Ayah 2:30وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّی جَاعِلٌ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَۃًط قَالُوْآ اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآئَ ج وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ط قَالَ اِنِّیٓ اَعْلَمُ مَالاَ تَعْلَمُوْنَ ۔
(اور یاد کرو ! جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، انھوں نے عرض کیا، کیا آپ زمین میں اس کو خلیفہ مقرر کریں گے، جو اس میں فساد مچائے اور خوں ریزیاں کرے، آپ کی حمد وثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں، فرمایا : میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے) (البقرۃ : 30)
گزشتہ رکوع میں پروردگار نے انسانوں کو اپنی بندگی کی دعوت دی اور اس کی بنیاد یہ رکھی کہ چونکہ پروردگار ہی تمہارا خالق، تمہارا مالک، تمہارا روزی رساں، تمہاری زندگی کے تمام امکانات اور ضروریات کو فراہم کرنے والا اور دنیا بھر کی نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے، اس لیے وہی تمہارا آقا اور حاکم ہے بندگی، غلامی اور پرستش اسی کو زیب دیتی ہے۔ لہٰذا اس کی بندگی میں کسی اور کو شریک مت کرو۔ رہی یہ بات کہ اس بندگی کے طور طریقے کیا ہوں ؟ اس کی حدود اور اس کے آداب کیا ہوں ؟ اس کی تفصیلات کا علم کیسے ہو ؟ اس کے لیے نبوت اور قرآن کریم پر ایمان لانے کا حکم دیا اور اس پر محکم دلائل قائم کیے۔ انسان چونکہ جواب دہی کے احساس کے بغیر ذمہ داری اور فکر مندی سے کسی کام کرنے کے لیے بہت کم تیار ہوتا ہے۔ اس لیے دلائل سے یہ بات واضح کردی گئی کہ ایک دن ایسا آئے گا جب تمہیں اپنے ایک ایک عمل کا حساب اپنے اللہ کو دینا ہوگا۔ اس دعوت کے نتیجے میں مخالفت اور مخاصمت کی صورت میں جو شدید ردعمل سامنے آیا اس نے اگر ایک طرف اس دعوت کے امکانات کو مخدوش بنادیاتو دوسری طرف ذات رسالت مآب ﷺ اور مسلمانوں کے لیے زندگی دشوار کردی۔ جب ہم اس رد عمل کے اسباب تلاش کرتے ہیں تو ان اسباب میں سب سے زیادہ دو سبب کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جزیرہ عرب میں بالخصوص اور پوری دنیا میں بالعموم اس دعوت کے مخاطبین نے محسوس کیا کہ اگر اسلام کی دعوت کو قبول کرلیا جاتا ہے اور قرآنی فکر دل و دماغ میں اتر جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں دنیا میں جو انقلاب برپا ہوگا اس میں کسی کی ذاتی عظمت، ذاتی چوہدراہٹ، دولت کی حاکمیت، سرمائے کا غرور، گروہوں کا تسلط، قبائل کی اجارہ داری اور تخت وتاج کی ہیبت کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ انسانیت کی بنیاد پر ایک نیا انسانی معاشرہ پیدا ہوگا۔ جس میں صرف اللہ کی حاکمیت ہوگی لوگ نام ونسب سے نہیں صرف اعمال سے پہچانے جائیں گے۔ عزت کا معیار انتسابات نہیں ہوں گے، صرف تقویٰ ، صلاحیت اور خدمت ہوگی۔ دوسرا سبب یہ کہ بعض قبائل اور بعض قومیں اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ ہمیں اپنے نسب اور خاندانی وجاہت کے اعتبار سے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ ہماری اس اہمیت کی وجہ سے کوئی قوم اور کوئی قبیلہ ہمارا ہمسر نہیں ہوسکتا اس لیے جب کوئی بات عزت اور سربلندی کی کسی دوسری طرف سے ان کو سنائی دیتی تھی تو وہ فوراً حسد کا شکار ہوجاتے تھے۔ خاندانی یا قومی عصبیت یا حسد کی وجہ سے وہ کسی طرح گوارا نہیں کرسکتے تھے کہ کسی اور کے لیے کوئی عزت کی بات قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ قریش بطور ایک قبیلے کے اور یہود بطور ایک قوم کے بری طرح اس مرض کا شکار تھے۔ یہود اپنی قوم کے باہر خدا کا نام سننے کے لیے تیار نہ تھے، ان کے لیے یہ بات موت کے برابر سمجھی جاتی تھی کہ ان کے سوا کسی اور خاندان یا قوم میں اللہ کی وحی اترے۔ اسی طرح قریش کے لیے اپنے کسی قبیلے کے کسی فرد یا باہر کے کسی قبیلے کے کسی شخص کے بارے میں یہ سوچا بھی نہ جاسکتا تھا کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے اور پھر نبوت کے باعث وہ باقی قبائل پر عزت اور عظمت حاصل کرلے۔
حاصل کلام یہ کہ ذاتی وجاہتوں، قومی عظمتوں اور موروثی تخت وتاج نے اسلام کی مخالفت اس لیے کی کہ اللہ کی حاکمیت ان سب کی وجاہتوں اور عظمتوں کو ختم کردینے کا باعث ہوتی۔ اور قریش اور یہود نے حسد کی بنیاد پر اسلام کو برداشت کرنے سے انکار کردیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس طرح ہم نے اپنے لیے جو عظمتیں اور عزتیں بنا رکھی ہیں، وہ سب ختم ہوجائیں گی۔ اور حسد کسی دوسرے کے لیے عزت اور عظمت کو برداشت کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ پیش نظر رکوع میں ان دونوں باتوں کا نہ صرف جواب دیا گیا ہے بلکہ تاریخی حقائق کی روشنی میں ایک آئینہ بھی دکھا دیا گیا ہے۔ جس سے اگر کوئی اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرے تو نہائت آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے۔
سب سے پہلی بات یہ واضح کی گئی ہے کہ تم نے زمین پر جو اپنے نام اور اپنے طریقوں سے ریاستیں اور حکومتیں قائم کررکھی ہیں۔ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے تجاوز ہے کیونکہ جب ہم نے پہلے انسان کو پیدا کرکے زمین پر بھیجا تھا، تو اس پر یہ بات واضح کردی تھی کہ تم نے زمین پر جاکر اللہ کی خلافت قائم کرنی ہے اپنی حکومت نہیں۔ اور جہاں تک تعلق ہے یہود اور قریش کے حاسدانہ طرز عمل کا انھیں بھی تاریخ کا یہ ورق پڑھ کر اندازہ ہوجائے گا کہ آدم قافلہ نبوت کے پہلے فرد تھے۔ ان کے ساتھ ابلیس نے حسد کیا تھا۔ حضرت آدم کے زمین پر آنے سے پہلے آسمان یا جنت میں کیا جانے والا یہ پہلا گناہ ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوا کہ آدم کو اللہ نے سرفرازی بخشی اور ابلیس کے حصے میں رسوائی اور ناکامی آئی۔ آج پھر اگر یہود اور قریش ابلیس کی تاریخ دہرا رہے ہیں تو رسول اللہ ﷺ حضرت آدم کی طرح سرفراز ہوں گے آپ کی دعوت اسلامی کامیاب ہوگی اور یہود اور ان کے طریقے پر چلنے والے ابلیس کی طرح خائب و خاسر ہوں گے۔ انہی دونوں حقائق کو پیش نظر رکوع میں حکمتوں سے بھرپور انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جس کا تذکرہ ہم قرآن کی بیان کردہ ترتیب کے ساتھ کریں گے۔
” اذ “ کا محل استعمال
