Ayah 2:197اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌج فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَـلَا رَفَثَ وَلَافُسُوْقَ لا وَلَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ ط وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ ط وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَالزَّادِ التَّقْوٰی ز وَاتَّقُوْنِ یٰٓـاُولِی الْاَلْـبَابِ ۔
(حج کے جانے پہچانے مہینے ہیں، پھر جس شخص نے لازم کرلیا ان میں حج، پھر حج کے زمانے میں نہ تو شہوت کی بات کرنی ہے، نہ گناہ کرنا ہے اور نہ جھگڑا کرنا ہے اور نیکی کے جو کام بھی کروگے اللہ اس کو جانتا ہے اور زاد راہ لے لیا کروبیشک بہترین توشہ تقویٰ ہے اور مجھ سے ڈرتے رہواے عقل والو) (197)
مَعْلُوْمٰتٌ کا مفہوم
اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ:” حج کے معلوم اور جانے پہچانے مہینے ہیں “۔ بعض اہل علم نے مَعْلُوْمٰتٌ کو معدودات کے معنی میں لیا ہے یعنی ” گنے چنے “ اور پھر اس سے انھوں نے تسلی کا مضمون پیدا کیا ہے حالانکہ بتانا یہ مقصود معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر آج تک عرب اس سے بخوبی واقف ہیں کہ حج کے مہینے شوال ذی القعد اور ذی الحج کے دس دن ہیں۔ اس لیے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ عربوں نے جو ایک نسی کا قاعدہ بنالیا تھا جس سے وہ اشھر حرم میں تبدیلی کرتے رہتے تھے۔ ان کے اس قاعدے سے نہ اشھر حرم تبدیل ہوسکتے ہیں اور نہ اشھر حج بدل سکتے ہیں۔ نیز یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ شوال سے پہلے فریضہ حج کی ادائیگی کی نیت نہیں ہوسکتی اور نہ احرام باندھا جاسکتا ہے۔ اگر کسی شخص نے ایسا کیا تو بعض ائمہ کے نزدیک ایسا کرنا نہ صرف گناہ ہے بلکہ اس احرام میں حج بھی ادا نہیں ہوگا۔ امام ابوحنیفہ ( رح) اگرچہ ادائیگی کے قائل تو ہیں لیکن مکروہ قرار دیتے ہیں۔
حج کے دنوں میں حج کی ادائیگی کے سوا کوئی اور مقصود نہیں ہوتا اور نہ ہونا چاہیے۔ اس مقصد میں جو چیزیں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہیں اور یا اس کو بےروح بنا سکتی ہیں اور یا اس کو تربیت کے اعتبار سے بےاثر کرسکتی ہیں انھیں سب سے پہلے بیان کیا جارہا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ حج کے دنوں میں نہ رفث ہے نہ فسوق اور نہ جدال۔
حج میں رفث، فسوق اور جدال کی ممانعت
یہاں غور فرمایئے ! لا ” نہی “ کے لیے نہیں ہے بلکہ ” نفی “ کے لیے ہے۔ اگر لا نہی کے لیے ہوتا تو اس کا معنی ہوتا : لاَ تَرْفُثُوْاوَلَا تَفْسُقُوْا وَلاَ تُجَادِلُوْا یعنی ان برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا جاتا۔ اس کی بجائے لائے نفی لاکر یہ اشارہ کیا جارہا ہے کہ یوں تو رفث اور فسق اور جدال ہمیشہ کے لیے ناجائز ہیں لیکن ایام حج میں بطور خاص ان برائیوں کا کوئی تصور ہی نہیں ہونا چاہیے۔ یعنی سوال جواز اور عدم ِ جواز کا نہیں بلکہ اس کی جڑ ماردینے کی بات ہورہی ہے۔ جو آدمی حج کے ارادے سے مکہ معظمہ پہنچا ہے اس کے ذہن میں یہ بات رہنی چاہیے کہ تم جس عبادت کی انجام دہی کے لیے یہاں آئے ہو اس کا ان بداخلاقیوں کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں۔ جس طرح آگ اور پانی اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح فریضہ حج اور یہ تین برائیاں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔
رَفَثْ کا مفہوم
رَفَثْکا معنی ہے ’ بےحجاب ہوجانا ‘ لیکن شریعت میں بےحیائی کی کھلی باتوں کو بھی رَفَثْ کہا گیا ہے۔ بےحیائی کی معمولی بات بیوی کے علاوہ کسی اور سے تو ویسے ہی حرام ہے یہاں دوسرے لوگوں کے بارے میں نہیں بلکہ بیوی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ میاں بیوی کا آپس میں بےحجاب ہونا، مباشرت کرنا یا آپس میں شہوانی باتیں کرنا حج کے دنوں میں اس کا قطعاً کوئی جواز نہیں۔ رَفَثْ کا ذکر سب سے پہلے اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ فریضہ حج کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ بعض دوسری کوتاہیوں کی حج کے دوران کوئی نہ کوئی تلافی ہوسکتی ہے لیکن میاں بیوی کا آپس میں ملنا بعض صورتوں میں حج کو ختم کردینے کا باعث ہوتا ہے۔ مثلاً کسی شخص نے عرفات میں حاضری سے پہلے اپنی بیوی سے مباشرت کرلی تو اس کا حج فاسد ہوجائے گا۔ اسے جرمانے کے طور پر اونٹ یا گائے ذبح کرنا پڑی گی اور پھر آئندہ سال اس حج کی قضا لازم ہوگی۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس کی سب سے پہلے ذکر کرنے کی حکمت کیا ہے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ حج ایک اجتماعی اور پر ہجوم عبادت ہے جس میں قدم قدم پر مرد وزن کا اختلاط ہوتا ہے اور پھر احرام کی حالت میں عورتوں کے چہرے ویسے بھی کھلے ہوتے ہیں ہر وقت ایک دوسرے پر نظر پڑنے کا موقعہ رہتا ہے ایسی صورت میں حاجی اگر اپنے نفس کو لگام نہ دے اور اپنی خواہشات پر تقویٰ کی زنجیر نہ باندھے تو اس کی نگاہیں کسی وقت بھی آوارہ ہوسکتی ہیں۔
فسوق کا مفہوم
دوسری برائی جس سے روکا گیا ہے وہ ہے، فسوق۔ فسوق اور فسق ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس کا مطلب تو ہوتا ہے ” حد سے گزرجانا “۔ لیکن یہاں شریعت کے احکام کی نافرمانی مراد ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جن جن باتوں سے روکا ہے انھیں کرنا اور جنھیں کرنے کا حکم دیا گیا ہے انھیں نہ کرنا فسق اور نافرمانی ہے۔ اگر اس کو عام معنی میں لیاجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حج کے دوران شریعت کے کسی حکم کی بھی خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں ہونا چاہیے۔ یوں تو ایک مومن کی عام زندگی بھی اللہ کے احکام کی پابند ہے لیکن حج کے دوران اس پابندی کا احساس کئی گنا بڑھ جانا چاہیے۔ لیکن اگر اسے خاص معنوں میں لیاجائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ احرام کی حالت میں حج کے دوران جو پابندیاں لگائی گئی ہیں ان کا توڑنا فسق ہے۔ ان میں سب سے پہلی بات تو یہی ہے جس کا رَفَثْ کے نام سے ذکر ہوچکا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ حدود حرم میں کسی جانور کا شکار کرنا یا کسی کو شکار کی اطلاع دینا، سلے ہوئے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، اپنے ناخن کاٹنا اور جسم کے بال اکھیڑنا یاتوڑنا، حتی کے اگر جوئیں پڑجائیں تو جوئیں مارنا، مردوں کے لیے بطور خاص سر اور چہرہ کھلا رکھنا اور عورتوں کے لیے بھی امام ابوحنیفہ ( رح) کے نزدیک چہرہ کھلا رکھنا سر کا تو ایک بال بھی ننگا نہیں ہونا چاہیے، چہرہ کھلا رکھنا ضروری ہے مگر مردوں کی نگاہوں سے بچنے کے لیے اپنے چہرے کے سامنے کوئی اوٹ کرلینی چاہیے۔ یہ وہ پابندیاں ہیں جن کی مخالفت کرنا اور جن کی پرواہ نہ کرنا فسق اور فسوق کہلاتا ہے۔
