2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:231

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:231 in the Quran reader

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی مدت کے قریب پہنچ جائیں تو ان کو دستور کے مطابق روک دو یا دستور کے مطابق رخصت کردو۔ اور تم ان کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے نہ روکو کہ تم حدود سے تجاوز کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا۔ اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بنائو اور اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد رکھو اور اس کتاب و حکمت کو یاد رکھو جو اس نے تمہاری نصیحت کے لیے اتاری اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے)

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْسَرِّحُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ص وَلاَ تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارًا لِّـتَـعْتَدُوْا وَمَنْ یَّـفْعَلْ ذٰلِکَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ط وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اٰیٰتِ اللّٰہِ ھُزُوًا ز وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْـکُمْ وَمَـآ اَنْزَلَ عَلَیْـکُمْ مِّنَ الْـکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ یَعِظُـکُمْ بِہٖ ط وَاتَّـقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ ع (اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی مدت کے قریب پہنچ جائیں تو ان کو دستور کے مطابق روک دو یا دستور کے مطابق رخصت کردو۔ اور تم ان کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے نہ روکو کہ تم حدود سے تجاوز کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا۔ اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بنائو اور اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد رکھو اور اس کتاب و حکمت کو یاد رکھو جو اس نے تمہاری نصیحت کے لیے اتاری اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے) (231) معروف کی مزید وضاحت گزشتہ آیات میں واضح طور پر یہ بتادیا گیا ہے کہ ایک مطلقہ عورت کو کتنا عرصہ عدت گزارنی ہے ؟ اور یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ کتنی طلاقوں کے بعد تم بیوی سے رجوع کرسکتے ہو اور یہ بات بھی پوری طرح واضح کردی گئی ہے کہ جب رجوع کا فیصلہ کرو تو معروف کے مطابق کرو اور جب علیحدگی کا فیصلہ کرو تو وہ بھی معروف کے مطابق کرو۔ اور معروف سے کیا مراد ہے ؟ اس کی وضاحت ہم متذکرہ بالا گزارشات میں کرچکے ہیں۔ اب اسی حکم کو دہراتے ہوئے اس بات پر مزید زور دیا جا رہا ہے جو معروف کے مفہوم میں شامل ہے۔ لیکن لوگ ہمیشہ اسے نظر انداز کرتے ہیں۔ وہ بات یہ ہے کہ دور جاہلیت میں عرب اس عادت بد میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے لیکن اسلام آنے کے بعد جن لوگوں کو ابھی پوری اسلامی تربیت نہ مل سکی یا اللہ کے علم میں تھا کہ ایسے لوگ مسلمانوں میں پید اہوتے رہیں گے ان کے لیے موکد انداز میں یہ بات فرمائی جا رہی ہے کہ تم اگر اپنی بیویوں سے رجوع کا فیصلہ کرچکے ہو تو بہت اچھی بات ہے لیکن یہ رجوع کا فیصلہ اپنے گھر کے حالات ‘ اپنے تعلقات کی بہتری اور حدود اللہ کی بجا آوری کے لیے ہونا چاہیے۔ اور اگر یہ ارادہ نہ ہو بلکہ ذہن کے کسی گوشے میں یہ شیطانی خیال موجود ہو کہ دور جاہلیت کی طرح اب میں بار بار بیوی سے رجوع تو نہیں کرسکتا البتہ دوامکان تو میرے پاس اب بھی موجود ہیں جس کے ذریعے تقریباً چھ ماہ تک تو بیوی کو اذیت میں مبتلا کیا جاسکتا ہے کہ ایک طلاق دے کر عدت گزرنے کا انتظار کرو اور جب عدت گزرنے کے قریب آئے تو رجوع کرلو۔ پھر دوبارہ طلاق دو اور پھر عدت کا وقت ختم ہونے کے قریب آئے تو رجوع کرلو۔ اور یہ سب کچھ اس طرح کرو کہ نہ تو اپنی بیوی سے میاں بیوی جیسے تعلقات قائم کرو ‘ نہ اسے بیوی کے حقوق دو ‘ بلکہ اسے معلق حالت میں رکھو کہ نہ وہ اپنے آپ کو بیوی سمجھ سکے اور نہ اس کی جان چھوٹے کہ کہیں اور اپنے لیے قسمت آزمائی کرے۔ اس طرح اگر تم اسے ذہنی ٹارچر دینا چاہتے ہو اور تمہیں اس کی محرومی کے آنسو خوشی دینے کے باعث بنتے ہیں تو یہ وہ ” ضرار “ ہے جسے ایک عام مسلمان کے لیے بھی حرام کردیا گیا ہے۔ چہ جائیکہ بیوی کے لیے اسے روا رکھا جائے جس کی حیثیت شوہر کے لباس کی ہے۔ اور جو غیر حاضری میں شوہر کی عزت اور غیرت کی محافظ اور اس کے مال اور گھر کی امین ہے۔ اور اس کے گھر میں پلنے والی نسل انسانی نے اسی کے بطن سے جنم لیا ہے اور اسی کی تربیت سے فیض یاب ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ تو ایسا معاملہ کرتے ہوئے شرافت کو ویسے ہی پسینہ آنے لگتا ہے لیکن جو شخص بظاہر اسلام کی دی ہوئی ایک رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رجوع کرتا ہے لیکن بباطن وہ ایک گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ وہ حد سے تجاوز ہے جس سے یہاں روکا گیا ہے اس سلسلے میں مزید دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ یہ ظالمانہ حرکت کرتا ہے وہ اصلا ً اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔ کیونکہ جس نے اپنی بیوی کو مشق ستم بنایا مسلمان معاشرے میں اسے دوبارہ کبھی عزت والا گھر نہیں مل سکتا۔ اور ایسی کوئی خاتون اس کے عقد میں آنے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ جو اسلامی احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش مند ہو۔ اس طرح سے اس کا گھر اس بری طرح سے اجڑتا ہے جو دوبارہ بسنے کا نام نہیں لیتا۔ اور اگر اس کی اولاد بھی ہے تو ایک وقت آتا ہے جب اولاد اپنی ماں کی محرومیوں کا انتقام اپنے باپ سے لیتی ہے۔ اور دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تم اگر اس رجوع کو بیوی کو تکلیف پہنچانے اور تنگ کرنے کا ذریعہ بناتے ہو تو تم درحقیقت اللہ کے احکام کا مذاق اڑاتے ہو۔ کہ تم ایک یا دو طلاق دینے کے بعد بیوی سے اس لیے رجوع کرتے ہو کہ اللہ نے تمہیں یہ حق دیا ہے گویا کہ تم رجوع کرتے ہوئے حکم خداوندی پر عمل کرتے ہو۔ لیکن جب اسی رجوع کو بیوی کی اذیت رسانی کا ذریعہ بناتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بیوی کو اذیت پہنچانے سے منع فرماتا ہے اور تم اسی کے دیے ہوئے حکم کو ذریعہ بنا کر اس ظلم کا راستہ کھولتے ہو۔ تو اس سے بڑا مذاق اور کیا ہوسکتا ہے کہ تم اللہ کے حکم کو اللہ کے حکم سے ٹکراتے ہو۔ جس بات کی اجازت ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہو اور جس سے روکا گیا ہے حالانکہ وہ بھی اللہ کا حکم ہے اس پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ یہ وہ مذاق ہے جو اللہ کے احکام سے کیا جاتا ہے۔ اور ہر معمولی عقل کا آدمی سمجھ سکتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی یقینا ایک بہت بڑا جرم ہے لیکن اس کے احکام کا مذاق اڑانا یہ نافرمانی سے بدرجہا بڑا جرم ہے۔ اسی بات کا آگے بڑھاتے ہوئے مزید فرمایا کہ تمہیں تو اللہ کے احکام کی نافرمانی یا ان کا مذاق اڑانا اس لیے بھی زیب نہیں دیتا کہ تمہیں تو اللہ نے اپنی نعمت یعنی اپنے دین اور اپنی کتاب کا امین بنایا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت سے نوازا ہے۔ قیامت تک کے لیے تم حامل دعوت امت بنائے گئے ہو۔ تم دنیا میں مینارہ نور کی حیثیت رکھتے ہو جس کی روشنی میں دنیا کو ہدایت کے رستے پر چلنا ہے۔ تم کتنی بڑی ذمہ داریوں سے گراں بار ہو اس قدر عظمت اور ذمہ داری کا احساس رکھتے ہوئے بھی اگر اللہ کے احکام کے ساتھ تمہارا یہ رویہ ہے تو ذرا غور کرو ؎ چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی تمہاری اصل حیثیت کا احساس دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت فرما رہے ہیں اور ساتھ ہی تنبیہ بھی فرما رہے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ‘ بیویوں سے معاملہ کرتے ہوئے یہ مت بھولو کہ تمہاری جلوتوں کی طرح تمہارے خلوتیں بھی اللہ کے علم میں ہیں۔ وہ اپنے علم کے مطابق تم سے ایک ایک بات کی باز پرس کرے گا۔ وہاں تمہاری نہ دروغ گوئی کام دے گی اور نہ سخن سازی کام آئے گی۔
Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

(اور جب تم طلاق دو عورتوں کو پھر وہ پوری کر چکیں اپنی عدت تو انھیں منع نہ کرو کہ وہ نکاح کرلیں اپنے (نئے) شوہروں سے۔ جب کہ وہ رضا مند ہوجائیں آپس میں دستور کے مطابق۔ یہ نصیحت اس کو کی جاتی ہے جو تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ یہ بہت پاکیزہ ہے تمہارے لیے اور بہت صاف ستھرا۔ اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فلَاَ تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّـنْـکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ط ذٰلِکَ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ مِنْـکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط ذٰلِـکُمْ اَزْکٰی لَـکُمْ وَاَطْہَرُط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْـتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (اور جب تم طلاق دو عورتوں کو پھر وہ پوری کر چکیں اپنی عدت تو انھیں منع نہ کرو کہ وہ نکاح کرلیں اپنے (نئے) شوہروں سے۔ جب کہ وہ رضا مند ہوجائیں آپس میں دستور کے مطابق۔ یہ نصیحت اس کو کی جاتی ہے جو تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ یہ بہت پاکیزہ ہے تمہارے لیے اور بہت صاف ستھرا۔ اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے) (232) اس آیت کی وضاحت سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیے کہ ” عضل “ کا معنی تو روکنا اور منع کرنا ہوتا ہے لیکن یہ وہ روکنا ہے جسے ہم محاورے میں ” اڑنگے ڈالنا “ کہتے ہیں۔ یعنی مختلف طریقوں سے رکاوٹیں کھڑی کرنا۔ اور دوسری یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہاں ” ازواجہن “ سے مراد ان کے وہ شوہر بھی ہوسکتے ہیں جو انھیں طلاق دے چکے ہیں۔ اور وہ بھی ہوسکتے ہیں جن سے اب نئے سرے سے رشتہ قائم ہوجائے۔ طلاق ہوجانے کے بعد جتنی ممکن صورتیں ہوسکتی ہیں ان کا تعلق خواہ شوہر سے ہو خواہ بیوی سے۔ قرآن کریم ایک ایک کے بارے میں اصلاحی احکام دے رہا ہے۔ اگر ان کا تعلق شوہر سے ہے تو شوہر سے خطاب کیا جا رہا ہے اور اگر بیوی سے ہے تو بیوی سے خطاب ہو رہا ہے۔ اور جہاں کہیں دونوں میں سے کوئی بھی حدود سے تجاوز کر رہا ہے تو اسے حدود سے تجاوز کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اس آیت کریمہ میں شوہروں سے خطاب ہو رہا ہے ‘ کیونکہ اس میں جس بات سے روکا گیا ہے اس کا تعلق شوہروں سے ہے۔ وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ مطلق آیا ہے ‘ جس میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ تم نے جو طلاق دی ہے وہ طلاق رجعی ہے ‘ بائن ہے یا طلاق مغلظہ ہے ‘ لیکن اس کے بعد جو حکم دیا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں طلاق رجعی کا ذکر ہے یا زیادہ سے زیادہ طلاق بائن کا۔ مغلظہ کا تو کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اور ہم یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ پروردگار طہر میں صرف ایک طلاق دینے کو ناگزیر حالات میں پسند فرماتے ہیں اور دو طلاقوں کی اجازت دیتے ہیں۔ یکلخت طلاق بائن دے دینا سخت ناپسندیدہ ہے۔ اور تین طلاقوں کی صورت میں طلاق مغلظہ تو ناقابلِ برداشت حد تک مکروہ قرار دی گئی ہے۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف طلاق رجعی مراد ہے جس پر عدت گزر جانے کے بعد نکاح کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ طلاق کے بعد بیوہ یا مطلقہ پر ممکنہ مظالم کو روکنے کے لیے ہدایات اور احکام اس کے بعد جو حکم دیا جا رہا ہے اس سے ایک بہت بڑی قباحت اور ایک بہت بڑے ظلم کا راستہ روکنا مقصود ہے۔ عربوں میں یہ ظلم عام تھا اور ہمارے دور میں بھی اس میں کمی واقع نہیں ہوئی کہ جب کسی خاتون کو طلاق ہوجاتی تھی تو عموماً اس کے اولیاء اور اس کے اہل خانہ اس بات کو انتہائی ناپسند کرتے تھے کہ اب وہ دوبارہ نکاح کرے۔ نکاحِ بیوگان اکثر قوموں میں ہمیشہ مسئلہ بنا رہا ہے۔ عربوں میں اگرچہ یہ مسئلہ اس طرح کی شکل تو اختیار نہیں کرسکا تھا جیسی ہم ہندوئوں میں دیکھتے ہیں کہ ان میں اگر کوئی شخص مرجاتا تھا تو اس کی بیوی کو اس کے ساتھ ہی ” ستی “ کردیا جاتا تھا۔ ” ستی “ کا مطلب یہ ہے کہ جب مرنے والے کی چتا کو آگ لگائی جاتی تو اس بیچاری بیوہ کو بھی اس آگ میں کود جانے پر مجبور کیا جاتا۔ وہ اپنے خاندان کو آگ سے بچانے اور خود گنہگار ہونے سے بچنے کے لیے آگ میں کود کر جان دے دیتی اور اس کی اس حماقت پر اس کا خاندان ہمیشہ فخر کا اظہار کرتا۔ اور اگر کسی خاتون کو اس کا شوہر طلاق دے دیتا تو اب اس کے لیے دوسرا نکاح کرنا ایک بہت بڑا عیب سمجھا جاتا تھا۔ اس کے والدین اور اس کے بھائی اسے اپنی غیرت کے خلاف سمجھتے تھے۔ یہی حال ہمارے ملک میں بھی ہے۔ ہمارے کتنے تعلیم یافتہ گھرانے ہیں جن میں دوسرے نکاح کو ایک عیب سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ہی مکروہ تصورات کے تحت خود مطلقہ خاتون نکاح کرنے کا کبھی حوصلہ نہیں کرتی۔ وہ جوانی میں اگر مطلقہ ہوگئی تو پوری عمر تنہائی اور بےبسی میں گزارنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتی ہے۔ معاشرے کے بعض احساسات جو زبانوں سے نہیں نگاہوں سے پڑھے جاتے ہیں ‘ اتنے شدید اور ظالم ہوتے ہیں کہ آدمی نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے جال میں پھنسے رہنے میں ہی عافیت سمجھتا ہے۔ اور ہمارے ایسے بھی پسماندہ علاقے ہیں جن میں اگر کسی بیوہ یا مطلقہ کو دوبارہ نکاح کی اجازت دی جاتی ہے تو اس شرط پر کہ اسے وہاں نکاح کرنا ہوگا جہاں اس کے والدین چاہیں گے۔ وہ کسی بوڑھے رنڈوے سے ایک بڑی رقم لے کر اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دے دیتے ہیں اور یہ بیچاری لڑکی بےکسی سے یہ سارے مظالم برداشت کرتی ہے۔ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو ان مظالم کے پیچھے ایک اور تصور بھی کار فرما ہے جس کا ذمہ دار پورا معاشرہ ہے ‘ وہ یہ ہے کہ جب کسی لڑکی کو طلاق ہوجاتی ہے تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس لڑکی کو ایک ایسا داغ لگ گیا ہے جس کی موجودگی میں کسی بھی معزز گھرانے کا کوئی تعلیم یافتہ نوجوان اس کی طرف رجوع کرنے کا تصور بھی نہیں کرتا۔ جس نے اسے طلاق دی ہے اسے معاشرہ نہیں پوچھتا کہ تم نے ظلم کیوں کیا ؟ لیکن جو لڑکی اس ظلم کا شکار ہوئی ہے اسے زندگی بھر کے دکھ سہنے کے لیے بےسہارا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عربوں میں بھی کم و بیش اس طرح کے تصورات پائے جاتے تھے۔ اس لیے عموماً وہ لڑکیوں کو اپنی مرضی اور اپنی چاہت سے دوسرا نکاح کرنے کی مشکل سے ہی اجازت دیتے تھے۔ اولیاء اور اہل خانہ کے علاوہ ایک ظلم اس پر سابقہ شوہر کی جانب سے ہوتا تھا جو اپنی بیوی کو چھوڑ چکا اور اب وہ نہیں چاہتا کہ اس خاتون کا کہیں اور نکاح ہو سکے۔ اس لیے جہاں بھی بات چلتی وہ غلط فہمیوں کا ایک طوفان کھڑا کردیتا اور نئے ہونے والے تعلق کو اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور بنا دیتا۔ اور دوسری صورت یہ تھی کہ اگر طلاق کے بعد عدت کے دوران یا عدت سے فارغ ہو کر میاں بیوی دونوں محسوس کرتے کہ ہم نے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو کر غلطی کی ہے یا شوہر یہ سمجھتا کہ میں نے طلاق دے کر ظلم کیا ہے تو شوہر اپنی مطلقہ سے بالواسطہ رابطہ پیدا کرتا اور اسے قائل کرلیتا کہ ہمیں دوبارہ نکاح کرلینا چاہیے تو لڑکی کے والدین یا اس کے بھائی اڑ جاتے کہ جس شخص نے تمہیں طلاق دے کر تمہاری اور ہماری توہین کی ہے اور تمام لوگوں میں ہماری رسوائی کا سامان کیا ہے اب دوبارہ ہم ایسے شخص کے ساتھ کسی قیمت پر بھی تمہاری شادی کرنے پر تیار نہیں ہوسکتے۔ اس آیت کریمہ میں مظالم کی ان تمام صورتوں سے روکا ہے۔ کہ جب ایک خاتون کو طلاق ہوجاتی ہے اور ابھی وہ اس عمر میں ہے کہ اسے دوسرا نکاح کر کے اپنا گھر بسا لینا چاہیے ‘ چاہے وہ پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے یا نئی جگہ قسمت آزمانا چاہے۔ اگر وہ یہ سب کچھ معروف طریقے سے اسلامی احکام کے مطابق خاندان کی عزت و قار کو ملحوظ رکھتے ہوئے کر رہی ہے تو تمہیں ہرگز اس کے راستے میں اڑنگے نہیں ڈالنے چاہییں۔ چناچہ اس آیت کا شان نزول بھی ایسے ہی واقعات کو بیان کیا جاتا ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت معقل بن یسار ؓ نے اپنی بہن کی شادی ایک شخص کے ساتھ کردی تھی۔ میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہوئی اور شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی۔ اس کے بعد یہ شخص اپنے اس فیصلے پر نادم ہوا اور اس نے دوبارہ اپنی مطلقہ سے نکاح کرنے کا فیصلہ کیا۔ کسی رابطے سے مطلقہ بیوی کو راضی کرلیا۔ بیوی کی آمادگی کے بعد اس کے بھائی معقل بن یسار ( رض) کے پاس گیا کہ میں نے طلاق دے کر غلطی کی اب میں اس پر نادم ہوں اور میں دوبارہ آپ کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت معقل کو چونکہ اس کے طلاق دینے سے رنج ہوا تھا اس لیے انھوں نے نہایت برہمی کے ساتھ جواب دیا کہ میں نے تمہارا اعزاز کیا کہ اپنی بہن تمہارے نکاح میں دی اور تم نے اس کی یہ قدر کی کہ اس کو طلاق دے دی۔ اب تم دوبارہ میرے پاس آئے ہو ‘ اللہ کی قسم اب میری بہن تمہارے نکاح میں نہیں لوٹے گی۔ آیت کا شان نزول روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی چچا زاد بہن کا بھی پیش آیا۔ ان کے شوہر نے بھی دوبارہ نکاح کا ارادہ کیا تو حضرت جابر ( رض) اس نکاح میں حائل ہوگئے۔ چناچہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں ان حضرات کو توجہ دلائی گئی کہ طلاق واقعی ایک بڑی زیادتی ہے ‘ لیکن غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں ‘ اب دوبارہ اگر میاں بیوی مل بیٹھنا چاہتے ہیں تو تمہیں ان کی اس نیکی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ صحابہ کرام ( رض) چونکہ اللہ تعالیٰ کے سچے بندے اور رسول اللہ ﷺ سے گہری محبت رکھنے والے تھے اس لیے جیسے ہی اس آیت کریمہ کا نزول ہوا حضرت معقل بن یسار ( رض) کا سارا غصہ جاتا رہا اور خود جا کر دوبارہ اسی طلاق دینے والے شخص سے اپنی بہن کا نکاح کردیا اور قسم کا کفارہ ادا کیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ ( رض) نے بھی اسی طرح اس حکم کی تعمیل کی اور اپنے طرز عمل کو یکسر بدل ڈالا۔ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ کا مفہوم اس حکم کے الفاظ پر غور کیجئے لڑکیوں کے اولیاء یا ان کے سابقہ شوہروں کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ تم کسی طرح بھی دوبارہ نکاح کے راستے میں اڑنگے مت ڈالو۔ لیکن ساتھ ہی شرط لگائی اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ (جب وہ دونوں مرد و عورت معروف طریقے سے اس نئے تعلق پر رضامندی کا اظہار کریں) تو پھر انھیں نکاح سے روکنے کا کوئی جواز نہیں۔ لیکن اگر ان کا نکاح کرنا معروف کے مطابق نہ ہو یا سرے سے اس میں رضامندی شامل نہ ہو ‘ بلکہ لڑکی کے گھر والے زبردستی اسے کسی کے سپرد کر رہے ہوں اور وہ وہاں نکاح کے لیے تیار نہ ہو تو پھر جو کوئی بھی لڑکی کو اس ظلم سے بچا سکتا ہے اسے اس نکاح کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یا وہ لڑکی کسی کے ساتھ بغیر نکاح کے ایسے تعلقات پیدا کرلے اور اس کے گھر میں بیوی بن کر بیٹھ جائے یا ایام عدت ہی میں کسی کے ساتھ نکاح کے لیے تیار ہوجائے ‘ یہ تمام صورتیں چونکہ شرعی احکام کے خلاف ہیں اس لیے روکنے والوں کو حق ہے کہ وہ اس رشتے کو روک سکتے ہوں تو روک دیں۔ ایک صورت یہ بھی ممکن ہے کہ لڑکی احکام شریعت کی مخالفت تو نہ کرے ‘ شرعی احکام کے مطابق ہی نکاح کیا جائے لیکن وہ اپنے اولیاء کے اجازت کے بغیر کسی ایسی جگہ نکاح کے لیے آمادہ ہوجائے جو اس کے خاندان کا ” کفو “ نہ ہو۔ یا وہ مہر مثل سے کم پر نکاح کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ جس سے اس کی خاندانی وجاہت پر حرف آتا ہو تو یہ بھی اسلامی شریعت کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اس صورت میں اولیاء کو شریعت نے حق دیا ہے کہ وہ لڑکی کو نکاح کرنے سے روک دیں۔ لیکن اس آیت کریمہ کی اصل روح جس پر زور محسوس ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے نکاح کے لیے احکامِ شریعت کی پابندی بھی ہونی چاہیے ‘ خاندانی عزت و وقار کے لیے کوئی مسئلہ بھی پیدا نہیں ہونا چاہیے ‘ معاشرے کے ایسے کسی رسم و رواج کی مخالفت بھی نہیں ہونی چاہیے جسے اسلام برداشت کرتا ہے۔ لیکن یہ ظلم بھی کسی طور وقوع پذیر نہیں ہونا چاہیے کہ لڑکی کی رضا مندی اور اس کی مرضی اور اختیار کی کوئی پرواہ نہ کی جائے۔ اس کے جذبات کو سمجھنے کی بالکل کوشش نہ کی جائے ‘ اپنے مفادات اور خواہشات پر اس کے احساسات کو قربان کردیا جائے۔ یہ ظلم چونکہ جاہل معاشروں میں ہمیشہ ہوتا رہا ہے ‘ عربوں میں بھی ہوتا تھا اور آج بھی ہو رہا ہے اس لیے زیادہ زور اس ظلم کے روکنے پر دیا جا رہا ہے۔ ان معاشرتی ہدایات پر عمل کے لیے ایمان باللہ و ایمان بالآخرت ضروری ہے اسی کی تاکید کے لیے آگے فرمایا کہ جس بات کی تمہیں نصیحت کی جا رہی ہے یہ نصیحت درحقیقت اس آدمی کے لیے مفید ہے جس کے دل میں اللہ پر ایمان اور آخرت کا یقین موجود ہو۔ کیونکہ صدیوں کے جمے ہوئے رسم و رواج کو توڑنا اور معاشرے کی روایات کا خاتمہ کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ یہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے جسے اس بات کا یقین ہو کہ میرا ایک پروردگار ہے ‘ جو درحقیقت حاکم حقیقی ہے۔ اس کے حکم کے مقابلے میں کسی اور کا حکم نہیں چل سکتا ‘ جب اس نے عورت کو ایک خاص دائرے میں آزادی عطا فرمائی ہے اور اسے دوسرے نکاح کا حق بخشا ہے اور اس کی مرضی اور اختیار کے بغیر کوئی نکاح اس پر مسلط نہیں کیا جاسکتا تو پھر میرے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ ممکن نہیں کہ میں اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دوں اور ایک محکوم کی طرح اس حاکم حقیقی کے سامنے جھک جاؤں۔ کیونکہ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ آج اگر میں اس حکم کی تعمیل نہیں کرتا اور اپنے نام نہاد تصورات اور روایات کی پوجا کرتا رہتا ہوں تو ایک دن ایسا بھی آئے گا جب میرے اس رویے کے بارے میں مجھ سے باز پرس ہوگی۔ اور باز پرس کرنے والی وہ ذات ہوگی جو اس کائنات کی خالق ومالک ہے۔ جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ہوگی۔ جہاں ایمان و عمل کے سوا کوئی سکہ کام نہیں دے گا۔ اللہ پر ایمان اور آخرت پر یقین یہی دو چیزیں ہیں جو اللہ کے احکام کی تعمیل کی ضمانت دیتی ہیں۔ یہ ہدایات معاشرے کو اخلاقی فساد سے محفوظ رکھنے کا سب سے موثر نسخہ ہیں دوسری بات یہ فرمائی کہ اس حکم کی تعمیل تمہارے لیے ازَکْیٰ بھی ہے اور اَطْھَرُ بھی۔ یعنی اسی پر عمل کرنے کے نتیجے میں تمہیں پاکیزگی کا وہ راستہ ملے گا جس سے بہتر کوئی راستہ نہیں اور تطہیر افکار اور تطہیر اخلاق کی وہ روشنی میسر آئے گی جس میں تم اجتماعی زندگی کے سفر کو نہایت کامیابی سے طے کرسکو گے۔ اور اگر تم نے صنف نازک پر یہ پابندیاں جاری رکھیں اور تم نے بات بات پر اسے غیرت اور ناک کا مسئلہ بنایا تو پھر یاد رکھو انسان کے اندر ایک نفس امارہ ہے ‘ جو اسے ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے اور ایک شیطان ہے جو اسے ہمیشہ برائی پر اکساتا ہے۔ انسان کے اندر اللہ نے خواہشاتِ نفس بھی رکھی ہیں اور جنسی جذبات بھی۔ جب انھیں بروئے کار آنے کے لیے صحیح راستہ نہیں ملتا تو پھر نفس امارہ اور شیطان ان کے لیے غلط راستے تجویز کرتے ہیں۔ تم اپنی جوان خواتین کو ان کے فطری جذبات کے اظہار کی اگر جائز صورتوں سے محروم کردو گے تو تم خود ان کے لیے خطرات کے راستے کھولو گے ‘ شیطان کو اپنا کام کرنے کا موقع دو گے۔ ان کی تنہائیاں ان کے نفس امارہ کے حوالے ہوجائیں گی اور معاشرے کے وہ بگڑے ہوئے عناصر جو ہمیشہ شیطان کے ایجنٹوں کی طرح کام کرتے ہیں اور ان کو ہمیشہ ایسے مواقع کی تلاش رہتی ہے۔ وہ ایسی خواتین سے راہ و رسم پیدا کرنے کی کوشش کرینگے۔ جیسے ہی کوئی رخنہ پیدا ہوا کسی کواڑ کا پٹ سرکا ‘ کسی شگاف میں آنکھیں جھانکنے لگیں تو سمجھ لو تمہارے گھر میں برائی نے راستہ پیدا کرلیا ہے۔ شروع میں نامہ و پیام ہوگا ‘ پھر اکساہٹیں ہوں گی ‘ پھر اغوا تک نوبت پہنچے گی اور اگر اغوا کا بھید کھل گیا تو پھر قتل ہوں گے ‘ خاندانوں میں خون بہے گا۔ اس وقت شاید آپ کو اندازہ ہوگا کہ اس الائو کو چنگاری میں نے خود مہیا کی تھی۔ میں نے فطری راستے کو جب ظلم سے بند کیا تو اس نے غلط راستہ کھول کر میرے گھر کو آگ لگا دی۔ اس لیے فرمایا کہ ہم تمہیں جس بات کا حکم دے رہے ہیں ‘ یہ تمہارے گھر اور تمہارے معاشرے کو پاکیزہ و صاف ستھرا رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اور اسے چھوڑنے کے جو نتائج ہوسکتے ہیں ‘ جن کی طرف ہم نے اشارے کیے انھیں اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ اس لیے اللہ کے علم سے فائدہ اٹھائو اور اس کے احکام کی دل کی آمادگی سے تعمیل کرو۔
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں پورے دو سال ‘ اس کے لیے جو پورا کرنا چاہتا ہے دودھ کی مدت کو۔ اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے ان مائوں کا کھانا اور ان کا لباس دستور کے مطابق۔ کسی شخص کو تکلیف نہیں دی جاتی مگر اس کی حیثیت کے مطابق۔ نہ کسی ماں کو ضرر پہنچایا جائے اس کے لڑکے کے باعث اور نہ کسی باپ کو ضرر پہنچایا جائے اس کے لڑکے کے باعث۔ اور وارث پر بھی اسی قسم کی ذمہ داری ہے۔ پس اگر وہ دونوں دودھ چھڑانے کا ارادہ کرلیں اپنی مرضی اور مشورہ سے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ اور اگر تم چاہو کہ اپنی اولاد کو کسی اور سے دودھ پلوائو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ‘ جب کہ تم ادا کردو جو تم نے دینا ٹھہرایا تھا مناسب طریقے سے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ اس کو جو تم کر رہے ہو دیکھنے والا ہے

وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ط وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَـہٗ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ط لاَ تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَہَاج لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌ م بِوَلَدِہَا وَلاَ مَوْلُوْدٌ لَّـہٗ بِوَلَدِہٖ ق وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ ج فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلاَ جَنَاحَ عَلَیْہِمَا ط وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَکُمْ فَلاَ جَنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّـآ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ط وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (اور مائیں اپنی اولاد کو دودھ پلائیں پورے دو سال ‘ اس کے لیے جو پورا کرنا چاہتا ہے دودھ کی مدت کو۔ اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے ان مائوں کا کھانا اور ان کا لباس دستور کے مطابق۔ کسی شخص کو تکلیف نہیں دی جاتی مگر اس کی حیثیت کے مطابق۔ نہ کسی ماں کو ضرر پہنچایا جائے اس کے لڑکے کے باعث اور نہ کسی باپ کو ضرر پہنچایا جائے اس کے لڑکے کے باعث، اور وارث پر بھی اسی قسم کی ذمہ داری ہے۔ پس اگر وہ دونوں دودھ چھڑانے کا ارادہ کرلیں اپنی مرضی اور مشورہ سے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ اور اگر تم چاہو کہ اپنی اولاد کو کسی اور سے دودھ پلوائو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ‘ جب کہ تم ادا کردو جو تم نے دینا ٹھہرایا تھا مناسب طریقے سے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ اس کو جو تم کر رہے ہو دیکھنے والا ہے) (233) رضاعت کے مسائل بچوں کو دودھ پلانے اور ان کی تربیت کے مسائل ہمیشہ ہی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ لیکن اگر صورتحال یہ ہو کہ ابھی بچہ دودھ پی رہا ہے اور باپ نے بچے کی ماں کو طلاق دے دی یا باپ مرگیا اور ماں بیوہ ہوگئی۔ ایسی ناخوشگوار صورتحال میں بچے کو دودھ پلانے کے مسائل اور بھی سنگین صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں رضاعت کے اور بچے کی تربیت کے حوالے سے جو مسائل بیان کیے جا رہے ہیں ان کا تعلق معمول کی زندگی سے بھی ہے اور ایسی ناخوشگوار صورت حال سے بھی۔ اس آیت سے پہلے اور بعد بھی چونکہ طلاق کا ذکر ہے اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن زیادہ تر ان عورتوں کی طرف ہے جنھیں طلاق ہوچکی ہو اور بچے ان کے ابھی دودھ پی رہے ہوں۔ اس سلسلے میں جو احکام دیے گئے ہیں ہم انھیں ایک ترتیب سے ذکر کرتے ہیں : 1 بچوں کو دودھ پلانا مائوں کی ذمہ داری ہے۔ اور اگر انھیں کوئی شرعی عذر مانع نہ ہو تو دیانتاً ان پر دودھ پلانا واجب ہے۔ وہ بلا کسی عذر کے دودھ پلانے سے ہرگز انکار نہیں کرسکتیں۔ ماں کے لیے بچے کو دودھ پلانا صرف بچے کو غذا مہیا کرنا نہیں ( اگرچہ غذا کے نقطہ نگاہ سے بھی کوئی اور دودھ ماں کے دودھ کی برابری نہیں کرسکتا۔ طبی نقطہ نگاہ سے نہ صرف بچے کے لیے یہ دودھ سب سے محفوظ اور مفید غذا ہے۔ بلکہ ماں کے لیے بھی سینے کے امراض سے تحفظ کے لیے سب سے بڑی ضمانت ہے۔ جو مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاتیں وہ عموماً سینے یا اور کسی جسمانی عارضے کا شکار ہوجاتی ہیں) بلکہ بچے کی اصلاح اور تربیت کے لیے بھی نہایت ضروری ہے۔ ماں اگر اپنے اندر کوئی روحانی خصوصیات رکھتی ہے اور اس کے اندر اخلاقی اقدار کا گہرا احساس پایا جاتا ہے اور وہ نظریاتی طور پر مضبوط عقائد کی حامل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے خاندان کی صالح خصوصیات کی حامل بھی ہے تو یہ تمام قیمتی سرمایہ دودھ کے ساتھ بچے کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ جس طرح ہمارے ڈاکٹر اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ موروثی امراض ماں باپ سے بچے کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں اسی طرح ماں کی خاندانی خصوصیات اور اس کی متذکرہ بالا صفات کا بھی معتد بہ حصہ بچے کے تحت الشعور میں منتقل ہوجاتا ہے۔ بچہ جب تھوڑا سا بڑا ہو کر تربیت کو قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے تو تحت الشعور میں مخفی یہ صفات آہستہ آہستہ تربیت کا حصہ بننے لگتی ہیں۔ اور ماں باپ کی تمام روحانی ‘ اخلاقی اور روایتی خصوصیات آہستہ آہستہ اس کے نظریات ‘ اخلاق اور اعمال میں نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ اور جو بچے اس نعمت سے محروم رہتے ہیں اگرچہ گھر کا ماحول بھی ان میں بہت ساری خصوصیات کو پید اکر دیتا ہے لیکن جو خصوصیات دودھ کے ساتھ منتقل ہوتی ہیں وہ بچہ یقینا اس سے محروم رہتا ہے اور ماں باپ کے طور اطوار کا قابل ذکر حصہ اسے نہیں ملتا۔ ہم ہمیشہ اخلاقی بگاڑ کے اسباب تلاش کرتے رہتے ہیں۔ کاش ہم کبھی ان فطری عوامل پر بھی توجہ دے سکیں۔ اور کاش کبھی ماں باپ کو ماں باپ بننے سے پہلے ان باتوں کا احساس بھی دلایا جاسکے تاکہ وہ غیر شعوری طور پر بچوں کو اس دولت سے محروم نہ رکھیں۔ اور وہ دل کی گہرائیوں سے اس بات کو تسلیم کرلیں کہ ماں کے سینے سے صرف دودھ ہی نہیں پھوٹتا ‘ بلکہ شعور کا ایک نور بھی طلوع ہوتا ہے جو بچے کے سینے کو روشن کردیتا ہے اور ماں باپ کے پاکیزہ اطوار بچے کے طور اطوار کی تشکیل کرتے ہیں۔ اور ماں باپ کی باتوں باتوں اور اپنے عمل کی صورت میں دی ہوئی تعلیم اور پھر اسلامی طریقے سے ان کا طریق تربیت ان کے اندر وہ نتائج پیدا کرتا ہے جس سے اسلامی فکر اور اسلامی عمل وجود میں آتا ہے۔ اکبر مرحوم نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ؎ بو آئے کیا بچے میں ماں باپ کے اطوار کی دودھ ہے ڈبے کا اور تعلیم ہے سرکار کی 2 معمول کی زندگی میں تو میاں بیوی خوش اسلوبی سے جو مشورہ کرلیں اس پر عمل کریں۔ لیکن طلاق کے بعد شوہر اگر اپنی مطلقہ سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ بچے کو پورے دو سال دودھ پلائے تو پھر بچے کی ماں کے لیے بچے کو پورے دو سال دودھ پلانا ضروری ہے۔ بچے کو دو سال دودھ پلانا بچے کا حق ہے بچے کو اس قدرتی اور فطری غذا سے بلا وجہ محروم نہیں کرنا چاہیے۔ ہاں اگر ماں طبی نقطہ نگاہ سے دودھ پلانے سے معذور ہوجائے یا اس کے لیے کوئی مشکل پیدا ہوجائے تو پھر وہ عذر بھی کرسکتی ہے۔ ورنہ عام حالت میں اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سابقہ خاوند کے کہنے پر پوری مدت بچے کو دودھ پلائے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بچے کی مدت رضاعت دو سال ہے۔ میاں بیوی اپنے مشورے سے کسی مجبوری کے باعث اسے کم تو کرسکتے ہیں ‘ اس میں اضافہ نہیں کرسکتے۔ دو سال گزرنے کے بعد ماں کے لیے بچے کو اپنا دودھ پلانا بالکل حرام ہے۔ امام ابوحنیفہ ( رح) کے حوالے سے جو اختلاف ذکر کیا جاتا ہے اس کا تعلق غالباً مدت رضاعت سے نہیں۔ بلکہ اس بات سے ہے کہ اگر کسی خاتون نے کسی غیر بچے کو دو سال کی عمر کے بعد بھی دودھ پلایا اگرچہ دودھ کی مدت گزر چکی ہے پھر بھی رضاعت ثابت ہوجائے گی۔ دودھ پلانے والی خاتون بچے کی رضاعی ماں کہلائے گی۔ اور ان کے درمیان ماں بیٹے کا رشتہ قائم ہوجائے گا۔ 3 وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَـہٗ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ماں بچے کو جب تک دودھ پلاتی ہے اس وقت تک اس کے کھانے پینے ‘ رہنے سہنے اور کپڑے کی ذمہ داری بچے کے باپ پر ہے اور باپ یہ ذمہ داری دستور کے مطابق ادا کرے۔ دستور سے مرا دیہ ہے کہ اگر بچے کے ماں باپ دونوں امیر ہوں تو عورت کو امیرانہ ضروریات مہیا کی جائیں ‘ اس کا کھانا پینا پر تکلف ہو اور لباس بھی اس کی شان کی لائق ہو۔ لیکن اگر دونوں کے مالی حالات میں واضح تفاوت پایا جائے تو پھر جمہور کی رائے یہ ہے کہ مرد کے حالات کا لحاظ کیا جائے گا۔ اگر وہ غریب آدمی ہے تو اس پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور اگر وہ امیر آدمی ہے تو پھر اسے اپنی حیثیت کے مطابق بچے کی ماں کو ضروریات مہیا کرنی چاہئیں۔ اس آیت کریمہ میں آپ نے دیکھا کہ مائوں کے لیے تو ” وَالِدٰتٌ“ کا لفظ استعمال ہوا جو والدہ کی جمع ہے لیکن باپ کے لیے بجائے والد کا لفظ استعمال کرنے کے ” اَلْمَوْلُوْدُ لَـہٗٗ ‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ (وہ شخص جس کا بچہ ہے) حالانکہ قرآن کریم میں باپ کے لیے ” والد “ کا لفظ ایک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے۔ لیکن یہاں ” والد “ کے بجائے مذکورہ لفظ استعمال کرنے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ بچے کی رضاعت اور باقی تمام معاملات کے مصارف کی ذمہ داری باپ پر ہی ڈالی گئی ہے۔ اور پھر بچے کو دودھ پلانے کے لیے اگر اس کی ماں کو طلاق ہوچکی ہے اور وہ دودھ پلانے کی اجرت مانگتی ہے تو اجرت کی ذمہ داری بھی باپ ہی کے سر پر ہے۔ باپ یہ کہہ سکتا ہے کہ بچہ جس طرح میری ذمہ داری ہے اسی طرح ماں کی بھی ذمہ داری ہے۔ آخر یہ تمام اخراجات کا بار مجھ پر ہی کیوں ڈالاجا رہا ہے ؟ اس کے اس احساس میں کمی پیدا کرنے کے لیے یہ تعبیر اختیار کی گئی کہ حقیقت میں بیٹا تمہاری طرف ہی منسوب ہوگا۔ وہ کہیں بھی رہے جب بھی اپنا نسب بتائے گا تو باپ کا نام لیے بغیر چارہ کار نہیں۔ کیونکہ نسب باپ ہی سے چلتا ہے۔ ماں یقینا حقوق اور احترام میں باپ کے ساتھ شریک ہے۔ لیکن انتساب میں باپ منفرد ہے۔ اس لیے ذمہ داریوں کا بار بھی باپ پر ہی ڈالا گیا ہے اور یہی ہر طرح سے مناسب بھی ہے۔ 4 فریقین میں سے کسی پر بھی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ ماں اگر بچے کو دودھ پلانے سے کسی مجبوری کے باعث انکار کر دے تو باپ کے لیے اسے مجبور کرنا جائز نہیں ہے۔ وہ اسے یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم چونکہ ماں ہو اس لیے چاہے کچھ بھی ہو تمہیں بہرصورت دودھ پلانا پڑے گا۔ اسی طرح اگر ماں اس بات پر اصرار کرے کہ چونکہ اب بچہ طلاق کے بعد تمہاری ذمہ داری بن چکا ہے تو میں تو صرف اس صورت میں دودھ پلائوں گی کہ تم مجھے ایک بڑی رقم کی صورت میں اجرت ادا کرو اور باپ اپنی مالی پریشانیوں کے باعث اس کا متحمل نہ ہوسکتا ہو۔ تو باپ پر یہ سارا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا بلکہ ماں کو کسی مناسب اجرت پر راضی ہونا پڑے گا۔ اسی طرح اگر بچہ کسی دوسری عورت کا دودھ قبول نہیں کرتا ‘ نہ کسی جانور کا دودھ پینے کے لیے تیار ہے اور اگر پیتا ہے تو اسے ہضم نہیں ہوتا تو پھر باپ سے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے تم جہاں چاہے جھک مارو یہ تمہارا درد سر ہے۔ بلکہ ماں کو مجبور کیا جائے گا کہ جیسے بھی ہو وہ بچے کو دودھ پلائے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ بچے کے بارے میں نہ ماں کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے گی اور نہ بچے کی آڑ لے کر باپ پر کوئی ناروا دبائو ڈالا جائے گا۔ دونوں میں سے ہر ایک اپنی اپنی ہمت اور وسعت کے مطابق ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کا مکلف ہے۔ 5 اگر سوئے اتفاق سے باپ چل بسے اور بچہ یتیم رہ جائے تو اب سوال یہ ہے کہ بچے کی رضاعت ‘ تربیت ‘ اور غوروپرداخت کی ذمہ داری کس پر ہوگی ؟ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے ” وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکْ “ (جو ذمہ داریاں بچے کے حوالہ سے باپ پر تھیں وہی ذمہ داریاں بچے کے وارث پر بھی ہیں) یعنی اگر بچہ مرجائے تو جو اس کے ترکہ کے وارث ہوں گے وہی اب اس کی رضاعت اور تربیت کے ذمہ دار بھی ہیں۔ اور اگر اس کے وارث ایک سے زیادہ ہوں تو ہر ایک پر بقدر میراث اس کے نفقہ کی ذمہ داری ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس پر اضافہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ ذمہ داری صرف دودھ پلوانے کی حد تک نہیں بلکہ جب تک بچہ بالغ نہیں ہوجاتا اس وقت تک بچے کی تمام ذمہ داریاں وارثوں کے سر ہیں۔ فرض کیجئے کہ بچے کے وارثوں میں اس کی ماں اور اس کے دادا زندہ ہیں۔ تو یہ دونوں اس بچے کے محرم بھی ہیں اور وارث بھی۔ اس لیے اس کا نفقہ ان دونوں پر بقدر حصہ میراث عائد ہوگا۔ یعنی ایک تہائی ماں کے ذمے اور دو تہائی دادا کے ذمہ ہوگا۔ 6 فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا سے ایک اور مسئلہ بیان کیا جا رہا ہے۔ وہ یہ کہ اگر ماں باپ باہمی رضامندی اور مشورے سے شیر خوارگی کی مدت میں کمی کرتے ہوئے دو سال سے پہلے ہی دودھ چھڑانے کا فیصلہ کرلیں۔ اس فیصلے کا سبب ماں کی معذوری ہو یا بچے کی بیماری یا کوئی اور قابل لحاظ سبب ‘ تو پردردِگار فرماتے ہیں کہ اس میں ماں باپ کے لیے کوئی گناہ نہیں ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ کہ ہر صورت میں بچے کی مصلحت پیش نظر رہنی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ میاں بیوی کے جھگڑے کا اثر بچے کی صحت اور زندگی پر پڑے۔ یہ آپس کے اختلافات میں الجھے رہیں اور بچہ اس کے نتیجے میں بیماری کی نذر ہوجائے۔ 7 وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْآ اَوْلَادَکُمْ فَلاَ جَنَاحَ عَلَیْـکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّـآ اٰ تَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ میں ایک اور بات ارشاد فرمائی جا رہی ہے۔ ہمارے مفسرین نے اس کے دو مفہوم مراد لیے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر میاں بیوی باہمی مشورے سے کسی اور سے دودھ پلوانا چاہیں تو اس کی انھیں اجازت ہے اور اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ جس عورت سے دودھ پلوانے کا فیصلہ ہوا ہے اسے دینے دلانے کی جو قرارداد پاس ہو اس کے مطابق اسے ٹھیک ٹھیک ادا کیا جائے۔ اور اسی تناسب سے دیا جائے جتنا معاشرے میں رواج اور دستور بن چکا ہو اور شرفاء جس کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں۔ اور دوسرا مطلب یہ لیا گیا ہے کہ اگر بچے کا باپ یا باپ کے مرنے کی صورت میں بچے کے وارث بچے کی والدہ کی جگہ کسی اور عورت سے دودھ پلوانے کا فیصلہ کرلیں تو ایسا کرلینے میں کوئی گناہ نہیں۔ لیکن یہ بات ضروری ہے کہ بچے کی والدہ سے دینے دلانے کے سلسلے میں جو معاہدہ ہوچکا تھا اور جس کا وعدہ کیا جا چکا تھا اس کی پابندی کی جائے۔ ماں کو اس طرح کا صدمہ نہیں پہنچانا چاہیے جس سے وہ یہ سمجھے کہ مجھ سے میرا بچہ بھی چھین لیا گیا ہے اور مجھے بالکل بےکس اور بےبس بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ رضاعت اور تربیت کے مسائل بہت نازک ہیں اور میاں بیوی کے اختلافات اور علیحدگی کی صورت میں اس کی شدت میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جانبین منفی جذبات کی گرفت میں ہوتے ہیں۔ اس لیے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ بچے کے معاملات جن کے سپرد بھی ہوں وہ اللہ سے ڈریں۔ بلکہ براہ راست خطاب کر کے فرمایا کہ بچے کی دیکھ بھال کرنے والو ! ہم نے تمہیں اس کے لیے ضروری ہدایات دے دی ہیں۔ اور تمہاری ذمہ داریوں سے تمہیں پوری طرح آگاہ کردیا ہے۔ لیکن تم ان ذمہ داریوں سے صرف اس صورت میں عہدہ برآ ہوسکتے ہو کہ اللہ سے ڈرو اور یہ یقین رکھو کہ تم حاضر و غائب جو کچھ کرو گے۔ اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ وہ تمہارے ایک ایک معاملے کو دیکھ رہا ہے اور اسی کے مطابق تمہاری جزاء و سزاء کا فیصلہ ہوگا۔
Ayah 2:234

