Ayah 2:191وَاقْتُلُوْھُْمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدَّ مِنَ الْقَتْلِ ج وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوکُمْ فِیْہِ ج فَاِنْ قٰـتَـلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ ط کَذٰلِکَ جَزَائُ الْکٰفِرِیْنَ ۔
(اور قتل کرو ان کو جہاں کہیں ان کو پائو اور ان کو وہاں سے نکالو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا تھا اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور تم ان سے مسجد حرام کے پاس پہل کرکے جنگ نہ کروجب تک وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو ان کو قتل کرو، یہی کافروں کا بدلہ ہے) (191)
اس آیت کریمہ میں واضح طور پر ارشاد فرمایا اگر وہ حدود حرم میں تمہارا راستہ روکیں تو تم بھی حدود حرم میں انھیں قتل کرسکتے ہو کیونکہ انسانی زندگی میں یہ ممکن نہیں ہے کہ دشمن تلوار تمہارے گلے تک پہنچا دے اور اگر تم ایک لمحہ تامل کرو تو تمہارا سرکندھے سے اتر جائے۔ لیکن تم کھڑے یہ سوچتے رہو کہ یہ حرم ہے اس لیے میں حرم کی حرمت کو پامال نہیں کرسکتا۔ اس لیے فرمایا کہ تم جہاں ان کو پائو یعنی جہاں کہیں ان سے تصادم ہو تو ان کو قتل کرو اسی طرح تمہیں یہ بھی حق ہے کہ انھوں نے تمہیں جس مکہ سے نکالا ہے تم بھی انھیں وہاں سے نکالو کیونکہ مکہ کی سرزمین پر اس کا حق نہیں جو ابراہیم (علیہ السلام) سے نسل اور نسب کا تعلق رکھتا ہے بلکہ یہ اس کا حق ہے جو ان کی ملت پر قائم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) سے صاف فرمادیا تھا کہ تمہاری جانشینی کا حق ان لوگوں کو نہیں ملے گا جو تیرے طریقے پر چلنے والے نہیں ہوں گے۔ اس لیے بجا طور پر اس وقت ملت ابراہیمی کے وارث چونکہ مسلمان ہیں تو مکہ معظمہ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کا مرکز تھا اس کے وارث بھی مسلمان ہی ہوں گے اس لیے ان کو یہ حق دیا جارہا ہے کہ اگر وہاں لڑائی کی نوبت آجائے تو تمہیں حق ہے کہ انھیں مکہ سے نکال باہر کرو۔
فتنہ سے مراد
وَالْفِتْنَۃُ اَشَدَّ مِنَ الْقَتْلِ : مسلمانوں کو مشرکینِ مکہ سے جو قتال کی اجازت دی گئی ہے اور انھیں مکہ سے نکالنے کا حق دیا گیا ہے یہ اس کی دلیل بیان کی جارہی ہے۔ فتنہ عام طور پر ” آزمائش “ کو کہتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ” کسی کو جبر اور ظلم سے اس کے مذہب سے برگشتہ کرنے “ کو بھی فتنہ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے مختلف جگہوں میں اسے اس معنی میں استعمال کیا ہے۔ قریش مکہ کا جو رویہ مسلمانوں کے ساتھ رہا اور جب تک مکہ فتح نہیں ہوگیا وہ برابر جس رویے پر قائم رہے اس کے حوالے سے بیسیوں واقعات اس کے شاہد ہیں۔ حضرت بلال ( رض) کو جس طرح تپتی ریت پر لٹایا جاتا، گلیوں میں گھسیٹا جاتا اور سینے پر بھاری سل رکھ دی جاتی۔ یہ سب کچھ کس لیے تھا ؟ صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ تم اسلام چھوڑ دو ۔ لیکن وہ جواب میں ناقابلِ برداشت تکلیفیں اٹھاتے تھے لیکن ان کی زبان سے احد احد کے سوا کوئی لفظ نہیں نکلتا تھا کہ ” اللہ ایک ہے۔ اللہ ایک ہے “ تم جو چاہو کرلو میں اس ایک اللہ کا دامن نہیں چھوڑ سکتا۔ حضرت عمار ( رض) پر قیامت گزرتی رہی، حضرت یاسر ( رض) پر مظالم کی چکی چلتی رہی، حضرت خباب ( رض) کو دہکتے انگاروں پر لٹایا جاتارہا، یہ وہ فتنہ ہے مسلمان جس کا شکار تھے۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حدود حرم اور اشھر حرم میں قتل و قتال بڑی سنگین بات ہے۔ لیکن جس گھر میں اللہ کے بندوں اور بندیوں کو اس بنا پر ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہو کہ وہ اللہ پر ایمان کیوں لاتے ہیں۔ یہ ظلم وستم اس قتل سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ اس سنگین فتنے کو مٹانے کے لیے مسلمانوں کو اجازت دی جارہی ہے کہ اگر جنگ کی نوبت آجائے تو تم کفار کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرو جس کے وہ مستحق ہیں اور جہاں کہیں وہ تمہارے مقابل آئیں انھیں قتل کرو۔ یہ چیز نہ احترامِ حرم کے منافی ہے اور نہ اشھر حرم کی حرمت کے۔
وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوکُمْ فِیْہِ : آیت کے اس حصے میں مسلمانوں کو مزید احتیاط کا حکم دیا گیا ہے کہ قتال اور جہاد کرنا ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ لیکن حرم اور مسجد حرام کے احترام کو بھی کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے جب تک کفار تمہیں مسجد حرام کے پاس لڑنے پر مجبور نہ کردیں اس وقت تک تم پہل نہ کرنا۔ لیکن اگر ایسا ضروری ہوجائے تو پھر ان کو منہ توڑ جواب دینا کہ کفار اگر مسلمانوں کی دشمنی میں مسجد حرام اور حرم کے احترام کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھتے تو وہ خود بھی کسی رعایت کے مستحق نہیں رہتے۔ اس کو مثال سے یوں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی حرمت کو بےحد اہمیت دی ہے۔ کسی کی جان لینا تو بہت دور کی بات ہے آنحضرت نے تو یہاں تک فرمایا : مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السِّلَاحَ فَلَیْسَ مِنَّا ” جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں “۔ یعنی جس نے ابھی قتل نہیں کیا البتہ وہ کسی مسلمان پر ارادہ قتل سے ہتھیار اٹھاتا ہے تو امت سے اس کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے یعنی وہ اسلام کے رشتے سے نکل جاتا ہے۔ یہ حرمت جان جس کی شریعت میں اس قدر اہمیت ہے اس وقت تک اس کا احترام باقی رہتا ہے جب تک ایک شخص دوسرے کی حرمت جان کا احترام ملحوظ رکھتا ہے۔ اگر ایک نے دوسرے کو قتل کردیا اب اس کی جان کسی احترام کی مستحق نہیں وہ یقینا قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ اسی طرح کفار قریش اگر مسلمانوں کو قتل کرنے سے نہیں رکتے تو پھر وہ خود بھی کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا : کَذٰلِکَ جَزَائُ الْکٰفِرِیْنَ :” کافروں کا یہی بدلہ ہے۔ “ وہ جو کریں گے اس کے مطابق ان سے سلوک کیا جائے گا۔
Ayah 2:192فَاِنِ انْتَھَوْافَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔
(پس اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے) (192)
