام معانی کی تصدیق کرنا پڑتی ہے۔ وہ زمانہ گزر گیا یا اب اگر کہیں ہے تو شاید کہیں پسماندہ علاقوں میں اس کے اثرات باقی ہوں جہاں بتوں، دیوتائوں اور مورتیوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ بلکہ اب تو اصل شرک جو مشاہدے میں آرہا ہے اس کا زیادہ تر تعلق اطاعت، عصبیت اور محبت سے ہے۔ آج بھی مسیحیوں کو محبت اور تعلق خاطر خدا سے کہیں زیادہ خدا کے بیٹے اور پھر روح القدس اور مقدس کنواری سے ہے اور ہندئوں کی محبت اور تعلق خاطر اپنے ایشور اور پر ماتما سے کہیں زیادہ درگا مائی، لکشمی مائی اور اگنی دیوتا وغیرہ دیویوں، دیوتائوں کے ساتھ اور رشیوں، منیوں اور سادھوئوں کے ساتھ ہے اور جہاں تک اطاعت، عقیدت اور عصبیت کا تعلق ہے، اس کے مظاہر تو آپ جابجا مشرک قوموں میں کیا، مسلمانوں میں بھی دیکھیں گے۔ وہ اللہ کو ایک مان کر بھی اس کی اطاعت اس شرط کے ساتھ کریں گے کہ اس کی زد نفسانی خواہشات، انفرادی اور اجتماعی مفادات، اور عہدہ اور منصب پر نہ پڑتی ہو۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ ان کا اپنے اللہ سے تعلق اس وقت تک قائم ہے جب تک کسی اور تعلق سے اس کا تصادم نہیں ہوتا اور جب تصادم ہوجائے، تو پھر ترجیح دیتے وقت ہمیشہ جھکائو دوسرے تعلقات کی طرف ہوتا ہے، اللہ کے تعلق کو بھلادیا جاتا ہے۔ جہاں تک قلبی تعلق جسے محبت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس کا معاملہ تو اور بھی مشکل ہے۔ محبت ایک ایسا بےپناہ جذبہ ہے جو دوسرے تمام جذبوں پر غالب آجاتا ہے۔ نفع و نقصان کے تصورات بھی اس جذبہ کو شکست نہیں دے سکتے۔ کمزور سے کمزور انسان بھی محبت کے جذبے سے توانا ہوجاتا ہے۔ ایک بلی اپنے بچے کو بچانے کے لیے اسی جذبے سے قوت پاکر چیتے کی آنکھیں نکالنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔ مامتا کے جذبے کی شدت تمام حیوانات میں ایک ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے اور مامتا محبت ہی کا ایک روپ ہے۔ انسانوں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ لیکن انسانوں میں بالعموم دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ کہنے کو کسی کو بھی محبوب قرار دیں لیکن حقیقت میں ان کا محبوب اپنے مفادات، اپنی آرزوئیں اور اپنی خواہشِ نفس کے سوا کچھ اور نہیں۔
مومن سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے
چناچہ جب تک انسان ایمانی قوت سے محروم رہتا ہے تو حُبِّ دنیا ہی وہ اصل جذبہ ہے جو ہر جگہ اسے کھینچے پھرتا ہے۔ مشرک لوگ تو اپنے بنائے ہوئے شریکوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کی محبت اللہ سے محبت پر غالب آجاتی ہے۔ لیکن یہ شریک بھی صرف بت اور دیوتا ہی نہیں بلکہ ان کے اپنے مفادات، عہدہ و منصب، جاہ و مرتبہ، اور بڑی قوتوں سے تعلقات وہ انداد ہیں جن کی حقیقت میں پوجا کی جاتی ہے اور جن کے سامنے باقی تمام تعلقات بےوزن ہو کر رہ جاتے ہیں۔ لیکن ایک مومن وہ اپنی تمام ضرورتیں رکھتا ہوابھی غیر مشروط محبت کا تعلق صرف اپنے اللہ سے رکھتا ہے۔ اسے اپنے ماں باپ، اپنے بیوی بچوں، اپنے دوست احباب اور ضرورت کی اور چیزوں سے بھی پیار اور محبت ہے۔ لیکن اس محبت کو وہ اللہ کی محبت پر کبھی غالب نہیں آنے دیتا۔ جب بھی ان دونوں محبتوں میں تصادم ہوتا ہے تو اللہ کی محبت کے سامنے باقی ہر محبت دم توڑ جاتی ہے۔ حتی کہ آدمی کی اپنی ذات اللہ کی محبت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اللہ کی محبت کا حق ادا کرتے ہوئے اگر مال لٹانا پڑے تو وہ دریغ نہیں کرتا، بچوں کی قربانی دینا پڑے تو وہ اس کے لیے تیار رہتا ہے، حتیٰ کہ اپنی ذات کو بھی اگر قربان کرنا پڑے تو اسے وہ نعمت غیر مترقبہ خیال کرتا ہے۔ ایک مومن اور غیر مومن میں یہی وہ حقیقی فرق ہے جو دونوں کی حقیقی پہچان ہے۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِِ میں اسی حقیقت کو واشگاف فرمایا گیا ہے۔ مومن مردم بےزار نہیں ہوتا کہ وہ کسی سے بھی تعلق نہ رکھے، وہ نہایت دلآویز شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ مسلمان کے لہو میں دل نوازی کا سلیقہ پایا جاتا ہے۔ مروت واخوت مومن کا وہ حسن عالمگیر ہے جس سے پوری دنیا نے فائدہ اٹھایا ہے۔ وہ ایک شفیق باپ، ایک پیار کرنے والا شوہر، ایک ایثار کرنے والا بھائی، ایک مروت سے کام لینے والا شہری ہے۔ جس کی ایک ایک اد اسے اپنائیت جھلکتی ہے۔ لیکن اس کے یہ تمام تعلقات محبت کی اس سطح سے نیچے رہتے ہیں جہاں سے اللہ کی محبت شروع ہوتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر اس طرح کی تمام محبتیں اللہ کی محبت پر قربان کردی جاتی ہیں۔ لیکن اس کی ذات، اس کی صفات، اس کے احکام اور اس کے حقوق سے محبت کو کسی صورت بھی قربان نہیں کیا جاسکتا۔ آج امت مسلمہ نے اسی حقیقت کو کھو کر ٹھوکریں کھائی ہیں، وہ اللہ کی ذات پر ایمان رکھتی ہے لیکن دوسری قوتوں کے سامنے جھکتی ہے۔ وہ اللہ کی صفات کو مانتی ہے، لیکن دست سوال دوسروں کے سامنے دراز کرتی ہے۔ دلوں کو آباددوسروں کے تصورات سے کرتی ہے۔ بڑی قوتوں کے نمائندہ افراد کو وہ اپنی قسمت کا مالک سمجھتی ہے۔ اور ان کی خواہشات پر اپنا سب کچھ قر بان کردیناعقل کا تقاضا جانتی ہے۔ اس طرح سے اس نے اپنے اوپر وہ ظلم توڑا ہے جس سے اس کی پوری شخصیت بلکہ پوری تاریخ لہو لہو ہو کر رہ گئی ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے فرمایا گیا ہے کہ کاش ! یہ ظالم لوگ اس وقت کو دیکھ سکتے جب یہ عذاب سے دوچار ہوں گے۔ تب ان کو پتہ چلے گا کہ دنیا میں اللہ کی قوت کے مقابلے میں کوئی قوت نہیں۔ وہاں بڑے بڑے حکمرانوں کو سرنگوں دیکھیں گے۔ کوئی کسی کو عذاب سے نہیں بچاسکے گا اور اللہ کا عذاب ایسا شدید ہوگا کہ آج اس کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں۔ تب ان کو اندازہ ہوگا کہ ہم نے جن قوتوں سے ایسا تعلق قائم کیا جیسا اپنے اللہ سے کرنا چاہیے تھا اور انھیں ہم نے عملی طور پر اللہ کا شریک بنائے رکھا وہ تو آج کسی اختیار کے حامل نہیں۔ نہ وہ اپنے آپ کو بچا سکیں گے اور نہ ہی کسی اور کو بچا سکیں گے۔ لیکن اس وقت کا جاننا کسی کام نہیں آئے گا کیونکہ وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔
