Ayah 2:41وَاٰمِنُوْابِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقَا لِّمَا مَعَکُمْ وَلاَتَکُوْنُوْااَوَّلَ کَافِرٍم بِہٖص وَلاَ تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا ز وَاِیَّایَ فَاتَّقُوْن۔ (البقرۃ : 41)
(اور ایمان لائو اس چیز پر جو میں نے اتاری ہے، جو تصدیق کرنے والی ہے اس چیز کی جو تمہارے پاس ہے اور تم اس کے پہلے کافر نہ بنو، اور میری آیات کو حقیر پونجی کے عوض نہ بیچو اور میرے غضب سے بچو)
مَـآ اَنْزَلْتُسے مراد
اس آیت کریمہ میں اللہ کے آخری رسول اور قرآن کریم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ مَااَنْزَلْتُسے مراداگرچہ قرآن کریم ہے اور قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے اور یہ بات مسلمہ ہے کہ کوئی کتاب بھی کسی پیغمبر کے بغیر نہیں اترتی۔ جب تک پیغمبر پر ایمان نہ لایا جائے کتاب پر ایمان لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو جو بات خودبخود کلام سے واضح ہورہی ہے اس کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ جب یہ فرمایا گیا کہ اس چیز پر ایمان لائو جو میں نے نازل کی ہے تو یہ بات خودبخود سمجھ میں آتی ہے کہ یہ کتاب جس زبان سے پڑھ کر سنائی جارہی ہے اور جو زبان اس کو اللہ کی کتاب کے طور پر پیش کررہی ہے اس کتاب پر ایمان لانے سے پہلے اس پر ایمان لائو پھر اس کے واسطے سے اس کتاب کو تسلیم کرو۔
مصدقاً کا مفہوم
اس کے بعد دونوں کے حوالے سے ایک بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تمہیں تو اس پیغمبر اور اس کتاب کے ماننے میں کوئی تأمل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ دونوں تو تصدیق کررہے ہیں ان کتابوں کی اور اس دین کی جو تمہارے پاس ہے۔ البتہ اس تصدیق کے دو پہلو ہیں، ایک پہلو یہ ہے کہ قرآن کریم باربار اس بات کی تصدیق کررہا ہے کہ جس طرح میں اللہ کی طرف سے آیا ہوں اسی طرح تورات، زبور اور انجیل بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل کی گئی تھیں۔ ان چاروں کتابوں کا سرچشمہ ایک ہی ذات خداوندی ہے جن پر یہ کتابیں اتری تھیں وہ سب اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ ان کتابوں نے جو تعلیمات پیش کی تھیں میں اصولی طور پر اس کی تصدیق کرتا ہوں، مجھے اگر انکار ہے تو ان چیزوں سے ہے جو غلط طریقوں سے ان کتابوں میں شامل کردی گئی ہیں یا تحریف کرکے ان کی شکل بگاڑ دی گئی ہے۔ اس طرح سے قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ اہل کتاب کے پاس جو صحیفے ہیں ان کی تصدیق کررہے ہیں۔ اس پر سے تو اہل کتاب کو آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کا شکر گزار ہونا چاہیے چہ جائیکہ اسے ماننے سے انکار کردیں۔
دوسرا پہلو اس تصدیق کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور قرآن کریم جیسی عظیم کتاب اس طرح ان کی کتابوں کی تصدیق کررہی ہیں کہ ان کی کتابوں نے جابجا آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی علامات ذکر کی تھیں۔ آنحضرت کا تو نام مبارک اور حلیہ تک ان کتابوں میں موجود تھا۔ آپ کی بعض نمایاں عادات تک ان میں بیان کی گئی تھیں۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آنے والانبی بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسمعیل میں سے ہوگا۔ اسی طرح قرآن پاک میں نازل کردہ تعلیمات کے حوالے سے بہت سی باتیں پہلی کتابوں میں موجود تھیں۔ آپ پر نازل ہونے والی وحی کی صفات تک کو بیان کیا گیا تھا اور اہل کتاب ہمیشہ ان علامتوں کو لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتے تھے۔ اب جب حضور تشریف لائے اور قرآن کریم نازل ہوا تو وہ بالکل ان صفات کے مطابق اور ان کا پیکربن کرآئے، جیسا ان کی کتابوں نے بیان کیا تھا۔ تو آنحضرت کا ان کتابوں کی بیان کردہ صفات کا حامل ہونا اور قرآن کریم کا انہی بیان کردہ نمایاں خصوصیات کا پرتو ہونا ایک ایسی تصدیق ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ دونوں ایک ایک علامت کا مصداق بن کے آئے جبکہ ان کی کتابوں کی بیان کردہ پیشگوئیاں اور علامتیں اب تک اپنے حقیقی مصداق کے ظہور کی منتظر تھیں۔ اب اس کتاب اور اس پیغمبر کے ظہور نے ان کا مصداق دنیا کے سامنے پیش کرکے ان کی کتابوں کو سندتصدیق عطاکردی اور اس طرح سے بنی اسرائیل کا سر فخر سے بلند ہوگیا کہ دیکھو ہماری کتابوں نے صدیوں پہلے جو کچھ کہا تھا آج دنیانے اپنی آنکھوں سے اسے سچا ہوتادیکھ لیاتوجس پیغمبرا و رجس کتاب نے ان کا سر فخر سے بلند کیا غضب خدا کا تم بجائے اس کے کہ سب سے پہلے آگے بڑھ کر اس پیغمبر کا دامن تھامتے اور اس کتاب کو سینے سے لگاتے تمہی سب سے پہلے اس کا انکار کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا۔ وَلاَ تَـکُوْنُوْا اَوَّلَ کَافِرٍ بِہ ” تم ہی سب سے پہلے اس کے کافر نہ بنو “۔
اول کافر کا مفہوم
اَوَّلَ کا استعمال دو طرح سے ہوتا ہے۔ کبھی اس کا مضاف الیہ نکرہ مفرد ہوتا ہے، جیسے اس آیت میں ہے اور کبھی جمع ہوتا ہے۔ جیسے : اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌفَاَنَا اَوَّلُ الْعَابِدِیْنَ ” اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلا اس کا عبادت کرنے والاہوتا “۔ تو یہاں دیکھئے العابدین جمع ہے۔ دونوں کے استعمال میں فرق یہ ہے کہ واحد ہونے کی صورت میں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ کوئی اور بھی ہے یا نہیں لیکن جمع آنے کی صورت میں مفہوم یہ ہوتا ہے کہ سب سے پہلا میں ہی ہوں مجھ سے پہلا کوئی نہیں۔
تم سب سے پہلے کافر نہ بنوکا یہ مطلب نہیں کہ جب دوسرے کفر کرنے لگیں تو تمہیں بھی کفر کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن تمہیں سب سے پہلے یہ حرکت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم ہو جو اصول دین سے واقف ہو، تم صاحب کتاب امت ہو۔ تمہاری کتابوں میں نبی آخرالزمان کی علامتیں موجود ہیں۔ ان علامتوں سے تم اچھی طرح رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کو پہچانتے ہو کہ وہ دونوں اللہ کی جانب سے ہیں۔ دنیا کے دوسرے لوگ اگر آپ پر ایمان لانے سے انکار کریں تو ان کے لیے کوئی عذر ہوسکتا ہے۔ لیکن تمہارے لیے تو کوئی عذر نہیں ناواقف بھول جائے تو تعجب نہیں ہوتا لیکن جاننے بوجھنے والا غلطی کرے تو نہ صرف کہ تعجب ہوتا ہے بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ اصل غلطی کرنے والے تم پہلے شخص ہو کیونکہ ناواقف کی غلطی تو قابل ذکر نہیں ہوتی۔ دوسرا اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش اور اہل مکہ نے اگرچہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کا انکار سب سے پہلے کیا کیونکہ اہل کتاب سے واسطہ تو ہجرت کے بعد پڑا۔ لیکن اہل مکہ نے اگر حضور کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا تو سب نے نہیں کیا بلکہ ایک خاصی بڑی تعداد ایمان لانے والوں کی بھی تھی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ہجرت کے بعد مہاجرین کہلائے۔ اگر قریش میں بڑے بڑے مخالف اور معاند نظرآتے ہیں تو دوسری طرف قریش ہی میں جاں نثاروں اور فرمانبرداروں کی بھی کمی نہیں جنھوں نے مسلسل 13 سال تک مخالفتوں کی آندھی میں بھی اسلام کا چراغ جلائے رکھا۔ پھر جب حضور ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو وہاں آپ کو اوس و خزرج سے واسطہ پڑاتو ایک مختصر عرصے میں ان کی اکثریت مسلمان ہوگئی، لیکن اگر کسی گروہ نے ایک محدود اقلیت کو چھوڑ کر بحیثیت قوم اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اور اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے تو وہ صرف بنی اسرائیل اور اہل کتاب ہیں۔ تو یہاں تقابل بحیثیت قوم کے فرمایا جارہا ہے کہ ایک طرف بنی اسرائیل کی قوم ہے اور دوسری طرف امی عرب ہیں، چاہے وہ عدنانی ہوں یا قحطانی۔ ان دونوں کا تقابل کریں تو بحیثیت قوم صرف اہل کتاب نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا۔ اس لیے فرمایا کہ مجموعی طور پر تمہیں ہی اسلام قبول کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے تھا لیکن تمہی سب سے پہلے کافر ہوگئے، تمہارے لیے یہ بات ہرگز زیب نہیں دیتی۔