جدال کا مفہوم
تیسری چیز جس سے روکا گیا ہے وہ جدال ہے۔ جدالکا لفظی معنی تو ” جھگڑا کرنا “ ہے۔ یہاں بھی جھگڑا کرنا ہی مراد ہے۔ البتہ اس میں جھگڑے کی تمام اصناف شامل ہیں۔ اس کا حکم بطور خاص اس لیے دیا گیا ہے کہ سفر کے دوران یا مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کی حالت میں پھر خصوصاً ایام ِ حج میں منٰی اور عرفات میں قدم قدم پر جھگڑے کا امکان ہوتا ہے۔ انسان جو اپنی شخصیت اور طبیعت کی تہوں میں اپنی بہت ساری کمزوریوں کو چھپائے رکھتا ہے سفر کے دوران یہ ساری کمزوریاں کھل کر سامنے آجاتی ہیں اور اگر یہ سفر طویل بھی ہو اور کئی دنوں پر محیط بھی تو پھر تو شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو اپنے آپ کو سفر کے اثرات سے محفوظ رکھ سکے۔ قدم قدم پر ایسے مواقع آتے ہیں جہاں مختلف طبیعتیں باہمی طبعی اختلاف کے باعث ایک دوسرے سے الجھتی ہیں۔ ایک کمرے میں رہنے والے سامان رکھنے اور بستر بچھانے میں اختلاف کرتے ہیں، بس پر چڑھتے ہوئے سیٹ کے حصول کے لیے اور معمولی آرام کی طلب میں ایک دوسرے کی عزت نفس پامال کرتے ہیں، وضو خانوں اور بیت الخلا کے سامنے لگی قطاروں میں نجانے کتنی زبانیں بےلگام ہوجاتی ہیں، بازاروں میں اشیائے ضرورت خریدتے ہوئے نجانے کس کس سے الجھائو پیدا ہوتا ہے، دوسروں کو تو جانے دیجئے خود میاں بیوی اور رفقائے سفر میں سے قریبی عزیز تک ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے تنبیہ کردی گئی ہے کہ اگر تم واقعی حج کو ایک عبادت سمجھ کر ادا کررہے ہو تو تمہیں اس کا احساس ہونا چاہیے کہ جب تک تم اپنی نگاہوں کو پاکیزہ، اپنے قلب و دماغ کو شائستہ اور اپنے جذبات کو ہرحال میں آسودہ رکھنے کی کوشش نہیں کروگے اور یہ فیصلہ نہیں کرلوگے کہ یہاں مجھے کسی کا دل نہیں دکھاناکیون کہ اس سے بڑی برائی کوئی نہیں مجھے ہرحال میں اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ اس کی رضا کے لیے نوافل کی کثرت اور طوافوں کا کثیرسرمایہ بھی درکار ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے جذبات، اپنی عادات اور اپنے رجحانات کی اصلاح بھی ضروری ہے جو اس سفر کے ذریعے کی جارہی ہے۔ وہ اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے کہ ہم ان تین بنیادی کمزوریوں سے بچنے کی کوشش کریں۔ مزید فرمایا :
وَمَاتَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ : ” تم جو بھی بھلائی کا کام کروگے اسے اللہ جانتا ہے “۔ تم صرف یہ نہ سمجھو کہ ان چند منفی ہدایات پر عمل کرنا ہی کافی ہے بلکہ تمہیں خیر اور نیکی کا حریص ہونا چاہیے۔ اس لیے اپنازیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزارنے کی کوشش کرو۔ زیادہ سے زیادہ طواف کرو کیونکہ طواف وہ عبادت ہے جو دنیا کے کسی اور حصے میں ممکن نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آئو۔ تم کسی کی معمولی تکلیف میں کام آئو گے تو وہ بھی اللہ کے علم میں ہے، وہ نجانے کس قدر بیش بہا اجر سے نوازے گا۔ اس کے بعد فرمایا :
دورِ جاہلیت کی ایک رسم کی تردید
وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَالزَّادِ التَّقْوٰی : ” اور زاد راہ لے کر چلو بیشک بہترین زاد راہ تقویٰ ہے “۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں عربوں نے نیکی کے بعض تصورات ایسے بنالیے تھے جو سراسر جہالت اور بیخبر ی پر مبنی تھے اور جس کے نتیجے میں کئی مفاسد پیدا ہورہے تھے۔ انھیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے گھر کا طواف اور اس کا حج سراسر ایک عاشقانہ عبادت ہے۔ احرام دیوانگی کا لباس ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہمیں دیوانہ عشق بن کر اللہ کے گھر میں پہنچنا چاہیے۔ دیوانے اپنے ساتھ توشہ سفر لے کر تو نہیں نکلا کرتے۔ یہ کمانا اور کھانا پینا تو دنیا داری ہے تو کیا اللہ کے گھر جاتے ہوئے بھی ہم دنیا داری سے توبہ نہیں کریں گے ؟ چناچہ وہ جب حج کے ارادے سے نکلتے تو خالی ہاتھ نکلتے راستے میں جو انھیں میسر آجاتا اس سے پیٹ بھرلیتے یا پھر لوگوں سے مانگ کر اپنی ضرورتیں پوری کرتے اور اسے وہ بہت بڑی نیکی سمجھتے تھے۔ یہاں ان کے اس تصور کی تردید کی جارہی ہے اور حکم دیا جارہا ہے کہ تم جب حج کے لیے نکلو تو زاد سفر لے کر نکلو، لوگوں سے مانگنا اور لوگوں پر بوجھ بننا یہ کون سی نیکی اور کون سی عقل کی بات ہے ؟ اگر ہر آدمی اس تصور کو قبول کرلے تو اب تو کتنے لوگ بیت اللہ تک زندہ پہنچیں گے یا زندہ واپس آئیں گے۔ رہی یہ بات کہ تم اسے دنیاداری سمجھتے ہو اور تمہارے نزدیک دیوانگی کے اس سفر میں تمہیں خالص اللہ والا بن کر وہاں پہنچنا چاہیے۔ تو یہ تمہاری بھول ہے، اللہ سے تعلق مانگنے سے پیدا نہیں ہوتا۔ جب تم نے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلادئیے تو اللہ سے تعلق تو اسی وقت ختم ہوگیا۔ اللہ سے تعلق دل کی پاکیزگی اور دل کے اللہ کی طرف میلان سے پیدا ہوتا ہے۔ جب دل میں اس بات کا یقین اتر جاتا ہے کہ میں اللہ کے علم کے حصار میں ہوں اس کی قدرت مجھے ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ میں معمولی بندہ ہوں وہ میرا آقا ہے مجھے ہرحال میں اسی کی بندگی کرنی ہے تاکہ وہ مجھ سے راضی ہوجائے۔ اصل میں یہ وہ زاد سفر ہے جو زندگی کے سفر میں کام آتا ہے۔ اگر تم واقعی اس حقیقت کو سمجھتے ہو تو پھر اے عقل والو ! مجھ سے ڈرو اور میرا ہی تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔
Ayah 2:198لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ط فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُواللّٰہَ عِنْدَالْمَشْعَرِالْحَرَامِ ص وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ ج وَاِنْ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ ۔
(تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کروپس جب عرفات سے چلو تو اللہ کو یاد کرومشعرِحرام کے پاس اور اس کو اس طرح یاد کروجس طرح اللہ نے تم کو ہدایت کی ہے، اس سے پہلے بلاشبہ تم گمراہوں میں سے تھے) (198)
حج میں حصول رزق کی اجازت
