Ayahs 2:222–223وَیَسْئَلُوْنَـکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ط قُلْ ھُوَ اَذًی لا فَاعْتِزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ لا وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ ج فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ ۔
(وہ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے وہ ناپاکی (اور بیماری) ہے، پس الگ رہا کرو عورتوں سے حیض کی حالت میں، اور ان سے قربت نہ کرو جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں، پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جیسے تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے، اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے) (222 )
سوال کا پس منظر
قرآن کریم انسانی زندگی کے لیے ایک ہدایت نامہ ہے۔ جس میں زندگی کی تمام ضروریات اور تمام احساسات کے حوالے سے رہنمائی مہیا کی گئی ہے۔ انسانی زندگی کا اسلوب یہ ہے کہ ایک ضرورت سے دوسری ضرورت پھوٹتی ہے۔ اور ہر ضرورت کے پیدا ہونے کے وقت اس کی رہنمائی کی طلب ہوتی ہے۔ قرآن کریم اپنی مخصوص حیثیت کی وجہ سے اسی ترتیب اور اسلوب کے ساتھ ہدایات دیتا ہے۔ اسی سورت کے مضامین کو دیکھ لیجئے کہ اس کے مضامین درجہ بدرجہ حج کے مضمون تک پہنچے۔ بیت اللہ چونکہ قریش مکہ کے قبضے میں تھا۔ اس لیے حج کی ضرورت سے بیت اللہ کی آزادی کا سوال پیدا ہوا تو جہاد فرض کیا گیا۔ جہاد کی نسبت سے انفاق کی ضرورت پیدا ہوئی تو اس کے احکام دیئے گئے۔ عرب میں چونکہ خمار اور میسر کی مجالس قحط سالی کے زمانے میں انفاق کا بہت بڑا ذریعہ تھیں اس لیے اس کے جواز اور عدم جواز کا سوال پیدا ہوا۔ جہاد اور انفاق ہی کے حوالے سے یتیموں کی دیکھ بھال اور ہمدردی کے مسائل پیدا ہوئے اور پھر ان کی مائوں سے نکاح کرنے کے حوالے سے نکاح اور طلاق کے مسائل کی ضرورت نے جنم لیا اور نکاح اور طلاق اور عدت اور وراثت کے مسائل کا چونکہ بہت حد تک انحصار ایام ماہواری میں میاں بیوی کے تعلق اور اس کی حدود پر ہے۔ اس لیے اس سوال کو خود بخود اہمیت مل گئی۔ چناچہ اس نے ایک سوال کی شکل اختیار کرلی اور اس رکوع میں سب سے پہلے اسی سوال کا جواب دیا گیا۔ لیکن سب سے پہلے اس سوال کی نوعیت کو سمجھ لیا جائے تاکہ اس کے جواب کی اہمیت ‘ افادیت اور وسعت اچھی طرح ذہن نشین ہو سکے۔ سوال کا پس منظر یہ ہے کہ عورتوں کے ایام مخصوص میں تمام مذاہب میں یہ تصور تو پایا جاتا تھا کہ ان دنوں میں میاں بیوی کو ایک دوسرے سے قربت اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اس میں بہت حد تک افراط وتفریط بھی پائی جاتی تھی اور بہت دفعہ حدود سے تجاوز بھی کیا جاتا تھا۔ یہود اور ہمارے قریبی ہمسائے ہندوئوں نے مذہبی طور پر یہ یقین کر رکھا تھا کہ عورت ان ایام میں اس حد تک ناپاک ہوتی ہے کہ نہ صرف اس سے قربت نہیں ہونی چاہیے بلکہ عائلی زندگی کا کوئی تعلق بھی اس کے ساتھ باقی نہیں رہنا چاہیے۔ نہ اس کو اپنے قریب بیٹھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے ‘ نہ اس کے جسم کو چھوا جاسکتا ہے ‘ نہ وہ کھانے پینے کے برتنوں کو ہاتھ لگا سکتی ہے ‘ نہ وہ اپنے شوہر اور اپنے بچوں کو کھانا پکا کر دے سکتی ہے۔ عورت عام طور پر اس حالت میں تین دن سے لے کر دس دن تک مبتلا رہتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ مہینے کا تہائی حصہ بالکل عضو ِ معطل بنی رہے۔ دینی معاملات تو ایک طرف رہے۔ اسے دنیوی معاملات بھی انجام دینے کا کوئی حق نہیں۔ گھر میں کسی جانور سے بھی یہ سلوک نہیں کیا جاتا جس کا شکار ان مذاہب میں عورت کو بنادیا گیا تھا۔ اور عیسائیوں کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ان ایام میں بھی کسی طرح کی پابندی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان میں بری طرح اباحیت پائی جاتی تھی۔ نہ انھیں گندگی کا احساس تھا ‘ نہ خاتون کی ناموافق طبیعت کا۔ حالانکہ عیسائیت شرعی اعتبار سے تورات کی شریعت کی متبع ہے۔ لیکن سینٹ پال نے ان کو اس بری طرح سے پٹڑی سے اتارا کہ شریعت کی پابندیوں سے آزاد کردیا۔ شریعت کی پابندیوں سے آزادی کا مطلب خواہشات کی علی الاطلاق پیروی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ مشرکینِ عرب بھی بہت حد تک اس افراط وتفریط کا شکار تھے۔ وہ اگرچہ اپنے رویے کا انحصار ملت ابراہیم پر رکھتے تھے لیکن حقیقت میں وہ صرف خواہشات کے پرستار تھے۔ اسلام نے ان غیر معتدل رویوں کے درمیان ایک نہایت معتدل اور حکیمانہ اسلوبِ زندگی اختیار کرنے کا حکم دیا۔ جس سے بہتر کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
سوال کا جواب
اب ہم اس آیت کریمہ کے ایک ایک ارشاد پر غور کرتے ہیں۔ سوال کے جواب میں سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ یہ حیض ایک اذی ہے۔ اذ ًی کا معنی گندگی بھی ہوتا ہے اور بیماری بھی۔ گندگی تو ظاہر ہے خون سے بڑھ کر گندگی کیا ہوسکتی ہے۔ اس لحاظ سے عورت ان دنوں میں انتہائی گندہ حالت میں ہوتی ہے اور کوئی سلیم الطبع انسان اس حال میں عورت سے قربت کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ لیکن دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ ان دنوں میں اس کیفیت میں ہوتی ہے جسے صحت سے زیادہ بیماری کے قریب سمجھنا چاہیے۔ اس کی طبیعت میں اعتدال نہیں رہتا ‘ چڑچڑا پن پیدا ہوجاتا ہے ‘ جذبات شدت اختیار کر جاتے ہیں ‘ معمولی باتوں پر بھی برہم ہوجاتی ہے ‘ وہ باتیں جو عام دنوں میں آسانی سے گوارا ہوجاتی ہیں ‘ ان دنوں میں انھیں برداشت کرنا عورت کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لفظ کے استعمال سے جہاں شوہر کو اس کے قریب نہ جانے کی علت سے آگاہ کیا گیا ہے وہیں اسے یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ان دنوں میں اپنی بیوی سے نہایت سازگاری رکھنے کی کوشش کرو۔ اس کی طرف سے اگر کوئی ناموافق بات بھی سامنے آئے تو برداشت کرنے کی کوشش کرو۔ اس کو نارمل سمجھ کر اس سے معتدل اور ہموار رد عمل کی توقع مت کرو۔ اگر وہ کسی وقت ناگوار رویے کا اظہار کرے تو اسے اس کی حالت کا تقاضا سمجھ کر نظر انداز کردو۔ اس کے گندہ ہونے کے حوالے سے فرمایا گیا کہ اس کی قربت اختیار نہ کرو جب تک وہ پاک نہ ہوجائے۔ اور قربت اختیار نہ کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ اگلے جملے سے اس کی وضاحت فرما دی گئی۔ یعنی قربت اختیار نہ کرنے کا مطلب میاں بیوی کا رشتہ قائم نہ کرنا ہے ‘ جسے رشتہ زوجیت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ رہے انسانی رشتے ان میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ تم صرف اس سے انتہائی جسمانی قربت سے پرہیز کرو۔ لیکن باقی ہر طرح کی قربت اور ہر طرح کے معاملات میں شرکت اور ساتھ اٹھنا بیٹھنا ‘ گھر کا کام کاج کرنا ‘ کھانا پکا کے دینا ‘ بچوں اور شوہر کی خدمت کرنا ‘ اس طرح کی کسی بات پر کوئی پابندی نہیں۔ آنحضرت ﷺ کا عمل اس کے لیے مناسب رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ازواج مطہرات نے آنحضرت ﷺ کے طرز عمل سے جو کچھ امت کے حوالے کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں عورتیں نماز ‘ روزے اور قرآن خوانی سے دور رہیں۔ لیکن زندگی کے باقی معاملات میں ان کی شرکت سے کوئی مانع نہیں۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اٹھ بیٹھ سکتی ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اعتکاف کی حالت میں مسجد میں کھڑے ہو کر اپنے گھر سے کوئی چیز مانگی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کو آپ کو وہ چیز پکڑانے میں تأمل ہوا کیونکہ وہ ایام مخصوص گزار رہی تھیں ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” اس ناپاکی کا اثر تمہارے ہاتھوں میں تو نہیں ہے۔ “ اسی حالت میں آپ ﷺ نے اپنا سر باہر نکالا آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ نے اس کو دھودیا۔ حضرت عائشہ ( رض) فرماتی ہیں کہ میں مخصوص دنوں میں چونکہ نماز نہیں پڑھ سکتی تھی اس لیے میں تہجد کے وقت سو رہی تھی اور آنحضرت ﷺ تہجد ادا فرما رہے تھے۔ کمرہ تنگ ہونے کے باعث ایک طرف لیٹنے کی جگہ نہیں تھی۔ میری اختیاط کے باوجود بھی میرے جسم کا کوئی نہ کوئی حصہ آپ ﷺ کے سامنے آجاتا۔ چناچہ جب آپ ﷺ سجدے میں جاتے تو میں اپنے آپ کو سمیٹ لیتی ‘ اور جب آپ ﷺ قیام فرماتے تو میں پائوں پسار لیتی۔ اس احتیاط کے باوجود بھی سجدہ کرتے ہوئے بعض دفعہ آپ ﷺ کا ہاتھ مجھ سے چھو جاتا۔ اندازہ فرمایئے کہ نماز کی حالت میں مجھ سے چھو جانے کے باوجود نہ آپ ﷺ کی نماز ٹوٹتی ‘ نہ آپ ﷺ کا وضو ٹوٹتا۔ حضرت عائشہ ( رض) نے ان باتوں کو صرف اس لیے بیان فرمایا تاکہ امت کو ان مسائل کا علم ہوجائے کہ حائضہ عورت ناپاک ہونے کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ سکتی ‘ روزہ نہیں رکھ سکتی ‘ قرآن پاک کو چھو نہیں سکتی اور اپنے شوہر سے جسمانی قربت کا تعلق قائم نہیں کرسکتی۔ لیکن زندگی کے باقی معاملات میں معمول کے مطابق دخیل رہتی ہے۔ خاتونِ خانہ کو یہ وقار اور یہ عزت اور انسانیت کے لیے یہ سہولت اسلام نے عطا فرمائی ہے دوسرے مذاہب نے اسے بالکل چھین رکھا ہے۔ شوہر سے یہ دوری اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک بیوی اپنے ایام مخصوص سے فارغ نہیں ہوجاتی اور فارغ ہونے کی علامت یہ ہے کہ آنے والا خون رک جائے۔ یہ خون ہی چونکہ گندگی کا باعث ہے اور اسی وجہ سے علیحدہ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اسی کو حَتّٰی یَطْہُرْنَ (حتیٰ کہ وہ پاک ہوجائیں) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ البتہ فقہاء اس میں احتیاط کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ خون کے بند ہونے پر ایک نماز کا وقت گزر جانا چاہیے تاکہ اطمینان ہوجائے کہ واقعی خون رک گیا ہے۔ اور اگر ایام حیض کی آخری مدت دس دن پورے ہونے کے بعد خون رکے تو مدت کی تکمیل بجائے خود سب سے بڑی احتیاط ہے۔ اب میاں بیوی کو ایک دوسرے کے قریب ہونے کی اجازت ہے۔ لیکن بہتر طریقہ یہ ہے کہ طہارت کا یہ عمل مکمل ہوجائے۔ اور طہارت کا عمل ظاہر ہے غسل کرنے کے بعد مکمل ہوگا۔ اسے تَطَہَّرْنَ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یَطْہُرْنَ اور تَطَہَّرْنَ کا مفہوم
یَطْہُرْنَ اور تَطَہَّرْنَ معنوی اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ یعنی دونوں کا معنی ہے ” کہ وہ عورتیں پاک ہوجائیں “ لیکن عربی زبان کا ایک اصول ہے کہ کَثْرَۃُ الْاَلْفَاظِ تَدُلُّ عَلٰی کَثْرَۃِ الْمَعْنٰی ” الفاظ کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے۔ “ تَطَہَّرْنَ میں چونکہ الفاظ زیادہ ہیں اس لیے اس کی طہارت اور صفائی میں بھی یقینا زیادتی ہوگی۔ اور وہ زیادتی یہ ہے کہ خون بند ہوجانے کے بعد وہ عورتیں غسل بھی کرلیں۔ اگرچہ خون بند ہوجانے کے بعد میاں بیوی کو قربت کی اجازت ہے لیکن صحیح اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ نہانے دھونے کے بعد میاں بیوی کو ایک دوسرے کی قربت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اور اس قربت کے بارے میں ایک عجیب بات ارشاد فرمائی۔
مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ کی وضاحت
فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُُ ط اس کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ اپنی بیویوں کے پاس آئو جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ اور دوسری معنی یہ ہے کہ جہاں سے اللہ نے تہیں حکم دیا ہے۔ ” حیث “ جہاں اور جیسے دونوں معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں دو باتیں قابل توجہ ہیں (1) ” حیث “ سے کیا مراد ہے ؟ (2) حکم دینے سے کیا مراد ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ان پرائیویٹ معاملات کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیا۔ قرآن کریم اس کے بارے میں بالکل خاموش ہے۔ اور ان چیزوں کا تعلق چونکہ شرم و حیا سے ہے اس لیے قرآن کریم بات کو اس طرح ملفوف انداز میں کہتا ہے جس سے بات سمجھی بھی جاسکتی ہے لیکن اس سے جبینِ حیا پر شکن نہیں آتی۔ یہود نے معلوم ہوتا ہے میاں بیوی کی قربت کے لیے بھی کوئی خاص طریقے مقرر کر رکھے تھے۔ اسلام نے اس کے تعین کے بجائے میاں بیوی کے فطری ذوق پر اسے چھوڑا ہے۔ اور جہاں تک حکم دینے کا تعلق ہے اس سے مراد یہی فطری رہنمائی ہے۔ جب ہم کسی چیز کو کے بارے میں کہتے ہیں یہ تو ایک بدیہی بات ہے جسے سمجھانے کی کیا ضرورت ہے تو اصل میں ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ نے اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں فطری رہنمائی مہیا فرمائی ہے۔ اللہ کا یہ فطری الہام درحقیقت اللہ کا حکم ہے جو ایسے تمام معاملات میں انسان اور حیوان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اور ایسے فطری الہامات کی مخالفت درحقیقت اللہ کے احکام کی مخالفت ہے۔ ہم میں سے ہر شخص جب بھی کھانا کھاتا ہے تو منہ کے ذریعے کھاتا ہے حالانکہ قرآن و سنت میں کہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا۔ لیکن یہ ایک ایسا حکم ہے جس کی تعمیل پوری نوع انسانی کر رہی ہے۔ اور یہ حکم انسان کو اس کی فطرت نے دیا ہے۔ جنسی معاملات میں بھی ایسی تمام طبیعتیں جنھیں باہر کے غیر معمولی اثرات نے بگاڑا نہ ہو ان کی فطرت ان کو ٹھیک ٹھیک رہنمائی دیتی ہے کہ میاں بیوی کے انتہائی نازک تعلقات کس اسلوب سے انجام پانے چاہئیں۔ اور اگلی آیت ِ کریمہ میں اس آیت کو مزید کھول دیا گیا ہے۔
مومن کے ظاہر و باطن کی پاکیزگی مطلوب ہے