اہلِ کتاب کی اسلام دشمنی کا حقیقی سبب
ہماری متذکرہ بالا گزارشات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اہل کتاب پر آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی حقانیت پوری طرح واضح تھی۔ ان کے اہل علم کے ذہنوں میں اسلام کی صداقت کے بارے میں کوئی اخفا نہیں تھا۔ لیکن تعجب ہوتا ہے کہ انھوں نے اسلام قبول کرنے میں صرف ٹھوکر ہی نہیں کھائی بلکہ وہ اسلام کے بدترین معاند اور دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور آنحضرت ﷺ کی انھیں راہ راست پر لانے کے لیے تمام مساعی جمیلہ غیر موثر رہیں۔ ایک قاری اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے جیسا کہ ہم نے عرض کیا واقعی تعجب میں ڈوب جاتا ہے۔ لیکن پروردگار نے اس آیت کے اگلے جملے میں اس حقیقت سے نقاب اٹھایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اسلام قبول نہ کرنا دراصل چند درچند خرابیوں کا منطقی نتیجہ تھا۔ اس کے لیے جو تعبیر اختیار کی گئی ہے اس میں قلت فکر کے باعث عموماً یہ بات ذہنوں سے اوجھل رہی۔ ارشاد فرمایا گیا ہے : وَلاَ تَشْتَرُوْابِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا ” میری آیتوں کو ثمن قلیل کے بدلے میں مت بیچو “۔ بعض برخود غلط قسم کے لوگوں نے تو اس کا یہ مطلب لیا کہ ثمن قلیل یعنی تھوڑی قیمت پر کتاب اللہ کی آیات کو بیچنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ لیکن اگر آیات کی کوئی بڑی قیمت مل جائے تو پھر یہ قیمت لے لینے میں کوئی حرج نہیں، حالانکہ یہ ایک معروف اسلوب ہے جس کے مطابق یہ تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ مفہوم اس کا یہ ہے کہ بعض حقیقتیں یا بعض چیزیں اس قدر عظیم ہوتی ہیں کہ دنیا کے مال و دولت سے اس کی قیمت نہیں لگائی جاسکتی یعنی وہ معاوضے بدلے یاقیمت سے ماوراء اور بالا ہوتی ہیں، پوری دنیا بھی ان کی قیمت نہیں بن سکتی۔ ایسی چیزوں کی خریدو فروخت میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ ان کی قیمت کیا طے ہوئی ہے بلکہ بجائے خود ان کی قیمت کا طے ہونا ہی اور اس کو سامانِ فروخت سمجھ لینا ہی اس قدر مکروہ اور شنیع فعل ہے کہ جس سے نفرت ہونی چاہیے۔ آدمی ثمن قلیل کو چونکہ فطری طور پر حقیر اور قابل نفرت سمجھتا ہے اس لیے اس فعل کی کراہت اور شناعت کو نمایاں کرنے کے لیے یہ تعبیر اختیار کی جاتی ہے کہ تم ایسی بےنظیر چیزوں کو کسی بھی قیمت پر بیچو تم نے گویا ان کو ثمن قلیل کے بدلے بیچا ہے۔
لیکن اس آیت میں مزید غور وفکر سے جو بات ذہن میں آتی ہے اور جسے درحقیقت یہاں بیان کرنا مقصود ہے۔ وہ یہ بات نہیں کہ وہ کتاب اللہ کی آیات کو کس قیمت پر بیچ رہے ہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ ان کے اللہ کی طرف سے نئی ہدایت کو قبول کرنے کے راستے میں جو اصل رکاوٹ ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ انسانیت سے تہی دامن ہوگئے۔ روحانی زندگی ان کے لیے ایک اجنبی چیز بن گئی۔ دین جو بندے اور خدا کے درمیان ایک رشتہ ہے، وہ ان کے لیے کاروبار ہوگیا۔ اب ان کی زندگی میں دین، شریعت، آخرت ناقابل قدر چیزیں ہیں۔ یہ درحقیقت مفادات کے بندے اور ہوس کے اسیر ہیں۔ یہ ہر کام کرنے سے پہلے اپنے مفادات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان کی زندگی کا اصل ہدف دنیا، دولت دنیا اور دنیوی عزت وشہرت ہے۔ اس کے لیے انھیں کچھ بھی بیچنا پڑے یا اقدارِ انسانیت کو نیلامی پر چڑھاناپڑے تو انھیں دریغ نہیں ہوگا۔ اللہ کے دین کو چھوڑ دینا اور آخرت کو بھول کر دنیا ہی کو اپنا محبوب اور اپنا مقصود بنالینا اور ہر فیصلے کو مفادات کی نگاہ سے دیکھنا یہ وہ رویہ ہے جس کی یہاں نشان دہی کی گئی ہے۔ اسی رویئے نے اہل کتاب کو آنحضرت ﷺ اور آپ کی دعوت کی دشمنی پر اکسایا اور یہی سوچ اور رویہ ہر دور میں انسانیت کی تباہی کا باعث بنتارہا۔ جب کوئی فرد یا کوئی قوم اس گمراہی کا شکار ہوتی ہے تو پھر اس کی زندگی پر اصل حکمرانی مفادات کی ہوتی ہے۔ وہ ہر چیزکو درہم و دینار کے حوالے سے دیکھتی ہے۔ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بالکل یہ تصویر ہوتی ہے ؎
خاک باش و خوک باش ویاسگِ مردار باش
ہرچہ باشی باش لیکن اند کے زردار باش
اب ان کے اندیشے زندگی کی معنوی قدروں اخلاقی عظمتوں کی شکست وریخت یا آخرت میں جواب دہی کے حوالے سے نہیں ہوتے بلکہ ان کے تمام تر اندیشوں کا تعلق صرف ان کے مفادات سے ہوتا ہے۔ قوموں کانشیب و فراز اجتماعی زندگی کی شکست وریخت ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ انھیں اندیشہ ہوتا ہے تو صرف بازار کے اتار چڑھائو کا، پیداوار کے گرنے یا بڑھنے کا، کرنسی کی قیمت میں کمی بیشی کا، یا پالیسیوں میں نقصان رساں عناصر کے در آنے کا۔ چناچہ آیت کے آخری حصے میں ان کی اسی بیماری کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا گیا : وَاِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ ” اور مجھ ہی سے ڈرو “ اس تلقین میں بھی اِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ کی طرح ایک اہتمام اور زور ہے۔ جس نے حصر کا معنی پیدا کردیا ہے کہ تمہارے خوفوں اور اندیشوں کا تعلق ان چیزوں سے نہیں ہونا چاہیے جن سے تم نے بنا لیا ہے اور جن کی وجہ سے تمہاری زندگی کا رخ بالکل مخالف سمت کی طرف بدل گیا ہے۔ اب تمہارا رخ اللہ یا آخرت کی طرف ہونے کی بجائے دنیا اور مفاداتِ دنیا کی طرف ہے حالانکہ زندگی سودوزیاں کے اندیشہ سے برتر حقیقت کا نام ہے۔ اس میں جو چیز صالح خون بن کر دوڑتی ہے اور جو اس کی سمت کو درست رکھتی ہے، وہ اللہ کے سامنے جواب دہی کے نتیجے میں اپنے انجام کا خوف ہے۔ اس لیے تمہیں اگر کوئی خوف یا اندیشہ ہونا چاہیے تو وہ صرف یہ کہ تمہیں بہرحال میرے پاس آنا ہے تم اپنی ان بداعمالیوں کے ساتھ میرا سامنا کیسے کروگے ؟ اور تمہارے پاس تمہاری ان بداعمالیوں کا کیا جواب ہوگا ؟ تم نے جو اللہ سے شریعت پر مضبوطی سے قائم رہنے کا عہد کیا تھا اور یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ نبی آخرالزمان اور قرآن پر ایمان لائوگے بلکہ تم نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ بھی عہد و پیمان باندھا تھا کہ تمہیں جو کتاب عطاہوئی ہے خلق خدا کے سامنے اس کی شہادت دوگے اور اس کے کسی بھی جز کو چھپائو گے نہیں۔ لیکن اب جب کہ تم نے دنیا کی حرص میں مبتلاہوکر ہر عہد کو توڑ ڈالا اور مفادات کے بندے بن کر رہ گئے بتائو میرے پاس آکر اس کا کیا جواب دوگے۔ اس لیے آج بھی تمہارے پاس یہ فیصلہ کرنے کا موقع باقی ہے کہ تمہیں مجھ سے ڈرنا ہے یا اپنے مفادات کے بارے میں اندیشوں کا اسیر رہنا ہے۔ دونوں صورتوں میں انجام واضح ہے ؎
دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم
فَارْھَبُوْنِ اور فَاتَّقُوْنِ کا مفہوم اور دونوں میں فرق
گزشتہ آیت میں فَارْھَبُونِکا لفظ آیا ہے۔ جو رہبت سے ہے اور یہاں فَاتَّقُونِ کا لفظ آیا ہے۔ جو اتقاء یا تقویٰ سے ہے، لفظی معنی تو دونوں کا ” ڈرنا “ ہوتا ہے۔ لیکن اہل علم اس کے مظاہر میں فرق کرتے ہیں۔ کسی کی عظمتوں کے جلال وتصور سے جو لرزش اور کپکپی طاری ہوتی ہے وہ رہبت ہے اور کسی صاحب عظمت و جلال کے قہر وغضب سے بچنے اس کے مقرر کردہ حدود کی مخالفت سے احتراز اور اس کے احکام وآیات کی خلاف ورزی سے اجتناب و احتیاط کی جو بےچینی طبیعت میں پیدا ہوتی ہے اور جو خلوت وجلوت ہر جگہ آدمی کو بیدار اور چوکنا رکھتی ہے وہ تقویٰ ہے۔ دونوں آیتوں میں ان دونوں لفظوں کا استعمال جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار نے بنی اسرائیل کو اپنے احسانات کا احساس دلا کر اور ان سے لیے ہوئے عہد و پیمان کی یاد دلاکر اور اپنی ذات کی عظمت و جلال سے ان کے دلوں میں ایک ایسی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس سے ان کے دل لرزاٹھیں اور پھر ان کو ایمان کی دعوت دے کر اور جن کمزوریوں کا وہ شکار ہیں، ان کی نشاندہی کرکے ان کے انجام سے انھیں آگاہ کیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں ایک ایسی ہولناک صورتحال سے انھیں دوچار ہونا پڑے گا، جس کی فکر مندی اگر آج پیدا کرلی جائے تو ہر اٹھا ہوا غلط قدم رک سکتا ہے۔ ورنہ اللہ کے غضب سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ یہ انجام کی فکرہی ہے جو انسان کو اللہ کے غضب سے بچاسکتی ہے اور اگر یہ فکر پیدا نہیں ہوتی اور اللہ کا غضب محض ایک مفروضہ بن کے رہ جاتا ہے، تو پھر زوال کی شکار امتوں کے اصحابِ علم و دانش بھی اپنے علم سے قوموں کی رہنمائی کا کام نہیں بلکہ قوموں کے بگاڑ کا کام لیتے ہیں۔ یہود چونکہ اسی زوال کا شکار ہوچکے تھے اس لیے ان کا اخلاقی زوال اسی انتہاء کو چھو رہا تھا جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں کیا جارہا ہے۔
Ayah 2:42وَلاَتَلْبِسُوْا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَْکْتُمُوْا الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 42)
(اور حق اور باطل کو گڈمڈ نہ کرو اور حق کو نہ چھپائو دراں حالیکہ تم جانتے ہو)
لا تلبسوا الحق بالباطلکا مفہوم
لا تلبسوا۔ لبس سے ہے۔ یہ لفظ مختلف معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن تمام معانی میں ایک تشابہ اور مناسبت بھی پائی جاتی ہے۔ مثلاً لَبِسَ الثَّوبَ کا معنی ہے ” اس نے کپڑاپہن لیا۔ “ لبس الامرُعَلَیہ کا معنی ہے ” اس نے معاملہ کو گڈمڈ کردیا “۔ کبھی اس کا معنی ہوتا ہے ” ایک دوسرے سے ٹکرادینا “۔ جیسے قرآن کریم میں ہے :
قُل ھُوَالْقَادِرُعَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْیَلْبِسَکُمْ شِیَعًا
(کہہ دیجئے ! وہ اللہ قادر ہے اس بات پر کہ بھیجے تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے یا تمہارے نیچے سے یا تمہیں گروہ درگروہ کرکے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرادے) (الانعام 6: 65)
اسی طرح لبس الشی بالشی کے معنی ہوتے ہیں ” ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ خلط ملط اور گڈ مڈ کردیا۔ “ یہاں بھی اس کا یہی مفہوم ہے کہ تم حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط اور گڈمڈ نہ کرو۔ میں عرض کرچکا ہوں کہ اللہ کے دین میں ان کی یہ جسارت ان کے اسی رویئے کا تسلسل تھا جس کا ذکر سابقہ آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ صاحب تفہیم قرآن نے اس کا جو مفہوم بیان کیا ہے ہم افادہ عام کے لیے اس کو نقل کرتے ہیں :
(اس آیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اہل عرب بالعموم ناخواندہ لوگ تھے اور ان کے مقابلے میں یہودیوں کے اندر ویسے بھی تعلیم کا چرچا زیادہ تھا اور انفرادی طور پر ان میں ایسے ایسے جلیل القدر عالم پائے جاتے تھے، جن کی شہرت عرب کے باہر تک پہنچی ہوئی تھی۔ اس وجہ سے عربوں پر یہودیوں کا علمی رعب بہت زیادہ تھا۔ پھر ان کے علماء اور مشائخ نے اپنے مذہبی درباروں کی ظاہری شان جماکر اور اپنی جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کا کاروبار چلاکر اس رعب کو اور بھی زیادہ گہرا اور وسیع کردیا تھا۔ خصوصیت کے ساتھ اہل مدینہ ان سے بےحد مرعوب تھے۔ کیونکہ ان کے آس پاس بڑے بڑے یہودی قبائل آباد تھے۔ رات دن کا ان سے میل جول تھا اور اس میل جول میں وہ ان سے اسی طرح شدت کے ساتھ متاثر تھے جس طرح ایک ان پڑھ آبادی زیادہ تعلیم یافتہ، زیادہ متمدن اور زیادہ نمایاں مذہبی تشخص رکھنے والے ہمسایوں سے متاثر ہوا کرتی ہے۔ ان حالات میں جب نبی کریم ﷺ نے اپنے آپ کو نبی کی حیثیت سے پیش کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی، تو قدرتی بات تھی کہ ان پڑھ عرب اہل کتاب یہودیوں سے جاکر پوچھتے کہ آپ لوگ بھی ایک نبی کے پیرو ہیں اور ایک کتاب کو مانتے ہیں۔ آپ ہمیں بتائیں کہ یہ صاحب جو ہمارے اندر نبوت کا دعویٰ لے کر اٹھے ہیں، ان کے متعلق اور ان کی تعلیم کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے چناچہ یہ سوال مکہ کے لوگوں نے بھی یہودیوں سے بارہا کیا اور جب نبی کریم ﷺ مدینے تشریف لائے تو یہاں بھی بکثرت لوگ یہودی علماء کے پاس جاجاکر یہی بات پوچھتے تھے۔ مگر ان علماء نے کبھی لوگوں کو صحیح بات نہ بتائی۔ ان کے لیے یہ کہنا تو مشکل تھا کہ وہ توحید جو محمد ﷺ پیش کررہے ہیں غلط ہے یا انبیاء اور کتب آسمانی اور ملائکہ اور آخرت کے بارے میں جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں اس میں کوئی غلطی ہے یا وہ اخلاقی اصول جن کی آپ تعلیم دے رہے ہیں ان میں سے کوئی چیز غلط ہے۔ لیکن وہ صاف صاف اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے بھی تیار نہ تھے کہ جو کچھ آپ پیش کررہے ہیں وہ صحیح ہے۔ وہ نہ سچائی کی کھلی کھلی تردید کرسکتے تھے، نہ سیدھی طرح سچائی مان لینے پر آمادہ تھے۔ ان دونوں راستوں کے درمیان انھوں نے طریقہ یہ اختیار کیا تھا کہ ہر سائل کے دل میں نبی کریم ﷺ کے خلاف، آپ کی جماعت کے خلاف اور آپ کے مشن کے خلاف کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیتے تھے۔ کوئی الزام آپ پر چسپاں کردیتے تھے۔ کوئی ایسا شوشہ چھوڑ دیتے تھے جس سے لوگ شکوک و شبہات میں پڑجائیں اور طرح طرح کی الجھن میں ڈالنے والے سوالات چھیڑ دیتے تھے تاکہ لوگ ان میں خود بھی الجھیں اور نبی کریم ﷺ اور آپ کے پیرؤوں کو بھی الجھن میں ڈالنے کی کوشش کریں۔ ان کا یہی رویہ تھا جس کی بناء پر ان سے فرمایا جارہا ہے کہ حق پر باطل کے پردے نہ ڈالو، اپنے جھوٹے پروپیگنڈے اور شریر انہ شبہات و اعتراضات سے حق کو دبانے اور چھپانے کی کوشش نہ کرو اور حق و باطل کو خلط ملط کرکے دنیاکو دھوکا نہ دو )
