Ayah 2:183یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ط
(اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح فرض کیا گیا تھا ان لوگوں پر جو تم سے پہلے گزرے ہیں تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔ گنتی کے چند دن) (البقرۃ : 183 تا 184)
اس آیت کریمہ میں غور کیجیے ! تو مختلف حقائق آپ کو اپنی طرف متوجہ کریں گے سب سے پہلی بات یہ کہ احکام کا تعلق چونکہ صاحب ایمان لوگوں سے ہے کیونکہ جب تک کوئی آدمی ایمان نہیں لاتا وہ کسی حکم کا مکلف نہیں ہوتا۔ اس سے اللہ کے یہاں احکام کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ اس سے یہ پوچھا جائے گا کہ تم ایمان لانے میں کوتاہی کیوں کی ؟ روزہ چونکہ عبادت سے متعلق ایک حکم ہے اس لیے صاحب ایمان لوگوں سے خطاب فرماکر اس کا حکم دیا گیا اور حکم کے لیے کُتِبَ عَلَیْکُمْ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ کُتِبَ عَلَیْکُم کا معنی ہوتا ہے ” تم پر فرض کردیا گیا ہے “۔ اس صورت میں آیت کا ترجمہ یہ ہوگا ” اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں “ یعنی یہ محض صحت کی درستی یا عادتوں کی اصلاح کے لیے کوئی نسخہ تجویز نہیں کیا گیا کہ جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور جس کا جی چاہے نہ اٹھائے۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک حکم ہے جس کی حیثیت فرض کی ہے۔ البتہ ! جس حاکم حقیقی نے اسے فرض ٹھہرایا ہے وہی بجا طور پر اس کا حق رکھتا ہے کہ جب چاہے اور جن لوگوں کے لیے چاہے اس کی فرضیت میں نرمی کردے۔ البتہ ! کوئی شخص اپنی مرضی سے اپنے طور پر کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ فرائض میں سے یہ فرض ایک مشکل فرض ہے۔ سخت موسم میں اپنی ضروریات سے رک جانا اور جوانی میں خواہشات نفس پر پہرہ بٹھادینا، یقینا ایک مشکل کام ہے۔ اس لیے پروردگار نے رحمت کا اظہار فرماتے ہوئے اور مسلمانوں کو حوصلہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : یہ روزے سب سے پہلے تمہیں پر فرض نہیں کیے گئے بلکہ تم سے پہلے جتنے لوگ بھی گزرے ہیں اور جتنی امتیں تاریخ میں گزرچکی ہیں ان میں سے ہر امت پر نماز کی طرح روزے بھی فرض کیے گئے ہیں اور وہ یقینا وہ اس سے عہدہ برأبھی ہوئے۔ مزید یہ بات کہ ان کی تعداد بھی کوئی غیر معمولی نہیں گنتی کے چند دن ہیں۔ روزے کی اہمیت اور افادیت کو دیکھتے ہوئے ان کی گنتی اور بھی کم معلوم ہوتی ہے اس لحاظ سے تمہیں نہایت شوق سے روزہ رکھنے میں ایک دوسرے سے سبقت کرنی چاہیے۔
روزہ ہر امت پر فرض کیا گیا ہے
قرآن کریم کے اس ارشاد ( روزے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے) کے حوالے سے جب ہم مذاہب کی تاریخ دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مذہب ایسا نہیں رہا جس میں روزے فرض نہ کیے گئے ہوں۔ ہندوئوں کو بہت قدامت کا دعویٰ ہے۔ ان میں بھی ہر ہندی مہینے کی گیارہ بارہ تاریخ کو برہمن اکاوشی کا روزہ رکھتے تھے۔ اس حساب سے سال میں چوبیس روزے ہوئے۔ بعض برہمن کا تک کے مہینے میں ہر دوشنبہ کو روزہ رکھتے تھے۔ جینی دھرم میں تو بڑی کڑی شرائط کے ساتھ روزہ موجود ہے۔ قدیم مصریوں میں بھی روزہ موجودرہا ہے، جس کا شمار تہواروں میں ہوتا تھا۔ یونان میں صرف عورتیں تھسوفریا کی تیسری تاریخ کو روزہ رکھتی تھیں۔ پارسی مذہب میں گوعام پیروئوں پر فرض نہیں لیکن ان کی الہامی کتاب کی ایک آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ روزہ کا حکم ان کے ہاں موجو دتھا۔ خصوصاً مذہبی پیشوائوں کے لیے توپنجسالہ روزہ ضروری تھا۔
یہودیوں میں بھی روزہ ایک فریضہ الٰہی کے طور پر موجود رہا ہے۔ اگرچہ اس میں بہت کچھ ترمیم و تحریف کر ڈالی گئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر چالیس دن روزہ رکھا۔ چناچہ یہود عام طور پر حضرت موسیٰ کی پیروی میں چالیس دن روزہ رکھنا بہتر سمجھتے تھے، لیکن چالیسیوں دن کے روزے کو فرض سمجھتے تھے جو ان کے ساتویں مہینے (قشریں) کی دسویں تاریخ کو پڑتا ہے اور اسی لیے اس کو عاشورہ کہا جاتا ہے۔ اسی دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کے دس احکام ملے تھے۔ اس لیے تورات میں اس دن کے روزہ کی نہایت تاکید آئی ہے۔ اس کے علاوہ یہودی صحیفوں میں اور روزوں کی بھی تصریح آئی ہے، جن میں سے کچھ علاقائی اور مقامی کہے جاسکتے ہیں، کچھ انفرادی روزے بھی ہیں۔ جنھیں ہر شخص اپنے حالات کے مطابق رکھ سکتا ہے کچھ گناہوں کے کفارہ کے لیے کچھ کسی مصیبت اور افتاد کے وقت رحمت خداوندی کے حصول کے لیے رکھے جاتے ہیں۔
عیسائی مذہب میں اگرچہ شرعی احکام ترتیب وتدوین کے مختلف ادوار سے گزرے ہیں اور شریعت کے بارہ ان کا تصور بھی بہت مختلف ہے۔ تاہم اتنی بات ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے چالیس دن تک جنگل میں روزہ رکھا۔ حضرت یحییٰ جو حضرت حضرت عیسیٰ کے گویا پیشرو تھے وہ بھی روزہ رکھتے تھے اور ان کی امت بھی روزہ دار تھی۔ مکہ کے قریش جاہلیت کے دنوں میں عاشورہ یعنی دسویں محرم کو روزہ رکھتے تھے کیونکہ اس دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا۔ حاصل کلام یہ کہ کوئی مذہب بھی روزہ کے تصور سے خالی نہیں رہا۔ اس تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی اصلاح اور تعمیرِ سیرت و کردار میں روزہ اتنا موثر اور اللہ کے قرب کے حصول کے لیے اس قدر لازمی ہے کہ اللہ نے ہر امت پر اسے لازم ٹھہرایا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہر امت کو روزے کی صورت میں نوازا گیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس کے مقاصد کیا ہیں ؟
روزہ کے تین مقاصد
پیشِ نظر آیت کریمہ میں لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ کہہ کر اور آئندہ آیات میں وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ سے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کی فرضیت کے تین مقاصد ہیں :