” اگر وہ بازآجائیں “ کے دو مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ انھوں نے جو فتنہ پر مبنی رویہ اختیار کررکھا تھا اور مسلمانوں کو اذیت پہنچا کر لطف حاصل کرنا ان کا معمول بن گیا تھا اور جو مسلمان پیچھے مکہ میں رہ گئے تھے ان پر طرح طرح کے مظالم بدستور جاری تھے اور اجتماعی طور پر انھوں نے مسلمانوں پر بیت اللہ کا راستہ بند کررکھا تھا اور وہ کسی طرح بھی اسے گوارا کرنے کو تیار نہ تھے کہ مسلمان اللہ کے گھر تک پہنچ سکیں۔ یہاں فرمایا جارہا ہے کہ اگر وہ اپنے اس رویے سے دستبردار ہوجائیں اور مسلمانوں کے جائز حقوق کو تسلیم کرلیں اور اسلام کی تبلیغ اور اس کے فروغ میں رکاوٹ نہ بنیں تو مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ پھر تم بھی ان کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کروجس طرح اللہ تعالیٰ بدتر سے بدتر مجرم کو توبہ کے بعد معاف کردیتا ہے تم بھی یہی صفت اپنے اندر پیدا کرو کیونکہ تمہاری لڑائی انتقام کی پیاس بجھانے کے لیے نہیں ہونی چاہیے بلکہ اللہ کے دین کا راستہ صاف کرنے کے لیے ہونی چاہیے۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف اپنے ظالمانہ رویے سے باز نہ آئیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا معاملہ کرے گا اور مسلمانوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ اسلامی اخوت کا معاملہ کرو اور یہ مت سمجھو کہ چونکہ ہمارے درمیان لڑائی چھڑ چکی ہے اس لیے عین حالت جنگ میں وہ اگر اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے ایمان کی طرف آرہے ہیں تو ہمیں ان کا ایمان ہرگز قبول نہ کرنا چاہیے۔ کہا : تمہارا رویہ بھی بخشش اور رحم و کرم پر مبنی ہونا چاہیے۔
Ayah 2:193وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَاتَـکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ط فَاِنِ انْتَھَوْا فَلَاعُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ۔
(اور ان سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہ جائے اور دین اللہ کا ہو کر رہ جائے اور اگر یہ باز آجائیں تو پھر اقدام ان کے خلاف جائز ہے جو ظالم ہیں) (193)
اسلامی انقلاب کا ہدف
اس آیت کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انقلاب اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس ہدف کا اعلان کردیا جائے اور وہ ہدف یہ ہے کہ مشرکین سے مسلمانوں کے لیے صرف چند مراعات حاصل کرلینا مقصود نہیں اور نہ یہ مطلوب ہے کہ قریش مکہ اگر اپنے ظالمانہ رویہ سے رک جائیں تو باقی انھیں ہر کام کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے کیونکہ اسلام نے جس آزادی اور روا دری کا درس دیا ہے۔ اس کے پیش نظر یہی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے عقائد، اپنے تصورات اور اپنی تہذیب کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہیں بشرطیکہ وہ اسلام کے اقتدارِ اعلیٰ کو تسلیم کرلیں اور اسلام کے نظام کی بالادستی کے لیے کسی رکاوٹ کا باعث نہ بنیں۔ یہی رویہ مسلمانوں نے ان تمام شہروں اور ملکوں میں اختیار کیا جنھیں انھوں نے فتح کیا۔ جب وہاں کے رہنے والوں نے اقتدارِ اعلیٰ مسلمانوں کے سپرد کردیا اور خود فرمانبردار رعایا کی حیثیت اختیار کرلی تو مسلمانوں نے انھیں مذہب، روایات اور تہذیب کے معاملے میں آزاد چھوڑ دیا۔ البتہ ! پبلک لائف (Public Life) میں ملک کے اسلامی قانون کی انھیں پابندی کرنا ہوتی لیکن پرسنل لاز (Personal Laws) میں انھیں فی الجملہ آزادی حاصل تھی۔
عرب قوم کی خصوصیت
لیکن عربوں کا معاملہ ان سے یکسر مختلف تھا کیونکہ عرب بلاواسطہ اور براہ راست آنحضرت ﷺ کی امت دعوت تھے۔ ان کی طرف اللہ کے رسول کا آنا، اللہ کی طرف سے حجت بالغہ، حجتِ قائمہ اور آخری دلیل تھا جس کے بعد مزید کسی حجت وبرہان کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ رسول اپنی ذات میں ایک معجزہ ہوتا ہے، اس کی دلآویز شخصیت، اس کا بےعیب کردار، اس کا اعلیٰ خاندان، اس کا روشن پس منظر، اس کی مبہوت کردینے والی دعوت، اس کی بےپناہ قوت استدلال، اس کی اپنی دعوت پر ناقابلِ تغیر استقامت اور قوم کے لیے گہری ہمدردی، محبت اور شفقت ان میں سے ایک ایک چیز قوم کے لیے آخری حجت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ کے نبی بھی دلیل وبرہان بن کر آتے ہیں، لیکن قومیں اگر ان کی تکذیب کردیتی ہیں حتی کہ انھیں قتل بھی کردیتی ہیں تو اللہ تعالیٰ مزید پیغمبر بھیج دیتا ہے اور قوموں کو سنبھلنے کا موقعہ دیتا ہے۔ لیکن رسول چونکہ اتمامِ حجت کے لیے آتا ہے اس کے آنے کے بعد پھر دو ہی راستے ہوتے ہیں کہ یا اس کی مخاطب قوم ایمان لے آئے اور یا پھر اسے تباہ کردیا جائے۔ تباہی دو صورتوں میں آتی ہے کبھی اللہ کی جانب سے عذاب آتا ہے جیسے قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم نوح وغیرہ پر آیا اور ان کی جڑ کاٹ دی گئی یا اللہ تعالیٰ رسول پر ایمان لانے والوں کو اتنی طاقت عطا فرما دیتا ہے کہ وہ مکذب قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں۔ مشرکینِ عرب کے سامنے بھی دو ہی راستے کھلے رکھے ہیں کہ یا تو اللہ کا دین اختیار کرلو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائو دین سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت پر مبنی جونظامِ حق نافذ کیا جارہا ہے اس کی پوری طرح اطاعت کرو، اس کے اعتقادات پر ایمان لائو، اس کے احکام پر عمل کرو، اس کے آداب کو زندگی کا زیور بنالو، اس کی ذمہ داریوں کو آخری ذمہ داریوں کے طور پر قبول کرلو۔ جس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ فتنے کی حالت ختم ہوجائے یعنی تم نے غیر اللہ کی پرستش اور عبادت پر مبنی جو نظام اختیار کررکھا ہے اور دوسروں کو بالجبر اس پر چلنے کے لیے مجبور کرتے ہو یہ تمہارا دین ہے۔ اللہ کے دین کے مقا بلے میں ایسے تمام ادیان ختم ہوجانے چاہئیں کیونکہ یہی آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کا مقصد ہے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں اسی مقصد کو واضح انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا :
ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَـہٗ بِاالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ المُشْرِکُوْنَ
(وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو بھیجا اپنی ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس دین کو سارے دینوں پر غالب کردے اگرچہ مشرکین اس چیز کو ناپسند کریں)
یہی بات پیش نظر آیت کریمہ میں بھی فرمائی گئی۔ صاف صاف مشرکین عرب کو ورارننگ دی جارہی ہے کہ تم سے اس وقت تک جنگ جاری رہے گی جب تک اس دھرتی پر اللہ کا دین پوری طرح بلاکم وکاست جاری وساری اور نافذ نہیں ہوجاتا۔ اس لیے یا تو اس حقیقت کو قبول کرلو اور یا پھر تلوار ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گی۔
آنحضرت ﷺ نے اس مقصد کو مزید مبرہن کرنے کے لیے کچھ مزید ہدایات جاری فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کہ دوسری قوموں کو تم کسی معاہدے کے ساتھ یا جزیہ لے کر اپنے اعتقادات کے مطابق رہنے کا حق دے سکتے ہو لیکن عربوں کے لیے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس پورے علاقے کو غیر اسلامی قبضہ یا مداخلت سے بالکل محفوظ کرکے اسلام کا Base بنادینا مقصود ہے تاکہ یہاں آزادی سے وہ امت تیار ہو اور انقلاب کی وہ صالح اور طاقتور بنیاد قائم ہو جس سے پوری دنیا کو اسلام کی برکات سے بہرہ ور کیا جائے۔ اس لیے آپ نے جزیرہ عرب کے متعلق یہ ہدایت دی : لَایَجْتَمِعُ فِیْہِ دِینَانِ ” جزیرہ عرب میں دین حق کے ساتھ کوئی اور دین جمع نہیں ہوسکتا “۔ اپنی آخری وصیت میں آپ نے یہود و نصاریٰ کو اس سرزمین سے نکال دینے کا حکم دیا۔ حضرت عمر فاروق ( رض) نے اپنے دور خلافت میں اس کی تعمیل فرمائی۔ اس طرح مسلمانوں کو وہ Base میسر آیا جس میں کسی اور دین اور کسی اور تہذیب کے لیے کوئی گنجائش نہ تھی۔
