2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے۔ جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لے آیا اس نے مضبوط رسی پکڑ لی جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قف لا قَدْتَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ ج فَمَنْ یَّـکْفُرْبِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ م بِاللّٰہِ فَقَدِاسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی ق لَاانْفِصَامَ لَہَا ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے۔ جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لے آیا اس نے مضبوط رسی پکڑ لی جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے) (256) دین کا مفہوم یہاں دین سے مراد اللہ تعالیٰ کے متعلق وہ عقیدہ ہے جو آیت الکرسی میں بیان کیا گیا ہے۔ اور اس عقیدہ کی بنیاد پر بننے والا وہ نظام زندگی ہے جس کا نام اسلام ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ آیت الکرسی میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ سورة فاتحہ کے درس میں ہم الٰہ کا مفہوم واضح کرچکے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ الٰہ معبود کو کہتے ہیں ‘ حاکم حقیقی کو کہتے ہیں ‘ اس ذات کو کہتے ہیں جس کے ساتھ انسان اپنی تنہائی میں امیدیں باندھتا ہے اور ہر وقت جس کی ناراضگی سے لرزاں و ترساں رہتا ہے۔ وہی سب سے زیادہ محبت کا مستحق ہے اور وہی نفرت کا حوالہ ہے۔ وہی ذات ہے جو غیر مشروط طور پر مطاع مطلق ہے ‘ جس کے حکم پر نہ سوال کیا جاسکتا ہے نہ انکار کیا جاسکتا ہے۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت ہے ‘ کوئی اس کے سامنے دم مارنے کی جرأت نہیں کرتا ‘ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ انسان کا ایک ایک لمحہ باقی کائنات کی طرح اس کے علم اور اس کی نگاہوں میں ہے۔ تمام مخلوقات کی حفاظت صرف وہی کرتا ہے ‘ اس کی حفاظت اٹھ جائے تو کسی کے لیے کوئی جائے امان نہیں۔ یہ ان تصورات کا خاکہ ہے جو آیت الکرسی میں دیا گیا ہے۔ اس سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ جس طرح کائنات کی ایک ایک مخلوق اس کے تکوینی نظام اور تکوینی قانون کی پابند ہے ‘ اسی طرح انسان چونکہ عقل و شعور اور فی الجملہ آزادی سے نوازا گیا ہے۔ وہ قانون تکوینی کے ساتھ ساتھ قانون تشریعی کا بھی پابند ہے۔ اللہ کو بجا طور پر یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کی زمین پر بسنے والے اور اس کی ربوبیت کے فیض سے پلنے والے اور اس کی عطا و بخشش کے سہارے جینے والے انسانوں کو قانون دے اور اپنی مرضی سے آگاہ کرے۔ ان پر اپنے احکام و قوانین پر مشتمل کتابیں اتارے اور اس کی تفہیم و وضاحت اور عملی طور پر اسے برپا کرنے کے لیے اپنے رسول بھیجے۔ اور پھر انسانوں کو حکم دے کہ تمہیں اس راہنمائی کے مطابق زندگی گزارنی ہے ‘ اسی پر تمہاری دنیوی اور اخروی فلاح کا دارومدار ہے۔ یہ وہ دین ہے جس کا نام اسلام ہے۔ جس کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اس میں کوئی جبر ‘ کوئی زور اور زبردستی نہیں۔ اِکْرَاہ فِی الدِّیْن کا مفہوم مقصود اس سے یہ ہے کہ ہم نے انسان کو عقل ‘ شعور اور تمیز دے کر ایک آزادی سے نوازا ہے کہ وہ چاہے تو اس دین کو اختیار کرے اور چاہے تو اسے اختیار کرنے سے انکار کر دے۔ ہم فطری طور پر انسان پر جبر نہیں کرتے یعنی انسان کو اس طرح ہم نے پیدانھیں کیا کہ اس کے اندر یہ جبر رکھا جاتا کہ وہ ہمیشہ اسلام ہی پر چلنے کے لیے اپنے آپ کو مجبور پائے۔ جب بھی وہ سوچے اسلام کے مطابق سوچے اور جب بھی کوئی قدم اٹھائے تو اللہ کی اطاعت میں اٹھائے۔ فرشتوں کی طرح اس سے مختلف سوچ اور اس سے مختلف عمل پر قدرت ہی نہ رکھے۔ یہ وہ جبر فطری ہے جس سے اللہ نے انسان کی ہدایت و ضلالت میں کام نہیں لیا۔ اس میں ایک حقیقت کا اظہار بھی ہے اور ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی۔ حقیقت تو وہی ہے جسے ہم نے عرض کردیا۔ یعنی انسان دین کی قبولیت اور عدم قبولیت میں آزاد چھوڑا گیا ہے۔ کسی طرح کا اس پر جبر نہیں کیا گیا۔ اور غلط فہمی یہ ہے کہ کبھی لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ اللہ کے نبی اور اس کی کتابیں دنیا میں اس لیے نازل کی جاتی رہی ہیں تاکہ انسانوں میں اختلافات ختم ہوجائیں ‘ ان کے سامنے ایک راہ راست واضح کردی جائے اور لوگ اس راہ راست کو اختیار کرلیں ‘ تمام غلط راستے اور الٹی سیدھی پگڈنڈیاں خود بخود ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ انبیاء آتے رہے ‘ کتابیں نازل ہوتی رہیں ‘ لیکن انسانوں میں خیر و شر کا اختلاف کبھی ختم نہ ہوا تو پھر انبیاء کے آنے اور کتابوں کے نازل ہونے کا فائدہ کیا ہوا ؟ اور کبھی کافر اسی غلط فہمی کو ایک بہانے کے طور پر بھی پیش کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم جو شرک کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے ہم تحریم و تحلیل کے فیصلے کرتے ہیں تم کہتے ہو یہ باتیں کفر اور شرک ہیں اور اللہ کو یہ باتیں پسند نہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر اللہ ایسی باتوں سے زبردستی روک کیوں نہیں دیتا ؟ ہم بھی یہی کر رہے ہیں اور ہمارے آبائو اجداد بھی یہی کرتے تھے۔ لیکن اللہ نے نہ انھیں روکا نہ ہمیں روکا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اس پر راضی ہے اور تم نے بلا وجہ ایک اختلاف پیدا کر رکھا ہے۔ قرآن کریم نے اس بات کو مختلف جگہ بیان کیا ہے ہم صرف ایک مقام کا حوالہ دیتے ہیں : وَقَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْشَآئَ اللّٰہُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْئٍ نَّحْنُ وَ لَا اٰبَـآئُ نَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْئٍ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَہَلْ عَلَی الرُّسُّلِ اِلَّاالْبَلَاغُ الْمُبِیْنُ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ فَمِنْہُمْ مَّنْ ھَدَی اللّٰہُ وَمِنْہُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلٰـلَۃُ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ اِنْ تَحْرِصُ عَلٰی ھُدٰ ہُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَمَا لَہُمْ مِّنْ نَّاصِرِیْنَ ۔ (اور مشرکین کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی کو نہ پوجتے ‘ نہ ہم نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہرا سکتے۔ ایسا ہی سوال اٹھایا ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں تو کیا رسولوں پر واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری بھی ہے ؟ ہم نے تو ہر امت میں ایک رسول اٹھایا اس دعوت کے ساتھ کہ لوگو ! اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو۔ تو ان میں سے کچھ ایسے ہوئے جن کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کچھ ایسے ہوئے جو گمراہی کے سزا وار ٹھہرے تو ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ اگر تم ان لوگوں کی ہدایت کے حریص ہو تو یاد رکھو کہ اللہ ان لوگوں کو ہدایت دینے والا نہیں ہے جن کو گمراہی کا سزاوار ٹھہرا چکا اور ان کے لیے کوئی مددگار نہیں) (النحل 35 تا 37) ان آیات کریمہ میں دیکھئے اللہ نے مشرکین کی طرف سے اس غلط فہمی یا بہانے کا ذکر فرمایا ہے اور پھر اس کا جواب بھی دیا ہے کہ ہمارا کام صرف یہ تھا کہ تمہاری ہدایت کے لیے رسول بھیجتے ‘ چناچہ ہم نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی نبی یا رسول بھیجا اور انھوں نے آ کر پوری تندہی اور جانفشانی سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ بندگی کے لائق صرف اللہ ہے اس کے علاوہ تمام وہ قوتیں جو اپنی بندگی کرانے کی کوشش کرتی ہیں وہ سب غلط ہیں اس لیے صرف اللہ کی بندگی کرو اور باقی تمام آستانوں سے انکار کردو۔ اس کے بعد ذمہ داری ان لوگوں کی شروع ہوجاتی ہے جن کی طرف یہ ہدایت بھیجی گئی۔ اب اسے قبول کرنا یا رد کردینا ان کی ذمہ داری ہے۔ اور اسی ذمہ داری کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ ان سے سلوک فرماتے ہیں۔ اس کے بعد پھر سوال اٹھایا ہے کہ تم ہی یہ بتائو کہ کیا اللہ کے رسولوں پر صاف صاف پہنچا دینے کے علاوہ بھی کوئی ذمہ داری ہے انھوں نے اپنا کام ہمت سے بڑھ کر کیا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اللہ نے ان پر جبر نہیں فرمایا کیونکہ یہ اس کی مشیت کا تقاضا نہیں نیز اگر وہ جبراً لوگوں کو مسلمان بناتا یا جبراً لوگوں کو کافر بناتا تو پھر جزا و سزا کا تصور عقل اور اخلاق کے اعتبار سے بگڑ جاتا نیکی کرنے والوں کے بارے میں کہا جاتا کہ انھوں نے مجبوراً نیکی کی ہے تو انھیں جزاء کس بات کی دی جا رہی ہے اور کس بات پر انھیں نوازا جا رہا ہے۔ اور برائی کرنے والوں کے بارے میں کہا جا تاکہ انھوں نے مجبوراً برائی کی ہے انھیں سزا کس بات کی دی جا رہی ہے اس لیے اس غلط فہمی یا بہانے کا کوئی جواز نہیں۔ یہی وہ بات ہے جو اس آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ‘ ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے اور پوری طرح اسے واضح کر کے بیان کردیا گیا ہے۔ اب لوگوں کا یہ کام ہے کہ وہ اسے قبول کریں یا اسے رد کردیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ قبول کرنے کی صورت میں وہ ایسی مضبوط رسی اور مضبوط زنجیر کو تھام لیں گے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں۔ یہی رشتہ انھیں دنیا میں ہر کجی اور گمراہی سے بچائے گا اور آخرت میں وہ اسی رسی کو تھامے ہوئے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ لیکن اس کے برعکس لوگوں نے زندگی گزارنے کے لیے جو سہارے بنا رکھے ہیں ‘ جو رسیاں پکڑ رکھی ہیں وہ تو دنیا میں بھی کام دینے والی نہیں چہ جائیکہ آخرت میں کام دے سکیں۔ وہ تمام رسیاں راستے میں ٹوٹ جائیں گی اور تمام سہارے راستے ہی میں جواب دے جائیں گے۔ طاغوت کا مفہوم ہر غلط سہارے اور اللہ کے سوا ہر آستانے اور ہر مرکز اطاعت سے انکار کرنے کا یہاں حکم دیا گیا ہے اور اسے طاغوت کے نام سے یاد کیا گیا ہے اس لیے فرمایا کہ جس نے طاغوت سے کفر کیا اور اللہ پر ایمان لایا اس نے ایک مضبوط رسی کو تھام لیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ طاغوت کیا ہے ؟ طاغوت ملکوت اور جبروت کے وزن پر طغیٰ کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے حد سے گزر جانا ‘ حد سے آگے بڑھ جانا ‘ اپنی حدود سے نکل جانا اور کناروں سے اچھل جانا۔ عربی میں ” طغی الماء “ کا معنی ہوتا ہے ” پانی حد سے آگے بڑھ گیا “ یعنی پانی میں طغیانی آگئی ‘ سیلاب آگیا۔ اور یہ طغیانی اور سیلاب اس وقت آتا ہے جب پانی دریا کے کناروں سے نکل کر دور دور بہنے لگتا ہے۔ اس لیے طاغوت لغوی اعتبار سے ہر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنی جائز حد سے تجاوز کرجاتا ہے۔ لیکن اصطلاحی طور پر طاغوت سے مراد وہ شخص ہے جو بندگی کی حدود سے تجاوز کر کے خود آقا اور خدا بن کے بیٹھ جائے۔ اور اللہ کے بندوں سے اپنی بندگی کرانے کی کوشش کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کے تین درجے ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا بندہ سمجھے اور اس بات پر ایمان رکھے کہ بندگی صرف اللہ کا حق ہے۔ لیکن عملی طور پر اللہ کے احکام کی نافرمانی کرے ‘ کبھی اس کے حکم کو مانے اور کبھی اس کے مطابق عمل کرنے سے گریز کرے۔ بلکہ اس کے برعکس عمل کرے۔ ایسے شخص کو فاسق کہا جاتا ہے۔ دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ سرے سے اس بات سے ہی منحرف ہوجائے کہ بندگی کرانا صرف اللہ کا حق ہے اور مجھے صرف اللہ کی بندگی کرنی چاہیے۔ بلکہ وہ خود مختار ہوجائے اور جو جی میں آئے کرتا پھرے۔ اور اللہ کے قانون کو ماننے سے انکار کر دے اور یا اللہ کے مقابلے میں کسی اور کی بندگی کرنا شروع کر دے۔ اس رویے کو کفر کرتے ہیں اور ایسا کرنے والا کافر کہلاتا ہے۔ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے احکام سے بغاوت ہی نہ کرے ‘ بلکہ اس کے مقابلے میں خود خدا بن کر یا بندوں کا مالک بن کر بیٹھ جائے اور اللہ کے بندوں پر حکم چلانے لگے۔ یہ سرکشی اور گمراہی کا آخری درجہ اور مرتبہ ہے جو شخص اس مرتبے پر پہنچ جاتا ہے اسے طاغوت کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے سرکشی کے مختلف سرچشمے اور مراکز ہیں جن پر طاغوت کا اطلاق ہوتا ہے۔ مثلاً ہر وہ شخص جو اپنی اطاعت کو اللہ کی طرح دوسرے پر لازم قرار دیتا ہے۔ وہ پارلیمنٹ جو اللہ کے قانون کے مقابلے میں قانون سازی کرتی ہے ‘ وہ آمر مطلق یا وہ بادشاہ جو اللہ کے قانون کے توڑ پر اپنی خواہشات پر مبنی قانون کی پیروی کو لوگوں پر لازم قرار دیتا ہے ‘ ہر وہ شیخ اور مرشد جو اپنی مرضی کو دین قرار دے کر لوگوں سے اس کی اطاعت کرواتا ہے اور اپنے سامنے لوگوں کو اس طرح جھکاتا ہے جیسے بندہ اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔ ہر وہ برادری جو غیر شرعی فیصلے اپنے لوگوں پہ نافذ کرتی ہے اور جبراً لوگوں کو اس پر چلاتی ہے۔ اسی طرح آدمی کا وہ نفس جو سرکش ہو کر ایک مستقل مطاع بن جاتا ہے اور بندے کو اپنی اطاعت پر مجبور کرتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک طاغوت ہے۔۔ اس طرح کے ہر طاغوت کا انکار اور ان کے طریقوں کو ماننے سے انکار ایمان کا لازمی جزو ہے جس طرح اللہ پر ایمان لانا اور اس پر یقین لانے کے ساتھ ساتھ اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے اسی طرح دنیا کے ہر آستانے سے سر اٹھا لینا ‘ ہر تخت و تاج کو ٹھکرا دینا اور ہر جابر اور ظالم کی بات کو ماننے سے انکار کردینا بھی ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اس لیے یہاں فرمایا کہ جو اللہ پر ایمان لاتا ہے اور طاغوت سے انکار کرتا ہے۔ اسے اللہ کی وہ رسی تھامنے کو ملتی ہے جس سے آدمی کی دنیا اور آخرت محفوظ ہوجاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمان سے زمین تک ایک رسی تنی ہوئی ہے جو آدمی اسے تھام لیتا ہے وہ دنیا میں بھی تباہی سے بچ جاتا ہے اور آخرت میں بھی سرخرو ہوگا اور جو اسے چھوڑ دے گا اس کی دنیاو آخرت دونوں تباہ ہوجائیں گی۔ ہماری متذکرہ بالا گذارشات سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ یہاں اکراہ سے مراد فطری جبر ہے جو اللہ تعالیٰ کسی پر نہیں فرماتے۔ نہ وہ کسی کو جبراً ایمان دیتے ہیں نہ وہ جبراً کسی کو گمراہ کرتے ہیں۔ اللہ کے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں نے بھی اسی بنیادی اصول پر تبلیغ و دعوت کا کام کیا ہے۔ انھوں نے اپنی تمام صلاحیتیں اس بات پر صرف کر ڈالیں کہ کوئی شُخص ایسا باقی نہ رہے جس تک اللہ کے دین کی دعوت نہ پہنچے۔ بلکہ حتیٰ الامکان دعوت اس تکرار اور اہتمام سے پیش کی جائے اور اس کی تفہیم اور دل و دماغ میں اتارنے کے لیے عقلی دلائل سے کام لیا جائے ‘ فطری دلائل واضح کیے جائیں اور وقتاً فوقتاً ایسے معجزات کا بھی ظہور ہو جس سے اس بات کا یقین آسان ہوجائے کہ واقعی اس دین کا داعی اللہ کا نبی اور رسول ہے۔ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ اللہ کی طرف سے کہتا ہے اسی وجہ سے اس کے ہاتھ سے بعض دفعہ ایسے اعمال کا صدور ہوتا ہے جو انسانی استطاعت سے باہر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی تائید و نصرت اس کے ساتھ ہے۔ اور مزید یہ کہ اس کے سیرت و کردار کی پاکیزگی و بلندی کا حال یہ ہے کہ دشمن اپنی تمام تر دشمنی کے باوجود اس کے کردار میں کوئی کمزوری نہیں دکھا سکتے۔ بلکہ عموماً اس اعتراف پر مجبور ہوتے ہیں کہ جو کچھ وہ پیغمبر کہتا ہے ہم اگرچہ اسے قبول نہیں کرتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا تو وہ اللہ پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہے۔ اس طرح سے اللہ کے نبی لوگوں پر اپنی دعوت اور ہدایت کے اعتبار سے اتمام حجت کردیتے ہیں اور ان کے ماننے والے بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے دلائل وبراہین اور اپنے حسن کردار کو دلیل بناتے ہیں جبر اور زبردستی کو نہیں۔ اللہ اگر انھیں اقتداردیتا ہے تو وہ اقتدار کو اللہ کے احکام کی بالا دستی اور مخلوق خدا کی خدمت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ لیکن اس اقتدار کے ذریعہ وہ کسی غیر مسلم کو مسلمان ہونے کے لیے مجبور نہیں کرتے۔ اس لحاظ سے ” لا اکراہ فی الدین “ کا مفہوم یہ ہوگا کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ یعنی ہم کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کریں گے۔ جو آدمی ایمان لائے گا سو اپنی مرضی سے لائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے جہاں جہاں بھی حکومتیں قائم کیں اور بہت سارے ممالک فتح کیے انھوں نے غیر مسلموں کو مذہبی آزادی دی۔ اور ان کی پوری طرح سے نہ صرف جان و مال کی حفاظت کی بلکہ ان کے مذہبی حقوق کو بھی کبھی نقصان نہ پہنچنے دیا اور ان کی عبادت گاہوں کو پورے احترام سے باقی رکھا۔ اگر وہ جبراً مسلمان بناتے تو اندلس میں کوئی عیسائی باقی نہ رہتا۔ اور ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں نہ ہوتے۔ اسی وجہ سے کبھی کسی اسلامی حکومت کے حوالے سے یہ شکایت پیدا نہ ہوئی کہ وہ غیر مسلموں کو جبراً مسلمان بنا رہے ہیں۔ خود آنحضرت ﷺ نے تیرہ سال تک تکلیفیں اٹھا کر اہل مکہ کو اسلام کی دعوت دی۔ اور مدینہ طیبہ میں آنحضرت ﷺ کے تشریف لے جانے سے پیشتر ہی حضرت مصعب بن عمیر ( رض) اور حضرت اسعد بن زرارہ ( رض) کی کوششوں سے مدینے کے دو بڑے قبیلوں کی اکثریت مسلمان ہوچکی تھی۔ اس لیے بعض برخود غلط قسم کے لوگوں کی جانب سے اسلام پر جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اس کی کیا حقیقت باقی رہ جاتی ہے۔ ایک غلطی کا ازالہ حیرت ہوتی ہے کہ علم و ہنر کی اس ترقی کے زمانے میں بعض کم سواد یہ کہنے کی جرأت کرتے ہیں کہ لا اکراہ فی الدین کا مطلب یہ ہے کہ دین میں کوئی قانونی جبر نہیں۔ کیونکہ جبر سے مراد قانونی جبر ہے۔ یعنی جو شخص مسلمان ہوجاتا ہے اسے یہ آزادی ہے کہ وہ زندگی چاہے اسلام کے مطابق گزارے اور چاہے اسلام کے تقاضوں کے برعکس۔ اسے اسلامی حکومت جبراً اسلامی احکام کی پابندی کا حکم نہیں دے سکتی۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی کو اسلام لانے کے بعد یہ آزادی میسر رہتی ہے تو پھر اس کے اسلام لانے کا فائدہ کیا ہوا ؟ درحقیقت یہ لوگ مغرب کے اس تصور سے متاثر ہیں کہ مذہب انسان کا ایک پرائیویٹ معاملہ ہے۔ یعنی اس کا تعلق ہر آدمی کی نجی زندگی سے ہے۔ جہاں تک اس کی پبلک لائف اور تہذیبی و تمدنی زندگی کا سوال ہے اس میں وہ آزاد ہے کہ جس طرح چاہے زندگی گزارے۔ یہ جو اسلام میں سزائوں کا ذکر کیا جاتا ہے یہ سراسر مولویوں کے ڈھکوسلے ہیں۔ کوئی شخص نماز پڑھے نہ پڑھے ‘ زکوۃ دے یا نہ دے ‘ روزہ رکھے یا نہ رکھے ‘ شرم و حیا کی زندگی گزارے یا بےحیا بن کر رہے ‘ حقوق العباد ادا کرے یا حق تلفیاں کرتا پھرے ‘ اسلامی حکومت کو ہرگز اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ ایسے شخص کو کسی بات پر مجبور کرے یا اس کے کسی جرم کی سزا دے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ باتیں بعض دفعہ بڑے بڑے دانشوروں کی جانب سے کہی جاتی ہیں۔ اور مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کو بھی مانتے ہیں۔ الجھن کی بات یہ ہے کہ اگر مذہب انسان کا پرائیویٹ معاملہ ہے تو پھر قرآن و سنت نے اسلام کا جو ایک نظام پیش کیا ہے اس کی کیا تعبیر کی جائے گی۔ اسلام میں حدود و تعزیرات کا ایک پورا نظام ہے۔ اس کے فرائض وواجبات ہیں جن کی ادائیگی مسلمانوں پر واجب کی گئی ہے۔ اسلام کا ایک عدالتی سسٹم ہے جس میں عدالت کو کچھ اختیارات دیے گئے ہیں۔ اسلام میں ارتداد کی سزا رکھی گئی ہے ‘ اسلام نے اہل ایمان پر جہاد بھی واجب کیا ہے۔ قرآن کریم نے جس طرح حدود کا ذکر کیا ہے اسی طرح محاربہ پر بدترین سزائوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ کیا یہ سب باتیں مذہب کے پرائیویٹ معاملہ ہونے کی دلیل ہیں ؟ ایک خاتون چوری کے جرم میں ماخوذ ہوتی ہے۔ آپ ﷺ سے سفارش کی جاتی ہے کہ اسے معاف کردیا جائے۔ آپ ﷺ برہم ہو کر فرماتے ہیں کہ اگر میری بیٹی فاطمہ ( رض) بھی چوری کرتی جیسے اس عورت نے کی ہے تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ آنحضرت ﷺ رحمت اللعالمین تھے۔ با ایں ہمہ شادی شدہ زانیوں کو سنگسار کروایا اور دیگر حدود بھی جاری فرمائیں۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ جو لوگ اسلام کو پرائیویٹ معاملہ قرار دیتے ہیں اور سیکولرازم کا پر اپیگنڈہ کرتے ہیں انھیں اس بات پر کبھی غور کرنا چاہیے کہ دنیا بھر کی حکومتیں تو اپنے قانون کی نافرمانی پر سزائیں دیتی ہیں حتیٰ کہ بعض جگہ پھانسی تک دی جاتی ہے لیکن آپ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اصلاً یہ کہنا چاہتے ہیں کہ لا دینی حکومت کے قوانین کی جہاں نافرمانی ہوتی ہے اس کی تو سزا ملنی چاہیے ‘ البتہ اللہ سے بغاوت اور اس کے قوانین کی بےحرمتی اور نافرمانی پر کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے۔ یعنی آپ کے نزدیک بندوں کی عزت و حرمت اور ان کے قوانین کی بالادستی کی اہمیت تو ہے لیکن اللہ کے ذات اور اس کے قوانین کی حرمت کا آپ کو کوئی پاس نہیں۔ یہ تصور سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن اسلامی تصور نہیں ہوسکتا۔
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ ولی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لاتے ہیں۔ وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اولیا طاغوت ہیں ‘ وہ ان کو روشنی سے تاریکیوں کی طرف لاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں آگ والے۔ اور یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)

اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ 5 ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْلِیٰٓـئُہُمُ الطَّاغُوْتُ لا یُخْرِجُوْنَہُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ط اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔ ع (اللہ ولی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لاتے ہیں۔ وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اولیا طاغوت ہیں ‘ وہ ان کو روشنی سے تاریکیوں کی طرف لاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں آگ والے۔ اور یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) (257) ولی کا مفہوم گزشتہ آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو آدمی طاغوت کا انکار کرتا ہے اور اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اللہ کی مضبوط رسی کو تھام لیتا ہے۔ اور اس کے بعد فرمایا کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں معلوم ہوتا ہے انہی دونوں باتوں کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔ ولی کا معنی ہے مددگار ‘ کارساز ‘ دوست ‘ ساتھی اور حمایتی۔ جو شخص ایمان لاتا ہے اس کے تمام رشتے اللہ کے ساتھ قائم ہوجاتے ہیں۔ وہ جب اپنی کسی ذہنی ‘ نفسیاتی یا عملی مشکل پر اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ اسے سنتا ہے۔ اور وہ جیسے جیسے قدم قدم آگے بڑھتا ہے اللہ اس کی ایک ایک بات اور ایک ایک احساس کو جانتا ہے۔ وہ جہاں الجھنے لگتا ہے ‘ وہ اس کی الجھنیں دور کرتا ہے۔ جہاں وہ ٹھٹھکنے لگتا ہے اللہ اسے حوصلہ دیتا ہے۔ جہاں وہ مخالفتوں کے ہجوم میں گھبرانے لگتا ہے ‘ اللہ اسے سہارا ا دیتا ہے۔ جب وہ اپنی پریشانیوں میں اللہ کو مدد کے لیے پکارتا ہے تو اللہ اسے مدد دیتا ہے۔ اس طرح کوئی ذہنی تاریکی ‘ کوئی عقل کا اندھیرا ‘ کسی مخالفت کے گہرے سائے اور حالات کا کوئی جبر اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی تمام تاریکیوں سے اسے نور کی طرف نکال کے لے آتا ہے۔ ظلمات ظلمت کی جمع ہے کیونکہ انسان کو بہکانے صحیح راستہ سے ہٹانے یا حق کے معاملے میں غیر مطمئن کرنے کے سو ذرائع ہیں اور بیشمار قوتیں ہیں جو اس کام پہ لگی ہوئی ہیں اور شیطان کی شیطنت کا ایک وسیع دائرہ ہے جو انسان کے دل و دماغ سے لے کر اس کے معاملات اور تعلقات تک الجھنیں پیدا کرتا اور تاریکیاں بکھیرتا ہے اس لیے اس کو جمع کی صورت میں لایا گیا ہے۔ لیکن نور کا لفظ واحد کی صورت میں لایا گیا ہے حالانکہ نور کی جمع انوار ہماری زبان میں بھی مروج ہے اور عربی میں شائع و ذائع ہے۔ ہم میں کئی لوگوں کے نام انوار ہوتے ہیں لیکن اس کے واحد لانے کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ نور اللہ کی طرف سے عطا کی جانے والی ہدایت کا نام ہے۔ اور اللہ کی طرف سے اترنے والی اس روشنی کا نام ہے جو دل و دماغ کو جگمگا دیتی ہے۔ اس کا سرچشمہ چونکہ ایک ہے وہ اللہ کی ذات ہے اور اس کی نازل کردہ ہدایت بھی ایک ہے جو مختلف کتابوں کی شکل میں ہے لیکن اپنی معنویت اور حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک وحدت ہے۔ اس لیے پروردگار نے نور کا واحد لفظ استعمال فرمایا۔ ایک شخص کے سامنے جب اللہ کی ہدایت آتی ہے تو اسے آزادی میسر ہے چاہے وہ اسے قبول کرے اور چاہے رد کر دے۔ لیکن اگر وہ اسے قبول کر کے ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہوجاتا ہے تو یوں سمجھئے کہ وہ اللہ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتا ہے۔ اب وہ جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتا ہے اللہ اس کے راستے کھولتا جاتا ہے اور ہدایت کے امکانات پیدا کرتا جاتا ہے۔ وہ ہدایت اختیار کرتا ہے ‘ اللہ اس کی ہدایت میں اضافہ فرماتا ہے۔ اور اگر وہ مشکلات کی شدت کو محسوس کرتا ہے تو اللہ اس کے دل کو حوصلہ دیتا ہے جس طرح اصحاب کہف کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ چند لڑکے بالے تھے جن کی تعداد نو یا نو سے کم تھی۔ کیونکہ قرآن کریم نے فِتْیَۃٌ جمع قلت کا وزن استعمال کیا ہے جو نو یا اس سے کم کم پر بولا جاتا ہے۔ یہ چند لڑکے جب اپنے ملک کے مشرکانہ رویے کے خلاف توحید کے علمبردار بن کے اٹھے تو قانون ‘ احتسابی ادارے ‘ حکومتی سزائیں ‘ معاشرتی جبر ‘ سب انھیں اپنی گرفت میں لینے کے لیے بیتاب ہوگئے۔ ایسی صورت حال میں ان بچوں کا پریشان ہونا فطری بات تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ” ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ فرمایا اور ان کے دلوں کو ہم نے باندھ دیا “ یعنی حوصلہ دیا اور مضبوط کردیا۔ یہی مطلب ہے اللہ کے ولی ہونے کا کہ وہ ہر مرحلے پر اپنے بندے کی حمایت اور کارسازی فرماتا ہے۔ لیکن اگر ایک شخص کفر کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسکے لیے کفر کے راستے کھول دیتا ہے۔ وہ جیسے جیسے اس میں بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے شیطانی قوتیں اسے اپنی گرفت میں لینا شروع کردیتی ہیں۔ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ شیطان اور شیطانی ایجنٹ اس پر مسلط ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کہ شیطان کا اصل کام ہر شخص کو بہکانا اور گمراہ کرنا ہے۔ جو شخص ایمان لا کر اللہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیتا ہے تو وہ ایک ایسے حصار میں آجاتا ہے جس میں شیطان کی دخل اندازی ممکن نہیں ہوتی اور اللہ کی مدد شیطان کے حملوں سے اس کو محفوظ رکھتی ہے۔ لیکن جب ایک شخص اللہ کو ماننے اور اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینے سے انکار کردیتا ہے تو اب شیطانی قوتوں کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ وہ اس کو بہکاتے بہکاتے وہاں تک لے جاتی ہیں جہاں پلٹنے کے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ وہ بیوقوف یہ سمجھتا ہے کہ یہ اوباشوں کا گروہ جنھیں وہ اپنے احباب سمجھتا ہے میرا مددگار ہے ‘ یہ میرے ہمدرد اور حمایتی ہیں۔ یہی وہ کیفیت ہے جس کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا : وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ رَحْمَانِ نُقَیِّضْ لَـہٗ شَیْطَاناً فَہُوَ لَـہٗ قَرِیْن ( جو شخص اللہ کے ذکر سے اعراض کرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں وہ ہر وقت اس کا ساتھی بنا رہتا ہے۔ “ چناچہ یہی شیطانی تسلط اس وقت تک اس کے ساتھ رہتا ہے جب تک وہ کسی دلدل میں گر کر تباہ و برباد نہیں ہوجاتا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ” یہ لوگ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ یاد رہے کہ پیش نظر آیت کریمہ میں جو طاغوت کا لفظ آیا ہے یہ طواغیت کے معنی میں ہے یعنی جو لوگ کفر کرتے ہیں ان کے اولیاء اور ان کے حمایتی ایک طاغوت نہیں بہت سارے طاغوت ہوتے ہیں۔ سب سے بڑا طاغوت تو شیطان ہوتا ہے جو اس کے سامنے نت نئی جھوٹی ترغیبات کا سدا بہار سبز باغ پیش کرتا ہے اور دوسرا طاغوت آدمی کا اپنا نفس ہے کہ جو اللہ کا راستہ چھوڑ کر کفر کا راستہ اختیار کرنے کے بعد خود ایک مستقل طاغوت بن جاتا ہے اور پھر وہ صاحب نفس کو اپنے اشاروں پر چلاتا ہے ‘ اسے ہر وقت نفس امارہ بن کر برائی کا حکم دیتا ہے اور ایسے نفس کا حامل اس حد تک کمزور ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے نفس کی ہر خواہش اور ہر حکم کی غلامی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ تمام محبت کے رشتے جن کی محبت کی زنجیریں آدمی کو جکڑ لیتی ہیں اور یہ بالکل بےبس ہوجاتا ہے وہ بھی اسے اپنے اشاروں پہ چلاتے اور طاغوت ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ مثلاً بیوی اپنی فرمائشوں سے ‘ اپنے شوہر کو غلط کام کرنے پر مجبور کرتی ہے ‘ بچوں کی محبت اسے رشوت لینے پر اکساتی ہے ‘ اسی طرح اعزہ ‘ اقربا ‘ برادری ‘ خاندان ‘ دوست ‘ سوسائٹی اور قوم ‘ پیشوا اور رہنما ‘ حکومت اور حکام سب ایسے کمزور آدمی کے لیے طاغوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اس سے اپنے اغراض کی بندگی کراتا ہے اور بیشمار آقائوں کا یہ غلام ساری عمر اسی چکر میں پھنسا رہتا ہے کہ کس آقا کو خوش کرے اور کس کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کرے۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

(کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیم سے جھگڑا کیا اس کے رب کے بارے میں اس بنا پر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی ہے۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا تو رب وہ ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے تو اس نے جواب دیا میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ بیشک اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال لا۔ تو وہ کافر یہ سن کر ششدر رہ گیا۔ اور اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰہٖمَ فِیْ رَبِّـہٖٓ اَنْ اٰ تٰـہُ اللّٰہُ الْمُلْـکَ م اِذْقَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیتُ لا قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَاُمِیْتُ ط قَالَ اِبْرٰہٖمُ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیْ کَفَرَط وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمِ الْظّٰلِمِیْنَ ۔ ج کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیم سے جھگڑا کیا اس کے رب کے بارے میں اس بنا پر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی ہے۔ جب ابراہیم نے کہا کہ میرا تو رب وہ ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے تو اس نے جواب دیا میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ بیشک اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال لا۔ تو وہ کافر یہ سن کر ششدر رہ گیا۔ اور اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا) (258) سابقہ آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا تھا کہ مومن کا ولی اور مددگار اللہ ہوتا ہے۔ وہ اسے تاریکیوں سے روشنی میں نکال کے لاتا ہے۔ اور کافر کے مددگار طاغوت ہوتے ہیں جو اسے روشنی سے تاریکیوں میں لے جاتے ہیں۔ اب اس رکوع میں اسی بات کی تین مثالیں دی گئی ہیں۔ ان میں سے پہلی مثال اس شخص کی ہے جس کے سامنے مضبوط دلائل کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حقیقت واضح فرمائی اور حق اس کے سامنے بالکل واضح ہو کر آگیا اور وہ اس پر لاجواب بھی ہوگیا۔ لیکن اس نے اپنا رشتہ چونکہ اللہ سے توڑ کر شیطان سے جوڑ رکھا تھا اور اس نے طاغوت کے ہاتھ میں اپنی نکیل دے رکھی تھی اس لیے حق واضح ہوجانے کے باوجود وہ حق قبول کر کے روشنی کی طرف نہیں آیا۔ بلکہ وہ برابر تاریکیوں میں ہی بھٹکتا رہا حتیٰ کہ وہ اپنے انجام بد کو پہنچ گیا۔ الذی سے کیا مراد ہے ؟ یہاں جس شخص کا ذکر کیا جا رہا ہے مفسرین کا تقریباً اس بات پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد نمرود ہے۔ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہم وطن اور آپ کے وطن عراق کا مطلق العنان بادشاہ تھا۔ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ نمرود وہی شخص ہے تاریخ جسے حمورابی کے نام سے یاد کرتی ہے اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے اپنے رعایا کو ایک تحریری آئین دیا۔ عراق کے بعض علاقوں کی کھدائی میں بعض ایسے کتبے ملے ہیں جن پر اس کا آئین کندہ ہے۔ وہ آئین تو جیسا بھی تھا البتہ اس سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ یہ نمرود یا حمورابی ایک ایسا شخص تھا جو اپنی مملکت کو آئین کے مطابق چلانا چاہتا تھا۔ یہاں جس واقعے کا ذکر کیا جا رہا ہے بائبل میں تو اس کے متعلق کوئی اشارہ نہیں ملتا ‘ البتہ تالمود میں یہ پورا واقعہ موجود ہے اور بڑی حد تک قرآن کے مطابق ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نمرود کے ہاں سلطنت کے سب سے بڑا وفادار ‘ سب سے بڑے عہدیدار کا منصب رکھتا تھا۔ میرا گمان یہ ہے کہ نمرود کے زمانے میں عراق میں جہاں مظاہر قدرت کی پوجا ہوتی تھی وہیں بت پرستی کا چلن بھی عام تھا اور بڑے بڑے بت خانے ملک میں پائے جاتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا والد سب سے بڑے بت خانے کا متولی یا نگران تھا اور جس طرح ہندوستان میں سب سے بڑے پروہت کو بادشاہ کے بعد دوسرے درجے کا آدمی سمجھا جاتا ہے اور راجے مہاراجے اسے سلام کرتے ہیں۔ یہی حال عراق میں بھی تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب کھلم کھلا شرک کی مخالفت اور توحید کی تبلیغ شروع کی اور بت خانے میں گھس کر بتوں کو توڑ ڈالا اور کلہاڑا سب سے بڑے بت کے کندھے پر رکھ کے چلے آئے۔ تو ان کے باپ نے خود ان کا مقدمہ بادشاہ کے دربار میں پیش کیا۔ اس طرح بادشاہ کے سامنے وہ ایک ملزم کی حیثیت میں پیش ہوئے۔ اور وہاں بادشاہ اور آپ ( علیہ السلام) کے درمیان جو گفتگو ہوئی ‘ اس کو نہایت اختصار کے ساتھ یہاں بیان کیا گیا ہے۔ مابہ النزاع چیز کیا تھی ؟ اس گفتگو کو ذکر کرنے سے پہلے یہ مناسب ہوگا کہ یہ بات سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان مابہ النزاع چیز کیا تھی ؟ اس میں ایک رائے مولانا مودودی ( رح) کی ہے اسے ہم تفہیم القرآن سے نقل کرتے ہیں : ” یعنی اس جھگڑے میں جو چیز مابہ النزاع تھی ‘ وہ یہ تھی کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنا رب کس کو مانتے ہیں۔ اور یہ نزاع اس وجہ سے پیدا ہوئی تھی کہ اس جھگڑنے والے شخص ‘ یعنی نمرود کو خدا نے حکومت عطا کر رکھی تھی۔ ان دو فقروں میں جھگڑے کی نوعیت کی طرف جو اشارہ کیا گیا ہے اس کو سمجھنے کے لیے حسب ذیل حقیقتوں پر نگاہ رہنی ضروری ہے۔ 1 قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام مشرک سوسائٹیوں کی یہ مشترک خصوصیت رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو رب الارباب اور خدائے خدائیگان کی حیثیت سے تو مانتے ہیں مگر صرف اسی کو رب اور تنہا اسی کو خدا اور معبود نہیں مانتے۔ 2 خدائی کو مشرکین نے ہمیشہ دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک فوق الفطری (Supernatural) خدائی ‘ جو سلسلہ اسباب پر حکمراں ہے اور جس کی طرف انسان اپنی حاجات اور مشکلات میں دستگیری کے لیے رجوع کرتا ہے۔ اس خدائی میں وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ارواح اور فرشتوں اور جنوں اور سیاروں دوسری بہت سی ہستیوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ‘ ان سے دعائیں مانگتے ہیں ‘ ان کے سامنے مراسم پرستش بجا لاتے ہیں اور ان کے آستانوں پر نذر و نیاز پیش کرتے ہیں۔ دوسری تمدنی اور سیاسی معاملات کی خدائی (یعنی حاکمیت) جو قوانین حیات مقرر کرنے کی مجاز اور اطاعت امر کی مستحق ہو اور جسے دنیوی معاملات میں فرماں روائی کے مطلق اختیارات حاصل ہوں۔ اس دوسری قسم کی خدائی کو دنیا کے تمام مشرکین نے قریب قریب ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ سے سلب کر کے ‘ یا اس کے ساتھ شاہی خاندانوں اور مذہبی پروہتوں اور سوسائیٹی کے اگلے پچھلے بڑوں میں تقسیم کردیا ہے۔ اکثر شاہی خاندان اسی دوسرے معنی میں خدائی کے مدعی ہوئے ہیں اور اسے مستحکم کرنے کے لیے انھوں نے بالعموم پہلے معنی والے خدائوں کی اولاد ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور مذہبی طبقے اس معاملے میں ان کے ساتھ شریک سازش رہے ہیں۔ 3 نمرود کا دعوئے خدائی بھی اسی دوسری قسم کا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کا منکر نہ تھا۔ اس کا دعویٰ یہ نہیں تھا کہ زمین و آسمان کا خالق اور کائنات کا مدبر وہ خود ہے۔ اس کا کہنا یہ نہیں تھا کہ اسباب عالم کے پورے سلسلے پر اسی کی حکومت چل رہی ہے۔ بلکہ اسے دعویٰ اس امر کا تھا کہ اس ملک عراق کا اور اس کے باشندوں کا حاکم مطلق میں ہوں ‘ میری زبان قانون ہے ‘ میرے اوپر کوئی بالا اقتدار نہیں ہی ‘ جس کے سامنے میں جواب دہ ہوں اور عراق کا ہر وہ باشندہ باغی و غدار ہے جو اس حیثیت سے مجھے اپنا رب نہ مانے یا میرے سوا کسی اور کو رب تسلیم کرے۔ 4 ابراہیم (علیہ السلام) نے جب کہا کہ میں صرف ایک رب العالمین ہی کو خدا اور معبود اور رب مانتا ہوں اور اس کے سوا سب کی خدائی اور ربوبیت کا قطعی طور پر منکر ہوں تو سوال صرف یہی پیدا نہیں ہوا کہ قومی مذہب اور مذہبی معبودوں کے بارے میں ان کا یہ نیا عقیدہ کہاں تک قابل برداشت ہے ‘ بلکہ یہ سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا کہ قومی ریاست اور اس کے مرکزی اقتدار پر اس عقیدے کی جو زد پڑتی تھی ‘ اسے کیونکر نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جرم بغاوت کے الزام میں نمرود کے سامنے پیش کیے گئے۔ (ماخوذ از : تفہیم القرآن) دیگر مفسرین بالعموم یہ بات لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے قریب قریب زمانوں میں عام طور پر جو بادشاہ ہوتے تھے وہ اپنے آپ کو اوتار بادشاہ کی حیثیت سے نمایاں کرتے تھے۔ یعنی ان کی قوم کے لوگ جن دیوتائوں کو پوجتے تھے بادشاہ ان میں سب سے بڑے دیوتا کا مظہر سمجھا جاتا تھا۔ نمرود بھی اپنے آپ کو سورج کا اوتار سمجھتا تھا۔ روایاتِ یہود میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی پرستش خدا ہی کی طرح کراتا تھا اور اپنے لیے اس نے ایک عرش الٰہی تیار کروایا تھا جس پر اجلاس کیا کرتا تھا بعض مفسرین کا خیال ہے کہ نمرود فرعون کی طرح اپنے آپ کو خدائے اعظم کا مظہر یا بروز یا اوتار سمجھتا تھا۔ رفتہ رفتہ خدائے واحد سے بھی جلنے لگا ‘ جو زیفس یہود کا مورخ قدیم اپنی تاریخ آثار یہود میں لکھتا ہے کہ نمرود لوگوں کی خوشحالی کو خدا کی جانب نسبت دینے سے روکتا تھا گویا وہ خود قادر علی الاطلاق ہے۔ وہ کہتا تھا کہ اگر اب خدا نے طوفانِ نوح کی طرح دنیا کو ڈبویا تو میں اس سے انتقام لوں گا۔ اپنے بارے میں اس کے یہی مزعومات یا توہمات تھے جس کی وجہ سے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے دربار میں طلب کیا اور آپ سے سوال کیا کہ اس سرزمین کا رب تو میں ہوں تو کس رب کی لوگوں کو دعوت دیتا ہے ؟ اپنے رب کا تعارف کروائو تاکہ میں بھی جانوں کہ وہ کون ہے ؟ چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ” میرا رب وہ ہے جو زندگی اور موت پر قادر ہے۔ “ یعنی موت وحیات کی ساری قوتیں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی سارے نظام ربوبیت کا سرچشمہ ہے۔ کسی بندہ میں یہ طاقت نہیں کہ اس کے نظام حیات و ممات کو بدل دے۔ نمرود اس بات کی حقیقت کو یا تو سمجھا نہیں یا تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے اس نے کہا ” زندگی اور موت پر تو میں بھی قادر ہوں ‘ میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔ “ سامانِ معیشت سب میرے ہاتھ میں ہیں میں جسے چاہوں روزی دوں اور جسے چاہوں بھوکا مار ڈالوں۔ بعض روایات میں کہا گیا ہے جن کی اسنادی حیثیت بہت کمزور ہے کہ نمرود نے ایک بےگناہ کو قتل کروا دیا اور ایک ایسا شخص جسے پھانسی ہونے والی تھی اسے رہا کردیا اور کہا دیکھو میں جسے چاہوں زندگی دے دوں اور جسے چاہوں موت سے ہمکنار کر دوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بجائے اس کے کہ اس دلیل پر اصرار کرتے اور اس کی حقیقت واضح کرنے کی کوشش فرماتے۔ آپ نے اندازہ کرلیا یہ شخص بات کو الجھانا چاہتا ہے تو آپ ( علیہ السلام) نے اس دلیل پر اصرار کرنے کے بجائے دوسری دلیل دی۔ اللہ کے نبی چونکہ مناظر نہیں ہوتے بلکہ داعی ہوتے ہیں اس لیے ان کے سامنے ہمیشہ دعوت کا پہلو نمایاں رہتا ہے۔ نمرود چونکہ سورج دیوتا کا اوتار تھا اور سورج ہی کلدانیوں کے عقیدہ میں معبود اعظم تھا چناچہ آپ نے بات کو زیادہ موثر بنانے کے لیے ان کے معبود اعظم کے حوالے سے فرمایا کہ تم سورج کے قادر و متصرف ہونے کے توقائل ہو زیادہ نہیں تو یہی کر دکھائو کہ سورج اپنے ارادہ سے عام سنت الٰہی کے خلاف ذر ا اپنا رخ ہی بدل دے۔ دوسروں پر اس کے ارادہ و تصرف کی بات تو الگ رہی وہ خود اپنے اوپر ہی تصرف کر کے دکھائے ‘ کسی خدا کی بےبسی کا منظر اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے ؟ چناچہ جیسے ہی آپ نے فرمایا کہ اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور مغرب میں ڈبوتا ہے تم اتنا کرو کہ اسے مغرب سے نکال کر دکھا دو ۔ یعنی تم اپنے معبود اعظم سے کہو کہ معاملہ چونکہ حق و باطل کے معرکے کا ہے کہ ایک نوجوان تمہارے بنیادی عقیدے کو چیلنج کر رہا ہے۔ ایسے میں خاموشی تو بڑی خطرناک بات ہے اس لیے ذرا اپنا رخ بدل کر اپنے معبود اعظم ہونے کو ثابت کرو۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ کافر یہ سن کر مبہوت اور ششدر رہ گیا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کی قوت گویائی سلب ہوگئی ہے۔ آخر میں فرمایا ظالم کا مفہوم وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمِ الْظّٰلِمِیْن (اللہ ظالم قوم کو راستہ نہیں دکھاتا) نمرود چونکہ ظالم تھا اور اس لیے اسے بحث میں خفت اٹھانی پڑی اور وہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔ قرآن کی اصطلاح میں ظالم سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کی نعمتوں اور اس کی بخشی ہوئی قوتوں اور صلاحیتوں کو بےجا استعمال کرتے ہیں۔ اللہ انھیں جو انعامات دیتا ہے ‘ انھیں اللہ کا فضل قرار دینے کی بجائے اپناحق سمجھتے ہیں۔ وہ خدائے منعم کا شکر گزار ہونے کے بجائے غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ نمرود کو اللہ نے حکومت اور مملکت عطا کی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھے کہ وہ اس نعمت پر اللہ کا شکر گزار بندہ بنتا لیکن اس نے اقتدار کو اپنا استحقاق سمجھ لیا۔ وہ بالکل بھول گیا کہ اللہ نے اقتدار دے کر اس کا امتحان لیا ہے۔ وہ استکبار کا شکار ہو کر خود رب بن بیٹھا اور خدائی کا تخت بچھا کر اللہ کے مقابلے میں احکام دینے لگا۔ ایسا ظالم شخص اللہ کی ہدایت سے کس طرح فیضیاب ہوسکتا تھا۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا (کیا تو نے غور نہیں کیا) اس شخص کے حال پر جو گزرا ایک بستی پر دراں حالیکہ وہ گری پڑی تھی اپنی چھتوں پر۔ وہ کہنے لگا کیونکر زندہ کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اس کے ہلاک ہونے کے بعد سو اللہ نے اس شخص کو سو سال تک مردہ رکھا۔ پھر اسے زندہ کیا۔ فرمایا کتنی مدت تو یہاں ٹھہرا رہا اس نے کہا میں ٹھہرا ہوں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ اللہ نے فرمایا نہیں بلکہ تو ٹھہرا رہا ہے سو سال۔ پس اب دیکھ اپنے کھانے کی طرف اور اپنے پینے کی طرف یہ باسی نہیں ہوا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور یہ سب اس لیے کہ ہم تجھے بنائیں گے نشانی لوگوں کے لیے اور دیکھ ان ہڈیوں کی طرف کہ ہم انھیں کیسے جوڑتے ہیں ‘ پھر ہم ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ پھر جب اس کے لیے حقیقت روشن ہوگئی تو اس نے کہا میں جان گیا ہوں بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

اَوْکَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَۃٍ وَّہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَاج قَالَ اَنّٰی یُحْیٖ ھٰذِہِ اللّٰہُ بَعْدَ مَوْتِہَاج فَاَمَاتَـہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَـہٗ ط قَالَ کَمْ لَبِثْتَ ط قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ ط قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ ج وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ وَلِنَجْعَلَـکَ اٰ یَۃً لِّلنَّاسِ وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُہَا ثُمَّ نَـکْسُوْہَا لَحْمًاج فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَـہٗ لا قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ ” یا (کیا تو نے غور نہیں کیا) اس شخص کے حال پر جو گزرا ایک بستی پر دراں حالیکہ وہ گری پڑی تھی اپنی چھتوں پر۔ وہ کہنے لگا کیونکر زندہ کرے گا اسے اللہ تعالیٰ اس کے ہلاک ہونے کے بعد سو اللہ نے اس شخص کو سو سال تک مردہ رکھا۔ پھر اسے زندہ کیا۔ فرمایا کتنی مدت تو یہاں ٹھہرا رہا اس نے کہا میں ٹھہرا ہوں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ اللہ نے فرمایا نہیں بلکہ تو ٹھہرا رہا ہے سو سال۔ پس اب دیکھ اپنے کھانے کی طرف اور اپنے پینے کی طرف یہ باسی نہیں ہوا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور یہ سب اس لیے کہ ہم تجھے بنائیں گے نشانی لوگوں کے لیے اور دیکھ ان ہڈیوں کی طرف کہ ہم انھیں کیسے جوڑتے ہیں۔ پھر ہم ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ پھر جب اس کے لیے حقیقت روشن ہوگئی تو اس نے کہا میں جان گیا ہوں بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “ (259) الذی سے کون مراد ہے ؟ نمرود کا واقعہ اس شخص کی مثال تھی جس نے اپنا آپ اللہ کے ہاتھ میں دینے کی بجائے طاغوت کے ہاتھ میں دے دیا اور اس نے اللہ کی بجائے طاغوت کو اپنا ولی بنایا۔ اب یہ مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ کو اپنا ولی بنایا اور اپنی باگ ڈور اس کے سپرد کردی۔ اس آیت کے فہم میں سب سے پہلی بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں جس شخص کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ کون ہے ؟ اس سلسلے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض لوگ اس سے حضرت یرمیاہ نبی مراد لیتے ہیں۔ یہ بھی اسرائیلی سلسلہ کے پیغمبر ہیں۔ یہ ساتویں صدی قبل مسیح میں ہوئے۔ تاریخ یہود کے مطابق انھیں 646 میں نبوت ملی۔ تاریخی اعتبار سے یہ قول سب سے ضعیف معلوم ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے حضرت حزقیل (علیہ السلام) کو اس واقعہ کا مصداق ٹھہرایا ہے۔ یہ حضرت یرمیاہ نبی کے ہم عصر اور چھٹی صدی قبل مسیح میں گزرے ہیں۔ بائبل نے ان کا قصہ بیان کیا ہے لیکن وہ کشف یا رؤیا کے طور پر ہے بصورتِ واقعہ نہیں اور قرآن کریم جس طرح بیان کر رہا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک واقعہ ہے جو اس شخص کے ساتھ پیش آیا ہے۔ مفسرین کی اکثریت اس طرف گئی ہے کہ یہاں جس شخص کا ذکر ہو رہا ہے اس سے مراد حضرت عزیر نبی ہیں۔ یہ بھی بنی اسرائیل کے مشہور پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح کا ہے۔ بائبل میں ان کا نام عزرا کاتب یعنی کاتب تورات کی حیثیت سے آتا ہے۔ ایک صحیفہ بھی ان کے نام کی طرف منسوب ہے۔ اس شخص سے حضرت عزیر کو مراد لینے والوں میں حضرت علی ( رض) اور حضرت ابن عباس ( رض) وغیرہ جیسی عظیم شخصیتیں بھی ہیں۔ اسی لیے بالعموم اسی قول کو ترجیح دی جاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ سے چونکہ اس سلسلہ میں کوئی صحیح روایت ہم تک نہیں پہنچی اس لیے یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب اندازے ہیں یا بنی اسرائیل کی روایات ہیں۔ کسی بات کو یقینی کہنا مشکل ہے۔ قریہ سے کیا مراد ہے ؟ دوسرا سوال اس ضمن میں یہ ہے کہ یہاں قریہ سے کون سی بستی مراد ہے ؟ اس سلسلے میں مختلف شہروں کے نام لیے جاتے ہیں۔ لیکن اکثریت یروشلم یا بیت المقدس کی طرف گئی ہے۔ یہ شہر بابل کے بادشاہ بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں بہت بری طرح تاخت و تاراج کر ڈالا تھا۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) جب اس شہر کے قریب سے گزرے تو وہ اس ہولناک منظر کی تاب نہ لاسکے تو بےساختہ پکار اٹھے اس مہیب تباہی کے بعد اس بستی کے زندہ ہونے کے کیا امکانات ہیں ؟ سوال کی نوعیت حضرت عزیر چونکہ اللہ کے نبی مشہور ہیں اگر واقعہ انہی کا ہے تو خود بخود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے اس سوال کی نوعیت کیا تھی ؟ کیونکہ ایک پیغمبر اگر موت کے بعد زندگی پر یقین نہیں رکھتا اور وہ مطمئن نہیں ہے کہ واقعی اللہ تعالیٰ ہر طرح کی موت کے بعد زندگی دینے پر قادر ہے تو پھر اور کون ہوگا جسے بعث بعد الموت پر یقین آئے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کا یہ سوال انکار کی نوعیت کا نہ تھا اور معمولی بصیرت رکھنے والا آدمی بھی کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ کوئی مسلمان انکار پر مبنی سوال کرسکتا ہے چہ جائیکہ کسی پیغمبر کے بارے میں ایسا گمان کیا جائے۔ یہ سوال درحقیقت اس طرح کا تھا جس طرح کے سوالات جستجوئے حقیقت کے جوش سے پیدا ہوا کرتے ہیں۔ ایک آدمی جو کسی بات کو عقل و بصیرت سے سمجھتا ہے۔ عقل کی مانی ہوئی باتوں میں وہ ثبات اور اطمینان نہیں ہوتا جو ایمان کے لیے ضروری ہے تو وہ اس سے آگے قدم بڑھاتے ہوئے وجدان کی منازل اور ایقان کے مدارج طے کرتے ہوئے کئی دفعہ اپنے آپ سے سوال کرتا ہے کہ میں یہاں تک تو پہنچ گیا ہوں اس سے اگلی منزل کیا ہوگی ؟ پھر اس کے جواب کے لیے وہ جستجو کے مزید سفر پہ نکل کھڑا ہوتا ہے تو یہ سفر مسلسل یقین و ایمان کا سفر ہے جس میں کہیں شک و ارتیاب کی پرچھائیں بھی نہیں پڑتیں چہ جائیکہ وہاں انکار کا سایہ پڑ سکے۔ اور یہ تو ہر صاحب علم جانتا ہے کہ یقین کے بھی مراتب ہیں۔ پہلا مرتبہ علم الیقین ہے ‘ دوسرا عین الیقین اور تیسرا حق الیقین ہے۔ ہر صاحب ایمان علم الیقین کے حصول کا مکلف ہے۔ لیکن اللہ کے نبی اس حد تک مطمئن نہیں ہوتے کیونکہ ان کے سامنے صرف اپنی ذات نہیں ہوتی بلکہ وہ تمام لوگ ہوتے ہیں جنھیں یقین کی دولت سے بہرہ ور کرنا ہوتا ہے اس لیے ان کے اندر یقین کی وہ قوت ناگزیر ہے جو شکوک و شبہات اور ناموافق حالات کے کسی حملے سے بھی متاثر نہ ہو اور ان کا یقین جس طرح ان کی اپنی ذات کو منور رکھے اسی طرح باقی سب تک بھی اس کی شعائیں پہنچتی رہیں۔ چناچہ اسی ضرورت کے تحت اللہ تعالیٰ انھیں عین الیقین سے نوازتا ہے۔ انھیں ملکوت السموات والارضدکھائے جاتے ہیں اور عالم غیب اور کائنات کے ان گوشوں کی انھیں سیر کرائی جاتی ہے جہاں دوسروں کی رسائی ممکن نہیں۔ اس سے مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ لیکون من الموقنین تاکہ وہ یقین لانے والوں میں سے ہوجائیں “ یعنی انھیں عین الیقین حاصل ہوجائے۔ لیکن اللہ کے نبی چونکہ اللہ کی ذات وصفات سے غایت درجہ تعلق اور رابطہ رکھتے ہیں اس لیے ان کا سفر حق الیقین کی طرف جاری رہتا ہے۔ اور وہ اسی سلسلہ میں اپنے اللہ سے سوال بھی کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ ان کا ولی ہے تو ان کا اصل سہارا اسی کی ذات ہے۔ وہی چونکہ ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اس لیے وہ اسی سے نور ایمان اور نور یقین کے طلبگار ہوتے ہیں۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کا سوال بھی ایسی ہی نوعیت کا ہے۔ وہ یہ خوب جانتے تھے کہ اللہ کی قدرت بےپناہ ہے ‘ وہ ہر طرح کی تباہی اور ہلاکت کے بعد زندگی عطا کرنے پر قادر ہے۔ لیکن ان کے پیش نظر یقین کی آخری منزل تک پہنچنا تھا۔ اس لیے جب انھوں نے اس کے لیے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے دستگیری فرمائی اور انھیں ایک ایسے تجربے سے گزارا جس کی بعد حق الیقین کا حاصل ہونا ایک بدیہی بات تھی۔ اللہ نے ان کے سوال کے جواب میں انھیں موت دے دی اور پھر سو سال تک انھیں مردہ حالت میں سلائے رکھا۔ پوری ایک صدی گزرنے کے بعد انھیں اٹھایا اور پوچھا کہ تم نے یہاں کتنا زمانہ گزارا ہے ؟ کہنے لگے معلوم ہوتا ہے دن بھر سویا رہا ہوں یا شاید دن کا کچھ حصہ سویا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم پر تو ایک صدی بیت چکی ہے ‘ زمانہ ایک صدی آگے بڑھ چکا ہے ‘ ایک نسل گزر گئی دوسری جوان ہوچکی ہے ‘ لیکن اندازہ فرمایئے کہ انھیں ایک صدی گزرنے کا بالکل احساس نہیں ہوا۔ فوری طور پر اس سے انسان کی ذہنی نارسائی کا احساس ہوتا ہے کہ وہ انسان جو موت وحیات کا بھید جاننا چاہتا ہے وہ یہ تک نہیں جان سکتا کہ موت کے بعد صدیاں گزرتی ہیں اور اسے احساس نہیں ہوتا اور اگر اسے اٹھایا جائے تو وہ یہ بھی بھول چکا ہوتا ہے کہ میں کبھی موت کی سختی چکھ چکا ہوں۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نیند کے مزے لیتا رہا ہوں ‘ عالم برزخ میں گزرے ہوئے وقت کا انسان کو بالکل احساس نہیں ہوتا۔ نفخہ ثانیہ کے بعد جب انسان اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو ہر قبر سے اٹھنے والا حیران ہو کر پوچھے گا مَنْ م بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا ( ہمیں ہماری نیند سے کس نے اٹھا دیا) آج اگر کسی سے قیامت کی بات کی جائے تو وہ کہتا ہے کہ ” جناب وہ تو بہت دور کی بات ہے آپ ابھی سے اسے کیوں لے بیٹھے ہیں ؟ “ لیکن ہمیں اندازہ نہیں کہ برزخ میں گزرا ہوا وقت قیامت میں ہمیں ایسا لگے گا جیسے ہم چند گھنٹے سو کے اٹھے ہیں۔ حضرت عزیر کو بھی ایک صدی ایسے ہی محسوس ہوئی۔ لیکن جب انھیں بتایا گیا کہ آپ پر تو ایک صدی گزر چکی ہے تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کے احساسات کی کیفیت کیا ہوگی ؟ پھر ان سے فرمایا گیا کہ اب ذرا اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو جو تم سفر میں ساتھ لے کے چلے تھے۔ جب وہ دیکھی گئیں تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ایک صدی گزر جانے کے باوجود وہ باسی تک نہیں ہوئیں۔ ان میں سڑاند تو کیا پیدا ہوتی وہ بالکل تروتازہ تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے سو سال تک اللہ نے تغیر کے عمل کو ان کی حد تک روک دیا تھا کہ خبر دار ان پر اثر نہ کرنا۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دنیا میں تاثیر اور تاثر کا قانون ناقابل تغیر ہے۔ موسم کے اثرات کو کوئی نہیں روک سکتا۔ سردی گرمی کو تاثیر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ چیزوں کے اثرات اور خواص ایک حقیقت ہیں جن میں تخلف نہیں ہوسکتا۔ ہر چیز وقت گزرنے کے ساتھ بگڑتی اور مرتی ہے۔ جو بچہ ہے وہ جوان ہوتا ہے جو جوان ہے وہ بوڑھا ہوتا ہے اور جو بوڑھا ہے وہ موت سے ہمکنار ہوتا ہے۔ یعنی یہ وہ سلسلہ ٔ تاثیر و تاثر ہے جسے ہم حد درجہ لازمی سمجھتے ہیں۔ اور کوئی اگر یہ کہے کہ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سلسلہ رک جائے تو ہم کبھی اسے ماننے کو تیار نہیں ہوتے لیکن قرآن کریم بتارہا ہے کہ کھانے پینے کی چیزیں جو چند گھنٹوں میں گل سڑ جاتی ہیں وہ ایک صدی تک ہر طرح کے تغیر سے محفوظ رہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ہم جن قوانین کو عمل کرتا ہوا دیکھتے ہیں وہ اپنی مرضی کے مختار نہیں۔ بلکہ کوئی ذات ہے جس کا حکم موثر حقیقی ہے۔ یہاں کے قوانین بھی اسی کے احکام کے پابند ہیں۔ وہ جب تک چاہتا ہے کسی قانون کو عمل کرنے دیتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے روک دیتا ہے۔ آگ ہمیشہ جلاتی ہے لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کی بجائے گلزار بن گئی۔ چھری ہمیشہ کاٹتی ہے لیکن حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا گلا نہ کاٹ سکی ‘ دریائوں اور سمندروں کا پانی ہمیشہ جولانیاں دکھاتا ہے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے لیے پایاب ہوگیا۔ یہی حقیقت اس واقعے میں بھی دہرائی جا رہی ہے۔ پروردگار نے حضرت عزیر (علیہ السلام) سے فرمایا اب اپنے اس گدھے کو دیکھو جس پر تم سوار ہو کر آئے تھے۔ جو یقینا کھانے پینے کی چیزوں کی عمر سے لمبی عمر رکھتا تھا۔ اسے دیکھا تو اس کی ہڈی ہڈی الگ ہوچکی تھی ‘ م اس کا نام و نشان نہ تھا ‘ فرمایا دیکھو ہم اس کی ہڈیوں کو کیسے جمع کرتے اور پھر ترتیب دیتے ہیں اور پھر دیکھو ہم کیسے اس پر گوشت چڑھاتے ہیں اور پھر کیسے زندہ کر کے اسے کھڑا کردیتے ہیں۔ جب یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور خود اپنی ذات پر ایک صدی گزر گئی تو تب وہ حق الیقین حاصل ہوا جو ان کی اصل خواہش اور طلب تھی اور اللہ کی رحمت سے سرشار ہو کر فرمایا کہ اب میں پوری طرح جان گیا ہوں۔ میرے اس جاننے میں یقین کی پوری روح کارفرما ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ مارنے پر بھی قادر ہے اور زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