گزشتہ آیت کریمہ میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ حج کا اصل مقصود تقویٰ ہے۔ اس کا زاد راہ بھی تقویٰ ہے۔ اس لیے حج کے دوران کوئی ایسا کام نہیں ہونا چاہیے جس سے تقویٰ کی کیفیت کو نقصان پہنچے اور دل کی وہ کیفیت جس میں اللہ کا خوف اور محبت بسی ہونی چاہیے اس میں کسی طرح کی کمی آئے۔ اس دور کے مسلمان جنھیں ہم اصحابِ رسول کے نام سے یاد کرتے ہیں ان کی خصوصیت ہی یہ تھی کہ وہ قرآن کی ہر ہدایت کو حرزجان بنا لیتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی تربیت ان کا اصل سرمایہ تھی۔ انھوں نے جب قرآن کریم اور آنحضرت کی تربیت کا سارا زور تقویٰ پر دیکھا تو وہ یہ سمجھے کہ حج کے دوران کسی طرح کا بھی کام جس سے مقصود کچھ کمانا اور فائدہ اٹھانا ہو نہیں ہونا چاہیے۔ حالات چاہے مالی لحاظ سے کتنے ہی ناموافق ہوں ہمیں ساری توجہ مناسکِ حج کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ ذکر اللہ اور عبادت پر رکھنی چاہیے۔ چناچہ صحابہ میں سے جو لوگ حج کے دوران جائز طریقے سے تجارت کے ذریعے یا مزدوری کرکے اپنی کچھ ضرورتیں پوری کرلیتے تھے۔ انھوں نے بھی اس سے ہاتھ کھینچ لیا اور جن لوگوں کا حج کے دوران کوئی کاروبار تھا ان کے لیے پریشانی پیداہوئی اور ان میں سے بعض لوگوں نے اس کے بارے سوال بھی کرنا چاہا۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک صاحب حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کے پاس آئے اور یہ سوال کیا کہ ہمارا پیشہ پہلے سے یہ ہے کہ ہم کرایہ پر اونٹ چلاتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے اونٹ حج کے لیے کرایہ پرلے جاتے ہیں، ہم ان کے ساتھ جاتے ہیں اور حج کرتے ہیں۔ کیا ہمارا حج صحیح نہیں ہوگا ؟ حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) نے فرمایا کہ ایک شخص رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آپ سے وہی سوال کیا تھا جو تم مجھ سے کررہے ہو۔ آنحضرت ﷺ نے اس وقت اس کو کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ اس وقت آپ نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا کہ ہاں ! تمہارا حج صحیح ہے۔ مختصر یہ کہ اس آیت نے مسلمانوں کے لیے ایک سہولت پیدا کردی اور بتایا کہ حج یقینا اللہ کی عبادت کا نام ہے اور عبادت نہایت مخلصانہ ہونی چاہیے اور آئندہ زندگی کی اصلاح کے لیے حج کو ذریعہ بن جانا چاہیے۔ وہ اسی صورت میں بن سکتا ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ للہیت، اخلاص، اللہ اس کے رسول اور اس کے دین سے وارفتگی اور مرکز اسلام سے بےپناہ تعلق اور دینی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک تڑپ پیدا ہو۔ لیکن اگر اس دوران ضروریات کے حصول کے لیے کوئی چھوٹی موٹی تجارت یا کوئی مزدروی کرلی جائے تو اس میں تمہارے لیے کوئی گناہ نہیں۔ البتہ ! اس میں دو باتوں کی احتیاط ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ یہ تجارت اور مزدوری حج کی مصروفیات پر غالب نہ آنے پائے اور تعلق باللہ کو کمزور کرنے کا باعث نہ بنے اور دوسری یہ کہ تجارت یا مزدوری یاکسبِ معاش کا کوئی طریقہ اسلام کے بتائے ہوئے جائز اور حلال طریقوں کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ چناچہ جو کسب اور اکتساب اور کمائی حلال طریقے اور باہمی رضامندی سے ہوتی ہے اسے قرآن کریم نے اللہ کا فضل قرار دیا ہے۔ یہاں بھی فضل کا لفظ بول کر اسی جانب اشارہ ہے اور مزید یہ بات کہ لَیْسَ عَلَیْـکُمْ جُنَاحٌ کہہ کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کام کرنا حج کے دوران بہت پسندیدہ تو نہیں لیکن اگر ضرورت کے تحت تم کرلوتو تمہیں اس کا گناہ بھی نہیں ہوگا۔ اس لیے علماء کرام نے احتیاط سکھاتے ہوئے یہ نصیحت کی ہے کہ خاص ان پانچ ایام میں جن میں افعال ِ حج ادا کیے جاتے ہیں ان میں تجارت یا مزدوری کی کوئی مشغولیت نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان ایام کو خالص عبادت اور ذکر میں گزارا جائے۔ بعض علماء نے شدت احساس کے پیش نظر ان ایام میں تجارت اور مزدوری کو ممنوع قرار دیا ہے۔
فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُواللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامٍ : ” پھر جب تم عرفات سے واپس آنے لگو تو مشعر حرام کے پاس اللہ تعالیٰ کی یاد کرو “۔ یہ دوسرا حکم ہے جو اس آیت کریمہ میں دیا گیا ہے۔ اس میں عرفات اور مشعرحرام کا ذکرآیا ہے۔ سب سے پہلے انھیں سمجھ لیجیے۔
عرفات اور مشعرالحرام کا تعارف
” عرفات “ وہ میدان ہے جو مکہ معظمہ سے تقریباً نو میل کے فاصلے پر ہے۔ 9 ذی الحج کو حجاج کرام عرفات پہنچتے ہیں۔ اگر امام کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھیں تو ظہر اور عصر اکٹھی پڑھتے ہیں اور حج کا خطبہ سنتے ہیں اور اگر اپنے خیموں میں پڑھیں توظہر اور عصر کو اپنے اپنے وقتوں میں پڑھتے ہیں۔ زوال آفتاب سے مغرب تک یہاں قیام کرنا حج کا اہم ترین فرض ہے۔ جس کے فوت ہونے کا کوئی کفارہ اور فدیہ نہیں ہوسکتا اس طرح سے صعوبتِ سفر اٹھانے اور مصارفِ حج ادا کرنے کے باوجود حاجی حج سے محروم رہتا ہے اور اگلے سال یا جب توفیق ہو اس حج کی قضا کرنا لازم ہوتا ہے۔ اسی میدان میں ” جبلِ رحمت “ ہے، جس کے دامن میں حضور نے دعائیں مانگی تھیں اور اونٹنی پر خطبہ حج ارشاد فرمایا تھا۔ اور وہ خطبہ ،” خطبہ حجۃ الوداع “ کے نام سے مسلمانوں کی ہدایت کا بہت بڑ اسرمایہ اور انسانیت کا عظیم ورثہ ہے۔
عرفات کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کوئی ایک بات کہنا بہت مشکل ہے۔ لوگوں نے مختلف باتیں کہی ہیں جن میں کوئی بھی مصدقہ نہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہا السلام) زمین پر اترنے کے بعد یہیں ایک دوسرے سے ملے تھے اور ہوسکتا ہے یہیں کہیں ان کا قیام رہا ہو۔ اس لیے کہ حضرت حوا کی قبر جدہ میں بتائی جاتی ہے اور جدہ کو حضرت حوا کی نسبت کی وجہ سے شاید جدہ (دادی) کہا جاتا ہے۔ لیکن تاریخی طور پر ان میں کوئی بات یقینی نہیں۔ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ اسے عرفات کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میدان میں انسان اپنے رب کی معرفت اور بذریعہ عبادت اور ذکر اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتا ہے۔ نیز مشرق ومغرب کے مسلمانوں کو آپس میں تعارف کا ایک موقعہ ملتا ہے۔ 9 تاریخ کی شام غروب آفتاب کے ساتھ ہی مغرب کی نماز ادا کیے بغیر وہاں سے نکلنا ہوتا ہے۔
