2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:57

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

اور تم پر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارے، کھائو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو بخشی ہیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰیط کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰکُمْ ط وَمَاظَلَمُوْنَا وَلٰکِنْ کَانُوْٓ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 57) (اور تم پر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارے، کھائو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو بخشی ہیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے) اللہ کے احسانات ہم پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ بحر قلزم عبور کرنے کے بعد بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سیناکے مختلف علاقوں میں قیام پذیر ہوئے۔ یہ لوگ بےسروسامانی میں گھر سے نکلے تھے۔ کوئی خیمہ ڈیرہ ساتھ نہ تھا۔ ہوتابھی تو کب تک کام دیتا اور اس صحرا میں کوئی سر چھپانے کو جگہ نہ تھی۔ ایسی صورت حال میں جہاں غذا کا حصول ان کی بہت بڑی ضرورت تھی، اس سے بھی بڑی ضرورت دھوپ کی تپش اور موسم کی شدت سے بچائو کا سامان کرنا تھا اور یہ کوئی آسان بات نہ تھی۔ آج جب کہ وسائل کے اعتبار سے دنیا بہت ترقی کرچکی ہے، تب بھی اگر کسی ملک میں چند ہزار مہاجرین کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے تو ساری دنیا میں اپیلیں ہونے لگتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ تک حرکت میں آجاتی ہے۔ لیکن بنی اسرائیل کے پاس تو وسائل نام کی کوئی چیزنہ تھی اور ان کی تعداد بھی لاکھوں میں کہی جاتی ہے۔ ان حالات میں ان کے سروں پر بادل کا چھاجانا اور سفر میں بھی بادل کا ساتھ ساتھ چلنا اور تورات کے مطابق رات کو ان کے ساتھ ساتھ روشنی کے ستون کا رہنا اور پھر غذا کے لیے من وسلویٰ کا مہیا ہونا۔ یہ اللہ کا اتنا بڑا انعام ہے کہ انسانی حکومتیں اپنے تمام تر وسائل کے باوجود اس کا تصور بھی نہیں کرسکتیں۔ اللہ نے ان پر بادل کا سایہ کرکے ان کو موسم کی شدت سے بچایا۔ ورنہ یہ لوگ دھوپ کی تپش سے جل جاتے اور غذا کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے من وسلوٰی کا انتظام کیا۔ من وسلویٰ کی تحقیق انکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ترنجبین یادھنیے کے دانوں کی طرح شبنم کی صورت ایک چیز گرتی تھی، جو درختوں کے پتوں یا زمین پر جم جاتی اور خشک ہوکردانوں کی شکل اختیار کرلیتی اور بنی اسرائیل نہایت آسانی سے اسے اکٹھی کرکے چپاتیاں بنالیتے اور یہ مزے میں اس قدر میٹھی اور ایسی لذیذ تھی کہ شاید کوئی دوسری میٹھی چیز ایسی لذیذ نہ ہو اور سلویٰ بٹیر یا بٹیر کی طرح کا ایک پرندہ تھا، جو سمندر کی طرف سے اڑ کر آتا اور اتنا قریب اڑتا اور اتنی مختصر سی اڑان بھرتا کہ آدمی ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑ لیتا اس سے ان کی گوشت کی ضرورت پوری کی گئی۔ ” من “ کو یہود نے استفہام کی شکل دے دی اور یہ کہا کہ اس کا نام اس لیے من پڑا کہ لوگوں نے جب پہلے پہل اس کو زمین پر پھیلے ہوئے دیکھاتو ایک دوسرے سے کہا من من کہ یہ کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سراسر ان کی بدمذاقی کی دلیل ہے۔ عربی زبان میں من اور شاید عبرانی میں بھی ” احسان “ کے معنوں میں آتا ہے۔ یہ چونکہ اللہ کا بہت بڑا احسان تھا اس لیے اس کو من کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ اسی طرح سلویٰ ” ہمدردی اور خیرخواہی “ کو کہتے ہیں۔ یہ گویا کہ خیرخواہی کا عمل تھا جو اللہ تعالیٰ کے کرم سے ظہور میں آیا۔ یہ نعمتیں دے کر ان سے کہا گیا یا ان نعمتوں کی کثرت زبان حال سے کہہ رہی تھی کہ اللہ نے یہ جو نعمتیں تمہیں عطا کی ہیں انھیں شوق سے کھائو۔ یہ تمہارے لیے پاکیزہ ہیں ان سے تمہارے دل و دماغ میں پاکیزگی پیدا ہوگی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے ساتھ یہ احساس ہمیشہ توانا رہے کہ یہ اللہ نے تمہیں عطا کی ہیں اور تورات میں بتایا گیا ہے کہ یہ بھی ان سے کہا گیا تھا کہ یہ اللہ کی نعمتیں جو تمہیں بغیر محنت کے ملی ہیں انھیں ذخیرہ کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ جو اللہ آج نعمت دیتا ہے وہ کل بھی دے گا۔ ذخیرہ کرنا بےاعتمادی کے مترادف ہے کہ آج تو یہ نعمت مل گئی ہے، ہوسکتا ہے کل نہ ملے۔ لیکن بنی اسرائیل ذخیرہ اندوزی سے باز نہ آئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ نعمتیں سڑنے لگیں اس کے بعد بجائے انھیں خطاب کرنے کے پروردگار نے ان سے منہ پھیر کر یہ بات فرمائی کہ ہم تو ان پر انعامات کی بارش کرتے رہے لیکن وہ ایسے احسان ناشناس تھے بجائے احسانات کا حق ادا کرنے کے انھوں نے ہمیشہ احسان فراموشی، حق تلفی، حق شکنی اور ظلم کارویہ اختیار کیا۔ جس کے نتیجے میں مختلف مصائب کا شکار ہوئے جو ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ تھا۔ ہم ان پر ظلم کرنے والے نہیں تھے وہ خود اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔
Ayahs 2:58–59

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:58 in the Quran reader

اور یاد کرو ! جب ہم نے کہا کہ داخل ہوجائو اس بستی میں، پس کھائو اس سے جہاں سے چاہوفراغت کے ساتھ، اور داخل ہو بستی کے دروازے میں سر جھکائے ہوئے اور کہتے جائو حِطَّۃٌ حِطَّۃٌ ہم تمہاری خطائوں سے درگزر کریں گے اور خوب کاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

تو ظالموں نے بدل دیا اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی دوسری بات سے۔ پس ہم نے اتارا ان لوگوں پر جنھوں نے ظلم کیا تھا آسمان سے عذاب، یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی جو وہ کررہے تھے)

