Ayah 2:25وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُط کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْھَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًالا قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًا ط وَلَھُمْ فِیْھَآ اَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ وَّھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔
(البقرۃ : 25)
(اور بشارت دو ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک کام کیے، اس بات کی کہ ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جب جب ان کے پھل ان کو کھانے کو ملیں گے تو کہیں گے کہ یہ وہی ہیں جو اس سے پہلے ہمیں عطا ہوا تھا، حالانکہ وہ دئیے گئے اس سے ملتا جلتا، اور ان کے لیے اس میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے (اور یہ اسلوب انسانی فطرت کے عین مطابق ہے) کہ جب وہ انکار کرنے والوں ناشکری کرنے والوں یا بد عملی کرنے والوں کو اپنے عذاب سے ڈراتا ہے اور انھیں ان کے برے انجام سے آگاہ کرتا ہے تو ساتھ ہی ان لوگوں کو جو ایمان لاتے اور نیک اعمال اختیار کرتے ہیں انھیں اچھے انجام اور اپنی رحمتوں اور نوازشوں کی بشارت بھی دیتا ہے۔ اللہ نے انسانی فطرت اس طرح کی بنائی ہے اور انسانی طبیعتوں کو اس طرح کے پیمانے میں ڈھالا ہے کہ وہ کسی بھی ذمہ داری کے کام کے لیے جلدی آمادہ نہیں ہوتا بالخصوص جس کام کے لیے اسے محنت کرنی پڑے یا مشقت سے گزرنا پڑے تو وہ اپنی طبیعت کو آسانی سے اس کے لیے ہموار نہیں کرسکتا ایسی صورت میں اسے آمادہ عمل کرنے کے لیے دو ہی طریقے موثر ہوتے ہیں۔ (1) ترغیب (2) ترہیب۔ یعنی کسی انعام یا کسی معاوضے کی خواہش انسان کو عمل کے لیے اکساتی ہے۔ یا عمل نہ کرنے کی صورت میں کسی نقصان کا اندیشہ یا کسی سزا کا خوف اسے عمل پر مجبور کرتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان بنیادی طور پر معقولیت پسند ہے۔ عقل کی بات اسے اپیل کرتی ہے اور نیکی کی بات اسے اچھی لگتی ہے۔ لیکن بعض دفعہ گردوپیش کے اثرات طبیعتوں پر اتنے غالب آجاتے ہیں کہ طبیعتوں کا ان سے آزاد ہونا کسی بڑے محرک کا محتاج ہوتا ہے۔ اور وہ محرک ترغیب یاترہیب کی صورت میں وجود میں آتا ہے۔ قرآن کریم بھی سب سے پہلے اپنی دعوت کو طبیعتوں میں اتارنے کے لیے دلائل سے کام لیتا ہے۔ عقل پسند اور حالات کے مقابلہ کرنے کے قابل طبیعتیں دلائل سے متاثر ہو کر قرآن کریم کی دعوت کو قبول کرلیتی ہیں۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد ہمیشہ تھوڑی رہی ہے۔ اس لیے عام انسانی حالت کو دیکھتے ہوئے قرآن کریم عموما ترغیب اور ترہیب سے کام لیتا ہے۔ یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ توحید و رسالت پر پہلے ایسے دلائل دئیے گئے جنھیں ہم دلائل قاطعہ اور حجج بالغہ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن جو طبیعتیں یا جو لوگ ایسے دلائل کو خاطر میں نہیں لاتے اور ان کے دل و دماغ پر جمی ہوئی گرد ان دلائل سے اترنے نہیں پاتی تو ان کے لیے پروردگار نے پہلے ترہیب سے کام لیا اور انھیں یہ کہہ کر ان کے انجام سے ڈرایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب کو اس کا چیلنج قبول کرنے میں ناکام ہو کر بھی کتاب اللہ ماننے سے انکار کرتے ہو تو پھر اس آگ سے ڈروجس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے اور اس کے بعد اپنے اسلوب کے مطابق ان لوگوں کو بشارت سے نوازا جنھوں نے اللہ کی توحید رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے کا اقرار کیا اور اس کے دئیے ہوئے نظام زندگی کے مطابق زندگی کارویہ بنانے کے لیے تیار ہوگئے۔ کہ ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔
عذابِ جہنم سے بچنے کے لیے اعمالِ صالحہ بھی ضروری ہیں
یہاں بطور خاص ایک بات کو ذہین نشین کرلینا چاہیے کہ پیش نظر آیت کریمہ میں جن لوگوں کو بشارت دی جارہی ہے ان کی دو صفات بیان کی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ ایمان لائے ہر اس چیز پر جس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے اور دوسرا یہ کہ انھوں نے نیک عمل کیئے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے صرف ایمان کافی نہیں اس کے لیے اعمال صالحہ بھی ضروری ہیں۔ ایک شخص جو ایمانیات کو مان کر مومن بن جاتا ہے، لیکن وہ اللہ کی شریعت کے کسی حکم پر عمل نہیں کرتا ارکانِ اسلام کی فکر نہیں کرتافرائض کی پابندی نہیں کرتامکارمِ اخلاق کو اختیار کرنے کی کوشش نہیں کرتا ایسا شخص فقہ کی نگاہ میں اور مسلمانوں کے رجسٹر میں تو ضرور مسلمان کہلائے گا البتہ اسے گناہ گار مسلمان کہیں گے اور یہ محض ایمان اسے جہنم کے ابدی عذاب سے بھی شاید بچالے۔ لیکن اگر وہ یہ چاہے کہ میں جہنم کی آگ سے بچ جاؤں اور مجھے کسی طرح کا بھی عذاب نہ ہو اور میں حساب کتاب کے بعد سیدھا جنت پہنچ جاؤں تو یہ اعمال صالحہ کے بغیرممکن نہیں۔ اعمال صالحہ سے مراد وہ اعمال ہیں جو اللہ کی شریعت کے مطابق حسن نیت اور اخلاص کے ساتھ محض اللہ کے لیے کیے جائیں۔ اگر ایک آدمی شرعی احکام کی پابندی تو کرتا ہے لیکن اس کی نیت میں اخلاص نہیں یا اس کے عقیدے میں شرک کی آمیزش ہے۔ یا پیش نظر اللہ کی رضا نہیں تو ایسا عمل عمل صالح نہیں کہلاتا اور اللہ کی نگاہ میں اس کی کوئی قدروقیمت نہیں۔ مسلمانوں میں زوال کا شکار ہونے کے بعد جو مفاسد پیدا ہوئے ہیں ان میں ایک بہت بڑا فسادیہ ہے کہ ایمان بھی بےمیل نہ رہا اخلاص دلوں سے جاتارہا، حسن نیت کا تصور ہی اپنی اہمیت کھو بیٹھا، لیکن اس سے بھی بڑی خرابی یہ پید اہوئی کہ صرف ایمانی دعویٰ کو عمل کی پابندی کے بغیر کافی سمجھ لیا گیا۔ جو آدمی اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے چاہے اس کے اعمال قرآن وسنت کے یکسر خلاف ہوں، اسے مومن سمجھ لیا جاتا ہے بلکہ بہت سے لوگ تو یہاں تک جسارت کر گزرتے ہیں کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی نگاہوں میں کون اچھا ہے اور کون برا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اچھائی اور برائی محض زبانی باتیں ہیں جن کا کوئی عملی وجود نہیں۔ اس آیت کریمہ میں صاف بتایا گیا ہے کہ اللہ جن لوگوں کو بشارت کے قابل سمجھتا ہے وہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور اس کے احکام اور اس کی شریعت کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں۔ انہی کے لیے اللہ کی جنت ہے اور اللہ کے انعامات ہیں اور یہی لوگ ہیں جو اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔
متشابھًا کا مفہوم
قرآن کریم میں یہاں بھی اور اس کے علاوہ بیسیوں مقامات پر جنت کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ وہ ایسے باغات ہوں کے جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ عرب جیسے صحرائی اور ریگستانی علاقے میں سرسبز باغ اللہ کی بیش بہا نعمت تھی۔ اور ویسے بھی میدانی علاقوں میں بھی باغات کی قدروقیمت اور اس کی دل آویزی ہمیشہ انسانی آرزئوں میں نمایاں مقام کی حامل رہی ہیں۔ کوئی بھی مصنوعی منظر باغ کی دل آویزی کا مماثل نہیں ہوسکتا۔ لیکن قرآن کریم باغوں میں سے بھی جنت کے باغات کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہ ضرور کہتا ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں۔ کیونکہ باغ کا سب سے زیادلکش تصور یہ ہے کہ وہ بلندی پر ہو اور اس کے نیچے نہر جاری ہو۔ بلندی اس کے منظر کی دل کشی میں اضافہ کرتی ہے اور سیلاب وغیرہ کی آفتوں سے محفوظ رکھتی ہے اور نیچے بہنے والی نہر اس کی شادابی کی ضمانت دیتی ہے۔ سورة بقرۃ ہی کی آیت نمبر 265 میں تو بطور خاص اس کا ذکر فرمایا کمثل جنۃ بربوۃ کہ ایسا باغ جو بلندی پر ہو۔” ربوۃ “ بلند جگہ یا بلند ٹیلے کو کہتے ہیں۔ تو مقصود اس سے جنت کی دل آویزی، سرسبزی، شادابی اور دل کشی کو نمایاں کرنا ہے۔ اس کے بعد جنت میں اہل جنت کو جو نعمتیں میسر آئیں گی اور جو انھیں عیش دوام نصیب ہوگا اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنت کی نعمتوں کا حال یہ ہوگا کہ جب بھی اہل جنت کو کھانے کے لیے کوئی پھل دیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ پھلوں کی افراط ہوگی اور درختوں کے ساتھ اس طرح پھل لٹک رہے ہوں گے کہ کھانے سے پہلے ان کی دل کشی ہی انسان کی لذت کو دوچند کرنے کے لیے کافی ہوگی جنت کا ہر باسی جب اس منظر کی خوبصورتی اور رعنائی میں ڈوبا ہوا ہوگا تو خدام پھلوں کے طشت سجائے جب انھیں اپنی طرف متوجہ کریں گے، تو وہ دیکھ کر یہ کہیں گے (یہاں کہنے سے عربی اسلوب کے مطابق دونوں ہی معنی مراد لیے جاسکتے ہیں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے یا جی ہی جی میں کہیں گے) کہ یہ تو وہ پھل ہیں جو اس سے پہلے ہمیں دئیے جاچکے ہیں اس کے بھی دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک مطلب تو یہ کہ تھوڑی دیر پہلے خدام نے جو ہماری خدمت میں پھل پیش کیے تھے وہ اسی طرح کے تھے اور یہ بھی اسی قسم کے پھل ہیں۔ لیکن جب وہ انھیں کھا کردیکھیں گے تو ان کا مزا اور ان کی لذت اور ان کی خوشبو پہلے کھائے ہوئے پھلوں سے اس قدر مختلف ہوگی اور وہ اس قدر خوش ذائقہ ہوں گے کہ وہ حیران ہو کر رہ جائیں گے اور وہ سمجھ جائیں گے کہ اللہ کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں وہ جس فراوانی سے پھل پیدا کرتا ہے اور پھر پھلوں میں جس قدر تنوع پیدا کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ لطف ولذت میں ایسی ایسی جدتیں پیدا کرسکتا ہے جو انسان کے خواب و خیال میں بھی نہیں گزرسکتیں۔
دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ پھل جو ہمارے سامنے پیش کیے جارہے ہیں، یہ اپنی شکل و صورت اور رنگ روپ میں بالکل ویسے ہی ہیں جیسے اللہ نے ہمیں دنیا میں عطا فرمائے تھے وہاں آم دیا تھا تو کئی کئی قسموں پر مشتمل اور لطف ولذت میں بالکل ایک دوسرے سے مختلف اور انگور دئیے تھے تو قدو قامت اور مزے اور لذت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر یہ جنت کے پھل بھی معلوم ہوتا ہے اپنی ساری خوبی اور رعنائی کے باوجود ویسے ہی ہیں جیسے ہم دنیا میں کھاچکے ہیں۔ لیکن جب وہ انھیں کھاکر دیکھیں گے تب انھیں اندازہ ہوگا کہ یہ پھل تو دنیا کے پھلوں سے ہر لحاظ سے مختلف ہیں۔ جنت کے پھل محض ان کے ہم شکل تھے لیکن شکل و صورت کے علاوہ کسی چیز میں بھی وہ ان کے ہمسر نہ تھے۔
