2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے اور جس نے کوئی نیکی خوشدلی کے ساتھ کی تو اللہ قبول کرنے والا اور جاننے والا ہے۔

اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِاللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْـبَیْتَ اَوِعْتَمَرَ فَـلَا جُنَاحْ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا ط وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا لافَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ۔ (البقرۃ : 158) (بےشک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے اور جس نے کوئی نیکی خوشدلی کے ساتھ کی تو اللہ قبول کرنے والا اور جاننے والا ہے ) اصل سلسلہ کلام کی طرف رجوع گزشتہ چند آیات سے پہلے سلسلہ کلام یہ جاری تھا کہ مسلمانوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تاریخ کے آئینہ میں یہ بتایا جارہا تھا کہ تم اس نبی آخرالزماں کی امت ہو جس نبی کی بعثت کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعائیں مانگی تھیں اور تم وہ امت ہو جسے اللہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس حوالے سے مانگا تھا کہ یہ امت ساری دنیا کی امام ہدایت بنائی جائے گی۔ اور تمہارے واسطے سے دنیا کو پیغام پہنچے گا جسے نبی آخرالزماں لیکر آئینگے اور تمہیں اس قبلہ کا وارث، متولی، اور پاسبان بنایا گیا ہے جسے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے تعمیر کیا تھا اور جس قبلہ کو آخری انقلاب کا مرکز بننا تھا اور یہ بھی بتایا گیا کہ یہی وہ قبلہ ہے جس کے چاروں طرف اللہ کی بندگی اور اس کے لیے سرفروشی کی داستانیں رقم ہیں اور جن کے پہاڑوں کے دامن میں قربانی اور ایثار کے نقوش اب تک روشن ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل کی دنیا کی امامت کے منصب سے معزولی اور اس امت کی اس منصب پر تقرری کے اعلان کے بعد بیت اللہ کو اس امت کا مستقل قبلہ اور مرکز ہدایت بنانے کا جب حکم دیا گیا تو اس کے نتیجے میں مخالفت وعناد کا جو طوفان اٹھنے والا تھا۔ اس سلسلہ بیان کو روک کر اس سے آگاہ کرنا اور اس کے مقابلے کے لیے مناسب ہدایات دینا ضروری سمجھا گیا چناچہ تحویلِ قبلہ کے حکم کے بعد یہ ہدایات دی گئیں اور ان مصائب کا مقابلہ کرنے والوں کو بشارتیں سنائی گئیں اور بالواسطہ انھیں کامیابیوں کی نوید دی گئی۔ اس آیت کریمہ سے دوبارہ پھر اس سلسلہ کلام کو بحال کیا جارہا ہے کیونکہ جس طرح اللہ کا گھر اس کے شعائر میں سے سب سے بڑا شعیرہ ہے اسی طرح اس کے اور بھی شعائر ہیں۔ جن کا تاریخی اور دعوتی تعلق جس طرح اللہ کے دین اور اللہ کی ذات کے ساتھ ہے اسی طرح اس گھر کے ساتھ بھی ہے۔ صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں صفا اور مروہ انھیں شعائر میں بےحد اہمیت رکھنے والے شعائر ہیں۔ کسی زمانہ میں مسجد حرام کے پاس یہ دو عظیم دو پہاڑیاں تھیں، لیکن اب معمولی بلندی کے ساتھ محض چٹان سی ہو کر رہ گئی ہیں۔ صفا حرم شریف کی داہنی جانب ہے اور مروہ بائیں جانب دونوں کے درمیان فاصلہ چارسو ترانوے ( 493) قدم یا تقریباً سات فرلانگ ہے۔ اس لیے تحویلِ قبلہ کا حکم دینے کے بعدان کا ذکر کرنا ضروری سمجھا گیا۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جس طرح بیت اللہ مسلمانوں کے لیے حج اور عمرہ کا حکم دے کر مرکز بنادیا گیا اور ہر سال مسلمانوں کے لیے حج کے لیے جانا اور کبھی کبھی عمرہ کے لیے جانا ضروری قرار دیا گیا تو صفا اور مروہ کے درمیان سعی چونکہ مناسکِ حج وعمرہ میں سے اہم منسک ہے۔ اس لیے قبلہ کے احکام کے ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ ضروری تھا کہ صفا اور مروہ کا بھی ذکر کیا جاتا اور ان کی اصل حیثیت بحال کی جاتی کیونکہ مشرکینِ عرب نے جس طرح بیت اللہ کو جسے اللہ نے ساری دنیا کے لیے توحید کا مرکز بنایا تھا بت خانہ بنادیا اور عرب بھر کے قبائل کے پسندیدہ بت لاکر وہاں رکھ دیئے تاکہ عرب قبائل میں سے کسی کو بھی بیت اللہ کی مرکزیت میں شبہ نہ رہے۔ لیکن اس حرکت کے ساتھ بیت اللہ کو بجائے توحید کا مرکز بنانے کے شرک اور بت پرستی کا تیرتھ بنادیا گیا۔ اسی طرح صفا اور مروہ بھی جو تسلیم ورضا کی تاریخ کا مرکز اور عبودیت اور سرفروشی کے نقوش سے زندہ ہے وہاں بھی اساف اور نائلہ کے دو بت لاکر صفا اور مروہ پر رکھ دئیے گئے اور ان کی پوجا شروع کردی گئی یعنی جن دو پہاڑیوں نے حضرت ہاجرہ کی بےتابانہ بھاگ دوڑ اور بوڑھے باپ اور نوعمر بیٹے کی سرفروشی دیکھی وہی اب بت پرستی کے مناظر بھی دیکھ رہی تھیں اور اس طرح سے ان پہاڑوں کی تاریخ کو یکسر بگاڑ کر توحید کو بگاڑنے کی مکروہ کوشش کی جارہی تھی۔ چناچہ ضروری تھا کہ جس طرح بیت اللہ کو حضرت ابراہیم کی تاریخ کے آئینہ میں توحید کا مرکز دکھایا گیا ہے اور مسلمانوں کو اس کی اصل حیثیت کی بحالی کا کام سونپا گیا ہے اسی طرح صفا اور مروہ کو بھی اصل حیثیت میں نمایاں کیا جاتا۔ اسی لیے تحویلِ قبلہ کے ذکر کے سلسلے میں، درمیان کے چند جملہ ہائے معترضہ کے بعد صفا اور مروہ کو شعائر اللہ کے طور پر ذکر کیا جارہا ہے تاکہ ان کے اصل مقام کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ شعائر اللہ کا تعارف شعائر، شعیرہ کی جمع ہے۔ جس کے معنی علامت یا کسی ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو کسی حقیقت کا احساس دلانے والی اس کا مظہر اور اس کا نشان ہو۔ چناچہ ہمارے دین میں جن چیزوں کو شعائر اللہ کہا گیا ہے اگر آپ ان کی حیثیت، حقیقت اور تاریخ پر غور کریں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ وہ واقعی اللہ کی یاد دلانے والی، اللہ کا شوق پیدا کرنے والی، اس کے دین کی طرف مائل کرنے والی اور اس کے راستے میں سرفروشی کا جذبہ پیدا کرنے والی ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہ چیزیں مقصودِباالذات نہیں ہیں کیونکہ مقصود باالذات تو وہ حقائق ہیں جو ان کے اندر مضمر ہوتے ہیں۔ لیکن ان چیزوں کو شعائر کی حیثیت چونکہ اللہ کی طرف سے عطا ہوئی ہے اس لیے ان کو ایک احترام اور تقدیس کا درجہ مل گیا ہے اور مسلمانوں کے لیے ان کا احترام کرنا ضروری ہے۔ ” بیت اللہ “ اللہ کے شعائر میں سے شائد سب سے بڑا شعیرہ ہے۔ مقصود اس کی عبادت کرنا نہیں بلکہ عبادت تو اللہ کی جاتی ہے، لیکن چونکہ یہ گھر اللہ کے ساتھ نسبت خاص رکھنے اور مرکز عبادت ہونے کی وجہ سے ایک خاص حیثیت کا مالک ہے۔ اس لیے اس کی تقدیس اور اس کا احترام مسلمانوں کے ایمان کا حصہ بن گیا ہے۔ ہم جب بھی اسے دیکھتے ہیں تو جہاں اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں وہیں اس کے احترام اور اس کی مرکزیت میں اضافے کے لیے اللہ ہی سے دعائیں مانگتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک مکان ہے، نہایت سادہ، نہایت پروقار، لیکن اس ایک کوٹھے نے دنیائے اسلام کو ایک جہت، ایک مرکزیت، ایک منزل اور ایک شعور میں پرو رکھا ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگوں کے دل اس کی وجہ سے اللہ کی محبت سے سرشار ہوتے اور اپنی ذات کی معرفت سے آشنا ہوتے ہیں۔ دنیا کو مختلف طبقوں اور مختلف فرقوں میں بٹی ہوئی اس امت کو ایک جگہ اور ایک رنگ میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی اس گھر کا وہ حقیقی کردار ہے، جس نے اسے اللہ کے شعائر میں ایک اہم حیثیت کا حامل بنادیا ہے۔ ” حجرِ اسود “ بھی ایک شعیرہ ہے، جو بیت اللہ کے ایک کونے میں پیوست ہے۔ اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھوں سے نصب کیا تھا۔ حدیث میں اسے اللہ کا دایاں ہاتھ قرار دیا گیا ہے۔ بندہ جب اسے ہاتھ لگاتا ہے تو وہ گویا اللہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنے میثاقِ اطاعت کی تجدید کرتا ہے اور اپنے اس تعلق کو ازسر نو استوار کرتا ہے اور جب اسے بوسہ دیتا ہے تو وہ اس طرح سے اللہ سے اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ جذبہ اطاعت و بندگی اور عقیدت و محبت جو اس پاکیزہ پتھر سے شعائوں کی طرح پھوٹتی ہے، اسی نے اس کو اللہ کا شعیرہ بنادیا ہے۔ جمرات حجاجِ کرام دس تاریخ کو پتھر کے جن تین ستونوں کو باری باری کنکر مارتے ہیں ان کو ” جمرات “ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی شعائر اللہ میں سے ہیں کیونکہ ایک حاجی جب ان پر پتھر برساتا ہے، تو وہ درحقیقت ان پر نہیں برساتا بلکہ اللہ، بیت اللہ اور اسلام کے دشمنوں پر برساتا ہے اور ان کے خلاف مقدور بھر اعلانِ جہاد کرتا ہے اور اپنے عمل سے یہ تأثر دیتا ہے کہ میں جب اپنے ملک واپس جاؤں گا، تو میں اسی جذبے کے تحت ہر لادینی قوت سے لڑوں گا۔ اسی طرح ” صفا اور مروہ “ بھی اللہ کے شعائر میں سے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ ان کی سرفروشی کی تاریخ ایک ہی ذات سے شروع ہوتی ہے اور اسی ذات سے معراج کو پہنچتی ہے۔ لیکن اس ذات کا سررشتہ کبھی ماں کے ہاتھ میں ہے کبھی باپ کے ہاتھ میں تاکہ یہ معلوم ہو کہ ان دونوں شعائر سے ہمیں سرفروشی اور بندگی کا جو درس ملتا ہے وہ مرد اور عورت دونوں سے مل کر مکمل ہوتا ہے اور وہ دونوں اگر ایک ہی جہت اور ایک ہی تسلسل سے اپنا فرض انجام دیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں سرفروشی کا عمل مکمل ہوتا ہے۔ میری مراد اس سے یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے نوزائیدہ بچے اسمعیل اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو ایک بےآب وگیاہ وادی میں اللہ کے سہارے چھوڑ آئے تو حضرت ہاجرہ نے بیٹے کو ریت پر لٹا کر ان دو پہاڑیوں پر چڑھ کر اور پھر ان دونوں کے درمیان بھاگ کر یہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی کہ شائد ہمیں کوئی گزرتا ہوا قافلہ نظر آجائے یا کسی چشمے کا سراغ مل جائے او اس طرح سے اس بےآب وگیاہ وادی میں ماں بیٹے کی زندگی گزرنے کی سہولت پیدا ہوجائے۔ اللہ نے ماں کی اس دوڑ بھاگ کو قبول فرمایا اور بیٹے کے ایڑیاں رگڑنے کی جگہ سے وہ چشمہ جاری فرمایا جو چار ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا، لیکن آج بھی پہلے دن کی طرح پانی سے بھرپور ہے۔ پھر ایک وقت آیا جب یہ بچہ دوڑنے بھاگنے کے قابل ہوا، تو باپ نے اللہ کے حکم سے اسی مروہ کے پاس اسے ذبح کرنے کی کوشش فرمائی۔ لیکن اللہ نے ہاتھ روکنے کا حکم دیا اور اس قربانی کو اس قربانی کی صورت دے دی جو آج ہم سال بہ سال عیدالاضحی کے موقعہ پر اللہ کے حضور جانوروں کی کرتے ہیں۔ اندازہ فرمائیے ! یہی وہ پہاڑیاں ہیں جن سے امت مسلمہ کی خواتین ہاجرہ کی سعی و کاوش کا منظر دیکھتی ہیں اور اپنے سینوں کو بندگی اور عبودیت کے جذبوں سے سیراب کرتی ہیں اور یہی وہ پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان بوڑھا باپ نو عمر بچے کو ساتھ لیے مقتل کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ کارنامہ انجام دینے کی فکر میں ہے جس کی مثال انسانوں کی تاریخ میں نہیں ملتی اور آج ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرتا ہوا ہر باپ اپنے دل و دماغ میں ایسے ہی جذبوں کو محسوس کرتا ہے جس میں بچوں کی قربانی کے نتیجے میں اسلام کی فصل لہلہاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ؎ پسرِ خلیل کی سیکھ ادا جو ہے زندہ رہنے کی آرزو کہ چھری رکے تو رکے مگر نہ سرکنے پائے ترا گلا شعائر کے سلسلے میں چند یاد رکھنے کی باتیں ان شعائر کے سلسلے میں چند باتیں ضرور ذہن نشین رہنی چاہئیں : 1 شعائر اللہ، اللہ اور اس کے رسول کے مقر رکیے ہوئے ہیں۔ اللہ اور رسول کے علاوہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی طرف سے کسی چیز کو شعائر اللہ میں شامل کرے۔ نہ کسی چیز کو شعائر اللہ میں شامل کیا جاسکتا ہے نہ خارج کیا جاسکتا ہے۔ ادب واحترام اپنی جگہ لیکن وہ مقام و مرتبہ جو اللہ نے شعائر اللہ کو عطا کیا ہے وہ کسی کے عطا کرنے سے کسی کو نہیں مل سکتا۔ جو ایسا کرے گا وہ ایک بہت بڑی گمراہی کے لیے راستہ کھولے گا اور اللہ کے سامنے اسے جوابدہی کرنا پڑے گی۔ 2 جس طرح شعائر اللہ کا تقرر اللہ اور رسول کا اختیا رہے اسی طرح ان کے ادب واحترام کی حدود بھی اللہ اور رسول ہی کی مقرر کی ہوئی ہیں چناچہ جس شعیرہ کا احترام اور اس کی تعظیم کی جو شکل اللہ اور اس کے رسول نے مقرر کردی ہے، ہم اس سے سرمو انحراف نہیں کرسکتے۔ مثلاً حجرِ اسود ایک شعیرہ ہے۔ ہمیں اس کے لیے حکم دیا گیا ہے کہ ہم اس کی تعظیم کے لیے، طواف کرتے ہوئے اس کو بوسہ دیں، اسے ہاتھ لگا کر چومیں یا دور سے اس کی طرف اشارہ کریں۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنی طرف سے تعظیم کے ان طریقوں میں اضافہ کرتا ہے، مثلاً وہ حجرِ اسود کے سامنے گھٹنے ٹیکتا ہے، اس کو سجدہ کرتا ہے، اس کے سامنے نذریں پیش کرتا ہے، یا اس پر پھول چڑھانے لگتا ہے یا اس طرح کی کوئی اور حرکت کرتا ہے تو وہ اس طرح کی حرکتوں سے نہ صرف کہ حجرِ اسود کی تعظیم کا حق ادا نہیں کرسکے گا بلکہ وہ اللہ کے سامنے ان گمراہیوں کے لیے جوابدہ ہوگا۔ حضرت عمر فاروق ( رض) نے شائد اسی حکمت کے تحت اپنے دور خلافت میں حجرِ اسود کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا :” اے حجرِ اسود ! تو صرف ایک سیاہ پتھر ہے تو مجھے نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ اگر تجھے اللہ کے رسول نے نہ چوما ہوتا تو میں تجھے کبھی نہ چومتا “۔ 3 شعائر اللہ کی تعظیم اور احترام کے ساتھ ساتھ جو اصل چیز پیش نظر رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ یہ شعائر تو علامتیں ہیں کسی خاص حقیقت کی اور ان حقائق کے لیے ان کی حیثیت صرف قالب کی ہے۔ اس لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ ان کا احترام بجا لاتے ہوئے اصل حقائق کو دل و دماغ میں بسانے اور راسخ کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ اس میں اگر تساہل برتاجائے تو دین ایک مجموعہ رسوم بن کر رہ جائے گا اور دین کی اصل روح زندگیوں سے نکل جائے گی، یہی حادثہ بنی اسرائیل پر گزرا اور وہ تباہ ہوگئے۔ امت مسلمہ کو اس بارے میں نہایت بیدار مغز رہنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اندیشہ یہ ہے کہ ہم اس تباہی کی طرف بہت سارا سفر کرچکے ہیں۔ صفا اور مروہ موجود ہیں ان کے درمیان سعی بھی ہورہی ہے، لیکن اس سعی میں وہ جذبات پیدانھیں ہورہے جو اس سعی کا اصل حاصل ہیں۔ جمرات پر کنکر مارے جارہے ہیں، لیکن اللہ اس کے رسول اور دین کے دشمنوں سے ہمارے نیاز مندانہ تعلقات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جذبہ جہاد ایک گالی بن کر رہ گیا ہے۔ ہماری روشن خیالی، ہماری اصل روح کو کچلتی جارہی ہے۔ اس لیے ان شعائر اللہ کا ذکر پڑھتے ہوئے ہمیں اپنے اندر جھانک کر اپنے آپ کو اور امت کو پڑھنا بہت ضروری ہے : کتابوں کا لکھا تو عمر بھر پڑھتے رہے تشنہ کبھی وہ بھی پڑھا ہوتا جو دیواروں پہ لکھا ہے صفا اور مروہ کو شعائر اللہ میں سے قرار دینے کے بعد فرمایا : فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِعْتَمَرَ فَـلَا جُنَاحْ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا اس جملے کا اسلوب صفا اور مروہ کو شعائر اللہ میں قراردینے سے یکسر اجنبی معلوم ہوتا ہے۔ جن دو پہاڑیوں کو شعائر اللہ قرار دیاجاچکا ہے ان کے بارے میں تو یہ کہنا چاہیے کہ ان کا طواف کرنا یعنی ان کے درمیان سعی کرنا ازبس ضروری ہے۔ چہ جائیکہ یہ کہا جائے کہ جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرنا چاہے اس کے لیے کوئی ہرج نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان سعی کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سعی کرنے کی اجازت دی جارہی ہے، حکم نہیں دیا جارہا ۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان سعی کرنا حج اور عمرہ کے دوران احناف کے نزدیک واجب ہے اور بعض دیگر ائمہ کے نزدیک سنت بھی ہے اور فرض بھی۔ بات دراصل یہ ہے کہ یہاں جو فَـلَا جُنَاحَ کہا گیا ہے، اس کا تعلق سعی کے حکم سے نہیں بلکہ سعی کی جگہ سے ہے۔ پیچھے میں عرض کرچکا ہوں کہ مشرکینِ مکہ نے دونوں پہاڑیوں پر دو بت نصب کر رکھے تھے اور ان کی وہ پوجا کرتے تھے۔ مسلمان ان بتوں کی وجہ سے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں کراہت محسوس کررہے تھے۔ چناچہ ان مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ اگرچہ صفا اور مروہ کے درمیان یہ قباحت موجود ہے لیکن ان دونوں کے درمیان سعی وہ تو مناسکِ حج میں سے ہے وہ کسی وقتی رکاوٹ کی وجہ سے چھوڑی نہیں جاسکتی، تم ان دو بتوں کی طرف نہ دیکھو بلکہ اللہ کے احکام کی طرف دیکھو اور خوش دلی سے ان کی تعمیل کرو۔ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا سے اسی بات کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے کہ اللہ کے یہاں وہ اطاعت قابل قبول ہوتی ہے جو خوشدلی سے کی جاتی ہے تم ان بتوں کو بالکل نظر انداز کرکے نہایت خوشدلی اور مکمل جذبہ اطاعت کے ساتھ سعی کا عمل بجا لائو تم دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اس عمل کی قدر فرمائیں گے۔ یہاں حج اور عمرہ کا ذکر آیا ہے اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس کی تھوڑی سی وضاحت کردوں۔ حج : عبادتِ اسلامی کا چوتھارکن ہے یعنی نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے بعد چوتھا فریضہ ہے۔ امت کے ہر فرد پر خواہ وہ دنیا کے کسی علاقے کا باشندہ ہو اگر مصارفِ سفر کی استطاعت ہو، صحت بھی سفر کی متحمل ہو اور راستہ بھی پر امن ہو، تو پھر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ گویا دنیائے اسلام کی یہ بین الاقوامی سالانہ کانفرنس ہے۔ اس کے ارکان تین ہیں۔ (1) پوشش احرام، یعنی حدود حرم میں داخلہ سے پہلے عام لباس اتار کر احرام یعنی بےسلا ہوا لباس پہن لینا۔ (2) میدانِ عرفات میں نوذوالحجہ کو حاضری، اصطلاح میں اسے وقوف کہتے ہیں۔ (3) طواف زیارت، یعنی وقوف کے بعد خانہ کعبہ کا طواف، اور واجباتِ حج چار ہیں۔ (1) 9 اور 10 ذوالحجہ کی درمیانی رات میں مزدلفہ میں قیام۔ (2) صفا اور مروہ کے درمیان سعی۔ (3) مزدلفہ میں قیام کے بعد دس تاریخ کو منیٰ میں کنکریاں پھینکنا، جسے رمی جمرات کہا جاتا ہے۔ (4) طواف کعبہ، یہ طواف فرض کے علاوہ ہے۔ اسے طواف صدر کہا جاتا ہے۔ قربانی کرنا، سر کے بال اتروانا وغیرہا، بہت سے سنن اور مستحبات ان کے علاوہ ہیں۔ عمرہ : اس کا دوسرا نام حجِ اصغر ہے۔ اس میں حج کی طرح مہینہ اور تاریخ کی قید نہیں۔ سال کے کسی مہینہ اور کسی دن میں بھی ہوسکتا ہے۔ نہ اس میں وقوف عرفات ہے اور نہ قیام مزدلفہ اور منیٰ ۔ عمرہ کی نیت سے احرام حدود حرم یعنی میقات سے باہر باندھا جاتا ہے، طواف کعبہ اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرکے بال اتروائے جاتے ہیں اور آخر میں مقام ابراہیم کے پاس دو نفل پڑھے جاتے ہیں، درمیان میں آب زم زم پینا بھی مستحب ہے۔ بس انھیں چند افعال سے عمرہ مکمل ہوجاتا ہے اور احرام کھول دئیے جاتے ہیں۔
Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، درآں حالیکہ ہم انھیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں۔ یہی لوگ ہیں کہ اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآاَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَالْھُدٰی مِنْ م بَعْدِ مَابَـیَّـنّٰـہُ لِلنَّاسِ فِیْ الْکِتٰبِ لا اُولٰٓئِکَ یَلْعَنُھُمُ اللّٰہَ وَیَلْعَنُھُمُ اللّٰعِنُوْن۔ (البقرۃ : 159) (جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، درآں حالیکہ ہم انھیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں۔ یہی لوگ ہیں کہ اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں) یہود کے بعض جرائم اس آیت کریمہ میں یہود پر کتمانِ حق، کتمانِ ہدایت، اور کتمانِ شریعت کا الزام لگا کر انھیں سخت ترین انجام کی وعید سنائی گئی ہے۔ اس وعید کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ یہود کا جرم کس قدر شدید اور کس قدر ناقابلِ معافی تھا۔ قرآن وسنت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے کفار کے سوا جنھوں نے اپنے کرتوتوں سے بالکل اپنے آپ کو ہدایت سے محروم کرلیا ہو، کسی کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دور اور لعنت کا سزاوار نہیں ٹھہراتے۔ اس لیے کہ برسوں کا کافر بھی کسی وقت توبہ کرکے اسلام کی آغوش میں آسکتا ہے۔ لعنت کا مفہوم لعنت کا مطلب یہ ہے کہ ایمان، جو اللہ کی سب سے بڑی رحمت ہے کسی شخص کو اس سے محروم کردیاجائے، ایسے شخص کا انجام ہمیشہ کے جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اتنی بڑی سزا کو دیکھتے ہوئے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہود کے جرائم کی فہرست کتنی طویل اور ان کے جرم کی نوعیت کتنی عمیق ہے۔ غور وفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جرائم دو طرح کے تھے۔ ایک طرح کے تو وہ ہیں جن سے ان کی پوری تاریخ بھری ہوئی ہے اور دوسری طرح کے وہ ہیں جس پر سیاق کلام دلالت کررہا ہے۔ ان کے عام جرائم جن پر ان کی تاریخ شاہد ہے اور جن کی طرف باربار قرآن کریم اشارے کرتا ہے ان میں سب سے بڑ اجرم جسے ام الجرائم کہنا چاہیے وہ یہ تھا کہ اللہ نے ان سے ایک عہد لیا جس کا قرآن کریم میں ایک سے زیادہ مرتبہ ذکر کیا گیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الذِّیْنَ اُوْتُوا الْـکِتَابَ لـِتُبَیِّنَنَّہُ لِلنَّاسِ ” اور یاد کروجب کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے میثاق لیا کہ اس کتاب کو اچھی طرح لوگوں کے سامنے واضح کرنا “۔ اس کے عقائد کو ان کے دل و دماغ میں راسخ کرنا، ان کی تعلیمات کو ان کے لیے آسان بنانا، اس کے احکام سے انھیں پوری طرح باخبر کرنا، شریعت کے ایک ایک حکم کو ان کے سامنے کھول کر بیان کرنا۔ لیکن انھوں نے اس کے برعکس یہ حرکت کی کہ کتاب اللہ کے علم کو ربیوں اور مذہبی پیشہ وروں کے ایک محدود طبقے میں مقید کردیا۔ یہودی عوام تک کو اس سے محروم رکھا اور جب جہالت عام پھیلنے لگی اور بداعمالیاں بڑھنے لگیں تو علماء نے نہ صرف یہ کہ اصلاح کی کوئی کوشش نہ کی بلکہ وہ عوام میں اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے ہر طرح کی ضلالت اور بدعات کو عام رواج دیا۔ اللہ کے احکام تک کو چھپایا، بعض احکام میں تحریف تک کرڈالی۔ حدود اللہ خواص کے لیے اجنبی بنادی گئیں۔ اس طرح سے ان کا معاشرہ اللہ کی عطا کردہ شریعت سے بےنیاز ہوگیا۔ وہ اپنے وضعی قوانین کے ذریعے عدالتوں میں فیصلے کرنے لگے۔ ایک ایسی امت جو دنیا کی رہنمائی کے لیے اٹھائی گئی ہو اور جسے دنیا کی ہدایت کا فریضہ ادا کرنا ہو اس کی طرف سے یہ مجرمانہ غفلت پوری دنیا کو ہدایت سے محروم کردینے کے مترادف ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس سے زیادہ شنیع اور خطرناک جرم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور دوسری طرح کے جرائم جن کی طرف سیاق کلام رہنمائی کرتا ہے، وہ ان علامات اور نشانیوں کو چھپانا ہے جو اللہ تعالیٰ نے تورات میں اس لیے نازل فرمائی تھیں تاکہ اہل کتاب کو آخری پیغمبر کی تلاش میں دشواری پیش نہ آئے۔ لیکن ان بدبختوں نے ان نشانیوں کو چن چن کر یا تو کتاب سے نکالنے کی کوشش کی اور یا ان کا اس حد تک حلیہ بگاڑ ڈالا کہ ان کا اصل چہرہ پہچاننا مشکل ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ کی نشانیاں اور قرآن کریم کی علامتیں اس صراحت سے بیان کی گئی تھیں کہ جن کی وجہ سے اہل کتاب حضور کو اور قرآن کریم کو اپنے بچوں سے بڑھ کر پہچانتے تھے۔ پھر آنحضرت ﷺ کا ملت ابراہیم پر مبعوث ہونا اور بیت اللہ کا حضرت ابراہیم کی تعمیر ہونا اور یہیں سے اس امت مسلمہ کا اٹھایا جانا جو اس گھر سے اٹھنے والے انقلاب کا ہر اول بننے والی تھی اور اس کے گردوپیش میں پھیلی ہوئی وہ نشانیاں جس کا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آئندہ چل کر آنحضرت ﷺ کی دعوت سے تھا۔ یہ سب چیزیں نہایت واضح انداز میں تورات میں بیان کی گئی تھیں اور یہود کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ یہ امانت بےکم وکاست لوگوں تک پہنچائیں۔ لیکن یہود نے ان میں سے ایک ایک نشانی کو بدلا، مروہ کا نام تک بدل دیا گیا، حضرت ابراہیم کا بیت اللہ سے تعلق کاٹ دیا گیا، حضرت اسماعیل کی بجائے حضرت اسحاق کو ذبیح اللہ ثابت کیا گیا اور بھی بہت ساری تبدیلیاں کیں تاکہ آخری نبی کی پیش گوئیوں سے متعلق لوگوں کے ذہنوں کو مسموم کردیا جائے۔ یہ یہود کے نہایت مکروہ جرائم کا ایک ہلکا سا خاکہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کیوں لعنت فرمائی اور پھر اس لعنت کی وسعت کو دیکھئے کہ تمام لعنت کرنے والوں کو ان پر لعنت کرنے کا حکم دیا گیا۔ کہاں تو وہ وقت تھا کہ بنی اسرائیل کو اپنے دور کے تمام لوگوں پر فضیلت عطا فرمائی گئی تھی اور کہاں یہ وقت کہ انھیں سب کی لعنت کا مورد بنادیا گیا۔ وجہ اس کی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو عظیم ذمہ داریوں سے گراں بار کرتا ہے تو اسے عظمت کا خلعت بھی پہناتا ہے۔ لیکن جب یہ تخت ِعزت و عظمت پر فائز قوم بدنیت، بداطوار اور نااہل ہونے کا ثبوت دیتی ہے تو اسے صرف عزت کے تخت سے ہی اتارانھیں جاتا بلکہ ذلت کی پستیوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ یہی انجام بنی اسرائیل کا بھی ہوا۔ اس آیت کریمہ کو پڑھتے ہوئے دل و دماغ ارتعاش کا شکا رہوجاتے ہیں۔ جگر خون ہونے لگتا ہے کہ یہ امت مسلمہ جس کے ہم افراد ہیں یہ بھی بنی اسرائیل کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سیادت اور امامت کے عظیم منصب پر فائز کی گئی اور آج اس منصب کے حوالے سے اس کی خیانتیں، اس کی نااہلیاں، اس کی سرکشی بلکہ بغاوت بنی اسرائیل کی تاریخ کی خبر دے رہی ہیں۔ شائد اسی کا نتیجہ ہے کہ پوراعالمِ اسلام ترازو کے ایک پلڑے میں ہے اور کلک تقدیرفیصلہ لکھنے کے لیے اللہ کے حکم کے انتظار میں سر جھکاچکا ہے۔ اللہ ہی بہترجانتا ہے کہ امت اپنے آپ کو بہتر بنا کر اللہ کی رحمتوں کو دعوت دے گی یا اپنے آپ کو بدتر بنا کر بنی اسرائیل کے انجام کو پہنچے گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی اس امت کے لیے سنبھلنے کے امکانات موجود ہیں اور تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ امکانات تو بنی اسرائیل پر بھی بند نہیں کیے گئے تھے، لیکن انھوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھا کر اپنے آپ کو تباہ کرلیا۔ اگلی آیت کریمہ میں انھیں امکانات کی طرف اشارہ فرمایا جارہا ہے۔
Ayah 2:160

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

البتہ ! جن لوگوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے بیان کرنے لگے تو میں ان کی توبہ قبول کروں گا۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۔ (البتہ ! جن لوگوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے بیان کرنے لگے تو میں ان کی توبہ قبول کروں گا۔ میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں) (البقرۃ : 160) توبہ کے لیے شرط اللہ تعالیٰ کی طرف سے برستی ہوئی لعنت سے صرف وہ لوگ محفوظ رہیں گے، جو عذاب کے آنے سے پہلے پہلے توبہ کرلیں گے اور توبہ بھی محض ارادہ اور خیال کی حد تک نہیں بلکہ اپنی اصلاح بھی کریں گے اور آج تک کتمانِ حق کا جو جرم کرتے رہے ہیں اس کی تلافی کی کوشش بھی کریں گے۔ ان کی حرکتوں نے اللہ کے دین کی بالادستی کو جو نقصان پہنچایا ہے، ان کے کمزور ارادوں نے جس طرح عوام کے عقائد میں اضمحلال پیدا کیا ہے اور جس طرح سے عام و خواص ملی حمیت اور غیرت سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ ان سب کی وہ اپنے عمل، اپنی تدبیر اور اپنے فیصلوں سے تلافی کی کوشش کریں گے۔ تو یہ لوگ ہیں جن کی اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والے اور مہربان ہیں۔
