Ayahs 2:236–237لاَ جُنَاحَ عَلَیْـکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ مَا لَمْ تَمَسُّوْہُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَۃً صلے ج وَّمَتِّعُوْھُنَّ ج عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِقَدَرُہٗ ج مَتَاعًا م بِالْمَعْرُوْفِ ج حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّآ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْیَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّـکَاحِ ط وَاَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ط وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَـکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
(تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم طلاق دو عورتوں کو اس وقت کہ ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا ہو اور نہ مقرر کیا ہو ان کے لیے کچھ مہر۔ اور ان کو کچھ خرچ دو ۔ مقدور والے پر اس کے موافق ہے اور تنگی والے پر اس کے موافق۔ جو خرچ کے قاعدے کے موافق ہے۔ لازم ہے نیکی کرنے والوں پر۔ اور اگر طلاق دو ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور ٹھہرا چکے تھے تم ان کے لیے مہرتو لازم ہوا آدھا اس کا جو تم مقرر کرچکے تھے۔ مگر یہ کہ درگزر کریں عورتیں یا درگزر کرے وہ شخص کہ اس کے اختیار میں ہے گرہ نکاح کی یعنی خاوند۔ اور تم مرد درگزر کرو جو قریب ہے پرہیز گاری سے۔ اور اپنے درمیان ترجیح کو مت بھولو۔ بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھنے والا ہے) (236 تا 237)
ان دونوں آیات کریمہ میں مزید چند احکام بیان فرمائے گئے ہیں اور ان احکام کا تعلق ایسی صورتوں سے ہے جو کم کم وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ لیکن جیسے جیسے شریعت سے دوری ہوتی جا رہی ہے اور خواہشاتِ نفس بگٹٹ ہوتی جارہی ہیں اور حالات کے دبائو سے مزاج ناموافقت کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ویسے ویسے اس طرح کے واقعات کے وقوع میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
خلوتِ صحیحہ سے پہلے ہی طلاق کے اسباب
غور کرنے کی بات ہے کہ نکاح کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ آج کل تو ایک شادی کے مصارف سے کمر ٹوٹ جاتی ہے اور مزید یہ کہ اگر نکاح واقعی حسن نیت سے وقوع پذیر ہوتا ہے تو وہ یقینا اپنے اندر یہ تصور رکھتا ہے کہ یہ زندگی بھر کا نباہ ہے ‘ دو خاندانوں کی قربت کا ذریعہ ہے۔ اس کی کامیابی یا ناکامی سے نہ جانے کہاں کہاں اثرات پیدا ہوں گے۔ اس لیے لڑکا اور لڑکی دونوں ہی اس بارے میں نہایت سنجیدہ ہوتے ہیں اور دونوں کے خاندان اس نئے رشتے کی استواری اور پائیداری کے لیے دعا گو ہوتے ہیں۔ لیکن ان تمام حقائق کے باوجود اگر پہلی ہی رات میاں بیوی میں علیحدگی ہوجائے اور وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے سے پہلے یا دیکھتے ہی نباہ کے تمام ارادوں کی صف لپیٹ دیں تو سوچنے والے ذہنوں کو سوچنا چاہیے کہ آخر اس کا سبب کیا ہے ؟ اتنا بڑا واقعہ بےسبب تو نہیں ہوسکتا۔ پروردگار کے تو علم میں تھا کہ اس طرح کے واقعات ظہور پذیر ہوں گے اس لیے اس نے اپنی کتاب شریعت میں ان سے متعلق احکام نازل فرما دیئے۔ لیکن ان واقعات کا واقع ہونا کسی بھی معاشرے کی شہرت کو داغدار کردیتا ہے۔ اس لیے سوچنے والے ذہنوں کو ان اسباب کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جن کی وجہ سے اس طرح کے واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
ایسے خاندان جنھیں نئی نئی دولت میسر آتی ہے اور جو بڑی خاندانی روایات کے امین نہیں ہوتے ‘ ان کے یہاں تو اس طرح کے واقعات دولت سے پھوٹنے والی قباحتوں کا نتیجہ ہیں۔ ان کے نوجوان شادی بیاہ کو بھی دولت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے اسے کھیل بنا لینے میں انھیں کوئی تأمل نہیں ہوتا۔ البتہ جن خاندانوں کی درخشاں روایات ہیں یا وہ عام لوگ جو ہمیشہ اچھی باتوں کی پیروی کی کوشش کرتے ہیں اور شرفاء کے پیچھے چلنا انھیں محبوب ہوتا ہے ‘ ان کے یہاں بھی اس قسم کے واقعات پیش آنے لگے ہیں۔ اس کے اسباب تو بہت سے ہیں لیکن ایک ایسا سبب جس کی عمر شاید بہت طویل نہیں۔ شادی کرانے والے کاروباری ادارے ہیں۔ جن کے پیش نظر کسی طرح بھی لڑکے لڑکی کو رشتہ ازدواج میں منسلک کر کے اپنی بڑی فیس ہتھیانا ہوتا ہے۔ وہ عموماً جانبین کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر طرح کا جھوٹ بول کر دونوں کو پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض دفعہ لڑکی کوئی دکھائی جاتی ہے اور نکاح کسی کا کرایا جاتا ہے۔ اور جب کبھی اس مکروفریب پر احتجاج ہوتا ہے تو ملبہ سارا گھر والوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس سبب سے نہ جانے کتنے رشتے ناکام ہوئے اور کتنے گھر برباد ہوئے ہیں۔