قرآن کریم نے اس بات کو بھی ایک سے زیادہ جگہ بیان کیا ہے کہ جنت میں اہل جنت کو نہ پیاس لگے گی نہ بھوک کی تکلیف ہوگی۔ یعنی وہ تمام عوارض اور وہ تمام حاجات جو انسان کی مشکل کا باعث بھی ہیں اور کمزوری کا بھی اور اگر بروقت انھیں پورا کرنے کا موقع نہ ملے تو وہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ غذ ا کی یافت میں اگر تاخیر ہوجائے اور بھوک کا دورانیہ بڑھ جانے کے باعث ناقابل برداشت ہونے لگے۔ تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہی بھوک اور اشتہا جو نعمتوں میں لطف ولذت کا حقیقی سبب ہے کس قدر تکلیف دہ بھی ہے۔ جب بھوک برداشت نہیں ہوتی تو کمردوہری ہونے لگتی ہے چلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ کمر سیدھی رکھنے کے لیے اور چلنے اور کام کرنے کی آسانی پیدا کرنے کے لیے عرب پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔ لیکن جنت میں آدمی کو بھوک نہیں لگے گی۔ لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ بھوک کے بغیر بہتر سے بہتر کھانا اور بہتر سے بہتر نعمت آدمی کو مزا نہیں دیتی۔ بھوک ہو تو نان جویں بھی خوش ذائفہ معلوم ہوتا ہے۔ بھوک نہ ہو تو مرغ مسلم بھی کھانے کو جی نہیں چاہتا۔ لیکن جنت میں اللہ کا عجیب احسان ہوگا کہ انسان کو کوئی حاجت لاحق نہیں ہوگی۔ بھوک لگے گی نہ پیاس لیکن اس کے باوجود جنت کی نعمتیں انھیں مزا دیں گی وہ جتنی کھائیں گے ہر دفعہ نئے لطف و لذت سے شاد کام ہوں گے۔
انسانی احساسات اللہ نے اس طرح تخلیق فرمائے ہیں کہ ان کے تقاضوں کی بجاآوری محض غذائی ضرورتیں پورا کردینے سے نہیں ہوتی کسی آدمی کو محل میں رہائش دے دیجئے خدام خدمت میں لگا دیجئے۔ ضرورت کی ہر چیز بافراط مہیا کردیجئے۔ لیکن کسی کو اس سے ملنے نہ دیجئے۔ اسے تنہائی میں زندگی گزارنے پر مجبور کردیجئے یقین جانئے وہ شخص متذکرہ بالا نعمتوں کے باوجود خود کشی کرنے پر تیار ہوجائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے انسانی احساسات کا تقاضا صرف غذائی ضروت کا پورا ہونا ہی نہیں بلکہ انسانوں سے ملنا اور دوست احباب کے ساتھ بزم آرائی بھی ہے۔ مولانا محمد علی جوہر کو قید ِتنہائی میں رکھا گیا ضروریات زندگی کی کوئی کمی نہ تھی۔ لیکن آپ جیسا صابر آدمی بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگیا تھا ؎
قید اور قید بھی تنہائی کی
شرم رہ جائے شکیبائی کی
دوست احباب سے بڑھ کر انسانی احساس کی سیرابی اور زندگی کی خوشگواری کے لیے مرد کو بیوی کی اور عورت کو شوہر کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ضرورت صرف جوانی میں نہیں بڑھاپے میں بھی علیٰ حالہٖ قائم رہتی ہے۔ اللہ نے مرد و عورت کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ ہر ایک کی شخصیت میں ایک جھول رکھا ہے جو دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا اس لیے مرد بیوی کے بغیر اور بیوی شوہر کے بغیر اپنی شخصیت میں نامکمل رہتے ہیں۔ دونوں کے احساسات کی سیرابی ایک دوسرے کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں اللہ سے ڈرنے والے اسلامی قالب میں ڈھلے ہوئے، مکارمِ اخلاق کے پیکر اور شائستہ اطوار ہوں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے جیتے اور ایک دوسرے کے لیے مرتے ہوں اور اللہ کے خوف نے جس طرح انھیں حقوق آشنا بنایاہو اسی طرح ان کے اندرونی احساسات کی تہذیب بھی کی ہو۔ ایسی صورتحال میں تنگی وترشی اور خوشحالی و بدحالی اضافی چیزیں ہو کر رہ جاتی ہیں۔
ازواجِ مطہرۃ کا مفہوم
میری ان گزارشات کو پیش نظر رکھئے اور پھر دیکھئے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں میں بطور خاص ازواج مطھرۃ کا ذکر فرمایا ہے جس کا ترجمہ عام طور پر ” پاکیزہ بیویاں “ کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ازواج، زوج کی جمع ہے۔ اس کا اطلاق شوہر پر بھی ہوتا ہے اور بیوی پر بھی کیونکہ زوج کا معنی ہے ” جوڑا “ اور دونوں ایک دوسرے کے لیے جوڑا ہیں۔ مطہرہ مؤنث ہونے کی وجہ سے یہ گمان کیا گیا ہے کہ یہاں بیویوں کی صفت کے طور پر آیا ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ مؤنث جمع کی صفت کے طور پر بھی آتا ہے، چاہے وہ جمع مذکر ہو یا مؤنث۔ اس لیے اگر ازواج مطہرہ سے شوہر اور بیوی دونوں مراد لیے جائیں تو الفاظ میں اس کی گنجائش ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنت میں اللہ تعالیٰ اہل ِ جنت کو جو بیش بہا نعمتیں عطا فرمائیں گے ان میں ایک بہت بڑی نعمت یہ بھی ہوگی کہ مرد اور عورت دونوں کو ایسے جوڑے دئیے جائیں گے ( یعنی مرد کو بیوی اور عورت کو شوہر) جو مطہر ہوں گے۔ مطہر کا مطلب یہ ہے کہ جن کی فکری اور عملی تطہیر ہوچکی ہوگی، جنھیں تربیت سے یا من جانب اللہ اس طرح شائستہ بنادیا ہوگا کہ نہ ان کی فکر میں کجی ہوگی نہ عمل میں خرابی اور نہ مزاج میں ناہمواری۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے سرتاپا ہمدردی اور خیر خواہی ہوں گے۔ ان کے مزاج اور ان کی فکر میں اسقدر ہم آہنگی ہوگی کہ سوچ سے لے کر عمل تک کہیں اختلاف جنم نہیں لے گا۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے مسرت اور خوشی کا باعث ہوں گے۔ مزید فرمایا کہ جنت میں یہ قیام اور یہ نعمتوں کی فراوانی اور یہ میاں بیوی کی ہم آہنگی سے جو مسرتوں سے بھرپور ماحول میسر آئے گا اس ماحول سے اہل ِ جنت کو کبھی نکلنے کا حکم نہیں دیا جائے گا وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ انھیں کبھی موت آئے گی نہ ان نعمتوں کو کبھی زوال ہوگا۔