اس آیت ِ کریمہ کے آخر میں ارشاد فرمایا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ ” بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے “ توبہ اپنے باطن کو گناہوں سے پاک کرنے کی کوشش کا نام ہے اور تطہر اپنے جسم ‘ اپنے لباس اور اپنے ماحول کو ہر طرح کی گندگی اور نجاست سے پاک کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ ایک مومن کا ظاہر بھی پاک ہو اور اس کا باطن بھی پاک ہو۔ ظاہر پاک ہوگا اور ظاہر کو پاک رکھنے کا احساس اس کے دل و دماغ میں پیوست ہوجائے گا تو وہ کبھی بھی گندگی کے دنوں میں اپنی بیوی سے قربت انھیں کرے گا۔ اور جو شخص ایسا کرتا ہے وہ طہارت کے ظاہری احساس سے بھی محروم ہے۔ اور جو شخص باطن کی پاکیزگی سے مالا مال ہے اس سے یہ کبھی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ قضائے شہوت کے معاملے میں فطرت کی حدود سے تجاوز کرے۔ اور یہی دونوں باتیں اس آیت کریمہ کا حاصل ہیں۔ اور آیت کے آخر میں ان دونوں کو لپیٹ کر کس خوبصورتی سے توجہ دلائی گئی ہے۔
نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّـکُمْ ص فَاْتُوْا حَرْثَـکُمْ اَنّٰی شِئْـتُمْ ز وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـکُمْ مُّلٰـقُوْہُ ط وَ بَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔
(تمھاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آئو، اور اپنے لیے آگے بھیجو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ تمہیں اس سے لازماً ملنا ہے، اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دو ) ( 223)
زوجین کے تعلق کی حقیقت اور اس کے تقاضے
شوہر کے لیے اس کی بیوی کی حیثیت کیا ہے اور اسے شوہر ہونے کی حیثیت سے اس کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے ؟ اس آیت کریمہ میں نہایت جامعیت کے ساتھ اس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ بیویاں تمہارے لیے کھیتی کی مانند ہیں۔ یہ ایک استعارہ ہے جس میں بہت ساری باتیں سمیٹ کر کہہ دی گئیں ہیں۔ حرث کا معنی عربی زبان میں کھیتی کے ہیں۔ اور کھیت پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ کھیتی چاہے اپنے اندر کتنا بھی تنوع رکھتی ہو وہ بہرحال حرث ہے۔ اس لیے ہر طرح کی فصل کو بھی حرث کہا جاتا ہے اور باغ کو بھی حرث کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ بھی کھیت کی پیداوار ہے۔ بیوی کو کھیتی قرار دے کر شوہر کو اس کی حیثیت بتلائی گئی ہے کہ تم اپنی ازدواجی زندگی کا حاصل یہ مت سمجھنا کہ میرے پیش نظر صرف عیش کی زندگی گزارنا ہے۔ مجھے اپنی بیوی سے ہر وقت اور ہر طرح کی وہ خوشیاں حاصل کرنی ہیں جن کا تعلق انسان کے سفلی جذبات اور جنسی خواہشات سے ہے۔ کیونکہ کوئی بھی کھیتی کا مالک اپنی کھیتی کے بارے میں صرف یہی تصور نہیں رکھتا کہ مجھے باغ کا گھنا سایہ چاہیے ‘ لہلہاتی ہوئی فصلوں کا آنکھوں کو خیرہ کردینے والا حسن چاہیے۔ کھیتوں میں اڑتے اور چہچہاتے پرندوں کی مسحور کردینے والی موسیقی چاہیے۔ یقینا یہ تمام چیزیں کھیتی کے مالک کا حق ہیں ‘ لیکن کھیتی کے مالک کے پیش نظر ان چیزوں کے ساتھ ساتھ ان ذمہ داریوں کا شدید احساس بھی ہوتا ہے جو اس کھیتی کے حوالے سے اس پر عائد ہوتی ہیں۔ اگر کھیتی کا مالک اپنی کھیتی کی ضرورتوں کا خیال نہیں کرتا ‘ وہاں مناسب وقت پر ہل نہیں چلاتا ‘ ضرورت کے مطابق اس کو کھاد اور پانی نہیں دیتا اور موسمی آفات سے بچانے کی تمام تدبیریں بروئے کار نہیں لاتا ‘ اور کھیتی کو نقصان پہنچانے والے تمام چرند پرند اور کھیتی کے دشمنوں سے اس کی حفاظت نہیں کرتا تو کھیتی کے مالک کو یہ کہنے کا کوئی حق نہیں کہ یہ کھیتی میری ہے۔ یہ تو اس کے مالک ہونے کی حیثیت سے لازمی تقاضے ہیں جن سے عہدہ برآ ہونا بہرصورت ضروری ہیں۔ شوہر کو بھی یہی بتایا جا رہا ہے کہ تم اپنی بیوی سے ہر طرح کی خوشیاں تو حاصل کرنا چاہتے ہو لیکن اس سلسلے کی جو ذمہ داریاں ہیں تمہیں اگر ان کا احساس نہیں تو تم میاں بیوی کے حقیقی تعلق سے بےبہرہ ہو۔
مزید فرمایا کہ فَاْتُوْا حَرْثَـکُمْ اَنّٰی شِئْـتُمْ (کہ تم اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آئو) اس جملے پر غور کیجئے۔ اس میں نہایت خوبصورتی سے متذکرہ بالا دونوں باتوں کی طرف دوسرے پہلو سے اشارہ فرمایا گیا۔ اَنّٰی شِئْـتُمْ سے ازدواجی زندگی کی آزادی کی طرف اشارہ ہے۔ کہ تم اپنی بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں ہر طرح آزاد ہو۔ تمہاری خلوت اور تنہائی پر فطرت کی چند پابندیوں کے سوا کوئی پابندی نہیں۔ تم جب اپنی بیوی کے ساتھ تنہا ہوتے ہو تو ہر طرح کی اخلاقی پابندیاں اپنا دامن سمیٹ لیتی ہیں۔ تم دونوں ایک دوسرے کے لباس کی شکل اختیار کر جاتے ہو۔ تمہارے دونوں وجود ایک وجود میں ڈھل جاتے ہیں۔ تم عیش و سرور کے اس نشیمن میں ایک ایسی آزادی سے ہمکنار ہوتے ہو جس میں کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ یہ آزادیاں تمہیں اس لیے دی گئی ہیں تاکہ تمہارے عیش و نشاط اور سکون میں کوئی چیز حائل نہ ہونے پائے۔ لیکن تمہیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ تم جس باغ سے عیش و نشاط سمیٹنا چاہتے ہو وہ بہر صورت باغ ہے کوئی جنگل نہیں۔ وہ ایک کھیتی ہے کوئی ویرانہ نہیں۔ تم اس کھیتی کے کسان اور کاشتکار ہو۔ تم اس کے اجاڑنے اور پامال کرنے والے نہیں ہو۔ جب تک یہ احساس تمہیں دامن گیر رہے گا کہ تم اپنی کھیتی میں ہو ‘ جنگل یا ویرانے میں نہیں تو تم یقینا ان تصورات سے بیگانہ نہیں ہوسکتے کہ ہر فصل کا ایک موسم ہوتا ہے اور تخم ریزی کا ایک وقت ہوتا ہے۔ نہ بےموسم فصلیں اگتی ہیں اور نہ بےوقت تخم ریزی ہوتی ہے۔ اور اس سے بھی بڑی بات یہ کہ تخم ریزی جب بھی ہوتی ہے وہ کھیتی میں ہوتی ہے ‘ کھیتی سے باہر نہیں۔ اور تخم ریزی سے مقصود تخم کا ضیاع نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس سے پیداوار حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔
بیویوں کے حرث ہونے نے خاندانی منصوبہ بندی کی جڑ کاٹ دی ہے
مختصر یہ کہ اس ایک جملے نے انسان کی ازدواجی زندگی کے احساسات اور اہداف کو ایک ایسی نہج دے دی ہے اور اسلامی ازدواج کا پورا فلسفہ اس طرح سمیٹ کر رکھ دیا ہے کہ اس سے زیادہ فصاحت و بلاغت اور حسن بیان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ صاف صاف بتادیا کہ تمہاری بیوی کی حیثیت چونکہ حرث اور کھیتی کی ہے اس لیے اس سے نکاح کا مقصد صرف لذت طلبی نہیں ‘ بلکہ حصول اولاد ہے۔ اس تصور نے خاندانی منصوبہ بندی کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ہے۔ کسی بھی کسان سے اس کی کھیتی کے بارے میں اگر تبادلہ خیال کریں تو کسان آپ سے ایسے تمام پہلوئوں پر بات کرے گا جس سے بہتر سے بہتر فصل حاصل کرنے میں مدد ملے۔ اور اگر کوئی شخص اسے یہ مشورہ دینا چاہے کہ میں تمہیں ایک ایسی تجویز بتاتا ہوں جس کے بعد تمہاری زمین یا تو کم سے کم فصل دے گی یا بالکل بنجر ہوجائے گی۔ تو کسان ایسے شخص سے بات کرنے سے انکار کر دے گا۔ لیکن ہمارے یہاں اس بات کو علم و دانش کی معراج سمجھ لیا گیا ہے کہ عورت جسے بیوی ہونے کی حیثیت سے اللہ نے حرث اور کھیتی قرار دیا ہے ہم اس سے لطف و لذت تو چاہتے ہیں لیکن ہم اسے زیادہ بارآور اور زیادہ مثمر نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ صحیح ہے کہ حالات کا دبائو بعض دفعہ کسی شخص کو بچوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ لیکن ہمارے علم و دانش کا یہی تو المیہ ہے کہ ہم انفرادی ضرورتوں اور قوم کے اجتماعی تقاضوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اور نہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ کسی ایک شخص کے حالات کو دیکھ کر جو اسے رعائت دی جاسکتی ہے وہی رعائت قومی حیثیت میں اور قانون کی شکل میں تجویز نہیں کی جاسکتی۔ اور جو شخص ان دونوں باتوں میں فرق نہیں سمجھتا اسے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی طلب کرنی چاہیے۔ چناچہ شریعت نے افراد کو خاص حالات میں بعض سہولتیں دی ہیں اور بعض پابندیوں کی اجازت عطا فرمائی ہے۔ اس کے لیے اہل علم سے راہنمائی لی جاسکتی ہے۔ لیکن کسی قوم کو خاندانی منصوبہ بندی پر لگا دینا اور اسلام کے ازدواجی فلسفے کو تباہ کر کے رکھ دینا اور عقیدہ توحید اور عقیدہ توکل کو مفلوج کردینا اور ہمسایہ قوموں کے حوالے سے اپنی افرادی ضرورت کا صحیح اندازہ نہ کرسکنا ‘ یہ دل و دماغ کا وہ کوڑھ ہے جس کا علاج کرنا از بس ضروری ہے۔
وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ کے ارشاد سے اسی بات کو آگے بڑھایا گیا ہے کہ ازدواجی تعلق کے صحیح احساسات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ تم نسل انسانی کے قافلے کو آگے بڑھنے میں مدد دو ۔ تم اپنے آبائو اجداد کی انسانی میراث ہو۔ یہی میراث آگے چلنی چاہیے تاکہ انسانی قافلہ کہیں رکنے نہ پائے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھو کہ تم جو نسل مستقبل کے حوالے کرو اسے تربیت یافتہ اور اخلاق سے مرصع ہونا چاہیے تاکہ تمہارے بعد تمہاری اولاد صرف تمہاری جسمانی وارث نہ ہو بلکہ تمہاری اخلاقی خصوصیات کو بھی آگے منتقل کرے۔ اور یہی حقیقت میں وہ جوہر ہے جو نسل در نسل انسانی اخلاقی خصوصیات کو باقی رکھتا ہے اور اسی سے قومیں توانا ہوتی ہیں اور شاید اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ مُّلٰـقُوْہُ اور اللہ سے ڈرو اپنی اولاد کی تربیت میں کسی طرح کی کمزوری نہ دکھائو۔ اور خوب جان لو کہ تمہیں اپنے رب سے ملنا ہے اس کے حضور حاضری دینی ہے۔ وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں اور اولاد سے متعلق بھی تم سے جواب طلبی کرے گا۔ اگر تم نے اپنا فرض ٹھیک ٹھیک انجام نہیں دیا تو اس وقت جواب دہی بہت مشکل ہوجائے گی۔ اور آخر میں فرمایا وَ بَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ ایمان اور یقین لانے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات پر پوری طرح یقین رکھتے ہیں اور اسے اپنا عمل بناتے ہیں وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ انھیں سرخرو فرمائے گا۔
Ayahs 2:224–227وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِّاَیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَـتَّـقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَلٰـکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔
(اللہ کو اپنی قسموں کی رکاوٹ نہ بنائو کہ تم احسان نہیں کرو گے یا حدود الٰہی کا احترام نہیں کرو گے یا لوگوں کے درمیان صلح نہیں کرائو گے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں پکڑے گا تمہاری لایعنی قسموں پر۔ لیکن تمہیں پکڑے گا ان قسموں پر جن کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہے۔ اللہ بہت بخشنے والا بردبار ہے) (224 تا 225)
معاشرے میں قسم کی اہمیت
انسانی معاشرے میں معاشرتی ‘ سماجی اور سیاسی معاملات میں قسم کی ہمیشہ ضرورت پڑتی ہے۔ ہر معاشرے میں جس نام کی قسم کھائی جاتی ہے اس کا خاص احترام ملحوظ خاطر ہوتا ہے۔ اس معاشرے میں رہنے والے لوگ حتیٰ الامکان غلط بات کے لیے اس نام کو استعمال کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔ جب بھی کسی معاملے میں اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے یا کسی شب ہے کے ازالے کا موقعہ ہوتا ہے یا کسی معاہدے کو استحکام دینا مقصود ہوتا ہے تو عموماً قسم سے اس ضرورت کو پورا کیا جاتا ہے۔ یہاں جن مسائل کا ذکر ہو رہا ہے ان میں بھی بسا اوقات کبھی بیوی کو قسم دینے کی ضرورت پڑتی ہے اور کبھی شوہر کو۔ خاص طور پر آگے جو احکام ذکر کیے جا رہے ہیں جن میں بہت اہم ایلاء کا معاملہ ہے۔ ان میں چونکہ دارومدار ہی قسم پر ہے اس لیے ان مسائل کا ذکر کرنے سے پہلے پروردگار نے یہ مناسب سمجھا کہ قسم کی اہمیت کو واضح کردیا جائے۔
عُرْضَۃٌ کا معنی ہے حاجز ‘ یعنی رکاوٹ۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں کچھ ایسے لوگ تھے اور ہر معاشرے میں ہمیشہ ایسے لوگ رہے ہیں ‘ جو کسی وجہ سے کسی نیک کام کو چھوڑ دینے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس پر اللہ کے نام کی قسم کھاتے ہیں کہ میں آئندہ یہ کام نہیں کروں گا مثلاً ماں باپ سے بگڑ گئے تو کہا آئندہ ان کی خدمت نہیں کروں گا۔ بھائی سے ناراض ہوگئے تو اس سے قطع تعلق کرنے کی قسم کھالی یا کسی ادارے کی مدد کر رہے تھے کسی واقعے سے مشتعل ہو کر اس ادارے کی مدد نہ کرنے پر قسم کھالی۔ اور پھر جب کوئی انھیں کہتا کہ تم نے ایک نیک کام سے ہاتھ کھینچ کر بہت غلط فیصلہ کیا تو وہ جواب میں یہ عذر کرتے کہ فیصلہ غلط ہی سہی لیکن اب کیا ہوسکتا ہے اب تو میں قسم کھاچکا ہوں۔ ایسے لوگوں پر دو حوالوں سے تنقید فرمائی گئی ہے۔
قَسم پر دو حوالوں سے تنقید
ایک تو یہ کہ تم بھلائی کے کام نہ کرنے پر اللہ کی قسم کھا کر گویا اللہ کے نام کو اپنے اور بھلائی کے درمیان ایک رکاوٹ کے طور پر پیش کرتے ہو۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جس اللہ نے بھلائی کو وجود بخشا اور انسانوں کو بھلائی کرنے کا پابند ٹھہرایاتم اسی کے نام کو بھلائی نہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہو اس سے زیادہ اللہ کے نام کی توہین اور کیا ہوسکتی ہے۔ اور اللہ کی ذات یا اس کے نام کی توہین اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے مجرم کو نہ اللہ کبھی معاف کرے گا اور نہ اللہ کے ماننے والے کبھی معاف کرتے ہیں۔ تنقید کا دوسرا حوالہ یہ ہے کہ اللہ نے بھلائی اور نیکی کے تین راستے کھولے ہیں۔ ایک کو ” بِر “ کہا گیا ہے ‘ دوسرے کو ” تقویٰ “ اور تیسرے کو ” اصلاح بین الناس “۔ یہی تینوں باتیں پورے دین سے عبارت ہیں۔ ” بِر “ کا لفظ ان تمام نیکیوں پر حاوی ہے جن کا تعلق والدین ‘ رشتہ داروں ‘ مسکینوں ‘ یتیموں اور دوسرے مستحقین کے حقوق سے ہے۔ یوں کہہ لیجئے کہ تمام حقوق العباد ” بِر “ کے مفہوم میں شامل ہیں اور ” تقویٰ “ ان نیکیوں پر بولا جاتا ہے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔ اس لحاظ سے تمام عبادات ‘ تمام نذر و نیاز اور منتوں کے معاملات ‘ تمام قربانیاں اور ایک پہلو سے تمام معاہدات اس میں شامل ہیں۔ اور ” اصلاح بین الناس “ سے مراد وہ نیکیاں ہیں جو انسانوں کو انسانوں سے جوڑنے ‘ انسانوں کے کام آنے ‘ انسانوں کے ساتھ بھلائی کرنے اور انسانوں کا بھلا چاہنے سے متعلق ہیں۔ اب آپ اندازہ فرمایئے کہ اگر لوگ ان تمام نیکیوں میں سے کسی ایک نیکی یا ان تمام نیکیوں کو نہ کرنے کی قسم کھالیتے ہیں تو پھر انسانیت کے دامن میں باقی کیا رہ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے قسم کھانے والوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اللہ کی ذات نہ سنتی ہے نہ جانتی ہے۔ وہ اگر اللہ کو اتنا بیخبر نہ جانتے یا اگر ان کا ایمان اتنا کمزور نہ ہوتا تو وہ کبھی ایسی نیکیوں سے رکنے کا تصور نہ کرتے اور اللہ کے نام کو درمیان میں لانے کی تو کبھی جسارت بھی نہ کرتے۔ ایسی قسموں کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے اذا حلفت علی یمین فرأیت غیرہا خیرا منہا فات الذی ھو خیروکفرعن یمینک ” اگر تم کسی بات کی قسم کھالو اور پھر اس کے بعد دیکھو کہ اس سے دوسرا کام نیک معلوم ہوتا ہے تو وہ نیک کام کرلو اور قسم کا کفارہ ادا کردو “ یعنی دین کا اصل مقصد اگر بھلائیوں کو اختیار کرنا اور انھیں فروغ دینا ہے تو پھر قسم کو ان کے لیے رکاوٹ نہ بنائو۔ اگر تم غلطی سے ایسا کرچکے ہو تو قسم توڑ ڈالو اور قسم کا کفارہ دے دو اور قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائو اوسط درجے کا کھانا یا دس مسکینوں کو کپڑے بنا کے دو اور اگر اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ہو تو پھر تین دن کے روزے رکھو۔
قَسم کی اقسام
دوسری آیت کریمہ میں قسم کی اقسام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ کون سی قسم ہے جس پر اللہ مواخذہ نہیں فرماتے اور وہ کونسی قسم ہے جس پر مواخذہ کیا جائے گا۔
1 یمینِ لغو
جس قسم پر مواخذہ نہیں ہوگا اسے ” یمین لغو “ کا نام دیا گیا ہے۔ یمین قسم کو کہتے ہیں۔ اس کا معنی ہوگا لغو قَسم۔ مراد اس سے یہ ہے کہ بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ وہ تکیہ کلام کے طور پر بات بات پر قسم کھاتے رہتے ہیں ‘ لیکن ان کا ارادہ قسم کھانے کا نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ انھیں احساس تک نہیں ہوتا کہ میں قسم کے الفاظ ادا کر رہا ہوں۔ ایسی قسم چونکہ دل کے ارادے کے بغیر کھائی جاتی ہے ‘ اس لیے اسے لغو قسم کہا جاتا ہے۔ مزید برآں ایسی قسم کو بھی لغو کہا جاتا ہے کہ قسم تو اس نے اپنے ارادے سے کھائی ‘ لیکن اس کا گمان یہ ہے کہ میں جس واقعے کے بارے میں خبر دے رہا ہوں وہ واقعہ بالکل صحیح ہے۔ حالانکہ وہ واقعہ صحیح نہیں ہوتا۔ تو چونکہ اس نے قصداً جھوٹ نہیں بولا۔ مثلاً وہ اپنے گمان میں یہ سمجھتا ہے کہ زید آگیا ہے اور وہ حلفاً اس کے آنے کی خبر دے دیتا ہے۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ زید نہیں آیا۔ اس لیے ایسی قسم کو بھی لغو قسم کہہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اس کے منہ سے ایک ایسی قسم نکل گئی جس کا وہ ارادہ نہیں رکھتا تھا ‘ کہنا کچھ اور چاہتا تھا اور منہ سے کچھ اور نکل گیا اس کا شمار بھی لغو قسم میں ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس قسم پر مواخذہ نہیں فرماتے۔ لیکن یمین لغوکا لفظ ہمیں ایک اور اہم اور نازک بات کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم پر مواخذہ نہیں فرمائیں گے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا اس قسم کو لغو قرار دینا یقینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پروردگار اس فعل اور رویے کو پسند نہیں فرماتے۔ کیونکہ کوئی سا لغو کام بھی اللہ کو پسند نہیں۔ اور ایک مومن کی جو صفات گنوائی گئی ہیں ‘ اس میں بھی بطور خاص اس بات کا ذکر فرمایا ہے والذین ھم عن اللغو معرضون ” کہ فلاح پانے والے مومن وہ ہیں جو لغو سے اعراض کرنے والے ہیں “ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ اس کی زبان سے لغویات کا صدور ہو۔ چاہے اس کا تعلق زبان کی بےاحتیاطی سے ہو اور چاہے اس کا تعلق معاملات میں لاپرواہی سے ہو۔ ہر لا یعنی بات کو لغو کہا جاتا ہے۔ یعنی ہر ایسی بات جس کا تعلق نہ دنیا کے بھلے کاموں سے ہو نہ آخرت کے کاموں سے۔ ایسے لا یعنی کاموں کو کرنا ایک مومن کو اس لیے زیب نہیں دیتا کیونکہ اس سے اسلام کا حسن دھندلا کر رہ جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ ” ایک آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر لا یعنی بات کو چھوڑ دے “ لغوقَسم بھی چونکہ ایسے ہی لا یعنی کاموں میں سے ہے ‘ اس لیے ایک مومن کو اس کے ارتکاب سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔
2 یمینِ غموس
قَسم کی دوسری قسم ” یمین غموس “ کہلاتی ہے۔ اس سے مراد وہ قسم ہے جسے قسم کھانے والا خود جھوٹا سمجھتا ہو ‘ لیکن پھر بھی قسم کھاتا ہو۔ یا ماضی کے کسی واقعے کے بارے میں قسم کھا کر کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا ‘ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ ایسا ہوا تھا۔ ایسی قسم پر کفارہ تو نہیں ہوتا ‘ لیکن اس پر گناہ ہوتا ہے۔ گناہ ہونے کے لحاظ سے یقینا آخرت میں اس پر مواخذہ ہوگا۔
3 یمینِ منعقدہ
قَسم کی تیسری قسم ” یمین منعقدہ “ ہے۔ یہ وہ قسم ہے جسے عام طور پر جانا پہچانا جاتا ہے۔ آدمی کسی سے حلفاً وعدہ کرتا ہے میں تمہیں یہ چیز دوں گا اور پھر نہیں دیتا۔ اس صورت میں یہ قسم ٹوٹ جائے گی یا مثلاً وہ جانتا ہے کہ فلاں شخص جھوٹا دعویٰ پیش کر رہا ہے لیکن وہ پھر بھی حلفاً اس کی تائید کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ ہر وہ قسم جس میں دل کے ارادے سے جھوٹ بولا جائے یا قسم کھاتے ہوئے تو سچی بات کہی جائے لیکن بعد میں اسے پورا نہ کیا جائے۔ ایسی قسم پر کفارہ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ بھی فرمائے گا۔ اور کفارے کا ذکر ہم اس سے پہلے کرچکے ہیں۔
لِلَّّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِھِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍ فَاِنْ فَآئُ وْ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ وَاِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔
(جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے، اگر وہ رجوع کرلیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اگر طلاق کا فیصلہ کرلیں تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے)
(226 تا 227)
ایلاء کی وضاحت
