Ayahs 2:14–15وَاِذَا لَقُوْالَّذِیْنَ اٰٰمَنُوْا قَالُوْآاٰمَنَّا ط وَاِذَا خَلَوْااِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ لا قَالُوْآ اِنَّامَعَکُمْ لا اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِء ُ وْنَ ۔ اَللّٰہُ یَسْتَھْزِیُٔ بِھِمْ وَیَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَہُوْنَ ۔
(اور جب وہ ملتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی مومن ہیں۔ اور جب اپنے سرداروں کے ساتھ تنہا ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو آپ لوگوں کے ساتھ ہیں ہم تو ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں۔ اللہ ان سے مذاق کررہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دئیے جارہا ہے، یہ بھٹکتے پھر رہے ہیں) (البقرۃ : 14 تا 15)
ان دو آیات کریمہ میں پروردگار نے منافقین کی ایک اور قسم یا ان کی صفات میں سے ایک اور صفت کو بیان فرمایا ہے۔ اس سے پہلے دو آیتوں میں جن منافقین کا ذکر ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں کسی حد تک ایمان کا اثر تھا۔ وہ دعوت اسلامی سے متاثر تھے لیکن اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے کی ان میں ہمت نہیں تھی۔ اگر زبانی اقرار کافی ہوتا تو انھیں اس سے انکار نہ تھا۔ البتہ ایمان کے لیے قربانیوں کا تقاضا ان کے لیے نہ سمجھ میں آنے والی بات تھی۔ وہ بھی غالباً ایمان کو اللہ کے سامنے دعا اور مناجات یا پوجا پاٹ کی حد تک محدود سمجھتے تھے۔ لیکن عملی زندگی کی کشمکش میں وہ کسی طرح اترنے کے لیے تیار نہ تھے۔ لیکن پیش نظر آیتوں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ منافقین ہیں جن کا ایمان سے کوئی تعلق نہ تھا جو محض مسلمانوں کے حالات معلوم کرنے یا وقت گزاری کے لیے مسلمانوں میں آبیٹھتے تھے۔ اور پھر محض مسلمانوں کو بہلانے کے لیے ایمان کا اظہار کرتے تھے لیکن جب اپنے بڑوں سے ان کی ملاقات ہوتی تو وہ فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے معلوم ہوتا ہے اسلامی دعوت تم میں اثر کرگئی ہے تم ان میں اٹھنے بیٹھنے لگے ہو کہیں تم واقعی مسلمان تو نہیں ہوگئے ہو۔ تو وہ انھیں اطمینان دلاتے ہوئے کہتے کہ ہم ہر لحاظ سے تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو مسلمانوں کو محض بہلا رہے تھے یعنی ہم نے ان کو مذاق بنا رکھا ہے ہم مذاق ہی مذاق میں ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور وہ اس پر یقین کرلیتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ہمارا ایمان سے کوئی رشتہ نہیں۔ ان کا اپنے سرداروں سے یہ کہنا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔
ایک تو یہ کہ جس طرح تم ان کے بدترین دشمن ہو اور ہر وقت ان کی بیخ کنی کی فکر میں رہتے ہو ہمارا بھی یہی حال ہے۔ ہم وہاں صرف حالات معلوم کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ تم یہ خیال نہ کرو کہ ہم ان سے متاثر ہوگئے ہیں اگر یہ مفہوم مراد لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ یہود میں سے ہوں گے کیونکہ یہودسازش کے طور پر اپنے جاسوسوں کو مسلمانوں میں بھیجتے رہتے تھے۔ وہ جاسوسی بھی کرتے اور سوالات کی صورت میں مسلمانوں کے ذہنوں میں اشتباہات بھی پیدا کرتے۔