سب سے پہلا لفظ ہے اذقال، عربی زبان میں جب کسی بات کا آغاز اذ سے ہوتا ہے تو وہ اصل میں اُذْکُرْکے معنی میں ہوتا ہے۔ یاد کرو، تصور میں لائو، ذہن میں تازہ کرو، یہ اس کا مفہوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو سرگزشت بیان کی جاتی ہے، یا کسی سرگزشت کا حوالہ دیا جاتا ہے تو اس میں یہ تصور دینا مقصود ہوتا ہے کہ جس سرگزشت کا حوالہ دیا جارہا ہے مخاطب اس سے پوری طرح واقف ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر یہ یقین دلانا مقصود ہوتا ہے کہ متکلم اس سرگزشت کے صحیح ہونے پر پوری طرح یقین رکھتا ہے اس لیے مخاطب کو بھی متکلم کے اعتماد پر اس سرگزشت کو تسلیم کرلینا چاہیے۔ یہاں جس سرگزشت کا بیان شروع ہورہا ہے اس میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ متکلم خود پروردگار ہے وہ تو اس سرگزشت کو نہ صرف یہ کہ پوری طرح جانتا ہے بلکہ اس سرگزشت کا خالق بھی ہے اور مخاطب اس میں آنحضرت ﷺ ہیں وہ وحی الہٰی کی ایک ایک بات پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی اس کے جتنے بالواسطہ مخاطب ہیں، ان میں سے یہود تو آسمانی کتابوں کے باعث اس سرگزشت پر یقین رکھتے ہیں۔ رہے مشرکین عرب وہ اگرچہ علمی طور پر تو ایسی باتوں سے بالکل جاہل ہیں لیکن سینہ بسینہ پھیلنے والی باتوں میں چونکہ یہ سرگزشت ایک معروف حقیقت ہے اس لیے ان کے اس سے بیخبر ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
اس سرگزشت میں جس اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا جارہا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر باقی مخلوقات کی طرح پیدا نہیں فرمایا کہ دنیا میں انھیں وجود ملے پھر وجود کی بقا، اس کی ضروریات فراہم کرنے کے لیے پوری زندگی ایک کشمکش اور مصروفیت میں گزرے اور پھر طبعی موت ان کا خاتمہ کردے۔ ان کی جبلت اور ان کے حواس ان کے رہنما ہوں بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ارادہ عقل اور شعور دے کر بھیجا ان کی زندگی کے مقاصد متعین فرمائے۔ انھیں اپنے خالق ومالک اور معبود ورب سے آگاہی بخشی اور ان پر یہ واضح کیا کہ تمہاری زندگی کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ تم نے اپنے رب کی بندگی کرنی ہے اور اپنی زندگی کے ہر گوشہ میں اور ہر مقام پر اسی کے بندہ ہونے کا ثبوت دینا ہے بلکہ مزید انھیں یہ بھی رہنمائی بخشی کہ تمہارا کام صرف ذاتی زندگی میں اللہ کی بندگی کرنا نہیں بلکہ تمہیں اللہ نے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ خلیفہ ہونے کی حیثیت سے تمہارا فرض صرف اتناہی نہیں کہ اس کی بندگی کروبل کہ یہ بھی ہے کہ اس کی ہدایت کے مطابق کام کرو۔ اور زمین پر اس کی بندگی کو نافذ کردو۔
خلیفہ سے کیا مراد ہے ؟
خلیفہ وہ ہوتا ہے جو کسی کی ملک یا مُلک میں خلیفہ بنانے والے کے تفویض کردہ اختیارات اس کے نائب کی حیثیت سے استعمال کرے۔ اس تعریف کو اگر ہم سامنے رکھیں تو چند باتیں خودبخود اس سے واضح ہوتی ہیں اور بعض اشکالات کا خودبخود جواب بھی مل جاتا ہے۔ مثلاً ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ خلیفہ اصل میں وہ ہوتا ہے جو کسی کا جانشین اور اس کی جگہ لینے والاہو۔ اس زمین پر پہلے جنات آباد تھے۔ جب انھوں نے زمین میں فساد مچایا اور سرکشی کا رویہ اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ انھیں زمین سے نکال دو اور دور دراز پہاڑوں اور بےآباد جزیروں میں دھکیل دو پھر ان کی جگہ انسان کو زمین میں بسایا گیا۔ اس لحاظ سے انسان جنات کا خلیفہ ہے۔ اس میں دو باتیں قابل توجہ ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ جو فرض کرلیا گیا ہے کہ زمین میں انسان سے پہلے جنات آباد تھے، ان کی سرکشی کے باعث ان کو زمین سے نکال دیا گیا اور ان کی جگہ انسانوں کو آباد کیا گیا اس کا ثبوت کیا ہے ؟ قرآن میں اس کا ذکر نہیں کسی صحیح حدیث سے اس کا ثبوت نہیں ملتامحض چند اشاروں اور کنایوں سے ایک حقیقت تراش لینا کوئی علمی خدمت نہیں۔ دوسری یہ بات کہ قومیں قوموں کی جگہ آباد ہوتی رہتی ہیں۔ ایک قوم دوسری کی جگہ لے لیتی ہے۔ اس لیے ایک قوم کو دوسری قوم کا اس معنی میں خلیفہ قرار دینا کہ وہ اس کی جگہ آباد ہوگئی ہے لغوی لحاظ سے غلط بھی نہیں۔ لیکن جس اہتمام کے ساتھ پروردگار آدم کے خلیفہ بنانے کی بات فرما رہے ہیں کیا اس سے یہ تاثر پید اہوسکتا ہے کہ یہ محض ایک مخلوق کا دوسری مخلوق کی جگہ آباد ہونا تھا اور پھر اس کے بعد فرشتوں کے حوالے سے جن اشتباہات کا ذکر کیا گیا ہے اور جس طرح حضرت آدم کو علم دئیے جانے کی بات کی گئی ہے کیا اس سے واقعی یہی بات سمجھ میں آتی ہے ؟ بالکل سامنے کی بات ہے اور اس میں کوئی پیچیدگی نہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور اپنی مقدس ترین مخلوق کا اسے مسجود بناکرزمین پر اس کی عظمت اور بڑائی کا اعلان کیا۔
خلیفہ کے لفظ سے ہی انسان کی خلافتِ ارضی کی حیثیت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ بعض باتیں خود اس لفظ سے پھوٹتی ہیں کہ خلیفہ مالک نہیں ہوتا بلکہ اصل مالک کا نائب ہوتا ہے۔ زمین کا مالک ایسا ہے جسے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے کسی سے مدد لینے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ کبھی غفلت، نیند یا اونگھ کا شکار نہیں ہوتا اس کی مصروفیات کبھی اپنی مملکت کی دیکھ بھال سے اسے غافل نہیں کرتیں اس کی مملکت کی وسعتیں اس کے علم اور اس کی نگاہوں سے کبھی اوجھل نہیں ہوتیں اور اس کے اختیارات میں کوئی دوسرا شرکت نہیں کرسکتا۔ زمین پر اس کے سوا کسی کی حکومت نہیں اس لیے جس مخلوق کو زمین پر خلیفہ بنایا جائے گا وہ یقینا اسی کا خلیفہ ہوگا جو زمین کا مالک اور حاکم ہے اور چونکہ زمین پر اس کی حاکمیت بلاشرکتِ غیرے ہے تو یہ بات خودبخود سمجھ میں آتی ہے کہ زمین پر نائب بننے والا جو اختیارات بھی رکھے گا وہ اس کے ذاتی نہیں ہوں گے بلکہ اصل مالک کے عطاکردہ ہوں گے۔ اس کا کام اصل مالک کے اختیارات کو زمین اور اہل زمین پر نافذ کرنا ہے اور اس طرح اپنے مالک کی منشا کو پورا کرکے اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔
اسی سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب زمین پر انسان کو خلیفہ بناکر بھیجا تو یقینا کچھ اختیارات بھی عطا فرمائے کیونکہ اختیارات کے بغیر تو ایک گھرکانظام نہیں چلایا جاسکتا چہ جائیکہ پوری زمین کا نظام چلایاجائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے کسی کا محتاج نہیں اس کی مملکت کے دور دراز علاقوں میں بھی اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن اس کے باوجود بھی اگر وہ انسان کو اختیارات دے کر زمین میں اپنا نائب بناتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کا امتحان لینا چاہتا ہے کہ تم یہ مفوضہ اختیارات اللہ کی منشا کے مطابق استعمال کرتے ہو یا اپنے مفادیا اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہو۔
انسان چونکہ زمین میں صرف اللہ ہی کا نائب ہے اور یہ زمین صرف اللہ ہی کی ملک ہے اس لیے انسان کو یہ بات کسی طرح زیب نہیں دیتی کہ وہ اللہ کی اس زمین پر کسی اور کو مالک سمجھے اور اللہ کے احکامات کی بجائے کسی اور کے احکامات نافذ کرے۔
خلافت کے تصور سے یہ بات سمجھنا بھی کوئی مشکل نہیں کہ جس پروردگار نے انسان کو اختیارات دے کر زمین پر بھیجا ہے اسی نے یقینا ان اختیارات کے استعمال کا طریقہ بھی سکھایا ہوگا اور اس کی آزادی کی حدود بھی مقرر کی ہوں گی، جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو اگر اپنی خلافت کا احساس ہو تو وہ کبھی ان حدود سے تجاوز نہیں کرسکتا اور اگر کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو خلیفہ نہیں بلکہ مالک سمجھتا ہے۔ اور وہ اس بات کو بھول گیا ہے کہ وہ مطلق العنان نہیں بلکہ خلیفہ اور نائب ہونے کی حیثیت سے اللہ کے سامنے جواب دہ ہے وہ اس کی ایک ایک بددیانتی اور ایک ایک خیانت پر مواخذہ بھی کرے گا۔
