2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تو وہ بھی اچھا ہے اور اگر تم انھیں چھپائو اور چپکے سے غریبوں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کی خبر رکھنے والا ہے

اِنْ تُبْدُوا الصّٰدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ ج وَاِنْ تُخْفُوْہَا وَ تُؤْتُوْہَا الْفُقَرَآئَ فَھُوَ خَیْرٌلَّـکُمْ ط وَیُکَفِّرُ عَنْـکُمْ مِّنْ سَیِّاٰ تِکُمْ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تو وہ بھی اچھا ہے اور اگر تم انھیں چھپائو اور چپکے سے غریبوں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کی خبر رکھنے والا ہے) (271) پوشیدہ اور علانیہ انفاق کے دو طریقے اس آیت کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جن صدقات کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ صدقاتِ واجبہ یعنی زکوۃ و عشر وغیرہ نہیں بلکہ صدقاتِ نافلہ ہیں۔ کیوں کہ جہاں تک زکوۃ کی ادائیگی کا تعلق ہے اس میں تو بہتر یہ ہے کہ اسے لوگوں کے سامنے ادا کیا جائے۔ اور کچھ نہیں تو جو شخص زکوۃ لے رہا ہے اسے بتایا جائے کہ میں تمہیں زکوۃ دے رہا ہوں تاکہ لوگوں میں یہ غلط فہمی پید انہ ہو کہ یہ صاحب جو بڑے امیر آدمی ہیں زکوۃ تک ادا نہیں کرتے۔ زکوۃ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم نماز باجماعت پڑھتے ہیں۔ فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے لیکن نفل نماز گھروں میں چھپا کر پڑھنے سے زیادہ اجر وثواب ملتا ہے۔ فرض نماز چونکہ شعائر اسلام میں سے ہے اس لیے سب لوگوں کو مل کر ایک دوسرے کے سامنے ادا کرنا چاہیے تاکہ اللہ کے سامنے وفاداری کا اظہار اجتماعی طور پر ہو۔ زکوۃ بھی اس بات کا اعلان ہے کہ اللہ نے اگرچہ ہر مسلمان کا حق ملکیت تسلیم کیا ہے لیکن درحقیقت مال و دولت اور ہر چیز کا مالک اللہ ہے۔ انسانوں کے ہاتھ میں مال و دولت امانت ہے۔ اس لیے زکوۃ کی ادائیگی لوگوں کے سامنے اس بات کا اظہار ہے کہ ہم مال و دولت کو اپنی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی ملکیت جانتے ہیں ‘ وہ ہمارا آقا ہے اور ہم اس کے بندے ہیں۔ لیکن جہاں تک صدقاتِ نافلہ کا تعلق ہے یعنی عام خیرات کرنے کا ‘ اس کے بارے میں فرمایا کہ اگر تم صدقاتِ نافلہ یعنی خیرات لوگوں کے سامنے کھلم کھلا دو تو کوئی حرج نہیں ایسا بھی کرسکتے ہو کیونکہ بعض مواقع پر لوگوں کو دکھا کر یا سنا کردینا بھی مفید ہوتا ہے ‘ مثلاً ایک بڑا اجتماع ہے مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے یا اعلائے کلمتہ الحق کی ضرورت کے لیے لوگوں سے دل کھول کردینے کی اپیل کی جا رہی ہے ایسے موقع پر جو آدمی کھڑا ہو کر لوگوں کو سنا کر ایک بڑی رقم دیتا ہے اس سے لوگوں کے اندر ایک جذبہ ابھرتا ہے اور وہ بھی بڑھ چڑھ کر اللہ کے راستے میں بڑی سے بڑی رقم دینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ تجربہ یہی ہے کہ اجتماعی کاموں اور اجتماعی مہمات میں لوگوں کے سامنے اعلان کر کے دینا چاہیے تاکہ لوگوں میں دینے کا شوق پیدا ہو لیکن عام معمول کی زندگی میں بہتر یہی ہے کہ چھپا کردیا جائے۔ اس طرح چھپایا جائے کہ دایاں ہاتھ دے تو بائیں کو خبر نہ ہو۔ لینے والے کے سوا کسی کو معلوم نہ ہو کہ آپ نے ایک شخص کو کچھ دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک تو دینے والے میں دکھاوا پیدا نہیں ہوگا ‘ وہ ریا کاری سے محفوظ رہے گا اور دوسرا یہ کہ لینے والے کی خودداری اور عزت نفس پر حرف نہیں آئے گا۔ بعض لوگ انتہائی ضرورتمند ہوتے ہیں ‘ لیکن وہ اس بات کو کبھی پسند نہیں کرتے کہ کسی کو پتہ چلے کہ ہمیں کسی نے خیرات دی ہے۔ وہ فاقے برداشت کرلیتے ہیں ‘ بعض دفعہ فاقوں کے ہاتھوں مرجانے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن عزت نفس کو رسوا نہیں ہونے دیتے۔ ایسے لوگوں کی عزت نفس کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ دینے والے چھپا کے دیں۔ اور حتیٰ الامکان کسی کے سامنے اس کا اظہار نہ کریں۔ جب کوئی آدمی اس طرح غریبوں ‘ ناداروں اور فقیروں کو انتہائی رازداری کے ساتھ محض اللہ کی رضا کے حصول کے لیے دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔ اور اس سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ وہ اس کا اجر بھی بڑھا چڑھا کے عطا فرمائیں گے اور آخر میں فرمایا کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ اس سے مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جو ہم نے دینے کے طریقے سکھائے ہیں کہ علانیہ دو یا پوشیدہ دو اس کا تعلق تمہاری تربیت سے ہے۔ تمہارے دل کو حکمت آشنا بنانا ہے۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری اور تمہارے بھائیوں کی تربیت کے حوالے سے لوگوں کے سامنے دینا مفید ہے تو سامنے دو اور چھپاکر دینے میں مصلحت سمجھو تو چھپاکر کردو۔ لیکن یہ بات یاد رکھو کہ یہ پوشیدہ اور اعلانیہ کا مسئلہ تمہارے لحاظ سے ہے خدا سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔ تم جو کچھ بھی ‘ جہاں بھی اور جس جگہ بھی کرو گے اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

آپ کے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرو مال میں سے تو اس میں تمہارا اپنا فائدہ ہے۔ اور تم تو خرچ نہیں کرتے ہو سوائے اللہ کی رضا طلبی کے اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے وہ تم کو پورا دیا جائے گا۔ اور تمہارے حق میں ذرا بھی کمی نہ کی جائے گی

لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰہُمْ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَ نْفُسِکُمْ ط وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَـآئَ وَجْہِ اللّٰہِ ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْـکُمْ وَاَنْتُمْ لَاتُظْلَمُوْنَ ۔ (آپ کے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جو کچھ تم خرچ کرو مال میں سے تو اس میں تمہارا اپنا فائدہ ہے۔ اور تم تو خرچ نہیں کرتے ہو سوائے اللہ کی رضا طلبی کے اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے وہ تم کو پورا دیا جائے گا۔ اور تمہارے حق میں ذرا بھی کمی نہ کی جائے گی) (272) آیت کریمہ کے دو مفہوم اس آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اہل علم نے اس کے دو مفہوم سمجھے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ تسلی دی جا رہی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے جن باتوں کا اظہار ضروری تھا۔ اور اس معاملے میں جن ہدایات کی ضرورت تھی ‘ آپ ﷺ نے ایک ایک کر کے لوگوں کے سامنے واضح کردی ہیں۔ اب ان باتوں کا قبول کرنا یا رد کردینا ‘ لوگوں کا کام ہے آپ تو بہرصورت اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوگئے۔ رسول ہونے کی حیثیت سے آپ کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو احکام اتریں یا کوئی ہدایت نازل ہو تو آپ بلا کم وکاست اسے لوگوں تک پہنچا دیں۔ اس کے بعد لوگ اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں کرتے ‘ اس کا خمیازہ لوگ خود بھگتیں گے اور قبول کرنے کی صورت میں اجر بھی پائیں گے لیکن آپ سے ان باتوں کا کوئی تعلق نہیں ‘ جن باتوں کا ابلاغ اور تبلیغ ضروری ہے اگر وہ آپ کامیابی سے کرلیتے ہیں تو آپ اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوگئے۔ رسولوں کے معاملے میں یہی اللہ کی سنت ہے جس کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔ رہی یہ بات کہ اس سے فائدہ کون اٹھاتا ہے اور کون نہیں اٹھاتا اور اللہ کس کو ہدایت دیتا ہے یا نہیں دیتا اس کے لیے ایک الگ اللہ کی ایک سنت ہے جس کا کئی جگہ ذکر ہوچکا ہے کہ جو آدمی ہدایت کی طرف بڑھتا ہے تو اللہ اس کے لیے راستے آسان کردیتا ہے ‘ بلکہ اس کا ولی بن کر اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے اور اس راہ کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے اس کی مدد فرماتا ہے ‘ لیکن جو شخص اس طرف آنے سے ہی انکار کردیتا ہے اور وہ پیغمبر کی ہر بات کی مخالفت کرنا اور پیغمبر سے دشمنی کرنا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اختیار کردہ راستے کو اس کے لیے آسان کردیتا ہے۔ بجائے اسے اپنی حفاظت میں لینے کے اسے کھلا چھوڑ دیتا ہے اور شیطان آگے بڑھ کر اس کی لگام پکڑ لیتا ہے۔ اس شخص نے چونکہ اللہ کی حفاظت حاصل کرنا نہیں چاہی اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی اسے اپنی حفاظت میں نہیں لیا۔ اس نے شیطنت کا راستہ اختیار کیا اور وہ شیطانوں کے قبضے میں آگیا۔ اب شیاطین اسے اپنے راستے پر کھینچے لیے جا رہے ہیں۔ بالآخر انھیں کفر کی دلدل میں ڈبو کر تباہ کردیں گے۔ بعض اور اہل علم نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ انصار کے کئی عزیز ابھی تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے۔ ان کی ضرورتوں کو دیکھ کر انصار ان کی مدد کرنا چاہتے لیکن اس خیال سے مدد کرنے سے رک جاتے کہ وہ چونکہ ایمان نہیں لائے اس لیے اب ہمارا ان سے کوئی رشتہ نہیں رہا اور خود نبی کریم ﷺ نے بھی مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ تم اپنے صدقات مسلمان فقراء ہی کو دیا کرو۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ کا کام ابلاغ ہے وہ آپ نے کردیا۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ آپ اس معاملے کو بنیاد بنا کر لوگوں کی مدد کرنے سے ہاتھ نہ روکیں۔ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر ایک کافر تمہارے سامنے بھوکا مر رہا ہے یا سردی میں ٹھٹھر رہا ہے یا بیماری کے ہاتھوں لاچار ہے تو تم اس کی احتیاج دیکھ کر اس کی مدد کرنے کے پابند ہو۔ تم یہ نہیں سوچو گے کہ یہ کافر ہے یا مومن بلکہ صرف یہ دیکھو گے کہ یہ انسان ہے اور انسان کے کام آنا انسانیت کا تقاضا ہے۔ انسانیت تو بہت بڑی بات ہے اللہ اور اس کے رسول نے تو حیوانوں کے کام آنا بھی ضروری قرار دیا ہے۔ جس عورت نے بلی کو باندھ رکھا اور وہ بھوکی مرگئی حضور ﷺ نے اس کے لیے جہنم کی خبر سنائی۔ اور جس آدمی نے پیاسے کتے کی جان بچائی حضور ﷺ نے اسے جنت کی بشارت دی۔ صدقاتِ نافلہ سے مدد کرنے کا حکم ہر انسان کے لیے ہے اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تمیز نہیں۔ صحابہ کرام سے گھر کا ہر اچھا کھانا غیر مسلموں کو بھیجنے کی روایات موجود ہیں۔ حتیٰ کہ وہ قربانی کے جانور کا گوشت بھی غیر مسلم گھرانوں میں بھجواتے تھے۔ البتہ جہاں تک زکوۃ اور فطرانہ کا تعلق ہے وہ مسلمان کے سوا کسی اور کو نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اپنے مال میں سے جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اس کا فائدہ تمہی کو پہنچے گا۔ سات سو گنا تک اور بعض دفعہ اس سے بھی زائد اس کے اجر سے نوازے جاؤ گے۔ اور یہ بات تمہیں معلوم ہے کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے صرف اللہ کی رضا کے لیے کرو گے۔ تو تمہاری اصل توجہ صرف اللہ کی رضا کے حاصل کرنے اور اس سے اجر وثواب کی امید پر رہنی چاہیے۔ اور یہ بھی یقین رکھنا چاہیے کہ تمہارا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا کسی نقصان کا باعث نہیں ہوگا بلکہ اس راستے میں دیا ہوا ایک ایک دانہ پہاڑبن کر تمہاری طرف لوٹے گا۔ اگر تم نے صحیح جذبے سے انفاق کیا ہے تو اس میں کبھی کمی نہیں کی جائے گی۔
Ayahs 2:273–274

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

(انفاق) ان فقراء کے لیے ہے جو خدا کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں۔ زمین میں کاروبار کے لیے دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے۔ گمان کرتا ہے انھیں بیخبر آدمی غنی۔ ان کی خودداری کے سبب سے۔ تم ان کو ان کی علامتوں سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال رات اور دن پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور نہ ان کے لیے خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے)

لِلْفُقَرَآئِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ ز یَحْسَبُہُمُ الْجَاہِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ ج تَعْرِفُہُمْ بِسِیْمٰہُمْ ج لَایَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ط وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ ع اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ (انفاق) ان فقراء کے لیے ہے جو خدا کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں۔ زمین میں کاروبار کے لیے دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے۔ گمان کرتا ہے انھیں بیخبر آدمی غنی۔ ان کی خودداری کے سبب سے۔ تم ان کو ان کی علامتوں سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اپنے مال رات اور دن پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور نہ ان کے لیے خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے) (273 تا 274) انفاق کا بہترین مصرف ایک شخص جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے جذبے سے اٹھتا ہے تو جہاں وہ اس بات کی احتیاط کرتا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں وہ چیز خرچ کروں جس میں حرام ‘ مکروہ یا مشکوک ہونے کا شبہ تک بھی نہ ہو ‘۔ اور وہ چیز ایسی ہو جو مجھے محبوب بھی ہو ‘ کیونکہ ان دو احتیاطوں کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی مال کو قبول نہیں کرتے۔ وہیں دوسری فکر اسے اس بات کی ہوتی ہے کہ میں اپنا مال وہاں خرچ کروں جو اس کا صحیح مصرف ہو۔ صدقاتِ واجبہ کے لیے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں۔ صدقاتِ نافلہ کے لیے اگرچہ ان مصارف کے لحاظ سے کچھ وسعت پائی جاتی ہے لیکن پروردگار نے اس آیت کریمہ کے ذریعے یہ بات واضح فرما دی کہ صدقاتِ واجبہ ہوں یا صدقاتِ نافلہ ‘ ان کا سب سے اہم اور پاکیزہ مصرف وہ فقراء ہیں جو اللہ کے دین ‘ اعلائے کلمتہ الحق یا کسی اور دینی خدمت کے لیے اس طرح اپنے آپ کو وقف کرچکے ہوں کہ کسی اور کام کی طرف توجہ دینا ان کے لیے ممکن نہ رہا ہو۔ اور یا ضرورت کی حد تک کسی اور کام کی طرف توجہ دیں بھی تو ترجیح صرف اللہ کے کاموں کو ہو۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں ان کی اس حالت کی وضاحت بھی فرما دی گئی کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسب معاش کے لیے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے۔ ان لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنھیں تاریخ اہل صفہ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ یہ مستقل رضاکاروں کا ایک گروہ تھا جنھوں نے اپنے آپ کو ہمہ تن دینی خدمات کے لیے وقف کردیا تھا۔ نہ ان کی بیویاں تھیں ‘ نہ ان کے بچے۔ اسلام لانے کے بعد یہ اپنے وطن سے نکلے اور آکر حضور ﷺ کے درِ دولت پر ڈیرہ جما لیا۔ زندگی صرف دین سیکھنے ‘ دین سکھانے اور اس کی سربلندی کے لیے وقف کردی۔ آنحضرت ﷺ نے مسجد نبوی کے ساتھ ایک چبوترہ بنوا دیا تھا ‘ جس پر چھپر کی طرح کی ایک چھت ڈال دی تھی۔ ان کی تعداد چار سو تک کہی جاتی ہے۔ مختلف وقتوں میں اس میں کمی بیشی بھی ہوتی رہی۔ یہ ہمہ وقتی دین کے کارکن تھے۔ عقیدت مند جاسوسوں کی طرح ہر وقت آنحضرت ﷺ کے معمولات کا کھوج لگاتے رہتے۔ جب بھی حضور ﷺ کو فارغ دیکھتے ‘ آپ ﷺ سے دین سیکھتے اور جب آپ ﷺ دوسروں لوگوں کو دینی تعلیم دیتے تو ان کے ساتھ بھی شامل ہوتے۔ ان میں اکثریت قرآن کریم کے حفاظ اور احادیث کی حفاظت کرنے والی تھی۔ انہی میں سے حضرت ابوہریرہ ؓ ہیں جنھوں نے آنحضرت ﷺ کے پانچ ہزار سے زیادہ اقوال ہم تک پہنچائے ہیں۔ جہاد کے لیے فوری طور پر کوئی فوج بھیجنا پڑتی تو آنحضرت ﷺ انہی کو بھیجتے تھے۔ مدینے سے باہر کوئی کام درپیش ہوتا تو تب بھی انہی کو بھیجا جاتا۔ ورنہ ان کا اصل کام دین سیکھنا اور دین سکھانا تھا۔ چونکہ ذاتی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی وقت نہیں تھا ‘ اس لیے ان کی تمام ضروریات کی کفالت آنحضرت ﷺ کے ذمہ تھی۔ آنحضرت ﷺ اور اہل خانہ بھوکے رہتے تو اصحابِ صفہ بھی بھوکے رہتے ‘ بعض دفعہ بھوک اتنی شدید ہوتی کہ بےہوش ہو کر گرجاتے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں بےہوش پڑا ہوتا تو لوگ یہ سمجھ کر کہ مجھے مرگی کا دورہ پڑا ہے میری گردن پر اپنے پائوں رکھتے تھے ‘ حالانکہ مجھے مرگی نہیں بھوک نے بےہوش کر رکھا تھا۔ اس قدر شدت احتیاج کے باوجود پروردگار فرماتے ہیں کہ وہ اس قدر خود دار لوگ ہیں کہ تم ان کے چہروں سے کمزوری بھانپ کر اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ بھوکے ہیں ورنہ ایک ناواقف اور بیخبر آدمی ان کی خودداری اور بےنیازی کو دیکھ کر یہ محسوس کرتا تھا کہ وہ انتہائی فارغ البال لوگ ہیں۔ ان لوگوں کا عجیب حال تھا کہ جب ان سے بھوک برداشت نہ ہوتی تو نماز کی نیت باندھ کر کھڑے ہوجاتے ‘ جب سلام پھیرتے تو ان کے چہروں سے بادشاہوں کی بےنیازی جھلکتی تھی۔ الحاف کا مفہوم مزید فرمایا کہ وہ کبھی لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ حالانکہ کہنا یہ مقصود ہے کہ وہ کبھی دست سوال دراز نہیں کرتے۔ بھوک سے بےہوش ہوجاتے ہیں لیکن سوال کرنا انھیں گوارا نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ” الحافاً “ کا لفظ غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔ الحاف کا معنی ہوتا ہے لپٹ کر سوال کرنا یعنی پیچھے پڑجانا اور جب تک کچھ مل نہ جائے جان نہ چھوڑنا۔ جن لوگوں کے بارے میں قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ بیخبر آدمی انھیں ان کے رویے سے غنی اور مال دار خیال کرتا ہے ان کے بارے میں یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ کبھی کسی سے سوال نہیں کرتے ‘ لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ سوال تو کرتے ہیں لیکن لپٹ کر نہیں کرتے۔ اس میں دو باتیں کہنا مقصود ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ عربی زبان کا ایک اسلوب ہے کہ بعض دفعہ صورت واقعہ کے گھنائونے پن کو ظاہر کرنے کے لیے بعض الفاظ کا اضافہ کردیا جاتا ہے ‘ لیکن وہ اصل کلام کا حصہ نہیں ہوتے۔ مثلاً وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اَمْلَاقٍ (اپنی اولاد کو تنگدستی کے اندیشے سے قتل نہ کرو) اس میں ممانعت دراصل قتل کی ہے۔ ” خشیۃ املاق “ کی قید محض اس کے گھنائونے پن کو واضح تر کرنے کے لیے ہے۔ یہاں بھی کہنا صرف یہ مقصود ہے کہ وہ سوال کبھی نہیں کرتے ” الحاف “ کا لفظ عام حالت کی تصویر اور اس کے گھنائونے پن کے اظہار کے لیے ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہاں تک ان کی شدت احتیاج کا تعلق ہے اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان میں سے ایک ایک شخص ہر آنے والے سے لپٹ لپٹ کر مانگے۔ کیونکہ جب پیٹ میں بھوک کی آگ لگی ہو اور اس کی شدت ناقابل برداشت ہوچکی ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ مسجد میں آنے والے لوگ سارے ہمارے ہمدرد غمگسار ہیں تو پھر کون ہے جو ضبط کے بندھن کو کھلنے سے بچا سکے ؟ لیکن ان کا ضبط دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی لپٹ کر مانگنا تو دور کی بات ہے وہ مانگنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں فقراء کے حوالے سے جو کچھ فرمایا ہے یہ ایک نمونہ ہے خوددار اور غیرت مند حاجتمندوں کا۔ احتیاج تو کسی کو بھی پیش آسکتی ہے ‘ لیکن مسلمان ضرورتمند حتی الامکان دست سوال دراز نہیں کرتا۔ وہ اپنے جسم و جان پر تکلیف جھیلتا ہے ‘ لیکن اپنی حرکات و سکنات سے اس کا اظہار نہیں ہونے دیتا۔ چہرہ چونکہ اندرونی جذبات کا عکاس ہے اس لیے بھوک کا کرب اگر چہرے سے بولنے لگے تو اسے چھپایا تو نہیں جاسکتا کیونکہ یہ ایک غیر اختیاری چیز ہے۔ ورنہ اور کسی طرح سے ایک بیخبر آدمی ان کی احتیاج سے آگاہ نہیں ہوسکتا۔ یہ وہ نمونہ ہے جو ہمارے ضرورت مندوں کے سامنے رکھا گیا ہے۔ اور دوسرا نمونہ مالدار اور خوشحال لوگوں کے لیے ہے کہ تم اگر اپنا مال صحیح جگہ خرچ کرنا چاہتے ہو تو اس کا بہترین مصرف یہ لوگ ہیں۔ البتہ یہ تمہارا فرض ہے کہ تم انھیں تلاش کرو۔ وہ تم سے سوال نہیں کریں گے ‘ لیکن تم ان کی علامتوں سے انھیں پہچانو۔ جو دولت مند اس انتظار میں رہتا ہے کہ ضرورت مند خود میرے دروازے پر آئے ‘ وہ کوتاہی کا ارتکاب کرتا ہے اور جو ضرورت مند لپٹ کر سوال کرتا ہے وہ اسلامی غیرت کھو دیتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ وہ لوگ سوال نہیں کریں گے تو تمہیں انھیں تلاش کر کے خاموشی سے دینا چاہیے۔ اس طرح سے لوگوں کو تو پتہ نہیں چلے گا کہ تم نے کیا خرچ کیا لیکن اللہ جانتا ہے کہ تم نے کیا خرچ کیا ہے ؟ اور وہی اس کا بدلہ عطا فرمائے گا۔ اگلی آیت کریمہ میں انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے معجزانہ اختصار کے ساتھ وہ سب کچھ کہہ دیا گیا ہے جو اس سلسلے میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ (1) انفاق کا عمل ہر وقت جاری رہنا چاہیے۔ اسے چشمے کی طرح ہمیشہ ابلتے رہنا چاہیے۔ رات کا وقت ہو یا دن کا ضرورت کسی وقت بھی پیش آسکتی ہے اس لیے اہل خیر کو ہر وقت اس جذبے سے معمور رہنا چاہیے۔ (2) بعض دفعہ عزت نفس کا لحاظ کرتے ہوئے دینے والے کو اس قدر احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے کہ لینے والا مطمئن ہو کہ مجھے کسی نے لیتے ہوئے نہیں دیکھا تاکہ اللہ کے سوا اس کے راز کی کسی کو خبر نہ ہو سکے اور وہ بھوکا ہوتے ہوئے بھی ہر جگہ سر اٹھا کر چل سکے۔ لیکن بعض دفعہ اجتماعی ضرورتوں کے حوالے سے لوگوں کے جذبوں کو ابھارنے کے لیے اعلان کر کے اور سنا کردینا بھی دینی ضرورت بن جاتا ہے۔ ایسے موقعوں پر علانیہ دینا پڑے تو دینا چاہیے۔ پہلے موقعے کا تقاضا ہے کہ آپ ” سِر “ سے کام لیں اور دوسرا موقعہ یہ چاہتا ہے کہ آپ ” علانیہ “ دیں دونوں پر عمل ہونا چاہیے۔ اس طرح سے داد و دہش کا یہ عمل خیر تمام اوقات میں ابلتا رہے گا اور ہر حالت میں بروئے کار آتا رہے گا۔ اس سے زیادہ جامعیت کے ساتھ کسی عمل کی منظر کشی نہیں ہوسکتی۔ ایسے ہمہ گیر عمل کا اجر وثواب اور صلہ بھی ایسا ہی بےنظیر ہونا چاہیے۔ اس لیے فرمایا کہ تم نے جس جوش و جذبے کے ساتھ اپنا مال و دولت اللہ کے لیے لٹایا ہے ہم اسی قدردانی کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ان کا اجر کسی اور کے پاس نہیں ان کے رب کے پاس ہے جس کی ربوبیت کا فیض ہر وقت جوش میں رہتا ہے اور اس کا اظہار اس طرح ہوگا کہ ان کو ایک ایسا مقام ملے گا جس میں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور یہ تعبیر ہے جنت کی۔ ظاہر ہے کسی بھی عمل کی اس سے بڑی جزاء اور کوئی نہیں ہوسکتی۔