ہمارے بیوٹی پارلروں نے بھی ایسے واقعات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ وہ مصنوعی میک اپ سے اصلی شکل چھپا کر ایک مصنوعی شکل سے دوسروں کو شکار کرتے ہیں اور جب اصلی شکل دیکھنے کو ملتی ہے تو لڑکا مشتعل ہو کر طلاق دے دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رشتوں کے انعقاد کا خاندانی نظام شکست و ریخت کا شکار ہوگیا ہے۔ ہر جگہ مختلف طریقوں سے اس کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ بزرگوں کے واسطے سے جو رشتے طے ہوتے تھے وہ فریب دہی سے محفوظ بھی ہوتے تھے اور پھر ان کے انتخاب میں زندگی بھر کا تجربہ بھی شامل ہوتا تھا۔ بےعلمی کے باعث کہیں کہیں وہاں بھی غلطیاں ہوتی تھیں لیکن اہل علم اور اہل صلاح کے مشورے ان کی اصلاح کردیتے تھے۔ لیکن اب جو صورت حال تبدیل ہوئی ہے اس میں رشتے ان ہاتھوں میں چلے گئے ہیں جو ان رشتوں کی نزاکت کو سمجھتے ہیں نہ ان کے تقدس کو۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ وہ واقعات پیش آنے لگے ہیں ‘ جن کا ذکر ان آیات کریمہ میں کیا گیا ہے۔
طلاق قبل الدخول اور مہر مقرر نہ ہونے کی صورت میں مہر کے احکام
پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا کہ اگر کسی شخص نے نکاح کرتے ہوئے مہر مقرر نہیں کیا اور کوئی ایسا حادثہ ہوگیا کہ اس نے ابھی بیوی کو چھوا تک نہیں تھا ‘ یعنی اس سے خلوت صحیحہ نہیں ہوئی تھی ‘ تنہائی میسر نہیں آئی تھی ‘ ایک دوسرے کی قربت بھی نہیں ملی تھی کہ اس نے طلاق دے کر اس تعلق کو توڑ ڈالا۔ اب سوال یہ ہے کہ اسے مہر ادا کرنا ہوگا یا نہیں۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مہر مقرر نہ کرنے کا تو اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ اگر مہر مقرر نہ کیا جائے ‘ بھول جائے یا اور کوئی پیچ پڑجائے ‘ لیکن مہر ادا کرنے کا ارادہ ہو تو نکاح ہوجاتا ہے اور بعد میں مہر مثل ادا کیا جاتا ہے۔ مہر مثل سے مراد یہ ہے کہ اس خاندان کی لڑکیوں کا عام طور پر جتنا مہر مقرر ہوتا ہے وہی مہر اسے اپنی بیوی کا ادا کرنا ہوگا۔ لیکن اب چونکہ اس نے بغیر تعلق قائم کیے طلاق دی ہے تو اگر اس نے طلاق ظلماً دی ہے تو یقینا اللہ کے یہاں اس کی جواب دہی کرنا ہوگی اور اگر لڑکی والوں کی طرف سے کوئی ایسی حرکت ہوئی ہے جس نے اسے طلاق دینے پر مجبور کردیا ہے تو پھر مواخذہ لڑکی والوں سے ہوگا۔ البتہ مہر کے بارے میں اب حکم یہ ہے کہ اس کے ذمے کوئی مہر نہیں۔ ہاں یہ بھی مناسب نہیں کہ لڑکی کو یوں ہی گھر سے روانہ کردیا جائے۔ اس سے پہلے بھی یہ بات عرض کی جا چکی ہے کہ ہمارے لیے یہ بات سمجھنا آسان نہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں طلاق کا کوئی واقعہ لڑائی جھگڑے کے بغیر پیش نہیں آتا۔ اس میں اس بات کا امکان کہاں ہوتا ہے کہ شوہر اپنی مطلقہ کو کچھ دے دلا کے رخصت کرے۔ وہاں تو ایک معرکہ برپا ہوتا ہے ‘ اپنی جانیں بچا کر نکل جانا غنیمت سمجھا جاتا ہے ‘ لیکن قرآن کریم بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ تمہیں شائستہ لوگوں کی طرح ہر کام کرنا چاہیے۔ اگر باہمی طبیعتوں کی ناموافقت کے باعث نباہ نہیں ہوسکا تو مل بیٹھ کر علیحدگی کا فیصلہ کرلیا جائے۔ اور جانبین کے بزرگ یہ طے کردیں کہ بجائے گھل گھل کے مرنے کے بہتر ہے کہ تم دونوں علیحدہ ہوجاؤ۔ ایسی صورت میں شوہر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کو جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ اخراجات دے۔ وہ کتنے ہونے چاہئیں ؟ ان کی قیمت کیا ہو ؟ اس کے بارے میں فرمایا کہ شوہر اگر دولت مند ہے تو اسے اپنی حیثیت کے مطابق دینا چاہیے اور اگر وہ تنگ دست ہے تو خالی ہاتھ پھر بھی نہ بھیجے۔ حضرت حسن ( رض) کے بارے میں مورخین نے لکھا ہے کہ ایسے ہی ایک موقع پر انھوں نے اپنی مطلقہ عورت کو بیس ہزار کا عطیہ دیا اور قاضی شریح جو عرصہ دراز تک منصب قضا پر فائز رہے ہیں۔ انھوں نے ایسے ہی کسی واقعہ پر پانچ سو درہم اپنی مطلقہ کو ادا کیے۔ اور حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے فرمایا کہ سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ شوہر اپنی مطلقہ کو کپڑوں کا ایک جوڑا دے دے۔
طلاق قبل الدخول اور مہر مقرر ہونے کی صورت میں مہر کے احکام
دوسری آیت کریمہ میں جو صورت مسئلہ بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ نکاح کے وقت مہر تو مقرر کیا گیا لیکن بیوی کے ساتھ مقاربت سے پہلے شوہر نے طلاق دے دی۔ ایسی صورت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم نے جو مہر مقرر کیا ہے ‘ تم نے چونکہ اپنی بیوی سے کوئی تعلق قائم نہیں کیا اس لیے اب تم پر مقررہ مہر کا نصف ادا کرنا لازم ہے۔ لیکن ساتھ ہی نازک جذبات کو بھی چھیڑا گیا ہے ‘ وہ یہ کہ جس خاتون کو طلاق دی گئی ہے وہ اگر ایسی حوصلہ مند اور غیرت مند ہے کہ اس نے اس طلاق کو اپنے لیے ایک دھچکا محسوس کیا ہے تو ہوسکتا ہے وہ نصف مہر لینا پسند نہ کرے اور وہ بھی شوہر کو معاف کر دے۔ یہ گویا اس بات کا اظہار ہے کہ میں نے اپنی ذات اور اپنی عزت ان ٹکوں کے لیے تمہارے حوالے نہیں کی تھی ‘ میرے پیش نظر تو زندگی کا فیصلہ تھا۔ اب جب کہ وہ سارا طلسم ٹوٹ گیا تو یہ نصف مہر لینا میرے لیے ایک بھیانک خواب ہوگا۔ اس لیے میں اسے لینے سے انکار کرتی ہوں۔ اور دوسری صورت یہ بھی ممکن ہے کہ شوہر پورا مہر ادا کر دے۔ وہ یہ سوچے کہ میں تو اس خاتون کو بیوی بنا کے لایا تھا۔ اب اگر ایسا کوئی سبب پیدا ہوگیا ہے کہ ہم دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے تو میں نے جو مہر دینے کا فیصلہ کیا تھا میں اس میں کمی نہیں کرنا چاہتا۔ قرآن کریم میں اس کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم اگر ایسا کرو تو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ تقویٰ بہت سے اوصاف کا مجموعہ ہے۔ جن میں ایک بہت اعلیٰ صفت ایثار و قربانی ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہاں تقویٰ سے اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کہ تمہیں ایثار و قربانی کا ثبوت دیتے ہوئے پورا مہر ادا کرنا چاہیے۔ ویسے بھی تمہاری مردانگی ‘ فتوت اور شوہر ہونے کا بھی یہ تقاضا ہے کہ تم زیادہ سے زیادہ ایثار کرنے کی کوشش کرو۔
یعفونکا مفہوم
آیتِ کریمہ میں دو لفظ ایسے استعمال ہوئے ہیں جن کی طرف توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ جس طرح بیویوں کے لیے ” یعفون “ کا لفظ استعمال ہوا جس کا مطلب یہ ہے ” کہ ممکن ہے بیویوں کا جو نصف مہر اللہ نے مقرر کیا ہے وہ اسے لینے کی بجائے معاف کردیں “ چناچہ بیویوں کے لیے اس لفظ کا استعمال تو سمجھ میں آتا ہے ‘ لیکن اس کے بعد شوہر کے لیے بھی اسی لفظ کا استعمال ہوا ہے۔ حالانکہ شوہر نے تو نصف مہر ادا کرنا ہے۔ اس کی طرف سے معافی کا کیا سوال ہے ؟ بات اصل میں یہ ہے کہ عربوں میں معمول یہ تھا کہ وہ نکاح کے موقع پر ہی پورا مہر ادا کردیا کرتے تھے۔ پیش نظر صورتحال میں چونکہ شوہر پورا مہر ادا کرچکا ہے اور مقاربت سے پہلے طلاق دے دینے کے باعث اب اس کے ذمے نصف مہر کی ادئیگی ہے جب کہ بیوی پورا مہر لے چکی ہے اب شوہر کو حق ہے کہ وہ بیوی سے نصف مہر واپس لے۔ اس حوالے سے فرمایا جا رہا ہے کہ شوہر اپنا دیا ہوا نصف مہر جو لے سکتا ہے اسے بھی معاف کر دے تو یہ شوہر ہونے کی حیثیت اور فضیلت کے اعتبار سے اس کے لیے بہت بہتر ہے۔
دوسرا لفظ جو قابل توجہ ہے وہ ہے ” بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّـکَاحِ “ یہ تعبیر شوہر کے لیے اختیار کی گئی ہے کہ شوہر وہ شخصیت ہے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ یہ نکاح مرد کے قبول کرنے سے بندھتا ہے اور اس کے طلاق دے دینے سے کھل جاتا ہے۔ اس کا اصل سر رشتہ مرد کے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ ” بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّـکَاحِ “ کی یہ تفسیر خود رسول کریم ﷺ نے فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” ولی عقدۃ النکاح الزوج “ (عقدہ نکاح کا مالک شوہر ہے) یہ حدیث دارقطنی میں بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ منقول ہے۔ اور حضرت علی ( رض) اور حضرت ابن عباس ( رض) سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ (قرطبی) شوہر کے لیے یہ تعبیر ہمارے لیے لمحہ فکریہ مہیا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو شوہر کی حیثیت سے یہ اختیار دیا ہے کہ اسی کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے وہ جب چاہے اسے کھول سکتا ہے اور یہ اختیار اللہ نے بیوی کو عطا نہیں کیا۔ انسانی فطرت کا خالق خوب جانتا ہے کہ عورت صنف نازک ہے جو حالات کے دبائو کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس میں جذبات کی فراوانی ہے۔ اس کی طبیعت میں تنوع ہے۔ ہر واقعہ سے شدید تاثر لینا اس کی طبیعت کا خاصہ ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ ہر وقت کی یکجائی کئی ناگواریاں بھی پیدا کرتی ہے۔ مرد کو جو حوصلہ اور تحمل دیا گیا ہے اس کی وجہ سے وہ بہت سی ناگوار باتوں کو برداشت کرجاتا ہے۔ لیکن عورت ان باتوں کو برداشت کرنے کی بجائے شدت تاثر کا شکار ہو کر جذبات میں ڈوب جاتی ہے۔ اگر عقدہ نکاح اس کے ہاتھ میں دیا جاتا کہ وہ جب چاہتی طلاق دے سکتی تو یقین جانئے کسی بھی نکاح کی عمر چند دنوں سے زیادہ نہ ہوتی۔ ہر گھر میں علیحدگی کی کہانی دہرائی جاتی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ عقدہ نکاح ہم نے مرد کے ہاتھ میں دیا ہے عورت کو اس اختیار سے بہرہ ور نہیں کیا۔ مغربی دنیا میں مرد و عورت کے برابری کے فریبِ نظر نے طلاق کا حق بھی بیوی کو دلا دیا۔ جس کا نتیجہ وہاں کی عدالتوں کے ریکارڈ میں دیکھا جاسکتا ہے اور مغرب کے خاندانی نظام کی تباہی اس کا نوحہ پڑھتی ہوئی سنائی دیتی ہے۔ لیکن ہمارے نام نہاد دانشور انہی کے راستے پر چلتے ہوئے ہمارے یہاں بھی عورتوں کو یہ حق دلانا چاہتے ہیں۔ اور اسی کا اثر ہے کہ ہمارے نکاح کے فارموں میں باقاعدہ یہ شق شامل کردی گئی ہے کہ ” کیا تم بیوی کو طلاق کا حق تفویض کرتے ہو یا نہیں ؟ “ اکثر لوگوں کو تفویض کا معنی نہیں آتا۔ اس لیے وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہاں ہم سے کیا فیصلہ کروایا جا رہا ہے ؟ اے کاش ! ہم اپنا گھر اجاڑنے سے پہلے مغرب کے خاندانی نظام کی بربادی سے کچھ سیکھ سکیں اور محض مغرب کی نقالی میں اپنے گھر کو آگ لگانے سے باز آجائیں۔