دوسرا مفہوم اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں نے جس طرح اسلام کی وابستگی کو ہر چیز پر ترجیح دے رکھی ہے اور اس راستے میں آنے والاہر رشتہ انھوں نے کاٹ پھینکا ہے اور وہ اسلام کے لیے دیوانہ ہوئے پھرتے ہیں ہم اس طرح ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت میں ہم تمہارے ہی ساتھ ہیں۔ ہم مسلمانوں کے پاس جاتے ضرور ہیں لیکن ہمیں اپنے گروہی تعصبات ان سے زیادہ عزیز ہیں اس لیے تم یہ گمان نہ کرو کہ ہم انھیں تم پر ترجیح دینے لگے ہیں اگر یہ مفہوم مراد لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ عبداللہ بن ابی کے ساتھیوں میں سے ہوں گے۔ یہ لوگ کسی گروہ میں سے بھی ہوں اسلوبِ کلام بتاتا ہے کہ تھے یہ منافقین میں سے۔ کیونکہ مسلمانوں کے سامنے وہ ایسی کسی بات کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ مسلمانوں کے سامنے ان کی زبان پر ایمان کا اقرار ہی رہتا تھا۔ لیکن اپنے سرداروں کے پاس جاکر اپنے دل کی بات کرتے تھے اور اسی کا نام نفاق ہے۔
شیاطین کون ہیں ؟
ان آیتوں میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں جن کا مفہوم سمجھ لینا چاہیے۔ ایک ہے شَیٰطِیْنِ ۔ یہ شیطان کی جمع ہے۔ شیطان فعلان کے وزن پر ہے۔ اس کا معنی ہے سرکش، تند خو، متمرد، متکبر، ظاہر ہے کہ اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو کسی بھی کافرگروہ میں اللہ اس کے رسول اور دین کے خلاف اپنے گروہ کی قیادت کررہاہو اور اس کی سرکشی اور اس کا تمرد اسے راہ راست کی طرف نہ آنے دیتا ہو تو یہاں اس سے مراد ان منافقین یا کافروں کے بڑے بڑے سردار ہیں۔
اللہ کا مذاق
دوسرا لفظ اس آیت میں آیا ہے۔ مُسْتَھْزِئُ ْون۔ مستھزء کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے ” مذاق کرنے والا یا اڑانے والا “۔ دوسری آیت کریمہ میں اسی مادہ سے فعل مضارع اللہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ اللہ یستھزء بھم ” اللہ ان کے ساتھ مذاق کرتا ہے۔ “ سوال یہ ہے کہ مذاق کرنا یا مذاق اڑانا، یہ انسان کی فروتر عادات میں سے ہے۔ اللہ کی طرف اس کی نسبت کسی بھی طرح مناسب نہیں تو یہاں اس کا استعمال اللہ کی ذات عظیم کے ساتھ کیسے ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض اہل لغت نے لکھا ہے کہ ” استھزأ“ کا معنی جس طرح ” مذاق کرنا “ ہوتا ہے اسی طرح ” انتقام لینا “ بھی ہوتا ہے اور بعض قدیم مفسّرِین نے بھی یہ معنی مراد لیا ہے۔ اس لحاظ سے تو اس لفظ کا استعمال اللہ جل جلالہ کے لیے بالکل صحیح ہے۔ لیکن اکثراہلِ علم کا خیال یہ ہے اور اس میں کسی کا اختلاف بھی نہیں کہ عربی زبان میں کسی فعل کے سزا کے طور پر بھی اسی فعل کو استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً جزاء سیئۃٍ سیئۃٌ مِثلُھَا ” برائی کی سزا اس کی طرح برائی ہے “۔
یہاں غور فرمائیے ! برائی کی سزا کو بھی برائی قرار دیا گیا ہے حالانکہ برائی کی سزا تو عدل اور انصاف ہوتی ہے۔ اسی طرح : وَلَاتَکُونُواکَالَّذِینَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسَاھُم انفُسَھُم ” ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنھوں نے اللہ کو بھلادیا تو اللہ نے انھیں بھلادیا۔ “ حالانکہ بھول جانا، اللہ کی صفت نہیں، اللہ ہر طرح کی بھول سے پاک ہے۔ لیکن یہاں ان کے بھول جانے کی سزا کے طور پر یہ لفظ آیا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں بھی یہ لفظ اسی طرح استعمال ہوا ہے۔ منافقین یہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ ان کے ساتھ مذاق کرتا ہے یعنی اللہ انھیں ان کے مذاق کی سز ا دیتا ہے۔ صرف صنعت تجانس کے طور پر ایک جیسے الفاظ لائے گئے ہیں۔ پھر اس کے بعد اس سزا کا وضاحت کے ساتھ ذکر بھی فرمایا ہے کہ اللہ انھیں اس طرح سزادے رہا ہے کہ وہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی کا اظہار کررہے ہیں اب بجائے اس کے کہ پروردگار ان پر گرفت فرمائے ان پر عذاب بھیج کر انھیں تباہ کردے۔ اللہ مسلسل انھیں ڈھیل دئیے جارہا ہے اور ان کی رسی ڈھیلی چھوڑی جارہی ہے۔ اللہ کے پیغمبر ان کی اس سرکشی پر جب عذاب سے ڈراتے ہیں تو وہ پلٹ کر یہ کہتے ہیں کہ کہاں ہے وہ عذاب ؟ آخر وہ کہاں اٹک گیا ہے۔ وہ ہم تک پہنچنے کیوں نہیں پاتاوہ اس طرح کا جتنا مذاق اڑاتے ہیں اللہ تعالیٰ اتنی ہی انھیں ڈھیل دئیے جارہا ہے اور عذاب کو مؤخر کررہا ہے یہ ان کے مذاق کی ایسی خطرناک سزا ہے جس سے بڑھکر کسی خطرناک چیز کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے مچھلی کا شکاری کنڈی پھینکنے سے پہلے کنڈی کے سرے پر گوشت کا ٹکڑا اٹکا دیتا ہے۔ مچھلی اسے غذا سمجھ کر اسے کھانے کے لیے لپکتی ہے تو وہ کانٹا اسکے منہ میں اترجاتا ہے۔ شکاری جب دیکھتا ہے کہ مچھلی آپھنسی ہے۔ تو وہ کھینچنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ ڈور ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ تاکہ کانٹا اچھی طرح اس کے حلق میں اتر جائے۔ مچھلی اسے غذ اسمجھ کر خوش ہورہی ہے اور شکاری خوش ہے کہ کانٹا حلق میں اترتا جارہا ہے۔ ؎
مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہے
صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی
اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت عمل کا دراز ہوتے جانا دونوں پہلو رکھتا ہے۔ اس میں رحمت کا پہلو بھی ہے کہ شائد اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر گناہ گار تائب ہوجائیں اور سرکش راہ راست پر آجائیں اور۔ اس میں سزاکا پہلو بھی ہے کہ وہ رسی دراز کردیتا ہے تاکہ مجرم اپنے جرائم میں اضافہ کرتاچلا جائے اور پھر جب گرفت ہو تو بچ نکلنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔ اس آیت میں مہلت سے دوسرا پہلو مراد ہے کہ وہ جس چیز کو اپنے لیے مذاق کا موقع سمجھے ہوئے ہے وہی ان کے لیے عذاب کا پیش خیمہ بننے والی ہے۔ لیکن رسی کے دراز ہونے نے انھیں بالکل اندھا کردیا ہے اور وہ اندھوں کی طرح ٹامک ٹوئیاں مارتے پھر رہے ہیں۔ اور یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ پروردگار پکڑنے میں جلدی اس لیے بھی نہیں کرتے کیونکہ اسے کمزور حکمران کی طرح اس بات کا اندیشہ نہیں ہوتا کہ آج اگر مجرم کو نہ پکڑا گیا تو ہوسکتا ہے پھر یہ گرفت میں نہ آئے۔ ممکن ہے یہ طاقت پکڑ لے اور ہمارے ہاتھ سے نکل جائے۔ کیونکہ اللہ کی طاقت کے سامنے کسی کی طاقت نہیں چلتی۔ وہ جب چاہے پکڑ سکتا ہے اس کے نہ پکڑنے کو اس کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ وہ جتنا دیر سے پکڑتا ہے اتنا شدید پکڑتا ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے : ؎
نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی دیرگیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