یہاں ایک بات واضح کرنا بہت ضروری ہے وہ یہ کہ جزیرہ عرب کو کفر کے تمام اثرات سے پاک کرنے اور تمام دوسرے مذاہب کو وہاں سے نکال دینے کی پالیسی وقتی نہیں تھی بلکہ یہ ایک مستقل پالیسی تھی جسے اسلام کے سیاسی نظام میں ایسی بنیادی حیثیت حاصل تھی جس کی حیثیت دین کی تھی اور اس کا فیصلہ کسی خلیفہ وقت یا شوریٰ نے نہیں کیا تھا بلکہ یہ اللہ کے آخری رسول کا حکم تھا۔ جس کی تعمیل فرض ہونے کے ساتھ ساتھ دائمی اور ابدی ہے۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں اور پھر آج کی صورتحال پر غور فرمائیں کہ آج کا جزیرہ عرب کن سیاسی قوتوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور کون سی تہذیب ہے جس کے اثرات حدود حرم تک میں داخل ہوچکے ہیں اور جن غیر اسلامی قوتوں کو حضرت عمر فاروق ( رض) نے اللہ تعالیٰ کے رسول کے حکم سے جزیرہ عرب سے نکال دیا تھا انھیں کی آج فوجیں جزیرہ عرب کی سرحدوں پر بیٹھی ہیں اور انھیں کی حکومتوں کے فیصلے مسلمان حکومت کے واسطے سے لوگوں پر مسلط کیے جارہے ہیں۔ وہ جزیرہ عرب جو اسلام کا Base اسلام کا مرکز اور اسلام کی چھائونی تھا آج وہاں غنیم کا لشکر دراتا پھر رہا ہے۔ باقی عالم اسلام کی طرح وہاں بھی حق گوئی کی پاداش میں زبانیں بند کی جارہی ہیں اور اگر کوئی زبان ایسی ہی زور آور ہے تو اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا جاتا ہے۔ اس سے مسلمانوں کی بےبسی اور اسلام سے ان کی محرومی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور اس کے آئینہ میں آنے والے دنوں کی دھندلی سی تصویر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
فَاِنِ انْتَھَوْا فَـلَاعُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ :” پھر اگر وہ بازآجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر دست درازی روا نہیں۔ “ عُدْوَان کے اصلی معنی تو ” تعدی اور زیادتی “ کے ہیں۔ لیکن یہاں یہ لفظ تعدی اور زیادتی کے معنی میں استعمال نہیں ہوا بلکہ تعدی اور زیادتی کو روکنے کے لیے جو اقدام کیا جاتا ہے یا اس کی پاداش میں مجرموں کو جو سزا دی جاتی ہے اس کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں کبھی کبھی بعض الفاظ محض مجانست اور ہم آہنگی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان کا مفہوم موقع ومحل سے متعین ہوتا ہے۔ یہاں یہ کہنا مقصود ہے کہ جب نظام باطل کی جگہ نظام حق قائم ہوجائے تو عام لوگوں کو تو معاف کردیا جائے گا لیکن ایسے لوگوں کو سزا دینے میں مسلمان بالکل حق بجانب ہوں گے جنھوں نے اپنی دور اقتدار میں نظام حق کا راستہ روکنے کے لیے ظلم وتعدی کی حد کردی۔ اگرچہ اس معاملے میں بھی مومنینِ صالحین کو زیب یہی دیتا ہے کہ عفو و درگذر سے کام لیں اور فتح یاب ہوکرظالموں سے انتقام نہ لیں۔ مگر جن کے جرائم کی فہرست بہت ہی زیادہ سیاہ ہو ان کو سزا دینا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ اس ذات والا صفات کی سنت ہے جس سے بڑھ کر عفو و درگزر کسی کے شایانِ شان نہ تھا۔ چناچہ جنگ بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کا قتل اور فتح مکہ کے بعد آپ کا سترہ آدمیوں کو عفو عام سے مستثنیٰ فرمانا اور پھر ان میں سے چارکو سزائے موت دینا اسی حقیقت پر مبنی تھا۔
Ayah 2:194اَلشَّھْرُالْحَرَامِ بِالشَّھْرِالْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ط فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَااعْتَدیٰ عَلَیْکُمْ ص وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ۔
(ماہِ حرام، ماہِ حرام کا بدلہ ہے اور اسی طرح دوسری مختلف چیزوں کا بھی قصاص ہے تو جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس کی زیادتی کے جواب میں اسی کے برابر اس کو جواب دو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ یقین رکھو کہ اللہ حدود الٰہی کا احترام کرنے والوں کے ساتھ ہے) (194)
اشھرِحرم کی حیثیت
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے عربوں میں یہ عقیدہ چلا آرہا تھا کہ ذی القعد اور ذی الحجہ اور محرم کے تین مہینے حج کے لیے خاص تھے اور رجب کا مہینہ عمرے کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ انھیں چار مہینوں کو اشھر حرم یعنی حرمت والے مہینے یا حرام مہینے کہا جاتا ہے۔ عرب ان مہینوں کا اس حد تک احترام کرتے تھے کہ ان مہینوں میں ان کی وہ تلواریں جو ہمیشہ دوسروں کا خون بہانے کے لیے بےنیام رہتی تھیں نیام میں چلی جاتی تھیں۔ اس احترام اور پابندی کا فائدہ یہ تھا کہ وہ ان مہینوں میں حج اور عمرہ بھی نہایت اطمینان کے ساتھ کرسکتے تھے اور اس کے علاوہ ان چار مہینوں میں پورے عرب میں تجارت زورو شور سے ہوتی تھی۔ خود مکہ معظمہ حج کے دنوں میں تجارت کا مرکز بن جاتا تھا۔
ان مہینوں کا احترام چونکہ عربوں کے رگ وریشے میں سمایا ہوا تھا اس لیے وہ کبھی اس کی خلاف ورزی کرنے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔ البتہ ! جب کبھی ان کو لڑائی کی شدید ضرورت پیش آتی یا لڑائی کے حالات پیدا ہوجاتے یا وہ کسی کا انتقام لینے یا غارت گری کرنے کے لیے بےچین ہوتے تو کسی حرام مہینے میں یہ جنگ کر گزرتے اور جس کسی پر بھی چھاپہ مارنا ہوتا اس سے بھی دریغ نہ کرتے اور کسی سے انتقام لینا ہوتا تو انتقام لے لیتے۔ لیکن اس مہینے کی جگہ کسی دوسرے مہینے کو حرام کرکے اپنے تئیں اس حرمت کا بدلہ پورا کردیتے تھے۔ اندازہ فرمائیے ! اشھرحرمکا احترام ان کا ایمان بن چکا تھا۔ لیکن ان کی نفسانی یا قبیلے کی ضرورتیں جب کبھی اس عقیدے سے مزاحم ہوتیں تو وہ اپنی خواہشات یاقبیلے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اس حرمت کو پامال کرنے سے دریغ نہ کرتے لیکن اپنے نفس کی تسکین کے لیے اس کی جگہ کسی دوسرے مہینے کو حرمت والا مہینہ قرار دے دیتے۔ اس کا نام انھوں نے ” نسی “ رکھا تھا۔ ان کی اس حرکت کے باعث مسلمانوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر کفار اپنے نسی کے حیلے کو کام میں لاکر کسی حرام مہینے میں جنگی کارروائی کربیٹھیں تو اس صورت میں کیا کیا جائے ؟ چناچہ اس آیت کریمہ میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ حرام مہینوں کا احترام اور حرمتوں کی پاسداری یکطرفہ نہیں ہوتی اگر ایک فریق تلوار لے کرچڑھ دوڑے اور دوسرا احترام کے تقاضوں کو پورا کرتا رہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ اشھرحرم اور حدود حرم کا احترام مسلّم ہے بشرطیکہ کفار بھی ان کا احترام ملحوظ رکھیں اور ان میں دوسروں کو ظلم وستم کا ہدف نہ بنائیں۔ لیکن جب ان کی تلواریں ان مہینوں اور اس بلد امین میں بےنیام ہونے سے دریغ نہ کریں تو اس کے قصاص میں وہ بھی امن واحترام کے حقوق سے محروم کیے جائیں گے۔ اس لیے تم اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ اگر کسی محترم مہینے میں لڑ نا پڑا یا حدود حرم میں جنگ ہوگئی تو پھر کیا ہوگا ؟ جو بھی ہوگا اس کا وبال لڑائی میں پہل کرنے والوں پر ہوگا۔ البتہ ! یہ ضروری ہے کہ تم کسی حال میں بھی حدود سے آگے مت بڑھو تم ان کے حملوں کا جواب تو پوری قوت سے دو لیکن تقویٰ کی حدود کا ملحوظ رکھنا از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہمیشہ ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ہر طرح کے حالات میں تقویٰ کی حدود کا لحاظ رکھتے ہیں اور ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔
اعتداء کا مفہوم
فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَااعْتَدیٰ عَلَیْکُم : ” تو جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس کی زیادتی کے جواب میں اسی کے برابر اس کو جواب دو “۔ اس جملے میں صنعت تجانس استعمال کی گئی ہے۔ یعنی سابق لفظ کی ہم آہنگی کی وجہ سے اس کا ہم جنس لفظ استعمال کیا جاتا ہے لیکن وہ مفہوم میں اس سے مختلف ہوتا ہے۔ مثلا قرآن پاک میں ہے : جزاء سیئۃٍ سیئۃٌ بمثلھا ” برائی کا بدلہ اسی کے مانند برائی ہے۔ “ ظاہر ہے کہ برائی کا بدلہ برائی نہیں ہوتا بلکہ انصاف اور عدل ہوتا ہے، لیکن یہاں صرف ہم آہنگی کی وجہ سے یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح پیش نظر آیت میں بھی زیادتی کے جواب میں جو اقدام کیا جاتا ہے اس کو ” اعْتَدَاء “ سے تعبیر فرمایا ہے حالانکہ یہ اعتداء یازیادتی نہیں بلکہ زیادتی کا جواب ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ تم حدود حرم اور اشھرحرم کا پوری طرح احترام ملحوظ رکھو۔ لیکن اگر مشرکین اس کی پرواہ نہ کریں تو پھر ان کی ہر زیادتی کا جواب ہرحال میں دیئے جانے کی اجازت ہے۔ اس میں کسی طرح کا تأمل نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ ! تمہارا ہر قدم انصاف کے مطابق اٹھنا چاہیے، تمہارا ہر فیصلہ عدل کے ترازو میں ٹھیک تلنے کے لائق ہونا چاہیے کیونکہ تمہاری بنیاد تقویٰ پر ہے اور تقویٰ اللہ سے ڈرنے اور ادائے حقوق کی پاسداری کا نام ہے۔
Ayah 2:195وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُـکَۃِ ج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔
(اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں مت ڈالو اور انفاق خوبی کے ساتھ کرو، بیشک اللہ خوبی کے ساتھ کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) (195)
جہاد اور انفاق باہم لازم وملزوم ہیں
سابقہ آیات میں چونکہ جہاد کا مضمون بیان ہوا ہے اور مسلمانوں کو بیت اللہ کی آزادی اور فتنہ کے خاتمہ کے لیے جہاد کا حکم دیا گیا ہے تو جہاد کے حکم کے بعد انفاق کے حکم کا آناتو لازمی تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ قرآن کریم کا ایک مستقل اسلوب ہے کہ جہاں بھی جہاد کا ذکرآیا ہے وہاں انفاق کا ذکر ضرور آیا ہے۔ مثلاً : تجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم ” اور تم جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مال اور اپنی جان سے۔ “ دوسری وجہ اس کی یہ ہے کہ قرآن کریم کا یہ اسلوب بےسبب نہیں۔ قرآن کریم ایک ایسی انقلابی کتاب ہے، جس نے اپنے ماننے والوں کو یہ تصور دیا ہے کہ تمہارا اصل مقصد اعلائے کلمۃ الحق اور اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کو نافذ کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے جہاد کیے بغیر چارہ نہیں کیونکہ دنیا میں شر اور لادینیت کے بڑے بڑے جتھے اور بڑے بڑے گروہ ہیں جن کی قوت توڑے بغیر اللہ کا کلمہ غالب نہیں آسکتا۔ ان کی قوت کو توڑنے کے لیے قدم قدم پر لڑائی ہوگی اور جب تک حق و باطل ہیں اس وقت تک اس کشمکش میں کبھی کمی نہیں آئے گی۔ جب سے دنیا خیر و شر سے آگاہ ہوئی ہے اس وقت سے یہ کشمکش جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرار بولہبی
یہ بات ہر سمجھدار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ کوئی سی جنگ بھی وسائلِ جنگ کے بغیر نہیں لڑی جاسکتی۔ بڑے سے بڑا صاحب ایمان بہادر بھی بغیر اسلحہ جنگ کے جہاد نہیں کرسکتا۔ اسے تلوار چاہیے، زرہ چاہیے، بکتر چاہیے، نیزہ چاہیے، گھوڑا چاہیے، یہ ایک سپاہی کی معمولی ضرورتیں ہیں۔ جتنا بڑالشکر ہوگا اس کی اتنی ہی ضرورتیں وسیع ہوں گی۔ ظاہر ہے کہ یہ وسائلِ جنگ مسلمانوں کے انفاق سے ہی مہیا ہوں گے۔ اور اگر لڑائی کے لیے کہیں جانا بھی ہے تو پھر رسد اور کمک بھی چاہیے۔ ان ضرورتوں کے پیش نظر پروردگار ہمیشہ انفاق کا حکم دیتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو اور بھی واضح کردیا گیا ہے۔ اس میں صرف انفاق کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ انفاق چونکہ جہاد کا ایک جز ہے بلکہ جہاد بالمال ہے اس لیے اس جہاد کو چھوڑ کر خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان نہ کرنا۔ اس بات کے لیے جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں انھیں دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ایک ایسے شخص کی تصویر کھینچی گئی ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے کسی دریا یا غار میں چھلانگ لگارہا ہو جس طرح ایسے شخص کی تباہی میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا اسی طرح جہاد اور انفاق کے ترک کرنے والی قوم کی تباہی میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ ایک حدیث سے اس پر مزید روشنی پڑتی ہے۔
” حضرت ابو ایوب انصاری ( رض) نے فرمایا کہ یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ہم اس کی تفصیل بخوبی جانتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ اور قوت عطا فرمادی تو ہم میں یہ گفتگو ہوئی کہ اب جہاد کی کیا ضرورت ہے ؟ ہم اپنے وطن میں ٹھہر کر اپنے مال وجائداد کی خبر گیری کریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے یہ بتلایا کہ ہلاکت سے مراد اس جگہ ترک جہاد ہے “۔
چونکہ اس کا تعلق انفاق سے ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد جہاد بالنفس بھی ہے اور جہاد بالمال بھی۔ مزید فرمایا کہ جہاد بالنفس ہو یا جہاد بالمال دیکھنا اس کو بیگار نہ سمجھنا، اس کو بوجھ محسوس نہ کرنا، یہ صرف اللہ کا حکم ہی نہیں بلکہ تمہاری زندگی ہے۔ اس کو دل کی آمادگی کے ساتھ بہتر سے بہتر انداز میں انجام دینے کی کوشش کرنا کیونکہ احسان ” کسی کام کو بہتر سے بہتر طریقے اور خوبی کے ساتھ کرنے “ کو کہتے ہیں۔ اس لیے جہاد اور انفاق بھی احسان کے ساتھ یعنی بہتر سے بہترانداز میں کرنے کی کوشش کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتے ہیں اور اسی قوم کو زندگی دیتا ہے جو جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کو اپنی اجتماعی زندگی کا عنوان اور اپنی قومی زندگی کا ہدف بنالیتی ہے۔ وہ زندگی موت سے ڈرنے میں نہیں بلکہ موت کی خواہش میں تلاش کرتی ہے۔ بقول اکبرؔ ؎