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور وہ پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں۔ پھر جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو جو کچھ وہ اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں اس کا ان پر کوئی گناہ نہیں۔ اور اللہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اس سے پوری طرح باخبر ہے

وَالَّذِیْنَ یَتَوَفَّوْنَ مِنْـکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍوَّعَشْرًا ج فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فلَاَ جُنَاحَ عَلَیْـکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ط وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور وہ پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں۔ پھر جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو جو کچھ وہ اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں اس کا ان پر کوئی گناہ نہیں۔ اور اللہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اس سے پوری طرح باخبر ہے) (234) بیوہ کی عدت اور اس کی طوالت کی حکمت طلاق کی صورت میں عدت کی مدت کیا اور کتنی ہے ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلے ہم پڑھ چکے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں ان عورتوں کی عدت بیان کی جا رہی ہے جن کے شوہر وفات پاجائیں۔ یہ عدت چار مہینے دس دن ہے۔ اور یہ عدت ہر اس عورت کو گزارنی لازم ہے جس کا شوہر نکاح کے بعد فوت ہوجائے۔ چاہے اس کے ساتھ عمر کا ایک حصہ گزرا ہو چاہے چند دن یا چند گھنٹے اور چاہے اس سے خلوت صحیحہ بھی نہ ہوئی ہو۔ لیکن نکاح سے وہ شوہر بن چکا اور جس لڑکی سے نکاح ہوا وہ بیوی بن گئی۔ اب شوہر کی وفات کی صورت میں ہر طرح کی بیوہ ایک جیسی عدت وفات گزارے گی۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں تو اس سے مراد صرف یہ نہیں کہ وہ نکاح نہ کریں ‘ بلکہ اس سے یہ بھی مراد ہے کہ اپنے آپ کو ہر طرح کی زینت اور زیب و آرائش سے روکے رکھیں۔ احادیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کے احکام بیان فرمائے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ زمانہ عدت میں عورت کو رنگین کپڑے پہننے ‘ مہندی اور سرمہ اور خوشبو اور خضاب لگانے اور بالوں کی آرائش سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اور زمانہ عدت عورت کو اسی گھر میں گزارنا چاہیے جہاں اس کے شوہر نے وفات پائی ہو۔ البتہ دن کے وقت کسی شدید ضرورت کے باعث وہ باہر بھی جاسکتی ہے ‘ لیکن رات دوسرے کسی گھر میں نہیں گزار سکتی۔ ایسی عورت کی عدت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مفتی محمد شفیع صاحب نے فرمایا کہ ” اگر چاند رات کو خاوند کی وفات ہوئی تب تو یہ مہینے خواہ تیس کے ہوں خواہ انتیس کے ہوں چاند کے حساب سے پورے کیے جائیں۔ اور اگر چاند رات کے بعد وفات ہوئی ہے تو یہ سب مہینے تیس تیس دن کے حساب سے پورے کیے جائیں گے۔ پس کل ایک سو تیس دن پورے کیے جائیں گے۔ اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں۔ اور جس وقت وفات ہوئی ہو جب یہ مدت گزر کر وہی وقت آئے گا تو عدت ختم ہوجائے گی۔ “ (معارف القرآن) آپ نے دیکھا کہ شوہر کے مرنے کی صورت میں بیوہ کی عدت کی مدت دوسری مطلقہ عورتوں سے زیادہ رکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی بیوہ دوہرے صدمے کا شکار ہوتی ہے ‘ ایک تو شوہر سے الگ ہونے اور گھر چھوٹنے کا صدمہ۔ کیونکہ اگر شوہر اس کے لیے الگ گھر چھوڑ کر نہیں گیا اور ابھی اولاد اس قابل نہیں ہوئی کہ وہ اپنی والدہ کو الگ گھر لے کر عزت سے کفالت کرسکیں تو ایسی صورت میں بیوہ خاتون کو اپنے شوہر کا گھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ مطلقہ عورت بھی شوہر کے گھر کو چھوڑنے کے صدمے سے دوچار ہوتی ہے۔ لیکن اس کے اندر چونکہ منفی جذبات کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ اشتعال میں ہر کام کر گزرتی ہے اور اس کا اسے شدید احساس نہیں ہوتا۔ لیکن بیوہ خاتون کے لیے گھر چھوڑنا زیادہ صدمے کا باعث ہوتا ہے کیونکہ اس گھر سے اس کی یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ وہاں اسے اپنے شوہر کے سانسوں کی خوشبو آتی ہے۔ وہ اسے چلتا پھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے اس گھر کو چھوڑنا اس کے لیے بڑی اذیت کا باعث ہوتا ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ بیوہ عورت صرف گھر چھوڑنے کے صدمے سے دوچار نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل غم شوہر کی ہمیشہ کی جدائی ہے۔ جو زندگی اس کے لیے چراغ بن کر جلتی رہی اب اس کے بجھ جانے سے اس کے چاروں طرف تاریکیاں چھا گئی ہیں۔ اس کے لیے کوئی نیا فیصلہ کرنا آسان نہیں اور اس سوگ میں اپنے آپ کو سنبھالنے کے لیے ایک مدت چاہیے۔ ہم جب ان دونوں باتوں پر غور کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پروردگار نے انسان کے نازک احساسات کا کس حد تک لحاظ فرمایا۔ دوسری مطلقہ عورتوں سے عدت طویل رکھی تاکہ بیوہ عورت اپنے آپ کو سنبھال سکے۔ بلکہ صدمے نے جس طرح اسے بکھیر کر رکھ دیا ہے اسے سمیٹ سکے۔ اور دوسری جگہ ایک آیت میں اسی صدمے کا شاید احساس کرتے ہوئے یہاں تک فرمایا کہ مرنے والے شوہر کو چاہیے کہ وہ جاتا ہوا وصیت کر جائے کہ اس کی بیوی کو گھر سے ایک سال تک نہ نکالا جائے۔ اگر تو اس کے بچے بڑے ہوں تو نکالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بشرطیکہ مرنے والا وراثت میں گھر چھوڑ گیا ہو۔ لیکن اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو پھر ہر صورت میں اسے گھر چھوڑنا ہوگا اس لیے وارثوں کو یہ ہدایت کی گئی کہ وہ مرنے والے کی وصیت کے مطابق ایک سال تک اس خاتون کو اس گھر میں رہنے دیں۔ تاکہ وہ آئندہ کے لیے فیصلے بھی کرسکے اور سوگ کی مدت اطمینان سے گزار سکے۔ مزید یہ کہ اس بیوہ کو آئندہ کیا کرنا ہے ؟ نئی شادی کرنی ہے یا نہیں ؟ کرنی ہے تو کہاں کرنی ہے ؟ اسی طرح کے اور سوالات جن سے وہ خاتون دوچار ہوگی۔ وہ تنہا یا کسی کے مشورے سے فیصلہ کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہاں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اگر وہ خاتون اپنے بارے میں معروف کے مطابق فیصلے کرے (معروف کی وضاحت اس سے پہلے ہوچکی ہے) تو شوہر کے وارثوں اور عورت کے اولیاء کو اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ہاں اگر وہ معروف اور دستور سے تجاوز کرے یا وہ ” کفو “ کی پابندی نہ کرے جس سے خاندان کی عزت پر حرف آسکتا ہو تو بیشک اس کے اولیاء اور شوہر کے وارثوں کو بھی رکاوٹ بننے کی اجازت ہے۔ لیکن اگر یہ بات نہ ہو تو پھر اس بیوہ خاتون کی پریشانیوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ اور آخر میں فرمایا کہ تم جو کچھ بھی کرو گے اللہ یقینا اس سے باخبر ہے۔ اس لیے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یہ ضرور سوچنا کہ ہمارا اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہم اس کے علم کے حصار میں ہیں۔
Ayah 2:235