Ayah 2:16اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُالضَّلٰلَۃَ بِالْھُدٰی ص فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُہُمْ وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ ط
(یہی لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دی تو ان کی تجارت ان کے لیے نفع بخش نہ ہوئی اور یہ ہدایت پانے والے نہ بنے) (البقرۃ : 16)
اشتراء کا مفہوم
اس آیت میں اِشْتَرَوا استعمال ہوا ہے۔ اس کا مصدر ہے اشترائٌ اس کا عام طور پر معنی کیا جاتا ہے ” خریدنا “۔ لیکن معمولی غور وفکر سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ آدمی جب کسی چیز کو خریدتا ہے تو وہ چیز کی قیمت دیتا ہے اور اس کے بدلے میں وہ چیز لے لیتا ہے اور یہ دونوں چیزیں مال ہیں اور انسان کی ضرورت ہیں۔ کسی کو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی کو کسی چیز کی کیونکہ ہر جگہ نہ ہر چیز کام دیتی ہے اور نہ پیسہ کام آتا ہے۔ آدمی کو بھوک لگی ہے تو بھوک اشیائے خوردنی سے مٹتی ہے پیسے سے نہیں۔ لیکن اشیائے خوردنی پیسے ہی سے خریدی جاتی ہیں۔ اس لحاظ سے دونوں چیزیں انسان کو عزیز ہیں۔ لیکن جب ایک چیز کے بدلے میں دوسری چیز کو لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک چیز پر دوسری چیز کو ترجیح دیتا ہے۔ یہیں سے اشتراء میں ترجیح دینے کا معنی پیدا ہوا کیونکہ آدمی جب پیسے دے کر کوئی چیز لیتا ہے تو اس نے اس چیز کو پیسوں پر ترجیح دی ہے۔ اس لیے ہم نے آیت کریمہ میں اس لفظ کا معنی ” ترجیح دینا “ کیا ہے۔
اس رکوع کی گزشتہ آیات میں مختلف پیرایوں میں جن لوگوں کا تذکرہ ہوا ہے وہ سارے وہ لوگ ہیں جنھوں نے اسلام کے مقابلے میں کفر یا نفاق کو ترجیح دی۔ اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرماکر ان کے لیے ہدایت کا ایک راستہ کھولا اور انھیں یہ موقع دیا کہ وہ زندگی کی گمراہیوں سے نکل کر ہدایت کی روشنی میں آسکیں۔ لیکن کسی نے یہ سوچ کر کہ اگر میں اس پیغمبر پر ایمان لے آیاتو مجھے معاشرے میں جو اہمیت حاصل ہے اور مجھے جو سرداری کا مقام میسر ہے وہ میرے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ کسی نے سوچا کہ نبوت تو ایک عظمت ہے اور عظمت ہمیشہ امراء اور رؤسا کے گھر آتی ہے۔ اگر اللہ نے نبوت دینا ہوتی تو وہ مکہ یا طائف کے کسی سردارکو دیتایہ کیسے ممکن ہے کہ ان سب کو چھوڑ کر ایک غریب اور نادار آدمی کو نبوت دے دی جائے اس شخص کی نبوت ماننے کا تو یہ مطلب ہوگا کہ اشراف قریش ناداروں کے سامنے جھک جائیں اور یہ جو ہم نے بڑی مشکل سے اپنے لیے ایک خاص مقام اور کچھ مراعات بنا رکھی ہیں یہ سب کچھ ہمارے ہاتھ سے جاتا رہے۔ بنی اسرائیل نے سوچا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں۔ نبوت ہمارا حق ہے۔ ایک امی کو نبی ماننا یہ ہمارے خاندانی تفوق اور ہمارے انتسابات کی توہین ہے۔ دنیا میں ڈوبے ہوئے لوگوں نے سوچا کہ زندگی تو عیش و عشرت کا نام ہے۔ زندگی ایک ہی مرتبہ ملتی ہے، اسے دکھوں اور تکلیفوں کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام تو ذمہ داریوں کا دین ہے اس میں قدم قدم پر قربانیاں ہیں۔ اس میں عزت خواہشات سے دست بردار ہو کر تقویٰ حاصل کرنے سے ملتی ہے اور آخرت میں سب سے بڑا مقام شہادت سے نصیب ہوتا ہے۔ ایسا دین جو جان جوکھوں میں ڈال دے اور جس میں صرف جنت کی امیدوں کے سوا اور کوئی خوشی کا موقع نہ ہو۔ ایسے دین کو قبول کرکے ہم اپنی زندگی کو اجیرن کیوں کرلیں۔ یہ تھے وہ لوگ جن کے سامنے آنحضرت ﷺ اللہ کی طرف سے ہدایت لے کر آئے۔ اب ان کے سامنے یہ کشمکش اور یہ تقابل تھا۔ انھوں نے سوچا کہ کل کیا ہونے والا ہے اس کے بارے میں آج کیوں فکر مند ہوا جائے اور ایک موہوم کل کے بدلے میں آج کی لذتوں اور سرفرازیوں کو ہاتھ سے کیوں جانے دیا جائے۔ اس لیے انھوں نے اپنا آج یعنی دنیا کے عیش و عشرت کو بچالیا اور ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس طرح سے انھوں نے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دی۔ لیکن افسوس ان کی تجارت نے انھیں کوئی نفع نہ دیا انھوں نے کل کے بدلے میں آج خریدا اور اس میں نفع کی بات یہ سمجھی کہ آج تو ہمارے پاس سب کچھ ہے لیکن کل کے بارے ہم کچھ نہیں جانتے۔ اس لیے محض اس امید پر کہ کل کو سب کچھ مل جائے گا ہم آج کے عیش و عشرت کو کیوں چھوڑیں۔ لیکن اسلامی انقلاب کی مسلسل کامرانیوں نے انھیں اندھیرے غاروں میں دھکیل دیا۔ ہدایت سے انکار کرکے انھوں نے خود اپنے آپ کو ہدایت سے محروم رکھا اور جس دنیا کو انھوں نے بچانا چاہا اسلام کی کامیابیوں سے وہ دنیا بھی ان کے ہاتھ سے جاتی رہی۔ مکہ فتح ہوگیا، تو قریش کی ساری عظمتیں خاک میں مل گئیں۔ طائف فتح ہوجانے کے بعد طائف کے رئیسوں کا سارا کروفر تباہ ہو کر رہ گیا۔ یہود جو مسلمانوں کو کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہ تھے ان کا ایک ایک قبیلہ ذلت کا شکار ہوا۔ با لآخر ان کو جزیرہ عرب سے نکلنا پڑا۔ حتی کہ پوری دنیا میں کفر کی عظمت اور حکومت زوال کا شکار ہوگئی۔ اس لیے فرمایا کہ انھوں نے آخرت کے بدلے میں دنیاحاصل کی تھی اور ہدایت کے بدلے میں گمراہی کو ترجیح دی تھی لیکن یہ تجارت ان کے کچھ کام نہ آئی۔ ہدایت سے خود منہ پھیرا اور ان کی دنیا اسلامی انقلاب کی کامیابی سے تاریکیوں میں ڈوب گئی۔
Ayahs 2:17–18مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْ قَدَ نَارًاج فَلَمَّآاَضَآئَ تْ مَاحَوْلَہٗ ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوْرِھِمْ وَتَرَکَھُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لاَّیُبْصِرُوْنَ ۔ صُمٌّ م بُکْمٌ عُمْی فَھُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔
(ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ جلائی، جب آگ نے اس کے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کی روشنی سلب کرلی اور ان کو ایسی تاریکیوں میں چھوڑ دیا جن میں ان کو کچھ نظر نہیں آتا یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اب یہ لوٹنے والے نہیں ہیں) (البقرۃ : 17 تا 18)
منافقین کی دو تمثیلیں
اس آیت کریمہ میں جن لوگوں کی مثال دی گئی ہے، وہ دو طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں یا تو وہ لوگ مراد ہیں جن کا ذکر ان الذین کفروا الخ والی آیت میں آیا ہے یعنی وہ لوگ جن کے دلوں اور کانوں پر اللہ نے مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دئیے ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی سرداری کے زعم اور دنیا کی محبت میں ڈوب کر ایسا رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے وہ قبولیت حق کی استعداد سے محروم ہوتے گئے اور بالآخر اللہ کے قانون کی گرفت میں آگئے اور یا اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو منافق تھے بظاہر ایمان کا اظہار کرتے تھے لیکن حقیقت میں ان کے دل میں ایمان کی رمق نہ تھی۔ وہ نام کے مومن تھے لیکن دل و دماغ کے کافر تھے۔ ان کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کی مثال ایسی ہے جیسے شدید تاریکی میں کوئی قافلہ جارہا ہے اور تاریکی کے باعث ان کے لیے راستہ تلاش کرنا ناممکن ہورہا ہے کہ اچانک اللہ کے ایک بندے نے آگ روشن کردی تاکہ یہ لوگ آگ کی روشنی میں منزل تک پہنچنے کا راستہ پہچان سکیں۔ لیکن جب اس روشنی نے پوری طرح ماحول کو روشن کردیا اور صحیح راستہ پہچان کر منزل تک پہنچنے میں کوئی دشواری باقی نہ رہی اور ساتھ ساتھ آگ روشن کرنے والا نہائت ہمدردی اور خیر خواہی سے انھیں اس روشنی میں چلنے کی تلقین بھی کرتارہا اور راستے کی رہنمائی بھی کرتارہا لیکن اچانک ان کی بدقسمتی نے انھیں آپکڑا کہ انھوں نے اس روشنی میں چلنے سے انکار کردیا اب آپ اندازہ فرمائیے کہ روشنی پھیل جانے کے باعث تاریکیاں سمٹ گئیں ہیں۔ لیکن یہ بدنصیب مسافر آنکھیں بند کیے اس روشنی کی طرف منہ کیے بیٹھے ہیں۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انھیں آنکھوں کے نور سے محروم کردیا ہے اور پھر وہ تاریکیوں میں اس طرح گھر گئے ہیں کہ انھیں راستہ نظر نہیں آرہا۔ یہ مثال دے کر واضح فرمایا جارہا ہے کہ حضور کی بعثت سے پہلے تمام لوگ گمراہیوں کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے طبقات انسانی میں سے ایک ایک طبقہ اپنے اپنے توہمات کا شکار تھا کسی کو معلوم نہ تھا کہ زندگی کا راز کیا ہے اور زندگی عطا کرنے والے کو کس طرح خوش کیا جاسکتا ہے۔ ہر طرف سے گھٹا ٹوپ اندھیروں نے علم و دانش کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا کہ اچانک اللہ کی غیرت کو جوش آیا کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دے کر مبعوث فرمایا آپ نے تشریف لاکر اس قوت سے تبلیغ و دعوت کا صور پھونکا کہ ہر طرف ہدایت کی روشنی پھیل گئی اب بجائے اس کے کہ لوگ لپکتے ہوئے اس روشنی کو قبول کرتے اور زندگی کا سفر کامیابی سے طے کرتے لیکن ان کے قومی تعصبات، نفسانی خواہشات اور سفلی جذبات نے انھیں مجبور کردیا کہ وہ یا تو اس روشنی کا بائیکاٹ کردیں یا اس روشنی کو بجھانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ جب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی اور تمرد کو دیکھ کر ان کی محرومی کا فیصلہ فرمادیا۔ ان کی آنکھوں کا نور ُ ان سے چھین لیا۔ اور وہ کفر، شرک اور نفاق کی ایسی تاریکیوں میں ڈوب گئے کہ اب ان کو اس سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ اب ان کی بدنصیبی کی انتہا یہ ہے کہ وہ ہر طرح کی صلاحیت سے محروم کردئیے گئے ہیں۔ وہ اندھے ہیں کچھ بھی دیکھ نہیں سکتے گونگے ہیں کسی کو پکار نہیں سکتے اور بہرے ہیں کسی کی پکار سن نہیں سکتے انھوں نے مسلسل انکار اور سرکشی کے باعث چونکہ اپنی صلاحیتوں کو بالکل مردہ کردیا جس کی وجہ سے وہ اللہ کے اس قانون کی گرفت میں آگئے جس قانون کے تحت دل و دماغ پر مہر کردی جاتی ہے۔ چناچہ اب وہ ہدایت کی طرف لوٹ نہیں سکتے۔
