Ayah 2:48وَاتَّقُوْایَوْمًا لَّاتَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَیْئًا وَّلاَ یُقْبَلُ مِنْھَا شَفَاعَۃٌ وَّلاَ یُؤْخَذُ مِنْھَا عَدْلٌ وَّلَاھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔
” اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ کام نہ آئے گی۔ نہ اس کی طرف سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی، نہ ان سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔ “
(البقرۃ : 48)
اس آیت کے الفاظ پر غور کیجئے اور دیکھئے۔ یہ تنبیہ کس قدر شدید ہے کہ تمہاری گمراہی کی تمام تر بنیاد جس نے تمہیں آخرت کی جواب دہی سے بےنیاز کردیا ہے۔ یہ ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم اپنی زندگی میں چاہے کیسی ہی گمراہیوں میں مبتلا ہوجائیں اور کیسی ہے بداعمالیوں کا ارتکاب کریں ہم چونکہ اولاد ہیں اللہ کے عظیم پیغمبروں کی اس لیے قیامت کے دن ہم سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔ اگر کوئی باز پرس ہوئی بھی تو ہمارے یہ عظیم آبائو اجداد اللہ کے عذاب سے ہمیں بچالیں گے۔ وہ ہمارے اور پروردگار کے درمیان حائل ہوجائیں گے اور ہماری سفارش کرکے ہمیں چھڑالیں گے۔ اس لیے نہایت واضح الفاظ میں فرمایا جارہا ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے آبائو اجداد تمہاری تمام تر گمراہیوں کے باوجود قیامت کے دن تمہارے کام آئیں گے حالانکہ قیامت کا دن ایسا دن ہے جس میں کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ کام آنے کی تین ہی صورتیں ہیں۔ کہ اللہ اگر اپنے قانونِ عدالت کے تحت کسی کو پکڑے تو کوئی شفاعت اور سفارش کرنے والا شفاعت اور سفارش سے اسے چھڑالے۔ اور یا کوئی مالی معاوضہ دے کر اللہ کو راضی کرلیاجائے کہ اس شخص کی بےایمانیوں اور بداعمالیوں کا ہم یہ معاوضہ دیتے ہیں اس لیے آپ اس کو چھوڑ دیجئے۔ جیسے بعض دفعہ قاتل کو دیت ادا کرکے چھڑالیا جاتا ہے۔ تو وہاں بھی پروردگار سے یہ پوچھ لیاجائے کہ ان گناہوں کا کیا معاوضہ ہوسکتا ہے چناچہ جو معاوضہ طے ہو اسے ادا کرکے چھڑا لیاجائے اور تیسری صورت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گناہوں کی پاداش میں پکڑاجائے تو اس کے مددگار اس کی مدد کے لیے پہنچ جائیں اور اپنی حمایت اور مدد کے زور سے اسے چھڑالیں۔ کسی کے کام آنے کی یہی تینوں صورتیں ہیں۔ اللہ فرماتا ہے وہاں یہ تینوں صورتیں ممکن نہیں ہوں گی۔
آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس اسلوبِ کلام سے بظاہر یہ بات مترشح ہورہی ہے کہ شفاعت کرنے والے، معاوضہ ادا کرنے والے اور مدد کرنے والے اپنی سی کوشش کریں گے لیکن ان کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں سرے سے اللہ کے غضب کے سامنے نہ کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا، نہ مدد کو پہنچے گا نہ کوئی معاوضہ کا تصور کرسکے گا۔ عربی زبان کا ایک اسلوب یہ ہے کہ اس میں بظاہر ایک شے کے لازم کی نفی ہوتی ہے لیکن مقصود درحقیقت ملزوم کی نفی ہوتی ہے۔ یہاں بھی مقصود لازم کی نہیں بلکہ ملزوم کی نفی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے دوزخیوں کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْن وَلَا صَدِیقٍ حَمِیْم ” نہ ہمارے کوئی سفارش کرنے والے ہیں اور نہ سرگرم دوست۔ “ یعنی ایسا نہیں کہ سفارش یا مدد قبول نہیں کی جائے گی بلکہ سرے سے کوئی سفارش کرنے والا اور کوئی مدد کو پہنچنے والانھیں ہوگا۔ جہاں تک معاوضہ دینے اور حمایت اور مدد سے چھڑالینے کا تعلق ہے۔ اس کے بارے میں نہ بنی اسرائیل میں کوئی غلط فہمی تھی اور نہ امت اسلامیہ میں کوئی غلط فہمی ہے۔
شفاعت کی حقیقت
البتہ شفاعت کے بارے میں بنی اسرائیل بھی بری طرح غلط فہمی کا شکار تھے اور اس امت کے بھی بہت سے افراد اس غلط فہمی کا شکار ہیں۔ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ نے نفس شفاعت سے انکار نہیں کیا بلکہ نصوص قرآن وسنت سے اس کا اثبات ہوتا ہے۔ البتہ اس کو مشروط ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ شرط یہ ہے کہ جہاں تک کافر، مشرک اور منافق کا تعلق ہے ان کے بارے میں تو شفاعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ جن لوگوں کا ایمان پر خاتمہ ہوا ہے لیکن نیکیوں میں کمی اور برائیوں میں زیادتیوں کے باعث اندیشہ ہے کہ انھیں جہنم میں بھیج دیا جائے ان کے بارے میں شفاعت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں شرط یہ ٹھہرائی گئی ہے۔ کہ جس کے بارے میں اللہ اجازت دیں گے اس کے بارے میں پیغمبر یا اللہ کے نیک بندے سفارش کریں گے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ بغیر اذن خداوندی کے جو چاہے اور جس کے بارے میں چاہے شفاعت کرنا شروع کردے۔ حتی کہ وہ پہلی شفاعت جسے شفاعت کبریٰ کہا گیا ہے۔ وہ بھی اللہ کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔ میری اس سے مراد یہ ہے کہ جب تمام انسان میدانِ حشر میں حساب کتاب کے انتظار میں کھڑے ہوں گے اور منظر اتنا ہولناک ہوگا کہ ہر شخص نفسی نفسی پکاررہا ہوگا۔ لوگ آخر اولوالعزم رسولوں کی طرف رجوع کریں گے کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ انسانوں کا حساب کتاب شروع کریں لیکن کوئی پیغمبر اور رسول بھی اس کی جرأت نہ کرسکے گا۔ آخر میں لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جائیں گے۔ حضور فرماتے ہیں کہ میں اجازت طلبی کے لیے سرسجدے میں رکھ دوں گا اور اس وقت میں نہیں جانتا کہ میں کن کلمات سے اللہ کی حمد وثنا کروں گا اس وقت اللہ کی جانب سے وہ کلمات تحمید وتمجید میرے دل میں القاء کیے جائیں گے۔ میں ان کلمات سے اللہ کو یاد کروں گا، میں نہیں جانتاکتنا عرصہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز رہوں گا۔ پھر آواز آئے گی،” محمد سر اٹھائو، مانگو دیا جائے گا “۔ پھر میں عرض کروں گا ” یا اللہ ! تیری مخلوق بےحد پریشانی میں ہے۔ حساب کتاب شروع کرنے کا حکم عطا فرمایئے “۔ اس شفاعت اور سفارش کے بعد اللہ تعالیٰ حساب کتاب شروع کرنے کا حکم دیں گے۔ بالکل اسی طرح جس کسی کے بارے میں بھی آنحضرت ﷺ یا اللہ کے نیک بندوں میں سے کوئی سفارش کرنا چاہے گا تو سب سے پہلے اللہ سے اجازت طلب کرے گا۔ اجازت ملے گی تو سفارش کرے گا ورنہ کوئی بھی سفارش کی جرأت نہ کرسکے گا اور اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ اللہ کسی کو سزادینا چاہے گا لیکن انبیائے کرام اور اولیائے عظام سفارش سے اسے چھڑالیں گے تو اس سے تو جزا وسزاکا پورا قانون معطل ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر بغیر کسی اصول اور بغیر اذن خداوندی کے سفارش سے کام چلنے لگے تو پھر ایمان وعمل کی کیا ضرورت ہے ؟ یہی تو وہ تصور ہے جس نے ہمیشہ قوموں کو گمراہ کیا۔ اسی تصور نے بنی اسرائیل کو تباہ کیا اور اسی کے ہاتھوں ہم تباہ ہورہے ہیں۔ بدعمل سے بدعمل آدمی اس سہارے اپنی بداعمالیاں جاری رکھتا ہے کہ ہم اللہ کے محبوب پیغمبر کی امت ہیں۔ اگر اللہ نے ہمارا مواخذہ کرنا چاہا بھی تو حضور یہ مواخذہ نہیں ہونے دیں گے تو شفاعت اور سفارش کا یہ تصور جو ہمارے ذہنوں میں ہے، قرآن وسنت کے بالکل برعکس ہے۔ اگر اسے قبول کرلیاجائے تو جیسے میں نے پہلے عرض کیا پوری شریعت تلپٹ ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہم جب کسی کے پاس سفارش کے لیے جاتے ہیں تو سفارش کرنے والادو تصورات لے کرجاتا ہے ایک تو یہ کہ جس کے پاس میں جارہا ہوں وہ مقام و مرتبہ میں میرے برابر ہے یا مجھ سے فروتر ہے یا کم ازکم میرا اس پر اتنا اثر ہے کہ وہ میری سفارش کو رد کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ اللہ کریم کے بارے میں اگر کوئی ایسا تصور کرے کہ مخلوق میں سے بڑی سے بڑی مخلوق بھی اللہ کے برابر ہوسکتی ہے یا اس پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ تو یہ ایک ایسا کفر ہے جو معرفتِ خداوندی سے محرومی کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ جس شخص کو اللہ کی ذات وصفات سے کچھ بھی آگاہی ہے وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ خالق و مخلوق برابر ہوسکتے ہیں۔ سفارش کے حوالے سے دوسرا تصور یہ ہے کہ سفارش کرنے والا جب کسی سزا دینے والے کے پاس سفارش کے لیے جاتا ہے تو وہ جاکر یہ کہتا ہے کہ آپ نے جس شخص کو سزادی ہے یقینا آپ نے اس کو مجرم سمجھ کر سزادی ہے کیونکہ آپ کو اس کے بارے میں ایسی ہی اطلاعات دی گئی ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے وہ شخص بالکل بےگناہ ہے۔ آپ کو جو کچھ بتایا گیا وہ بالکل غلط ہے آپ چونکہ اس شخص کو خود نہیں جانتے آپ نے اطلاعات پر اعتبار کیا میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ کو یقین دلائوں کہ میں ذاتی طور پرا سے جانتا ہوں وہ شخص ہرگز ایسا نہیں۔ اندازہ فرمائیے کیا اللہ تعالیٰ کسی شخص کے بارے میں بیخبر بھی ہوسکتے ہیں ؟ جس ذات خداوندی کے علم کا یہ حال ہے کہ وہ کائنات کے ان گوشوں سے بھی واقف ہے، جہاں تک کسی انسان کی رسائی نہیں اور جس کے علم کی وسعتوں کا حال یہ ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ میں آنے والے خیالات تک کو جانتا ہے۔ صحرا میں کوئی پتہ گرتا ہے تو وہ اسے دیکھتا ہے، سمندر کے نیچے کوئی مچھلی حرکت کرتی ہے، تو وہ اس کی آواز سنتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ اس کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ کوئی سفارش کرنے والا جاکر اسے یہ کہے کہ آپ نے غلط اطلاعات پر اعتبار کرکے فلاں شخص کو جو سزادی ہے وہ بالکل غلط ہے میں اس کے صحیح حالات سے آپ کو آگاہی دینے کے لیے آیا ہوں۔ اس لیے شفاعت کا یہ تصور تو اللہ کی ذات وصفات کے تصور کے لیے بالکل اجنبی بلکہ مخالف ہے۔ لیکن بنی اسرائیل ایسے ہی تصورات میں الجھے ہوئے تھے۔ جس کے نتیجے میں ان کی پوری زندگی ایمان وعمل کے نور سے محروم ہوگئی تھی اور یہ کیسی بدنصیبی ہے کہ وہ امت اسلامیہ جو قیامت تک کے لیے انسانی ہدایت کے عظیم منصب پر فائز کی گئی ہے، اس کی بھی بڑی تعداد اسی گمراہی کا شکار ہے۔ وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ ایمان وعمل کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور توجہ دلانے پر اسی جاہلانہ تصور کا سہار الیتے ہیں۔
ان دونوں آیتوں پر ایک دفعہ پھر نظر ڈال لیجئے۔ آپ محسوس کریں گے کہ بنی اسرائیل کو ان کی نسبتوں اور ان کے منصب کے حوالے سے ان کا حقیقی مقام یاد دلایا گیا ہے اور پھر معاً بعد وہ آخرت کے بارے میں جن گمراہیوں کا شکار ہوکر اپنی پوری زندگی کو داغ داغ کرچکے ہیں۔ اس کی پوری تصویر ان کے سامنے کھینچ دی گئی ہے اور پھرا نہیں دعوت دی گئی ہے کہ ذراغور کرو تمہارا نشیمن کن بلندیوں پر تھا اور آج تم کن پستیوں میں گرگئے ہو۔ یہ آخری امت بھی چونکہ انہی کے نقوش قدم پر چل رہی ہے، اس لیے ہماے قومی شاعر نے جو قرآن کریم کا طالب علم ہے، بالکل اسی اسلوب پر اس امت کو بھی غیرت دلانے کی کوشش کی تھی۔
اس نے کہا تھا : ؎
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پائوں میں تاج سردارا
پھر آگے چل کر، اُ مت کی حالت پر دل گرفتہ ہو کر کہتا ہے : ؎
اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارا
بس یہی بات بنی اسرائیل سے کہی جارہی ہے اور حقیقت میں ہمیں سنائی جارہی ہے۔ اے کاش ! ہم سننے کی کوشش کریں۔
Ayah 2:49وَاِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآئَ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآئَ کُمْ ط وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآئٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۔ (البقرۃ : 49)
(اور وہ وقت یاد کرو ! جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی تھی۔ جو تمہیں برے عذاب چکھاتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی)
اس آیت کریمہ سے بنی اسرائیل کی تاریخ کے ایسے نمایاں واقعات پیش کیے جارہے ہیں، جس سے بنی اسرائیل کا بچہ بچہ واقف تھا۔ اس لیے بجائے تفصیل بیان کرنے کے اشاروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ہم عصر بنی اسرائیل اگرچہ براہ راست ان واقعات سے تعلق نہیں رکھتے تھے، لیکن وہ اپنے آبائو اجداد کے ساتھ پیش آنے والے ان واقعات کو نہ صرف تسلیم کرتے تھے بلکہ ان پر فخر بھی کرتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے ان واقعات کو اس طرح پیش کیا ہے گویا یہ انھیں کے ساتھ پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بیسیوں احسانات کا ذکر فرمایا ہے اور ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کے رویے کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ احسانات پر شکر ادا کرنے کی بجائے، عموماً ناشکری کرتے رہے۔ ان میں اطاعت گزار لوگوں کاتناسب معصیت کار اور نافرمان لوگوں سے کم تھا۔ انھوں نے ایک سے ایک بڑی ناشکری اور بدعملی کا ارتکاب کیا۔ لیکن اللہ نے عموماً ان کے ساتھ رحمت کا سلوک فرمایا مگر جب یہ حد سے گزرجاتے رہے تو پھر اللہ کا عذاب بھی آیا۔ بنی اسرائیل کی تاریخ تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے شروع ہوتی ہے، لیکن یہاں جن واقعات کا تذکرہ ہورہا ہے، ان کا تعلق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور سے ہے۔ یہیں سے بنی اسرائیل کی تاریخ کا وہ دور شروع ہوتا ہے، جس کا تذکرہ تورات میں ہے اور یہی وہ زمانہ ہے جب بنی اسرائیل کو حامل دعوت امت ہونے کا فریضہ سونپا گیا ہے۔ چونکہ یہ تاریخ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شروع ہوتی ہے اس لیے سب سے پہلے ان واقعات کا ذکر کیا جارہا ہے، جن کا تعلق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے ہے اور یہی دور مصائب کے لحاظ سے بنی اسرائیل کا بدترین دور بھی ہے۔
