Ayah 2:243اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَھُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَالْمَوْتِ ص فَقَالَ لَھُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْا قف ثُمَّ اَحْیَاہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْفَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَشْکُرُوْنَ ۔
(کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو بھاگ کھڑے ہوئے اپنے گھروں سے حالانکہ وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا مرجاؤ۔ پھر اللہ نے ان کو زندہ کیا۔ بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکرگزار نہیں ہوتے) (243)
ربطِ آیات
گزشتہ آیات کی تشریح میں ہم یہ عرض کرچکے ہیں کہ احکام و قوانین کا جو باب آیت نمبر 163 سے شروع ہوا تھا وہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہاں سے نیا سلسلہ کلام شروع ہو رہا ہے۔ گزشتہ باب میں اصل بیان تو بیت اللہ کے تعلق سے جہاد و انفاق کا ہو رہا تھا لیکن انفاق کی بحث کے حوالے سے یتیموں اور بیوگان کے مسائل کی طرف التفات ہوگیا اور اس کے بعد قرآن کریم نے اپنی عادت کے مطابق یتیموں کے حقوق بیان فرمائے اور پھر عورتوں کے مسائل کے حوالے سے تفصیل سے احکام دیے۔ اب پھر سلسلہ کلام اصل موضوع کی طرف متوجہ ہو رہا ہے۔
پیش نظر آیت کریمہ میں سب سے پہلے ایک واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جس کا تعلق اسلام کے بنیادی تصورات میں سے ایک اہم تصور سے ہے۔ اور یہ وہ تصور ہے کہ جب تک مسلمانوں کے دل و دماغ میں پوری طرح پیوست نہیں ہوجاتا اس وقت تک وہ جہاد و انفاق کے حوالے سے کوئی بڑا کارنامہ سر انجام نہیں دے سکتے۔ وہ تصور یہ ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آدمی اپنی بزدلی یا دنیا کی خواہش سے اپنی زندگی کو دراز نہیں کرسکتا۔ وہ ہزار کوشش بھی کرے موت کا معین وقت اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتا۔ جن لوگوں نے زندگی کا بیشتر حصہ میدانِ جنگ میں گزارا ان میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ وہ اپنے بستر پر طبعی موت کا شکار ہوئے اور جو لوگ زندگی بھر خطرات سے بچنے کی کوشش کرتے رہے اور ایک سے ایک بڑھ کر محفوظ مقام میں رہنے کی کوشش کی۔ لیکن موت سے وہ بھی نہ بچ سکے۔ بلکہ بارہا ایسا ہوا کہ موت سے کھیلنے والوں نے طویل عمر پائی اور موت سے بچنے والوں کو مختصر زندگی نصیب ہوئی۔ اور ایسا بھی ہوا کہ ساری احتیاطوں کے باوجود ان کی موت کا سبب کوئی نہ کوئی حادثہ ٹھہرا۔ اس لیے مسلمانوں جیسی قوم جسے دنیا میں خیر و صلاح کا کام سونپا گیا ہے اور جنھیں قدم قدم پر مخالف قوتوں سے ٹکرانا پڑتا ہے ان کے اندر جب تک یہ عقیدہ راسخ نہ ہوجائے کہ موت وحیات سراسر اللہ کے قبضے میں ہے تم بےسبب اپنے آپ کو خطرات میں کبھی نہ جھونکنا۔ لیکن دینی اور ملی فرائض ادا کرتے ہوئے اگر خطرات میں جانا ناگزیر ہوجائے تو موت کے تصور سے کبھی پیچھے ہٹنے کی کوشش نہ کرنا۔ کیونکہ موت خطرات سے واقع نہیں ہوتی بلکہ اللہ کے حکم سے واقع ہوتی ہے۔ اس وقت تک مسلمان کارزارِ حیات میں کوئی معرکہ سر نہیں کرسکتے۔ آئندہ چونکہ جہاد و انفاق کی بحث شروع ہو رہی ہے اس لیے اس بنیادی عقیدے کو رگ و ریشے میں اتارنے کے لیے ایک ایسا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جس کی شہرت کے باعث عرب کا بچہ بچہ اس سے واقف تھا۔ لیکن ایسے مشہور واقعات جو نسل در نسل سینہ بہ سینہ روایت ہوتے ہیں۔ اس میں صرف واقعہ کی اصل روح باقی رہ جاتی ہے واقعہ کی تفصیلات بالعموم غائب ہوجاتی ہیں۔ یہ واقعہ بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔
اَلَمْ تَرَ کا مفہوم
اس واقعے کا آغاز اَلَمْ تَرَسے کیا گیا ہے۔ اس طرح کے الفاظ سے اس واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو یا تو مخاطب گروہ کا عینی مشاہدہ ہوتا ہے یا واقعہ اس قدر مشہور ہوتا ہے کہ اسے ذکر کرنے سے پہلے اس کی نسبت یہ باور کرلیا جاتا ہے کہ مخاطب یقینا اس سے واقف ہوں گے۔ اور مزید یہ کہ یہاں یہ جو کہا گیا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا تو اس سلسلے میں یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ دیکھنا ہمیشہ چشم بصارت سے نہیں ہوتا بلکہ وہم و تخیل ‘ غور و فکر اور عقل کی راہ سے بھی مطالعہ و مشاہدہ مراد ہوتا ہے۔ امام راغب الاصفہانی نے تصریح فرمائی ہے کہ جب اس فعل کا صلہ الیٰ کے ساتھ آتا ہے تو اس سے مقصود دیکھنا نہیں بلکہ کوئی نتیجہ نکالنا یا عبرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ اندازِ بیان اس لیے اختیار کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو کہ یہ واقعہ ایک معروف واقعہ تھا جسے عام طور پر لوگ جانتے تھے۔ لیکن یہاں مقصود صرف یہ ہے کہ سننے والے اس سے عبرت حاصل کریں اور اس سے سبق سیکھیں۔
واقعہ کیا تھا ؟ تین نقطہ ہائے نظر
اب سوال یہ ہے کہ یہ واقعہ کہاں پیش آیا اور کس قوم کے ساتھ پیش آیا ؟ علامہ قرطبی (رح) نے ابن عطیہ سے واضح طور پر نقل فرمایا کہ مفسرین نے اس سلسلے میں جتنے قصے بیان کیے ہیں وہ سب ناقابلِ اعتماد ہیں۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ سے اس سلسلے میں صحیح سند کے ساتھ کوئی روایت منقول نہیں ہوئی اور دوسری یہ بات کہ یہ واقعہ مشہور ضرور تھا لیکن اس کی تفصیلات محفوظ نہیں تھیں اور لوگوں کو اس سے زیادہ غرض بھی نہیں ہوتی۔ اتنی بات سب کو معلوم تھی کہ ایسا ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ لیکن وہ کہاں پیش آیا ‘ کب پیش آیا اور کس قوم کے ساتھ پیش آیا ؟ تاریخ کی یہ تمام کڑیاں گم ہوگئیں۔ لیکن مفسرین نے ان کڑیوں کو ڈھونڈنے کے لیے جو کاوشیں کی ہیں ان میں تین باتیں قابل ذکر ہیں۔ لیکن انھیں بھی حتمی تحقیق کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ ہمارے قدیم مفسرین جو کچھ فرماتے ہیں اس کا ماخذ تفسیر ابن کثیر ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ انھوں نے اگرچہ اسے بعض صحابہ اور تابعین کے حوالے سے نقل کیا ہے لیکن ان میں سے کوئی حوالہ بھی ایسا نہیں جسے یقین کے ساتھ قبول کیا جاسکے۔ لیکن ہمارے مفسرین چونکہ اکثر اسے نقل کرتے ہیں اس لیے ہم بھی سب سے پہلے اسے معارف القرآن سے نقل کر رہے ہیں۔
