2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

ہم دیکھتے رہے ہیں آسمان کی طرف آپ کے چہرے کے باربار اٹھنے کو، سو ہم پھیرے دیتے ہیں آپ کو اسی قبلے کی طرف جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ پس پھیر دیجئے اپنا رخ مسجد حرام کی طرف، اب جہاں کہیں بھی تم ہو تو اپنارخ اسی کی طرف کروجن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہی ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور جو کچھ وہ کررہے ہیں اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔

قَدْنَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِیْ السَّمَآئِ ج فَلَنُوَلِّیَنَّـکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا ص فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ ط وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّـہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ ۔ (البقرۃ : 144) (ہم دیکھتے رہے ہیں آسمان کی طرف آپ کے چہرے کے باربار اٹھنے کو، سو ہم پھیرے دیتے ہیں آپ کو اسی قبلے کی طرف جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ پس پھیر دیجئے اپنا رخ مسجد حرام کی طرف، اب جہاں کہیں بھی تم ہو تو اپنے رخ اسی کی طرف کروجن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہی ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور جو کچھ وہ کررہے ہیں اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔ ) سورة البقرۃ کے گزشہ رکوع کی آیات میں حضرت ابراہیم، بیت اللہ اور آنحضرت ﷺ کے حوالے سے تفصیل بیان کی گئی ہے اس سے آنحضرت ﷺ کو اچھی طرح یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ آپ کا قبلہ وہی ہوگا جس قبلے کی تعمیر کے وقت میرے لیے اور اس امت کے لیے میرے جدامجد نے دعائیں مانگی تھیں۔ لیکن اللہ کی طرف سے بعض مصلحتوں کے تحت (جنھیں اللہ ہی جانتا تھا) ابھی تحویلِ قبلہ کا حکم نہیں آرہا تھا تو آنحضرت ﷺ کا اشتیاق بڑھتا جارہا تھا چناچہ جس طرح اپنے کسی محبوب کے انتظار میں نگاہیں باربار دروازے کی طرف اٹھا کرتی ہیں اسی طرح آنحضرت ﷺ کی نگاہیں بھی باربار آسمانوں کی طرف اٹھتی تھیں کہ دیکھئے کب حضرت جبریل تحویل قبلہ کا حکم لے کر نازل ہوتے ہیں۔ آسمان کی طرف آپ کی نگاہیں اس لیے اٹھتی تھیں کیونکہ حضرت جبریل ہمیشہ آسمان سے ہی اترتے نظر آتے تھے۔ چناچہ بالآخر وہ وقت آگیا جو اس فیصلے کے لیے مقدر تھا لیکن اس سے پہلے آنحضرت کا آسمان کی طرف چہرے کو گردش دینا جو آپ کی خاص محبوبانہ ادا تھی اس کا جس طرح پروردگار نے ذکر فرمایا ہے وہ بجائے خود آنحضرت کی کلاہ افتخار میں ایک ایسا ہیرا ہے جس کی چمک قیامت تک ماند نہیں پڑے گی۔ میرے ماں باپ قربان ہوں اس ذات والا صفات پر کہ جس کے چہرے کی گردش کو اس پروردگارِ عالم کی نگاہیں دیکھتی ہیں۔ جس کے فیضان سے آسمان گردش کرتے اور اجرامِ فلکی حرکت کرتے ہیں اور کائنات محو پرواز ہے۔ اس کے بعد بجائے براہ راست یہ ارشاد فرمانے کے کہ ہم کعبہ کی طرف آپ کو پھیر دیں گے ارشاد یہ ہوا کہ ہم اسے آپ کا قبلہ قرار دے دیں گے، جسے آپ خود قبلہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کی کمال رفعت مراتب اور کمال درجہ فنا و قبولیت ظاہر ہے۔ مولانا تھانوی نے فرمایا کہ ” اہل طریقت کے ہاں جو اصطلاح مقام مرادیت و محبوبیت کی آئی ہے، اس کی اصل یہی آیت ہے “۔ کیا ٹھکانہ ہے اس بلندیِ مرتبہ کا کہ مولا خود طالب رضائے عبد ہوجائے۔ اس کے آگے کوئی مرتبہ تصور میں بھی نہیں آسکتا۔ اقبال نے اسی مقام کی تشریح کرتے ہوئے کہا : خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے یہ ہے تحویلِ قبلہ کا حکم فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ فرماکر تحویل قبلہ کا حکم ارشاد فرمایا۔ یہی اصل حکم ہے جس سے کعبہ کی تبدیلی عمل میں آئی یہ حکم رجب یا شعبان 2 ہجری میں نازل ہوا۔ ابن سعد کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بشر بن براء بن معرور کے ہاں دعوت پر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ظہر کا وقت آگیا اور آپ لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوئے دو رکعتیں پڑھاچکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعے سے یہ آیت نازل ہوئی اور اسی وقت آپ اور آپ کی اقتدا میں جماعت کے تمام لوگ بیت المقدس سے کعبے کے رخ پھرگئے اس کے بعد مدینہ اور اطرافِ مدینہ میں اس کی عام منادی کردی گئی۔ براء بن عازب کہتے ہیں کہ ایک جگہ منادی کی آواز اس حالت میں پہنچی کہ لوگ رکوع میں تھے حکم سنتے ہی سب کے سب اسی حالت میں کعبہ کی طرف مڑ گئے۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ بنی سلمہ میں یہ اطلاع دوسرے روز صبح کی نماز کے وقت پہنچی لوگ ایک رکعت پڑھ چکے تھے کہ ان کے کانوں میں آواز پڑی ” خبردار رہو ! قبلہ بدل کر کعبہ کی طرف کردیا گیا ہے “۔ سنتے ہی پوری جماعت نے اپنا رخ بدل دیا۔ خیال رہے کہ بیت المقدس مدینے سے عین شمال میں ہے اور کعبہ بالکل جنوب میں۔ نماز باجماعت پڑھتے ہوئے قبلہ تبدیل کرنے میں لامحالہ امام کو چل کر مقتدیوں کے پیچھے آنا پڑا ہوگا اور مقتدیوں کو صرف رخ ہی نہ بدلنا پڑا ہوگا بلکہ کچھ نہ کچھ انھیں بھی چل کر اپنی صفیں درست کرنی پڑی ہوں گی۔ چناچہ بعض روایات میں یہ تفصیل مذکور بھی ہے۔ کعبہ کے بجائے مسجد حرام کی طرف پھرنے کے حکم سے متعدد مصالح کی طرف اشارہ جس جملے سے کعبہ کو بدلنے کا حکم دیا گیا ہے وہ بھی قابل غور ہے۔ قبلہ چونکہ کعبہ کو بنایا گیا ہے اس لیے ہونا یہ چاہیے تھا کہ تحویلِ قبلہ کا حکم ان الفاظ میں ہوتا فول وجھک الی الکعبۃ او الی بیت اللہ لیکن اس کی بجائے شَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ فرمایا گیا۔ اس سے کئی اہم مسائل پیدا ہوئے۔ اول یہ کہ اگرچہ اصل قبلہ بیت اللہ ہے جس کو کعبہ کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ اصل بیت اللہ کا استقبال اسی جگہ سے ہوسکتا ہے جہاں سے بیت اللہ نظر آتا ہے، جو لوگ وہاں سے دور ہیں اور بیت اللہ ان کی نظروں سے غائب ہے اگر ان پر یہ پابندی عائد کی جاتی کہ عین بیت اللہ کی طرف رخ کرو تو اس کی تعمیل بہت دشوار ہوجاتی، خاص آلات وحسابات کے ذریعہ بھی صحیح سمت کا استخراج دور کے شہروں میں مشکل اور غیریقینی ہوجاتا اور شریعتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا مدار سہولت و آسانی پر رکھا گیا ہے۔ اس لیے بجائے بیت اللہ یا کعبہ کے مسجد حرام کا لفظ رکھا گیا جو بہ نسبت بیت اللہ کے بہت زیادہ وسیع رقبہ پر مشتمل ہے۔ اس کی طرف رخ پھیرلینا دور دور تک لوگوں کے لیے آسان ہے۔ پھر ایک دوسری سہولت لفظ شطر اختیار کرکے دے دی گئی ورنہ اس سے مختصر لفظ الی المسجد الحرام تھا۔ اس کو چھوڑ کر شَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ فرمایا گیا۔ شطر دو معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک نصف شے، دوسرے سمت شے۔ باتفاق مفسرین اس جگہ شطر سے مراد سمت ہے۔ تو اس لفظ نے یہ بتلا دیا کہ بلاد بعیدہ میں یہ بھی ضروری نہیں کہ خاص مسجد حرام ہی کی طرف ہر ایک کا رخ ہوجائے تو نماز درست ہو بلکہ سمت مسجد ِحرام کافی ہے۔ (بحرِ محیط) مثلاً مشرقی ممالک ہندوستان وپاکستان وغیرہ کے لیے جانبِ مغرب مسجد حرام کی سمت ہے تو مغرب کی جانب رخ کرلینے سے استقبال قبلہ کا فرض ادا ہوجائے گا اور چونکہ گرمی، سردی کے موسموں میں سمت مغرب میں بھی اختلاف ہوتا رہتا ہے اس لیے فقہا رحمہم اللہ نے اس سمت کو سمت مغرب و قبلہ قرار دیا ہے جو موسم گرماوسرما کی دونوں مغربوں کے درمیان ہے اور قواعد ریاضی کے حساب سے یہ صورت ہوگی کہ مغرب صیف اور مغرب شتا کے درمیان 48 ڈگری تک سمت قبلہ قرار دی جائے گی، یعنی 24 ڈگری تک بھی اگر دائیں یا بائیں مائل ہوجائے توسمتِ قبلہ فوت نہیں ہوگی، نماز درست ہوجائے گی ریاضی کی قدیم اور مشہور کتاب شرح چغمینی باب رابع صفحہ 66 میں دونوں مغربین کا فاصلہ یہی 48 ڈگری قرار دیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو صیغہ واحد کے ساتھ انفرادی طور پر حکم دینے کے بعد اجتماعی طور پر فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ کہہ کر پوری امت کو حکم دیا گیا ہے حالانکہ آنحضرت ﷺ کو حکم دینا پوری امت کو حکم دینے کے مترادف تھا کیونکہ آپ اس امت کے رسول اور امام ہیں اور مزید یہ کہ جب آپ قبلہ بدل لیتے تو آپ کی اطاعت چونکہ امت پر فرض ہے تو امت کے لیے بھی قبلہ بدلنا فرض ہوجاتا۔ باایں ہمہ امت کے لیے الگ حکم دینے کا سبب یہ ہے کہ جس طرح اہل کتاب نے بیت المقدس کو قبلہ ماننے کے باوجودآپس میں اختلاف کیا بیت المقدس کے اندر بھی مشرق اور مغرب کی جہتیں اپنے اپنے لیے مخصوص کرلیں اور باہر صرف جہت پرستی تک محصور ہو کر رہ گئے۔ اس طرح بیت المقدس کا قبلہ ہوناصرف ایک علامت بن کر رہ گیا۔ اس تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے پروردگار نے انفرادی اور اجتماعی ہر حالت میں اس امت کو تاکیداً حکم دیا کہ تم کہیں اہل کتاب کی سی غلطی نہ کرنا۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ نماز پڑھو یا الگ سے نماز پڑھو مسجد میں پڑھو یا گھر میں پڑھو تمہارا قبلہ ہرحال میں بیت اللہ ہی ہوگا۔ اس حکم کی تاکیدِ مزید کے لیے نیز اہل کتاب کی طرف سے مخالفت کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ارشاد فرمایا : وان الذین اوتوا الکتب الخ ” بیشک جن لوگوں کو کتاب دی گئی وہ خوب جانتے ہیں کہ بیت اللہ کا قبلہ ہونا ایک امر حق ہے “۔ ان کی کتابوں نے ان کی ساری خیانتوں کے باوجود بعض حقیقتوں کو محفوظ رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے اہل کتاب اس بات سے واقف تھے کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی تعمیر ہے اور یہی بیت اللہ تمام ذریت ابراہیم کا اصل قبلہ رہا ہے۔ بیت المقدس تو تقریباً تیرہ سو سال بعد وجود میں آیا ہے اور یہ بات بھی وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آخری نبی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعوت کا اسی گھر کو مرکز بنائے گا اور یہیں سے وہ امت وجود میں آئے گی جو پوری دنیا کو ہدایت سے مالامال کردے گی۔ ان تمام باتوں کو جاننے کی وجہ سے جو لوگ کتاب کو بالکل پس پشت نہیں ڈال چکے ان کے لیے اس بات کا انکار کرنا ممکن نہیں کہ اصل قبلہ بیت اللہ ہی ہے۔ بیت المقدس کو عارضی طور پر محض آزمائش کے لیے قبلہ بنایا گیا تھا۔ ایسی کھلی اور نمایاں حقیقتوں کے باوجود یہود اگر کتمانِ حق سے باز نہیں آتے تو ان کے لیے تہدید کے انداز میں فرمایا جارہا ہے کہ یہ لوگ جو کچھ کررہے ہیں، اللہ اس سے بیخبر نہیں۔ ایک وقت آئے گا جب یہ اپنے کیے پر پکڑے جائیں گے اور ان کی ان حرکتوں کی انھیں سزا ملے گی۔ اگلی آیت کریمہ میں یہود کے رویہ کے حوالے سے آپ کو تسلی دی جارہی ہے۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اگر آپ اہل کتاب کے سامنے ہر قسم کی نشانیاں بھی لے کر آجائیں، تو بھی یہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن سکتے ہیں اور نہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن سکتے ہیں۔ اگر تم اس علم کے بعدجو آپ کے پاس آچکا ہے، ان کی خواہشوں کی پیروی کریں گے تو بلا شبہ آپ ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔

وَلَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَاتَبِعُوْا قِبْلَتَـکَ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَھُمْ ج وَمَا بَعْضُھُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ ط وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآئَ ھُمْ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا اِنَّـکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (اگر آپ اہل کتاب کے سامنے ہر قسم کی نشانیاں بھی لے کر آجائیں، تو بھی یہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن سکتے ہیں اور نہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن سکتے ہیں۔ اگر تم اس علم کے بعدجو آپ کے پاس آچکا ہے، ان کی خواہشوں کی پیروی کریں گے تو بلا شبہ آپ ظالموں میں سے ہوجائیں گے) ۔ (البقرۃ : 145) آنحضرت ﷺ کو تسلی اللہ کے پیغمبر انسانوں کی ہدایت کے انتہائی درجہ حریص ہوتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہدایت قبول نہ کرنے کے نتیجے میں ان کا انجام بےحد خوفناک ہوگا۔ اس شدید احساس سے ان کا دل پگھلتا ہے اور وہ ہر ممکن طریقے سے انھیں راہ راست کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہزار انکار کریں وہ ان کے انکار کو بھی کسی نہ کسی سبب کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اور پھر اس سبب کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت آنحضرت کے قلبی احساسات اللہ تعالیٰ کے سامنے ہیں اور وہ نہایت پیار سے آپ کے ایک ایک احساس پر اطمینان کا مرہم رکھنا چاہتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے دل میں شائد یہ خیال تھا کہ انھیں میری نبوت کے بارے میں شاید شبہ ہے اور اسی وجہ سے میرے ہر فیصلے اور ہر اقدام کی مخالفت کرتے ہیں۔ اگر انھیں کوئی عظیم معجزہ دکھا دیا جائے تو ممکن ہے یہ میری نبوت پر مطمئن ہوجائیں اور یہ مخالفت کا معا ملہ ختم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ تسلی دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ہم دلوں کے رازوں سے واقف ہیں۔ ہم ان کے احساسات کے بارے میں آپ کو آگاہی دینا چاہتے ہیں کہ انھیں آپ کی نبوت میں کوئی شبہ نہیں، انھیں بیت اللہ کے حقیقی قبلہ ہونے میں بھی کوئی اشتباہ نہیں ان کا اصل معاملہ حسد اور عناد ہے۔ آپ ان کو دنیا بھر کے معجزات دکھا دیں وہ کبھی بھی آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے۔ اس لیے کہ اگر سبب اشتباہ ہوتا تو اسے دور کیا جاسکتا تھا لیکن جو جاگ کر خوابیدہ بنا رہے اس کو جگانے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوتی۔ ان کو مطمئن کرنے کی تو ایک ہی صورت ہے کہ آپ ان کے قبلے کی پیروی کریں اور ظاہر ہے کہ یہ کسی طرح ممکن نہیں کیونکہ پیغمبر دنیا میں حق کی علامت، حق کا نمائندہ، اور حق کا اظہار ہوتا ہے۔ اہلِ کتاب کی اتباعِ حق سے محرومی جب اللہ کی جانب سے اس کے سامنے حق واضح ہوجاتا ہے تو اس کے سامنے اس بات کی بھی گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ بپھرے ہوئے حالات کو دیکھ کر چند دنوں کے لیے حق کے اظہار سے رک جائے۔ اس لیے آپ کے لیے تو یہ کسی طور ممکن نہیں کہ آپ ان کے قبلے کی پیروی کریں کیونکہ پہلا قبلہ منسوخ ہوگیا اور اس قبلے کا اعلان ہوگیا جو اصل قبلہ تھا اور جو قیامت تک باقی رہے گا۔ مزید ایک اور بات فرماکر اہل کتاب کے غبارے سے بالکل ہوا نکال دی کہ آپ ان کی مخالفت کو اس قدر اہمیت ہی کیوں دیتے ہیں کیونکہ ان کی قبلہ سے وابستگی کا حال تو یہ ہے کہ باوجودیکہ یہود و نصاریٰ ایک ہی قبلہ یعنی بیت المقدس کے پیروکار ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے قبلہ کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ نصاریٰ نے مشرقی جانب کو اور یہود نے مغربی جانب کو قبلہ بنا رکھا ہے اور بیت المقدس سے باہر مشرق اور مغرب کی جہتیں ان کا قبلہ ہیں تو جو لوگ ایک قبلہ رکھتے ہوئے بھی ایک قبلہ پر جمع نہ ہوسکیں ان کی مخالفت کی آخر کیا قدروقیمت رہ جاتی ہے ؟ شریعت کے بارہ ان کا غیر سنجیدہ رویہ انھوں نے دین کو بھی بازیچہ اطفال سمجھ رکھا ہے حالانکہ قبلہ کی تبدیلی یا قبلہ کا تعین ایک حق کا معاملہ ہے۔ جس کی دین میں بےحد اہمیت ہے۔ جب ایسے بنیادی اہمیت کے حامل معاملے کے بارے میں اللہ کی جانب سے حقیقی علم نازل ہوجائے تو اس کے مقابلے میں کہی جانے والی باتیں ہوائے نفس کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ آنحضرت سے فرمایا جارہا ہے کہ وحی الہٰی کے ذریعے علم حقیقی آپ کے پاس آچکا ہے۔ اگر آپ اس کے برعکس اہل کتاب کی بات کو ماننے لگیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ” العلم “ کے مقابلے میں ہوائے نفس کی پیروی کرنا شروع کردی ہے۔ یہ تو ایک ایسا ظلم ہے جس کا کسی کے لیے بھی جواز نہیں۔ چہ جائیکہ اس کا ارتکاب پیغمبر کریں اور یہ معاملہ اتنا سنگین ہے کہ اگر خدانخواستہ آپ بھی ایسا کریں تو باوجود عظیم مقام اور مرتبہ کے جو اللہ کے ہاں آپ کو حاصل ہے آپ بھی ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔ بظاہر عتاب آپ ﷺ پر ‘ حقیقت میں اہل کتاب پر یہ بات یاد رہے کہ اس آیت کریمہ میں بظاہر عتاب آنحضرت ﷺ پر ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں، خطاب آپ سے ہے، عتاب اہل کتاب پر ہے۔ یہ بات سمجھانے کا ایک انداز ہے کہ جس بات کی شناعت کا یہ حال ہے کہ اگر پیغمبر بھی کرے تو ماخوذ ٹھہرے تو تم کس شمار قطار میں ہو۔ تم اس عظیم جرم کا ارتکاب کررہے ہو، سوچو انجام کیا ہوگا ؟ اگلی آیت کریمہ میں اسی مضمون کو مزید مؤکد فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 2:146–147

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں البتہ ان میں ایک گروہ ہے جو حق کو چھپاتا ہے اور وہ جانتا بھی ہے۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

یہی حق ہے جو آپ کے رب کی جانب سے ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو)

اَلَّذِیْنَ اٰتَـیْنٰـھُمُ الْـکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَـہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآئَ ھُمْ ط وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنْھُمْ لَیَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَـلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔ (البقرۃ : 146 تا 147) (جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں البتہ ان میں ایک گروہ ہے جو حق کو چھپاتا ہے اور وہ جانتا بھی ہے۔ یہی حق ہے جو آپ کے رب کی جانب سے ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو) اس آیت کریمہ میں غور کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتاب جو ایک امی پر نازل ہوئی وہ تاریخ کے بعض ایسے گوشوں کو بےنقاب کر رہی ہے اور بعض ایسی خیانتوں سے پردہ سرکا، رہی ہے۔ جہاں تک مورخ کی نگاہ بھی شاذونادر ہی پڑتی ہے۔ سابقہ آیت کریمہ میں آپ نے دیکھا کہ اہل کتاب کا ذکر الذین اوتوالکتب کہہ کر کیا گیا ہے اور یہاں اَلَّذِیْنَ اٰتَـیْنٰـھُمُ الْـکِتٰبکہہ کر۔ معلوم ہوتا ہے یہود میں پوری قوم کے لوگ خیال وعمل کے لحاظ سے یکساں نہیں تھے۔ اگرچہ اس قوم کا غالب حصہ گمراہ ہوچکا تھا لیکن ایک محدود تعداد ایسی بھی تھی جو ابھی تک اللہ کی کتاب کی قدرومنزلت کو جانتی اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اس آیت کریمہ میں اسی قلیل اور مختصر طبقہ کا ذکر ہے کہ ان میں سے وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب عنایت کی تھی اور وہ اس کا حق بھی پہچانتے تھے۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس کو پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ باقی پوری قوم نے تو اس کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اگر جانتے بھی ہیں تو کتمانِ حق سے کام لیتے ہیں۔ لیکن یہ مختصر سا گروہ ایسا ہے، جسے اہل حق کا گروہ کہنا چاہیے۔ ان کے بارے میں کہا گیا ہے یعرفونہ ” اس کو پہچانتے ہیں “۔ سوال یہ ہے ضمیر کا مرجع کیا ہے یعنی کس کو پہچانتے ہو ؟ متقدمین میں عام خیال یہ رہا کہ وہ اس بات کو جانتے اور پہچانتے ہیں کہ بیت اللہ ہی اصل قبلہ ہے اور یہی آخری نبی اور آخری امت کا قبلہ ہوگا۔ تورات میں چونکہ یہ بات پوری طرح واضح ہے اس لیے انھیں اس کے قبلہ ہونے کا اس حد تک یقین ہے جس حد تک انھیں اپنے بیٹوں کی پہچان کا یقین ہے۔ جو بچہ سالوں تک ماں باپ کی گود اور نگاہوں میں پلتا ہے اس کی پہچان میں ماں باپ کبھی غلطی نہیں کرتے۔ اسی طرح جو بات کتاب اللہ نے قطعی انداز میں بتائی ہے اس کی پہچان تو اس سے زیادہ قطعی ہونی چاہیے۔ متوسطین اور متاخرین، عام طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت میں ضمیر کا مرجع رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے کہ یہود میں اہل حق کا یہ طبقہ آنحضرت ﷺ کی پہچان میں کبھی غلطی نہیں کرتاکیون کہ آپ کی علامات سے تورات کے صفحات معمور ہیں۔ ضمیر کا مرجع قبلہ کو قرار دیا جائے یا آنحضرت ﷺ کو، مفہوم کے تعین میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو لوگ آنحضرت ﷺ کو پہچانتے ہیں کہ آپ اللہ کے آخری نبی ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ آخری نبی کا قبلہ بیت اللہ ہوگا، بیت المقدس نہیں۔ ان دونوں آیتوں کو غور سے پڑھ لیجئے تو کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا کہ تحویلِ قبلہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر پہلی آسمانی کتابیں بھی پوری طرح شاہد ہیں۔ ان کتابوں کا جاننے والا کتمانِ حق کرے تو اور بات ہے، ورنہ اس کے لیے یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔ اس قدر مؤکد انداز میں بیت اللہ کی حقیقت کو واضح کرنے کے بعد ہر غیر جانب دار آدمی سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ جو کچھ کہا گیا ہے یہی بات حق ہے تیرے رب کی جانب سے۔ یہاں مبتدا محذوف ہے اصل عبارت اس طرح ہے ھذا ھوالحق پس تمہیں شک کرنے والوں میں سے نہیں ہونا چاہیے۔ حق آجانے کے بعد شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی اور یہ حق تو ایسا ہے جس میں عقل اور نقل دونوں متفق ہیں۔
Ayah 2:148

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

(ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے اور وہ اسی کی طرف رخ کرنے والا ہے۔ تم نیکیوں کی راہ میں سبقت کرو، جہاں کہیں تم ہوگے اللہ تم سب کو جمع کرے گا، اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَلِکُلِّ وِّجْھَۃٌ ھُوَمُوَلِّیْھَا فَاسْتَبِقُوْا الْخَیْرٰاتِ ط اَیْنَ مَاتَـکُوْنُوْا یَاْتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (البقرۃ : 148) (ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے اور وہ اسی کی طرف رخ کرنے والا ہے۔ تم نیکیوں کی راہ میں سبقت کرو، جہاں کہیں تم ہوگے اللہ تم سب کو جمع کرے گا، اللہ ہر چیز پر قادر ہے) کُلکامفہوم اور وِجْہَۃٌ کا مفہوم لِکُلِّ وِّجْھَۃٌ ” اس کے ترجمے کی ایک صورت یہ ہے کہ ” کُل “ کے بعد مضاف الیہ محذوف مانیں۔ عربی زبان میں جس طرح مضاف محذوف مانا جاتا ہے اسی طرح مضاف الیہ کا محذوف ماننا بھی رائج ہے۔ اور وِجْھَۃٌ کا لغوی معنی ہے ” وہ چیز جس کی طرف رخ کیا جائے “۔ اس لیے حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد قبلہ ہے اور حضرت ابی ابن کعب کی قرات میں اس جگہ وِجْھَۃٌ کی بجائے قبلۃٌ منقول ہے۔ اس صورت میں اس جملے کا ترجمہ یہ ہوگا ” ہر قوم کے لیے ایک قبلہ ہوتا ہے “۔ جو قوم بھی کسی مذہب کی ماننے والی ہے اور اس کا کوئی نظام عبادت بھی ہے یقینی بات ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی قبلہ ہو۔ تحویلِ قبلہ پر واقعاتی اور نقلی دلیل اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر قوم اپنی مرکزیت کے لیے کسی نہ کسی قبلے کی دعویدار ہے۔ اگر واقعی یہ دنیاکا دستور ہے اور اس کے واقعہ ہونے میں کوئی شبہ بھی نہیں تو اسی دستور کے مطابق مسلمان ایک الگ امت کے طور پر اٹھائے گئے ہیں۔ ان کا اپنا ایک دین ہے، جس کی طرف وہ پوری دنیاکو دعوت دے رہے ہیں۔ ان کا ایک نظام عبادت ہے تو دستورِ دنیا اور دستورِ مذہب کے مطابق ضروری ہے کہ ان کا بھی الگ ایک قبلہ ہو۔ اب جبکہ ان کا اس ضرورت کے تحت الگ ایک قبلہ مقرر کردیا گیا ہے تاکہ ان کا قومی اور ملی تشخص مکمل ہوجائے تو مخالفین کو اس پر ہنگامہ اٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ” کُلِّ “ اگرچہ یہاں نکرہ ہی استعمال ہوا ہے۔ لیکن عموماً اس سے مراد وہ خاص گروہ یا اشخاص ہوتے ہیں جن کا ذکر کلام میں اوپر گزر چکا ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کی جابجا مثالیں موجود ہیں، مثلاً وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِدْرِیْسَ وَذَالْکِفْلِ کُلٌّ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ ” اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل ان میں سے ہر ایک صابروں میں سے تھا۔ “ یہاں بھی معلوم ہوتا ہے لِکُلِّ سے مراد یہودونصاریٰ کے وہی گروہ ہیں جن کا اوپر ذکر چلا آرہا ہے۔ آپ کی جہت اور منزل معین ہوگئی اب آپ منزل کی طرف سبقت کریں آنحضرت ﷺ کی تسلی اور یکسوئی کے لیے فرمایا جارہا ہے کہ ان میں سے ہر ایک گروہ نے اپنے اپنے قبلہ کے لیے ایک جہت مقرر کرلی ہے۔ آپ انھیں کتنا ہی سمجھائیں، کتنا ہی زور لگائیں، یہ لوگ ماننے والے نہیں۔ جیسے جیسے آپ کوشش کریں گے، ویسے ویسے ان کی سرکشی میں اضافہ ہوتاجائے گا اور وہ خود بھی یہ چاہیں گے کہ آپ اسی طرح کی باتوں میں مصروف رہیں اور اصل فریضہ کی طرف کماحقہ توجہ نہ دے سکیں۔ اس لیے آپ ان کی طرف سے یکسو ہو کر اپنے کام میں لگ جائیے اور انھیں اللہ کے حوالے کیجئے۔ اللہ نے ملت ابراہیم کے حوالے سے صراط مستقیم آپ کے سامنے کھول دیا ہے۔ امت وسط کا آپ کو امام بناکر آپ کے اور امت کے مقاصد متعین فرمادئیے ہیں اور کعبہ کے تعین سے آپ کی ایک جہت مقرر کردی ہے۔ آپ کی ذمہ داریوں میں بےپناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ آپ کے پاس اتنا وقت کہاں کہ آپ ان ناہنجاروں کے پیچھے وقت ضائع کرتے پھریں، آپ کو تو بھلائیوں میں سبقت کرنی ہے۔ بعض دفعہ افراد اور قومیں کچھ کر گزرنے کے لیے دلوں میں تڑپ رکھتی ہیں۔ لیکن انھیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا کریں۔ وہ بڑھنا چاہتی ہیں لیکن منزل کی خبر نہیں ہوتی۔ اللہ کے نبی کی بعثت اور نزول کتاب نے ایک امت کو وجود بخشا، زندگی کا شعور دیا، خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت عطا کی، اب صرف اس بات کی ضرورت تھی کہ ایک جہت مقرر کردی جائے اور مساعی کا ایک نشان ٹھہرا دیاجائے۔ تحویلِ قبلہ کے بعد یہ ضرورت بھی پوری ہوگئی۔ اب یہ بات ازبس ضروری ہے کہ غیر متعلق بحثوں سے دامن بچاکر ان روحانی خزانوں کے حصول کی کوشش کی جائے جس کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعائیں مانگی تھیں اور امت میں زندگی کا وہ شعور اجاگر کیا جائے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی سے قدم قدم پر ہمیں ملتا ہے اور وہ تاریخ ازسر نو زندہ کی جائے جو اس کعبہ کی صورت میں اور اس کے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس عزیمت کو اس امت کا کردار بنادیا جائے جو صفا کے دامن میں اور مزدلفہ اور عرفات کے میدانوں میں سر اٹھائے کھڑی ہے۔ اور امت کو اس گھر سے اس طرح وابستہ کردیا جائے کہ جسدِ امت کے لیے کعبہ ایسا ہو کر رہ جائے جس طرح جسم کے لیے دل کی حیثیت ہے۔ جس طرح دل کے بغیر جسم کا وجود نہیں، اسی طرح قبلہ کے بغیر ملت کا کوئی تصور نہیں۔ دل پورے جسم کی شریانوں سے خون کھینچتا ہے اور اسے پمپ کرکے زندگی کی حرارت سے بھرپور کرکے دوبارہ شریانوں میں بھیج دیتا ہے۔ کعبۃ اللہ بھی امت کے صالح عناصر کو ہر سال پوری امت میں سے چھانٹ کر کھینچتا ہے اور ان میں سے ایک ایک فرد کے دل و دماغ میں بندگی اور سرافگندگی، اطاعت وانابت اور جہاد و عزیمت کے تصورات بھر کر واپس ان کے ملکوں میں بھیج دیتا ہے تاکہ جو زندگی کا خزانہ یہاں سے لے کر جارہے ہیں اسے جاکر لوگوں میں لٹائیں اور اس طرح سے ایک نئی زندگی کی روح پوری امت میں پیدا ہوجائے۔ اس کے بعد فرمایا اَیْنَ مَاتَکُوْنُوْا یَاْتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا ” جہاں کہیں تم ہوگے اللہ تم سب کو جمع کرے گا “۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ مسلمان تو پوری دنیا میں پھیل جائیں گے اور ان کے لیے چونکہ ایک قبلہ مقرر کردیا گیا ہے اس لیے کوئی کسی طرف سے قبلہ کی طرف منہ کرے گا، کوئی کسی طرف سے۔ فرمایا تم جہاں بھی قبلہ کی طرف منہ کرکے اللہ کی عبادت کروگے اللہ تم سب کو جمع کرے گا وہ جانتا ہے کہ کہاں کہاں میرے بندے نے مجھے سجدہ کیا ہے۔ اسی طرح تم نیکی اور بھلائی کی راہ میں جو جدوجہد بھی کروگے وہ ضائع نہیں جائے گی۔ شرط صرف یہ ہے کہ تمہارا رخ اللہ کے گھر کی طرف رہنا چاہیے کیونکہ اللہ کے گھر کی طرف رخ کا مطلب فی الحقیقت اللہ کی طرف رخ ہے کیونکہ اس گھر کا ذرہ ذرہ اللہ ہی کی طرف متوجہ کرتا ہے اس گھر میں لگے ہوئے حجرِ اسود کو جب آدمی چھوتا ہے تو اس تصور سے اسے ہاتھ لگاتا ہے کہ میں اللہ کے ہاتھ پر اللہ کی بندگی اور اسی کی اطاعت کا عہد کرتا ہوں۔ ان تصورات کے ساتھ جب بھی کوئی نیکی کی جائے گی تو یقینا ایسی نیکی ضائع نہیں ہوگی اللہ ان سب نیکیوں کو ایک دن جمع کرے گا اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تم مخالفین سے بحثوں میں الجھنے کی بجائے نیکیوں میں سبقت کرو۔ بھلائی کی راہوں میں بڑھو، مخالفین کو مخالفت کے پھپھولے پھپھوڑنے دو ۔ ایک دن آئے گا جب اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرکے فیصلہ کرے گا کہ کون حق کی راہ چلا ؟ اور کس نے ضد اور ہٹ دھرمی کارویہ اختیار کیا ؟ اللہ کے لیے ان میں سے کوئی کام مشکل نہیں کیونکہ اللہ تو ہر چیز پر قاد رہے۔
Ayah 2:149

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور جہاں کہیں سے بھی تم نکلوتو اپنا رخ مسجد حرام کی ہی طرف کرو، بیشک یہی حق ہے تمہارے رب کی جانب سے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط وَاِنَّـہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّـکَ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (البقرۃ : 149) (اور جہاں کہیں سے بھی تم نکلوتو اپنا رخ مسجد حرام کی ہی طرف کرو، بیشک یہی حق ہے تمہارے رب کی جانب سے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے ) سفر اور حضر میں ایک ہی حکم ہے اس سے پہلے آیت نمبر 143 میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم گزرچکا۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو الگ حکم دیا گیا اور آپ کی امت کو الگ حکم دیا گیا۔ لیکن اس حکم کا تعلق صرف حضر کی حالت سے تھا۔ یعنی قیام کی حالت سے کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہو یا اپنے شہر میں ہو یا مسجدِ نبوی میں ہو یا رسول اللہ ﷺ کے پیچھے جماعت سے نماز سے پڑھ رہے ہو یا کسی اور امام کی اقتدا میں پڑھ رہے ہو یا انفرادی طور پر نماز ادا کررہے ہو ہرحال میں تمہیں مسجد حرام ہی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنی ہے۔ لیکن اب اس آیت کریمہ میں یہ بتایا جارہا ہے کہ اگر تمہیں سفر درپیش ہو تو سفر کے دوران یا پردیس میں جب تمہیں نماز پڑھنے کا موقع ملے تو وہاں یہ مت سمجھنا کہ چونکہ سفر کی نماز حضر کی نماز سے مختلف ہوتی ہے ممکن ہے قبلہ کے معاملے میں بھی مسافرت میں کوئی سہولت دی گئی ہو کیونکہ حالت سفر میں بعض دفعہ قبلہ کے تعین میں دشواری پیش آتی ہے۔ بالخصوص آدمی اگر غیر مُسلِم ماحول میں سفر کررہاہو یا غیرمسلِموں کے شہر میں ہو تو پھر تو قبلہ کی جہت معلوم کرنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ اس اشکال کو دیکھتے ہوئے ممکن تھا بعض طبیعتیں قبلہ کی طرف منہ کرنے میں تساہل سے کام لیتیں یا اس عذر کو اہمیت دے کر جس طرف جی چاہتالوگ نماز پڑھنا شروع کردیتے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں صراحت سے یہ حکم دیا گیا کہ حالت قیام کی طرح حالت سفر میں بھی تمہیں قبلہ ہی کی طرف رخ کرنا ہے۔ اس میں کسی قسم کی کمی بیشی اور کسی تساہل کی کوئی گنجائش نہیں۔ تم ایسی رعائتوں کی تلاش میں یہود و نصاریٰ کی طرح گمراہ نہ ہوجانا کہ وہ باوجود بیت المقدس کو قبلہ ماننے کے سفر کے دوران مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے یعنی انھوں نے قبلہ کو چھوڑ کر جہت کی پرستش شروع کردی۔ اس لیے یاد رکھو تمہارے لیے ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ قبلہ یقینا اللہ کا مقرر کیا ہوا قبلہ ہے، تو اللہ نے سفر و حضر دونوں میں اسے تمہارے لیے قبلہ بنایا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ حضر میں تو تم اس کے حکم کی تعمیل کرو اور سفر میں اس سے لاپرواہی کرو۔ مزید فرمایا یہ بھی تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تمہارے ہر عمل سے واقف ہے۔ تم سفر میں نماز پڑھو یا حضر میں کسی صورت بھی وہ تمہاری نمازوں سے غافل نہیں تو اگر تم نے قبلہ کی طرف رخ کرنے کے معاملے میں تساہل سے کام لیایا کسی اور جذبے سے اس حکم کی خلاف ورزی کی تو اللہ تمہارے اعمال اور اس کے محرکات تک سے واقف ہے تم اس کی باز پرس اور گرفت سے کیسے بچو گے۔
Ayah 2:150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور آپ جس جگہ سے بھی نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف موڑلیاکریں اور تم لوگ بھی جہاں کہیں ہو اپنے چہرے اس کی طرف پھیرلیا کروتا کہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے، سوا ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہیں۔ سو تم ان سے نہ ڈرو، مجھ ہی سے ڈروتا کہ میں اپنی نعمت تم پر تمام کروں اور تاکہ تم راہ یاب ہو۔

وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھِکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَِہٗ لا لِئَـلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ لا اِلَّاالَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ ق فَـلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِیْ ق وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَلَعَلَّـکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 150) (اور آپ جس جگہ سے بھی نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف موڑلیاکریں اور تم لوگ بھی جہاں کہیں ہو اپنے چہرے اس کی طرف پھیرلیا کروتا کہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے، سوا ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہیں۔ سو تم ان سے نہ ڈرو، مجھ ہی سے ڈروتا کہ میں اپنی نعمت تم پر تمام کروں اور تاکہ تم راہ یاب ہو) اس آیت میں تاکید مزید کے ساتھ تحویل قبلہ کی تین حکمتیں سابقہ آیات میں سفر اور حضر دونوں حالتوں کے مطابق یہ دونوں حکم بیان ہوچکے ہیں کہ تم چاہے سفر میں ہو یا اپنے گھر یا اپنے شہر میں تمہیں ہر صورت میں مسجد حرام ہی کی طرف منہ کرنا ہے۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ اس آیت کریمہ میں دوبارہ انھیں دونوں حکموں کا اعادہ کیا جارہا ہے۔ تاکید کے لیے یاتاکیدِ مزید کے لیے کسی حکم کا اعادہ ناقابلِ فہم نہیں۔ لیکن قرآن کریم جیسی کتاب جو ایجاز و بلاغت کا ایک معجزہ ہے اس میں اس طرح کی تکرار یقینا طبیعتوں کو کھٹکتی ہے۔ لیکن اگر تھوڑا سا تدبر کرلیاجائے تو پھر یہ کھٹک خودبخود دور ہوجاتی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے جیسے اس سے پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ قرآن کریم صرف آئین یا قانون کی کتاب نہیں بلکہ یہ تو کتاب ہدایت ہے اور کتاب ہدایت کا اسلوب صرف یہ نہیں ہوتا کہ حکم دے کر چھوڑ دیا جائے بلکہ اس کا اصل اسلوب تو یہ ہے کہ جو حکم دیا جائے اس کی طرف طبیعتوں کو مائل بھی کیا جائے۔ عقلی طور پر مطمئن کرنے کے لیے احکام کی حکمتیں بھی بیان کی جائیں اور اگر وہ حکم ایسا ہے جس کا تعلق ضروریاتِ دین سے ہے اور مزید یہ کہ اس پر عمل کرنے کے لیے اپنے خیالات اور معتقدات کی قربانی بھی دینا پڑتی ہے۔ تو پھر ضروری ہوجاتا ہے کہ ایسے حکم کو تاکید سے ذکر کیا جائے اور اس کی حکمتوں کو کھول کر بیان کیا جائے۔ تحویلِ قبلہ کا حکم بھی ایسی ہی نوعیت کا حکم ہے۔ جو لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہورہے ہیں ان میں سے ہر ایک کا اپنا اپنا قبلہ ہے۔ مشرکین عرب ہیں تو وہ بھی ایک قبلہ رکھتے ہیں اور اہل کتاب ہیں تو انھیں بھی اپنے قبلے پر اصرار ہے۔ ایسے لوگوں کے سامنے قبلہ کے تعین یا قبلہ کی تبدیلی کی بات کرنا کہنے کو تو آسان ہے لیکن دماغوں سے اس کو منوانا اور دلوں میں اتارنا ہرگز آسان نہیں۔ اس راستے میں بڑی کٹھن گھاٹیاں ہیں، ضروری تھا کہ یہ حکم اس طرح دیا جاتا کہ نہ تو اس کے سمجھنے میں کوئی اشتباہ پیش آتا اور نہ اس میں کوئی اخفا رہتا اور نہ اس سے منافقانہ طبیعتیں کوئی غلط فائدہ اٹھاسکتیں۔ اور نہ علم و دانش کے رسیا لوگوں کے لیے اس کی حکمتیں جاننا مشکل ہوتا۔ چناچہ ان تمام ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کریم نے پہلے حالت حضر کے لیے حکم جاری فرمایا پھر حالت سفر میں اس کا حکم دیا پھر اس آیت کریمہ میں ان دونوں احکام کا تاکیدِ مزید کے طور پر اعادہ فرمایا لیکن ساتھ ہی اس حکم کی حکمتیں بھی بیان فرمائیں۔ تاکہ اندازہ ہوجائے کہ اب اس حکم کا اعادہ محض تاکیدِ مزید کے لیے نہیں بلکہ ان حکمتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ہے کہ اگر وہ نگاہوں کے سامنے نہ رہیں تو امت ایسی غلطیوں کا ارتکاب کرسکتی ہے جس کی اصلاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔ چناچہ اس کی تین حکمتیں بیان فرمائیں۔ 1: قطع حجت، 2: اتمامِ نعمت، 3: راہ یابی۔ اب ہم تینوں کی الگ الگ وضاحت کرتے ہیں۔ 1 قطعِ حجت سے مراد یہ ہے کہ ہم جو تمہیں اس طرح تاکید کے ساتھ مسجد حرام یا بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کا باربار حکم دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تم سے اس معاملے میں کوتاہی سرزد ہوئی تو یہود کو تمہارے خلاف بدگمانی پھیلانے اور ژاژ خائی کرنے کا موقع ملتا رہے گا۔ وہ تمہاری کوتاہیوں کو دیکھ کر یہ کہیں گے کہ یہ کیسے لوگ ہیں ایک طرف تو دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ نے بیت اللہ کو ہمارا قبلہ مقرر کردیا ہے اب ہم بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز نہیں پڑھ سکتے ورنہ اس سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی اور دوسری طرف ان کا حال یہ ہے کہ جب جی چاہتا ہے کبھی کسی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور کبھی کسی طرف۔ اس طرح کی باتوں سے مسلمانوں کے بارے میں جو تصور پیدا ہوگا اس کا بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر مسلمانوں کا قبلہ نہ بدلا جاتا تو یہود کو یہ کہنے کا موقعہ ملتا اور اس طرح سے وہ بدگمانی پیدا کرتے کہ ہماری کتابوں میں نبی آخرالزماں کی جو علامتیں بیان کی گئی ہیں ان میں یہ علامت بھی ہے کہ اس آخری نبی کا قبلہ بیت اللہ ہوگا، بیت المقدس نہیں۔ یہ صاحب تو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور اپنی امت کو بھی اسی طرف منہ کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کے وہ آخری نبی نہیں۔ اگر یہ آخری نبی ہوتے تو یقینا بیت اللہ کو اپنا قبلہ بناتے۔ ان کی اس حجت بازی سے اسی صورت بچا جاسکتا تھا کہ بیت اللہ کو قبلہ بنانے کا حکم دیا جاتا۔ کبھی یہود اس طرح کی باتیں کرتے کہ جب یہ پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والے ہمارے قبلے ہی کی طرف نماز پڑھتے ہیں یعنی ہمارے قبلے کو اپنا قبلہ تسلیم کرتے ہیں تو پھر نماز اور عبادت کے طریقوں میں ہمارے طریقہ سے الگ راہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ ایک بنیادی چیز میں اشتراک کے بعد دوسری چیزوں میں اختلاف، اسے وہ نعوذباللہ آنحضرت ﷺ کی من گھڑت ایجاد قرار دیتے تھے۔ بالخصوص آنحضرت ﷺ کا یہ دعویٰ کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیم پر مبعوث کیا ہے اور میں ملت ابراہیم کو ازسر نو زندہ کروں گا۔ یہود اسی حوالہ سے پر اپیگنڈہ کرتے تھے کہ اگر یہ پیغمبر ملت ابراہیم پر مبعوث ہوئے ہیں اور یہ بھی ان کا دعویٰ ہے کہ بیت اللہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بنایا تھا تو پھر یہ ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز کیوں پڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو قبلہ قرار دے کر ان تمام رخنہ اندازیوں کے رستے بند کردیئے اور مسلمانوں کو تاکید در تاکید کی جارہی ہے کہ اگر تم نے اس حکم کی پابندی میں پوری طرح احتیاط نہ برتی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہود کو زبان درازی اور وسوسہ اندازی کا موقعہ ملتا رہے گا اور اس طرح سے تمہیں کعبۃ اللہ کو مرکز قرار دے کر بھلائیوں اور خوبیوں کے حصول کے لیے حقیقی تگ ودو کرنے کا کبھی موقع نہیں ملے گا اور تمہاری دینی زندگی میں وہ یکسوئی اور قوت پیدا نہیں ہوگی جو تمہیں آگے بڑھنے کے لیے درکار ہے۔ مزید فرمایا کہ تم اگر تحویلِ قبلہ کے حکم پر تمام تر احتیاطوں کے ساتھ عمل کروتو یہود کے لیے کوئی بات کہنے کا موقعہ باقی نہیں رہے گا اور ان کی حجت بازیاں ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی توپیں یکسرخاموش ہوجائیں گی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر معقولیت رکھنے والا آدمی یہ ضرورر محسوس کرنے لگے گا کہ یہود کی باتوں میں کوئی وزن نہیں۔ اس طرح وہ خود ہی اپنی مخالفت کی شدت سے رک جائیں گے۔ البتہ ان میں جو ظالم اور شریرقسم کے لوگ ہیں وہ اس قطع حجت کے بعد بھی اپنی حرکتوں سے باز آنے والے نہیں ہیں۔ تمہیں ایسے لوگوں کا ہرگز نوٹس نہیں لینا چاہیے اور ان کی باتوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ بلکہ ایسے لوگوں کا علاج یہ ہے فَـلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِی ” ان سے نہ ڈرو صرف مجھ ہی سے ڈرو “ یہ چھوٹا سا جملہ قومی اور تہذیبی تصادم میں سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ علم و دانش کا مقابلہ علم و دانش سے ہوتا ہے۔ فوجوں کا مقابلہ میدانِ جنگ میں کیا جاتا ہے کاروباری مسابقت کاروبار میں ہوتی ہے۔ لیکن قوموں کی مجموعی مسابقت کی جنگ وہ ہمیشہ قوموں کے رویے سے لڑی جاتی ہے۔ جس قوم میں قومی ملی اور دینی مورال توانا ہو اس کے عقائد میں پختگی ہو اس کے فکر میں روشنی ہو، اس کی تہذیب اور تمدن میں استقامت ہو، وہ اپنے افکار سے لیکر آداب تک مرعوبانہ ذہن رکھنے کی بجائے مومنا نہ ذہن رکھتی ہو اور وہ فی الحقیقت داعی کی حیثیت سے زندگی گزارنا چاہتی ہو۔ ایسی قوم نہ کبھی دوسری قوم کے سامنے گھبراتی ہے نہ دوسروں کے سامنے دریوزہ گری کرتی ہے، نہ وہ پرائے خیالات کی جگالی کرتی ہے۔ ایسی قوم کا ایک ایک فرد خوداعتمادی سے سرشار ہوتا ہے، وہ علم و دانش اور حکمت کی ہر بات کو اپنی گمشدہ متاع سمجھتی ہے۔ لیکن وہ اپنے فکری اور دینی سرمائے پر کبھی سمجھوتہ کرنے پر تیار نہیں ہوتی۔ یہی وہ کردار ہے جسے یہاں اختیار کرنے کا حکم دیا جارہا ہے کہ تم صرف مجھ سے ڈرو کسی اور سے مت ڈرو۔ اس میں فکر وعمل کی پوری دنیا سمٹ گئی ہے۔ تہذیب و تمدن کے سارے حوالے اس میں موجود ہیں۔ افادہ اور استفادہ کی تمام نزاکتیں اس میں بند ہیں اور یہی وہ حقیقی بیداری ہے جو مسلمان قوم کی معراج بھی ہے اور مطلوب بھی اور اسی کو اقبال نے توحید کا نام دیا ہے۔ ؎ خودی سے اس طلسم رنگ و بو کو توڑ سکتے ہیں یہی توحید تھی جس کو نہ تو سمجھا نہ میں سمجھا 2 علم اور کردار کی یہی وہ پختگی ہے، جس کے نتیجے میں پروردگار اتمامِ نعمت کی دولت سے نوازتا ہے اور اتمامِ نعمت سے مراد تکمیلِ دین ہے۔ یہاں جو تین حکمتیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے یہ دوسری حکمت ہے کہ جب تم اپنے اندر اس طرح کا کردار پیدا کرلوگے تو تب ہم تمہیں تکمیلِ دین کی دولت عطا فرمائیں گے اور تکمیلِ دین کا جب اعلان کیا گیا ہے اس میں اس امت یعنی صحابہ کرام کو سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَـلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِ ” آج کافر قوتیں تمہارے دین سے مایوس ہوگئیں انھوں نے ہر طرح سے سر پٹخ کر دیکھا لیکن تمہارے معتقدات میں کوئی نقب نہ لگاسکے، تمہارے کردار میں کوئی کمزوری نہ پیدا کرسکے “۔ اہل کتاب علم و دانش کے ہزار دعو وں کے باوجود علم و یقین کے میدان میں ان امیوں کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ مسلمانوں کی اپنی تہذیب اور اپنے تمدن نے امت مسلمہ کی شیرازہ بندی کی ان کی ریاست کا ایک ایک ادارہ اسی حوالے سے وجود میں آیا پوری دنیا مسلمانوں کے سامنے حرف معطل بن کر رہ گئی۔ چناچہ قرآن کریم نے یہ سرٹیفکیٹ جاری کیا کہ کافر قوتیں تم سے مایوس ہوگئی ہیں۔ لیکن یاد رکھو ! اس کے بعد بھی اس صورتحال کو بدلنا نہیں چاہیے۔ تمہیں میرے سوا کسی اور سے ہرگز نہیں ڈرنا۔ اس کے بعد الیوم اکملت لکم کہہ کر تکمیلِ دین کا اعلان فرمایا۔ دیکھ لیجئے ! اس کی بنیاد یہی جملہ ہے جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ 3 تیسری حکمت ہے ” راہ یابی “ لَعَلَّـکُمْ تَھْتَدُوْنَ اگر تم چاہتے ہو اللہ تمہیں مکمل طور پر ہدایت سے نوازے تو پھر تمہیں اس قبلے سے اپنی وابستگی کو مکمل کرنا ہوگا۔ اسی قبلہ سے وابستگی کا نتیجہ ملت ابراہیم ہے۔ اسی گھر سے جنم لینے والے انقلاب کی علمبردارامتِ مسلمہ ہے اور اسی کے قائد اور رہبر سروردوعالم ﷺ ہیں اور یہی گھر قرآن پاک کی تعلیم و تربیت کا مرکز ہے اور اسی کے گردو پیش میں اللہ کی توحید اور اس کی بندگی کے نشانات پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لیے وہ مکمل ہدایت جو آدمی کو صراط مستقیم تک لے جاتی ہے وہ اسی گھر کے باعث نصیب ہوتی اور توانا ہوتی ہے۔ تو اگر اس گھر کی وابستگی میں کوئی کمی آگئی تو ان حکمتوں میں سے کوئی چیز نصیب نہیں ہوسکے گی۔ ان حکمتوں کو سمجھ لینے سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ پروردگار نے تحویلِ قبلہ کا حکم دینے کے بعد اس قدر تاکید سے کیوں کام لیا ہے۔
Ayah 2:151

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

چناچہ ہم نے تم میں ایک رسول بھیجا تم ہی میں سے جو تمہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دیتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے

کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰـتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَا لَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 151) (چنانچہ ہم نے تم میں ایک رسول بھیجا تم ہی میں سے جو تمہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دیتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے) تشبیہ کس چیز کی ؟ اس آیت کے آغاز میں ” کَمَا “ کا لفظ آیا ہے جس میں ” ک “ حرف تشبیہ ہے۔ اس حرف تشبیہ کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تشبیہ کس چیز میں دی گئی ہے۔ اگر ہم سیاق کلام کو غور سے دیکھیں تو اس تشبیہ کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہتا۔ گزشتہ سے پیوستہ رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائوں کا ذکر ہے۔ جن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس قبلہ کی خدمت اور تولیت کے لیے ایک امت مسلمہ اپنے اللہ سے مانگی ہے جس قبلہ کی آپ نے اللہ کے حکم سے تعمیر کی تھی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو پور افرماتے ہوئے اس گھر کی آبادی اور خدمت کے لیے نہ صرف اس امت کو اٹھایا بلکہ اسے خیر امت اور امت وسط بنا کر پوری دنیا کی ہدایت کے حوالے سے قیادت و امامت کی ذمہ داری اس کے سپرد کردی اور جس قبلہ میں کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس امت کے لیے دعا مانگی تھی وہی قبلہ اس امت کا قبلہ بنادیا گیا اور اسی مرکز کے حوالے سے اس کی شیرازہ بندی کی گئی۔ اب نہایت ضروری تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کو بھی تعبیر دی جاتی جس میں آپ نے اس امت ہی کی تعلیم اور تزکیہ کے لیے ایک رسول مانگا تھا اور جس کے واسطے سے قیامت تک کے لیے پوری دنیا کو ہدایت کی روشنی ملنے والی تھی۔ چناچہ جب امت کا سفر شروع ہوگیا اس کی جہتِ سفر کے لیے ایک منزل اور اس کی شیرازہ بندی کے لیے ایک مرکز دے دیا گیا تو نہایت ضروری تھا کہ اس سے پہلے اس رسول کو بھیجا جاتا جس کی تعلیم و تربیت سے امت کو ہدایت ملنا تھی اور جس کے نور ہدایت سے اس گھر کو دین کا مرکز بننا تھا۔ اس طرح سے اللہ کی الوہیت اور بندگی پر مبنی وہ انقلاب وجود میں آنا تھا جس کی علمبردار یہ امت ہوتی اور جس کا مرکز اللہ کا یہ گھرہوتا اور جس کی امامت اور قیادت اللہ کے رسول کے ہاتھ میں ہوتی۔ وَیُعَلِّمُکُمْ مَا لَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ کا مفہوم چناچہ تحویلِ قبلہ کے سلسلہ کی ہدایات دینے کے بعداللہ نے اس طرف متوجہ کرنا ضروری سمجھا کہ دیکھو ! تمہاری دینی اور شرعی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے ہم نے صرف قبلہ ہی نہیں دیا بلکہ وہ رسول بھی دیا ہے جو تمہیں اللہ کی کتاب پڑھ کر سنائے گا اس کے احکام اور فرامین سے تمہیں آگاہ کرے گا پھر تمہیں باقاعدہ ان احکام کی تعلیم دے گا۔ اس علم صحیح کے ایک ایک گوشے اور اس کے انطباق کی ایک ایک حکمت واضح کرے گا اور احساسات و انفعالات اور اثرات وتأثرات کی پاکیزگی کے لیے تزکیہ نفوس کرے گا اور تمہیں ان باتوں کی تعلیم دے گا جو تمہاری زندگی کی ضروریات کے لیے نہایت ناگزیر ہیں، لیکن تم انھیں جانتے نہیں۔ اس آیت میں رسول اکرم ﷺ کے فرائض کے حوالے سے جن باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ہم گزشتہ سے پیوستہ رکوع میں اس کی تشریح کرچکے ہیں، اس لیے ہم اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ البتہ اس آیت کا آخری حصہ کہ وہ تمہیں ان باتوں کی تعلیم دے گا جس کو تم نہیں جانتے۔ یہ گزشتہ آیت سے ایک زائد بات ہے جس کی طرف توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ کے پیغمبرجب دنیا کی اصلاح کے لیے تشریف لاتے ہیں تو وہ دنیا کو ہر وہ چیز بتلاتے ہیں جو ان کی اصلاح کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ ان میں ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں جنھیں قوم پہلے سے جانتی ہے، لیکن نظر انداز کرچکی ہے۔ ایسی بھی چیزیں ہوتی ہیں جنھیں بالکل بھلایا جاچکا اور ایسے حقائق بھی ہوتے ہیں جنھیں لوگ بالکل نہیں جانتے۔ لیکن انسانی زندگی کے لیے ان کا علم ازبس ضروری ہے۔ چناچہ اس دور میں آنحضرت ﷺ نے اپنی تشریف آوری کے بعد ان تمام ضرورتوں کو پورا فرمایا جن کی تفصیلات سے آپ واقف ہیں اور آج بھی ان کی تعلیمات جو قرآن وسنت پر مشتمل ہیں امت کے لیے مکمل رہنمائی کا سامان ہیں۔ لیکن ہم اس کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز بھی دیکھتے ہیں کہ پیغمبر کی تعلیم صرف علم تک محدود نہیں ہوتی ان کی ہر بات عمل کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر کسی بات کو صرف جاننا اور سمجھنا مقصود ہو تو اس کے لیے دماغی کاوشیں کافی ہیں۔ لیکن اگر اس کے لیے عمل ناگزیرہوتو پھر دماغی کاوشیں اور سمعی اور بصری آلات کافی نہیں بلکہ اس کے لیے اصل ضرورت دل و دماغ کی ہم آہنگی، قلبی آمادگی، قلبی اطمینان بلکہ قلبی یقین ضروری ہے۔ جس علم کے پیچھے یقین نہ ہو وہ محض زبان کا جمع خرچ، دماغ کی عیاشی اور دل کا نفاق ہوتا ہے۔ ایسے علم سے ادارے تو چل سکتے ہیں لیکن توانا قومیں وجود میں نہیں آتیں۔ آجائیں، تو اپنی بقا کا سامان نہیں کرسکتیں۔ اس لیے اللہ کے نبی علمی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اصل زور دل و دماغ کی ہم آہنگی پیدا کرنے اور یقین کی قوت سے بہرہ ور کرنے کے لیے صرف کرتے ہیں۔ اور یہی وہ قوت ہے جس کے حاصل ہوجانے کے بعد قوموں اور افراد میں وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے سابقہ آیت میں فَـلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِ سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ علم و یقین کی یکجائی اس قوت کو پیدا کرتی ہے جس میں اندیشہ ہائے دوردراز اور شک و ارتیاب کے واہمے دم توڑ جاتے ہیں۔ بےیقینی کے برے اثرات کو سر اٹھانے کا موقع نہیں ملتا۔ پیغمبر کا اصل ہدف یہی ہوتا ہے اور ان کے پیروکار بھی ہمیشہ یہی دولت دنیا میں تقسیم کرتے ہیں۔ لیکن جب جہالت اپنے پنجے گاڑ لیتی ہے اور علم دین سے بیگانہ ہوجاتا ہے اور زندگی کے مقاصدبگڑنے لگتے ہیں اور انسان اپنی اصل شناخت بھول جاتا ہے تو پھر اس کا علم اپنی جہت کھو دیتا ہے۔ اپنی اصل حیثیت گم کر بیٹھتا ہے مادے کا خدمت گزار بن کر پستیوں میں اترتا چلا جاتا ہے۔ ان خطرات سے انسانیت کو بچانا ہر دور میں تعلیماتِ پیغمبر کا اصل اعجاز ہے۔ حضور جن لوگوں میں تشریف لائے تھے ان کی بھی اصل ضرورت یہی تھی اور حضور نے انھیں اس حوالہ سے مالا مال کردیا اور آج بھی انسان کی اصل ضرورت یہی ہے۔ لیکن آج ہم ان بنیادی حقائق سے بےبہرہ ہوتے جارہے ہیں جو پیغمبر کی تعلیم کی شروعات کہلاتے ہیں۔ اللہ کی ذات انسانی علم کی مبدا ومعاد ہے۔ یہی اول ہے اور یہی آخر ہے، یہی ظاہر ہے اور یہی باطن ہے۔ ایک مسلمان کو اس کے ساتھ کیسا تعلق رکھنا چاہیے یہ ہماری معلومات کی پہلی سیڑھی ہے۔ ہر مرحلے پر آنحضرت ﷺ نے اس کا یقین پیدا فرمایا ہے۔ غارِ ثور میں جب دشمن سر پر پہنچ گیا تو حضرت ابوبکر صدیق ( رض) نے نہایت فکرمندی سے آنحضرت سے عرض کیا کہ حضور تلاش کرنے والے ہمارے سروں پر پہنچ گئے، وہ ذرا جھک کردیکھیں تو ہم ان کی نظروں میں ہیں۔ تو آنحضرت ﷺ نے نہایت اطمینان سے فرمایا : لاتحزن ان اللہ معنا ” مت گھبرا، فکر مند نہ ہو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے “۔ یہی یقین کی وہ قوت تھی جس نے حضرت صدیق اکبر سے لے کر آخری صحابی تک اسلام کی راہ میں آنے والی مشکلات کا سفر آسان کردیا۔ لیکن ہم مجموعی طور پر آج اس سبق سے بےبہرہ ہیں۔ پوری امت یہ سمجھنے سے قاصر ہوگئی ہے کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے اور ہم ایسے طور اطوار اختیار کریں کہ ہم اس کی معیت کا استحقاق پیدا کرلیں۔ اس کے بعد ہمارے لیے کوئی مشکل، مشکل نہیں رہے گی۔ لیکن ہمیں اللہ کے سوا ہر قوت کا ساتھ عزیز ہے اور اسے حاصل کرنے کی فکر بھی ہے۔ لیکن اللہ کے بارے میں ہم اس بنیادی تصور سے عاری ہوگئے ہیں۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں کھول کر اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