2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

(اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی تو کیا جب جب آئے گا کوئی رسول تمہارے پاس وہ باتیں لے کر جو تمہاری خواہشوں کے خلاف ہوں گی تو تم تکبر کروگے ؟ سو تم نے ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے۔

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَقَفَّیْنَا مِنْم بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ ز وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْ نٰـہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِط اَفَکُلَّمَا جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌم بِمَا لاَ تَھْوٰٓی اَنْفُسُکُمُ اسْتَـکْبَرْتُمْ ج فَفَرِیْقًاکَذَّبْتُمْ ز وَفَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ ۔ (اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی تو کیا جب جب آئے گا کوئی رسول تمہارے پاس وہ باتیں لے کر جو تمہاری خواہشوں کے خلاف ہوں گی تو تم تکبر کروگے ؟ سو تم نے ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے) (البقرۃ : 87) گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل کو ان کی اصل ذمہ داریوں کی یاد دہانی کے سلسلہ میں ان کے آبائو اجداد کی تاریخ کے مختلف ابواب دہرائے جارہے ہیں جس میں بطور خاص انھیں یاد دلایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب بنی اسرائیل کو دین عطا کیا تھا اور زندگی گزارنے کے لیے رہنما اصول دئیے تھے تو ان سے بعض عہدوپیمان بھی لیے گئے تھے، جن کا تعلق ان کی دینی زندگی کے اساسی اور بنیادی اصولوں سے تھا اور پھر یہ بھی بتایا کہ کس طرح تمہارے آبائو اجداد نے تاریخ کے مختلف ادوار میں ان عہدوں اور مواثیق سے روگردانی کی اور پھر ان کی اصل بیماری کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ بات بھی واضح فرمائی کہ ان کی زندگی میں اس انتہا درجے کے انحراف کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے زندگی کی ترجیحات کو بدل دیا تھا۔ ان کی منزل اور ان کا مقصد آخرت کی بجائے دنیا ہو کر رہ گئی تھی۔ جس نے بالآخر انھیں دنیاوی زندگی کی آلائشوں میں اس حد تک مبتلا کیا کہ وہ آخرت کی حقیقت سے محرومی کے نتیجے میں زندگی کی بالیدگی سے محروم ہوگئے۔ عہد کی یاددہانی کا انتظام اب پیش نظر آیات میں یہ بتایا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے صرف اسی بات پر اکتفا نہیں کیا گیا تھا کہ ان سے چند عہدوپیمان لیے گئے اور زندگی کی رہنمائی کے لیے تورات جیسی کتاب شریعت ان کے حوالے کردی گئی۔ جس کے بارے میں تاکیدی اور تجدیدی کوششیں نہ ہونے کے باعث بنی اسرائیل گمراہی کا شکار ہوگئے بلکہ امرواقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دینی زندگی میں ثبات وقرار کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعدیک بعد دیگرے اپنے رسول بھیجے جنھیں نئی کتابیں اور صحیفے بھی دئیے اور تورات میں بیان کردہ شریعت کی تجدید و تکمیل کا کام بھی جاری رہا۔ جب بھی بنی اسرائیل میں گمراہیاں پیدا ہوئیں اور بگاڑ حد سے بڑھاتو کسی نہ کسی نبی کی بعثت ہوئی جس نے انھیں گمراہیوں سے نکالنے کی کوشش کی اور بار بار انھیں ان کے عہد یاد دلائے اور شریعت کی پابندی کے لیے ان کے دل و دماغ کو آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ سلسلہ کئی نسلوں اور کئی صدیوں تک دراز رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنی بڑی تعداد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء ورسل بنی اسرائیل میں بھیجے ہیں کسی اور قوم میں اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شریعت سے جس قدر تغافل بلکہ انحراف مختلف ادوار میں بنی اسرائیل نے اختیار کیا اس کی مثال ملنا بھی دوسری قوموں میں مشکل ہے۔ انھوں نے صدیوں تک اللہ کی شریعت میں ترمیم و تحریف کا سلسلہ جاری رکھا، شریعت کے ایک ایک حکم کی پامالی کی، خانہ جنگی کے نتیجے میں قومی شیرازے کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی جانب سے تذکیر اور یاددہانی کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ اسی دوران ان پر کئی دفعہ عذاب کا کوڑا بھی برسا، یہ برے حالوں میں مبتلا بھی ہوئے، قوموں کے ظلم وستم کا نشانہ بھی بنے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی جانب سے انبیاء کی تشریف آوری برابر جاری رہی۔ حتی کہ انبیائے بنی اسرائیل کے سلسلے کی آخری عظیم شخصیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ظہور اس شان کے ساتھ ہوا کہ جس کے سامنے دجل و فریب اور سہو و نسیان کے تمام پردے تار تار ہوگئے اور پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ معجزات اس شان اور صراحت کے ساتھ عطا ہوئے کہ کسی ہٹ دھرم کے سوا ان کا انکار کرنا کسی اور کے لیے ممکن نہ رہا۔ وہ پیدا ہوئے تو بغیر باپ کے، قوم نے ان کی والدہ پر انگلیاں اٹھائیں تو اپنی والدہ کی پاکدامنی اور اپنی نبوت و صداقت کا اعلان اس شان کے ساتھ کیا کہ ابھی آپ کی عمر ایک دو دن سے زیادہ نہ تھی اور آپ ماں کے بازوئوں میں لیٹنے کے سوا اور کوئی حرکت نہ کرسکتے تھے اور پھر اللہ نے آگے چل کر نبوت کی ذمہ داریاں ادا کرنے کا حکم دیا تو آپ کی نبوت کی تائید میں آپ کو ایسے ایسے معجزات عطا ہوئے کہ جنھیں دیکھ کر آپ کی صداقت کا اعتراف نہ کرنا ہٹ دھرمی اور کج فہمی کے سوا کچھ نہ تھا۔ آپ آنے والوں کو بتا دیتے کہ تم نے رات میں کیا کھایا اور کیا باقی رکھا، مادر زاد اندھوں کو ہاتھ پھیر کا بینا کردیتے۔ پیدائشی کوڑھیوں کو آپ کے دست شفا سے شفا نصیب ہوجاتی۔ گونگے آپ کی توجہ سے بولنے لگتے۔ حتی کہ آپ کی دعا سے بعض مردے بھی قبر سے اٹھ کر زندگی کا ثبوت دینے لگے۔ آپ اندازہ فرمائیے ! یہ عظیم شخصیت جو خرق عادت کے طور پر پیدا ہوئی معجزانہ طور پر کلام کیا اور محیرالعقول معجزات دکھائے۔ لیکن قربان جائیے یہود کے کہ ان میں سے چند لوگوں کے سوا کسی کو ایمان کی دولت نصیب نہ ہوسکی بلکہ الٹا آپ پر یہ الزام لگایا گیا کہ دوسرے جادوگروں اور کاہنوں کی طرح آپ کا تعلق بھی شیطانوں اور بھوتوں کے سردار بعلز بول سے ہے اور اسی کی مدد سے آپ یہ سارے کرشمے دکھاتے ہیں یعنی آپ کوئی روحانی شخصیت نہیں بلکہ آپ سراسر ایک دنیوی شخصیت ہیں جنھوں نے کچھ چلے کاٹ کر شیطانی قوتوں کو مسخر کررکھا ہے جن کی مدد سے آپ یہ حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیتے ہیں۔ چناچہ ان کی تردید کے لیے یہاں زور دے کر یہ بات کہی گئی کہ اس عظیم شخصیت کا تعلق کسی جن یا شیطان سے نہیں بلکہ آپ کا تعلق اللہ سے ہے جس کے حکم سے انھیں روح القدس یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی تائید حاصل ہے اور انہی کی تائید سے یہ معجزات وجود میں آتے ہیں۔ روح القدس کی تائید کے ذکر کا سبب یہاں یہ بات یا درکھنے کی ہے کہ اللہ کے جتنے رسول دنیا میں آئے ہیں ہر ایک کو روح القدس کی تائید حاصل رہی ہے۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیت نہیں۔ لیکن یہاں بطور ِ خاص حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے روح القدس کی تائید کا ذکر اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ یہود کے اس اعتراض کا جواب ہوجائے جس کا الزام وہ بڑی شدت سے آپ پر لگاتے تھے اور لوگوں کو یہ تاثردیتے تھے کہ تم جو کچھ حضرت عیسیٰ سے معجزات کی شکل میں دیکھ رہے ہو یہ شیطانی قوتوں کی تائید کا نتیجہ ہیں۔ اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق شیاطین اور جنات سے ہے اور وہ آپ کی پشت پر ہیں۔ انجیل میں یہود کے اس الزام کا ذکر باربار آیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے متعدد دفعہ یہود کے اس الزام کا جواب دیا ہے۔ ہم یہاں صرف ایک اقتباس انجیل متی سے پیش کرتے ہیں جس سے اس کی پوری پوری تائید ہوتی ہے۔ متی باب 12 میں ہمیں یہ عبارت ملتی ہے : (اس وقت اس کے پاس لوگ اندھے گونگے کو لائے جس میں بدروح تھی اس نے اسے اچھا کردیا چناچہ وہ گونگا بولنے اور دیکھنے لگا اور ساری بھیڑ حیران ہو کر کہنے لگی کہ کیا یہ ابن داؤد ہے۔ فریسیوں نے سن کر کہا یہ بدروحوں کے سردار بعلز بول کی مدد کے بغیر بدروحوں کو نہیں نکالتا۔ اس نے ان کے خیالوں کو جان کر ان سے کہا جس بادشاہی میں پھوٹ پڑتی ہے وہ ویران ہوجاتی ہے اور جس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑے گی وہ قائم نہ رہے گا اور اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہوگیا۔ پھر اس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی اور اگر میں بعلز بول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے بیٹے کس کی مدد سے نکالتے ہیں۔ پس وہی تمہارے منصف ہوں گے لیکن اگر میں خدا کے روح کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو خدا کی بادشاہی تمہارے پاس آپہنچی یا کیوں کر کوئی آدمی کسی زور آور کے گھر میں گھس کر اس کا اسباب لوٹ سکتا ہے جب تک کہ پہلے اس زور آور کو نہ باندھ لے پھر وہ اس کا گھر لوٹ لے گا۔ جو میرے ساتھ نہیں وہ میرے خلاف ہے جو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا وہ بکھیرتا ہے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر تو معاف کیا جائے گا مگر جو کفر روح کے حق میں ہوا، وہ معاف نہ کیا جائے گا اور جو کوئی ابن آدم کے برخلاف کوئی بات کہے گا تو وہ معاف کی جائے گی لیکن جو کوئی روح القدس کے خلاف کوئی بات کہے گا وہ معاف نہ کی جائے گی، نہ اس عالم میں اور نہ آنے والے عالم میں یا تو درخت کو بھی اچھا کہو اور اس کے پھل کو بھی اچھا، یادرخت کو بھی برا کہو اور اس کے پھل کو بھی برا، کیونکہ درخت پھل ہی سے پہچانا جاتا ہے) (متی باب 12۔ 1ٓیات 22، 23) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہود پر دو طرح سے اتمام حجت کیا گیا ہے۔ ایک تو آخری اتمام حجت ہے جو آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے ہوا ہے جس کے بعد ہدایت کے فیصلے مکمل ہوگئے لیکن اس سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری بھی ایک اتمام حجت کی صورت دکھائی دیتی ہے آنحضرت ﷺ کے بارے میں تو وہ لوگ نسلی تعصب کا شکار ہوئے کہ ہم بنی اسرائیل، بنی اسماعیل کے پیغمبر کو کیسے تسلیم کریں ؟ لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) چونکہ بنی اسرائیل ہی میں سے تھے اور پھر مزید یہ کہ انھیں ایسے واضح بینات کے ساتھ بھیجا گیا کہ جس کے بعد انکار کے لیے کوئی دلیل باقی نہیں رہ گئی تھی۔ ان کا ظہور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ستارہ صبح کی مانند تھا وہ رات کے پچھلے پہر طلوع ہوتا ہے اور ایک مختصر سی عمر لے کر آتا ہے لیکن اپنی چمک دمک اپنی روشنی اور دل آویزی میں تمام ستاروں سے نمایاں ہوتا ہے اور اس کے آنے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو یہ خبر دے کہ اب آفتاب طلوع ہونے والا ہے جس کے آنے کے بعد تمام ستارے اور سیارے اپنی صف لپیٹ لیں گے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی تمام انبیائے بنی اسرائیل سے الگ شان سے تشریف لائے اور آپ نے پوری قوت سے لوگوں کو یہ بتایا : اِنِّیْ مُبَشِّرًا م بِرَسُولٍ یَّاْتِیْ مَنْ م بَعدِی اِسْمُہٗ اَحْمَد ( میں مبشر یعنی خوشخبری دینے والا بن کر آیا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام احمد ہوگا) اس طرح سے یہود پر آنحضرت ﷺ کے حوالے سے اتمام حجت کردیا گیا تاکہ انھیں کسی طرح کی حیل وحجت کا موقعہ نہ رہے۔ لیکن اس کے بعد یہود نے جو کچھ کیا اور جس طرح سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے سے انکار کیا حتیٰ کہ وہ آپ کے جانی دشمن ہوگئے اسے دیکھتے ہوئے آدمی چکرا کر رہ جاتا ہے اور سوچ میں ڈوب جاتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی خرق عادت ولادت پنگھوڑے میں آپ کا باتیں کرنا، اپنی نبوت کا اعلان کرنا اور پھر آپ کے حیرت انگیز معجزات یہ سب آپ کی صداقت کے ایسے منہ بولتے ثبوت ہیں جس کا انکار کرنا پاگل پن کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہود کے ایمان نہ لانے کا سبب کیا یہود کی ساری قوم پاگل ہوگئی تھی ؟ اور اگر یہ بات نہ تھی تو پھر ان کے ایمان نہ لانے کا آخر سبب کیا تھا ؟ قرآن کریم نے اسی کی عقدہ کشائی کرتے ہوئے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس قوم کی مسلسل بداعمالیوں اور سرکشیوں کے باعث ان کے اندر ایک ایسی سرشت اور جبلت پیدا ہوگئی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ جب بھی ان کے پاس کوئی رسول ایسی دعوت لے کر آیا جو ان کے سرکش نفس کے لیے قابل قبول اور سازگار نہ تھی تو انھوں نے نہ صرف اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ ان کی سرکشی کی انتہا یہ رہی کہ کسی نبی کی انھوں نے تکذیب کی اور کسی کو انھوں نے قتل کرڈالا۔ جس قوم کی قومی سرشت یہ بن جائے اس سے یہ توقع کرنا کہ وہ راہ راست اختیار کرے گی اور اس کے رد و قبول کے فیصلے عقل اور انسانیت کے مطابق ہوں گے سراسر ایک ایسی بات ہے جس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ پھر ان کی بگڑی ہوئی سرشت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ان کے رویے اور اس پر اللہ کی طرف سے عتاب کا ذکر اگلی آیت میں فرمایا جارہا ہے۔
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے دل تو بند ہیں، (نہیں) بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کردی ہے تو شاذونادر ہی وہ ایمان لائیں گے۔

وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ط بَلْ لَّعَنَھَُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِ ھِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ ۔ (اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ ہمارے دل تو بند ہیں، (نہیں) بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کردی ہے تو شاذونادر ہی وہ ایمان لائیں گے) (البقرۃ : 88) قُلُوْبُنَا غُلْفٌ کا مفہوم جس آدمی یا جس قوم میں شرافت اور انسانیت کی معمولی رمق بھی ہو وہ کبھی پیغمبرانہ دعوت کے جواب میں یہ رویہ اختیار نہیں کرتا جو ان کا معمول بن گیا تھا۔ وہ کبھی تو مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے کہ تم جو بات کہتے ہو، ہوسکتا ہے وہ صحیح ہو، لیکن ہم کیا کریں وہ ہمارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہونے پاتی، دل و دماغ تو اللہ کے قبضے میں ہیں تم اللہ سے دعا کرو کہ ہمارے دل تمہاری باتوں کے لیے کھل جائیں اور کبھی تحقیر کے انداز میں کہتے کہ تمہاری باتیں عقل وخرد سے اس حد تک عاری ہیں کہ ہمارے دل اسے قبول نہیں کرسکتے، کیونکہ ہمارے دل و دماغ اس قسم کی لایعنی باتوں کے لیے نہیں بنائے گئے۔ ہم معقولیت پسند لوگ ہیں، اگر تمہاری باتوں میں کوئی معقولیت ہوتی تو ہم آگے بڑھ کر ان کا استقبال کرتے۔ لیکن ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم فضول باتوں کو اہمیت دینے لگیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس رویے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ جس بات پر فخر کررہے ہیں، انھیں اندازہ ہی نہیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے لعنت کا نتیجہ ہے۔ جب کوئی شخص یا کوئی قوم اپنے کفر پر گھمنڈ کرنے لگتی ہے اور ہدایت اور نیکی کی ہر بات انھیں ہلکی معلوم ہونے لگتی ہے تو وہ اللہ کے اس قانون کی گرفت میں آجاتی ہے جس کے نتیجے میں انسان کو ہدایت سے محروم کردیا جاتا ہے۔ جیسے منہ کا مزہ بگڑ جائے تو شہد بھی کڑوا لگتا ہے اسی طرح ان کو بھی ہدایت کی ہر بات معقولیت کی سطح سے گری ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب آئی ان کے پاس ایک کتاب اللہ کے پاس سے مطابق ان پیشین گوئیوں کے جو ان کے ہاں موجود ہیں اور وہ پہلے سے کافروں کے مقابلے میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ تو جب آئی ان کے پاس وہ چیز جس کو وہ جانے پہچانے ہوئے تھے تو انھوں نے اس کا انکار کردیا ایسے منکروں پر اللہ کی پھٹکا رہے۔