قوت کا اصل سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے
اس آیت کریمہ میں اِنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا نہایت قابل توجہ ہے۔ قیامت کے دن جب کافر لوگ عذاب سے دوچارہوں گے اور کوئی انھیں بچانے والا نہیں ہوگا اور جس طرح یہ پکڑے جائیں گے اسی طرح ان کے لیڈر بھی عذاب میں گرفتار ہوں گے تب ان کو پتہ چلے گا کہ سارا زور اور اختیار اور قوت تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ درحقیقت یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے امتیں پھسلتی ہیں۔ انسان کو کبھی کوئی لالچ بہکاتا ہے اور کبھی ڈر اور خوف اسے منزل اور راستہ بدلنے پر مجبور کردیتا ہے۔ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ میرا سامنا ایک بہت بڑی قوت والے سے ہے۔ میں اس کی قوت کا مقابلہ نہیں کرسکتا اگر میں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ مجھے صفحہ ہستی سے مٹا دے گایا میرا جینا عذاب کردے گا۔ اس خوف کے نتیجے میں وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے چاہے اس سے ایمان بچے نہ انسانیت۔ یہاں یہ بتلایا جارہا ہے کہ تمہیں اللہ کی قوت کا یقین قیامت کے دن عذاب دیکھ کر تو آئے گا ہی، کاش ! آج یہ یقین اپنے اندر پیدا کرلو کہ جن پتلیوں کو تم طاقت کا مظہر سمجھ رہے ہو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ طاقت کا سررشتہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھرپور ہے کہ اللہ کی مدد سے چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آگئیں۔ ممولے نے شہباز کو شکست دی۔ نہایت پسماندہ قوتوں نے صدیوں کی مستحکم حکومتوں کو اکھاڑ پھینکا۔ بڑے بڑے خداوندِ جہاں اس دنیا میں اٹھے، لیکن دست بےدادِ اجل سے کبھی رستگاری نہ پاسکے۔ جس قوم نے بھی تاریخ کے اس سبق کو پہچانا اس نے تاریخ میں اپنا نام ثبت کردیا۔ لیکن جس قوم نے اس سبق سے روگردانی کی وہ ایک بھولی بسری کہانی کے سوا اپنی کوئی جگہ نہ بنا سکی۔
درحقیقت یہی وہ سب سے بڑا شرک ہے جس سے قرآن نے انسانوں کو بچانے کی کوشش کی ہے کہ انسان انسانوں سے وہ رشتہ جوڑتا ہے جو درحقیقت اپنے اللہ سے اسے جوڑنا چاہیے۔ اگلی آیت کریمہ میں مشرکانہ زندگی سے جو نتیجہ نکلتا ہے اسی کے ایک اور پہلو کو واضح فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 2:166–167اِذْ تَبَرَّاالَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الْاَسْبَابُ ۔ وَقَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْاَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبَرَّاَمِنْھُمْ کَمَا تَبَرَّئُ وْا مِنَّا ط کَذٰلِکَ یُرِیْھِمُ اللّٰہُ اَعْمَالَھُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْھِمْ ط وَمَا ھُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ ۔ (البقرۃ : 166 تا 167)
(اس وقت کا خیال کرو جب کہ مقتدا اپنے پیروکاروں سے اظہارِ برأت کریں گے اور وہ عذاب سے دوچار ہوں گے اور ان کے تعلقات یک قلم ٹوٹ جائیں گے۔ اور ان کے پیرو بھی کہیں گے : اے کاش ! ہمیں دنیا میں ایک بار اور جانا نصیب ہو تاکہ ہم بھی ان سے اسی طرح اظہارِ برأت کرسکتے، جس طرح انھوں نے ہم سے اظہارِ برأت کیا ہے۔ اسی طرح اللہ ان کے اعمال ان کو سرمایہ حسرت بنا کردکھائے گا اور ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب نہ ہوگا)
متبوعین کی تابعین سے براء ت
اِذْ تَبَرَّاالَّذِیْنَ بدل ہے اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ سے۔ یہ اسی عذاب کی مزید وضاحت ہے کہ مشرکوں نے جن لوگوں کو دنیا میں اللہ کا شریک اور ہمسر بنائے رکھا اور ان سے اس طرح محبت کی جیسے اللہ سے محبت کرنی چاہیے تھی۔ قیامت کے دن وہ لوگ جب مدد کے لیے ان کے پاس جائیں گے تو وہ صاف انھیں پہچاننے سے انکار کردیں گے۔ اور ان سے اظہارِ برأت کریں گے۔ یہ انھیں باربار درخواست کریں گے کہ ہم دنیا میں آپ کے پیروکار رہے ہیں اور آپ سے محبت اور تعلق کو ہمیشہ اپنا اثاثہ سمجھا اور ہمیشہ آپ کی غیر مشروط اطاعت کی۔ لیکن وہ ان کے ساتھ ہر طرح کے تعلق سے انکار کردیں گے۔ دنیا میں جن تعلقات کی مضبوطی پر یہ ناز کرتے تھے اور دوسروں کو ڈراتے تھے وہاں وہ تعلقات یکسرختم ہو کر رہ جائیں گے۔ دنیا میں قیامت کی یہ منظرکشی یہ بتانے کے لیے ہے کہ جو لوگ اپنی رہنمائی اور رہبری کے لیے غلط رہنمائوں اور پیشوائوں کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر زندگی بھر ان کے پیچھے چلتے رہتے ہیں انھیں اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اور خاص طور پر امت مسلمہ کے افراد سابقہ امتوں کی ان گمراہیوں سے عبرت حاصل کریں اور ہر طرح اپنے آپ کو اس برے انجام سے بچانے کی کوشش کریں اور اس بات کو اچھی طرح سمجھیں کہ برے رہنمائوں کے پیچھے چلنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس بات کا بھی یقین پیدا کریں کہ قیامت آئے گی اور وہاں ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا جوابدہ ہوگا۔ کوئی لیڈر اپنے پیروکاروں کے کام نہیں آئے گا اور خود لیڈر بھی اپنے انجام سے بچ نہیں سکیں گے۔ وہاں اگر کوئی چیزکام آئے گی تو وہ ایمان وعمل کا سرمایہ ہے، جو اللہ کے ساتھ حقیقی تعلق سے وجود میں آتا ہے اور اس تعلق کی تفصیلات سے قرآن وسنت مامور ہیں۔ آج جس نے ان ہدایات سے فائدہ اٹھالیا، وہ کل کو سرخرو ہوگا، ورنہ اس کا انجام بھی وہی ہوگا، جس کا تذکرہ ہم یہاں پڑھ رہے ہیں۔
