2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب ! مجھے دکھا دے تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا۔ فرمایا کیا تم اس بات پر ایمان نہیں رکھتے ہو ؟ بولا ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے۔ فرمایا چار پرندے لے لو اور انھیں اپنے سے ہلالو۔ پھر ان کو ٹکڑے کر کے ہر پہاڑی پہ ان کا ایک ایک حصہ رکھ دو ۔ پھر ان کو بلائو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ اللہ غالب اور حکیم ہے)

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ط قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ط قَالَ بَلٰی وَلٰـکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ ط قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃَ مِنَ الطَّیْرِفَصُرْہُنَّ اِلَیْـکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْہُنَّ جُزْئً ا ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاْ تِیْنَـکَ سَعْیًا ط وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌحَکِیْمٌ۔ ع (اور یاد کرو جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب ! مجھے دکھا دے تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا۔ فرمایا کیا تم اس بات پر ایمان نہیں رکھتے ہو ؟ بولا ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے۔ فرمایا چار پرندے لے لو اور انھیں اپنے سے ہلالو۔ پھر ان کو ٹکڑے کر کے ہر پہاڑی پہ ان کا ایک ایک حصہ رکھ دو ۔ پھر ان کو بلائو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ اللہ غالب اور حکیم ہے) (260) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال کی نوعیت حضرت عزیر (علیہ السلام) کے سلسلے میں ہم یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ اللہ کے نبی تو نبوت سے پہلے بھی ایمان کی کیفیت سے بہروہ ور ہوتے ہیں اور نبوت کے بعد تو ایمان کی تفصیل سے انھیں آشنا کیا جاتا ہے۔ لیکن جس طرح کلی کے پھول بننے کا ایک سفر ہے اور ہلال کے بدر بننے کا ایک وقت ہے اور نوخیز جوانی کے مکمل ہونے کا ایک عمل ہے اسی طرح سلوک باطن کے مدارج ہیں اور ان کے درمیان میں بھی ایک سفر ہے۔ انبیائِ کرام کا سفر جہالت سے ایمان کی طرف نہیں ہوتا ‘ بلکہ ایمان سے مکمل ایمان کی طرف ہوتا ہے۔ یقین سے مکمل یقین کی طرف ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق یہ منزلیں ان سے طے کرواتے ہیں۔ لیکن پیغمبر اللہ تعالیٰ سے غایت درجہ محبت رکھنے کی وجہ سے ہر اگلی منزل کی فکر میں رہتے ہیں۔ اس لیے کبھی کبھی آئندہ آنے والی کیفیتوں کا سوال بھی کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سوال بھی اسی نوعیت کا تھا۔ انھیں اس بارے میں ہرگز کوئی تردد نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ بلکہ ان کا سوال زندگی کی کیفیت کے بارے میں تھا۔ ” کیف “ سے اس چیز کی حالت دریافت کرنے کا سوال کیا جاتا ہے جس کے موجود ہونے کا یقین ہو۔ اسی لیے جب پروردگار نے فرمایا کہ کیا تمہیں یقین نہیں ہے ؟ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کی یقین تو ہے قلبی اطمینان چاہتا ہوں۔ اطمینان کسی چیز کے اپنی جگہ پر بالکل ٹھیک ٹھیک ٹک جانے کو کہتے ہیں۔ جس میں جھکنے یا لڑھکنے کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے۔ چراغ کی لو اگر بالکل سیدھی ہو کہ ہوا کے سبب اس کا کسی طرف جھکائو نہ ہو تو ہم یہ کہیں گے کہ چراغ کی لو میں اطمینان آگیا۔ ایک مومن کا دل جب اللہ کی صفات کے بارے میں اس طرح یکسو ہوجائے کہ حالات کے تغیر کے باعث اس کی دل جمعی میں کوئی فرق نہ آئے تو ایسے ہی دل کو مطمئن دل یا نفس مطمئنہ کہتے ہیں اور یہ وہ دولت ہے جو عقل و خرد کی کاوشوں سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کی طلب ایک مومن کی حقیقی روح ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ اللہ کے عطا کرنے سے عطا ہوتی ہے۔ اس کیفیت کو اللہ ہی سے مانگا جاسکتا ہے۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی کیفیت کو اللہ سے مانگا اور پروردگار نے ایک تجربے کی صورت میں انھیں یہ دولت عطا فرمائی جس سے وہ حق الیقین کے درجے پر فائز ہوگئے۔ فرمایا کہ تم چار پرندے لو اور ان کو پہلے اپنے آپ سے اچھی طرح ہلا لو یعنی انھیں اپنے ساتھ مانوس کرلو کہ وہ تمہارے ساتھ ایسے گھل مل جائیں جیسے گھروں کے سدھائے ہوئے جانور گھر والوں سے مانوس ہوجاتے ہیں۔ پھر انھیں ذبح کر کے ان کا ایک ایک ٹکڑا یعنی ایک ایک بوٹی اور ایک ایک پر آپس میں خلط ملط کردو کہ چاروں پرندوں کے مختلف اجزاء ایک دوسرے میں مل جائیں۔ پھر ان ملے جلے اجزاء کے چار حصے کرو اور ایک ایک حصہ ایک ایک پہاڑی پر رکھ دو ۔ پھر ان پرندوں کو اپنی طرف بلائو۔ تم دیکھو گے کہ وہ پرندے دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آجائیں گے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا اور پھر آپ نے دیکھا کہ جیسے ہی آپ نے ان کو بلایا وہ گوشت کی بوٹیاں اور منتشر پر آپس میں ملے اور پرندوں کی شکل میں تبدیل ہو کر اڑتے ہوئے یا دوڑتے ہوئے آپ کے پاس آگئے۔ آپ کو جو ہلا لینے کی ہدایت کی گئی تھی اس سے مقصودآپ کو اپنے پرندوں کی اچھی طرح پہچان کرانا تھا تاکہ جب وہ پرندے آپ کے پاس آئیں تو آپ کو ان کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ پیش نہ آئے اور آپ کو یقین آجائے کہ یہ وہی پرندے ہیں جنھیں میں نے سدھایا تھا۔ ایک غلطی کی تردید بعض لوگوں نے عجیب بات لکھی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ پرندوں کو اپنے ساتھ مانوس کرلیں ‘ انھیں اچھی طرح سدھا لیں اور پھر ایک ایک پرندہ ‘ ایک ایک پہاڑ پر رکھ دیں اور پھر ایک جگہ کھڑے ہو کر آپ انھیں بلائیں تو وہ آپ کے پاس اڑتے ہوئے چلے آئیں گے۔ غور فرمایئے کہ اس میں جو سوال کیا گیا ہے کیا اس کا جواب مل گیا ہے۔ کیونکہ سوال تو یہ ہے کہ آپ مردوں کو زندہ کیسے کرتے ہیں اور اور اگر چار زندہ پرندے مختلف اطراف سے آپ کے بلانے پر آجائیں تو اس میں زندگی اور موت کا مسئلہ کیسے حل ہوگیا۔ ایسے واقعات تو ہر روز آپ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جو لوگ کبوتر پالتے ہیں یا تیتر یا بٹیر سدھا لیتے ہیں تو وہ انھیں جب چھوڑتے ہیں تو وہ گھوم پھر کر خود بخود واپس چلے آتے ہیں اور اگر سدھانے ولا انھیں بلائے تو اس کی آواز پر اڑتے چلے آتے ہیں۔ اگر ایسا ہی تجربہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کرایا گیا ہے تو یہ تو روز گھروں کی چھتوں پر ہم دیکھتے ہیں ‘ اس میں غیر معمولی بات کیا ہے اور اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی الجھن کا جواب کہاں ملتا ہے۔ آپ کی الجھن کا جواب تو اسی شکل میں ہوسکتا تھا کہ ایک شے کے اجزاء فنا اور انتشار کے بعد از سر نومختلف گوشوں سے جمع ہو کر حیات تازہ حاصل کریں اور یہ تجربہ اسی طرح کا تھا۔ اور ” جُزء اً “ کا لفظ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور انھیں اپنی بات کا پورا جواب مل گیا تو پروردگار نے فرمایا کہ اب اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ عزیز بھی حکیم بھی ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے ‘ زندگی اور موت بھی اسی کے قبضے میں ہے ‘ وہ جسے چاہے زندہ کرے اور جسے چاہے موت سے ہمکنار کرے۔ البتہ زندگی اور موت کا راز کیا ہے اس راز کا افشاء دنیا میں کرنا اس کی حکمت کا تقاضا نہیں ‘ قیامت کے دن تم ہر غیب کی چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

(مثال ان لوگوں کے انفاق کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کے راستے میں اس دانے کی مانند ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوتی ہیں اور ہر بالی میں سو دانے ہیں۔ اور اللہ افزونی عطا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اللہ بڑی گنجائش والا ہے اور علم والا ہے

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْـبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْـبُلَۃٍ مِّائْـۃُ حَبَّۃٍ ط وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ مثال ان لوگوں کے انفاق کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کے راستے میں اس دانے کی مانند ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوتی ہیں اور ہر بالی میں سو دانے ہیں۔ اور اللہ افزونی عطا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ اللہ بڑی گنجائش والا ہے اور علم والا ہے) (261) ربط کلام اصل سلسلہ بیان جہاد اور انفاق سے متعلق تھا۔ پھر درمیان میں ” لا اکراہ فی الدین “ سے ایک ضمنی بحث پیدا ہوگئی ‘ پروردگار نے اس کے بارے میں ضروری رہنمائی عطا فرمائی اور اس کی تسہیل کے لیے تین مثالیں بیان فرمائیں۔ آیت الکرسی سے پہلے انفاق کا حکم دیا گیا تھا جو سلسلہ کلام کی دوسری کڑی ہے۔ اب پھر اسی مضمون کو لیا جا رہا ہے تاکہ سلسلہ کلام مربوط رہے۔ انفاق پر زور دینے کا سبب قرآن کریم میں اللہ کے دین کی نشرواشاعت ‘ اللہ کی زمین پر اسے غالب کرنے اور اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے بار بار جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ اور جہاد کے حکم کے ساتھ بالعموم انفاق کا حکم بھی موجود ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی اللہ کے حکم کے مطابق بار بار لوگوں کو جہاد کی ترغیب کے ساتھ ساتھ انفاق کی ترغیب بھی دی ہے۔ لیکن جو لوگ اس کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھتے وہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی اس کا مذاق اڑاتے تھے اور اس کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرتے تھے اور آج کے دور میں بھی یہی دونوں حرکتیں کی جا رہی ہیں۔ قرآن کریم کے پیش نظر واضح طور پر دو حقیقتیں ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن کریم کا نزول اور اللہ کے رسول کریم ﷺ کی بعثت محض اس لیے نہیں تھی کہ لوگوں تک کلمہ نصیحت پہنچ جائے یا زیادہ سے زیادہ ان پر اتمام حجت ہوجائے ‘ بلکہ رسول کی بعثت کا مقصد درحقیقت یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر بقدر امکان اور بقدر ہمت غالب اور نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ جب بھی اللہ کا نبی اللہ کے دین کو نافذ کرے گا تو وہ ہوا یا خلا میں تو نہیں کرے گا ‘ اس کے لیے قطعہ زمین درکار ہوگا اور اس قطعہ زمین پر ایک قوم آباد ہوگی جو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین پر ایمان لانے والی اور اللہ کے دین کو غالب و نافذ کرنے میں اللہ کے رسول کا دست وبازو ہوگی۔ یہ لوگ ایک بیس اور مرکز بنانے کے بعد اس دعوت الی اللہ کو عام کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ ان کاوشوں میں قدم قدم پر شیطانی لشکر اور لا دینی گروہ راستہ روکنے کی کوشش کریں گے ‘ تصادم ہوگا ‘ لڑائی تک نوبت پہنچے گی ‘ اس طرح جہاد و قتال کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ اور مزید یہ کہ جو لوگ ان انقلابی کوششوں میں اللہ کے رسول ﷺ کا ساتھ دیں گے وہ اپنے بیوی بچوں سمیت اسی اسلامی ریاست کے مکین بھی ہوں گے۔ ان کے پیش نظر تو رات دن اسلامی جہاد و قتال کی مصروفیت ہوگی۔ بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جو کاروبار کے لیے فرصت نکال سکیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ ایک طرف جنگی مصارف کی ضرورت بڑھتی جائے گی اور دوسری طرف ملک کے مکینوں کی مالی حالت روز بر وز پتلی ہوتی جائے گی۔ مجبوراً اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوگا کہ اس تحریک کے اعوان و انصار اور ارکان اپنا پیٹ کاٹ کر اس قافلے کو آگے بڑھنے کی ضرورتیں مہیا کریں اور اس ملک کے رہنے والوں کی غذا کا انتظام کریں۔ یہ وہ ضرورت ہے جو ہر رسول کو اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے پیش آتی ہے۔ آنحضرت ﷺ بھی اسی ضرورت سے دوچار تھے۔ اور مزید برآں یہ بات بھی کہ ایک نوزائیدہ مملکت کا اپنا کوئی خزانہ نہیں ہوتا۔ مدینے کی ریاست ایک نظریے اور اس نظریے پر ایمان لانے والے چند ہزار لوگوں پر مشتمل تھی ‘ جن میں تاجر بھی تھے اور کاشت کار بھی ‘ مزدور بھی تھے اور ہنر مند بھی۔ اس محدود ذریعہ آمدنی کے علاوہ اسلامی ریاست کا کوئی مستقل ذریعہ نہ تھا۔ ان کا بنک مسلمانوں کی جیبیں اور انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ تھا۔ اس لیے قرآن کریم اور آنحصرت ﷺ بار بار انفاق کی ترغیب دیتے تھے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ کار ہی نہ تھا۔ اور اسی کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مخالف یا منافق قوتوں کا سارا زور بھی اس بات پر صرف ہوتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح اپنے ملنے جلنے والوں کو مالی تعاون سے روکیں یا ان کے جذبے کو سرد کریں۔ چناچہ یہود کے طعنے اور تمسخر اور عبداللہ بن ابی ٔ کی اپنے قبیلے کے لوگوں میں انفاق کی کوششوں کو روکنے کا ذکر قرآن کریم کے ریکارڈ پر ہے۔ کیونکہ مخالفین جانتے تھے کہ پوری اسلامی ریاست اور اس کے مقاصد کی بجاآوری کا دارومدار مسلمانوں کے جذبہ انفاق پر ہے۔ اگر اسے سرد کردیا جائے تو اسلامی تحریک کو بےحد پریشانیوں کا سامنا ہوسکتا تھا۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان مملکتوں میں وسائل کی فراوانی کے باوجود دینی علوم کی بقا کی ذمہ داری اور دینی ضرورتوں کے احیاء کا دارومدار دینی مدارس اور اسلامی جماعتوں پر ہے۔ ان کے پاس کوئی مستقل وسائل نہیں۔ وہ ہمیشہ اسی ایک ذریعے کو کام میں لانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے آنحضرت ﷺ کام لیتے تھے۔ غیر مسلم ‘ لا دین قوتوں اور ان کے ایجنٹوں نے اس راز کو سمجھ لیا ہے کہ محض اس جذبہ انفاق کے بل بوتے پر ملک میں ہزاروں ادارے کام کر رہے ہیں اور لاکھوں طلبہ کے قیام و طعام اور درس و تدریس کی ذمہ داریاں ان اداروں نے اٹھا رکھی ہیں۔ اگر لوگوں کو ان کی طرف سے بدگمان کردیا جائے یا ان کی امداد کرنے پر پابندی لگا دی جائے تو علم کے یہ سرچشمے اور دین کی یہ پناہ گاہیں خود بخود اجڑجائیں گی۔ قرآن اور صاحب قرآن کی ترغیب کے پیچھے ایک اور اہم حقیقت بھی کارفرما ہے۔ وہ یہ کہ انسان جس طرح اپنی ذات ‘ اپنی اولاد ‘ اپنے والدین ‘ اپنے احباب اور اپنی محبوب چیزوں سے پیار کرتا ہے اس سے بڑھ کر وہ اپنے مال و دولت سے پیار کرتا ہے۔ بسا اوقات ایسا دیکھا گیا ہے کہ انسان مال و دولت کو بچانے کے لیے جان دے دیتا ہے۔ اور اس طرح کے مقولے تو ہمارا روز مرہ بن چکے ہیں کہ کسی آدمی نے اپنے دوست سے کہا ” مجھے پیسوں کی ضرورت ہے آپ براہ کرم میرے ساتھ تعاون کریں۔ “ اس کے دوست نے جواب دیا ” گر جان می طلبی حاضر است “ کہ اگر تم جان مانگتے ہو تو وہ تو حاضر ہے۔ لیکن ” گر زر می طلبی سخن دریں جاست “ اگر زر یا پیسے مانگتے ہو تو اس میں سوچنا ہوگا۔ یعنی جان دینے کو آدمی بےساختہ تیار ہوجاتا ہے لیکن زر دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ انسان جن بتوں کی پوجا کرتا اور جو بت اس نے اپنے دل میں بٹھا رکھے ہیں ‘ ان میں سب سے بڑا بت دولت ہے۔ ایک جھونپڑے میں رہنے والا بھی اسی کے لیے آہیں کھینچتا ہے اور ایک محل میں رہنے والا بھی اسی کے لیے ایمان بیچتا ہے۔ اقبال نے بھی اس کو بت قرار دیا اور یہ بتایا کہ لا الہ نے جو بت توڑے ہیں ان میں یہ بت بھی شامل ہے۔ ؎ یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ اسلام نے اپنی دعوت کی بنیاد توحید کو بنایا ہے۔ وہ کسی ایسے بت یا ایسے آستانے کو باقی نہیں چھوڑتا جس سے توحید کو نقصان پہنچے۔ اللہ کی جس طرح نماز پڑھی جاتی ہے اسی طرح اس سے محبت کرنا بھی ضروری ہے۔ سر بھی اسی کے سامنے جھکنا چاہیے اور دل بھی اسی کی محبت سے لبریز ہونا چاہیے۔ انفاق کا بار بار حکم دینے سے مقصود یہ ہے کہ تم جس اللہ پر ایمان لائے ہو اور اس نے تمہیں ایک دین عطا کیا ہے اس کے مطابق زندگی گزارنا ‘ اسی کو نافذ اور غالب کرنا یہ تمہارا اولین مقصد ہے۔ باقی ہر چیز اس مقصد پر قربان ہونی چاہیے۔ آدمی ہمیشہ سے اپنی ذات پر ‘ اپنے خاندان پر اور بعض دفعہ قومی تعصب میں مبتلا ہو کر اپنی قومی ضرورتوں پر خرچ کرتا آیا ہے۔ لیکن ان سب سے بلند ہو کر کلمہ حق کے راستے میں خرچ کرنا اور اس نظریے کی سر بلندی کے لیے خرچ کرنا جس پر ایک مسلمان ایمان لاتا ہے یہ وہ تصور ہے جس کو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک معاشی نقطہ نظر بالکل تبدیل نہ ہوجائے۔ جس طرح مادہ پرست لوگ پیسہ کمانے کے لیے جیتے اور پیسے پیسے پر جان دیتے ہیں اور انکی نگاہ ہر وقت نفع و نقصان کی میزان پر جمی رہتی ہے۔ ایک مسلمان کو اس سے بڑھ کر اپنا ایمان اور اپنا دین عزیز ہونا چاہیے۔ وہ اسی کے لیے جئے اسی کے لیے مرے اور اسی کے نفع و نقصان کی میزان کو ہمیشہ سامنے رکھے۔ اسے اپنی ذات ‘ اپنے بیوی بچوں اور اپنے خاندان پر بجا طور پر اپنی دولت خرچ کرنے کا حق ہے۔ لیکن جب اللہ کے دین اور دین کی بنیاد پر قائم ہونے والے ملک کو اس کی دولت کی ضرورت پڑے ‘ جہادی مصارف اس سے دولت کا تقاضا کریں ‘ ملک کی بقا اور ملک کا دفاع اس کی دولت کی اپیل کریں تو اب اس کو اپنی دولت کا بیشتر حصہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے بیقرار ہوجانا چاہیے۔ جس طرح صحابہ کرام بار بار پوچھتے تھے کہ ہم کس قدر خرچ کریں ؟ مقصد یہ تھا کہ اجازت ہو تو سب کچھ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لٹا دیں۔ اور صدیق اکبر ؓ نے اسی جذبے کو اپنی سنت بنایا۔ یہ وہ معاشی نقطہ نظر ہے جس سے قوموں کی سوچ کا دھارا پلٹتا ہے ‘ ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں ‘ وہ ایک ہی دائرے میں اپنی زندگی گزارنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ‘ انھیں یکسوئی اور آسودگی نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہ تصور ہے جسے پیدا کرنے کے لیے یہاں قرآن کریم نے اس موضوع کے مختلف پہلوئوں پر تین رکوعوں میں روشنی ڈالی ہے۔ فی سبیل اللہ کا مفہوم اس آیت کریمہ میں انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے اور اس کو مثال سے واضح فرمایا ہے۔ اس فضیلت کو ذکر کرنے سے پہلے فی سبیل اللہ کا مفہوم سمجھ لینا چاہیے۔ جس انفاق کی فضیلت بیان ہو رہی ہے اس میں یہ لازمی شرط ہے کہ وہ فی سبیل اللہ ہو۔ فی سبیل اللہ سے مراد ہر وہ خرچ ہے جو اللہ کے قانون یعنی شریعت کے مطابق اور خالص اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ چاہے وہ اپنی َضروریات کی تکمیل میں ہو ‘ بال بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ہو ‘ اپنے اعزہ و اقرباء کی خبر گیری کے لیے ہو ‘ محتاجوں کی اعانت کے لیے ہو ‘ رفاہِ عام کے کاموں میں ہو ‘ یا اشاعت دین و جہاد کے مقاصد میں ہو ‘ یہ تمام کام فی سبیل اللہ میں شامل ہیں۔ جب تک ان میں سے ہر کام کو کرنے سے پہلے اللہ کی رضا کے حصول کو مقصد بنایا جائے اور شریعت کے کسی حکم کو توڑنے کی جرأت نہ کی جائے ‘ بلکہ ایک ایک حکم کی پابندی کی جائے تو وہ یقینا فی سبیل اللہ کی تعریف میں شامل ہے۔ یہاں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ‘ اگر وہ واقعی شریعت کے احکام کے مطابق اور اللہ کی رضا کے حصول کے لیے کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اجر وثواب کے اعتبار سے ان میں اس طرح ترقی دیتا ہے جس طرح کاشت کار ایک دانہ گندم بوتا ہے۔ اس دانے سے ایک سوئی پھوٹتی ہے پھر وہ ایک تنا بنتی ہے ‘ اس میں پھر سات بالیاں نکلتی ہیں اور ایک ایک بالی میں سو سو دانے ہوتے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ایک دانے میں سو دانوں کی برکت پیدا فرماتا ہے۔ ایک مومن کے انفاق کا بھی یہی حال ہے۔ اگر وہ ان تمام شرائط کے مطابق خرچ کریں جو شریعت نے عائد کی ہیں تو یقینا اللہ کے راستے میں دیا ہوا ایک ایک دانہ سات سو دانے کی صورت اختیار کرے گا۔ اللہ کا عام قانون یہ ہے کہ وہ ایک نیکی پر دس گنا اجر عطا فرماتا ہے۔ لیکن یہاں فرمایا گیا ہے کہ ہم ایک عمل کا اجر سات سو گنا تک بھی بڑھا دیتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ عمل اپنے اندر وہ صفات رکھتا ہو جو اللہ کے یہاں بڑھنے کے لیے مقدر ہیں۔ اس آیت میں غور کرنے سے تین شرطیں سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایک کاشت کار ایک دانہ گندم سے اس وقت سات سو دانہ حاصل کرنے کی امید رکھ سکتا ہے جب وہ دانہ پوری طرح صحت مند ہو۔ اور اگر اس دانے کو گھن کھاچکا ہو تو اس سے سات سو دانے تو کیا پیدا ہوں گے وہ تو سرے سے پھوٹنے کے لائق ہی نہیں۔ وہ زمین کے پیٹ میں گل سڑ کر ختم ہوجائے گا۔ یہی حال اعمال کا بھی ہے اگر ایک ایک عمل اپنے اندر پوری شرعی صحت رکھتا ہے یعنی وہ بالکل اسی طرح وجود میں لایا گیا ہے جیسے شریعت حکم دیتی ہے اور اس کے پیچھے وہی جذبہ کارفرما ہے جو عبادت کی جان ہے تو پھر تو اس میں پھوٹنے کی صلاحیت موجود ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ اللہ اس کو برگ و بار عطا فرمائے گا۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ دانہ ڈالنے والا کاشت کار بھی کاشتکاری کے طریقوں سے پوری طرح واقف ہو۔ یعنی اسے معلوم ہو کہ دانہ کس طرح بویا جاتا ہے ‘ کس موسم میں بویا جاتا ہے ‘ اس کی ایک ایک بات سے وہ واقف ہو۔ اور تیسری بات یہ کہ جس زمین میں وہ دانہ بویا جائے وہ زمین عمدہ ہو۔ قوت روئیدگی سے بھر پور ہو ‘ اس کو وہ عوارض لاحق نہ ہوں جن کی وجہ سے زمین قوت روئیدگی سے محروم ہوجاتی ہے۔ ان تینوں شرطوں میں سے اگر ایک شرط بھی مفقود ہو تو دانہ سات سو گنا تک کیا بڑھے گا اس کے اگنے کے امکانات بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ یہی حال انسانی عمل اور انفاق کا بھی ہے۔ ایک شخص جو مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے اسے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ مال اللہ کے راستے میں دینے کے قابل ہے یا نہیں۔ اگر خدا نخواستہ وہ کسی حرام ذریعے سے کمایا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ حرام مال کو قبول نہیں کرتا۔ اسی طرح دوسری شرط یہ ہے کہ خرچ کرنے والے کی نیت نیک اور صالح ہو۔ اگر وہ کسی بدنیتی یا نام و نمود کے لیے خرچ کرتا ہے تو وہ اس ناواقف کاشتکار کی طرح ہے جو دانہ کسی ایسی جگہ ڈال دے جہاں سے وہ اگ نہ سکتا ہو۔ اور تیسری شرط یہ ہے کہ مال خرچ کرنے والا اپنا مال اس جگہ خرچ کرے جو خرچ کی واقعی جگہ ہو۔ اور اگر وہ کسی ایسی جگہ خرچ کر دے جہاں خرچ کرنا سرے سے جائز ہی نہ ہو تو چاہے وہ کتنے اخلاص سے کرے تو یہ خرچ کرنا بیکار جائے گا۔ وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ کا مفہوم اس کے بعد فرمایا وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ (اللہ بڑھا دیتا ہے اور برکت دے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے) اس کا ایک مطلب تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سات سو گنا تک اجر وثواب میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے لیکن یہ اس کے لیے کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے۔ اور اس کا چاہنا اور اس کی مشیت اس کی حکمت کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ وہ اسی کے لیے چاہتا ہے جس میں اس کی اہلیت ہوتی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اہل کو اس کی مشیت محروم کر دے اور نااہل کو نواز دے۔ البتہ اہلیت پیدا ہونے کے لیے تین شرائط کا ابھی ذکر ہوا ہے۔ وہ کم سے کم شرائط ہیں جو انفاق کو یا کسی بھی نیک عمل کو قبولیت کے قابل بناتی ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان شرائط کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ سات سو گنا اضافہ فرماتا ہے ‘ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کے لیے وہ چاہتا ہے اس کے اجر وثواب میں اس سے بھی کہیں زیادہ اضافہ فرما دیتا ہے۔ کیونکہ بعض احادیث سے اتنا اصافہ بھی ثابت ہے جو ہمارے پیمانوں میں نہیں آسکتا۔ اور جہاں تک انفاق کا تعلق ہے اس میں بھی غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان تین شرئط کے علاوہ اور بھی کچھ صفات ایسی ہیں جو اجر وثواب میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ایک سوال کے جواب میں ایسی ہی چند باتوں کو جمع کردیا ہے جس سے اجر وثواب میں اضافہ کی امید کی جاسکتی ہے۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ” سب سے افضل صدقہ کیا ہے ؟ “ آپ ﷺ نے فرمایا ” سب سے افضل صدقہ اس بےمایہ کا ہے جو اپنی ضرورتیں روک کر اور اپنا پیٹ کاٹ کر اپنا مال اس رشتہ دار پر خرچ کرے جو رشتہ دار اس کا نام لینے کا روادار نہ ہو۔ بلکہ جب بھی یاد کرے تو برے لفظوں سے یاد کرے۔ “ اس میں دیکھئے تین باتیں جمع ہوگئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ دینے والا خود نادار اور انتہائی ضرورت مند ہو۔ اب وہ اگر کسی دوسرے پر خرچ کرتا ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کس قدر اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے بےچین ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ وہ کسی عام آدمی پر خرچ نہیں کرتا بلکہ اپنے رشتہ دار پر خرچ کرتا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عام لوگوں کی نسبت اپنے اعزہ و اقربا پر خرچ کرنے کو زیادہ لائقِ فضیلت ٹھہرایا ہے۔ اور تیسری بات یہ کہ وہ ایسے عزیز پر خرچ کر رہا ہے جو کبھی اس کے لیے کلمہ خیر کہنے کے لیے تیار نہیں۔ بلکہ ہمیشہ اس کو برے لفظوں سے یاد کرتا ہے۔ یہ شخص جانتے ہوئے بھی اگر اس پر خرچ کرتا ہے تو یقینا اس لیے کرتا ہے کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہوجائے۔ تو اس میں کس قدر اخلاص اور کس قدر للہیت ہے۔ اور یہی وہ بنیادی چیز ہے جو اجر وثواب کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ کا مفہوم اس کے بعد ارشاد فرمایا وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ (اللہ بڑی گنجائش والا اور علم والا ہے) ان دو صفات کو لانے کی ضرورت شاید اس لیے پیدا ہوئی کہ آدمی جب ان فضائل اور ترغیبات کو دیکھتا ہے کہ ان میں اجر وثواب کی اس قدر بہتات ہے تو کبھی شبہ میں مبتلا ہونے لگتا ہے کہ اربوں کھربوں لوگ اللہ کے راستے میں انفاق کرتے ہیں۔ اگر ایک ایک شخص کو اللہ نے اسی تناسب سے نوازا تو معاملہ کہاں تک پہنچے گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض ترغیب کی باتیں ہیں ‘ اس کا حقیقت نفس الامری سے کوئی تعلق نہیں۔ شاید اسی شب ہے کے ازالے کے لیے فرمایا کہ تم اللہ کے خزانے کی وسعتوں کو جان نہیں سکتے۔ تمہیں کیا معلوم اس کے خزانوں کی وسعتوں کا عالم کیا ہے۔ اور تم اللہ کے جود و کرم کو بھی شاید اپنے حوصلوں پر قیاس کرتے ہو اس لیے تمہیں تعجب ہوتا ہے کہ اس وسعت کے ساتھ ایک ایک شخص کو کیسے دیا جاسکتا ہے ؟ اور کچھ نہیں تو ذرا غور و فکر کر کے دیکھو کہ خشکی اور تری میں اللہ کی بیشمار مخلوقات ہیں جنھیں اللہ رزق دیتا ہے۔ سمندر میں اتنی بڑی بڑی مچھلیاں ہیں کہ جن کی خوراک کا اندازہ کرنا خشکی پہ رہنے والوں کے لیے ناممکن ہے اور خود جنگلوں میں کتنے بڑے بڑے جانور پائے جاتے ہیں جن کی خوراک کا بظاہر کوئی انتظام نہیں لیکن وہ خوراک کھا رہے ہیں۔ جو ذات ان سب کی خوراک کی کفالت کرتی ہے اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ اپنے بندوں کو اس وسعت کے ساتھ نوازے۔ اور جہاں تک اس کے جودو کرم کا تعلق ہے آدمی یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ اس کی زمین پہ بسنے والے انسانوں میں ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اس کے نام لینے کی روادار نہیں۔ کیمیونسٹوں نے سرے سے کائنات میں خدا کے وجود سے ہی انکار کردیا ہے۔ اسی طرح کتنے لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے احکام کی پروا نہیں کرتے۔ کتنے لوگ ہیں جو اس کے ساتھ نہ جانے کس کس کو شریک بنائے بیٹھے ہیں اور کتنے ایسے حکمران ہیں جنھوں نے اللہ کے تخت کے مقابلے میں اپنا تخت سلطنت بچھا رکھا ہے۔ لیکن اللہ سب کو روزی دے رہا ہے۔ بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے انکار کرنے والوں کو زیادہ روزی دیتا اور زیادہ وسائل فراہم کرتا ہے تاکہ ان کی فائل اچھی طرح موٹی ہوجائے۔ اگر وہ اپنے جودو کرم میں انسانوں جیسے ظرف کا مالک ہوتا تو کبھی کافر یا مشرک کو کھانا نہ ملتا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دنیا کی کوئی قیمت بھی ہوتی تو وہ کافر کو کبھی پانی کا گھونٹ بھی نہ دیتا۔ لیکن بات دراصل یہ ہے کہ ہم بعض دفعہ اللہ کے ظرف کو اپنے ظرف پر قیاس کرنے لگتے ہیں۔ اور پھر یہ خیال ہونے لگتا ہے کہ اللہ کے انعام و اکرام کے وعدے خالی باتیں ہیں ‘ جن پر کبھی عمل کا موقع نہیں آئے گا۔ اللہ تو خیر خالق ارض و سما اور تمام مخلوقات کا رازق ہے۔ ہم تو انسانوں میں دیکھتے ہیں کہ بعض انسان ایسے حوصلہ مند ہوتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کی حوصلہ مندی کو سمجھنے سے عاجز ہوجاتے ہیں۔ نواب عبدالرحیم خانخاناں جہانگیر کے مصاحبوں میں سے تھے۔ اپنی حوصلہ مندی اور سخاوت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ ان کے بعض واقعات نہایت حیران کن ہیں۔ وہ دہلی سے آگرہ جانے کے لیے نکلے ‘ آگرہ دہلی سے پندرہ منزل پر ہے اور ایک منزل کا فاصلہ پندرہ میل ہوتا ہے۔ جب انھوں نے پہلی منزل پر پڑائو ڈالا ‘ خیمے لگ گئے ‘ دربار آراستہ ہوگیا تو نواب عصر کے بعد دربار میں اپنی کرسی پر بیٹھا تو سامنے دروازے پر ایک درویش آ کر کھڑا ہوا اور اس نے ایک شعر پڑھا : منعم بکوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت منعم ویسے تو امیر اور مخیر آدمی کو کہتے ہیں ‘ لیکن اس میں دلچسپ بات یہ تھی کہ بادشاہ کی طرف سے نواب خانخاناں کو منعم خان کا خطاب مل چکا تھا۔ اس لیے اس لفظ کی لذت دو گونہ ہوگئی تھی۔ شعر کا معنی یہ ہے کہ ” امیر آدمی پہاڑوں ‘ جنگلوں اور بیابانوں میں بھی اجنبی نہیں ہوتا۔ وہ جہاں بھی جاتا ہے خیمہ لگاتا ہے اور دربار آراستہ کرتا ہے۔ “ نواب خانخاناں یہ شعر سن کر اتنا خوش ہوا کہ اس نے خزانچی کو حکم دیا کہ اس کو ایک لاکھ روپیہ دے دیا جائے۔ درویش کو ایک لاکھ روپیہ ملا تو اس کی خوشی اور حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اگلی منزل پر نواب نے پڑائو ڈالا تو وہ درویش پھر آیا اور اس نے پھر وہی شعر پڑھا۔ نواب نے پھر ایک لاکھ روپیہ دینے کا حکم دیا۔ اس طرح وہ پانچ چھ دفعہ آیا اور ہر دفعہ اس کو ایک ایک لاکھ روپیہ ملتا رہا۔ آخر اس نے سوچا کہ اتنا بڑا انعام آج تک نہ کسی نے دیا نہ کسی نے لیا۔ ایسا نہ ہو نواب ناراض ہو کر سارا چھین لے۔ بہتر یہ ہے کہ اب نہ جاؤں۔ چناچہ نواب اپنے معمول کے مطابق دربار میں آ کر بیٹھا اور دیر تک اس درویش کا انتظار کرتا رہا۔ جب وہ نہ آیا تو کہنے لگا کہ ” کم ظرف نکلا ‘ نہ جانے کیا گمان کر بیٹھا۔ حالانکہ ہم نے پہلے ہی دن خزانچی کو حکم دے دیا تھا کہ پندرہ لاکھ روپیہ الگ کر کے اس درویش کے لیے رکھ دیا جائے۔ “ اندازہ فرمایئے اگر ایک نواب کی حوصلہ مندی کا عالم یہ ہے تو اللہ کے بارے میں یہ سوچنا کہ اتنا بڑا اجر وثواب وہ کیونکر دے گا ؟ یہ بڑی کم ظرفی کی بات ہے۔ اس لیے فرمایا کہ ” اللہ تو بہت وسعت والا ہے بڑی کشادگی والا ہے۔ “ اور مزید فرمایا کہ ” وہ علم والا بھی ہے۔ “ یعنی یہ مت سمجھو کہ اسے ان کے اعمال کی خبر نہیں ہوگی۔ یا وہ عمل کرنے والے کے احساسات سے باخبر نہیں۔ فرمایا وہ وسعت والا بھی ہے اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایک ایک شخص کے بارے میں ہر بات سے آگاہ ہے۔ اس کی آگاہی میں کوئی کمی نہیں۔ جب اس کے خزانے بھی بےپناہ ہیں اور اس کا علم بھی لا محدود ہے تو پھر ایک بندہ اللہ کی رضا کے حصول کے لیے انفاق میں کیوں کمی کرے۔