آیت کے آخر میں وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (حالانکہ تم جانتے ہو) ارشاد فرماکران کے خبث باطن پر ضرب لگائی ہے اور ان کی کتمان کی عادت کو عریاں کردیا ہے کہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ؟ اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ تمہاری کتابوں میں نبی کریم ﷺ کی صفات مذکور ہیں اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ تم نے اور تمہارے آباو اجداد نے کس طرح آسمانی کتابوں میں قلم کاریاں کی ہیں اور تحریف اور ترمیم کی جسارتیں کی ہیں۔ تمہارے اہل علم سے یہ بات مخفی نہیں کہ تم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قربانی، ان کی قربان گاہ اور مکہ کی سرزمین سے ان کا تعلق اور بیت اللہ کی تعمیر اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو وہاں بسانا اور صفاو مروہ سے ان کا تعلق ختم کرنے کے لیے کیا کیا تبدیلیاں کی تھیں۔ ایسی بیشمار خیانتیں ہیں جن کا ذکر کرنے کی بجائے : وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَکہہ کر ان کے ضمیر کے اوپر ٹھوکر لگائی ہے کہ اگر کسی کے ضمیر میں بھی زندگی ہے تو شاید وہ اس چوٹ کو محسوس کرے اور اللہ کے دین کی طرف لوٹ آئے۔
اس کے بعد کی آیت کریمہ ایک طرح سے بنی اسرائیل کے لیے حکم بھی ہے جس سے ان کے اللہ سے کیے ہوئے عہد و پیمان کی یاد دہانی مقصود ہے اور ساتھ ہی ساتھ تعریض بھی ہے جو سابقہ آیت کی تائید ہے۔ ارشاد فرمایا :
Ayah 2:43وَ اَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوْا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ۔ (البقرۃ : 43)
(اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو)
اس آیت کریمہ میں تین حکم دیئے گئے ہیں۔
(1) اقامتِ صلوٰۃ (2) اِیتاء زکوٰۃ (3) رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع۔
جہاں تک پہلے دونوں حکموں کا تعلق ہے اس کا ذکر ہم سورة فاتحہ کے درس میں تفصیل سے کرچکے ہیں۔ جہاں تک تیسرے حکم کا تعلق ہے، اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ رکوع کے معنی تو ہوتے ہیں،” آگے کی طرف جھک جانے، تواضع ظاہر کرنے اور فقر وغربت سے پست ہوجانے کے “۔ قرآن مجید میں تو عام طور پر اس سے مراد نماز ہوتی ہے۔ لیکن یہاں چونکہ مع الراکعین کا لفظ بھی ساتھ آیا ہے، اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد صرف نماز ہی نہیں بلکہ مزید بھی چند باتوں کی طرف اشارہ مفہوم ہوتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ذہن میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے واسطے سے تمہارے آباواجداد سے جو عہد لیا تھا اور جس عہد کے تم بھی پابند ہو اس کے اہم ارکان نماز اور زکوٰۃ ہی تھے۔ سورة مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے اس عہد کا ذکر فرمایا ہے :
وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ بَنِی اِسْرَآئِیْلَج وَبَعَثْنَا مِنْھُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْباً ط وَقَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مَعَکُمْط لَئِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَیْتُمُ الزَّکٰوۃَ الخ۔
(اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان پر بارہ نقیب مقرر کیے اور اللہ نے فرمایا : میں یقینا تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ اد ا کی)
اس عہد میں ملاحظہ کیجئے کہ اس عہد کے دو بنیادی ستون نماز اور زکوٰۃ ہیں۔ انہی دونوں کا دوبارہ حکم دے کر بنی اسرائیل سے یہ کہا جارہا ہے کہ تمہارے پاس محمد رسول اللہ ﷺ جو دعوت لے کر آئے ہیں اس میں کوئی نئی بات نہیں بنیادی اعتقادات بھی وہی ہیں اور بنیادی احکامات بھی وہی ہیں۔ تم آخر کس بنیاد پر اس دعوت کا انکار کررہے ہو۔ اس وقت بھی تمہیں نماز اور زکوٰۃ ہی کا حکم دیا گیا تھا اور اب بھی تمہیں یہی حکم دیا جارہا ہے۔ مزیدیہ فرمایا گیا کہ اس وقت بھی تمہاری قومی شیرازہ بندی اسی نماز کے ذریعے کی گئی تھی اور اب بھی تمہاری شیرازہ بندی کے لیے تمہاری گم گشتہ متاع کو دوبارہ تمہارے حوالے کیا جارہا ہے۔ آج تم نے اپنی سیرت و کردار کی بنیاد اور جماعتی شیرازہ بندی کا تانابانا مفادات اور ہوس کے عوامل سے تیار کیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تم سیرت وکردا رکی ہر خوبی اور اجتماعی زندگی کی ہر آورش سے محروم ہوگئے ہو۔ اگر تمہیں اپنے آپ سے کچھ بھی ہمدردی ہے تو دوبارہ اسی نسخہ شفا کی طرف پلٹو جس نے تمہیں پہلے شفابخشی تھی کیونکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کا تمام تر دارومدار اللہ سے تعلق درست ہونے اور بندوں سے تعلق کے صحیح ہونے پر ہے اور یہ دونوں تعلق نماز اور زکوٰۃ سے درست ہوتے ہیں اور پھر جماعتی شیرازہ بندی نماز باجماعت سے پید ہوتی ہے اسی سے حاکم اور محکوم کا فرق مٹتا ہے اور امیر اور غریب اور مختلف طبقات کا تفاوت ختم ہوتا ہے اور جب یہ اساسی رشتے ٹوٹنے لگتے ہیں تو جماعت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ اور جماعت اور قوم کے افراد اخلاقی صفات سے محروم ہوجاتے ہیں۔
اقامت الصلوۃ اور ایتاء الزکوٰۃ کا حکم یہود کے لیے
دوسری بات ہمیں یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ تین باتیں جو ارشاد فرمائی گئی ہیں یہ بنی اسرائیل کے لیے تعریض کا پہلو بھی رکھتی ہے۔ انھیں شرم دلائی جارہی ہے کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جو نبوت دی تو سب سے پہلا حکم نماز ہی کے بارے میں تھا۔ سورة طٰہٰ آیت نمبر 14 میں ارشاد فرمایا گیا ہے : اللہ نے کوہ طور پر موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا :
اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ٓ اَنَا فَاعْبُدْنِیْلا وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ ۔
(میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں اور نماز کو قائم کرو میری یاد کے لیے) (طٰہٰ : 14)
یہ پہلا حکم ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا پھر اسی نماز باجماعت کو جماعتی شیرازہ بندی کا ذریعہ بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ سورة یونس آیت نمبر 87 میں ارشاد فرمایا :
وَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰی وَاَخِیْہِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِکُمَا بِمِصْرَ بُیُوتًاوَّاجْعَلُوْا بُیُوتَکُمْ قِبْلَۃً وَّاَقِیْمُوا لصَّلٰوۃَ ط
(اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ تم اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر مقرر کرلو اور اپنے گھروں کو قبلہ بنائو اور نماز قائم کرو) (یونس)