Ayah 2:238حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی ق وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ ۔
(نمازوں کی محافظت کرو خاص طور پر بیچ کی نماز کی، اور نمازوں میں کھڑے رہو اللہ کے حضور فرمانبردارانہ اور خاموشی کے ساتھ) (238)
اس آیت کریمہ سے پہلے کی آیات میں نکاح اور طلاق کے مسائل بیان کیے گئے ہیں اور اس کے بعد کی دو آیات بھی انہی مسائل سے متعلق ہیں، لیکن نکاح اور طلاق کے مسائل کے درمیان ایسی دو آیات کا لانا جن کا تعلق نماز سے ہے بظاہر بےجوڑ سی بات معلوم ہوتی ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نہایت مربوط کتاب ہے۔ لیکن اگر ہم سورة البقرۃ کے مضامین کی ترتیب کو دیکھیں اور سیاق کلام کو سمجھنے کی کوشش کریں تو پھر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آیات بےجوڑ نہیں بلکہ مربوط کلام کا ایسا حصہ ہیں جنھوں نے ربط کلام کی تکمیل کی ہے۔
سابقہ آیات سے ربط
حقیقت یہ ہے کہ آیت 163 وَاِلٰہـُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ سے احکام و قوانین کا جو باب شروع ہوا تھا اس کا اللہ تعالیٰ نے توحید کے ذکر سے آغاز فرمایا تھا۔ کیونکہ جس پروردگارِ عالم کے احکام و قوانین کے ذکر کا آغاز ہو رہا تھا اگر اس کی الوہیت ‘ وحدانیت اور حاکمیت پر ایمان و یقین میں کمی ہو تو کوئی بھی شخص اس پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور اگر کسی مجبوری یا مصلحت کے تحت ایمان لے بھی آئے تو اس ایمان میں اطاعت کے لیے آمادگی نہیں ہوگی اور نہ اس میں یقین کی وہ قوت ہوگی جو ایمان کے مخالف حالات میں انسان کو ثابت قدم رکھتی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے توحید کا ذکر فرمایا ‘ پھر توحید پر دلائل قائم کیے ‘ اللہ پر ایمان کے ساتھ ساتھ اس کی محبت کو لازم ٹھہرایا اور جو لوگ محض زبانی حد تک اللہ کو مانتے ہیں لیکن اس کی صفات کا انکار کرتے ہیں یا اس کی صفات میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں ان پر تنقید فرمائی اور ان کے برے انجام سے انھیں آگاہ کیا۔ اس کے بعد مختلف احکام ذکر فرمائے لیکن آیت نمبر 177 پر پہنچ کر پھر اس حقیقت کا اعادہ فرمایا کہ ایمان و عمل کی اصل قوت مشرق و مغرب کی طرف منہ کرلینا نہیں بلکہ ان تمام حقائق کو تسلیم کرنا ہے جنھیں ایمانیات یا ضروریاتِ دین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے جو مال و دولت عطا فرمایا ہے اسے تمام مستحق لوگوں پر صرف اس جذبے سے خرچ کرنا ہے کہ اس سے اللہ راضی ہوگا اور یہ اس کی محبت کا لازمی تقاضا ہے۔ اللہ کے ساتھ قلب و دماغ کا مضبوط رشتہ اور انسان کے پاس مال و دولت کو اللہ کی امانت سمجھ کر اس کے بندوں پر خرچ کرنا یہ دو بنیادی حقیقتیں ہیں جن کے ساتھ تمام ایمان و اطاعت کے رشتے بندھے ہوئے ہیں۔ ان میں کمزوری جس طرح عقیدے کی کمزوری پر منتج ہوتی ہے اسی طرح عمل میں ویرانی کا باعث بنتی ہے۔ ان کی پختگی اور رسوخ فی القلب کے لیے اللہ نے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا۔ چناچہ اب احکام و قوانین کے باب کو سمیٹتے ہوئے ان آیات پر اسے ختم کیا جا رہا ہے جس میں پھر نماز کا حکم دیا گیا ہے۔ بلکہ پہلے صرف اقامت صلوۃ کا حکم تھا اس آیت میں محافظت صلوٰۃ کا حکم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پروردگارِ عالم کی نگاہ میں مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی جس یقین اور اطاعت کے جذبے پر کھڑی ہے اس کی نشو و نما اور اس کی بقا کے لیے اگر کوئی تیربہدف نسخہ ہوسکتا ہے تو وہ صرف نماز ہے۔ اس لیے پورے قرآن کریم میں عقائد یا احکام و قوانین کے تذکرے کے بعد ہم عموماً دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نماز کا حکم دیتے ہیں اور یا اس کی یاددہانی کراتے ہیں۔ کیونکہ یہی وہ شہر پناہ ہے جس نے دین کے پورے شہر کو اپنی پناہ میں لے رکھا ہے۔ اور یہی وہ قوت ہے جو ساری شریعت کے قیام و بقا کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حصار کی حیثیت دی ہے جس کی موجودگی میں پوری شریعت محفوظ رہتی ہے اور انسان کے یقین و عمل کی قوتیں اپنے اپنے نہج پہ کام کرتی رہتی ہیں۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا من اقامھا فقد اقام الدین و من ہدمہا فقد ہدم الدین (جس نے اسے قائم رکھا اس نے پورے دین کو قائم رکھا اور جس نے اسے ڈھا دیا اس نے پورے دین کو ڈھا دیا) حضرت عمر فاروق ( رض) نے فرمایا تھا کہ ” اس جہاد میں کوئی خیر نہیں جس میں نماز نہیں۔ “ کیونکہ نماز ہی انسان کی سوچ ‘ احساس اور عمل کی قوتوں کو صحیح رخ دیتی ہے۔ یہی اس کے جذبات کی نگہداشت کرتی ہے۔ اشتغالِ دنیا کے ہجوم سے انسان کو نکال کر بار بار اللہ کے دروازے پر جھکاتی ہے اور اس کے قبلے کو درست رکھتی ہے۔ مزید یہ بات بھی ذہن میں رکھئے کہ امن کے حالات میں اگرچہ نفسانی خواہشات کے مقابلے میں نماز قائم کرنا آسان نہیں لیکن غیر معمولی حالات کی نسبت مشکل بھی نہیں۔ اس لیے عام حالات میں تو پروردگار اقامت صلوٰۃ کا حکم دیتے ہیں ‘ لیکن جنگ کی ہولناکیوں میں جب کہ جان و تن کی سلامتی کی فکر ہوتی ہے اور پوری توجہ دشمن کی کاروائیوں کی طرف ہوتی ہے۔ ایسے ہولناک حالات میں اللہ کی طرف متوجہ ہونا اور ہر طرف سے کٹ کر اس سے لو لگا کے کھڑے ہوجانا آسان کام نہیں۔ ایسے حالات میں اقامت صلوٰۃ کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ محافظت صلوٰۃ کا حکم دیا گیا۔ کیونکہ جب آیت نمبر 177 نازل ہوئی ہے تو ابھی مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں ہوا تھا لیکن پیش نظر آیات اس وقت نازل ہوئی ہیں جبکہ جہاد فرض ہوچکا تھا اسی لیے دوسری آیت کریمہ میں جنگ کے دوران نماز پڑھنے کے طریقے کی طرف اشارہ کیا گیا اور آنحضرت ﷺ نے اس کی تفصیلی صورت متعین فرمائی۔ ان دونوں آیات پر احکام و قوانین کے باب کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور اس کے بعد کی دو آیتوں کا تعلق ضمنی حالات سے ہے جو اس باب کے خاتمے کے بعد نازل ہوئیں اور انھیں اس باب کے ساتھ ملحق کردیا گیا تاکہ احکام کی ترتیب سمجھنے میں آسانی پید اہو اور اس سے اہل علم قرآنی مضامین کا شعور پیدا کریں اور اس بات کا اشارہ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ ۔ الخ سے بھی فرما دیا۔
آیات کا پس منظر اور ربط سمجھ لینے کے بعد اب ان آیات کی مختصر وضاحت پیش خدمت ہے۔ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ اقامتِ صلوٰۃ تو ایک مستقل اصطلاح ہے جس کا تعلق زندگی کے ہر طرح کے حالات سے ہے۔ ایک مومن کو نماز بہرصورت اس طرح پڑھنی چاہیے جس میں نماز کے تمام لوازم و شرائط اور اس کے آداب و ارکان کا لحاظ رکھا گیا ہو۔ اور سورة البقرۃ کی ابتدائی آیات کی وضاحت میں ہم اس کا تذکرہ کرچکے ہیں۔ البتہ محافظت صلوٰۃ کا لفظ اقامت صلوٰۃ سے زیادہ نگہداشت اور اہتمام پر دلالت کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امن کی حالت میں تو یقینا ایک مومن پورے آداب و ارکان کی پابندی سے نماز ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جنگ کی ہولناکیوں میں ایسا کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ ایک طرف دشمن چڑھا آرہا ہے اور دوسری طرف نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے۔ ایک مومن جس کا قلبی رشتہ اللہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے وہ ایسے حالات میں بھی کسی نہ کسی طرح نماز کی ادائیگی کی کوشش کرے گا۔ اور اگر مسلم سپاہ کا جرنیل حقیقی مومن ہے تو وہ فوج کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس طرح نماز کا اہتمام کرے گا جس طرح آنحضرت ﷺ نے ایسے حالات میں صحابہ کو نماز پڑھائی اور احادیث میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔ اور اگر حالات اس کی بالکل اجازت نہ دیتے ہوں تو پھر بھی ایک مومن ایک بےکلی اور بےچینی میں مبتلا ہوگا کہ ” ہائے میری نماز نکلی جا رہی ہے میں کیا کروں ؟ “ اس طرح کے اعمال اور احساسات محافظت صلوٰۃ کی ترجمانی کرتے ہیں۔
اَلصَّلٰوۃِ الْوُسْطیٰ سے کیا مراد ہے ؟
اَلصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰیکا لغوی معنی تو بیچ کی نماز ہے۔ لیکن نمازوں کی نگہداشت کا حکم دینے کے بعد بطور خاص صلوٰۃ الوسطی کی نگہداشت کا حکم دینا کیا مفہوم رکھتا ہے ؟ اس میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ الصلوۃ الوسطی کا معنی جس طرح بیچ والی نماز ہوتا ہے اسی طرح نہایت قدرومنزلت کی حامل نماز بھی ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ نمازوں میں سے ہر نماز اللہ کے یہاں نہایت قدرومنزلت کی حامل ہے۔ لیکن اس نماز کی قدرومنزلت کا کیا ٹھکانہ ہے جو تلواروں کی چھائوں میں اد ا کی جائے۔ گھمسان کے رَن میں بھی نماز سے غفلت نہ ہونا اور امکانی حد تک اس کی ادائیگی کی کوشش کرنا ایک مومن کا حقیقی جوہر ہے اور جو نماز بھی ایسی کیفیت اور ایسے حالات میں ادا کی جائے گی وہ یقینا الصلوٰۃ الوسطی کہلائے گی۔ اس لحاظ سے جو نماز بھی جنگ کے دوران پڑھی جائے اسے الصلوٰۃ الوسطی ہی کہا جائے گا۔ لیکن جمہور کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ کیونکہ یہی وہ نماز ہے جس پر صحیح طور پر بیچ کی نماز کا اطلاق ہوتا ہے۔ ایک طرف دن کی دو نمازیں ہیں فجر اور ظہر اور دوسری طرف رات کی دو نمازیں ہیں مغرب اور عشاء۔ ان دونوں کے بیچ میں عصر کی نماز ہے۔ اس کی بعض دیگر خصوصیات کو دیکھتے ہوئے اس کی مزید اہمیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ ان خصوصیات میں سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ نماز ایک ایسے وقت پڑھی جاتی ہے جو عام حالات میں نہایت مشغولیت اور مصروفیت کا وقت ہوتا ہے۔ دن بھر کا تھکا ماندہ مسافر اسی وقت رات آنے سے پہلے منزل پر پہنچنے کی فکر میں ہوتا ہے۔ دکاندار دکان بڑھانے سے پہلے کوشش کرتا ہے کہ کچھ نہ کچھ کمائی میں اضافہ کرلے اور دن بھر میں جو کاروبار کیا ہے اسے شام ہونے سے پہلے سمیٹ لے۔ ہر ملازم اپنی مقررہ ڈیوٹی کو سر انجام دینے اور سمیٹنے میں مصروف ہوتا ہے۔ جس طرح پرندے سر شام اپنے گھونسلوں میں میں پہنچنے کے لیے بےچین ہوتے ہیں اسی طرح ہر مصروف آدمی اپنی مصروفیت کو سمیٹ کر اپنے گھر کی راہ لینا چاہتا ہے۔ آج اگرچہ بجلی کی روشنی نے حالات بدل دیے ہیں لیکن دنیا میں جس تیزی سے بد امنی پھیل رہی ہے اس کے پیش نظر شہر بھی شام ہی کو بند ہونے لگے ہیں اور دیہات تو پہلے ہی بجلی نہ ہونے کے باعث شام سے پہلے بچے کی آنکھ کی طرح بند ہوجاتے ہیں۔ اور جہاں تک جنگ کا تعلق ہے اگر دو فوجوں میں گھمسان کی جنگ ہو رہی ہو تو ہر فوج رات کی تاریکی چھا جانے سے پہلے پہلے آخری حملہ کرنے کی فکر میں ہوتی ہے۔ زخموں سے چور چور سپاہی اپنی پوری قوت سمیٹ کر دشمن پر غالب آنے کے لیے بےقرار ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں اس نماز کا وقت آتا ہے اور قرآن کریم اس وقت کی اہمیت اور نزاکت کے پیش نظر خاص طور پر اس کی نگہداشت کا حکم دیتا ہے۔ جنگ احزاب میں آنحضرت ﷺ کی عصر کی نماز قضا ہوگئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے جنھوں نے ہماری صلوٰۃ الوسطی قضا کی۔ اگرچہ بعض اہل علم اس کی تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث صلوٰۃ الوسطی کو عصر کی نماز قرار دینے کے لیے واضح دلیل ہے۔
وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ ، قَنَتَ کا معنی خضوع اور تذلل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی اصل روح خشوع و خضوع ‘ عاجزی اور خشیت ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے محافظت کی وضاحت کردی گئی ہے۔ کہ اگر تم واقعی نمازوں کی نگہداشت کرنا چاہتے ہو تو محض اس طرح سے نہیں ہوگی کہ آپ اذان سن کر مسجد میں پہنچ جائیں اور نماز کے مخصوص اعمال انجام دینے کے بعد مطمئن ہوجائیں کہ میں نے نماز کی ادائیگی کا فرض انجام دے دیا ہے۔ یقینا یہ عمل نماز کی ظاہری حالت کی نگہداشت کے لیے ضروری ہے لیکن اس کی حقیقی نگہداشت اس وقت ہوگی جب دل میں خشوع و خضوع کی کیفیت پیدا ہوگی۔ دل کی یہ کیفیت آدمی کا رشتہ اللہ سے مضبوط کرتی ہے۔ اسی سے اس کی نماز حقیقی نماز بنتی ہے۔ اور یہی نماز ایک نمازی کا اصل سرمایہ ہے۔
Ayah 2:239فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْرُکْبَانًا ج فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۔
(پس اگر خطرے کی حالت ہو تو پیدل یا سوار جس صوت میں ادا کرسکو نماز ادا کرو۔ پھر جب خطرہ دور ہوجائے تو اللہ کو اس طریقہ پر یاد کرو جو اس نے تم کو سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے) (239)
صلوٰۃ الخوف
اس آیت کریمہ میں صلوٰۃ الخوف پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل کی طرف کسی حد تک اشارے قرآن کریم نے سورة النساء میں کیے ہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے عمل نے اس کی پوری صورت آرائی فرمائی ہے۔ احادیث کی تمام بڑی کتابوں میں جنگ کی حالت میں آپ ﷺ کے نماز پڑھنے کے طریقے کو ذکر کیا ہے جس میں ہمیں ایک سے زیادہ طریقے ملتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ کی حالت کو دیکھتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے ایک سے زیادہ طریقوں سے نماز ادا فرمائی ہے۔ آج جب کہ جنگ کی نوعیت بالکل تبدیل ہوگئی ہے تو اس طریقے سے نماز پڑھنا تو شاید ممکن نہ ہو اور مزید یہ بات بھی کہ آنحضرت ﷺ کی موجودگی میں تو مسلمان فوج کا ایک ایک سپاہی اس بات کی خواہش رکھتا تھا کہ میں آپ ﷺ ہی کے پیچھے نماز ادا کروں لیکن اب ایسی صورت حال نہیں۔ اپنے اپنے مورچوں میں چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں یا فرداً فرداً نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ البتہ حتیٰ الامکان نماز کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔ یہاں تو نہایت اجمال سے یہ فرمایا گیا ہے کہ تم اگر پیدل ہو تو ایک جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتے ہو تو پڑھو اور اگر تم سوار ہو تو سواری پر نماز ادا کرلو۔ ایسی صورت میں نماز کی باقی پابندیاں باقی نہیں رہتیں۔ اور ان مخصوص احکام کو فقہاء نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ہاں اگر نماز کا کوئی طریقہ بھی جنگ کی ہولناکی کے باعث ممکن نہ رہے تو پھر نماز کو اسی طرح قضا کیا جاسکتا ہے جیسے حضور ﷺ نے جنگ احزاب میں نماز قضا فرمائی تھی۔ مزید فرمایا وَ اِذَا اَمِنْتُمْ ۔ الخ کہ جب جنگ رک جائے اور امن کی فضا پیدا ہوجائے تو پھر تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح نماز پڑھنے کی تمہیں تعلیم دی گئی ہے۔
پیغمبر کی تعلیم اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے
یہاں تعلیم دینے کی نسبت براہ راست اللہ کی طرف کی گئی ہے۔ حالانکہ قرآن کریم کا ہر طالب علم جانتا ہے۔ کہ قرآن کریم میں پروردگار نے صرف اقامت صلوٰۃ کا حکم دیا ہے اس کے پڑھنے کا طریقہ اور اس کے فرائض و واجبات اور اس کی رکعات کی تعداد حتیٰ کہ نمازوں کی تعداد اور ان کے اوقات کسی چیز کا تذکرہ بھی قرآن کریم میں نہیں کیا گیا۔ ان میں سے ایک ایک بات کی تفصیل آنحضرت ﷺ نے اپنے قول و عمل سے فرمائی ہے اور یہاں آپ ﷺ کی بیان کردہ تفصیل اور تعلیم کو پروردگار نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کا نبی دنیا میں صرف قرآن کریم انسانوں کے حوالے کرنے نہیں آیا تھا بلکہ قرآن کریم کی تلاوت ‘ اس کی تعلیم ‘ اس کی حکمت اور اس کے مطابق تزکیہ اس کے فرائض میں شامل تھا۔ تعلیم کے حوالے سے آپ ﷺ نے نماز اور دیگر تمام دینی احکام کی ایک ایک ضرورت کو پورا فرمایا۔ قرآن پاک کے اصولوں کو عملی شکل عطا فرمائی۔ اس کے مبہمات کی وضاحت کی ‘ اجمالات کو تفصیل بخشی ‘ اٹھنے والے سوالات کا جواب دیا ‘ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دینی احکام کو پوری طرح جاری وساری کر کے دکھایا۔ اور یہ جو کچھ آپ ﷺ نے کیا یہ سب کچھ اللہ کی جانب سے ہوا۔ کیونکہ اللہ نے آپ ﷺ کو اس کا مجاز ٹھہرایا تھا اور اس کی ذمہ داری قبول فرمائی تھی۔ اللہ کے رسول کے اس کام کو یہاں احسان کے طور پر ذکر فرمایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں تم حالت کفر میں جن باتوں کو بالکل نہیں جانتے تھے ‘ جن میں نماز اور اس کی تفصیلات بھی شامل ہیں اللہ نے اپنے پیغمبر کی معرفت تمہیں اس کا علم دے کر تم پر احسان فرمایا ہے تاکہ تم اس کی قدر کرو۔
Ayah 2:240وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْـکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا صلے ج وَّصِیَّۃً لِّاَزْوَاجِھِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَاِخْرَاجٍ ج فَاِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْـکُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌحَکِیْمٌ۔
(اور جو تم میں سے وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ اپنی بیویوں کے لیے ایک سال تک کے نان نفقے کے گھر سے نکالے بغیر وصیت کر جائیں۔ اگر وہ خود گھر چھوڑیں تو جو کچھ وہ اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اللہ غالب حکمت والا ہے) (240)
بیوہ کے لیے وصیت کا عبوری حکم
عرب میں یہ طریقہ تھا کہ جب کسی بیوی کا شوہر مرجاتا تو وہ ایک سال تک اپنے شوہر کی عدت گزارتی۔ اس کے گھر میں رہتی اور مرنے والے کے وارث اس کے نان نفقے کے ذمہ دار ہوتے۔ قرآن کریم نے شوہر کے مرنے کی صورت میں عدت ایک سال سے کم کر کے چار ماہ دس دن کردی۔ اس سے بظاہر یہ احساس پیدا ہوا کہ جاہلیت کے زمانے میں عورتوں کو شوہر کے مرنے کے بعد ایک سال تک جو حقوق میسر تھے اسلام نے ان میں کمی کردی ہے۔ حالانکہ اسلام تو گرے پڑے طبقات اٹھانے کے لیے آیا۔ عورت تو دور جاہلیت میں صدیوں سے ظلم کا نشانہ بنی رہی ہے۔ اب بجائے اس کے کہ اسے کوئی رعایت ملتی بلکہ اس کے حقوق میں اضافہ ہوتا اور اس کے تحفظ کی ضمانت دی جاتی۔ اسلام نے ایسی عورت کو جو شوہر سے محروم ہوگئی ہے مزید عدم تحفظ کا شکار کردیا اور ایک سال تک جو اسے گھر کی چھت اور نان نفقہ میسر تھا اس سے محروم کردیا۔ چناچہ اس احساس کے ازالے کے لیے عارضی طور پر عورت کو یہ سہولت دی گئی جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ایک طرح سے اس سے پہلے عدت کے بارے میں جو آیت نازل ہوچکی ہے اس کی وضاحت ہے اس میں شوہر کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے وارثوں کو یہ وصیت کر جائے کہ وہ اس کی بیوہ کو ایک سال تک گھر سے نہ نکالیں اور اس کی وراثت سے اس کے لیے نان نفقہ مہیا کریں۔ لیکن یہ اسلام کا مستقل قانون نہیں تھا۔ یہ عارضی دور تھا اسلامی حکومت اپنی تشکیل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اسلامی معاشرہ استحکام کی منزلیں طے کر رہا تھا۔ مدینے کی آبادی روز بروز اسلام کی آغوش میں آرہی تھی ‘ لیکن ابھی وقت نہیں آیا تھا کہ وراثت کے مستقل احکام نازل کردیئے جائیں۔ کیونکہ مخلوط معاشرے میں جہاں ابھی تک قرابت داریاں مسلم اور غیر مسلم میں باقی تھیں۔ وراثت کا قانون نافذ کرنا آسان نہ تھا۔ ہم اس سے پہلے بھی اسی سورة میں والدین اور اقرباء کے لیے وصیت کا عارضی قانون پڑھ چکے ہیں۔ چناچہ یہ بھی اسی طرح کا قانون تھا لیکن جب میراث کا قانون نازل ہوگیا اور سورة النساء میں اس کی مکمل تشکیل کردی گئی تو یہ عارضی حکم منسوخ ہوگیا۔ کیونکہ وراثت کا قانون جاری ہونے کے بعد دوسرے وارثوں کے طرح بیوہ کا بھی حصہ معین ہوگیا۔ اب اس کے لیے وصیت کی ضرورت باقی نہ رہی۔ کیونکہ اللہ کے متعین کردہ حق کے بعد کسی اور اضافے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ورنہ یہ تاثر پیدا ہوگا کہ اللہ کا قانون ناقص تھا جسے بندوں نے مکمل کیا۔
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ اس سے پہلے آیت نمبر 234 میں جب بیوہ کی عدت کا ذکر کیا گیا تو اسی کے ساتھ اس وصیت کا حکم کیوں نہ دے دیا گیا۔ بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے احکام میں ایک تدریج پائی جاتی ہے اور اس میں بہت سی حکمتیں مضمر ہیں۔ اس طرح کی توضیحی آیات قرآن پاک کے طالب علموں کے لیے تدریج کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں اور انھیں اس تدریج کی حکمتوں کو جاننے اور اس پر غور و فکر کرنے کا موقع ملتا ہے۔
آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات بیان فرمائی ہیں ” عزیزٌ حکیمٌ“ کہ وہ غالب ہے حکمت والا ہے۔ غالب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قانون سازی کا حق صرف اسی کو ہے۔ کیونکہ وہی ایک ذات ہے جس سے یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ آپ نے یہ قانون کیوں دیا ہے۔ کیونکہ اس کی حاکمانہ حیثیت ہر طرح کے سوال سے بالا ہے۔ اور اس کی علمی وجاہت ہر طرح کے شبہ سے منزہ ہے اور اس کی مصلحت ہر طرح کے مفاد سے بیگانہ ہے۔ اور بندوں کے ساتھ اس کی شفقت اور رحمت ہر دلیل سے بےنیاز ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ حکمت والا ہے۔ کہ وہ صرف قانون ساز ہی نہیں بلکہ وہ حکیم بھی ہے۔ اس کے قانون میں صرف اقتدار نہیں جھلکتا بلکہ حکمت سے معمور بھی دکھائی دیتا ہے۔ ایسے قانون کی خلاف ورزی سے پہلے اس کے نتائج پر غور کرلینا چاہیے۔
Ayahs 2:241–242وَلِلْمُطَلَّـقَاتِ مَتَاعٌ م بِالْمَعْرُوْفِ ط حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ۔ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمْ اٰیٰـتِـہٖ لَعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ ع
(اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق کچھ دینا دلانا ہے۔ یہ خدا سے ڈرنے والوں پر حق ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کو بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو) (241 تا 242)
” مطلقات کو کچھ دینے کا حکم اس سے پہلے بھی گزر چکا ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف یاددہانی کے لیے اعادہ مقصود ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ پہلا حکم ان عورتوں کے لیے تھا جنھیں خلوت سے پہلے طلاق دے دی گئی۔ ان میں سے ایک تو وہ مطلقہ ہے جس کا مہر مقرر نہیں کیا گیا تھا اسے تو تحفہ وغیرہ کی صورت میں کچھ فائدہ پہنچانے کا حکم دیا گیا تھا اور جس کا مہر باندھا گیا تھا اس کے لیے متاع سے مراد یہ تھا کہ اسے نصف مہر دے دیا جائے۔ لیکن اس آیت میں ان مطلقہ عورتوں کا ذکر ہے جن کو ان کے شوہروں نے ان سے مباشرت کے بعد طلاق دی۔ ان کی دو قسمیں ہوسکتی ہیں۔ ایک تو وہ جن کا مہر مقرر کیا گیا تھا ان کو فائدہ پہنچانا یہ ہے کہ پورا مہر دیا جائے۔ اور دوسری وہ عورتیں جن کا مہر مقرر نہیں کیا گیا ‘ انھیں فائدہ پہنچانا یہ ہے کہ انھیں مہر مثل دیا جائے۔ لیکن اگر متاع سے مطلق فائدہ پہنچانا مراد لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی مطلقہ عورت جس کا مہر مقرر نہیں کیا گیا تھا اور اسے خلوت سے پہلے طلاق دے دی گئی تو اسے تو کوئی تحفہ یا کپڑوں کا جوڑا دینا واجب ہے اور باقی تمام مطلقہ عورتوں کو متاع یعنی کوئی تحفہ وغیرہ دینا مستحب ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا ” حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ “ کہ مطلقہ عورتوں کو کچھ نہ کچھ دینا اہل تقویٰ پر ایک حق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں جو لوگ اہل تقویٰ ہیں اور وہ کبھی حالات سے مجبور ہو کر اپنی بیویوں کو طلاق دے دیتے ہیں تو اگرچہ قانونی طور پر اپنی بیویوں کو کوئی تحفہ دے کر رخصت کرنا یا انھیں اپنے آپ کو سنبھالنے کے لیے کوئی مدد دینا ضروری نہیں۔ اسلامی حکومت بھی ایسا نہ کرنے والوں پر قانون شکنی کا الزام نہیں لگا سکتی۔ لیکن قرآن کریم سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ان باتوں کو متقین کے لیے حقوق وصفات کا درجہ دیا ہے۔ اس لیے متقیوں کو یہ بات کسی طرح بھی زیب نہیں دیتی کہ وہ اگر تقویٰ کی زندگی گزارنا چاہتے ہوں تو وہ اپنی بیویوں کے معاملے میں اس طرز عمل کا اظہار نہ کریں۔ دنیا میں ممکن ہے اس طرز عمل کی کوئی اہمیت نہ سمجھی جائے لیکن آخرت میں یہی اعمال بہت بڑا سرمایہ ثابت ہوں گے۔
کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ آیت کے اس ٹکڑے نے گزشتہ آیت کی نوعیت متعین کردی۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ یہ آیت توضیح کی حیثیت رکھتی ہے۔ 234 نمبر آیت میں بیان کردہ حکم کے بعد لوگوں کے اندر جو سوال اور جستجو پیدا ہوئی ‘ اس کی وضاحت کے لیے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اللہ کا یہ احسان ہے کہ وہ اس طرح کی توضیحی آیات سے ربط کی بہت ساری مشکلات کو آسان کردیتا ہے۔ ایک اہل علم کے کہنے کے مطابق یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ( قرآن کریم نے اجمال کے بعد تفصیل ‘ ایجاز کے بعد توضیح اور توضیح کے بعد توضیح مزید کا جو یہ طریقہ اختیار کیا ہے اس میں تربیت کے بہت سے پہلو ہیں۔ ازاں جملہ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے دین میں غور و فکر اور اس کے فوائد و مصالح اور اس کے اسرار و حکم تک پہنچنے کے لیے ہماری عقل کی تربیت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تدریج کو نمایاں کر کے اس حقیقت کی طرف ہماری راہنمائی فرماتا ہے کہ ہم دین میں عقل کو کس طرح استعمال کرسکتے ہیں۔ اور پیش آنے والے حالات و معاملات میں ان کلیات سے کس طرح جزئیات مستنبط کرسکتے ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف لَعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔ (ماخوذ از : تدبر قرآن)