مزید اس سے یہ بات بھی اخذ کی جاسکتی ہے کہ جس طرح کوئی بھی حاکم اپنے کسی ماتحت کو کوئی ذمہ داری سونپتا ہے تو سب سے پہلے اس کی اہلیت کا جائزہ لیتا ہے یہ کسیے ممکن ہے کہ اللہ کی زمین کی خلافت ان لوگوں کو مل جائے جو اس کی اہلیت نہ رکھتے ہوں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اللہ نے زمین پر جس انسان کو سب سے پہلے خلیفہ بنا کر بھیجا وہی پہلا نبی بھی تھا۔ پھر جتنے نبی دنیا میں آئے وہی اللہ کے خلیفہ تھے اور وہ نبوت کے ساتھ ساتھ زمین پر اللہ کی خلافت کا فرض بھی انجام دیتے تھے۔ آخری خلیفہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ آپ کے بعد چونکہ نبوت ختم ہوگئی اس لیے حضور ﷺ نے خود فرمایا کہ پہلے نبی امامت وسیادت کا فرض انجام دیتے تھے اور وہی سیاستِ منزل سے لے کر سیاستِ ملک تک کے آداب سے آگاہ کرتے تھے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا بلکہ خلفاء ہوں گے جو خلیفۃ اللہ نہیں ہوں گے بلکہ خلیفۃ الرسول ہوں گے۔ ان تمام تصریحات سے یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ انسان کو اللہ نے زمین پر اپنا خلیفہ بنا کے بھیجا تھا تاکہ وہ زمین پر اپنی حکومت و ریاست کا صور نہ پھونکیں اور اپنی وجاہتوں اور عظمتوں کے جھنڈے نہ گاڑیں بلکہ اللہ کے دین کو نافذ کریں اللہ کے احکام کو غلبہ دیں اور جس طرح سے باقی پوری کائنات اللہ کی اطاعت کی وجہ سے فساد سے محفوظ اور اطمینان اور عافیت سے رواں دواں ہے اس طرح زمین بھی ہر طرح کے فساد سے محفوظ رہے اور تمام انسان نہائت خیروعافیت سے زندگی گزاریں۔
فرشتوں کے سوال کا منشاء
پروردگار نے جب فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں، تو انھوں نے محض اطمینان کے لیے یہ بات پوچھی کہ آپ زمین میں ایک ایسی مخلوق کو خلیفہ بنائیں گے جو زمین میں جاکر فساد مچائے گی اور خوں ریزی کرے گی۔ اس پر بعض لوگوں کو گمان ہوا ہے کہ فرشتے شائد مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انھیں آئندہ پیش آنے والے واقعات کی پہلے سے خبرہوجاتی ہے۔ لیکن اگر اگلی آیات پڑھ لی جائیں تو یہ غلط فہمی خودبخود دور ہوجاتی ہے۔ رہی یہ بات کہ ان کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ زمین میں انسان فساد مچائے گا۔ اگر ہماری متذکرہ بالا گزارشات پیش نظر رہیں تو بڑی آسانی سے اس بات کا جواب مل جاتا ہے۔ فرشتوں نے یہ محسوس کیا کہ پوری کائنات کو فساد سے محفوظ رکھنے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ جو اس کائنات کا حقیقی مالک اور حاکم ہے اس کائنات میں اسی کے احکام نافذ کیے جائیں کیونکہ امن صرف اس بات کا نام نہیں کہ کسی نہ کسی طرح جرائم روک دئیے جائیں بلکہ حقیقی امن کی ضمانت جس بات سے ملتی ہے وہ یہ ہے کہ جو ملک کا جائز اور اصل حکمران ہے اس کی حکومت تسلیم کی جائے۔ اس کے وضع کردہ آئین کو نافذ کیا جائے اور ملک کا نظام اس طرح چلایاجائے جس طرح اس کے حاکم حقیقی کا منشاہو۔ اور اگر اس حاکم حقیقی کے منشاکو نظرانداز کرکے اس کے آئیں سے روگردانی کرکے اور اس کے اقتدار اعلیٰ کا انکار کرکے بظاہر امن قائم کر بھی دیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ امن قائم کرنے والوں کو امن مل جائے۔ لیکن دوسرے لوگ تو اسی طرح خطرے کی زد میں رہیں گے۔ یہ تو بالکل ایسے ہے جیسے ڈاکوئوں کا کوئی گروہ کسی شہر پر قبضہ کرکے بظاہر لوگوں کے لیے امن قائم کردے اور ملکی آئین کو موقوف کردے تو کوئی بھی شخص اس میں چھپے ہوئے فساد کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ فرشتوں نے محسوس کیا کہ جس مخلوق کو خلافت دی جارہی ہے اسے یقینا اختیارات بھی دئیے جائیں گے۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ہے کہ اس مخلوق میں خواہشات بھی ہیں اور ہوس بھی، خود غرضی بھی ہے اور مفادات سے محبت بھی۔ ایک ایسی مخلوق جو اس طرح کے جذبات سے مسلح ہو اور پھر اسے اختیارات بھی دے دئیے جائیں۔ نتیجہ معلوم ہے کہ وہ اپنے مفادات کے حصول اور اپنے خواہشات کو پورا کرنے کے لیے جب اختیارات کا استعمال کرے گی تو ہر جگہ تصادم ہوگا۔ دل ٹوٹیں گے، خون بہے گا اور زمین فساد سے بھر جائے گی۔ ساتھ ہی ایک اور بات بھی فرشتوں نے عرض کی کہ نئی مخلوق کے پید اہونے سے تو صرف فساد کے اندیشوں کو ہی تقویت ملتی ہے حالانکہ اس کائنات کی اگر کوئی ضرورت ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ اللہ کے احکام کی تعمیل ہوتی رہے اس کے فرامین بجالائے جاتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی مبارک کے مطابق سارا جہاں پاک صاف رکھاجائے اور اس کی تسبیح و تقدیس ہوتی رہے، ہر جگہ اس کی حمد وثنا کے ترانے گونجیں۔ ہر زبان اس ذکر سے زمزمہ سنج رہے اور یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم خدام ادب پہلے بھی کررہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔ تو جو ہونا چاہیے وہ تو ہورہا ہے اور جو نہیں ہونا چاہیے۔ نئی مخلوق کے پیدا ہونے سے اس کے اندیشے پیدا ہورہے ہیں۔ اس لیے بصد ادب عرض ہے کہ باری تعالیٰ ہم اس نئے فیصلے کی مصلحت نہیں سمجھ سکے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر اعتراض نہیں کیا تھا اور نہ انھوں نے اپنے آپ کو خلافتِ ارضی کا زیادہ اہل ثابت کیا تھا اس لیے کہ یہ بات فرشتوں کی فطری صفات کے بالکل برعکس ہے۔ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا کیا ہے وہ اپنی روحانیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے غائت درجہ قرب واتصال رکھتے ہیں۔ اللہ کے ہر حکم کے سامنے تعمیل کے لیے جھک جاناان کی سرشت میں داخل ہے پروردگار کے کسی فیصلے کے بارے میں لیت ولعل یا شک و ارتیاب ان کی فطرت کے خلاف ہے۔ اسی طرح اللہ نے ان کے اندر کسی چیز کی ہوس نہیں رکھی وہ خودغرضی سے بالکل ناواقف ہیں۔ ایک ایسی پاکیزہ مخلوق کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ خود اپنے لیے خلافت چاہتے تھے اور پروردگار کے فیصلے پر انھیں اعتراض تھا یہ سراسر قلت فکر کا نتیجہ ہے۔ ان کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ ” جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے “۔ یعنی تم اس فیصلے کو اس لیے سمجھنے میں دشواری محسوس کررہے ہو کہ تم اس پوری سکیم سے واقف نہیں اس میں جو حکمتیں اور مصلحتیں مخفی ہیں تمہارا علم اسے ادراک نہیں کرسکتا۔ جب تمہارے سامنے یہ پوری سکیم آئے گی، تو پھر تمہیں اس کے سمجھنے میں دشواری نہیں ہوگی۔ اس لیے ایک مختصر جواب دے کر اصل حقیقت کی طرف اشارہ کرکے انھیں مطمئن کردیا۔ لیکن ان کی مزید یکسوئی اور مزید حقائق واضح کرنے کے لیے حضرت ِآدم کا پہلے انسان کی حیثیت سے ان سے اس طرح تعارف کر ایاجس سے انسان کی ان صفات کو نمایاں کیا ہے جو خلافتِ ارضی کے لیے ضروری ہیں اور جن کی وجہ سے انسان کو خلافتِ ارضی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