لیکن بنی اسرائیل نے ان احکامات کا جو حشر کیا اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے مذہبی صحیفوں سے نماز کا ذکر تک ختم کرڈالا۔ ایک اہل علم کی تحقیق کے مطابق یہود زیادہ سے زیادہ سال میں صرف ایک مرتبہ سجدہ کرنا واجب سمجھتے تھے اور اس کے لیے بھی ان کے علماء نے اجازت دے رکھی تھی کہ اگر کوئی شخص کھڑے کھڑے کسی دیوار یا کھمبے پر اپنی پیشانی رکھ دے تو ادائے فرض کے لیے یہ بھی کافی ہے اور رکوع کا تصور تو انھوں نے اپنی عبادات سے بالکل ختم کرڈالا۔ یہاں شائداسی لیے خاص طور پر رکوع کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ عجیب حادثہ یہ ہے کہ یہود کے ایک فرقے کا خیال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نماز کا سرے سے حکم ہی نہیں دیا تھا یہ محض بعد والوں کی بدعت ہے۔ قرآن کریم نے شاید اسی لیے بنی اسرائیل کے زوال کے سلسلے میں ان کی بداعمالیوں کی تاریخ بیان کرتے ہوئے جس کا ذکر سب سے پہلے فرمایا وہ نماز کا ضائع کردینا ہے۔ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِ ھِم خَلْفٌ اَضَاعُوْاالصَّلٰوۃُ ” پھر ان کے بعد ان کے نالائق جانشین آئے جنھوں نے نماز ضائع کردی “۔
جہاں تک زکوٰۃ کے حکم کا تعلق ہے اس کا یہود نے اگرچہ انکار تو نہیں کیا، لیکن ان کے علماء اور کاہنوں نے اس کا مصرف فقرا اور مساکین کے بجائے اپنے آپ کو قرار دے دیا۔ چناچہ کتاب احبارجس میں کاہنوں کے حقوق و فرائض اور نذر اور قربانیوں وغیرہ کا ذکر ہے فقرا اور مساکین کے ذکر سے بالکل خالی ہے۔ پیداوار کے عشر، پہلوٹی کے فدیے اور ہر قسم کی نذریں اس میں کاہنوں کے لیے مخصوص کردی گئی ہیں اور اس طرح زکوٰۃ کے اصلی حقدار فقرا اور غربا کی بجائے علماء اور کاہن بن کے رہ گئے۔ یعنی ان کے علماء کو دنیا کی حرص و آز نے اس حد تک اندھا کردیا کہ شرعی احکام کو بھی انھوں نے اپنی حرص کا ذریعہ بنالیا۔ زکوٰۃ اور نذرونیاز جو سراسر غریبوں کی غربت دور کرنے کے لیے مشروع کیے گئے تھے۔ وہ بھی انھوں نے پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیے اپنے لیے خاص کرلیے۔
علماء سوء کتنے بھی حق سے دور چلے جائیں اور کیسے ہی دنیا کے حریص ہوجائیں وہ اپنا لبادہ کبھی نہیں اترنے دیتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی تمام تر دولت کا سرچشمہ جاہل عوام ہیں۔ وہ انھیں مذہب کا حقیقی خادم اور خدا رسیدہ جان کر ان کی خدمت میں نذرانے پیش کرتے ہیں اور پھر اپنے لیے دعائوں کے طالب ہوتے ہیں۔ اس لیے جب بھی یہ لوگ عوام کے سامنے آتے ہیں، تو ہمیشہ مذہب نیکی اور بھلائی کی باتیں کرتے ہیں۔ تاکہ ان کے شکار ان کے ہاتھوں سے نکلنے نہ پائیں اور ان کی فتوحات میں کمی نہ آنے پائے۔ اگلی آیت کریمہ میں ان کے اسی فریب کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔
Ayah 2:44ارشاد فرمایا :
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔
(کیا تم لوگوں کو وفاداری کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو اور حال یہ ہے کہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو، کیا تم سمجھتے نہیں) (البقرۃ۔ 44)
اَلْبِرْ کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں البر کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ ” اے علمائے یہود ! تم لوگوں کو تو بِرٌّ کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو “۔ برکا ترجمہ عام طور پر ” نیکی “ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں جس طرح علماء یہود پر گرفت ہورہی ہے اور ان کے اس گناہ کو قومی جرم کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے البر کا ترجمہ نیکی کرنا مفہوم کو واضح کرنے کے لیے کفایت نہیں کرتا۔ میرا خیال یہ ہے کہ اس کی جو وضاحت صاحب تدبر قرآن نے کی ہے وہ مفہوم کی وضاحت میں زیادہ موثر معلوم ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں :
” بِرّ : بر کا لفظ عربی زبان میں ایفائے عہد، وفاداری اور ادائے حقوق کے معنی میں آتا ہے۔ حقوق میں ہر قسم کے حقوق شامل ہیں، بنیادی اور حقیقی بھی۔ مثلاً اللہ کی فرمانبرداری، والدین کی اطاعت اور خلق کے ساتھ ہمدردری۔ پھر آگے چل کر اس میں وہ حقوق بھی شامل ہوجاتے ہیں جو قول وقرار اور معاہدات سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے لفظ احسان نیکی کی تمام قسموں پر حاوی ہے اور عدل کا بھی ہم معنی ہے۔ اپنے استعمالات کے لحاظ سے یہ لفظ اثم (حق تلفی) عقوق (والدین کی نافرمانی) غدر (بےوفائی) اور ظلم کا ضد ہے۔ بَرٌّ اور بَارٌ اس سے صفت کے صیغے میں استعمال ہیں۔ مثلاً کہیں گے۔ بَرٌّبِوَالِدِہٖ ” وہ اپنے باپ کا فرمانبردار ہے “۔ بربالقسم کے معنی ہیں ” اس نے اپنی قسم پوری کی۔ “
قرآن مجید میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی تعریف میں وارد ہے :
وَکَانَ تَقِیًّا۔ وَّبَرًّا م بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا (مریم : 13، 14)
(وہ پرہیز گار اور اپنے ماں باپ کا فرمانبردار تھا، سرکش اور نافرمان نہ تھا)
دوسری جگہ فرمایا :
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ط (آل عمران : 92)
(تم اللہ کی فرمانبرداری کا حقیقی درجہ حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ ان چیزوں میں سے خرچ نہ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو)
اللہ تعالیٰ کی تعریف میں ہے :
اِنّـہٗ ھُوَ الْبَرُّالرَّحِیْمُ ۔ (طور : 28) (بےشک وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا اور مہربان ہے)
نیز فرمایا ہے :
وَتَعَاوَنُوْاعَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَاتَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (2۔ مائدہ)
(اور تعاون کروایفائے حقوق اور تقویٰ کے کاموں میں اور نہ تعاون کروحق تلفی اور تعدی کے کاموں میں)
اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ برکا لفظ ایک پہلو سے نیکی اور بھلائی کے تمام کاموں پر مشتمل ہے۔ لیکن اپنے خاص مفہوم کے لحاظ سے یہ حقوق اور فرائض کے ایفا کے لیے آتا ہے۔
اس آیت کے مخاطب یہود کے علماء اور اکابر ہیں۔ آخر کا ٹکڑا اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْـکِتٰبَ ” اور حال یہ ہے کہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو “ ، ہمارے اس خیال کی نہایت واضح طور پر تائید کررہا ہے۔ ان علما اور اکابر کو مخاطب کرکے یہ بات کہی جارہی ہے کہ تم عوام کو تو بڑے زوروں سے حقوق اور فرائض ادا کرنے کی تلقین کرتے ہو، لیکن یہ تلقین کرتے وقت اپنے آپ کو بالکل بھول جاتے ہو۔ لوگوں کو تو نصیحت کرتے ہو کہ اپنے مال تمہارے حوالہ کریں لیکن خود تمہارے اوپر خدا کے اور غریبوں کے جو حقوق ہیں ان کا خیال تمہیں کبھی نہیں آتا، بلکہ تم لوگوں کا دیا ہوامال ہڑپ کرکے بیٹھ جاتے ہو۔ تم نے دوسروں پر تو اپنی اطاعت پوری سطوت کے ساتھ واجب کررکھی ہیں، یہاں تک کہ تم ان کے رب بن بیٹھے ہو، لیکن خود اللہ کی اطاعت اور اس کی فرمانبرداری سے بالکل آزاد ہو، نماز اور زکوٰۃ کو ضائع کرکے تم نے پورے دین کو بالکل برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ علمائے یہود کی اس حالت کی طرف حضرت مسیح (علیہ السلام) نے بھی نہایت بلیغ الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے :۔
” اس نے کہا اے شرع کے عالمو ! تم پر بھی افسوس کہ تم ایسے بوجھ جن کا اٹھانا مشکل ہے، آدمیوں پر لادتے ہو اور آپ ایک انگلی بھی ان بوجھوں کو نہیں لگاتے۔ “ (لوقاب 11۔ 47)
غور کیجئے، انجیل کے ان الفاظ اور قرآن مجید کے مذکورہ بالا الفاظ میں کتنی مطابقت ہے !