جو دیکھی ہسٹری تو دل کو پھر کامل یقیں آیا
جسے مرنا نہیں آیا اسے جینا نہیں آیا
Ayah 2:196وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ط فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرََ مِنَ الْھَدْیِ ج وَلَا تَحْلِقُوْارُئُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّـہٗ ط فَمَنْ کَانَ مِنْـکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْصَدَقَۃٍ اَوْنُسُکٍج فَاِذَآ اَمِنْتُمْ قفۃ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ ج فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰـثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ط تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ط ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِالْحَرَامِ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ع
(اور پور اکروحج اور عمرہ اللہ کے لیے پس اگر تم گھیر لیے جاؤ تو تم پر ہے جو کچھ کہ میسر ہو قربانی سے اور اپنے سروں کی حجامت نہ کرو جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے پھر جو کوئی تم میں سے بیمارہویا اسے تکلیف ہو اسکے سر میں تو وہ بدلہ دے روزے یا خیرات یاقربانی سے پھر جب تم مامون ہوجاؤ تو جو شخص فائدہ اٹھائے عمرہ کو حج سے ملاکر تو اس پر ہے جو اسے قربانی میسر ہو تو پھر جو شخص قربانی نہ پائے تو تین روزے رکھے حج کے دنوں میں اور سات روزے جبکہ تم لوٹویہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جس کے گھروالے مسجد حرام کے قرب و جوار میں نہ رہتے ہوں اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان لو کہ بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے) (196)
سابقہ آیات کا خلاصہ اور ربط
گزشتہ رکوع میں حج کا ذکر آیا ہے تو اس زمانے کے حالات کے تناظر میں جن جن ہدایات کی ضرورت تھی مسلمانوں کو وہ ہدایات دے دی گئیں۔ اسی نسبت سے جہاد کا ذکر بھی آیا ہے اشھر حرم بھی زیر بحث آئے اور یہ بات بھی کہ اگر جنگ حدود حرم یا مسجدِ حرام میں چھڑ گئی تو اس صورت میں مسلمانوں کو کیا کرنا ہوگا اور اسی ضمن میں اس حقیقت کو بھی منکشف کیا گیا کہ امت مسلمہ کا اصل فریضہ اس فتنہ کو ختم کرنا ہے جو اللہ کی دھرتی پر اللہ کے دین کے غلبہ کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ اس حیثیت سے مسلمانوں کو ان کا فریضہ یاد دلایا گیا اور چونکہ کسی بھی نظام زندگی کے غلبے اور اس راستے میں پیش آنے والی کشمکش اور اس کے لیے ضروری مصارف کا حصول ایسی باتیں ہیں جو ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ اس لیے آخر میں انفاق کا حکم دیا گیا اور جہاد اور انفاق سے ہاتھ اٹھانے یا اس کی طرف سے لاپرواہی برتنے کو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے تعبیر کیا گیا اور مستقل پالیسی کے طور پر یہ حکم دیا گیا کہ تم اللہ کی بندگی اور اس کے فرائض کی ادائیگی میں بہتر سے بہتر جذبہ اور بہتر سے بہتر عمل بروئے کار لانے کی کوشش کرو۔ یہی وہی چیز ہے جو اللہ کی بارگاہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ تمہارے پیش نظر ہمیشہ یہ حقیقت رہنی چاہیے۔
ان تمام ضروری حقائق کو منکشف کرنے اور ضروری ہدایات دینے کے بعد حج کے احکام شروع کیے جارہے ہیں۔ اس آیت کریمہ کے پہلے جملے سے بعض اہل علم کو نجانے یہ کیسے گمان ہوا ہے کہ اس میں حج اور عمرے کی فرضیت بیان کی جارہی ہے حالانکہ اس جملے میں اس بات کا کوئی امکان نہیں۔ جہاں تک فرضیتِ حج کا تعلق ہے اس کا ذکرسورۃ آل عمران میں 3 ہجری میں ہوچکا ہے وہاں پروردگار کا ارشاد ہے :
وَلِلَّہِ عَلیَ النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً ط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ
(اور لوگوں کے ذمہ ہے حج کرنا بیت اللہ کا اللہ کے لیے (یعنی) اس شخص کے ذمہ جو وہاں تک پہنچنے کی طاقت رکھتاہو اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ سارے جہان سے بےنیاز ہے) (اٰل عمران : 97)
حج کی فرضیت
اس آیت سے مسلمانوں پر حج فرض کیا گیا ہے۔ اس میں فرضیت کے اعلان کے ساتھ ساتھ شرائط کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے کہ حج اس پر فرض ہوگا جو مکہ معظمہ تک جانے کی استطاعت رکھتاہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مصارفِ سفر اپنے پاس رکھتاہو اس کی صحت سفر کی متحمل ہوسکتی ہو، اپنے پسماندگان کی گزر بسرکے لیے واپسی تک کے انتظامات کرچکاہو، راستے سفر کے لیے محفوظ ہوں۔ ان شرائط کے ساتھ ہر مسلمان پر حج فرض ہوجاتا ہے۔ آیت کے دوسرے حصے میں حج کی فرضیت کا انکار کرنے والوں یا اس عمل سے تمام وسائل کی موجودگی میں لاپرواہی کی حد تک رویہ اختیار کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ کا ارشادِ گرامی اس آیت کی تائید اور وضاحت کے لیے کافی ہے۔ آپ نے فرمایا :” جو شخص سفر کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی حج نہیں کرتا وہ یہودی ہوکرمرے یا نصرانی مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ مجھ سے یا میری امت سے اس کا کوئی رشتہ نہیں کیونکہ جس شخص کو وسائل کی موجودگی کے باوجود مرکز اسلام میں آنے اللہ کے گھر کی زیارت کرنے، امت مسلمہ کی طاقت کے سرچشمے کو بچشم سردیکھنے اور وہاں دس سال تک جو کشمکش برپارہی اس کی حقیقی روح کو سمجھنے اور پھر مدینہ منورہ جاکر ایک ایک غزوہ میں ایثار و قربانی کی مضمر حقیقتوں کو جاننے اور آنحضرت ﷺ کے روضہ اطہر کی زیارت کرنے اور ان تمام احساسات اور ترغیبات کو دل و دماغ میں زندہ کرنے جو حضور نے دم واپسیں ارشاد فرمائے تھے کی توفیق نہیں ہوتی تو اس کا آخر اسلام اور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی سے کیا تعلق ؟
احکامِ حج و عمرہ