Ayahs 2:19–20اَوْ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآئِ فِیْہِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعْدٌ وَّ بَرْقٌ ج یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَھُمْ فِیْٓ اٰذَانِھِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللّٰہُ مُحِیْطٌم بِّالْکٰفِرِیْنَ ۔ یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَھُمْط کُلَّمَآ اَضَآئَ لَھُمْ مَّشَوْا فِیْہِق وَاِذَآ اَظْلَمَ عَلَیْھِمْ قَامُوْاط وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَذَھَبَ بِسَمْعِھِمْ وَاَبْصَارِھِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ٍء قَدِیْرٌ۔ (البقرۃ : 19 تا 20)
(یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہورہی ہو اس میں تاریکیاں ہوں، کڑک ہو اور چمک ہو۔ وہ ٹھونس رہے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کڑکے کی وجہ سے موت سے ڈر کر حالانکہ اللہ تعالیٰ گھیرے ہوئے ہے کافروں کو قریب ہے کہ بجلی اچک لے ان کی آنکھوں کو، جب جب بجلی ان کے لیے چمکتی ہے تو وہ اس میں چل پڑتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے رک جاتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھوں کو سلب کرلیتا، اللہ ہر چیز پر قادر ہے)
صَیِّبٌ کا لفظ سخت بارش کے لیے بھی آتا ہے اور زور کے ساتھ برسنے والے بادل کے لیے بھی لیکن یہاں یہ لفظ موسلادھار بارش کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ سمائکا لفظ عام طور پر نیلے آسمان کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ابر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور کبھی اس سے ہمارے سروں پر جو فضا چھائی ہوئی ہے وہ مراد لی جاتی ہے۔ صواعق صاعقہ کی جمع ہے۔ اس کے معنی گرج اور کڑک کے بھی ہیں اور اس بجلی کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جو کڑک کے ساتھ گرتی ہے۔
اس میں ایک ایسے قافلے کی مثال دی گئی ہے جو حالت سفر میں ہے کہ اسے موسلادھا ربارش نے آپکڑا ہے۔ اس کے بعد بارش میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے جو عموماً سخت بارشوں میں پیش آیا کرتی ہیں۔ پھر ایسی بارش اور اس طرح کی مشکلات میں مسافر جس طرح کی کیفیات میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کی منظر کشی کی گئی ہے۔ تاریک رات میں بارش سے تاریکی اور بڑھ جاتی ہے جبکہ ہاتھ سے ہاتھ سوجھائی نہیں دیتا ایسے میں جب بجلی چمکتی ہے تو مسافر ایک طرف تو اس کی روشنی کو غنیمت سمجھ کر قدم آگے بڑھانے لگتے ہیں لیکن ساتھ ہی اس کے کوندنے سے سراسیمہ بھی ہوتے ہیں۔ حوصلہ مند اور اولو العزم مسافروں کا کام تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اس صورتحال کا حوصلے سے مقابلہ کرتے ہیں لیکن بےمقصد اور بےحوصلہ مسافر بےصبری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے وہ بجلی کے کڑکوں سے بچنے کے لیے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے لگتے ہیں۔ حالانکہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر بجلی سے آدمی بچ تو نہیں سکتا اگر وہ موت کی پیامبر بن کر آئی ہے تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینا شتر مرغ کی طرح موت سے تو نہیں بچا سکتا۔