آیت کے آخر میں فرمایا اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ” کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے “۔ یعنی اگر تم مذہب کی حقیقت اور روح سے بالکل بےبہرہ ہوگئے ہو اور حُبِّ دنیا اور حُبِّ جاہ نے تمہارے اندر سے اخلاقی صفات نکال دی ہیں، تو تمہارے سروں میں عقل تو ہے۔ تم اگر کتاب سے کام نہیں لیتے تو عقل سے پوچھ کر دیکھ لو کہ جس قوم کے اہل علم، اہل دانش اور مذہبی رہنمائوں کا یہ حال ہوجائے کہ وہ جن باتوں کا لوگوں کو حکم دیں اور جن باتوں کی افادیت صداقت اور اہمیت پر زور دیں اور خود ان کی زندگی کا عمل اس کے یکسر خلاف ہو اور ان کے قول وعمل میں تضاد واقع ہوجائے اور وہ اپنی زندگی کے لیے الگ جزیرے بناکر بیٹھ جائیں تو اس قوم کے شیرازے کو بکھرنے سے کون روک سکتا ہے۔ یعنی مذہب کو تو ایک طرف رہنے دیجئے، اگر تم اپنی قوم کے معاملے میں تھوڑاسا بھی اخلاص رکھتے ہو اور تم اپنی قومی وحدت کے بارے میں اگر واقعی سنجیدہ ہو تو اپنی عقل سے پوچھو کہ تمہارا یہ رویہ آخر کیا نتائج پیدا کرے گا۔
اگلی آیت کریمہ میں آخری بات کے طور پر یہ ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اگرچہ تمہارے اعمال میں تبدیلی کی امید بہت مشکل ہے لیکن اگر تمہارے کسی طبقے میں اس تبدیلی کی کچھ بھی خواہش ہو تو ہم تمہیں اس کا علاج بتادیتے ہیں اگر تم اس پر عمل کرو تو تمہاری وہ کمزوریاں جن سے نکلنا تمہارے لیے مشکل ہورہا ہے ان سے نکلنا تمہارے لیے آسان ہوجائے گا۔
Ayahs 2:45–46وَاسْتَعِیْنُوْابِاالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط وَاِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ وَاَنَّھُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔
( اور مدد چاہوصبر اور نماز سے، اور بیشک یہ بھاری چیز ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو ڈرنے والے ہیں۔ جو گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں )
(البقرۃ : 645 تا 46)
عہد الٰہی کی پابندی کے لیے صبر اور نماز سے استعانت
بنی اسرائیل سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم عہد الٰہی کو ازسر نو استوار کرنا چاہتے ہو اور تمہارے لیے اس عہد الہٰی کی پابندی دشوار ہورہی ہے اور تمہارے سرکش قلوب احکام الٰہی کی پابندیوں کو اپنے لیے دشوار محسوس کررہے ہیں تو ہم تمہارے لیے ایک نسخہ تجویز کیے دے رہے ہیں جس پر عمل کرنے سے تمہارے لیے عہد الٰہی کی پابندیوں پر چلنا آسان ہوجائے گا۔ اس نسخہ کے دو اجزا ہیں ” صبر اور نماز “۔ اگر تم نماز پڑھنا شروع کردو اور صبرکو زندگی کا معمول بنالوتو تمہارے لیے اللہ کے احکام پر چلنا کوئی مشکل نہیں رہے گا۔ نماز اللہ کے ساتھ عہد وفا کو استوار کرتی اور دن میں پانچ دفعہ اس عہد کی تجدید کرتی ہے۔ اگر آدمی شعور کے ساتھ نماز کو اختیار کرے تو زندگی میں کوئی کجی باقی نہیں رہتی۔ موذن جب نماز کے لیے پکارتا ہے تو سب سے پہلے اللہ کی کبریائی کا حوالہ دیتا ہے اور نمازی جب نماز کا آغاز کرتا ہے تو اس کا آغاز بھی اللہ اکبر سے ہوتا ہے تو وہ ہاتھ اٹھا کر اس کی عظمت کو سلام کرتا ہے اور ہاتھ باندھ کر اس ذات کبریا کے سامنے اپنی بندگی اور غلامی کا اقرار کرتا ہے پھر اس کے بعد اس غلامی کے جتنے طریقے ممکن ہیں وہ تمام کو بجالاتا ہے کبھی اس کے حضور غلاموں کی طرح کھڑا ہوتا ہے کبھی جھکتا ہے، کبھی غلاموں کی طرح بیٹھتا ہے اور بالآخر سجدہ ریز ہوجاتا ہے اور زبان پر اسی ذات کبریاجس کو وہ اپنا آقا مان چکا ہے کی تسبیح وتہلیل کے ترانے مچلتے ہیں اور دل اس کے تصور، اس کی محبت اور اس کی خشیت سے سرشا رہے۔ یہ عمل آدمی سے پانچ دفعہ کرایا جاتا ہے اور بنی اسرائیل سے بھی یقینا ایسا ہی عمل باربار کروایا جاتا تھا۔ جو آدمی اللہ کی آقائی اور اس کی حکمرانی اور اپنی غلامی اور محکومی کو باربار اس طرح دہراتا اور شعور سے دہراتا ہے۔ یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی کرسکتا ہے یا وہ کسی اور کے سامنے سر جھکاسکتا ہے یا کسی کے سامنے دست سوال دراز کرسکتا ہے۔ یہ کمزوریاں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب نماز کی حقیقت زندگیوں سے نکل جاتی ہے۔ بنی اسرائیل نے نماز سے رشتہ توڑا تو اللہ سے رشتہ ٹوٹ گیا اب کہاں کے حقوق و فرائض کہاں کی انسانیت اور کہاں زندگی کی وہ طہارت جو فکری پاکیزگی اور اخلاقی بالیدگی کی ضمانت ہوتی ہے۔ البتہ بعض دفعہ ایسا ضرور ہوتا ہے کہ انفرادی یا اجتماعی زندگی میں مشکلات سے واسطہ پڑتا ہے اور مشکلات اگر واقعی سنگین ہوں اور آدمی کی ہمت کے لیے چیلنج بن جائیں تو بعض دفعہ اس کے سامنے کمزوری کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ اس لیے اس نسخہء شفا کے دوسرے جز کے طور پر اس کا علاج صبر کے نام سے تجویز فرمایا۔ صبر کا لغوی معنی تو ” روکنا اور باندھنا “ ہے۔ لیکن اصطلاحِ شریعت میں اس سے مراد ارادے کی وہ مضبوطی، عزم کی وہ پختگی اور خواہشاتِ نفس کا وہ انضباط ہے، جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلے میں اپنے قلب وضمیر کے پسند کیے ہوئے راستے پر لگاتار بڑھتا چلاجائے یہاں یہی بات فرمائی جارہی ہے کہ تم اپنے اندر مشکلات اور موانع پر قابو پانے کے لیے وہ اخلاقی صفت پیدا کروجو نماز سے تمہارے اندر پیدا کرنا مقصود ہے۔ اگر تم پر خواہشات کا غلبہ ہو یا وقت کی قوتیں تمہیں جھکانا چاہیں یا نفسانی ترغیبات تمہیں زیر کرنا چاہیں تو ان پر قابو پانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اپنے ارادے کو مضبوطی سے باندھو اور اپنی قوت کو مجتمع کرو اور یہ فیصلہ کرلو کہ میں ٹوٹ سکتا ہوں، لیکن جھک نہیں سکتا۔ میں پیٹ پر پتھر باندھ سکتا ہوں، لیکن حرام لقمہ پیٹ میں نہیں ڈال سکتا۔ میں سر کٹواسکتا ہوں، لیکن غیر اللہ کے سامنے جھکا نہیں سکتا۔ اس ارادے کی توانائی کے لیے نماز کے ذریعے اللہ سے مدد مانگو۔ وہی دلوں کو قوت دینے والا اور وہی دلوں کو پاکیزگی عطا کرنے والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کا یہی معمول تھا۔ کوئی مشکل پیش آتی تو فوراْ نماز کی طرف متوجہ ہوتے کوئی دشمن ان کو چیلنج کرتا تو اس کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرتے لیکن مدد اللہ سے مانگتے۔ کوئی صدمہ پیش آتاتو فوراً زبان پر اناللہ واناالیہ راجعون اور حسبنا اللہ وغیرہ کلمات جاری ہوجاتے۔ اس میں اپنے عزم بالجزم کا اظہار بھی ہے اور اللہ سے مدد کی طلب بھی ہے۔