اس آیت کریمہ میں جیسا کہ میں نے عرض کیا فرضیت حج کا کوئی ذکر ہے نہ عمرہ کی فرضیت کا بلکہ اس میں دو باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک تو یہ کہ جب تم حج یا عمرہ کی نیت کرلو اور نیت کا عملی اظہاریہ ہے کہ تم احرام باندھ لو تو پھر تم اسے درجہ اتمام کو پہنچائے بغیر کھول نہیں سکتے کیونکہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ کوئی بھی نفلی عبادت جب اس کا آغاز کردیا جائے تو وہ فرض ہوجاتی ہے۔ اب اس کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے اور اگر پور انہ کیا جاسکے تو اس کا قضا کرنا لازم ہوجاتا ہے۔ حج اگر فرض کی نیت سے ادا کیا جارہا ہے تو وہ ویسے ہی فرض ہے لیکن اگر وہ فرض حج کی ادائیگی کے بعد نفلی حج کررہا ہے یا حج بدل کر رہا ہے تب بھی احرام باندھنے کے بعد اس کا پورا کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تم حج یا عمرہ کرو تو محض اللہ کے لیے۔ ان دونوں باتوں کا دراصل ایک پس منظر ہے۔ وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یا تو حدیبیہ کا سفر پیش آگیا تھا اور اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئی ہیں یا پیشگی تیاری کے لیے یہ ہدایات دی جارہی ہیں کیونکہ پروردگار تو خوب جانتے تھے کہ حضور عمرہ کے ارادے سے مکہ معظمہ جائیں گے اور وہاں مشرکین مکہ انھیں عمرہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تو ایسی صورت میں جبکہ وہ حالت احرام میں ہوں گے تو انھیں کیا کرنا ہوگا ؟ اور دوسری بات کا پس منظر یہ ہے کہ حج تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے ہورہا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عرب ملت ابراہیمی سے بےبہرہ ہوتے چلے گئے۔ وہ اس بات کے تو قائل تھے کہ حج ایک فریضہ ہے جو بہرصورت ادا ہونا چاہیے لیکن حج کے مناسک اور اس کے احکام سے بیخبر ی یاسرکشی کے باعث انھوں نے اپنے تئیں ان کے اندر بہت کچھ کمی بیشی کردی تھی۔ کچھ چیزیں بڑھادی تھیں کچھ کم کردی تھیں حج اور عمرہ کی حقیقی روح سے وہ بالکل بےگانہ ہوچکے تھے حتی کہ وہ اللہ کے گھر کا طواف کرتے ہوئے بت پرستی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ جب بیت اللہ کا طواف کرتے تو ساتھ ان تمام بتوں کا بھی طواف کرتے جو وہاں رکھے گئے تھے اور ان بتوں میں چونکہ ہر قبیلے کا الگ الگ بت تھا اس لیے وہ اپنے اپنے بت کے سامنے بطور خاص ڈنڈوت بجالاتے ماتھا ٹیکتے، چڑھاوے چڑھاتے، مرادیں مانگتے اور منتیں مانتے اور یہ سب کچھ اللہ کے گھر کے سائے میں ہوتا تھا۔ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں تھا کہ ہم اللہ کے ساتھ غیرا للہ کو شریک کررہے ہیں۔ جب سعی کرتے تھے تو صفا اور مروہ پر انھوں نے اساف اور نائلہ کے نام سے دو دیویاں نصب کررکھی تھیں اس لیے جب وہ صفا اور مروہ کا طواف کرتے تو ساتھ ان کا بھی طواف کرتے۔ شرک کے اس کاروبار کے ساتھ ساتھ انھوں نے حج کو تجارتی میلے میں تبدیل کردیا تھا۔ حج کے ایام میں مناسکِ حج بھی ادا ہوتے لیکن حقیقت میں تجارتی کاروبار ہوتا اور تمام دلچسپیاں قریش اور دوسرے قبائل کی تجارت کے ساتھ وابستہ ہوکررہ گئی تھیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا کہ جب تک مکہ فتح نہیں ہوتا اس وقت تک یہ آلودگیاں وہاں موجود رہیں گی اور تمہیں اگر اللہ نے حج یا عمرے کے لیے جانے کا موقعہ دیا تو تمہیں صرف اللہ کے لیے حج یا عمرہ کرنا ہے۔
احرام کے بعد کوئی مجبوری پیش آجائے تو اس کا حکم
آیتِ کریمہ کے پہلے جملے سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ احرام باندھنے کے بعد چاہے وہ حج کا ہو یا عمرہ کا، حج یا عمرہ کو مکمل کیے بغیراحرام کھولا نہیں جاسکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر احرام باندھنے کے بعد کوئی مجبوری پیش آجائے جس سے حج اور عمرہ ادا کرنا ممکن نہ رہے تو پھر کیا کیا جائے ؟ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْسے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ مجبوری کی ایک صورت تو وہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم نے اس لفظ سے کیا ہے جس کا معنی ہے ” اگر تم گھیر لیے جاؤ “ یعنی دشمن تمہارا راستہ روک لے اور آگے بڑھنا بغیر قتال کیے تمہارے لیے ناممکن ہوجائے تو پھر تمہارے لیے حکم یہ ہے کہ جو قربانی تمہیں میسر ہو چاہے وہ بکری ہو، گائے ہو، اونٹ ہو اللہ کے حضور پیش کردو۔ آنحضرت ﷺ جب چھ ہجری میں عمرہ کے ارادے سے عازم مکہ ہوئے تھے تو آپ کو بھی حدیبیہ کے موقع پر آگے بڑھنے سے روک دیا گیا تھا۔ تو آپ کو مجبوراً وہیں احرام کھولناپڑا تھا۔ اس طرح سے اللہ کے اس حکم کی تعمیل کی ایک صورت سنت کی شکل میں وجود میں آگئی اور امت کو اسے سمجھنے میں آسانی ہوگئی۔
مجبوری کی دوسری صورت یہ ہے کہ کسی بیماری یا کسی حادثے کے باعث حج یا عمرے کا سفر ممکن نہ رہے۔ حوادث مختلف صورتوں کے ہوسکتے ہیں چاہے وہ زمینی ہوں یا آسمانی، جسمانی ہوں یا حکومت کی جانب سے انتظامی۔ کوئی بھی ایسی رکاوٹ جو سفر کو ممکن نہ رہنے دے وہ ایک مجبوری ہے جس سے موجود قربانی دے کر احرام کھولا جاسکتا ہے۔
احرام سے نکلنے کی شرعی صورت، حلق یا قصر کی وضاحت
لیکن اس آیت کا اگلا جملہ ایک اور ہدایت کی طرف راہنمائی کررہا ہے وہ یہ کہ احرام سے نکلنے کی شرعی صورت یہ ہے کہ آپ سرکے بال منڈوادیں یا کٹوادیں کیونکہ احرام کھولنے کے لیے دونوں کی اجازت دی گئی ہے۔ عورتوں کے لیے اپنے بالوں کی گردن کے قریب سے ایک لٹ لے کر اس کا آخری حصہ انگلی پر لپیٹ کر کاٹ دینا کافی ہے۔ لیکن مردوں کے لیے ضروری ہے وہ بالکل بال صاف کرائیں یا پورے سر سے بال چھوٹے کرائیں۔ بال صاف کرانے کو ” حلق “ کہتے ہیں اور چھوٹے کروانے یعنی کٹوانے کو ” قصر “ کہتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے بال صاف کروانے کے لیے کٹوانے والے کی نسبت تین گناہ فضیلت کا ذکر فرمایا ہے اور تین مرتبہ زیادہ دعا فرمائی ہے۔ اس لیے عمرہ کرنے والوں یا حج کرنے والوں کو اس معاملے میں اپنی زلفوں سے زیادہ اللہ کی رضا کی فکر ہونی چاہیے۔ بہرحال کہنا یہ ہے کہ احرام کھولنے کی شرعی صورت سر کے بال کٹوانایامنڈوانا ہے اور یہ سر کے بال اس وقت تک نہیں کٹوائے جاسکتے جب تک محرم کی قربانی اپنے موقع پر پہنچ کر ذبح نہ ہوجائے۔ اس حکم کی تعمیل کی صورت میں ائمہ فقہ میں اختلاف ہوا ہے۔ امام ابوحنیفہ ( رح) کی رائے یہ ہے کہ قربانی کے اپنی جگہ پر پہنچنے سے مرادحدودِ حرم میں پہنچنا ہے۔ حج یا عمرے کا احرام باندھنے والا چاہے کسی جگہ روک دیاجائے، دشمن کی جانب سے یا کسی اور مجبوری کے باعث، وہ اس وقت تک احرام کھولنے کے لیے سرکے بال نہیں کٹواسکتا جب تک اس کی قربانی حدود حرم میں پہنچ کر ذبح نہ ہوجائے۔ لیکن امام شافعی فرماتے ہیں کہ حدود حرم میں پہنچنا ضروری نہیں بلکہ جہاں بھی حج یا عمرہ کرنے والے کو روک دیا گیا ہے وہی جگہ اس کی قربانی کی ہے۔ چناچہ جو قربانی اسے میسر آئے وہیں اسے وہ قربانی ذبح کردینی چاہیے۔
وَلَاتَحْلِقُوْارُئُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّـہٗ : اس جملے پر اگر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ حکم یہ دیا گیا ہے کہ تم احرام کھولنے کے لیے اپنے سروں کی حجامت نہ کرائو جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ اگر یہ کہنا مقصود ہوتا کہ جہاں تمہیں روک دیا جائے وہیں قربانی دے دو تو پھر قربانی کی جگہ تک پہنچنے کی بات بےمعنی معلوم ہوتی ہے۔ اس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ رک جانے کی جگہ قربانی کی جگہ نہیں بلکہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیشہ قربانیاں دی جاتی ہیں اور وہ حدود حرم ہے۔ آج حاجی منٰی میں قربانیاں کرتے ہیں تو معلوم ہونا چاہیے کہ اصل قربانی کی جگہ تو کوہ صفا کے قرب و جوار میں تھی۔ حجاج کی کثرت کے باعث رسول اللہ ﷺ نے اس کو منیٰ تک بڑھا دیا اور آپ جانتے ہیں کہ منیٰ بھی حدود حرم کے اندر ہے۔ البتہ ! یہ بات ضرور ہے کہ اگر رک جانے کی جگہ سے حدود حرم تک قربانی یا اس کی قیمت بھیجنے کی کوئی صورت نہ رہے تو پھر یقینا تسلیم کرنا پڑے گا کہ اب قربانی کی جگہ وہی ہے جہاں آگے بڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر محرم کے لیے اس بات کا امکان ہو کہ وہ کسی قاصد کے ذریعے حدود حرم میں قربانی ذبح کرنے کا انتظام کرسکتا ہے اور پھر وہاں سے اسے اطلاع بھی پہنچ سکتی ہے تو پھر تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر جہاں روکا گیا ہے وہیں قربانی اللہ کے حضور پیش کردینی چاہیے۔ مزید ایک بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ نے اگرچہ اسی جگہ قربانیاں پیش کی تھیں جہاں سے آپ کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا تھا اور اس جگہ کا نام ” حدیبیہ “ ہے اور آجکل اسے ” شمسیہ “ کہتے ہیں۔ یہ جگہ بالکل حرم کے کنارے پر ہے۔ آپ کا پڑائو یقینا حرم سے باہر تھا لیکن آپ کی قربانیاں حرم کے اندر ذبح کی گئی تھیں۔ چناچہ آپ نے جانور ذبح کرنے کے بعد احرام کھول دیاسب صحابہ نے بھی ایسا ہی کیا اور مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے اور آئندہ سال آپ نے اس عمرہ کی قضا کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر مجبوراً راستے میں احرام کھولنا پڑے تو پھر جس نیت سے احرام باندھا گیا اسے پورا کرنا چونکہ ضروری ہے اس لیے آئندہ سال اس کی قضا کرنا ضروری ہوگا۔
اس آیت کریمہ میں آپ نے دیکھا کہ سرمنڈوانے کو احرام کھولنے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حالت احرام میں سر منڈوانا یابال کٹوانا ممنوع ہے۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سر میں یا بدن کے کسی دوسرے حصہ میں کوئی ایسی تکلیف لاحق ہوجائے جس سے سر کے بال منڈوانا یا جسم کے کسی حصے کے بال منڈواناضروری ہوجائے تو اس صورت میں کیا کیا جائے ؟ چناچہ اس آیت کریمہ کے اگلے جملے میں اسی کا جواب دیا گیا ہے۔
حالتِ احرام میں کوئی بال منڈوانے پر مجبور ہوجائے تو کیا کرے ؟
فَمَنْ کَانَ مِنْـکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْصَدَقَۃٍ اَوْنُسُکٍ : جو شخص تم میں سے بیمار ہوجائے یا اس کے سر میں تکلیف ہوجائے تو ایسی صورت میں بقدر ضرورت بال منڈونے جائز ہیں مگر اس کا فدیہ ادا کرنا پڑے گا۔ وہ فدیہ یہ ہے کہ روزے رکھے یاصدقہ دے یا قربانی کرے۔ ایسا بیمار شخص بال منڈوانے کے بعد سفرجاری رکھنے پر قدرت رکھتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ وہ حدود حرم میں پہنچ کر قربانی دے۔ البتہ ! روزہ رکھنے اور صدقہ دینے کی کوئی جگہ متعین نہیں ہر جگہ ادا کرسکتا ہے۔ قرآن کریم نے روزوں کی کوئی تعداد اور صدقہ کی کوئی مقدار ذکر نہیں فرمائی۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کی وضاحت فرمائی۔ حضرت کعب بن عجرہ ( رض) کے سر میں بےتحاشہ جوئیں پڑگئیں۔ ان کی انتہائی اذیت کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھے تو آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم تین روزے رکھو یاچھ مسکینوں کو کھاناکھلائو۔
اشھرِحج میں حج وعمرہ کو جمع کرنے کے احکام
فَاِذَآ اَمِنْتُمْ : اس کا معنی تو یہ ہے کہ ” جب خطرے سے بےخوف ہوجاؤ اور دشمن سے مامون ہوجاؤ “ تو اب تمہارے لیے موقعہ ہے کہ تم عمرہ یا حج کا سفر جاری رکھوچنانچہ ان دونوں کے لیے ضروری احکام دیئے جارہے ہیں۔ لیکن ان احکام کو سمجھنے سے پہلے ایک بات سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام سے پہلے عربوں کا معمول یہ تھا کہ انھوں نے حج اور عمرہ کے لیے الگ الگ مہینے مقرر کر رکھے تھے۔ عمرہ کے لیے رجب کا مہینہ مقرر کیا گیا تھا اور حج کے مہینوں میں عرب عمرہ کرنے کو ناجائز سمجھتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ ایک وقت میں یا عمرہ ہوسکتا ہے یاحج، دونوں عبادات اکٹھی نہیں کی جاسکتیں۔ حج کے مہینے شوال، ذیقعد اور ذی الحج کے دس دن ہیں۔ ان دنوں میں وہ عمرہ کرنا گناہ سمجھتے تھے۔ قرآن کریم نے ان کے اس جاہلانہ تصور کو ختم کردیا۔ البتہ ! لوگوں کی مصلحتوں کی رعایت کرتے ہوئے اس حکم کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا کیونکہ حج اور عمرہ کرنے والے بھی دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک قسم تو ان حاجیوں کی ہے جو حدود میقات سے باہر سے آتے ہیں اور دنیائے اسلام کے مختلف گوشوں سے اللہ کے گھر کی زیارت کے ارادے سے طویل سفر کرکے حدود حرم میں داخل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو باربارسفر کرنا آسان نہیں بالخصوص دوردراز کے ملکوں کے رہنے والے تو بسا اوقات ایک دفعہ آنے کے لیے بھی مصارف کے متحمل نہیں ہوسکتے چہ جائیکہ وہ باربار آئیں۔ اس لیے ان کی دینی مصلحت کو دیکھتے ہوئے اور اللہ کے گھر کے ساتھ ان کے والہانہ تعلق کا لحاظ کرتے ہوئے ضروری تھا کہ انھیں اس بات کی رعایت دی جاتی کہ وہ چاہیں تو عمرہ اور حج کو اکٹھا کرکے دونوں نیکیوں کے اجر وثواب سے متمتع ہوسکتے ہیں تاکہ انھیں یہ حسرت نہ رہے کہ زندگی میں ایک دفعہ اللہ نے اپنے گھر آنے کا موقعہ دیا ہے تو وہاں ہم حج کے ساتھ عمرہ کی سعادت حاصل نہ کرسکے۔
میقات کا مفہوم
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو حدود میقات کے اندر رہتے ہیں۔ میقات وہ معین مقامات ہیں جواطرافِ عالم سے مکہ میں آنے والوں کے ہر راستہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین ہیں۔ ان کے بارے میں حکم یہ ہے کہ جو شخص بھی مکہ کا ارادہ کرکے یہاں سے گزرے اس کے لیے یہاں سے حج یا عمرہ کی نیت سے احرام باندھنا ضروری ہے کیونکہ اللہ کے گھر کے احترام کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ کوئی شخص اپنی مصنوعی شخصیت اور اپنے ظاہری کروفر کے ساتھ وہاں حاضر ہونے کی جرأت نہ کرے بلکہ جیسے ہی میقات سے آگے بڑھے تو اسے احساس ہو کہ یہاں سے اللہ کے گھر کا خاص ادب شروع ہوجاتا ہے اور اس سرزمین کے خاص آداب ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان آداب کو بجا لاتے ہوئے اس گھر میں پہلی حاضری دی جائے تاکہ تمہارے اندر اللہ کی کبریائی اور اپنی بندگی کا احساس تواناہو۔ میقات کے اندر رہنے والے چونکہ بیت اللہ سے بہت دور نہیں ہیں بعض تو بہت قریب ہیں اور بعض اتنے فاصلے پر ہیں جس فاصلے کو طے کرکے آنا کوئی مشقت کا کام نہیں اس لیے ان کے بارے میں حکم دیا کہ ان کے لیے حج اور عمرہ ایک ہی احرام اور ایک ہی نیت کے ساتھ اور ایک ہی سفر میں کرنا جائز نہیں۔ یہ لوگ حج کے مہینوں میں صرف حج کریں البتہ اشھرحج کے علاوہ جب جی چاہے عمرہ کرسکتے ہیں۔
