Ayahs 2:75–77اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ وَقَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلَامَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْم بَعْدِ مَاعَقَلُوْہُ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ وَاِذَا لَقُوْ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ لَیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَایُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۔
تو کیا تم اس کی توقع رکھتے ہو کہ وہ لوگ تمہارے (کہنے سے) ایمان لے آئیں گے، دراں حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کا کلام سنتے ہیں اور پھر اس میں تحریف کرتے ہیں، بعد اس کے کہ اسے سمجھ چکے ہیں اور وہ اسے جانتے بھی ہیں۔ اور جب وہ ان سے ملتے ہیں جو ایمان لاچکے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی مومن ہیں اور جب آپس میں تنہا ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیا تم انھیں وہ بتادیتے ہو جو اللہ نے تم پر منکشف کیا ہے کہ وہ تمہارے رب کے پاس تم سے حجت کریں، کیا تم سمجھتے نہیں۔ کیا انھیں نہیں معلوم ہے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں) (البقرۃ : 75 تا 77)
ایک التفات
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کی طرف التفات ہے اور اس التفات اور خطاب کا ایک پس منظر ہے۔ وہ یہ ہے کہ اوس و خزرج کے لوگ جو مدینہ طیبہ میں رہتے تھے اور جو مسلمان ہونے کے بعد انصار کے معزز لقب سے پکارے گئے۔ یہ بنیادی طور پر مشرکین مکہ کی طرح بالکل ان پڑھ اور مکتبی تعلیم سے ناواقف لوگ تھے۔ جو علوم شریعت، نبوت، وحیِ الہٰی، توحید اور آخرت وغیرہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ البتہ ان کے ہمسائے میں یہود آباد تھے جن سے ہر وقت کاملنا جلنا تھا۔ یہود اہل کتاب ہونے کی وجہ سے مذہب کے بنیادی تصورات اور نبوت اور وحی الہٰی کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔ انہی سے اوس و خزرج کے لوگ بھی دین کی بعض اصطلاحات سن چکے تھے۔ انہی دینی باتوں کے سلسلے میں یہود سے ایک بات انھوں نے تکرار کے ساتھ سنی تھی کہ ایک نبی آنے والے ہیں جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے وہ ان کو ساتھ لے کر دوسری قوموں پر غلبہ حاصل کریں گے اور ایک بڑی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اب اس آنے والے نبی کا زمانہ قریب ہے، جیسے ہی وہ تشریف لائیں گے ہم ان پر ایمان لاکرتم پر غلبہ حاصل کریں گے اور جن لوگوں نے آج تک ہمارے ساتھ زیادتیاں کی ہیں ان کا حساب چکائیں گے۔ مکہ معظمہ میں حج کے موقع پر جب اوس و خزرج کے چند لوگوں سے آنحضرت ﷺ کی ملاقات ہوئی اور آپنے ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی اور اپنا تعارف کر ایاتوانھوں نے ایک دوسرے سے کہا معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر ہم سے یہود کیا کرتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ پہلے ایمان لے آئیں اور ہم پیچھے رہ جائیں اس لیے تم اس نعمت کے حصول میں سبقت کرو۔ چناچہ وہ لوگ ایمان لے آئے پھر ایک مختصر عرصے میں مدینہ منورہ میں گھرگھر اسلام پھیل گیا۔ آنحضرت ﷺ ہجرت فرماکر مدینہ طیبہ آگئے۔ اب اوس و خزرج کو خیال ہوا کہ یہود چونکہ آنے والے نبی کے بارے میں جانتے تھے وہ یقینا جوق درجوق اسلام کی آغوش میں آئیں گے اور مدینہ مرکز اسلام بن جائے گا۔ چناچہ اسی خیال سے مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں کو اسلام کی دعوت دینا شروع کی لیکن ان کارویہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ نہ صرف ایمان لانے کو تیار نہیں بلکہ آئے دن ان کی طرف سے کوئی نہ کوئی غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی۔ مسلمانوں کو ایک طرف تو اس سے پریشانی ہوئی اور دوسری طرف انھیں دشمنانِ اسلام اور منافقین کی طرف سے اس طرح کی باتیں سنناپڑیں کہ دیکھو ! اگر یہ وہی پیغمبر ہوتے جن کا یہود کو انتظار تھا تو یقینا یہود آگے بڑھ کر ان پر ایمان لاتے اور ان کے بڑے بڑے علما کبھی ایمان لانے میں پس وپیش نہ کرتے۔ لیکن ان کا موجودہ رویہ یہ بتاتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ اس سے نئے نئے مسلمانوں میں پریشانی پیدا ہوتی۔ اس پس منظر کے باعث یہاں اس سلسلہ بیان میں مسلمانوں کو خطاب کرکے ایک تو انھیں تسلی دی جارہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی مخالفت سے بددل نہ ہوں ان کے سامنے ان کی اصل حالت کو کھول کر بیان کیا ہے کہ جس قوم کارویہ اپنے نبیوں کے ساتھ یہ رہاہو اور جنھوں نے اللہ کی کتابوں کے ساتھ وہ سلوک کیا ہو جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے تو تم ان سے قبولیت اسلام کی توقع کیسے کرسکتے ہو اور دوسری یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ تمہیں معلوم نہیں کہ جو لوگ یہود میں سے تمہارے پاس آتے ہیں، پس پردہ ان کی حرکات کیا ہیں وہ تم سے کیا کہتے ہیں اور آپس میں کیا باتیں کرتے ہیں۔ اس لیے تم ان کی فریب کاری کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ اسی فریب کاری کو واضح کرنے اور ان کے گروہی طلسم کو توڑنے کے لیے ان آیات میں باقاعدہ ان کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ وَقَد کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ سے ان کے علما اور مشائخ کے کرتوت بیان کیے گئے ہیں کیونکہ یہی وہ طبقہ تھا جو تمام قومی اور دینی معاملات میں انھیں رہنمائی دیتا تھا، عوام انہی کی عقیدت کے جال میں پھنسے ہوئے تھے اور اوس و خزرج بھی انھیں کے علم سے متاثر اور مرعوب تھے اس لیے ضروری تھا کہ سب سے پہلے انہی کا اصل حلیہ انھیں دکھایا جاتا۔ علما ہوں یا مشائخ ان کی اصل قدروقیمت اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ جس کتاب کو کتاب اللہ کہتے اور اس کی پیروی اور ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اس کے ساتھ ان کی وابستگی کی کیفیت اور حقیقت کیا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ یہ گروہ جو اپنے آپ کو تورات کا عالم کہتا ہے اور اس کتاب پر عمل کرنے کے باعث وہ اپنی مشیخیت کا دعوے دار ہے۔ ذرا اندازہ کیجئے کہ اس کتاب کے ساتھ انھوں نے کیا طریقہ اختیار کررکھا ہے۔ یہ اسے سنتے ہیں یعنی وہ کتاب ان کے لیے اجنبی نہیں ان کے کان اس سے مانوس ہیں۔ ممکن ہے اپنی مجلسوں میں اسے سن کر جھومتے بھی ہوں جس سے لوگوں کو یہ تاثردیتے ہوں کہ ہمارا اللہ کی کتاب سے کس قدر قلبی رشتہ ہے اور مزید اس سے یہ بھی بتانا مقصود ہے کہ جس کتاب کو سن کر وہ اس قدر متاثرہوتے ہیں یقینا اسے کما حقہ سمجھتے بھی ہیں۔ لیکن کتاب سے ان کی وابستگی اور اللہ کی ذات اور اس کی صفات کے استحضار کا ان کے دلوں میں حال یہ ہے کہ وہ اس کتاب میں تحریف کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہ نہ سمجھئے کہ انجانے میں یا بےعلمی سے نہ سمجھنے کے باعث وہ تحریف کربیٹھتے ہیں۔ ہرگز نہیں ! بلکہ وہ جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر ارادے کے ساتھ تحریف کرتے ہیں اور انھیں خوب معلوم ہوتا ہے کہ وہ تحریف کرنے کی جسارت کررہے ہیں۔ قَد کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُم میں دونوں صورتیں ممکن ہیں کہ کان ناقصہ قرار دیا جائے یا تامہ۔ یعنی اس گروہ سے ان کے اسلاف مراد لیے جائیں یا خود ان کو مراد لیا جائے جو رسول اللہ ﷺ کے معاصرین ہیں۔ البتہ سیاق کلام کا تقاضا یہ ہے کہ معاصرین ہی مراد لیے جائیں۔ (متقدمین میں سے صاحب تفسیر کبیر نے انھیں کو مراد لیا ہے) اس لیے نہایت وضاحت اور صراحت کے ساتھ یہ کہا جارہا ہے کہ موجودہ یہود کے علما اور مشائخ کا یہ رویہ ہے اور وہ تحریف کرتے ہوئے اس قدر اللہ سے بےخوف ہوتے ہیں کہ وہ جانتے بوجھتے یہ حرکت کرتے ہیں۔
تحریف کا مفہوم
اب سوال یہ ہے کہ یہ تحریف کیا تھی جو وہ کرتے تھے ؟ تحریف کا مطلب تو یہ ہے کہ بات کو اصل معنی اور مفہوم سے پھیر کر اپنی خواہش کے مطابق ایسے معنی پہنادیئے جائیں جو قائل کے منشا کے بالکل خلاف ہوں۔ لیکن اس کی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ یہ تحریف لفظی بھی ہوتی ہے اور معنوی بھی۔ انھوں نے ہر طرح سے تورات میں تحریف کی۔ کبھی تو ایسا کیا کہ لفظ کی ادائیگی کے طریقے کو بدل ڈالا اور اس کی قرأت میں ایسی تبدیلی کی کہ لفظ کی اصل ساخت ہی بدل گئی۔ مثلاً مروہ کے ساتھ چونکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی کا تعلق ہے اور مروہ بیت اللہ کے سامنے پہاڑی کا نام ہے جہاں سے حاجی سعی کا آغاز کرتے ہیں۔ لیکن یہود نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نہیں بلکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ انھوں نے مروہ کے تلفظ میں تبدیلی کی تاکہ مروہ کو ملک شام میں دکھایا جاسکے۔ مروہ کو بگاڑ کر مورہ یا مریا کردیا گیا۔
