2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:152

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا میری شکرگزاری کرتے رہنا میری ناشکری نہ کرنا

فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلَا تَـکْفُرُوْنِ ۔ (البقرۃ :۔ 152) (پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا میری شکرگزاری کرتے رہنا میری ناشکری نہ کرنا) اللہ تعالیٰ اور اس امت کے درمیان ایک معاہدہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری، قرآن کریم کے نزول اور تحویلِ قبلہ کے حکم کے بعد اس امت کے وجود اس کی شیرازہ بندی اور اس کی بقا کے تمام سامان میسر ہوگئے یہ قافلہ حق اپنے سفر پر روانہ ہوچکا ہے۔ اب اس کے سامنے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی ہے۔ اور اس دنیا میں اپنے مفوضہ کردار کو ادا کرنا ہے۔ اسے خوب معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے وجود کی پہلی اینٹ اللہ کی یاد سے اٹھائی گئی ہے۔ اس کی زندگی کا سارا سرمایہ اس علم پر مشتمل ہے جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اور اس امت کے دلوں کی روشنی اس اسوہ میں ہے جو اللہ کے رسول کا اسوہ ہے۔ اور ان کی تمام تر رفعتیں اور کامیابیاں اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید کی مرہونِ منت ہیں۔ وہی ہے جس کی معیت ہر وقت انھیں حاصل ہے وہ جس طرح ان کا حامی وناصر ہے اسی طرح ان کے اعمال کا نگران بھی ہے۔ غرضیکہ اللہ کی یاد اور اس کا استحضار ایک مومن کی زندگی ہے وہ ایمانیات سے لے کر آداب زندگی تک ہر لمحہ اللہ کی تعلیمات کا محتاج ہے اور اپنے ہر عمل میں قوت اور اس کی قبولیت کے لیے اللہ کی رحمت کا متمنی ہے۔ وہ اپنے کسی کام اور کسی ضرورت کے حوالے سے بھی اللہ سے بےنیاز نہیں رہ سکتا۔ اس کو سمیٹتے ہوئے یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک مومن کی بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنے اللہ کو یاد رکھے اور اللہ کی طرف سے بندے پر انعام یہ ہے کہ وہ اپنے بندے کی بندگی کو قبولیت سے نوازے اور اپنی نصرت و تائید سے اس کی بھرپور مدد فرمائے۔ یہ گویا ایک طرح سے ایک معاہدہ ہے جو اللہ اور اس امت کے درمیان ہوا ہے۔ اور یہی معاہدہ ہر امت کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے حوالے سے بھی ہمیں بتایا گیا ہے کہ اسے بھی اسی طرح کی یاددہانی کی گئی تھی۔ اُذْکُرُو انِعْمَتِیَ الَّتِی اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَھْدِیْ اُوْفِ بِعْھَدِکُمْ وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنَ ۔ (میری اس نعمت کو یاد رکھو جو میں نے تم پر کی ہے اور میرے عہد کو پورا کرو اور میں اس عہد کو پور اکروں گا جو میں نے تم سے کیا ہے اور مجھ ہی سے ڈرو) یہی معاہدہ اس امت سے کیا گیا ہے کہ تم اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں جو اللہ اور اس کے رسول نے تم پر عائد کی ہیں ادا کرنے میں کبھی کوتاہی نہ کرو۔ اسی کے لیے جیو اور اسی کے لیے مرو، تمہارا ہدف صرف اعلائے کلمۃ الحق ہونا چاہیے۔ اس کی خاطر تمہیں دنیا بھر سے ٹکراناپڑے تو کبھی دریغ نہ کرو۔ اپنی ذات کی بالکل نفی کردو، اپنے مفادات اور اپنے مرغوبات کو اسلامی مفادات میں گم کردو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہر مرحلے پر تمہیں اپنی نصرت سے نوازے گا۔ مشکل سے مشکل مرحلے پر تمہاری مدد کرے گا، تمہاری زمینیں تمہارے لیے سونا اگلیں گی۔ آسمانوں سے برکتوں کے دروازے کھل جائیں گے۔ لیکن ساتھ ہی ایک وارننگ بھی دی ہے جو اس آیت کے دروبست میں جھلک رہی ہے۔ ذرا اس آیت کے الفاظ پر غور کیجئے ! اس کا ترجمہ یہ ہے ” تم مجھے یاد رکھو تو میں تمہیں یاد رکھوں گا “ یاد رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ تم میری ہر نعمت کا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔ تمہار اجسم، تمہاری جان، تمہارا مال، تمہاری زبانیں اور تمہارا قلم، تمہارے عہدے، تمہارے مناصب، تمہاری حکومتیں، تمہاری افرادی قوت، تمہارے ذرائع اور وسائل، تمہارے ذرائع ابلاغ، تمہاری فوج، یہ سب اللہ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں۔ ان کا شکر یہ ہے کہ ان میں سے ایک ایک چیز اللہ کی بندگی اللہ کے بندوں کی خدمت، اللہ کے دین کی سربلندی، اللہ کے احکام کی اطاعت اور اللہ کے رسول کی سنت پر عمل میں صرف ہو۔ ناشکری یہ ہے کہ ان میں سے ہر چیزمذکورہ مقاصد سے مختلف مقاصد میں صرف ہو یا اپنی ذات اور ہوائے نفس کی خدمت میں خرچ ہو۔ کہا اگر تم مجھے یاد رکھو اور ناشکری نہ کروتو پھر میرا وعدہ ہے میں تمہیں یاد رکھوں گا یعنی تمہیں دنیا اور آخرت کی کامیابیوں سے نوازوں گا۔ دنیا کی سب سے بڑی قوت تم بنو گے، تمہارا لوہا ہر لوہے کو کاٹے گا، تمہاری پیشانی کی سلوٹوں سے قوموں کی تقدیریں بدلیں گی۔ یہ محض خیال آرائی نہیں صدیوں تک دنیا اس امت کو اسی بلندی پر دیکھ چکی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز اپنے دور کے اللہ سے ڈرنے والے حکمران تھے، جو ایک مزدور سے بھی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ لیکن ان کی ہیبت کا عالم یہ تھا کہ اس وقت کی معلوم زمین پر کوئی غیر مسلم حکومت ایسی نہ تھی جو انھیں خراج نہ دیتی ہو۔ خلیفہ ہارون الرشید نے بادل کے ایک آوارہ ٹکڑے کو دیکھ کر کہا :” تو جہاں چاہے جا کر برس، تیرے پانی سے جو پیداوار ہوگی وہ میرے ہی خزانے میں آئے گی “ پھر خود ہی اس کا مطلب بیان کیا کہ اگر یہ عالم اسلام پر برسے تو وہ میری مملکت ہے اور اگر یہ کسی غیرمسلم ملک پر برسے تو کوئی ایسا غیر مسلم ملک نہیں جو مجھے خراج نہ دیتاہو۔ آج یہ باتیں لوگوں کو افسانہ معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن تاریخ اس سے انکار نہیں کرسکتی کہ ہم نے صدیوں تک ظالموں کی گردنیں جھکائی ہیں۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے : کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے وہ کیا گردوں تھا جس کا تو ہے اک ٹوٹا ہوا تارا تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں کچل ڈالا تھا جس نے پائوں میں تاج سردارا کہوں کیا ہم نشیں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے جہاں گیر و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارا لیکن اسی آیت میں تنبیہ اور وارننگ بھی مضمر ہے کہ اگر تم مجھے یاد نہیں رکھو گے تو سوچ لو پھر اس کا انجام کیا ہوگا کیونکہ ہماری ہستی سے لے کر کامیابی تک پورا سفر اللہ کی ذات کا مرہونِ منت ہے۔ اگر وہ ہمیں اپنی یاد سے نکال دے تو نتیجہ اس کا وہی ہوگا جو آج ہمارے ساتھ ہورہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی امت ہوتے ہوئے بھی آج ہم بدترین ذلت کا شکار ہیں۔ کوئی ملک کسی دوسرے کی مدد کرنے کی ہمت نہیں کررہا۔ بلکہ ہم تو پتلیوں کی طرح غیر مسلم قوتوں کے اشارے پر ناچ رہے ہیں۔ ہمیں اپنے مفادات سے زیادہ ان کے مفادات عزیز ہیں۔ اپنے مسلمان بھائیوں کو غیر مسلموں کی خاطر قتل کرنے سے بھی ہمیں دریغ نہیں۔
