2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:203

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کو یاد کرو، پھر جو کوئی جلدی چلا گیا دو ہی دن میں تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو کوئی ٹھہرا رہا ‘ اس پر بھی کچھ گناہ نہیں ‘ یہ رعایت اس کے لیے ہے جو تقوی کو ملحوظ رکھے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ تم اسی کے حضور میں اکٹھے کیے جاؤگے

وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْٓ اَ یَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ ط فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَـلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ج وَمَنْ تَاَخَّرَ فَـلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ لا لِمَنِ اتَّقٰی ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـکُمْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کو یاد کرو، پھر جو کوئی جلدی چلا گیا دو ہی دن میں تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو کوئی ٹھہرا رہا ‘ اس پر بھی کچھ گناہ نہیں ‘ یہ رعایت اس کے لیے ہے جو تقوی کو ملحوظ رکھے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ تم اسی کے حضور میں اکھٹے کیے جاؤگے) (203) گزشتہ آیات میں عربوں کے اعمال قبیحہ اور ان کی رسومات بد پر کافی تنقید ہوچکی ہے اور اس بات پر بجا طور پر زور دیا گیا کہ حج نہایت مخلصانہ عبادت ہے ‘ جس میں تمام عبادات کی روح جمع کردی گئی ہے۔ اس کی اصل حقیقت ذکر اللہ کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے تمہیں حج کے چند ایام کے دوران ایسی ہر بات سے دستکش ہوجانا چاہیے جس سے اس عظیم عبادت کی روح پر اثر پڑتا ہو۔ اب اس بحث کو سمیٹتے ہوئے اور مناسک حج کی تکمیل فرماتے ہوئے ایک اور اختلاف کی اصلاح فرمائی جارہی ہے اور ساتھ ہی مکرر اس بات کو ذکر فرمایا جارہا ہے کہ یہ چند گنتی کے دن ہیں مراد اس سے ایام تشریق ہیں۔ تم بظاہر دس تاریخ کو مناسک حج سے فارغ ہوجاؤگے اس کے بعد منیٰ میں ٹھہرنا اور رمی جمرات کی سنت ابراہیمی کو ادا کرنا ہے لیکن یہ چند دن تمہاری زندگی کا حاصل ہیں نہ جانے کتنا طویل سفر اور کتنے کثیر مصارف صرف کرکے تم یہاں پہنچے ہو۔ ممکن ہے زندگی میں پھر کبھی آنے کا موقع نہ ملے۔ اس لیے ان چند دنوں کے ایک ایک لمحے کو غنیمت جانو اور زیادہ زیادہ اللہ کا ذکر کرو۔ اسی کی یاد ہے جو دنیا کے بحران کو سرد کرسکتی ہے اور اسی کی یاد سے زندگی کی ہر کل اپنی جگہ بیٹھ سکتی ہے اور اسی کی یاد سے فکروعمل میں تطہیر پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر ان چند دنوں میں بھی تم نے اپنے آپ کو اس کی یاد سے وابستہ نہ کیا تو پھر دنیوی مصروفیات کے دنوں میں تم کیسے اسے یاد کروگے۔ عربوں میں مناسک حج کے بارے میں بہت سے اختلافات موجود تھے۔ ان میں ایک اختلاف یہ بھی تھا کہ منیٰ میں قیام اور جمرات پر کنکریاں مارنا کب تک ضروری ہے۔ بعض لوگ بارہ تاریخ تک ٹھہرنا کافی سمجھتے تھے اور بعض لوگ تیرہ تاریخ کو ٹھہرنا بھی ضروری قرار دیتے تھے۔ چناچہ ان کے اس اختلاف کی اصلاح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جو آدمی بارہ تاریخ تک ٹھہرے اور پھر کسی وجہ سے مکہ معظمہ جانا ضروری سمجھے اس کے لیے گناہ کی کوئی بات نہیں اسے جانے کی اجازت ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ بارہ تاریخ کا سورج منیٰ میں غروب نہیں ہونا چاہیے اگر اس کی موجودگی میں سورج غروب ہوگیا تو اب وہ منیٰ سے نہیں جاسکتا۔ اب اسے تیرہ تاریخ کو بھی ٹھہرنا ہوگا۔ البتہ اس کے لیے یہ رعایت ہے کہ وہ زوال آفتاب سے پہلے صبح کے بعد ہی رمی کرسکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی تیرہ تاریخ کو ٹھہر جائے اور پھر زوال آفتاب سے پہلے پہلے رمی کرکے وہاں سے روانہ ہوجائے اس کے لیے بھی کوئی گناہ کی بات نہیں بلکہ تیرہ تاریخ کو ٹھہرنا زیادہ اجروثواب کا باعث ہے۔ آخر میں ایک لفظ نہایت قابل غور ہے وہ ہے لِمَنِ اتَّقٰیکہ منیٰ میں بارہ تاریخ تک ٹھہرا جائے یا تیرہ تاریخ تک۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتادونوں ہی کی اجازت ہے البتہ جس بات پر انتہائی توجہ دینے کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ مناسک حج کی ادائیگی اور منیٰ کا قیام اور ذکر اللہ کی پابندی یہ صرف اس کے لیے مفید ہے اور وہ شخص اس کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرے گا جس کے اندر تقویٰ کی دولت پائی جاتی ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندگی کی صورت کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقی روح کو بھی دیکھتا ہے۔ اگر یہ سارے اعمال تقویٰ کی روح سے خالی ہوں اس سے حج کی ایک ذمہ داری تو ضرور ادا ہوجائے گی لیکن اللہ کے یہاں قبولیت کا یقین پیدا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس کا ارشاد ہے : اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ” اللہ تعالیٰ عبادت انہی کی قبول کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور اطاعت شعار بندے ہیں۔ “ اور جو شخص حج سے پہلے بھی شریعت سے آزاد زندگی گزارتا تھا اور حج کے دوران بھی اس نے محض مناسک حج کی صورتاً ادائیگی کو کافی سمجھاتو ایسے آدمی کو حج کی ادائیگی سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے بجز اس کے کہ حج کا فرض ادا ہوگیا۔ اب اسے ترک حج کا مجرم نہیں گردانا جاسکتا۔ آخر میں ارشاد فرمایا : وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ اِلَـیْہِ تُحْشَرُوْنَ اس میں ایک اور بہت بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ کہ جس طرح انسانی کمزوریوں میں سے ایک یہ کمزوری ہے کہ ہم بظاہر شریعت کے احکام کی پابندی کرتے ہیں لیکن ہمارا دل تقویٰ یعنی اس کی حقیقی روح سے خالی رہتا ہے۔ اسی طرح انسانوں میں یہ کمزوری بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے احکام کی اطاعت دل وجان سے کرتے ہیں۔ نیکی کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اللہ نے تقویٰ کی دولت سے بہت حدتک انھیں مالامال کیا ہے۔ لیکن ان میں سے بعض لوگوں میں نیکی کا پندار پیدا ہونے لگتا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے لگتے ہیں کہ ہم نے اس قدر نیکیاں کی ہیں اور ہم نے اپنی پوری زندگی کو اس طرح سے شریعت کا پابند بنالیا ہے کہ اب کوئی وجہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی نہ ہو اور ہمیں جنت کی نعمتوں سے بہرہ ور نہ فرمائے۔ نیکی کا یہ پندار آدمی کے زندگی بھر کے سرمائے کو ڈبو دیتا ہے۔ اس کے اندر سے تواضع اور انکسار ختم ہوجاتا ہے۔ آہ سحرگاہی سے وہ محروم ہوجاتا ہے۔ دعاؤں کی لذت جاتی رہتی ہے۔ وہ جو شب وروز اللہ کی خشیت اور اس کی اطاعت میں آگے بڑھنے کی فکر میں رہتا تھا ‘ اب وہ ایک جگہ رک کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ایسے شخص کا انجام کیا ہوگا۔ چناچہ اسی خطرناک انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : کہ تم نے حج کی سعادت پائی بہت بڑی دولت کمائی۔ یقینا حج مقبول کے نتیجے میں آدمی اس طرح پاک ہوجاتا ہے ‘ جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو لیکن یاد رکھو اگر اس حج نے تمہارے اندر اللہ کی خشیت اور اس کی عبادت کے شوق میں بجائے اضافہ کرنے کے کمی کردی اور تم یہ سمجھ بیٹھے کہ میں نے حج مقبول کی دولت پالی ‘ اب میری بخشش میں کیا شبہ ہے تو یاد رکھو تم سب ایک دن اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤگے ‘ وہاں تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھو گے کہ تمہاری نیکیوں کے انبار میں وہ روح موجود نہیں جو ان کی قبولیت کے لیے ضروری ہے۔ کچھ لوگ تو اپنی برائیوں کی وجہ سے تباہ ہوں گے لیکن تم اس لیے محروم کردیے جاؤگے کہ تمہیں تمہاری نیکیوں کا پندار لے بیٹھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ترکی بزرگ جو مولانا جامی ( رح) کے مرید تھے ‘ ان کا حال یہ تھا کہ ہمیشہ اپنے سر پر ایک نور کا مشاہدہ کیا کرتے تھے۔ وہ حج کی سعادت سے بہرہ ور ہو کر واپس آئے تو بجائے اس نورانیت میں اضافہ ہونے کے یہ کیفیت ہی سرے سے ختم ہوگئی۔ انھوں نے اپنے مرشد مولانا جامی ( رح) سے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا کہ حج سے پہلے تمہارے اندر تواضع اور انکسار تھا۔ اپنے آپ کو گناہ گار سمجھ کر اللہ کے سامنے الحاح وزاری کرتے رہتے تھے ‘ حج کے بعد تم اپنے آپ کو نیک اور بزرگ سمجھنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ حج تمہاری ترقی کا ذریعہ بننے کی بجائے تمہارے زوال کا باعث بن گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جب حج کی سعادت سے مشرف فرمائے تو آدمی کے اندر خشیت اور تقویٰ میں اضافہ ہونا چاہیے اور اگر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ نے میرا حج قبول نہیں فرمایا۔ اس لیے بعض بزرگوں نے لکھا ہے کہ حج مقبول کی علامت یہ ہے کہ حج کرنے والا اپنے حج سے اس طرح واپس آئے کہ اس کا دل دنیا کی محبت سے فارغ اور آخرت کی طرف راغب ہو اور اس کی کیفیت یہ ہو۔ کیا فائدہ فکر بیش و کم سے ہوگا ہم کیا ہیں جو کوئی کام ہم سے ہوگا جو ہوا ہوا کرم سے تیرے جو ہوگا ترے کرم سے ہوگا
Ayah 2:204

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ Open ayah 2:204 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی باتیں اس دنیا کی زندگی میں تمہیں بڑی بھلی معلوم ہوتی ہیں اور وہ گواہ بناتے ہیں اللہ کو اس پر جو ان کے دل میں ہے اور وہ کٹر دشمن ہیں

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُـہٗ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیُشْھِدُاللّٰہَ عَلٰی مَافِیْ قَلْبِہٖ لا وَھُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ ۔ (اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی باتیں اس دنیا کی زندگی میں تمہیں بڑی بھلی معلوم ہوتی ہیں اور وہ گواہ بناتے ہیں اللہ کو اس پر جو ان کے دل میں ہے اور وہ کٹر دشمن ہیں) (204) گزشتہ آیات میں ہم نے یہ پڑھا ہے کہ حج پر آنے والوں کے دینی احساسات اور اعمال کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک قسم ایسے لوگوں کی ہے کہ وہ کہنے کو تو فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں لیکن ان کے احساسات کا حال یہ ہے کہ وہ حج کو بھی اپنی دنیوی تمناؤں کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کی دعائیں دنیا اور علاقات دنیا کے سوا کسی اور چیز کے لیے نہیں ہوتیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آخرت کے تصور سے بالکل بیگانہ ہیں۔ کردار میں دو عملی نفاق کو جنم دیتی ہے پیش نظر آیت کریمہ اور اس کے بعد کی بھی دو آیتوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ فریضہ حج ادا کرنے والوں میں انسانوں کی یہ تقسیم کہ ان میں ایک گروہ ایسا ہے جو اس فریضہ کو ادا کرتے ہوئے بھی آخرت کے تصور کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ذہن کو یقینا منافقین کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ نفاق بھی انسانی زندگی میں دو عملی کا نام ہے کہ زبان پر کچھ اور ہوتا ہے اور دل میں کچھ اور۔ اور عمل دل کے مضمر احساسات کی چغلی کھاتا ہے۔ چونکہ یہ لوگ بھی اپنے عمل کے اعتبار سے نفاق کی نمائندگی کرتے ہیں اس لیے اسی نسبت سے اب منافقین کا ذکر کیا جارہا ہے اور اسی بات کو اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب کسی بھی انسان میں یہ دو عملی پیدا ہوجائے کہ وہ بظاہر اللہ کے احکام کی تعمیل کرتا دکھائی دے لیکن حقیقت میں اس کے دل و دماغ اللہ کی بندگی کے تصور سے خالی ہوں تو ایسا شخص مومن کہلانے کے باوجود اپنے اعمال کے اعتبار سے منافقوں میں شمار ہونے کے لائق ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کی موجودہ حالت میں اگر کوئی صالح تبدیلی نہ آئی تو یقینا وہ منافقوں کے گروہ میں شامل ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ اسی حوالے سے پیش نظر آیات کریمہ میں منافقین کی سیرت و کردار کی ایک جھلک دکھائی جارہی ہے تاکہ مسلمان اس منظر کشی اور اس پر تبصرے سے اس مکروہ حالت میں مبتلا ہونے سے بچیں۔ کردار سے خالی گفتار کے غازی ہوتے ہیں منافقین کی شناخت کے سلسلے میں ان کی جن نمایاں خصوصیات کو بیان فرمایا جارہا ہے ان میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ لوگ زبان کے دھنی ہوتے ہیں۔ اپنی عملی کمزوریوں اور عقیدے کی خرابیوں پر اپنی چرب زبانی اور خوش گفتاری سے پردہ ڈالے رکھتے ہیں۔ اپنی طلاقتِ لسانی سے مخاطب کو یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم جس قدر آپ کے ساتھ مخلص ہیں کوئی اور نہیں ہوسکتا اور ہمارے اخلاص میں کسی شبے کی گنجائش ہی نہیں۔ لیکن چونکہ خود عمل کے چور ہوتے ہیں اور ان کے اندر کی ویرانی خود انہیں پریشان کرتی ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس میں دور دور تک کوئی حقیقت نہیں۔ تو وہ اس پریشانی پر قابو پانے اور مخاطب کو مزید اطمینان دلانے کے لیے اپنی ہر بات پر اللہ کو گواہ بناتے ہیں۔ اللہ کو گواہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بات بات پر قسم کھاتے ہیں کہ آپ کو ہماری کسی بات میں شک نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ گواہ ہے کہ ہم سچ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ سورة المنافقون میں قرآن کریم نے ایسے ہی لوگوں کی تصویر کھینچی ہے اور جو بات اس آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے اسے زیادہ وضاحت کے ساتھ وہاں فرمایا گیا ہے : وَ اِذَا رَاَیْتَہُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُہُمْ وَاِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَع لِقَوْلِہِمْ کَاَنَّہُمْ خُشُبٌ مَّسَنَّدَۃٌ ط یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْہِمْ ھُمُ الْعَدُوُّفَاحْذَرْھُمْ قَاتَلَہُمُ اللّٰہُ اَنّٰی یُؤْفَـکُوْنَ ۔ (اور جب تم ان کو دیکھتے ہو تو ان کی شکلیں تمہیں اچھی لگتی ہیں اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو ان کی چرب زبانی کی وجہ سے تم ان کی بات سنتے ہو لیکن حقیقت میں یہ لکڑی کے کندوں کے مانند ہیں ‘ جن کو ٹیک لگادی گئی ہو ہر خطرے کو اپنے ہی اوپر سمجھتے ہیں۔ اصلی دشمن یہی ہیں پس ان سے بچ کر رہو۔ اللہ انھیں ہلاک کرے یہ کس طرح اوندھے ہوئے جاتے ہیں) غور سے دیکھئے کس طرح قرآن کریم نے ان کی تصویر ہمارے سامنے لا کر کھڑی کردی کہ وہ اپنے جسموں کے اعتبار سے نہایت صحت مند ‘ شکلیں ان کی نہایت تابندہ ‘ وہ اپنی شخصیت میں شاندار شخصیت کے مالک اور اس کے ساتھ ساتھ نہایت چکنی چپڑی باتیں کرنے میں مشاق ‘ دوسروں سے آگے بڑھ کر حمایتِ اسلام کا جوش دکھانے والے۔ جی چاہتا ہے کہ آدمی انھیں دیکھتا رہے اور ان کی باتیں سنتا رہے لیکن حقیقت میں یہ اندر سے بالکل کھوکھلے ہیں۔ اپنی خوش حالی اور فارغ البالی کے باعث جسم تو نہایت پلے ہوئے ہیں لیکن دل چونکہ ایمان سے خالی ہیں اور ہر وقت اس کھٹکے میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ہمارا پول نہ کھل جائے۔ اس لیے ہر معمولی بات کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ معنوی اور نظریاتی قوت سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے لکڑی کے کھوکھلے کندوں کے مانند ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کندوں کو لباس پہنا کر دیواروں سے ٹیک لگا کر بٹھا دیا گیا ہے۔ ایمان سے خالی ہونے کی وجہ سے انتہا درجہ کے بزدل ہیں اولوالعزمی اور حوصلہ مندی ان کے قریب تک نہیں پھٹکی وہ صرف جھوٹ اور چرب زبانی سے اپنا کام نکالنے اور دوسروں کو دھوکہ دینے کا ہنر جانتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ آپ ان کی ظاہری حالت پر مت جائیے یہی حقیقت میں دشمن ہیں۔ اور اس آیت کریمہ میں فرمایا کہ وہ اَلَـدُّالْخِصَام ہیں۔ الد کا معنی شدید الخصومۃ ہے اور خصام خصم کی جمع ہے اس کا مفہوم ہے کہ وہ بدترین دشمن یا کٹر دشمن ہیں۔ ان سے بچتے رہیے ‘ ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری آیت کریمہ میں ان کی مزید خصوصیات کو بیان فرمایا گیا۔
Ayah 2:205

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ Open ayah 2:205 in the Quran reader

اور جب وہ تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں ‘ ان کی ساری بھاگ دوڑ اس لیے ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچادیں اور کھیتی اور نسل کو تباہ کریں اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا

وَاِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْھَا وَیُھْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ط وَاللّٰہُ لَایُحِبُّ الْفَسَادَ ۔ (اور جب وہ تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں ‘ ان کی ساری بھاگ دوڑ اس لیے ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچادیں اور کھیتی اور نسل کو تباہ کریں اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا) (205) تَوَلّٰی کا مفہوم تَوَلّٰیکے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ والی بننا اور پیٹھ پھیرنا۔ قاضی بیضاوی ( رح) نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا اَدْبَرَ وَانْصَرَفَ عَنْکَ وَ قِیْلَ اِذَا غَلَبَ وَ صَارَ وَالِـیًا قاضی صاحب نے دونوں معنی مراد لیے ہیں۔ یہاں بھی دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ تو پھر اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ منافقین کی خصلت یہ ہے کہ وہ بظاہر کتنا بھی اسلام اور پیغمبر کے ساتھ مخلص ہونے کا دعوی کریں اور دوسروں سے بڑھ چڑھ کر اپنی فدائیت کا یقین دلائیں لیکن حقیقت میں جب بھی انھیں کہیں اقتدار ملے گا یا کسی بھی دائرے میں غلبہ نصیب ہوگا تو وہ اسلام کے ساتھ اپنے تعلق کے دعوؤں کو بالکل بھول جائیں گے اور وہ وہی روش اختیار کریں گے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی اپنی طاقت کو اللہ کے دین کی سربلندی اور خلق خدا کی خدمت میں صرف کرنے کی بجائے ان کے پیش نظر صرف یہ ہوگا کہ وہ اپنے طاقت کے اظہار سے اپنی طاقت کا بھرم قائم کریں۔ انھیں اس کے لیے کوئی ایکشن کرنا پڑے ‘ کھیتیاں تباہ کرنی پڑیں ‘ قتل عام کرنا پڑے وہ کبھی اس سے دریغ نہیں کریں گے۔ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اسلام سے جن کا تعلق محض زبانی حد تک ہے اور ان کے دل و دماغ میں اسلامی حمیت کا کوئی اثر نہیں تو انھیں اپنے اقتدار کو بچانے اور اپنی طاقت کا رعب بٹھانے کے لیے جو بھی کرنا پڑتا ہے وہ کر رہے ہیں۔ انھیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے ہاتھوں سے مسلمان مر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی روایات تباہ ہو رہی ہیں، مسلمانوں کی تاریخ اندھیروں میں ڈوب رہی ہے۔ انھیں صرف اپنی اقتدار کی فکر ہے۔ اس کی خاطر اللہ کی بندگی کے مقابلے میں جس کی بھی بندگی کرنا پڑے اور جیسا بھی ظلم توڑنا پڑے ‘ انھیں اس سے دریغ نہیں۔ وہ بھول گئے ہیں کہ کسی مسلمان کا ناحق قتل قیامت کے دن کتنے بڑے عذاب کا باعث بنے گا۔ فساد فی الارض کا مفہوم آنحضرت ﷺ کے زمانے میں چونکہ منافقین کے پاس کوئی اختیار اور اقتدار نہیں تھا اور اس آیت میں براہ راست انہی کا تذکرہ ہے اگرچہ انہی کے تذکرہ تک یہ آیت محدود نہیں۔ بہرحال ان کے حوالے سے یہاں جو کچھ فرمایا گیا ہے ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ منافقین دو طرح کے اعمال کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب بھی انھیں موقع ملتا ہے ‘ وہ مدینہ منورہ ‘ مکہ معظمہ یا پورے جزیرہ عرب میں کہیں نہ کہیں فساد کی آگ مچائے رکھتے ہیں۔ درپردہ مسلمانوں کی کھیتیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کا بس چلے تو مسلمانوں کے قتل سے بھی نہیں چوکتے۔ مفسرین نے اخنس بن شریق جیسے لوگوں کا تذکرہ کیا ہے ‘ جو درپردہ اسی طرح کی حرکتوں کا ارتکاب کرتے رہتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے سامنے اپنے ایمان اور اخلاص کا ثبوت دینے کے لیے زبان وبیان کی ساری توانائیوں کو صرف کردیتے۔ لیکن حضور کے سامنے سے ہٹتے ہی جہاں کہیں انہیں اپنی حرکات شنیعہ کے ارتکاب کا موقع ملتا تھا تو وہ اس میں دریغ نہیں کرتے تھے۔ بعض اہل علم نے اس کا ایک اور مفہوم بیان کیا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو دعوت لے کر آئے ہیں اس کا حاصل صرف یہ ہے کہ زمین پر اللہ کے سوا کسی اور کی غیر مشروط اطاعت نہ کی جائے۔ اس کی زمین پر اسی کے دین کا غلبہ ہو۔ اسی کے نام کا چرچا ہو اور زندگی کے تمام اداروں میں اسی کا دین حاکم ہو۔ اگر اس دعوت کو قبول کرلیا جاتا ہے تو زمین سے ہر طرح کا فساد اور ہر طرح کی انارکی ختم ہوجاتی ہے۔ کھیتیاں محفوظ ہوجاتی ہیں ‘ نسلیں مامون ہوجاتی ہیں۔ پوری کائنات کو دیکھئے۔ ہمیں کہیں بھی کوئی ظلم کوئی خرابی اور کوئی افراتفری نظر نہیں آتی۔ ہر ستارہ ہر سیارہ اور ہر کرہ اللہ کے قانون کی اطاعت میں بندھا ہوا ہے۔ اس اطاعت کاملہ کے باعث ایک مکمل امن دکھائی دیتا ہے۔ تمام مخلوقات میں کسی مخلوق کو کسی سے کوئی شکایت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں امن کی ضمانت صرف اللہ کی اطاعت کاملہ ہے۔ زمین پر رہنے والوں کو چونکہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت بھی کرسکتے ہیں اور نافرمانی بھی۔ اگر یہ اطاعت کرکے باقی کائنات کے ہم سفر ہوجائیں تو زمین بھی ہر طرح کے فساد سے محفوظ ہوجائے۔ لیکن جب یہ اللہ کی اطاعت کی بجائے غیر اللہ کی اطاعت میں حق تلفی اور حق شکنی کا ارتکاب کرتے ہیں تو وہیں سے فساد کا آغاز ہوجاتا ہے۔ پوری کائنات کا سفر اللہ کی اطاعت میں اس کی خوشنودی کی طرف رواں دواں ہے۔ لیکن جب انسان الٹی طرف سے چلنا شروع کرتا ہے تو چونکہ کائنات کا سفر یکطرفہ ہے جس کے مقابل کی طرف سے آنے کا کوئی جواز نہیں۔ تو یہیں سے تصادم کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ منافقین کی ساری کوشش یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ دنیا میں امن قائم کرنے اور فساد سے بچانے کی جو دعوت لے کر آئے ہیں اور جو اللہ کی غیر مشروط اطاعت پر مشتمل ہے ‘ اسے ناکام کردیا جائے۔ چناچہ وہ آنحضرت ﷺ کے سامنے تو سرتاپا اطاعت بنے رہتے ہیں لیکن وہاں سے ہٹتے ہی اطاعت کی اس دعوت کو ناکام کرنے کے لیے لگ جاتے ہیں جس کا نتیجہ فساد اور حرث ونسل کی تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ چناچہ یہاں منافقین کے حوالے سے جو کہا جارہا ہے وہ اگرچہ بعض معاملات میں حقیقت بھی ہے لیکن مجموعی طور پر جو کچھ وہ کر رہے ہیں ‘ اس کے نتیجے کو حقیقت کی شکل میں بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ تم بالفعل بیشک قتل و نہب کا ارتکاب نہ کرو لیکن جو کچھ کر رہے ہو اس کے نتیجہ میں یہی کچھ ہو کے رہے گا اور تمہیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ اللہ نے زمین بنائی اور بسائی ہے وہ کبھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی بسائی ہوئی زمین میں فساد مچایا جائے۔ اسی لیے وقتاً فوقتاً وہ اس کی اصلاح کے لیے پیغمبر بھیجتا رہتا ہے۔ اب جو شخص اس کی اصلاح کی دعوت اور اسکیم کو ناکام کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اصلاً فساد کا باعث بنتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ کبھی پسند نہیں فرماتا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ان سے نفرت کرتا ہے۔ یقینا ایک دن ایسا آئے گا جب وہ انھیں ان کے کیے کی سزا دے گا۔ یہ آیت ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ مہیا کرتی ہے کہ اگر اللہ کے دین کا غلبہ اللہ اور اس کے رسول کا محبوب اور مقصود ہے اور یہی انسانوں کے امن و عافیت کا باعث بھی ہے اور مزید یہ کہ اس غلبے کو ناکام کرنا اور اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا بدترین منافقت ہے ‘ جس کی پروردگار ضرور سزا دیتا ہے۔ تو پھر ہمارا رویہ کیا ہے۔ ہمیں اللہ نے ملک دیا ہے اور ہم نے اس سے وعدہ کیا کہ ہم اس ملک میں تیرے دین کو نافذ کریں گے۔ یہاں کا آئین اسلامی شریعت ہوگا۔ لیکن ہم نے نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ ان قوتوں کی کردارکشی اور انھیں ادھیڑنے کھدیڑنے میں صرف کیا جن کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ بار بار حکومت سے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہم نے اس نصف صدی میں صرف یہ کوشش کی ہے کہ اپنے تعلیمی اداروں ‘ پرنٹ میڈیاز اور الیکٹرانک میڈیاز کے ذریعے اسلام کے نفاذ کا تصور دلوں سے نکال دیں۔ بلکہ آہستہ آہستہ اسلامی حمیت سے دماغوں کو اتنا بیگانہ کردیں کہ اس ملک میں اسلام کے خلاف جو کچھ بھی ہوتا رہے ‘ لوگوں کو کبھی اس کے خلاف شکایت نہ ہو۔ چناچہ ہم ان کوششوں میں یقینا کامیاب رہے ہیں۔ ہمارا ٹیوی اور ہمارا کیبل سسٹم شب وروز زہر اگل رہے ہیں۔ ہمارے چوراہوں پر لگے ہوئے بڑے بڑے بورڈز اور بڑی بڑی ہورڈنگز پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ اس ملک میں شرم وحیا کا جنازہ نکل گیا ہے اور یہاں کے بسنے والوں کا شرم وحیا سے کوئی رشتہ نہیں۔ ہماری اس منافقانہ روش نے ہمیں ایک دورا ہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ ہم عوام کی خاطر اسلام کا نام لینے پر مجبور ہیں لیکن اپنی منافقت ‘ اپنے مفادات اور بیرونی دباؤ کے باعث اس نام کو تعبیر دینے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار نہیں اور یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ہم نے پاکستان شاید صرف نام بدلنے کے لیے بنایا تھا ہمیں ہندوستان اچھا نہیں لگتا تھا۔ ہم نے اپنے علاقے کا نام پاکستان رکھ دیا۔ اگر صرف نام بدلنے سے کوئی کام ہوسکتا تو یقینا یہاں بھی ہر چیز درست ہوجاتی لیکن نام بدلنے سے تو کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں تو یہاں ہر غیر اسلامی چیز کو ختم کرکے اور ہر غیر اسلامی قانون کو بدل کر اللہ کے قانون کو نافذ کرنا تھا۔ کسی شاعر نے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے ٹھیک کہا تھا : ؎ ہم بدلنا چاہتے تھے نظم میخانہ تمام آپ نے بدلا ہے لیکن ایک میخانے کا نام یہ صورت حال ہمارے لیے لمحہ فکریہ مہیا کرتی ہے کاش ہم اس پر غور کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔
Ayah 2:206

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 2:206 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو ‘ تو گھمنڈ اور تکبر ان کو پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے ‘ سو ایسے کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے

وَاِذَا قِیْلَ لَـہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْـہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُـہٗ جَھَنَّمَ ط وَلَبِئْسَ الْمِھَادُ ۔ ( اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو ‘ تو گھمنڈ اور تکبر ان کو پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے ‘ سو ایسے کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے) (206) تکبر، ہدایت کے راستے کی رکاوٹ منافقین کی ایک اور بری خصلت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ جب کبھی ان کے کرتوتوں کی طرف انھیں متوجہ کرکے اللہ سے ڈرنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ تم مسلمان ہو ‘ تم نے اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی فرمانبرداری کا عہد کر رکھا ہے لیکن تمہارا ایک ایک فیصلہ اور ایک ایک عمل اللہ کے احکام کا منہ چڑاتا ہے۔ تمہیں ذرا احساس نہیں ہے کہ کل کو اللہ کے سامنے جا کر کیا جواب دو گے۔ تو بجائے اس کے کہ اس بات پر منافقین اپنے طرز عمل پر غور کریں ‘ ان کی گردنیں اور اکڑ جاتی ہیں اور ان کا تکبر ‘ ان کا گھمنڈ ‘ ان کا مرتبہ ومقام یا ان کا عہدہ ومنصب انھیں پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ تم اتنا بڑا مقام حاصل کرچکے ہو۔ اب کیا تم ہر چیز کو چھوڑ کر غریب مسلمانوں میں شامل ہوجاؤگے۔ انہیں دنیوی مفادات ‘ اخروی مفادات کے حوالے سے سوچنے پر آمادہ نہیں ہونے دیتے۔ چونکہ انھیں آخرت کا یقین نہیں ‘ اس لیے وہ کسی طرح بھی اپنے دنیوی مفادات کو نقصان پہنچانا گوارا نہیں کرتے اور مزید یہ کہ چونکہ وہ اپنے سیرت و کردار میں کوئی توانائی نہیں رکھتے اور اندر سے بالکل کھوکھلے ہیں ‘ انھیں باہر کا بھرم اور اندر کی بےاعتمادی اپنی حالت پر غور کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ہم نے ذرا بھی لچک دکھائی تو ہمارا سب کچھ ختم ہو کر رہ جائے گا۔ قرآن کریم نے متعدد جگہ ان کی اس کمزوری کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة منافقون میں ارشاد فرمایا گیا : وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعْالَوْا یَسْتَغْفِرْلَـکُْمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَوَّوا رَؤُوْسَہُمْ وَ رَاَیْتَہُمْ یَصُدُّوْنَ وَھُمْ مُسْتَـکْبِرُوْنَ سَوَآئٌ عَلَیْہِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَہُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ لَنْ یَّغْفِرُاللّٰہَ لَہُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آکر توبہ کرو ‘ اللہ کا رسول بھی تمہارے لیے خدا سے مغفرت مانگے گا تو وہ اپنی گردن موڑ لیتے ہیں اور تم ان کو دیکھوگے کہ وہ استکبار کے ساتھ اعراض کرتے ہیں ‘ ان کے لیے یکساں ہے ‘ تم ان کے لیے مغفرت مانگو یا نہ مانگو اللہ ان کو معاف کرنے والا نہیں ہے ‘ اللہ بدعہدوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔ “ آخر میں فرمایا فحسبہ جہنم پس ان کے لیے جہنم کافی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے کرتوت تو ہر وقت عذاب کا تقاضا کرتے ہیں اور یہ اس قابل نہیں رہے کہ انھیں زمین پر زندہ چھوڑا جائے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ ان کی سنگین شرارتوں کے باوجود وہ انہیں ڈھیل دیتا ہے۔ لیکن انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ڈھیل ان کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے بلکہ یہ صرف اس لیے دی جاتی ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے آگے جو جہنم تیار ہے وہ ساری کسر پوری کردینے والی ہے۔ اس کی ہولناکی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ و لبئس المہاد۔ وہ بہت ہی براٹھکانہ ہے ‘ انھیں قیامت کے بعد ایسے برے ٹھکانے سے واسطہ پڑنے والا ہے ‘ ان کے لیے اس دنیا میں کسی عذاب کی کیا ضرورت ہے۔
Ayahs 2:207–208

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 2:207 in the Quran reader

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضاجوئی کے لیے اپنے آپ کو بیچ دیتے ہیں ‘ اور اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:208 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ کی اطاعت میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ‘ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَـآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌ م بِالْعِبَادِ ۔ ( اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضاجوئی کے لیے اپنے آپ کو بیچ دیتے ہیں ‘ اور اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے) (207) اسلامی قافلے کا اصل اثاثہ منافقین کی اس مایوس کن اور حوصلہ شکن تصویر کشی کے بعد پروردگار اس آیت کریمہ میں ایک اور تصویر دکھا رہے ہیں۔ اس تصویر دکھانے سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے گردوپیش میں ایسے ہی کم ظرف اور تھڑدلے لوگ موجود ہیں جن پر کسی طرح بھی اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ انھیں دکھایا جارہا ہے کہ تمہارے اندر ایسے لوگ بھی موجود ہیں ‘ جنھوں نے اپنا سب کچھ اللہ کی رضاجوئی کے لیے قربان کرنے کا عزم کر رکھا ہے ‘ جن کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضاجوئی کے سوا اور کچھ نہیں۔ وہ اللہ ہی کے لیے جینا اور اللہ ہی کے لیے مرناپسند کرتے ہیں۔ تم اپنے آپ کو تنہا مت سمجھو۔ تم ایک ایسے قافلے کے فرد ہو جس میں اگر کہیں کہیں منافقت کے داغ دکھائی دیتے ہیں تو وہیں ایک قطعی اکثریت ان مخلص مسلمانوں کی ہے جن کے پیش نظر اسلام کی سربلندی کے سوا اور کچھ نہیں۔ وہ اپنا تن من دھن اللہ کی راہ میں لٹانے کا عہد کرچکے ہیں۔ جب بھی کبھی حالات نے ان کو پکارا ہے ‘ انھوں نے آگے بڑھ کر کھرا سونا ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ مال کی ضرورت پڑی ہے تو انھوں نے بڑھ چڑھ کر ایثار کرنے سے تأمل نہیں کیا۔ جان دینے کا وقت آیا ہے تو انھوں نے گردن کٹوانے سے دریغ نہیں کیا۔ ہجرت کا حکم آیا تو انھیں وطن چھوڑنے میں ذرا پس وپیش نہیں ہوا۔ بدر اور احد کے میدان میں اپنے خونی رشتوں کے خلاف تلوار نکالنے میں انھیں تأمل نہ ہوا۔ اللہ کے رشتے کے سامنے وہ اپنا ہر رشتہ کاٹ چکے ہیں اور اسلام کے مفاد کے مقابلے میں ہر مفاد کو شکست دے چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کا اثاثہ ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں کہ قیامت تک ان کے اعمال کی روشنی تاریخ کو روشن رکھے گی۔ اور آج تک مسلمان انہی کے حوصلوں سے گرمی محسوس کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی امرواقعہ ہے کہ مقدس لوگوں کا کوئی گروہ بھی ہر چھوٹی بڑی غلطی سے یکسر مبرا نہیں ہوسکتا۔ معصوم صرف اللہ کے نبی ہوتے ہیں۔ بالخصوص وہ مسلمان جو ابھی نئے نئے آنحضرت ﷺ کی تربیت میں آئے ہیں ‘ ان کے حوصلوں اور عزائم میں تو کوئی کمی نہیں ‘ ان کے اخلاص میں بھی کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن کبھی نہ کبھی کسی غلطی کا صدور یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌم بِالْعِبَادِِ ” اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ “ صحابہ اپنی ہمت سے بڑھ کر اخلاص کا ثبوت دے چکے ہیں اور انھوں نے اپنا سب کچھ اس کی جنت کے عوض میں بیچ دیا ہے لیکن یہ عہد اتنا کٹھن ہے کہ کبھی نہ کبھی اس کے تقاضوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بھول چوک ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ ایسی بھول چوک پر بھی تمہارا مؤاخذہ کرے وہ تو بہت مہربان ہے۔ اس نے لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی کے لیے بہت سے دروازے کھلے رکھے ہیں ‘ جس سے وہ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ نوازتا رہتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اصحاب رسول ﷺ کے حوالے سے بیع وشراء کے جس عہد کا ذکر فرمایا گیا ہے ‘ حقیقت یہ ہے یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ان الفاظ کے پیچھے ایک ایک صحابی کا زندہ عمل اور فدائیت اور ایثار کا بیش بہا نمونہ موجود ہے۔ جس طرح ہر مرحلے پر صحابہ نے ایثار و قربانی کی تاریخ رقم کی ہے۔ دنیا ہزار کوشش کے باوجود اس کا ادنیٰ سے ادنیٰ نمونہ دکھانے سے بھی قاصر ہے۔ کوئی بھی مشکل مرحلہ آتا تو صحابہ کی زبان پر ایک ہی جملہ رقصاں ہوتا تھا۔ رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّ بِالاِْسْلَامِ دِیْنًا وَّ بِمُحَمَّدِ نَبِیًّا ” میں نے اللہ کو اپنی پسند سے رب مانا ہے اور اسلام کو بطور دین اختیار کیا ہے اور محمد ﷺ کو نبی تسلیم کیا ہے۔ “ ان میں سے ہر عقیدے کے پیچھے میرے دل کی آمادگی اور میرے جذبات کی فراوانی شامل ہے۔ میں جب تک زندہ ہوں تو اسی کی خاطر زندہ ہوں اور جب میں مروں گا تو میری اللہ سے دعا ہے کہ میری موت بھی اسی راستے میں آئے۔ میری تمنا یہ ہے : میں تو کیا میرا سارا مال و منال میرا گھر بار میرے اہل و عیال میرے ان ولولوں کا جاہ و جلال میری عمر رواں کے ماہ و سال میرا سب کچھ میرے خدا کا ہے یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّـۃً ص وَلَاتَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط اِنَّـہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ ( اے ایمان والو اللہ کی اطاعت میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ‘ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے) (208) سِلْم کا مفہوم سِلْم اور سَلْم دونوں قرأ تیں ہیں دونوں کا معنی سرتسلیم خم کرنا اور غیرمشروط اطاعت کرنا ہے۔ بعض اہل علم نے اس کا معنی اسلام کیا ہے۔ دونوں معنوں میں کوئی تضاد نہیں ‘ محض ظاہر کا فرق ہے۔ کیونکہ اسلام کی اصل حقیقت بھی اللہ اور رسول کی اطاعت ہی ہے۔ کَآفَّـۃً کا معنی جمیعاً ہے۔ اسے جماعت کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ حال ہے اس کا ذوالحال ادْخُلُوْا میں ضمیر مستتر ‘ انتم بھی ہوسکتی ہے اور السلم بھی ہوسکتا ہے۔ منافقین کو مخلصانہ اطاعت کی دعوت یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا کا خطاب اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے عام ہے لیکن سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ روئے سخن ان منافقین کی طرف ہے جن کا ذکر سابقہ آیات میں گزرا ہے۔ ان سے یہ کہا جارہا ہے کہ تمہاری منافقت کا اصل سبب یہ ہے کہ تمہاری اطاعت کا اصل رشتہ صرف اللہ سے نہیں بلکہ تم نے اس اطاعت کو مختلف آستانوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ تم اللہ سے اطاعت کا دم بھی بھرتے ہو لیکن ساتھ ساتھ اسلام کے مخالفین سے بھی تمہارے اطاعت کے رشتے قائم ہیں۔ اسلام کے آنے سے پہلے اوس و خزرج کے لوگ بھی اور مدینہ کے گردونواح میں رہنے والے قبائل بھی یہود سے حلیفانہ تعلق رکھتے تھے اور جن کا تعلق حلیفانہ سطح تک نہیں پہنچا تھا ‘ وہ بھی مختلف کاروباری رشتوں میں منسلک تھے۔ جب اسلام آیا تو ایمان لانے والوں میں اکثریت تو مخلص مسلمانوں کی تھی لیکن کچھ لوگ عبداللہ اور ان کے ساتھیوں جیسے ایسے ضرور موجود رہے جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن یہود سے تعلقات سے دستبردار بھی نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ بعض دفعہ مسلمانوں کی خبریں انہیں پہنچاتے تھے اور ان کی مفادات کی نگرانی کرتے تھے۔ مدینہ کے اطراف و جوانب میں رہنے والے قبائل کے بعض لوگوں کا حال ان سے بھی بدتر تھا۔ وہ آکر اسلام کا اظہار کرتے تھے لیکن درپردہ یہود سے اخلاص کا رشتہ رکھتے تھے۔ چناچہ ایسے ہی لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سورة محمد میں ارشاد فرمایا گیا ہے : ذٰالِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لِلّٰذِیْنَ کِرِھُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِوَاللّٰہُ یَعْلَمُ اَسْرَارَھُمْ ۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ منافقین نے ان لوگوں سے جنھوں نے اللہ کی اتاری ہوئی چیز کا برا منایا ‘ یہ کہا کہ ہم بعض معاملات میں آپ ہی لوگوں کی اطاعت کریں گے۔ اللہ ان کی اس رازداری کو خوب جانتا ہے۔ یہاں لِلّٰذِیْنَ کِرِھُوْاسے اشارہ یہود اور مشرکین کے لیڈروں ہی کی طرف ہوسکتا ہے۔ سورة نساء میں ان کی اس منافقانہ روش کو پوری طرح نمایاں کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا : الم تر الی الذین یزعمون انہم اٰمنوا بما انزل الیک و ما انزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت و قد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطان ان یضلہم ضلالاً بعیداً ۔ و اذا قیل لہم تعالوا الی ما انزل اللہ و الی الرسول رأیت المنافقین یصدون عنک صدوداً ۔ ( ذرا ان لوگوں کو دیکھو جو مدعی ہیں ‘ کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو تم پر اتری ہے اور اس چیز پر بھی جو تم سے پہلے اتری ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ اپنے معاملات فیصلہ کے لیے طاغوت کے پاس لے جائیں ‘ حالانکہ ان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس کا انکار کریں۔ شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بڑی ہی دور کی گمراہی میں پھینک دے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی طرف آؤ جو اللہ نے اتاری ہے اور رسول کی طرف تو تم ان منافقین کو دیکھتے ہو کہ وہ طرح طرح سے گریز کی راہیں اختیار کرتے ہیں) طاغوت سے مراد یہاں طاغوت سے مراد یہود کی عدالتیں ہیں۔ یہود نے اپنی کتاب میں ترمیم و تحریف کے ذریعے بہت سے احکام اپنی خواہشات کے مطابق کردیے تھے اور مزید یہ کہ ان کی عدالتوں میں ہماری عدالتوں کی طرح رشوت کا کاروبار چلتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہیے کہ وہاں انصاف بکتا تھا۔ اس لیے جب کبھی ایسے لوگوں کو کوئی معاملہ پیش آتا جس کے لیے عدالت میں جانے کی ضرورت ہوتی ‘ تو وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود آنحضرت ﷺ کی عدالت میں آنے کی بجائے یہود کی عدالت کا رخ کرتے تھے تاکہ وہ رشوت کے ذریعے یا ان کے قانون کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ کرانے میں کامیاب ہوجائیں اور جب ان سے یہ کہا جاتا کہ تم ایمان واسلام کا دعویٰ کرنے کے باوجود یہود کی عدالتوں میں کیوں جاتے ہو۔ کیا تمہارا ایمان تمہیں اس کی اجازت دیتا ہے تو مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے روش کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔ وفاداری کی یہ تقسیم جس نے منافقین کو دو کشتیوں کا سوار بنادیا تھا۔ اس آیت کریمہ میں اسی بات سے روکا جارہا ہے کہ تم اگر واقعی مومن ہو اور تمہاری اسلام سے وابستگی کا دعویٰ سچا ہے تو پھر تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ۔ کَـآفَّـۃً کا مفہوم میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ کَآفَّـۃًحال ہے اور اس کا ذوالحال ادْخُلُوْا کی ضمیر خطاب بھی ہوسکتی ہے اور السلمبھی ہوسکتا ہے۔ اگر اسے ادْخُلُوْاکی ضمیر سے حال مانیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم مکمل طور پر اسلام میں داخل ہوجاؤ۔ تمہارا کوئی رشتہ بھی اسلام کے سوا کسی اور سے نہیں ہونا چاہیے۔ تم جس طرح ایک مسلمان کی حیثیت سے نماز پڑھتے ہو اور تمہارا جسم اللہ کے سامنے جھکتا ہے ‘ اسی طرح تمہارے دل و دماغ کی قوتوں کو بھی اللہ کے سامنے جھکنا چاہیے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ تم نماز تو اللہ کے لیے پڑھو لیکن تمہارا دماغ اس کے دیے ہوئے شرعی احکام سے مطمئن نہ ہو۔ کبھی تمہیں اسلامی تہذیب پر اعتراض ہو کبھی اسلامی تمدن پر کبھی اسلامی ثقافت پر ‘ کبھی اس کے دیے ہوئے آئین پر ‘ کبھی اس کی قانونی دفعات پر۔ مختصر یہ کہ تمہارے جسم کے ایک ایک عضو کے ساتھ ساتھ تمہارے دل و دماغ کی ایک ایک صلاحیت اور ایک ایک احساس اسلام سے وابستہ ہونا چاہیے۔ تم ایک مسلمان کی طرح زندگی گزارو اور ایک مسلمان کی طرح سوچو۔ اور اگر ہم کَآفَّـۃً کو السلم سے حال بنائیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح تمہاری پوری شخصیت کو اسلام کی تصویر بننا چاہیے۔ اسی طرح مکمل اسلام کو تمہارا عقیدہ اور تمہارے عمل کی روح بننا چاہیے۔ تم یہ نہیں کہ سکتے کہ میں اسلام کے نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ اور حج کو تو مانتا ہوں لیکن اس کی معاشرت ‘ اس کی معیشت ‘ اس کی تہذیب ‘ اس کی سیاست ‘ اس کے آئین اور اس کے طرز حکومت کو نہیں مانتا۔ ان چیزوں کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں۔ اسلام چند عقائد اور چند عبادات کی رسموں کا نام ہے۔ مولویوں نے بلاوجہ اسے ایک مکمل نظام بنادیا ہے۔ اس میں فوجداری ‘ مالیاتی اور عائلی قوانین کا کوئی تصور نہیں۔ ہمارے ملک کے ایک مشہور ماہر قانون گزرے ہیں جن کا تعلق سندھ سے تھا اور وہ وزیر قانون بھی رہے۔ وہ عالمی شہرت کے قانون دان ہونے کے باوجود ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ اسلام میں کوئی نظام نہیں اور نہ اس کا اپنا کوئی آئین ہے۔ تفہیم القرآن مکمل ہونے پر جو تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں انھوں نے خود تسلیم کیا کہ میں اسلام کو ایک نظام زندگی ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھا لیکن اتفاق یہ ہوا کہ اس سلسلے میں مولانا مودودی مرحوم سے میری مراسلت ہوئی۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ قرآن کریم سے میری بیخبر ی ہے ‘ جس کی وجہ سے میں اتنی بڑی گمراہی کا شکار تھا۔ قدرت اللہ شہاب صاحب کی وفات پر غالباً مدیر تکبیر جناب صلاح الدین مرحوم کا ایک مضمون چھپا تھا ‘ جس میں انھوں نے اسلام آباد میں شہاب صاحب سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا۔ جس میں جناب نعیم صدیقی صاحب مرحوم بھی موجود تھے ‘ اس میں شہاب صاحب نے تسلیم کیا کہ ہم لوگ تو ساری عمر فائلوں کی ورق گردانی میں لگے رہتے ہیں۔ کبھی اسلام کا گہرا مطالعہ نہیں کیا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اپنے طور پر اسلام کے بارے میں ایک رائے قائم کرلیتے ہیں پھر اس پر جمے رہتے ہیں۔ انھوں نے صلاح الدین صاحب سے کہا کہ اگر میں آپ کا مضمون نہ پڑھتا جو آپ نے مولانا مودودی ( رح) پر لکھا اور میرے بعض خیالات پر تنقید کی تو میں ہمیشہ یہی سمجھتا رہتا کہ واقعی اسلام نے ہمیں کوئی نظام نہیں دیا۔ اس کے بعد میں نے خود قرآن حکیم کا مطالعہ شروع کیا تو مجھے یقین آیا کہ میں واقعی غلطی پر ہوں۔ یہ میں نے آپ کے سامنے دو صالح دانشوروں کے واقعات ذکر کیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں کا اصل مسئلہ کیا ہے اور کس طرح ان کی وفاداریاں مختلف حصوں میں بٹی ہوئی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ عہد نبوت کے منافقین تو اپنی منقسم وفاداریوں کے باعث منافق کہلائے لیکن آج کے مسلمان کو نہ جانے کیا نام دیا جائے کہ اس نے اپنی شخصیت کو بھی مختلف حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے اور اسلام کا بھی ایک من پسند سیٹ اپ یا قالب تیار کر رکھا ہے ‘ جس میں وہ قرآن وسنت کی وضاحتوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کی مثال اس شخص کی ہے جس نے ایک مصور سے اپنے بازو پر شیر کی تصویر گودنے کے لیے کہا تھا۔ مصور نے جب بازو سے م اس نکال کر رنگ بھرنے کا آغاز کیا تو اس نے پوچھا کہ کیا بنا رہے ہو۔ کہا دم بنا رہا ہوں۔ کہنے لگا دم بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ کون سا سچ مچ کا شیر ہے۔ پھر اس نے سوئی چبھوئی۔ تکلیف ہوئی۔ پوچھا اب کیا بنا رہے ہو۔ کہا ٹانگیں بنانے لگا ہوں۔ کہنے لگا کہ یہ کوئی سچ مچ کا شیر ہے جو کہیں بھاگ کر جائے گا۔ غرضیکہ وہ جس عضوکو بنانے کے لیے سوئی چبھوتا ‘ تصویر بنوانے والا تکلیف کی شدت کی وجہ سے اسے روک دیتا۔ مصور نے تنگ آکر پرکار زمین پر رکھ دی اور کہا اللہ نے تو ایسا شیر پیدا نہیں کیا۔ جس کا کوئی عضو نہ ہو اور وہ پھر بھی شیر ہو۔ ہمارا آج کے دانشور ‘ سیاست دان اور حکمران ایسے ہی اسلام کی تصویر چاہتے ہیں۔ جس میں سوائے چند رسوم کی پابندی کے اور کچھ بھی نہ ہو اور باقی ان کی پوری زندگی پر غیر اللہ کی حکومت ہو۔ جس طرح عہدنبوت کا منافق اپنی منقسم وفاداری کے باعث اللہ کے یہاں قابل قبول نہیں تھا اور اسے حکم دیا گیا تھا کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ۔ آج کے مسلمان کو بھی حکم دیا جارہا ہے کہ اللہ کی وفاداری کو تقسیم کرنا ‘ اس کے اسلام میں غیراسلام کو داخل کرنا یہ شرک ہے ‘ جسے پروردگار کبھی برداشت نہیں کرتا۔ باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول اسلام مکمل نظام حیات ہے اسلام جس طرح اپنے عقائد رکھتا ہے۔ اسی طرح اپنا ایک نظام زندگی بھی رکھتا ہے۔ توحید ‘ رسالت اور آخرت اس کے عطاکردہ عقائد ہیں۔ ان میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح اس کی معاشرت ‘ معیشت ‘ اخلاق ‘ معاملات ‘ سیاست ‘ آئین اور آداب زندگی میں بھی کوئی تبدیلی اور قلم کاری قابل برداشت نہیں۔ یہ وہ خالص راستہ ہے جس پر چلنا ایمان کا اولین تقاضا ہے۔ اس کے علاوہ جتنے راستے ہیں ‘ وہ شیطان کے راستے ہیں اور ان پر چلنا شیطان کا اتباع کرنا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ شیطان کا اتباع مت کرو۔ اور تمہیں خوب معلوم ہے کہ شیطان تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔ اس نے تمہارے باپ آدم کو جنت سے نکلوانے کی کوشش کی۔ اس نے آدم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور اللہ کے حکم سے سرتابی کی۔ اور جب اسے وہاں سے نکال دیا گیا تو اس نے چیلنج کیا کہ میں آدم کی اولاد کو اللہ کے راستے پر چلنے نہیں دوں گا۔ میں ہر طرح سے انھیں گمراہ کروں گا۔ فکری راستے سے بھی حملہ کروں گا اور تہذیبی اور تمدنی راستے سے بھی۔ تعلیم کے ذریعے سے میں ان کے تصورات بگاڑ دوں گا۔ میں ان کے سامنے آرزؤوں اور امیدوں کے ایسے جال پھیلاؤں گا جس کی وجہ سے یہ اسلام کے راستے پر ثابت قدم نہیں رہ سکیں گے۔ قرآن کریم نے اس کی ان تمام باتوں کو دہرایا تاکہ مسلمان اس کی دشمنی کو اچھی طرح سمجھ لے اور اس کی گمراہ کن کوششوں سے بچنے کی کوشش کرے۔ لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ انسان قدم قدم پر اس کا اتباع کرتا ہے اور پھر اسے گالی بھی دیتا ہے۔ وہ جن راستوں پر چلانا چاہتا ہے بڑی آمادگی سے انہی راستوں پر چلتا ہے لیکن وہ اسے احساس ہی نہیں ہونے دیتا کہ تم شیطان کے راستے پر چل رہے ہو۔