1 ” بنی اسرائیل کی کوئی جماعت ایک شہر میں بستی تھی۔ وہاں سخت وبا ‘ طاعون وغیرہ پھیلا۔ یہ لوگ جو تقریباً دس ہزار کی تعداد میں تھے گھبرا اٹھے اور موت کے خوف سے اس شہر کو چھوڑ کر سب کے سب دو پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع مقام میں جا کر مقیم ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اور دنیا کی دوسری قوموں پر یہ واضح کرنے کے لیے کہ موت سے کوئی شخص بھاگ کر جان نہیں چھڑا سکتا۔ دو فرشتے بھیج دیئے ‘ جو میدان کے دونوں سروں پر آ کھڑے ہوئے اور کوئی ایسی آواز دی جس سے سب کے سب بیک وقت مرے ہوئے رہ گئے ‘ ایک بھی زندہ نہ رہا۔ آس پاس کے لوگوں کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی ‘ یہاں پہنچے۔ دس ہزار انسانوں کے کفن دفن کا انتظام آسان نہ تھا ‘ اس لیے ان کے گرد ایک احاطہ کھینچ کر حظیرہ جیسا بنادیا۔ ان کی لاشیں حسب دستور گل سڑ گئیں ‘ ہڈیاں پڑی رہ گئیں۔ ایک زمانہ کے بعد بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر جن کا نام حزقیل بتلایا گیا ہے ‘ اس مقام سے گزرے۔ اس حظیرہ میں جگہ جگہ انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے بکھرے ہوئے دیکھ کر حیرت میں رہ گئے۔ بذریعہ وحی ان کو ان لوگوں کا پورا واقعہ بتلا دیا گیا۔ حضرت حزقیل (علیہ السلام) نے دعا کی کہ یا اللہ ان لوگوں کو پھر زندہ فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انھیں حکم دیا گیا کہ آپ ان شکستہ ہڈیوں کو اس طرح خطاب فرمائیں :
ایتہا العظام البالیۃ ان اللّٰہ یأمرک ان تجمعی
(یعنی اے ہڈیو ! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ہر جوڑ کی ہڈی اپنی جگہ جمع ہوجائے)
پیغمبر کی زبان سے خدا تعالیٰ کا حکم ان ہڈیوں نے سنا اور حکم کی تعمیل کی۔ جن کو دنیا بےعقل و بےشعور سمجھتی ہے مگر دنیا کے ذرہ ذرہ کی طرح وہ بھی تابع فرمان اور اپنے وجود کے مناسب عقل و ادراک رکھتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مطیع ہیں۔ قرآن کریم نے آیت اعطی کل شیء خلقہ ثم ہدی میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا پھر اس کو اس کے مناسب حال ہدایت فرمائی۔ مولانا رومی نے ایسے ہی امور کے متعلق فرمایا ہے ؎
خاک و باد و آب و آتش بندہ اند
بامن و تو مردہ باحق زندہ اند
بہرحال ایک آواز پر ہر انسان کی ہڈیاں اپنی اپنی جگہ لگ گئیں۔ پھر حکم ہوا کہ اب ان کو یہ آواز دو :
ایتہا العظام ان اللہ یأمرک ان تکتسی لحماً و عصباً و جلداً
(اے ہڈیو ! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنا گوشت پہن لو اور پٹھے اور کھال درست کرلو)
یہ کہنا تھا کہ ہڈیوں کا ہر ڈھانچہ ان کے دیکھتے دیکھتے ایک مکمل لاش بن گئی۔ پھر حکم ہوا کہ اب ارواح کو یہ خطاب کیا جائے :
ایتہا الارواح ان اللہ یأمرک ان ترجع کل روح الی الجسد الذی کانت تعمرہ۔
(اے ارواح ! تمہیں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اپنے اپنے بدنوں میں لوٹ آئیں جن کی تعمیر وحیات ان سے وابستہ تھی)
یہ آواز دیتے ہی ان کے سامنے سارے لاشے زندہ ہو کر کھڑے ہوگئے اور حیرت سے چار طرف دیکھنے لگے۔ سب کی زبانوں پر تھا ” سبحانک لا الہ الا انت۔ “
اس واقعہ میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ اس بستی کے لوگ نہایت عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے کہ اچانک اللہ کی طرف سے طاعون کا عذاب ان پر مسلط ہوا اور پھر وہ ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی اس کا مقابلہ نہ کرسکے۔ جان بچانے کے لیے گھروں سے بھاگے اور ایک محفوظ جگہ تلاش کرکے وہاں زندگی کا سامان کرکے بیٹھ گئے۔ لیکن موت نے انھیں وہاں بھی آپکڑا۔ وہ سمجھتے تھے کہ موت کو ہم اپنی بستی میں چھوڑ آئے ہیں اب یہاں موت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ لیکن بظاہر ان کی محفوظ جگہ میں وہ تمام کے تمام موت کا نشانہ ہوگئے۔ لیکن پھر جب پیغمبر کی دعا سے اللہ نے انھیں زندہ کرنا چاہا تو انھیں زندہ کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح موت اللہ کی طرف سے آتی ہے زندگی بھی اللہ کی جانب سے آتی ہے۔ جس طرح اس نے ان لوگوں کو زندہ کیا اسی طرح وہ قیامت میں تمام مخلوقات کو زندہ کرے گا۔ آخر آیت میں فرمایا کہ اللہ چونکہ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور فضل والا ہے اس لیے وہ ایسے واقعات سے لوگوں کو عبرت حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ لوگ اس کا شکر گزار بننے کے بجائے کفرانِ نعمت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس واقعے میں چونکہ طاعون کا ذکر آیا ہے اس لیے مفسرین نے طاعون کے حوالے سے اس آیت کی تفسیر میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس تفصیلی بحث کا ذکر کرنا تو بہت مشکل ہے البتہ چند باتوں کا ذکر فائدے سے خالی نہیں ہوگا۔ طاعون کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کا ارشاد یہ ہے کہ جس سرزمین میں طاعون پھیل جائے وہاں سے بھاگنے کی اجازت نہیں۔ اور جو لوگ طاعون زدہ بستی سے باہر ہوں انھیں اس کے اندر نہیں جانا چاہیے۔ اس پر بعض لوگوں کو عقلی اشکال پیدا ہوا کہ طاعون زدہ مقام میں داخل ہونا اور طاعون زدہ مقام سے نہ ہٹنا یہ دونوں عملاً متضاد ہدایتیں ہیں۔ اگر طاعون بچنے کی چیز ہے تو وہاں سے ہٹنے کا بھی حکم ملنا چاہیے۔ اور بچنے کی چیز نہیں تو اس شہر میں پہنچ جانے میں کوئی مضائقہ نہ ہونا چاہیے۔ لیکن غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر وبا زدہ مقام سے ہر ایک کو نکلنے کی اجازت دے دی جائے تو سب لوگ بھاگنا شروع کردیں گے اور شہر خالی ہوجائے گا۔ اس بےتحاشا بھگدڑ سے آبادی کو جن مالی ‘ معاشی ‘ تمدنی اور اخلاقی نقصانات سے دوچار ہونا پڑے گا ان کا سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں۔ مزید برآں اس سے عقیدہ و اخلاق کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ کیونکہ یہ فرار ہمت ‘ ثبات قلب ‘ شجاعت اور باہمی ہمدردی کے بھی منافی ہے اور اسی سے توکل اور اعتماد علی اللہ کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور یہی چیزیں امت مسلمہ کا سرمایہ ہیں۔ اور رہی یہ بات کہ وہاں داخل نہیں ہونا چاہیے اس کی وجہ ظاہر ہے کہ جہاں وبا پھیلی ہوئی ہے اور موت کا بازار دھڑا دھڑ گرم ہے وہاں جا کر بلا وجہ موت کو دعوت دینا اسباب ظاہری کو بالکل نظر انداز کردینا ہے ‘ یہ بھی اسلامی نقطہ نگاہ سے غلط بات ہے۔ اس لیے اسلام نے ان دو متضاد پہلوئوں کے درمیان اعتدال اور سلامتی کی راہ نکالی اور حکم دیا کہ جہاں طاعون ہو وہاں جانے کی اجازت نہیں اور اس شہر کے رہنے والوں کو وہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں۔ کیونکہ نکلنا جس طرح عقیدے کو نقصان دیتا ہے اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ اپنے ساتھ طاعون کے جراثیم لے کر جائیں اور جو لوگ اس بیماری میں مبتلا نہیں ہیں ان کو بھی مبتلا کردیں۔
2 دوسرا نقطہ نگاہ ہمارے جدید محققین کا ہے۔ وہ عہد عتیق سے بنی اسرائیل کے تاریخ کے آئینہ میں اس واقعے کو تلاش کرتے ہیں۔ لیکن وہ اس واقعے میں مذکورہ موت کو حقیقی موت نہیں بلکہ ایمانی ‘ اخلاقی اور قومی موت تصور کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے چونکہ اخلاقی اور ایمانی بےحسی اور نیند اور بےہوشی پر بھی موت کا اطلاق کیا ہے اس لیے وہ اسے بنیاد بنا کر یہ کہنے کی جسارت کرتے ہیں کہ ممکن ہے یہاں بھی انھیں معنوں میں موت کا لفظ استعمال کیا گیا ہو۔ ان کی تحقیق کے نتیجے میں دو واقعات کی طرف راہنمائی ملتی ہے۔ جن میں سے ہم ایک کا تذکرہ تدبر قرآن سے نقل کرتے ہیں اور ساتھ ہی صاحب تدبر قرآن کی تصریحات کا بھی ذکر کرتے ہیں :