1: تقویٰ 2: اللہ کی کبریائی کا یقین 3: اللہ کا شکر
اب ہم اسی ترتیب سے نہایت اختصار کے ساتھ انھیں واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
1 تقویٰ
تقویٰ اصل میں وقویٰ ہے عربی زبان میں اس کے لغوی معنی بچنے، پرہیز کرنے اور لحاظ کرنے کے ہیں۔ لیکن اصطلاح شریعت میں یہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ حاضر وناظر ہونے کا یقین پیدا کرکے دل میں خیر کی طرف رغبت اور شر سے نفرت پیدا کردیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ ضمیر کے اس احساس کا نام ہے جس کی بناء پر ہر کام میں اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرنے کی شدید رغبت اور اس کی مخالفت سے شدید نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ بات کہ تقویٰ اصل میں دل کی اس کیفیت کا نام ہے۔ قرآن پاک کی اس آیت سے ظاہر ہے۔ وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَائِرِاللّٰہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوب ” اور جو شعائرالٰہی کی تعظیم کرتا ہے تو وہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ تقویٰ کا اصل تعلق دل سے ہے یعنی یہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو دلوں میں امور خیر کی تحریک پیدا کرتی اور شعائرِالٰہی کی تعظیم سے ان کو معمور کرتی ہے۔
تقویٰ کی یہ حقیقت کہ وہ دل کی خاص کیفیت کا نام ہے ایک صحیح حدیث سے تصریحاً ثابت ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اَلتَّقْوٰی ھٰھُنَا اور یہ کہہ کر دل کی طرف اشارہ فرمایا۔ اس سے یقینا یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ دل کی پاکیزہ ترین اور اعلیٰ ترین کیفیت کا نام ہے جو تمام نیکیوں کی محرک ہے۔ اس کی بہترین تفسیر وہ ہے جو حضرت ابی ابن کعب ( رض) سے منقول ہے۔ حضرت عمر ( رض) نے ان سے پوچھاتقویٰ کسے کہتے ہیں ؟ انھوں نے عرض کیا : امیرالمومنین ! آپ کو کبھی ایسے راستے سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہے جس کے دونوں طرف خاردار جھاڑیاں ہوں اور راستہ تنگ ہو ؟ حضرت عمر ( رض) نے فرمایا : بارہا۔ انھوں نے پوچھا تو ایسے موقع پر آپ کیا کرتے ہیں ؟ حضرت عمر نے جواب دیا۔ میں دامن سمیٹ لیتا ہوں اور بچتا ہوا چلتا ہوں کہ کانٹے دامن میں الجھ کر اسے تارتار نہ کردیں۔ حضرت ابی نے کہا ” بس اسی کا نام تقویٰ ہے “۔ زندگی کا یہ راستہ جس پر انسان سفر کررہا ہے دونوں طرف افراط وتفریط خواہشات اور میلاناتِ نفس، وساوس اور ترغیبات گمراہیوں اور نافرمانیوں کی خاردار جھاڑیوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس راستہ پر کانٹوں سے دامن بچاتے ہوئے چلنا اور اطاعتِ حق کی راہ سے ہٹ کر بداندیشی وبدکرداری کی جھاڑیوں میں نہ الجھنا۔ یہی تقویٰ ہے اور یہی تقویٰ پیدا کرنے کے لیے روزہ فرض کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی عبادات بھی تو قرآن کریم کی تصریح کے مطابق تقویٰ پیدا کرنے کے لیے ہی فرض کی گئی ہیں پھر روزہ کی اس حوالے سے کیا خصوصیت ہے ؟ اس سلسلے میں دو باتیں پیش نظر رکھنی چاہیں۔ پہلی یہ کہ ابھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ انسان زندگی کی جس شاہراہ پر سفر کررہا ہے وہ قدم قدم پر خواہشات وترغیبات اور افراط وتفریط کے وساوس کے کانٹوں سے اٹاپڑا ہے۔ اپنے دل و دماغ اور دامن اطاعت کو ان کانٹوں سے بچا کر نکلنا کس قدر مشکل کام ہے اس لیے ضروری ہے کہ دل یعنی ضمیر کی بیداری کے لیے تمام ممکن عوامل سے کام لیاجائے اس لیے تمام عبادات سمیت روزے کو بھی اسی قلبی بیداری یعنی تقویٰ پیدا کرنے کے لیے لگا دیا ہے۔ دوسری بات یہ سامنے رہنی چاہیے کہ اگرچہ دوسری عبادات کا منتہائے مقصود بھی یہی تقویٰ ہے بلکہ پورے دین و شریعت کی روح بھی یہی ہے مگر روزہ اپنی اثر اندازی اور نتیجہ خیزی میں ان سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اسی لیے شائد پروردگار نے روزہ کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے۔ فرمایا : اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ ” اور روزہ خاص میرے لیے ہے “ حالانکہ نماز زکوٰۃ حج قربانی بلکہ ہر نیکی جس کا پروردگار نے حکم دیا ہے سب اسی کے لیے ہے۔ اسی کی اطاعت میں اور اسی کی رضا و خوشنودی کے لیے اسے روبعمل لایا جاتا ہے۔ لیکن کسی نیکی کی نسبت پروردگار نے اس طرح اپنی طرف نہیں فرمائی۔ وجہ ظاہر ہے کہ باقی تمام عبادات اور تمام نیک اعمال یقینا تقویٰ ہی پیدا کرتے ہیں مگر روزہ اس معاملے میں ان سے بدرجہا فائق ہے کیونکہ تمام عبادات اپنے اندر ایک اجتماعی صورت رکھتی ہیں۔ نماز جماعت کی پابندی کا تقاضا کرتی ہے اموالِ ظاہرہ میں زکوٰۃ کی مسنون صورت بیت المال کی پابندی کے ساتھ اجتماعی ہے اور اموال باطنہ میں بھی زکوٰۃ وصول کرنے والا تو بہر حال جانتا ہے حج تو ایک شہرت عام اور ابتلائے عام والی عبادت ہے اس لیے ان تمام عبادات میں بندے کی اپنے رب سے خصوصی تعلق کی حالت میں شکست وریخت کے پیدا ہوجانے کا ہر وقت اندیشہ ہے اور اس بات کا ہر وقت امکان ہے کہ دکھاوے اور ریاکاری کے چھینٹے صفائے قلب کو گدلا کردیں۔ ایک عابد وزاہد اپنی قلبی حالت پر مطمئن ہوتا ہے مگر اچانک خبر ہوتی ہے کہ اندرہی اندر نیکی کی شہرت کی حرص اور حصول منفعت کی ہوس اپنا کام دکھاچ کی ہے۔ کیونکہ ؎
براہیمی نظر پیدا بڑی مشکل سے ہوتی ہے
ہوس سینے میں چھپ چھپ کر بنا لیتی ہے تصویریں