آل کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں آل فرعون کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یوں تو یہ اہل کا مترادف ہے، لیکن اس میں زیادہ وسعت پائی جاتی ہے۔ اس سے مراد صرف کسی کی اولاد نہیں ہوتی بلکہ یہ لفظ آل واولاد، قوم و قبیلہ اور اتباع وانصار پر بولا جاتا ہے۔ یہاں بھی مراد یہ ہے کہ معاملہ صرف فرعون اور اس کی اولاد تک نہ تھا بلکہ فرعون کی حکومت کے تمام اعوان وانصار فرعون سے خاندانی یا مذہبی تعلق رکھنے والے لوگ اور اہل مصر میں سے اس کے خیر خواہ یا مفاداتی رشتہ رکھنے والے سب لوگ مراد ہیں۔
فرعون سے مراد
اسی طرح فرعون کسی متعین بادشاہ کا ذاتی نام نہیں بلکہ یہ قدیم شاہانِ مصر کا عام لقب تھا۔ نام اس کا رعمسیس یا منفتاح تھا تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر بادشاہوں کے نام نہیں چلتے بلکہ وہ اپنے لقب سے پکارے جاتے ہیں، جس طرح ہمارے زمانہ میں ابھی کل تک جرمنی کے بادشاہ کو قیصر، روس کے تاجدار کو زار، اور ترکی کے فرماں روا کو سلطان کہتے تھے۔ مصر میں جب تک بادشاہت رہی والی مصر کو سلطان یا خدیو کہا جاتا تھا۔ والی دکن کو نظام کہتے تھے، اسی طرح یہ فرعون بھی جیسا کہ میں نے عرض کیا اس بادشاہ کا نام ہے جس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو واسطہ پڑا۔ البتہ اب جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس کے گھر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پلے بڑھے ہیں اس کا نام رعمسیس تھا۔ البتہ جس کے سامنے آپ دعوت لے کر گئے اور جس کے ساتھ آپ کی کشمکش جاری رہی اور جو بالآخر بحر قلزم کی موجوں کی نذر ہوا وہ اس فرعون کا بیٹا منفتاح تھا۔ قرآن کریم کی بلاغت کی داد دیجئے وہ تاریخ کی تحقیق کے درپے تو نہیں ہوتا کیونکہ وہ کوئی تاریخ کی کتاب نہیں البتہ ایسا لفظ استعمال کرجاتا ہے جس سے صحیح بات کی طرف اشارہ ہوجاتا ہے۔ یہاں بھی قرآن کریم نے فرعون کا نام نہیں لیا بلکہ فرعون کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے مصر کا ہر بادشاہ مراد لیا جاسکتا ہے۔ اب اگر وہ ایک تھا تو بھی فرعون تھا اور اگر اس کی جگہ دوسرے نے لے لی اور اس سے حضرت موسیٰ کا واسطہ پڑا تو وہ بھی فرعون تھا اور یہ عمومی لفظ دونوں پر صادق آتا ہے۔
یَسُوْمُوْنَـکُمْ کا مفہوم اور تفصیل
اس آیت کریمہ میں اپنے احسانات میں سے سب سے پہلا احسان یہ ذکر فرمایا ہے کہ آل فرعون تم پر بدترین مظالم ڈھا رہے تھے اور پھر ان مظالم کی تفصیل بیان کرنے کی بجائے صرف ایک ظلم کا ذکر کیا ہے۔ لیکن تاریخ اور تورات میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل جو پیغمبروں کی اولاد تھے اور جنھوں نے مصر پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں اور اس کے بعد بھی طویل عرصے تک حکومت کی تھی۔ اس طرح سے وہ نہایت معزز لوگوں کی قوم تھے۔ لیکن اب آل فرعون کے ہاتھوں وہ اس حال کو پہنچ گئے تھے کہ گھروں سے لے کر بازاروں تک ہر طرح کی بیگار ان سے لی جاتی تھی۔ بنی اسرائیل کی عورتیں گھروں میں فرعونیوں کی خدمت کرتیں، گھروں کی صفائی کا کام کرتیں، برتن مانجھتیں اور بچوں کی دیکھ بھال کرتیں اور گھروں میں عموماً آنے جانے کے باعث ان کی عزت اور عفت ہر وقت ہوس کا ہدف بنی رہتی اور مرد دن بھر بیگار کرنے میں جتے رہتے۔ سخت سے سخت کام ان سے لیے جاتے۔ بعض دفعہ گھوڑوں اور بیلوں کی جگہ انھیں جوت لیا جاتا اور بڑی بڑی عمارتوں میں وہ اینٹیں اور پتھر اٹھانے کا کام کرتے، پہاڑوں سے پتھر توڑتوڑ کر لانے کا کام بھی انھیں سے لیا جاتا۔ ایک بدتریں غلامی کا دور تھا جس سے یہ گزر رہے تھے۔ اسی کو قرآن کریم نے یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ سے تعبیر کیا ہے۔ ” سوم “ کسی پر سخت ترین بوجھ ڈالنے کو کہتے ہیں۔ ان پر ظلم سے لے کر محرومی تک ہر طرح کا بوجھ لدا ہوا تھا۔ البتہ ایک جان سلامت تھی سو وہ بھی سلامت نہ رہی۔
بچوں کے قتل کا سبب
کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرعون نے کوئی نہایت بھیانک خواب دیکھا، جس کی تعبیر اس دور کے تعبیر کے ماہرین نے یہ بتائی کہ عنقریب بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو بڑا ہو کر تیری حکومت کے لیے تباہی کا باعث بنے گا۔ اسی خواب کے باعث فرعون نے اس خطرے سے بچنے کے لیے یہ انتظام کیا کہ اگر لڑکی ہو تو اسے زندہ چھوڑ دیا جائے اور اگر لڑکا پیدا ہو تو اسے قتل کردیا جائے یا دریا کے پانی میں بہا دیا جائے۔ لیکن بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ خواب کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ سراسر ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ مصر کے قرب و جوار میں ایسے قبائل آباد تھے جو فرعون اور اس کی حکومت کے دشمن تھے۔ وہ آئے دن شورش برپا کرتے اور حکومت کا نظام تہس نہس کردیتے۔ ادھر جب فرعون نے یہ محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کی آبادی تیزی سے بڑھتی جارہی ہے اور مصر میں ان کی آبادی کاتناسب تشویش کی حد کو چھونے لگا ہے۔ تو اس نے عمائدین حکومت سے مشورہ کیا کہ اگر بنی اسرائیل کی آبادی اسی تیزی سے بڑھتی رہی اور انھوں نے اگر قبائل کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرلیاتویہ ہماری حکومت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ قبل از وقت اس کا سد باب کیا جائے۔ چناچہ بچوں کے قتل کا یہ فیصلہ اسی خطرے کو روکنے کی ایک تدبیر تھی۔
قرآن کریم نے ان کے اس فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے بیٹوں کے لیے فرمایا ہے :” وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے “ بیٹوں کے لیے تو ” ابناء “ کا لفظ استعمال ہوا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں بجائے ” بنات ” کا لفظ استعمال کرنے کے ” نساء “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے حالانکہ بیٹیوں کو بنات کہا جاتا ہے، نساء نہیں کہا جاتا۔ نساء تو جوان اور بڑی عمر کی عورتوں پر بولا جاتا ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں الفاظ کے انتخاب میں بنی اسرائیل کے جذبات کو چھیڑنا مقصود ہے تاکہ ان کے دلوں میں تشکر کے جذبات ابھریں۔ بیٹوں کا لفظ بول کر ان کے دلوں میں اولاد کی محبت کے جذبات پیدا کیے گئے تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ بیٹوں کا قتل محض انسانی المیہ نہیں تھا بلکہ وہ انتہائی سنگ دلی اور سفاکی کا مظہر بھی تھا۔ ظالم سے ظالم حکومتیں بھی بچوں پر ظلم کرنا کبھی پسند نہیں کرتیں اور انسانی احساسات کا حال یہ ہے کہ بڑی عمر کے لوگوں کے قتل ہونے پر انسانی احساسات اس قدر بےقابو نہیں ہوتے جتنے اولاد اور وہ بھی چھوٹی اولاد کے قتل پر بےقابو اور برہم ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کے زندہ رکھنے کی بات کی جاتی تو اس سے تو ایک نیکی کا تأثر ابھرتا ہے کہ چلیے اگر وہ بیٹوں کو مارتے تھے تو بیٹیوں سے تو کوئی تعرض نہیں کرتے تھے۔ لیکن نساء کا لفظ کہہ کر ان کی شقاوت کو ہی نمایاں نہیں کیا گیا بلکہ بنی اسرائیل کے جذباتِ غیرت کو بھی ہوا دی گئی ہے کہ وہ تمہاری بیٹیوں کو اس لیے زندہ نہیں چھوڑتے تھے کہ وہ بیٹیاں ہیں بلکہ اس لیے زندہ چھوڑتے تھے کہ وہ بڑی ہو کر عورتیں بنیں تاکہ ان کی ہوس رانی کے کام آئیں۔