اس آیت میں جس واقعے کی طرف اشارہ ہے اس کا تعلق بنی اسرائیل کی تاریخ کے اس دور سے ہے جس کا ذکر صحیفہ سموئیل میں ہے۔ سموئیل نبی کے ظہور کے ابتدائی دور میں بنی اسرائیل سخت انتشار میں مبتلا تھے۔ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے یہ اس وقت تین لاکھ سے زیادہ تھے ‘ جیسا کہ سموئیل میں تصریح ہے۔ لیکن بدعات اور شرک کے غلبے کی وجہ سے ان کی مذہبی و اخلاقی حالت بھی بڑی خراب تھی اور اجتماعی تنظیم مفقود ہونے کی وجہ سے سیاسی حالت بھی بڑی ابتر تھی۔ ہر طرف سے دشمنوں کی یورش تھی اور یہ ان سے اس قدر مرعوب اور دہشت زدہ تھے کہ کسی سے مقابلے کی ہمت اپنے اندر نہیں پا رہے تھے۔ خاص طور پر فلسطینیوں نے ان کو بری طرح مرعوب کرلیا تھا۔ انھوں نے ان پر چڑھائی کر کے ان کا قتل عام بھی کیا اور ان سے خدا کا وہ صندوق بھی چھین کرلے گئے جس کی حیثیت ان کے ہاں بالکل قبلہ کی تھی جس کو وہ اپنی تمام عبادات اور تمام مہمات میں آگے آگے رکھتے تھے۔ ان کے ڈر سے بنی اسرائیل نے عقرون سے لے کر جات تک کے سارے شہر بھی خالی کردیے تھے۔ خوف و بزدلی کی یہ موت ان پر بیس برس طاری رہی۔ اس کے بعد سموئیل نبی نے ان کے اندر اصلاح و تجدید کا کام شروع کیا۔ ان کو شرک و بدعت سے توبہ کرنے اور اپنے انتشار کو دور کر کے از سر نو منظم و متحد ہونے کی دعوت دی۔ ان کی اس دعوت کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی بخشی اور اس طرح بنی اسرائیل میں بیس سال کی مرونی کے بعد از سر نو ایمانی و سیاسی زندگی کی حرکت پیدا ہوئی اور وہ اس قابل ہوئے کہ فلسطینیوں کے مقابل میں کھڑے ہو سکیں اور اپنے ان شہروں کو ان سے واپس لے سکیں ‘ جن کو خود خالی کر کے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔
سموئیل میں یہ داستان بہت پھیلی ہوئی ہے۔ ہم اس کے کچھ ضروری حصے یہاں نقل کرتے ہیں جن سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے جو ہم نے اوپر پیش کیا ہے۔
فلسطینیوں سے بنی اسرائیل کی مرعوبیت ‘ ان کے ہاتھوں ان کے قتل عام اور خدا کے صندوق کے چھن جانے کا ذکر اس طرح ہوا ہے :
” اور فلستی لڑے اور بنی اسرائیل نے شکست کھائی اور ہر ایک اپنے ڈیرے کو بھاگا اور وہاں نہایت بڑی خونریزی ہوئی۔ کیونکہ تیس ہزار اسرائیل پیادے وہاں کھیت آئے اور خدا کا صندوق چھن گیا۔ “
(سموئیل باب 4‘ 10۔ 11)
خدا کے صندوق کے چھن جانے کا جو اثر بنی اسرائیل پر پڑا اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔
” اس خبر لانے والے نے جواب دیا اسرائیلی فلستیوں کے آگے سے بھاگے اور لوگوں میں بڑی خونریزی ہوئی اور تیرے دونوں بیٹے خفتی اور فیخ اس بھی مرگئے اور خدا کا صندوق چھن گیا۔ جب اس نے خدا کے صندوق کا ذکر کیا تو وہ کرسی پر سے پچھاڑ کھا کر پھاٹک کے کنارے گرا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی …… اور کہنے لگی کہ حشمت اسرائیل سے جاتی رہی۔ اس لیے کہ خدا کا صندوق چھن گیا تھا اور اس کا خسر اور خاوند جاتے رہے تھے سو اس نے کہا کہ حشمت اسرائیل سے جاتی رہی کیونکہ خدا کا صندوق چھن گیا ہے۔ “ (سموئیل باب 4‘ 17۔ 22)
اس حادثہ کے بعد بنی اسرائیل پر پورے بیس سال تک خوف وبزدلی اور نوحہ و ماتم کی جو مرونی طاری رہی اور پھر سموئیل نبی نے ان کے اندر اصلاح و تجدید کی جو دعوت بلند کی ‘ اس کا ذکر اس طرح آتا ہے۔
” اور جس دن سے صندوق قریت یعریم میں رہا تب سے ایک مدت ہوگئی یعنی بیس برس گزر گئے اور اسرائیل کا سارا گھرانا خدا وند کے پیچھے نوحہ کرتا رہا اور سموئیل نے اسرائیل کے سارے گھرانے سے کہا کہ اگر تم اپنے سارے خدا وند کی طرف رجوع لاتے ہو تو اجنبی دیوتائوں اور عتارات کو اپنے بیچ سے دور کرو اور خدا وند کے لیے اپنے دلوں کو مستعد کر کے فقط اسی کی عبادت کرو اور وہ فلستیوں کے ہاتھوں سے تمہیں رہائی دے گا۔ تب بنی اسرائیل نے بعلیم اور عتارات کو دور کیا اور فقط خداوند کی عبادت کرنے لگے۔ پھر سموئیل نے کہا کہ سب اسرائیل کو مصفاہ میں جمع کرو اور میں تمہارے لیے خداوند سے دعا کروں گا۔ “ (سموئیل باب 7‘ 2۔ 6)
اس اجتماعی توبہ و استغفار اور تنظیم و اتحاد کے بعد بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلستیوں کے مقابل میں کھڑے ہو سکیں اور ان کو شکست دے کر ان سے اپنے چھنے ہوئے شہر اور ساتھ ہی اپنی چھنی ہوئی حشمت واپس لے سکیں۔ بنی اسرائیل کی اس نئی زندگی کا ذکر اس طرح آتا ہے :
” اور سموئیل بنی اسرائیل کے لیے خدا وند کے حضور فریاد کرتا رہا اور خداوند نے اس کی سنی اور جس وقت سموئیل اس سوختی قربانی کو گزران رہا تھا اس وقت فلستی اسرائیلیوں سے جنگ کرنے کو نزدیک آئے لیکن خداوند فلستیوں کے اوپر اس دن بڑی کڑک کے ساتھ گرجا اور ان کو گھبرا دیا اور انھوں نے اسرائیلیوں کے آگے شکست کھائی اور اسرائیل کے لوگوں نے مصفاہ سے نکل کر فلستیوں کو رگیدا اور بیت کر کے نیچے تک انھیں مارتے چلے گئے… سوفلستی مغلوب ہوئے اور اسرائیل کی سرحد میں پھر نہ آئے اور سموئیل کی زندگی بھر خداوند کا ہاتھ فلستیوں کے خلاف رہا۔ اور عقون سے جات تک کے شہر جن کو فلستیوں نے اسرائیلیوں سے لے لیا تھا وہ پھر اسرائیلیوں کے قبضہ میں آئے اور اسرائیلیوں نے ان کی نواحی بھی فلستیوں کے ہاتھ سے چھڑا لی۔ “ (سموئل باب 7‘ 10۔ 14)
ہمارے نزدیک تاریخ بنی اسرائیل کا یہی جز ہے جس کی طرف آیت زیر بحث میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جب انھوں نے خوف اور بزدلی کی زندگی اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ایمانی و اخلاقی موت کے حوالہ کردیا جس کی تعبیر مُوْتُوْا سے فرمائی۔ یہ معاملہ ٹھیک ٹھیک اس سنت اللہ کے مطابق ہوا جس کی طرف فَلَمَّا زَاغُوْا اَذَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبُہُمْ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی جب انھوں نے گمراہی پسند کی تو ان کو گمراہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ پھر جب ان کے اندر تجدید و احیائے ملت کی دعوت اٹھی اور انھوں نے از سر نو ایمان و اسلام کی حیات تازہ اختیار کرلینے کا عزم کرلیا تو اللہ نے ان کو از سر نو زندہ و متحرک کردیا۔ اسی چیز کو یہاں ثُمَّ اَحْیَاہُمْ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اسی اصول پر ہے اگر کوئی قوم اپنے لیے ذلت و نامرادی کو پسند کرتی ہے تو خدا اس کو ذلت و نامرادی کے حوالہ کردیتا ہے اور اگر کوئی قوم عروج و سربلندی کی طالب ہوتی ہے اور اس طلب کے جو تقاضے ہیں ان کو پورا کرنے کی ہمت دکھاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو عزت و سربلندی بخشتا ہے اور یہ مرتبہ دے کر اس کو امتحان کرتا ہے۔ “