مگر روزہ اس لحاظ سے ایک منفرد عبادت ہے اس میں دکھاوے ریاکاری اور ظاہرداری کا امکان بہت کم ہے۔ ایک آدمی کے روزے دار ہونے یا نہ ہونے کی بظاہر کوئی علامت نہیں ہوتی اس کے ایسے کوئی ظاہری اعمال نہیں جس سے دیکھنے والے کو ایک روزے دار کے روزے کا احساس ہو یہ خالصۃً بندے اور اس کے رب کا معاملہ ہے۔ روزہ دار اپنے مالک کی رضا کے لیے بھوکا پیاسا رہتا ہے اور دل ہی دل میں اس سے لولگائے کاروبارِ زندگی میں مصرورف رہتا ہے اور صرف اس کا مالک اس کے دل کی کیفیت سے واقف اور اس کے روزے سے آگاہ ہے۔ اس لیے جس قدر صفائے دل، بیداریِ قلب اور تعلق باللہ کے امکانات یہاں ہیں وہ دوسری عبادات میں نہیں ہوسکتے۔ اسی لیے روزے کی نسبت پروردگار نے بطور خاص اپنی طرف فرمائی اور خصوصی اجر وثواب کی امید بھی دلائی۔ فرمایا : اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ ” روزہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا “ حالانکہ ہر نیکی کا بدلہ اللہ تعالیٰ خود ہی دیتے ہیں لیکن یہاں بطور خاص اپنی طرف نسبت فرماکر اجروثواب میں افزونی اور اظہارِخوشنودی کا سامان بھی کردیا۔
اس حدیث کو اگر ایک اور پہلو سے دیکھا جائے تو روزے کی اہمیت اور عظمت اور اس کی صفت تقویٰ میں ہزار درہزارچند اضافہ ہوجاتا ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ متذکرہ حدیث کو اس طرح پڑھا جائے (اور الفاظ میں اس کی گنجائش بھی ہے) اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اُجْزیٰ بِہٖ ” روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزاہوں “ یعنی ایک روزہ دار روزہ اجروثواب کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے لیے رکھتا ہے یعنی اس کا مطلوب و مقصود اس کا رب ہے جب کہ باقی تمام اعمال اجروثواب کی امید میں کیے جاتے ہیں اور حصول جنت کو منتہائے مقصود سمجھا جاتا ہے۔ اور وہ صحیح بھی ہے کیونکہ خود پروردگار کا ارشاد ہے : وَسَارِعُوْا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَاالسَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ” اور تیزی سے بڑھو اپنے رب کی مغفرت اور بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین ہیں “ اور یہ بھی صحیح ہے کہ جنت اسی کو ملے گی جس سے اللہ راضی ہوگا۔ لیکن یہاں سوال ہدف کی بلندی اور منتہائے مقصود کے ارفع واعلیٰ ہونے کا ہے۔ روزہ اپنے رکھنے والے کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ تمہارا دل اپنے آقا ومالک کی محبت سے اس طرح لبریز ہوجانا چاہیے کہ کسی اور کے لیے اس میں گنجائش نہ رہے۔ حتی کہ جنت کے لیے بھی نہیں۔ یا یہ کہ تمھارادل اپنے رب کے لیے ہر چیز بلکہ ہر تمنا سے بھی خالی ہوجائے اور اس کا دروازہ ہر خواہش کے لیے بند ہوجائے اور پھر تم کہہ سکو ؎
ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ایسی صورت میں خود میں اس کی جزا ہوں یعنی جو میری طلب میں دوعالم سے بےگانہ ہو کر میرے آستانے پر آپڑا ہے میں اسے اپنا لیتا ہوں اور اسے اس حد تک نوازتا ہوں کہ اس کی محبت کا صلہ محبت سے دیتا ہوں : َاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ’ ’ جو صرف مجھ ہی سے محبت کرتا ہے تو میں بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ “ اس کے بعد اور کیا رہ جاتا ہے جس کی ایک آدمی تمنا کرے ؟ ؎
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد
روزے کا ایک اور پہلو بھی نہایت توجہ کے قابل ہے وہ یہ کہ روزے سے اگرچہ مقصود جیسا کہ عرض کیا گیا قلب اور ضمیر کے احساسات کو ایسی زندگی دینا ہے جس سے نہ صرف وہ خیر وشر میں تمیز کرنے کے قابل ہوجائے بلکہ خیر اس کی چاہت بن جائے اور شر سے اسے شدید نفرت پیدا ہوجائے لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پروردگارِ عالم نے روزے کے جو اعمال مخصوص فرمائے ہیں اور جو اس کو ہیئت عطا کی ہے اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آدمی روزے کے لیے تمام اعمال احساسِ ذمہ داری اور کامل شعور کے ساتھ ادا کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ روزہ حقیقی تبدیلی کا ضامن نہ بنے۔
غور کیجیے ! اللہ تعالیٰ نے چند دنوں کے نہیں بلکہ پورے ایک مہینے کے روزے فرض فرمائے اور ان روزوں کے ذریعے اپنے بندے سے مسلسل 720 گھنٹے تک ایک ایکسرسائز اور قوائد کرائی تاکہ اس طریقے سے اللہ کی بندگی کا اور اس کی اطاعت کا تصور پوری طرح اس کے دل و دماغ میں راسخ ہوجائے۔ اندازہ فرمائیے ! وہ اشیائے خوردونوش اور میاں بیوی کا جائز تعلق جو سال کے گیارہ مہینوں میں ہر طرح اس کے حلال اور مباح ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں آکر اس کے لیے حرام ہوجاتا ہے۔ جیسے ہی فجر طلوع ہوتی ہے اس وقت سے لے کرغروبِ آفتاب تک اس کے سامنے نعمتوں کے ڈھیر لگے رہتے ہیں، مگر کبھی اس کا ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھتا، پیاس سے حلق میں کانٹے پڑجاتے ہیں مگر وہ پانی کا ایک گھونٹ گلے سے نیچے نہیں اتارتا اور پھر کوئی اسے دیکھنے والا نہیں ہوتا وہ تنہائی میں ممنوعہ چیزوں میں سے جس چیز سے چاہے تمتع کرسکتا ہے۔ کوئی نگاہ اسے دیکھنے والی نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود وہ کوئی ایسا کام کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوتا جس سے اس کا روزہ ٹوٹ سکتا ہو۔ سوچنے کی بات ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟ اگر ایک آدمی نے محض عادت کے تحت بلاسوچے سمجھے روزہ نہیں رکھا ہے اور وہ اس طرح پورا ایک مہینہ اس اطاعت کی مشق جاری رکھتا ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کے دل و دماغ بلکہ اس کے ہر رگ وریشہ میں اللہ کی اطاعت سما نہ جائے۔ وہ باقی گیارہ مہینوں میں بھی جب کسی غلط کام کی طرف ہاتھ بڑھائے گا یا قدم اٹھائے گا یا دل میں خیال بھی لائے گا تو اللہ کی اطاعت کا یہ تصور اور خدا کی برتری اور کبریائی کا یہ عقیدہ اسے باربار روکے گا کہ دیکھو تم غلط کام کررہے ہو اور پھر صرف یہی نہیں کہ ایک روزہ دار کو کھانے پینے اور مباشرت سے روکا گیا ہے اورا سی کی پورا مہینہ مشق کرائی ہے بلکہ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ نے بھی واضح طور پر پوری زندگی کو اللہ کی معصیت سے پاک کردینا روزے کا مقصد ٹھہرایا ہے اور جو آدمی صرف کھانے پینے اور مباشرت سے پرہیز کرتا ہے لیکن باقی زندگی کے معاملات میں خلاف شریعت امور سے اجتناب نہیں کرتا تو حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اس نے ناحق بھوک پیاس کی تکلیف برداشت کی اللہ کو ایسے روزے دار کے روزے کی ضرورت نہیں۔ فرمایا :