کبھی انھوں نے عبارت میں کمی بیشی کی۔ کہیں سے کوئی جملہ حذف کردیا کہیں اضافہ کردیاتا کہ عبارت کا مفہوم ہی بدل کر رہ جائے۔ مثلاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہجرت کے واقعہ میں اس طرح تبدیلیاں کی گئیں کہ بیت اللہ اور مکہ معظمہ سے ان کا تعلق کاٹ دیا گیا اور یہ ثابت کرنا مشکل ہوگیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کبھی حجاز میں آئے تھے اور انھوں نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔
معنوی تحریف کی صورت میں انھوں نے الفاظ کے ترجموں میں تبدیلیاں کیں۔ مثلاً کسی لفظ کے اگر دو معنی ہوسکتے ہیں تو انھوں نے بجائے اس کے کہ وہ معنی مراد لیتے جو سیاق وسباق کے مطابق تھا۔ انھوں نے وہ معنی مراد لیا جو ان کے وضع کردہ اعتقادات کے مطابق تھا۔ مثلاً عبرانی میں ” ابن “ بیٹے کو بھی کہا جاتا ہے اور بندہ اور غلام کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ انھوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کے لیے ابن کا ترجمہ بیٹا کیا اور اسی پر اصرار کیا اور دوسرے معنی سے انکار کردیا۔ اسی طرح ” اب “ کا معنی باپ بھی ہوتا ہے اور مربی اور رب بھی۔ انھوں نے ہر جگہ اب کا ترجمہ باپ ہی سے کیا اور اس طرح سے عقائد کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ آنحضرت ﷺ کا نام اور آپ کی صفات کا تذکرہ تورات اور انجیل دونوں میں ہے۔ لیکن اہل کتاب نے پوری کوشش کی کہ جو چیز بھی آنحضرت ﷺ کے وجود پر دلالت کرتی ہے اسے اللہ کی کتابوں سے نکال دیاجائے۔ غرضیکہ تحریف کی جتنی بھی شکلیں ممکن ہیں وہ تمام تحریفیں بنی اسرائیل نے اللہ کے کلام میں کی ہیں اور اس دیدہ دلیری کے ساتھ کی ہیں کہ وہ جانتے تھے کہ ہم یہ تحریف کررہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے معاصر یہود و نصاریٰ میں تحریف کا مرض تو اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا۔ لیکن یہود کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیماری انھیں اپنے اسلاف سے ورثے میں ملی تھی۔ ان کی طرف آنے والے پیغمبروں نے ہمیشہ اس جسارت پر انھیں ٹوکا تھا۔ یرمیاہ نبی اپنی قوم کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ ” تم نے زندہ خدا رب الافواج ہمارے خدا کی باتوں کو بگاڑ ڈالا ہے “۔ (یرمیاہ 23، 37) اور یہ تحریف شائد اس لیے بھی ان کے لیے آسان ہوگئی کہ آج خود یہود و نصاریٰ اپنے آسمانی صحیفوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کتابوں اور صحیفوں کے مضامین و مطالب ہمارے انبیاء کے دلوں پر القا ہوتے تھے۔ پھر ! وہ انبیاء کرام انھیں الہاماتِ معنوی کی روشنی میں اپنے الفاظ میں نوشتے تیار کردیتے تھے۔ اس صورت حال میں جب نیت بھی فاسد ہو تو پھر تحریف کرنا کیا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ اگر ان کی کتابیں الفاظ سمیت نازل ہوتیں تو یقینا ان میں تبدیلی مشکل ہوتی۔ لیکن پیغمبروں کی اپنی زبان میں ہونے کی وجہ سے ان میں قلم کاری آسان ہوگئی اور پھر جب دوسری زبانوں میں ترجمے ہوئے تو وہ اصل متن کے ساتھ نہیں چھپتے تھے بلکہ تنہا ترجمے ہی متن کے قائم مقام سمجھ لیے گئے تھے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ ان کے علمائے سو کو اپنی خواہشات کے مطابق تحریف کرنے کا موقع مل گیا۔ مسلمانوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ جس قوم کے مذہبی علما کا یہ حال ہو کہ وہ اللہ کی کتاب کو بگاڑنے سے بھی دریغ نہ کریں۔ ان کے بارے میں تم یہ کیسے امید کرسکتے ہو کہ وہ کبھی آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر ایمان لے آئیں گے۔
علما کے بعد دوسرا گروہ یہود میں سے عام پڑھے لکھے لوگوں کو گروہ تھا۔ لیکن اسلام دشمنی اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ بغض میں سب ایک دوسرے کے ساتھ شریک تھے۔ یہ لوگ باقاعدہ مسلمانوں کی مجالس میں آتے، ان سے تعلقات بڑھاتے اور یہ بھی دعویٰ کرتے کہ ہم بھی تمہاری طرح مومن ہیں۔ ہمیں کوئی بیگانہ مت سمجھو، اس طرح سے مسلمانوں کو اپنے اعتماد میں لے کر بہکانے کی کوشش کرتے۔ لیکن جب اپنے بڑے لوگوں یا مذہبی قائدین سے ملتے تو وہ باقاعدہ انھیں سرزنش کرتے کہ تم مسلمانوں میں کیوں جاکر بیٹھتے ہو۔ اور تم مسلمانوں کے ساتھ اپنائت کا اظہار کرتے ہوئے کیوں ایسی باتیں بتادیتے ہو جن سے وہ تمہارے خلاف حجت قائم کرسکیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ گفتگو کی رواروی میں بعض دفعہ ان کے منہ سے آنحضرت ﷺ کے بارے میں ان کی کتابوں میں جو صفات، خصوصیات اور کامیابیوں کی خبریں دی گئی ہیں وہ ان میں سے بعض باتیں مسلمانوں کو بتادیتے تھے۔ لیکن ان کے بڑے لوگوں کے فسادِ عقیدہ کو ملاحظہ کیجئے کہ ان لوگوں سے کہتے کہ تمہاری یہی وہ