3 تیسرا نقطہ نگاہ یہ کہ ہے یہ اشارہ بنی اسرائیل کے واقعہ خروج کی طرف ہے۔ سورة مائدہ کے چوتھے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ یہ لوگ بہت بڑی تعداد میں مصر سے نکلے تھے دشت و بیاباں میں بےخانماں پھر رہے تھے خود ایک ٹھکانے کے لیے بےتاب تھے۔ مگر جب اللہ کے ایماء سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ ظالم کنعانیوں کو ارض فلسطین سے نکال دو اور اس علاقے کو فتح کرلو تو انھوں نے بزدلی دکھائی اور آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے انھیں چالیس سال تک زمین میں سرگرداں پھرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ ان کی ایک نسل ختم ہوگئی اور دوسری نسل صحرائوں کی گود میں پل کر اٹھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے انھیں کنعانیوں پر غلبہ عطا فرمایا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی معاملے کو موت اور دوبارہ زندگی کے الفاظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یعنی ان کی پہلی نسل کا اس بیابان کی چالیس سالہ سیاحت میں مرجانا ‘ یہ ان کے لیے اللہ کا عذاب تھا۔ جس کا وہ شکار ہوگئے۔ اور پھر انہی کی نسل کو ایمان کی قوت سے بہرہ ور کرنا اور پیغمبر کے ہدایت کے مطابق جہاد کے ذریعے ان کا کنعانیوں پر غلبہ حاصل کرنا یہ وہ زندگی ہے جو اللہ نے دوبارہ ان کو عطا فرمائی۔
حاصل کلام یہ کہ اس آیت میں بیان کردہ واقعے سے کوئی واقعہ بھی مراد ہو وہ مقصود نہیں ہے۔ مقصود اصل میں وہ عبرت اور وہ سبق ہے جو یہ آیت مسلمانوں کو دے رہی ہے۔ کہ تم زندگی اور موت کو اللہ کے قبضے میں سمجھو اور موت سے ڈر کر کبھی بزدلی نہ دکھائو۔ نیز اس بات کا بھی یقین کرلو کہ اللہ کے کام کسی کے محتاج نہیں ہوتے اگر تم اپنی زندگی کی محبت میں اللہ کے راستے میں جہاد و قتال سے منہ پھیرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں مٹا کر تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے گا جو تمہاری طرح نہیں ہوگی بلکہ اللہ کے راستے میں وہ ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوگی۔ تمہیں اگر محرومیوں سے بچنا ہے اور حقیقی زندگی مطلوب ہے تو پھر تمہیں آگے بڑھ کر اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے علم جہاد بلند کرنا چاہیے۔
Ayahs 2:244–245وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَـہٗٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً ط وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَـبْصُطُ س ص وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔
(اور قتال کرو اللہ کے راستے میں اور خوب جان لو کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے، تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے، اللہ ہی گھٹاتا ہے اور اللہ ہی بڑھاتا ہے، اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) (244 تا 245)
قتال کا حکم
دوسروں کے واقعات سے مسلمانوں کے سامنے جہادو انفاق کی اہمیت اور اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات پر قابو پانے کا جذبہ ابھار کر اب اصل حکم ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں اللہ کے راستے میں قتال کرو تمہارے سامنے کفر کی طاقتیں پوری طرح مسلح ہوچکی ہیں اور وہ تمہیں ہر ممکن طریقے سے ختم کردینے پر تلی ہوئی ہیں۔ ان کی بےدینی اور ان کا شرک انھیں تمہاری بیخ کنی پر ابھار رہا ہے اور تم لوگ جو اللہ کے سپاہی ہو اور جنھیں دنیا میں ایک صالح انقلاب برپا کرنا ہے تمہارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ تم سر دھڑ کی بازی لگا دو اور اللہ کے راستے میں ہر طرح کے مصائب کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اور جہاد و قتال سے اپنے دشمنوں پر یہ ثابت کردو کہ تم مخالفتوں اور مشکلات سے گبھرانے والے نہیں ہو۔ اور نہ دشمنوں کی کثرت تمہیں ہراساں کرسکتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات یاد رکھو کہ اللہ سننے والا ہے جاننے والا ہے۔ تم اپنے اللہ سے جو مانگو گے وہ اسے سنے گا اور اس کے بارے میں جس طرح کا احساس رکھو گے وہ اسے بھی جانتا ہے۔ دلوں میں چھپی ہوئی باتوں سے وہ آگاہ ہے۔ اس لیے اگر تم اس سے وابستگی کا حق ادا کرنا چاہتے ہو تو پھر اپنے دلوں کی دنیا کو اسی کی محبت ‘ اسی کی یاد اور اسی کے لیے غیرت سے آباد کرو۔ وہ تمہاری ہر حالت سے واقف ہے اس لیے کبھی اپنے آپ کو بےبس اور بےکس نہ سمجھو۔
انفاق کا حکم
دوسری آیت کریمہ میں انفاق کا حکم دیا۔ کیونکہ جس طرح حق کی سربلندی کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑتا ہے اسی طرح جہاد و قتال کی تیاری کے لیے انفاق بھی کرنا ضروری ہے۔ مومن کا بھروسہ اگرچہ اللہ پر ہوتا ہے لیکن اسے اسلحہ جنگ کی بہرصورت ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ کی نصرت و تائید اپنی جگہ لیکن فوج کے مصارف کے لیے پیسے کی ضرورت تو ناگزیر ہے۔ اس لیے یہاں قتال کے بعد انفاق کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن اس کا ذکر ایسے دلنواز انداز میں کیا کہ اس سے جھوم اٹھنے کو جی چاہتا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرو بلکہ فرمایا کہ جہاد و قتال کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہے بتائو تم میں سے کون اللہ کو قرض دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے تم جو بھی اس راستے میں خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس کی واپسی کی ضمانت دیتا ہے۔ کیونکہ قرض ایسی رقم یا ایسی چیز کو کہتے ہیں کہ جس کی واپسی قرض لینے والے پر ضروری ہوتی ہے۔ ایک مومن جب اللہ کے راستے میں انفاق کرتا ہے تو وہ حقیقت میں اللہ کو قرض دیتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ پابند ہے کہ وہ یہ قرض دوگنا چوگنا کر کے قرض دینے والے کو واپس کرے۔ اللہ کی عنایات اپنے بندوں پر بےپایاں ہیں جن ان کا شمار ممکن نہیں۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ کسی شخص کے پاس بھی اگر کوئی مال و دولت ہے تو وہ اس کا اپنا نہیں بلکہ اللہ کا عطیہ ہے۔ اس کی دین اور بخشش ہے۔ اگر اللہ ہی کے راستے میں اسے خرچ کیا جائے تو وہ تو امانت کی ادائیگی کی ایک صورت ہے۔ لیکن اس کا کرم ملاحظہ کیجئے کہ وہ اپنے دیے ہوئے مال کو اپنا نہیں بلکہ مال داروں کا ارشاد فرما رہا ہے۔ اور پھر ان سے انھیں پر خرچ کیا جانے والا اپنے ذمے قرض ٹھہرا رہا ہے کہ تم اطمینان سے اللہ کے راستے میں خرچ کرو میں ذمہ داری قبول کرتا ہوں کہ تمہاری ایک ایک پائی اس طرح واپس ہوگی کہ اس میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہوگا۔ حدیث میں اس کو مثال سے واضح فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” جب کوئی بندہ میرے راستے میں میرے نام پر دیتا ہے تو میں اسے دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہوں اور پھر اسے اس طرح بڑھاتا ہوں جیسے تم اپنے گھوڑوں کے بچوں کو پالتے ہو۔ اور وہ میرے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے اتنا عظیم ہوجاتا ہے کہ احد پہاڑ بھی اس کے مقابلے میں پست ہوجاتا ہے۔ “ مزید اس بات پر توجہ فرمایئے کہ یہاں قرض کو قرض حسن سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرض دینے والا دل کی آمادگی اور خلوص نیت سے قرض دے۔ وہ محض چھدہ نہ اتارے بلکہ وہ اللہ کے راستے میں خرچ کر کے خوشی محسوس کرے۔ اور قرض بھی ایسے مال میں سے دے جو حلال اور طیب ہو۔ اور اللہ کے راستے میں وہ چیز دے جو اسے انتہائی پسند ہو۔ قرآن و سنت کی یہی وہ ترغیبات ہیں جس کے نتیجے میں صحابہ کرام اپنا سب کچھ اللہ کے راستے میں لٹا دینے کے لیے تیار رہتے تھے۔ ایک صحابی ہیں جن کا نام ابو الدحداح ( رض) ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے پوچھا اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض مانگتے ہیں حالانکہ وہ قرض سے مستغنی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ اس کے ذریعے سے تم کو جنت میں داخل کردیں۔ ابو الدحداح ( رض) نے یہ سن کر کہا اللہ کے رسول ہاتھ بڑھائیں آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ ابوالدحداح ( رض) نے یہ کہنا شروع کیا میں کھجور کے دو باغوں کا مالک ہوں۔ اس کے علاوہ میری ملک میں کچھ نہیں۔ میں اپنے یہ دونوں باغ اللہ تعالیٰ کو قرض دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا ایک اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کردو اور دوسرا اپنے اہل و عیال کی معاشی ضرورت کے لیے باقی رکھو۔ ابو الدحداح ( رض) نے کہا آپ ﷺ گواہ رہیے ان دونوں میں سے بہترین باغ جس میں کھجور کے 600 درخت ہیں اس کو میں اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے اس پر نہایت مسرور ہو کر فرمایا : کم من عذقٍ رداحٍ و دار فیاحٍ لاب الدحداح (کھجوروں سے لبریز بیشمار درخت اور کشادہ محلات کس قدر ابوالدحداح کے لیے تیار ہیں) ابو الدحداح ( رض) گھر تشریف لائے ‘ آپ ( رض) کا گھر چونکہ باغ کے اندر تھا اس لیے باغ کے کنارے کھڑے ہو کر آواز دی ” یا ام الدحداح ! اے دحداح کی ماں ! بچوں کو لے کر باہر آجاؤ میں یہ باغ اللہ کو قرض دے چکا ہوں۔ “ بیوی یہ سن کر نہایت خوش ہوئیں اور کہنے لگیں ” اے دحداح کے ابا ! آپ نے بہت اچھا سودا کیا۔ “
Ayah 2:246اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَائِ مِنْ م بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ مِنْ م بَعْدِ مُوْسٰی م اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّھُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط قَالَ ھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا ط قَالُوْا وَمَا لَـنَـآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دَیَارِنَا وَاَبْنَـآئِنَا ط فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِالظّٰلِمِیْنَ ۔
کیا تم نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو نہیں دیکھا جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انھوں نے اپنے ایک نبی سے کہا کہ آپ ہمارے لیے ایک امیر مقرر کر دیجئے تاکہ ہم اللہ کے راستے میں لڑیں۔ نبی نے کہا کہیں ایسا نہ ہو کہ فرض کردیا جائے تم پر جہاد تو تم جہاد نہ کرو۔ وہ کہنے لگے بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے حالانکہ کہ ہم نکالے گئے اپنے گھروں سے اور اپنے بچوں سے۔ پس جب ان پر فرض کردیا گیا جہاد تو منہ پھیرلیا انھوں نے ‘ ان میں سے چند لوگوں کے سوا۔ اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو) (246)
بنی اسرائیل کا مطالبہ
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْاکی وضاحت کرتے ہوئے ہم عرض کرچکے ہیں کہ بعض اہل تفسیر کا یہ خیال ہے کہ اس آیت کریمہ میں جن لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی طرف حضرت سموئیل (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ یہ قوم اپنے بگاڑ میں اس انتہا کو پہنچ چکی تھی کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ لوگ ایمانی اور اخلاقی لحاظ سے اپنی موت مرچکے تھے۔ حضرت سموئیل (علیہ السلام) نے برسوں ان میں کام کیا تو ان کی اصلاحی کوششوں سے ان کے اندر زندگی کی رو دوڑی۔ انھوں نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ اب ان میں یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ ہم نے خواہشات نفس کی تعمیل میں جو اب تک زندگی گزاری ہے وہ انسانیت کی موت سے کم نہ تھی۔ اب اللہ نے حضرت سموئیل (علیہ السلام) کی کوششوں کے نتیجے میں ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے ہم اب تک اپنی عیاشیوں اور بےعملیوں کے باعث ملک کے بہت سے حصے دشمنوں کے قبضے میں دے چکے ہیں ‘ انھیں دوبارہ چھڑانے کی کوشش کرنی چاہیے اور زندہ قوموں کی طرح آزادی کی زندگی گزارنے کی سعی کرنی چاہیے۔ چناچہ ان اہل تفسیر کے خیال میں یہ اسی قوم کے اشراف ہیں جنھیں ” الْمَلَائِ “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ملاء سے مراد قوم کے روساء و شرفاء ہوتے ہیں۔ اور بعض دفعہ ایسی جماعت پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جو کسی ایک نظریہ پر اتفاق کرچکی ہو۔ دونوں معنوں میں سے کوئی معنی بھی مراد لیا جائے۔ بات ایک ہی ہے کہ اس قوم کے اشراف اور بڑے بڑے لوگ اپنے وقت کے پیغمبر حضرت سموئیل (علیہ السلام) کے پاس گئے۔ اور اگر دوسرے اہل تفسیر کی وضاحتوں کو دیکھا جائے تو متذکرہ بالا آیت کے بارے میں ان کی رائے اگرچہ دوسری ہے لیکن اس آیت کی وضاحت میں وہ بھی قوم سموئیل ہی مراد لیتے ہیں۔
ان کے ملک کے کئی شہروں پر فلستیوں اور عمالقہ نے قبضہ کرلیا تھا۔ ان میں بیداری پیدا ہونے کے بعد اگرچہ انھوں نے کئی شہروں کو واگزار کروایا لیکن اب تک بھی کئی شہر ان کے قبضے میں تھے۔ اور فلستیوں کے علاوہ موآب ‘ بنی عمون ‘ دوم اور ضوباہ کے بادشاہوں سے بھی انھیں ہر وقت اندیشہ رہتا تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً ان کی سرحدوں پر حملے کرتے رہتے تھے اور کسی نہ کسی سرحدی علاقے پر قبضہ کرلیتے تھے۔ بنی اسرائیل کی اس جماعت نے جب یہ دیکھا کہ ہم اتنے بڑے بڑے دشمنوں میں گھر گئے ہیں اور ہمارے قائد اللہ کے نبی حضرت سموئیل (علیہ السلام) اب اس قدر بوڑھے ہوچکے ہیں کہ وہ جنگ میں ہماری قیادت نہیں کرسکتے اور ان کے بیٹے اپنے باپ کے طریقے پر نہیں ہیں اس لیے ان سے بھی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔ چناچہ انھوں نے اس کا ایک ہی حل دیکھا اور حضرت سموئیل (علیہ السلام) سے ایک ” مَلِکْ “ مقرر کرنے کی درخواست کی جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تین صدیوں بعد اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تقریباً گیارہ سو سال پہلے کا ہے۔
مَلِکْ کا مفہوم