تابعین کا رد عمل
اگلی آیت کریمہ میں ایک اور منظر دکھایا جارہا ہے کہ جب پیروکار یہ دیکھیں گے کہ ان کے لیڈر اور ان کے رہنماان سے بالکل کٹ گئے ہیں اور وہ کسی طرح ان کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو پھر وہ ردعمل کے طور پر اللہ سے درخواست کریں گے کہ یا اللہ ! ہمیں دنیا میں ایک بار جانے کا موقعہ عطا فرما تو ہم دنیا میں جاکران سے اسی طرح اظہارِ برأت کریں، جس طرح انھوں نے ہم سے کیا ہے۔ لیکن یہ ان کی خواہش حسرت کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ وہ باربار اس کی تمنا کریں گے، لیکن یہ حسرت، حسرت ہی رہے گی اور اپنے اعمال کے نتیجے میں جس عذاب سے وہ دوچار ہوچکے ہوں گے، اس سے نکلنا انھیں کبھی نصیب نہ ہوگا۔ قرآن کریم نے اس مضمون کو اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب ہوش آئے گا تو پیروکار اور فرمانبرداری کرنے والے، اپنے لیڈروں سے بری طرح اظہارِ بےزاری کریں گے اور اللہ سے درخواست کریں گے کہ یا اللہ ! ہمارے لیڈروں کو دگنا عذاب دے کیونکہ یہ خود بھی گمراہ ہوئے اور انھوں نے ہمیں بھی گمراہ کیا۔ لیکن ان کا یہ واویلا حسرت کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا اور یہ بجائے خود ان کے لیے ایک عذاب کی حیثیت اختیار کرجائے گا کہ وہ اپنے رہنمائوں کے ساتھ اپنی قربانیوں اور وفاداریوں کو ایک عظیم اثاثہ سمجھتے تھے۔ لیکن آج ان کے وہی اعمال ان کے لیے سرمایہ حسرت بن جائیں گے۔
Ayahs 2:168–169یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰـلًا طَیِّـبًا صلے ز وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط اِنَّـہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۔ اِنَّمَا یَاْمُرُکُمْ بِالسُّوْٓئِ وَالْفَحْشَآئِ وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ (البقرۃ : 168 تا 169)
(اے لوگو ! کھائو زمین کی چیزوں میں سے حلال پاکیزہ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ وہ تو بس تمہیں برائی اور بےحیائی کی راہ سجھائے گا اور اس بات کی کہ تم اللہ کی طرف وہ باتیں منسوب کروجن کو تم نہیں جانتے)
شرک کی ایک اور صورت سے اجتناب کا حکم
گزشتہ رکوع سے جو نیا سلسلہ کلام شروع ہوا ہے اس کا آغاز ” توحید “ کی دعوت سے ہوا ہے۔ پھر ” توحید “ پر ایک زور دار دلیل بیان کی گئی ہے اور ساتھ ہی اظہارِ تعجب کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ ایسے واضح دلائل کی موجودگی میں بھی انسانوں کا حال یہ ہے کہ وہ نہ صرف اللہ کے ساتھ دوسری قوتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ایسی محبت کرتے ہیں جیسی وہ اللہ سے کرتے ہیں۔ گویا ان کے شرک کی پہلی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے دل و دماغ میں غیر اللہ کو اس طرح بسالیتے ہیں، جیسے اللہ کو بسانا چاہیے۔ ان کے ساتھ ان کی وارفتگی اور فدائیت کا حال یہ ہے کہ ان کے نزدیک اللہ اور غیر اللہ میں کوئی فرق نہیں۔ یہاں ان کے شرک کی دوسری صورت بیان کی جارہی ہے کہ ان کے دل و دماغ میں اللہ کے ساتھ ٹھہرائے گئے شریکوں کے لیے صرف ایک وابستگی اور تعلق ہی نہیں ہے بلکہ عملی زندگی پر اس کے اثرات بھی بہت گہرے ہیں۔
بالکل سامنے کی بات ہے کہ جب آدمی کسی کو اپنا اِلٰہ مانتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی غیر مشروط عبادت، محبت اور اطاعت کا عہد کرتا ہے اور اپنے دل و دماغ کو اس تعلق سے معمور کرلیتا ہے۔ لیکن یہ تعلق صرف ایک دعویٰ ہی رہتا ہے، جب تک عملی زندگی میں اس کا اظہار نہیں ہوتا۔ عملی زندگی ہی سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی کے ساتھ عبودیت کے تعلق کا دعویٰ کرنے والا اپنے اس دعوے میں سچا ہے یا جھوٹا ہے۔ اگر وہ اپنے ہر معاملے اور ہر فیصلے میں اپنے تسلیم کردہ الٰہ کے فیصلے کو قبول کرتا ہے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیتا ہے تو سمجھا جائے گا کہ وہ اپنے دعوے میں سچا ہے۔ لیکن اگر اس کے عملی زندگی میں تمام فیصلے اس سے آزاد رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دعوے میں یا تو جھوٹا ہے اور یا وہ دعوے کی حقیقت کو نہیں جانتا۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں عربوں سے خطاب کرکے کہا جارہا ہے کہ اگر تم اللہ کو الوہیت میں وحدہٗ لاشریک سمجھتے ہو تو پھر عملی زندگی میں اس کا اظہار ہونا چاہیے۔ اس کے اظہار کی آسان اور اولین شکل یہ ہے کہ تم اپنی غذا کے لیے ان چیزوں کو استعمال کرویا ان چیزوں کو غذا بنائو جنھیں اللہ نے حلال اور طیب ٹھہرایا ہے۔