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

(اے ایمان والو ! ثابت قدمی اور نماز سے مدد چاہو، بیشک اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْن۔ (البقرۃ : 153) (اے ایمان والو ! ثابت قدمی اور نماز سے مدد چاہو، بیشک اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے ) آیت کا پس منظر اور تہہ منظر اس آیت کریمہ کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا پس منظر پیش منظر اور تہہ منظر بھی سمجھا جائے۔ اس کا پس منظر اور تہہ منظریہ ہے کہ یہ آیت کریمہ مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ہے اور مدینہ طیبہ میں آپ کے مخاطب اوس و خزرج کے علاوہ یہود کے تین قبیلے ہیں۔ مکہ معظمہ سے اگرچہ آپ ہجرت فرماچکے ہیں۔ لیکن وہ پس منظر میں رہ کرا بھی تک اسلام اور مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا کررہے ہیں۔ جہاں تک یہود کا تعلق ہے ان کی اسلام اور آنحضرت ﷺ سے دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ وہ بری طرح حسد کی آگ میں جل رہے تھے۔ جس مذہبی سیادت اور منصب مشیخیت پر وہ فائز تھے اور جس کی وجہ سے ان کے لیے فتوحات کا دروازہ کھلاہوا تھا، آنحضرت کی بعثت کے بعد وہ اپنے اس منصب کو ہلتا ہوا محسوس کررہے تھے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ نبی آخرالزماں قریش میں تشریف لاچکے ہیں۔ بیت اللہ کو ان کا الگ قبلہ بنا کر اللہ نے ان کو انفرادیت دے دی ہے اور اس سے ان کا قومی تشخص ابھر کر سامنے آگیا ہے۔ روزبروز مسلمانون کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اسلامی قوت میں اضافہ ہورہا ہے۔ وہ اس بڑھتی ہوئی قوت کو اپنی قومی سیادت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ محسوس کررہے تھے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ہمیں اللہ کی جانب سے امامت و قیادت کے منصب سے معزول کرکے نبی آخرالزماں کی امت کو فائز کیا جارہا ہے۔ اب اگر یہ امت سیاسی طور پر بھی مستحکم ہوجاتی ہے تو ہمارے لیے جزیرہ عرب میں کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔ اس پوری صورتحال نے انھیں غیظ وغضب کی انتہاتک پہنچا دیا تھا۔ دشمنی میں وہ پہلے بھی کم نہ تھے لیکن مسلمانوں کا بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا ان کو امید دلاتا تھا کہ شائد یہ ایک نکتہ اشتراک مزید اشتراکات میں تبدیل ہوجائے۔ لیکن تحویلِ قبلہ کا حکم آنے کے بعد وہ دشمنی کے سوا ہر جذبے سے محروم ہوگئے۔ اب انھوں نے فیصلہ کرلیا کہ جس طرح بھی ہوسکے اس نوزائیدہ تحریک کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے یا کم از کم ان کے لیے زیادہ سے زیادہ مشکلات پیدا کی جائیں۔ اس طرح سے مسلمانوں کے لیے مدینہ طیبہ، جس کے وسائل پر بہت حد تک یہود قابض تھے اور عوام کے اندر ان کا بےپناہ اثر رسوخ پایا جاتا تھا، ایک ایسی بستی میں تبدیل ہوگیا جس میں ان کے لیے ہر طرف خطرات کے ناگ لہراتے ہوئے نظر آتے تھے اور آئندہ انھیں اس سے بھی بڑے خطرات کا اندیشہ تھا۔ دوسری طرف قریش تھے۔ جنھوں نے مسلسل مسلمانوں کو اذیتیں پہنچا کر مکہ سے نکلنے پر مجبور کردیا تھا۔ آنحضرت ﷺ کو بظاہر بےبس اور تنہا پاکر قتل کردینے کا منصوبہ بنا چکے تھے کہ اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے آنحضرت ﷺ کو نہایت حفاظت کے ساتھ مدینہ پہنچا دیا۔ اس سے اگرچہ قریش کو بڑ ادھچکا لگا لیکن پھر بھی وہ یہ سمجھنے لگے کہ ان کی مسلمانوں سے جان چھوٹ گئی۔ اب مدینے کا اجنبی ماحول اور یہود جیسے خطرناک دشمنوں کی دشمنی مسلمانوں کو ختم کردینے کے لیے کافی ہوگی۔ لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمان تو روزبروز بڑھتے جارہے ہیں ان کی طاقت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ نے بیت ابراہیمی کو ان کا قبلہ مقرر کردیا ہے اور وہ یہ دعویٰ کرنے لگے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے ملت ابراہیم پر مبعوث کیا ہے اس لیے آپ اور آپ کی امت بیت اللہ کے صحیح اور جائز وارث ہیں۔ اس صورتحال نے ان کے اندر بھی ایک آگ لگادی تھی اور وہ یہ محسوس کرنے لگے کہ اگر مسلمانوں کو ختم کرنے یاروکنے کی بروقت کوشش نہ کی گئی تو مسلمان آگے بڑھ کر خانہ کعبہ کو واگزار کرانے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ خانہ کعبہ کو مرکز بنا کر اسلامی تحریک کو تیزی سے آگے بڑھاسکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مکہ ان کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا اور عرب کی طاقت ان کے ہاتھوں میں چلی جائے گی اور پھر قریش ان کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ آیت کا پیش منظر قریش اور یہود کے ان اندیشوں نے آہستہ آہستہ فتنے کی شکل اختیار کرنا شروع کردی اور دونوں نے مسلمانوں کے استیصال کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنے کے وعدے کرلیے۔ مسلمان اگرچہ ان حالات سے پوری طرح باخبر نہ تھے لیکن اللہ تعالیٰ تو علام الغیوب ہیں وہ تو ہر طرح سے ان حالات کو جانتے تھے۔ اس لیے اس آیت کریمہ اور اگلی آیات میں مسلمانوں کو آنے والے خطرات سے متنبہ کیا اور ساتھ ہی ان خطرات سے عہدہ برآ ہونے کا حل بھی تجویز فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں اگرچہ خطرات کا ذکر نہیں لیکن ایک تو اس کے بعد کی آیات میں خطرات کی طرف واضح اشارے موجود ہیں اور دوسرا اس آیت میں جس طرح مدد چاہنے اور پھر اس کے لیے صبراختیار کرنے کا حکم دیا جارہا ہے اس میں جس طرح خطرات کی طرف اشارہ موجود ہے جسے ہر معمولی عقل رکھنے والا بھی سمجھ سکتا ہے۔ آپ کسی فرد یا گروہ سے کہئے کہ تم اللہ سے مدد مانگو اور اس کے لیے صبر اور نماز کو اختیار کروتو جو شخص بھی اپنے ماحول سے واقف ہے اور اپنے فرائض کی مشکلات سے بھی باخبر ہے اسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ مجھے درحقیقت کیا کہا جارہا ہے۔ چناچہ مسلمان بھی اس سے پوری طرح باخبر ہوگئے کہ ہمارے سامنے خطرات کی گھٹائیں اٹھنے والی ہیں اس لیے ہمیں اس کے لیے تیاری شروع کردینی چاہیے۔ چناچہ تیاری کے لیے جو نسخہ تجویز ہوا، اس کے دو اجزا ہیں۔ ایک صبر، دوسرا نماز۔ خطرات اور مشکلات کا علاج نظریاتی قوتیں جب کبھی ناموافق صورتحال سے دو چار ہوتی ہیں تو ان کے لیے سب سے بڑا سہارا ان کی اپنے نظریات سے کمٹمنٹ، وابستگی اور ان پر استقامت ہوتی ہے۔ یہی چیز ہے جو قوموں کو مشکل سے مشکل حالات میں حوصلہ مند بناتی اور مشکلات سے لڑنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ دشمن کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ انھیں بےحوصلہ کرکے ان کامورال توڑ ڈالا جائے تاکہ یہ اپنے سائے سے بھی ڈرنے لگیں۔ ہر اٹھتی ہوئی آواز کو کوندتی ہوئی بجلی تصور کریں اور ہر چھوٹے بڑے خطرے کو دیکھ کر کمپرومائز کرنے پر تیار ہوجائیں۔ کسی قوم میں اگر واقعی ایسی کمزوریاں داخل ہوجائیں تو انھیں تباہ کرنے کے لیے دشمن کو زیادہ کوشش نہیں کرنا پڑتی کیونکہ جس طرح مدافعت کی قوتیں باہر سے کام کرتی ہیں، اس سے بڑھ کر اندر سے کام کرتی ہیں۔ کانپتے ہوئے ہاتھ اور سہمے ہوئے دماغ اور سراسیمہ قلوب کبھی بھی حالات کا سامنا نہیں کرسکتے۔ اس لیے سب سے پہلے اسی بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ تم اپنے اندر صبر کی قوت پیدا کرو، اپنے نظریات پر اڑجاؤ، ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوجاؤ، ڈرنے اور سہمنے کی بجائے جرأت اور استقامت کو اپنا ہتھیار بنائو۔ لیکن قربان جائیے قرآن کریم کی بلاغت پر کہ اس نے صبر کا لفظ استعمال کیا جو اپنے اندر بڑی معنوی وسعت رکھتا ہے۔ جو کچھ ہم نے عرض کیا اس کے ساتھ ساتھ صبر کے مفہوم میں تین اور باتیں بھی شامل ہیں، جسے اہل علم صبر کی تین قسمیں شمار کرتے ہیں۔ 1۔ صبر علی الطاعات، 2۔ صبر عن المعصیات، 3۔ صبر علی المصائب 1۔ صبر علی الطاعات کا مطلب ہے اپنے نفس کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند کردینا، نفس کو اطاعت کی زنجیر پہنا دینا، نفس کو اس قابل بنادینا کہ خواہشات اسے اپنے راستے پر چلنے کے لیے آمادہ نہ کرسکیں۔ امیدیں اور آرزوئیں نفس کو مجبور نہ کرسکیں کہ وہ شریعت کے حکم کو چھوڑ کر امیدوں اور آرزوئوں کی پیروی کرنے لگے۔ اللہ اور رسول کی اطاعت دل و دماغ اور نفس کے لیے مرغوب ہوجائے اور گناہ اور نافرمانی ان کے لیے مکروہ بن جائے۔ 2۔ صبر عن المعصیات اس کا معنی ہے معصیتوں اور نافرمانیوں سے صبر۔ یعنی آدمی اپنے آپ کو اس طرح مضبوط بنا دے کہ کوئی نافرمانی اس سے سرزد نہ ہونے پائے۔ نافرمانی کے مقابلے میں وہ اڑ جائے۔ اس کے لیے اسے کیسی ہی قربانی دینی پڑے اس سے کبھی دریغ نہ کرے۔ 3۔ صبر علی المصائب مصیبتوں پر صبر۔ نیکی کے راستے میں مصیبتوں کا آنا ایک ایسی اٹل سنت ہے جسے بدلا نہیں جاسکتا۔ جو آدمی حق کی علمبرداری کرتا ہے، باطل قوتیں اسے کبھی چین سے نہیں بیٹھنے دیتیں اور جو شخص نیکی کو اپنا رویہ بنا لیتا ہے، برائی کی قوتیں اسے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتی یا اسے بہکانے کی کوشش کرتی ہیں۔ شریعت کی پابندی کرتے ہوئے جو شخص رزق حلال پر اصرار کرتا ہے گھر سے لے کر اس کے دفتر تک کتنے لوگ ہیں جو اس کا جینا حرام کردیتے ہیں۔ دوست احباب کی مجلس میں جو دوست اپنے دوستوں کے برے ارادوں کا ساتھ نہیں دیتا ان کی بری مجالس کی رونق نہیں بنتا ان کی خواہشات کی تائید نہیں کرتا، ایسے دوست کو کبھی برداشت نہیں کیا جاتا۔ ایسی ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنا اور پیش آمدہ مشکلات کو برداشت کرنا صبر علی المصائب ہے۔ یہ صبر کی مختلف قسمیں ہیں، جس میں قدر مشترک صرف ایک ہے۔ وہ ہے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت اور اللہ کی رضا کا حصول یہ وہ عملی وابستگی ہے جو نظریاتی وابستگی سے مل کر انسانی عزم کو مضبوط بناتی ہے۔ جس کے نتیجے میں زندگی کے ہر شعبے میں باطل سے مقابلہ کرنے کی ایک ایسی قوت پیدا ہوجاتی ہے جو حق و باطل کے معرکے میں اصل مطلوب ہے۔ جو آدمی بھی یہ چاہتا ہے کہ میں حق و باطل کی آویزش میں اپنی ذمہ داریاں ادا کروں تو اسے سب سے پہلے اپنے اندر صبر کی قوت پیدا کرنی چاہیے۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جو نظریاتی پختگی کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے اور عملی طہارت اور پاکیزگی کا بھی۔ اس کے بغیر کبھی آدمی باطل کے مقابلے میں کھڑا نہیں رہ سکتا۔ ؎ ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ پہلے اپنے پیکرخاکی میں جاں پیدا کرے دوسری چیز جس سے حق و باطل کے معرکے میں مدد طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ نماز ہے۔ صبر کے سلسلے میں ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے اگر اسے پیش نظر رکھا جائے تو دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حق و باطل کے معرکے میں پامردی، استقلال، اور استقامت شرط اول ہے۔ اور دوسری یہ چیز کہ صبر کا تعلق جس طرح ثابت قدمی سے ہے اسی طرح نفس کو معصیت سے بچانے اور نفس کو اطاعت کی زنجیر پہنانے سے بھی ہے۔ حق و باطل کے معرکے میں صرف غنیم اور فریقِ مخالف پر بالا دستی اور برتری مقصود نہیں ہوتی بلکہ باطل کی سرکوبی اور حق کی سربلندی بھی مقصود ہوتی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ اس معرکے کا ہر سپاہی اس حق کا پیکر، اطاعت گزار اور علمبردار ہو جس کے لیے وہ اس معرکے میں اترا ہے اور اس کی زندگی کے کسی شعبے میں بھی اس باطل کی پرچھائیں بھی نہ پڑے جس کو وہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ ایسے معرکے میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جس حق کے لیے معرکہ آرا ہے اس حق کے ساتھ وابستگی بلکہ غائیت درجہ والہانہ تعلق میں کمی نہ آنے پائے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتاجائے اور دوسری یہ بات کہ چونکہ باطل کا ایک رنگ نہیں وہ ہزار رنگوں میں زندگی کے بیشتر شعبوں میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کی سرکوبی کرنا یا اس کا مقابلہ کرنا آدمی کے اپنے وسائل سے ممکن نہیں کیونکہ ہر باطل کے پیچھے شیطانی قوتیں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کے مقابلے کے لیے ایسے بڑے سہارے اور پشت پناہ کی ضرورت ہے، جس کی مدد میسر آجائے تو شیطانی قوتیں اس کا سامنا نہ کرسکیں۔ نماز سے مدد یہ دونوں قوتیں صرف نماز سے میسر آتی ہیں۔ نماز کے ذریعے آدمی کا اس ذات سے براہ راست والہانہ تعلق پیدا ہوجاتا ہے جو حق کی سرچشمہ اور منبع ہے۔ جو خود حق ہے اور حق اس سے ظہور پذیر ہوتا ہے اور وہی ذات ہے جس کی مدد اور پشت پناہی کمزوروں کو مضبوط بناتی اور مغلوب کا غالب کردیتی ہے۔ ایک بندئہ خدا جب نماز کے ارادے سے ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ سوائے اللہ کے تعلق کے باقی ہر تعلق کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ ان سے اظہارِ لاتعلقی کرتے ہوئے کانوں تک ہاتھ اٹھا کر غلاموں کی طرح ہاتھ باندھ لیتا ہے۔ اس طرح سے وہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ میں اللہ کے سوا ہر آستانے پر جھکنے سے انکار کرتا ہوں اور ہر بڑائی اور آقائی کے دعویدار کی غلامی سے نفرت کا اظہار کرتا ہوں۔ اس کے بعد وہ اپنے آقا کی مدح وثنا میں ڈوب جاتا ہے۔ اسی کی پناہ چاہتا ہے، اسی کے نام سے ہر کام کا آغاز کرتا ہے۔ پھر اسی کی ذات کو مختلف صفات سے پکارتا ہے اور پھر اپنی عبدیت کا اظہار کرتے ہوئے عبدیت کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے اسی سے مدد کا خواستگار ہوتا ہے۔ فکر وعمل کی مختلف پگڈنڈیوں میں اسی سے صراط مستقیم کی ہدایت طلب کرتا ہے۔ پھر اسی کی محبت اور اطاعت میں کبھی جھکتا ہے کبھی قیام کرتا ہے، کبھی غلاموں کی طرح بیٹھتا ہے، حتی کہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ پھر اسی اظہارِ بندگی کے دوران وہ گھنٹوں اس کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے، جو اسے زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہیں۔ اس کی آیات رحمت پر رحمت کا طلبگار ہوتا ہے اور اس کی آیات عذاب پر اس کے عذاب سے پناہ مانگتا ہے۔ شب وروز میں پانچ مرتبہ اسی عمل کو دہراتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے دل و دماغ میں اللہ کی کبریائی اس سے وفاداری، اپنی عاجزی اور اس کی بندگی کا تصور ایک مضبوط ایمان بن کر اس کے دل کی دھڑکن اور اس کے دل کی روشنی بن جاتا ہے۔ وہ ہر وقت اپنے اللہ کو حاضروناظر جانتا ہے۔ کوئی سا کام بھی کرے اسے یقین ہوتا ہے کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ کسی حال میں بھی ہو وہ جانتا ہے کہ میں اللہ کی نگاہوں میں ہوں۔ میں تنہا بےبس اور بےکس نہیں ہوں۔ جو ذات میرے دل میں مکیں ہے وہی میرے گردوپیش میں بھی ہے، میں اس کے حصار میں ہوں۔ دنیا کی کوئی قوت اس کے مقابلے میں میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ وہ جب تک مجھے زندہ رکھنا چاہے کوئی مجھے مار نہیں سکتا اور جب مارنا چاہے کوئی بچا نہیں سکتا۔ میری زندگی کارویہ اس کی اطاعت اور اس کی بندگی ہے اور میری زندگی کا سب سے بڑا ہدف اس کے نام، اس کی حرمت اور اس کے دین پر اپنے آپ کو قربان کردینا ہے۔ اس طرح نماز اسے اللہ کی بندگی کا پیکر بھی بناتی ہے اور ساتھ ہی اسے ایک ایسی توانائی اور قوت سے بھی بہرہ ور کرتی ہے جس کی موجودگی میں وہ نہ اس آستانے سے لاتعلق ہوتا ہے اور نہ کبھی کسی کمزوری کا شکار ہوتا ہے۔ حق و باطل کے معرکے میں وہ یکہ و تنہا بھی ہو تو وہ اپنے آپ کو تنہا نہیں سمجھتا کیونکہ اس کا اللہ اس کے ساتھ ہے۔ اگر وہ زندہ رہے تو حق کا خادم بن کر زندہ رہتا ہے اور اگر اسے موت اپنی طرف بلائے تو وہ شہادت کا طلب گار بن کر سب سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ حق و باطل کے معرکے میں چونکہ یہی دو قوتیں اساسی رول ادا کرتی ہیں، اس لیے بطور خاص ان کا حکم دیا کہ مسلمانو ! تم جن نازک حالات سے گزر رہے ہو اس میں ضروری ہے کہ صبر اور نماز سے مدد چاہوکیون کہ یہی دونوں چیزیں تمہیں حق کے ساتھ وابستہ بھی رکھیں گی اور باطل کے مقابلے میں تمہیں پامردی اور استقامت بھی دیں گی۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا : اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ” بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے “۔ بظاہر یہاں اللہ کی معیت کی بشارت صبر کرنے والوں کو دی گئی ہے، نماز کا کوئی ذکر نہیں۔ لیکن جیسا کہ آپ نے مندرجہ بالا گزارشات میں دیکھا کہ صبر نماز سے الگ کوئی چیز نہیں ہے اور نماز ہی دراصل صبر کی قوت بھی عطا کرتی ہے۔ اس لیے صابرین میں یہ دونوں ہی شامل ہیں۔ لیکن بعض اہل علم نے اسے اس طرح بھی سلجھایا ہے کہ نماز میں تو یقینا اللہ کی معیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ نماز کے دوران جتنا آدمی اللہ کے قریب ہوتا ہے، اتنا کسی اور حالت میں نہیں ہوتا۔ اسی لیے نماز کو ” معراج المومنین “ کہا گیا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ نماز واقعی نماز ہو، محض بیگار ٹالنے کی کوشش نہ ہو۔ مزید یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جس نماز کا یہاں ذکر کیا گیا ہے جو مشکلات و مسائل میں آدمی کے لیے سہارا بنتی ہے وہ صرف پنجوقتہ فرض نماز نہیں بلکہ اس میں تہجد اور تمام نفل نمازیں بھی شامل ہیں کیونکہ نفل نمازیں بالخصوص رات کی نمازیں جبکہ دیکھنے والا کوئی نہ ہو، ایک مومن میں حقیقی روح اور زندگی پیدا کرتی ہیں اور انھیں سے اللہ کے ساتھ وہ مضبوط تعلق پیدا ہوتا ہے، جو کسی سخت سے سخت آزمائش میں بھی شکست نہیں کھاتا اور انھیں سے مومن کے دل میں وہ محبت اور خشیت پیدا ہوتی ہے، جو اللہ کے ساتھ اس کا حقیقی تعلق پیدا کرتی ہے۔ اندازہ فرمائیے ! جن خوش نصیبوں کو اللہ کی معیت کا وعدہ مل جائے ان کی خوش نصیبی کا کیا ٹھکانہ ہے اور پھر حق و باطل کے معرکے میں ان کی کمزوری کا وہم بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کمزور تو وہ ہوتا ہے جو تنہا ہو یا جس کا ساتھ دینے والے کمزور ہوں۔ جس کے ساتھ اللہ ہو اس کے یہاں کمزوری کا کیا سوال ؟ وہ بظاہر کمزور دکھائی بھی دیتاہو، لیکن حقیقت میں وہ سب سے زیادہ طاقتور ہے کیونکہ اسے طاقتور کی معیت حاصل ہے لیکن اس کا حقیقی احساس اس وقت ہوتا ہے جب آدمی حق و باطل کی کشمکش میں شریک ہو اور اسے انتہائی ناموافق حالات سے گزرنا پڑرہاہو اور رہا وہ شخص جو نمازیں تو پڑھتا ہے لیکن باطل سے مقابلہ کا کبھی کوئی تصور اس کے دل میں پیدا نہیں ہوتا اس کے لیے نماز ایک تسکین کا باعث تو بن سکتی ہے قوت کا باعث نہیں بنتی۔