Ayahs 2:31–33وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآئِ ھٰٓؤُلَائِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لاَعِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیمُ الْحَکِیْمُ قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْج فَلَمَّآ اَنْبَاَھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْ لا قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَاتُبْدُوْنَ وَمَاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 31 تا 33)
(اور اس نے سکھادئیے آدم کو ساری چیزوں کے نام پھر انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا مجھے بتلائو ان چیزوں کے نام اگر تم سچے ہو۔ انھوں نے عرض کیا کہ تو پاک ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے، بیشک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ پھر اللہ نے آدم سے کہا تم انھیں ان چیزوں کے نام بتائو جب اس نے ان کو ان سب کے نام بتادئیے تو اللہ نے فرمایا، میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں اس چیز کو جس کو تم ظاہر کرتے ہو اور جس کو چھپاتے تھے)
یہاں ایک دفعہ پھر ذہن میں سابقہ بحث کا خلاصہ مستحضر کرلیجئے کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کو جو انسانوں کے جد امجد ہیں۔ خلافتِ ارضی کے منصب پر فائز کرنا چاہتا ہے اور فرشتے یہ جان کر کہ خلافت بغیر اختیارات کے نہیں ہوتی اور یہ بھی دیکھ کر کہ آدم خواہشات اور آزادانہ ارادوں کا حامل بھی ہے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ زمین میں اس کی خلافت سے خوں ریزی ہوگی اور فساد برپا ہوگا۔ انھوں نے بات کو سمجھنے کے لیے بڑے ادب سے عرض کیا کہ پروردگار تیرے بندوں اور تیری مخلوق کی جانب سے جو بات ضروری ہے وہ یہ ہے کہ تیری تسبیح و تقدیس ہوتی رہے اور تیری حمد کے ترانے گونجتے رہیں اور زمین کو تیری مرضی ِمبارک کے مطابق پاک وصاف رکھا جائے اور یہ سارے کام تیرے یہ عاجز بندے اپنے مقدور کے مطابق بجا لا رہے ہیں اور تیری مخلوقات میں سے کوئی مخلوق ایسی نہیں جو اپنی تسبیح اور اپنی نماز سے واقف نہ ہو۔ حتی کے درختوں کے پتے اور زمین پر مٹی کے ڈھیلے تک تیری تسبیح میں مشغول رہتے ہیں تو پھر اس نئی مخلوق کو پیدا کرنے اور اسے خلافت کا منصب عطا کرنے کی حکمت کیا ہے ؟ اس کے جواب میں پروردگار نے آدم (علیہ السلام) کو علم الاشیا سے نوازا۔ اس علم کے لیے جو تعبیر اختیار کی گئی وہ یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو اشیا کے نام سکھائے، اس لحاظ سے دو چیزیں ہمارے پیش نظر ہیں ایک تو یہ کہ بنیادی بحث کو دیکھتے ہوئے یہ بات تو واضح ہے کہ آدم کو علم کی دولت دی گئی اور وہ علم وہ تھا جو خلافت ارضی کی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے ضروری تھا اور یقینا یہ علم ایسا تھا جس کے متحمل فرشتے نہیں ہوسکتے تھے اور دوسری یہ بات کہ اس علم کو اسماء کا علم قرار دیا گیا ہے۔ اس تعبیر میں کیا حقیقت پنہاں ہے ؟
علم الاشیاء کیا ہے ؟
سب سے پہلے پہلی بات کو لیجئے کہ خلافت کی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے کون سا علم درکار تھا ؟ جسے آدم کو عطا کیا گیا ہے لیکن فرشتے اس کے متحمل نہ ہوسکے حالانکہ قرآن وسنت سے کہیں یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس علم کی تعلیم کے لیے آدم (علیہ السلام) کے لیے الگ کوئی انتظام کیا ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ سکھانے کا عمل فرشتوں اور آدم کے لیے یکساں تھا۔ البتہ آدم اور فرشتوں کی صلاحیتوں اور حقائق کو اخذ کرنے کی صلاحیت میں چونکہ فرق تھا اس لیے آدم (علیہ السلام) نے اس تعلیم کو سمجھا اور اس کے مغز کو پالیا۔ لیکن فرشتے اسے اخذ نہ کرسکے۔ اس لیے جب دونوں کا امتحان لیا گیا تو فرشتے جواب نہ دے سکے اور آدم (علیہ السلام) نے ان کے سامنے ان تمام باتوں کو کھول کر بیان کردیا اور یا یہاں تعلیم سے مراد تعلیم کا عمل نہیں بلکہ تعلیم کی صلاحیت کی تخلیق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو الگ الگ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ فرشتوں کو وہ صلاحیتیں دی گئی ہیں جو ان کی اپنی ذمہ داریوں کے مطابق ہیں اور آدم (علیہ السلام) کو وہ صلاحیت عطا کی گئی ہے جو خلافت ارضی کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اصل سوال اپنی جگہ ہے کہ وہ علم کیا تھا ؟ تھوڑے سے تدبر سے کام لیں تو اس علم کی دو جہتیں معلوم ہوتی ہیں۔ علم کی ایک جہت وہ ہے، جس کا تعلق انسان کی ذات اور اس کے اندرونی احساسات سے ہے اور علم کی دوسری جہت وہ ہے، جس کا تعلق انسانی ضروریات اور اس کے متعلقات سے ہے۔ جہاں تک علم کی پہلی جہت کا تعلق ہے ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کو اللہ نے خیر و شر میں امتیاز کرنے کا شعور بخشا ہے وہ اگر نفسیاتی علائق اور بیرونی دبائو سے آزاد ہو کر غور وفکر سے کام لے تو بڑی آسانی سے یہ فیصلہ کرسکتا ہے۔ حق کیا ہے ؟ باطل کیا ہے ؟ صحیح کیا ہے ؟ غلط کیا ہے ؟ حسن کیا ہے ؟ اور قبح کیا ہے ؟ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے اندر خواہشات بھی پیدا کی گئی ہیں۔ محبت اور نفرت کے جذبات بھی ہیں، قوت واہمہ بھی ہے، عقل جیسا جوہر بھی عطا کیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ نارسائی کا ایک لاحقہ بھی ہے حواس کی دولت بھی دی گئی ہے۔ لیکن وہ غلطیوں سے اور حدود سے ماورا ہرگز نہیں۔ مزید یہ کہ اس کے اندر مفادات کی ہوس اور حرص بھی ہے۔ یہ تمام موانع ایسے ہیں، جو اس کے شعور کو بعض دفعہ مغلوب کرلیتے ہیں۔ پھر اس کے لیے صحیح فیصلے پر پہنچنا آسان نہیں رہتا اور یہی وہ امتحان اور آزمائش ہے جو اسے باقی مخلوقات سے ممتاز کردیتی ہے۔ اس لیے ایک علم تو ایسا ہونا چاہیے جو اسے یہ بات سکھائے کہ خیرو شر کے امتیاز کے شعورکو کس طرح ان موانع سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ وہ کیا چیز ہے جو انسان کے اندر پید اہوجائے تو یہ تمام جذبات اور خواہشات زور دار ہونے کے باوجود بھی اس پر قابو نہیں پاسکتیں ؟ اور وہ کیا چیز ہے جو جب انسان کے اندر سے نکل جائے تو انسان انسانیت کی سطح سے گر کر بعض دفعہ حیوانی سطح سے بھی گرجاتا ہے ؟ انسان چونکہ خلیفۃ اللہ بناکر بھیجا جارہا ہے اس لیے اسے ایک ایسے علم کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنے اس آقا کی معرفت حاصل کرسکے جس کا وہ خلیفہ ہے اور اس کے اندر ایک زور دار جذبہ ابھرے تو اس کی زندگی کا حقیقی مقصد اپنے آقا کی معرفت اس کے قرب کی خواہش اور بالآخراسی سے وصل اس کی زندگی کا ہدف بن جائے۔ درحقیقت یہی وہ علم ہے جس کو قرآن کریم نے (العلم) سے تعبیر کیا ہے۔ یہی وہ علم ہے جس تک رسائی انسان کی براہ راست نہیں ہوتی اسی علم کو لے کر اللہ کی کتابیں اترتی ہیں اور اللہ کے نبی مبعوث کیے جاتے ہیں۔