” حلال “ حلَّ سے ہے، جس کا معنی ہے ” گرہ کھول دینا “ حلال وہ چیز ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ جس کی گرہ کھول دیتے ہیں یعنی اس سے پابندی ہٹالیتے ہیں اور بندوں کے لیے اس کے استعمال کی اجازت ہوجاتی ہے۔ طیب ” پاکیزہ “ چیز کو کہتے ہیں یعنی ایسی چیز کہ جو ظاہری گندگی سے بھی پاک ہو، عقلی اور اخلاقی مفاسد سے بھی مبرّا ہو اور ہر طرح کی باطنی اور شرک کی آلودگی سے محفوظ ہو یعنی تمہیں اپنی غذا ان چیزوں سے حاصل کرنی چاہیے جنھیں اللہ نے حلال ٹھہرایا ہے اور پاکیزہ بنایا ہے۔ عقلِ سلیم جن کی پاکیزگی کو محسوس کرتی ہے اور فطرتِ سلیمہ جس سے گھن نہیں کھاتی اور قوموں کا معروف ہمیشہ اس کی صحت پر اتفاق رکھتا ہے اور شرک کی کوئی آلودگی اس پر اثرانداز نہیں ہوسکی۔
زندگی کے معاملات پر تحلیل وتحریم کے حوالے سے اثر انداز ہونا یہ شرک کی سب سے جلی صورت ہے۔ شیطان نے ہمیشہ اسی راستے سے فائدہ اٹھایا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انسان نے ہمیشہ اس صورت کے جلی ہونے کے باوجود ارادۃً یا خطاً اس میں ٹھوکر کھائی ہے۔ ایک آدمی اللہ کو ماننے کا اقرار کرتا ہے، لیکن تحلیل و تحریم کا حق وہ صرف اللہ کو دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ کبھی وہ اس کا حق شیطان کو دے دیتا ہے اور شیطانی قوتوں کے سو رنگ ہیں، جن کی پہچان میں ٹھوکر کھاتا ہے اور کبھی یہ حق اپنے معاشرے کو، کبھی سماج کو، کبھی پارلیمنٹ کو، کبھی آئین اور قانون کو دیتا ہے، جو کھلم کھلا ہر معاملے میں دخیل ہو کر اپنی بندگی کرواتے اور اپنی الوہیت منواتے ہیں۔ لیکن انسان کو اس کا احساس نہیں ہو تاکہ میں کسی شرک کا ارتکاب کر رہا ہوں حالانکہ کس قدر عجیب بات ہے کہ اگر پروردگارِ عالم کو ہمارے معاملات میں حلت و حرمت کے حوالے سے فیصلے کا اختیار نہیں یعنی وہ یہ اختیار نہیں رکھتا کہ ہماری جس بات کو چاہے حلال قرار دے دے اور جس کام کو چاہے حرام قرار دے دے تو پھر وہ آخر الٰہ کیسا ؟ لیکن عرب اس بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھے اور آج کا انسان بھی اس کے لیے تیار نہیں۔ حتیٰ کہ مسلمان بھی کلمہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے آزادی چاہتے ہیں اور صدیوں سے اس بات پر ان کا اصرار جاری ہے حالانکہ قرآن کریم نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر تحلیل وتحریم شرک ہے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم میں شرک اور تحلیل و تحریم کا مضمون جگہ جگہ ایک ساتھ بیان ہوا ہے۔ وقال الذین اشرکوا لو شاء اللہ ماعبدنا من دونہ من شیء ولا حرمنا من دونہ من شیء ” اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اس کے سو اکسی چیز کو پوج سکتے اور نہ اس کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراسکتے “۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ شرک اور تحلیل وتحریم دونوں ایک دوسرے سے متعلق ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ شیطان نے اسی معاملے میں ہمیشہ لوگوں کو گمراہ کرکے اپنی بندگی کروائی ہے۔ کتنے ایسے جانور ہیں جنھیں اللہ نے حلال ٹھہرایا لیکن مشرکینِ عرب نے شیطانی وسوسے پر ان کو اپنے لیے حرام ٹھہرایا اور کتنی حرام چیزیں ہیں جنھیں اللہ نے حرام ٹھہرایا لیکن دنیا نے نفسانی یا شیطانی وساوس میں مبتلا ہو کر انھیں اپنے لیے حلال کرلیا۔ قرآن کریم نے دونوں طرح کی مثالیں جابجا بیان کی ہیں۔ سورة مائدہ اور سورة انعام میں بطور خاص اس کی تفصیل آئے گی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ شیطان نے جب حضرت آدم کی اولاد کو توحید کے راستے سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا تو اس نے پوری صفائی اور جرأت کے ساتھ اس بات کا اظہار کیا تھا کہ حلت و حرمت کے حوالے سے بطور خاص اولادِ آدم کو نشانہ بنائوں گا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس نے پوجا پاٹ کے طریقوں اور بندگی کے مختلف اسالیب کی صورت میں انسانوں میں شرک داخل کیا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحلیل وتحریم کے ذریعے اس نے انسان کے اندر جو شرک کی پرورش کی ہے، وہ بھی بجائے خود ایک قابل ذکر چیز ہے۔ اسی کا ذکر دوسری آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔” وہ تمہیں صرف کھانے پینے کی چیزوں میں ہی حلال کو حرام سے بدل کر اور حرام کو حلال سے بدل کر شرک میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اس کی دشمنی اتنی واضح ہے کہ وہ تو تمہیں ہر طرح کی برائی اور بےحیائی میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے “۔
سوء اور فحشاء کا مفہوم
سوء کا لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے جسمانی اور مادی نقصان پر بھی بولا جاتا ہے اور ہر طرح کے گناہ پر بھی۔ یہاں ظاہر ہے کہ گناہ ہی مراد ہے۔ لیکن اکثر مفسرین اس سے ایسا گناہ مراد لیتے ہیں، جسے دیکھ کر ہر عقل مند شریف آدمی کو دکھ محسوس ہو اور فحشاء کا لفظ کھلی ہوئی بدکاری اور بےحیائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اس سے زنا، لواطت، اور ننگے ہو کر طواف کرنے جیسی برائیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ لیکن جب سوء اور فحشاء دونوں ایک ساتھ جمع ہوجاتے ہیں تو یہ نہ صرف تمام چھوٹی برائیوں ہی کو اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں بلکہ ہر طرح کے مالی، جسمانی اور عقلی نقصانات اور کج رویاں بھی اس میں شامل ہوجاتی ہیں۔ یہ تو وہ گناہ اور بےحیائیاں ہیں جن کا تعلق انسانی معاملات اور انسانی اخلاق سے ہے۔ انھیں راستوں سے شیطانی قوتیں انسانوں میں داخل ہو کر تہذیب، ثقافت، اور تمدن کو تباہ کرتی ہیں۔ انھیں کے زیراثر اخلاقِ فاسدہ کی اشاعت کے لیے نام نہاد علوم بھی وجود میں آتے ہیں اور ان برائیوں کو اجتماعی شکل دے کر آئین اور قانون کو ان کی پاسبانی کا فرض سونپ دیا جاتا ہے۔ اس طرح سے الا ہوں یعنی خدائوں کی ایک فصل تیار ہوجاتی ہے، جو پوری قومی زندگی پر امر بیل کی طرح چھا جاتی ہے۔ قومیں اس شرک میں مبتلا ہوتی ہیں، لیکن وہ اپنی روشن خیالی میں مست رہ کر کبھی یہ سوچنے کی بھی زحمت نہیں کرتیں کہ ہم مسلمان کہلاتے ہوئے شرک کی کس دلدل میں جا اترے ہیں۔
وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ اس کی ایک شکل تو وہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت مشرکین میں موجود تھی کہ وہ اپنے بہت سارے مشرکانہ اعمال پر اسی بات سے دلیل لاتے تھے کہ یہ جو کچھ ہم مشرکانہ اعمال کررہے ہیں اگر اللہ کو یہ منظور نہ ہوتے تو ہم کبھی اسے نہ کرتے اور نہ کبھی ہمارے آبائواجداد اس میں مبتلا ہوتے۔ پروردگار کا اس سے ہمیں نہ روکنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس پر خوش ہے۔
آج اس جدید دور میں فلسفے کے نام سے ہندوازم اور عیسائیت میں بالخصوص مذہب کے حوالے سے ایسی ایسی چیزیں متعارف کرائی جارہی ہیں اور ایسی ایسی بداعمالیوں پر مذہب سے دلیلیں تلاش کرکے لائی جارہی ہیں کہ پرانا شرک اس کے سامنے ماند پڑگیا ہے۔ یہ موقعہ نہیں کہ ہم اس کی وضاحت کریں۔ اس آیت کے پہلے لفظ اِنَّمَا یَاْمُرُکُمْ نے ایسی تمام کاوشوں پر کا یہ کہہ کرہ میں سراغ دے دیا ہے کہ یہ جو کچھ فلسفہ کے نام سے ہورہا ہے یا جو کچھ مشرکین مکہ کہتے تھے، یہ سب شیطان کا امر تھا اور ہے۔
امر کا معنی و مفہوم
اَمَرَ کا معنی جس طرح ” حکم دینا “ ہوتا ہے، اسی طرح ” کوئی بات سمجھانا، مشورہ دینا، دل میں ڈالنا اور وسوسہ اندازی اور نگاہوں میں کھبا دینا “ بھی ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) کی حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدم کے بیٹے کے قلب میں ایک شیطانی الہام واثر ہوتا ہے اور دوسرا فرشتہ کی طرف سے۔ شیطانی وسوسہ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ برے کام کرنے کے فوائد اور مصالح سامنے آتے ہیں اور حق کو جھٹلانے کی راہیں کھلتی ہیں۔ الہامِ فرشتہ کا اثر خیر اور نیکی پر انعام و فلاح کا وعدہ اور حق کی تصدیق پر قلب کا مطمئن ہونا ہوتا ہے۔
بڑے بڑے عرب شعراء بھی امر کو اس معنی میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایک مشہور حماسی شاعر کا شعر ہے :
اَمَرتُھُم اَمراً بِمُنعَرِجِ اللّوٰی
فَلَم یَستَبِینُوا الرُّشدَ اِلاّ ضُحَی الغَدٍ
(میں نے ان کو اپنے مشورے سے منعرج اللویٰ ہی میں آگاہ کردیا تھا لیکن میری بات ان کی سمجھ میں دوسرے دن کی صبح سے پہلے نہ آسکی)
امر کا دوسر امعنی ہوتا ہے ” حکم دینا۔ “ اس معنی میں اس لفظ کا استعمال تو بہت معروف ہے۔ اس لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ ہمارے سامنے آج ان حقائق کو کھولتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جن کا تصور بھی اس سے پہلے مشکل تھا۔ آج سے پہلے سوچا بھی نہ جاسکتا تھا کہ اس وسیع سطح پر کبھی شیطانی قوتیں اور کفر کی طاقتیں تمام مسلمانوں کو لادینیت کا حکم دے سکتی ہیں اور ان کی ایجنسیاں اور ان کے خفیہ ادارے، مسلمان ملکوں سے اس طرح مراسم مستحکم کرسکتے ہیں اور مسلمانوں میں سے اپنے ڈھب کے آدمی اس طرح تلاش کرسکتے ہیں کہ اسلام کے اساسی عقائد کے حوالے سے ان کے نظام تعلیم، ان کے دفاعی ادارے اور ان کی تہذیب و ثقافت میں اس طرح تبدیلیاں پیدا کردیں کہ امت مسلمہ کو اس وقت اس کی خبر ہو جب پانی سر سے گزر چکا ہو اور سیاسی اور حکومتی سطح پر غیر مسلم طاقتور حکومتیں اس طرح مسلمانوں کو لیڈ کریں اور ہر طرح کا دبائو ڈال کر اس طرح ان سے اپنے مطلب کے فیصلے کروائیں کہ امت مسلمہ ان کے سامنے بےبس دکھائی دیتی ہو۔
اس صورت حال کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا یہ کہنا کہ شیطان تمہیں ہر طرح کی برائی اور بےحیائی کا حکم بھی دیتا ہے اور مشورہ بھی دیتا ہے۔ اس کا حقیقت میں کیا مفہوم ہے ؟ اور پھر اسی پر بس نہیں وہ امت مسلمہ کے راہنمائوں اور لیڈرانِ کرام کو مجبور کرتا ہے یا انھیں ذہنی غسل دیتا ہے کہ وہ اپنی قوم کو یہ یقین دلائیں کہ شیطان کی نمائندہ قوتیں جو کچھ تم سے کروا رہی ہیں، وہی اصل میں اللہ اور اس کے دین کا منشا ہے۔ تم نے اب تک اپنے دین کے نام سے جن باتوں کو ترجیح کے قابل سمجھ رکھا تھا وہ سراسر غلط تھا۔ اب تمہیں نئی روشنی میں آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہیے اور پھر تمہیں اپنے اساسی عقائد میں تبدیلی بھی لانی پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
جب کوئی شخص یا کوئی قوم شیطانی قوتوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے تو ان کے فیصلہ کرنے والے ذہنوں کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ ایسالگتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر بالکل بانجھ ہوگئے ہیں۔ اپنے سیاسی، قومی اور تہذیبی معاملات کو وقت کی غالب قوتوں کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ادھر سے جو رہنمائی ملتی ہے اسی کے مطابق فیصلے کرنا یہ اپنی ذمہ داری سمجھتے اور اسی کو وقت کا تقاضا قرار دیتے ہیں۔ لیکن جہاں تک عام مذہبی رسوم کا تعلق ہے اس میں جب انھیں اللہ کے احکام کا حوالہ دیا جائے تو نہایت پست سطح پر اتر کر عام عوام کی طرح کے سہارے تلاش کرنے لگتے ہیں اور انھیں کو اپنی دینی زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں۔ اگلی آیت کریمہ میں ان کے اسی رویے کا ذکر کیا جارہا ہے۔