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کے راستے میں پھر اس کے پیچھے نہ احسان جتاتے ہیں نہ دل آزاری کرتے ہیں ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس۔ اور نہ تو ان کے لیے کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنَّا وَّلَآ اَذًی لا لَّہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ج وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ (جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کے راستے میں پھر اس کے پیچھے نہ احسان جتاتے ہیں نہ دل آزاری کرتے ہیں ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس۔ اور نہ تو ان کے لیے کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے) ( 262) انفاق کرنے والوں کے لیے نمونہ اس آیت کریمہ میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کے لیے ایک نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے راستے میں اس طرح خرچ کریں کہ ہمیں اس کا زیادہ سے زیادہ اجر وثواب ملے تو وہ ان لوگوں کا نمونہ سامنے رکھیں جن کی اللہ نے تعریف فرمائی ہے اور جن کے لیے ایسے اجر وثواب کی امید دلائی گئی ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں ممکن نہیں۔ ان میں پہلی بات یہ ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔ یعنی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مال اللہ کی ملکیت ہے جو ہمارے پاس امانت ہے۔ مال کا مالک قیامت کے دن ہم سے باز پرس کرے گا کہ تم نے اس مال کو کہاں کہاں خرچ کیا تھا۔ اگر تو ہم نے ایسی جگہ خرچ کیا جہاں اس نے اجازت دی ہے (اور وہ جگہ صرف فی سبیل اللہ ہے) تو امید ہے کہ اللہ کرم فرمائے گا۔ اور اگر ایسی جگہ خرچ کیا جہاں اس نے اجازت نہیں دی مثلاً ہم نے اس کو بےضرورت یا کسی گناہ کے کام میں یا اپنے سفلی جذبات کی تسکین کے لیے خرچ کیا یا ایسے لوگوں کو دیا جو لوگوں میں بےحیائی پھیلاتے یا اللہ کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ وہ خرچ ہے جو فی سبیل اللہ کی تعریف میں نہیں آتا۔ ایسا خرچ کرنے سے پروردگار نے منع فرمایا ہے۔ اور دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ نمو نے کے لوگ وہ ہیں کہ وہ جب صحیح مال ‘ صحیح جذبے سے صحیح جگہ خرچ کرتے ہیں تو پھر اس کے پیچھے دو حرکتیں نہیں کرتے۔ وہ دو حرکتیں یہ ہیں کہ جس پر وہ خرچ کرتے ہیں کبھی اس پر احسان نہیں جتلاتے ‘ کبھی بھول کر بھی اس کے سامنے اپنی نیکی کا ذکر نہیں کرتے ‘ برسوں بعد بھی اس کا تذکرہ گناہ سمجھتے ہیں اور نہ وہ یہ حرکت کرتے ہیں کہ اگر وہ اس شخص کے بارے میں محسوس کریں کہ اب چونکہ اس کے مالی حالات اچھے ہوگئے ہیں اس لیے ہمارے پاس آنا جانا اس نے کم کردیا ہے تو جب بھی اس سے سامنا ہو تو اپنی نیکی کا تذکرہ کرنے کے بعد اس کی عزت نفس مجروح کریں اور لوگوں کے سامنے اسے طعنہ دیں کہ تم وہی ہوناجو ہمارے پاس فلاں فلاں ضرورت کے لیے آتے تھے ‘ اگر ہم تمہاری مدد نہ کرتے تو تم جانتے ہو تمہارا کیا انجام ہوتا۔ کمینے لوگوں کی یہ خصلت ہوتی ہے کہ جب وہ کسی پر احسان کرتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ وہ شخص اب ان کا بندہ ٔ بےدام بن کر رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے والوں کا یہ طریقہ نہیں ہوتا۔ وہ جب اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں تو اللہ ہی سے اس کا اجر وثواب چاہتے ہیں۔ تو اللہ بھی ان کے ساتھ ایسا فیاضانہ معاملہ کرتا ہے اور ان کو ایسے انعامات سے نوازتا ہے جن کا تصور کرنا بھی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ اس کے بارے میں پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی کہ جب وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں تو ان کا اجر بھی ان کے رب کے پاس محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس اجر وثواب کے لیے وہ اسی کے دروازے پر جائیں گے جس کے لیے انھوں نے خرچ کیا ہے ‘ کسی اور دروازے پر جانے کی ذلت انھیں نہیں اٹھانی پڑے گی۔ اور دوسری یہ بات ارشاد فرمائی کہ ان کو جو اجر دیا جائے گا وہ یہ ہوگا کہ انھیں خوف و حزن سے بےنیاز کردیا جائے گا کہ ” نہ انھیں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے “ یعنی نہ انھیں مستقبل کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا۔ ایسی جگہ جس میں آدمی خوف و حزن سے محفوظ ہوجائے کہ نہ ماضی کے کاموں پر کبھی اسے پچھتانا پڑے اور نہ مستقبل کے اندیشے اور واہمے اسے پریشان کریں ‘ ایسی جگہ سوائے جنت کے اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ دنیا میں ان دونوں چیزوں سے بےنیاز ہونا انسان کے بس کی بات نہیں۔ ایک بادشاہ تخت سلطنت پر بیٹھ کر بھی ان دونوں باتوں کا شکار رہتا ہے اور ایک فقیر جھونپڑے میں رہ کر بھی انہی دونوں احساسات کی گرفت میں رہتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ انھیں جنت عطا فرمائے گا۔ لیکن جنت کی یہ تعبیر ان کے اجر وثواب کے حوالے سے شاید اس لیے اختیار فرمائی گئی ہے کہ جب انھوں نے اللہ کے راستے میں خرچ کیا تو ان دونوں احساسات سے بلند ہو کر کیا۔ انھوں نے یہ بالکل پرواہ نہیں کی کہ میری بھی اولاد ہے ‘ میری اپنی بھی ضرورتیں ہیں ‘ بچوں کی ضرورتیں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھیں گی اور میں جو خرچ کر کے اپنی پونچی کے بہت سے حصے سے محروم ہوگیا ہوں اب میرا کیا بنے گا ؟ اور نہ ان کو یہ خیال آیا کہ آئندہ چل کر اللہ بہتر جانتا ہے کیسے حالات پیدا ہوں تو بگڑے ہوئے حالات میں میں کس طرح اپنی ضرورتیں پوری کرسکوں گا اور یہی وہ باتیں ہیں جو شیطان خرچ کرنے والے کے دل میں ڈالتا ہے تو اس کا ہاتھ خرچ کرنے سے رک جاتا ہے۔ انھوں نے چونکہ ان دونوں باتوں سے بلند ہو کر اللہ کے راستے میں خرچ کیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو اجر وثواب بھی وہ دیا جس میں انھیں نہ خوف لاحق ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Ayahs 2:263–264

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

دلداری کا ایک کلمہ کہہ دینا اور در گزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری لگی ہوئی ہو۔ اور اللہ بےنیاز اور بردبار ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو احسان جتا کر اور دل آزاری کر کے اس شخص کی طرح جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کے دکھاوے کے لیے اور اللہ اور روز آخرت پر وہ ایمان نہیں رکھتا۔ ایسے شخص کی تمثیل اس طرح ہے کہ ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو ‘ پھر اس پر زور کا مینہ برسے تو وہ اسے چھوڑ جائے سپاٹ پتھر۔ وہ قادر نہیں ہوں گے کسی چیز پر اس میں سے جو انھوں نے کمایا اور اللہ ناشکروں کو بامراد نہیں کرے گا