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور تم پر کوئی گناہ نہیں اس بات میں کہ تم ان عورتوں کو اشارہ و کنایہ سے پیغامِ نکاح دو یا تم اپنے دلوں میں چھپائے رہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور ان کا ذکر کرو گے۔ لیکن چپکے سے ان کے ساتھ نکاح کا قول وقرار نہ کر بیٹھومگر یہ کہ کہو ان سے دستور کے مطابق کوئی بات۔ اور عقد نکاح کا عزم اس وقت تک نہ کرو جب تک قانون اپنی مدت کو نہ پہنچ جائے۔ اور جان لو یقینا اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ سو اس سے ڈرتے رہو۔ اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بردبار ہے)

وَلَا جُنَاحَ عَلَیْـکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖ مِنْ خِطْـبَۃِ النِّسَآئِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوْنَھُنَّ وَلٰـکِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرًّا اِلَّآ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ط وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَۃَ النِّـکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْـکِتٰبُ اَجَلَـہٗ ط وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ فَاحْذَرُوْہُ ج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌحَلِیْمٌ۔ ع (اور تم پر کوئی گناہ نہیں اس بات میں کہ تم ان عورتوں کو اشارہ و کنایہ سے پیغامِ نکاح دو یا تم اپنے دلوں میں چھپائے رہو، اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور ان کا ذکر کرو گے، لیکن چپکے سے ان کے ساتھ نکاح کا قول وقرار نہ کر بیٹھومگر یہ کہ کہو ان سے دستور کے مطابق کوئی بات، اور عقد نکاح کا عزم اس وقت تک نہ کرو جب تک قانون اپنی مدت کو نہ پہنچ جائے، اور جان لو یقینا اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے، سو اس سے ڈرتے رہو۔ اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بردبار ہے) (235) مرحوم شوہر اور بیوہ کے جذبات کا احترام لازم ہے ایک بیوہ عورت شوہر کے مرجانے کے بعد ایک طویل مدت تک سوگ کی حالت میں بیٹھی ہے۔ قریب و بعید کے رشتہ دار اور دیگر جان پہچان والے خوب جانتے ہیں کہ یہ خاتون جوانی میں ایک بڑے حادثے کا شکار ہوگئی ہے۔ اور اس نے جب تک اپنے شوہر کے ساتھ وقت گزارا ہے اس کی شرافت ‘ محبت اور وفا سے بھی سب واقف ہیں۔ شکل و صورت بھی اللہ نے خوب عطا فرمائی ہے۔ ایسے حالات میں ممکن نہیں کہ جو لوگ خود شادی کی عمر میں ہیں اور جنھیں اچھے رشتے کی تلاش ہے وہ ادھر متوجہ نہ ہوں۔ اور یہ بات بھی معروف ہے کہ شرفاء میں اگر کوئی اچھا رشتہ پہل کرجاتا ہے تو بعد کا آنے والا رشتہ چاہے کتنا بھی اچھا ہو اسے قبول نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ اس سے خاندانی وجاہت پر حرف آجاتا ہے۔ انسانی جذبات اور فطرت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے ہر وقت اس بات کا امکان ہے کہ تعزیت کے لیے آنے والے یقینا اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ قرآن کریم جو نہایت نازک جذبات کی ترجمان کتاب ہے اور جس میں ہر طرح کی صورتحال کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں کیونکہ خالق فطرت سے بڑھ کر فطرت کے تقاضوں اور طبیعت کے رجحانات سے کون واقف ہوسکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں ایسی ہی نازک صورت حال کے بارے میں رہنمائی دی گئی ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تم اپنے حق قرابت کے باعث اس بیوہ خاتون اور اس کے اولیاء کے پاس جب تعزیت کے لیے جاؤ یا ایک وقت گزرنے کے بعد کسی اور کام سے جاؤ تو وہاں پیغامِ نکاح کے حوالے سے کوئی بات کہنے کی کوشش نہ کرنا۔ کیونکہ تمہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ خاتون اور اس کا خاندان ایک موت کے صدمے سے دوچار ہوا ہے۔ مرنے والا جس طرح ان کا عزیز تھا اسی طرح تمہارا بھی تو دینی بھائی تھا۔ ہوسکتا ہے تم سے قرابت بھی رکھتا ہو۔ تو اس تعلق کے باعث اس کی موت کا صدمہ تمہیں ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ابھی اس کا کفن بھی میلا نہیں ہوا اور تم شادی کی باتیں شروع کردو۔ اور مزید برآں یہ کہ جس خاتون سے تم نکاح کے خواہاں ہو اس غم نے اس کے آبگینے کو کس قدر ٹھیس پہنچائی ہے۔ اور اس کا احساس کس قدر کرچی کرچی ہوا ہے۔ وہ ابھی ان کرچیوں کو سمیٹ رہی ہے تم اگر اس سے کوئی ایسی بات کہو تو یقینا اس کے صدمے میں اضافہ ہوگا۔ وہ بجائے تم سے اچھا تاثر لینے کے برا تاثر بھی لے سکتی ہے۔ اس لیے تم کسی مناسب موقع کا انتظار کرو۔ پیغامِ نکاح میں بعض نزاکتوں کی پاسداری دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوگ اپنی جگہ اور تمہارے احساسات اپنی جگہ۔ تم یقینا اس کی کوشش کرو گے کہ جیسے ہی کوئی موقع ہاتھ آئے تو اپنے مطلب کی بات کہو۔ بلکہ ہو سکے تو خاموشی سے کوئی عہد و پیمان بھی ہوجائے۔ لیکن یہ باتیں کسی طرح بھی اس صورت حال کے لیے مناسب نہیں۔ تمہارے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے صرف اس بات کی اجازت ہے کہ تم صاف صاف بات کہنے کی بجائے اشاروں کنایوں میں پیغام نکاح کے حوالے سے کوئی بات کہہ دو ۔ جس سے لڑکی اور اس کے اولیاء کو یہ اندازہ ہوجائے کہ تم ادھررجحان رکھتے ہو۔ اللہ کو تمہاری کمزوریوں کا علم ہے ‘ تم ضرور موقع ملنے پر اس خاتون سے بات کرنے کی کوشش کرو گے۔ تو اولاً تو بات اشاروں میں ہونی چاہیے اور جذبات صرف دل میں پوشیدہ رہنے چاہئیں۔ لیکن اگر ایسی ہی بےچینی ہے تو پھر مناسب تذکرے سے بات آگے نہیں بڑھنی چاہیے۔ نہ اس لڑکی سے عہد و پیمان لینے کی کوشش کرو ‘ نہ خود اس سے کوئی وعدہ کرو اور نہ عدت گزرنے سے پہلے نکاح کرنے کا عزم کرو۔ اس طرح کی باتیں اور ارادے اس شرم و حیا کے بھی خلاف ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے اس امت کو عطا فرمایا ہے اور ان احساسات کے بھی خلاف ہیں جو سوگ کے حوالے سے ہونے چاہییں۔ البتہ جب عدت کی مدت ختم ہوجائے تو پھر تم پیغامِ نکاح دے سکتے ہو اور نکاح کے لیے جو بھی مناسب طریقہ سمجھو اختیار کرسکتے ہو۔ لیکن ہر کام کرنے سے پہلے یہ بات ذہن سے کبھی نہ نکلنے دینا کہ اللہ صرف تمہارے اعمال کو دیکھتا ہی نہیں بلکہ وہ تمہارے قلبی ارادوں تک سے واقف ہے۔ تمہارے دماغ میں خیال کی کوئی لہر اٹھتی ہے تو اللہ اسے بھی جانتا ہے۔ ایسے علیم اور خبیر پر یقین رکھتے ہوئے کوئی کام بھی معصیت کے ارادوں سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اس کے احکام کی مخالفت سے ہر وقت بچو۔ اور اگر کبھی کوئی معصیت ہوجائے اور اس پر کوئی گرفت نہ آئے تو یہ نہ سمجھنا کہ پروردگار تمہارے اعمال سے بیخبر ہے۔ بلکہ اس حقیقت پر یقین رکھنا کہ اس کے علم و خبر میں کوئی نقص نہیں۔ البتہ وہ بردبار اور حلیم ہے جلدی پکڑتا نہیں۔ اور جو شخص اس کی بردباری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے معافی کا طلبگار ہوتا ہے تو وہ اس کے لیے نہایت مہربان ‘ بخشنے والا اور غفور ہے۔