وَلَمَّاجَآئَ ھُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ لا وََکَانُوْامِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ج فَلَمَّاجَآئَ ھُمْ مَّا عَرَفُوْاکَفَرُوْا بِہٖ ز فَلَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ۔ (اور جب آئی ان کے پاس ایک کتاب اللہ کے پاس سے مطابق ان پیشگوئیوں کے جو ان کے ہاں موجود ہیں اور وہ پہلے سے کافروں کے مقابلے میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ تو جب آئی ان کے پاس وہ چیز جس کو وہ جانے پہچانے ہوئے تھے تو انھوں نے اس کا انکار کردیا ایسے منکروں پر اللہ کی پھٹکا رہے) (البقرۃ : 89) اس آیت کریمہ کے مطالب پر غور کیجئے تو اندازہ ہوگا کہ جب کوئی قوم اپنی سرکشی اور بداعمالیوں کے باعث اللہ کی لعنت کا مورد بن جاتی ہے تو اس میں فکری اور عملی طور پر جو تبدیلیاں آتی ہیں وہ ایسی حیرت انگیز ہوتی ہیں کہ عقل اس کی کوئی سی توجیہ کرنے سے عاجز ہوجاتی ہے۔ ذرا غور فرمائیے ! بنی اسرائیل کی طرف نبی آخرالزماں مبعوث ہوتے ہیں آپ پر آخری کتاب قرآن کریم نازل کی جاتی ہے۔ اہل کتاب چونکہ اپنی کتابوں میں مرقوم نشانیوں کے باعث دونوں کو جانتے پہچانتے ہیں وہ کتاب کو بھی پہچانتے ہیں اور صاحب کتاب کو بھی اور پھر ایک ایک نشانی کو منطبق کرکے دیکھتے ہیں تو انھیں یقین آجاتا ہے کہ یہ وہی نبی ہیں اور وہی کتاب ہے، جس کا ہماری کتابوں میں ذکر کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ انھیں اس آنے والے پیغمبر پر اس حد تک یقین تھا کہ وہ اسی کے حوالے سے اللہ کریم سے فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے اور اپنے دشمنوں کو یہ کہہ کر دھمکایا کرتے تھے کہ آج تم جو چاہو ہم پر ظلم کرلو لیکن وہ وقت دور نہیں جب وہ نبی آخرالزماں تشریف لائیں گے اور ان پر قرآن جیسی کتاب اترے گی تو ہم ان پر ایمان لاکر اور ان کی معیت میں تم پر فتح حاصل کریں گے اور تم سے ان مظالم کا انتقام لیں گے جو آج تم ہم پر کررہے ہو۔ آپ ان دونوں باتوں کو نگاہوں میں رکھئے کہ وہ حضور ﷺ کے آنے کا یقین بھی رکھتے ہیں اور انھیں کی تشریف آوری پر اپنے درخشاں مستقبل کی امید بھی رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی کتابوں میں بیان کردہ علامات کے وہ پوری طرح مصداق بھی ہیں۔ ان دونوں باتوں کو دیکھتے ہوئے ایک غیر جانبدار مبصر یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اہل کتاب بالخصوص یہودک بھی آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کریں گے اور آپ کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ عملی زندگی میں جو کچھ ہوا وہ امید اور توقع کے بالکل برعکس ہے یہود نہ صرف کہ آپ پر ایمان نہیں لائے بلکہ انھوں نے اپنا پورا اثر ورسوخ اور تمام تر وسائل آپ کی دعوت اور آپ کے پیغام کو ناکام کرنے میں جھونک دیئے۔ عقل اس بات کی کوئی توجیہ کرنے سے بالکل عاجز ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی اس بات پر ایمان لانے سے اس مشکل کی عقدہ کشائی ہوتی ہے کہ یہود اس لیے ایمان کی دولت سے محروم رہے کہ وہ پہلے سے اللہ کی لعنت کے قانون کی گرفت میں آچکے تھے۔ اگلی آیت کریمہ میں قرآن کریم نے ان کے اس عذر لنگ کو بیان کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایمان سے محروم رہے۔ لیکن اس کو بیان اس طرح فرمایا ہے، جس سے یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ جب قومیں لعنت کا شکا رہوتی ہیں تو وہ کس قدر خلاف عقل بہانوں کے سہارے بڑے بڑے قومی فیصلے کر ڈالتی ہیں اور یہی باتیں ان کی نامرادی کی دلیل بن جاتی ہیں۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

کیا ہی بری ہے وہ چیز جس سے انھوں نے اپنی جانوں کا مبادلہ کیا کہ وہ انکار کررہے ہیں اس چیز کا جو اللہ نے اتاری ہے محض اس سرکشی کی بنا پر کہ اللہ نازل کرے اپنا فضل جس پر چاہے اپنے بندوں میں سے، پس وہ اللہ کا غضب درغضب لے کر لوٹے اور منکروں کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہے۔