ذرا غور کیجئے ! کسی قوم پر اس سے بڑا ظلم نہیں ہوسکتا کہ ان کی نرینہ اولاد کو ختم کرکے ان کی نسل ختم کردی جائے اور ان کی عورتوں کو باقی رکھ کر گھروں میں ان سے خدمت بھی لی جائے اور ساتھ ساتھ ان کی قوم کی غیرت کا جنازہ بھی نکال دیاجائے۔ یہ وہ بدترین آزمائشوں کا سلسلہ تھا جو بنی اسرائیل کے لیے عذاب عظیم بن گیا تھا۔ پھر اللہ کی رحمت حرکت میں آئی اور اس نے بنی اسرائیل کو اس عذاب عظیم سے اس طرح نجات دی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے۔ انھوں نے فرعون کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی اور اللہ کی بندگی کی طرف اسے بلایا۔ فرعون نے اس دعوت کو قبول کرنے کی بجائے بنی اسرائیل پر مظالم میں اور شدت پید اکردی۔ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو قتل کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ کئی سالوں تک یہ کشمکش جاری رہی، بنی اسرائیل اگرچہ گمراہی کی دلدل میں اترچکے تھے لیکن پھر بھی اللہ کو مانتے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کا اقرار کرتے تھے اور آخرت کو تسلیم کرتے تھے۔ یوں کہہ لیجئے کہ وہ بگڑے ہوئے مسلمان تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ فرعون اور اہل مصر کسی طرح راہ راست اختیار کرنے کو تیار نہیں تو آپ نے اللہ کی ہدایت کے مطابق یہ فیصلہ کیا کہ آپ بنی اسرائیل کو ساتھ لیکر ملک شام جو ان کا آبائی وطن تھا ہجرت کرجائیں۔ چناچہ اسی وجہ سے آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے۔ لیکن فرعون نے اس مطالبہ کو ماننے سے انکار کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے کہ فرعونی اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور بنی اسرائیل چونکہ پوری طرح ان کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے وہ کوئی آزادانہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس لیے ان کا مصر میں رہنا اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے تباہ کن ہے۔ انھیں ایک اسلامی امت بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس غلامی سے انھیں نجات ملے۔ اب اس کی ایک ہی صورت تھی کہ آپ انھیں رات کی تاریکی میں لے کرنکلیں اور کسی طرح ملک شام پہنچ جائیں۔ چناچہ اسی فیصلے کے مطابق وہ رات کی تاریکی میں بنی اسرائیل کو لے کرنکلے اس زمانہ میں نہ آج جیسی باقاعدہ سڑکیں تھیں، نہ راستوں میں روشنی کا انتظام، شب کی تاریکی میں راستہ بھول گئے۔ اور بجائے اس کے کہ شمال کی طرف کچھ اور آگے بڑھ کر اپنے دائیں طرف مشرق کی طرف مڑتے، وہ پہلے ہی مشرق کو گھوم گئے۔ ادھر فرعون کو بھی خبر ہوگئی، وہ اپنے لشکر کی کمان خود کرتا ہوا، تیزی سے تعاقب میں آپہنچا۔ اب اسرائیلیوں کے سامنے یعنی مشرق کی جانب سمندر تھا اور دائیں بائیں شمال اور جنوب میں پہاڑیاں تھیں اور پشت پر یعنی مغرب کی جانب مصری لشکر۔ اب وہ دیکھ رہے ہیں کہ سامنے بحر قلزم کی موجوں نے راستہ روک لیا ہے اور پیچھے فرعون کی فوجوں نے ان کا نکل بھاگنے کا راستہ بند کردیا ہے۔ اب وہ دو موتوں کے درمیان ہیں بچ نکلنے کی کوئی صورت نہیں چونکہ ابھی انھیں تربیت کا موقع نہیں ملا تھا اور برسوں کی غلامی نے ان کے اندر نہ کوئی انفرادی خوبی چھوڑی تھی اور نہ اجتماعی۔ عزم وہمت اور مشکلات سے کھیلنا آزاد لوگوں کے شیوے ہیں۔ غلامی کا حاصل تو زندگی کی ضروریات کے حصول کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ کندہ ناتراش قوم چیخ اٹھی : اِنَّالَمُدْرَکُون ” اے موسیٰ ! ہم تو پکڑ لیے گئے “۔ تم ہمیں یہاں اس لیے لائے تھے کہ ہم چوہوں کی طرح ماردئیے جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ پر اعتماد اور نبوت کے جلال سے بولے۔ کَلاَّ ” ہرگز نہیں ! “ اِنَّ مَعِیَ رَبِّی سَیَھْدِیْنِ ” یقینا میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ ضرور مجھے راستہ دے گا۔ “ یہ بحر قلزم کی موجیں میرا راستہ نہیں روک سکتیں اور فرعون کی فوجیں میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ اس کے بعد کیا ہوا، اگلی آیت کریمہ میں اس کا ذکر ہے۔
Ayah 2:50وَاِذْ فَرَقْـنَا بِکُمُ الْـبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰـکُمْ وَاَغْرَقْـنَـآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْـتُمْ تَنْظُرُوْنَ ۔
(اور (وہ وقت یاد کرو ! ) جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا، پھر ہم نے تمہیں نجات دے دی، اور آل فرعون کو ہم نے غرق کردیا، دراں حالیکہ تم دیکھ رہے تھے) (البقرۃ : 50)
بنی اسرائیل کا بحر قلزم کو عبور کرنا
موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ بحر قلزم پر اپناعصا مارو، چناچہ جیسے ہی آپ نے اپنا عصا پانی کی طرف بڑھایا، بحر قلزم کی موجیں دائیں بائیں پہاڑوں کی طرح کھڑی ہوگئیں اور نیچے خشک زمین نظر آنے لگی۔ اب بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ سمندر میں اترجاؤ اور بےتأمل اسے پار کرجاؤ۔ اس آیت کریمہ میں جس طرح اسے بیان کیا گیا ہے اس میں فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ میں بِکُمْ کا استعمال قابل غور ہے۔ بعض اہل علم با کو سبب کے لیے قرار دیتے ہیں یعنی تمہیں بچانے اور تمہیں راستہ دینے کے لیے ہم نے سمندر کو پھاڑا۔ لیکن با معیت، مصاحبت اور ملابست کے لیے بھی ہوتی ہے۔ اس صورت میں اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ ” ہم نے تمہیں ساتھ لے کردریا کو پھاڑتے ہوئے عبور کیا “۔ یعنی جس طرح کوئی کسی کو گود میں اٹھاکر دریا پار کرادے، اسی طرح ہم نے تمہیں دریا پار کرایا یعنی تم کسی ہموار زمین میں خطرات سے محفوظ اس طرح خرام کے انداز میں نہیں چلے ہوگے جس طرح تم خراماں خراماں خوشی میں ڈوبے ہوئے کامیابی کے نشے میں مخمور دریا عبور کررہے تھے۔ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ اور اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کا مظہر تھا۔ معجزات پیغمبر سے ظہور پذیر ہوتے ہی رہتے ہیں اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔ لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ واقعہ اگرچہ حیرت انگیز ہے لیکن ایسا بھی حیرت انگیز نہیں کیونکہ بحری زلزلہ کے وقت ایسی صورتیں پیش آجایا کرتی ہیں۔
دریائے گنگا کا غائب ہوجانا