Ayah 2:170وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآاَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَآئَ نَا ط اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَایَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّلاَ یَھْتَدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 170)
(جب ان سے کہا جائے کہ فرمانبرداری کرو اس حکم کی جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔ تو کہتے ہیں ہرگز نہیں ! ہم تو فرمانبرداری کریں گے اس کی جس پر ہم نے اپنے آبائواجدا دکو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی جب کہ ان کے باپ دا دا نہ کچھ سمجھتے رہے ہوں اور نہ راہ ہدایت پر رہے ہوں ؟ )
آبائو اجداد کی اندھی تقلید
جب مشرکین سے یہ کہا جاتا کہ تم نے جو مشرکانہ رسوم بنا رکھی ہیں اور اپنی مرضی سے حلال و حرام کے فیصلے کر رکھے ہیں بلکہ خود ساختہ شریعت بنا رکھی ہے۔ آخر اس کا کیا جواز ہے ؟ تمہارے سامنے اللہ کے احکام پیش کیے جارہے ہیں۔ اللہ کا پیغمبر نہایت محکم دلائل کے ساتھ تمہارے سامنے اللہ کا دین پیش کررہا ہے، تو تم اسے قبول کرنے سے کیوں گریز کررہے ہو ؟ تو وہ جواب میں یہ کہتے کہ ہم کسی ہدایت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہمارے پاس ہدایت کا صرف ایک ہی سرچشمہ ہے، وہ ہمارے آبائواجداد ہیں۔ ہم نے جو روایت ان سے پائی ہے ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے کیونکہ اپنے بڑوں کی تقلید کرنا اچھی قوموں کا ہمیشہ طریقہ رہا ہے۔ قرآن کریم نے اس پر تنقید کرتے ہوئے تقلید اور پیروی کے لیے ایک اصول دے دیا ہے۔ جس کو بنیاد بنا کر یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ کس کی پیروی صحیح ہے اور کس کی پیروی غلط۔
قرآن کریم کے عطا کردہ اصول کا حاصل یہ ہے کہ کسی بات کا آبائواجدا د کی میراث یا روایت بن جانا نہ اس کے غلط ہونے کا ثبوت ہے اور نہ اس کے صحیح ہونے کا کیونکہ جنھیں آبائواجداد کہا جاتا ہے، وہ بھی اپنی اولاد کی طرح انسان ہی تھے۔ ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی، عقل والے بھی اور کم عقل بھی اور آج ان کی اولاد کل کو اپنی اولاد کے لیے آبائواجدا کی حیثیت ہی اختیار کرجائے گی۔ تو آج ان کی جو اچھی یا بری حالت ہے یہ آبائو اجدا دبن جانے سے بدل تو نہیں جائے گی۔ اس لیے محض کسی کا دنیا سے چلا جانا اور ان کا باپ دادا کہلانا نہ ان کے اچھے ہونے کی دلیل ہے اور نہ ان کے برے ہونے کی۔ اس لیے ان کی باتوں اور ان کے کاموں کے بارے میں یا ان کے مذہبی خیالات کے حوالے سے صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ مرحوم ہوچکے ہیں، اس لیے ان کی ہر بات قبول کرلی جائے بلکہ ان کے خیالات ان کی روایات اور ان کے فیصلوں کو غیر جانبداری سے دیکھا جائے گا کہ ان کی حیثیت کیا ہے ؟ اگر تو ان کا تعلق مجرد عقل سے تعلق رکھنے والی باتوں سے ہے تو انھیں عقل کے ترازو میں تولا جائے گا۔ اگر عقل صحیح انھیں قبول کرلے تو پورے احترام سے انھیں قبول کرلیا جائے گا ورنہ محض اس لیے اسے قبول نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ہمارے بڑے لوگوں کی باتیں ہیں۔ اگر ان کی باتوں کا تعلق دین اور مذہب سے ہے تو پھر یہ دیکھاجائے گا کہ کیا اس کی کوئی مضبوط اور قابل اعتماد سند ہے یا نہیں ؟ اگر واقعی کوئی مضبوط اور قابل اعتماد سند ان کی باتوں اور عقائد کو حضرت اسماعیل سے وابستہ کردے تو یقینا اس کے سامنے سرجھکادیا جائے گا۔ لیکن اگر یہ معلوم ہو کہ یہ سب خانہ ساز باتیں ہیں تو محض آبائو اجداد کا احترام ان باتوں کو قبول کرنے کے لیے کافی نہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عقل کی باتوں میں حجت اور دلیل عقل کو ہونا چاہیے اور دین کی باتوں میں واجب التسلیم دین کے حوالے کو ہونا چاہیے۔ جس طرح غلط بات کو آج کے کسی آدمی کے حوالے سے قبول نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح آبائواجداد کے حوالے سے بھی قبول کرنا گمراہی ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے اس آیت اور اس طرح کی دوسری آیات کو ائمہ فقہ کی تقلید اور عدم تقلید کی بحث میں کھینچ لیا ہے۔ اولاً تو اس بحث سے ان آیات کا براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن اگر اس کے مفہوم سے اس حوالے سے بھی کوئی بات سمجھی جاسکتی ہے تو وہ بھی بالکل واضح ہے کہ شرعی مسائل دو طرح کے ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن وسنت کے احکام بالکل واضح ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو اجتہاد اور قیاس کے ذریعے قرآن وسنت سے استنباط کیئے جاتے ہیں۔ تو اگر کسی عالم کے بارے میں یہ اطمینان ہوجائے کہ اس کے پاس قرآن وسنت کا علم بھی ہے اور اسے درجہ اجتہاد بھی حاصل ہے کہ جو احکام صراحتہً قرآن وسنت میں نہیں ان کو نصوص قرآن وسنت سے بذریعہ قیاس نکال سکتا ہے۔ تو ایسے عالم مجتہد کی تقلید اور اتباع بالکل جائز ہے کیونکہ ایسے عالم کی تقلید کا مطلب اس کا حکم ماننا اور اس کا اتباع کرنا نہیں ہے بلکہ اس کی تقلید اور اتباع اللہ کے حکم کی اطاعت اور اس کا اتباع ہے۔ امام قرطبی نے اسی آیت کے ضمن میں یہی بات اپنے طریقے سے فرمائی ہے۔
تعلق قوم بھذہ الایۃ فی ذم التقلید (الیٰ ) وھذا فی الباطل صحیح اما التقلید فی الحق فاصل من اصول الدین وعصمۃ من عصم المسلمین یلجاء الیھا الجاھل المقصرّعن درک النظر (قرطبی، ص 194، ج 2)