مَنْ لَّمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہٖ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ
(جس آدمی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا اللہ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑدے)
یہاں جھوٹ پر عمل کرنا قابل توجہ ہے۔ اس سے مراد زندگی کے کسی مرحلے میں بھی خلاف شریعت امور پر عمل کرنا ہے۔ چاہے وہ مرحلہ ملازمت سے تعلق رکھتاہو یا تجارت سے، وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اس کا تعلق سیاست سے ہو یا عدالت سے، محکومیت سے ہو یا حاکمیت سے، جہاں بھی وہ خلاف شریعت امور کو اختیار کرے گا، اس نے گویا جھوٹی زندگی کو اختیار کرلیا، اس سے اجتناب کرنا روزے کا اصل مقصد ہے۔ آنحضرت ﷺ نے مزید فرمایا :
کَمْ مِنْ صَائِمٍ فَلَیْسَ لَہٗ مِنْ صِیَامِہٖ اِلَّاالظَّمَأمُ وَکَمْ مِنْ قَائِمِ فَلَیْسَ لَہٗ مِنْ قِیَامِہٖ اِلاَّالسِّھْرُ
(کتنے ایسے روزے دار ہیں جن کو روزے سے سوائے بھوک پیاس کے اور کچھ نہیں ملتا اور کتنے ایسے شب زندہ دار ہیں جن کو رتجگے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا)
2 اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا یقین
اس طرح ایک روزہ دار جب اپنی پوری زندگی کو اللہ کی اطاعت وحاکمیت میں دے دیتا ہے کہ طلوع سحر سے غروب آفتاب تک باوجود یکہ اس کے سامنے متنوع اور مرغن نعمتیں موجود ہیں لیکن صرف اس لیے اس کا ہاتھ ان کی طرف نہیں بڑھتا کہ اس کے مالک نے اسے ان نعمتوں کی طرف ہاتھ بڑھانے سے روک دیا ہے۔ اس کی نوجوان اور خوبصورت بیوی اس کے پاس موجود ہے لیکن وہ اسے چھونا تو درکنار اپنے دل و دماغ کو بھی جنسی جذبات سے صرف اس لیے محفوظ رکھتا ہے کہ اس کا آقا اس کے سینے کے جذبات سے واقف ہے اور آج اس نے ان جائز جذبات پر بھی قدغن عائد کردی ہے۔ اس کی زبان ہر قسم کی بدگوئی دل آزاری اور غیبت سے مجتنب ہے کیونکہ روزے میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور پھر جیسے ہی غروب آفتاب کا اعلان ہوتا ہے تو یہ بند قفل کھل جاتا ہے اب یہ روزہ دارنی کی کے جذبے سے بھی اگر چاہے تو کھانے پینے سے نہیں رکتا کیونکہ اب اس کے مالک نے افطار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ گویا یہ ایک کٹ پتلی یا مشین ہے جسے حرکت دینے والی تار اس کے اللہ کے ہاتھ میں ہے یہ اس کے ہلانے سے حرکت میں آتا ہے اور روکنے سے رک جاتا ہے۔ اس طرح مسلسل 720 گھنٹے ایک روزہ دار اپنی عبدیت و عبادت اور اللہ کی حاکمیت و اطاعت کی مشق کرتا ہے تاکہ وہ اس احساسِ بندگی سے سرشار ہو کر اپنے ارادہ واختیارکولگام دینے اور زندگی کے ہر معاملے کو اللہ کے سپرد کرنے اور اسی کی اطاعت میں بسر کرنے کے قابل ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ عبادت و اطاعت کی اس مشق کے بعد (جو مکمل ایک ماہ جاری رہتی ہے) جب وہ چاند دیکھتا ہے تو بےساختہ اس کی زبان پر ایک ترانہ جاری ہوجاتا ہے اور جب صبح کو وہ نماز عید کے لیے عید گاہ کی طرف بڑھتا ہے تب بھی یہی ترانہ اس کے لبوں پر ہوتا ہے پھر جب اپنے گھر کو لوٹتا ہے تو راستہ بدل کر یہی نغمہ الاپتا ہوا جاتا ہے، گلی کو چے اس نغمے سے گونج اٹھتے ہیں اور سینے حوصلوں اور ولولوں سے معمور ہوجاتے ہیں۔ وہ نغمہ اور ترانہ کیا ہے ؟ وہ ہے :
اَللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لَآاِلٰـہَ اِلَّااللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ اَللّٰہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْد
اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق اور حاکم حقیقی نہیں اللہ سب سے بڑا ہے اور ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کو زیب دیتی ہے )
یہ ہے مفہوم وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ کا یعنی ہم نے روزہ اس لیے فرض کیا تاکہ تم اللہ کو ہی بڑا سمجھو اور اسی کی بڑائی کروجس طرح اس نے ( اپنی کتاب کے ذریعہ) تمہیں رہنمائی فرمائی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی اطاعت، بندگی، عظمت اور کبریائی کے استحضار سے ایک روزہ دار کے اندر بالآخر ایک صلاحیت پیدا ہونے کی امید کی جاسکتی ہے جس کے بارے میں یہاں ارشاد فرمایا گیا ہے : لَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُُوْنَ ” شاید تم شکر گزار بن جاؤ “ یعنی امید کی جاسکتی ہے کہ اس مسلسل محنت اور مداومت سے تمہارے اندر شکر کی صفت پیدا ہوجائے۔
3 شکر
شُکر وہ بلند ترین صفت ہے، جس کا پیدا کیا جانا اسلامی عبادات کے مقاصد میں ایک بلند تر مقصد ہے۔ اسی کی ضد کفر ہے جو ایک انسان کے لیے قبیح ترین اور عنداللہ مبغوض و مردود صفت ہے۔ یہ دونوں صفات دراصل انسان کے دو بنیادی رویے ہیں۔ جو اس کی فطرت کا تقاضہ بھی ہیں اور اس کی طبیعت کا خاصّہ بھی۔ اسی لیے ارشاد فرمایا گیا : اِنَّاھَدَیْنَاہُ السَّبِیْلُ اِمَّاشَاکِرًاوَاِمَّاکَفُوْرَا ” ہم نے انسان کو راستہ بتادیا (اب وہ) شکرگزار ہے یا ناشکر گزار (کافر) شکرگزاری کارویہ ایک مومن کی حقیقی منزل ہے “۔
شُکر کا معنی لغت میں یہ ہے کہ ” جانور میں تھوڑا ساچارہ ملنے پر تروتازگی پوری ہو اور دودھ زیادہ دے “۔ اس سے انسانوں کے محاورہ میں یہ معنی پیدا ہوئے کہ ” کوئی کسی کا تھوڑا سا بھی کام کردے تو دوسرا اس کی پوری قدر کرے “۔ اس مفہوم پر غور کرنے سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔
1 شکر ایک ایسا رویہ ہے جس میں ضروریاتِ زندگی کی تقلیل اور مقاصد کی تکمیل پیش نظر ہوتی ہے امیدیں قلیل ہوتی ہیں اور مقاصد جلیل ہوتے ہیں۔ آدمی خواہشات کا پتلا نہیں بلکہ اولوالعزمیوں کا پیکر ہوتا ہے۔ صحابہ کرام جس کی عملی تصویر تھے۔ بقول اقبال ؎
ان کی امیدیں قلیل ان کے مقاصد جلیل
ان کی ادا دلفریب ان کی نگہ دلنواز
اسے ناآسودہ آرزوئیں پریشان نہیں کرتیں بلکہ حرص وطمع سے دور وہ ایک سمٹ کر رہنے والاانسان ہوتا ہے۔ اسے اپنے دل کی خواہشات اور اپنے دماغ کی اڑان گھاٹیوں پر اس طرح قابو ہوتا ہے کہ یہ عوامل اس سے غلط کام کروانے پر قادر نہیں ہوتے۔ وہ اپنے نفسانی تقاضوں اور جسمانی قوتوں پر اس طرح حاوی ہوتا ہے کہ ان سے اپنے مطلوبہ مقاصد میں حسب ارادہ کام لینے کی قدرت رکھتا ہے، جسم اس سے اپنی ضروریات کے لیے درخواست کرتا ہے، حکم نہیں دے سکتا۔ یہ شخص اپنی مرضی سے جس درخواست کو چاہتا ہے قبول کرلیتا ہے جسے چاہتا ہے رد کردیتا ہے۔ عام مروج اسلوب میں کہہ لیجیے کہ اسے ضبط نفس حاصل ہوتا ہے۔ لیکن یہ ضبط نفس ایسا نہیں جو اسے فرعون یا ہٹلر بنادے کیونکہ شکر کے تصور میں ایک دوسری حقیقت بھی شامل ہے وہ یہ ہے کہ ایسا شخص اپنے منعم حقیقی اور اپنے محسن اصلی کو پہچانتا ہے۔ وہ اس کے احسانات کی قدروقیمت سے بھی آگاہ ہے، وہ اپنی جان لڑاکر اور اپنی توانائیاں کھپا کر ان احسانات و انعامات کا حق ادا کرنا چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹا انعام و احسان بھی اپنی قدرومنزلت میں بےمثال و بےپناہ ہے اور وہ خود اپنی ساری توانائیوں اور وجاہتوں سمیت ایک ذرہ بےمقدار ہے، وہ ضبط نفس کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی ضروریات کو کفائت وتقلیل کی زنجیر پہناتا اور اپنی خواہشات کو حدود اللہ میں محدود کردیتا ہے لیکن ساتھ ہی اپنے منعم کو پہچانتے ہوئے اپنی تمام صلاحیتوں کو احسان شناسی اور قدرشناسی میں صرف کردیتا ہے، اس طرح وہ ایک عابد وشاکر بندہ بننے کی کوشش کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو تین عظیم نعمتوں سے نوازا ہے۔ 1۔ دل، 2۔ زبان، 3۔ اعضاء وجوارح۔ وہ ان تینوں کو اس کی قدر شناسی یعنی شکرگزاری میں استعمال کرتا ہے۔ دل میں اسی کی قدرشناسی کا جذبہ موجزن رہتا ہے۔ زبان اسی کے احسانات کے اقرار واعتراف اور اسی منعم کی حمد وثناء میں زمزمہ سنج رہتی ہے اور اعضاء وجوارح اسی کے نام کی سربلندی، اسی کے پیغام کی نشرواشاعت، اور اسی کے بندوں کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ روزے کی مسلسل مشق اس کے اندر اسی شکر کے جذبے کو ابھارتی ہے۔ اس کے اندر ایک طرف ضبط نفس کو پیدا کرکے جسمانی تقاضوں اور نفسانی خواہشات کو کمزور کرتی ہے۔ دوسری طرف منعم حقیقی سے گہرا تعلق اور وارفتگی پیدا کرکے مقاصد حیات کو سہل کردیتی ہے۔ ممکن ہے یہ خیال پیداہو کہ روزہ نے طلوع فجر سے غروب آفتاب تک صرف کھانے پینے اور مباشرت سے روکا ہے حالانکہ ضروریات یہیں تک تو محدود نہیں اور اتنی سی پابندی سے ضبط نفس کہاں پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جسم کے بنیادی تقاضے تین ہی ہیں۔
1 غذا جو زندہ رہنے اور بقائے جسم کے لیے ضروری ہے۔
2 جنسی طلب جو بقائے نوع کے لیے ضروری ہے۔
3 آرام جو قوت کارکردگی کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔
روزے نے انھیں تینوں کو کمزور بلکہ حدود میں محدود کرنے کا کمال کیا ہے۔ وہ دن کو کھانے پینے اور مباشرت پر پابندی لگاکر ان پر قابو پانا سکھاتا ہے اور رات کو قیام لیل کا حکم دے کر آرام و راحت کی طلب کو محدود کرتا ہے کیونکہ درحققیت یہی تینوں بنیادی مطالبے ہیں جو بڑھ کر اور اپنی حدود سے نکل کر خواہشات ومرغوبات کا ایک جہان پیدا کردیتے ہیں۔ زمام اقتدار پھر انسان کے اپنے ہاتھ میں نہیں رہتی بلکہ جسم اور اس کے بہیمانہ تقاضوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے اور انسان بالکل بےقابو ہو کر خواہش نفس اور لذت پسندی کے دھارے میں بہتاچلا جاتا ہے۔ وہ آوارہ مویشیوں کی طرح ہر جگہ منہ مارتا ہے اس کو کھانے پینے اور خواہشات نفس پوری کرنے کا جنون ہوجاتا ہے وہ اس لیے کھاتا پیتانھیں تاکہ زندہ رہے وہ زندہ اس لیے ہے تاکہ کھاتا پیتا رہے۔ بقول شیخ سعدی :
خوردن برائے زیستن و ذکر کردن است
تو معتقد کہ زیستن از بہر خوردن است
وہ اپنی ذہانت وفطانت بھی اسی خدمت میں لگا دیتا ہے تاکہ آئے روز اشیائے خوردونوش میں نئی سے نئی اختراع کی جاسکے۔ اس کی تمام تر صلاحیت کھانوں کو زیادہ لذیذ پر تکلف اور متنوع بنانے میں صرف ہونے لگتی ہے۔ وہ ہاضم دوائوں اور بھوک کھولنے والے مشروبات ایجاد کرتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کھانے اور جلد سے جلد ہضم کرنے کا موقع مل سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اپنی ساری ترقی و توانائی کے باوجود اور مادی خوشحالی کی اس بلندترین سطح پر ہوتے ہوئے بھی کو ہلو کے بیل اور زمین جو تنے والے جانور کی طرح ہوجاتا ہے اور اس کا دائرہ عمل صرف دو چیزوں کے درمیان محدود ہو کر رہ جاتا ہے یعنی کھانے کے کمرے (ڈائننگ ھال) اور بیت الخلاء۔ وہ ان دونوں کے سوا کسی اور مبداء ومعاد سے ناواقف اور اس طواف کے سوا کسی اور طواف وسعی سے ناآشنا رہتا ہے کھانے پینے کی خواہش کے سوا اس میں ہر چیز کی خواہش مرجاتی ہے اس کی تمام سوچیں صرف اسی ایک فکر میں ڈھل جاتی ہیں۔ قرآن مجید نے انسانوں کے اس طبقہ یا انسان نما جانوروں کے اس ریوڑ کی جو معجزانہ تصویر کھینچی ہے اس سے زیادہ سچی اور نادر تصویر ہو ہی نہیں سکتی۔ وہ کہتا ہے :
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوا یَتَمَتَّـعُوْنَ وَیَـأ کُلُوْنَ کَمَاتَاکُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّھُمْ
جو کافر ہیں وہ عیش کررہے ہیں اور کھاپی رہے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے پیتے ہیں آگ ہی ان کا ٹھکانہ ہے)