مکہ معظمہ کی طرف آتے ہوئے عرفات سے تین میل کے فاصلے پر ایک میدان آتا ہے جسے ” مزدلفہ “ کہا جاتا ہے یہ مزدلفہ وہ میدان ہے جو مشعرالحرام کے اردگرد پھیلاہوا ہے اور مشعرالحرام ایک پہاڑ ہے۔ مشعر کا معنی ” شعار اور علامت “ کے ہیں۔ اور حرام ” محترم اور مقدس “ کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پہاڑ شعار اسلام کے اظہار کے لیے ایک مقدس مقام ہے۔ اس پہاڑ کے قریب میدان کے کسی حصہ میں رات گزارنا اور مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کا ایک وقت میں پڑھنا واجب ہے۔ یہاں پہنچتے پہنچتے رات ڈھلنے لگتی ہے مغرب کی نماز کا وقت گزرچکا ہوتا ہے لیکن اسے قضا نہیں کیا جاتا بلکہ باری باری دونوں نمازیں امام کے پیچھے جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ مشعرالحرام کے پاس ایک مسجد ہے جس میں امام وقت نماز پڑھاتا ہے لیکن دور دور پھیلے ہوئے لوگ اپنے طور پر نماز پڑھ لیتے ہیں یا جماعت کا انتظام کرلیتے ہیں۔
اس آیت کریمہ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم عرفات سے واپسی پر نہ تو سیدھے منیٰ نکل جاؤ اور نہ ایسا کرو کہ تم مزدلفہ میں اپنی خواہشات کے مطابق اپنی دلچسپیوں میں رات گزار دو ۔ دور جاہلیت میں عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جب مزدلفہ میں پہنچتے آگ جلاتے، مجلسیں جماتے، مشاعروں کی مجالس منعقد ہوتیں، پوری رات مختلف تفریحات میں گزار دی جاتی۔ وہ احرام میں ہوتے ہوئے بھی یہ بات بھول جاتے تھے کہ احرام کا تقاضا کیا ہے اور ہم صرف اللہ کی یاد کے لیے ان دنوں گھر سے نکلے ہوئے ہیں۔ اس لیے انھیں حکم دیا جارہا ہے کہ مشعرالحرام کا پہاڑ اپنے نام سے ہی تمہیں کچھ پیغام دے رہا ہے کہ تمہیں یہاں صرف اللہ کا ذکر کرنا چاہیے خواہشات پر مبنی مصروفیات اور تفریحات اس میدان میں نہیں ہونی چاہئیں۔
ذکر اللہ کا صحیح طریقہ
دوسرا حکم یہ دیا گیا ہے وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ ” تم نے اگر ایک طرف حج کو بھی تفریح میں بدل دیا ہے تو دوسری طرف تمہارا حال یہ ہے کہ تم میں جو لوگ اللہ کا ذکر کرنا چاہتے بھی ہیں وہ بھی اپنی مرضی اور اپنی منشا کو سب سے بڑا رہنما سمجھتے ہیں۔ جو ان کے جی میں آتا ہے اور جیسا مناسب سمجھتے ہیں ویسے اللہ کو یاد کرتے ہیں اب مسلمانوں سے کہا جارہا ہے اب تم اللہ کو اس طرح یاد کروجس طرح اس نے تمہیں ہدایت دی۔ ان میں سب سے بڑی ہدایت یہ ہے کہ تم مغرب اور عشا کو ملاکر مزدلفہ میں ادا کرو کیونکہ یہ اس رات اور اس میدان کی مخصوص عبادت ہے اور پھر جس طرح آنحضرت ﷺ نے اس رات میں دعائیں مانگیں اور نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک آپ ذکر اللہ میں مصروف رہے یہ وہ طریقہ ہے جو مسلمانوں کو سکھایا گیا ہے۔ اس جملے سے ہمیں ایک اصولی ہدایت ملتی ہے کہ ذکر اللہ اور عبادت کی ادائیگی میں انسان خودمختار نہیں کہ جس طرح چاہے اور جس وقت چاہے اللہ کو یاد کرے بلکہ اس کے ذکر اور اس کی عبادت کے خاص آداب ہیں ان کے موافق ادا کرنا ہی عبادت ہے اس کے خلاف کرنا جائز نہیں۔ اس میں کمی بیشی یاتکریم و تعظیم کسی طرح روا نہیں۔ عربوں نے بھی اس میں یہی غلطی کی تھی کہ ملت ابراہیم میں ان کو جو مناسکِ حج سکھائے گئے تھے اور ذکر اللہ کا جو طریقہ بتایا تھا ان میں اپنی مرضی سے کمی بیشی کرڈالی۔ مسلمانوں سے بھی یہ کہا جارہا ہے کہ تم یہ غلطی نہ کرو اور یہ ہدایت فریضہ حج کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ باقی تمام عبادات میں بھی یہی اصول پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں عقل کام نہیں دیتی اور نہ اس میں اپنی مرضی چلتی ہے۔ اذان، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج اور اس کے ذکر کے طریقے یہ سب عبادات ہیں۔ اس میں قرآن وسنت نے جس طرح ہدایات دی ہیں ہم اس کے پابند ہیں۔ اس میں اپنی طرف سے یہ سمجھ کر اضافہ کرنا کہ اس سے شاید زیادہ ثواب ملے گا اور اللہ خوش ہوگا یہی وہ گمراہی ہے جس نے امتوں کو صراط مستقیم سے دور کیا ہے۔ مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے اور اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
Ayah 2:199ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔
(پھر تم پلٹوجہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں اور اللہ سے معافی چاہو، بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے) (199)
ایک رسم بد کی اصلاح
اس آیت کریمہ میں قریش کی ایک رسم بد کی اصلاح کی جارہی ہے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے زمانے سے عربوں کا طریقہ حج یہ تھا کہ وہ نو ذی الحج کو منیٰ سے عرفات جاتے تھے اور شام کو وہاں سے پلٹ کر مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے۔ پھر اگلے دن صبح کو منیٰ کا رخ کرتے تھے لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ جب قریش میں ملت ابراہیم سے انحراف شروع ہوا تو جہاں ان میں اور خرابیاں آئیں وہیں مناسکِ حج کی ادائیگی میں بھی کمی بیشی ہوئی۔ پہلے وہ اپنے آپ کو بیت اللہ کے خدام سمجھتے تھے اور حاجیوں کی خدمت اور دینی ماحول کی نگرانی ان کی ذمہ داری تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ وہ اللہ کے گھر کے پروہت بن گئے اور برہمنیت کی ذہنیت ان میں پیدا ہوگئی۔ اس جھوٹے پندار کا شکار ہوکرانھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم چونکہ اہل حرم ہیں ہمارے مرتبے سے یہ بات فروتر ہے کہ عام اہل عرب کے ساتھ عرفات تک جائیں کیونکہ حرم کی حدود عرفات سے کچھ پہلے ختم ہوجاتی ہیں اور عرفات کا سارا علاقہ حدودحرم سے باہر ہے۔ حرم کے پروہت ہونے کی وجہ سے وہ یہ بات اپنی شان امتیاز کے خلاف سمجھتے تھے کہ ہم حج کی ادائیگی کے لیے حرم کی حدود سے باہر نکلیں۔ چناچہ یہ مزدلفہ تک جاتے اور وہیں سے واپس لوٹ آتے اور عام لوگوں کو عرفات تک جانے کے لیے چھوڑ دیتے۔ شروع میں تو یہ امتیاز صرف قریش میں پیدا ہوا پھر رفتہ رفتہ بنی خزاعہ اور بنو کنانہ اور چند دوسرے ایسے قبیلوں نے بھی یہی روش اپنا لی کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ قریش کے ساتھ شادی بیاہ کے رشتوں میں شریک ہونے کے باعث ان کا مرتبہ بھی قریش کے برابر ہوگیا ہے۔ ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک پہنچی کہ جو قبیلے قریش کے حلیف تھے وہ بھی اپنے آپ کو باقی عربوں سے ممتاز سمجھنے لگے اور انھوں نے بھی عرفات جانا چھوڑ دیا۔ اس آیت کریمہ میں ان سب کے فخروغرور کے بت کو توڑا گیا ہے اور سب کو حکم دیا گیا ہے کہ جس طرح باقی تمام لوگ عرفات سے ہو کر لوٹتے ہیں تمہیں بھی عرفات سے عرفات کے وقوف کے بعد لوٹنا چاہیے اور اسے قیامت تک مسلمانوں کے لیے لازم کردیا گیا بلکہ آنحضرت ﷺ نے یہاں تک فرمایا : الحج عرفۃ ” حج تو عرفات کی حاضری کا نام ہے “۔ کوئی آدمی اگر عرفات میں حاضر نہیں ہوتا تو یہ ایسا اہم رکن ہے کہ ایسے شخص کا حج ادا نہیں ہوتا۔ حاجی وہاں زوال آفتاب تک پہنچ جاتے ہیں۔ جن لوگوں کو مسجد نمرہ میں جگہ مل جاتی ہے وہ مسجد میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ امام کے پیچھے ادا کرتے ہیں اور اس سے پہلے حج کا خطبہ سنتے ہیں۔ اور جن لوگوں کو مسجد میں جگہ نہیں ملتی وہ اپنے اپنے خیموں میں ظہر اور عصر اپنے اپنے وقتوں میں پڑھتے ہیں اور پھر ظہریا عصر کے بعد لوگ اپنے خیموں میں یا باہر کھلی جگہ میں یا جبلِ رحمت کے دامن میں غروب آفتاب تک دعائوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہاں کا ایک ایک لمحہ زندگی کا حاصل ہے۔ اس لیے ہر سمجھدار حاجی ایک ایک لمحے کو نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر اپنے لیے کچھ مانگ لینا چاہتا ہے۔ اللہ کی یاد میں ڈوب کر اس کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ پھر جیسے ہی توپ کا فائر غروب آفتاب کا اعلان کرتا ہے حاجی فوراً عرفات سے روانہ ہوجاتے ہیں کیونکہ عرفات میں مغرب کی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں۔ اب حکم یہ ہے کہ مزدلفہ پہنچو اور وہاں مغرب اور عشا کی نماز ایک ساتھ ادا کرو۔
قریش چونکہ اس سے پہلے عرفات کی حاضری کو چھوڑ کر ایک بہت بڑے جرم کا ارتکاب کرچکے تھے اس لیے انھیں حکم دیا جارہا ہے کہ اب اگرچہ اسلام لانے کے بعد تمہارے پہلے گناہ معاف ہوچکے ہیں لیکن وہ فخر و غرور جو تمہاری گھٹی میں پڑچکا ہے ممکن ہے اس کے اثرات کچھ اب بھی باقی ہوں۔ اس لیے باربار اللہ سے استغفار کرو اور اپنے اس تصور کی اصلاح کے لیے اللہ سے معافی مانگو تاکہ تمہارے اندر کا یہ بت ٹوٹ جائے۔
اسلام نے جن برائیوں سے بڑی تاکید کے ساتھ روکا ہے اور جس کے ارتکاب کرنے والے کے لیے سخت ترین وعید سنائی ہے ان میں سے ایک نہایت خطرناک برائی کبر اور نخوت ہے۔ آنحضرت نے یہاں تک فرمایا کہ جس آدمی کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت کی بو نہیں سونگھ سکے گا۔ پھر نماز کے ذریعے مسلمانوں میں مساوات اور یکسانی پیدا کرنے کی پانچ وقت اس طرح تربیت دی گئی کہ اگر یہ عبادت شعور کے ساتھ انجام دی جائے تو کبر اور نخوت کا کوئی شائبہ بھی دل میں باقی نہیں رہ سکتا۔ لیکن حج کی عبادت ایک ایسی عبادت ہے جس میں قدم قدم پر انسانی مساوات اور اونچ نیچ کے خاتمے کا درس دیا گیا ہے۔ سب کو ایک جیسے لباس میں ملفوف کردیا جاتا ہے۔ سب کی زبانوں پر ایک ہی ترانہ گونجتا ہے، سب ایک طرح کے اعمال بجالانے کے پابند کیے جاتے ہیں۔ کالے گورے، امیر و غریب، حاکم و محکوم کے فرق کے بغیر یکساں طور پر سب کو اللہ کے گھر کا طواف کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کرایا جاتا ہے تاکہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا مرض اور سب سے بڑا عارضہ جسے فخروغرور اور چھوٹے بڑے میں امتیاز کا نام دیا جاتا ہے وجود میں نہ آنے پائے۔ چونکہ یہ ایک ایسا مرض ہے کہ جب بھی کسی قوم میں پیدا ہوجاتا ہے اس قوم کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ باہمی احساسات تباہ ہوجاتے ہیں۔ محبت کی جگہ نفرت لے لیتی ہے۔ اور امت مسلمہ جو کسی ایک رنگ یانسل کے لوگوں کا نام نہیں بلکہ ایک عقیدے اور عمل کی وحدت کا نام ہے جس میں مختلف انسانی گروہ اور مختلف انسانی نسلیں اور مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف جغرافیائوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوکرمحض ایک نظریے کی قوت اور ایک عقیدے کی وحدت کی وجہ سے ایک امت کو تشکیل دیتے ہیں۔ اس میں ابو ذر غفاری اور بلال نہ صرف کہ ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں بلکہ زندگی کے ہر مرحلے میں ہر لحاظ سے یکساں ہیں۔ اس امت میں حضور کے حقیقی چچا کے لیے ایمان نہ لانے کے باعث کوئی جگہ نہیں لیکن حسن جو بصرہ سے آئے، بلال حبش سے اور صہیب روم سے ان کا اس امت میں ایک نمایاں مقام ہے۔ اگر ایسی امت میں تفریق، اونچ نیچ، نسلی تفاوت اور طبقاتی احساس پیدا ہوجائے تو یہ امت نہ صرف اپنی قوت کھو دے گی بلکہ اپنا وجود بھی باقی نہ رکھ سکے گی۔ اس لیے حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے نہایت تاکید سے ارشاد فرمایا :
کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، سفید کو سیاہ پر اور سیاہ کو سفید پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے۔
جہاں کہیں بھی امت مسلمہ کی اس وحدت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیداہو حضور نے اس کے لیے سخت احکام جاری فرمائے اور قرآن کریم نے نہایت ہولناک انجام سے ڈرایا۔ حج جیسی عبادت جو سرتاپا اس بنیادی احساس کو پیدا کرنے والی عبادت ہے اس میں اگر اس طرح کا کوئی حادثہ واقع ہوجائے جیسے قریش کا عمل تھا تو یہ اس امت کے لیے نہایت تباہ کن بات ہوگی۔ اس لیے یہاں بطور خاص اس برائی کی تردید فرمائی گئی۔
Ayah 2:200فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآئَ کُمْ اَوْاَشَدَّ ذِکْرًا ط فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ رَبَّنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَمَا لَـہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلاَقٍ ۔
(جب تم حج کے مناسک ادا کرچکو تو اللہ کو یاد کروجس طرح تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر، لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی دعا یہ ہوتی ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں کامیابی عطا کر اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ (200)
مزید اعمال بد کی اصلاح
ان آیات کریمہ میں پروردگار نے کچھ اعمالِ بد کی اصلاح فرمائی ہے جن میں عرب مبتلا تھے اور کچھ خیالات اور تصورات کو صحیح رخ عطا فرمایا ہے جن کے غلط ہونے کے باعث عربوں کی زندگی یا تو بےمقصد ہوگئی تھی اور یا غلط مقاصد کے لیے وقف ہوگئی تھی۔