قَسم کی وضاحت کے بعد اب ایک ایسے شرعی مسئلے کو بیان کیا جا رہا ہے جس کا زیادہ تر تعلق قسم سے ہے۔ اسے جاہلیت کے زمانے میں بھی ایلاء کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور اسلامی شریعت نے بھی اسی نام کو باقی رکھا ہے۔ عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان میں کبھی میاں بیوی میں بگاڑ پیدا ہوتا اور شوہر اپنی بیوی کو چھوڑنا بھی نہ چاہتا تو وہ عموماً اس سے ترک تعلق کا اعلان کردیتا ‘ اپنی تنہائی سے اسے خارج کردیتا ‘ گھر کے کام کاج اس سے لیے جاتے ‘ لیکن اس کی بیوی کی حیثیت اس طرح ختم کردی جاتی کہ وہ گھر میں صرف ایک نوکرانی بن کر رہ جاتی۔ ایک خاتونِ خانہ جو کل تک گھر کی ملکہ تھی اب یک لخت گھر کی نوکرانی بن کر رہ جائے ‘ شوہر اسے قریب نہ آنے دے اور وہ ہر طرح اپنی توجہ سے اسے محروم کر دے تو یہ ایک ایسی سزا ہے جو شائد طلاق سے بھی بڑھ کر ہے۔ عربوں کا عام طور پر طریقہ یہ تھا کہ وہ قسم کھالیتے تھے کہ میں چار مہینے تک اپنی بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا اور کبھی وہ مدت معین کیے بغیر بیوی کو حقوق زوجیت سے محروم کردیتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ چارماہ سے زیادہ کی مدت مقرر کردیتے۔ ان تمام صورتوں کو ایلاء کے نام سے ہی یاد کیا جاتا تھا۔ اور اس میں ہمیشہ قسم کھا کر ترک تعلق کو پختہ کردیا جاتا تھا۔ اور قرآن کریم نے بھی اس آیت کریمہ میں ” قسم کھا لینے “ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس لیے فقہائِ حنفیہ اور شافعیہ نے اس آیت کا منشاء یہ سمجھا ہے کہ جہاں شوہر بیوی سے میاں بیوی کے تعلقات ختم کرنے کی قسم کھائے صرف اسی کو ایلاء کا نام دیا جائے گا اور اس پر ایلاء کا اطلاق ہوگا۔ لیکن اگر وہ قسم کھائے بغیر بیوی سے تعلقات منقطع کرلیتا ہے تو پھر چاہے اس پر کتنی طویل مدت گزر جائے اس پر ایلاء کے حکم کا اطلاق نہیں ہوگا۔ مگر فقہائِ مالکیہ کی رائے یہ ہے کہ خواہ قسم کھائی گئی ہو یا نہ کھائی گئی ہو دونوں صورتوں میں ترک تعلق کے لیے یہی چار مہینے کی مدت ہے۔ امامِ احمد بھی اسی کی تائید میں ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قسم سے اس ترک تعلق کو ایک پختگی مل جاتی ہے۔ لیکن جہاں تک ترک تعلق سے خاتونِ خانہ کو اذیت پہنچنے کی بات ہے اس کا تو قسم سے کوئی تعلق نہیں۔ اس آیت کریمہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک عورت کے لیے چار مہینے سے زیادہ شوہر کے بغیر رہنا شاید آسان نہیں۔ اس لیے حضرت عمر فاروق ( رض) نے جب ایک خاتونِ خانہ کو رات کی تنہائی میں آہیں کھینچتے ہوئے سنا تھا تو آپ ( رض) نے تحقیق سے معلوم کیا کہ اس کا سبب کیا ہے ؟ تو معلوم ہوا کہ شادی کے جلدی بعد اس خاتون کا شوہر جہاد پر چلا گیا ‘ کئی مہینے گزر گئے ہیں وہ ابھی تک لوٹ کر نہیں آیا۔ رات کو آپ ( رض) حضرت حفصہ ( رض) جو آپ ( رض) کی صاحبزادی بھی ہیں اور ام المؤمنین بھی ‘ ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پوچھا کہ شریعت میں ہر بات پوچھی جاسکتی ہے اس لیے آپ مجھے بتایئے کہ ایک نوجوان لڑکی اپنے شوہر سے کتنا عرصہ جدا رہ سکتی ہے ؟ انھوں نے کہا زیادہ سے زیادہ چار مہینے۔ یعنی وہی مدت جو قرآن کریم نے ایلاء کے سلسلے میں ٹھہرائی ہے۔ اس لیے کوئی آدمی اگر قسم نہیں کھاتا لیکن اتنی طویل مدت تک اپنی بیوی کو علیحدگی کے عذاب میں مبتلا رکھتا ہے تو فقہی تقاضے سر آنکھوں پر اور احناف اور شوافع کا مسلک بھی بہت مضبوط سہی لیکن اس مشکل کا حل نکالنا بھی اسلامی شریعت کی ذمہ داری ہے۔ اور آج کے ذمہ داروں کو اس صورت حال پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہزاروں لوگ مختلف دنیوی حوالوں سے بیرونِ ملک جاتے ہیں اور مہینوں نہیں ‘ سالوں تک لوٹ کر نہیں آتے اور پیچھے ان کی جوان بیویاں انتظار میں بوڑھی ہوجاتی ہیں۔ دولت کی محبت اپنی جگہ لیکن نسوانی جذبات کی یہ پامالی اور بعض دفعہ اس کے نتیجے میں نکلنے والے تلخ نتائج ‘ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ حضرت عمر فاروق ؓ نے ان تمام باتوں پر غور کرتے ہوئے حکم جاری فرمایا کہ ہر شادی شدہ فوجی کو چار مہینے گزرنے سے پہلے گھر آنے کی اجازت دی جائے۔ چناچہ خلافت راشدہ میں ناگزیر حالات کے علاوہ اسی اصول پر عمل ہوتا رہا۔ یہاں بھی یہی فرمایا جا رہا ہے کہ قسم کھانے والا شوہر اگر تو چار مہینے کی مدت گذرنے سے پہلے اپنی قسم توڑ دے اور اپنی بیوی سے تعلقات ِ زَنْ و شَوْ قائم کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کرنے والے اور مہربان ہیں۔ بعض فقہاء نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ ایسے شخص پر کفارہ نہیں ہوگا۔ لیکن جمہور کی رائے یہ ہے کہ قسم توڑنے کا کفارہ دینا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے مہربان ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو کفارہ بھی معاف ہوجائے گا بلکہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ترک تعلق کے دوران خاتونِ خانہ سے جو زیادتی ہوئی ہے اور اگر اس کے ناگوار رویے سے شوہر یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوا تو شوہر سے جو زیادتی ہوئی ہے دونوں کو اللہ معاف فرما دے گا۔ لیکن اگر شوہر چار مہینے کے اندر رجوع نہیں کرتا اور وہ اپنے ترک تعلق کے فیصلے پر قائم رہتا ہے تو احناف کے نزدیک اس عورت کو قطعی طلاق واقع ہوجائے گی۔ یعنی یہ طلاق ‘ طلاقِ بائنہ ہوگی۔ اور اب شوہر نکاح کیے بغیر اپنی بیوی سے رجوع نہیں کرسکتا۔ ہاں اس بات کی اجازت باقی رہتی ہے کہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ مل بیٹھنے کا فیصلہ کرلیں تو وہ آپس میں نکاح کرسکتے ہیں حلالہ کی ضرورت نہیں۔ البتہ بعض فقہاء کی رائے یہ ہے کہ چار مہینے کی مدت گزرنے کے بعد معاملہ عدالت میں پیش ہوگا۔ اور حاکم عدالت شوہر کو حکم دے گا کہ یا تو اس عورت سے رجوع کرے اور یا اسے طلاق دے۔
آخر آیت میں فرمایا فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ” بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے “ میاں بیوی آپس میں جو کچھ کہتے رہے اللہ برابر سنتا رہا۔ اور جو کچھ ایک دوسرے کے خلاف منصوبے باندھتے رہے وہ ان سے بھی باخبر رہا۔ اور اگر دونوں میں سے کسی ایک نے ناروا باتیں کہی ہیں تو اللہ کی سماعت میں ہیں۔ اور اگر ظلماً زیادتیاں کی ہیں تو وہ بھی اللہ کے علم سے دور نہیں۔ اس لیے یکجائی کے بعد بھی دونوں کو توبہ کرنی چاہیے اور اپنی اپنی غلطیوں کی اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔
Ayah 2:228وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰـثَۃَ قُرُوْٓئٍ ط وَلَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِھِنَّ اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط وَبُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا ط وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ص وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌحَکِیْمٌ۔ ع
(اور مطلقہ عورتیں اپنے بارے میں تین حیض تک توقف کریں۔ اور اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو کچھ پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور اس دوران میں ان کے شوہر ان کے لوٹانے کے زیادہ حقدار ہیں اگر وہ سازگاری کے طالب ہیں۔ اور ان عورتوں کے لیے دستور کے مطابق اسی طرح حقوق ہیں جس طرح دستور کے مطابق ان پر ذمہ داریاں ہیں۔ ہاں مردوں کے لیے ان پر ایک درجہ ترجیح کا ہے۔ اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے) (228)