ارشاد فرمایا : بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَھُمْ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖج فَبَآئُ وْ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍط وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (کیا ہی بری ہے وہ چیز جس سے انھوں نے اپنی جانوں کا مبادلہ کیا کہ وہ انکار کررہے ہیں اس چیز کا جو اللہ نے اتاری ہے محض اس سرکشی کی بنا پر کہ اللہ نازل کرے اپنا فضل جس پر چاہے اپنے بندوں میں سے، پس وہ اللہ کا غضب درغضب لے کر لوٹے اور منکروں کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہے) (البقرۃ : 90) آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہ لانے کا جو سب سے بڑا سبب یہود کے یہاں معتبر سمجھا گیا وہ یہ تھا کہ نبوت و رسالت بنی اسرائیل کی خصوصیت ہے۔ صدیوں سے انھیں میں اللہ کے نبی اور رسول آتے رہے آخری رسول بھی انھیں میں سے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ یہ یکایک کیا ہوا کہ قریش یعنی بنی اسماعیل میں سے اللہ نے اپنا آخری رسول منتخب فرمالیا۔ ہم سب کچھ گوارا کرسکتے ہیں لیکن یہ بات ہمارے لیے قابل برداشت نہیں کہ ہم بنی اسماعیل کے پیغمبر پر ایمان لائیں۔ اندازہ فرمائیے ! یہ ایک ایسی قوم کا فیصلہ ہے، جو صدیوں سے حامل دعوت امت کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ جن میں بڑے بڑے علما اور مشائخ پیدا ہوئے۔ وہ نبوت و رسالت کی حقیقت اور دینی ضروریات سے بہت حد تک آگاہ ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ نبوت کسی خاندان کی میراث نہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ مقصود اللہ پر ایمان اور اس کی فرمانبرداری ہے جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ نبی اور رسول کسی قوم اور قبیلے میں بھی آئے اسے اس لیے ماننا ضروری ہے کہ وہ اللہ کا نمائندہ ہے اور پھر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اللہ کے اختیارات غیر محدود ہیں وہ اپنے فیصلوں میں کسی کے مشوروں کا محتاج نہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود یہود نے اپنی کتابوں کی دی ہوئی آگاہی کے باعث محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کی صداقت و حقانیت کو پہچان بھی لیا اور پھر اس کا اس لیے انکار کردیا کہ آنے والا پیغمبر بنی اسماعیل میں سے کیوں اٹھایا گیا۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ نبوت بنی اسرائیل کی خصوصیت ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہرگز یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے بنی اسرائیل کے علاوہ کسی اور قوم یا خاندان میں کسی پیغمبر کو مبعوث فرمائے۔ اس طرح کی سوچ اور عمل صرف معصیت اور نافرمانی ہی نہیں بلکہ کھلی کھلی اللہ سے بغاوت ہے۔ نافرمانی تو بعض دفعہ قابل معافی بھی ہوتی ہے اور کبھی اس سے درگزر بھی کیا جاتا ہے، لیکن بغاوت میں تو معافی یا رحم کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا جارہا ہے کہ ان پر اللہ کا غضب بھڑکا اور یہ نادان یہ نہ سمجھ سکے کہ بنی اسرائیل جن پر صدیوں تک اللہ کی عنایات برستی رہی ہیں اور ہمیشہ اس کی رحمتیں ان پر نثار ہوتی رہی ہیں، اس لحاظ سے ان پر لازم تھا کہ وہ اپنے اللہ کے ساتھ ایسا معاملہ رکھتے کہ اس بارگاہ سے ہمیشہ رحمتیں انھیں نصیب ہوتی رہتیں۔ لیکن جب انھوں نے اس طرح کا انحراف اختیار کیا کہ بجائے ایمان و اطاعت کے سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے اور بندوں کے ساتھ ساتھ اللہ کے خلاف بھی تکبر اور نخوت اختیار کی تو پھر یہ غضب بالائے غضب کے مستحق ٹھہرے اور تکبر کے ردعمل کے نتیجے میں ہمیشہ کی رسوائی ان کا مقدر بنادی گئی۔ کبھی دل میں خیال آتا ہے کہ یہ غضب درغضب کے مستحق اس لیے ہوئے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ولادت سے لیکر رفع الیٰ السماء تک سرتاپا معجزہ تھے ان کی نبوت کا انکار ایک بدیہی حقیقت کا انکار تھا۔ لیکن جب یہود نے نہ صرف کہ ان کی نبوت سے انکار کیا بلکہ ان کے دشمن ہوگئے تو وہ اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہرے۔ اب رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کی صورت میں انھیں سنبھلنے کا ایک آخری موقعہ ملا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا ان کے لیے اس لیے بھی نہائت آسان تھا کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں تفصیل سے آنحضرت کی علامات پڑھ چکے تھے۔ اسی وجہ سے وہ آپ کو اچھی طرح پہنچانتے تھے۔ بایں ہمہ ان کا آپ کی نبوت سے انکار بلکہ من حیث القوم آپ کے مقابلے میں اٹھ کھڑا ہونا دوسری دفعہ اللہ کا غضب بھڑکنے کا سبب ہوا۔ اسی لیے یہاں ارشاد فرمایا کہ اب وہ صرف غضب کا شکار نہیں ہوئے بلکہ غضب بالائے غضب کے مستحق ٹھہرے۔ جو فرد یا جو قوم اللہ کی لعنت یا اس کے غضب کا مورد بنتی ہے اسے دوسری سزائوں کے ساتھ ساتھ ایک حیرت انگیز سزا یہ ملتی ہے کہ وہ صحیح فیصلہ کرنے سے محروم ہوجاتی ہے۔ اس کے افراد انفرادی فیصلوں میں ٹھوکر کھاتے ہیں اور قوم اجتماعی فیصلوں میں ہمیشہ راہ صواب سے دور رہتی ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں ایسا لگتا ہے کہ ان کی اسی سزا کا ذکر کیا جارہا ہے۔
Ayahs 2:91–92

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز پر ایمان لائو جو اللہ نے اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر تو ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے اس سے کفر کرتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے اور تصدیق کرنے والا ہے اس کی جو ان کے پاس ہے۔ آپ کہئے ! پھر تم اللہ کے پیغمبروں کو اس سے پہلے کیوں قتل کرتے رہے ہو، اگر تم مومن ہو ؟

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے نشان لے کر آئے تھے، اس پر بھی تم نے ان کے بعد بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ہو ہی ظالم۔

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَیَکْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآئَ ہٗ ق وَھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مََعَھُمْ ط قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْبِیَآئَ اللّٰہِ مِنْ قَبْلُ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ۔ وَلَقَدْ جَآئَ کُمْ مُّوْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْم بَعْدِہٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 91 تا 92) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز پر ایمان لائو جو اللہ نے اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر تو ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے اس سے کفر کرتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے اور تصدیق کرنے والا ہے اس کی جو ان کے پاس ہے۔ آپ کہئے ! پھر تم اللہ کے پیغمبروں کو اس سے پہلے کیوں قتل کرتے رہے ہو، اگر تم مومن ہو ؟۔ اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے نشان لے کر آئے تھے، اس پر بھی تم نے ان کے بعد بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ہو ہی ظالم) یہود کا ایمان نہ قرآن پر نہ تورات پر پیشِ نظر دونوں آیات میں بنی اسرائیل کی پوری تاریخ از اول تا آخر سمیٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت سے لے کر آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری تک یہ اپنی سرکشی کے باعث اللہ کے جس غضب کے مستحق ہوئے تھے اور جس نے ان کو حق کی پیروی اور اصابتِ رائے سے محروم کردیا تھا وہ بدستور ان پر نہ صرف مسلط ہے بلکہ ان کی علامت اور قسمت بن کر رہ گیا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ وہ اپنی کتابوں کی ہدایات کے مطابق اللہ کے آخری نبی پر ایمان لانے کے پابند ہیں۔ اسی کا ان سے عہد بھی لیا گیا تھا۔ اور ان کی کتابوں کی دی گئی آگاہی کے باعث وہ پیغمبر آخرالزمان کو اچھی طرح پہچانتے بھی ہیں۔ لیکن ان کے دل و دماغ کے تعطل اور اصابتِ رائے سے محرومی کو ملاحظہ فرمائیے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ نبی آخرالزماں پر ایمان لائو اور ان پر جو کتاب اتری ہے اسے آویزہ گوش اور فکر کا سامان بنائوتو نہایت تکبر اور بےاعتنائی سے جواب دیتے ہیں کہ جو کچھ ہم پر ہمارے اپنے پیغمبروں کے واسطے سے نازل ہوچکا ہے ہم اسے مانتے ہیں اور وہی ہمارے لیے کافی ہے ہم اس کے علاوہ کسی اور کتاب یا پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دل و دماغ میں یہ بات پیوست ہوچکی ہے کہ نبوت بنی اسرائیل کے خاندان کی وراثت ہے وہ جب بھی آئے گی اسی خاندان میں آئے گی۔ اگر کسی اور خاندان اور قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تو ہم ہرگز اس پر ایمان نہیں لاسکتے۔ قرآن کریم نے ان کی اس بات پر دو طرح سے گرفت فرمائی ایک تو یہ فرمایا کہ خود اپنی کتابوں کو پڑھ کردیکھو اگرچہ تم اپنی کتابوں میں ترمیم اور تحریف کرچکے ہو لیکن اس کے باوجود اب تک تمہاری کتابوں میں محمد رسول ﷺ اور قرآن کریم کی علامات مذکور ہیں۔ اسی وجہ سے تم آنحضرت کو اچھی طرح سے پہچانتے ہو اور تمہیں یقین ہے کہ تمہاری اپنی کتابوں کی گواہی کے مطابق یہ قرآن ہی حق ہے۔ اس کے خلاف ہر چیز باطل ہے۔ اگر تم واقعی اپنی کتابوں اور اپنے پیغمبروں کے مومن ہوتے تو تم ایک ایسی حقیقت کا کبھی انکار نہیں کرسکتے تھے جس کی شہادت تمہاری کتابیں باربار دے رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم درحقیقت اپنی خواہشات کے پرستارہو اگر تم حق کے جو یا ہوتے اور تم اپنی کتابوں پر ایمان رکھتے ہوتے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ تم اللہ کے آخری نبی اور قرآن کریم کا انکار کردیتے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اگر تم بنی اسرائیل میں آنے والے نبیوں کو مانتے ہو اور ان پر ایمان رکھتے ہو تو پھر بنی اسرائیل ہی میں سے اٹھائے جانے والے انبیاء کو تم قتل کیوں کرتے رہے ہو ؟ تمہارا ایمان بھی عجب قسم کی چیز ہے کہ بنی اسرائیل میں اللہ کا نبی اگر کوئی ایسی دعوت لے کر اٹھا ہے جس سے تمہاری نفسانی خواہشات مطابقت نہیں رکھتیں تو تم اسے قتل کر ڈالنے سے گریز نہیں کرتے اور تمہارا ایمان تمہارے ظلم کا ہاتھ نہیں روکتا اور اگر بنی اسرائیل سے باہر ایک ایسے نبی مبعوث ہوتے ہیں کہ جس کی صداقت کی شہادت خود تمہاری کتابیں دے رہی ہیں تو تم جانتے بوجھتے اسے ماننے سے انکار کردیتے ہو اور بہانہ یہ کرتے ہو کہ ہم تو صرفان نبیوں پر ایمان لاتے ہیں جو بنی اسرائیل کے خاندان سے اٹھائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ایمان کے نام پر بےایمانی کرتے ہو اور تمہارا یہ طرز عمل کوئی نئی بات نہیں ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں تم یہ طرز عمل اختیار کرچکے ہو حالانکہ یہ تمہاری تاریخ کے ابتدائی ایام ہیں اور اللہ کا عظیم پیغمبر تمہارے درمیان موجود ہے۔ اس کی چند روزہ غیر حاضری میں تم اپنی گمراہی کی انتہا ئوں کو چھونے لگتے ہو کہ اپنے اس پروردگار ( جس نے تمہیں فرعونیوں کی غلامی سے نجات دی اور قدم قدم پر جس کی قدرتوں اور رحمتوں کو تم نے بچشم سر مشاہدہ کیا) کے مقابل ایک بچھڑا بناکر اس کی پوجا شروع کردیتے ہو۔ یعنی آج صدیوں کے بعد تم بگاڑ کی جس انتہا تک پہنچ چکے ہو اس کے آثار تمہاری تاریخ کے ابتدائی دو رہی میں ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ حرکت چند نادان قسم کے لوگوں نے کی ہوگی۔ باقی پوری قوم تو یقینا توحید کی پرستار اور اللہ کی شریعت کی پیروکار ہوگی۔ اگلی آیت کریمہ میں ان کی ایک اور بات سے پردہ اٹھایا جارہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ گمراہی کے ساتھ ساتھ سرکشی بھی ان کے اندر مسلسل موجود رہی اور اللہ کے عظیم پیغمبر کی تربیت سے بھی یہ پوری طرح راہ راست اختیار نہ کرسکے۔
Ayah 2:93