علم الاشیاء کو علم الاسماء سے کیوں تعبیر کیا گیا ؟
دوسرا علم جس کی انسان کو ضرورت ہے اس کا تعلق انسان کی ضروریات سے بھی ہے اور اللہ کی ان مخلوقات کے ساتھ بھی جن سے انسان کو واسطہ پڑتا ہے اور اس کائنات کے ساتھ بھی جس میں انسان مکین ہے۔ پھر اس علم کی بھی دو شاخیں ہیں۔ ایک شاخ تو یہ ہے کہ مجھے اشیائے ضرورت کس طرح اور کون سی حاصل کرنی ہیں ؟ کن سے تمتع کرنا ہے اور کن سے پرہیز کرنا ہے ؟ یعنی کون سی چیزیں میرے لیے حلال ہیں اور کون سی حرام ؟ کون سی جائز ہیں اور کون سی ناجائز ؟ علم کی اس شاخ کا تعلق بھی پہلے علم سے ہے اور یہ بھی وحی الہٰی کی رہنمائی کی محتاج ہے۔ اس علم کی دوسری شاخ یہ ہے کہ انسان کو زمین پر بھیجا جارہا ہے تو اس کے اندر قوت تسخیر جذبہ تسخیر، قوت عمل، ایجاد واختراع کا جذبہ بھی پیدا کیا جارہا ہے اور اس کے لیے اس کی فطرت اور عقل میں ضروری حد تک رہنمائی رکھ دی گئی ہے۔ اسے بتادیا گیا ہے کہ زمین تیرے لیے ہے، اس کا گردوپیش تیرا ہے، یہ آسمانوں کی وسعتیں بھی تیری ہیں۔ زمین میں چھپے ہوئے خزانوں کو نکالنا، زمین کی قوت روئیدگی سے کام لینا، زمین اور فضائے آسمانی کی قوتوں کو مسخر کرکے ان سے خدمت لینا، یہ تیرا حق ہے۔ تمہارا اصل ہدف تو اللہ کی رضا کا حصول ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ محنت اور ذوق تسخیر سے کام لینا، یہ بھی تم پر لازم ہے۔ جو چیزیں انسانی ضرورت کا درجہ رکھتی ہیں، ان کے لیے علم وہنر پیدا کرنا، ایجاد واختراع سے کام لینایہ فرضِ کفایہ ہے۔ اور مخالفتیں طاقت پکڑ لیں، تو ان سے دفاع کے لیے یا انھیں زیر کرنے لیے قوت کا فراہم کرنا، یہ کبھی فرضِ عین ہے اور کبھی فرضِ کفایہ ہے۔ مختصر یہ کہ یہ علم کی وسیع دنیا ہے جس کا تعلق آدم اور انسان سے ہے۔ لیکن فرشتوں کی زندگی میں ان باتوں کا کوئی دخل نہیں۔ اس لیے پروردگار نے جب اس علم کی بنیادی باتوں سے حضرت آدم کو آگاہ کیا اور یہ بنیادی احساسات، جبلت، فطرت اور جذبات کی شکل میں اس کے اندر رکھ دئے گئے اور اسے ان تمام سے شناسا بنایا گیا اور پھر اس سے پوچھا گیا کہ تم اس علم کی تفصیل بیان کرو تو اس نے بڑے آسانی سے ان چیزوں کو بیان کردیا لیکن فرشتے چونکہ ان احساسات سے اور ان صلاحیتوں سے بےنیاز رکھے گئے ہیں۔ انھیں علم وہ دیا گیا ہے جن کا تعلق ان کی ملکوتی زندگی سے ہے اور اگر انھیں زمینی معاملات کی کوئی خدمت بخشی بھی گئی ہے تو صرف ان کی ذمہ داری کی حد تک اس کا علم دیا گیا ہے۔ لیکن ان کے اندر وہ جامعیت نہیں رکھی گئی جو انسان میں ہے۔
دوسرا معاملہ تعبیر کا ہے کہ قرآن کریم نے علم الاشیاء کو یا علم کو علم الاسماء کا نام دیا ہے کہ اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو تمام نام سکھائے۔ اس سے مراد کیا ہے ؟ بات اصل میں یہ ہے کہ انسان کے علم کی پہلے بھی یہی صورت رہی ہے اور آج بھی یہی ہے کہ وہ ہر چیز کا علم نام کے ذریعے سے اپنے ذہن کی گرفت میں لاتا ہے۔ زندگی کے کسی شعبے، کائنات کی کسی چیز، انسانی رویوں میں سے کوئی رویہ، علمی اور فکری دریافتوں میں سے کسی دریافت کے بارے میں ہم جاننا چاہیں تو ہم ہمیشہ اسما سے مدد لیتے ہیں اور اسم ہی سے اس کا آغاز کرتے ہیں۔ سائنس اور آرٹ یہ علم کی دو الگ الگ شاخیں ہیں۔ اور ہم ان دونوں کو دوناموں سے جانتے ہیں پھر آگے ان دونوں کے تفصیلی اور ذیلی اسما ہیں اور ان کے الگ الگ شعبے ہیں۔ ان سب کو ہم ان کے ناموں سے پہچانتے ہیں حتی کہ انسانوں کی، شہروں کی اور استعمال میں آنے والی چیزوں کی شناخت صرف اسماء سے ہوتی ہے۔ آپ کسی سے علم کے کسی گوشے کے بارے میں، کسی حقیقت کے بارے میں، کسی فرد کے بارے میں، کسی تاریخی حادثے کے بارے میں، علیٰ ہذالقیاس ایسی ہی کسی چیز کے بارے میں جاننا چاہیں تو فوراً آپ اس کا نام یا عنوان معلوم کرتے ہیں اور اس کی تفصیلات کا علم حاصل کرلیتے ہیں۔ یہی حقیقت ہے، جس کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو بیشمار علوم کے نام بتادیئے گئے اور یا یہ ہے کہ اس کے اندر یہ صلاحیت پیدا کردی گئی کہ وہ خود ایک حقیقت کا نام رکھے اور پھر اس کی تفصیلات جاننے کے لیے تحقیق اور تجسس سے کام لے۔ بعض اہل علم نے اس کے بعض دوسرے مفاہیم بھی بیان کیے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ فرشتوں کو یہ گمان تھا کہ اولادِ آدم زمین میں خوں ریزی کا باعث بنے گی۔ تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اولادِ آدم کا مشاہدہ کرایا جن، میں انبیا اور رسل، مجددین اور مصلحین اور شہداء اور صدیقین بھی پیدا ہونے والے تھے۔ ان کو دکھا کر یہ بتایا کہ اگر اولادِ آدم کے اندر ایسے لوگوں کے پیدا ہونے کا امکان ہے جو اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ اختیارات کو بےجا طور پر استعمال کریں گے، تو ساتھ ہی ان کے اندر ایسے لوگ بھی اٹھیں گے جو خود بھی اس ذمہ داری کا حق ادا کریں گے اور دوسروں کو بھی ان ذمہ دارویوں سے آگاہ کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگادیں گے۔ مختصر یہ کہ اللہ نے آدم کو علم کی دولت عطا فرماکر فرشتوں پر یہ واضح کردیا کہ تمہیں یہ جو شبہ ہے یہ مخلوق زمین پر جاکر فساد پھیلائے گی، یہ صحیح نہیں کیونکہ ہم آدم کو صرف اختیارات ہی نہیں دے کر بھیج رہے اسے علم بھی دے رہے ہیں۔ علم ان کو غلط کام کرنے سے روکے گا، ان کے اندر ایک ایسا شعور پیدا کرے گا، جس سے ان میں خیرغالب آجائے گا اور شر مغلوب ہوجائے گا اور ساتھ ہی ساتھ ان کا علم انھیں اس انجام سے بھی آگاہ کرتا رہے گا جو غلط کام کرنے کے نتیجے میں بالآخر انھیں بھگتنا پڑے گا۔
سُبْحَان … کلمہ تنزیہ
فرشتے جب اس بات سے آگاہ ہوگئے تو وہ پکار اٹھے سُبْحٰنَـکَ لاَعِلْمَ لَنَآ اِلَّامَاعَلَّمْتَـنَا ” یا اللہ تو پاک ہے “ یہ کلمہ تنزیہ ہے جو نامناسب اور خلاف شان باتوں سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور قرآن کریم میں جابجا اس کا استعمال ہوا ہے اور یہاں فرشتے اس کلمہ سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پروردگار تیری شان اس سے ارفع اور بلند ہے کہ تیرے ہاتھوں کوئی ایسا کام ہو جو تیری حکمت اور مصلحت سے خالی ہو۔ ہم نے جس شبہ کا اظہار کیا ہے، وہ محض ہمارے علم کی کمی کا نتیجہ ہے۔ ہمارے پاس تو صرفاتنا ہی علم ہے جتنا تو نے بخشا ہے۔ علم اور حکمت کا اصلی خزانہ تو تیرے ہی پاس ہے۔