Ayah 2:26اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَۃً فَمَا فَوْقَھَاط فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْج وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰہُ بِھٰذَا مَثَلًام یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّیَھْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًاط وَمَا یُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ ۔ (البقرۃ : 26)
(اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی تمثیل بیان کرے، خواہ وہ مچھر کی ہو یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ تو جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ جانتے ہیں یہی بات حق ہے، ان کے رب کی جانب سے۔ رہے وہ لوگ، جنھوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ اس تمثیل کے بیان کرنے سے اللہ کا کیا منشا ہے۔ اللہ اس چیز سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے اور وہ گمراہ نہیں کرتامگر انہی لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔ جو اللہ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس چیز کا اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اسے توڑتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں، یہی لوگ ہیں جو نامراد ہونے والے ہیں)
دفع دخل مقدر
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے کفار کے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے۔ اعتراض اگرچہ نقل نہیں کیا گیا لیکن جواب سے خودبخود سمجھ میں آرہا ہے۔ کفار کا اعتراض یہ تھا کہ تم یہ کہتے ہو کہ یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور یہ اس کا کلام ہے اگر یہ واقعی اللہ کا کلام ہوتا تو جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ہر طرح کے عیب سے پاک اور تمام عظمتوں سے بڑھ کر عظیم ہے ایسا ہی اس کا کلام، کلام کی کمزوریوں سے پاک اور اعلیٰ سے اعلیٰ کلام کی ایک نادر بلکہ برتر مثال ہونا چاہیے۔ کوئی باوقار آدمی کبھی اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کے منہ سے کوئی ہلکی بات نکلے۔ وہ جب بھی بات کرے گا اپنے وقار اور اپنی عظمت کو ہمیشہ پیش نظر رکھے گا اور اگر اس کے منہ سے اس کی ذات سے فروتر کلمات نکلنے لگیں تو لوگوں کو تعجب بھی ہوتا ہے اور اس کی ذات کو نقصان بھی پہنچتا ہے۔ یہ قرآن کریم اگر اللہ کا کلام ہے تو اس میں کہیں مکھی، کہیں مچھر اور کہیں مکڑی کی مثالیں کیوں دی گئی ہیں وہ اپنی تمثیلات میں ان چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑوں کا نام کیوں لیتا ہے ؟ اسے اگر تمثیل پیش بھی کرنی ہو تو تمثیل پیش کرتے ہوئے ایسی چیز کا نام لینا چاہیے جو اس کی شان کے لائق ہو۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی تمثیل بیان کرے ضرب مثل کا معنی ہوتا ہے کسی حقیقت کو تمثیل کے پیرایہ میں سمجھانا، اور یہاں لفظ استعمال ہوا ہے لا یستحی ” اللہ نہیں شرماتا “۔ مفسرین یہ کہتے ہیں کہ استحیاء کا معنی ہوتا ہے ” کسی چیز سے رک جانایا کسی چیز کو چھوڑ دینا “۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ بات کو سمجھانے کے لیے کوئی مثال دینے سے رکتانھیں کیونکہ تمثیل میں جو مثال پیش کی جاتی ہے وہ متکلم کی شان کے مطابق نہیں ہوتی بلکہ وہ مخاطب کے حال کے مطابق ہوتی ہے۔ مخاطب اگر ایک ایسا کام کررہا ہے، یا اس کی حالت ایسے منظر کی غماز ہے۔ جس میں وہ اپنی سطح سے بہت نیچے گر کر کیڑے مکوڑوں کی سطح پر آگیا ہے تو اس کی حالت کو واضح کرنے کے لیے کیڑے مکوڑوں ہی کا نام لیاجائے گا کسی بڑی چیز کا نہیں اور نام لینے والا اور مثال دینے والا مثال دیتے ہوئے اپنی شخصیت کو سامنے نہیں رکھتا بلکہ مخاطب کو سامنے رکھ کر مثال تجویز کرتا ہے۔ اور یہ تمثیل کا انداز اختیار کرنا پہلی آسمانی کتابوں کا بھی شیوہ رہا ہے۔ کیونکہ اعلیٰ حقائق اور روحانی لطائف کو تمثیل کے انداز میں بیان کرنے سے انھیں سمجھانا آسان ہوجاتا ہے اور مزید یہ کہ مخاطب اگر بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کررہاتو براہ راست بات کہنے یا عام انداز اختیار کرنے کی بجائے اگر تمثیل کا انداز اختیار کیا جائے تو اس سے بات واضح بھی ہوجاتی ہے اور مخاطب کے لیے اس کا انکار مشکل بھی ہوجاتا ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلی آسمانی کتابوں کی طرح قرآن کریم نے بھی اس صنف کلام کو استعمال کیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ مشرکین کو یہ سمجھانے کے لیے کہ قدرت اور عظمت کا حقیقی مالک صرف اللہ ہے۔ تم نے اللہ کے ساتھ جن قوتوں کو شریک بنارکھا ہے وہ جنات ہوں، فرشتے ہوں یا تمہارے مصنوعی دیوتا اور دیویاں ان کے پاس کوئی طاقت وقدرت نہیں اور کس قدر عجیب بات ہے کہ تم اللہ جیسے قادر مطلق کے ساتھ ان بےطاقت قوتوں کو پکارتے ہو اور ان سے مرادیں مانگتے ہو اسی طرح تم نے پتھروں کو تراش کر جو خدا بنارکھے ہیں وہ تو ان سے بھی زیادہ بےطاقت اور گئے گزرے ہیں چناچہ ان دونوں باتوں کو تمثیل کے انداز میں اس طرح بیان فرمایا کہ ذہنوں کے لیے اس کا سمجھنا آسان کردیا۔
یٰٓااَیُّھَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاَ اسْتَمِعُوْا لَہٗ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدعُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ لَن یَّخْلُقُوا ذُبَابًا وِّلَوِا اجْتَمِعُوا لَہٗ وَ اِن یَّسلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّایَسْتَنْقِذُوہُ مِنہُ ۔
