2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ سب رسول ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ ان میں سے کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض کے درجے بلند کیے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی مدد فرمائی۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے واضح دلائل کے بعد نہ لڑتے لیکن انھوں نے اختلاف کیا سو ان میں سے کچھ ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے۔ لیکن اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے)

تِلْـکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ م مِنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ وَ رَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ ط وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰـہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ط وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ مَا قْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْ م بَعْدِہِمْ مِّنْ م بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ وَلٰـکِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْہُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْہُمْ مَّنْ کَفَرَط وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ مَاقْتَتَلَوْا قف وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ۔ ع (یہ سب رسول ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ ان میں سے کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور بعض کے درجے بلند کیے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی مدد فرمائی۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے واضح دلائل کے بعد نہ لڑتے لیکن انھوں نے اختلاف کیا سو ان میں سے کچھ ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے۔ لیکن اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے) (253) اہلِ کتاب پر تنقید اس آیت کریمہ میں جس طرح ہم نے اشارہ کیا تھا اہل کتاب کے تعصبات کو ختم کرنے کی سعی کی گئی ہے کہ تم نے جس طرح اپنے رسول کے بارے میں یہ یقین کرلیا ہے کہ ان کے سوا کوئی دوسرا رسول نہیں ہوسکتا اور اگر کوئی بفرض محال ہو بھی تو ان جیسے فضائل کا حامل نہیں ہوسکتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہود کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نصاریٰ کے لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کو نہیں بھیجا ‘ بلکہ دنیا کے ہر مقام پر اور ہر قوم کی طرف کسی نہ کسی پیغمبر اور رسول کو بھیجا ہے تاکہ وہ ان تک اللہ کا پیغام پہنچائیں اور ان کی ہدایت کا سامان کریں۔ اور مزید یہ بات کہ جتنے رسول بھی آئے ہیں تمام کو اللہ نے فضیلتیں اور مراتب بخشے۔ کسی کو کوئی جزوی فضیلت عطا فرمائی اور کسی کو کوئی۔ ایسا ہرگز نہیں ہوا کہ صرف دو ہی رسول دنیا میں آئے ہوں یا انہی کو سارے فضائل دے دیے گئے ہیں ‘ بلکہ نبی اور رسول بہت بڑی تعداد میں آئے اور دنیا کی ہدایت کی ضرورت کے مطابق آئے اور سب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے نوازا۔ اس لیے یہودیوں کے تعصب کا کوئی جواز نہیں اور نہ عیسائیوں کے لیے کوئی عذر ہے کہ وہ اللہ کے یہاں اس کے ذریعے معذور ٹھہریں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ایک تو باقی رسولوں کی طرح اپنی ذمہ داری کا شدید احساس تھا اور لوگوں کے ایمان نہ لانے پر آپ ﷺ سخت دل گرفتہ ہوتے تھے لیکن اس اطلاع کے بعد کہ اللہ نے آپ ﷺ کو خاتم النبیین ﷺ بنایا ہے اور آپ ﷺ کی ہدایت آخری ہدایت ہے اور آپ ﷺ پر اترنے والی کتاب آخری کتاب ہے اور آپ ﷺ کی امت آخری امت ہے۔ آپ ﷺ کی ذمہ داری کے احساس میں بےحد اضافہ ہوگیا۔ آپ ﷺ یہ محسوس فرماتے تھے کہ میرے بعد چونکہ کوئی ہادی اور کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اور اگر ان لوگوں نے میری دعوت کو قبول نہ کیا اور یہ اپنے کفر پر قائم رہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ کا عذاب آ کر طوفانِ نوح کی طرح تمام دنیا کا کام تمام کر دے۔ اسی لیے آپ ﷺ دن بھر تبلیغ و دعوت کی جانگسل کشمکش میں مصروف رہتے اور رات کو آرام کرنے کی بجائے لوگوں کے ایمان کے لیے دعائیں مانگتے۔ چناچہ گزشتہ رکوع میں آپ ﷺ کی رسالت پر تاریخی دلائل قائم کرنے کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا گیا کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں اور صرف آپ ﷺ ہی رسول نہیں ‘ آپ ﷺ سے پہلے بھی بڑے بڑے رسول گزر چکے ہیں۔ ان میں سے ایسے بھی تھے جن سے اللہ نے براہ راست بغیر فرشتے کے واسطے کے کلام فرمایا اور انھوں نے ایک اوٹ سے اللہ کا کلام سنا۔ اور ایسے بھی ہیں جن کے ہم نے درجات بلند کیے اور عیسیٰ ابن مریم علیہماا لسلام کو کھلے کھلے معجزات عطا کیے اور پھر قدم قدم پر روح القدس سے اس کی تائید کی۔ روئے سخن چونکہ براہ راست یہودونصاریٰ کی طرف ہے اس لیے کلام کے حوالے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ کیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نصاریٰ کے حوالے سے نام لے کر تذکرہ فرمایا۔ اور ان کے نام لینے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ اپنوں اور بیگانوں کی افراط وتفریط کا نشانہ بنے۔ نصاریٰ نے انھیں خدا کا بیٹا بنادیا اور یہود بدبخت نے ان کے نسب پر نکیر کیا اور آپ کے بارے میں وہ وہ نازیبا باتیں کہیں اور الزام تراشیاں کیں جو کسی شریف آدمی کے بارے میں بھی نہیں کی جاسکتیں۔ چناچہ یہود کا رد کرنے کے لیے آپ کی والدہ کے نام کا ذکر کیا اور روح القدس فرما کر ان تمام الزام تراشیوں کی جڑ کاٹ دی جو یہود کی طرف سے کی جا رہی تھیں۔ اور درمیان میں یہ فرما کر کہ بعض کے ہم نے درجات بلند کیے اس میں تمام بڑے بڑے رسولوں کو بغیر نام لیے ذکر کردیا۔ کیونکہ ایک ایک رسول اپنی ذات میں فضائل کا مرقع اور مراتب کا منبع ہے۔ بالخصوص آنحضرت ﷺ تمام انبیاء و رسل کے کمالات کے جامع ہیں۔ آپ ﷺ کو نہ صرف وہ اعلیٰ ترین کمالات عطا کیے گئے جو باقی انبیاء کو عطا کیے گئے تھے ‘ بلکہ ان کے علاوہ ایسے بیشمار مراتب اور ان گنت معجزات آپ ﷺ کو بخشے گئے جن میں کوئی نبی اور کوئی رسول آپ ﷺ کا شریک وسہیم نہیں ‘ آپ ﷺ کو تمام نوع انسانی کا نبی بنایا گیا ‘ آپ ﷺ کسی محدود وقت کے لیے نہیں بلکہ ابد تک کے لیے پیغمبر بن کر آئے۔ قرآن جیسی کتاب آپ ﷺ پر نازل کی گئی ‘ آپ ﷺ کو رحمۃ اللعلمین کے خطاب سے نوازا گیا ‘ ختم نبوت و رسالت کا تاج آپ ﷺ کے سر پر رکھا گیا ‘ ان تمام درجات و مراتب کے باوجود آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے کسی پیغمبر پر فضیلت نہ دو تاکہ دوسرے پیغمبروں کے احترام میں کمی نہ آئے۔ لیکن بیان حقیقت کے لیے آپ ﷺ نے کبھی کبھی اپنے فضائل بیان فرمائے اور یہاں تک فرمایا کہ ” انا سیدولدآدم ولا فخر “ (میں اولاد آدم کا سردار ہوں لیکن فخر نہیں کرتا) مختصر یہ کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے متعدد رسول آئے۔ جنھیں اللہ نے فضائل و کمالات سے نوازا ‘ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی پیغمبر کو بھی ایسی کامیابی نہیں ملی کہ تمام لوگ اس کے ہاتھ پر ایمان لے آئیں۔ آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ جب دنیا میں کبھی بھی کسی پیغمبر کی دعوت پر تمام ایمان نہیں لائے تو پھر آپ ﷺ کو اس پر دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے جن کی قسمت میں ایمان ہے وہ لائیں گے اور جن کی لیے محرومی لکھی گئی ہے وہ محر وم رہیں گے۔ ایک اشتباہ کا ازالہ بعض لوگوں کو اس آیت کریمہ کی وجہ سے ایک اشتباہ پیش آیا ہے وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ نے واضح طور پر فرمایا : لاتخیرونی علی موسیٰ (مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو ) اور ایک دفعہ فرمایا : لا تفضلوا بین انبیاء اللہ (انبیاء کے درمیان تفضیل نہ کیا کرو) ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا : لا اقول ان احدا افضل من یونس بن متی (میں نہیں کہہ سکتا کہ کوئی یونس بن متی سے افضل ہے) ان ارشادات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی پیغمبر کو کسی دوسرے پیغمبر پر فضیلت نہیں دی جاسکتی۔ نیز یہ بات کہ آنحضرت ﷺ کو بھی کسی پیغمبر پر فضیلت نہیں دینی چاہیے۔ اس کا جواب نہایت سادہ ہے کہ جب تک یہ آیت کریمہ نہیں اتری تھی آنحضرت ﷺ کسی پیغمبر کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ اور خود آپ ﷺ کو بھی جب تک یہ نہیں بتادیا گیا کہ آپ ﷺ کو اللہ نے سید المرسلین بنایا ہے اور آپ ﷺ سید الاولین و الآخرین ہیں اس وقت تک آپ ﷺ نے اپنے آپ کو بھی کسی سے افضل سمجھنا مناسب نہیں سمجھا اور کسی دوسرے کو اس کی اجازت نہیں دی۔ لیکن جب اس کا علم دے دیا گیا تو آپ ﷺ نے مختلف وقتوں میں اس کا اظہار فرمایا۔ اور دوسری بات یہ کہ آنحضرت ﷺ میں جو تواضع تھی اس کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ ﷺ یہ پسند نہیں فرماتے تھے کہ افضل ہونے کے باوجود آپ ﷺ کو دوسروں پر فضیلت دی جائے۔ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ اس بات کی تو شریعت بہرحال اجازت نہیں دیتی کہ پیغمبروں کے مراتب میں تقابل کیا جائے۔ اور جب پیغمبروں کو ایک دوسرے سے افضل ٹھہرایا جائے گا تو پھر تقابل کی بھی نوبت آئے گی۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے امت کو ان باتوں سے منع فرمایا۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ مَا قْـتَـتَلَ الَّذِیْنَ ۔ الخ سے پروردگار نے اپنی ایک سنت بیان فرمائی ہے کہ اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں۔ اور ان حقائق کو سمجھنے کے لیے انسان کو عقل و شعور سے بہرور فرمایا۔ ہدایت کا یہ سامان کرنے کے بعد انسان کو آزادی دے دی کہ تم چاہو تو پیغمبر کی دعوت قبول کر کے راہ راست اختیار کرلو اور چاہے پیغمبر کی دعوت کو رد کر کے گمراہ ہوجاؤ۔ دنیا میں ہم تمہیں دونوں طرز عمل اختیار کرنے اور دونوں طرح کے راستوں پر چلنے کی آزادی دیتے ہیں لیکن قیامت کے دن ہم تم سے پوچھیں گے کہ عقل و شعور کی موجودگی میں اور پیغمبروں کی تبلیغی مساعی کے باوجودتم نے حق کو قبول کیوں نہ کیا۔ لیکن دنیا میں نہ ہم کسی کو ہدایت قبول کرنے پر مجبور کریں گے ‘ نہ کسی کو بالجبر گمراہ کریں گے۔ جب کوئی نیکی کے راستے کی طرف بڑھے گا تو ہم اس کے لیے آسانیاں بہم پہنچائیں گے اور جب کوئی برائی کی طرف جانے کی کوشش کرے گا تو ہم اس کے لیے بھی راستے کھول دیں گے اور امکانات پیدا کردیں گے۔ اس قانون کو سمجھ لینے کے بعد یہ سوال خود بخود ختم ہوجاتا ہے کہ انسانی ہدایت کے لیے پیغمبر آتے رہے اور انسانوں کی مخالفت کا ہدف بنتے رہے اور جس نے ان کی دعوت کو قبول کیا وہ مسلمان ٹھہرا اور جس نے انکار کیا کافر ہوگیا۔ پھر یہ دونوں گروہ آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے رے۔ آخر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اللہ ان کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ اللہ نے اس آیت میں فرمایا کہ ہدایت کا جو فطری اور اللہ کا پسندیدہ طریقہ تھا یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں بھیجنا ‘ ہم نے اسے برابر جاری رکھا۔ لیکن ہم نے اسے کبھی پسند نہیں کیا کہ ہم زبردستی لوگوں کو ہدایت اختیار کرنے پر مجبور کریں۔ اگر ہم ایسا کرتے تو یقینا کوئی نہ گمراہ ہوتا اور نہ کافر۔ اور حق و باطل میں تصادم بھی کبھی نہ ہوتا۔ لیکن اس کے بعد جزا و سزا کا کیا جواز باقی رہ جاتا۔ جزا اس عمل پر دی جاتی ہے جو آدمی اپنے اختیار سے انجام دے۔ اور سزا اس گناہ پر ہوتی ہے جس کا ارتکاب آدمی اپنے اختیار سے کرے۔ اور جب اختیار ختم ہوگیا اور اللہ نے زبردستی لوگوں کو ہدایت پر جمع کردیا تو پھر سزا اور جزا کیسی۔ البتہ یہ ایک سوال ہوسکتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کے لیے یہ آزمائش کیوں رکھی ؟ اور ان کو امتحان میں کیوں ڈالا ؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ” یہ کیوں “ ہر ایک سے کہا جاسکتا ہے لیکن اللہ کی ذات سے نہیں کہا جاسکتا۔ وہ مختارِ کل اور شہنشاہِ مطلق ہے وہ جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

(اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! خرچ کرو اس سے جو کچھ ہم نے تمہیں بخشا ہے اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ خریدوفروخت ہوگی اور نہ دوستی کام آئے گی اور نہ کسی کی سفارش نفع پہنچائے گی۔ اور جو لوگ کافر ہیں وہی اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے ہیں

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِِمَّا رَزَقْنٰـکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَاخُلَّـۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ ط وَالْـکٰفِرُوْنَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! خرچ کرو اس سے جو کچھ ہم نے تمہیں بخشا ہے اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ خریدوفروخت ہوگی اور نہ دوستی کام آئے گی اور نہ کسی کی سفارش نفع پہنچائے گی۔ اور جو لوگ کافر ہیں وہی اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے ہیں) (254) گزشتہ دو رکوع سے مختلف اسالیب بدل بدل کر جہاد اور انفاق کا مضمون بیان کیا جا رہا تھا کہ درمیان میں دو آیتیں جملہ معترضہ کے طور پر آگئیں۔ اس کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک خاص دور کی تاریخ کو تورات نے جس طرح ایک کہانی بنا کے رکھ دیا تھا اور واقعات کی ترتیب اور تفصیل میں رنگ آمیزی کی خاطر جو غلطیاں کی گئی تھیں قرآن کریم نے اس طرح ان کی اصلاح کی اور ان کے اصل مقاصد کو اس طرح نمایاں کیا جس سے یہ بات خود بخود ثابت ہوگئی کہ ایسی تصحیح اور تصویب اللہ ہی کی جانب سے ہوسکتی ہے کیونکہ دنیا کی کسی لائبریری اور کسی ذریعہ علم کے پاس ایسے وسائل نہیں ہیں جن سے وہ ایسی تاریخی غلطیوں کی اصلاح کرسکے جس کا دنیا میں جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ماضی ‘ حال اور مستقبل کو یکساں جانتے ہیں اس لیے تاریخ کا وہ زمانہ جو مردہ ہوچکا ہے زندہ شکل میں لوگوں کے سامنے لاسکتے ہیں۔ اور جس انسانِ عظیم کے واسطے سے پروردگار انسانوں پر ایسا کرم فرماتا ہے اسے اللہ کا رسول کہا جاتا ہے۔ چناچہ ان تاریخی واقعات کو ٹھیک ٹھیک ذکر کرنے کے بعد اس طرف توجہ دلانا ضروری ہوگیا کہ دیکھو جو شخص نہایت اعتماد کے ساتھ تمہاری کتابوں کی غلطیوں کی اصلاح کر رہا ہے اور حکمت و نصیحت کے ان جواہر کو تمہارے سپرد کر رہا ہے جس کے جاننے کا دنیا میں کوئی ذریعہ نہیں وہ یقینا اللہ کا رسول ہے۔ اور اس کی رسالت کے اثبات کی یہ ایسی حتمی اور قطعی دلیل ہے جس کے بعد کسی کو بھی انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لیکن پھر انسان جب اہل کتاب اور دوسرے لوگوں کے اختلافات کو دیکھتا ہے تو وہ سر پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے کہ اگر یہ حقیقت اتنی واضح ہے تو یہ لوگ آخری رسول پر ایمان لا کر اپنے سارے اختلافات کو ختم کیوں نہیں کرلیتے۔ چناچہ دوسری آیت میں اس کا جواب دینا بھی ضروری ہوگیا۔ تو یہ دو آیتیں جملہ معترضہ کے طور پر اس حقیقت کو نمایاں کرنے کے لیے لائی گئیں جس کا ہم نے ذکر کیا۔ اور اب پھر سلسلہ کلام اسی موضوع سے جوڑا جا رہا ہے جو زیر بحث تھا۔ آیت نمبر 245 میں انفاق کی دعوت دی گئی تھی اسی کو زیادہ موثر بنانے کے لیے اس آیت کریمہ میں ایک خاص اسلوب کے ساتھ انفاق کے حکم کو دہرایا جا رہا ہے۔ اور یہ حکم اس خوبی اور اس بلاغت کے ساتھ دیا گیا ہے جس سے انفاق میں آسانی بھی پیدا ہوتی ہے اور ان خرابیوں کی نشاندہی بھی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انسانوں کے عقائد میں دراڑیں پیدا ہوئی ہیں اور وہ اللہ کے ساتھ حقیقی تعلق پیدا کرنے سے قاصر ہوگئے ہیں۔ جہاں تک آسانی پیدا کرنے کا تعلق ہے اس آیت کے الفاظ پر غور فرمائیے فرمایا جا رہا ہے کہ مسلمانو ! تم اللہ کے راستے میں اس مال و دولت اور ان نعمتوں میں سے خرچ کرو جو اللہ نے تمہیں عطا کی ہیں۔ یہ انفاق کی دلیل بھی ہے اور اس کی تسھیل بھی۔ دلیل اس طرح سے ہے کہ تمہاری پاس جو کچھ مال و دولت ہے اور جن ذرائع سے تم نے کمایا ہے ان دونوں میں سے کونسی چیز ایسی ہے جس کو تم نے وجود دیا ہے ‘ جس کے تم خالق ہو اور جسکو تم واقعی اپنا کہہ سکتے ہو ؟ کیونکہ جن ذرائع کو استعمال کر کے تم نے دولت کمائی ہے ان میں سے ایک ایک ذریعہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ تم نے ذہانت لڑائی ‘ صلاحیت صرف کی ‘ پسینہ بہایا ‘ دوڑ بھاگ کی ‘ سلیقے سے لوگوں سے معاملہ کیا اس کے نتیجے میں تمہیں دولت ملی۔ ذرا غیر جانبداری سے بتایئے کہ ان میں سے کون سی چیز تمہاری ہے ؟ ان میں سے تو ہر چیز خود بول رہی ہے کہ میں اللہ کی مخلوق ہوں۔ اور تم پر جو اللہ نے احسانات کیے ہیں میں ان احسانات کی شکل و صورت ہوں۔ اسی طرح جن نعمتوں کو تم نے حاصل کیا ہے وہ اگر جنس کی شکل میں ہیں تو تب بھی اللہ کی مخلوق ہیں ‘ وہ علم کی شکل میں ہیں تو وہ بھی اللہ کی مخلوق اور اس کا نور ہیں اور اگر وہ جاہ و منصب کی صورت میں ہیں تو وہ بھی اللہ کی دین ہیں۔ مختصر یہ کہ جب خود مال و دولت اور اس کے حاصل کرنے کے ذرائع اللہ ہی کی ملکیت ‘ اللہ ہی کی بخشش اور اللہ ہی کی مخلوق ہیں تو پھر اللہ کو بجا طور پر اس کا حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ان نعمتوں کے خرچ کرنے کا حکم دے۔ کیونکہ دنیا کا ہر قانون ‘ دنیا کا اخلاق اور دنیا کی عقل باور کرتی ہے کہ مالک اپنے مملوک کو اور آقا اپنے غلام کو ہر طرح کا حکم دینے کا حق رکھتا ہے۔ رہی بات تسہیل کی تو وہ اس طرح ہوتی ہے کہ جب ایک آدمی سے یہ کہا جاتا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ کرو تو خرچ کرنا اسے گراں گزرتا ہے لیکن جب اس کے ذہن میں یہ بات پیوست ہوجائے کہ خرچ مجھے اس مال میں سے کرنا ہے جسے اللہ ہی نے عطا کیا ہے تو پھر وہ بڑی آسانی سے خرچ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ کیونکہ دینے والا اگر اپنی دی ہوئی نعمتوں میں سے چند نعمتیں مانگ لے تو اسے دینے میں تأمل نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس کا حق تو یہ ہے کہ وہ سارا بھی لے سکتا ہے کیونکہ اس کا مالک وہی ہے۔ لیکن جب وہ یہ کہے کہ اس میں سے اڑھائی فیصد میرے راستے میں خرچ کردو یا ہنگامی حالات میں جائز ضرورتوں سے جو کچھ بچے وہ میرے راستے میں دے دو ۔ آدمی خوش ہو کر خرچ کرتا ہے کہ اسے تو سارا مال لینے کا حق تھا لیکن وہ تھوڑا سا اپنے لیے مانگتا ہے باقی وہ میرے پاس چھوڑتا ہے۔ اور اس پر بھی مزید اس کا کرم یہ ہے کہ جب وہ مانگتا ہے تو اس لیے نہیں مانگتا کہ تمہیں یہ کبھی واپس نہیں ملے گا حالانکہ مانگنے کا منطقی تقاضا تو یہی ہے جب ہم کسی کے مانگنے پر کسی کو کوئی چیز دے دیتے ہیں تو پھر اس کی واپسی کا تو کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں کو خرچ کرنے کے لیے کہتے ہیں تو ساتھ ہی یہ فرماتے ہیں کہ یہ تمہارا میرے ذمے قرض ہے اور قرض وہ ہوتا ہے جس کی واپسی لازم ہوتی ہے اور دینے والا اپنے مقروض سے بجا طور پر اس کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ اور اس پر بھی مزید اللہ کی عنایت یہ ہے کہ وہ اپنے دینے والے بندے کو جب واپس کرے گا تو صرف اتنا ہی واپس نہیں کرے گا جتنا اس نے خرچ کیا ہے بلکہ اس کے خلوص کے مطابق نہ جانے کتنے گنا بڑھا چڑھا کر اسے واپس دیا جائے گا کبھی ایک کے بدلے میں دس ‘ کبھی سات سو اور کبھی بیشمار یعنی جیسے جیسے دینے والے کا اخلاص اور فدائیت کا جذبہ بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے اللہ کی طرف سے بڑھانے چڑھانے کا عمل بھی بڑھتا جاتا ہے۔ اس کے بعد حکمت و دانش کی بات فرمائی۔ وہ یہ کہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ تم میں سے ہر آدمی اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے کسی کو اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا۔ طبعی عمر گزارنے کے بعد ہر ایک کو موت کا شکار ہونا ہے۔ کیونکہ اگر کسی کے لیے دوام ہوتا تو وہ اللہ کے نبی یا خاتم النبیین ہوتے۔ کیونکہ وہی اپنے مرتبہ و مقام کے لحاظ سے اس قابل تھے کہ انھیں کبھی موت نہ آتی۔ لیکن اللہ کا قانون ایسا اٹل ہے کہ جسے بھی اللہ نے زندگی عطا کی ہے وہ ایک نہ ایک دن ضرور موت کا شکار ہوگا۔ سچ کہا امیر مینائی نے ؎ جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری زندگی کے خاتمے کے ساتھ یہ مال و دولت تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ اگر تم اسے ایک لا زوال خزانے میں تبدیل کرنا چاہتے ہو تو اس کی صرف ایک صورت ہے کہ اللہ کے راستے میں اسے خرچ کردو۔ وہ فرماتا ہے کہ ” میرے راستے میں اگر ایک دانہ بھی خرچ کیا جاتا ہے تو میں اسے اس طرح پالتا ہوں جس طرح تم نہایت چاہت سے گھوڑے کے بچے کو پالتے ہو۔ میں اسے بڑھاتا رہتا ہوں حتیٰ کہ وہ دانہ احد پہاڑ سے بھی بڑا ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا اور وہ ساری زندگی اسے سینچ سینچ کر اور جوڑ جوڑ کر رکھتا ہے اور خود ایک چوکیدار کی طرح پہرہ دیتا ہوا زندگی گزار دیتا ہے۔ تو اگر اولاد کی صحیح تربیت نہیں ہوئی تو وہ اس پیسے کو اس طرح بےدریغ لٹاتے ہیں کہ اس کی زندگی بھر کی کمائی دنوں میں اڑا دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں ترغیب اور ترہیب کا ایک امتزاج پیدا کیا گیا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا میں انسان اپنی دولت سے مختلف فوائد اٹھاتا ہے۔ کبھی اسے کاروبار میں لگا کر روز بروز ترقی دینے کی کوشش کرتا ہے ‘ کبھی اسی کمائی ہوئی دولت کے بل بوتے پر بڑے بڑے لوگوں سے دوستی کے رشتے قائم کرتا ہے ‘ لوگوں کو دعوتیں کھلاتا ہے ‘ مختلف طریقوں سے اپنے تعلقات میں اضافہ کرتا ہے ‘ پھر ان تعلقات کو اپنے فوائد کے لیے استعمال کرتا ہے اور کبھی دوسرے کے کام آنے کے لیے سفارش کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی دولت کو جس طرح اپنی ذات پر خرچ کرتا ہے اسی طرح اپنی شخصیت کی تعمیر اور اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کے لیے بھی بروئے کار لاتا ہے۔ یہاں ترغیب اس طرح دی جا رہی ہے کہ تم اپنی دولت کو اگر اللہ کے راستے میں صرف کرو تو جس دولت کو تم دنیا کی افزائش اور اثر و رسوخ پیدا کرنے کے کام میں لا رہے ہو وہی دولت تمہیں اللہ کے قریب کرسکتی ہے ‘ اسی سے تم جنت خرید سکتے ہو۔ اسی کے خرچ کرنے سے تمہاری نیکیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے اور تم اپنی آخرت کو سنوار سکتے ہو اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو پھر ترہیب سے کام لیتے ہوئے فرمایا کہ اس بات کو یاد رکھو کہ تمہیں ایک دن موت آئے گی ‘ اس کے بعد تمہاری دنیوی زندگی ختم ہوجائے گی ‘ تم برزخی زندگی گزارنے کے بعد اخروی زندگی میں داخل ہوجاؤ گے اور یہ اخروی زندگی وہ ہوگی جس میں نہ تو تم اپنی دولت سے کوئی چیز خرید سکو گے اور نہ تم کوئی چیز بیچ سکو گے۔ نہ وہاں کسی کی دوستی تمہارے کام آئے گی ‘ نہ کسی کی سفارش تمہیں نفع پہنچا سکے گی۔ وہاں تو زندگی میں کی ہوئی نیکیاں اور اللہ کے راستے میں ایثار اور انفاق کا سرمایہ تمہارے کام آئے گا۔ تو آج اس کا موقع ہے کہ تم موت آنے سے پہلے پہلے اپنی دولت کو اللہ کی راستے میں صرف کر کے اس دن اپنی سرخروئی کا سامان کرلو جس دن سوائے ایمان و عمل کے کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔ وَالْکٰفِرُوْنَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ یہاں کافرون سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان و عمل اور ایثار و انفاق کی بجائے چند غلط عقائد پر بھروسہ کرتے ہیں۔ انھوں نے چند عقیدے وضع کرلیے ہیں جس کی وجہ سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کیونکہ جس طرح دنیا میں ہم نے اپنی دولت سے کام لے کر ہر چیز کو اپنے لیے خرید لیا اور جسے چاہا بیچ دیا ‘ اسی سے ہم نے بڑے بڑے لوگوں سے دوستیاں پیدا کیں ‘ قیامت کے دن بھی یہی دولت ہمارے کام آئے گی۔ اور جن کے نام پر ہم چڑھاوے چڑھاتے رہے ہیں اور یہ سمجھتے رہے ہیں کہ وہ کل کو ہماری سفارش کریں گے جس طرح مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور ان کے بارے میں یقین رکھتے تھے کہ وہ اپنے باپ سے سفارش کر کے ہمیں عذاب سے بچا لیں گی۔ جس طرح اہل کتاب نے بھی مختلف تصورات بنا رکھے تھے اور انہی تصورات میں سے بالخصوص شفاعت کے غلط تصور نے انھیں ایمان و عمل سے بالکل محروم کردیا تھا۔ انہی کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ حقیقت میں ظالم ہیں کہ اللہ نے ان کو جسمانی صلاحیتیں ‘ دماغی رعنائیاں اور قلب کا سوز و گداز اس لیے عطا فرمایا تھا کہ وہ اپنے لیے آخرت کو آسان کریں اور ایمان و عمل کا سرمایہ بہم پہنچا کر اللہ کی رضا حاصل کریں۔ لیکن انھوں نے ہر چیز پر ظلم کیا۔ ظلم کا معنی ہوتا ہے وَضْعُ الشَّیْئِ فِیْ غَیْرِمَحَلِّہٖ (کسی چیز کو ایسی جگہ رکھنا جو اس کی اصل جگہ نہیں) سر اللہ کے سامنے جھکنا چاہیے اسے غیر اللہ کے سامنے جھکانا ‘ جسم و جان کی صلاحیتیں اللہ کے دین کی سربلندی اور خلق خدا کی خدمت پر صرف ہونی چاہییں انھیں اپنی ذات کی سربلندی اور غیر خدا کی عبادت اور مقاصد ِ شر کو پھیلانے کے لیے استعمال کرنا۔ یعنی ہر حقیقت کی ماہیت کو بدل دینا۔ یہی وہ ظلم ہے جسے انھوں نے اپنی پوری زندگی کے ساتھ روا رکھا۔ اسی ظلم نے انھیں غیر اللہ کے سامنے جھکایا۔ دنیا کی محبت میں غرق کیا ‘ ایمان و عمل پر بھروسہ کرنے کی بجائے شفاعت کے غلط تصور پر بھروسہ کر کے بیٹھ گئے۔ اس طرح ان کی پوری زندگی محرومیوں کی تصویر بن گئی۔ انہی تصورات سے تقریب پیدا ہوئی کہ ایسے لوگوں کے سامنے نہایت خوبصورت اور موثر الفاظ میں اللہ کی ذات وصفات اور اس کے حقوق کا ایک ایسا جامع تصور آنا چاہیے جو ان کی پوری زندگی میں تبدیلی کا باعث بنے ‘ چناچہ اسی تقریب سے آیۃ الکرسی جیسی خوبصورت آیت وجود میں آئی۔ جس کی بلاغتوں کی کوئی انتہا نہیں اور جس کے الفاظ و مفاہیم کو سمجھنے سے بڑے بڑے دانشور عاجز ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ان اعظم آیۃ فی القراٰن اٰیۃ الکرسی (قرآن کی سب سے عظیم الشان آیت آیۃ الکرسی ہے)
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے سب کا قائم رکھنے والا ہے۔ نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے جو سفارش کرے اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر ؟ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جو وہ چاہے۔ حاوی ہے اس کا اقتدار آسمانوں پر اور زمین پر۔ اور نہیں تھکاتی ہے اسے ان دونوں کی حفاظت۔ اور وہ بلند ہے اور عظیم ہے

اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّاھُوَ ج اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ 5 ج لاَ تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ط لَـہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط مَنْ ذَاالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖط یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ ج وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ وَسِعَ کُرْسِیُّـہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج وَلَا یَــُٔوْدُہٗ حِفْظُہُمَاج وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ۔ (اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے سب کا قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے جو سفارش کرے اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر ؟ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جو وہ چاہے، حاوی ہے اس کا اقتدار آسمانوں پر اور زمین پر، اور نہیں تھکاتی ہے اسے ان دونوں کی حفاظت، اور وہ بلند ہے اور عظیم ہے) (255) سب سے پہلی بات جو اس آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے وہ اللہ کا تعارف اور اس کی اصل حیثیت کی وضاحت ہے۔ مشرکین عرب اپنی ساری گمراہیوں کے باوجود اللہ کو تسلیم کرتے تھے اور اہل کتاب تو اللہ اور اس کے رسولوں پر بھی ایمان رکھتے تھے اس لیے اللہ کا اقرار اور اس کا ایمان دنیا کی ایک مسلمہ بات تھی۔ البتہ گمراہی کی ابتدا اس بات سے ہوتی تھی کہ کیا اللہ کے سوا کوئی اور اِلٰہ ہے یا نہیں ؟ یہود نے اللہ کو اِلٰہ قرار دینے کے باوجود شرک کی مختلف صورتیں پیدا کر رکھی تھیں اور نصاریٰ نے تو اس قدر غلو سے کام لیا کہ انھوں نے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو اللہ بنا ڈالا۔ یہ اگرچہ تمام نصاریٰ کا عقیدہ نہ تھا البتہ ان میں ایک قابل ذکر تعداد لوگوں کی ایسی موجود تھی جن کے بارے میں قرآن کریم نے کہا لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ھوالمسیح ابن مریم (تحقیق ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا مسیح ابن مریم اللہ ہے) لیکن مشرکین عرب اللہ کو ایک ماننے کے ساتھ ساتھ اس کی الوہیت میں نہ جانے کس کس کو شریک بناتے تھے۔ قرآن کریم نے مختلف جگہوں میں الوہیت کے مفہوم کی وضاحت کی ہے۔ اور سورة الفاتحہ کی پہلی آیت کی وضاحت کے سلسلے میں ہم اس پر معروضات پیش کرچکے ہیں۔ اس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ الٰہ ‘ معبود کو بھی کہتے ہیں اور حاکم حقیقی کو بھی۔ اور وہ ذات بھی اِلٰہ ہے جس کی محبت عبودیت کا عنوان بن جائے۔ اور وہ بھی اِلٰہ ہے جسے حضور و غیاب میں پکارا جائے اور استمداد کی جائے۔ لیکن قرآن کریم نے ان تمام حوالوں سے صرف اللہ ہی کو الٰہ قرار دیا کہ ” وہی تمہارا معبود ہے ‘ وہی تمہارا حاکم حقیقی ہے ‘ وہی ہے جس کی محبت سے دل آباد رہنا چاہیے ‘ وہی ہے جس کا خوف اور جس کی ناراضگی کا اندیشہ زندگی میں سب سے موثر عامل ہونا چاہیے ‘ وہی ہے جس کے سامنے دست سوال پھیلنا چاہیے اور وہی ہے جس سے تنہائیوں میں عجز و نیاز کی مناجات ہونی چاہیے۔ مولانا حالی نے بڑی خوبصورتی سے بعض احادیث کا ترجمہ کرتے ہوئے اس کی وضاحت کی ہے۔ ؎ کہ ہے ذات واحد عبادت کے لائق زباں اور دل کی شہادت کے لائق اسی کے ہیں فرمان اطاعت کے لائق اسی کی ہے سرکار خدمت کے لائق لگائو تو لو اپنی اس سے لگائو جھکائو تو سر اس کے آگے جھکائو اسی پر ہمیشہ بھروسہ کرو تم اسی کے سدا عشق کا دم بھرو تم اسی کے غضب سے ڈرو گر ڈرو تم اسی کی طلب میں مرو جب مرو تم مبرا ہے شرکت سے اس کی خدائی نہیں اس کے آگے کسی کو بڑائی بنائے نزاع یہ بنیادی حقیقت ہے کہ دنیا میں تمام عظمتوں کا حقیقی مالک کون ہے ؟ کون ہے جس کے سامنے سر بھی جھکنے چاہئیں اور اسی کی غیر مشروط اطاعت بھی ہونی چاہیے ؟ اسی کو غیر مشروط طور پر آئین اور قانون دینے کا حق ہے ؟ وہی ہے جس کی عظمت تمام عظمتوں کا آستانہ ہے۔ اسی پر دنیا ہمیشہ آپس میں اختلاف کرتی رہی۔ جو لوگ یہ تمام حقوق اللہ کے لیے سمجھتے ہیں ان کے لیے کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ کسی بادشاہ ‘ کسی آمر مطلق کے سامنے سر جھکادیں۔ وہ کسی پارلیمنٹ کے بارے میں بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اس کا دیا ہوا آئین و قانون اس صورت میں بھی واجب الاطاعت ہے جبکہ وہ اللہ کے آئین کے توڑ پر تیار کیا گیا ہو۔ اللہ ہی کی الوہیت کا یہ لازمی نقطہ ہے کہ حکم صرف اسی کو زیب دیتا ہے۔ اسی کی بات حرف آخر ہوتی ہے ‘ وہی ہے جس کی کسی بات کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا میں ہر اس حاکم کی حکومت قابل تسلیم ہوگی اور اس پارلیمنٹ کے فیصلے احترام کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے جس میں اللہ کے احکام کی اطاعت کو اولین حیثیت دی گئی ہو ‘ جن کی تمام ترقانون سازی صرف اس دائرے میں ہو جہاں اللہ کی شریعت خاموش ہو اور جن کی سوچ کے تمام دھارے اسلامی شریعت کی سوچ سے ہم آہنگ ہوں۔ جب کوئی شخص ‘ کوئی پارلیمنٹ اللہ کی عظمت کو نظر انداز کر کے اپنی عظمت منوانے لگتی ہے یا اس کے آئین کو بائی پاس کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہیں سے اللہ کے ماننے والوں کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ایسی ہر کوشش کو ناکام بنادیں یا کم از کم اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیں۔ کیونکہ ؎ سروری زیبا فقط اس ذات ہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری اَلْحَیُّ الْـقَـیُّـوْمُ اس کے بعد اس آیت کریمہ میں اللہ کی چند بنیادی صفات کو ذکر فرمایا گیا ہے جن میں اللہ کا تعارف بھی ہے اور اس بات کی دلیل بھی کہ اللہ کے سوا کوئی اور اِلٰہ نہیں ہوسکتا۔ سب سے پہلی صفت جو بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ وہ ہے جو اَلْحَیُّ ہے یعنی وہ ازل سے ابد تک زندہ ہے۔ جسے کبھی موت نہیں آسکتی۔ کیونکہ موت کا خالق بھی وہی ہے۔ موت آنا مخلوق کی صفت ہے۔ اللہ مخلوق نہیں خالق ہے۔ اور دوسری صفت بیان فرمائی کہ وہ قیوم ہے قیوم اس ذات کو کہتے ہیں جو خود اپنے بل پر قائم ہو اور دوسروں کے قیام و بقا کا واسطہ و ذریعہ ہو اسے اپنے قیام کے لیے کسی کی احتیاج نہ ہو اور دوسری کائنات کی ہر شے اپنی زندگی اور بقا کے لیے اس کی محتاج ہو۔ جسے وہ وجود دے وہ وجود پائے ‘ جسے وہ ختم کر دے وہ ختم ہوجائے۔ جس کے وجود پانے کے بعد اگر اس کے زندہ رہنے کے امکانات وہ مہیا نہ کرے تو وہ موت کی شکار ہوجائے۔ دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جو آپ سے آپ وجود میں آسکتی ہو اور پھر وجود میں آنے کے بعد اللہ کے دیے ہوئے امکانات کو نظر انداز کر کے باقی اور قائم رہ سکتی ہو۔ یہ دو بنیادی صفات اللہ کی الوہیت کے لیے دلیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور ایک طرح کا چیلنج بھی ہیں کہ دنیا بھر کے مشرکوں نے جن قوتوں کو اللہ کی الوہیت میں شریک کر رکھا ہے وہ بتائیں کہ ان میں کون ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اور کون ایسا ہے جس کی زندگی اپنے بل پر قائم ہے۔ اور ایسا کون ہے کہ پوری کائنات اس کی وجہ سے وجود میں آئی ہو اور اس کی وجہ سے قائم اور باقی ہو۔ دنیا بھر کے مشرکین اس چیلنج کا سامنا نہیں کرسکتے۔ اور جب یہ اعتراف موجود ہے کہ واقعی ایسی کوئی اور ذات نہیں تو پھر کس قدر تعجب کی بات ہے کہ اللہ کی الوہیت میں دوسروں کو شریک کیا جاتا ہے۔ سِنَۃٌ … نَـوْمٌ ان دو مثبت صفات کے بعد کچھ ایسی سلبی صفات یا نقائص بیان کیے جارہے ہیں جن سے اللہ پاک اور منزہ ہے۔ جو متذکرہ بالا صفات کے بالکل برعکس ہیں۔ ان میں سے دو چیزوں کو بیان کیا گیا ہے۔ ایک کو سنـۃ کہا گیا ہے اور دوسری کو نومکا نام دیا گیا ہے۔ سنـۃ اونگھ کو کہتے ہیں اور نوم کے معنی نیند کے ہیں۔ نیند کا آغاز اونگھ سے ہوتا ہے اور اس کی انتہا نومکہلاتی ہے۔ یہ دونوں غفلت کی دو صورتیں ہیں۔ ان دونوں کے ذکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غفلت کے تمام اثرات سے منزہ ہے۔ وہ چونکہ اپنی ذات میں حی اور قیوم ہے تو جو ذات حی اور قیوم ہو اور جس کی وجہ سے تمام دنیا زندہ اور قائم ہو اسے اونگھ یا نیند کیسے آسکتی ہے۔ وہ کسی طرح کی غفلت کا کیسے شکار ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس کے اونگھ جانے کا مطلب یہ ہوگا کہ دنیا کی زندگی جس سے وابستہ ہے وہ سرچشمہ خاموش ہوگیا۔ اور اس کے سو جانے کا معنی یہ ہوگا کہ دنیا اپنی حفاظت سے محروم ہوگئی۔ دنیا میں حشرات الارض سے لے کر بڑے سے بڑے سیارے تک اور معمولی مخلوق سے لے کر حضرت جبریل امین تک اپنی زندگی اور بقا کی بھیک اللہ سے مانگنے پر مجبور ہیں۔ اور ان کی زندگی اس وقت تک باقی ہے جب تک اللہ کی حفاظت میسر ہے۔ تو اگر اسے اونگھ آجائے یا وہ سو جائے تو اندازہ لگایئے کہ کائنات کی ایک ایک مخلوق کی زندگی کی حفاظت کون کرے گا ؟ ہوائی جہاز کا اڑانے والا پائلٹ اور ٹرین یا گاڑی چلانے والا ڈرائیور اگر اونگھ جائے تو سینکڑوں انسانوں کی جان خطرے میں آجاتی ہے۔ کیونکہ جہاز اور گاڑی کے مسافر اس ڈرائیور کی حفاظت میں ہیں تو یہ کائنات کی گاڑی صرف اللہ کی حفاظت میں محفوظ اور اللہ کے حکم سے رواں دواں ہے۔ اسی گاڑی کی حفاظت کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ یہ صرف ایک ہی کے قبضے میں اور ایک ہی کی دسترس میں ہے۔ اسے اگر اونگھ آجائے یا نیند آجائے تو اس کائنات کی تباہی اور بربادی میں کوئی تاخیر نہیں ہوسکتی۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ کائنات نہ جانے کب سے اپنے سفر پر رواں ہے۔ اس کا ایک ایک کرہ اپنے محور میں محو گردش ہے۔ ہر کرہ کی حرکت ‘ اس کی رفتار ‘ اس کی منزلیں ‘ اس کا راستہ اربوں سال گزرنے پر بھی کسی تغیر کا شکار نہیں ہوا ‘ آسمان کی وسعتوں میں بیشمار سیارے ثوابت اور ستارے ہر طرح کے خلل سے محفوظ ہیں۔ ان کی حفاظت اور ان کا ہر خلل سے محفوظ رہنا یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس کائنات کا الٰہ ایک ہے ‘ وہ حی وقیوم ہے اور اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند آتی ہے۔ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے) وہ ذات کبریا اور خالق ارض و سما ‘ جس کا حکم ساری کائنات پر جاری وساری ہے اور جس کی حفاظت اور نگرانی کی وجہ سے تمام کائنات زندگی کے مزے لوٹ رہی ہے اور بےدریغ اپنے معمولات انجام دے رہی ہے ‘ اسی کو یہ بات زیب دیتی ہے اور اس صورت حال کا منطقی تقاضا بھی ہے کہ کائنات کی ایک ایک مخلوق اسی کی مملوک ہو۔ وہی سب کا مالک ‘ سب کا آقا ‘ سب کا حکمران ‘ سب کا ملجا و ماویٰ ‘ سب کا محبوب ‘ سب کا مطلوب اور مرجع و منزل ٹھہرے اور اس عظیم و جلیل ذات کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہو۔ اس کا فیصلہ قطعی و آخری اور اس کا حکم اٹل اور حرف آخر ہو۔ ان حقائق کو تسلیم کرنے سے بالبداہت دو اور دو چار کی طرح ایک اور حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جس ذات عظیم کی شان اور مرتبہ یہ ہے کس طرح ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے اس کا فیصلہ تبدیل کرانے کی جسارت کرے۔ اور لوگ اپنی حماقت سے اس بات کی امید رکھیں کہ جنھیں ہم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے وہ اگر چاہیں گے تو اللہ سے اپنی بات منوا کر ہمارے حق میں فیصلہ کروا دیں گے۔ اس لیے فرمایا شفاعت کی وضاحت مَنْ ذَاالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ (کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے) کیونکہ کائنات کی ایک ایک مخلوق اس کی مملوک و محکوم ہے۔ اور اس کے ہر حکم کو ماننے کی پابند ہے۔ وہ سب کا مطاع مطلق ہے۔ ایسی صورت میں کسی کی کیا مجال ہوسکتی ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور میں کسی کی سفارش کے لیے زبان کھولنے کی جرأت کرے۔ اس سے منطقی انداز میں یہ بات تو بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ کی مرضی کے مقابلے میں کسی کی مرضی نہیں چل سکتی۔ اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ بلکہ اگر وہ حوصلہ نہ دے تو کسی کی یہ مجال بھی نہیں کہ اس کا سامنا کرسکے۔ لیکن یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے اس اصول سے استثناء کرتے ہوئے الا باذنہ فرمایا۔ یعنی اس کی عظمت اور کبریائی کو دیکھتے ہوئے تو کسی کے لیے شفاعت کی کوئی گنجائش نہیں ‘ لیکن اگر وہ خود چاہے تو کسی کو اس کی اجازت دے سکتا ہے۔ شفاعت کے جس تصور نے قوموں کو تباہ کیا ہے وہ یہی من مرضی کا تصور ہے۔ وہ یہ سمجھتے تھے اور آج بھی کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو نظام زندگی عطا فرمایا ہے اگر کوئی شخص یا کوئی قوم اس کی مخالفت میں زندگی گزارتی ہے ‘ اسے ماننے سے انکار کرتی ہے یا مانتی ہے لیکن عمل کے لیے تیار نہیں اور اپنی خواہشات کے اتباع میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیر پر مصر ہے۔ جب انھیں ان کی اس معصیت اور نافرمانی پر توجہ دلائی جاتی ہے تو ان کے نزدیک شفاعت کا غلط تصور ایک سہارا بن جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کے مقابلے میں جن شریکوں کو پوجتے ‘ ان کے نام کی دہائی دیتے ‘ ان کے لیے چڑھاوے چڑھاتے اور ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں چاہے وہ مظاہرِ قدرت ہوں یا مظاہرِ فطرت ‘ اجرامِ فلکی ہوں یا اجسامِ ارضی ‘ پتھر کے تراشیدہ ہوئے بت ہوں یا نام نہاد احبارو رہبان ‘ ان کے بھروسے پر وہ ہر برائی کر گزرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس خطرناک تصور نے انھیں حسن عمل سے بالکل محروم کردیا ہے۔ آج کے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ایسی ہی شفاعت کے غلط تصور پر اعتماد کر کے زندگی گزار رہی ہے۔ جو آدمی کسی کا دامن گرفتہ ہے وہ اسی کو اپنا نجات دہندہ سمجھتا ہے۔ بعض لوگوں نے تو خود آنحضرت ﷺ کو ایسا ہی شفیع سمجھ رکھا ہے کہ وہ اللہ کے بڑے سے بڑے نافرمان کو بھی اصرار کر کے چھڑا لیں گے۔ ایسے نادان یہ سمجھتے ہیں کہ جس ایمان و عمل کی دعوت کے لیے آنحضرت ﷺ نے ساری زندگی کھپائی اور زندگی کا ہر دکھ اٹھایا اور جس طرز زندگی اور ضابطہ حیات کو اپنانے پر ہمیشہ زور دیا اور اسی پر آخرت کی نجات کا دارومدار رکھا ‘ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ وہ اس شخص کی شفاعت فرمائیں گے جس نے آنحضرت ﷺ کی زندگی بھر کی کاوشوں کو درخورِ اعتنا سمجھنے کی زحمت نہیں کی۔ وہ اللہ کے ایک ایک حکم کو توڑتا رہا ‘ جس کے لیے حضور ﷺ نے لا متناہی قربانیاں دی تھیں اور آپ ﷺ کی ایک ایک سنت کو پامال کرتا رہا اور پھر آپ ﷺ ہی سے امید رکھتا ہے کہ آپ میری شفاعت فرمائیں گے۔ آپ ﷺ نے ایک موقعہ پر اپنے اعزہ و اقرباء کو سمجھاتے ہوئے اپنی پھوپھی محترمہ اور اپنی لخت جگر کو خطاب کر کے فرمایا تھا کہ ” تم ایمان و عمل کا سرمایہ لے کر ساتھ جانا اور اگر تم نے نافرمانی کی زندگی گزاری تو میں تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکوں گا۔ “ لیکن اس غلط تصور کے مقابل قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ نے صحیح تصور بھی عطا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض مقرب بندوں کو شفاعت کی عزت بخشیں گے ‘ جن میں انبیائِ کرام بھی ہوں گے اور اولیاء کرام بھی اور صالحین عظام بھی۔ لیکن یہ صرف اس شخص کی سفارش کریں گے جس کے لیے اللہ تعالیٰ اجازت عطا فرمائے گا۔ کیونکہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے سامنے زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ مشرکین عرب جیسے پہلے عرض کیا جا چکا کہ وہ فرشتوں سے شفاعت کی امید رکھتے تھے اور انھیں اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ‘ پروردگار نے اس حوالے سے فرمایا : وَقَالُوا اتَّخَذَالرَّحْمٰنُ وَلَداً سُبْحٰنَـہٗ ط بَلْ عِبَادٌ مُّـکْرَمُوْنَ ۔ لا لاَ یَسْبِقُوْنَـہٗ بِالْقَوْلِ وَہُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ (مشرکین کہتے ہیں کہ خدا کی اولاد ہے اللہ ان چیزوں سے پاک اور برتر ہے فرشتے خدا کی اولاد نہیں بلکہ اس کے باعزت بندے ہیں وہ اس کے آگے بات کرنے میں سبقت نہیں کرتے وہ بس اس کے حکم ہی کی تعمیل کرتے ہیں) مزید اس کی وضاحت فرماتے ہوئے قرآن کریم کہتا ہے یَوْمَئِذٍلاَّ تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَـہُ الرَّحْمٰنُ وَرِضٰی لَـہٗ قَـوْلاً (اور اس دن کسی کو کسی کی شفاعت کچھ نفع نہیں پہنچائے گی مگر جس کے لیے خدائے رحمان اجازت دے اور اس کے لیے کوئی بات کہنے کو پسند کرے) اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو شفاعت کی اجازت تو دے گا لیکن وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے وہی بات زبان سے نکالیں گے جو بالکل حق ہوگی۔ اور اسی کے لیے شفاعت فرمائیں گے جس کے لیے اللہ اجازت عطا فرمائیں گے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شفاعت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آدمی ایمان و عمل سے بےنیاز ہو کر چند بزرگ شخصیتوں پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل چیز تو اللہ کی رضا ہے جو ایمان و عمل سے نصیب ہوگی جس آدمی نے اپنے اعمال صالحہ اور اپنی دعائوں سے اپنے رب کو راضی کرلیا اس کے اعمال میں بخشش کے لیے اگر کوئی کمی ہوگی تو پروردگار اپنے کسی برگزیدہ بندے کو اجازت عطا فرمائے گا کہ میرے اس بندے کے لیے سفارش کرو۔ اس سے مقصود اپنے برگزیدہ بندوں کی عزت افزائی ہوگی اور اپنے گناہ گار بندے کی بخشش کا سامان ہوگا۔ شفاعت کے اس تصور سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شفاعت بھی صرف اللہ کی مرضی اور اس کے حکم سے میسر آئے گی۔ اس لیے ایک مومن کو اپنی بخشش کے لیے اللہ کی رضا کا سامان کرنا چاہیے اور آنحضرت ﷺ کی سنت پر عمل اور آپ ﷺ پر کثرت سے درود پڑھنا چاہیے تاکہ آپ ﷺ اللہ کی اجازت سے اپنے گناہ گار امتیوں کی سفارش فرمائیں۔ شفاعتِ کبریٰ شفاعت کے حوالے سے سب سے بڑا مقام شفاعتِ کبریٰ ہے۔ محشر میں جب تمام لوگ حساب کتاب کے انتظار میں کھڑے ہوں گے اور ہر شخص اپنے اعمال کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا ‘ انتہائی ہولناک وقت ‘ سراسیمگی اور بےچینی کی کیفیت اپنے عروج پر ہوگی اور ایک نفسا نفسی کا عالم ہوگا ‘ لوگ اپنے انجام کو جاننے کے لیے بےقرار ہوں گے ‘ لیکن حساب کتاب شروع ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ہوں گے ‘ لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک اولوالعزم رسولوں کے پاس جائیں گے کہ آپ اللہ سے دعا کریں تاکہ حساب کتاب شروع ہو اور ہم اس ناقابلِ برداشت انتظار کی اذیت سے نکل سکیں۔ لیکن کوئی بڑے سے بڑا رسول بھی اس کے لیے تیار نہ ہوگا۔ سب اللہ کے جلال سے پناہ مانگتے ہوں گے ‘ آخر میں لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچیں گے۔ حضور فرماتے ہیں کہ میں لوگوں کی درخواست مان کر سر سجدے میں رکھ دوں گا اور اللہ کو ان صفات اور کلمات سے پکاروں گا جو اس وقت مجھے عطا کیے جائیں گے۔ میں نہیں جانتا کب تک میں سجدہ ریز رہوں گا ‘ پھر اللہ کی طرف سے آواز آئے گی اے محمد ﷺ اپنا سر سجدے سے اٹھا لو جو مانگو گے دیا جائے گا۔ تب رسول اللہ ﷺ تمام امتوں کا حساب کتاب کرنے کے لیے اللہ سے درخواست کریں گے۔ اس طرح سے لوگوں کا حساب شروع ہوگا اور آنحضرت ﷺ کی شفاعت سے لوگ انتظار کی اذیت سے نجات پائیں گے۔ غور فرمایئے آنحضرت ﷺ تمام لوگوں کے لیے پہلے پروردگار سے شفاعت کی اجازت مانگیں گے۔ اجازت ملے گی تو پھر آپ ﷺ شفاعت فرمائیں گے۔ ایک امتی کو ہمیشہ آنحضرت ﷺ کی شفاعت سے بہرہ ور ہونے کے لیے دعائیں مانگنی چاہئیں لیکن اعمال حسنہ سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔ مشرکین نے جس طرح شفاعت کا ایک تصور بنا رکھا تھا اس کے ابطال کے لیے ایک ایسی دلیل دی جا رہی ہے جو نہایت سادہ ہے لیکن براہ راست عقل کو اپیل کرتی اور دل میں جا اترتی ہے۔ وہ آیت کا اگلا جملہ ہے۔ شفاعت کا غلط تصور اور اس کی تردید یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَاخَلْفَہُمْ وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ (وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے مگر جو وہ چاہے) اسے سمجھنے کے لیے نہایت سادہ انداز میں لوگوں کے ذہنوں میں شفاعت اور سفارش کا جو تصور ہے وہ سمجھ لیجئے۔ کوئی آدمی یا کوئی ملازم کسی خلاف قانون حرکت پہ پکڑا جاتا ہے یا اس کے خلاف کسی رپورٹ پر اس کی گرفت ہوتی ہے تو وہ سفارشی تلاش کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ سفارشی ایسا ہونا چاہیے کہ جس افسر کے پاس میرا کیس ہے اس پر وہ اثر رکھتا ہو۔ اولاً تو سفارشی کی حیثیت اس افسر سے بڑی ہو تاکہ وہ اس کی سفارش کو رد نہ کرسکے اور یا پھر اس سے ایسی دوستی ہو کہ وہ اسے ناراض نہ کرسکتا ہو اور یا پھر سفارشی کی ایسی حیثیت ہو کہ افسر کو بھی اس سے کام پڑ سکتے ہوں تو وہ اس کی بات مان لینے پر اس لیے مجبور ہوگا کہ آج میں نے اگر اس کا کام نہ کیا تو کل کو یہ میرا کام بھی نہیں کرے گا۔ اور آخری بات یہ کہ سفارشی اس افسر کے پاس جا کر یہ یقین دلائے کہ جس شخص کو سزا دی جا رہی ہے اسے آپ نہیں جانتے اور میں اسے پوری طرح جانتا ہوں۔ آپ کے علم میں جو باتیں لائی گئی ہیں وہ غلط ہیں اور میں آپ کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرتا ہوں کیونکہ آپ کے پاس براہ راست جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ جہاں تک پہلی باتوں کا تعلق ہے وہ تو بالبداہت غلط ہیں۔ کوئی شخص بھی اللہ کی ذات سے بڑھ کر نہیں۔ کسی کی اس سے ایسی دوستی نہیں کہ وہ اس کی ناراضگی سے ڈر جائے ‘ اسے کسی سے کوئی کام نہیں پڑتا تمام مخلوق اس کی محتاج ہے وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اور جہاں تک آخری بات کا تعلق ہے اس کے بارے میں اس جملے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ سفارش کرنے والا اللہ کے علم میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر آدمی کے مالہ وما علیہ سے واقف ہے۔ جو کچھ سامنے ہے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو پیچھے ہے وہ اس سے بھی باخبر ہے۔ یعنی اس کے لیے زمانے کی کوئی تقسیم نہیں۔ اس کی نگاہوں کے سامنے ظاہر و باطن کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس لیے کوئی سفارش کرنے والا اسے یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ اس کیس کو پوری طرح نہیں جانتے میں جانتا ہوں اس لیے میں اس کی وضاحت کرنے آیا ہوں۔ ہر شخص کا علم ناقص اور محدود ہے۔ وہ ظاہر کو جانتا ہے باطن سے بیخبر ہے۔ وہ جس کی سفارش کر رہا ہے وہ اگر کوئی بات اس سے چھپالے یا اسے غلط بتائے تو اس کے پاس صحیح جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ‘ لیکن اللہ کا علم کامل ‘ حدود سے ماورا ‘ ہر طرح کی غلطی اور نقص سے پاک۔ تو پھر کس بنیاد پر آخر اس سے سفارش کی جائے۔ میں عرض کرچکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور برگزیدہ بندوں کو اس کی اجازت دیں گے۔ اور ہمارے رسول پاک ﷺ کی شفاعت ہمارے لیے بہت بڑے حوصلے کا سامان ہے۔ اور وہ شفاعت برحق ہے۔ لیکن وہ سراسر اللہ کی دین ‘ اس کا عطیہ ‘ اس کی عزت افزائی اور اس کا کرم ہے۔ اس لیے ہمیں آنحضرت ﷺ کی شفاعت سے بہرہ مند ہونے کے لیے بھی اسی سے دعائیں کرنی ہے ‘ اسی پر ہمیشہ بھروسہ رکھنا ہے ‘ کسی دوسرے بھروسے پر ایمان و عمل سے غفلت سے کی کوئی گنجائش نہیں۔ مزید ارشاد فرمایا : وَسِعَ کُرْسِیُّـہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَلَا یَئُوْدُہٗ حِفْظُہُمَا ج ( اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین سب پر حاوی ہے۔ اور ان کی حفاظت اس پر ذرا بھی گراں نہیں) کرسی کا مفہوم ” الکرسی “ اس کی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کیے جاتے ہیں۔ علامہ ابن جریر نے حضرت ابن عباس ( رض) کا یہ قول ترجیح کے لائق سمجھا ہے کہ ” کرسی “ سے مراد اس کا علم ہے۔ اور ابن جریر نے یہ بھی فرمایا کہ اسی سے کراسۃ ماخوذ ہے جس کے معنی اس دفتر کے ہیں جس میں علم منضبط کیا جاتا ہے اور عربی میں علماء کو ” کر اسی “ بھی کہا جاتا ہے۔ لغت میں ” کرس “ کسی چیز کی جمی جمائی تہہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے کرسی کا لفظ بنا۔ اس لیے کرسی بیٹھنے کی جگہ یا تخت وغیرہ کے لیے استعمال ہونے لگا۔ اور جب یہ بیٹھنے کی جگہ صاحب اقتدار کے لیے خاص ہو تو وہ اس کے اقتدار کا مرکز ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اہل علم نے کرسی کا لفظ اقتدار کی تعبیر کے لیے اختیار کیا ہے۔ اس جملے میں بھی یہی معنی ہوگا کہ اللہ کی کرسی سے مرد اس کا اقتدار ہے۔ البتہ یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ یہاں تو یقینا کرسی کا معنی اس کا اقتدار ہی معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اللہ کی جلیل القدر مخلوقات میں سے کرسی بھی اس کی مخلوق ہے۔ جس کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے : یا اباذر ما السموات السبع مع الکرسی الا کحلقۃ ملقاۃ فی ارض فلاۃ (کرسی کی وسعت و فراخی کے سامنے سات آسمان یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے ایک صحرا میں ایک مندری پڑی ہے) جس پروردگارِ عالم نے زمین و آسمان پیدا کیے ہیں اس کے لیے کوئی مشکل نہیں کہ وہ اتنی بڑی کرسی کو پیدا کر دے۔ البتہ یہ بات یاد رہے کہ پروردگار اس کرسی پر فروکش نہیں ہوتا کیونکہ کوئی مقام بھی اللہ کی ذات کو اپنے اندر سما نہیں سکتا۔ مزید یہ بات بھی کہ اللہ تعالیٰ چونکہ جسم سے پاک ہے اس لیے اسے کسی کرسی ‘ کسی تخت یا کسی مکان کی احتیاج نہیں۔ رہی یہ بات کہ یہ کرسی کیوں بنائی گئی تو اللہ کی صفات کی طرح اس کی بعض مخلوقات کی حقیقت کو بھی ہم نہیں جانتے۔ ہم تو آج تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ سر کے بال کہاں سے آتے ہیں ؟ ناخن کیسے لمبے ہوتے ہیں ؟ بیلیں کیسے پھیلتی ہیں ؟ مختلف توجیہات کی جاتی ہیں لیکن حقیقت ہم سے کوسوں دور ہے۔ فرشتے غیر مرئی مخلوق ہیں ‘ ہم اللہ کے نبیوں کے بتانے کی وجہ سے ان پر یقین رکھتے ہیں لیکن وہ کیسے ہیں ؟ ہم ان کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟ اسی طرح کرسی بھی ان مخلوقات میں سے ہے جس کا علم ہمیں رسول اللہ ﷺ نے عطا فرمایا ہے لیکن اس کی حقیقت سے ہم بیخبر ہیں اور اس کی حقیقت جاننے کے در پے ہونا بجائے خود ایک گمراہی ہے جس سے روکا گیا ہے۔ اقتدارِ الٰہی کی ہمہ گیری مشرکینِ عرب کا یہ گمان تھا کہ کائنات کی وسعتوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ جس طرح ایک بادشاہ اپنے ملک کے دور دراز گوشوں کا انتظام خود نہیں کرسکتا ‘ اس کے لیے وہ مختلف عہدیدار مقرر کرتا ہے تاکہ ان دور دراز گوشوں کا انتظام درست رکھا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ تنہا اتنی بڑی کائنات کا انتظام چلا سکے۔ وہ یقینا اس کا انتظام چلانے میں ایسی قوتوں کا محتاج ہے جنھیں وہ اپنا شریک بنا سکے تاکہ اس کائنات کے نظام چلانے میں وہ اس کے ممد و معاون ہوں۔ ان لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ اللہ کا اقتدار آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے۔ اور وہ زمین و آسمان کے نظام کو چلانے میں اور اس کی نگرانی میں کوئی گرانی اور تھکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔ وہ یہود کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں کائنات پیدا کی اور ساتویں دن اس نے آرام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وما مسنا من لغوب (ہمیں تھکاوٹ نہیں ہوتی) اور یہاں فرمایا کہ ہمیں اس کائنات کی نگرانی گراں نہیں گزرتی۔ ہمارے لیے اس کا انتظام و انصرام چلانا بوجھ ثابت نہیں ہوتا۔ اس لیے ہمیں کسی معاون کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کیونکہ ہمارا علم غیر محدود ‘ ہماری قدرت بےانتہا اور ہماری قوت تصرف تصور و خیال سے بالا ہے۔ وَھُوَالْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ( وہ بلند ہے اور عظیم ہے) اس کی قدرتوں کی وسعتوں اور اس کے علم کی لا محدودیت کو اپنے محدو دعلم اور عقل کے پیمانوں سے نہ ناپو۔ وہ تمہاری قوت احساس سے بھی بلند ہے اور تمہارے تصور ادراک سے بھی عظیم ہے۔ جب تک اس کی عظمتوں کا صحیح تصور اپنے اندر پیدا نہیں کرو گے اس وقت تک شرک کے کانٹے پھوٹتے رہیں گے۔ جب تک اس کی ذات کو ظن و قیاس اور تشبیہ و تمثیل کی خیال آرائیوں سے بلند نہیں سمجھو گے اس وقت تک کوئی نہ کوئی شیطان تمہیں وسوسوں کی گمراہی میں مبتلا کرتا رہے گا۔