باتیں ہیں جو مسلمان تمہارے رب کے سامنے تمہارے خلاف حجت کے طور پر پیش کریں گے۔ گویا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر یہود مسلمانوں کو ایسی باتیں نہ بتائیں تو قیامت کے دن ان پر کوئی مقدمہ قائم نہ ہوسکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کو مانتے تو تھے لیکن اس کے علم کے بارے میں ان کا تصور یہ تھا کہ یہود جو کچھ مسلمانوں کے خلاف کررہے ہیں اور یا ان کی کتابوں میں جو کچھ ان کے پیغمبر کے بارے میں کہا گیا ہے اللہ کو بھی ان باتوں کا شائد علم نہیں اور اگر مسلمانوں کے علم میں یہ باتیں آگئیں تو وہ اللہ کے سامنے انھیں باتوں کو بطور دلیل پیش کریں گے اور اس طرح یہود پر فردجرم عائد ہوجائے گی۔ لیکن بعض اہل علم نے عندربکم کا ایک اور مفہوم مراد لیا ہے ان کا خیال ہے کہ عندربکم یا عنداللہ کا لفظ ایک مضبوط دلیل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ تو یہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے مسلمانوں کو ان کے پیغمبر اور اسلام کے بارے میں وہ باتیں بتادیں جو ہماری کتابوں میں موجود ہیں تو یہ ایک ایسی مضبوط دلیل ہے، جس سے مسلمان دنیا میں بھی اور قیامت کے دن بھی تمہارے خلاف حجت قائم کریں گے۔ کیا تمہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ تم اپنے ہی خلاف مسلمانوں کو دلائل مہیا کررہے ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ یہود اور نصاریٰ یہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کو اپنے پیغمبر کی تعلیمات، پیش گوئیوں، بشارتوں اور علامتوں کے بارے میں جو کچھ بھی معلوم ہوگا وہ محض اہل کتاب کے بتانے سے ہی ہوگا۔ اس کے علاوہ ان کے پاس جاننے کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ گویا وہ یہ سمجھتے تھے اور آج کا پورا یورپ اور ان کے مستشرقین بھی یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید اللہ کی کتاب نہیں جب وہ قرآن کریم پر تبصرہ کرنے بیٹھتے ہیں تو اس مفروضہ کو بنیاد بنالیتے ہیں کہ اس میں جو کچھ بھی مذکور ہے وہ یہود کی تورات، عیسائیوں کی انجیل اور اس طرح کے دوسرے انسانی ذرائع سے لیا گیا ہے۔ محمد ﷺ پر کوئی وحی نہیں اتری تھی۔ جب آدمی ان تضادات پر غور کرتا ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ اگر محمد ﷺ اللہ کے رسول نہیں اور قرآن کریم اللہ کا کلام نہیں تو پہلی آسمانی کتابوں میں ان کا تذکرہ کیوں ہے ؟ اور پھر یہ آسمانی کتابوں کے بیان کردہ علامتوں کے مصداق کیوں ہیں ؟ لیکن عجیب بات ہے کہ اس کا جواب ان کے پاس کوئی نہیں، لیکن وہ حقیقت کو قبول کرنے اور سمجھنے کے لیے بالکل تیار نہیں۔ ان کی اسی جہالت اور نادانی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ کیا یہ اہل کتاب نہیں جانتے کہ یہ جو کچھ پیغمبرِاسلام کے بارے میں کہتے ہیں اور جو مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اس میں ہر جلی اور خفی بات کو اللہ جانتا ہے اور ان کا کوئی عمل بھی اللہ کی نگاہوں سے چھپا ہوا نہیں۔
Ayah 2:78وَمِنْھُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْکِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِیَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ ۔ (البقرۃ : 78)
(اور ان میں ان پڑھ بھی ہیں جو کتاب الہٰی کا کوئی علم نہیں رکھتے، بجز جھوٹی آرزوئوں کے اور یہ صرف اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں)
امی سے مراد
یہاں یہود کے تیسرے گروہ کا ذکر ہے۔ جنھیں عوام کالانعام کہا جاتا ہے۔ امیون ” امی “ کی جمع ہے۔ امی اس شخص کو کہتے ہیں جو لکھنا پڑھنانہ جانتاہو اور مکتبی تعلیم سے بالکل ناواقف ہو۔ جسے ہم عام طور پر جاہل کہہ دیتے ہیں۔ اس سے پہلے علما اور عام تعلیم یافتہ لوگوں کا تذکرہ ہوچکا اور مسلمانوں کو ان کے کرتوت دکھائے گئے تاکہ مسلمان یہ سمجھ سکیں کہ ایسے لوگوں سے اسلام قبول کرنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔
جہلاء کا دین صرف آرزوئیں ہیں