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیْرٌمِّنْ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُہَآ اَذًی ط وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ۔ (دلداری کا ایک کلمہ کہہ دینا اور در گزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری لگی ہوئی ہو۔ اور اللہ بےنیاز اور بردبار ہے) (263) قرآن کریم چونکہ اللہ کا کلام ہے اس لیے اس میں صرف حسن عمل کی ترغیب اور اس کے طریقے ہی نہیں بتائے گئے بلکہ کسی عمل میں حسن جس نزاکتِ احساس سے پیدا ہوتا ہے اس کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ اور ویسے بھی اسلام کا اصل موضوع انسان کی اصلاح ہے اور انسان کی اصلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے دل کی اصلاح نہ ہو۔ اس کے احساسات اور تصورات اس راستے پر نہ چلنے لگیں جن پر اسلام انھیں چلانا چاہتا ہے۔ احساسات کی اصلاح انسان کی بعض فطری مجبوریاں ہیں جس کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام اصلاحی احکام دیتا ہے۔ ایک مالدار آدمی کی یہ فطری کمزوری ہے کہ اس کے اندر ایک تفوق کا احساس اور برتری کا پندار ہوتا ہے۔ جب کوئی ضرورتمند سائل بن کر اس کے دروازے پر پہنچتا ہے تو اس کے احساس کو غذا ملتی ہے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ توانا ہوجاتا ہے۔ اگر تو سائل اس کے احساس کا لحاظ کرتے ہوئے عجز و نیاز کے پورے آداب بجا لاتا ہے تو اس کے برتری کے جذبے کو تسکین ملتی ہے تو وہ خوش ہو کر سخاوت کرتا ہے ‘ لیکن اگر لینے والے میں کسی حد تک خودداری کا احساس بھی پایا جاتا ہے کہ وہ سوال کرتا ہے تو خود داری کے ساتھ اور لیتا ہے تو بےنیازی کے ساتھ۔ یہ ادائیں برتری کے احساس کو زخمی کرتی ہیں جس کے نتیجے میں یا تو لینے والے ہاتھ کو جھٹک دیا جاتا ہے یا دیا جاتا ہے تو ناگواری کے ساتھ۔ اور بعض دفعہ چند سخت کلمات بھی زبان سے پھسل جاتے ہیں۔ ان احساسات کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو جب کوئی ضرورتمند آدمی تمہارے دروازے پر سائل بن کر آجائے تو تمہاری زبان سے نکلا ہوا دلداری کا ایک کلمہ اس کے زخموں پر مرہم بن سکتا ہے۔ اس لیے جب اس کی مدد کرو تو نہایت نرمی اور ملائمت سے کرو۔ اور ساتھ اس کو تسلی دو کہ اللہ بڑا کریم ہے وہ انشاء اللہ تمہارے دن پھیر دے گا۔ اور اگر تم اسے دینا نہیں چاہتے یا دینے کی پوزیشن میں نہیں ہو تو پھر بھی کسی محبت کے کلمہ کے ساتھ اس سے معذرت کرو۔ اس کو قول معروف فرمایا گیا۔ اور اگر تم محسوس کرو کہ لینے والے کا رویہ درست نہیں تو تمہیں اس پر برہم ہونے کی بجائے اس سے درگزر کرنا چاہیے۔ ہوسکتا ہے کئی دروازوں سے وہ ناکام لوٹا ہو اس وجہ سے اس کے اندر تلخی پیدا ہوگئی ہو۔ بعض دفعہ تلخیاں تلخیوں کو جنم دیتی ہیں۔ بھوک آدمی میں بعض دفعہ ردِّ عمل پیدا کرتی ہے۔ اگر ایسی کوئی بات تم محسوس کرو تو درگزر اور مغفرت سے کام لو۔ ایک اچھا بول اور درگزر کا رویہ اس مدد اور صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد دینے والا لینے والے کی دل آزاری کرے۔ اس سے پہلی آیت میں مَنّ اور اذٰی یعنی احسان جتلانا اور تکلیف دینا دو باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اب صرف تکلیف دینے کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کا مطلب شاید یہ ہے کہ تکلیف دینے سے تو تکلیف ہی ہوتی ہے یعنی کوئی بھی سخت بول اور ناروا بات آدمی کے دل کو چھلنی کردیتی ہے لیکن جب کوئی آدمی کسی پر احسان جتلاتا ہے تو وہ بھی تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ چونکہ دونوں باتوں کا نتیجہ تکلیف ہی ہے اس لیے تکلیف کا ذکر فرمایا اور مَنّ کا ذکر خودبخود اس کے اندر آگیا۔ اس کے بعد پروردگار نے اپنی دو صفتیں بیان فرمائیں کہ اللہ غنی ہے اور حلیم ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ سب سے زیادہ مالدار ہے اور سب سے زیادہ بےنیاز ہے ‘ کائنات میں جو کچھ ہے وہ اس کی ملکیت ہے اس کی تمام مخلوقات اسی کی نیاز مند ہیں۔ لیکن اس کے باوجودوہ اپنی مخلوقات سے کس قدر فیاضانہ سلوک فرماتا ہے۔ اسی طرح وہ حلیم بھی ہے کہ بیشمار لوگ اس کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں ‘ اس کے پیغمبروں کی بےادبیاں کرتے ہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کبھی اس پر انھیں فوری سزا نہیں دیتا۔ وہ سب کے ساتھ حلم اور بردباری کا سلوک فرماتا ہے۔ تمہیں اگر اللہ نے دولت کا کچھ حصہ عطا فرمایا ہے اور تم معمولی غنی ہوگئے ہو تو دیکھو اللہ کے اخلاق اپنے اندر پید اکرو۔ جس طرح وہ غنی ہو کر بھی حلیم ہے اور کسی کی بھی سرکشی اور گساخی کا نوٹس نہیں لیتا ‘ ہر ایک کو روزی دے رہا ہے اور سب کی ضرورتیں پوری کر رہا ہے ‘ اور اس کے خزانے سب کے لیے لٹائے جا رہے ہیں ‘ اس کا سورج سب کو روشنی اور حرارت دیتا ہے ‘ اس کا چاند سب پر اپنی حلاوت کے خزانے بانٹتا ہے ‘ اس کی زمین سب کے لیے غلہ اگاتی اور سب کے قدموں میں بچھی ہوئی ہے ‘ اس کی بارش سب کے صحنوں میں برابر برستی ہے ‘ جس طرح اس کے ماننے والوں کے آنگن میں پھول کھلتے ہیں اسی طرح اس کے انکار کرنے والوں کے باغیچوں میں بھی کھلتے ہیں۔ یہ صرف اس لیے ہے کہ وہ ان باتوں سے بےنیاز اور نہایت ہی بردبار ہے۔ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُْوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی لا کَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَـہٗ رِئَـآئَ النَّاسِ وَلاَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط فَمَثَلُـہٗ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلْدًا ط لاَ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْئٍ مِّمَّا کَسَبُوْا ط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (اے ایمان والو ! اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو احسان جتا کر اور دل آزاری کر کے اس شخص کی طرح جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کے دکھاوے کے لیے اور اللہ اور روز آخرت پر وہ ایمان نہیں رکھتا۔ ایسے شخص کی تمثیل اس طرح ہے کہ ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو ‘ پھر اس پر زور کا مینہ برسے تو وہ اسے چھوڑ جائے سپاٹ پتھر۔ وہ قادر نہیں ہوں گے کسی چیز پر اس میں سے جو انھوں نے کمایا اور اللہ ناشکروں کو بامراد نہیں کرے گا) ( 264) صَفْوَانٍ ۔ صَلْدًا کا معنی و مفہوم آیتِ کریمہ میں صَفْوَانٍ اور صَلْدًا کے الفاظ آئے ہیں۔ صفوان کے معنی چکنے پتھر یا چکنی چٹان کے ہیں اور صلد کے معنی سخت اور چکنی چیز کے ہیں۔ جس زمین میں کچھ نہ اگتا ہو اسے ارضٌ صَلدٌ کہتے ہیں۔ اسی طرح جس سر پر بال نہ اگتے ہوں اسے راسٌ صَلدٌ کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں تم اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر ضائع مت کرو۔ یہ دہرا نقصان ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ آدمی سرے سے اللہ کے راستے میں خیرات نہ کرے۔ اسے خیرات نہ کرنے کا گناہ تو ہوگا لیکن اس کا مال تو اس کے پاس محفوظ رہا۔ لیکن جو آدمی مال اللہ کے راستے میں دے دیتا اور خیرات کردیتا ہے لیکن اس کے بعد مَنّ یا اذٰی کے ارتکاب کی وجہ سے مال خرچ کرنے پر اسے کوئی صلہ نہیں ملتا۔ بلکہ یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اس کا نام ان لوگوں میں سے خارج کردو جنھوں نے اللہ کے راستے میں صدقات دیے ہیں۔ یعنی وہ اپنا مال خرچ کر کے بھی ان لوگوں میں شامل ہوتا ہے جنھوں نے سرے سے خرچ ہی نہیں کیا تو اس سے بڑی اور محرومی کیا ہوگی۔ یہ تو وہی بات ہوئی جیسے محاورے میں کہا جاتا ہے ” گھر بھی گنوایا اور بھڑوا بھی کہلایا “ اور پھر اسی پر بس نہیں تمثیل سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی نہیں سمجھا جائے گا کہ گویا اس نے صدقہ کیا ہی نہیں ‘ بلکہ اس کے بارے میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ اس شخص نے یہ حرکت کر کے نہ صرف صدقہ نہیں کیا بلکہ اس نے ایک جرم کیا ہے۔ اس لیے اس کی سزا دو گونہ ہوگی۔ ایک صدقہ نہ دینے کی سزا اور ایک اس جرم کی سزا کہ اس نے صدقہ دیکر احسان کیوں جتلایا اور صدقہ لینے والے کی عزت نفس کو مجروح کیوں کیا۔ اور یہ جرم اتنا بڑا ہے جیسے اس آدمی کا جرم جو بظاہر اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے ‘ لیکن حقیقت میں وہ اللہ کے لیے نہیں ‘ لوگوں کے دکھاوے کے لیے کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اسے ” شرکِ اصغر “ قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے یہ حرکت کر کے شرک کا ارتکاب کیا ہے۔ اور شرک کا گناہ ایسا ہے جسے اللہ کبھی نہیں بخشتا۔ مزید فرمایا کہ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کا گناہ شرک سے بھی بڑا ہے کیونکہ اس کی یہ حرکت کہ صدقہ کرنے کے بعد احسان جتلاتا ہے اور تکلیف پہنچاتا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نہ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ وہ آخرت کے دن کو مانتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ اللہ پر ایمان رکھتا تو اسے یقین ہوتا کہ میں کسی کی مدد کر کے جب احسان جتلاتا ہوں تو میرا اللہ دیکھتا ہے۔ اور وہ آخرت میں یقینا اس کی باز پرس کرے گا کہ تم نے اگر اللہ کے لیے اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا تھا تو پھر تم نے لینے والے پر احسان کیوں جتلایا اور اس کی عزت نفس پر حملے کیوں کیے۔ کیا تم یہ سمجھتے تھے کہ میں سن نہیں رہا یا تمہارا یقین یہ تھا کہ قیامت نہیں آئے گی اور وہاں تمہیں اپنے اعمال کا حساب نہیں دینا پڑے گا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اندازہ فرمایئے یہ کتنا بڑا جرم ہے۔ ایک تو یہ محرومی کہ اس نے مال خرچ بھی کیا لیکن وہ کالعدم قرار پایا اور پھر اسے ریا کاری قرار دیا گیا اور آخر میں اللہ اور آخرت پر ایمان کو بھی غیر معتبر قرار دیا گیا۔ یہ تو ایسے جرائم ہیں جو کسی مومن سے نہیں بلکہ کافر سے سرزد ہوتے ہیں۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔ اس سے بڑھ کر اور نامرادی کیا ہوگی ؟ اب اس تمثیل پر غور فرمایئے جو یہاں ذکر کی گئی ہے۔ تمثیل کی وضاحت آپ نے اگر پہاڑی علاقے دیکھے ہیں تو اس میں دیکھا ہوگا کہ بعض دفعہ کسی چٹان پر مسلسل مٹی پڑنے سے ایک تہ سی بن جاتی ہے۔ دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہ شاید زمین کا حصہ ہے۔ چناچہ وہاں رہنے والے اسی غلط فہمی کی بنیاد پر بعض دفعہ اس پر مکان بنا لیتے ہیں یا اس پر کاشت کاری شروع کردیتے ہیں۔ لیکن اس کی حقیقت اس وقت کھلتی ہے جب پہاڑوں پر تیز بارش ہو اور پھر وہ ایک سیل کی شکل میں نیچے اترے تو اس کا بہائو اتنا شدید اور تیز ہوتا ہے کہ راستے میں آنے والے درخت اکھڑ جاتے ہیں ‘ زمینیں ادھڑ جاتی ہیں اور جب وہ ایسی زمین سے گزرتا ہے تو چٹان پر جمی ہوئی ساری مٹی کو بہا کرلے جاتا ہے۔ اگر اس پر کوئی فصل کاشت کی گئی ہے تو وہ بھی ساتھ بہہ جاتی ہے اور اگر اس پر آبادی ہے تو وہ بھی تباہ ہوجاتی ہے۔ ایسے واقعات اکثر پہاڑی علاقوں میں ہوتے ہیں اور اخبارات میں اس کی اطلاعات بھی چھپتی رہتی ہیں۔ اس کو لینڈ سلائیڈ (Land Slide) کہتے ہیں۔ اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک کسان ایک ایسی زمین پر فصل اگاتا ہے جس کے نیچے سخت اور چکنی چٹان ہے ‘ جب بارش کا ایک زور کا ڈونگڑا اس پر پڑتا ہے تو چٹان کے اوپر کی ساری مٹی فصل سمیت وادی میں بہہ جاتی ہے اور نیچے گنجے سر کی مانند چٹان نکل آتی ہے اور اس طرح اس محروم و بدقسمت کسان کی ساری محنت ضائع ہوجاتی ہے۔ یہی حال اس خیرات کرنے والے کی خیرات کا بھی ہے کہ اس نے خیرات کرنے کے بعد احسان جتایا اور دل آزاری کی تو اس نے بھی اپنی خیرات کی فصل ایک ایسی چٹان پر اٹھائی جس پر مٹی کی تہ جمی ہوئی تھی۔ جب احسان جتانے اور دل آزاری کرنے کے عمل نے اس پر حملہ کیا تو ساری خیرات جاتی رہی اور یہ محروم دیکھتا رہ گیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نا شکروں کو کبھی منزل مراد تک نہیں پہنچاتا۔ یہاں نا شکرے سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی بجائے کفرانِ نعمت کرتے ہیں۔ اور اللہ نے جو دولت ان کو عطا کر رکھی ہے اسے یا تو خرچ نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو ” مَنْ و اَذٰی “ جیسی حرکتیں انھیں محروم کردیتی ہیں اور وہ اپنی منزل مراد سے دور ہوجاتے ہیں۔ (ایک اہل علم نے اس تمثیل کا مفہوم اس طرح ذکر کیا ہے کہ اس تمثیل میں بارش سے مراد خیرات ہے۔ چٹان سے مراد اس نیت اور اس جذبے کی خرابی ہے جس کے ساتھ خیرات کی گئی ہے۔ مٹی کی ہلکی تہ سے مراد نیکی کی وہ ظاہری شکل ہے جس کے نیچے نیت کی خرابی چھپی ہوئی ہے۔ اس توضیح کے بعد مثال اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ بارش کا فطری اقتضا تو یہی ہے کہ اس سے روئیدگی ہو اور کھیتی نشو و نما پائے ‘ لیکن جب روئیدگی قبول کرنے والی زمین محض برائے نام اوپر ہی اوپر ہو اور اس اوپری تہ کے نیچے نری پتھر کی ایک چٹان رکھی ہوئی ہو تو بارش مفید ہونے کے بجائے الٹی مضر ہوگی۔ اسی طرح خیرات بھی اگرچہ بھلائیوں کو نشو و نما دینے کی قوت رکھتی ہے ‘ مگر اس کے نافع ہونے کے لیے حقیقی نیک نیتی شرط ہے۔ نیت نیک نہ ہو تو ابر کرم کا فیضان بجز اس کے کہ محض ضیاع مال ہے اور کچھ نہیں) (تفہیم القرآن )