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور تمہارے اوپر طور کو اٹھایا اور حکم دیا کہ جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور سنو۔ انھوں نے کہا ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور ان کے کفر کے سبب سے بچھڑے کی پرستش ان کے دلوں میں رچ بس گئی۔ ان سے کہو ! اگر تم مومن ہو

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَـکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَـکُمُ الطُّوْرَط خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰـکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاسْمَعُوْاط قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا ق وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْعِجْلَ بِکُفْرِھِمْ ط قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُکُمْ بِہٖٓ اِیْمَانُکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ۔ (اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے عہد لیا تھا اور تمہارے اوپر طور کو اٹھایا اور حکم دیا تھا کہ جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور سنو۔ انھوں نے کہا ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور ان کے کفر کے سبب سے بچھڑے کی پرستش ان کے دلوں میں رچ بس گئی۔ ان سے کہو ! اگر تم مومن ہو تو کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کا تمہارا ایمان تم کو حکم دیتارہا) (البقرۃ : 93) اس آیت کریمہ کو غور سے دیکھئے ان کی اس خوئے بد کو جو گمراہی کی مختلف صورتیں اختیار کرتی رہی ہے نہایت حکمت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے معاصر یہود کو یا ددلایا جارہا ہے کہ تمہارے علما اور مشائخ اپنے علم اور اپنی پاک دامنی کو جس طرح بڑھاچڑھا کر بیان کررہے ہیں اس کی حقیقت تمام تر تلبیس کی کوششوں کے باوجود لوگوں کے سامنے ہے۔ لیکن جب تمہیں کتاب اللہ سے نوازا گیا اور موسیٰ (علیہ السلام) باقاعدہ تمہاری تربیت فرما رہے تھے خود اس وقت تمہارا کیا حال تھا کہ تمہیں کتاب دی جارہی تھی اور تم پس وپیش سے کام لے رہے تھے۔ رفع طور کے نتیجے میں تم نے اسے قبول تو کرلیا لیکن سمع و اطاعت کے حوالے سے تمہارا حال یہ تھا کہ بظاہر تم اللہ کے احکام کو سنتے اور اطاعت کا دم بھرتے تھے۔ لیکن تمہار اعمل خود بولتا تھا کہ تم اطاعت نہیں معصیت کے پتلے ہو گویا جب تم سمع و اطاعت کا عہد کرتے تھے اس وقت بھی تمہارے باطن میں نافرمانی اور عصیان چٹکیاں لے رہا ہوتا تھا اسی کی سزا تمہیں اس دور میں یہ ملی کہ تمہارے رگ و پے میں عجل پرستی کی محبت اتاردی گئی اور تم بہانے بہانے سے شرک کی مختلف صورتوں میں ملوث ہوتے رہے۔ تم نے آج جو بہروپ اختیار کررکھا ہے تمہاری پوری تاریخ اس کی نقاب کشائی کرتے ہوئے کہہ رہی ہے۔ ؎ اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ ان کے بہروپ کا نقاب کھینچ کر سوال کیا جارہا ہے کہ تمہیں مومن ہونے کا دعویٰ ہے لیکن کرتوت تمہارے یہ ہیں۔ اس کے باوجود بھی اگر تم مومن ہو تو ایسے ایمان سے ہزار دفعہ توبہ جو تمہیں ایسے کرتوت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ تمہاری جسارتوں کی کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کا عالم تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرتے ہوئے تمہیں اللہ کا خوف دامن گیر نہیں ہوتا۔ یہ دراصل اللہ کی طرف سے تم پر جو غضب نازل ہوچکا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ تم نہ صرف حق کو قبول کرنے سے محروم کردئیے گئے ہو بلکہ تم نے آخرت سے منہ موڑ لیا ہے اور دنیا ہی کو اپنا مقصود بنالیا ہے اور آخرت کے بارے میں تمہارا باطل عقیدہ یہ بن گیا ہے کہ آخرت کی نعمتیں صرف تمہارے لیے مخصوص ہیں۔ تم دنیا میں جیسے چاہو اعمال کروآخرت میں تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ بلکہ آخرت تمہارے انتظار میں ہے اگلی آیات میں تعریض کے انداز میں اس پر گرفت فرمائی گئی ہے۔
Ayahs 2:94–96

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

تو کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کا تمہارا ایمان تم کو حکم دیتارہا۔ آپ کہہ دیجئے ! اگر آخرت کا گھر خاص تمہارے ہی لیے ہے دوسروں کو چھوڑ کر، تو موت کی آرزو کردیکھو اگر تم سچے ہو

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

لیکن وہ اس کی آرزو کبھی بھی نہ کریں گے بسبب ان اعمالِ بد کے جو اپنے ہاتھوں سمیٹ چکے ہیں اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

اور آپ انھیں پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ حریص زندگی پر، (یہاں تک کہ) مشرکوں سے بھی بڑھ کر ان میں سے ایک ایک یہ چاہتا ہے کہ اسے ہزار برس کی عمر دی جائے، حالانکہ اتنی عمر پانا بھی اسے عذاب سے بچانے والا نہیں اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ وہ کررہے ہیں)