(اے لوگو ! ایک تمثیل پیش کی جارہی ہے، اسے غور سے سنو۔ بیشک جن لوگوں کو، اللہ کو چھوڑکر، تم پکارتے ہو، وہ کسی مکھی تک کو پیدا نہیں کرسکتے، اگرچہ وہ سب جمع ہوجائیں اور اگر ان سے مکھیاں کوئی چیز چھین لیں تو وہ ان سے بچا نہیں سکتے)
یہاں دیکھئے ! وہ جن قوتوں کو معبود بنائے بیٹھے تھے ان کی بےطاقتی اور کمزوری بیان کرنے کے لیے یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ تو ایک مکھی تک کو پیدا نہیں کرسکتے اور ان کے بتوں کا حال یہ ہے جن کے سامنے وہ سرجھکاتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ ان کے حلوے پوریوں کو اگر مکھیاں کھاجائیں تو وہ ان سے بچا نہیں سکتے۔ غور فرمائیے ! ان کی کمزوری کو ظاہر کرنے کے لیے اس سے بہتر تمثیل اور کیا ہوسکتی ہے اس میں مکھی کی مثال ان کی حالت سے مطابقت کی وجہ سے دی گئی ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کی وجہ سے۔ تو تمثیل کا اصل حسن یہ ہے کہ وہ پوری طرح صورت واقعہ کو کھول کر رکھ دے۔ اس میں صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس میں جو حقیقت بیان کی گئی ہے وہ کس خوبی سے بیان ہوئی ہے۔ اس میں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ تمثیل کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہی طریقہ پہلی آسمانی کتابوں میں بھی رہا ہے۔ انجیل میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بہت ساری تمثیلات بیان کی گئی ہیں۔ یہودیوں کا یہ طریقہ تھا کہ وہ اصولوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے لیکن جزئیات کا بہت اہتمام کرتے تھے۔ مذہب کی اصل روح ان کے یہاں مرچکی تھی۔ لیکن اس کے مظاہر میں سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ لڑتے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی اس کی گمراہی پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا : کہ تم مچھروں کو چھانتے ہو اور اونٹوں کو نگل جاتے ہو۔ اس میں توجہ طلب اونٹ اور مچھر کا لفظ نہیں ہے بلکہ وہ تشبیہ ہے جس نے ان کی پوری حالت کو نمایاں کرکے رکھ دیا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ تمثیل اصنافِ کلام میں سے ایک صنف ہے۔ جس کو عموماً اعلیٰ حقائق اور روحانی لطائف کی وضاحت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی ایسے لوگوں کی حالت کو نمایاں کرنے کے لیے بھی جو انسانی سطح سے نیچے گر چکے ہوں۔ لیکن وہ نہ اپنی حالت پر غور کرنے پر تیارہوں اور نہ دوسرے لوگ ان کے عمومی اثرات کے باعث توجہ دینے کی زحمت کریں۔ البتہ ان تمثیلات سے ہر جگہ اثر یکساں نہیں ہوتاجن کی طبیعت میں سلامتی ہے اور وہ حقائق کو جاننے کے متمنی ہیں وہ تو ان تمثیلات کو بیش بہا نعمتوں کا درجہ دیتے ہیں اور ان تمثیلات کو دیکھتے ہوئے ان کی طبیعت کھل جاتی ہے کیونکہ جو بات غور وفکر سے مشکل سے ہاتھ آتی ہو۔ لیکن ایک تمثیل انھیں آسان کردے تو قبول کرنے والی طبیعتیں یقینا اس سے خوشی اور مسرت محسوس کرتی ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو ان حقائق کے دشمن ہیں اور جن کی زندگی یکسر اس کے الٹے رخ پر چل رہی ہے اور یا ان تمثیلات کی زد براہ ِ راست ان پر پڑتی ہے تو وہ فوراً بدک اٹھتے ہیں اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہماری وہ کمزوریاں جنھیں ہم چھپانا چاہتے تھے ان تمثیلات نے ان کو اس طرح نمایاں کردیا ہے کہ وہ عام لوگوں کی نگاہوں میں آگئی ہیں۔ وہ ایسی تمثیلات پر سراپا احتجاج بن جاتے ہیں۔ لیکن ان کی معنویت پر چونکہ کوئی گرفت نہیں کرسکتے، اس لیے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے بال کی کھال اتارنے لگتے ہیں۔ وہ اس بات پر کبھی بحث نہیں کرتے کہ اس تمثیل نے کس بنیادی حقیقت کو نمایاں کیا ہے اور کس برائی پر گرفت کی ہے بلکہ وہ اس کے ارکانِ تشبیہ میں سے کسی رکن کو لے کر یا وجہ شبہ کو پکڑ کر تنقید کے تیر برسانا شروع کردیں گے۔ پروردگار نے اگر ان کی فروترحالت کی نشاندہی کرتے ہوئے مکھی یا مچھر کی مثال دی ہے تو وہ مثال کے مفہوم کو یکسر نظر انداز کرکے یہ کہیں گے کہ اگر یہ کلام اللہ کا کلام ہے تو اس میں مکھی یا مچھر کی مثالوں کا کیا معنی ؟ کیا پروردگار کی عظیم ذات کبھی اس طرح کے چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑوں کی مثال دے سکتی ہے ؟ پروردگار اگر کوئی مثال دیتا تو وہ یقینا اس کی اپنی ذات کی شایانِ شان ہوتی۔ اس طرح سے وہ اپنے ضمیر اور دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں اور نتیجۃً اپنی عاقبت تباہ کرلیتے ہیں۔
ہدایت و ضلالت کا قانون
چناچہ جانبین کا یہی رویہ ان کی ہدایت اور ضلالت کا فیصلہ کرتا ہے۔ یعنی جو لوگ تمثیل کی معنویت پر غور کرکے اسے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے ہدایت کا راستہ آسان کردیتا ہے۔ لیکن جو لوگ متذکرہ بالا رویہ اختیار کرتے ہیں، ان کے لیے اللہ کا قانون حرکت میں آتا ہے اور گمراہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ محض یہ ایک عمل ان کی گمراہی کا فیصلہ کردیتا ہے بلکہ یہ عمل اور یہ سوچ اصلاً ان کے اس رویے کا نتیجہ ہوتی ہے جسے قرآن کریم نے فسق قرار دیا ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ اللہ صرف فاسقوں کو گمراہ کرتا ہے۔ یعنی اللہ کا قانون جو بندوں کے اعمال کے مطابق حرکت میں آتا ہے اس قانون کے مطابق اس وقت گمراہی کا فیصلہ ہوتا ہے جب کوئی شخص فسق کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت کریمہ میں پروردگار نے خود فاسقین کی وضاحت فرمادی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی نگاہ میں فسق سے کیا مراد ہے۔
