2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

(اے ایمان والوجب تم کسی معین مدت کے لیے ادھار کا لین دین کرو تو اس کو لکھ لیا کرو۔ اور چاہیے کہ لکھے تمہارے درمیان لکھنے والا عدل و انصاف سے۔ اور جسے لکھنا آتا ہو وہ لکھنے سے انکار نہ کرے۔ جس طرح اللہ نے اسے سکھایا ہے پس وہ بھی لکھ دے اور یہ دستاویز لکھوائے وہ شخص جس کے ذمہ حق ہے۔ اور وہ اللہ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے۔ اور اس میں کوئی کمی نہ کرے ‘ پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بےعقل ہے یا ضعیف ہے یا لکھوا نہ سکتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔ اور اس پر اپنے لوگوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو۔ پس اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں۔ یہ گواہ تمہارے پسندیدہ لوگوں میں سے ہوں۔ (دو عورتیں اس لیے کہ) اگر ان میں سے ایک عورت بھول جائے تو ان میں سے دوسری یاد دلا دے گی۔ اور جب گواہ بلائے جائیں تو آنے سے انکار نہ کریں۔ اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا اس کی مدت تک کے لیے اس کو لکھنے میں تساہل نہ برتیں۔ تو یہ ہدایات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین عدل ‘ گواہی کو زیادہ ٹھیک رکھنے والی اور اس عمل کے زیادہ قرین قیاس ہے کہ تم شبہات میں نہ پڑو۔ مگر یہ کہ سودا دست بدستی ہو جس کا تم لین دین آپس میں کرو۔ (اس صورت میں) تم پر کوئی حرج نہیں اس بات میں کہ تم اسے نہ لکھو۔ اور تم کوئی معاملہ خریدو فروخت کا کرو تو اس صورت میں بھی گواہ بنا لیا کرو۔ اور نہ نقصان پہنچایا جائے کاتب کو اور نہ گواہ کو۔ اور اگر تم ایسا کرو گے تو یہ تمہاری نافرمانی ہوگی۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَایَنْـتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْہُ ط وَلْیَکْتُبْ بَّـیْـنَـکُمْ کَاتِبٌ م بِالْعَدْلِ ص وَلَا یَاْبَ کَاتِبٌ اَنْ یَّکْتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ فَلْیَکْتُبْ ج وَلْـیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّـہٗ وَلَا یَبْخَسْ مِنْہُ شَیْئًا ط فَاِنْ کَانَ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ سَفِیْہًا اَوْضَعِیْفًا اَوْلَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ ھُوَفَلْیُمْلِلْ وَلِیُّہٗ بِالْعَدْلِ ط وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ ج فَاِنْ لَّمْ یَکُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآئِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰ ہُمَا الْاُخْرٰی ط وَلَا یَاْبَ الشُّہَدَآئُ اِذَا مَا دُعُوْاط وَلَا تَسْئَمُوْٓا اَنْ تَکْتُبُوْہُ صَغِیْرًا اَوْ کَبِیْرًا اِلٰٓی اَجَلِہٖ ط ذٰلِکُمْ اَقْسَطُ عِنْدَاللّٰہِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَ اَدْنٰٓی اَلَّا تَرْتَابُوْٓا اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیْرُوْنَہَا بَیْنَکُمْ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَکْتُبُوْہَا ط وَاَشْھِدُوْٓا اِذَا تَبَایَعْتُمْ ص وَلَا یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَّلَا شَھِیْدٌ 5 ط وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّـہٗ فُسُوْقٌ م بِکُمْ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ (اے ایمان والوجب تم کسی معین مدت کے لیے ادھار کا لین دین کرو تو اس کو لکھ لیا کرو۔ اور چاہیے کہ لکھے تمہارے درمیان لکھنے والا عدل و انصاف سے۔ اور جسے لکھنا آتا ہو وہ لکھنے سے انکار نہ کرے۔ جس طرح اللہ نے اسے سکھایا ہے پس وہ بھی لکھ دے اور یہ دستاویز لکھوائے وہ شخص جس کے ذمہ حق ہے۔ اور وہ اللہ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے۔ اور اس میں کوئی کمی نہ کرے ‘ پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بےعقل ہے یا ضعیف ہے یا لکھوا نہ سکتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔ اور اس پر اپنے لوگوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو۔ پس اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں۔ یہ گواہ تمہارے پسندیدہ لوگوں میں سے ہوں۔ (دو عورتیں اس لیے کہ) اگر ان میں سے ایک عورت بھول جائے تو ان میں سے دوسری یاد دلا دے گی۔ اور جب گواہ بلائے جائیں تو آنے سے انکار نہ کریں۔ اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا اس کی مدت تک کے لیے اس کو لکھنے میں تساہل نہ برتیں۔ تو یہ ہدایات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین عدل ‘ گواہی کو زیادہ ٹھیک رکھنے والی اور اس عمل کے زیادہ قرین قیاس ہے کہ تم شبہات میں نہ پڑو۔ مگر یہ کہ سودا دست بدستی ہو جس کا تم لین دین آپس میں کرو۔ (اس صورت میں) تم پر کوئی حرج نہیں اس بات میں کہ تم اسے نہ لکھو۔ اور تم کوئی معاملہ خریدو فروخت کا کرو تو اس صورت میں بھی گواہ بنا لیا کرو۔ اور نہ نقصان پہنچایا جائے کاتب کو اور نہ گواہ کو۔ اور اگر تم ایسا کرو گے تو یہ تمہاری نافرمانی ہوگی۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے) (282) سابقہ آیات کریمہ میں سودی قرضوں کا تذکرہ تھا۔ جنھیں یک قلم ختم کیا گیا۔ لیکن زندگی میں بیشتر افراد کو قرض کے معاملے سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ قرض سے متعلق معاملات میں جہاں جہاں الجھنیں پیدا ہوسکتی ہیں ‘ ان کی طرف توجہ دلائی جاتی اور قرض کے لین دین کے صحیح طریقے سے آگاہ کیا جاتا۔ چناچہ پروردگار نے کرم فرمایا کہ اس آیت کریمہ میں قرض کے معاملات کے سلسلے میں ضروری ہدایات عطا فرمائیں اور پھر اسی سلسلہ کے بعض ضمنی مسائل کے بارے میں بھی رہنمائی بخشی۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں نوشت و خواند کی سطح نہایت پست تھی۔ بڑی بڑی آبادیوں میں بھی کوئی لکھا پڑھا آدمی ڈھونڈے سے نہیں ملتا تھا اور سفر میں تو اور بھی زیادہ اس کی کمیابی تھی۔ ایسی صورت میں لین دین کے معاملات میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے جو ضروری ہدایات ہوسکتی تھیں وہ بھی عطا فرمائی گئیں۔ انسان معاملات میں بےاحتیاطی کرتا ہے غیروں کے ساتھ لین دین کے معاملات میں انسانوں نے ہمیشہ احتیاط برتی ہے۔ لیکن جہاں تعلقات ہوں وہاں آج تک یہ کمزوری چلی آرہی ہے کہ اعتماد کے جو مروج ذرائع ہیں ان سے کام نہیں لیا جاتا ‘ بلکہ یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دوستی کی موجودگی میں کسی تحریر یا کسی گواہی کی کیا ضرورت ہے ؟ بلکہ اسے اجنبیت پر محمول کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ ہمیشہ ناخوشگوار ہوتا ہے۔ تعلقات بگڑتے بھی دیر نہیں لگتی اور اگر اچانک جانبین میں سے کوئی چل بسے تو ضروری نہیں کہ پسماندگان محض زبان پر اعتماد کر کے معاملے کا تصفیہ کرسکیں۔ اس وقت آدمی سوچتا ہے کہ کاش میں نے اس معاملے کو تحریری شکل دی ہوتی تو آج جو مشکل پیدا ہوگئی ہے وہ پیدا نہ ہوتی۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ ایسی ہی مشکلات کو ختم کرنے کے لیے ہیں۔ اور دوستی پر اعتماد کرتے ہوئے جو غلط رویہ اختیار کیا جاتا ہے اس کی طرف توجہ دلانے کے لیے آنحضرت ﷺ نے اس کی اہمیت کے پیش نظر بہت شدید انداز اختیار فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تین قسم کے آدمی ایسے ہیں جو اللہ سے فریاد کرتے ہیں ‘ مگر ان کی فریاد سنی نہیں جاتی۔ ایک وہ شخص جس کی بیوی بدخلق ہو اور وہ اس کو طلاق نہ دے۔ دوسرا وہ شخص جو یتیم کے بالغ ہونے سے پہلے مال اس کے حوالے کردے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی کو اپنا مال قرض دے اور اس پر گواہ نہ بنائے۔ معاملات و معاہدات میں نزاع سے تحفظ کے لیے ہدایات اس آیت کریمہ میں معاملات یا معاہدات کے بارے میں جو ہدایات دی گئی ہیں انھیں ہم ایک ترتیب سے عرض کرتے ہیں۔ 1 اِذَا تَدَایَنْـتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْہُ ( جب آپس میں کسی معین مدت کے لیے ادھار کا معاملہ کیا جائے تو اسے لکھ لینا چاہیے) یعنی اس کی ایک دستاویز تیار کی جائے اور اس کے لیے وہ طریقہ اختیار کیا جائے جو ہر دور میں مروج ہو۔ 2 جب قرض کا معاملہ کیا جائے ‘ چاہے اس کا تعلق درہم و دینار سے ہو یا اشیاء کی خریدو فروخت سے ‘ قرض کے لین دین کی صورت میں یہ ہدایت دی گئی کہ اس کی میعاد مقرر کرو اور میعاد بھی ایسی مقرر ہونی چاہیے جس میں کوئی ابہام نہ ہو۔ یعنی سال ‘ مہینہ اور دن تک کا واضح طور پر تعین ہو۔ اس طرح نہ کیا جائے جیسے دیہاتی زندگی میں ہوتا ہے کہ فلاں کھیتی کے کٹنے کے وقت ‘ فلاں پھل کے اترنے کے وقت یا فلاں فصل کی کاشت کے وقت ادائیگی ہوگی۔ میعاد مقرر نہ کرنے یا میعاد کو مبہم رکھنے سے اختلاف پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے میعاد کو واضح طور پر مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔ 3 وَلْیَکْتُبْ بَّیْنَـکُمْ کَاتِبٌ م بِالْعَدْلِ ص نزول قرآن کے وقت چونکہ پڑھے لکھے لوگوں کی انتہائی کمی تھی اس لیے اس بات کا ہر وقت امکان تھا کہ کوئی لکھنے والا اپنی مرضی سے کمی بیشی کر دے۔ کیونکہ جانبین کے ان پڑھ ہونے کی وجہ سے یہ معلوم کرنا بہت مشکل تھا کہ اس نے جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح لکھا ہے یا اپنی طرف سے پیوند کاری کی ہے۔ اس لیے یہ فرمایا کہ لکھنے والے کو چاہیے کہ وہ جو کچھ لکھے انصاف کے ساتھ لکھے۔ اور مزید یہ فرمایا کہ جب اسے لکھنے کے لیے کہا جائے تو اسے لکھنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس دور میں یہ ممکن نہیں تھا کہ اگر ایک شخص لکھنے سے انکار کر دے تو کسی دوسرے کی خدمات حاصل کرلی جائیں۔ تعلیم کی انتہائی کمی کی وجہ سے اس دور میں لکھنے کی صلاحیت اللہ کی بہت بڑی نعمت تھی۔ اس لیے فرمایا جارہا ہے کہ لکھنے والے پر اللہ کا خاص انعام ہے کہ اس کو یہ صلاحیت بخشی گئی ہے۔ 4 وَلْـیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ وَلْـیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّـہٗ وَلَا یَبْخَسْ مِنْہُ شَیْئًا ط دستاویز لکھوانے کی ذمہ داری قرض لینے والے پر ہے۔ کیونکہ قرض لینے والا اپنی طرف سے جو کچھ لکھوائے گا وہ ایک طرح سے ایک اقرار اور اعتراف ہوگا۔ اس طرح سے اس کی لکھوائی ہوئی تحریر اقرارنامہ بن جائے گی اور کل کو اگر کوئی اختلاف ہوتا ہے تو یہ اقرار نامہ اس کے حق میں یا اس کے خلاف استعمال ہو سکے گا۔ تعلیم کی کمی کے باعث ہوسکتا ہے دوسرا فریق یہ نہ جان سکے کہ اس نے کیا لکھوایا ہے ‘ اس لیے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ لکھوانے والے کو اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اسے یقین ہونا چاہیے کہ اگر میں غلط بات لکھوائوں گا یا اپنے حق میں کمی بیشی کروں گا تو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اس کے سامنے اس کی جوابدہی کیسے کرسکوں گا ؟ یہ وہ تصور ہے جو اسے راہ راست پر قائم رکھ سکتا ہے۔ اس لیے اسے اللہ سے ڈر کر صاحب حق کے حق میں کسی طرح کی کمی کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ 5 فَاِنْ کَانَ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ ۔ الخ (اگر قرض لینے والا کم عقل ‘ ضعیف یا دستاویز لکھوانے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا کاتب اس کی زبان نہیں سمجھتا اس لیے یہ اسے لکھوا نہیں سکتا ایسی صورت میں اس کے ولی کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستاویز لکھوائے۔ اور اگر ولی نہ ہو تو پھر کسی کو پنا وکیل بنا لیا جائے جو اس کی بات کو سمجھتا ہو اور اس کی طرف سے وہ دستاویز لکھوائے۔ مجنون اور نابالغ کی طرف سے تو ولی کا ہونا ایک معمول کی بات ہے کیونکہ ان کے سارے معاملات ولی ہی کی معرفت انجام پاتے ہیں لیکن ان کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اگر مجبوری کے باعث خود دستاویز نہ لکھوا سکیں تو وہ اپنے ولی کے ذریعے یہ کام کریں یا کسی کو اپنا وکیل بنالیں۔ اور وہ انصاف اور سچائی کے ساتھ دستاویز لکھوائے۔ 6 دستاویز کی تحریر کو فیصلہ کن قرار نہیں دیا گیا ‘ بلکہ اس پر گواہ بنانے کا بھی حکم دیا گیا۔ اسی وجہ سے فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ نے یہ اصول طے کیا ہے کہ محض تحریر حجت شرعی نہیں ‘ جب تک اس پر شہادتِ شرعی موجود نہ ہو۔ پھر اس آیت کریمہ میں گواہوں کی صفات بیان کی گئیں اور گواہوں کا نصاب متعین کیا گیا ہے۔ جہاں تک نصاب کا تعلق ہے اس کے بارے میں فرمایا کہ گواہ دو مرد ہونے چاہییں اور اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتوں کا ہونا ضروری ہے۔ دو عورتوں کی شرط اس لیے رکھی ہے کہ ایک خاتون بھول جائے یا گواہی میں لغزش کا شکار ہو تو دوسری خاتون اسے یاد دلا دے یا اسے تنبیہ کر دے۔ دو عورتوں کو جو ایک مرد کے برابر ٹھہرایا گیا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ اسلام کی نگاہ میں عورت حقیر ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ عورتوں پر جو فرائض عائد کیے گئے ہیں اور ان کی زندگی جن حالات و مشاغل سے گزرتی ہے اس میں اس بات کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ کبھی انھیں عدالت میں جا کر گواہی دینا پڑے۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ عورت کی مزاجی خصوصیات کی کچھ نزاکتیں بھی ہیں جنھیں دیکھتے ہوئے ان پر یہ بار ڈالا نہیں جاسکتا۔ لیکن اگر کبھی خاص حالات میں ایسی کوئی ذمہ داری ان پر آہی جائے تو اللہ نے انھیں غلطی سے بچانے اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سہولت پیدا کرنے کے لیے دو کو ایک مرد کے قائم مقام ٹھہرایا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کی مدد سے یہ فرض باحسن طریق انجام دے سکیں۔ امام شافعی ( رح) کی والدہ کے بارے میں روایت کیا جاتا ہے کہ انھیں ایک دوسری خاتون کے ساتھ ایک دفعہ گواہی کے لیے عدالت میں جانا پڑا۔ قاضی صاحب نے دونوں خواتین کی گواہی الگ الگ لینا چاہی تو امام شافعی ( رح) کی والدہ نے الگ گواہی دینے سے انکار کردیا اور دلیل یہ دی کہ قرآن کریم نے ایک مرد کی بجائے دو عورتوں کی گواہی کا حکم دیتے ہوئے وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ ان دو میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔ تو یاد دلانا اسی صورت میں ممکن ہے جب دونوں ایک ساتھ گواہی دیں۔ اگر وہ الگ الگ گواہی دیتے ہوئے بھول جائیں تو پھر کس طرح ایک دوسرے کو یاد دلا سکتی ہیں۔ جہاں تک ان کی صفات کا تعلق ہے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک تو ہدایت یہ دی من رجالکم کہ وہ گواہ تمہارے اپنے مردوں میں سے ہوں۔ جس سے بیک وقت دو باتیں نکلتی ہیں ‘ ایک یہ کہ وہ مسلمان ہوں دوسرا یہ کہ وہ اپنے میل جول اور تعلق کے لوگوں میں سے ہوں کہ فریقین انھیں جانتے پہچانتے ہوں۔ اور دوسرا فرمایا ممن ترضون (کہ وہ گواہ ان لوگوں میں سے ہوں جن کے سیرت و کردار کو تم پسند کرتے ہو) یعنی وہ اخلاق و عمل کے اعتبار سے پسندیدہ ‘ ثقہ ‘ معتبر اور ایماندار ہوں۔ 7 جن دو مردوں کو گواہی میں شامل کرلیا جائے اور وہ گواہ بننے پر رضامندگی کا اظہار کردیں تو جب گواہی کے لیے انھیں بلایا جائے تو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ آنے سے انکار نہ کریں۔ کیونکہ صحیح بات کی گواہی ایک عظیم معاشرتی خدمت ہے۔ اور ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق بھی ہے۔ اور اس امت کے ایک ایک فرد کا یہ فریضہ منصبی بھی ہے کہ جو حق اس کے پاس ہے اس کی وہ گواہی دے۔ کیونکہ اگر کسی معاملے یا معاہدے میں فریقین میں اختلاف ہوجاتا ہے مثلا بائع کہے مجھے قیمت وصول نہیں ہوئی ہے ‘ یا مشتری کہے کہ مبیع مجھ تک نہیں پہنچی تو ایسے جھگڑوں کا فیصلہ صرف گواہوں کے ذریعے ہوسکتا ہے ‘ جھوٹے لوگ تو جھوٹے گواہ بھی بنا سکتے ہیں ‘ سچے لوگوں کے سچے گواہ اگر گواہی دینے سے انکار کردیں تو ظاہر ہے کہ حقدار کو اس کا حق نہیں ملے گا۔ اور جس شخص نے گواہ بننا قبول کیا تھا وہ انکار کر کے چونکہ حق دار کے حق کے تلف ہونے کا سبب بنا ہے تو قیامت کے دن اس سے سخت باز پرس ہوگی۔ 8 قرض لینے دینے کا معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے قید تحریر میں لانے سے گرانی محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ جو لوگ اس کو زحمت سمجھ کر ٹال جاتے ہیں وہ سہل انگاری کی وجہ سے بسا اوقات ایسے جھگڑوں میں پھنس جاتے ہیں جن کے نتائج بڑے دور رس نکلتے ہیں۔ جبکہ یہ حقیقت ہے کہ معاملات میں الجھنوں اور اڑچنوں سے بچنے کا اگر کوئی کامیاب ذریعہ ہوسکتا ہے تو وہ صرف یہی ہدایات ہیں اور ان پر عمل ہے۔ اس لیے جو معاشرہ اپنے اندر مفاسد پیدا نہیں کرنا چاہتا اس معاشرے کے افراد کو ان ہدایات کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ 9 اگر معاملہ دست بدست لین دین کا ہو جیسے ہم دکانوں سے روزہ مرہ کی چیزیں خریدتے ہیں ‘ اگرچہ آج کی دنیا میں کیش میمو کی شکل میں تحریر کی ایک صورت پیدا کرلی ہے ‘ لیکن اسے عموماً ضروری نہیں سمجھا جاتا کیونکہ دست بدست لین دین میں اس کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی۔ اس لیے پروردگار نے ایسے معاملات میں تحریر و کتابت کی پابندی نہیں لگائی۔ لیکن کیش میمو کی صورت میں جو سہولت پیدا ہوگئی ہے اس سے فائدہ اٹھانا یقینا بہتر ہے۔ 0 اگر کوئی اہمیت رکھنے والا سودا یا لین دین ہو بیشک اس کا انعقاد دست بدست ہو اہو تو اس پر گواہ بنا لینا چاہیے۔ تاکہ نزاع کی صورت میں اس کا تصفیہ ہو سکے۔ ! معاملات کے تصفیہ میں چونکہ گواہ اور کاتب کی بہت اہمیت ہے اس لیے حکم دیا کہ کاتب یا گواہ کو کسی صورت کوئی نقصان یا کوئی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔ تکلیف کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کوئی فریق کسی کاتب یا گواہ کو اپنے حق میں لکھنے یا گواہی دینے پر مجبور کرے۔ ایسا کرنے والا بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کاتب سے معاملہ لکھوایا جائے لیکن اس کی اجرت ادا کرنے سے انکار کردیا جائے۔ اسی طرح گواہ کو گواہی پر آنے پر تو مجبور کیا جائے لیکن اس کے آنے جانے کے اخراجات ادا کرنے سے انکار کردیا جائے۔ ایک غریب آدمی جو مزدوری کرتا ہے یا کہیں ملازمت کرتا ہے اولاً تو اسے مزدوری یا ملازمت سے نکل کر آنا ہی آسان نہیں اور اگر وہ آہی جائے تو اس کے لیے یہ بات انتہائی تکلیف دہ ہے کہ وہ آنے جانے کا کرایہ بھی خود ادا کرے اور اس کے علاوہ کوئی مصارف ہوں تو اس کا بوجھ بھی خود اٹھائے۔ ایسی کوئی تکلیف بھی کاتب یا گواہ کو پہنچانا سخت گناہ کا باعث ہے۔ بعض دفعہ کسی اہم معاملے میں کوئی ایک فریق گواہی بدلنے کے لیے طاقت استعمال کرنے پر اتر آتا ہے ‘ وہ گواہ کو دھمکاتا ہے ‘ بعض دفعہ جسمانی نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ اسی طرح ہمارا فوجداری سسٹم کچھ ایسا بن گیا ہے کہ کوئی شریف آدمی اگر کبھی کسی اہم معاملے میں گواہ بننا قبول کرلیتا ہے تو مقامی تھانیدار صاحب اسے جاوبیجا تھا نے میں طلب کر کے پریشان کرتے ہیں۔ اور بعض دفعہ عدالتوں میں اس طرح گواہوں سے سلوک کیا جاتا ہے کہ اصل مجرم یہی ہے۔ ایسے تمام رویے جس سے کاتب یا گواہ کو نقصان پہنچے یا ان پر دبائو پڑے اس آیت کریمہ میں اسے سخت قسم کا فسق قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے انہی رویوں نے شرفاء کو حقوق کی ادائیگی سے دور رہنے پر مجبور کردیا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ بڑے بڑے واقعات اور حادثات ظہور پذیر ہوتے ہیں لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھنے والا شخص بھی اس کے لیے گواہی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں نے اگر حق کی گواہی دی تو میرے لیے زندہ رہنا مشکل ہوجائے گا۔ یا کم از کم معمول کی زندگی گزارنا میرے لیے ممکن نہیں رہے گا۔ اس لیے آخر میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کی ان ہدایات کو حرز جان بنالو۔ ان ہدایات کی صورت میں اللہ تمہیں بہتر زندگی گزارنے کا طریقہ سکھا رہا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ان ہدایات پر عمل کیے بغیر معاملات کی بداطواریاں اور معاشرتی الجھنیں کبھی ختم نہیں ہوسکتیں۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پائوتو کوئی چیز گروی رکھ لیا کرو اور اس کا قبضہ دے دیا کرو۔ پھر اگر اعتبار کرلے تم میں سے ایک دوسرے پر تو چاہیے کہ جس پر اعتبار کیا گیا ہے وہ اپنی امانت کو ادا کر دے اور ضروری ہے کہ اللہ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔ اور شہادت کو مت چھپائو اور جو شخص شہادت کو چھپاتا ہے تو یقینا اس کا ضمیر گنہگار ہے۔ اور اللہ جو کچھ تم کر رہے ہو اس کا جاننے والا ہے

وَاِنْ کُنْتُمْ عَلٰی سَفَرٍوَّلَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا فَرِہٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ ط فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَـہٗ وَلْیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّـہٗ ط وَلاَ تَکْتُمُوا الشَّہَادَۃَ وَ مَنْ یَّـکْتُمْہَا فَاِنَّـہٗٓ اٰثِمٌ قَلْـبُـہٗ ط وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۔ (اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پائوتو کوئی چیز گروی رکھ لیا کرو اور اس کا قبضہ دے دیا کرو۔ پھر اگر اعتبار کرلے تم میں سے ایک دوسرے پر تو چاہیے کہ جس پر اعتبار کیا گیا ہے وہ اپنی امانت کو ادا کر دے اور ضروری ہے کہ اللہ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔ اور شہادت کو مت چھپائو اور جو شخص شہادت کو چھپاتا ہے تو یقینا اس کا ضمیر گنہگار ہے۔ اور اللہ جو کچھ تم کر رہے ہو اس کا جاننے والا ہے) (283) رہن کی اجازت گزشتہ آیت میں قرض کے معاملات پر لکھنے اور گواہی قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس ہدایت سے ایک استثنا کیا جا رہا ہے ‘ وہ یہ کہ اگر تم سفر میں کسی لکھنے والے کو نہ پائو ‘ ہرچند تلاش کرو لیکن کوئی ایسا شخص نہ ملے جو لکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور تم ادھار پر کوئی لین دین کرنا چاہتے ہو تو اب سوال یہ ہے کہ ادھار دینے والا کس بھروسے پر اعتبار کرے۔ گزشتہ آیت میں تو بھروسہ اور اعتماد کی دو چیزوں کا ذکر فرمایا گیا تھا یعنی ایک دستاویز تیار کرلو اور اس پر گواہ بھی بنا لو۔ اس طرح فریقین ہر طرح کے اختلاف سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ لیکن جب یہ انتظام نہ ہو سکے تو پھر کیا کیا جائے ؟ اس کے لیے اجازت دی گئی ہے کہ رہان مقبوضۃ سے کام لو۔ رہان رہن کی جمع ہے۔ یہ اس چیز کو کہتے ہیں جو قرض دینے والے کو قرض کی ضمانت کے طور پر حوالے کی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم کوئی چیز بھی قرض کے بدلے میں قرض دینے والے کے پاس رہن اور گروی رکھ دو ۔ اور یہ گروی صرف زبانی زبانی نہ ہو بلکہ اس چیز پر اسے قبضہ بھی دلا دو ۔ چھوٹے قرض میں کوئی چھوٹی چیز ہوگی اور بڑے قرض میں کوئی بڑی چیز اگر ضمانت کے طور پر قرض دینے والے کے قبضے میں دے دی جائے تو اس طرح اسے اعتماد پیدا ہوجائے گا کہ میرا قرض مرے گا نہیں ‘ بلکہ اس کی ادئیگی اور واپسی لازمی ہے۔ اور اگر مقروض میرا قرض ادا نہیں کرے گا تو میں اس کے رہن رکھی ہوئی چیز بیچ کر اپنا قرض پورا سکتا ہوں۔ اس طرح کی صورت حال کا پیدا ہونا زیادہ تر سفر میں ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ کیونکہ سفر میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ کاتب میسر نہ آسکے۔ اس لیے یہاں سفر کا ذکر فرمایا گیا۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ رہن کی صورت میں قرض کا لین دین سفر میں تو جائز ہے حضر میں نہیں۔ کیونکہ بعض دفعہ حضر میں بھی ایسی صورت ممکن ہوسکتی ہے کہ قرض دینے والا گروی رکھے بغیر قرض دینے کے لیے تیار نہ ہو۔ اور مزید یہ بات بھی کہ خود آنحضرت ﷺ نے مدینہ منورہ میں اپنے وطن اور گھر میں رہتے ہوئے یہودی سے جَو قرض لیے اور آپ نے اس کے بدلے میں اپنی زرہ اس کے پاس رہن رکھی۔ اس لیے جو لوگ اس کو سفر کے ساتھ مخصوص مانتے ہیں ان کی رائے صحیح نہیں۔ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر تمہیں کاتب میسر نہ آئے تو پھر تم قرض کا معاملہ رہن کی صورت میں کرسکتے ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کاتب میسر آجائے تو پھر رہن کی صورت میں قرض کا معاملہ کرنا جائز نہیں۔ ہم نے اس سے پہلے جو آنحضرت ﷺ کے ایک عمل کا حوالہ دیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کاتب کا میسر نہ آنا رہن رکھنے کے لیے شرط نہیں۔ کیونکہ مدینے میں تو کاتب میسر آسکتا تھا اس کے باوجود آپ ﷺ نے رہن رکھ کر یہودی سے جو قرض لیا اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔ کیونکہ ان کے درمیان اسلامی اخوت کا رشتہ ہے۔ اخوت کا تقاضا ہے کہ اگر مستقبل میں معاملات میں اختلافات سے بچنا ہے تو کوئی نہ کوئی اعتماد کی صورت پیدا کرنا ناگزیر ہے اور وہ تحریر اور گواہی کی شکل میں جب میسر آسکتی ہے تو پھر مزید کسی بات کا تقاضا کرنا اخوت کے سراسر خلاف ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی اخوت کا یہی تقاضا ہے لیکن اللہ کریم سے بہتر کون جانتا ہے کہ مسلمانوں کے کردار و عمل کا حال یکساں نہیں رہے گا۔ ایسا وقت بھی آئے گا جب ان میں اخوت صرف نام کی رہ جائے گی۔ لیکن زندگی کا کاروبار پھر بھی رواں دواں رہے گا۔ تو ہر طرح کے حالات سے متعلق ہدایات دینا ‘ ہر ایسے مذہب کا اقتضا ہے جو فطری مذہب کہا جاتا ہے تو اسلام نے اسی اقتضا کے پیش نظر رہن کی اجازت دی کہ اگر کسی دوسری صورت میں قرض نہ ملتا ہو اور قرض کی شدید ضرورت ہو تو کسی چیز کو رہن رکھ کر قرض لیا جاسکتا ہے۔ مرہونہ چیز سے مرتہن کو فائدہ اٹھانے کی اجازت مقبوضہ کے لفظ سے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ قرض دینے والا اپنے مقروض کی رہن رکھی ہوئی چیز کو اپنے قبضے میں تو رکھ سکتا ہے تاکہ اسے قرض کی ادائیگی کے لیے اطمینان رہے ‘ لیکن اس سے کسی طرح کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ مثلاً اگر اس نے قرضدار سے مکان رہن کے طور پر لیا ہے تو یہ نہ اس میں رہ سکتا ہے نہ اسے کرائے پر چڑھا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں رہن رکھی ہوئی چیز سے کوئی فائدہ اٹھانا سود کے حکم میں ہے۔ ایک آدمی قرض پر رقم دے کر اس پر سود لیتا ہے اور دوسرا شخص قرض کے بدلے میں رہن رکھ کر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تو دونوں صورتوں میں ـآخر کیا بنیادی فرق ہے۔ یہ دونوں ہی سود کے حکم میں ہیں۔ ہاں اگر کوئی جانور رہن لیا گیا ہو تو اس کا دودھ استعمال کیا جاسکتا ہے اور اگر وہ سواری یا باربرداری کا جانور ہے تو اس سے سواری یا باربرداری کی خدمت لی جاسکتی ہے کیونکہ یہ دراصل اس چارے کا معاوضہ ہے جو مرتہن اس جانور کو کھلاتا ہے۔ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا۔ الخ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رہن رکھنے کی نوبت اس وقت آنی چاہیے جب قرض دینے والا قرض لینے والے پر اعتبار نہ رکھتا ہو۔ لیکن اگر ایسی صورت ہو کہ دستاویز تیار ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ گواہ بھی کوئی میسر نہیں ‘ لیکن قرض دینے والا قرض لینے والے کو قابل اعتبار سمجھتا ہے اور وہ بغیر کسی ضمانت کے اسے قرض دے دیتا ہے تو اب قرض لینے والے کو ہدایت دی جارہی ہے کہ قرض دینے والے نے چونکہ تم پر اعتبار کیا ہے تو اس اعتبار کو ٹھیس مت پہنچائو۔ اس کی امانت یعنی اس کا قرض پورا پورا اسے واپس کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ اگر تم نے اس کے اعتبار سے غلط فائدہ اٹھایا تو اللہ کے یہاں سخت باز پرس ہوگی۔ اس طویل آیت میں آپ نے دیکھا کہ جس قدر ہدایات ارشاد فرمائی گئی ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق گواہی کے محفوظ رہنے پر ہے۔ اگر گواہوں نے گواہی چھپائی یا غلط بیانی کی چونکہ معاملے کا دارومدار تو انہی پر ہے تو ثبوت کی کوئی اور صورت باقی نہیں رہے گی اور صاحب حق کا حق مارا جائے گا۔ اس لیے حکم دیا کہ شہادت یعنی گواہی مت چھپائو۔ اخفائے شہادت کی شناعت کو واضح کرنے کے لیے فرمایا کہ جو شخص گواہی چھپاتا ہے اس کا ضمیر گنہگار ہوتا ہے۔ کیونکہ بعض گناہ تو ایسے ہوتے ہیں جن کا اثر انسان کے ظاہری اعضاء تک محدود رہتا ہے۔ وہ اگرچہ سیرت و کردار کو نقصان پہنچاتے ہیں لیکن وہ نقصان اتنا گہرا نہیں ہوتا ‘ لیکن وہ گناہ جو دل کی گہرائیوں سے ہوتے ہیں اور آدمی غور و فکر کے بعد اپنے دل میں ان گناہوں کا تصور جما لیتا ہے تو ایسے گناہوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آدمی کے قلب و دماغ اور اس کے ضمیر کو متاثر کرتے ہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ سیرت و کردار کا تمام سرمایہ مسموم ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ شہادت کا چھپانا اسی قسم کا گناہ ہے۔ اس لیے اس پر زور دیتے ہوئے تنبیہ فرمائی ہے کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے اس لیے تمہیں اس معاملے میں دلیر نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا تم اسے چھپائو خدا اس کا تم سے حساب لے گا۔ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَوْتُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ ط فَیَغْفِرْ لِمَنْ یَّشآئُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کَلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا تم اسے چھپائو اللہ اس کا تم سے حساب لے گا۔ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) (284) خاتمہ سورة کی آیات یہ عظیم سورة گزشتہ آیت پر ختم ہوگئی۔ پیش نظر رکوع کی آیات اس سورت کا خاتمہ ہیں۔ یہ آیت کریمہ اپنے موقع و محل کے لحاظ سے سابقہ آیت سے مربوط بھی ہے اور بعد کی آیات کے لیے نہایت جامع اور موثر تمہید بھی۔ سابقہ آیت کریمہ میں فرمایا گیا تھا کہ شہادت کو نہ چھپائو جو شہادت کو چھپاتا ہے اس کا ضمیر گنہگار ہوجاتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اسی مضمون کو موکد کرتے ہوئے فرمایا کہ زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کی ملکیت اور اس کے اختیار و تصرف میں ہے۔ اور پھر ہر چیز کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اور اس کے علم کا حال یہ ہے کہ کوئی چیز بھی اس کی نگاہوں سے محفوظ نہیں۔ وہ ظاہر و باطن ہر چیز کو جانتا ہے اس لیے جو شخص شہادت کو چھپاتا ہے قیامت کے دن اس کا چھپانا کام نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے اخفا کو ظاہر کر دے گا۔ اور پھر اس سے باز پرس کرے گا۔ اور جہاں تک آئندہ آیات کے لیے تمہید کا تعلق ہے وہ اس طرح سے ہے کہ قرآن کریم کا عام طور پر انداز یہ ہے کہ سورت کا آغاز جن حقائق سے کرتا ہے اسی کو پوری سورت میں پھیلاتا چلا جاتا ہے۔ جس طرح کٹھلی سے سوئی پھوٹتی ہے اور پھر پھیلتے پھیلتے ایک قدآور درخت بن جاتی ہے اسی طرح ہر سورت کے مضامین شاخ در شاخ پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن سورت کی جو آخری آیتیں خاتمہ سورت کی حیثیت سے آتی ہیں اس میں ان حقائق کو سمیٹ کر خلاصے کے طور پر بیان کردیا جاتا ہے۔ اس صورت کو بھی چند بنیادی عقائد سے شروع کیا گیا۔ اور پھر جب اس کی دعوت کا آغاز ہوا تو توحید کو اس کی بنیاد بنایا گیا اور پھر احکام کی شکل میں اس کی شاخیں پھیلتی چلی گئیں ‘ اب آخر میں آ کر اس کو سمع و اطاعت کا عنوان دے دیا گیا۔ اس ایمانی دعوت کو جیسے جیسے دگرگوں حالات سے واسطہ پڑتا گیا اور مخالفتوں اور اذیتوں میں افزونی آتی گئی اور حالات روز بروز خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے حتیٰ کہ بارہ تیرہ سن نبوی تک اس طرح کی صورت حال پیدا ہوگئی کہ بظاہر نظر جسے مایوس کن کہا جاسکتا ہے۔ اس وقت ان آیات کا نزول ہوا جس میں بیک وقت دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ایک تو یہ کہ تمہارا اصل سرمایہ ایمان و عمل اور استقامت ہے۔ تم بفضلہ تعالیٰ اس میں پورے اترے ہو لیکن بھول چوک اور غلطی کا ہوجانا انسانی فطرت ہے۔ اس لیے مسلسل اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کی معافی مانگتے رہو۔ اور اپنی کمزوریوں کے حوالے سے اللہ سے عنایات کے طلبگار رہو۔ اور مخالف حالات پر قابو پانے اور ان پہ غالب آنے کے لیے اللہ سے نصرت و تائید کی التجا کرتے رہو۔ اور ضمناً یہ بات بھی کہ وہ وقت دور نہیں جب یہ مخالفت کے بادل چھٹ جائیں گے اور اسلام پوری تابانی سے جزیرہ عرب کی حد تک آنحضرت ﷺ کی زندگی میں غالب آجائے گا۔ اس تناظر میں اس آیت کریمہ کو دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ سابقہ آیات سے مربوط بھی ہے اور آنے والی آیات کی تمہید بھی۔ بنیادی عقیدہ اسلام کا بنیادی عقیدہ جس پر توحید کی پوری عمارت ایستادہ ہے اور جس پر پختہ یقین عقیدہ کی بنیاد ہے اور یہی وہ بنیادی تصور ہے جس کے قبول کرلینے کے بعد ایمان کا چراغ جلتا اور کردار و عمل کی قوت جنم لیتی ہے۔ اور یہی وہ بےپناہ طاقت ہے جس سے نفع و نقصان کی پیمانے بدل جاتے ہیں اور انسانی ارادوں میں حیرت انگیز قوت آجاتی ہے۔ انسان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کون سا آستانہ ہے جس پر اسے سر جھکانا چاہیے۔ اور وہ کون راہنما ہے جس کی راہنمائی پر اسے مکمل بھروسہ ہونا چاہیے اور وہ کونسی قوت ہے جس سے ہمیشہ استمداد اور استعانت کرنی چاہیے۔ اور وہ کون سی باخبر ذات ہے جس سے تنہائیاں آباد ہونی چاہئیں۔ ان سب باتوں کا اس آیت کے پہلے جملے میں جواب دیا گیا ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے۔ اس لحاظ سے انسان بھی اس کا مملوک اور اس کا غلام ہے۔ کائنات کی ہر چیز اسی کے اختیار و تصرف میں ہے۔ اسی طرح انسان کے احساسات اور صلاحیتیں بھی اسی کے اختیار و تصرف میں ہیں۔ وہی ہر چیز کا مرجع ہے۔ اس لحاظ سے انسان کو بھی اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے۔ ان تصورات کو قبول کرلینے کے بعد شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ انسان کو ایک منزل مل جاتی ہے اور اس کی ایک سمت متعین ہوجاتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ مجھے زندگی کس کی راہنمائی میں گزارنی ہے ‘ کس کے سامنے دست سوال دراز کرنا ہے ‘ کس کے سامنے مناجاتیں کرنی ہیں اور کس سے اپنا دل لگانا ہے ؟ یہ عقیدے کی وہ قوت ہے جو افراد اور اقوام کو بالکل ایک نئی زندگی دیتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں مزید فرمایا کہ تم جو کچھ ظاہر کرتے اور چھپاتے ہو وہ سب اللہ کے علم میں ہے۔ اس لیے ان میں سے ہر بات کا محاسبہ ہوگا۔ انسانی فکر میں جب تک مکمل اصابت پید انھیں ہوتی اور اس کی طبیعت یکسو ہو کر ایک منزل کی طرف رواں دواں نہیں ہوجاتی ‘ اس وقت تک وہ جس نظریے کو قبول کرتا ہے اس کی ظاہری پابندیوں کو تو اپناتا ہے لیکن باطن میں خیانت اور اخفاء کا عمل جاری رہتا ہے ‘ لیکن جب اسے اس بات پر یقین آجائے کہ میں جس ذات کو اپنا ملجاو ماویٰ بنا چکا ہوں وہ صرف میرے ظاہر سے واقف نہیں ‘ باطن سے بھی واقف ہے۔ میرا کوئی عمل اس کی نگاہوں سے مخفی نہیں اور مزید یہ بات کہ ایک دن ایسا آئے گا جب اس کے سامنے حاضری ہوگی اور وہ ہر بات کا جواب طلب کرے گا۔ اس احساس کے پختہ ہوجانے کے بعد باطنی آلودگیاں اور خیانتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ آیت کے اس جملے نے پاکیزہ صفت صحابہ کو انتہائی خوفزدہ کردیا۔ وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بصدادب عرض کیا کہ حضور دل میں تو ہر طرح کے وسوسے اور خیالات آتے ہیں اور ان میں سے بیشتر ایسے ہوتے ہیں جنھیں روکنے پر آدمی قادر نہیں ہوتا۔ اگر اللہ تعالیٰ دل کی ایسی تمام وارداتوں پر محاسبہ فرمائے گا تو پھر ہمارا کیا بنے گا ؟ ہم تو تباہ ہوجائیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم یہود کی طرح یہ کہنا چاہتے ہو ” سمعنا وعصینا “ یعنی ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی۔ تمہیں تو شیوہ تسلیم و رضا اختیار کرنا چاہیے۔ کیونکہ تمہاری زندگیوں پر یہی لباس راست آتا ہے۔ صحابہ یہ کہتے ہوئے جھک گئے ” سمعنا واطعنا “ لیکن اگلی آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خدشے کو دور فرما دیا۔ اللہ کی مشیت اس کی حکمت کے ساتھ ہے اس کے بعد فرمایا کہ اللہ جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا۔ بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ایمان و عمل سے کچھ نہیں ہوگا ‘ سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوگا۔ وہ جسے چاہے گا جنت عطا فرمائے گا اور جسے چاہے گا جہنم میں بھیج دے گا۔ اگر اس مفہوم کو صحیح سمجھا جائے تو پھر انبیاء کا آنا اور کتابوں کا نازل ہونا ‘ ایک بےمعنیٰ کاوش معلوم ہوتی ہے۔ انبیائِ کرام اسی لیے آتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس زندگی کی تعلیم دیں جس سے اللہ راضی ہوتا ہے اور ان اعمال سے بچائیں جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اور وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب تم اللہ کے پسندیدہ اعمال کرو گے تو اللہ تمہیں جنت عطا فرمائے گا اور اس کی کتابیں بھی بالخصوص قرآن کریم انہی باتوں کی وضاحت کرتی ہیں۔ اس آیت میں دراصل یہ بحث ہے ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کن باتوں سے خوش ہو کر بخشے گا اور کن باتوں پر ناراض ہو کر سزا دے گا۔ بلکہ اس میں شرک کی تردید فرمائی گئی ہے کہ مشرکین نے یہ جو سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے فلاں فلاں قوتوں کو جو اللہ کا شریک بنا رکھا ہے وہ ہمیں اللہ کے غضب سے بچائیں گی اور ان کے دامن گرفتہ ہونے کی وجہ سے ہم جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔ اللہ فرماتا ہے کہ مغفرت یا عذاب میں کسی کو دخل دینے کی مجال نہیں۔ قیامت کے دن اللہ جسے بخشنا چاہے گا کوئی اسے روک نہیں سکے گا۔ اور جسے سزا دینا چاہے گا کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکے گا۔ کیونکہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ البتہ رہی یہ بات کہ جب سب کچھ اسکی مشیت سے ہوگا تو پھر ایمان و عمل کا کیا فائدہ ؟ تو اس میں یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ اس کی مشیت اس کی حکمت کے ساتھ چلتی ہے۔ اس کی مغفرت اور عذاب کا معاملہ بھی اسی ضابطہ حکمت کے تحت عمل میں آئے گا جو اس کے لیے اس نے مقرر فرما رکھا ہے۔ یہاں تو صرف یہ فرمانا مقصود ہے کہ کسی اور کے لیے اس میں کسی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

ان لیا رسول نے جو کچھ اتارا گیا اس کی طرف اس کے رب کی جانب سے اور مسلمانوں نے۔ یہ سب ایمان لائے اللہ پر ‘ اس کے فرشتوں پر ‘ اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔ (نیز کہتے ہیں) ہم خدا کے رسولوں میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور کہتے ہیں ہم نے مانا اور اطاعت کی۔ اے پروردگار ! ہم تیری مغفرت کے طلبگار ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ قف لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ قف وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ق ز غُفْرَانَـکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ ۔ (مان لیا رسول نے جو کچھ اتارا گیا اس کی طرف اس کے رب کی جانب سے اور مسلمانوں نے۔ یہ سب ایمان لائے اللہ پر ‘ اس کے فرشتوں پر ‘ اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔ (نیز کہتے ہیں) ہم خدا کے رسولوں میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور کہتے ہیں ہم نے مانا اور اطاعت کی۔ اے پروردگار ! ہم تیری مغفرت کے طلبگار ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے) (285) آخری دو آیتوں کی فضیلت سورة بقرہ کی آخری دو آیتیں بڑی عظیم اور بہت فضائل کی حامل ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا اوتیت ھذہ الایات من اٰخر سورة البقرۃ من کنز تحت العرش لم یوتہن نبی قبلی ( سورة بقرہ کی آخری آیتیں مجھے عرش عظیم کے نیچے جو (رحمتوں اور برکتوں کا ربانی) خزانہ ہے اس سے عطا فرمائی گئیں اور یہ وہ انعام عظیم ہے جو کسی اور نبی کو نہیں دیا گیا) حضرت ابن عباس ( رض) کی روایت ہے کہ جو شخص ان کو عشاء کی نماز کے بعد پڑھ لے تو وہ اس کے لیے قیام اللیل یعنی تہجد کے قائم مقام ہوجاتی ہیں۔ بیہقی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم خاص طور پر ان آیتوں کو سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو سکھائو۔ اسی لیے حضرت فاروق اعظم اور حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے فرمایا کہ ہمار اخیال یہ ہے کہ کوئی آدمی کو جس کو کچھ بھی عقل ہو وہ سورة بقرۃ کی ان دونوں آیتوں کو پڑھے بغیر نہ سوئے گا۔ اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کو ایک ایسے اعزاز سے نوازا گیا ہے کہ جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ اس اعزاز کا پہلا حصہ تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو آنحضرت ﷺ کے ہمرکاب رکھا گیا۔ پہلے رسول اللہ ﷺ کے ایمان کا اعتراف فرمایا ‘ پھر ان کی برکت سے صحابہ کرام یعنی مسلمانوں کے ایمان کا اعتراف کیا۔ کہاں تو یہ حال کہ وہ اپنے دلوں میں آنے والے خیالات کے بارے میں اللہ کے سامنے جوابدہی سے لرزاں و ترساں تھے اور کہاں یہ مقام کہ عرش الٰہی سے ان کے ایمان کا اعتراف نازل فرمایا جا رہا ہے۔ ع ” یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے “ اسلامی عقائد صحابہ کرام کے ایمان کی حکائت میں اسلامی عقائد کی تفصیل اور اسلامی طرز عمل کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے۔ اور یہ وہی حقائق ہیں جنھیں سورة بقرہ کے پہلے رکوع میں ذکر فرمایا گیا۔ اور پھر جہاں تحویلِ قبلہ کے بعد اللہ سے وفاداری کی حقیقت کو کھولا گیا ہے وہاں انہی باتوں کو تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔ اب انہی بنیادی حقائق کا خلاصہ بیان فرما کر اس سورت کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اس آیت میں جو اسلامی عقائد بیان کیے جا رہے ہیں یعنی جن پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے وہ یہ ہیں اللہ پر ایمان ‘ اس کے فرشتوں پر ایمان ‘ اس کی کتابوں پر ایمان ‘ اس کے تمام رسولوں پر ایمان اور اس امر پر ایمان کہ آخر کار ہمیں اللہ کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔ یہ پانچ امور اسلام کے بنیادی عقائد ہیں۔ یوں تو ان کی تفصیل ‘ اسی صورت کی آیت نمبر 177 میں گزر گئی۔ البتہ یہاں رسولوں پر ایمان کے سلسلے میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ مسلمان تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں وہ ان میں کوئی تفریق نہیں کرتے کہ کسی رسول کو مانیں اور کسی نہ مانیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں نے جب اس بات کو تسلیم کرلیا کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کا مملوک اور اسی کے زیر تصرف ہے۔ تو زمین و آسمان کی ایک اہم مخلوق خود انسان ہے۔ بلکہ اسے باقی مخلوقات پر یہ شرف حاصل ہے کہ اسے قوت تمیز اور جوہر عقل دے کر خیر و شر کے معاملے میں ایک آزادی دی گئی ہے اور یہی اس کا امتحان ہے۔ تو جو لوگ اس آزادی کا صحیح استعمال کرتے ہوئے متذکرہ بالا امور پر ایمان لے آتے ہیں وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔ وہ اللہ کی حاکمیت اور اس کی الوہیت پر علی الاطلاق ایمان رکھتے ہیں۔ اس کے بعد اس بات کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا کہ وہ کس رسول کو مانیں اور کس کو نہ مانیں۔ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے معبود اور حاکم ٹھہرے تو وہ جب اور جس کو بھی اپنے احکام اور پیغام دے کر بھیجیں گے تو انھیں ماننا لازم ہوگا۔ اس لیے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جتنے انبیاء اور رسول آئے ہیں ہم سب پر ایمان لاتے ہیں۔ جنتی کتابیں نازل ہوئی ہیں ‘ ہم ان سب کو سچا سمجھتے ہیں۔ البتہ ہم ان کی شریعتوں پر عمل نہیں کرسکتے۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک وجہ تو یہ کہ وہ محفوظ نہیں رہیں ‘ تحریف اور ترمیم کا شکار ہوگئیں۔ اور دوسری وجہ یہ کہ اللہ کے ہر رسول نے نبی آخر الزمان کے بارے میں اپنی اپنی امتوں کو بتلایا کہ سب سے آخر میں ایک رسول آئیں گے جو شریعت کو مکمل کریں گے۔ اللہ جن پر دین کی تکمیل فرمائے گا۔ پہلی شریعتیں اپنے اپنے وقتوں کے مطابق کافی تھیں۔ لیکن ایک ایسی شریعت کا آنا باقی تھا جو تمام زمانوں کے لیے کافی ہو۔ ہمارے رسول پاک ﷺ وہ آخری شریعت لے کر آئے۔ اب اس کی موجودگی میں کسی پہلی نا تمام اور محرف شریعت پر عمل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ مسلمانوں کا طرز عمل وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ق ز غُفْرَانَـکَ رَبَّنَا وَ اِلَیْکَ الْمَصِیْرُاس میں مسلمانوں کے طرز عمل کو بیان کیا گیا ہے اور یہود پر ایک طرح سے تعریض بھی ہے۔ یہود کی تاریخ ان کے جس کردار کی منہ بولتی تصویر ہے اس کا عنوان ہی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے پیغمبر سے جو سنا اس کی نافرمانی کی۔ لیکن مسلمانوں کا طرز عمل یہ ہے کہ انھوں نے جو سنا اس کی اطاعت کی۔ آنحضرت ﷺ کی زندگی میں کوئی ایک لمحہ ایسا نہیں آیا کہ مسلمانوں نے سمع و اطاعت کا حق ادا نہ کیا ہو۔ آنحضرت ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی زندگی کے ہر معاملے میں ان کا یہی رویہ رہا۔ اور ان کے اس رویے کے پیچھے ان کا یہ گہرا احساس کام کرتا تھا کہ ہمیں اللہ کی طرف لوٹ کے جانا ہے اگر ہم نے سمع و اطاعت میں کمی کی تو اس کے سامنے جوابدہی مشکل ہوجائے گی۔ اور آخرت میں ہمارا سرمایہ سوائے اللہ کی مغفرت کے اور کچھ نہیں۔ اور وہ مغفرت اللہ کے رسول ﷺ کے ہر حکم کو سننے اور ماننے پر موقوف ہے۔ جب تک مسلمان زوال کا شکار نہیں ہوئے ان کی اجتماعی زندگی اسی طرز زندگی سے عبارت تھی۔ اس آیت کریمہ میں جیسا کہ ہم نے عرض کیا مسلمانوں کے ایمان کا اعتراف فرمایا گیا ہے۔ اور یہ مسلمانوں کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس اعتراف میں آنحضرت ﷺ کے ذکر کے بعد ایمانیات کے حوالے سے مسلمانوں کا ذکر فرمایا گیا۔ اس میں دو باتیں محسوس ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ اللہ کے یہاں مسلمانوں کے جس ایمان کا اعتراف اور مقام و مرتبہ ہے وہ وہ ایمان ہے جو آنحضرت ﷺ کے پیچھے چلنے اور آپ ﷺ کے نقوش قدم کی پیروی کرنے سے متعلق ہے۔ اگر وہ ایمان آنحضرت ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے اور آپ ﷺ کی کیفیات سے مختلف ہو تو اس کا اللہ کے یہاں کوئی اعتبار نہیں۔ اور دوسری بات جو محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ بنیادی عقائد پر ایمان لانے کی اللہ کے یہاں جو اہمیت ہے اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ اس میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو بالکل برابر سطح پر رکھا گیا ہے۔ بلکہ ایمان لانے والوں میں آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کا تذکرہ پہلے ہے اور مسلمانوں کا بعد میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں اللہ کے قانون کی فرمانبرداری اور اطاعت کے معاملے میں پیغمبر بھی اسی طرح پابند ہے جس طرح عام اہل ایمان پابند ہیں۔ دنیوی بادشاہ اپنی رعایا کو جو قانون دیتے ہیں وہ خود اس قانون سے بالا تر ہوتے ہیں۔ لیکن خدا کے قانون میں خود اس قانون کا لانے والا نہ صرف یہ کہ اس کے تحت ہوتا ہے بلکہ اسے سب سے آگے بڑھ کر انا اول المؤمنین و انا اول المسلمین کہتے ہوئے اس قانون کی علمبرداری کرنا پڑتی ہے۔ اسی سے پیغمبروں کی سچائی کی ایک ایسی شہادت میسر آتی ہے جس کے بعد کسی ہٹ دھرمی کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