قُلْ اِنْ کَانَتْ لَـکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَاللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًام بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِالظّٰلِمِیْنَ ۔ وَلَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ ج وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْاج یَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَۃٍ ج وَمَا ھُوَبِمُزَحْزِحِہٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۔ (آپ کہہ دیجئے ! اگر آخرت کا گھر خاص تمہارے ہی لیے ہے دوسروں کو چھوڑ کر، تو موت کی آرزو کردیکھو اگر تم سچے ہو۔ لیکن وہ اس کی آرزو کبھی بھی نہ کریں گے بسبب ان اعمالِ بد کے جو اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکے ہیں اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے۔ اور آپ انھیں پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ حریص زندگی پر، (یہاں تک کہ) مشرکوں سے بھی بڑھ کر ان میں سے ایک ایک یہ چاہتا ہے کہ اسے ہزار برس کی عمر دی جائے، حالانکہ اتنی عمر پانا بھی اسے عذاب سے بچانے والا نہیں اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ وہ کررہے ہیں) (البقرۃ : 94 تا 96) ایک چیلنج آنحضرت ﷺ سے کہا گیا ہے کہ آپ ان یہود سے کہئے، تم اپنی نسل کی تقدیس کو بنیاد بناکر اپنی لیے جو تصورات بنا چکے ہو جن میں سے سرِ فہرست یہ ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ دار آخرت تمام لوگوں کے علاوہ خاص تمہارے لیے ہے۔ تم چونکہ اللہ کی چہیتی قوم ہو بلکہ بقول تمہارے تم اللہ کے بیٹے ہو اس لیے آخرت کی نعمتوں اور اعزازات پر تمہارے علاوہ کسی اور کے حق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر تم اپنے خیالات میں واقعی راسخ ہو اور تمہارا یہ عقیدہ واقعی ایک پختہ عقیدہ ہے اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ آخرت میں جو راحت و آرام اور جو رفعت ومنزلت ہے، دنیا میں اس کا تصور بھی محال ہے۔ آخرت میں سوائے خوشیوں کے اور کچھ نہیں ہوگا وہاں غم یا کسی محرومی کی پرچھائیں بھی نہیں پڑ سکیں گی تو پھر جس شخص کو یہ یقین ہو کہ ایک حسین مستقبل اور ایک عیش و آرام کی جگہ میرے لیے مخصوص ہوچکی ہے اور میرے انتظار میں ہے اس کے لیے کوئی وجہ نہیں کہ وہ دکھوں بھری زندگی سے نکل کر اس عیش و آرام والی زندگی میں جانے کی تمنا نہ کرے۔ تمہارے عقیدے کی پختگی کا تقاضا یہ ہے کہ تم غم وآلام کی اس دنیا پر لعنت بھیجو اور آخرت میں جانے کی آرزو کرو اور دعائیں مانگو۔ لیکن اگر اس عقیدہ اور دعویٰ کے باوجود تم دنیاہی کو اپنے لیے مقصد و محبوب بنالو، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم جس بات کا دعویٰ کررہے ہو وہ کوئی حقیقت نہیں محض زبان کا جمع خرچ ہے۔ ظاہر ہے یہ الزام تم کسی بھی طرح قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتے، کیونکہ تمہارا یہ عقیدہ تمہاری تمام تر شرعی اور عملی زندگی کی بنیاد ہے اس بنیا دی عقیدہ کے ثبوت کے لیے تمہارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ تم موت کی تمنا کرو۔ اس سے یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ تم جو دعویٰ کرتے ہو وہ بالکل حقیقت ہے اور اس حقیقت اور تمہارے عمل میں کوئی تضاد نہیں۔ اور اس سے تمہاری صداقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ اعجازِ قرآن کی دلیل دوسری آیت کریمہ میں پروردگار نے حیرت انگیز انکشاف فرمایا کہ یہود اپنے تمام تر دعوئوں کے باوجود کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے کیونکہ وہ اپنے عقیدے کی خرابی اور اپنے اعمال کی بد اطواری کو اچھی طرح سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہمیں جو کتاب ہدایت دی گئی ہے اس میں ایمان وعمل ہی کو آخرت کی بنیاد قرار دیا گیا ہے نسل اور نسب کو نجات کی بنیاد قرار دینا یہ ہماری اپنی اختراع ہے۔ جسے ہم نے قومی اور سیاسی مصلحتوں کے تحت اختیار کیا اور پھر اللہ کی کتاب میں ترمیم اور تحریف کرتے ہوئے اسے عقائد کا حصہ بنالیا۔ اس حقیقت کے شناسا ہونے کی وجہ سے وہ کبھی بھی موت کی تمنا کرنے کی جرأت نہیں کریں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہماری زندگی میں ایسی کوئی خوبی نہیں جو ہمیں جنت کا وارث بنا دے۔ انھیں ہزار کہیے کہ آخرت کا گھر تمہارا ہی ہے تو پھر وہاں جانے کی تم خواہش کیوں نہیں کرتے وہ جواب میں خاموش رہیں گے یا الٹی سیدھی ہانکیں گے لیکن کبھی بھی موت کا لفظ زبان پر لانے کی جرأت نہیں کریں گے۔ یہ کیسا خطرناک لمحہ فکریہ ہے کہ ایک قوم جسے اپنی سچائی کا دعویٰ ہے اور اسے اپنی سچائی کے ثبوت کے لیے صرف موت کی تمنا کرنا ہے اور زبان سے تمنا کا لفظ کہہ دینا کوئی مشکل کام نہیں لیکن قران کریم کہتا ہے کہ وہ کبھی یہ جرأت نہیں کرسکیں گے اور تاریخی ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ قرآن کریم کی ان آیات کے نزول کے بعد یہود کو سانپ سونگھ گیا۔ ان میں سے کسی آدمی کو یہ کہنے کی جرأت نہ ہوئی کہ میں موت کی تمنا کرتا ہوں۔ یہ ایک ایسا حیرت انگیز واقعہ ہے جو قرآن کریم کی حقانیت اور اسلام کی صداقت کی ایک حجت قاطعہ ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ لوگ اپنی ہٹ پر قائم رہتے ہوئے موت کی تمنا کردیتے تو اللہ تعالیٰ ان پر موت طاری کردیتا اور ایک یہودی بھی زندہ نہ رہتا۔ وہ لوگ چونکہ اہل کتاب تھے اس لیے جانتے تھے کہ کسی نبی کا چیلنج قبول کرنا اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہوتا ہے۔ اس لیے انھوں نے خاموشی ہی میں عافیت سمجھی۔ درازیِ عمر کی خواہش ان میں مشرکین سے بھی زیادہ ہے تیسری آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ آخرت کے بارے میں ان کے دعوے سراسر بیجان دعوے ہیں، ان کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی عملی زندگی کا حال تو یہ ہے کہ یہ لوگ کبھی بھول کر بھی آخرت کا نام لیناپسند نہیں کرتے۔ یہ دنیا ہی کو اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں۔ دنیاوی زندگی انھیں اس حد تک عزیز ہے کہ ان میں سے ایک ایک آدمی کی یہ خواہش ہے کہ کاش اسے ہزار ہزار سال کی زندگی مل جائے۔ ہزار سے مراد ہزار کا عدد نہیں بلکہ غیر معمولی طویل زندگی مراد ہے۔ اور یہ بھی فرمایا گیا کہ یہ زندگی کی حرص میں اس حد تک بڑھے ہوئے ہیں کہ مشرک لوگوں سے بھی ان کی حرص کہیں بڑھ کر ہے۔ مشرکین کی زندگی کے بارے میں حرص تو سمجھ میں آنے والی بات ہے کیونکہ ان کی غالب اکثریت آخرت پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ ان کا خیال یہ تھا کہ موت ہمیشہ کے لیے خاتمے کا نام ہے۔ اس کے بعد کسی دوسری زندگی کا کوئی تصور نہیں۔ واضح ہے کہ جو آدمی یہ سمجھتا ہے کہ یہی زندگی حقیقی زندگی ہے اور اس کے بعد مکمل فنا ہے وہ یقینا زندگی کے ایک ایک لمحے سے پیار کرے گا اور ہمیشہ اس کے دل میں یہ خواہش چٹکیاں لیتی رہے گی کہ کاش موت سے میرا سامنا نہ ہو اور میں زیادہ سے زیادہ زندگی کی خوشیوں سے لطف اندوز ہوسکوں۔ اس لیے مشرکین عرب کے لیے درازیِ عمر کی خواہش کرنا ایک فطری خواہش ہے۔ لیکن یہود جو صرف آخرت کے وجود ہی کو نہیں مانتے بلکہ اسے اپنے لیے مخصوص بھی سمجھتے ہیں ان کے لیے ہزاروں سالوں کی زندگی کی خواہش ان کی ایمانی اور دینی زندگی کی موت کے مترادف ہے۔ زندگی سے پیار کرنا معیوب نہیں البتہ دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینا یہ نہ صرف معیوب بات ہے بلکہ اس سے دینی اور اخلاقی زندگی کی بساط الٹ جاتی ہے۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے ان تمام کتابوں اور صحیفوں میں ذکر فرمایا جو اس نے اپنے پیغمبروں پر نازل فرمائے ہیں اور سورة الاعلیٰ کی آخری آیتوں میں اسی مضمون کو نہابت موثرانداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ جب بھی کوئی قوم جو مسلم ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے اس بنیادی حقیقت سے محروم ہوتی ہے تو وہ اس کی تباہی کے دن ہوتے ہیں۔ گزشتہ رکوع کے آخر میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے اور اس رکوع کی اس آخری آیت میں اسے مزید کھول دیا گیا ہے۔ اور مزیدکانٹے کی بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ یہ لوگ دنیا کی محبت میں اس حد تک ڈوب گئے ہیں کہ ان میں سے ہر شخص اپنے لیے ہزار ہزارسال عمر کی خواہش رکھتا ہے۔ لیکن انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہزار سالہ زندگی بھی انھیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکتی کیونکہ زندگی چاہے کتنی بھی طویل ہوجائے کوئی بھی زندگی والا اللہ کی آگاہی سے باہر نہیں نکل سکتا۔ جس طرح چھوٹی عمروں والوں کے نامہ اعمال اللہ کے سامنے ہیں اور وہ ان کے ایک ایک عمل سے واقف ہے۔ اسی طرح طویل عمر والے بھی اپنے تمام اعمال سمیت اس کے سامنے حاضر ہوں گے اور وہاں اپنے ایک ایک عمل کو محفوظ پائیں گے ان کی طویل زندگی اللہ کے عذاب سے انھیں بچا نہیں سکے گی۔ جس طرح وہ مختصر زندگی میں اللہ کی نگاہوں میں رہے طویل زندگی میں بھی وہ اس کی نگرانی میں ہوں گے۔ اس لیے انھیں اپنے طرز عمل کے بارے میں صحیح فیصلہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ اللہ کے عذاب سے بچ سکیں۔
Ayahs 2:97–98