Ayah 2:209

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:209 in the Quran reader

اگر تم ان کھلی ہوئی تنبیہات کے بعد بھی جو تمہارے پاس آچکی ہیں پھسل گئے تو جان رکھو اللہ غالب اور حکمت والا ہے

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ تْـکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ اگر تم ان کھلی ہوئی تنبیہات کے بعد بھی جو تمہارے پاس آچکی ہیں پھسل گئے تو جان رکھو اللہ غالب اور حکمت والا ہے) (209) اتمام حجت کے بعد بینات سے مراد وہ تنبیہات ہیں جو قرآن کریم نے شیطان کی چالوں سے بچانے اور اس کے فتنوں سے آگاہ کرنے کے لیے جا بجا بیان فرمائی ہیں۔ تخلیق آدم اور خلافتِ آدم کے واقعہ سے لے کر پورے قرآن کریم میں یہ تفصیلات پھیلی ہوئی ہیں اور اس سے پہلے جو کتابیں نازل ہوچکی ہیں ان میں سے کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں شیطان کے حملوں سے بچنے کی تاکید نہ کی گئی ہو اور نہ بچنے کی صورت میں عذاب سے نہ ڈرایا گیا ہو اور مزید یہ کہ جابجا معذب قوموں کی تاریخ بیان کی گئی ہے جس کا ایک ایک واقعہ شیطنت کی تصویر اور اس کے نتائج کو نمایاں کرتا ہے اور پھر جن لوگوں نے شیطان کی چالوں سے بچ کر انبیائے کرام کی دعوت کو قبول کیا وہ جس طرح کامیابیوں اور اجر وثواب سے نوازے گئے اس کی تفصیل سے بھی قرآن پاک کے اوراق معمور ہیں۔ منافقین کو بالخصوص اور کمزور ایمان کے مسلمانوں کو بالعموم خطاب فرما کر اسی حقیقت کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ انسان جو ہر عقل کے باوجود زندگی کے تمام معاملات کو باحسن طریق چلانے پر قادر نہیں۔ قدم قدم پر اسے خواہشات اور جذبات سے تصادم مول لینا پڑتا ہے اور اس تصادم میں عموماً جذبات غالب آجاتے ہیں اور بعض دفعہ خواہشات کو اپنا کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی ایسا ذریعہ ہدایت ہونا چاہیے جو انسان کو صراط مستقیم پر چلنے میں مدد دے۔ اس کے سامنے حسن وقبح کے معیار کو واضح کرے۔ مکارم اخلاق کو اس کی زندگی کا حسن بنادے اور رفتہ رفتہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اللہ کی ذات اس کا مطلوب اور محبوب بن جائے۔ اللہ کے نبیوں نے انسانی خیرخواہی کے لیے ہمیشہ یہی کام کیا۔ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اور انسانی مخالفتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے محض انسان کی بھلائی کی خاطر اسے قدم قدم پر رہنمائی فراہم کی اور اس کے لیے زندگی گزارنا آسان کردیا۔ لیکن اللہ نے اس کا امتحان لینے کے لیے ساتھ ہی گمراہ کرنے والی سب سے بڑی قوت شیطان اور اس کے متبعین کو بھی موقع دیا کہ تم انسان کو بھلائی سے ہٹانے اور برائی کی طرف راغب کرنے میں آزاد ہو۔ جس طرح انبیائے کرام انسان کو صراط مستقیم کی ہدایت دیں گے ‘ تم بھی ان کے مقابلے میں انسان کو گمراہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں بروئے کار لاؤگے۔ اب یہ انسان کی آزمائش ہے کہ وہ انبیاء کے ذریعہ ہدایت کو قبول کرتا ہے یا شیطان کے نقوش قدم پر چلتا ہے۔ بینات کا مفہوم انبیائے کرام کی حقانیت کو واضح کرنے کے لیے اللہ نے انھیں معجزات عطا کیے۔ ان کی زندگی کو کمزوریوں سے محفوظ رکھا۔ ان کو معصوم پیدا فرمایا۔ جس طرح پتھروں کے ڈھیر میں ہیرا چمکتا ہے اس طرح وہ اپنی ذاتی حیثیت میں انسانی معاشرہ میں نمایاں ہوتے ہیں۔ ان کی سیرت و کردار ‘ ان کی پاکیزہ زندگی ‘ ان کی دلآویز شخصیت ‘ ان کے معاملات کا حسن پھر ان کی زبان سے ابلنے والا ہدایت و حکمت کا سرچشمہ اور پھر ساتھ ساتھ معجزات کی تائید اور حق و باطل کی کشمکش میں اللہ کی نصرت یہ وہ بنیات ہیں ‘ جن سے ان کی شخصیت اور دعوت کو مستحکم کیا جاتا ہے۔ اور لوگوں کے لیے ان کا ماننا آسان کردیا جاتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے کہ ایک طرف تو یہ تمہارے انتہائی خیرخواہ اور ہمدرد اللہ کے نبی اور ان کے بینات ہیں اور دوسری طرف شیطان کی چالیں ‘ اس کی تزویر کے پھندے ‘ اس کی برائی کی طرف دعوت اور پھر اس کی شعبدہ بازیاں یہ وہ چیزیں ہیں کہ اگر انسان عقل سے کام لے کر حقیقت کو جاننا چاہے تو اس کے لیے حقیقت کو سمجھنا کوئی دور کی بات نہیں اور مزید یہ بھی کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی تک ہر پیغمبر اور ہر مذہب نے شیطان کی دشمنی کو واضح کیا۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اگر تم ان بینات کے آجانے کے بعد بھی بار بار راہ حق سے پھسلتے ہو اور شیطان کے نقوش قدم کی طرف لپکتے ہو تو پھر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ حق تمہارے سامنے واضح ہوچکا ‘ بینات سے تمہیں پوری طرح مطمئن کردیا گیا۔ لیکن تمہاری باطل پسندی اپنی جگہ رہی اور تم نے شیطان کے نقوش قدم پر چلنا نہ چھوڑا تو پھر یاد رکھو کہ تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکوگے۔ اس کی سلطنت اپنی جگہ پر قائم رہے گی۔ اس کی بےپناہ قدرت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ البتہ تم اپنا انجام ضرور برباد کرلوگے۔ کیونکہ تمہارا واسطہ کسی کمزور اور ناتواں سے نہیں کہ تم اس کی پکڑ سے بچ نکلو۔ تمہیں سابقہ ایک عزیز ذات سے ہے۔ وہ اس قدر غالب اور توانا ہے کہ جب وہ تمہیں پکڑنا چاہے گا تو تم ہزار کوشش کے باوجود اس سے بچ نہیں سکوگے۔ البتہ وہ کمزور حکمران کی طرح پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا کیونکہ اسے اس بات کا اندیشہ نہیں کہ اگر میں نے ان مجرموں کو آج نہ پکڑا تو کل یہ میری گرفت میں نہیں آسکیں گے۔ بلکہ اس کا پکڑنے میں تاخیر کرنا یہ دراصل اس کی صفت حکمت کا اظہار ہے۔ وہ بار بار ڈھیل دیتا ہے تاکہ لوگ اگر سنبھلنا چاہیں اور اپنے انجام کو درست کرنا چاہیں تو کرلیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ پکڑے گا نہیں۔ کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ اس کے نزدیک اچھائی کرنے والے اور برائی کرنے والے سب برابر ہیں۔ اس نے جس طرح نیکی کرنے والے کو پنپنے کا موقع دیا ہے ‘ اسی طرح برائی کرنے والے کو بھی دیا ہے۔ اگر ایسا سمجھ لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ حکیم نہیں بلکہ کھلنڈرا ہے۔ یہ دنیا اس نے محض کھیل تماشے کے لیے بنائی ہے، جس کا کوئی حقیقی مقصد نہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے زمین و آسمان کھیلتے ہوئے پیدا نہیں کیے بلکہ ان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یعنی ان کا ایک سنجیدہ مقصد ہے اور انسان اس کائنات کا گل سرسبد ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو۔ اس لیے انسان کو اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے اور اس سے پہلے کہ اس عزیز ذات کی گرفت میں آجائے ‘ اسے اس کی اس ڈھیل سے فائدہ اٹھانا چاہیے ‘ جو اس نے حکیم ہونے کی وجہ سے لوگوں کو سنبھلنے کا موقع دینے کے لیے عطا کی ہے۔