وَاِذ قُلْنَا ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوْا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْط وَسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَالَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ (البقرۃ : 58 تا 59) (اور یاد کرو ! جب ہم نے کہا کہ داخل ہوجاؤ اس بستی میں، پس کھائو اس سے جہاں سے چاہو، فراغت کے ساتھ اور داخل ہو بستی کے دروازے میں سر جھکائے ہوئے اور کہتے جاؤ حِطَّۃٌ حِطَّۃٌ ہم تمہاری خطائوں سے درگزر کریں گے اور خوب کاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے۔ تو ظالموں نے بدل دیا اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی دوسری بات سے۔ پس ہم نے اتارا ان لوگوں پر جنھوں نے ظلم کیا تھا آسمان سے عذاب، یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی جو وہ کررہے تھے) گزشتہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی اور معجزانہ طریقے سے ان کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ تم پر اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں جن کا تقاضا یہ ہے کہ جب اپنی غذائی ضرورت کو پورا کرنے اور لذت کام ودہن کے لیے ان نعمتوں سے استفادہ کرو تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا اور اس کے احکام کی بجاآوری کو کبھی نہ بھولنا کیونکہ صحرائی زندگی میں تمہیں کسی سزا دینے کے لیے نہیں لایا گیا اور نہ یہ نعمتیں عیش و عشرت کے لیے دی جارہی ہیں، یقینا اس قومی انقلاب کے پیچھے ایک روحانی اور بامقصد انقلاب ہے جس کے لیے تمہیں تیار کیا جارہا ہے۔ اس لیے وہ مقصدی زندگی ہمیشہ تمہارے پیش نظر رہنی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بتادیا کہ بنی اسرائیل نے آئندہ حالات میں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری کا رویہ اختیار کیا اور اللہ کے احکام کی اطاعت اور بجاآوری کی بجائے انکار اور معصیت کو اپنا طرز عمل بنالیا۔ چناچہ یہ آیت کریمہ ان کے اسی طرز عمل کی وضاحت کررہی ہے۔ اس میں ایک تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے جس میں بنی اسرائیل اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہوئے اور پھر اسی سلسلے میں ان پر اللہ کا عذاب بھی آیا۔ اس واقعہ کی تفصیلات تو ذکر نہیں فرمائی گئیں کہ یہ واقعہ کہاں اور کیسے پیش آیا لیکن بین السطور سے یہ بات ضرور جھلکتی ہے کہ وہ یقینا کوئی شہر ہوگا جسے بنی اسرائیل فتح کرچکے تھے اور یا اس کی فتح یقینی ہوگئی تھی۔ اب صرف بنی اسرائیل کو اس میں داخل ہونے اور قابض ہونے کے آداب سکھائے جارہے تھے۔ الْقَرْیَۃَ کا مفہوم اور اس کا مصداق اس شہر کے لیے اس آیت میں الْقَرْیَۃَ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ قَرْیَۃَ کا معنی ” جمع ہونے کی جگہ “ کے ہیں۔ جمع ہونے کی جگہ چھوٹی بھی ہوسکتی ہے اور بڑی بھی اس لیے اس لفظ کا اطلاق چھوٹی بستی پر بھی ہوتا ہے اور بڑے شہر پر بھی۔ اسلوبِ کلام بتارہا ہے کہ وہ یقینا کوئی بڑا شہر تھا ورنہ تاریخی اعتبار سے وہ قابل ذکر نہ ہوتا۔ اب رہی یہ بات کہ وہ شہر کون سا تھا یہ بات ابھی تک تحقیق نہیں ہوسکی محض اندازے ہیں جن میں سے کوئی اندازہ بھی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا۔ البتہ قرائن سے بعض باتیں گمان کی جاسکتی ہیں۔ جس سلسلہ واقعات میں یہ واقعہ ذکر ہورہا ہے، اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے گمان ہوتا ہے کہ یہ شہرجزیرہ نمائے سینا کا ہی کوئی شہر ہوگا۔ لیکن قرآن کریم چونکہ تاریخی ترتیب سے زیادہ عبرت و نصیحت کے پہلو کو اہمیت دیتا ہے اور پھر فَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا کا جملہ اس پر قرینہ ہے کہ یہ شہر ارض فلسطین کا کوئی شہر ہوگا۔ کیونکہ فلسطین ہی ایک ایسا علاقہ ہے جو اپنی سرسبزی اور شادابی میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے اور جس میں ہر طرح کی نعمتوں کی بہتات ہے۔ اس لیے اہل علم نے گمان کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد ” اریحا یا یریحو “ ہو۔ حضرت ابن عباس اور ابن زید کی یہی رائے ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہی شہر ہے جو سب سے پہلے بنی اسرائیل کے قبضے میں آیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ” شطیم “ ہو، جو یریحو کے بالمقابل دریائے اردن کے مشرقی کنارے پر آباد تھا۔ شہر کوئی بھی ہو مقصود شہر کا تذکرہ نہیں بلکہ اس بات کو واضح کرنا ہے کہ کسی شہر کا فتح ہوجانا اور وہ بھی بنی اسرائیل جیسی منفعل قوم کے ہاتھوں اللہ کا ایک بڑا احسان ہے۔ اسی احسان کے شکر کی ادائیگی کے لیے انھیں یہ حکم دیا گیا کہ اب جب تم شہر میں داخل ہو تو تمہارے رویے سے یہ نہیں معلوم ہونا چاہے کہ تم ایک ایسی فاتح قوم ہو جسے اپنی طاقت اور قوت پہ ناز ہے اور جو اپنے آپ کو فرعونِ بےسامان سمجھتے ہیں بلکہ تم شہر میں اس طرح داخل ہو کہ شہر کی فصیل کے دروازے سے جب تم گزرنے لگو تو تمہارے سر اللہ کے حضور عاجزی اور بندگی کے تصور سے جھکے ہوئے ہوں۔ سجداً کا مفہوم سجدہ کے اصل معنی ” سر جھکانے “ کے ہیں۔ اس کی کامل شکل زمین پر سر رکھ دینا ہے۔ لیکن محض جھک جانے کو جس طرح ہم رکوع کہتے ہیں سجدہ بھی کہتے ہیں۔ اس لیے قرین قیاس یہ ہے کہ یہاں صرف عاجزی کے اظہار کے لیے سر جھکانا مراد ہے۔ لیکن اس کی تکمیل اس وقت ہوگی جب یہ لوگ قصر اقتدار میں پہنچ کر لوگوں سے خطاب کریں گے۔ اس وقت انھیں لوگوں کے سامنے آنے سے پہلے اور ان کیساتھ معاملہ کرنے سے قبل اللہ کے حضور نماز ادا کرنی چاہیے۔ تاکہ اس حکم پر پوری طرح عمل ہوجائے۔ آنحضرت ﷺ کا فتح مکہ کے موقع پر جو عمل اور رویہ تاریخ نے ریکارڈ رکھا ہے اس سے یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ اور صحابہ کی پوری فوج اسی طرز عمل کا نمونہ تھی۔ محدثین اور مورخین کا اس بات پرا تفاق ہے کہ حضور جب مکہ میں داخل ہورہے تھے تو آپ کا سر مبارک عاجزی سے اس حد تک جھکا ہوا تھا کہ باربار کجاوے کی اگلی لکڑی سے ٹکرا جاتا تھا اور زبان پر اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی کبریائی کے الفاظ جاری تھے۔ جب آپ کو بتایا گیا کہ حضرت سعد بن عبادہ ( رض) نے جھنڈے کو حرکت دیتے ہوئے ابوسفیان کو سنا کر یہ بات کہی ہے کہ آج کعبہ حلال ہوگا۔ مطلب یہ تھا کہ سرزمینِ حرم میں آج لڑائی ہوگی خون بہے گا اور قریش کو اپنے ظلم اور زیادتی کا خمیازہ بھگتنا ہوگا، تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” ہرگز نہیں ! آج کعبۃ اللہ کی حرمت کا دن ہے اور ساتھ ہی حکم دیا کہ سعد سے علم لے کر ان کے بیٹے کو دے دیاجائے “۔ اسی طرزعمل کا حکم بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا۔ سر جھکاکر داخل ہونے سے جسمانی طور پر اللہ کے شکر کی بجاآوری ہوجاتی ہے۔ لیکن اللہ نے اسے تکمیلی شکل دینے کے لیے زبان کو بھی اس سے ہم آہنگ کردیا اور یہ حکم دیا کہ تم شہر میں داخل ہوتے ہوئے حِطَّۃٌ حِطَّۃٌ کہتے جانا۔ حِطَّۃٌ کی تحقیق حِطَّۃٌ خبر ہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے۔ زمحشری نے لکھا ہے کہ اصل عبارت مَسْئَلَتُنَا حِطَّۃٌ ہے۔ حِطَّۃٌ اصل میں عبرانی کا لفظ ہے، وہیں سے عربی میں آیا۔ عربی میں اس کا معنی ” جھاڑ دینا “ ہے یعنی گناہوں پر جھاڑ دینا۔ عربی اور عبرانی دونوں قریب الماخذ ہیں اس لیے غالب گمان یہ ہے کہ عبرانی میں بھی اس کا یہی معنی ہوگا۔ بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا کہ تم یہ جملہ زبان سے ادا کرتے ہوئے شہر میں داخل ہونا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ! آپ سے ہماری درخواست بخشش اور معافی ہے ہم آپ سے مغفرت چاہتے ہیں۔ ہم سے جو غلطیاں ہوئی ہیں ہم اپنی غلطیوں سے توبہ کرتے ہیں آپ ہماری غلطیوں کو معاف فرمائیں۔ اس لیے توبہ اور استغفار کرتے ہوئے شہر میں داخل ہونادوسرا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم شہر میں داخل ہونے کے بعد شہر کے باشندوں سے درگزر اور معافی کا سلوک کرنا نہ ان کی غلطیوں کی انھیں سزادینا اور نہ ان پر ظلم کرنا اور بہتر یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں ہی اس بات کا مصداق قراردی جائیں۔ آیت کے آخر میں مزید دو باتیں ارشاد فرمائی گئیں کہ اگر تم شہر میں داخل ہوتے ہوئے عاجزی کی تصویر بن کے رہو اور تمہاری زبان پر توبہ اور استغفار کے کلمات ہوں اور تمہارا طرز عمل بھی انھیں باتوں کا عکاس ہو تو ہم تمہیں خوشخبری دیتے ہیں کہ شہر کو فتح کرنے اور پھر اس میں داخل ہونے اور اہل شہر کے ساتھ معاملہ کرنے میں چونکہ سخت انضباطِ نفس کی ضرورت ہے بہت ممکن ہے کہ تم سے غیر شعوری طور پر کو تاہیاں سرزد ہوں یا تمہاری جماعت کے بعض افراد اس اعلیٰ طرز عمل اور کردار کا ثبوت نہ دے سکیں تو ہم تمہاری ان لغزشوں کو معاف کردیں گے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ خوشخبری بھی دیتے ہیں کہ اگر تم نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے کردار کی پاکیزگی اور اللہ کے ساتھ تعلق میں مزید بہتری پیدا کرلی اور اپنی بساط کی حد تک بہتری لانے میں کوشاں رہے تو نہ صرف کہ تمہاری غلطیاں معاف کی جائیں گی بلکہ ہم اپنے فضل و کرم میں اضافہ بھی کریں گے۔ محسنین کے لفظ میں بھی دونوں باتوں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ احسان کا معنی جس طرح دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کرنا ہے اسی طرح اس کا معنی اپنے طرز عمل کو زیادہ سے زیادہ مہذب، پاکیزہ اور خشیت الٰہی سے گراں بار بنانا بھی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم لوگوں کے ساتھ احسانات کروگے اور اپنے آپ کو خشیت الہٰی کا آئنہ دار بنالوگے تو ہم اپنے فضل و کرم میں اس طرح اضافہ کریں گے کہ آج تم نے ایک شہر فتح کیا ہے اس کے بعد مزید فتوحات کا راستہ کھل جائے گا اور تم جب تک اپنے کردار کی خوبیوں اور رعنائیوں کو زندہ رکھو گے اس وقت تک تم اس زمین پر عزت اور سربلندی کے ساتھ زندہ رہو گے۔ فتح مکہ کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ کا طرز عمل ان تمام باتوں کا آئنہ دار ہے۔ آپ اور آپ کے صحابہ استغفار اور ذکر اللہ بھی کرتے رہے اور ساتھ ہی عام معافی کا اعلان بھی کردیا اور جب آپ کے بدترین دشمن بےبس آپ کے سامنے کھڑے تھے تو آپ نے انھیں بجائے سزا دینے کے معاف فرما دیا۔ آپ کے اور صحابہ کرام کے اسی طرز عمل کا نتیجہ تھا کہ پورا جزیرہ عرب دوہی سالوں میں آپ کے سامنے سرنگوں ہوگیا۔ لیکن بنی اسرائیل نے اس حکم کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ دوسری آیت کریمہ میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ انھیں کہا گیا تھا کہ تم اللہ سے بخشش مانگتے ہوئے حِطَّۃٌ حِطَّۃٌ کہتے ہوئے عاجزی سے شہر میں داخل ہونا۔ لیکن جو کچھ ان سے کہا گیا تھا انھوں نے یکسر اسے بدل ڈالا۔ یہ بات پورے وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ انھوں نے حِطَّۃٌ کو کس لفظ سے بدلا۔ مفسرین نے مختلف الفاظ نقل کیے ہیں۔ زیادہ ملتا جلتا لفظ حِنْطَۃٌہے۔ جس کا معنی ہے ” گندم “۔ وہ حِطَّۃٌ کی بجائے حِنْطَۃٌ حِنْطَۃٌ کہتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے یعنی انھوں سے اس لفظ کو ایک ایسے لفظ سے بدلاجس سے اللہ کا حکم مذاق بن کر رہ گیا۔ اس لفظی تبدیلی نے یقینا ان کے طرز عمل میں بھی تبدیلی پیدا کی۔ وہ بجائے اس کے کہ شہر میں ایک ایسے فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتے جو اللہ سے ڈرنے والے اور بندوں کے ساتھ عدل و احسان کا سلوک کرنے والے ہوتے۔ انھوں نے اپنی زبان اور عمل سے یہ ثابت کیا کہ ہم ایسے لوگ ہیں جن پر صرف شکم کی حکومت ہے۔ ہم تو اس شہر کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہونا چاہتے ہیں۔ جب کوئی قوم بندہ شکم ہوجاتی ہے تو پھر اس کی غذائی ضرورتیں تمام حدود پامال کردیتی ہیں۔ ان کی حد سے بڑھی ہوئی خواہشیں ظلم کا راستہ کھولتی ہیں۔ پھر نہ صرف کہ لوٹ کھسوٹ ہوتی ہے بلکہ عفتوں کے فانوس بھی بجھتے ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل نے بھی اہل شہر پر صرف ظلم کے پہاڑ ہی نہیں توڑے بلکہ بائبل کی کی روایت کے مطابق وہاں بڑی بدکاریاں کیں اور موآبی عورتوں کی دل کھول کر عزتیں لوٹیں۔ عیش و عشرت میں اس حد تک اندھے ہوئے کہ اہل شہر کی دعوت پر ان کی مشرکانہ قربانیوں میں بھی شریک ہونے لگے۔ اس پر اللہ نے ان پر ایک سخت وبا بھیجی جس میں ان کے 24, 000 نفوس ہلاک ہوگئے۔ یہی وہ عذاب ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے آسمان سے ان پر عذاب نازل کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عذاب کی نوعیت عام حوادث سے بالکل مختلف نوعیت کی تھی۔ طاعون اللہ کا ایسا ہی عذاب ہے، جو اچانک پھوٹتا ہے اور پھر پھیلتاچلا جاتا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک اور احسانِ عظیم کا ذکر فرمایا ارشاد ہوتا ہے :
Ayah 2:60

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

(اور یاد کرو ! جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی، تو ہم نے کہا کہ فلاں چٹان پر اپنا عصاء مارو، تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر گروہ نے جان لیا اپنے اپنے گھاٹ کو۔ (ہم نے کہا) کھائو اور پیو، اللہ کے رزق میں سے اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔

وَاِذِاسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَط فَا نْفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًاط قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْط کُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰہِ وَلَا تَعْثَوْا فِیْ الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ۔ (البقرۃ : 60) (اور یاد کرو ! جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی، تو ہم نے کہا کہ فلاں چٹان پر اپنا عصاء مارو، تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر گروہ نے جان لیا اپنے اپنے گھاٹ کو۔ (ہم نے کہا) کھائو اور پیو، اللہ کے رزق میں سے اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو) پانی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا حضرتِ موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کو لے کر دشت صین میں پہنچے تو وہاں پانی کا کوئی چشمہ نہ ملا، سخت پریشانی ہوئی۔ کتاب، گنتی، باب 20 تورات میں اسے وضاحت سے بیان کیا گیا ہے ہم وہیں سے اسے نقل کرتے ہیں : (اور پہلے مہینہ میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت دشت صین میں آگئی اور وہ لوگ قادس میں رہنے لگے ...... اور جماعت کے لوگوں کے لیے وہاں پانی نہ ملا۔ سو وہ موسیٰ اور ہارون کے خلاف اکٹھے ہوئے اور لوگ موسیٰ سے جھگڑنے اور یہ کہنے لگے، کاش ہم بھی اس وقت مرجاتے جب ہمارے بھائی خداوند کے حضور مرے۔ تم خداوند کی جماعت کو اس دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہاں مریں اور تم نے کیوں ہم کو مصر سے نکال کر اس بری جگہ پہنچایا ہے۔ یہ تو بونے کی اور انجیروں کی اور تاکوں اور اناروں کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہاں تو پینے کے لیے پانی تک میسر نہیں اور موسیٰ اور ہارون جماعت کے پاس سے جاکر خیمہ اجتماع کے دروازے پر اوندھے منہ گرے۔ تب خداوند کا جلال ان کے اوپر ظاہر ہوا اور خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اس لاٹھی کو لے اور تو اور تیرا بھائی ہارون تم دونوں جماعت کو اکٹھا کرو اور ان کی آنکھوں کے سامنے اس چٹان سے کہو کہ وہ اپنا پانی دے اور تو ان کے لیے چٹان سے ہی پانی نکالنا، یوں جماعت کو اور ان کے چوپایوں کو پلانا۔ چناچہ موسیٰ نے خداوند کے حضور سے اسی کے حکم کے مطابق وہ لاٹھی لی اور موسیٰ اور ہارون نے جماعت کو اس چٹان کے سامنے اکٹھا کیا اور اس نے ان سے کہا، اے باغیو ! کیا ہم تمہارے لیے اس چٹان سے پانی نکالیں۔ تب موسیٰ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اس چٹان پر دوبارہ لاٹھی ماری اور کثرت سے پانی بہہ نکلا اور جماعت نے اور ان کے چوپایوں نے پیا) ہر قبیلے کے لیے الگ الگ گھاٹ تورات کی اس عبارت کو غور سے پڑھئے اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ پانی کی نایابی کے باعث بنی اسرائیل جب نہایت مشکل صورتحال سے دوچار ہوئے تو انھوں نے کس طرح بےصبری کا اظہار کیا اللہ کے دونوں عظیم پیغمبروں کے ساتھ ان کا کیا رویہ رہا وہ بالکل اس بات کو بھول گئے کہ اب تک من وسلویٰ کی صورت میں جو ہماری غذائی ضرورتیں پوری ہورہی ہیں اور موسم کی شدت سے بچنے کے لیے جو ہمارے سروں پر بادلوں کی چھت تان دی گئی ہے۔ وہ سراسر اللہ کا احسان اور پیغمبر کا معجزہ ہے۔ ہماری کسی کوشش کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ آج اگر ہمیں پانی نہیں مل رہا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ غیر معمولی طریقے سے مہیا فرمادیں گے۔ لیکن انھوں نے تمام آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اللہ کے سامنے بےصبری اور اس کے نبیوں کے سامنے گستاخی کارویہ اختیار کیا۔ لیکن اس کے بالکل برعکس ہم حدیبیہ میں دیکھتے ہیں کہ پانی بالکل ختم ہوگیا قریش مکہ شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے، قریب قریب پانی کا کوئی چشمہ نہیں لیکن صحابہ نے بالکل بےصبری نہیں دکھائی، البتہ نہایت ادب و احترام سے آنحضرت ﷺ سے دعا کی درخواست کی آپ نے اللہ سے دعا مانگی اور ساتھ ہی ایک بڑے پیالے میں ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ مشکیزے میں پانی کے جو چند قطرے باقی ہیں اسے میرے ہاتھ پر الٹ دو ۔ جیسے ہی یہ چند قطرے آپ کے ہاتھ پر گرے تو حضور کی پانچوں انگلیوں سے پانچ چشمے پھوٹ پڑے۔ اور ڈیڑھ ہزار انسانوں اور جانوروں کی پانی کی ضرورت پوری کردی گئی۔ بنی اسرائیل کو بھی ان کے رویے کی بدصورتی کے باوجود اللہ نے اپنے کرم سے نوازا اور ایک چٹان سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا مارنے پر بارہ چشمے رواں ہوگئے۔ چونکہ قبیلے بھی بارہ تھے۔ اگر چشموں کی تعداد کم وبیش ہوتی تو یہ لوگ پانی کے حاصل کرنے میں لڑلڑ کر مرجاتے ہر قبیلے کا گھاٹ مقرر کردیا گیا تاکہ کسی قبیلے کا دوسرے قبیلے سے تصادم نہ ہو۔ جس چٹان سے یہ چشمے جاری کیے گئے تھے وہ چٹان اب تک جزیرہ نمائے سینا میں موجود ہے۔ یہ زمین سے تقریباً 15 فٹ بلند ہے۔ سیاح اسے جاکر دیکھتے ہیں ان کی شہادت یہ ہے کہ چشموں کے شگاف اس میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔ چٹان میں ہر چشمہ چٹان کی دونوں جانب سے بہتا تھا۔ اس لیے بارہ چشموں کے چوبیس شگاف تھے۔ ہزاروں سال گزرجانے کے باعث صحرا کی اڑتی ہوئی ریت نے بعض شگافوں کو بند کردیا ہے۔ بعض سیاحوں کی روایت کے مطابق بیس شگاف اب بھی اس میں باقی ہیں۔ نعمت کا حق اتنابڑا انعام کرنے کے بعد فرمایا : کھائو اور پیو اور زمین میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔ جب غذائی ضرورت پورا کرنے کے لیے من وسلویٰ کی نعمت عطا کی گئی تھی تو اس وقت صرف فرمایا کلو امن طیبت مارزقنا کم ” تمہیں جو پاکیزہ نعمتیں عطا کی ہیں ان نعمتوں میں سے کھائو “۔ اب کھانے کی نعمتوں کے ساتھ جب پینے کی نعمت بھی مل گئی اور انسانوں کی غذائی ضرورت پوری ہوگئی تو پھر فرمایا کُلُوْاوَاشْرَبُوْا ” کھائو اور پیو “ کیونکہ کھانے اور پینے دونوں کا سامان ہوچکا، لیکن ساتھ ہی یہ بات یاد رہے کہ جب بھی کسی قوم میں اللہ کی نعمتوں کی فراوانی ہوتی ہے تو عموماً وہ قوم بجائے اللہ کا شکر ادا کرنے کے ظلم اور ناشکری کارویہ اختیار کرتی ہے۔ جس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ فساد کا سب سے بڑا سبب اللہ کے احکام کی اطاعت نہ کرنا ہے۔ لیکن اسی کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں پر ایک مخصوص طبقہ قابض ہوجائے اور دوسرے لوگ اس سے محروم کردئیے جائیں۔ نعمتوں سے یہ محرومی محروم طبقوں میں ایک نہ ایک وقت میں اشتعال پیدا کرتی ہے اور یہ اشتعال جب اجتماعی شکل اختیار کرتا ہے تو لاوے کی صورت ابل پڑتا ہے۔ جس سے خانہ جنگی شروع ہوتی ہے اور اجتماعیت برباد ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے یہاں حکم دیا گیا ہے کہ دیکھنا تم یہ رویہ اختیار نہ کرنا۔ من وسلویٰ کے ساتھ پانی کے چشموں کے رواں ہونے سے غذائی ضرورتیں پوری کردی گئیں اور اس طرح سے صحرا میں بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور نوازشات اس حد تک پہنچ گئیں جس کے بعد حمد وشکر کے سوا کوئی اور رویہ باقی نہیں رہنا چاہیے۔ بنی اسرائیل کے لیے لازمی تھا کہ ان بنیادی ضرورتوں کے مل جانے کے بعد وہ مقصدی زندگی کی طرف توجہ دیتے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کہ ہمیں مصر سے نکال کر اس صحرا میں آخر کیوں بسایا گیا ہے۔ ہمیں غلامی سے نجات دے کر آزادانہ زندگی آخر کیوں عطا کی گئی ؟ لیکن انھوں نے بجائے ان باتوں پر غور کرنے کے جو طرز عمل اختیار کیا اس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں کیا جارہا ہے۔
Ayah 2:61

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور یاد کرو ! جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ! ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہیں کرسکتے اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ ہمارے لیے ان نعمتوں میں سے نکالے جو زمین اگاتی ہے، یعنی اس کی سبزیاں، ککڑیاں، لہسن، مسور اور پیاز، کہا گیا بہتر چیز کی بجائے تم ادنیٰ درجے کی چیزیں لینا چاہتے ہو۔ کسی شہر میں جابسو، تو وہ چیز تمہیں مل جائے گی جو تم نے طلب کی ہے، اور ذلت اور پست ہمتی ان پر مسلط کردی گئی۔ وہ اللہ کا غضب لے کرلوٹے، یہ اس سبب سے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ یہ نتیجہ تھا ان کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ وہ حدود شرع سے نکل نکل جاتے تھے )

وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ مِنْ بَقْلِھَا وَقِثَّآئِھَا وَفُوْمِھَا وَعَدَسِھَا وَبَصَلِھَاط قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ ھُوَاَدْنٰی بِالَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌط اِھْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَکُمْ مَّاسَاَلْتُمْط وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَبَآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِطذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْاوَّکَانُوْایَعْتَدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 61) (اور یاد کرو ! جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ! ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہیں کرسکتے اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ ہمارے لیے ان نعمتوں میں سے نکالے جو زمین اگاتی ہے۔ یعنی اس کی سبزیاں، ککڑیاں، لہسن، مسور اور پیاز۔ کہا کیا بہتر چیز کی بجائے تم ادنیٰ درجے کی چیزیں لینا چاہتے ہو۔ کسی شہر میں جابسو، تو وہ چیز تمہیں مل جائے گی جو تم نے طلب کی ہے۔ اور ذلت اور پست ہمتی ان پر مسلط کردی گئی۔ وہ اللہ کا غضب لے کرلوٹے، یہ اس سبب سے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ یہ نتیجہ تھا ان کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ حدود شرع سے نکل نکل جاتے تھے) چند مشکل الفاظ کی تشریح آیت کی تشریح سے پہلے چند الفاظ کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ آیت میں ” بقل “ کا لفظ آیا ہے۔ یہ کسی خاص سبزی کا نام نہیں بلکہ اس لفظ کا اطلاق تمام سبزیوں اور ترکاریوں کی تمام اقسام پر ہوتا ہے۔ اسی طرح اس میں لفظ استعمال ہوا ہے ” فوم “۔ اس کا معنی لہسن بھی کیا جاتا ہے اور گندم بھی۔ اس لیے مختلف اہل علم نے ان میں سے کوئی ایک معنی مراد لیا ہے۔ اس آیت میں ایک لفظ آیا ہے ” مصرا “۔ اس سے مراد ملک مصر نہیں بلکہ کوئی عام شہر مراد ہے۔ کیونکہ مصر ” شہر “ کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔ جہاں بھی قرآن پاک میں یہ لفظ ملک مصر کے لیے استعمال ہوا ہے غیر منصرف استعمال ہوا ہے جس پر تنوین نہیں آیا کرتی اور یہاں یہ منصرف صورت میں آیا ہے اس لیے اس سے کوئی سا بھی شہر مراد ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اس آیت کریمہ میں ادنیٰ کا لفظ آیا ہے۔ یہ دناءت سے ہے۔ جس کا معنی ہوتا ہے ” گھٹیا “ جو خیرکا متضاد ہے۔ ادنیٰ اور خیر سے کیا مراد ہے اور تقابل کن دو چیزوں میں ہے اس آیت کریمہ کو گہرے غور وفکر سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آیت کے الفاظ سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل من وسلویٰ کی صورت میں ایک ہی طرح کی غذا کھاتے کھاتے تنگ آگئے تھے اور انھوں نے ان متنوع غذائوں کا مطالبہ کیا جنھیں کھانے کے وہ عادی تھے۔ اس پر پروردگار نے انھیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں من وسلویٰ کی صورت میں اعلیٰ ترین غذا سے نوازا جارہا ہے جو دنیا میں کسی اور کو میسر نہیں۔ لیکن تم ایسے نالائق ہو کہ تم اعلیٰ غذا کو چھوڑ کر غلے اور ترکاریوں سے متعلق غذائوں کی خواہش کررہے ہو۔ کہاں من وسلویٰ اور کہاں یہ زمین سے اگنے والی معمولی غذائیں۔ حالانکہ اگر یہی بات ہوتی تو کوئی منصف مزاج شخص بھی اس مطالبے کو ناروا کہنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔ کیونکہ بہتر سے بہتر غذا بھی آدمی ہمیشہ نہیں کھا سکتا۔ چند ہی دنوں کے بعد ایک طرح کی غذا سے طبیعت اکتاجاتی ہے۔ ہم لوگ عید قربان کے موقع پر گوشت جیسی اعلیٰ غذا سے نوازے جاتے ہیں۔ لیکن عید کے تین دن گزارنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ لوگ ان تین ہی دنوں میں گوشت سے تنگ آجاتے ہیں اور دوسری چیزیں ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ انسان کی فطرت اور طبیعت کا یہ انداز بھی اللہ ہی کی تخلیق ہے۔ اس لیے اس طرح کی خواہش پر انسان انسانوں کو ملامت نہیں کرتے چہ جائیکہ انسانوں کا خالق کسی فطری مطالبے پر نہ صرف ملامت کرے بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے اسے درس عبرت بنادے۔ حقیقت یقینا اس سے مختلف ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جس سے انسانی جسم کی بقا کا تعلق ہے اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا تعلق انسان کی روح، انسان کے اخلاق اور اگر وہ انسانوں کا گروہ اللہ کی جانب سے حامل دعوت امت بنادیا گیا ہے تو اس کی بقا، عزت وسربلندی اور اولوالعزمی کا تعلق ہے پہلے طرح کی چیزوں کو انسانی ضروریات کہتے ہیں اور دوسری طرح کی چیزوں کو انسانی مقاصد۔ اگر تو مقاصد کے ساتھ ساتھ انسانی ضرورتیں میسر رہیں تو دونوں کا ساتھ لے کر چلنا انسان کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اگر ایسا ہوجائے کہ انسانی ضرورت تکلف کے درجے میں پہنچ جائے اور یا بڑھتے بڑھتے تعیش میں داخل ہوجائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی مقاصد کو نقصان پہنچتا ہے اور پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب انسانی ضرورتیں مقاصد کی جگہ لے لیتی ہیں۔ پھر ارادے دم توڑنے لگتے ہیں، ولولوں کی موت واقع ہوجاتی ہے، خطرات سے کھیلنا ایک ڈرائونا خواب بن جاتا ہے، زندگی انسانوں کو گزارنے لگتی ہے۔ انسان زندگی کی کشمکش سے عاری ہوجاتے ہیں۔ ٹھیک یہی وقت ہوتا ہے جب دوسری قومیں ایسی قوم پر چڑھ دوڑتی ہیں اور اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیتی ہیں۔ یہ قوم بلند ہمتی، بلند عزمی اور اجتماعی زندگی سے تو پہلے ہی محروم ہوچکی ہوتی ہے اب اس کے سامنے اس کے سوا کوئی ہدف نہیں ہوتا کہ وہ باربرداری کے جانوروں کی طرح فاتح قوم کی ذلیل سے ذلیل خدمات کے لیے اپنی گردنیں جھکادے اور اپنی بقا کے لیے فاتح قوم کے ہاتھوں غذا کے جو نوالے ملتے رہیں اسی پر اکتفا کرکے بیٹھ جائے۔ چناچہ یہ چند نوالے ہی اس کے لیے زندگی کا محبوب مقصد بن جاتے ہیں۔ زمین سے اگنے والی ترکاریاں اور زمین سے اگنے والا غلہ ان خاک بازوں کا مطمح نظربن جاتا ہے۔ بنی اسرائیل فرعونیوں کی غلامی کا شکار ہو کر ایسی ہی پست ہمت قوم بن چکی تھی، جس کے سامنے کوئی بڑا مقصد نہ تھا۔ زمین پر خدمت بجا لانے والے جانوروں کی طرح انھیں صرف پیٹ بھر کر چارہ ملنا چاہیے۔ اس کے لیے انھیں کیسی ہی ذلت برداشت کرنا پڑے وہ اس کے لیے تیار تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے اندر جب زندگی کا صور پھونکنا چاہا تو آپ نے محسوس کیا کہ غلامی نے ان کے اندر وہ چیز نہیں رہنے دی جو زندگی کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ چناچہ انھوں نے سب سے پہلے انھیں غلامی سے نجات دلائی اور صحرائے سینا کی آزاد فضا میں انھیں آزادی کا درس دینا شروع کیا۔ یہاں وہ حقیقی کشمکش شروع ہوئی جس کی طرف اس آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انھیں ایک ایسی زندہ قوم میں تبدیل کرنا چاہتے تھے، جن کے لیے زندگی کی سختیاں زندگی کے لیے سامانِ سفر کی حیثیت رکھتی ہوں، جو کم سے کم کھانے پینے کو اپنے لیے کافی سمجھتی ہو۔ ان کو حقیقی لذت مہمات کے سرانجام دینے میں ملتی ہو وہ اللہ کی رضا کے لیے بڑے سے بڑے خطرے سے کھیلنا بھی اپنے لیے محبوب مشغلہ سمجھتی ہو۔ وہ جانتی ہو کہ مجھے اللہ نے کھانے پینے کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی اور اس زمین کو اس کی نافرمانی سے پاک کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔ اس لیے مجھے اس حقیقی مقصد کو لے کر آگے بڑھنا ہے میری حقیقی لذت پلٹنے جھپٹنے میں ہے۔ پر عیش زندگی میں نہیں۔ میں نے ایک شاہین کی طرح اس خاکدان سے کنارہ کرلیا ہے جہاں رزق صرف آب ودانہ کا نام ہے۔ میرے سامنے وسیع اہداف ہیں، وسیع منزلیں ہیں، میری ہر منزل آبلہ پائی کا تقاضا کرتی ہے۔ مجھے ایک سپاہی کی طرح اپنی ہمت کے گھوڑے پر بھروسہ ہونا چاہیے۔ میرا کم سے کم سامانِ رسد میری کامیابی کی ضمانت ہے۔ میری امیدیں قلیل اور میرے مقاصد جلیل ہیں۔ مجھے ہر وقت مقاصد کی فکر کے لیے فکر مند اور مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم رہنا ہے۔ ایسے گروہ، ایسی قوم اور ایسی امت کے لیے ظاہر ہے کھیتی باڑی، کاروبار، اور زندگی کے ایسے ہی دیگر مشاغل کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اس لیے جب بنی اسرائیل نے زمین سے اگنے والی نعمتوں کا تقاضا کیا تو یہ تقاضا بجائے خود مکروہ نہیں تھا، لیکن اس میں اصل کراہت اور ہلاکت کی بات یہ تھی کہ یہ اصل میں شاہینوں کو بلند پروازی سے ہٹاکر خاک بازی پہ ڈالنے والی بات تھی اور یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ تم آزادی کی جس نعمت سے ہمیں بہرہ ور کرنا چاہتے ہو اور تم نے ہماری زندگی کے لیے جو نیا اسلوب تجویز کیا ہے ہمیں وہ ہرگز منظور نہیں۔ ہم ایسی روکھی پھیکی غذا جو آسانی کے ساتھ ہمیں مل رہی ہے پر قانع نہیں رہ سکتے۔ ہمیں تو پر تعیش زندگی چاہیے چاہے اس کے لیے غلامی کی ذلت ہی کیوں نہ قبول کرنی پڑے۔ یہاں انہی دونوں باتوں میں تقابل کیا جارہا ہے کہ مسلسل غلامی نے تمہیں قوت امتیاز سے بھی محروم کردیا ہے تم صرف کھانے پینے کی چیزوں کو تو جانتے ہو لیکن تمہیں یہ معلوم نہیں کہ آزادی اور غلامی میں کیا فرق ہے ؟ تم چٹخاروں کے ایسے رسیا ہوگئے ہو کہ تم فرعون کی غلامی میں رہ کر پیٹ بھر کر کھانے کو پسند کرتے ہو۔ لیکن اگر تمہیں یہ چیزیں میسر نہ آئیں تو تمہارے نزدیک اس آزادی کی بھی کوئی قدروقیمت نہیں جس میں اللہ کے سوا کسی کی کوئی حکومت نہیں۔ حالانکہ ہاتف غیبی یہ پکارتا سنائی دیتا ہے ؎ سنو اے ساکنانِ ارضِ ہستی، ندا یہ آرہی ہے آسمان سے کہ آزادی کا اک لمحہ ہے بہتر غلامی کی حیات جاوداں سے یہ حادثہ صرف بنی اسرئیل کا نہیں تاریخ عالم ایسے حوادث سے بھرپور ہے۔ جب بھی قومیں دل کی بجائے پیٹ کی بات سننے لگتی ہیں اور مقاصد سے تہی دامن ہو کر ضروریاتِ زندگی کو مقاصد بنالیتی ہیں تو پھر ان کی تہذیب اور ان کا تمدن ان کی معنوی، روحانی اور فتوحاتی زندگی کا آئینہ دار نہیں ہوتے بلکہ مطعومات ومشروبات اور ملبوسات میں حد سے بڑھے ہوئے تنوع اور زندگی کے طور اطوار میں تکلفات اور تعیشات کے عکاس ہوتے ہیں۔ بےضرورت بڑی سے بڑی عمارتوں کا اٹھانا، انسانوں کو طبقات میں تقسیم کرنا، اور ایک اعلیٰ کلاس کو ملاء اعلیٰ کی مخلوق بنادینا، وسائل زندگی کی فکر میں ڈوبے رہنا اور خود زندگی کی اعلیٰ صفات کو نظر انداز کردینا ان کا معمول بن جاتا ہے۔ ایسی قوم دھرتی کا بوجھ بن جاتی ہے۔ بظاہر ان کے چہرے روشن ہوتے ہیں لیکن دل اجاڑ ہوتے ہیں۔ ان کی عیش گاہیں، ان کے کلب، ان کے ہوٹل آباد ہوتے ہیں، لیکن ان کے گھر ویران ہوتے ہیں۔ یہ زمین پر رینگنے والے حشرات الارض کی طرح بےبسی، بےہمتی اور ناتوانی کی منہ بولتی تصویر ہوتے ہیں۔ جن میں زندگی کی کوئی امنگ نہیں ہوتی۔ الفاظ کے طوطے مینااڑاتے اور زندگی کی حقیقتوں سے جی چرانے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ایسی انسانی بھیڑ پر جب بھی کوئی طاقتور حملہ کرتا ہے تو انھیں اپنا غلام بنالیتا ہے۔ کوئی سراج الدولہ اور کوئی ٹیپو اور کوئی سید احمد اور شاہ اسماعیل اور کوئی سنوسی جان دے کر بھی انھیں زندگی کا درس دینے سے عاری رہتا ہے اور ان جیسے لوگوں کی قربانیوں کے اثرات سے اگر سیاسی آزادی مل بھی جاتی ہے تو تہذیبی، تمدنی، معاشی اور علمی آزادی نصیب نہیں ہوتی۔ اِہبطوا مصراً کا مفہوم بنی اسرائیل جب غلامی کے اثرات سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کی کاوشوں سے بھی نکل نہ پائے تو اللہ نے حکم دیا کہ اگر وہ عظیم مقصد تمہیں عزیز نہیں جس کے لیے یہ صحرا نوردی کرائی جارہی ہے۔ بلکہ اس کے مقابلے میں تم اپنے کام ودہن کی لذت کو چھوڑنے کے لیے بھی تیار نہیں ہو تو پھر یہ چیزیں تمہیں کسی شہر میں مل سکتی ہیں تمہارے سامنے صحرائے سینا کی بستیاں یا ارض فلسطین ہے اس کے کسی شہر کو فتح کرلو تو جو کچھ تم چاہتے ہو وہ تمہیں مل جائے گا۔ لیکن یاد رکھو ! تمہیں اس کے لیے اپنے بلند منصب سے نیچے اترنا ہوگا۔ کیونکہ کھیتی باڑی کرنا حامل دعوت امتوں کا کام نہیں ہوتا۔ یہ کام دوسری قومیں انجام دیتی ہیں۔ اس لیے جب مدینہ طیبہ میں مسلمانوں نے اپنی کھیتی باڑی اور کاروبار کی دیکھ بھال کی اجازت مانگی تھی تو پروردگار نے فرمایا تھا : وَلَا تُلْقُوْابِاَیدِیْکُمْ اِلَی التَّہلُکَۃِ ” اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو “۔ یعنی تم دنیا کی قسمتیں بنانے اٹھے ہو۔ تمہاری قوت دعوت و جہاد میں ہے، ان کاموں میں نہیں۔ بنی اسرائیل سے بھی یہی فرمایا جارہا ہے، ہبوط ” مہمان کے اترنے “ کو کہتے ہیں۔ لیکن اس کا اصل معنی بلندی سے پستی کی طرف اترنا یا گرنا بھی ہے۔ اس سے اشارہ اسی گراوٹ کی طرف ہے۔ یہاں مصر سے مراد ملک مصر نہیں بلکہ کوئی سا بھی شہر ہے۔ لیکن مصر کا لفظ لاکر اشارہ فرمایا گیا ہے کہ جب تم اصل مقصد بھول کر لذت کام ودہن میں لگ جاؤ گے، تو پھر یاد رکھو کہ تم پھر کسی نہ کسی مصر کی غلامی کے شکنجے میں جاپھنسو گے کیونکہ شکم پروری غلامی کا ہمیشہ پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں قومی افتخار اجتماعی قوت اور مقصدی یگانگت قصہ پارینہ بن جاتی ہیں۔ پوری قوم افراد کا ایک بےہنگم گروہ ایک منتشر بھیڑ اور جانوروں کا ایک ایسا ریوڑ بن جاتی ہے، جس پر ذلت ومسکنت اور بےبسی اور ناتوانی کی مہر لگ جاتی ہے۔ یہ زندہ رہتی ہے مگر عبرت کی تصویر بن کر۔ بنی اسرائیل عبرت کے لیے زندہ ہے چناچہ بنی اسرائیل تاریخ کے مختلف ادوار میں اسی حوالے سے پہچانے جاتے ہیں اور قرآن کریم یہاں بتارہا ہے کہ ان کی سرکشی اور بد عملی کے باعث اللہ نے ان پر جو عذاب مسلط کیا ہے وہ اسی ذلت ومسکنت کا عذاب تھا۔ انھیں قدرت نے باربار سنبھلنے کا موقع دیا لیکن جیسے جیسے ان کی سرکشی بڑھتی گئی ویسے ویسے عذاب کا شکنجہ کسا جاتا رہا۔ عجیب بات یہ ہے کہ قومیں بنتی، اٹھتی، زوال پذیر ہوتیں اور فنا کے گھاٹ اترجاتی ہیں اور پھر ان کے صرف تذکرے باقی رہ جاتے ہیں۔ لیکن اس قوم کو اللہ نے نشان عبرت کے طور پر آج تک زندہ رکھا ہوا ہے۔ انھیں آخری سنبھلنے کا موقعہ آنحضرت ﷺ کی بعثت مبارکہ کی صورت میں میسر آیا لیکن جب انھوں نے اس سے بھی فائدہ اٹھانے سے انکار کردیا تو یہ عذاب ان کے لیے تقدیر مبرم بن گیا۔ تاریخ کا ہر دور اس کی تصدیق کرتارہایہ یروشلم اور فلسطین سے تو بہت عرصہ پہلے نکالے جاچکے تھے۔ لیکن پھر نجران، مدینہ اور خیبر بھی ان کی پناہ گاہ نہ بن سکا۔ وہاں سے نکالے گئے تو یورپ کے مختلف علاقوں میں بکھر گئے۔ لیکن چونکہ یہ اپنی قومی خباثتوں سے باز نہیں آتے اور یہ شائد اللہ ہی کے عذاب کا اثر ہے اس لیے وقتاً فوقتاً جو قوم بھی ان کو پناہ دیتی رہی، اسی کے ہاتھوں یہ عذاب کا شکار بھی ہوتے رہے۔ نازی جرمنی میں ان کا قتل عام کیا گیا، اٹلی، ہنگری اور رومانیہ وغیرہ میں بھی ادھیڑے کھدیڑے گئے۔ آج اگرچہ اسرائیلی ریاست کے نام سے یہ ایک مملکت کے مالک ہیں لیکن یہ بات کسی تعجب کا باعث نہیں ہونی چاہیے کیونکہ قرآن کریم نے سورة آل عمران چوتھے پارے میں واضح طور پر یہ ارشاد فرمایا تھا : ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَمَا ثُقِفُوْااِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ (ان پر ذلت تھوپ دی گئی ہے وہ جہاں بھی پائے جائیں۔ سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی رسی کو پکڑ لیں یا لوگوں کی پناہ میں آجائیں) یعنی یہ عذاب ہر جگہ ان کا پیچھا کرے گا۔ یہ ذلت کی تصویر بنے رہیں گے۔ اس سے نکلنے کی صرف دو صورتیں ہیں، ایک مستقل ہے ایک عارضی ہے۔ مستقل صورت یہ ہے کہ وہ اللہ کی رسی کو تھام لیں۔ یعنی اسلام قبول کرلیں۔ اس کے بعد ان کی تاریخ مسلمانوں کی تاریخ ہوگی یہود کی نہیں اور دوسری عارضی صورت یہ ہے کہ وہ کسی بڑی مملکت اور حکومت کی پناہ میں آجائیں۔ آج کی اسرائیلی ریاست ہر اہل نظر جانتا ہے کہ امریکہ کی چھائونی ہے۔ یوں تو پوری دنیائے کفر اسے دودھ پلا کر پال رہی ہے لیکن امریکہ بطور ِخاص اس کے لیے پناہ مہیا کرتا ہے۔ اسے توانائی فراہم کرنے کے لیے عراق کو تباہ کیا گیا اور مصر کے ساتھ جنگ رمضان میں پوری طرح اسے تحفظ دیا گیا۔ بالآخرصدر سادات کو کہنا پڑا کہ میں اسرائیل سے تو لڑ سکتا ہوں امریکہ سے نہیں لڑسکتا۔ پوری دنیا اگر اس کے نسلی تعصبات اور ظالمانہ اقدامات کے خلاف کوئی قراردادِ مذمت پاس کرتی ہے تو امریکہ اسے ویٹو کردیتا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسرائیلی ریاست اصل میں امریکی ریاست ہے۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی اور آج اس ریاست کو پناہ دینے والے اس کے خاتمے کا باعث بنیں گے کیونکہ یہود اپنی عقربی خصلت کے ہاتھوں مجبور ہیں کہ وہ اپنے محسنوں کو بھی نیش زنی سے باز نہیں کرسکتے اور جہاں تک ان کی مسکنت کا تعلق ہے یعنی ان کی غربت اور مفلسی کا، تو اس پر بھی تعجب نہیں ہونا چاہیے اگرچہ دنیا میں یہود کا مالدار ہونا ایک ضرب المثل بن گیا ہے لیکن حقیقت میں یہ محض دھوکہ اور مغالطہ ہے۔ دولت و ثروت جتنی بھی ہے، وہ قوم یہود کے صرف اکابر و مشاہیر تک محدود ہے ورنہ عوام یہود کا شمار دنیا کی مفلس ترین قوموں میں ہوتا ہے۔ جیوش انسائیکلوپیڈیاجلد 10 صفحہ نمبر 151 میں ہے (گو یہود کا تمول ضرب المثل کی حد تک شہرت پاچکا ہے۔ لیکن اہل تحقیق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہود یورپ کے جس جس ملک میں آباد ہیں وہاں کی آبادی میں انھیں کے مفلسوں کا تناسب سب سے بڑھا ہوا ہے۔ ) اسی کتاب کے صفحہ 161 میں ہے (عوام یہود دوسری قوموں سے کہیں زیادہ غریب ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے چند افراد بہت زیادہ دولت مند ہیں۔ ) بنی اسرائیل کے مبتلائے عذاب ہونے کی وجوہ آیتِ کریمہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے جو ان کو سزائیں دیں اور ان پر جو عذاب مسلط کیے اس کی دو وجہ بیان فرمائی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ اس انکار کی تین صورتیں تھیں۔ کبھی تو وہ اللہ کے احکام کو صاف صاف ماننے سے انکار کردیتے تھے، کبھی احکام کو ماننے کے باوجود اس پر عمل کرنے سے انکار کردیتے تھے اور تیسری صورت یہ تھی کہ اللہ کے احکام کی ایسی تاویلیں کرتے تھے جو احکام کی صورت اور حقیقت دونوں کو بدل کر رکھ دیتی تھیں۔ درحقیقت وہ صرف اپنی خواہش کے پرستار تھے۔ بظاہر وہ اپنے آپ کو مومن اور مسلم کہتے تھے لیکن عمل کے اعتبار سے اللہ کے دین سے ان کا کوئی رشتہ باقی نہیں رہ گیا تھا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ان کی یہ سرکشی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ وہ اللہ کے نبیوں کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ جسارت کی انتہا یہ تھی کہ وہ اپنے ان اعمالِ شنیعہ کے لیے کسی تاویل کا سہارا بھی نہیں لیتے تھے بلکہ وہ اپنے ان ظالمانہ کرتوتوں پر فخر کا اظہار کرتے تھے۔ بغیر الحق کا مفہوم قرآن کریم نے بغیرالحق کہہ کر شاید اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جدید تحقیق سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ خود ان قاتلوں کے معیار سے بھی یہ قتل ناحق و ناجائز تھے۔ یعنی خلاف عدل تو تھے ہی قانونِ وقت کے لحاظ سے خلاف قانون اور بےضابطہ بھی تھے۔ سلسلہ اسرائیلی کے آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے۔ ان پر جس طرح الزامات لگائے گئے اور جس طرح ان کے مقدمے کا فیصلہ ہوا اور جس طرح صلیب تک پہنچانے کی کوشش کی گئی حال ہی میں اٹلی کے ایک ایڈوکیٹ روزیڈی (Rosedi) اور انگلستان کے ایک بیرسٹر Dnnes) نے قدیم کاغذات کی چھان بین کرکے آپ کے مقدمہ کی رودادیں الگ الگ شائع کی ہیں ان کے پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے مقدمہ میں یہ نہیں ہوا کہ رومی حاکم عدالت سے سزائے صلیب کا فیصلہ سنانے میں کوئی اجتہادی غلطی ہوگئی ہو بلکہ ہوا یہ کہ یہود نے ایک بالکل جھوٹا استغاثہ گھڑا اور پہلے اپنی مذہبی عدالت میں اور پھر ملک کی عام فوجداری عدالت میں بالکل ہی بےضابطہ کارروائیاں کرکے حکم سزا دلوانے میں کامیاب ہوگئے۔ رومی اور جیسے بھی کچھ ہوں آئین دوستی اور قانون پرستی تو ان کی مشہور رہی ہے۔ جب ان تک کے عہد میں یہ اندھیر ہوا تو پھر قدیم ترین انبیاء کی مظلومیت کا کیا ٹھکانہ جن کے قتل میں غالباً ضابطہ کی ظاہری اور رسمی صورت بھی نہیں برتی گئی۔ بغیر الحق سے اس صورت حال کی طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ ہم تفہیم القرآن سے مثال کے طور پر بائبل کے چندواقعات کو نقل کرتے ہیں، جس سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ قرآن کریم نے قتل انبیاء کا جو ان پر الزام لگایا ہے، وہ خود اس کے معترف تھے۔ 