پروفیسر رشید احمد صدیقی نے اپنے مجموعہ مضامین میں علی گڑھ یونیورسٹی کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ یونیورسٹی کے ایک نہایت ہونہار اور نیک نام طالب علم کا انتقال ہوگیا۔ سب کو نہایت صدمہ پہنچا ان کے گھر اطلاع کی گئی والد آئے، تکفین و تدفین کے بعد جب روانگی کا وقت آیا تو باپ نے اپنے ہاتھ سے بیٹے کا سامان باندھا خود سامان اٹھایا لڑکے کے ساتھ ٹرین میں انھیں چھوڑنے کے لیے گئے انھوں نے واپس آکر بتایا کہ ٹرین کے سفر میں مرحوم لڑکے کے والد اپنے بیٹے کے بستر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور اللہ کا ذکر کرتے رہے۔ لیکن جب طبیعت بےقابو ہونے لگتی تو نماز کے لیے نیت باندھ کر کھڑے ہوجاتے پھر بستر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے لیکن غم کی شدت جب حد سے بڑھنے لگتی تو پھر نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے اس طرح سے انھوں نے پورا سفر طے کیا جو نماز اور صبر سے مدد طلب کرنے کی بہترین مثال ہے۔
اہلِ کتاب کو یہی طریقہ سکھایا گیا کہ تم اس طریقے سے عہد الٰہی کے ٹوٹے ہوئے رشتے کو دوبارہ استوار کرسکتے ہو۔ لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ یہ آسان نہیں مشکل ہے۔ صرف ان لوگوں کے لیے آسان ہے جو خشوع کرنے والے ہیں۔ اس میں پہلا سوال تو یہ ہے کہ انھا کی ضمیر کا مرجع کیا ہے۔ بعض اہل علم کی رائے ہے کہ اس کا مرجع صلوٰۃ ہے یعنی نماز آسان نہیں مشکل ہے۔ لیکن بعض دیگر اہل علم کا خیال ہے کہ اس کا مرجع نماز اور صبر سے استعانت ہے۔ یعنی اپنی زندگی میں تبدیلی لانے اور عہد الٰہی سے استواری پیدا کرنے کے لیے تمہیں نماز اور صبر سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ لیکن یہ آسان نہیں، ایک مشکل پر اسس (Process) ہے۔ لیکن ان لوگوں کے لیے آسان ہے، جن کے اندر خشوع پایا جاتا ہے۔ خشوع اصل میں اس قلبی سکون اور انکساری کو کہتے ہیں جو اللہ کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی حقارت کے علم سے پید اہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں دل بھی جھک جاتا ہے اور اعضاء وجوارح بھی اپنی سرکشی چھوڑ دیتے ہیں۔ جب تک کسی شخص میں یہ کیفیت پید انھیں ہوتی وہ نہ نماز کی طرف متوجہ ہوسکتا ہے اور نہ نماز اور صبر سے مدد لے سکتا ہے۔ پروردگار نے دوسری آیت کریمہ میں خاشعین کی قلبی کیفیت کو خودایسی تعبیر دے دی ہے، جس سے خاشعین کی تعریف متعین کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے کہ خاشعین وہ لوگ ہیں جو یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ ایک نہ ایک دن اللہ کے سامنے جواب دہی کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ انھیں بہرصورت اپنے رب سے ملنا ہے اور ان کی زندگی کی آخری منزل مکمل فنا نہیں بلکہ اللہ کے حضور حاضری ہے۔ زندگی کا سفرنہ بےجہت ہے نہ منزل سے بےگانہ اس زندگی کی انتہا قیامت ہے اور قیامت کے بعد اللہ کے سامنے پیشی ہے اور پھر اس کا نتیجہ جز اور سزا کا ترتب ہے۔
ظن کا مفہوم
لیکن یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ آیت میں یظنون کا لفظ آیا ہے جس کا معنی ہے ” وہ گمان کرتے ہیں “۔ لیکن اہل لغت ہمیں بتاتے ہیں کہ ظن کا لفظ گمان کے لیے خاص نہیں بلکہ اس لفظ کی خوبی یہ ہے کہ یہ اندیشہ اور گمان غالب سے لے کر یقین اور قطعیت کے ہر درجہ کے لیے بولا جاتا ہے۔ آدمی کے دل کی کیفیت ایسی ہے کہ وہ بڑی سے بڑی صداقت کے لیے پہلے ہی مرحلہ میں یقین سے ہمکنار نہیں ہوجاتا بلکہ شروع میں وہ گمان کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور پھر یہ گمان بڑھتے بڑھتے یقین تک پہنچتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس نے ایک ایسا لفظ استعمال کیا ہے جو قلب کی تمام کیفیتوں پر حاوی ہے۔
Ayah 2:47یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔
(اے بنی اسرائیل ! میرے اس احسان کو یاد کروجو میں نے تم پر بطور انعام کیا اور اس بات کو یاد کرو کہ میں نے تمہیں دنیا والوں پر فضیلت دی) (البقرۃ : 47)
سابقہ رکوع کے آغاز میں بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا گیا ہے۔ اب بارے دگر اسی انداز میں خطاب فرمایا جارہا ہے۔ اس پر غور کرنے سے کئی باتیں کھلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
1 جو ذات یا جو گروہ بہت عزیز ہو جب اس کے اندر بگاڑ پیدا ہو تو اس کا چاہنے والا اس کے بگاڑ کو سب سے زیادہ محسوس کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اسے نہایت پیار اور محبت سے دوبارہ راہ راست پر لایا جائے۔ چناچہ وہ نہایت محبت بھرے انداز میں اسے بار بار پکارتا ہے اس کی غلطیوں پر متنبہ کرتا ہے اور اس کا اصلی مقام یاد دلاکر اسے اپنی اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔ کسی کا بیٹابگڑ جائے تو باپ اور بیٹے میں جو حقیقی محبت کا رشتہ ہے اس رشتے کی نزاکتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے باپ اپنے بیٹے کے بگاڑ کو سب سے زیادہ محسوس کرتا ہے۔ وہ طریقے طریقے سے اسے نصیحت کرکے راہ راست پر آنے کی دعوت دیتا ہے۔ لیکن آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ نصیحت کرتے ہوئے باربار بیٹابیٹا کہہ کر اپنے بیٹے کو پکارتا ہے۔ تاکہ بیٹے کو اس بات کی شرم محسوس ہو کہ جو باپ مجھے بیٹا بیٹا کہتے ہوئے نہیں تھکتا میں اس کی نصیحت کو نظر انداز کرتے ہوئے شرم محسوس کیوں نہیں کرتا۔ اللہ کا کوئی بیٹا نہیں، لیکن جن پر اس کی عنایت کی نظر ہوتی ہے وہ ان سے معاملہ ایسا ہی کرتا ہے جیسے کوئی چاہنے والا اپنے پسند کے لوگوں سے کیا کرتا ہے۔