حج اور عمرہ کو جمع کرنے کا شکرانہ
البتہ ! جو لوگ حج کے مہینوں میں حج اور عمرہ کو جمع کریں ان پر واجب ہے کہ دونوں عبادتوں کو جمع کرنے کا شکرانہ ادا کریں۔ وہ شکرانہ یہ ہے کہ جس طرح کی قربانی دینے کی قدرت ہو اس طرح کے جانور کی قربانی دی جائے، بکری، گائے، اونٹ، جو بھی آسان ہو اپنی مالی حیثیت کے مطابق قربانی دی جانی چاہیے۔ البتہ ! جو شخص مالی حیثیت کمزور ہونے کی وجہ سے قربانی ادا کرنے کے قابل نہیں ہے اسے اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ دس روزے رکھے اور یہ روزے رکھنا اس کے لیے واجب ہیں۔ طریقہ ان کا یہ ہوگا کہ تین روزے ایام حج کے اندر ہی رکھے یعنی نویں ذی الحج تک پورے کردے۔ باقی سات روزے حج سے فارغ ہوکرجہاں چاہے اور جب چاہے رکھے۔ حج سے فارغ ہونے کے بعد اگر مکہ مکرمہ میں مزید قیام ہو تو وہاں رکھ لیے جائیں اور اگر مدینہ منورہ چند دن ٹھہرنے کا اتفاق ہو تو وہاں بھی رکھنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر ان دونوں مقدس شہروں میں اتنا موقع نہ ملے تو اپنے وطن واپس آکر سات روزے رکھنے کا اختیار ہے۔ یہ بات یاد رہے ! اگر کوئی شخص تین روزے ایام حج میں نہ رکھ سکا تو پھر امام ابوحنیفہ اور اکابر صحابہ کے نزدیک اس کے لیے قربانی کرنا ہی لازم ہوگا۔ جب قدرت ہو کسی کے ذریعے حرم میں قربانی کرادے۔
تمتع و قِران
یہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ حج کے مہینوں میں اللہ تعالیٰ نے حج اور عمرہ جمع کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان دونوں کو جمع کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک کو ” قران “ کہتے ہیں اور دوسری کو ” تمتع “۔ قران یہ ہے کہ میقات سے جب احرام باندھا جائے تو حج اور عمرہ دونوں کی نیت کی جائے۔ اس میں حج اور عمرہ ایک ہی احرام میں اکٹھے ادا کیے جائیں گے اور دو چیزوں کو اکٹھا کرنے کو چونکہ عربی میں قران کہتے ہیں اس لیے حج کی اس صورت کو حج قران کہتے ہیں۔ اس میں پابندی یہ کرنا پڑتی ہے کہ عمرہ کرنے کے بعد احرام نہیں کھولا جاسکتا اگر ابھی ایام حج کے آغاز میں چنددن باقی ہیں تو وہ بھی احرام ہی میں گزارنے پڑیں گے پھر اسی احرام میں حج ہوگا۔ حج کے اختتام پر عمرہ اور حج دونوں کا احرام کھولا جائے گا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ میقات سے احرام باندھتے ہوئے صرف عمرہ کی نیت کی جائے اس صورت میں آسانی یہ ہوگی کہ مکہ معظمہ پہنچ کر عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کھول دیا جائے گا۔ پھر آٹھ ذی الحج کو حج کے ارادہ سے حرم کے اندر سے احرام باندھا جائے گا اور پھر اختتامِ حج پر حج کا احرام کھولا جائے گا۔ اس کو اصطلاح میں تمتع کہا جاتا ہے۔ تمتع کا معنی ہے ” فائدہ اٹھانا اور نفع اٹھانا “۔ قران اور تمتع چونکہ دونوں میں ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کی عبادتیں کی جاتی ہیں اس لیے دونوں پر لغوی طور پر تمتع کا لفظ صادق آتا ہے۔ لیکن اصطلاح میں حج کی دوسری قسم کو تمتع کہا جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں فَمَنْ تَمَتَّعَ سے دونوں صورتیں مراد ہیں۔
آیتِ کریمہ کے آخر میں تنبیہ کے انداز میں دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک تو یہ کہ تمہارے لیے لازم ہے کہ حج اور عمرہ کی ادائیگی میں قدم قدم پر تقویٰ کو ملحوظ رکھو۔ تقویٰ کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں عبادتوں کا جو حق ہے اس سے نظر ہٹنے نہ پائے۔ پھر ان دونوں عبادتوں کا ایک مقصد ہے کہ تمہارے دل و دماغ میں پوری طرح اللہ کی یاد اور اس کی بندگی کا احساس اس طرح گہرا ہوجائے کہ نیکی کی طرف دل لپکتاجائے اور گناہ سے شدید نفرت ہوجائے، اس مقصد کو بھی نقصان نہ پہنچے اسی طرح حج اور عمرہ کے مسائل اور احکام کو پوری طرح سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ جو آدمی ان عظیم عبادات کے مسائل کو جاننے اور ان کی پابندی کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر نہ عبادت کا شوق ہے اور نہ اللہ کی ذات کی پرواہ۔ شاید اسی تقویٰ کی کمی کا نتیجہ ہے کہ ہم لوگ حج کی ادائیگی کا ارادہ کرتے کرتے عمر گزاردیتے ہیں۔ اللہ وسائل عطا فرماتا ہے لیکن ہم دوسری ذمہ داریوں کو حج پر ترجیح دیتے ہیں اور جب تک تمام ذمہ داریوں سے فراغت نہیں ہوجاتی اور دنیا کے ہر معرکے کو سر کرنے کی جب تک ہوس ختم نہیں ہوتی اور جسم جواب نہیں دے جاتا اس وقت تک ہم عازم حج ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ حج کے دنوں میں یہ دیکھ کر انتہائی پریشانی ہوتی ہے کہ پوری امت میں سے آئے ہوئے حاجیوں میں سے سب سے کمزور اور سب سے عمر رسیدہ برصغیر کے حجاج ہوتے ہیں۔ جن کے لیے نما زپڑھنا بھی آسانی سے ممکن نہیں ہوتا، وہ مناسکِ حج کی ادائیگی کو کس طرح آسانی سے ادا کرسکتے ہیں۔ جہاں تک مسائل کا تعلق ہے اس کی طرف سے لاپرواہی تو تشویشناک حد تک پہنچی ہوئی ہے۔ کتنے حجاج کرام کو دیکھا ہے کہ تفصیلی مسائل تو ایک طرف رہے انھیں یہ بھی معلوم نہیں کہ احرام کس طرح باندھنا ہے اور کیا نیت کرنی ہے۔ آپ انھیں پوچھ کر دیکھ لیجئے کہ آپ نے ماشاء اللہ احرام باندھا ہے تو آپ کس نیت سے جارہے ہیں ؟ تو وہ بڑی وارفتگی کے انداز میں فرمائیں گے کہ سوہنے نے بلایا ہے ہم تو سوہنے کی زیارت کے لیے جارہے ہیں۔ اندازہ فرمائیے ! مدینہ کی حاضری ایک بہت بڑی سعادت ہے لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ اس کا مناسکِ حج سے کوئی تعلق نہیں۔ حج سے فارغ ہونے کے بعد حاجی حضور کے درِ دولت پر حاضری دیتے ہیں۔ نیت کرتے ہوئے تو آپ کو یاتوعمرہ کی نیت کرنی ہے اور یا حج کی اور جب آپ نے ان دونوں میں سے کسی کی نیت نہیں کی تو آپ کا حج کیسے ادا ہوگا ؟ اور پھر جو احرام کی پابندیاں ہیں مکہ معظمہ اور بیت اللہ کے آداب ہیں، طواف اور باقی مناسکِ حج کے تفصیلی مسائل ہیں، اس کا تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا حشر ہوگا ؟ اس لیے شاید پروردگار نے آخری جملے میں شدید تنبیہ فرمائی ہے۔ ارشاد فرمایا :
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ : اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والے ہیں “۔ یعنی جو ان عبادات کی ادائیگی میں اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرے گایا احکام کے جاننے میں لاپراوہی برتے گا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ اللہ کے گھر کا، حرم کا اور شعائرِ اسلام کا ہے۔ اس میں کوتاہی عام درجے کی کوتاہی نہیں، جان بوجھ کر کسی بھی کوتاہی کرنے والے کو اللہ سخت عذاب دیں گے۔
چونکہ یہاں اس کا طریقہ سیکھنے اور اس کے مسائل جاننے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں بنیادی مسائل بیان کیے جارہے ہیں۔