1 حضرت سلیمان کے بعد جب بنی اسرائیل کی سلطنت تقسیم ہو کر دوریاستوں (یروشلم کی دولت یہودیہ اور سامریہ کی دولت اسرائیل) میں بٹ گئی تو ان میں باہم لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور نوبت یہاں تک آئی کہ یہود کی ریاست نے اپنے ہی بھائیوں کے خلاف دمشق کی آرامی سلطنت سے مدد مانگی۔ اس پر خدا کے حکم سے حنانی نبی نے یہودیہ کے فرمانروا آساکو کو سخت تنبیہ کی۔ مگر آسا نے اس تنبیہ کو قبول کرنے کی بجائے خدا کے پیغمبر کو جیل بھیج دیا۔ (تواریخ، باب 17، آیت 7۔ 10) 2 حضرت الیاس (ایلیاء Elliah) (علیہ السلام) نے جب بعل کی پرستش پر یہودیوں کو ملامت کی اور ازسر نو توحید کی دعوت کا صور پھونکنا شروع کیا تو سامریہ کا اسرائیلی بادشاہ اخی اب اپنی مشرک بیوی کی خاطر ہاتھ دھوکر ان کی جان کے پیچھے پڑگیا، حتی کی انھیں جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی۔ اس موقع پر جو دعا حضرت الیاس نے مانگی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں : ” بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا ............ تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں، سو وہ میری جان لینے کے درپے ہیں۔ “ (1۔ سلاطین، باب 19، آیت 1۔ 10) 3 ایک اور نبی حضرت میکایاہ کو اسی اخیاب نے حق گوئی کے جرم میں جیل بھیجا اور حکم دیا کہ اس شخص کو مصیبت کی روٹی کھلانا اور مصیبت کا پانی پلانا۔ (1۔ سلاطین، باب 22، آیت 26۔ 27) 4 پھر جب یہود یہ کی ریاست میں علانیہ بت پرستی اور بدکاری ہونے لگی اور زکریاء نبی نے اس کے خلاف آواز بلند کی تو شاہ یہوداہ یوآس کے حکم سے انھیں عین ہیکل سلیمانی میں مقدس اور قربان گاہ کے درمیان سنگسار کردیا گیا۔ (2۔ تواریخ، باب 24، آیت 21) 5 اس کے بعد جب سامریہ کی اسرائیلی ریاست اشوریوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی اور یروشلم کی یہودی ریاست کے سر پر تباہی کا طوفان تلا کھڑا تھا تو یرمیاہ نبی اپنی قوم کے زوال پر ماتم کرنے اٹھے اور کو چے کو چے انھوں نے پکارنا شروع کیا کہ سنبھل جاؤ ورنہ تمہارا انجام سامریہ سے بھی بدتر ہوگا۔ مگر قوم کی طرف سے جو جواب ملا وہ یہ تھا کہ ہر طرف سے ان پر لعنت اور پھٹکار کی بارش ہوئی، پیٹے گئے، قید کیئے گئے، رسی سے باندھ کر کیچڑ بھرے حوض میں لٹکادئیے گئے تاکہ بھوک اور پیاس سے وہیں سوکھ سوکھ کر مرجائیں اور ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ قوم کے غدار ہیں، بیرونی دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں۔ (یرمیاہ، باب 15، آیت 10، باب 18، آیت 20۔ 23، باب 20، آیت 1۔ 18 باب، 36 تا باب 40) 6 ایک اور نبی حضرت عاموس کے متعلق لکھا ہے کہ جب انھوں نے سامریہ کی اسرائیلی ریاست کو اس کی گمراہیوں اور بدکاریوں پر ٹوکا اور ان حرکات کے برے انجام سے خبردار کیا تو انھیں نوٹس دیا گیا کہ ملک سے نکل جاؤ اور باہر جاکر نبوت کرو۔ (عاموس، باب 7، آیت، 1۔ 13) 7 حضرت یحییٰ (یوحنا) (علیہ السلام) نے جب ان بداخلاقیوں کے خلاف آواز اٹھائی جو یہودیہ کے فرمانروا ہیرودیس کے دربار میں کھلم کھلا ہورہی تھیں، تو پہلے وہ قید کیے گئے پھر بادشاہ نے اپنی معشوقہ کی فرمائش پر قوم کے اس صالح ترین آدمی کا سرقلم کرکے ایک تھال میں رکھ کر اس کی نذر کردیا۔ (مرقس، باب 6، آیت، 17۔ 29) 8 آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بنی اسرائیل کے علماء اور سردار انِ قوم کا غصہ بھڑکا کیونکہ وہ انھیں ان کے گناہوں اور ان کی ریاکاریوں پر ٹوکتے تھے اور ایمان و راستی کی تلقین کرتے تھے۔ اس قصور پر ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ تیار کیا گیا، رومی عدالت سے ان کے قتل کا فیصلہ حاصل کیا گیا اور جب رومی حاکم پیلاطس نے یہود سے کہا کہ آج عید کے روز میں تمہاری خاطر یسوع اور برابا ڈاکودونوں میں سے کس کو رہا کروں، تو ان کے پورے مجمع نے بالاتفاق پکار کر کہا کہ برابّا کو چھوڑ دے اور یسوع کو پھانسی پر لٹکا۔ (متی، باب 27۔ آیت 20 تا 26) یہ ہے اس قوم کی کی داستانِ جرائم کا ایک نہایت شرمناک باب جس کی طرف قرآن کی اس آیت میں مختصراً اشارہ کیا گیا ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جس قوم نے اپنے فساق وفجار کو سرداری وسربراہ کاری کے لیے اور اپنے صلحا اور ابرار کو جیل اور دار کے لیے پسند کیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کو اپنی لعنت کے لیے پسند نہ کرتا تو آخر اور کیا کرتا۔ (تفہیم القرآن جلد اول، ص : 81، 81، 82 حاشیہ نمبر 79) ممکن ہے آپ کو اس بات پر حیرت ہورہی ہو کہ بنی اسرائیل اپنے بگاڑ میں اس حد تک پہنچ گئے تھے کہ وہ اللہ کے نبیوں کو قتل کرنے کی جسارت کر گزرتے تھے۔ لیکن اے کاش ! ہم کبھی اپنی تاریخ کے آئینہ میں بھی جھانک کر دیکھیں بلکہ آج ہم جو کچھ کررہے ہیں اسے دیکھ کر اندازہ کریں کہ کیا ہمارے گریبان کی کوئی دھجی باقی رہ گئی ہے ؟ میں دور کی بات نہیں کرتا 1857 کے حالات ہماری قومی تاریخ کے ابواب ہیں۔ اس میں ہمارے امراء اور جاگیرداروں نے کیا رول ادا کیا ؟ اور پھر جن لوگوں نے ہمیں غلامی کی دلدل سے نکالنا چاہا اور انھوں نے استعمار سے پنجہ آزمائی کی ہم نے اس فیصلہ کی کشمکش میں کس کا ساتھ دیا ؟ سراج الدولہ کس کی غداری کا شکار ہوئے ؟ سلطان ٹیپوکن لوگوں کی سازشوں سے مارے گئے ؟ سید احمد شہید اور ان کے ساتھی کن لوگوں کی مخبری پر شہید کیے گئے ؟ اور سرحد میں خلافت کا نظام قائم ہوجانے کے بعد وہ کون لوگ تھے جنھوں نے ایک ہی رات میں ان مقدس لوگوں کو کہ گزشتہ پانچ سو سال کی تاریخ میں جن کی نظیر نہیں ملتی ایک ہی رات میں قتل کرڈالا ؟ آج پوری دنیائے اسلام میں حق و باطل کا ایک معرکہ برپا ہے۔ ایک طرف کروسیڈی امریکہ اور اس کے حمائتی ہیں اور دوسری طرف اسلام سے والہانہ محبت رکھنے والا طبقہ ہے۔ ذرا غور سے دیکھئے ! ان نیک نہاد اور سرفروش مخلص مسلمانوں کو کون پکڑ پکڑ کر کفر کی طاقتوں کے حوالے کررہا ہے ؟ خود عالم ِ اسلام کے اکثر ملکوں کی جیلیں کن لوگوں سے بھری جارہی ہیں ؟ کون لوگ ہیں جن کو دہشت گرد قرار دے کر نشان عبرت بنایا جارہا ہے ؟ اور کون لوگ ہیں جن پر اللہ کی زمین تنگ کردی گئی ہے ؟ اور جو لوگ یہ سب کچھ کررہے ہیں وہ کون لوگ ہیں ؟ اور کن لوگوں کے ساتھی ہیں ؟ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی کیا اس پر تعجب ہونا چاہیے کہ بنی اسرائیل اس حد تک کیوں پہنچ گئے تھے ؟ حقیقت یہ ہے کہ : ؎ نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی نہ حریف پنجہ شکن نئے وہی قوت اسد اللّٰہی وہی مرحبی وہی عنتری اسی لیے اگلی آیت کریمہ میں تمام مذہبی گروہوں کا نام لے کر اصولی بات کہی گئی ہے۔ جو اللہ کے دین کا اصل تقاضا ہے اور جس پر دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