لیکن جہلا میں چونکہ اس طرح کی باتیں نہیں ہوتیں وہ اپنی جہالت کے باعث وہ جرائم تو نہیں کرسکتے جن کے لیے علم درکارہوتا ہے۔ اس لیے اس بات کا امکان ہوسکتا تھا کہ مسلمان جہلائے یہود سے ایمان لانے کی امیدیں وابستہ کرلیتے۔ اس لیے ان جہلا کے بارے میں بھی بتایا جارہا ہے کہ اسلام قبول کرنے کی امید ان سے بھی مت رکھو اس لیے کہ اسلام تو ایک ضابطہ حیات ہے جو زندگی گزارنے کے اصول دیتا ہے اور پھر ان اصولوں پر پابندی کرنے کا حکم دیتا ہے۔ وہ کسی وابستگی کو ایمان و عمل کے بغیر اہمیت کے قابل نہیں سمجھتا۔ تو ایک ایسا دین جس میں ذمہ داریاں ہوں ان لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتا جو ذمہ داریوں کو قبول کرنے کا تصور بھی نہ رکھتے ہوں۔ البتہ آرزوئیں ان کی اس طرح کی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے یہاں آخرت میں بخشش ہے تو صرف انہی کے لیے اور جنت میں جائیں گے تو صرف وہی جائیں گے۔ ایسے لوگوں سے مسلمان یہ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ وہ اسلام جیسے دین کو قبول کرلیں گے۔
قرآن کریم نے یہاں امانی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جو امنیہ کی جمع ہے۔ جس کے معنی ” آرزو، تمنا اور خواہش “ کے ہیں۔ یعنی دین کے بارے میں ان کا تصوریہ ہے کہ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو یہودی یا نصرانی کہلائیں۔ بس یہ نسبت ہماری نجات کے لیے کافی ہے۔ قرآن کریم نے ان کی چند آرزوئوں کا مختلف مواقع پر ذکر بھی کیا ہے۔ ایک تو ابھی ایک آیت کے بعد ہی آرہی ہے اور ایک کا ذکر آگے چل کر کیا گیا ہے۔ اس کا میں یہاں ذکر کردیتا ہوں۔ وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ہودا او نصاریٰ تلک امانیہھم ” اور وہ کہتے ہیں کہ جنت میں نہیں جائیں گے مگر یہودی اور نصرانی یہ ان کی آرزئویں ہیں “۔ یعنی وہ جنت کو یہودی اور نصرانی کے لیے وقف سمجھتے ہیں۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو انہی کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ ان کے سوا کسی اور کے جنت میں جانے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے تھے : وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی نَحْنُ اَبْنَائُ اللّٰہِ وَاَحِبَّائُ ہ ” اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں “۔ ظاہر ہے جنت اللہ تعالیٰ اپنے بیٹوں اور چہیتوں ہی کو دیں گے۔ دوسرے کسی مذہب کے ماننے والے کا اس سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔
اندازہ فرمائیے کہ جو لوگ اس قسم کی آرزوئوں کے حوالے سے جی رہے ہوں اور اس قسم کے اوہام میں مبتلا ہوں اور اس طرح کے سہانے خواب ان کا دین ہوں اور وہ چند رسوم کے سوا دین کی کوئی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں۔ وہ اسلام قبول کرنے کے لیے کیسے تیار ہوسکتے ہیں ؟ ان کی زندگی کا دارومدار چونکہ تمام تر ظن و گمان پر ہے اس لیے علم کی کوئی بات ان کے یہاں بار نہیں پاسکتی اور قرآن کریم تو سرتاسر علم ہے جو حقیقت پسندی کا درس دیتا ہے اور ایمان وعمل کے راستے سے اللہ کے ساتھ جوڑتا ہے ایک ایسی کتاب اور ایک ایسا دین ان کے لیے کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے ؟ ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ وہ کیسے جاہل لوگ تھے جنھوں نے چندمصنوعی خواہشوں اور آرزوئوں کو اپنا مذہب بنا رکھا تھا۔ لیکن اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ زوال پذیر قوموں کے یہی طور اطوار ہوتے ہیں۔ امت مسلمہ کی حالت کا جائزہ لے کر دیکھ لیجئے۔ ایک بڑے طبقے نے محرم کے دس دنوں کی مصنوعی مصروفیتوں کو اپنے لیے نجات کی ضمانت سمجھ لیا ہے۔ اور وہ باقی سارا سال مذہب کی پابندیوں سے آزاد رہتے ہیں۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جو کسی بزرگ کا دامن گرفتہ ہونا اور عقیدت کو نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور کتنے اللہ کے نام نہاد ایسے نیک بندے بھی ہیں جو لوگوں کو یہ کہہ کرمرید کرتے ہیں کہ تمہیں نمازیں پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں تمہارے ہر گناہ کی ذمہ داری ہمارے سر ہے۔ مرید سال بہ سال ایسے مشائخ کو نذرانے اور فتوحات دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جنت خرید لی اور ایسے لوگوں کی تعداد تو بیشمار ہے جو بعض راتوں کی عبادت اور بعض دنوں کے روزوں کو پوری زندگی کی نجات کے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ اس امت مسلمہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب اور اس کے عظیم رسول کی زندگی کا روزنامچہ پوری طرح محفوظ ہے۔ اگر وہ دینی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیں تو اس کے لیے ہر جگہ امکانات میسر ہیں۔ ابھی تک اس امت میں خیر غالب ہے اور صالح علما کا ایک بڑاطبقہ موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں نے جو کچھ عرض کیا ہے حالت اس سے بھی زیادہ ناگفتہ بہ ہے تو پھر ہم اہل کتاب کی حالت پر تعجب کا اظہار کیوں کریں۔