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

(آپ کہہ دیجئے ! جو کوئی جبرائیل کا مخالف ہے تو وہ جان لے کہ جبرائیل نے اس کلام کو آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے، مطابق ان پیشگوئیوں کے جو اس کے پہلے سے موجود ہیں اور ہدایت ہے اور ایمان والوں کے لیے خوشخبری ہے

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو کوئی مخالف ہو اللہ کا، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا تو ایسے کافروں کا اللہ دشمن ہے۔

قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّـہٗ نَزَّلَـہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ مُصَدِّقَا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وِرُسُلِہٖ وَِجِبْرِیْلَ وَمِیْکٰلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلْکٰفِرِیْنَ ۔ (آپ کہہ دیجئے ! جو کوئی جبرئیل کا مخالف ہے تو وہ جان لے کہ جبریل نے اس کلام کو آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے، مطابق ان پیشین گوئیوں کے جو اس کے پہلے سے موجود ہیں اور ہدایت ہے اور ایمان والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ جو کوئی مخالف ہو اللہ کا، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا تو ایسے کافروں کا اللہ دشمن ہے) (البقرۃ : 97 تا 98) حضرت جبرائیل سے دشمنی کا سبب اس آیت کریمہ میں یہود کے بعض خیالات پر گرفت فرمائی گئی ہے۔ یوں تو وہ خیالات سراسر مضحکہ خیز ہیں لیکن چونکہ ان کا اثر دینی زندگی پر پڑتا اور اس سے ایمانی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے اس لیے اس پر شدت سے گرفت بھی فرمائی ہے اور جن جن باتوں پر اس کا اثر پڑسکتا تھا اسے بھی واضح فرمایا ہے۔ سب سے پہلے یہ بات ایک خاص انداز میں فرمائی گئی جس سے ضمنی طور پر یہ بات سمجھ میں آگئی کہ یہود حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے دشمنی رکھتے تھے اور جس کی کوئی بنیادی وجہ نہیں تھی بلکہ ان کے اپنے مفروضے تھے جنھیں انھوں نے دشمنی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ وہ نہ جانے یہ کیسے سمجھ بیٹھے کہ حضرت جبریل اللہ کے عظیم فرشتے تو ہیں لیکن ان کا کام قوموں پر عذاب لانا ہے۔ بنی اسرائیل پر جو بڑی بڑی مصیبتیں آئیں ان کے لانے والے یہی جبرائیل تھے یعنی انھیں جبرائیل کا فرشتہ ہونے کا اقرار تھا۔ لیکن اس بات سے انکار تھا کہ وہ وحی بھی لایا کرتے تھے۔ چناچہ جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ پر وحی لانے والے حضرت جبرائیل ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہم ایسی کتاب کو ماننے کے لیے تیار نہیں جس کے لانے والے حضرت جبرائیل ہوں کیونکہ یہ وہ فرشتہ ہے جو ہمیشہ ہم پر عذاب اور مصائب لے کر نازل ہوا ہے۔ بعض لوگوں کا گمان یہ تھا کہ وحی لانے والے اگرچہ جبرائیل ہی ہیں اور ہر پیغمبر پر وحی لے کر یہی نازل ہوتے رہے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہی وہ فرشتہ ہے جو بنی اسرائیل کے مصائب کا سبب بنتارہا ہے۔ اس لیے معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اسے وحی دے کر بھیجا تو بنی اسرائیل میں ہوگا لیکن وہ جان بوجھ کر بنی اسماعیل میں حضرت محمد ﷺ پر وحی لے کر پہنچ گیا۔ اس طرح قرآن کریم ان پر اترا اور وہ اللہ کے نبی ہوگئے۔ لیکن یہ سب کچھ یاتوغلطی سے ہوا اور یا اس فرشتے نے زیادتی کی اور ہمیں اس نبوت سے محروم کردیا۔ وجہ کچھ بھی ہو یہ ایک حقیقت ہے جو حدیث سے معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ حضرت جبرائیل کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور جب عبداللہ بن صوریا کے پوچھنے پر آنحضرت نے فرمایا کہ جبرائیل مجھ پر قرآن لے کر آتے ہیں تو اس نے کہا کہ ہم ایسی کتاب کو ماننے کو تیار نہیں جو جبرائیل کے واسطے سے آتی ہے۔ کیونکہ یہ فرشتہ ہمارا دشمن ہے۔ ممکن ہے آپ کو اس بات پر تعجب ہو کہ اتنی بڑی حماقت بھی کوئی قوم کرسکتی ہے کہ وہ کسی فرشتہ کو اپنا دشمن سمجھ بیٹھے اور یا یہ سمجھے کہ وحی تو کسی اور پر آئی تھی فرشتہ غلطی سے کسی اور کے پاس لے گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمنی اپنے عجیب و غریب رنگ رکھتی ہے جس طرح محبت اور دوستی کے مختلف رنگ ہیں اسی طرح دشمنی کا بھی کوئی ایک رنگ نہیں۔ دشمنی میں مبتلاہوکر بعض دفعہ افراد اور قومیں ایسے ایسے خیالات بنا لیتے ہیں، جن کی عام زندگی میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور عقل ان کو ماننے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتی۔ لیکن ضد، حسد اور نسلی جنون اور فرقہ واریت کا بخار ایسی خطرناک چیزیں ہیں جو انسان کی عقل کو مائوف کردیتی ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی ( رح) نے اپنے رسالہ ” ردروافض “ میں ایک طائفہ غرابیہ کا ذکر کیا ہے، جو روافض کا ایک گروہ ہے۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد حضرت علی سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔ اس مشابہت کے باعث یہ غلطی ہوئی کہ حضرت جبرائیل کو بھیجا تو گیا تھا حضرت علی کی طرف وحی دے کر لیکن وہ غلطی سے حضرت محمد ﷺ کے پاس چلے گئے اور نبوت ان کو دے دی۔ اسی غلطی کی وجہ سے وہ حضرت جبریل پر لعنت بھیجتے ہیں اسی سے ملتاجلتا رویہ بنی اسرائیل کا ہے۔ پروردگار نے قرآن کریم میں ان کے اس خیال پر مختلف وجوہ سے گرفت فرمائی ہے۔ سب سے پہلے یہ بات فرمائی کہ تم جانتے ہو کہ جبرائیل اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ فرشتے ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ کوئی فرشتہ کبھی اللہ کے حکم سے نہ سرتابی کرتا ہے اور نہ کبھی اس کی تعمیل میں غلطی کا ارتکاب کرتا ہے۔ جب تم ان دونوں باتوں کو تسلیم کرتے ہو تو تم نے یہ کیسے تصور کرلیا کہ جبرائیل غلطی سے یا اپنی مرضی سے کسی کے پاس وحی لے کر چلے گئے ہوں گے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ” حضرت جبریل نے اس قرآن کو اللہ کے حکم سے آپ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے دل پر اتارا “ اب اگر تم یہ معلوم ہونے کے بعد بھی کہ قرآن کریم کا حضور پر اترنا اللہ کے حکم سے ہے، جبرائیل سے دشمنی کرتے ہو تو پھر یہ دشمنی جبرائیل سے نہیں بلکہ اللہ سے ہے، کیونکہ جبرائیل تو اللہ کے حکم کے پابند ہیں انھیں جو حکم ملے گا اس کی تعمیل کے سوا وہ کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ تمہیں اگر دشمنی کرنی ہے تو اللہ سے کرو لیکن یہ یاد رکھو کہ اللہ سے دشمنی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ قرآن کی صفات اس کے بعد قرآن کریم کی چند صفات بیان کی گئی ہیں تاکہ یہود کو اگر سوچنے کی توفیق ملے تو وہ اندازہ کرسکیں کہ قرآن کریم کو قبول نہ کرنا کن نعمتوں سے محروم ہونے کے مترادف ہے۔ اس کی پہلی صفت یہ ہے کہ تورات اور انجیل میں آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی جو صفات بیان کی گئی ہیں، آنحضرت اور قرآن کریم اس کے مصداق بن کر آئے ہیں۔ جس سے اگر ایک طرف یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ دونوں اللہ کی جانب سے ہیں اور برحق ہیں اسی طرح یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ تورات اور انجیل نے ان کے بارے میں جو صفات اور علامات بیان کی تھیں وہ بالکل صحیح تھیں۔ ان کے مصداق کے سامنے آجانے کے بعد اب ان کی صداقت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا۔ اس طرح سے ان کتابوں کی عظمت اور اہل کتاب کی عزت میں بدرجہا اضافہ ہوگیا اب اگر تم قرآن کریم کو ماننے سے انکار کرتے ہو حالانکہ یہ قرآن کریم جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ تورات اور انجیل کی بیان کردہ صفات کے مطابق ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے اپنی کتابوں کو ماننے سے انکار کردیا تمہارے اس انکار سے نہ تو ان کتابوں کی صداقت میں کوئی فرق آئے گا اور نہ قرآن کریم اور آنحضرت کی حقانیت میں۔ البتہ تمہارے بارے میں یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ تم جھوٹے لوگ ہو اور دینی معاملات میں صرف تمہارا رویہ ہی غلط نہیں بلکہ تم لوگوں کو فریب بھی دیتے ہو۔ دوسری صفت یہاں قرآن کریم کی بیان کی گئی ہے، ھدًی یعنی ” ہدایت “۔ یہ قرآن کریم ہدایت بن کر آیا ہے۔ دنیا کی ہدایت کے لیے ہر دور میں وقت کی ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنی کتابیں نازل فرماتارہا ہے تاکہ لوگوں کو زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی میسر آئے اور وہ قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں تو بتایا ہی نہیں گیا تھا کہ زندگی گزارنے کا وہ کون سا طریقہ ہے جس سے تمہیں دنیوی واخروی کامیابیاں مل سکتی ہیں اور تمہارا خدا تم سے خوش ہوسکتا ہے۔ آج کے دور کی ضرورت کے لیے اور قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نوعِ انسانی کو جو ہدایت دینا چاہتا ہے وہ اس نے قرآن کی شکل میں بھیج دی ہے۔ اب اگر تم اس کا انکار کرتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم دنیا کو اللہ کی ہدایت سے محروم رکھنا چاہتے ہو۔ سوچ لو اس کا انجام کیا ہوگا۔ تیسری صفت بیان فرمائی کہ قرآن کریم بشریٰ ، یعنی بشارت ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین لاکر اس کی ہدایت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ ایسی کتاب کے انکار کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان بالآخر اس بشارت اور خوشخبری سے محروم رہ جائے گا۔ اس نقصان کا اندازہ وہی شخص اور وہی قوم کرسکتی ہے جسے اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس ہو۔ دوسری آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہود کو اندازہ نہیں کہ حضرت جبرائیل کی مخالفت کے منطقی نتائج کیا ہیں اور انھیں اس کا بھی احساس نہیں کہ کل کو اس کی سزا کیا ملنے والی ہے۔ نتائج کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جبرائیل کی مخالفت صرف جبرائیل کی مخالفت نہیں اس کا سب سے خطرناک نتیجہ تو یہ ہے کہ وہ اللہ کی مخالفت ہے کیونکہ جبریل جس کسی پر بھی وحی لے کر اترتے ہیں اللہ کے حکم سے لے کر اترتے ہیں۔ اس طرح سے وہ اللہ کے نمائندہ ہیں۔ اب کوئی شخص اگر حضرت جبرائیل کی مخالفت کرتا ہے تو وہ حضرت جبرائیل کی ذات کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ وہ اللہ کے نمائندہ کی مخالفت کرتا ہے اور اللہ کے نمائندہ کی مخالفت اللہ کی مخالفت ہے۔ دنیا کا کوئی حکمران کبھی اپنے قاصد کی توہین یا اس کی ایذا رسانی کو برداشت نہیں کرتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ قاصدوں کے قتل پر بڑی بڑی جنگیں برپا ہوچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے قاصد کی توہین اور اس کی مخالفت کو اپنی مخالفت قرار دے کر آیت کے آخری لفظ میں واضح کردیا کہ اللہ کے نزدیک یہ کفر اور بغاوت ہے اور اس کا انجام ہر سوچنے والے پر واضح ہے۔ مزید فرمایا کہ جبریل کی مخالفت اور دشمنی، صرف جبرائیل سے دشمنی نہیں یہ تمام فرشتوں اور تمام رسولوں سے دشمنی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں میں کامل ہم آہنگی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات منبع رشد و ہدایت ہے۔ فرشتے اس ہدایت کے قاصد اور رسول اس کے پیکر، مبلغ اور منفذ ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار بھی تمام کا انکار ہے جو درجہ بدرجہ اللہ کی ذات تک پہنچتا ہے۔ آیت کے آخر میں جبریل کے ساتھ میکائیل کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ جبرائیل سے دشمنی یوں تو سارے فرشتوں سے دشمنی ہے لیکن عام کے بعد خاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میکائیل سے بھی دشمنی ہے۔ ان کا نام بطور خاص اس لیے لیا گیا کہ یہود حضرت میکائیل سے عقیدت اور محبت رکھتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ فرشتہ ہمیشہ ہمارا ہمدرد اور خیرخواہ رہا ہے۔ اس لیے ان کا نام لے کر فرمایا کہ جبریل سے دشمنی کا نتیجہ یہ ہے کہ میکائیل سے بھی تمہارا کوئی رشتہ نہیں۔ دشمنی چاہے جبرائیل سے کرویامیکائیل سے یہ سب سے دشمنی کے مترادف ہے، جو بالآخر اللہ سے دشمنی پر منتج ہوتی ہے اور یہ کفر ہے اور اللہ تعالیٰ چونکہ کافروں کا دشمن ہے اس لیے تم نے جبرائیل کی مخالفت سے اس کی دشمنی کو دعوت دی ہے۔ غور کرو ! اللہ کی دشمنی کا انجام کیا ہوگا ؟