Ayah 2:27الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مِیْثَاقِہٖص وَیَقْطَعُوْنَ مَآاَمَرَاللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِیْ الْاَرْضِط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 27)
(جو اللہ کے عہد کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس چیز کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں نامراد ہونے والے)
فسق کا معنی و مفہوم
فِسقکامعنی ہے ،” نکل جانا “ بلکہ زیادہ واضح مفہوم میں ” اچھل کر نکل جانایا پھلانگتے ہوئے نکل جانا “۔ عربی کا ایک محاورہ ہے جس سے اس کے معنی پر روشنی پڑتی ہے۔ فسقت الرطبۃ عن القشرۃ ” کھجور (کی گُٹھلی) چھلکے سے پھدک کر نکل گئی “ یعنی اگر آپ انگوٹھے کی پور پر کھجور کو رکھ کر اس کے ایک کنارے پر انگشتِ شہادت کے پور سے دبائو ڈالیں تو گٹھلی چھلکے سے پھدک کر نکل جاتی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کہ فِسق اس نکلنے کو کہتے ہیں جس کے ساتھ اچھلنے، کودنے اور پھلانگنے کا ارادہ بھی شامل ہو۔ قرآن کریم میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے کہ جو شخص معروف سے منکر اور اطاعت سے نافرمانی کی طرف نکل جاتا ہے، اسے فاسق کہتے ہیں۔ البتہ یہ نافرمانی اور معروف سے نکل جانا کبھی معمولی درجے کا بھی ہوتا ہے یعنی ایک آدمی فرائض میں غفلت کرنے لگے، یا ادب واحترام میں لاپرواہی دکھانے لگے لیکن ایک رویہ یہ ہے کہ نمازوں سے یکسر تعلق توڑ لیا جائے بےحیائی اور بےشرمی کو تہذیب کا نام دے دیا جائے اور بڑی سے بڑی نافرمانی پر بھی طبیعت میں گرانی پید انہ ہو۔ بلکہ طبیعت اس کو معمول کی بات سمجھے، اور پھر یہ رویہ اگر اپنی حد تک محدود رہے تو شریعت کی زبان میں اسے ” فِسق “ کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ نافرمانی کھلم کھلا کی جانے لگے اور کوئی ملامت اس پر اثر انداز نہ ہو تو اسے عموماً فجور کا نام دیا جاتا ہے۔ فقہ کی زبان میں گناہ کبیرہ کا ارتکاب اور صغیرہ پر اصرار کو فسق کہا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم بڑی سے بڑی نافرمانی جو کفر تک پہنچا دیتی ہے، اسے بھی فسق سے تعبیر کرتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ایسے ہی لوگوں کو فاسق کہا گیا ہے۔
فاسق کی دو نمایاں علامتیں
ان کے فسوق کو بیان کرتے ہوئے چند نمایاں باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں کہ یہ فاسق لوگ وہ ہیں جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں۔ اس سے مراد دو طرح کے عہد ہوسکتے ہیں۔ ایک تو وہ عہد ہے جسے ” عہد الست “ کہا جاتا ہے کہ جسے عالم ارواح میں پروردگار نے تمام روحوں سے لیا تھا۔ سب سے پوچھا تھا : الست بربکمتو سب نے جواب میں کہا تھا : بلٰی کہ آپ ہی ہمارے رب ہیں ہم اس کا اقرار کرتے ہیں۔ تو جو آدمی اللہ کی نافرمانی کرتا ہے، وہ اس عہد کو توڑتا ہے کیونکہ اللہ کو رب ماننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم ہمیشہ آپ کے احکام کی اطاعت اور آپ کی ذات کی بندگی کریں گے اور یا اس عہد سے مراد وہ عہد ہے، جو ہر مومن ایمان قبول کرتا ہوا کلمہ شہادت پڑھکر اللہ کے ساتھ کرتا ہے۔ جب ایک شخص یہ کہتا ہے کہ ” میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں “ تو وہ درحقیقت یہ کہتا ہے کہ میں اللہ کے سوا کسی کو معبود اور حاکم حقیقی نہیں سمجھتا۔ میں اسی کی بندگی کروں گا اور اسی کے احکام کی اطاعت کروں گا۔ جو لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اس کے احکام کی اطاعت نہیں کرتے یا اس کے مقابلے میں دوسروں کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں۔ بجائے اللہ کے دیئے ہوئے آئین اور قانون کو نافذ کرنے کے وہ دوسروں کے وضع کردہ یا اپنے بنائے ہوئے قوانین کی پیروی کرتے ہیں تو وہ اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں۔ کیونکہ ایک مسلمان اسلام قبول کرنے کے بعد جس طرح اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا، اس کے سوا کسی اور کی نماز نہیں پڑھ سکتا، اسی طرح وہ اپنے مال و دولت میں تصرف اپنے اعضاء وجوارح کا استعمال اپنی قلبی اور دماغی صلاحیتوں سے خدمت بھی اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہیں لے سکتا۔ وہ جس طرح انفرادی اور شخصی زندگی میں اللہ کا بندہ ہے اسی طرح وہ اجتماعی زندگی میں بھی اللہ کا بندہ اور اس کی بندگی کے عہد میں بندھا ہوا ہے۔ تو جہاں تہاں بھی بندگی اور اطاعت کا یہ عہد ٹوٹتا ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہیں فسق کا ارتکاب شروع ہوجاتا ہے۔ مزید فرمایا کہ فاسق وہ لوگ ہیں کہ وہ ہر اس رشتے کو کاٹتے ہیں، جسے جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس مختصر سے جملے میں اس قدر وسعت ہے کہ انسانی تمدن واخلاق کی پوری دنیا پر جو دو آدمیوں کے تعلق سے لے کر عالمگیر بین الاقوامی تعلقات تک پھیلی ہوئی ہے، صرف یہی ایک جملہ حاوی ہے۔ ان میں سے ہر تعلق ٹوٹنے سے انسان کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کے قیام و استحکام پر زد پڑتی ہے اور ان کے ٹوٹنے کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے۔