حاجی جب مزدلفہ سے منیٰ پہنچتے ہیں تو اب انھیں احرام کھولنے سے پہلے دو کام کرنا ہوتے ہیں ایک ہے رمی جمرات اور دوسرا ہے حج کے شکرانے کے طور پر کسی جانور کی قربانی۔ ان دو کاموں کے بعد حاجی احرام کھول دیتے ہیں اور حج کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد طواف زیارت کے لیے کسی وقت بھی جایاجاسکتا ہے۔ منیٰ کے باقی قیام میں رمی جمرات کے سوا اور کوئی مصروفیت نہیں ہوتی۔ دور جاہلیت میں عربوں نے اس فراغت کے وقت کو جسے ذکر اللہ میں گزرنا چاہیے تھا ایسے معمولات اور مصروفیات کی نذر کردیا تھا جس نے حج کے تمام اثرات کو زائل کرکے رکھ دیا۔ پورے جزیرہ عرب میں پھیلے ہوئے قبیلوں سے چھن چھن کر لوگ ہر سال یہاں جمع ہوتے تھے۔ ان میں بڑے بڑے شعرا بھی ہوتے تھے اور بڑے بڑے خطبا بھی۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہوتے تھے جنھیں اپنی جسمانی قوت پر ناز ہوتا تھا اور ایسے لوگ بھی جو ڈھیروں مال تجارت لے کر یہاں آئے ہوئے ہوتے تھے۔ ان میں سے ہر گروہ اپنے اپنے ذوق کی تسکین اور تفریحِ طبع کے لیے مصروفیات پیدا کرلیتا تھا۔ بڑے بڑے مشاعروں کی مجلسیں جمتیں اور شعروشاعری کے مقابلے ہوتے۔ چونکہ عرب حافظے میں بےمثل واقع ہوئے تھے اس لیے ایک ہی نشست میں سنے ہوئے اشعار ان کے حافظے میں پیوست ہوجاتے تھے۔ مجالسِ مشاعرہ کے ساتھ ساتھ زبان دانی اور طلاقتِ لسانی کے بھی معرکے ہوتے۔ خطیب اور زبان آورلوگ اپنی اپنی مہارت کے جوہر دکھاتے۔ جس کے نتیجے میں عربی زبان کو نادر الفاظ، ضرب الامثال، تلمیحات، تشبیہات، اور محاورات کا ایک قیمتی ذخیرہ ہاتھ آتا۔ جسمانی توانائی کے حامل لوگ کشتی اور اس طرح کے دوسرے فنون کا اظہار کرتے۔ بڑے بڑے دنگل ہوتے، بڑے بڑے پہلوانوں کا ایک دوسرے سے سامنا ہوتا۔ جو ان معرکوں میں سرخرو ٹھہرتا پورے عرب میں اس کی شہرت پھیل جاتی۔ پھر انہی لوگوں میں سے طبقہ امرا سے تعلق رکھنے والے اپنے مال تجارت سے بازاروں کی صورت پیدا کردیتے۔ اور ایک سے ایک بڑھ کر کاروباری منڈیاں وجود میں آجاتیں۔ ہر سال یہ ہنگامے، یہ رنگارنگی، یہ مصروفیات اور یہ تفریحِ طبع کا سامان عربوں کی زندگی کا ایک جزو لاینفک بن چکا تھا اور اس کے اپنے فوائد بھی تھے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ فریضہ حج جس مقصد کے لیے فرض کیا گیا تھا اور بیت اللہ سے جو پیغام دیا جارہا تھا اور احرام، تلبیہ، اور قربانیاں جس کی یاد کے لیے کی جارہی تھیں وہ تو سب کچھ اس ہنگامے کی نذر ہوگیا۔ چناچہ اس پوری صورتحال کو بدلنے کے لیے حکم دیا جارہا ہے کہ تم جو سینکڑوں میلوں کا سفراہل و عیال کی مفارقت اور ہزاروں روپے کے مصارت کے بعد یہاں پہنچے ہو تو کیا اس کا حاصل یہی چند روزہ ہنگامے ہیں تمہیں تو یہاں اللہ کی یاد تازہ کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ تمہاے دل و دماغ کو اس آب حیات سے سیراب کرنا تھا جس کا سرچشمہ یہاں پھوٹتا ہے۔ ماضی میں جو ہوا سو ہوا اب آئندہ کے لیے اچھی طرح یہ بات سمجھ لو کہ مناسکِ حج سے فراغت کے بعد تمہیں اپنے اللہ کو اس سے بڑھ کریاد کرنا ہے جتنا تم ان میلوں ٹھیلوں میں اپنے آبائو اجداد کو یاد کرتے تھے۔ ان کی عظمت کے گیت گاتے تھے، اور دوسروں کے دلوں میں ان کی عظمت کی دھاک بٹھادینا چاہتے تھے حالانکہ تم جانتے ہو اس میں حقیقت کتنی ہے۔ اب تمہیں صرف اللہ کی کبریائی کے گن گانے ہیں۔ اس کی بڑائی اور عظمت کو یہاں ایک حقیقت ثابت کرنا ہے کیونکہ تمہارے یہاں آنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں۔
ذہنی تصورات کی اصلاح
عربوں کے اعمالِ بد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ان کے ذہنی تصورات اور ذہنی رویوں کی بھی اصلاح فرمائی۔ فرمایا : یہ صحیح ہے کہ سارے لوگ ہی محولہ بالامصروفیات میں کھوئے نہیں رہتے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ سے دعائیں مانگنے میں مصروف رہتے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان مانگنے والوں میں بھی دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جن کے دل و دماغ کے ہر گوشہ پر محبت دنیا کا غلبہ ہے۔ ان کے نزدیک دنیا میں آنے کا اصل مقصد دولت دنیا کا زیادہ سے زیادہ حصول ہے۔ اگر کوئی آدمی دنیا طلبی میں پیچھے رہ گیا اور وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل نہ کرسکا تو ان کی نگاہ میں وہ ایک محروم آدمی ہے۔ انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کھاناپینا، اوڑھنا پہننا، رہنا سہنا، انسانی زندگی کی ضرورتیں ہیں مقصد نہیں، انسانی زندگی صرف اسی کا نام تو نہیں کہ آدمی کھائے پئے، آرام کرے، اچھا مکان بنالے، اچھی سواری حاصل کرلے، گھر میں دولت کی ریل پیل ہو اور زندگی کی ہر ضرورت میسر ہو سوال یہ ہے کہ ان بنیادی ضرورتوں کے لیے زندگی بھر محنت تو حیوان بھی کرتا ہے۔ وہ اپنی جبلت کے مطابق کھانے پینے، بچے پیدا کرنے اور رہنے سہنے کے تمام اسباب مہیا کرتا ہے۔ اس کے لیے اسے دوسروں کے بھٹ پر قبضہ کرنا پڑے، کسی دوسرے جانور کا شکار کرکے اس کا پیٹ پھاڑنا پڑے۔ وہ اس سے دریغ نہیں کرتاکیون کہ وہ جانتا ہے کہ مجھے ہر صورت اپنی ضروت پوری کرنی ہے۔ اگر یہی کام انسان بھی کرتا ہے اور اسی کام میں زندگی گزار دیتا ہے، اس کے لیے جائز اور ناجائز، حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں کرتا اور اسے اس سے کوئی غرض نہیں کہ دوسروں کے حقوق اس سے متاثر ہوتے ہیں یا نہیں۔ تو پھر اس میں اور حیوان میں بنیادی فرق کیا ہے ؟ وہ بھی ضروریات کے حصول کے لیے زندگی گزاردینے کو زندگی سمجھتا ہے اور یہی کچھ انسان بھی کرتا ہے تو دونوں میں کوئی جوہری فرق تو باقی نہیں رہتا۔ یہی وہ ذہنیت ہے کہ جس کے حامل کو اگر حج کی سعادت بھی میسر آجائے تو وہ حج کے دوران اللہ کے گھر کے سامنے، اس کے پردوں میں لپٹ کر، اس کے ملتزم سے چمٹ کر، مسجد حرام میں ہاتھ پھیلاکر یاعرفات میں آنسو بہا کر بھی صرف یہ مانگتا ہے کہ مجھے دولت دے دے، عہدہ ومنصب دے دے، فلاں چیز دے دے، فلاں چیز دے دے، لیکن اس کے علاوہ اس کے ذہن میں نہ حقوق اللہ کا کوئی تصور ہے نہ حقوق العباد کا، نہ اقدارِ حیات کوئی شے ہیں اور نہ مقاصدِ حیات کوئی چیز۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن کا یہاں ذکر فرمایا جارہا ہے کہ ان کو جب بھی موقع ملتا ہے تو وہ اللہ سے صرف یہ دعا کرتے ہیں : رَبَّنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا۔
انھیں صرف دنیا چاہیے، دنیا ہی ان کا مطلوب ہے اور دنیا ہی ان کا مقصود۔ یہی ان کا مقصد زندگی ہے اور یہی حاصل زندگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ سے مانگتے ہوئے بھی اور اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے بھی اس بات سے بالکل بیخبر ہیں کہ اللہ کے سامنے جوابدہی بھی کرنی ہے اور اصل کامیابی یا ناکامی اسی دن کی کامیابی یا ناکامی ہے۔ لیکن وہ بھول کر بھی آخرت کا نام نہیں لیتے۔ اللہ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، دنیا تو انھیں مل جائے گی، وہ تو کافر کو بھی مل جاتی ہے لیکن وہ زندگی جو ابدی اور ہمیشہ کی زندگی ہے جس سے محرومی حقیقی محرومی ہے، اس سے وہ محروم کر دئیے جائیں گے۔
ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ ایک آدمی جو اللہ کا مانتا ہے اسی کی خاطر فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے آتا ہے پھر اسی کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ آخرت کے لیے کبھی دعا نہ کرے ؟ یقینا یہ عجیب بات ہے لیکن اس کا کیا جائے کہ یہ ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ ہے، کہ لوگ حج اور عمرہ کے لیے سفر کرتے ہی بزرگوں کے پاس جاتے ہیں، ان سے اوراد ووظائف سیکھتے ہیں، ان سے دعائیں کراتے ہیں، لیکن ان میں بکثرت لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی غرض حج وعمرہ اور ان تمام وظائف اور دعائوں سے صرف دولت کی ترقی، تجارت میں برکت، یا ایسی ہی اور دنیوی اغراض ہوتی ہیں اور اس میں کسی خاص طبقہ کی خصوصیت بھی نہیں۔ چند خوش نصیبوں کو چھوڑ دیجئے ورنہ بیشتر لوگ اپنی عبادات کے بعد یا بزرگوں کے پاس حاضری کے وقت ایسی چیزوں کی طلب کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو کسی اللہ والے کے پاس اپنی آخرت سنوارنے کے لیے جاتے ہوں۔ چناچہ اس کے بعد ان لوگوں کی خبر دی گئی ہے کہ جو صحیح معنی میں دین سے رشتہ رکھتے ہیں انھیں معلوم ہے کہ اللہ سے مانگنے کا طریقہ کیا ہے اور کیا دولت ہے جو اللہ سے مانگنی چاہیے۔
Ayah 2:201وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّـقُوْلُ رَبَّـنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔
(اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو دعا کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا) (201)
پسندیدہ دعا
آیت کریمہ کے اس حصے میں بظاہر ان لوگوں کا تذکرہ ہے کہ جن کے دعا مانگنے کا انداز اور اسلوب بالکل صحیح ہے اور جو دعا میں وہ چیز مانگ رہے ہوں جو اللہ کی نگاہ میں بہتر ہے لیکن حقیقت میں لوگوں کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ زاویہ نگاہ کی اصلاح بھی ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جن لوگوں کا تذکرہ پہلے گزرچکا ہے وہ اپنے اللہ سے جو کچھ مانگتے تھے اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ دین کے بارے میں اور اپنے پروردگار کے بارے میں ان کا رویہ اور ان کا زاویہ نگاہ بالکل غلط ہے۔ ان کے غلط زاویہ نگاہ نے ان کی پوری زندگی میں بگاڑ پیدا کردیا تھا۔ دنیا اور آخرت کے حوالے سے ان کے خیالات بگڑ گئے۔ اس بگاڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ حج جو خالصتا ایک عاشقانہ اور مخلصانہ عبادت ہے وہ بھی دنیاداری کی تصویر بن کر رہ گیا اور وہ مقدس مقامات جہاں مناسک حج ادا کیے جاتے ہیں وہ میلوں کی صورت میں تبدیل ہوگئے۔ اب اسی زاویہ نگاہ کی اصلاح کے لیے ایسے لوگوں کی تصویر کشی کی جارہی ہے جو اپنے پروردگار اور دین کے بارے میں صحیح تصور اور صحیح زاویہ نگاہ رکھتے ہیں اور اسی نے ان کی پوری دینی زندگی میں ایک ایسا حسن پیدا کردیا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔
اس میں جو تصور دیا گیا ہے اس میں تین باتیں بہت نمایاں ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اس سے پہلے متذکرہ لوگوں نے صرف دنیا مانگی جس میں آخرت کا کوئی ذکر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف دنیا پر یقین رکھتے ہیں۔ آخرت کے بارے میں شاید ان کا خیال یہ ہے کہ یہ محض ڈھکوسلہ ہے۔ مذہبی لوگوں نے جسے اختراع کر رکھا ہے۔ محض ایک مصنوعی تصور پر کون اپنی زندگی کا حسن غارت کرے۔ اسی دنیا کی خوشیاں اصل خوشیاں ہیں۔ یہیں کے غم اصل غم ہیں۔ یہاں کی کامیابیاں حقیقی کامیابیاں ہیں اور یہاں کی محرومیاں انسان کے لیے سب سے بڑا لمحہ فکریہ ہیں۔ اس لیے جس چیز کی حقیقت مسلم نہیں اللہ کے گھر کے سامنے یا دیگر مقامات مقدسہ میں اسے مانگنے کی ضرورت کیا ہے اور جس کی حقیقت مسلم ہے صرف اسی پر اکتفا نہ کرنے کی آخر وجہ کیا ہے۔ ہم محض بہلاو وں کے پیچھے بھاگنے والے لوگ نہیں۔ ؎
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
پیش نظر آیت میں سب سے پہلی بات یہ بتائی گئی ہے کہ اللہ کو جو لوگ پسند ہیں اور جو زاویہ نگاہ پروردگار عطا فرمانا چاہتے ہیں اس میں صرف دنیا کا کوئی تصور نہیں۔ دنیا کے بعد آخرت بھی ایک حقیقت ہے اور یہ دنیا اسی کی تیاری کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ یہ دنیا انسان کے لیے دارالابتلاء ہے کہ وہ یہاں رہ کر اور یہاں کی نعمتوں میں مگن ہو کر اور یہاں کی دلچسپیوں میں کھو کر آخرت کو یاد رکھتا ہے یا بھول جاتا ہے۔ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جس نے آخرت کو یاد رکھا اس کی دنیا کے معاملات بھی ٹھیک ہوگئے۔ اس نے اپنی دنیا کو آخرت کا مقدمہ بنادیا۔ اس نے دنیا کا ہر کام اس احتیاط سے کیا کہ اس کے لیے آخرت میں جواب دہی آسان ہوگئی۔
دوسری بات اس آیت کریمہ میں جو فرمائی گئی ہے وہ یہ کہ متذکرہ بالا لوگوں نے اللہ سے صرف دنیا مانگی اور دنیا میں بھی حسنہ کی دعا نہیں کی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی دنیا چاہتے ہیں جس میں حسنہ کا کوئی تصور نہ ہو۔ چناچہ اس تصور کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ تم آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا مانگو لیکن صرف دنیا نہ مانگو اس کے ساتھ حسنہ بھی مانگو۔ یہ وہ چیز ہے جو انسان کو دنیا کے مضر پہلوؤں سے بچاتی ہے کیونکہ حسنہ تمام ظاہری اور باطنی خوبیوں اور بھلائیوں کا نام ہے۔ مثلا دنیا کی حسنہ میں بدن کی صحت، اہل و عیال کی صحت، رزق حلال میں وسعت و برکت، سب ضروریات کا پورا ہونا، اعمال صالحہ، اخلاق محمودہ، علم نافع، عزت ووجاہت، عقائد کی درستی، صراط مستقیم کی ہدایت، عبادات میں اخلاص کامل سب داخل ہیں۔ ان چیزوں پر غور فرمائیے تو آپ یقینا اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جو شخص دنیا میں حسنہ کے لیے دعا کرتا ہے وہ آخرت کے تصور سے بےبہرہ نہیں رہ سکتا۔ یہ صحیح ہے کہ اس آیت کریمہ میں دنیا کے ساتھ آخرت کے لیے دعا کرنے کا تصور دیا ہے لیکن میں نے جو تفصیل ” حسنہ “ کے سلسلے میں عرض کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تصور بجائے خود آخرت کے تصور کا مقدمہ ہے اور پھر آخرت کے لیے دعا کا جو سلیقہ سکھایا گیا اس میں بھی حسنہ کا ذکر موجود ہے کہ دنیا میں بھی اللہ سے حسنہ مانگو اور آخرت میں بھی حسنہ مانگو اور آخرت کی حسنہ جنت اور اس کی بیشمار اور لازوال نعمتیں اور حق تعالیٰ کی رضا اور اس کا دیدار ہے۔