اب اس مثال کا منافقین پر انطباق کرکے دیکھئے، اس مثال سے قرآن کریم منافقین کی تصویر کشی کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے اسے سمجھنے کے لیے الفاظ کی مراد کو سمجھ لینا چاہیے۔ یہاں تیز بارش سے مراد قرآن کریم اور اللہ کی طرف سے آنے والا دین ہے۔ ظلمتوں سے مراد، اس دین کے مقابلے میں اٹھنے والا مخالفتوں کا ہجوم ہے اور رعد وبرق سے مراد وہ مختلف قسم کے مصائب ہیں جو ہر ایمان لانے والے کو اس راستے میں پیش آتے ہیں۔ کبھی وہ رعد کی صورت دہلا کے رکھ دیتے ہیں اور کبھی برق کی صورت بھونچکا دیتے ہیں۔ صاحب ایمان لوگ جب ان مصائب سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ اسے ایمان کے راستے کی سنت سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایمان کا کھرا اور کھوٹا ہوناان مصائب میں مبتلا ہونے کے بعد ہی واضح ہوتا ہے۔ یہ اس راستے کی آزمائشیں ہیں، جو اللہ سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں کو ہمیشہ پیش آتی ہیں کیونکہ ؎
محبت کے مقدر میں کہاں آرام اے ہمدم
کہیں شعلہ کہیں بجلی کہیں سیماب ہوتی ہے
ایک مومن کی نظر ہمیشہ اللہ کے انعامات پر رہتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ان آزمائشوں پر استقامت سے اللہ کی جانب سے وہ انعامات ملتے ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اس راستے میں آنے والی ہر مصیبت اسی محبوب کا پیغام محسوس ہوتی ہے۔ جو اسے اور زیادہ استقامت کی ہمت عطا کرتی ہے۔ اقبال نے حضرت بلال ( رض) کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ٹھیک کہا ہے ؎
نہ چھٹا وہ آستانہ تجھ سے ایک دم کے لیے
کسی کے عشق میں تو نے مزے ستم کے لیے
جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
لیکن منافقین اپنے اندر چونکہ ایمان کی یہ کیفیات نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے وہ ان مصائب کو مصائب سمجھ کر اس سے سراسیمہ ہوتے اور ہر ممکن طریقے سے اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس کے لیے مختلف حیلے بہانوں سے ایمان کے تقاضوں سے جی چراتے ہیں جس طرح موت سے ڈر کر کوئی کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے تو وہ موت سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح مختلف حیلے بہانوں سے ایمانی تقاضوں سے جی چرانا اللہ کی ناراضی سے نہیں بچا سکتا وہ ہزار اس کے لیے عذر تلاش کریں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ انھیں اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ یہ منافقین جب قرآن کے ان احکام کو دیکھتے ہیں جن سے ان کی خواہشاتِ نفس اور ان کے تعصباتِ جاہلیت پر ضرب پڑتی ہے تو یہ ٹھٹک کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب مسلمانوں کے ساتھ چلتے ہوئے نامساعد حالات سے واسطہ پڑتا ہے تو انھیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی لیکن جب حالات معمول پہ آتے ہیں یا کہیں مال غنیمت ملنے کی امید ہوتی ہے تو یہ پھر اسلام کے دامن کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی اس روش کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ متذکرہ بالا منافقین کی طرح انھیں بھی کانوں اور آنکھوں سے محروم کردیا جاتا۔ لیکن پروردگار نے ان صلاحیتوں سے انھیں محروم نہیں کیا کیونکہ انھوں نے اپنے دل و دماغ کے دروازے اسلام کے لیے بالکل بند نہیں کیے اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ جرم کے مطابق سزا دیتا ہے۔ لیکن انھیں اللہ کے غضب اور اس کی قدرت سے بےفکر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