Ayah 2:79فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْھِمْ ق ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ھٰذَامِنْ عِنْدِاللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًاط فَوَیْلٌ لَّھُمْ مِمَّا کَتَبَتْ اَیْدِیْھِمْ وَوَیْلٌ لَّھُمْ مِمَّا یَکْسِبُوْنَ ۔
(البقرۃ : 79)
(سو خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو کتاب کو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیں۔ پس ان کے لیے خرابی ہے اس چیز کے سبب سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لیے ہلاکی ہے اس چیز کے سبب سے جو وہ کماتے ہیں)
علماء یہود کے کرتوت
یہود کے تینوں گروہوں کی بد اعمالیوں اور فکری ژولیدگیوں کا ذکر کرنے کے بعداب پھر ان کے سربرآوردہ گروہ یعنی علما کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ جن کے بارے میں پہلے بتایا جاچکا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف تک کرڈالی۔ یہاں ان کی ایک مزیدکرتوت کو بیان کرکے سزا بھی بیان کی گئی ہے کہ ان اللہ کے بندوں کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کی کتاب میں تحریف ہی کے مجرم نہیں ہیں بلکہ انھوں نے اپنے ایسے فتاویٰ کو جو انھوں نے کسی شرعی سند کے بغیر لکھے اور جن کا مقصد اپنی دنیوی اغراض کو پورا کرنا اور اپنے ماننے والے عوام کو خوش کرنا تھا، کتاب اللہ کا درجہ دے دیا اور یہ کہا کہ ہم نے جو کچھ اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے وہ سراسر اللہ کی کتاب سے نہ صرف ثابت ہے بلکہ اسی سے ماخوذ ہے۔ یہاں الکتاب کا لفظ کتاب اللہ کے معنی میں نہیں بلکہ شریعت کے احکام و قوانین کے لیے آیا ہے۔ اور مراد اس سے وہ فتاویٰ ہیں جو انھوں نے شرعی احکام جاری کرتے ہوئے مرتب کیے۔ اپنے ہاتھوں سے لکھنے کا مطلب یہی ہے کہ ان فتو وں کے لیے کتاب الہٰی کے اندر کوئی بنیاد اور سند نہیں تھی۔ یہ محض ان کے طبع زاد اور من گھڑت فتوے تھے۔ لیکن ان کا انتساب وہ اللہ اور اس کی شریعت کی طرف کرتے تھے۔ پھر ان فتو وں کے جاری کرنے کے سامنے جو مقاصد تھے انہیں بھی پروردگار نے افشاء فرمادیا۔ فرمایا : لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلاً کہ وہ یہ ساری حرکتیں اس لیے کرتے تھے تاکہ اس کے بدلے میں فوائد اور منافع حاصل کرسکیں۔ یعنی یہ ان کی خدمت دین نہ تھی بلکہ حصول مال وجاہ کا ایک ذریعہ تھا۔ ثمن کے معنی ” صرف نقد یا زرقیمت نہیں “ بلکہ جو چیز بھی کسی چیز کے معاوضہ میں حاصل ہو وہ اس کی ثمن ہے۔ اس لیے مفسرین نے اسے یہاں اسی وسیع مفہوم یعنی مطلق دنیوی معاوضہ کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی ان کے علما اپنے فتاویٰ کے معاوضہ میں ہر طرح کا معاوضہ وصول کرتے تھے۔ دولت دنیا کی شکل میں بھی اور جاہ ومنصب کی صورت میں بھی۔ کبھی وہ اپنے مذہبی رسوخ کو مال وزر کے حصول کا ذریعہ بناتے اور کبھی اسی واسطے سے اقتدار میں شرکت کا راستہ نکالتے۔ دونوں صورتوں میں ان کا مقصد اور ہدف دنیا ہوتی، جس سے اہل دنیا اور اربابِ حکومت فائدہ اٹھاتے اور دین کو اس سے بےپناہ نقصان پہنچتا۔ یہ تو علما کی وہ انفرادی جسارتیں ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ لیکن قومی سطح پر جو انھوں نے اللہ کی کتاب اور اس کی شریعت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ان نادانوں نے اپنی تفسیروں کو، اپنی قومی تاریخ کو، اپنے اوہام اور قیاسات کو اور اپنے خیالی فلسفوں کو اور اپنے اجتہاد سے وضع کیے ہوئے فقہی قوانین کو کلام الہٰی کے ساتھ خلط ملط کردیا اور یہ ساری چیزیں لوگوں کے سامنے اس حیثیت سے پیش کیں کہ گویا یہ سب اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ بائبل کا عہد عتیق ہو یا عہد جدید اس میں اللہ کی کتاب کی آیات کو تلاش کرنا ناممکن ہوگیا۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اس میں جو کچھ اللہ کی جانب سے نازل کیا گیا تھا وہ کیا ہے اور جو کچھ انھوں نے اپنی طرف سے شامل کیا وہ کیا ہے ؟ اگر کتاب اللہ کو اوپر متن کی طرح لکھ کرنیچے تشریحات کی صورت میں سب کچھ لکھ دیتے تب بھی شائد کتاب اللہ کی شناخت کا امکان باقی رہتا۔ لیکن انھوں نے تو سب کچھ اس طرح خلط ملط کردیا کہ اب اصل حقیقت کا پہچاننا ناممکن ہوگیا ہے۔ بعض جگہ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اصل عقیدہ گم کردیا گیا ہے اور اپنے وضع کردہ خیالات کو اس کی جگہ لکھ دیا گیا ہے۔ فَوَیْلٌ لَّھُمْ مِمَّا کَتَبَتْ اَیْدِیْھِمْ وَوَیْلٌ لَّھُمْ مِمَّا یَکْسِبُوْن۔ آیت کے اس آخری حصے میں علما کی ان مجرمانہ حرکتوں پر سزا سنائی گئی ہے۔ انھوں نے تو اپنے طور پر اللہ کے دین کو حصول زر کا ذریعہ بنایا لیکن اللہ نے اسے ان کے لیے دوہرا جرم قرار دیا اور دونوں کی الگ الگ سزا سنائی۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ایسے فتاویٰ کو جو سراسر ان کے خانہ زاد اور ان کے نفس کی ایجاد تھے جن کے پیچھے شریعت کی کوئی سند نہ تھی انھیں اللہ کی طرف منسوب کیا تو اس پر سزا دیتے ہوئے فرمایا کہ انھوں نے اس طرح سے اپنے نفس کے اکسانے پر جو کچھ لکھا اس لکھنے پر ان کے لیے ہلاکت اور خرابی ہے اور پھر اس پر انھوں نے جو کچھ مال وزر یا عہدہ ومنصب حاصل کیا وہ ان کا دوسرا جرم ہے اس پر بھی ان کے لیے تباہی اور بربادی ہے۔ دونوں جگہ ویل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ کسی بھی بندے کے لیے قیامت میں ایک ہی ہلاکت اور خرابی اس کی ابدی تباہی کے لیے کافی ہے۔ یہاں دو دفعہ انھیں یہ وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کی ہلاکت کا کیا عالم ہوگا ؟ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم میں داخل کردیا جانابجائے خود ایک تباہی اور بربادی ہے۔ لیکن خود جہنم کے بھی درجات اور وادیاں ہیں۔ ان میں ایک وادی کا نام ویل ہے جس سے خود جہنم پناہ مانگتا ہے ممکن ہے یہاں اس سے وہی مراد ہو۔
Ayah 2:80وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَاالنَّارُ اِلَّآ اَیَّاماً مَّعْدُوْدَۃً ط قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَاللّٰہِ عَھْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ عَھْدَہٗٓ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 80)
(اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کو تو دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں، بجز چند گنے چنے دنوں کے۔ آپ کہیئے ! کیا تم اللہ کے ہاں سے کوئی وعدہ لے چکے ہو ؟ تو اللہ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گایا تم اللہ پر ایک ایسی تہمت باندھ رہے ہو جس کے بارے میں تمہیں کچھ علم نہیں)
جھوٹی آرزئوں کی ایک مثال
اس آیت کریمہ میں ان کی جھوٹی آرزوئوں کی ایک اور مثال بیان ہوئی ہے۔ اس سے پہلے بتایا گیا ہے کہ ان کے عوام دین کی ذمہ داریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں وہ دین کو آرزوئوں کا مجموعہ سمجھتے ہیں اور انھیں آرزوئوں کے سہارے وہ جنت کو اپنے لیے لازمی تصور کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ ان کی آرزوئوں میں سے یہ بھی ایک آرزو تھی کہ ہمیں جہنم کا عذاب بالکل نہیں ہوگا، ہم چونکہ اللہ کی برگزیدہ امت ہیں ہمارے اعمال چاہے کیسے بھی ہوں، ہمارے جہنم میں جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر بفرض محال ہمیں جہنم جانا ہی پڑاتو وہ چند دنوں کی بات ہوگی، اس کے بعد ہم مستقل جنت میں واپس آجائیں گے۔
ایاماً معدودۃ سے مراد
ان چند دنوں کے حوالے سے مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ لیکن ہمارے اکثرمفسرین اس طرف گئے ہیں کہ جتنے دنوں تک یہودی گوسالہ پرستی میں مبتلا رہے اتنے دن وہ جہنم میں رہیں گے۔ اس کی تائیدخود یہود کے اکابر سے بھی ہوتی ہے۔ تفسیر ماجدی میں ہے کہ پادری راڈ ول نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے حاشیہ میں اکابرِ یہود کے حوالہ سے لکھا ہے (ان دنوں سے مراد وہ دن ہیں جن میں قوم اسرائیل گوسالہ پرستی میں مبتلارہی تھی یعنی کوئی چالیس دن) اور ایک دوسرے مسیحی مترجمِ قرآن ” سیل “ نے یہ مدت گیارہ مہینہ یا ایک سال نقل کی ہے۔ اسی طرح ایک میعاد سات دن کی بھی نقل ہوئی ہے۔ بہرحال وہ تھی کوئی محدود و متعین مختصرسی ہی مدت بلکہ بعض یہودی ماخذوں سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اسرائیلی اپنے کو آتش دوزخ کی زد سے بالکل ہی باہر اور محفوظ سمجھ رہے تھے۔ چناچہ جیوش انسائیکلوپیڈیا میں یہ عقیدہ یوں نقل ہوا ہے ” آتشِ دوزخ گناہگارانِ قوم یہود کو چھوئے گی بھی نہیں اس لیے کہ وہ درِ جہنم پر پہنچتے ہی اپنے گناہوں کا اقرار کرلیں گے اور خدا کے پاس واپس آجائیں گے “ (جلد 5 صفحہ 583) اور یہود کے بڑے مقدس نوشتہ تالمود کے انتخابات کا جو مجموعہ انگریزی میں ڈاکٹر کو ہن کا مرتب کیا ہوا Everyman's Library Series میں شائع ہوا ہے۔ اس میں یوں آیا ہے۔” قیامت کے دن ابراہیم درِ دوزخ پر تشریف رکھتے ہوں گے اور کسی مختون اسرائیلی کو اس میں نہ گرنے دیں گے (صفحہ 404) “۔” جہنم کی آگ اسرائیلی گناہ گاروں پر کوئی قدرت نہیں رکھتی صفحہ (405) “۔ حاصل یہ کہ بنی اسرائیل اپنی قوم کو خدا کی لاڈلی اور دلاری سمجھے ہوئے تھے اور اس پر حد سے زیادہ نازاں تھے۔ یہود کی زبان سے اس سلسلہ میں ہم (صیغہ جمع متکلم) جہاں جہاں بھی آیا ہے اجتماعی معنی رکھتا ہے۔ یعنی مراد قوم اسرائیل ہے۔ یہی وہ تصورات ہیں جنھوں نے ان کو ایمان وعمل کی زندگی سے یکسر بےگانہ کردیا تھا۔ آدمی ایمان وعمل کی ذمہ داریوں کو لازمی سمجھتے ہوئے بھی کوتاہیوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر وہ سرے سے اسے لازم ہی نہ سمجھتا ہو تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کی زندگی کس طرح ایمان کے نور سے محروم اور عمل کی توانائی سے دور ہوگی۔ یہ بات صرف بنی اسرائیل تک محدود نہیں جب بھی کوئی قوم ایسی بےہودہ آرزوئوں کے ذریعے ایمان وعمل کی پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد کرلیتی ہے تو پھر اس کی تباہی کے بارے میں دو رائے نہیں ہوتیں۔ بنی اسرائیل اسی طرح تباہ ہوئے اور امت مسلمہ کا بھی ایک معتد بہ طبقہ ایسی ہی آرزوئوں کا شکار ہوکرشریعت کی پابندیوں سے آزاد ہوچکا ہے۔ انھوں نے اللہ کی رحمت اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کا خانہ ساز اور مصنوعی مفہوم دل و دماغ میں بٹھا لیا ہے اور اس کے سہارے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم چونکہ آنحضرت ﷺ کی امت ہیں اس لیے قیامت کے دن ہمیں جہنم میں جانے کا کوئی کھٹکا نہیں۔ اللہ اس گمراہی سے امت کو محفوظ فرمائے۔
Ayahs 2:81–82بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْٓئَتُہٗ فَاُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْاالصّٰلِحٰتِ اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃ ِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 81 تا 82)
(البتہ ! جس نے کمائی کوئی بدی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیاتو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور جو ایمان لائے اور جنھوں نے بھلے کام کیے، تو وہی لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
نجات اور عدم نجات کا قانون
یہود نے نجات کے لیے جس طرح صرف نسبی انتساب کو کافی سمجھ لیا تھا اور باقی اہل مذاہب بھی اسی طرح کی متنوع گمراہیوں میں مبتلا تھے۔ ان سب کی تردید کے لیے یہاں نجات اور عدم نجات کا اصل قانون بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کے یہاں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ تم کس نسل یا کس گروہ سے تعلق رکھتے ہو تمہارا رنگ کس طرح کا ہے، تمہاری مالی حیثیت کیسی ہے، اس کے یہاں تو صرف ایک چیز قابل قبول ہے وہ ہے ایمان اور عمل۔ جن حقیقتوں پر ایمان لانا ضروری ہے ان پر ایمان لانا اور جن احکام پر عمل کرنا ضروری ہے ان پر عمل کرنا یہ نجات کا ذریعہ ہے اور اسی پر نجات کا دارومدا رہے۔ البتہ جس شخص یا جس گروہ نے اللہ کی نافرمانی اور گمراہی کا راستہ اختیار کیا اور پھر اس معصیت اور نافرمانی نے پوری طرح اسے اپنے گھیرے میں لے لیا کہ ایمان کا نور باقی رہا اور نہ فرمانبرداری کی آمادگی۔ یہ شخص جہنم کا ایندھن بنے گا۔ الفاظ پر غور کیجئے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں خَطِیْـٓـئَـتُـہٗ سے مراد ہر بدی اور نافرمانی نہیں بلکہ ایسی بدی اور ایسی معصیت جو بدی کرنے والے کو اپنے گھیرائو میں لے لے اور پوری طرح اسے ایمانی اور شرعی زندگی سے تہی دامن کر دے۔ وہ حرام کمائی کا ارتکاب کرنے لگے تو حلال کی پابندیوں کو ماننے سے انکار کردے، وہ تجدد کا شکار ہو تو ایمان کی پابندیوں کو رجعت پسندی خیال کرنے لگے۔ وہ اسلام کو اللہ اور بندے کے درمیان ایک پرائیویٹ معاملہ قرار دے کر پوری زندگی کو اس سے خارج کردے۔ اپنی معاشرت، معیشت، سیاست، تہذیب، تمدن، تعلیم اور قانون ہر چیز کو اسلام سے نہیں بلکہ اپنی پسند سے اختیار کرنا کافی سمجھے اور یہ یقین رکھے کہ تنہائی میں اللہ کو یاد کرلینا میری نجات کے لیے کافی ہے باقی زندگی کے تمام معاملات میں، میں آزاد ہوں جس طرح چاہوں اس میں رویہ اختیار کروں۔ یہ وہ راستہ ہے جو انسان کو جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور ایمان وعمل کی پابندی وہ راستہ ہے جو انسان کو جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ پہلے راستے پر زندگی بھر چلنے والاہمیشہ جہنم میں رہے گا اور دوسرے راستے پر استقامت سے چلنے والاانشاء اللہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ یہ وہ اصل الاصول ہے جس پر انسان کی نجات اور عدم نجات کا دارومدار ہے۔