کچھ لوگوں نے اس آیت کو تقلید کی مذمت میں پیش کیا ہے اور یہ باطل کے معاملہ میں تو صحیح ہے۔ لیکن حق کے معاملہ میں تقلید سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ حق میں تقلید کرنا تو دین کے اصول میں سے ایک مستقل بنیاد ہے اور مسلمانوں کے دین کی حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہے کہ جو شخص اجتہاد کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ دین کے معاملہ سے تقلید ہی پر اعتماد کرتا ہے۔
Ayah 2:171وَمَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّادُعَآئً وَّنِدَآئً ط صُمٌّ م بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَایَعْقِلُوْنَ ۔ (البقرۃ : 171)
(مثال ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسی چیزوں کو پکارے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سنتی سمجھتی ہوں۔ یہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں یہ سمجھ نہیں سکتے)
صورتِ حال کی تمثیل صورت حال ہے
یہ تمثیل ان لوگوں کی ہے جو عقل و بصیرت سے کام لینے کی بجائے اندھے بہرے ہو کر محض باپ دادا کی تقلید پر فخر کررہے ہیں۔ جس طرح بھیڑبکریاں بغیر سوچے سمجھے اپنے چرواہے کے پیچھے چلتی رہتی ہیں انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ چرواہا انھیں کہاں لے کرجائے گا اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ جدھر ایک بھیڑ بکری نے منہ کرلیا سب اس کے پیچھے منہ اٹھائے چل پڑیں۔ قطع نظر اس سے کہ ادھر جانے میں انھیں نقصان ہوگا یا فائدہ۔ یہ بھی اپنے ماں باپ کے پیچھے بھیڑ بکریوں کی طرح چل رہے ہیں یا انھیں میں سے کسی نے کوئی نئی راہ نکال لی ہے تو وہ اس راہ پر چل نکلے ہیں۔ بس دوسروں کی پیروی اور زمانے کے ساتھ چلتے رہنا یہ ان کا طرّہ امتیاز ہے، اس لحاظ سے ان کا رویہ بالکل بھیڑ بکریوں جیسا ہے۔ کبھی اگر چرواہا محسوس کرتا ہے کہ میرا گلہ غلط طرف چل نکلا ہے تو وہ انھیں اگر پیچھے سے پکارتا ہے تو پورا گلہ اس کی آواز تو سنتا ہے لیکن یہ سمجھنے کی زحمت نہیں کر تاکہ وہ انھیں کہتا کیا ہے ؟ یہ لوگ بھی اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ ہمیں حقائق کی طرف بلایا جارہا ہے، کبھی ہم ان پر غور کرنے کی کوشش کریں، ممکن ہے اس میں ہمارا ہی بھلا ہو۔
قرآن کریم کہتا ہے، یہ لوگ اپنی روش بدلنے کے لیے بالکل تیار نہیں کیونکہ اس کے لیے جن بنیادی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے، یہ ان سے بالکل بیگانہ ہوچکے ہیں۔ یہ بہرے ہیں، کوئی بات سن کے نہیں دیتے۔ یہ گونگے ہیں، اقرارِ حق کے لیے ان کی زبان کھلتی نہیں۔ یہ اندھے ہیں، حق کو دیکھ نہیں سکتے۔ ہدایت سے ان کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔
تشبیہ اور تمثیل میں فرق
یاد رہے ! اس آیت کریمہ میں جو مثال دی گئی ہے وہ تمثیل ہے تشبیہ نہیں۔ تشبیہ میں مشبہ اور مشبہ بہ میں کامل مشابہت ہوتی ہے، دونوں کے اجزا تک میں تشبیہ تلاش کی جاتی ہے۔ لیکن ممثل اور ممثل بہ کے تمام اجزا کی ایک دوسرے سے مطابقت ضروری نہیں ہوتی بلکہ صرف صورت واقعہ کی صورت واقعہ سے مطابقت ضروری ہوتی ہے۔ نیز اس کی بھی ضرورت نہیں ہوتی کہ جس چیز کی تمثیل دی جارہی ہے اس کی پوری صورت واضح کی جائے بلکہ صرف اس صورت واقعہ کی وضاحت ضروری ہوتی ہے جس سے تمثیل دی جاتی ہے۔ اسی کے آئینہ میں اس کا عکس بھی دیکھ لیتے ہیں جس کی تمثیل پیش کرنا مقصود ہے۔ اسی لیے ہم نے اس تمثیل کی وضاحت میں اس صورت واقعہ کی وضاحت ضروری سمجھی ہے جس کی تمثیل بیان کی جارہی ہے اور یہ وضاحت اس آیت کریمہ کے اصل مضمون کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔
Ayah 2:172یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰـکُمْ وَاشْکُرُوْا لِلّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ۔ (البقرۃ۔ 172)
(اے ایمان والو ! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو بخشی ہیں ان کو کھائو اور اللہ ہی کے شکر گزار بنو اگر تم اس کی بندگی کرنے والے ہو)
بدعات و خرافات کا ابطال دلائل سے بھی ہوتا ہے اور مستحکم کردار سے بھی
اس آیت کریمہ میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ مسلمانوں سے خطاب کرکے فرمایا ہے کہ مشرکین اپنے مشرکانہ رسوم وآداب پر اڑے رہنا چاہتے ہیں اور وہ کسی طرح بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں تو تم انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ تحلیل وتحریم کے حوالے سے جس حد تک ان کے خیالات کی اصلاح دلائل سے ضروری تھی وہ ضرورت پوری کردی گئی۔ البتہ ان کی بدعات و خرافات کا اثر ختم کرنے اور اس کا زور توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ تمہارے اپنے عمل میں کوئی کمزوری نہیں ہونی چاہیے۔ کھانے پینے کے معاملے میں جب بھی کبھی ایسی چیز سامنے آئے جو مشرکین کے نزدیک حرام ہے اور اللہ نے اسے حلال کیا ہے، تو تمہارے لیے ازبس ضروری ہے کہ تم ایسی نعمت کو ضرور استعمال میں لائوتا کہ مشرکین کو اندازہ ہوجائے کہ ان کے رویے کا طلسم ٹوٹ رہا ہے اور خود تمہارے اندر اللہ کی کبریائی اور اس کی حاکمیت مطلقہ کا عقیدہ گہر اہوتا جارہا ہے۔ انسان کی کمزوری یہ ہے کہ جن خیالات کا وہ مدتوں قائل رہاہو اور جن چیزوں کو عمر بھر استعمال کرتا رہا ہو تو جب اس سے مختلف اسے کسی بات کا حکم دیا جائے تو اس کے لیے اپنے خیالات کو بدلنا اور اپنے اکل وشرب کی عادات میں تبدیلی ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ باربار معمول سے مختلف کام کرتے ہوئے ایک جھجک پیدا ہوتی ہے۔ لیکن یہ وہ کمزوری ہے جس سے انسان کے ایمان کو نقصان پہنچتا ہے۔ بنی اسرائیل میں آل فرعون کے ساتھ رہ کر گائے کا تقدس بلکہ اس کی پرستش کا عقیدہ پیدا ہوگیا تھا۔ بنی اسرائیل جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مصر سے ہجرت کرکے صحرائے سینا میں پہنچ گئے تو وہاں سب کچھ بدل جانے کے باوجود بھی گائے کی محبت اور اس سے عقیدت ان کے دل سے نکلنے نہیں پاتی تھی۔ اس لیے پروردگار نے ایک خاص واقعہ کے حوالے سے انھیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیاتا کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ جس جانور کو ہم نے خود ذبح کیا ہے اور اس کا بیجان جسم ہمارے سامنے پڑا ہے اگر اس میں الوہیت کی کوئی بات ہوتی تو وہ اس طرح ہمارے ہاتھوں موت کا شکار نہ ہوتی۔
ہندوستان میں جب ہندئوں نے اسلام قبول کرنا شروع کیا تو ان کے لیے بھی سب سے بڑی رکاوٹ گائو سے عقیدت اور محبت کا عقیدہ تھا۔ وہ مسلمان ہو کر بھی گائے کا گوشت کھانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ ان کے اندر کا چور انھیں اس جسارت سے روکتا تھا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ آج تک اس کے اثرات مسلمان معاشرے میں باقی ہیں۔ بہانے بہانے سے گائے کے گوشت سے پرہیز ابھی تک بہت سارے مسلمانوں میں باقی ہے۔ پورا یورپ گائے کا گوشت کھاتا ہے اور اسے چھوٹے گوشت پر ترجیح دیتا ہے اور انھیں کسی بیماری کا احساس نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے یہاں نجانے کتنی بیماریاں بڑے گوشت سے وابستہ کررکھی ہیں۔ اسی لیے علماء کرام نے یہ فتویٰ دے رکھا تھا کہ ” کوئی ہندو مسلمان ہونے کے بعد جب تک گائے کا گوشت نہ کھائے اس کا ایمان معتبر نہ ہوگا “۔
ایسی ہی کوئی صورتحال یہاں بھی دکھائی دیتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے نئے نئے مسلمان ہونے والے لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنھیں وہ چیزیں کھانے میں تامل ہوگا جنھیں وہ جاہلیت میں حرام سمجھتے تھے اور اسلام نے اسے حلال کردیایا وہ انھیں حلال سمجھتے تھے اور اسلام نے انھیں حرام کردیا۔ انھیں حکم دیا جارہا ہے کہ تم پرانی زنجیریں توڑ ڈالو۔ اب وہ تمام پاکیزہ چیزیں جنھیں اسلامی شریعت نے حلال کردیا ہے انھیں نہ صرف خوشدلی سے استعمال کرو بلکہ دوسرا حکم یہ دیا کہ اس پر اللہ کا شکر بھی ادا کروکیون کہ اس سے بڑھ کر اور شکر کا کیا مقام ہوسکتا ہے کہ اللہ نے تمہیں گمراہی سے نکالا اور ہدایت کے راستے پر ڈال دیا اور تمہارے لیے ایسی نعمتوں کو جائز ٹھہرایا جو اپنے ظاہر اور اپنے باطن کے لحاظ سے پاکیزہ، خوشگوار، معتدل، صحت بخش اور روح پرور ہیں۔ اس کے بالمقابل شیطان نے تمہیں جن چیزوں کا خوگر بنا رکھا ہے وہ سب کی سب روح، عقل، جسم اور اخلاق کو نقصان پہنچانے والی اور بےحیائی اور بدکاری کی راہیں کھولنے والی ہیں۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ اگر تم اللہ ہی کے بندہ ہو اور اسی کا اپنا معبود جانتے ہو تو پھر اس کی عطاکردہ نعمتوں کو استعمال کرتے ہوئے تمہیں جھجک کیوں لاحق ہوتی ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی کہیں شرک کے اثرات باقی ہیں اور جب تک یہ شرک کے اثرات نہیں نکلیں گے اللہ کے ساتھ تمہاری خالص بندگی مکمل نہیں ہوسکے گی۔ تمہیں اندر اور باہر ہر طرف سے اللہ کا بندہ بننا چاہیے کیونکہ ؎
باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
سورة انعام کی آیات ِ ذیل میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَاسْمَُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ۔ وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاْکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَاحَرَّمَ عَلَیْکُمْ اِلَّا مَااضْطُرِرْ تُمْ اِلَیْہِط وَاِنَّ کَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَھْوَآئِھِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍط اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ ۔ وَذَرُوْا ظَاھِرَالْاِثْمِ وَبَاطِنَہٗط اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ ۔ وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاِنَّہٗ لَفِسْقٌط وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْج وَاِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْن۔
(الانعام : 118 تا 121)
(پس جس پر اللہ کا نام ذبح کے وقت لے لیا گیا ہو ان کو بےجھجک کھائو، اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہو۔ اور آخر تم ان چیزوں کو کیوں نہ کھائو جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہے جب کہ وہ چیزیں تمہارے سامنے وضاحت سے بیان کی جاچکی ہیں جو حرام کردی گئی ہیں الا آنکہ تم ان میں سے بھی کسی چیز کے کھانے پر مجبور ہوجاؤ۔ بہت سے لوگ اپنی من گھڑت باتوں کی آڑ لے کر بغیر کسی علم کے لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں۔ تمہارا رب خوب جانتا ہے حدود الہٰی سے تجاوز کرنے والوں کو۔ گناہ ظاہر اور گناہ باطن دونوں سے باز آئو۔ جو لوگ گناہ کی کمائی کررہے ہیں وہ اپنی کمائی کا عنقریب بدلہ پائیں گے۔ ہاں ! ان چیزوں میں سے نہ کھائو جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، یہ اللہ کی نافرمانی ہے اور شیاطین ہیں جو اپنے دوستوں کو القا کررہے ہیں تاکہ وہ تمہارے ساتھ بحثیں اٹھائیں اور اگر تم نے ان کی بات مان لی تو تم بھی مشرکوں میں سے ہوجاؤ گے )