مطلقہ عورت کی عدت تین حیض ہے
اگر ایلاء کے نتیجے میں یا کسی اور سبب سے شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو یہود کی طرح اسلام نے عورت کو اسی وقت یا چند دنوں بعد نکاح ثانی کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ حکم دیا کہ ایسی خاتون یا ایسی خواتین کو تین قروء تک انتظار کرنا چاہیے اور ان پر پابندی ہے کہ وہ اس مدت میں دوسرے نکاح سے رکی رہیں۔ قُرُوْئٌ، قَرْئٌ کی جمع ہے۔ اہل لغت نے اس کے معنی کی تعیین میں اختلاف کیا ہے۔ اسی لیے فقہاء میں بھی اختلاف پیدا ہوا۔ بعض نے اس کے معنی حیض کے لیے ہیں اور بعض نے طہر کے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے مادہ اور مشتقات کو دیکھتے ہوئے حیض ہی کے معنیٰ کو ترجیح دینا پڑتی ہے۔ اور سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے بھی اسی معنیٰ کی طرف طبیعت مائل ہوتی ہے۔ کیونکہ مطلقہ عورتوں کو دوسرے نکاح سے توقف کرنے کا حکم دینے کی بڑی علت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ وہ حاملہ تو نہیں ؟ اس لحاظ سے اس کا معنی حیض ہی قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ حاملہ ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ حیض ہی سے ہوتا ہے۔
اَبْغَضُ الْحَلاَ لِ اِلیٰ اللّٰہِ اَلطَّلاَ قُ
اسلام میں میاں بیوی کے تعلقات میں بگاڑ کی صورت میں طلاق کی اجازت تو دی گئی ہے ‘ لیکن ساتھ ہی اسے اللہ کے یہاں مبغوض ترین فعل قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ میاں بیوی کے تعلق سے ہی ایک گھر وجود میں آتا ہے ‘ نئی نسل جنم لیتی ہے ‘ ایک گھر کی مضبوطی سے خاندان کو قوت ملتی ہے اور ایک صالح اور مضبوط خاندان اسلام کے سیاسی نظام کی بنیاد بنتا ہے۔ میاں بیوی کے تعلق کی خرابی وہ پہلی اینٹ ہے جس کے ہل جانے سے اسلام کے سیاسی نظام کو ضعف پہنچتا ہے۔ اور وہ معاشرہ جو مختلف النوع انسانوں سے وجود میں آتا ہے اس کی بقا اور استواری کا دارومدار معاشرے کے اجزاء کے باہمی مضبوط تعلق پر ہے۔ جب ایک گھر میں اس تعلق میں دراڑیں پڑنا شروع ہوتی ہیں تو اس سے معاشرہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ میاں بیوی میں بگاڑ میاں اور بیوی کے خاندانوں کو متاثر کرتا ہے۔ دو خاندانوں کی تلخیاں آپ اندازہ بھی نہیں کرسکتے کہ کتنے خاندانوں کو متاثر کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ اس کی بنیاد چونکہ طلاق سے وجود میں آتی ہے اس لیے اسلام نہایت ناگواری سے اسے برداشت کرتا ہے ‘ لیکن تاحد آخر اس کی کوشش یہ ہے کہ اس تعلق کو بگاڑ سے محفوظ رکھا جائے۔ اور اگر بگاڑ پیدا ہو ہی جائے تو اسے کم سے کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اور جب کسی طرح بھی اصلاح ممکن نہ ہو تو پھر طلاق کی اجازت دے کر دونوں کے لیے نئے مواقع کھول دیے جائیں۔
عدت گزرنے سے پہلے عقد ثانی کی ممانعت کی حکمت
اس تعلق کو ٹوٹنے سے بچانے اور اس میں آئی ہوئی دراڑوں کو درست کرنے کے لیے تین حیضوں تک بیوی کو دوسرے نکاح سے روکا گیا ہے۔ اس مدت کو ” عدت “ کہتے ہیں۔ عدت کا یہ وقت جو تقریباً تین مہینوں تک پھیل جاتا ہے دونوں کو الگ الگ رہ کر سوچنے کا موقع دے گا کہ کیا ہم اس علیحدگی کو روک نہیں سکتے ؟ اگر ان میں ذرا بھی بھلائی ہوئی یا ان کے خاندانوں نے اپنا کردار ادا کیا تو کوئی وجہ نہیں کہ دونوں مل بیٹھنے کے لیے تیار نہ ہوں۔
اگر فرض کیجئے اصلاح کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو عدت کے اختتام تک یہ بات تو یقینا معلوم ہوجائے گی کہ مطلقہ خاتون حاملہ ہے یا نہیں۔ اگر وہ حاملہ ہے اور خاموشی سے دوسرے سے نکاح کرلیتی ہے اور دوسرے شوہر کو بچے کی پیدائش کے بعد پتہ چلے کہ یہ بچہ میرا تو نہیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے بعد میاں بیوی کے تعلق کی نوعیت کیا ہوگی اور بچے کا مستقبل کیا ہوگا ؟ اس لیے اسلام اس بات پر انتہائی زور دیتا ہے کہ عدت کے دوران عقد ثانی کی نوبت کسی صورت نہیں آنی چاہیے۔ یہ سراسر حرام ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا گیا کہ جن عورتوں کو طلاق ہوجائے اگر وہ حاملہ ہوں تو وہ اسے ہرگز نہ چھپائیں۔ یہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔ اگر وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو انھیں خوب معلوم ہے کہ آخرت کے دن اللہ کے سامنے حاضری ہوگی۔ وہ جب یہ سوال کرے گا کہ تم نے پہلے شوہر کے بچے کو دوسرے شوہر کے سر کیوں منڈھ دیا۔ تو سوچ لو اس وقت تمہارا کیا جواب ہوگا ؟ اور اس کے بعد تمہارا جو انجام ہوگا اس سے کیسے بچ سکو گی ؟
طلاق دینے کا صحیح طریقہ
یہاں ایک بات یاد رکھئے کہ طلاق کی اجازت ضرور دی گئی ہے ‘ لیکن ساتھ ہی یہ حکم دیا گیا ہے کہ طلاق اگر دینا ناگزیر ہی ہوجائے تو پھر صحیح طریقہ سے طلاق دو ۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ” طہر “ (پاکیزگی) کی حالت میں ایک طلاق رجعی دی جائے۔ اور بہتر یہ ہے کہ اسی پر اکتفا کیا جائے۔ کیونکہ عدت گزرنے کے بعد بیوی ایک طلاق سے بھی شوہر کے نکاح سے نکل جاتی ہے۔ اور اگر ایک طلاق دینے سے اشتعال ختم ہونے میں نہ آئے تو پھر دوسرے طہر میں دوسری طلاق دی جائے۔ اور اس کے بعد تیسری طلاق کا بالکل ارادہ نہ کیا جائے۔ کیونکہ دو طلاقوں تک بیوی سے رجوع کرنے کی بھی اجازت ہے اور عدت گزرنے کے بعد نکاح کرنے کی بھی۔ لیکن اگر تیسرے طہر میں تیسری طلاق بھی دے دی تو اب دوبارہ یکجائی کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔ اسی طرح اگر تینوں طلاقیں اکٹھی دے دیں تو یاد رکھئے کہ تین طلاقیں اکٹھی دینا سخت گناہ کی بات ہے۔ حضرت عمر فاروق ایسے شخص کو درے لگواتے تھے۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ تینوں طلاقیں اکٹھی بھی واقع ہوجاتی ہیں۔ امت میں بجز اہلحدیث حضرات کے اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کرتا۔ ہماری فقہ کے چاروں امام اس بارے میں متفق ہیں۔ اس لیے ہمارے یہاں جو ایک ہی سانس میں تین طلاقیں دینے کا رواج ہوگیا ہے اس بارے میں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اس کے بعد گھر برباد ہوجائے گا۔ کیونکہ میاں بیوی دوبارہ نکاح نہیں کرسکیں گے اور دوسرے نکاح کے لیے حلالہ کی جو تجویز ہے اور جس طرح آج کل اس پر عمل ہو رہا ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے ایک نکاح ہوتا ہے اور پھر خاموشی سے طلاق لے کر دوسرا نکاح کردیا جاتا ہے۔ یہ سراسر زناکاری ہے۔ اور اللہ کے رسول ﷺ نے اس پر لعنت فرمائی ہے۔
(اگلے رکوع میں کسی حد تک یہ بحث آئے گی انشاء اللہ )
شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق
عدت کے دوران سوچ بچار کے بعد شوہر اگر یہ فیصلہ کرلیتا ہے کہ میں نے طلاق دے کر غلطی کی ہے ‘ مجھے بہرصورت اس تعلق کو باقی رکھنا چاہیے اور اسی میں میری اور خاندان کی بھلائی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ شوہر کو عدت کے دوران رجوع کرنے کا حق ہے۔ جب تک اس کی بیوی تیسرے حیض سے فارغ ہو کر غسل نہیں کرلیتی اس وقت تک شوہر کا یہ حق باقی رہتا ہے۔ حضرت ابوبکر ‘ عمر ‘ علی ‘ ابن عباس ‘ ابو موسیٰ اشعری ‘ ابن مسعود اور بڑے بڑے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہی رائے ہے۔ اور فقہاء حنفیہ نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔ لیکن بعض صحابہ جن میں حضرت عائشہ ( رض) بھی شامل ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ تیسرا حیض آتے ہی شوہر کا حق رجوع ساقط ہوجاتا ہے۔ فقہائِ مالکیہ و شافعیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اگرچہ پہلی رائے زیادہ مستحکم معلوم ہوتی ہے لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ تیسری بار حیض آنے سے پہلے پہلے شوہر کو رجوع کا فیصلہ کرلینا چاہیے۔
زوجین کے تعلقات میں لگائو کا اصلی سبب
میاں بیوی کے تعلقات میں خرابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب دونوں اپنی اپنی حدود سے نکل جاتے ہیں۔ بیوی نشوز کا راستہ اختیار کرتی ہے اور شوہر ظلم کا۔ نتیجہ اس کا گھر کی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہی وہ خرابی ہے جو شوہر کو طلاق پر آمادہ کرتی ہے اور وہ بیوی سے جان چھڑانے پر مجبور ہوجاتا ہے اور بیوی شوہر سے بیزار ہوجاتی ہے۔ اس لیے آیت کریمہ کے آخر میں اسی بنیادی خرابی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ شوہروں کو ہرگز یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ حقوق صرف انھیں کے ہیں اور بیویاں تو گھر میں صرف ذمہ داریوں کا بار اٹھانے کے لیے آتی ہیں اس لیے فرمایا وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ” اور ان عورتوں کے دستور کے مطابق اسی طرح حقوق ہیں جس طرح دستور کے مطابق ان پر ذمہ داریاں ہیں “ یعنی عورتیں صرف ذمہ داریوں سے ہی گراں بار نہیں ہیں ‘ بلکہ اللہ نے شوہروں پر ان کے حقوق بھی رکھے ہیں۔ جس طرح شوہروں کے حقوق بیویوں کے ذمے دستور کا حصہ ہیں اسی طرح بیویوں کے حقوق شوہروں کے ذمے بھی دستور کا حصہ ہیں۔ ان میں سے کسی کی بھی پامالی نہیں کی جاسکتی اور کسی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بیویوں کا تعلق چونکہ صنف نازک سے ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے بار بار ان کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید فرمائی ہے۔ اور یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر تم ان کے حقوق کو پامال کر کے ان پر ظلم کرو گے تو قیامت کے دن میں خود تمہارے خلاف استغاثہ دائر کروں گا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم نے اللہ کے نام پر بیویوں کو اپنی حفاظت میں لیا ہے۔ تو جب تم ان پر ظلم کرتے ہو تو اللہ کی ضمانت کو چیلنج کرتے ہو۔ چناچہ اگر شوہر بیویوں کے حقوق کا احساس کریں اور اس بات سے ڈریں کہ بیویوں پر ظلم قیامت کے دن انھیں بڑا مہنگا پڑے گا۔ تو گھر میں کم از کم شوہروں کی جانب سے کسی ابتری کا اندیشہ نہیں رہتا۔ لیکن جس طرح شوہر کے ظلم سے گھر برباد ہوتا ہے اور بیوی ظلم کی تصویر بن کے رہ جاتی ہے اسی طرح بیوی کا اپنی حدود سے نکل جانا اور شوہر کے شوہر ہونے کے حق کو چیلنج کرنا شروع کردینا اور اپنے آپ کو حقوق اور احترام میں شوہر کے برابر سمجھنا اور شوہر کے حق فضیلت سے انکار کردینا یہ بھی وہ زہر ہے جس سے گھر کی فضا مسموم ہوجاتی ہے۔ اس کے اثرات اولاد پر بھی پڑتے ہیں اور شوہر بھی اس سے متاثر ہو کر علیحدگی کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ اس لیے جس طرح شوہر کو بیوی کے حقوق کے حوالے سے ظلم کرنے سے روکا اسی طرح وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ ” اور مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ ترجیح کا ہے “ فرما کر بیویوں کے تصورات کی اصلاح فرمائی اور ان کے ذہن سے یہ بات نکالی کہ تم ہمسری اور برابری کے فریب سے نکلو اگر تم گھر کو بچانا چاہتی ہو تو گھر اس مہلک تصور کی موجودگی میں تباہی سے نہیں بچ سکتا۔ کیونکہ دنیا کا کوئی چھوٹا بڑا ادارہ ایسا نہیں ہے جس میں تمام کام کرنے والوں کو یکساں حیثیت حاصل ہو۔ سکول میں تمام اساتذہ ہیڈ ماسٹر نہیں ہوتے ‘ کالج میں تمام پروفیسر پر نسپل نہیں ہوتے ‘ دفاتر میں تمام کام کرنے والے دفتر کے سربراہ نہیں ہوتے ‘ ملک کو چلانے والی کابینہ کے تمام شرکاء وزیراعظم نہیں ہوتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ادارے کو بھی چلانے کے لیے چاہے وہ چھوٹا ہے یا بڑا ‘ اس کا ایک انتظامی سربراہ بنانا پڑتا ہے۔ پھر اس کی اطاعت بھی کرنا پڑتی ہے۔ اس کا احترام بھی ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں پر ظلم کرتا ہے۔ دوسروں کے اپنے حقوق ہوتے ہیں ‘ یہ ان کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے۔ یہی حال ایک گھر کا بھی ہے۔ میاں بیوی دونوں کے حقوق ہیں لیکن دونوں برابر نہیں ہیں۔ (تفصیلی بحث تو انشاء اللہ سورة النساء میں آئے گی) یہاں یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ یہ جو آج میاں بیوی کے درمیان مساوات اور برابری کا نظریہ فروغ پا رہا ہے اور ہم نے مغرب سے اسے درآمد کر کے اپنے گھروں کی تباہی کا سامان کرلیا ہے ‘ کم از کم قرآن کریم میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ کیونکہ قرآن کریم تو واضح طور پر شوہر کو ایک درجہ فضیلت اور ترجیح دے رہا ہے اور اسے گھر کا سربراہ بنا کر سربراہی کے حقوق اور احترام دے رہا ہے۔ مغرب نے اسے جس طرح منفی جذبات کو ابھارنے کا ذریعہ بنایا ہے اس میں کوئی دانش نہیں۔ کیونکہ اگر گھر کے تمام افراد برابری کے تصور سے ہی خوشیاں حاصل کرسکتے ہیں تو پھر والدین اور اولاد میں بھی برابری تسلیم کرنا پڑے گی۔ اولاد والدین کو جان سے زیادہ پیاری ہوتی ہے لیکن شریعت نے اولاد کو والدین کی اطاعت اور احترام کا حکم دیا ہے اور والدین کو ان پر شفقت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ گھر کی سربراہی اگرچہ باپ کے پاس ہے لیکن اولاد کے لیے ماں کا تین گنا حق زیادہ رکھا ہے۔ یہ اللہ کے دین کی وہ حکمتیں ہیں جن کو نظر انداز کر کے ہم بےدانشی کا راستہ اختیار کرچکے ہیں اور اللہ کی ذات کی عظمت سے بغاوت کر کے ہم بربادی کے راستے پر چل نکلے ہیں۔ اس لیے آخر میں فرمایا کہ تمہیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ عزیز بھی ہے ‘ حکیم بھی ہے۔ یعنی وہ غالب بھی ہے اور وہ حکمت والا بھی ہے۔ اس کے دین کی اطاعت کرو ‘ کیونکہ وہ غالب کا بھیجا ہوا دین ہے اور دل و دماغ کو اس کی اطاعت سے آسودہ کرو کیونکہ وہ ایک حکیم کی حکمت کا شاہکار ہے۔