مؤرخین کہتے ہیں کہ جنوری 1934 ء رمضان کے مہینے میں جو عظیم الشان زلزلہ بہار اور اطراف بہار میں آیا تھا اس موقع پر صوبہ کے صدر مقام شہر پٹنہ میں دن دیہاڑے کوئی اڑھائی بجے کے وقت ایک مجمع کثیر نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ گنگا جیسے وسیع و عریض دریا کا پانی چشم زدن میں غائب ہوگیا اور اتنے چوڑے پاٹ میں بجائے دریا کے دھارے کے خشک زمین نکل آئی اور یہ حیرت انگیز اور دہشت ناک منظر چار پانچ منٹ تک قائم رہا۔ یہاں تک کہ دریا اسی برق رفتاری کے ساتھ یک بیک زمین سے ابل کر پھر جاری ہوگیا (یہ واقعہ ایک وقائع نگاہ کے قلم سے انگریزی روزنامہ ” پانیر “ 2 جنوری 1934 ء کی اشاعت میں درج ہے ) ۔ یہ صحیح ہے کہ ایسے واقعات اور بھی کہیں ہوئے ہیں۔ لیکن جہاں بھی ہوئے ہیں اللہ کی قدرت سے ہوئے ہیں انسانوں کے بس میں نہیں کہ وہ اس طرح کے واقعات کو جنم دے سکیں۔ مزید یہ کہ جس طرح یہ واقعہ پیش آیاوہ اس طرح نہیں کہ کوئی بحری زلزلہ آیا ہو بلکہ پوری قوم جس کی تعداد لاکھوں میں ہے، وہ خطرات میں گھری پریشان بحر قلزم کے کنارے کھڑی ہے اور اللہ کا پیغمبر اللہ کے حکم سے دریا کے پانی کی طرف اپناعصا بڑھاتا ہے اور دریا اچانک تھم جاتا ہے۔ پانی کے پہاڑ دائیں بائیں ایستادہ ہوجاتے ہیں اور اس وقت تک ایستادہ رہتے ہیں جب تک بنی اسرائیل عافیت سے دریا کو پار نہیں کرجاتے پھر اسی پر بس نہیں بلکہ دوسرے کنارے پر جب فرعون اپنے لشکر سمیت پہنچتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ پانی نے راستہ دے دیا ہے اور بنی اسرائیل پار اتر گئے ہیں تو وہ اپنے لشکر سمیت دریا میں اتر جاتا ہے اور جب اس کا آخری سپاہی بھی پانی کی زد میں آجاتا ہے تو اچانک پانی کی موجیں آپس میں مل جاتی ہیں اور فرعون اپنے لشکر سمیت ڈوب جاتا ہے۔
عبرت کے لیے فرعون کی لاش کا محفوظ رہنا
اس پورے واقعہ پر غور کیجئے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ واقعہ اللہ کی قدرت کے نتیجے میں پیغمبر کے معجزے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کی کچھ تفصیلات دوسری جگہ بھی ذکر فرمائی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ فرعون جب ڈوبنے لگاتو اس نے اللہ پر ایمان لانے کا اعلان کیا یعنی اس نے کلمہ پڑھنا شروع کردیا تو پروردگار کی جانب سے اسے کہا گیا : اَلآنَ وَقَد عَصَیتَ قَبلُ وَکُنتَ مِنَ المُفْسِدِیْنِ ” اب تجھے خدا پر ایمان لانے کا خیال آیا حالانکہ تو اس سے پہلے مفسدین میں سے تھا “ البتہ ! اس کلمے کے باعث اسے اتنی رعائیت دی گئی، فرمایا کہ آج ہم تیرے بدن کو نجات دے دیں گے یعنی تمہاری موت کے بعد تمہاری لاش کو باہر پھینک دیا جائے گا تاکہ تو بعد کے آنے والوں کے لیے عبرت بن جائے۔ چناچہ سمندر نے اس کی لاش اگل دی، وہ تیرتی ہوئی جھیل میں پہنچی وہاں سے نشیبی علاقے میں گری جہاں سے مصریوں نے اسے اٹھایا اور چونکہ گارے میں لت پت ہوچکی تھی اس لیے قریبی کسی چشمے پر اسے دھویا گیا اس جگہ کو آج تک ” حمام فرعون “ کہتے ہیں۔ پھر اس لاش کو محل میں پہنچایا گیا، اور مصری جس طریقے سے لاشوں کو حنوط کرکے محفوظ کردیا کرتے تھے، اس کی لاش کو بھی حنوط کیا گیا اور اہرامِ مصر میں رکھ دیا گیا۔ صدیاں گزر گئیں کسی کو خبر نہ تھی کہ وہ لاش کہاں ہے۔ قرآن کے سوا کوئی اس علم اور خبر کا دعویدار نہ تھا اس لیے دشمنانِ اسلام یہ پھبتی کستے تھے کہ قرآن کریم نے ایک غلط خبر دی ہے۔ لیکن کم وبیش پونے دو سو سال پہلے بعض اہرامِ مصر کی کھدائی ہوئی تو اس میں ان کو ایک ایسا ہال ملاجس میں بعض فراعنہ کی لاشیں اور بعض نوادر تھے۔ فرانسیسی ماہرین نے جب ان لاشوں پر سے پٹیاں کھولیں تو وہ ایک لاش کو دیکھ کر حیران ہوئے کہ اس میں دو چیزیں ایسی تھیں جو باقی لاشوں میں نہیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ اس کی ناک کا اگلاحصہ کٹا ہو اتھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسے مچھلی نے کھایا ہے اور دوسری یہ بات کہ اس کے پورے جسم پر نمک کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ حیرانی کی بات تھی کہ نمک کہاں سے آگیا۔ تحقیق کا قدم جب آگے بڑھا تو انھیں معلوم ہوا کہ یہ لاش ایسے فرعون کی ہے جو سمندر میں ڈوب کرمرا ہے۔ مچھلی نے اسے کھانا چاہا لیکن سمندر نے یہ لاش باہر اچھال دی اور سمندر کا پانی چونکہ نمکین ہوتا ہے، پانی نمک سمیت جسم میں سرایت کرگیا۔ حنوط کرنے والوں نے پانی تو نکال دیا لیکن نمک جسم کے اندر رہ گیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ جسم کے اوپر آتا گیا اور اس طرح نمک کی تہہ جسم پر جم گئی۔ اب ان کو تلاش ہوئی کہ کیا کوئی فرعونِ مصر کبھی ڈوب کر بھی مرا، تب انھیں قرآن کریم کی پیش گوئی بتائی گئی اور اس طرح سے یہ قرآن کریم کی حقانیت کا ایک منہ بولتاثبوت میسر آگیا۔ آیت کریمہ کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ جب فرعون اور اس کا لشکر تمہارے سامنے ڈوب رہا تھا، تو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ تم دنیا کی ایک بےمایہ، پسماندہ اور غلام قوم تھے۔ آج تمہارا یہ حال ہے کہ سمندر کی طغیانی تمہارے سامنے سہم جاتی ہے۔ لیکن فرعون جو اپنے آپ کو رب کہتا تھا اور اہل مصر اسے رب تسلیم کرتے تھے اور طاقت کے نشہ میں مخمور تھے، وہ تمہارے سامنے تمام طاقت اور دعوئوں سمیت ڈوب رہا تھا۔ اس سے بڑھ کر اللہ کا اور احسان کیا ہوگا۔
البحر … چونکہ دریا اور سمندر دونوں پر بولا جاتا ہے اس لیے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی کہ اس سے مراد شاید دریائے نیل ہے۔ بحر قلزم یابحرِ احمر نہیں حالانکہ دریائے نیل تو بنی اسرائیل کے مسکن سے مغرب کی طرف واقع تھا اور اسرائیلیوں کا راستہ شام کے لیے مشرق کی طرف تھا۔ نیل سے اس راستہ کو دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ مصر سے شام کی راہ کے قریب بحر قلزم تھا، اسی کے تنگ شمالی سرے کی جانب یہاں اشارہ ہے۔ مصر کے مشرق میں جہاں نہر سویز کھد گئی ہے۔ اس سے متصل جنوب میں، نقشہ میں سمندر دو مثلثوں کی شکل میں تقسیم نظر آئے گا، یہاں ان میں سے مغربی مثلث مراد ہے، اسرائیلیوں نے اسی کو عبور کرکے جزیرہ نمائے سینا میں قدم رکھا تھا۔ جدید ترین اثری تحقیق کے مطابق یہ واقعہ 1447 ق م یا اس کے لگ بھگ قرار پاتا ہے۔
Ayahs 2:51–52وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن ْم بَعْدِہٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ لَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 51 تا 52)
(اور یاد کرو ! جب کہ ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ ٹھہرایا، پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظلم کرنے والے تھے۔ پھر ہم نے تم سے درگزر کیا، اس کے بعد، تاکہ تم شکر گزار بنو)
گوسالہ پرستی کا واقعہ