Ayahs 2:161–162

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کارویہ اختیار کیا اور اسی کفر کی حالت میں مرگئے ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گانہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاوَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاج لَایُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَاھُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 161 تا 162) (بےشک جن لوگوں نے کفر کارویہ اختیار کیا اور اسی کفر کی حالت میں مرگئے ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گانہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی) قرآن کریم میں کفر کا مفہوم ” کفر “ کے اصل معنی چھپانے کے ہیں۔ اسی سے انکار کا مفہوم پیدا ہوا اور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا۔ ایمان کے معنی ہیں ماننا، قبول کرنا، تسلیم کرلینا۔ اس کے برعکس کفر کے معنی ہیں نہ ماننا، رد کردینا، انکار کرنا۔ قرآن کی رو سے کفر کے رویہ کی مختلف صورتیں ہیں : 1 ایک یہ کہ انسان سرے سے خدا ہی کو نہ مانے، یا اس کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم نہ کرے اور اس کو اپنا اور ساری کائنات کا مالک اور معبود ماننے سے انکار کردے یا اسے واحد مالک اور معبود نہ مانے۔ 2 دوسرے یہ کہ اللہ کو تو مانے مگر اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو واحد منبع علم و قانون تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ 3 تیسرے یہ کہ اصولاً اس بات کو بھی تسلیم کرلے کہ اسے اللہ ہی کی ہدایت پر چلنا چاہیے مگر اللہ اپنی ہدایات اور اپنے احکام پہنچانے کے لیے جن پیغمبروں کو واسطہ بناتا ہے، انھیں تسلیم نہ کرے۔ 4 چوتھے یہ کہ پیغمبروں کے درمیان تفریق کرے اور اپنی پسند یا اپنے تعصبات کی بنا پر ان میں سے کسی کو مانے اور کسی کو نہ مانے۔ 5 پانچویں یہ کہ پیغمبروں نے خدا کی طرف سے عقائد، اخلاق اور قوانین حیات کے متعلق جو تعلیمات بیان کی ہیں ان کو یا ان میں سے کسی چیز کو قبول نہ کرے۔ 6 چھٹے یہ کہ نظریے کے طور پر تو ان سب چیزوں کو مان لے مگر عملاً احکامِ الہٰی کی دانستہ نافرمانی کرے اور اس نافرمانی پر اصرار کرتا رہے اور دنیوی زندگی میں اپنے رویے کی بنااطاعت پر نہیں بلکہ نافرمانی ہی پر رکھے۔ یہ سب مختلف طرز فکر وعمل اللہ کے مقابلے میں باغیانہ ہیں اور ان میں سے ہر ایک رویے کو قرآن کفر سے تعبیر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر قرآن میں کفرکا لفظ کفرانِ نعمت کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور شکر کے مقابلے میں بولا گیا ہے۔ شکر کے معنی یہ ہیں کہ نعمت جس نے دی ہے، انسان اس کا احسان مند ہو، اس کے احسان کی قدر کرے۔ اس کی دی ہوئی نعمت کو اسی کی رضا کے مطابق استعمال کرے اور اس کا دل اپنے محسن کے لیے وفاداری کے جذبے سے لبریز ہو۔ اس کے مقابلے میں کفر یا کفرانِ نعمت یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنے محسن کا احسان ہی نہ مانے اور اسے اپنی قابلیت یا کسی غیر کی عنایت یا سفارش کا نتیجہ سمجھے یا اس کی دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرے اور اسے ضائع کردے یا اس کی نعمت کو اس کی رضا کے خلاف استعمال کرے یا اس کے احسانات کے باوجود اس کے ساتھ غدر اور بےوفائی کرے۔ اس نوع کے کفر کو ہماری زبان میں بالعموم احسان فراموشی، نمک حرامی، غداری اور ناشکرے پن کے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (ماخوذ ” تفہیم القرآن “ ) حاصل کلام یہ کہ جو شخص یا جو قوم کفر کا یہ رویہ اختیار کرلیتی ہے اور پھر اسی پر زندگی گزار دیتی ہے وہ یقینا اس قابل ہے کہ اللہ کی لعنت اور پھٹکار اس پر برسے۔ لیکن اگر یہ قوم عام قوم نہ ہو بلکہ حامل دعوت امت ہو اور دنیا کی ہدایت کے لیے اسے امامت وسیادت کے منصب پر فائز کیا گیا ہو اور پھر وہ یہ رویہ اختیار کرے، جسے کفر کہا جاتا ہے۔ چاہے وہ زبان سے ہزار مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے لیکن اس کے طور اطوار اس کی پالیسیاں اس کے اجتماعی فیصلے، اس کی عدالتیں، اس کے ایوان ہائے حکومت، تمام اسی رویے کی غمازی کرتے ہوں تو پھر اس کا انجام وہی ہوگا جو اس آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اے کاش ! بنی اسرائیل پر اس تنقید کے آئینہ میں امت مسلمہ اپنا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرے اور پھر اس انجام سے بچنے کی فکر کرے جس سے بنی اسرائیل دوچار ہوچکے ہیں۔
Ayah 2:163

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بےانتہارحم کرنے والا بار بار رحم کرنے والا ہے)

وَاِلٰـھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ ج لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَالرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ۔ (البقرۃ : 163) (اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بےانتہارحم کرنے والا بار بار رحم کرنے والا ہے) گزشتہ آیت کریمہ پر سورة البقرۃ کا پہلا باب ختم ہوگیا۔ اس میں بعض دوسرے اساسی مباحث کے ساتھ ساتھ زیادہ تر گفتگو بنی اسرائیل کے حوالے سے رہی۔ ان کے عقائد سے لے کر ان کی عادات واطوار تک مختلف باتیں زیر بحث آئیں اور ایک مکمل تنقید سے ان کی نااہلی کے اسباب واضح فرمائے گئے اور آخر میں منصب دعوت و امامت سے ان کی نااہلی کا اعلان کردیا گیا۔ اور پھر مسلمانوں کو ملت ابراہیم کا وارث قرار دے کر اس عظیم منصب کی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردی گئیں۔ اب پیش نظر آیت کریمہ سے اس سورة کا دوسرا باب شروع کیا جارہا ہے۔ جس میں اس نئی بننے والی امت کو اس وقت کے حالات کے مطابق ہدایات دی جارہی ہیں، شریعتِ الہٰی کی تجدید کی جارہی ہے۔ مشرکین اور اہل کتاب پر ضمنی طور پر تنقید کے ساتھ ساتھ امت اسلامیہ کو ان کے حقیقی مقاصد سے آگاہ کیا جارہا ہے۔ توحید ہی اسلام کا مبدأ و معاد ہے اللہ نے انسانوں کو جو دین عطا فرمایا ہے، ہر دور میں اس کی اساس اور بنیاد ” توحید “ رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انسانی شعور کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ تصور توحید میں بھی ارتقاء ہوتا گیا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ امتیں مذہبی طور پر اس وقت تباہ ہوئیں جب انھوں نے عقیدہ توحید کو بےمیل نہ رہنے دیا، اس میں شرک کے لیے راستے کھولے اور پھر آہستہ آہستہ اس نعمت سے محروم ہوگئیں۔ یہ نئی بننے والی امت چونکہ انسانوں کی ہدایت کے لیے نئے سفر کا آغاز کررہی ہے اس لیے انھیں بھی سب سے پہلے جس بات کا حکم دیا جارہا ہے وہ وہی توحید ہے، جو دین کی اصل اساس ہے۔ چناچہ ہم پورے قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی کوئی اہم بحث ایسی نہیں جس میں عقیدئہ توحید کا حوالہ نہ دیا گیا ہو۔ قرآن کریم کا آغاز سورة فاتحہ میں عقیدہ توحید سے ہوا۔ سورة بنی اسرائیل نصف قرآن کی اہم ترین سورة ہے، وہاں دوبارہ اسی عقیدے کو نئی شان سے دہرایا گیا ہے۔ پھر قرآن پاک کی تعلیمات کا اختتام سورة اخلاص کی صورت میں اسی عقیدے پر کیا گیا ہے اور آخری دو سورتیں جنھیں ” معوذتین “ کہا جاتا ہے، وہ اسی خزانے کی حفاظت کے لیے محافظ کے طور پر اپنا فرض انجام دے رہی ہیں۔ اللہ کے وجود سے انکار انسانوں کو کبھی نہیں رہاکیون کہ اس کے وجود سے انکار اصلاً اپنی فطرت سے جنگ ہے، جو سراسر ایک منفی تصور ہے اور محض ایک منفی تصور زندگی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ تاریخ میں ہمیں ہر طرح کے بگاڑ کی شہادتیں ملتی ہیں۔ لیکن کبھی انسانوں کی کسی قابل ذکر تعداد نے اللہ کے وجود سے انکار کیا ہو اس کی کوئی شہادت نہیں ملتی۔ اس کی پہلی مثال ہماری قریبی تاریخ کا کیمونزم ہے جس نے انسان کو مذہب کے خلاف بغاوت پر اکسایا اور بالآخر اللہ کے وجود سے انکار کردیا۔ لیکن یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ اس انکار پر اٹھنے والی ایک توانا تحریک جس نے دنیوی اعتبار سے بےپناہ ترقی کی ستر سال کے بعد ہی اپنے خطرناک زوال میں ڈوب گئی اور جن لوگوں کو جبراً اس سے دور کیا گیا تھا انھیں جب آزادی کا موقعہ ملا تو معلوم ہوا کہ اگرچہ ان سے بہت کچھ چھن چکا ہے لیکن خدا کا تصور ان میں اب بھی باقی ہے۔ قرون ماضیہ کے وہ ادوار جنھیں ہم نہایت پسماندگی کا زمانہ سمجھتے ہیں، اللہ کے وجود کی شہادتیں مختلف ناموں سے ان میں بھی پائی جاتی ہیں (سورۃ الفاتحہ کے درس میں، میں اس کا کسی حد تک تذکرہ کرچکا ہوں) ۔ قرآن کریم شائد اسی وجہ سے اللہ کے وجود پر زیادہ بحث نہیں کرتا البتہ وہ اللہ کی توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال پر بحث کرتا ہے کیونکہ دنیانے ہمیشہاسی میں ٹھوکر کھائی ہے اور مختلف قسم کے شرک میں مبتلاہوکر اپنی اصل حیثیت کو گم کردیا ہے۔ اسی حقیقت کے تحت یہاں بھی امت مسلمہ کو سب سے پہلے توحید ہی پر توجہ دلائی گئی ہے۔ پہلے مثبت انداز اختیار کیا گیا ہے تاکہ توحید کا تصور دل و دماغ میں جڑ پکڑ جائے اور پھر منفی انداز اختیار کرکے ہر طرح کے شرک کی جڑ کاٹ دی ہے۔ ارشاد فرمایا : وَاِلٰـھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ” تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے “۔ اس کے بعد منفی انداز اختیار کرکے ہر طرح کے شرک کا خاتمہ کردیا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ” اس کے سوا کوئی معبود نہیں “۔ ہم نے سورة فاتحہ میں ” اِلٰـہ “ کی معنوی حیثیت پر کافی بحث کی ہے۔ اسی طرح رحمٰن اور رحیم کو بھی سمجھانے کی مقدور بھر کوشش کی ہے۔ بہتر ہے کہ اسے وہاں دیکھ لیاجائے۔ البتہ ! یہاں نہایت اختصار سے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ” اِلٰہ “ جس طرح ” معبود “ کو کہتے ہیں اسی طرح مطلوب و مقصود اور حاکم حقیقی کو بھی کہتے ہیں۔ انسان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کی منزل کیا ہے، اس کے دل کی آبادی کس کی محبت سے ہونی چاہیے، وہ کون سا تعلق ہے، جو تمام تعلقات کا مبدا اور منتہا ہے۔ پھر وہ کون سی ذات ہے جسے انسان کے لیے راہنمائی فراہم کرنے کا حق ہے ؟ زندگی انفرادی ہو یا اجتماعی ہر سطح پر آئینی، قانونی، تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی ہدایات دینا اور پھر اس کی پابندی کرانا یہ کس کو زیب دیتا ہے ؟ انسان ہمیشہ تجربات کی زد میں رہا ہے، وہ ٹھوکروں پر ٹھوکریں کھاتا رہا ہے۔ لیکن کوئی ایسا نظام زندگی تشکیل نہیں کرسکا جو اس کی تمام ضروریات کو پورا کرنے والا اور تمام مشکلات کو حل کرنے والاہو کیونکہ فطرتِ انسانی کو سمجھنا پوری طرح انسان کے لیے ممکن نہیں اور خواہشات اور مفادات کے دبائو سے اپنے آپ کو آزاد کرلینا بھی انسان کے لیے آسان نہیں ہر خطے کے لوگ اپنے مفادات کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہر قوم دوسری قوموں کے مقابلے میں اپنے مخصوص تصورات رکھتی ہے۔ ہر نسل دوسری نسل کے بارے میں تحفظات رکھتی ہے۔ ہر خطہ اپنے اندر زندگی گزارنے والوں میں کچھ فطری داعیات کو ابھارتا ہے، جو دوسروں کے لیے قابل قبول نہیں ہوتے۔ انسان پر عقل کی حکومت ہے، لیکن عقلوں میں انتہادرجے کا تفاوت ہے۔ مزید یہ کہ نئے نئے فلسفوں نے عقل کو آزاد نہیں رہنے دیا بلکہ اسے خواہشات، مفادات اور تعصبات کا ایجنٹ بنادیا ہے۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ انسان اس جہانِ خیر وشر میں سواء السبیل تک پہنچنے پر اپنے تئیں قادر نہیں۔ جب بھی انسانوں نے ایسی کوششیں کی ہیں تو انسانی فکر کا پلڑا کسی نہ کسی طرف جھک گیا ہے۔ آج کے روشنیِ علم وہنر کے زمانے میں بھی قوموں کے اجتماعی ادارے ایسے فیصلے کررہے ہیں جنھیں اخلاقی لحاظ سے ذکر کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے اور انسانی اقدار کے حوالے سے ایک ایسی قیامت برپا ہے، جس نے جان مال اور آبرو کے حوالے سے بنیادی اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے۔ انھیں وجوہ کی بنا پر قرآن کریم بار بار لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ اگر تم ایک ایسی زندگی گزارنا چاہتے ہو جس میں دنیوی اور اخروی دونوں طرح کی فلاح نصیب ہو تو پھر تم اللہ کی توحید کا دامن مضبوطی سے تھام لو اور اس بات کو قبول کرلو کہ جس طرح تمام انسانوں کی جسمانی ضرورتیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وجود میں آرہی ہیں اور اس کی صفت ربوبیت تمام مخلوقات کو پال رہی ہے اور زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کی ضرورتیں قدرت کی طرف سے پوری نہ ہورہی ہوں۔ اسی طرح ہماری روحانی، معنوی اور اجتماعی ضرورتوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ اس نے ہر قوم کو ہدایت بخشی ہے، زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا ہے، اپنے پیغمبروں کی معرفت ایک ایسا نظام زندگی دیا ہے، جس میں آئین سے لے کر تہذیب تک ہر ضرورت کو پورا فرمایا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اس نے اپنے ذمہ اس لیے لے رکھا ہے کہ وہ ” رحمٰن اور رحیم “ ہے۔ اس کی رحمت جس طرح بچے کو پیدا کرتی، پروان چڑھاتی اور زندگی کی ضرورتیں مہیا فرماتی ہے۔ اسی طرح اس کی رحمت نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ تمہارا رب کن باتوں میں راضی ہے اور کن باتوں سے ناراض ہوتا ہے اور تمہاری انفرادی اور اجتماعی ضرورتیں کس طرح کے علم اور شعور سے پوری ہوسکتی ہیں۔ اس کے سامنے صرف ہماری دنیا نہیں بلکہ آخرت بھی ہے۔ اس لیے آخرت میں کامیابی کے لیے جس طرح کی رہنمائی ضروری تھی اور جس طرح کے اعمال درکار تھے، ان میں سے ایک ایک چیز سے ہمیں بہرہ ور فرمایا ہے کیونکہ یہ اس کی الوہیت کا تقاضا اور اس کی رحمت کا فیضان ہے۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

(بےشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں اور جہازوں کے چلنے میں جو سمندر میں ان چیزوں کو لے کر چلتے ہیں، جو لوگوں کو نفع پہنچاتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے بادلوں سے اتارا اور جس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشی اور جس میں ہر قسم کے جاندار پھیلائے اور ہوائوں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مامور ہیں، ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں۔

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَالْفُلْـکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِیْ الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّـآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃِ ص وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمَسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (بےشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں اور جہازوں کے چلنے میں جو سمندر میں ان چیزوں کو لے کر چلتے ہیں، جو لوگوں کو نفع پہنچاتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے بادلوں سے اتارا اور جس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشی اور جس میں ہر قسم کے جاندار پھیلائے اور ہوائوں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مامور ہیں، ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں) (البقرۃ : 164) مخلوق سے خالق پر استدلال اس آیت کریمہ میں مختلف مخلوقات اور مصنوعات کا ذکر فرماکر اس کائنات کے خالق اور صانع پر دلیل قائم کی گئی ہے اور پھر ان مخلوقات کے خواص پر توجہ دلا کر اس کی وحدانیت کو ثابت کیا گیا ہے۔ وہ سب سے پہلے زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرماتا ہے وہ کہتا ہے کہ ذرا غور کرو ! یہ زمین و آسمان کے سارے کارخانے جو دنیا کے ہر طلسم سے بڑھ کر حیرت انگیز اور انسانی سائنس کے ہر شعبہ سے عجیب تر ہیں۔ کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ نہ یہ اپنے آپ وجود میں آسکتے ہیں اور نہ باقی رہ سکتے ہیں، جب تک کوئی صاحب شعور، صاحب ارادہ، قادرِ مطلق ہستی ان کی صانع و خالق نہ ہو۔ ان تمام مظاہر فطرت کا تسلسل و استمرار ان کی یک رنگی وباقاعدگی ان کا نظم وانضباط ہر عقل سلیم کو مجبور کررہا ہے کہ ان کے عقب میں ایک ذی اختیار فعال کا ہاتھ تسلیم کیا جائے۔ اسی عقل سلیم کو جو معمولی سی گھڑی کو بھی بغیر کسی ماہر فن اور صناع گھڑی ساز کے تسلیم کرنے سے انکار کردیتی ہے تو پھر یہ عقل سلیم زمین و آسمان کے اس کارخانے کے بارے میں کیسے باور کرسکتی ہے کہ یہ کسی پیدا کرنے والے کے پیدا کیے بغیر ہی وجود میں آگیا ہے ؟ پھر آسمان و زمین کی پیدائش سے مراد صرف ان کا وجود ہی نہیں بلکہ ان کی وہ نفع رسانی اور نفع بخشی کی قوت بھی ہے جسے ہم جابجا اپنا کام کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ آسمان کی وسعتوں کا تو آج تک کوئی اندازہ نہ سکا اور نہ شائد ہوسکے گا، لیکن زمین جو ہمارے قدموں کے نیچے بچھی ہوئی ہے خود اس کے اندر جو بیشمار منفعت بخش چیزیں موجود ہیں اور اس کے پہلو میں جو سمندر کا لامتناہی خزا نہ پھیلا ہوا ہے، جس کی مخلوقات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زمین کی مخلوقات سے بھی زیادہ ہیں۔ پھر ان تمام مخلوقات کو ملنے والازندگی کا سامان اور ان میں سے ایک ایک کے وجود کی بےپایاں حکمتیں جن کا اندازہ کرنا بھی انسان کے لیے مشکل ہے۔ کیا یہ سب کچھ از خود وجود میں آگیا ؟ یا واقعی کوئی اس کا پیدا کرنے والا ہے اور اس نے کسی عظیم مقصد کے لیے ان کو پیدا کیا ہے ؟ اور پھر ان مخلوقات میں پایا جانے والا حیران کن نظم وضبط اور سب کا مل کر ایک متعین مقصد کے لیے سفرکا تسلسل اور جہد وعمل کا محور اور ان کی گردش کے متعین راستے اور ان کی افادیت کا ناقابلِ انقطاع فیضان ان میں سے ایک ایک چیز یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ان کے پیچھے ایک فعال ہستی موجود ہے جو نہایت حکمت و دانش کی مالک اور تدبیر وقدرت سے آراستہ ہے۔ یہ زمین و آسمان اپنی بےپناہ وسعتوں کے باوجود اسی طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور اس کی اطاعت میں بندھے ہوئے ہیں جس طرح کائنات کا ادنیٰ سے ادنیٰ ذرہ۔ لوگوں نے اگرچہ کہیں آکاش دیوتا اور دھرتی دیوتا وغیرہ جیسے تصورات اپنی طرف سے گھڑے، لیکن یہاں بتایا جارہا ہے کہ ان کی حیثیت مخلوق سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ کائنات کے نظم سے استدلال اس کے بعد اللَّیْلِ وَالنَّھَار کا ذکر فرمایا کہ ذرا ان رات اور دن کو دیکھو کس طرح ایک تسلسل، پابندی اور نہائت نظم وضبط کے ساتھ ایک دوسرے کے پیچھے چلے آتے ہیں۔ جب سے سورج اور چاندوجود میں آئے ہیں اور زمین نے حرکت کرنا سیکھا ہے کبھی لیل و نہار کی آمد ورفت میں نہ انقطاع واقع ہوا ہے اور نہ بد نظمی پیدا ہوئی ہے۔ دنیا نے ان کو بھی دیوی دیوتا کا درجہ دیا اور ان کی پوجا کی ہے۔ لیکن یہاں ان کا ذکر کرکے اشارہ کیا کہ ان کا غیر مخلوق یا خود آفریدہ ہونا تو الگ رہا، یہ وقت وزمان کے بےحس اور بےجان اجزاء تو خود اپنی حرکت تک پر قادر نہیں۔ زمین کی حرکت سے رات دن وجود میں آتے ہیں، موسم بدلتے ہیں اور نہ جانے کیسی کیسی تبدیلیاں وجود میں آتی ہیں۔ لیکن دیکھنا تو یہ ہے کہ وہ کون ہے جس کی عظیم الشان کاریگری اور بےمثال صناعی کا یہ نمونہ ہے ؟ فضا کے خلا میں کون ہے جو اسے تھامے ہوئے ہے ؟ اس کے اور چاند، سورج، ستاروں اور سیاروں کے درمیان فاصلہ کا ایک خاص تناسب کس نے قائم کررکھا ہے ؟ اس کی رفتار کی ایک خاص شرح کس نے متعین کردی ہے ؟ آفتاب سے اسے ایک خاص مقدار میں روشنی اور گرمی کون پہنچا رہا ہے ؟ چاند سے روشنی اور خنکی ایک متعین حساب کے ساتھ کس کا دست قدرت اس تک لارہا ہے ؟ آسمان اگر ٹھوس مادی اجسام ہیں تو بھی یا اگر خلا میں محض حد نظر ہیں تو بھی، ہر صورت میں ان کی وضع، ساخت، ترکیب، ہیئت، انسانی دسترس سے کتنی بالا تر ہے ؟ ثوابت اور سیار کے سکون و حرکت کا نظام کون قائم کیے ہوئے ہے ؟ ستاروں کی یہ روشنی اور ان کے طلوع و غروب میں یہ باقاعدگی کس کے حکم سے قائم ہے ؟ نظام فلکی کے بیشمار اجزاء اور عناصر میں یہ ترتیب اور باہمی تناسب کس کی حکمت وصنعت کے دم سے زندہ ہے ؟ رات اور دن کس طرح ایک برتر قانون کے اندر جکڑے نظر آرہے ہیں ؟ گرمی، سردی، برسات ہر موسم میں ان کے اندر مناسب وقت تبدیلیاں کون کرتارہتا ہے ؟ مختلف ملکوں میں ان کے طلوع و ظہور کے وقت کیسے بندھے ہوئے ہیں یہ کبھی نہیں ہو تاکہ جس وقت کلکتہ میں دن نکلتا ہے، دمشق میں بھی دن نکل آئے۔ نہ یہ ہوتا ہے کہ امریکہ کی شام کبھی ایران کی شام بن جائے۔ جنوری میں جو اوقات اندھیرا چھاجانے کے ہوتے ہیں، یہ نہیں ہوتا کہ جون میں وہی باقی رہ جائیں۔ آخر یہ رات دن کے بندھے ہوئے اور قانون کی زنجیر میں جکڑے ہوئے تغیرات، کس کی حکومتِ قاہرہ اور حکمت کاملہ کی شہادت دے رہے ہیں ؟ بحر ذخارسارے براعظموں کو اپنی گرفت میں لیے رہنے والا، رقبہ میں خشکی سے چہار چند اپنی اس ساری عظمت وہیبت کے باوجود کس طرح مشت خاک انسان کے قبضہ میں آگیا ہے۔ کس طرح لکڑی کے تختوں کو جوڑ جاڑ کر ان میں لوہے کی کیلیں ٹھونک ٹھانک کر ان پر لوہے کی چادریں چڑھا کر انسان سمندر کے بڑے سے بڑے مہیب فاصلوں اور مسافتوں کو طے کرکے رکھ دیتا ہے۔ اس میں مدوجزر کب ہوگا ؟ قمری مہینہ کی فلاں فلاں ہی تاریخوں پر ہوگا۔ اپنی ساری غضبناک تندی کے باوجود ایک خاص رقبہ کے حدود سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔ ایک مخصوص و متعین وزن کی چیزوں کو وہ اپنے اوپر تیرائے گا اور اس کے علاوہ وزن والی چیزوں کو ڈبو دے گا۔ اس کے پانی کا ایک مخصوص مزاج، خاص رنگ، خاص مزہ ہوگا۔ کنوئوں کے پانی سے مختلف، دریائوں کے پانی سے مختلف، اس طرح کے سینکڑوں دوسرے قانونوں کا پابند، اسے کس کی مشیت، کس کی قدرت، کس کی حکومت نے کر رکھا ہے ؟ بارش کا خاص خاص فصلوں میں خاص خاص موسموں میں یا خاص خاص فضائی تغیرات کے ماتحت ہونا، بخارات کا ایک خاص گرمی پاکر سمندری جزیرہ آب سے اٹھنا، ایک خاص فاصلہ تک اوپر جانا، ایک خاص درجہ کی سردی پاکر ان دخانی وہوائی اجزاء کا منجمد ہوجانا، ان کا بادل کی شکل اختیار کرلینا، ایک خاص درجہ ثقل تک بڑے بڑے بھاری اور بوجھل بادلوں کا فضا میں سنبھلے رہنا، پھر فلاں فلاں فضائی تغیرات کے ماتحت فلاں علاقہ تک جانا، پھر ایک بندھی ہوئی مقدار میں ایک متعین مدت کے اندر برس پڑنا، اس سے ازسر نو خشک زمین میں جان پڑجانا۔ یہ سارے ردو بدل کسی حکیم کی حکمت، کسی حاکم کی حکومت، کسی قادر کی قدرت کی کیسی کھلی ہوئی شہادت دے رہے ہیں۔ پھر حیات نباتی کے علاوہ خود حیات حیوانی جن عجائب کا مجموعہ ہے۔ ہر زندہ جسم میں بیشمار ذروں اور خلیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ان کی جو ایک مخصوص ترتیب اور متعین ترکیب ہوتی ہے، ایک خاص درجہ کی حرارت جو حیات کو قائم رکھتی ہے، ایک خاص مقدار سے بڑھی ہوئی سردی جو اس لف میں نشر، اس اجتماع میں انتشار پیدا کردیتی ہے۔ نظام تغذیہ، نظام تنفس، نظام تناسل، نظام عصبی وغیرہ جسم کے اندر متعدد نظامات پھر ہر نظام کے تحت بیشمار قاعدے اور ضابطے اس سارے نظام اعظم کی تکوین و قیام پر کس کی مشیت، کس کی حکومت کارفرما ہے ؟ اس قسم کے سینکڑوں، ہزاروں سوالات پر انسان جتنا زیادہ غور اور نکتہ سنجی سے کام لے گا، توحید اور توحیدی حکمتوں کا نقش دل پر اور زیادہ ہوتاجائے گا۔ جاہلی اور غیر مومن قوموں کے فلسفہ اور سائنس کا صرف نقطہ نظر غلط ہوتا ہے، اس کی اگر تصحیح ہوجائے اور ان علوم مادی کا مطالعہ اگر ایمانی نقطہ نظر سے شروع کردیا جائے تو بجائے الحاد، ارتیاب و تشکک کے عرفان وایقان ہی کی راہیں روز بروز روشن ہوتی جائیں۔ (تفسیر ماجدی) اس آیت پر اگر مزیدتدبر کی نگاہ ڈالیے تو یہ حقیقت واضح ہوگی کہ اس میں شروع سے لے آخر تک اس کائنات کے متقابل بلکہ متضاد اجزاوعناصر کا حوالہ دیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کے اس حیرت انگیز اتحاد وتوافق اور ان کی اس بےمثال بہم آمیزی و سازگاری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جو ان کے اندر اس کائنات کی مجموعی خدمت کے لیے پائی جاتی ہے۔ آسمان کے ساتھ زمین، رات کے ساتھ دن، کشتی کے ساتھ دریا۔ بظاہر دیکھئے تو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ضدین کی نسبت رکھتے ہیں۔ لیکن ذرا گہری نگاہ سے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ کہ اگر یہ ایک طرف ضدین کی نسبت رکھتے ہیں تو دوسری طرف اس کائنات کی خانہ آبادی کے نقطہ نظر سے آپس میں زوجین کا ساربط واتصال بھی رکھتے ہیں۔ یہ آسمان اور اس کے چمکتے ہوئے سورج اور چاند نہ ہوں تو ہماری زمین کی ساری رونقیں اور بہاریں ختم ہوجائیں بلکہ اس کی ہستی ہی نابود ہوجائے۔ اسی طرح یہ زمین نہ ہو تو کون بتاسکتا ہے کہ اس فضائے لامتناہی کے بیشمار ستاروں اور سیاروں میں سے کس کس کا گھر اجڑ کے رہ جائے۔ علی ہذا القیاس، ہماری اور ہماری طرح اس دنیا کے تمام جانداروں کی زندگی جس طرح دن کی حرارت، تمازت، روشنی اور نشاط انگیزی کی محتاج ہے، اسی طرح شب کی خنکی، لطافت، سکون بخشی اور خواب آوری کی بھی محتاج ہے، یہ دونوں مل کر اس گھر کو آباد کیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح سمندر کو دیکھئے اس کا پھیلائو کتنا ہوشربا اور ناپیداکنار ہے اور اس کی موجیں کتنی مہیب اور ہولناک ہیں۔ لیکن دیکھئے اس سرکشی و طغیانی کے باوجود کس طرح اس نے عین اپنے سینہ پر سے ہماری کشتیوں اور ہمارے جہازوں کے لیے نہایت ہموار اور مصفا سڑکیں نکال رکھی ہیں۔ جن پر ہمارے جہاز دن رات دوڑ رہے ہیں اور تجارت ومعیشت، تمدن ومعاشرت اور علوم وفنون ہر چیز میں مشرق اور مغرب کے ڈانڈے ملائے ہوئے ہیں۔ آگے آسمان سے بارش اور اس بارش سے زمین کے از سرِ نو باغ و بہار اور معموروآباد ہوجانے کا ذکر ہے۔ غور کیجئے ! کہاں زمین ہے اور کہاں آسمان۔ لیکن اس دوری کے باوجود دونوں میں کس درجہ گہرا ربط واتصال ہے۔ زمین اپنے روئیدگی اور زندگی کے خزانے چھپائے ہوئے ہے لیکن یہ سارے خزانے اس وقت تک مدفون ہی رہتے ہیں جب تک آسمان سے بارش نازل ہو کر ان کو ابھار نہیں دیتی۔ اسی طرح کا رشتہ بادلوں اور ہوائوں کے درمیان ہے۔ بادلوں کے جہاز لدے پھندے اپنے بادبان کھولے کھڑے ہیں، لیکن یہ اپنی جگہ سے ایک انچ سرک نہیں سکتے۔ جب تک ہوائیں ان کو دھکے دے کر ان کی جگہ سے نہ ہلائیں اور ان کو ان کی مقرر کی ہوئی سمتوں میں آگے نہ بڑھائیں۔ یہ ہوائیں ہی ہیں جو ان کو مشرق ومغرب اور شمال اور جنوب میں ہنکائے پھرتی ہیں اور جب چاہتی ہیں ان کو غائب کردیتی ہیں اور جب چاہتی ہیں ان کو افق پر نمودار کردیتی ہیں۔ قولِ فیصل اب سوال یہ ہے کہ غورو تدبر کی نگاہ اس دنیا کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔ کیا یہ اضداد اور متناقضات کی ایک رزم گاہ ہے ؟ جس میں مختلف ارادوں اور قوتوں کی کشمکش برپا ہے یا ایک ہی حکیم ومدبرکا ارادہ ان سب پر حاکم و فرمانرواہے، جو ان تمام عناصر مختلفہ کو اپنی حکمت کے تحت ایک خاص نظام اور ایک مجموعی مقصد کے لیے استعمال کررہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس کائنات کے مشاہدہ سے یہ دوسری ہی بات ثابت ہوتی ہے۔ پھر مزید غورکیجئے ! تو یہیں سے ایک اور بات بھی نکلتی ہے وہ یہ کہ یہ دنیا آپ سے آپ وجود میں نہیں آئی ہے اور نہ اس کے اندر جو ارتقاء ہوا ہے، وہ آپ سے آپ ہوا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کے عناصر مختلفہ میں ایک بالاتر مقصد کے لیے وہ سازگاری کہاں سے پیدا ہوتی جو اس کائنات کے ہر گوشہ میں موجود ہے۔ غور کیجئے ! تو یہ ایک ہی حقیقت، ایک طرف شرک کے تمام امکانات کا سدباب کررہی اور دوسری طرف یہ ڈارونزم کے بھی وساوس کی جڑ کاٹ رہی ہے۔ (ماخوذ ” تدبر قرآن “ )