یہ صورتحال یقینا کافرکو ہی زیب دیتی ہے جو صرف دنیا اور دنیوی عیش و عشرت کے سوا کسی بلند تر زندگی کا تصور نہیں کرسکتا۔ مگر وہ قوم جو دنیا کو ایک دارالعمل اور یہاں کی زندگی کو ایک مہلت عمل سمجھتی ہو جو صرف ضروریات کے لیے نہیں بلکہ ارفع واعلیٰ مقاصدِ حیات کے لیے زندہ ہو جس کی تگ وتاز کے لیے دنیا ایک تنگنائے سے زیادہ حیثیت نہ رکھتی ہو جو آخرت کے لیے اور اسی کے تصور میں جیتی اور مرتی ہو اور جو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے اٹھائی گئی ہو اور جس کی پوری تاریخ اولوالعزمیوں، جفاکوشیوں، وفاشعاریوں اور جاں سپاریوں سے عبارت ہو، وہ یقینا ایسی زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ اس لیے روزہ کے ذریعے ایسی چیزوں پر پابندی لگاکر جو انجام کا ردل کی موت اور شکم ومعدہ کی لامحدود سلطنت پر منتج ہوتی ہیں ایک ایسی زندگی کی تعمیر کا سامان کیا جو عبادت و عبدیت کے تصور سے بہرہ ور اللہ کی کبریائی کی حقیقت سے آشنا اور ادائے شکر پر مستعد ہو یعنی جس قوم کا ہر فرد عبادت کے واسطے سے اپنی عبدیت سے آگاہ ہو۔ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ ” کی حقیقت سے واقف ہو اور لَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُونَ ” پر عمل کے نتیجے میں ضبط نفس کی صلاحیت پیدا کرکے اللہ ہی کی اطاعت و بندگی کا خوگر ہو۔
Ayah 2:184مقاصد کے ذکر کے بعد فرمایا : اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ” گنتی کے چند دن “۔
اَیَّـامًا مَّعْدُوْدٰتٍسے مراد کیا ہے ؟
اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ سے کیا مرا د ہے ؟ بعض اہل علم نے تین دن کے روزے مراد لیے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے ہر ماہ اللہ نے تین روزے فرض کیے تھے جو رمضان کے روزے فرض ہونے کے بعد منسوخ ہوگئے۔ لیکن دیگر اہل علم یہ کہتے ہیں کہ رمضان کے علاوہ اس امت پر اور کسی قسم کے روزے فرض نہیں کیے گئے۔ ہر ماہ میں آنحضرت ﷺ جو تین روزے رکھتے تھے ان کی حیثیت فرض روزوں کی نہیں بلکہ نفلی روزوں کی تھی۔ ہم اس سلسلے میں خود کچھ کہنے کی بجائے امام ابن جریر ( رح) کی رائے نقل کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں :
” ہمارے نزدیک حق سے قریب تر بات ان لوگوں کی ہے جو کہتے ہیں کہ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍسے مراد ماہ رمضان کے ہی ایام ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی قابل اعتماد روایت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مسلمانوں پر رمضان کے روزوں کے سوا کوئی اور روزہ فرض کیا گیا ہو جو رمضان کے روزوں سے منسوخ ہوا۔ آیت کا سیاق خود اس بات پر دلیل ہے کہ جو روزے ہم پر فرض ٹھہرائے گئے وہ رمضان ہی کے روزے ہیں کوئی اور روزے نہیں۔ ” شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْـقُرْاٰنُ “ کے الفاظ خود ان ایام کی بلاکسی اشتباہ کے تعیین کیے دیتے ہیں۔ اس وجہ سے جو لوگ اس بات کے مدعی ہیں کہ رمضان کے سوا کوئی اور روزے مسلمانوں پر فرض تھے جو رمضان کے روزوں سے منسوخ ہوئے ان سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں کوئی ایسی روایت پیش کریں جو حجت بن سکے۔ــ“
فَمَنْ کَانَ مِنْـکُمْ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَـہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ ط فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّـہٗ ط وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔
(پس جو کوئی تم میں سے مریض ہو یا مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرے اور ان لوگوں پر جو اس کی طاقت رکھتے ہیں ان کے ذمہ بدلہ ہے ایک فقیر کا کھانا پھر جو کوئی خوشی سے کرے نیکی تو وہ اس کے لیے بہتر ہے اور یہ کہ تم روزہ رکھو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اگر تم سمجھ رکھتے ہو) (البقرۃ : 184)
مریض اور مسافر کا مفہوم شرعی نقطہ نظر سے
اب کچھ روزے کے مسائل بیان کیے جارہے ہیں۔ سب سے پہلے یہ بات ارشاد فرمائی کہ تم میں سے جو شخص مریض ہو یا مسافر ہو تو اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے البتہ بعد میں اسے روزہ رکھنا ہوگا۔ اس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مریض اور مسافر کا اطلاق کس پر ہوتا ہے۔ مریض ایسے شخص کو بھی کہتے ہیں جو کسی شدید بیماری میں مبتلاہو اور ایسا شخص بھی بیمار کہلاتا ہے جو معمولی بیماری کا شکا رہو۔ لیکن یہاں ہر طرح کا بیمار مراد نہیں بلکہ اس سے مراد ایسا شخص ہے کہ جس کے روزہ رکھنے کی وجہ سے مرض بڑھ جانے کا اندیشہ ہو یا روزہ نبھانا اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہو۔ اب رہی یہ بات کہ اس بات کا کیسے فیصلہ ہو کہ روزہ رکھنے سے بیماری میں اضافہ ہوجائے گا ؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ کسی شریعت کے پابند معالج سے رائے لی جائے۔ وہ اگر یہ سمجھتاہو کہ روزہ اس شخص کے لیے انتہائی تکلیف کا باعث ہوگا یا اس کی بیماری بڑھ جائے گی تو پھر روزہ چھوڑ دینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ آگے چل کر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے آسانی فرمانا چاہتا ہے تمہیں تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ معمولی زکام ہو یا طبیعت بوجھل ہو تو روزہ چھوڑ دیاجائے۔
مسافر کا اطلاق بھی معمولی سفر کرنے والے پر نہیں ہوتا عَلٰی سَفَرٍ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ سفر پر سوارہو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ محض چند میل کی سیر نہ ہو بلکہ اس کے لیے اہتمام بھی ناگزیر ہو۔ اب رہی یہ بات کہ ایسے سفر کو کتنا طویل ہونا چاہیے، قرآن کریم نے اس کی تحدید نہیں فرمائی۔ رسول اکرم ﷺ کے بیان اور صحابہ کے تعامل سے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور بہت سے فقہا نے اس کی مقدار تین منزل مقرر کی ہے یعنی وہ مسافت جس کو پیادہ سفر کرنے والا آسانی سے تین روز میں طے کرلے، بعد کے فقہا نے میلوں کے حساب سے اندازہ لگا کر اڑتالیس (48) میل مقرر کیے ہیں۔