تیسری چیز جو آیت کریمہ کے اس حصے میں بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے محبوب بندے جب اللہ سے دعا مانگتے ہیں تو وہ دنیا اور آخرت کی بھلائیاں مانگنے کے ساتھ ساتھ ایک بات کی دعا کرنا کبھی نہیں بھولتے وہ یہ ہے کہ اے ہمارے رب جہنم کے عذاب سے ہمیں بچانا۔ کیونکہ دنیا میں بھلائیاں آخرت کا پیش خیمہ ہیں اور آخرت کی بھلائیاں دنیا میں ایک کامیاب دینی زندگی کا نتیجہ ہیں۔ لیکن دونوں کا اصل مقصود صرف یہ ہے کہ اللہ ہمیں قیامت کی گرفت سے محفوظ فرمائے۔ ہمارے لیے حساب کتاب آسان کردے، ہمیں اپنے فضل و کرم سے نوازے۔ جس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں جہنم کے عذاب سے بچایا جائے۔ کیونکہ وہ چیز جس سے مومن کا دل پگھلتا اور پتہ پانی ہوتا ہے اور جس سے اس کی آنکھیں اشکبار ہوتی اور جس سے اس کی تنہائیاں شدت احساس میں ڈوب جاتی ہیں، وہ صرف یہ تصور ہے کہ میں اپنی بداعمالیوں کے نتیجے میں کہیں جہنم میں نہ جھونک دیا جاؤں۔ اس لیے اصل کامیابی جس کا تصور ایک مومن کرسکتا ہے، وہ یہی ہے کہ اللہ جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ قرآن کریم نے بجا طور پر فرمایا : فمن زحزح عن النار و ادخل الجنۃ فقد فاز۔ جو شخص جہنم کے عذاب سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہی کامیاب ٹھہرا۔ “ جہنم سے بچنے کے لیے جن چیزوں کو مقدمہ بنایا گیا وہ دنیا میں آخرت کی تیاری، ایمان اور حسن عمل کا سرمایہ ہے اور اس آیت کریمہ میں چونکہ انہی بنیادی باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس لیے حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بکثرت یہی دعا فرمایا کرتے تھے اور طواف کے دوران اس دعا کا زیادہ سے زیادہ مانگنا مسنون بھی ہے۔
اس آیت کریمہ میں چونکہ دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنے کا تصور دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جس طرح صرف دنیا کی طلب ایک مومن کا نہیں ایک کافر کا شیوہ ہے اسی طرح یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو نظرانداز کرکے اللہ سے صرف آخرت کی بھلائی مانگنا یہ بھی صالح مومن کا طریقہ نہیں۔ اللہ کے نبیوں نے بھی ضروریات کی حد تک دنیا سے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی کھاتے پیتے رہے، اوڑھتے پہنتے رہے، انھوں نے بھی بیویوں سے تعلق رکھا۔ اللہ کی نعمتیں استعمال کیں تو ان کا شکر بھی ادا کیا۔ دنیا سے محبت نہیں کی نہ دنیا کو مقصود بنایا لیکن دنیا کو نظرانداز بھی نہیں کیا۔ کیونکہ آخرت یا دین کا مقصود دنیا کو نظرانداز کرنا نہیں اور نہ دنیا کو چھوڑنا ہے۔ بلکہ دنیا کو اس طرح برت کے دکھانا ہے جس سے معلوم ہو سکے کہ ایک مومن اور کافر کی دنیا بسری میں فرق کیا ہے۔ ایک مومن دنیا میں رہتا ضرور ہے لیکن وہ دنیا کو ایک مسافر خانہ سمجھتا ہے، اس کے ایک ایک معاملے میں دخل دیتا ہے لیکن اس سے دل نہیں لگاتا۔ وہ دنیا میں اس لیے رہتا ہے تاکہ دنیا کو سنوار دے۔ وہ دنیا سے لیتا کم ہے اسے دیتا زیادہ ہے۔ اس کا حال یہ ہوتا ہے :
خاکی و نوری نہاد بندہ مولیٰ صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بےنیاز
اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب اس کی نگہ دلنواز
اس سے ان نام نہاد درویشوں اور صوفیوں کی اصلاح ہوجاتی ہے جو ترک دنیا میں دین کی معراج سمجھتے ہیں اور دنیا کے جھمیلوں میں شریک ہونا ان کے ہاں دین داری کے خلاف ہے۔
Ayah 2:202اُولٰٓئِکَ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّاکَسَبُوْا ط وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔
(یہی لوگ ہیں جن کو ان کے کیے کا حصہ ملنا ہے اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے) (202)
اس آیت کریمہ میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ پہلی یہ بات کہ اس سے پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ جن لوگوں نے صرف دنیا مانگی، ان کے لیے پروردگار نے فرمایا کہ ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ ہم ان کو دنیا دیں گے لیکن یہ آخرت میں محروم رہیں گے۔ اس کے بعد ان پسندیدہ لوگوں کا ذکر کیا جو دنیا اور آخرت دونوں مانگتے ہیں اور دونوں میں اللہ سے بھلائیوں کے طلب گار ہوتے ہیں، ان کے بارے میں فرمایا کہ انھوں نے اللہ کے احکام کی تعمیل میں جس طرح زندگی گزاری جیسی کچھ محنت کی، جس طرح مشکلات کا سامنا کیا۔ بہت سی محرومیوں پر صبر کیا، پھر غلبہ دین کی کوششوں کے سلسلے میں صعوبتیں اٹھائیں۔ ان میں سے کوئی بات ایسی نہیں جس کا انھیں آخرت میں اللہ کی طرف سے اجروثواب نہ ملے۔ ان کی ہر نیکی محفوظ ہے اور ہر نیکی وہاں اپنا اجر پائے گی۔ جس طرح مزدور کی محنت ایک دیانت دار مالک کبھی ضائع نہیں ہونے دیتا۔ اسی طرح پروردگار جیسا کریم اپنے بندوں کی کسی محنت اور کسی اجر کو ضائع نہیں فرماتا۔ انھوں نے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جو کوششیں کی ہیں جب انھیں ان کوششوں کا صلہ ملے گا تو حدیث میں آتا ہے کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش اللہ کے دین کے راستے میں ہماری کھالیں کاٹی گئی ہوتیں اور آج ہم زیادہ زیادہ اس کا اجروثواب پاتے۔
دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ قرآن کریم میں یہ بات متعدد دفعہ دہرائی گئی ہے کہیں تنبیہ اور تہدید کے انداز میں اور کہیں تحسین اور حوصلہ افزائی کے انداز میں۔ یہاں سیاق کلام دلیل ہے کہ تسلی اور تحسین کے لیے یہ جملہ فرمایا گیا ہے۔ بتانا شاید یہ مقصود ہے کہ تمہیں اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جن مصائب سے گزرنا پڑ رہا ہے اور ایک بگڑے ہوئے معاشرے میں دینی زندگی گزارنے کے لیے تمہیں جس طرح صبرآزما مراحل سے واسطہ ہے دنیا میں بھی اس کا اجروثواب دور نہیں۔ مسلمانوں نے چند ہی سالوں میں صورتحال کو بدلتے دیکھا۔ ایک نئی ریاست وجود میں آئی۔ طاقت کے پیمانے بدل گئے۔ مذاق اڑانے والے عبرت بن کر رہ گئے۔ جغرافیہ تبدیل ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے فتنے مٹ گئے اور اللہ کا دین غالب آگیا۔ جہاں تک آخرت کا تعلق ہے اس میں ایک مومن جب جنت اور خدا کی رضا کی صورت میں اپنا اجر دیکھے گا تو وہ یوں محسوس کرے گا کہ عمل اور اجر میں کوئی فاصلہ نہیں۔ میرا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مجھے مزدوری دے دی گئی۔ حدیث شریف میں آتا ہے : مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُـہٗ ” جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو آگئی۔ “ نیک آدمی دفن ہوتے ہی جنت کے مبادیات کی لذت محسوس کرنے لگتا ہے اور برا آدمی اپنی بداعمالیوں کی سزا کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ آنکھیں بند ہوتے ہی وہ کیفیات انسان پر طاری ہونے لگتی ہیں جس کی تعبیر وہ قیامت کے دن دیکھے گا۔ اس سے آپ اندازہ کیجئے کہ اس سے زیادہ سرعت حساب اور کیا ہوگی کہ زندگی کا فانوس بجھا تو عمل اور جزا کا فرق مٹ گیا۔ ادھر انسان نے زندگی کا بوجھ اتارا ادھر جزاوسزا کی دنیا اس کے سامنے آکھڑی ہوئی۔