اس کے بعد اگلی آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو علم کا خزانہ عطا فرمایا تھا ان کو اسماء کی صورت میں فرشتوں کے سامنے جب پیش کیا تو وہ پہلے ہی اپنے عجز کا اعتراف کرچکے تھے اب ان کی عاجزی اور سرفکندگی میں مزید اضافہ ہوا۔ اس کے بعد پروردگار نے دو باتیں ارشاد فرمائی ہیں، جن میں خطاب اگرچہ فرشتوں سے ہے لیکن مقصود انسانوں کو سمجھانا ہے۔ ایک تو وہ بات جو پہلے اختصار سے فرمائی تھی اب اسے وضاحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ کے ہر فیصلے کے بارے میں یہ بات ہر وقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس کارخانہ کائنات میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی ساری حکمتیں اور مصلحتیں صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں۔ فرشتے باوجود اللہ کے قرب کے ان حکمتوں اور مصلحتوں کو نہیں جانتے۔ اس لیے جب اس کارخانہ قدرت میں اللہ کے کسی فیصلے کی حکمت سمجھ میں نہ آتی ہو تو اسے ہمیشہ اپنے علم کی کمی پر محمول کرنا چاہیے اس کے بارے میں کبھی بھی طبیعت میں شک وشبہ کو پید انھیں ہونے دینا چاہیے کیونکہ اللہ کا کوئی کام بھی حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں۔ لیکن اس کے سارے کاموں کی حکمتوں اور مصلحت کو جاننا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔
دوسری بات فرشتوں سے یہ فرمائی وَاَعْلَمُ مَاتُبْدُوْنَ وَمَاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ” میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپا رہے ہو “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہارے سوال کو بھی سمجھتا تھا اور اس کی اصل وجہ کو بھی جانتا تھا، جس سے یہ سوال پیدا ہوا تھا۔ وہ وجہ یہ تھی کہ تم آدم کی خلافت کی اسکیم کے مضمرات سے بیخبر تھے۔ تم چاہتے تھے کہ وہ تم پر ظاہر کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے تم نے اس اسکیم کے برے پہلوئوں کی طرف جو واضح طور پر تمہیں نظر آئے بشکل سوال اشارہ کیا تاکہ تم پر اس کے وہ پہلو کھولے جائیں جو خیر کے ہیں۔ چناچہ علم الاسماء کے حوالے سے وہ پہلو تم پر کھول دئیے گئے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اپنے ایک احسان کے طور پر بیان فرمائی ہے کہ تمہارے سوال کے ظاہر و باطن دونوں کا جواب تمہیں دے دیا گیا ہے اس میں فرشتوں کے لیے کسی ملامت کا کوئی پہلو نہیں۔
Ayah 2:34وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْا اِلَّآ اِبْلِیْسَط اَبٰی وَسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ
(اور یاد کرو ! جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے اس سے انکار کیا، اور وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ ) (البقرۃ۔ 34)
خلافت آدم کے حوالے سے موجود مخلوقات کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہی اور امتحان
اس رکوع کی سابقہ آیات میں حضرت آدم (علیہ السلام) کو خلیفہ بنانے کے حوالے سے پروردگار نے جب اپنے ارادے کا اظہار فرمایا تو فرشتوں نے پوری سکیم سے آگاہ نہ ہونے کے باعث اپنے علم کی کمی کی وجہ سے جن خدشات کا اظہار کیا تھا۔ پروردگار نے نہائت تفصیل کے ساتھ ان کا جواب دیا اور خلافتِ آدم میں جو مصلحتیں اور حکمتیں مخفی تھیں ان سے کسی حد تک آگاہ فرمایا اور فرشتے اپنے تئیں جن خطرات کو محسوس کررہے تھے ان میں سے ایک ایک کو دور کر کے نہایت پیار سے انھیں مطمئن کیا۔ فرشتے جو سرتاپا عجز واعتراف ہیں، وہ اس پر مزید شکر گزار ہوئے اور اپنی عاجزی کا اعتراف کیا اب اس آیت کریمہ سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ان کی خلافت کا اصل مضمون شروع ہوتا ہے۔ اس میں سب سے پہلی ضروری بات یہ تھی کہ اس وقت جو مخلوقات موجود تھیں اور جنھیں تمام مخلوقات میں ایک حیثیت اور اہمیت حاصل ہے انھیں خلافت ِ آدم کے حوالے سے ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے اور مزید یہ بات بھی کہ ان کا امتحان بھی لیا جائے کہ وہ کہاں تک اس آزمائش میں پورے اترتے ہیں۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں جو حکم دیا گیا ہے اس میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں اور مزید یہ بات بھی کہ یہیں سے اس کشمکش اور اس سے پیدا ہونے والے نتیجے کی بھی ایک منظر کشی کی گئی ہے جس سے اس وقت اسلامی جماعت گزر رہی تھی اور جس کے اہم کردار نبی کریم ﷺ مسلمان اور قریش مکہ تھے۔ چناچہ سب سے پہلے فرشتوں کو حکم ہوا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔
سجدہ کا مفہوم
سجدہ کا معنی تو ہوتا ہے ” جھکنا “۔ لیکن اس کے مدارج ہیں کبھی تو رکوع کی شکل میں جھک جانے کو سجدہ کہتے ہیں اور کبھی یہ لفظ زمین پر سر رکھ دینے پر بولا جاتا ہے۔ اس کی صحیح شکل کیا تھی۔ محض حضرت آدم کی تعظیم اور ان کی عظمت کے سامنے جھک جانے پر یہ لفظ بولا گیا ہے یا اس سے حقیقی سجدہ مراد تھا۔ لفظ میں تو دونوں کے لیے گنجائش موجود ہے۔ لیکن احادیث وآثار کی شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد حقیقی سجدہ ہے یعنی زمین پر سر رکھ دینا۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنے کی اجازت ہے ؟ جہاں تک سابقہ شریعتوں کا تعلق ہے، سابقہ آسمانی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ شریعتوں میں اس کی اجازت تھی۔ چناچہ سورة یوسف میں یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ علماء نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں تک سجدئہ عبادت کا تعلق ہے یعنی عبادت کی نیت سے کسی کو سجدہ کرنا، اس کی اجازت تو کسی شریعت نے نہیں دی کیونکہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا ہر شریعت میں شرک قرار دیا گیا ہے۔ البتہ سجدئہ تعظیمی کی سابقہ شریعتوں میں اجازت تھی، جسے ہماری شریعت میں حرام قرار دے دیا گیا۔ البتہ سابقہ آسمانی کتابوں پر گہری نگاہ رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس زمانے میں جو سجدہ تعظیمی کیا جاتا تھا۔ اس سے مراد صرف رکوع کی طرح جھکنا ہے، زمین پر سر رکھنا نہیں۔ لیکن بیشتر علماء یہ سمجھے ہیں کہ سابقہ شریعتوں میں صرف رکوع نہیں تعظیم کے لیے سجدہ کرنے کی بھی اجازت تھی۔ لیکن ہماری شریعت چونکہ آخری شریعت ہے جس میں توحیدکو مکمل کردیا گیا ہے، اس میں اس اجازت کو ختم کردیا گیا ہے۔ متعدد احادیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ ایک صحابی حیرہ ریاست سے واپس آئے تو آکر بیان کیا کہ حیرہ کے حکمران کو اس کی رعایا سجدہ کرتی ہے اور ساتھ ہی کہا کہ حضور آپ تو ساری دنیا کے بڑے لوگوں اور حکمرانوں سے زیادہ واجب الاحترام ہیں، تو کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں۔ تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم میری وفات کے بعد میری قبر پر آئوتو کیا سجدہ کروگے ؟ انھوں نے آنحضرت کی تعلیم کے مطابق عرض کیا کہ ہرگز نہیں تو آپ نے فرمایا کہ پھر اب مجھے کیوں سجدہ کرو گے۔ مزید فرمایا کہ اگر اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ جائز ہوتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہاں آدم کو سجدہ کرنے کا حکم پروردگار خود دے رہے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بظاہر سجدہ آدم کو کیا جارہا ہے لیکن حقیقت میں آدم کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو کیا جارہا ہے۔ منہ اگرچہ آدم کی طرف ہے، لیکن دلوں کا رخ اِلٰہ کی جانب ہے۔ تو یہاں لِاٰدَمَ اصل میں اِلٰی اٰدَمَ کے معنی میں ہے۔ اس لیے یہاں آدم کو سجدہ کرنے کا مطلب یہ تھا کہ آدم (علیہ السلام) کی تعظیم بجالائو اور اس بات کو سمجھ لو کہ آدم کے زمین پر جانے کے بعد اور زمین پر اولاد آدم کے پھیل جانے کے بعد تمہارا کام ان کے سامنے مطیع اور مسخر ہونا ہے۔ زمین کا حاکم اللہ کی طرف سے آدم ہے۔ اس لیے زمین میں اسے اپنے معاملات انجام دینے اور اپنے اختیارات بروئے کار لانے کے لیے جو ہم اسے عطاکر رہے ہیں، تمہارا کام اس کی مدد کرنا اور اس کے لیے اسباب فراہم کرنا ہے۔ وہ کام اچھا کرنا چاہے تو اس کی اچھائی کو آگے بڑھانا تمہارا کام ہے وہ کوئی برائی کرنا چاہے، تو اس کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ اسے مہلت عمل دیتا ہے، تو عمل کے لیے اسباب فراہم کرنا تمہاری ڈیوٹی ہے کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے زمین پر مجاز حکمران ہے، لیکن اصل فرماں روا اللہ کی ذات ہے۔ جب تک اصل فرمانروا اس کے اختیارات کو سلب نہیں کرتا تمہارے لیے اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔ اس طرح سے فرشتوں کا امتحان بھی تھا، وہ جانتے تھے کہ ہمیں نور سے پیدا کیا گیا ہے اور آدم کو بدبودار مٹی سے۔ لیکن وہ اس بات کو بھی جانتے تھے کہ شرافت اور عظمت مادئہ تولید سے نہیں ملتی وہ تو عبادت و اطاعت اور فرمانبرداری سے ملتی ہے۔ اس لیے وہ اس بحث میں پڑے بغیر کہ کس کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور کس کو نور یا نار سے۔ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ سجدہ کرنے کا حکم اللہ کی جانب سے ہورہا ہے، تو وہ سجدہ میں جھک گئے اور ہمیشہ کے لیے آدم کی عظمت کو قبول کرلیا اور اس طرح وہ سرخ رو ہوگئے۔ لیکن ابلیس اس بحث میں الجھ گیا کہ میں اپنے مادہ پیدائش کے لحاظ سے آدم سے برتر ہوں۔ خَلَقْتَنِی مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْن ” تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا “۔ آگ مٹی کے سامنے کیسے جھک جائے۔ اس طرح اس نے جھکنے سے انکار کردیا اور نامراد ٹھہرا۔
ابلیس کی تحقیق
ابلیس۔ ابلس سے افعیل کے وزن پر ہے۔ اس کا معنی ہے ” انتہائی مایوس “۔ یہ اس جن کا نام ہے، جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ یہ فرشتہ نہیں تھا، قرآن کریم نے سورة طٰہٰ میں وضاحت کی ہے کان من الجن ففسق عن امر ربہ ” وہ جنات میں سے تھا اس نے اپنے رب کے حکم سے انحراف کیا “۔ اس پر بعض لوگوں کو اشکال ہوا کہ سجدہ کا حکم تو فرشتوں کو تھا، جنات کو نہیں۔ تو پھر ابلیس کو سجدہ نہ کرنے پر لعنت کا مستحق کیوں ٹھہرا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جنات اور فرشتوں میں اصلی فرق خصائص اور صفات کے پہلو سے ہے اپنی خلقت کے لحاظ سے جنات فرشتوں سے زیادہ دوری نہیں رکھتے۔ فرشتے نور سے پیدا ہوئے اور جنات نار سے۔ اس وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ علی سبیل التغلیب جنات بھی اسی حکم سجدہ میں شامل تھے۔ چناچہ سب جنات نے سجدہ کیا، لیکن ان کے گمراہ فردابلیس نے سجدہ سے انکار کردیا۔ معلوم ہوتا ہے یہ جنات کا سردار تھا۔ قاضی بیضاوی ( رح) نے اپنی تفسیر میں اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔ قاضی بیضاوی فرماتے ہیں ،
اوالجن ایضاً کانوا مامورین مع الملئکۃ لکنہ استغنی بذکرالملئکۃ عن ذکر ھم فانہ اذا علم ان الاکابر مامورون بالتذلل لاحد والتوسل بہ علم ان الاصاغرایضاً مامورون بہ والضمیر فی فسجدوا راجع الی القبیلتین
(یا جن بھی فرشتوں کے ساتھ سجدہ کے حکم میں شامل تھے لیکن فرشتوں کے ذکر کے بعد جنات کے ذکر کی ضرورت اس وجہ سے باقی نہیں رہی کہ جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ بڑوں کو کسی کی تعظیم و تکریم کا حکم ہوا ہے تو اس سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوگئی کہ چھوٹے بھی اس حکم میں شامل ہیں۔ اس صورت میں فسجدوا کی جو ضمیر ہے، وہ دونوں گروہوں کی طرف لوٹے گی)
حاصل کلام یہ کہ فرشتوں اور ان کے ضمن میں جنات کو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دے کر ایک تو انھیں اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ آدم چونکہ زمین پر اللہ کے خلیفہ بن کے جارہے ہیں اور پھر ان کے بعد ہر پیغمبر اللہ کا خلیفہ ہوگا اور آخری پیغمبر خلیفہ اعظم کے طور پر تشریف لائیں گے اور وہ پوری دنیا میں خلافت کی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ ان پر چونکہ نبوت ختم ہوجائے گی اس لیے اب یہ خلافت امت اسلامیہ کے تمام ان لوگوں کی طرف منتقل ہوجائے گی جن میں اس خلافت کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت ہوگی۔ جو اپنے علم اور اپنے کردار کی پاکیزگی سے اللہ کی زمین پر اس کی حاکمیت کے نفاذ کے لیے آخر حدتک مساعی بروئے کار لاکر خلافت کا فرض انجام دیں گے۔ یہ کام چونکہ پوری امت کے برگزیدہ لوگوں کو انجام دینا ہے اس لیے حضور نے فرمایا کہ میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔ اور ان میں ہمیشہ اہل حق کا ایک گروہ موجود رہے گا جو خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوششیں کرتا رہے گا۔ فرشتوں کو اس بات کا پابند کیا کہ زمین پر آدم اور اولاد آدم کو ہم نے اپنا خلیفہ بناکر بھیجا ہے اس میں یقینا ہر طرح کے لوگ ہوں گے، اچھے بھی اور برے بھی۔ تمہارا کام ان سب کے لیے اسباب فراہم کرنا ہے۔ کیونکہ تم زمین پر آدم کی حکومت کے اعضاء وجوارح کے طور پر کام کروگے۔ جس طرح حکومت کے ارکان اور ملازمین کو اس بات سے کوئی بحث نہیں ہوتی کہ مجھے جو حکم دیا جارہا ہے وہ صحیح ہے یا غلط انھیں صرف احکام کی تعمیل کرنا ہوتی ہے۔ البتہ جب اصل حکمران اپنے ماتحت حکمران یعنی خلیفہ کو معزول کرنے یا سزا دینے کا فیصلہ کرلے تو پھر یہی اعضائے حکومت نہ صرف اصل حکمران کے نائب کی اطاعت سے انکار کردیتے ہیں بلکہ حکم ملنے پر زنجیریں پہنانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ فرشتوں کو سجدہ کا حکم دے کر انھیں یہی بات سمجھانا مقصود تھی اور دوسری یہ بات کہ ان کا امتحان بھی مقصود تھا کیونکہ فرشتے نور سے پیدا کیے گئے اور جنات نار سے۔ نور میں روشنی اور پاکیزگی ہے اور نار میں بلندی اور رفعت ہے۔ لیکن آدم کو کھنکھناتی مٹی اور سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا گیا ہے۔ اپنے مادئہ تولید و تخلیق کے اعتبار سے یقینا فرشتوں اور جنات کو آدم پر فضیلت حاصل تھی۔ انھیں سجدے کا حکم دے کر ان کی آزمائش کی گئی کہ وہ اپنے نسب اور مادئہ تخلیق پر فخر کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کرتے ہیں یا اللہ کے حکم کا استحضار کرتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ چناچہ فرشتے اس امتحان میں پورے اترے انھوں نے اللہ کے حکم کی عظمت کے سامنے سرجھکا دیا لیکن شیطان نسب کے بت کا پجاری نکلا۔ اللہ کے حکم کے سامنے بھی اس کا یہ بت ٹوٹ نہ سکا اور اس نے نہ صرف یہ کہ سجدہ کرنے سے انکار کیا بلکہ اپنے نسب کے حوالے سے معارضہ کرنے کی کوشش بھی کی۔