بنی اسرائیل جب فرعونیوں کی غلامی سے نجات پاکر بحرقلزم عبور کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعدانھوں نے خود موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ اب ہمیں زندگی گزارنے کے لیے کوئی رہنما اصول دئیے جائیں۔ جس کی روشنی میں ہم ایسی زندگی گزاریں جس سے ہمارا اللہ راضی ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی تو پروردگار نے احکام و ہدایات دینے کے لیے انھیں کوہ طور پر طلب فرمایا۔ لیکن یہ ہدایت فرمائی کہ کوہ طور پر آکر تیس شب و روز، روزے اور اعتکاف کی حالت میں رہوتا کہ تم میں وہ قلبی اور روحانی استعداد پید اہوجائے جو کتاب الہٰی کے بار عظیم کو اٹھانے کے لیے ضروری ہے۔ کتب الٰہیہ کے نزول کی تاریخ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے ہر نبی کو کتاب اتارنے سے پہلے ایک خاص مدت تک ایک ایسے ماحول میں رہنے کا حکم دیاجس میں اس کے گردوپیش فضائے ملکوتی اور انوارِ الہٰی کے سوا کچھ نہ تھا۔ مسلسل روزہ رکھنے اور اللہ سے لولگائے رہنے سے دل و دماغ میں ایک ایسی پاکیزگی پیدا ہوجاتی ہے، جس سے انسانی کثافتیں کم اور ملکوتی صفات غالب آجاتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کلام الہٰی کا تحمل اور انوارِ الہٰی کی برداشت نسبتاً آسان ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ایسی ہی کیفیت میں ایک خاص عرصے تک رکھا گیا اور تب انھوں نے وہ پہاڑی وعظ کہا جو کتاب الہٰی کا پیش خیمہ ہے۔ ہمارے رسول پاک ﷺ چالیسویں سال میں پہنچ کر ایسے خلوت پسند بنادیئے گئے کہ آپ نے آبادی چھوڑ کرغارِ حرا کو اپنا مسکن بنایا۔ آپ وہاں مسلسل روزے اور اعتکاف کی حالت میں تھے کہ آپ پر انوارِ الہٰی کی تجلی پڑی اور کلام الہٰی نے آپ کے قلب مبارک کو اپنا مورد بنایا۔
معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی خاص حکمت کے تحت جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مزید دس دن کوہ طور پر ٹھہرنے کا حکم دیا تو آپ چونکہ بنی اسرائیل کو تیس شب وروزکا کہہ کرگئے تھے اس دس روزہ تاخیر کے باعث مفسدین کو اپنا کام کرنے کا موقع مل گیا ان میں سامری نام کا ایک شعبدہ باز منافق تھا جو بنی اسرائیل میں جانا پہچانا جاتا تھا اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنی اسرائیل کے زیورات جو مصر سے نکلتے ہوئے شائد اس کے پاس جمع کر ادئیے گئے تھے، سے ایک بچھڑا بنایا اور وہ چونکہ پیشہ کے اعتبار سے ایک سنار تھا اور سونے سے مختلف شکلیں تیار کرنے کا ماہر تھا۔ اس نے اپنے فن کا ذہانت سے استعمال کرتے ہوئے بچھڑے کو اس شکل میں ڈھالا کہ اس کے اندر ہواگزرنے سے بولنے کی آواز آتی تھی جس طرح ہارن ہواہی کے گزرنے سے بجتا ہے، اسی طرح کی اس نے کوئی تکنیک استعمال کی تھی۔ لیکن سادہ لوح عوام کو ان کی قدیمی گوسالہ پرستی کی عادت کے باعث بہکانے میں کامیاب ہوگیا کہ اصل میں یہی گوسالہ تمہارا خدا ہے اور یہی مصر سے تمہیں نجات دے کر لایا ہے۔ موسیٰ نہ جانے کہاں بھول گئے انھیں واپس آنا ہوتا تو آگئے ہوتے۔ چناچہ گوسالہ پرستی کے اسیر لوگ جواب تک اپنے آپ کو اس سے نجات نہ دے سکے تھے، اس فریب میں آگئے اور انھوں نے اس بچھڑے کے سامنے سر جھکادیا۔ اس پر چڑھاوے چڑھائے اور اس کی پوجا کرنا شروع کردی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر ہی اللہ تعالیٰ نے اس حادثے کی اطلاع دی، آپ نہایت پریشان ہوئے کہ میں اللہ تعالیٰ سے کتاب ہدایت لینے کے لیے آیا ہوں لیکن میری قوم کا حال یہ ہے کہ میری چالیس شب وروز کی غیر حاضری میں جب کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) جیسے پیغمبر ان میں موجود تھے، شرک جیسی عظیم گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ تورات میں بھی باب 32 اور آیات 1 تا 7 میں اس واقعہ کو ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس واقعہ کو ذکر کرنے کے بعد پروردگار فرماتا ہے : وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ” اے بنی اسرائیل ! تم موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر حاضری میں گوسالہ پرستی کا ارتکاب کرکے ظلم کررہے تھے “۔” ظلم “ ، حق تلفی کو کہتے ہیں اور ایسی حرکت کا نام بھی ظلم ہے جو سراسر خلاف عقل اور خلاف فطرت ہو۔ ان دونوں حیثیتوں سے اگر ہم غور کریں تو ظلم کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ انسان کی ذات وصفات کا خالق صرف اللہ ہے۔ اسی نے اسے بیشمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس کے عمل تخلیق اور احسانات کو دیکھتے ہوئے سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ اس کے سوا کسی اور کی بندگی کی جاسکتی ہے یا کسی اور کے سامنے سرجھکایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح انسانی فطرت جو ہمیشہ ٹھیک راستے پر چلتی ہے اس کا بھی تقاضا یہ ہے کہ مخلوق خالق کے سوا اور کسی کے سامنے نہ جھکے۔ اور احسان سے گراں بار شخص اپنے محسن کے سوا کسی اور کی بندگی کے لیے تیار نہ ہو۔ لیکن بنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی کا ارتکاب کرکے اگر ایک طرف عقل اور فطرت کے تقاضوں کو پامال کیا تو دوسری طرف انھوں نے خود اپنے نفس کی سخت تحقیر کی۔ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات اور اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ کیا خلیفۃ اللہ کے لیے یہ بات مناسب ہے کہ وہ ان چیزوں اور ان مخلوقات کے سامنے جھکے جو اس کی خدمت کے لیے پید ا کی گئی ہیں ؟ جب وہ اپنے سے فروتر مخلوق کے سامنے جھکتا ہے، تو وہ حقیقت میں اپنے نفس اور اپنی حیثیت کی حق تلفی کرتا ہے۔
بنی اسرائیل کا یہ جرم اس قدر مکروہ اور اپنے نتائجِ بد میں اس قدر خطرناک تھا کہ اس پر اگر اللہ کا غضب بھڑکتا تو کوئی تعجب کی بات نہ ہوتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنے احسان کے طور پر اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم نے تو ہر طرح سے اپنی تباہی کا سامان کیا، لیکن اللہ تعالیٰ کا کرم دیکھو کہ اس نے اتنا بڑا جرم بھی معاف کردیا اور یہ معافی صرف اس لیے تھی تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ اس کی نعمتوں کی قدر پہچانو اپنی حیثیت کو سمجھو اور اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے میں کوتاہی نہ کرو۔ لیکن ساتھ ہی اس جرم کی شناخت کو مزید واضح کرنے کے لیے ارشاد فرمایا :
Ayah 2:53وَاِذْاٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 53)
(اور یاد کرو ! جب کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور فرقان دیا تاکہ تم ہدایت حاصل کرو)
فرقان کا مفہوم