سفر کے سلسلے میں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ مسافر اس وقت تک حالت سفر میں ہے جب تک وہ پندرہ دن کے لیے کہیں قیام نہیں کرتا اور اگر وہ دو دو، چار چار دن مختلف جگہ ٹھہرتارہا اور سفر بھی جاری رہا تو اس طرح چاہے کتنی مدت گزر جائے اسے مسافر ہی سمجھا جائے گا اور وہ سفر ہی کے احکام کا پابند ہوگا۔
مسافر سفر سے لوٹ آئے یا کہیں مقیم ہوجائے اور مریض تندرست ہوجائے تو جتنے روزے چھوڑے گئے ہیں ان تمام کی قضا کرنا لازم ہے۔ لیکن اللہ نے یہ کرم فرمایا ہے کہ یہ قضا اس شخص کے لیے ہے جسے اتنے دنوں کے لیے زندگی موقع دے۔ اگر وہ اس مہلت سے پہلے ہی زندگی کا سفر پورا کرگیا تو نہ اس پر قضا لازم ہوگی اور نہ فدیے کی وصیت کرنا ضروری ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ رمضان کے فوری بعد قضاروزے رکھے جائیں۔ کسی وقت بھی یہ روزے رکھے جاسکتے ہیں۔ البتہ غیرمعمولی تاخیر کرنا اس لیے مناسب نہیں کہ زندگی کا کیا بھروسا ہے کب بلاوا آئے۔
یُطِیْقُوْنَـہٗ کی ضمیر کا مرجع کیا ہے ؟
وَ عَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَـہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْن ” ان لوگوں پر جو اس کی طاقت رکھتے ہیں ایک روزے کا بدلہ ایک مسکین کا کھانا ہے “ سوال یہ ہے کہ یُطِیْقُوْنَہٗ میں ضمیر کا مرجع کیا ہے ؟ اس مرجع میں اختلاف کی وجہ سے آیت کے مفہوم میں اختلاف ہوا۔ ہمارے قدیم مفسرین نے اس ضمیر کا مرجع صیام کو ٹھہرایا ہے اور بعض دوسرے اہل علم نے اس کا مرجع صیام کو نہیں بلکہ طعام کو قرار دیا ہے۔ قدیم مفسرین میں مرجع میں اتفاق کے باوجود اس کی وضاحت اور انطباق میں اختلاف ہے۔ زیادہ تر اہل علم یہ کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت تو رکھتے ہیں لیکن کسی وجہ سے رکھنا نہیں چاہتے، دل نہیں چاہتایا کوئی اور سبب ہے تو ان کے لیے اس بات کی اجازت ہے کہ وہ ایک مسکین کو کھانے کا فدیہ دے دیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ مسلمان چونکہ اس طرح کے احکام کے خوگر نہیں تھے۔ اس لیے شروع شروع میں انھیں یہ سہولت دی گئی تھی لیکن اگلی آیت میں جو کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی اسے منسوخ کردیا گیا اور وہ اس کی دلیل میں صحیح بخاری ومسلم وابودائودوغیرہ سے حضرت سلمہ بن اکوع ( رض) سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہمیں اختیار دے دیا گیا کہ جس کا جی چاہے روزے رکھے اور جس کا جی نہ چاہے نہ رکھے البتہ ہر روزے کا فدیہ ادا کرے لیکن دوسری آیت کے نازل ہونے کے بعد یہ اختیار ختم ہوگیا۔
ایک اور حدیث بھی استدلال میں پیش کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ مسند احمد میں حضرت معاذ بن جبل کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ نماز کے معاملات میں بھی ابتدائے اسلام میں تین تغیرات ہوئے اور روزے کے معاملہ میں بھی تین تبدیلیاں ہوئیں۔ روزے کی تین تبدیلیاں یہ ہیں کہ :
رسول اللہ ﷺ جب مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو ہر مہینہ میں تین روزے اور ایک روزہ یوم عاشورہ (یعنی دسویں محرم) کا رکھتے تھے پھر رمضان کی فرضیت نازل ہوگئی۔ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ تو حکم یہ تھا کہ ہر شخص کا اختیار ہے کہ روزہ رکھ لے یا فدیہ دے دے اور روزہ رکھنا بہتر اور افضل ہے پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت مَنْ شَھِدَ مِنْـکُمُ الشَّھْرَ نازل فرمادی، اس آیت نے تندرست قوی کے لیے یہ اختیار ختم کرکے صرف روزہ رکھنا لازم کردیا، مگر بہت بوڑھے آدمی کے لیے یہ حکم باقی رہا کہ وہ چاہے تو فدیہ ادا کردے۔
یہ تو دو تبدیلیاں ہوئیں تیسری تبدیلی یہ ہوئی کہ شروع میں افطار کے بعد کھانے پینے اور اپنی خواہش پورا کرنے کی اجازت اس وقت تک تھی جب تک آدمی سوئے نہیں۔ جب سوگیا تو دوسرا روزہ شروع ہوگیا، کھانا پینا وغیرہ ممنوع ہوگیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت اُحِلَّ لَـکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ الآیۃ نازل فرماکر یہ آسانی عطا فرمادی کہ اگلے دن کی صبح صادق تک کھانا پینا وغیرہ سب جائز ہیں۔ سو کر اٹھنے کے بعد سحری کھانے کو سنت قرار دیدیا گیا۔ صحیح بخاری، مسلم، ابودائود میں بھی اس مضمون کی احادیث آئی ہیں۔ (ابن کثیر)
بعض دوسرے اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یُطِیْقُوْنَہٗ میں ضمیر کا مرجع تو صوم ہی ہے۔ لیکن اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو روزہ رکھ تو سکتے ہیں لیکن روزے کا تحمل ان کے لیے آسان نہیں مشکل ہے۔ مثلاً زیادہ بوڑھے اشخاص یا حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں ان کے نزدیک طاقت اور وسعت میں فرق ہے۔ وسعت تو امکان کے مترادف ہے اور طاقت میں یہ مفہوم شامل ہے کہ وہ کام کرنے والے کی قدرت میں تو ہو لیکن اس کے کرنے میں مشقت بہت زیادہ اٹھانی پڑے۔
الطاقۃ اسم لمقدار مایمکن للانسان ان یفعلہ بامشقۃ (راغب)
الوسع فوق الطاقۃ فالوسع اسم لمن کان قادرا علی الشیء علی وجہ السہولۃ واما الطاقۃ فھو اسم لمن کان قادرا علی الشیء مع الشدۃ والمشقۃ (کبیر)
کشاف نے بھی اسی کے ہم معنی بات کہی ہے۔ آیت کریمہ میں چونکہ طاقت کا مادہ استعمال ہوا ہے مندرجہ بالا وضاحتوں کے مطابق اس کا یہ ترجمہ کیا جاسکتا ہے کہ جو لوگ تکلیف کے ساتھ روزہ رکھ سکیں مثلاً بوڑھے مرد اور عورت، دودھ پلانے والی عورتیں اور حاملہ عورتیں ان کے لیے اجازت ہے کہ یہ بجائے تکلیف سے روزہ رکھنے کے کسی اور کو روزہ رکھوا دیں۔ اگر آیت کا یہ مفہوم مراد لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ حکم منسوخ نہیں بلکہ علی حالہٖ قائم ہے۔