آیت کریمہ میں چونکہ مَلِکْ کا لفظ آیا ہے اس لیے بعض لوگوں کو اس سے یہ خیال پیدا ہوا کہ اسلام شاید ملوکیت اور بادشاہت کا حامی ہے۔ اسی خیال کے پیش نظر انھوں نے اسلامی نظام کو شاہی نظام سے تعبیر کرنا شروع کردیا۔ حالانکہ ہمارے اکثر مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ بات واضح کی ہے کہ ملک سے مراد کوئی مطلق العنان بادشاہ نہیں۔ کیونکہ وہ لوگ حضرت سموئیل (علیہ السلام) کو نبی کے ساتھ ساتھ اپنا حکمران بھی مانتے تھے۔ اس لیے انہی سے درخواست کی گئی تھی کہ آپ ہمارے لیے ایک امیر یعنی سپہ سالار مقرر کردیں جس کی قیادت میں ہم دشمنوں سے جہاد کریں اور اپنے شہروں کو وا گذار کرائیں۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ ان کے علاقے ہی فلستیوں یا عمالقہ کے قبضے میں نہیں تھے بلکہ وہ ان کا صندوق بھی چھین کرلے گئے تھے جسے تابوتِ سکینہ کہا جاتا تھا۔ اس میں تورات کا حجری نسخہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے کچھ تبرکات ‘ عصائے موسیٰ اور صحرائی زندگی کی کچھ علامات تھیں۔ اس صندوق کی حیثیت بنی اسرائیل میں کعبۃ اللہ کی تھی۔ وہ نمازوں کے وقت خیمہ عبادت میں اسے اپنے سامنے رکھتے تھے۔ جنگوں میں بھی اللہ سے مدد طلب کرنے کے لیے اس تابوت کو فوجوں کے سامنے رکھا جاتا۔ اس تابوت کے چھن جانے سے یوں سمجھئے کہ ان کے کعبے پر قبضہ کرلیا گیا تھا اس لیے بنی اسرائیل میں جیسے ہی دینی حس بیدار ہوئی انھیں اپنے شہروں سے بھی زیادہ اس بات کا صدمہ ہوا کہ تابوتِ سکینہ ہم سے چھن چکا ہے ہمیں بہرصورت اسے واپس لینا چاہیے اس لیے انھوں نے اپنے لیے ایک سپہ سالار مقرر کرنے کی درخواست کی۔ اور اس درخواست میں یہ بھی وضاحت موجود تھی کہ آپ ہی اسے مقرر فرمائیں اور آپ ہی کی ہدایت و رہنمائی کے مطابق وہ ملک کا نظام چلائے ‘ ان کی شیرازہ بندی کرے اور چھنے ہوئے علاقوں کو واپس لے۔ ان باتوں پر غور کرنے سے ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ ملک کے اصل حکمران حضرت سموئیل (علیہ السلام) تھے ‘ یہ نیا تجویز کردہ شخص ملک کا حکمران نہیں بلکہ ماتحت تھا۔ یہ بات سمجھ لینے کے بعد اسلام پر ملوکیت کے الزام کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اسلام کے سیاسی نظام میں اصل اہمیت اس کی صورت کی نہیں بلکہ اس کی روح کی ہے۔ اگر اس کی روح خدا اور اس کے رسول کے قانون کے تابع ہے تو وہ قابل ستائش ہے ‘ اس کی شکل کچھ بھی ہو۔ اور اگر اس کی روح خدا اور اس کے رسول کی باغی ہے تو وہ قابل مذمت ہے ‘ عام اس سے کہ وہ ملوکیت ہے یا جمہوریت۔
بنی اسرائیل کے اشراف کی درخواست کے جواب میں حضرت سموئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر ایک امیر مقرر کردیا جائے اور جہاد فرض کردیا جائے ‘ لیکن پھر تم جہاد سے انکار کردو۔ کیونکہ حضرت سموئیل (علیہ السلام) اپنے تجربات اور فراست سے اس بات سے آگاہ تھے کہ بنی اسرائیل کی اصل کمزوری یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی اچھا سپہ سالار نہیں ہے جو میدانِ جنگ میں ان کی قیادت کرسکے بلکہ ان کی اصل کمزوری یہ ہے کہ جنگ کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے اندر عزم و ایمان نہیں ہے۔ اس لیے آپ نے امیر مقرر کرنے سے پہلے صاف صاف ان کے سامنے اپنے اندیشے کا اظہار کردیا۔ لیکن انھوں نے جواب میں بڑے جوش و جذبے کا اظہار کیا۔ کہ آپ نے یہ بات کیسے کہہ دی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمیں جہاد کا حکم دیا جائے اور ہم اس سے انکار کردیں۔ جبکہ ہمارے بچے تک دشمن کے قبضے میں ہیں۔ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے ‘ ہمارے کتنے شہروں پر ان کا قبضہ ہے ‘ ہم تو غیرت سے کھول رہے ہیں کہ کب ہمیں موقع ملے اور ہم دل کے ارمان نکالیں۔ لیکن جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو حضرت سموئیل (علیہ السلام) کے اندیشے صحیح ثابت ہوئے کہ ان میں سے بیشتر لوگوں نے ہمت ہار دی اور قسم قسم کے بہانے بنا کر جنگ سے فرار کا راستہ نکالا۔ ایک قلیل تعداد ان لوگوں کی رہ گئی جو اس میدان میں ہر طرح کے مصائب برداشت کرنے اور جہاد کا حق ادا کرنے پر آمادہ ہوئی۔ اگلی آیات کریمہ میں ان کے اسی رویے کو بیان کیا گیا ہے۔ لیکن ان آیات سے مسلمانوں کے سامنے ایک ایسی قوم کی تاریخ کا آئینہ رکھا جا رہا ہے جس میں انسانی خوبیاں اور انسانی کمزوریاں پہچانی جاسکتی ہیں۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ قومیں جب زوال کا شکار ہوتی ہیں تو پیغمبر کی کاوشیں ان کو اٹھا تو دیتی ہیں لیکن جب تک ان میں تربیت کا عمل مکمل نہیں ہوتا ان کی طبعی اور اخلاقی کمزوریوں پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ مسلمانوں کو چونکہ جہاد و قتال کا حکم دیا جا رہا ہے اور انھیں بنی اسرائیل سے بھی بڑھ کر معرکے درپیش ہیں۔ بنی اسرائیل کے سامنے تابوتِ سکینہ کی واگذاری کا مسئلہ تھا اور مسلمانوں کو بھی اللہ کا گھر واپس لینا ہے۔ یہ بھی اللہ کے دین کی خاطر اپنے وطن اور گھروں سے نکالے گئے تھے۔ اس لیے اس قوم کی تاریخ جو انہی کی طرح حامل دعوت امت تھی بیان کی جا رہی ہے کہ امت مسلمہ کو قیامت تک فکر مند رہنا چاہیے کہ ان کے اندر اس طرح کی دینی بےحسی اور اخلاقی کمزوری نہ پیدا ہونے پائے۔ جس سے وہ عملی زندگی میں اپنا کردار پوری طرح ادا نہ کرسکیں۔
Ayahs 2:247–248وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَـکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا ط قَالُوْٓا اَنّٰی یَکُوْنُ لَـہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْـکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ ط قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰـہُ عَلَیْکُمْ وَ زَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ط وَاللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْـکَہٗ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖٓ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّـکُمْ وَ بَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ھٰرُوْنَ تَحْمِلُـہٗ الْمَلٰٓئِکَۃُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ ع
(اور ان کے نبی نے ان کو بتایا کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو امیر مقرر کردیا ہے۔ وہ بولے کہ بھلا اس کی امارت ہمارے اوپر کیسے ہوسکتی ہے جبکہ اس سے زیادہ اس امارت کے ہم حقدار ہیں اور اسے تو مال کی وسعت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا بیشک اللہ نے تمہاری سرداری کے لیے اسی کو چنا ہے اور اس کو علم اور جسم دونوں میں کشادگی عطا فرمائی ہے۔ اللہ اپنی طرف سے جسے چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔ اور ان کے نبی نے ان سے کہا اس کی امارت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے سامانِ تسکین اور آل موسیٰ اور آل ہارون کی چھوڑی ہوئی یادگاریں ہیں۔ صندوق کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو) ( 247 تا 248)
طالوت کا تقرر اور بنی اسرائیل کے اعتراضات
اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل کے مطالبے کے مطابق ان پر امیر مقرر کرنے کا ذکر ہے اور ساتھ ہی ان کی ان کمزوریوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر دور میں اللہ کے غضب کا شکار ہوتے رہے۔ اور دوسری قوموں کے ہاتھوں بالعموم ذلیل ہوتے رہے۔ گزشتہ آیت میں ان کا مطالبہ بیان کیا گیا ہے کہ انھوں نے حضرت سموئیل سے کہا اب آپ بوڑھے ہوچکے ہیں اور ہم چہار اطراف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہمیں ایک ایسا امیر چاہیے جو جنگ میں ہماری قیادت کرسکے۔ جس سے ہم اپنی کھوئی ہوئی عزت اور وقار بحال کرسکیں۔ چناچہ ان کے مطالبے کے مطابق حضرت سموئیل (علیہ السلام) نے ان پر طالوت کو امیر مقرر فرمایا۔ بعض محققین کی تحقیق کے مطابق طالوت اصل میں طولوت ہے۔ جس کا معنی ہوتا ہے ” لمبا تڑنگا “ طالوت کے بارے میں تورات کا بیان ہے کہ یہ شخص بنی اسرائیل میں سب سے قدآور اور سب سے لمبا تھا۔ یہ لوگوں کے ہجوم میں کھڑا ہوتا تو سب سے لمبا دکھائی دیتا۔ قامت کی اس طوالت کے باعث لوگوں میں وہ طالوت کے نام سے مشہور ہوگیا۔ اس لحاظ سے معلوم ہوتا ہے طالوت اس کا لقب تھا اور اس کا نام تورات کی روایت کے مطابق سائول تھا۔ قرآن کریم نے اس کے لقب کا ذکر کیا ہے اور تورات نے اس کے نام کا۔ آیت کریمہ میں طالوت کے تقرر کے لیے بَعَثَ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ طالوت کا تقرر حضرت سموئیل نے اللہ کے حکم کے مطابق کیا تھا۔ کیونکہ بائبل نے اس کی تصریح کی ہے کہ ” طالوت اپنے باپ کے گمشدہ گدھے ڈھونڈنے نکلا تھا۔ راستے میں جب سموئیل نبی کی قیام گاہ کے قریب پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے نبی کو اشارہ کیا کہ یہی شخص ہے جس کو ہم نے بنی اسرائیل کی امارت کے لیے منتخب کیا ہے۔ چناچہ سموئیل نبی اس کو اپنے گھر لائے ‘ تیل کی کپی لے کر اس کے سر پر انڈیلی اور اسے چوما اور کہا کہ خداوند نے تجھے مسح کیا تاکہ تو اس کی میراث کا پیشوا ہو۔ اس کے بعد انھوں نے بنی اسرائیل کا اجتماع عام کر کے اس کی بادشاہی کا اعلان کیا۔ “ (سموئیل : باب 9۔ 10) اس اعلان کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بنی اسرائیل خوشی سے طالوت کے تقرر کو قبول کرتے اور اپنے پیغمبر کا شکریہ ادا کرتے لیکن انھوں نے اپنی قومی عادت کے مطابق اعتراضات کرنا شروع کیے۔ پہلا اعتراض یہ کیا کہ طالوت ہمارا امیر کیسے ہوسکتا ہے۔ ہم ہر لحاظ سے اس سے زیادہ امارت کے مستحق ہیں۔ اس اعتراض سے مراد ان کی یہ تھی کہ بنی اسرائیل کی روایت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ نبی ہمیشہ بنی لاوہ کے خاندان سے ہوتا اور امیر یا بادشاہ ہمیشہ بنی یہودا میں سے ہوتا۔ اور طالوت ان دونوں خاندانوں میں سے کسی سے بھی تعلق نہیں رکھتے تھے۔ وہ بنی یامین کے خاندان کی سب سے چھوٹی شاخ کے فرد تھے اور بنی اسرائیل میں چونکہ خاندانی نسبتیں ہندوئوں کی طرح ذات پات کی حیثیت اختیار کرگئی تھیں اس لیے وہ اس کی مخالفت کو کم ہی برداشت کرتے تھے۔ جس طرح ہندوئوں میں یہ تقسیم ہے کہ ان کا مذہبی راہنما برہمن ہونا چاہیے اور ان کے دنیوی حکمران کا تعلق کھشتری خاندان سے ضروری ہے۔ اگر وہ کسی اور خاندان سے تعلق رکھتا ہے تو وہ اس کی حکومت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ بنی اسرائیل نے اسی حوالے سے اعتراض کیا کہ طالوت تو کسی طرح ہمارے حکمران نہیں ہوسکتے۔ اور تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ طالوت کو اپنی اس کمزوری کا خود بھی احساس تھا۔ چناچہ تورات کی روایت کے مطابق انھوں نے حضرت سموئیل کے سامنے نہایت خاکساری کے ساتھ یہ الفاظ کہے :
” سائول نے جواب دیا کیا میں بنیامینی یعنی اسرائیل کے سب سے چھوٹے خاندان سے نہیں ہوں ؟ اور کیا میرا گھرانہ بنیامین کے سب گھرانوں سے چھوٹا نہیں ہے ؟ “
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی سمجھتے تھے کہ بنی یہوداہ کے خاندان سے باہر کے آدمی کو بنی اسرائیل قبول نہیں کریں گے۔
دوسرا اعتراض ان کا یہ تھا کہ چلیے اگر یہ شخص کسی بڑے خاندان سے تعلق نہیں رکھتا تو پھر اسے بڑا مالدار ہونا چاہیے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں عزت و وجاہت کے دو ہی حوالے تھے بڑا خاندان یا دولت و امارت۔ اور حضرت طالوت بڑائی کے ان دونوں حوالوں سے خالی تھے۔ اس لیے انھوں نے کہا کہ وہ تو ایک غریب آدمی ہیں یہ کیسی عجیب بات ہے کہ بڑے بڑے خاندانی لوگوں اور بڑے بڑے امراء کو چھوڑ کر آپ انھیں ہم پر بادشاہ بنا رہے ہیں۔ قریش بھی آنحضرت ﷺ پر جو اعتراض کرتے تھے یا آپ کی نبوت کو جن اسباب کے تحت رد کرتے تھے ان میں سب سے بڑا حوالہ یہی ہوتا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو کسی کو نبی بنانا ہی ہوتا تو وہ طائف کے رئیسوں میں سے کسی کو بناتایا قریش کے کسی رئیس کو بنا دیتا۔ آپ جیسا نادار اور قلاش آدمی کیا نبوت کے لیے منتخب کیا جاسکتا ہے ؟ نسب اور دولت یہ ایسے دو بت ہیں جنھیں ہر دور میں پوجا گیا۔ اور ہر دور کے انبیاء کرام نے انہی دونوں کے خلاف جہاد کیا۔ اور آنحضرت ﷺ نے تو اپنی تعلیم و تربیت سے صحابہ کرام میں ان دونوں باتوں کے خلاف شدید نفرت پیدا کی اور ایمان و عمل کو ایک مومن کے لیے اصل سرمایہ ٹھہرایا ہے ‘ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جب بھی پیغمبروں کی تعلیم و تربیت کو زوال پیش آتا ہے تو یہی دونوں بت پھر پجنا شروع ہوجاتے ہیں۔ حضرت سموئیل (علیہ السلام) نے ان کے اعتراضات کے جواب میں دو باتیں فرمائیں۔ ایک یہ کہ طالوت کا انتخاب امارت کے لیے میں نے نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ اس کے انتخاب کے بعد حیل و حجت اور قیل و قال ختم ہوجانی چاہیے میں تو اس کا پیغمبر ہوں اس لیے اسی کے احکام کی تعمیل کروں گا ‘ تم اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان لا چکے ہو اس لیے اس دلیل کے بعد تمہارے لیے طالوت کی امارت کو تسلیم کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ اور دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ حکومت کا نظام چلانے یا فوجوں کی کمان سنبھالنے کے لیے نہ تو کسی بڑے خاندان میں سے ہونا ضروری ہے اور نہ اس میں دولت کام آتی ہے۔ اس کے لیے تو دو باتوں کی ضرورت ہے علم اور شجاعت۔ کہ ایسا آدمی امیر ہونا چاہیے جس کے اندر ملکی انتظام چلانے ‘ قوم کی شیرازہ بندی کرنے اور دشمن کی سازشوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت موجود ہو اور دوسری یہ بات کہ وہ مشکل سے مشکل حالات کا سامنا کرسکتا ہو۔ بڑی سے بڑی جنگ میں ثابت قدمی کا ثبوت دے سکتا ہو۔ وہ ہمت و شجاعت کا پیکر ہو جس سے پوری قوم کو حوصلہ ملے اللہ کا شکر ہے کہ یہ دونوں باتیں طالوت میں موجود ہیں۔ اللہ نے اسے علم میں تم سب پر فوقیت دی ہے اور جہاں تک اس کی جسمانی وجاہت کا تعلق ہے تم خوب جانتے ہو کہ پوری بنی اسرائیل کی قوم میں نہ اس جیسا کوئی خوبصورت آدمی ہے اور نہ اس سے زیادہ تنومند اور بہادر یہ دوسری دلیل پہلی دلیل ہی کی طرح بڑا وزن رکھتی ہے۔ لیکن صاحب ایمان امت کے لیے اصل دلیل جس کے سامنے اس کی گردن جھک جانی چاہیے وہ پہلی دلیل ہے۔ اس لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا کہ اللہ جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے۔ اب اگر اللہ نے یہ چاہا ہے کہ وہ طالوت کو حکومت عطا کریں تو تم اس کے اختیار کو چیلنج نہیں کرسکتے۔ اس کا فیصلہ حرف آخر ہے تمہیں بہرصورت اس کی اطاعت کرنی ہے۔ لیکن بنی اسرائیل کا فساد اور بگاڑ اس حد کو پہنچ چکا تھا کہ پیغمبر کی موجودگی اور پیغمبر کے دلائل ان کے لیے موثر ثابت نہیں ہو رہے تھے۔ اس لیے اللہ کے پیغمبر نے اللہ کے حکم سے انھیں کہا کہ تم اگر طالوت کی امارت پر یکسو نہیں ہو رہے ہو تو تمہارے سامنے اللہ کی جانب سے ایک ایسا نشان ظاہر کیا جائے گا جس کا مطلب یہ ہوگا کہ طالوت کی امارت واقعی اللہ کی جانب سے ہے۔ اور وہ نشان یہ ہے کہ وہ تابوت جس میں تمہارے لیے اطمینان اور سکون ‘ حوصلہ اور فتح مندی کا سامان ہے اور جس میں آل موسیٰ اور آل ہارون کے تبرکات ہیں اسے فرشتے اٹھائے ہوئے تمہارے ملک میں پہنچا دیں گے جب کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ تم قوت سے دشمن سے اسے چھین لو۔