تصور کیجئے ! میاں بیوی کے تمام تر تعلقات کا دارومدار اس عہد کی پابندی پر ہے جو نکاح کی صورت میں دونوں نے ایک دوسرے سے باندھا ہے۔ پھر اولاد کا وجود اور ان کی تعلیم و تربیت کا تمام تر دارومدار اس بات پر ہے کہ ماں باپ اپنے عہد و پیمان کی پابندی کرتے ہوئے اولاد کی ذمہ داریوں کا بوجھ کہاں تک اٹھاتے ہیں، اسی پر گھر کی سلامتی کا دارومدار ہے۔ اور پھر یہ گھر کی سلامتی خاندان کے وجود کی بنیاد بنتی ہے اور خاندان کی مضبوطی آگے چل کر قومی استحکام کی ضمانت دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اسلام نے رحمی رشتوں پر سب سے زیادہ زور دیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے قطع رحمی کو بہت بڑا جرم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ پھر یہیں سے معاشرے کی بنیادپڑتی ہے۔ پھر پورے معاشرے میں معاشرے کا ایک ایک فرد ہمسائیگی اور معاشرت کے عہدوں میں بندھا ہوا ہے۔ بازاروں اور منڈیوں میں کاروبار اور معاشی ہم آہنگی کا دارومدار اس عہد و پیمان پر ہے جو کاروبار کرنے والے ایک دوسرے سے استوار کرتے ہیں۔ سماجی رشتے قومی تعلقات حکومت اور عوام کے باہمی روابط پھر اس سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی تعلقات ان تمام کا دارومدار درجہ بدرجہ ان عہود و مواثیق پر ہے جن کے نتیجے میں یہ تعلقات وجود میں آتے ہیں۔ اور جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ تو اسلامی رشتے کی وجہ سے اللہ اور رسول سے کیے ہوئے عہد میں بندھے ہوئے ہیں۔ جن کی سلامتی پر پوری امت مسلمہ کی قوت اور سلامتی انحصار کرتی ہے۔ جہاں اس میں دراڑیں پڑتی ہیں وہیں سے امت مسلمہ کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔ جو لوگ ان رشتوں میں سے کسی رشتے کو بھی کاٹتے ہیں اور کسی بندھن کو بھی توڑتے ہیں وہ اپنی اس بدعہدی اور بدعملی کے باعث زمین میں فساد کا راستہ کھولتے ہیں۔ پھر جیسے جیسے یہ عہد ٹوٹتے جاتے ہیں ویسے ویسے یہ زمین فساد سے بھرتی جاتی ہے۔ اور یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ جس معاشرے میں فساد پھیل جائے اس کی قومی بنیادیں استوار نہیں رہتیں۔ ایک ایک کرکے ادارے ٹوٹنے لگتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انسانی اقدار بھی دم توڑجاتی ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ ہر سو نامرادی اور ناکامی اپنا تسلط جما لیتی ہے۔ اسی لیے یہاں ارشاد فرمایا گیا : اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْن۔ (یہی لوگ ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں)
Ayahs 2:28–29کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَا کُمْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّافِیْ الْاَرْضِ جَمِیْعًاق ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ فَسَوّٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍط وَھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔
(البقرۃ : 28 تا 29)
(تم اللہ کا کس طرح انکار کرتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے، تو اس نے تم کو زندہ کیا۔ پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے، پھر آسمان کی طرف توجہ کی اور سات آسمان استوار کردئیے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے )
عقیدہ آخرت پر اماتت واحیا سے استدلال
زیرِ بحث رکوع میں پہلے عقیدئہ توحید کو دلائل کے ساتھ بیان فرمایا، اس کے بعد عقیدئہ رسالت کو اعجازِ قرآن کی دلیل کے ساتھ مؤکد کیا۔ لیکن دونوں جگہ توحید و رسالت کا نام لیے بغیردلائل کے انداز اور دلائل کی زبان سے ان عقیدوں کی طرف متوجہ کیا گیا۔ اب پیش نظر آیات کریمہ میں قیامت اور آخرت کے عقیدے کو بیان کیا جارہا ہے۔ لیکن یہاں بھی قیامت اور آخرت کا نام مذکور نہیں لیکن دلیل کی زبان بول رہی ہے کہ قیامت ثابت کی جارہی ہے اور مزید قابل توجہ بات یہ ہے کہ قیامت کے انکار کو اللہ کا انکار قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح رسالت کا انکار رسول اللہ ﷺ کا انکار ہے اور جس طرح توحید کا انکار اللہ کا انکار ہے اسی طرح قیامت کا انکار بھی اللہ کا انکار ہے کیونکہ قیامت کا انکار نتیجہ ہے اللہ کی چند بنیادی صفات کے انکار کا۔ جو آدمی اللہ کے بارے میں اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ زندگی اور موت اسی کے قبضے میں ہے وہی محیٖ بھی ہے اور ممیت بھی ہے۔ وہ کبھی اس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اللہ ایک دفعہ تو زندہ کرسکتا ہے دوبارہ نہیں کرسکتا اور پھر اگر دوبارہ زندہ کردے تو زندگی کو دوام نہیں دے سکتا۔ اسی طرح جو آدمی اللہ کی قدرت کاملہ کو تسلیم کرتا ہے اور وہ مانتا ہے کہ وہی قادر مطلق ہے تو وہ کبھی اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ کبھی ایک ایسا دن بھی آئیگا جب تمام دنیا تباہ کردی جائے گی اور پھر کبھی ایسا دن آئے گا جب تمام جن وانس دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور اللہ کی عدالت میں پیش ہوں گے کیونکہ اللہ کے قادر مطلق ہونے کا تو مفہوم ہی یہ ہے کہ وہ جب چاہے کائنات کو بسادے اور جب چاہے اس کی بساط لپیٹ دے اور جب چاہے اسے دوبارہ زندہ کردے اور پھر اس زندگی کو دوام دے دے۔ اسی طرح جو آدمی اللہ کی صفت عدل کو تسلیم کرتا ہے وہ کبھی اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب اللہ تعالیٰ کی صفت عدل پوری طرح ظہور پذیر ہوگی۔ شہنشاہ اور بادشاہ بھی، عالمگیر اور عالم پناہ بھی، انبیاء اور اولیاء بھی، امراء اور علماء بھی، مزدور اور گدا بھی سب اپنے اپنے نامہ اعمال لیے اپنے اللہ کے سامنے جواب دہی کے لیے کھڑے ہوں گے۔ وہ نیکیوں پر اجر دے گا، برائیوں پر سزا دے گا۔ ظالموں سے ظلم کا حساب لے گا۔ مظلوموں اور بےنوائوں کو حق دلایاجائے گا۔ جنھیں دنیا میں ظلم سے نجات نہ ملی اور وہ اپنی بےکسی کے باعث اپنا بدلہ نہ لے سکے اندھی گولی کے مقتول کے وارث قاتل کو نہ پکڑسکے اور قانون کی نگاہ بھی وہاں تک نہ پہنچ سکی اور اگر کبھی کوئی بڑا مجرم پکڑا گیا تو عدالت اس کی قوت کے سامنے سرنگوں ہوگئی اگر کسی نے سینکڑوں اور ہزاروں قتل کیے تو اولاً قانون اسے پکڑ نہ سکا اور اگر پکڑا بھی گیا تو ایک قتل کے بدلے میں اس کی گردن کٹ گئی۔ لیکن باقی سب مقتولوں کا خون رائیگاں گیا۔ لیکن قیامت کے دن ان سب سے حق دلایاجائے گا۔ ہزاروں کے قاتل کو ہزاروں بار قتل کی سزا سے گزرنا ہوگا ہر مجرم اپنے جرم کی نوعیت اور وسعت کے مطابق سز اپائے گا۔ اگر ایسا دن جہاں ہر ایک کو اس کا بدلہ ملے وجود میں نہیں آسکتا تو پھر اللہ کی صفت عدل کا ظہور کب ہوگا۔ ایسا دن چونکہ قیامت ہی ہوگا اس لیے اگر قیامت کا انکار کردیا جائے تو اللہ کی صفت عدل کا انکار کرنا پڑیگا۔ اس لیے یہاں قیامت کے انکار کو کفر قرار دیا گیا کیونکہ قیامت کا انکار مستلزم ہے اللہ کی بنیادی صفات کے انکار کو اور اللہ کی بنیادی صفات کا انکار چونکہ کفر ہے اس لیے قیامت کا انکار بھی کفر ہے۔ چناچہ انھیں باتوں کو اس آیت کریمہ میں دلیل کے طور پر پیش فرمایا کہ تم اللہ کا، یعنی قیامت کا کیسے انکار کرتے ہو ؟ کہ یہ بات تمہیں تسلیم ہے کہ تم حالت عدم میں تھے تمہارا دنیا میں کوئی وجود نہ تھا اللہ نے تمہیں پید اکرکے زندگی بخشی کہ تم کتم عدم سے وجود میں آگئے اور پھر تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ تمہارے سامنے جنازے اٹھتے ہیں اسی طرح ایک دن تمہارا جنازہ اٹھے گا اور تم بھی موت کا شکار ہوجاؤ گے۔ کتنی قومیں صفحہ ہستی پر طلوع ہوئیں اور پھر غروب ہوگئیں زندگی اور موت کا یہ کھیل ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے تمہیں بھی انکار نہیں۔ تو عجیب بات ہے کہ تم قیامت کی صورت میں ایک ہمہ گیر تباہی اور موت کا کیسے انکار کرتے ہو ؟ جو پروردگار اب لوگوں کو موت دے رہا ہے وہ سب کو یکبارگی کیوں نہیں دے سکتا اور پھر اگر وہ ہمہ گیر موت دینے کے بعد دوبارہ پھر سب کو زندہ کردے تو اس سے تمہیں انکار کیوں ؟ آج پوری دنیا میں جو لوگ زندہ ہیں یہ پچاس، سو سال پہلے نہیں تھے اور مزید اتنے سالوں کے بعد جو اب ہیں وہ بھی نہیں ہوں گے اور ان کی جگہ نئے لے چکے ہوں گے۔ جو پروردگار آج اس موت وحیات پر قادر ہے آخر وہ دوبارہ زندہ کرنے پر قادر کیوں نہیں ؟
دوسری آیت کریمہ میں امکانِ قیامت کے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے اشارہ کیا جارہا ہے کہ قیامت کا آنا ممکن ہی نہیں ضروری بھی ہے۔ کیونکہ اللہ کی ذات جس طرح عادل و قادر ہے، حکیم بھی تو ہے۔ اور کوئی حکمت والی ذات کبھی کوئی کام بےمقصد تو نہیں کیا کرتی۔ تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونے کی طرح بچھادیا اور اسی کے اندر اس نے تمہارے لیے غذا کے خزانے رکھے اور اس زمین کی تمام نعمتوں کو تمہارے لیے یا غذا بنایا یا ابتلا بنایا پھر تمہیں ذوق تسخیر دے کر زمین کی ہر مشکل نعمت کو مسخر کرنے کی اجازت دے دی اور حلال و حرام کی تعلیم دے کر اس سے متمتع ہونے کا حق دے دیا۔ مزید یہ کہ تمہارے سروں پر آسمان کی چھت تانی اور آسمان کو جس طرح قندیلوں سے روشن کیا اسی طرح اسے سات آسمانوں میں تقسیم کردیا۔ اس کا مفہوم تو ہم نہیں سمجھتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ آسمان کی طرف سے بیشمار نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں اور ہمارے ذوق تسخیر کو انگیخت بھی کررہی ہیں۔ ذرا اندازہ کیجئے ! پروردگار نے جو اتنا بڑا خوان کرم ہمارے لیے بچھایا ہے اور ہمیں جو قدم قدم پر اپنے احسانات سے گراں بار کیا ہے تو کیا ہماری زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہوگا ؟ زمین پر اگر گھاس کی کوئی پتی بھی پھوٹتی ہے تو اس کا بھی کوئی مقصد ہے تو اس کائنات کے گل سرسبد انسان کا کوئی مقصد نہ ہو اس سے زیادہ احمقانہ بات اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے پروردگار نے ارشاد فرمایا : أَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰـکُمْ عَبَثاً وَاَنَّـکُمْ اِلَینَا لاتُرْجَعُوْنَ ” کیا تم نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ہم نے تمہیں عبث (بےمقصد) پیدا کیا ہے کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے۔ “ یعنی ہم نے تمہیں بےمقصد پیدا نہیں کیا تمہار ایک مقصد ہے جو ہم اپنے انبیاء کرام کے ذریعے تمہیں پہنچا رہے ہیں اور اسی کا حساب لینے کے لیے ایک دن تم ہمارے پاس لائے جاؤ گے۔ تمہار اشائد گمان یہ ہے کہ اگر تم ہمارے پاس لائے بھی گئے تو تمہارے اعمال کی تفصیلات سے ہم شائد بیخبر ہوں گے۔ ایسا نہیں ہم تو ہر چیز کے جاننے والے ہیں تمہارا کوئی عمل اور تمہاری کوئی بات ہمارے علم سے باہر نہیں۔ اس لیے قیامت آئے گی اور تمہیں اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