تیسرا نقطہ نگاہ اس سے یکسر مختلف ہے وہ اس کا مرجع صیام یا صوم کو نہیں بلکہ طعام کو قرار دیتے ہیں اور صوم کو اس کا مرجع قرار دینے پر ان کے چند ایک تحفظات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ ولی اللہ (رح) بھی اسی رائے کے حامل لوگوں میں سے تھے۔ یہ حضرات اسی سلسلے میں جو کچھ کہتے ہیں ہم ایک ترتیب سے اس کا خلاصہ عرض کردیتے ہیں۔
1 اگر یہ بات مان لی جائے کہ صحابہ کو اختیار دیا گیا تھا کہ چاہے وہ روزہ رکھیں اور چاہے ایک مسکین کے کھانے کا فدیہ دے دیں تو پھر کُتِبَ عَلَیْـکُمُ الصِّیَامُ کا کیا مطلب ہے ؟ وہ فرض کیسا ہے جس کے ساتھ ہی اس پر عمل نہ کرنے کا اختیار بھی دے دیا جائے ؟
2 اس کی تائید میں بعض احادیث پیش کی جاتی ہیں اگر وہ اپنے مفہوم میں اس قدر واضح ہیں جیسا کہ کہا جارہا ہے تو پھر قدیم مفسرین نے طاقت اور وسعت میں فرق کرکے یُطِیْقُوْنَـہٗ کو ایک خاص معنی پہنانے کی کیوں کوشش کی ہے ؟
3 کس قدر عجیب بات ہے کہ عام لوگوں کو تو اس کی اجازت دے دی جائے کہ چاہیں تو روزہ رکھ لیں اور چاہیں تو فدیہ دے دیں۔ لیکن مریض اور مسافر کے لیے پابندی برقرار رہے کہ حالت مرض اور حالت سفر میں تو روزہ چھوڑا جاسکتا ہے لیکن مرض سے صحت مند ہونے اور سفر کے ختم ہونے پر قضا کرنا لازم ہے۔ روزے معاف نہیں ہوسکتے۔
4 سلبِ ماخذ بھی ایک حقیقت ہے اور اہل لغت کی تائیدطاقت کے خصوصی معنی کے لحاظ سے بھی ایک اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خاصیاتِ ابواب کا معاملہ قیاسی نہیں سماعی ہے۔ اس لیے جب تک اہل زبان کے استعمال کی مثالیں اس کے حق میں نہ لائی جائیں اور فصحائے عرب کی تائید اسے میسر نہ آئے اس وقت تک محض مفروضے کی بنیاد پر اتنا بڑا فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔
متذکرہ بالا تحفظات کی وجہ سے ان محققین کا کہنایہ ہے کہ یُطِیْقُوْنَہٗ کی ضمیر کا مرجع طعام ہے۔ پوری عبارت اس طرح ہے : وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَـہٗ فَـفِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْن ” جو لوگ ایک مسکین کو کھاناکھلاسکتے ہیں تو ان کے لیے بطور فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ “ اس صورت میں چونکہ جملہ نہایت ثقیل ہوجاتا تھا اس لیے کلام کی روانی اعجاز اور بلاغت کا تقاضا یہ ہوا کہ ایک جگہ طعام مسکین کو حذف کرکے اس کی جگہ ضمیر لائی جائے اور دوسری جگہ جہاں اس کا اظہار ضروری ہے اس کو ظاہر کردیا جائے تاکہ کلام غیر ضروری تکرار کے عیب سے پاک رہے۔ رہی یہ بات کہ اس صورت میں ضمیر کا مرجع ایک ایسے لفظ کو بنایا گیا ہے جس کا پہلے کہیں ذکر نہیں بلکہ بعد میں اس کا ذکرآیا ہے اسی کو اہل نحو کے یہاں اضمار قبل الذکرکا نام دیا جاتا ہے اور یہ کلام کا ایک عیب ہے اور قرآن کریم تو کسی طرح کے عیب کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اضمار قبل الذکر اس وقت عیب ہوتا ہے جب ضمیر کا مرجع متکلم کی نیت میں بھی مقدم نہ ہو۔ لیکن اگر متکلم کی نیت میں مقدم ہو اور محض تکرار سے بچنے یا بلاغت کے کسی اور تقاضے کے تحت وہ مرجع کو موخر کرنے پر مجبور ہو تو اس صورت میں اضمار قبل الذکر کلام کا عیب نہیں بلکہ خوبی ہے۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ جو لوگ بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان کے روزے پورے نہیں کرسکتے تھے انھیں اس بات کی اجازت تھی کہ دوسرے دنوں میں یا تو روزے رکھ کر ان چھوڑے ہوئے روزوں کی تلافی کردیں اور یا ایک روزے کی جگہ ایک مسکین کو کھانا کھلاکر اس کا بدل پورا کردیں۔ لیکن اگلی آیت کے نازل ہونے کے بعد بیمار اور مسافر کے لیے بھی یہ رعائت منسوخ ہوگئی۔ اب ان کے لیے قضاشدہ روزوں کی جگہ بھی روزے رکھناہی ضروری ٹھہرا۔ آیت کے آخری جملے میں ارشاد فرمایا گیا ہے قضا روزے کا جو فدیہ مقرر کیا گیا ہے یہ ایک خوشحال آدمی سے کم سے کم مطالبہ ہے، اس کا پورا کرنا ضروری ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ مسکینوں کو کھانا کھلانا چاہے یا ان کے ساتھ کوئی اور نیکی کرے تو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کے بعد یہ بھی اشارہ کردیا گیا کہ فدیہ کی محض اجازت دی گئی ہے یہ روزے کا بدل نہیں ہوسکتا۔ بہتر تو یہ ہے کہ تم روزہ ہی رکھنے کی کوشش کرو اور وہ وقت دور نہیں جب یہ اجازت ختم ہوجائے گی۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بعد یہ اجازت منسوخ کردی گئی۔
فدیہ کا مفہوم
ہماری گزشتہ بحث میں باربار فدیہ کا ذکر آیا ہے بہتر ہے کہ اس کی تفصیل اور ضروری مسائل ذکر کردئیے جائیں۔
ایک روزہ کا فدیہ نصف صاع گندم یا اس کی قیمت ہے، نصف صاع ہمارے مروجہ سیر یعنی اسی تولہ کے حساب سے تقریباً پونے دو سیر ہوتے ہیں۔ اس کی بازاری قیمت معلوم کرکے کسی غریب مسکین کو مالکانہ طور پردے دینا ایک روزہ کا فدیہ ہے بشرطیکہ کسی مسجد، مدرسہ کی خدمت کے معاوضہ میں نہ ہو۔
مسئلہ : ایک روزہ کے فدیہ کو دو آدمیوں میں تقسیم کرنا یا چند روزوں کے فدیہ کو ایک ہی شخص کو ایک تاریخ میں دینا درست نہیں، جیسا کہ شامی نے بحوالہ بحراز قنیہ نقل کیا ہے اور بیان القرآن میں اسی کو نقل کیا گیا ہے۔ مگر حضرت نے امداد الفتاویٰ میں فتویٰ اس پر نقل کیا ہے کہ یہ دونوں صورتیں جائز ہیں شامی نے بھی فتویٰ اس پر نقل کیا ہے۔ البتہ امداد الفتاویٰ میں ہے کہ احتیاط اس میں ہے کہ کئی روزوں کا فدیہ ایک تاریخ میں ایک کو نہ دے، لیکن دے دینے کی گنجائش بھی ہے۔ یہ فتویٰ مورخہ 1353 ھ امدادالفتاویٰ جلد دوم صفحہ 124 میں منقول ہے۔
مسئلہ : اگر کسی کو فدیہ ادا کرنے کی بھی وسعت نہ ہو تو وہ فقط استغفار کرے اور دل میں نیت رکھے کہ جب ہوسکے گا ادا کروں گا۔ (بیان القرآن)