تابوتِ سکینہ کی حقیقت
میں اس سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ تابوت سکینہ ایک صندوق تھا جس میں اس آیت کی شہادت کے مطابق آل ہارون اور آل موسیٰ کے تبرکات تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں تو اس میں صرف وہ پتھر کی تختیاں تھیں جو اللہ نے لوح محفوظ پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی تھیں اور تورات کا وہ مکمل نسخہ تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لکھوا کر بنی اسرائیل کے سپرد کیا تھا۔ اور صحرائی زندگی کی وہ نعمتیں جو من وسلویٰ کی صورت میں نازل ہوئیں ان میں من کو ایک بوتل میں بند کر کے اس میں رکھ دیا گیا تھا تاکہ بعد میں آنے والی نسلیں اللہ کے انعامات کو یاد رکھیں۔ لیکن بعد کے لوگوں نے اس میں عصائے موسیٰ ‘ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عمامہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پارچات بھی اس صندوق میں رکھ دیے۔ بنی اسرائیل کے مصر سے خروج کے زمانے سے لے کر بیت المقدس کی تعمیر تک اسی صندوق کو بنی اسرائیل کے قبلہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ اس کو خیمہ عبادت میں ایک مخصوص مقام پر نہایت اہتمام کے ساتھ پردوں کے بیچ میں رکھتے اور تمام دعا و عبادت میں اسی کی طرف متوجہ ہوتے۔ ان کے ربی اور کاہن غیبی رہنمائی کے لیے اسی کو مرجع بناتے ‘ مشکل حالات ‘ قومی مصائب اور جنگ کے میدانوں میں بھی بنی اسرائیل کا حوصلہ قائم رکھنے میں اس صندوق کو سب سے بڑے عامل کی حیثیت رہی۔ سکینۃ کے لفظ سے اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی جنگ کی ہولناکیوں میں جب حوصلہ ٹوٹنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں جو استقلال اور ثبات کی کیفیت پیدا فرماتے ہیں قرآن کریم میں اسی کو سکینہ قرار دیا ہے۔ اس تابوت کے چھن جانے سے بنی اسرائیل یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہے اور ہمارے قومی وقار کے دن گنے جا چکے ہیں۔ پیغمبر کے اس وعدے پر کہ تابوتِ سکینہ طالوت کی امارت کی علامت کے طور پر تمہیں واپس مل جائے گا ‘ بنی اسرائیل بےحد خوش ہوئے۔ اور انھیں اطمینان ہوگیا کہ اگر یہ نشانی واقعی ظاہر کردی گئی تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہوگا کہ طالوت کو اللہ ہی نے ہم پر امیر مقرر کیا ہے اور انہی کے امارت کے تحت ہم جہاد کر کے اپنی کھوئی ہوئی عزت واپس حاصل کرسکتے ہیں۔ قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق اس کے بعد تفصیل بیان نہیں کی کہ وہ تابوت سکینہ کیسے واپس آیا۔ البتہ سیاق کلام خود بول رہا ہے کہ تابوتِ سکینہ واپس آگیا اور اسی کے بعد جناب طالوت نے اپنے دشمنوں کے خلاف چڑھائی کی۔ تورات نے تابوتِ سکینہ کی واپس کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اس میں اگرچہ فرشتوں کا ذکر نہیں بلکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ دو گائیاں اس چھکڑے کو جس پر تابوتِ سکینہ رکھا ہوا تھا بغیر کسی رہنما کے کھینچتی ہوئی سرحد پار کر گئیں اور بنی اسرائیل کے علاقے میں پہنچ گئیں۔ معمولی غور و فکر سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یقینا ان گائیوں کو راستہ دکھانے اور ہانکنے والے اور چھکڑے کی نگرانی کرنے والے فرشتے ہی ہوں گے جن کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے۔
تورات کا بیان یہ ہے :
” اب تم ایک نئی گاڑی بنائو اور دو دودھ والی گائیں ‘ جن کے جوا نہ لگا ہو لو اور ان گایوں کو گاڑی میں جو تو اور ان کے بچوں کو گھر لوٹا لائو اور خداوند کا صندوق لے کر اس گاڑی پر رکھو اور سونے کی چیزوں کو جن کو تم جرم کی قربانی کے طور پر ساتھ کرو گے ‘ ایک صندوقچہ میں کر کے اس کے پہلو میں رکھ دو اور اسے روانہ کردو کہ چلا جائے اور دیکھتے رہنا… سو ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور دو دودھ والی گائیں لے کر ان کو گاڑی میں جوتا اور ان کے بچوں کو گھر میں بند کردیا اور خداوند کے صندوق … اور صندوقچہ کو گاڑی پر رکھ دیا۔ ان گایوں نے بیت شمس کو سیدھا راستہ لیا۔ وہ سڑک ہی سڑک ڈکارتی گئیں اور داہنے یا بائیں نہ مڑیں اور فلستی سردار بیت شمس کی سرحد تک ان کے ساتھ گئے اور بیت شمس کے لوگ وادی میں گیہوں کی فصل کاٹ رہے تھے۔ انھوں نے جو آنکھیں اٹھائیں تو صندوق کو دیکھا اور دیکھتے ہی خوش ہوگئے۔ “ (سموئیل باب 6‘ 7۔ 12)
تورات کے اس بیان کو غور سے دیکھئے کہ تابوتِ سکینہ کو ایک چھکڑے پر رکھا گیا اور اسے کھینچنے کے لیے دو سدھائی ہوئی گائیاں نہیں ‘ بلکہ دودھ دینے والی گائیاں جنھیں چھکڑا کھینچنے کی کوئی تربیت نہیں دی گئی اور مزید یہ کہ ان کے بچے بھی ان سے الگ کر کے گھر میں بند کردیے گئے۔ جانوروں کی عادات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ مادہ گائے جب کہ اس کا بچہ دودھ پیتا ہو اسے کبھی اپنے سے الگ نہیں کرسکتی اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ بغیر کسی راہنما اور ہانکنے والے کے گائیوں نے سیدھا بیت شمس کا راستہ اختیار کیا ‘ نہ انھوں نے دائیں دیکھا نہ بائیں ‘ ڈکارتی ہوئی سیدھی بڑھتی چلی گئیں اور بنی اسرائیل کے علاقے میں داخل ہوگئیں۔ کیا ان میں سے ایک ایک لفظ یہ بتانے کے لیے کافی نہیں کہ یقینا ان گائیوں کی رہنمائی اللہ کی جانب سے کی جا رہی تھی ‘ فرشتے ان کے یقینا دائیں بائیں تھے جو ان کو راستہ دکھا رہے تھے اور یہی وہ بات ہے جو کہ قرآن کریم نے بتائی۔
آیتِ کریمہ کے آخر میں فرمایا کہ ظاہری اسباب کے بالکل برعکس تابوتِ سکینہ کا بنی اسرائیل کے علاقے میں پہنچ جانا یہ ایسی کھلی نشانی ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن انسان کا عجیب حال ہے۔ وہ پتھروں کے سامنے جھکتا ہے اور اپنے خالق ومالک کا انکار کرتا ہے۔ اس لیے کہ بڑی سے بڑی حقیقت اور کھلی سے کھلی نشانی کو تسلیم کرنے کے لیے ایمان ضروری ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اس سارے واقعے میں تمہارے لیے نشانی موجود ہے بشرطیکہ تم صاحب ایمان ہو۔