2 بنی اسرائیل کے لفظ سے خطاب کرکے یہ تصور دینا بھی معلوم ہوتا ہے کہ اے لوگو ! تم یاد کرو کہ تم کس کی اولاد ہو۔ تم اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ہو جو اللہ کے نبی اور حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کی وراثت کے امین تھے۔ انھیں دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا گیا یہی ان کا مقصد زندگی تھا اور یہی ان کا منصبی فریضہ تھا۔ تم اگر واقعی جائز طور پر بنی اسرائیل کہلاتے ہو تو تمہیں سوچنا چاہیے ؎
باپ کا علم اگر بیٹے کو نہ ازبر ہو
تو پھر پسر لائقِ میراثِ پدر کیوں کر ہو
تم نے جو طرز عمل اختیار کرلیا ہے، جو طور اطوار اپنالیے ہیں۔ زندگی میں جو ترجیحات طے کرلی ہیں، دنیاکو مقصود بناکر جس طرح آخرت کو فراموش کردیا ہے اور اللہ کے نبیوں کی تعلیمات اور اللہ کی کتابوں کو پش پشت ڈال چکے ہو۔ کیا حضرت یعقوب کی اولاد ہونے کا یہی تقاضا ہے ؟ تمہیں اگر اور کچھ یاد نہیں تو اپنی نسبتوں کو تو خوب یا درکھتے ہوکاش ان نسبتوں کی حقیقت کو سمجھنے کی بھی کوشش کرو۔ اور یہ بھی جانو کہ ان نسبتوں کے تقاضے کیا ہیں۔
بنی اسرائیل کی فضیلت کی حقیقت
3 سابقہ رکوع کے آغاز میں اپنے انعامات کی یاد دلائی تھی۔ لیکن انعامات کا ذکر نہیں فرمایا تھا۔ لیکن یہاں ان بیشمار انعامات میں سے سب سے پہلے اس انعام کا ذکر کیا جارہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب انعامات سے افضل اور سب انعامات کی بنیاد ہے۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ” یاد کرو میں نے تمہیں دنیاوالوں پر فضیلت دی “ اس فضیلت سے مراد قوموں کی ہدایت اور رہنمائی کا وہ منصب ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک خاص دور میں منتخب فرمایا تھا۔ اس وقت کی دنیا اپنے پاس دنیا کی ہر نعمت رکھتی تھی۔ ریاستوں کی کمی تھی نہ حکومتوں کی، زمینیں آباد تھیں، زراعت ترقی پر تھی، ایک خاص حد تک صنعتیں رواں دواں تھیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں دولت کی ریل پیل تھی۔ لیکن ان کے پاس وہ نعمت نہیں تھی جو اللہ کی نعمتوں میں سب سے عظیم ہے۔ اس نعمت سے بنی اسرائیل کو نوازا گیا تھا۔ اپنی توحید کی علمبرداری اللہ نے ان کے سپرد کی تھی۔ نبوت کا چراغ ان کے گھروں میں جلتا تھا۔ زندگی گزارنے کا ضابطہ اور دنیا اور آخرت کی کامیابیوں کے اصول بنی اسرائیل کے سپرد کیے گئے تھے۔ وہ روشنی جس سے زندگی کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں۔ اس روشنی کا امین بنی اسرائیل کو بنایا گیا تھا اور انھیں یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ تم یہ نور اور روشنی لے کر ہر اس جگہ پہنچو جہاں تاریکیوں کے ڈیرے ہیں۔ تم اپنے گردوپیش کی انسانی دنیا کو اس کے خالق ومالک سے آگاہ کرو۔ انھیں بتائو کہ تمہارا خالق ومالک کن باتوں میں راضی ہے اور کن باتوں سے ناراض ہوتا ہے۔ تم انھیں یاد دلائو کہ دنیا تمہاری ابدی آرام گاہ نہیں، یہ ایک مہلت عمل ہے۔ جہاں آنے والی زندگی ( جسے آخرت کہتے ہیں) کے لیے تیاری کرنی ہے۔ تم دنیوی نعمتوں میں کتنی بھی ترقی کرجاؤ، تمہارے خزانے کیسے ہی بھرپور ہوجائیں، تمہاری زمینیں بیشک سونا اگلنے لگیں، اللہ کی نگاہ میں ان میں سے کسی چیز کی قدروقیمت نہیں۔ اس کی نگاہ میں وہ محل قابل نفرت ہے جہاں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہو اور وہ جھونپڑا قابل عظمت ہے جہاں اللہ کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری ہوتی ہے۔
یہ وہ فریضہ منصبی ہے جس سے بنی اسرائیل گراں بار کیے گئے تھے۔ اسی فریضہ کی ادائیگی میں ان کی تمام فضیلتوں کا راز مضمر تھا کیونکہ جو فضیلت کسی منصب کی ذمہ داریوں سے وابستہ ہوتی ہے وہ اس وقت تک باقی رہتی ہے، جب تک منصب کی ذمہ داریوں میں کوتاہی سرزد نہیں ہوتی اور جب منصبی ذمہ داریوں کو فراموش کردیا جائے تو محض فضیلت کا دعویٰ کام نہیں آتا البتہ یہ ضرور ہے کہ ذمہ داری کی ادائیگی سے گریز اور اپنی فضیلت کے دعویٰ پر اصرار آخرت میں سخت جواب دہی کا سبب بن جائے گا۔ نہایت پیار سے باربار بنی اسرائیل کہہ کر یہ فرمایا جارہا ہے کہ تمہاری تمام تر فضیلت تمہاری منصبی ذمہ داریوں سے متعلق تھی۔ لیکن تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تمہار ابنی اسرائیل ہونا ہی تمہاری فضیلت کا اصلی سبب ہے۔ اگر تم اپنی اس گمراہی سے نکلنے کی کوشش کرو اور اپنے منصب کی ذمہ داریوں کی ادائیگیوں کی فکر کرو۔ تو دوبارہ پھر اپنی فضیلت کو پاسکتے ہو۔ لیکن تم نے اگر ایسا نہ کیا بلکہ صرف یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ کیونکہ ہم عظیم پیغمبروں کی اولاد ہیں اور ہمیشہ ہمارے ہی خاندان میں نبی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ اس لیے ہمیں آخرت کی جواب دہی کا کوئی کھٹکا نہیں۔ کوئی بڑی سے بڑئی ذات بھی اپنے چہیتوں کو نقصان نہیں پہنچایا کرتی۔ جہنم دوسرے لوگوں کے لیے ہے، ہمیں جہنم سے کوئی خطرہ نہیں۔ بدرجہ آخر اگر ہمیں جہنم میں بھیجا بھی گیا تو یہ چند دنوں کی بات ہے جلدی ہمیں جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ فرمایا جارہا ہے کہ یہ تمہارے مفروضوں پر مبنی وہ غلط اعتقادات ہیں جنھوں نے تمہاری دنیا تو برباد کی ہی ہے آخرت بھی برباد کردیں گے۔ اس لیے ہم تمہیں آگاہی دیتے اور تنبیہ کرتے ہیں۔