یعنی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا جرم تم نے اس وقت کیا جب ہم موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور فرقان دے رہے تھے یعنی ہم تو تمہاری ہدایت کا سامان کررہے تھے اور تمہیں زندگی گزارنے کے لیے صحیفہ حیات دے رہے تھے اور تم کتاب سے تو خیر کیا فائدہ اٹھاتے تم نے کتاب دینے والی کی ذات وصفات میں شریک بناکر کھڑا کردیا۔ اس آیت کریمہ میں کتاب سے مراد تو ظاہر ہے ” تورات “ ہے۔ لیکن یہ فرقان کیا ہے ؟ اس پر غور کرنے سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ فرقان کا معنی ہے ،” حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز “۔ فرق کرنا دو طرح سے ہوتا ہے، ایک تو یہ کہ یہ کتاب ایسی ہے، جو اپنی مراد میں بالکل واضح ہے اس کے احکام و ہدایات میں کوئی ابہام نہیں اور اس کی تعلیمات اس قدر فیصلہ کن ہیں کہ حق و باطل میں کسی آمیزش کا اندیشہ باقی نہیں رہتایہ ایک ایک بات کو پوری طرح کھول کر بیان کردیتی ہے اور اس کی تعلیمات نے اپنے سامنے جو مقصد اور منہج رکھا ہے اس میں کوئی الجھائو محسوس نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے یہ فرقان کتاب ہی کی صفت ہوگی اور کتاب اور فرقان کے درمیان و ائو کو ہم تفسیر اور بیان کی وائو قرار دیں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کتاب سے فائدہ اٹھانے والے اور اس پر عمل کرنے والے کو اللہ کی طرف سے ایک ایسا شعور ملتا اور ایک ایسی حکمت عطا ہوتی ہے۔ جس سے وہ زندگی کے تمام نشیب و فراز میں بڑی آسانی سے حق کو پہچان لیتا ہے اور کبھی باطل کا شائبہ بھی اسے اشتباہ میں مبتلانھیں کرسکتا اس لحاظ سے یہ فرقان، کتاب سے ایک زائد چیز ہے۔ بعض لوگوں نے ایک اور پہلو سے بھی اس پر غور کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح اللہ کے نبی کو اپنی امت کی رہنمائی کیلے کتاب دی جاتی ہے۔ اسی طرح اسے اپنی اور اپنی دعوت کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے ایک معصوم اور دل آویز شخصیت بھی عطا ہوتی ہے جو بجائے خود فرقان کا کام دیتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے ایسے معجزات عطا کیے جاتے ہیں، جن کی مثال لانے سے لوگ عاجز ہوتے ہیں اور نتیجۃًوہ کھل کر اور پوری قوت سے مخالفت کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ رفتہ رفتہ اندھے مخالفین تحلیل ہوجاتے ہیں اور باقی لوگ دعوت اسلامی کو قبول کرلیتے ہیں۔ یہاں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ ” الفرقان “ صرف تورات ہی کی صفت نہیں بلکہ اللہ کی ہر کتاب فرقان بن کے آتی ہے اور اس کا ہر نبی بھی اپنی ذات میں فرقان ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن پاک کو بھی فرقان کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ ” بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا “۔ قرآن کریم میں الفرقان صفت کے طور پر بھی آیا ہے اور قرآن کریم کے نام کے طور پر بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اسم اپنے مسمیٰ کی شناخت اور صفت اپنے موصوف کا تعارف ہوتی ہے۔ فرقان بھی قرآن کریم کے لیے ایسی ہی حیثیت رکھتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں اگرچہ یہ بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی کا جو عظیم جرم کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ اجتماعی گناہوں کو اس وقت تک معاف نہیں کیا کرتا جب تک کہ سزا کے ذریعے اس کے اثراتِ بد کا ازالہ نہیں کردیتا۔ بنی اسرائیل نے بھی اجتماعی طور پر یہ گناہ کیا تھا۔ کچھ لوگ تو براہ راست اس گناہ کے مرتکب ہوئے لیکن ایک بڑی تعداد نے جب یہ دیکھا کہ یہ لوگ رکتے نہیں تو انھوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ پہلے گروہ کی سرکشی اور دوسرے گروہ کی کنارہ کشی اور مداہنت نے حضرت ہارون (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو غیرموثر کردیا۔ اب ضروری تھا کہ جس گناہ نے بنی اسرائیل کی اتنی بڑی تعداد کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے، اس کے اثراتِ بد کا ازالہ کیا جائے۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا :
Ayah 2:54وَاِذْ قَالَ مُوسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْآ اِلٰی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوْٓااَنْفُسَکُمْط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ عِنْدَ بَارِئِکُمْط فَتَابَ عَلَیْکُمْ ط اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۔ (البقرۃ : 54)
(اور یاد کرو ! جب کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم ! تم نے بچھڑے کو معبود بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ پس تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو اور اپنی جانوں کو قتل کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک۔ پھر اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی۔ بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے )
پہلی آیات میں جس فعل کو ظلم قرار دیا تھا اس فعل کا نام نہیں لیا تھا۔ اس آیت کریمہ میں نام لے کر بتایا کہ وہ ظلم یہ تھا کہ تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے آپ پر ظلم کیا یعنی اپنی تحقیر بھی کی اور اپنی ذات کی حق تلفی بھی کی۔ اب تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اس کی تلافی کے لیے اللہ سے معافی کے لیے رجوع کرو۔ توبہ کا معنی ” لوٹنا “ ہوتا ہے یعنی آدمی اپنے گناہ پر نادم ہو کر آئندہ گناہ نہ کرنے کے مکمل عزم کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے کہ ” یا اللہ ! میرا گناہ معاف فرمادے “۔ یہاں بھی یہی فرمایا جارہا ہے کہ اللہ سے معافی مانگو۔ لیکن یہ صرف کلمات توبہ سے معافی نہیں ہوگی تاوقتیکہ جنھوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے ان کی گردنیں نہ کٹیں اور جنھوں نے ان کے جرم پر خاموشی اختیار کی وہ خود ان کی گردنیں نہ کاٹیں۔
فَاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ کا مفہوم
فَاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی گردنوں پر تلواریں چلائیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جانتے ہو کہ تمہارے اپنے خاندان اور اپنے قبیلے کے کن کن لوگوں نے اس کا ارتکاب کیا ہے وہ اگرچہ تمہارے خون کے رشتہ دار ہیں لیکن اللہ کی وحدانیت کے مقابلے میں کوئی رشتہ کام نہیں دیتا۔ اس لیے تم خود اپنے ہاتھوں سے ایسے لوگوں کو قتل کرو۔ چناچہ بنی اسرائیل نے اپنے اپنے قبیلے کے شرک کرنے والوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا اور اس طرح سے تورات کی روایت کے مطابق 3 ہزار آدمی قتل ہوئے۔ تورات نے یہ وضاحت کی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اپنے خاندان بنی لاوی کو یہ فریضہ سونپا گیا تھا اور انھوں نے تمام قبیلوں کے مشرک لوگوں کو قتل کیا، لیکن حقیقت یہ نہیں۔ امرِواقعہ یہ ہے کہ ہر قبیلے کے لوگوں نے اپنے قبیلے کے مشرکوں کو قتل کیا۔ اگر صرف بنی لاوی کو اس کا حکم دیا جاتا تو اندیشہ تھا کہ خانہ جنگی شروع ہوجاتی۔ لیکن جب ہر قبیلے نے اپنے اپنے قبیلے کے مشرکوں کو قتل کیا تو اس طرح ایک طرف اگر خانہ جنگی کا امکان ختم ہوگیا تو دوسری طرف زندہ رہنے والوں کا بھی امتحان ہوگیا کہ وہ اپنے خونی رشتہ داروں کو اپنے ہاتھوں قتل کرکے کس قدر اللہ کے دین کے ساتھ مخلص ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی امتحان تھا جس طرح جنگ بدر میں مسلمانوں کو اپنے ہی عزیزوں کے خلاف تلوار نکالنا پڑی تھی کیونکہ مکہ سے آنے والے کفار کے لشکر میں کتنے ہی ایسے لوگ تھے جن سے مہاجرین کی قریبی رشتہ داریاں تھیں۔ کسی کا باپ ادھر تھا تو بیٹا ادھر، کسی کا ماموں ادھر تھا تو بھانجا ادھر، کسی کا ایک بھائی اگر مسلمانوں میں تھا تو دوسرا کافروں میں۔ جو لوگ اس طرح کے امتحانوں میں پورا اترتے ہیں ان کے اخلاص میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔ آخر میں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ شرک کرنے سے چونکہ آدمی مرتد ہوجاتا ہے۔ مرتد کی سزا اسلام کی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی قتل ہی تھی۔ اس لیے ان کے لیے یہی سزا تجویز کی گئی۔