Ayah 2:154

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ نہ کہوبل کہ وہ زندہ ہیں لیکن تم محسوس نہیں کرتے۔

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ طبَلْ َحْیَآئٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔ (البقرۃ۔ 154) (اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ نہ کہوبل کہ وہ زندہ ہیں لیکن تم محسوس نہیں کرتے) زندگی اور موت سے متعلق اسلامی تصور حق و باطل کی کشمکش میں سب سے مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب حق کی خاطر جان دینی پڑے۔ انسان کتنا بھی بہادر ہو وہ بہرحال زندگی سے پیار کرتا ہے۔ وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے زندہ رہنا چاہتا ہے۔ زندگی اگر سب سے بڑی نعمت اور سرمایہ ہے تو اسے کھو دینا کسی کو بھی گوارا نہیں ہوتا۔ جب کوئی سننے والا یہ سنتا ہے کہ فلاں شخص اس راستے میں مارا گیا تو موت کے لفظ سے اسے وحشت ہوتی ہے اور وہ اس سے خوف زدہ ہوکرحق کے راستہ سے ہی کنارہ کشی کرلیتا ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ عزیمت اور استقامت کے راستے پر چلنے کے لیے ضروری ہے کہ زندگی اور موت سے متعلق اسلام کے دئیے ہوئے صحیح تصور کو ذہنوں میں مستحضر رکھاجائے کیونکہ جب تک یہ تصور طبیعتوں میں راسخ نہیں ہوگا، عزیمت اور استقامت کے راستے پر چلنا آسان نہیں ہوگا۔ اہل دنیا یہی سمجھتے ہیں کہ جو شخص مرا یا مارا گیا وہ ختم ہوگیا اور اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ لیکن اسلام اپنے ماننے والوں کو زندگی اور موت کا جو تصور دیتا ہے، وہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ یہ زندگی تو چند روزہ اور فانی زندگی ہے۔ اصلی زندگی جو ابدی زندگی ہے، اس کا آغاز تو اس وقت سے ہوتا ہے جب یہ زندگی ختم ہوجاتی ہے اور وہ ابدی زندگی مرنے کے بعدعالمِ برزخ اور پھر عالم آخرت میں حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جاتے ہیں، وہ شہادت کا مرتبہ پالیتے ہیں اور انھیں ایک ایسی زندگی نصیب ہوتی ہے جو اس دنیوی زندگی سے کہیں زیادہ قیمتی ہے اور اس زندگی میں وہ اللہ کے یہاں رزق بھی دیئے جاتے ہیں۔ اس کی تفصیلات بہت ہیں لیکن ان میں جو بات کتاب وسنت کے زیادہ قریب ہے اس کے لیے ہم بیان القرآن سے استفادہ کرتے ہیں۔ ” ایسے مقتول کو جو اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے ” شہید “ کہتے ہیں اور اس کی نسبت گو یہ کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جائز ہے۔ لیکن اس کی موت کو دوسرے مردوں کی سی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ بعد مرنے کے گو برزخی حیات ہر شخص کی روح کو حاصل ہے اور اسی سے جزا اور سزا کا ادراک ہوتا ہے۔ لیکن شہید کو اس حیات اور مردوں سے ایک گونہ امتیاز حاصل ہے اور وہ امتیاز یہ ہے کہ اس کی یہ حیات آثار میں اوروں سے قوی ہے، جیسے انگلیوں کے اگلے پورے اور ایڑی، اگرچہ دونوں میں حیات ہے اور حیات کے آثار بھی دونوں میں موجود ہیں۔ لیکن انگلیوں کے پوروں میں حیات کے آثار، احساس وغیرہ بہ نسبت ایڑی کے زیادہ ہیں۔ اسی طرح شہداء میں آثار حیات عام مردوں سے بہت زیادہ ہیں۔ حتی کہ شہید کی اس حیات کی قوت کا ایک اثر برخلاف معمولی مردوں کے اس کے جسدِظاہری تک بھی پہنچا ہے کہ اس کا جسم باوجود مجموعہ گوشت و پوست ہونے کے خاک سے متاثر نہیں ہوتا اور مثل جسم زندہ کے صحیح سالم رہتا ہے۔ جیسا کہ احادیث اور مشاہدات شاہد ہیں، پس اس امتیاز کی وجہ سے شہداء کو احیاء کہا گیا ہے اور ان کو دوسرے اموات کے برابر اموات کہنے کی ممانعت کی گئی۔ مگر احکامِ ظاہرہ میں وہ عام مردوں کی طرح ہیں، ان کی میراث تقسیم ہوتی ہے اور ان کی بیویاں دوسروں سے نکاح کرسکتی ہیں اور یہی حیات ہے جس میں حضراتِ انبیاء (علیہم السلام) شہداء سے بھی زیادہ امتیاز اور قوت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ سلامت جسم کے علاوہ اس حیات برزخی کے کچھ آثار ظاہری احکام پر بھی پڑتے ہیں۔ مثلاً ان کی میراث تقسیم نہیں ہوتی، ان کی ازواج دوسروں کے نکاح میں نہیں آسکتیں۔ پس اس حیات میں سب سے قوی تر انبیاء (علیہم السلام) ہیں، پھر شہداء پھر اور معمولی مردے۔ البتہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اولیاء اور صالحین بھی اس فضیلت میں شہداء کے شریک ہیں۔ مومجاہدہ ٔ نفس میں مرنے کو بھی اگر معناً شہادت میں داخل سمجھیں تو اس طور پر وہ بھی شہداء ہوگئے یا یوں کہا جاوے کہ آیت میں شہداء کی تخصیص عام مردوں کے اعتبار سے ہے، شہداء کے ہمرتبہ دوسرے لوگ صالحین وصدیقین کے اعتبار سے نہیں۔ اگر کسی شخص نے کسی شہید کی لاش کو خاک خوردہ پایا ہو تو سمجھ لے کہ ممکن ہے اس کی نیت خالص نہ ہو، جس پر مدار ہے قتل کے شہادت ہونے کا اور صرف قتل شہادت نہیں ہے اور اگر بالفرض ایسا شہید خاک خوردہ پایاجاوے، جس کا قتل فی سبیل اللہ اور اس کا جامع شرائط ِ شہادت ہونا دلیل قطعی تواتر وغیرہ سے ثابت ہو (جس کا شبہ صاحب روح المعانی کو ہوگیا ہے) تو اس کی وجہ میں کہا جاوے گا کہ حدیث میں جس چیز کی تصریح ہے وہ یہ ہے کہ انبیاء وشہداء کے جسم کو زمین نہیں کھاتی، یعنی مٹی ان کے جسم کو خراب نہیں کرسکتی۔ اجزاء ارضیہ مٹی وغیرہ کے علاوہ کسی دوسری چیز سے ان کے جسم کا متاثر ہو کر فنا ہوجانا پھر بھی ممکن ہے کیونکہ زمین میں اور بھی بہت سی اقسام و انواع کی دھاتیں اور ان کے اجزاء اللہ تعالیٰ نے رکھ دئیے ہیں۔ اگر ان کی وجہ سے کسی شہید کا جسم متاثر ہوجائے تو اس آیت کے منافی نہیں۔ چناچہ دوسرے اجسامِ مرکبہ اسلحہ وادویہ واخلاط واجسامِ بسیطہ مثل آب وآتش وباد کی تاثیر انبیاء (علیہم السلام) کے اجساد میں بھی ثابت ہے اور شہداء کی حیات بعد الممات انبیاء کی حیات قبل الممات سے اقویٰ نہیں اور بعض حصہـــ ارض میں بعض اجزا غیرارضیہ بھی شامل ہوجاتے ہیں جس طرح دوسرے عناصر میں بھی مختلف عناصر شامل ہوجاتے ہیں سو اگر ان اجزائے غیرارضیہ سے ان کے اجساد متاثر ہوجاویں تو اس سے ان احادیث پر اشکال نہیں ہوتا، جن میں حرمت اجساد علے الارض وارد ہے۔ اور ایک جواب یہ ہے کہ امتیاز اجسادِ شہداء کے لیے یہ کافی ہے کہ دوسری اموات سے زیادہ مدت تک ان کے اجساد خاک سے متاثرنہ ہوں گو کسی وقت میں ہوجاویں اور احادیث سے یہی امر مقصود کہا جاوے کہ ان کی محفوظیت اجساد کی خارق عادت ہے اور خرق عادت کی دونوں صورتیں ہیں حفظ مؤبّد اور حفظ طویل اور چونکہ عالم برزخ، حواس یعنی آنکھ، کان، ناک، ہاتھ وغیرہ سے مدرک نہیں ہوتا اس لیے لَا تَشْعُرُوْنَ فرمایا گیا کہ تم ان کی حیات کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔
Ayahs 2:155–157

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

بیشک ہم تمہیں آزمائیں گے کسی قدر خوف، بھوک، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور ان ثابت قدموں کو خوشخبری سنا دیجئے۔

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی عنایتیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی لوگ راہ یاب ہونے والے ہیں۔

وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ بِشَیْئٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُصِیْبَۃٌ لا قَالُوْآ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَرَحْمَۃٌ قف وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 155 تا 157) (بےشک ہم تمہیں آزمائیں گے کسی قدر خوف، بھوک، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور ان ثابت قدموں کو خوشخبری سنادیجئے۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی عنایتیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی لوگ راہ یاب ہونے والے ہیں) آئندہ پیش آنے والی مشکلات کی طرف اجمالی اشارہ پہلی آیت کریمہ میں بظاہر ان آزمائشوں کی طرف اجمالی اشارہ ہے جو آئندہ مراحل میں پیش آنے والی ہیں۔ لیکن غور وفکر سے اگر اس آیت کو پڑھا جائے تو اس کے الفاظ میں بعض اور حقائق بھی مضمر ہیں۔ مثلاً پہلے لفظ ہی کو دیکھئے وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ ” ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے “۔ اس میں دو باتیں نہایت قابل توجہ ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اس میں لام اور نون ثقیلہ تاکید درتاکید کے لیے لائے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جس طرح کی مشکلات کا ذکر کررہے ہیں ان کا آنا بےحد یقینی ہے۔ وہ اس راہ کی لازمی سنتیں ہیں۔ جب بھی کوئی مرد خدا یا کوئی قافلہ حق اس راہ پر چلا ہے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اسے اس طرح کی مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑاہو۔ جس طرح ایک کاشت کار کاشتکاری کے دوران موسم کی شدت سے دوچار ہوتا ہے اسے محنت کرتے ہوئے پسینہ بہانا پڑتا ہے۔ اس کے جسمانی اعصاب کا باربار امتحان ہوتا ہے اور پھر وہ کبھی امیدویاس کے مراحل سے بھی گزرتا ہے، اگر کوئی کاشتکار یہ کہے کہ مجھے زمین میں محنت کرنے سے انکار نہیں لیکن میں ان مشکلات کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تو اسے یہی جواب سننا پڑے گا کہ یہ مشکلات تو اس کام کے لوازم ہیں۔ ان کے بغیر کاشتکاری یا زمین سے فصل وصول کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہی حال اللہ کے دین کی سربلندی اور اسے مخلوقِ خدا تک پہنچانے کا بھی ہے۔ جو شخص بھی انسانی اصلاح کے لیے کوشش کرے گا اس کے لیے یہ یقینی ہے کہ وہ انسانوں کی مخالفت سے دو چا رہو۔ مخالفین کے جو بس میں ہوگا وہ کر گزریں گے۔ اسے اگر اپنے فرض سے بےپناہ تعلق ہے تو اسے ان تمام مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جاناں وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری اسی حقیقت کو ذہن نشین کرانے کے لیے پروردگار نے تاکیدی لب و لہجہ اختیار فرمایا۔ مومن کی آزمائش سنت اللہ ہے دوسری یہ بات کہ اس لفظ میں متکلم کا صیغہ استعمال ہوا ہے کہ ہم تمہیں آزمائیں گے حالانکہ وہ مخالفتیں اور آزمائشیں دشمنوں کی جانب سے پیش آئیں گی لیکن پروردگار اسے اپنی طرف منسوب فرما رہے ہیں۔ اس میں درحقیقت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مخالفت تو یقینا دشمن ہی کریں گے لیکن یہ سب کچھ اللہ کے اس قانون کے تحت ہوگا جو ازل سے اللہ تعالیٰ نے اہل حق اور اہل باطل میں امتیاز کے لیے مقرر کررکھا ہے۔ اگر حق کی خاطر مصائب نہ برداشت کرنا پڑیں اور ایمان کی کوئی قیمت ادا نہ کرنی پڑے تو پھر پتہ کیسے چلے گا کہ مخلص کون ہے ؟ اور منافق کون ؟ جب قدم قدم پر ایمان اور اخلاص کی آزمائش ہوتی ہے تو مخلص مومن ہر طرح کی تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں حتی کہ اس راستے میں انھیں سرکٹوانے سے بھی دریغ نہیں ہوتا۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ سے تعلق کا دعویٰ اور اس کے دین سے وابستگی کا دعویٰ محبت اور عقیدت کا سب سے بڑ ادعویٰ ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی شخص نے محبت کا دعویٰ کیا ہو اور اسے آزمایا نہ گیا ہو۔ ؎ محبت کے مقدر میں کہاں آرام اے ہمدم کہیں شعلہ کہیں بجلی کہیں سیماب ہوتی ہے اگر محبت آزمائشوں سے نہ گزرے تو ہر بوالہوس محبت کا دعویٰ لے کر کھڑا ہوجائے اور مخلص اور غیرمخلص اور سچے اور جھوٹے کی تمیز ختم ہوجائے۔ اس لیے اللہ نے یہ قانون ٹھہرادیا کہ جو شخص بھی ہم سے تعلق کا دعویٰ کرے گا، ہم اس کی آزمائش کے لیے اسباب ضرور پیدا کریں گے۔ اسی قانون کے تحت مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ تمہیں عنقریب ان مراحل سے گزرنا پڑے گا اور تم ان تمام آزمائشوں سے دوچار کیے جاؤ گے، جن کا برداشت کرنا دنیوی حالات کے اعتبار سے بالعموم مشکل ہوتا ہے۔ البتہ اس نے کسی حد تک اطمینان دلانے کے لیے بشیء کا لفظ استعمال کیا۔ جس کا معنی ہوتا ہے ’ کسی قدریا کچھ ‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آزمائشیں تو تمہیں ضرور پیش آئیں گی، لیکن وہ اس قدر نہیں ہوں گی، جو تمہاری عزیمت و استقامت کے لیے شکست دینے والی ہوں۔ اس لیے دل شکستہ اور پست ہمت ہونے کی بجائے تمہیں ہمت سے کام لینا چاہیے کہ اگر تم نے ہمت نہ ہاری تو تم ان حالات پر ضرور قابو پالو گے۔ خوف جو مشکلات پیش آسکتی ہیں ان میں سب سے پہلے ” خوف “ کا ذکر فرمایا۔ خوف سے مراد ہے دشمنوں کی طرف سے حملہ کا خوف۔ جیسا کہ میں اس سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ قریش اور یہود دونوں نے اسلام اور مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر سوچنا شروع کردیا تھا کہ کس طرح مسلمانوں کی قوت توڑی جائے اور کس طرح اس نوزائیدہ تحریک کو ختم کیا جاسکے۔ اس کے لیے انھوں نے آپس میں حملہ کی منصوبہ بندی شروع کردی۔ کعب بن اشرف نے باقاعدہ خط و کتابت کے ذریعے قریش مکہ کو اکسایا اور ہر ممکن طریقے سے اپنی حمائیت کا یقین دلایا اور کرز بن جابر فہری نے باقاعدہ سواروں کا ایک دستہ لے کر مدینہ منورہ کی اس چراگاہ پر شب خون مارا جس میں آنحضرت ﷺ کے جانور بھی چرتے تھے اور وہ کئی اونٹ ہانک کرلے گیا اور چرواہوں کو قتل کردیا۔ اسی طرح دوسرے قبائل کی طرف سے بھی ہر وقت اندیشہ رہتا تھا کہ مدینے پر کہیں حملہ نہ کردیں۔ خود آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی بھی ان خطرات کی زد میں تھی۔ یہود کی جانب سے ہر وقت آپ پر حملے کا اندیشہ رہتا تھا۔ پہرے کے بغیر آپ کے لیے رات کو سونا مشکل ہوگیا تھا۔ دن کے وقت بھی آنحضرت ﷺ اگر نگاہوں سے اوجھل ہوجاتے تو صحابہ بےچینی سے آپ کو تلاش کرنے لگتے اور پھر یہ اندیشے محض اندیشے نہ رہے ان کی آپس کی ملی بھگت سے جنگ بدر وجود میں آئی اور وہیں سے لڑائیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتارہاجب تک مسلمانوں نے اپنے تمام حریفوں کا زور توڑ نہیں دیا۔ معاشی مشکلات دوسرا لفظ اس آیت کریمہ میں جو مشکلات کے حوالے سے آیا ہے وہ ہے ” جوع “۔ اس کا معنی تو ” بھوک “ ہے۔ لیکن مراد اس سے وہ معاشی مشکلات ہیں جو قریش اور یہود کی مشترکہ مخالفت کے باعث وجود میں آئیں۔ اس وقت ملک کی بیشتر تجارت اور معاشی وسائل عملاً یہود اور قریش کے قبضے میں تھے۔ یہ دونوں گروہ چونکہ مسلمانوں کے بد ترین دشمن تھے اس لیے دونوں نے مسلمانوں کے لیے ہر طرح کی مالی مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کو کاروبار سے بےدخل کیا، قبائل میں ان کے خلاف نفرت اور عداوت کے ایسے بیج بوئے کہ کسی قبیلے سے تعلق قائم کرنا آسان نہ رہا۔ راستے پرخطر بنادئیے گئے مسلمانوں کے لیے ہر طرح کا سفر خطرات سے کھیلنے سے کم نہیں تھا۔ پھر مدینہ جیسی چھوٹی سی بستی پر ہر طرف سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کا معاشی بوجھ بھی معاشی مشکلات پیدا کرنے کا ایک بہت بڑا سبب تھا۔ انھیں معاشی مشکلات کا نتیجہ تھا کہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو پیٹ پر پتھر باندھنا پڑتے تھے اور اکثر فاقوں کی نوبت آتی تھی۔ لیکن صحابہ کے ایمان اور ایثار کی انتہا ہے کہ انھوں نے ان مشکلات کو اپنے ایمان کی آزمائش سمجھ کر نہایت حوصلے سے برداشت کیا۔ مال اور جان کی کمی اس کے بعد ” اموال اور انفس “ میں کمی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب دشمنوں کی طرف سے آئے دن مسلمانوں کو جنگ و جہاد میں جانے پر مجبور کیا جائے گا تو یہ دونوں چیزیں اس راستے میں کام آئیں گی۔ سر بھی کٹیں گے اور اسلحہ جنگ پر مال بھی خرچ ہوگا اور جہادی مصروفیات کے باعث مسلمان اپنے کاروبار اور کھیتی باڑی پر زیادہ توجہ نہیں دے سکیں گے۔ تو مالی مشکلات میں اور زیادہ اضافہ ہوگا۔ انھیں مشکلات کا نتیجہ تھا کہ جنگوں میں مسلمانوں کے پاس نہ مناسب اسلحہ ہوتا تھا نہ رسد اور کمک کی آسانیاں ہوتی تھیں۔ بعض دفعہ مسلمان سپاہی مناسب لباس تک سے محروم ہوتے تھے۔ لیکن مسلمانوں کی حوصلہ مندی اللہ پر بےپناہ ایمان اور جرأت اور استقامت نے ان تمام مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ ثمرات میں کمی اس کے بعد ” ثمرات “ کا ذکر فرمایا ہے حالانکہ ثمرات کا شمار اموال ہی میں ہوتا ہے الگ سے اس کا ذکر معلوم ہوتا ہے عرب کے شیوہ مخاطبت کے مطابق ہے۔ عربوں میں عام طور پر مال کا لفظ اونٹ، بھیڑ بکریوں اور درہم و دینار پر بولا جاتا تھا۔ ثمرات کا لفظ عام طور پر پھلوں اور کھجوروں کے لیے مستعمل تھا۔ مدینہ منورہ میں خوراک کا زیادہ تر دارومدار کھجور ہی پر تھا۔ جنگی حالات چونکہ وقت کے پابند نہیں ہوتے کسی وقت بھی ایسا ہوسکتا ہے کہ کھجور پکی ہوئی ہو اور جنگ کے لیے نکلنا ناگزیر ہوجائے۔ ایسی صورتحال میں باقی اموال کی کمی کے ساتھ ساتھ اس طرح کا کوئی حادثہ بڑی مشکل کا باعث بن سکتا ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ پروردگار نے تمام ممکن خطرات کو مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیا اور انھیں یہ بتادیا کہ تم نے اسلام قبول کرکے ایک بہت بڑا فیصلہ کیا ہے اور مستقل امت بن کر پورے عرب کو اپنا دشمن بنالیا ہے۔ اب معاملہ صرف قریش سے نہیں بلکہ قریش اور یہود و نصاریٰ ایک متحدہ محاذ کی شکل میں تمہارے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔ لیکن تمہیں اس بات کا یقین رکھنا چاہیے کہ اگر تم نے اسلام میں آنے کا اقدام سوچ سمجھ کر کیا ہے اور تم اپنے ایمان میں مخلص اور راست باز ہو تو پھر یہ آزمائشیں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی۔ البتہ تمہیں ان کے مقابلے میں صبر کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا اور صبر کرنے والوں کی پہچان یہ ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ بجائے پریشان ہونے کے فوراً پکار اٹھتے ہیں : اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ اس مختصر سے جملے میں اس عقیدے کا بیان ہے جس کی چٹان پر مومن کی پوری زندگی صبر و استقامت کی تصویر بن کر ایستادہ رہتی ہے۔ دنیا انھیں تکلیفوں سے مضمحل کرنے یا ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ پہلے ہی اپنی نفی کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم تو محض اللہ کے بندے ہیں ہر لحاظ سے اس کی ” ملک “ ہمارا اپنا کچھ بھی نہیں۔ نہ بیوی نہ بچے نہ مال نہ جائداد، نہ وطن نہ خاندان، نہ جسم نہ جان ؎ جو کچھ ہے سب خدا کا، وہم و گماں ہمارا انسان کے سارے رنج وغم اور درد و حسرت کی بنیاد صرف اسقدر ہوتی ہے کہ وہ اپنی محبوب چیزوں کو اپنا سمجھتا ہے۔ لیکن جب ذہن اس عام مغالطہ سے خالی ہوگیا تو اب گلہ اور شکوہ کیسا ؟ اور رنج وملال کیوں ؟ جب آدمی کو اس بات کا یقین ہوجاتا ہے کہ میرا سب کچھ اللہ کا ہے اور میرے پاس اس کی امانت ہے تو پھر اللہ کے راستے میں دے دینے اور قربان کردینے میں اسے تأمل نہیں ہوتا بلکہ وہ حقِ امانت کی ادائیگی کے لیے پریشان رہتا ہے کہ نہ جانے میں اس امانت کا حق ادا کرسکوں گا یا نہیں اور جب اسے نظر آتا ہے کہ امانت مانگی جارہی ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہتی کہ مجھے موقعہ مل رہا ہے کہ میں امانت ادا کرکے سرخرو ہوجاؤں۔ بندے کا مال، اولاد، اثر ورسوخ، حتی کہ جان بھی اللہ کی امانت ہے۔ ان میں سے جسے بھی اللہ کے راستے میں دینے کا موقعہ آجائے مومن اسے دیتا ہوا کبھی نہیں گھبراتا بلکہ وہ بڑے سے بڑے خطرہ دیکھ کر بھی پکار اٹھتا ہے کہ میں تو اللہ ہی کا ہوں میرا سب کچھ اللہ کا ہے تو اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے بلکہ فکر کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ دے کر بھی شاید سرخرو نہ ہوسکوں۔ ؎ جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا صحابہ کی مثالوں سے تاریخ بھری ہوئی ہے۔ جنگ خندق میں صحابہ نے جب دیکھا کہ سارا عرب ان کے مخالف امڈ آیا ہے اور آندھی کی طرح مدینہ کے افق پر چھا گیا ہے۔ بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انھوں نے گھبرانے کی بجائے یہ کہا : ھذا ماوعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ ومازادھم الا ایمانا وتسلیما ” یہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں یہ تو وہی چیز ہے جس کا ہم سے ہمارے اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا (یہ مصائب تم پر آئیں گے تمہاری آزمائشیں ہوں گی دیکھنا صبر کا دامن نہ چھوڑنا) “۔ اس صورتحال نے ان کے ایمان و تسلیم میں اور اضافہ کردیا۔ صحابہ نے اسکندریہ کا محاصرہ کررکھا تھا۔ مقوقسِ مصرنے ایک دن مسلمانوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف رومی فوجیں ہماری مدد کے لیے پہنچا ہی چاہتی ہیں۔ دوسری طرف دریائے نیل نے تمہارا راستہ روک رکھا ہے اور تمہارے سامنے ہم ہیں۔ اس طرح تم تین طرف سے گھرگئے ہو، صرف تمہارے پاس ایک راستہ کھلا ہے جس سے تم پسپا ہوسکتے ہو۔ میں تمہیں پسپائی کا موقعہ دینا چاہتا ہوں اور اس کے ساتھ تمہارے افسروں اور تمہارے ہر سپاہی کو زرِ نقد بھی دیا جائے گا۔ اگر تم میری پیش کش قبول کرلو تو بچ جاؤ گے۔ ورنہ چند روز کے بعد تمہاری لاشیں دفن کرنے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔ مسلمان اس کی باتیں سن کر ہنسے اور کہنے لگے کہ موت سے تم ڈرتے ہو ہم نہیں۔ ہم تو شہادت کو اللہ کا انعام سمجھتے ہیں۔ اور یہ کندھوں پر سر اسی کی امانت سمجھ کر اٹھائے پھرتے ہیں تم نے تو ہمارے لیے منزل قریب کردی۔ یہ ہمارے لیے خوشی کا موقعہ ہے پریشانی کا نہیں۔ 1857 ء میں جنگ آزادی کے جرم میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا، ان میں حضرت یحییٰ تھا نیسری بھی تھے۔ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو سزائے موت سنائی گئی۔ چند دنوں کے بعد جب ان کی صحت کی رپورٹ مانگی گئی تو انگریز یہ جان کر حیران رہ گیا کہ موت کی سزا سننے کے بعدان کی صحتیں پہلے سے اچھی ہوگئی ہیں اور ان کے چہروں سے خوشیوں کی بہاریں پھوٹ رہی ہیں۔ اس نے تحقیق کا حکم دیا کہ معلوم کرو کہ ان کی خوشی کا سبب کیا ہے ؟ تو قیدیوں نے انھیں بتایا کہ ہم اور ہمارا سب کچھ اللہ ہی کی ملک ہے۔ ہم اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں اور ہمیں ایک دن اللہ ہی کے روبرو حاضر ہونا ہے۔ ہمارے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی کا موقعہ ہوگا کہ جس کی رضا کے لیے ہم زندگی کا بوجھ اٹھائے پھرتے تھے آج اسی کی رضا کے لیے اسے اتارنے کا موقعہ آگیا ہے۔ چناچہ جیسے جیسے وہ وقت قریب آتا جارہا ہے ویسے ویسے ہماری خوشیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہ پھانسی کی تکلیف تو چند لمحوں کی تکلیف ہے لیکن جب ہم اللہ کے حضور سرخرو ہو کر پہنچیں گے تو وہاں سارے قرضے بیباک ہوجائیں گے۔ ہر کھوئی ہوئی نعمت وصول ہوجائے گی۔ اجر وثواب کی صورت میں وہ نعمتیں ملیں گی جس کا آج ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اندازہ کیجئے ! یہ مختصر سا جملہ اور کلمہ صبر کرنے والوں کی کتنی بڑی ڈھال ہے، جس پر وہ مصیبت کے ہر وار کو روکتے ہیں۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ یہ کہہ کر آسانی سے اپنے آپ کو دشمن کے سپرد کردیتے ہیں کہ ہم تو اللہ ہی کے ہیں تم اللہ کے راستے میں ہمیں مارنا چاہتے ہو تو ہم حاضر ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑے سے بڑے خطرے اور بڑی سے بڑی مصیبت کے سامنے یہ کہتے ہوئے تن کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور پھر کسی بھی خطرے سے ٹکراتے ہوئے یہی قول ان کے لیے قوت کا سامان بن جاتا ہے کہ ہم تو ہیں ہی اللہ کے، ہمارے پاس جو کچھ ہے اللہ کی رضا کے لیے نچھاور کردیں گے۔ ہمیں اس پر کوئی گھبراہٹ نہیں کہ ہماری جان چلی جائے گی۔ ہم جان سے بےگانہ ہو کر دشمن سے اور پہاڑوں سے ٹکرائیں گے۔ سمندروں میں کود جائیں گے، ہم موت کا تعاقب کریں گے وہ ہم سے پیچھا چھڑائے گی۔ تیسری آیت میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی عنایات ہوتی ہیں اور رحمتیں برستی ہیں۔ وہ ہماری خاطر پہاڑوں سے ٹکراتے ہیں تو ہم ان کے لیے قوت کا سامان بن جاتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو درحقیقت ہدایت کا راستہ پا رہے ہیں۔ انھوں نے اس راز کو پالیا ہے کہ زندگی ہماری منزل نہیں بلکہ اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی رضا کا حصول ہماری منزل ہے اور یہ وہ منزل ہے جس میں اگر زندگی اور ہمارا سب کچھ کام آجائے تو ہم نے ہدایت کا راستہ پالیا اور یہی راستہ انھیں آخرت تک لے جائے گا جہاں وہ اپنے انھیں کارناموں کے باعث اللہ کی جنت کے مستحق ٹھہریں گے۔