Ayah 2:35وَقُلْنَا یٰٓـاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّـۃَ وَکُلاَ مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَاص وَلَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَـکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (البقرۃ : 35)
(اور ہم نے کہا اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے کھائو جتنا چاہو اور جہاں سے چاہو اور اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہوجاؤ گے)
اس آیت کریمہ میں تین باتیں نمایاں ہیں۔
1 حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ اور آپ کی زوجہ محترمہ جنت میں سکونت اختیار کریں اور جنت چونکہ ایسی جگہ ہے جس میں محنت سے کوئی چیز حاصل کرنا نہیں پڑتی بلکہ وہاں ہر نعمت کی فراوانی ہے۔ جنت کے باسی کے لیے صرف خواہش کے اظہار کی ضرورت ہے وہ نعمت اسے مل جائے گی اور پھر کوئی ایسی رکاوٹ بھی نہیں کہ فلاں نعمت تو تم حاصل کرسکتے ہو اس کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وہاں مکمل آزادی ہے، جنت میں رہنے والا جہاں چاہے گھومے پھرے، جو چاہے کھائے اور جتنا چاہے کھائے۔ اور مزید یہ بات بھی حضرت آدم اور حضرت حوا کو بتانا مقصود تھی کہ تمہاری اصل جگہ، اصل ٹھکانہ اور اصل منزل یہ جنت ہی ہے یہی خوشیوں اور مسرتوں کا مرکز اور یہی اللہ کے قرب کا آستانہ ہے اور یہیں اللہ کے انعامات برستے ہیں۔ دیکھنا یہ جنت تمہارے ہاتھوں سے نکل نہ جائے، چناچہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے اس جنت کو مقصود اور مطلوب بنادیا گیا۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کا امتحان
2 دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ جنت کی سب نعمتیں تمہارے لیے ہیں لیکن دیکھنا اس درخت کے قریب نہ پھٹکنا، اس سے پہلے چونکہ جنت کی نعمتیں کھانے کا ذکر ہے۔ توسیاق کلام کو دیکھتے ہوئے یہ بات نہائت قرین قیاس ہے کہ اس درخت کے قریب نہ جانے کا مطلب اس درخت کا پھل نہ کھاناہو۔ البتہ اس کے لیے جو تعبیر اختیار کی گئی ہے کہ اس کے قریب نہ جانایہ انتہائی تاکید اور احتیاط پر دلالت کرتی ہے۔ یہ حکم دے کر معلوم ہوتا ہے حضرت آدم اور حضرت حواکا امتحان لیا گیا اس سے پہلے ملائکہ اور جنات امتحان سے گزرچکے تھے اب حضرت آدم اور آپ کی زوجہ کا امتحان لیا جارہا ہے کہ جنت کی ساری نعمتیں ان کے لیے حلال کردی گئی ہیں لیکن امتحان صرف ایک درخت کے پھل نہ کھانے کا ہے۔ انسان کی کمزوری یہ ہے کہ جس چیز سے اسے روکا جاتا ہے اسی کی حرص اس میں پید اہوتی ہے۔ انسانی فطرت کا یہ پہلو اجاگر کرنا مقصود تھا تاکہ آدم اپنی اس کمزوری پر قابو پانے کی کوشش کرے۔ رہی یہ بات کہ درخت کون سا تھا ؟ اس کے بارے میں قرآن وسنت خاموش ہیں۔ بعض اہل علم نے اپنے اندازے سے مختلف پھلوں اور غلوں کا نام لیا ہے لیکن ان کی حیثیت ظن و گمان کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ اصل مرجع جہاں سے اصل بات معلوم ہوسکتی ہے وہ صرف قرآن وسنت ہے۔ جب ان دونوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں تو پھر کس حوالے سے آخر کوئی بات کہی جاسکتی ہے ؟ اور یہ بات بھی نہیں کہ اس درخت کے پھل میں کوئی ایسی خرابی تھی جس سے حضرت آدم اور حضرت حوا کی صحتیں بگڑ سکتی تھیں۔ مقصود صرف آزمائش تھی۔ جیسے آج بھی انسانوں کی آزمائش ہورہی ہے کہ اس دنیا کو بھی اللہ نے ایسی ایسی نعمتوں سے مالا مال کررکھا ہے کہ یہ بھی ایک چھوٹی جنت معلوم ہوتی ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے ؎
دنیا بھی اک بہشت ہے اللہ رے کرم
کن نعمتوں کو حکم دیا ہے جواز کا
قسم قسم کے غلے اور ترکاریاں، نوع بنوع پھل، ایک خوان نعمت ہے جو رنگا رنگ نعمتوں سے بھرپور زمین پر بچھادیا گیا ہے اور اس میں بیشتر نعمتوں کے استعمال کرنے اور ان سے متمتع ہونے کی اجازت ہے۔ صرف چند نعمتیں ہیں جنھیں استعمال کرنے سے ہمیں روک دیا گیا ہے۔ آپ دیکھ لیجئے کہ زمین سے پیدا ہونے والی بیشمار سبزیوں، غلوں اور پھلوں میں سے کسی چیز کے کھانے سے ہمیں نہیں روکا گیا البتہ ان سے شراب کشید کرنے یا نشہ آور چیزیں بنانے سے منع کیا گیا ہے۔ بیشمار پالتوجانور، شکاری جانور اور پھر رنگارنگ پرندے ہیں، جن کا گوشت کھانے کی انسان کو اجازت دی گئی۔ صرف چند جانوروں کا گوشت کھانے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ لیکن انسان کا عجیب حال ہے کہ جن چیزوں سے روکا گیا ہے، انھیں کو استعمال کرنے اور ان سے محظوظ ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ بیشمار پھل اس کے کام ودہن کی لذت کے لیے موجود ہیں لیکن اسے شراب پینے کی خواہش رہتی ہے۔ بیشمار جانوروں کا گوشت میسر ہے لیکن وہ خنزیر اور دوسرے حرام جانوروں کے گوشت کی طرف لپکتا ہے اور اگر اسے روکا جائے تو ابلیس کی طرح معارضہ بھی کرتا ہے۔
ظلم کا مفہوم
3 تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دیکھو اگر تم نے اس درخت کا پھل کھالیاتو تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ ظلم حق تلفی کو کہتے ہیں اور ظالم حق تلفی کرنے والے کو۔ جب کوئی آدمی اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ متعدد حقوق تلف کرتا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ اللہ کی ذات کا یہ حق ہے اور وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے کیونکہ جس نے ہمیں زندگی اور زندگی کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں یقینا اسی کا یہ حق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے جب کوئی آدمی اللہ کی اطاعت سے انحراف کرتا ہے تو وہ اللہ کے اس حق کو تلف کرتا ہے۔ اسی طرح انسان جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا کوئی عمل کرتا ہے تو اس میں جس طرح اپنے اعضاء وجوارح کو استعمال کرتا ہے اور جس طرح اپنی دماغی کاوشوں اور قوائے نفس کو استعمال کرتا ہے اسی طرح اور کئی چیزوں اور کئی انسانوں کو بھی اپنے اس کام میں شریک ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ تو جتنی چیزیں اور جتنے انسان اس نافرمانی میں استعمال ہوتے ہیں یہ نافرمانی کرنے والا ان سب کے حقوق تلف کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام کو اپنی فرمانبرداری کے لیے پیدا کیا تھا۔ جب اس نے زبردستی انھیں اللہ کی نافرمانی میں استعمال کیا تو گویا اس نے ان کی حق تلفی کی۔ اسی طرح خود انسان کو اللہ نے اپنی بندگی اور اپنی اطاعت کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر جب یہ نافرمانی کرتا ہے تو ایک تو بجائے خود نافرمانی اپنے اوپرظلم اور حق تلفی ہے اور دوسرا یہ کہ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ اس کی ان کرتوتوں کے باعث اس کا جسم جہنم میں جلے گا۔