اگلی آیت کریمہ میں اسی سلسلہ بیان کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ اللہ کے مزید احسانات کا تذکرہ اور بنی اسرائیل کی ایمان وعمل کی کمزوریوں پر مبنی بداطواریوں کی یاد دہانی، ارشاد ہوتا ہے :
Ayahs 2:55–56وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَھْرَۃً فَاَخَذَتْکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ۔ ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ مِنْم بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 55 تا 56)
(اور یاد کرو ! جب کہ تم نے کہا کہ اے موسیٰ ! ہم ہرگز تمہارا یقین کرنے والے نہیں، جب تک ہم خدا کو اعلانیہ دیکھ نہ لیں۔ تو تم کو کڑک نے آپکڑا اور تم دیکھتے رہ گئے، پھر ہم نے تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھایا تاکہ تم شکرگزار بنو)
گوسالہ پرستی کے حادثہ کے بعد اپنی قوم کے ستر منتخب آدمیوں کو لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر گئے کہ گوسالہ پرستی جیسے عظیم گناہ پر اجتماعی طور پر اللہ سے معافی مانگیں۔ اس وقت یہ واقعہ پیش آیاجو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے اور یا یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب تورات اللہ تعالیٰ سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے ان بڑے بڑے لوگوں کے پاس آئے جنھیں اپنے ساتھ کوہ طور پر لے گئے تھے اور خود آگے بڑھ گئے اور ان کو پیچھے چھوڑگئے تھے۔ تو ان لوگوں نے صاف طور پر حضرت موسیٰ سے کہا کہ ہم جب تک خود اپنی آنکھوں سے پروردگار کو نہ دیکھ لیں اس وقت تک ہم تورات پر ایمان لانے اور آپ کی باتیں ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل شک کے ایسے مریض تھے کہ انھیں کسی طرح یقین ہی نہیں آتا تھا کہ واقعی اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کرتے ہیں۔ جب بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انھیں اللہ کی طرف سے کوئی حکم پہنچانتے تو وہ اس حکم کو ماننے میں تامل کرتے تھے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جس پیغمبر کے معجزات انھوں نے سالہاسال تک دیکھے اور جس کے عصا نے ان کی آنکھوں کے سامنے سمندر کو دولخت کردیا اس کے بارے میں انھیں یقین نہیں آتا تھا کہ واقعی اللہ کا رسول ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام تر دین اور شریعت کا دارومدار اللہ کے رسول پر ایمان لانے پر ہے۔ اس موقع پر انھوں نے مزید جسارت یہ کی کہ صرف شک وشبہ کا ہی اظہار نہیں کیا بلکہ صاف طور پر اپنے ایمان کو کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کو دیکھنے سے مشروط کردیا۔ اللہ نے اپنی مشیت اور حکمت سے اپنے اور بندوں کے درمیان انبیاء کو واسطہ بنایا ہے لیکن بنی اسرائیل اس واسطے کو ہٹادینے پر اصرار کررہے تھے۔
غضب الٰہی کا سبب اور اس کی صورت
آپ کو ممکن ہے یہ خیال آئے کہ ان پر اللہ کا غضب اس لیے نازل ہوا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنا چاہا حالانکہ اللہ کو دیکھنے کی خواہش تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی کرچکے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی خواہش کوئی جرم نہیں۔ البتہ اس کے دیکھنے کو ایمان کے لیے شرط قرار دینا یہ ایک ایسا جرم ہے جو اللہ تعالیٰ کے پورے قانون کو توڑ دینے کے مترادف ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھنے کی خواہش کی تو انھیں پیار سے بتایا گیا کہ تم ان ناسوتی آنکھوں سے مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ وہ فوراً سمجھ گئے تو انھوں نے اپنی اس خواہش پر معافی مانگی۔ لیکن بنی اسرائیل کا اپنی اس بات پر اصرار اور پھر اس کو شرط قرار دینا اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث بنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی اس گستاخی پر صَاعِقَہ نے انھیں آپکڑا۔ جب کہ سورة اعراف میں کہا گیا ہے کہ انھیں رَجَفَۃ نے آپکڑا۔ صَاعِقَہ ” گرج اور کڑک “ کو کہتے ہیں اور اس بجلی پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے جو کڑک کے ساتھ گرتی ہے اور رَجَفَۃ کے معنی ” زلزلہ “ کے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ ایک ہی واقعہ کو قرآن کریم نے ایسے دو لفظوں سے تعبیر کیا جو مختلف معنی رکھتے ہیں۔ لیکن جب ہم تدبر سے کام لیتے ہیں تو اس میں کوئی عجیب بات معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ان لوگوں پر جب اللہ تعالیٰ کی تجلی ظاہر ہوئی تو اس کے اثرات دو طرح سے نمودار ہوئے۔ ایک طرف زلزلہ آیا اور ساتھ ہی بجلیاں بھی گریں اور گرج اور کڑک نے پورے ماحول کر ہلا کر رکھ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ بےہوش ہو کر گرپڑے۔ بےہوشی میں دونوں احتمالات ہیں کہ یہ بےہوشی حواس کا تعطل ہو اور یا مکمل موت کی صورت ہو کیونکہ موت جس طرح فنا کو کہتے ہیں اسی طرح اس کا اطلاق بےہوشی یا نیند پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں موت مراد لینے میں بھی کوئی امر مانع نہیں۔ بلکہ جس طرح سے ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا اس میں زیادہ امکان موت ہی کا ہے۔ یہ اگرچہ انھیں اپنی گستاخی کی سز املی۔ لیکن ساتھ ہی اللہ کی رحمت جوش میں آئی، جس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ” پھر ہم نے تمہیں تمہاری موت سے اٹھایا حالانکہ تمہارے جرم کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم موت کی وادیوں میں دفن کردئیے جاتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں دوبارہ زندہ اٹھاکھڑا کیا تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرو “۔ پھر اسی سلسلے کے مزید احسانات کو بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل غلطیوں پر غلطیاں کرتے ہیں۔ لیکن پروردگار مسلسل عفو و درگزر سے کام لے رہے ہیں بلکہ انعامات کی بارش کی جارہی ہے کہ شاید وقت کے ساتھ ساتھ یہ قوم ایمان وعمل کی کمزوریوں پر قابو پاسکے۔