2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:126

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور یا دکرو ! جب کہ ابراہیم نے دعا کی اے رب ! اس سرزمین کو امن کی سرزمین بنا اور اس کے باشندوں کو جو ان میں سے اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائیں پھلوں کی روزی عطا فرما۔ فرمایا، جو کفر کریں گے، انھیں بھی کچھ دن بہرہ مند ہونے کی مہلت دوں گا۔ پھر میں ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف دھکیلوں گا اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔

وَاِذْ قَالَ اِبْرَاھِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدً اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط قَالَ وَمَنْ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّہٗٓ اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (اور یا دکرو ! جب کہ ابراہیم نے دعا کی اے رب ! اس سرزمین کو امن کی سرزمین بنا اور اس کے باشندوں کو جو ان میں سے اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائیں پھلوں کی روزی عطا فرما۔ فرمایا، جو کفر کریں گے، انھیں بھی کچھ دن بہرہ مند ہونے کی مہلت دوں گا۔ پھر میں ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف دھکیلوں گا اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے) (البقرۃ : 126) مومنین کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں (امن اور رزق عطا فرما) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جس سرزمین میں بیت اللہ کی تعمیر کی اور اس کے جوار میں جس سرزمین میں حضرت اسماعیل کو آباد کیا اس کے لیے بلد کا لفظ استعمال فرماکرگویا اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ سرزمین بےآب وگیاہ صحرا ہے اور ایک ایسی وادی ہے جس میں سبزے کا نشان تک نہیں۔ اسے ایک شہر کی صورت آباد فرما۔ اس کے رہنے والوں کو امن عطا فرما اور رزق کی دولت سے مالا مال فرما۔ یہ دو دعائیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس لیے فرمائیں کہ ان دونوں کے بغیر کسی سرزمین کا شہر کی صورت اختیار کرنا ناممکن ہے۔ اس وقت اگرچہ وہاں کوئی آبادی نہیں تھی۔ لیکن خانہ بدوش قبائل پانی اور چراگاہوں کی تلاش میں موسموں کے تغیر کے ساتھ ادھر سے ادھر منتقل ہوتے ہوئے یہاں سے ضرور گزرتے تھے اور جب کہ چاہ زم زم کے وجود میں آنے کی وجہ سے پانی کی نعمت میسر آگئی تھی تو ان خانہ بدوشوں کی آمدورفت یہاں زیادہ ہوگئی ہوگی۔ لیکن ایک چشمہ یا ایک کنواں اس بےآب وگیاہ وادی میں کیسے آبادی کا ذریعہ بن سکتا تھا۔ اس لیے یہاں کی گزر بسر کا ذریعہ گلہ بانی یا شکار یا پھر لوٹ مار کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دو دعائیں کیں کہ ” یا اللہ ! اس سرزمین کو امن کی سرزمین بنا اور انھیں پھلوں کا رزق عطا فرما “۔ دونوں دعائیں کس طرح قبول ہوئیں ؟ اللہ تعالیٰ نے جس طرح یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں اور حضرت اسماعیل اور ان کی اولاد کو جو برکتیں عطا کیں وہ تاریخ کی ایک ایسی زندہ اور درخشاں حقیقت ہے کہ کوئی باشعور شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ جہاں تک اس کو امن کی جگہ بنانے کا سوال ہے اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے ساتھ ساتھ شہر اور اس کے مضافات کو حرم قرار دے کر ہر طرح کی بد امنی سے اسے محفوظ کردیا۔ ہر طرح کی لڑائی بھڑائی یک قلم ممنوع ہوگئی۔ جو شخص بھی حرم کی حدود میں داخل ہوجاتاوہ اللہ کی امان میں آجاتا، کوئی شخص اپنے دشمن پر بھی ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔ انسان تو ایک طرف رہے کسی جانور کو اذیت پہنچانا بھی حرام ٹھہرایا اور اس شہر کی آبادی کا مزید ایک انتظام یہ کیا کہ چار مہینوں کو حرمت والے مہینے قرار دیا۔ جن میں ایک مہینہ عمرے کے لیے اور تین مہینے حج کی عبادت کے لیے مختص کیے گئے۔ ان چار مہینوں میں پورے عرب سے سرزمینِ حرم کی طرف لوگ امڈتے ہوئے آتے۔ لیکن کوئی ان سے تعرض کرنے کی جرأت نہ کرتا تھا۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اللہ کے اس گھر اور اس کے جوار میں رہنے والوں کو بیرونی دشمنوں سے بھی اس طرح محفوظ کردیا گیا کہ کوئی مکہ معظمہ پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ کسی بیرونی دشمن کو اس گھر کو نقصان پہنچانے کی ہمت نہیں ہوئی اور اگر کسی نے ایسی جسارت کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے قدرت قاہرہ سے اسے عبرت بنادیا۔ دوسری دعا آپ نے اس سرزمین میں رہنے والوں کے لیے رزق کی فرمائی۔ اس کو بھی جس طرح قبول فرمایا گیا اسے دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ اس سرزمین میں دور دور تک زراعت کا کوئی نشان تک نہیں۔ کوئی پھل وہاں نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود صدیوں سے اس شہر کے رہنے والوں کو اس قدر رزق مل رہا ہے کہ کبھی کسی چیز کی کمی کی شکایت پیدا نہیں ہوئی۔ اللہ کے درپردہ کیا انتطامات ہیں وہی بہتر جانتا ہے لیکن بظاہر جو چیز محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب بیت اللہ کو مرکز حج قرار دے دیاتو ساتھ ہی لوگوں کے دلوں میں اس گھر کی طرف ایک میلان پیدا کردیا۔ جیسے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت پھیلتی گئی، ویسے ویسے لوگوں کا ہجوم اس سرزمین کی طرف بڑھتا گیا۔ یہاں لوگ مہینوں قیام کرتے۔ اس اجتماع کے باعث یہاں بازار لگ جاتے اور ان بازاروں میں عرب کے گوشے گوشے سے مال تجارت پہنچتا اور اس طرح یہاں کی تجارت کو فروغ ملتاجی سے جیسے یہ تجارت بڑھتی گئی ویسے ویسے زندگی کی ضرورت کی ہر چیز مکہ کی سرزمین کی طرف سمٹنے لگی اور اس طرح سے یہاں کے رہنے والوں کو ہر طرح کا رزق میسر آگیا۔ اللہ کے اس گھر کی تولیت اور حضرت ابراہیم کی دعوت کے وارث ہونے کے باعث قریش کو پورے عرب میں ایک اقتدار اور احترام میسر آگیا۔ لوگ ان سے عقیدت بھی رکھنے لگے اور ان کے سیاسی مقام کو بھی تسلیم کرنے لگے۔ اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے تجارتی قافلے قریب کے تمام ممالک کی طرف مال تجارت لے کر جانے لگے۔ ان کے تجارتی قافلوں کو احترام کی وجہ سے نہ صرف کہ کوئی روکتا نہیں تھا بلکہ ہر قبیلہ اپنی حدود میں حفاظت سے گزارنا اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ اس سہولت کے باعث قریش کی تجارت پھیلتی گئی اور ان کی صرف ضرورتیں ہی نہیں بلکہ مکلف زندگی کا بھی سروسامان ہوتا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الایلاف میں قریش پر اپنے اسی احسان کا ذکر فرما کر ان سے اپنی بندگی کا مطالبہ بھی کیا۔ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ ۔ الَّذِیْٓ اَطْعَمَھُمْ مِّنْ جُوْعٍ 5 لا وَّاٰمَنَھُمْ مِّنْ خَوْفٍ ۔ (قریش کو چاہیے کہ اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے ان کو بھوک میں کھلایا اور خوف سے امن دیا) (القریش : 3 تا 4) مختصر یہ کہ پروردگار نے غیر معمولی طریقوں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کو قبول فرمایا اور اہل مکہ کی رزق کی ضرورتیں بھی پوری کیں اور امن کی دولت سے بھی مالامال کیا۔ ایک اشکال کا جواب یہاں ممکن ہے قرآن کریم کے کسی قاری کو اشکال پید اہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بطور خاص پھلوں کے رزق کی دعا کیوں فرمائی۔ اس لیے کہ انبیائے کرام عموماً مقید دعا نہیں کیا کرتے یہ تو ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کے سامنے تجویز رکھنے والی بات ہے جو شائد اس بارگاہِ عالی کے مناسب نہیں۔ دوسری یہ بات کہ انسان کی غذائی ضرورت صرف پھلوں سے تو پوری نہیں ہوتی۔ اس کے لیے تو مختلف قسم کی نعمتیں درکارہوتی ہیں کیونکہ تنوع پسندی انسان کی فطرت ہے۔ وہ زیادہ دیر تک اس سے صبر نہیں کرسکتا۔ یہ اشکال درحقیقت قلت فہم کا نتیجہ ہے۔ ہم نے سرسری نظر میں یہ فیصلہ کرلیا کہ ثمرات ان پھلوں کو کہتے ہیں جو تفکہ کے طور پر کھائے جاتے ہیں حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ایسی نعمتوں کو ” ثمرات “ نہیں ” فواکہ “ کہا جاتا ہے۔ جنھیں ہم اردو زبان میں میوہ جات کہتے ہیں۔ ثمرہ اصل میں ہر چیز کی پیداوار کا نام ہے، زمین سے جو بھی پید اور اہوتی ہے وہ اس کا ثمرہ ہے۔ چاہے وہ گندم ہو جَو ہو یا اس طرح کی دوسری غذائی اجناس ہوں، حتی کہ ترقی یافتہ زمانے میں صنعتیں جو کچھ Produce کرتی ہیں وہ اس صنعت کی پیداوار اور اس کا ثمرہ ہوتا ہے۔ اس لیے شائد قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ ثَمَرَاتُ کُلِّ شَیئٍ ” ہر چیز کے پھل “ فرمایا ہے۔ اس میں جو وسعت ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے صرف میوہ جات تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔ امامت صالحہ اور رزق دنیا میں فرق ہے اس آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ثمرات کی دعا سب کے لیے نہیں بلکہ صاحب ایمان لوگوں کے لیے کی ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو خلافت و امامت کی نوید سنائی تو آپ نے عرض کی کیا یہ منصب میری اولاد کو بھی ملے گا تو پروردگار نے فرمایا کہ آپ کی اولاد میں سے جو ظالم ہوں گے وہ اس منصب کے اہل نہیں ہوں گے۔ چناچہ اسی کو سامنے رکھتے ہوئے آپ نے یہاں بھی اللہ اور آخرت پر ایمان کے ساتھ اس دعا کو مشروط کردیا کیونکہ اللہ کے نبیوں اور اس کے صالح بندوں کی اصل شناخت ہی یہ تسلیم ورضا ہوتی ہے۔ وہ جس چیز میں اللہ کی رضا دیکھتے ہیں فوراً اس کی طرف لپکتے ہیں۔ لیکن پروردگار نے اس غلط فہمی کی فوراً اصلاح فرمادی کہ ایمان وعمل امامتِ صالحہ کے لیے شرط ہے، رزقِ دنیا بالکل دوسری چیز ہے۔ امامتِ صالحہ صرف مومنین صالحین کو ملے گی مگر رزق دنیا مومن اور کافر سب کو دیا جائے گا۔ اسی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر کسی کو رزق دنیا فروانی سے مل رہاہو تو وہ اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ اللہ اس سے راضی بھی ہے اور وہی اللہ کی طرف سے پیشوائی کا مستحق بھی۔ رزق تو پروردگار کی بارگاہ سے سب کو ملے گا، لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ جو لوگ اس رزق کی ناشکری اور کفرانِ نعمت کرتے ہوئے ایمان وعمل صالح کے بغیر زندگی گزاریں گے، ممکن ہے انھیں زندگی میں کوئی افتاد نہ پڑے لیکن آخرت میں وہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھنے والے اے کاش اس بات کو سمجھ لیں کہ اس چند روزہ عیش کے نتیجے میں انھیں ہمیشہ کے لیے جس جہنم میں ڈالا جائے گا وہ کس قدر برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 2:127

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے انھوں نے دعا کی کہ اے ہمارے رب ! ہماری جانب سے قبول فرما، بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے۔

وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاھِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُط رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاط اِنَّـکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ ( اور یاد کرو جب کہ ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے انھوں نے دعا کی کہ اے ہمارے رب ! ہماری جانب سے قبول فرما، بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے) (البقرۃ : 127) تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کس قدر والہانہ اندازِ بیان ہے کہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں کو بتایا جارہا ہے کہ وہ کیسا مبارک اور انسانیت کے لیے قابل فخر وقت ہوگا جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔ بنی اسرائیل کے لوگو ! تم نے تاریخ کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے۔ ذرا غور سے دیکھو ! اس گھر کی بنیادیں اٹھانے والے ابراہیم ہیں۔ بیت المقدس کو تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بنایا تھا جو حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے ہیں اور سینکڑوں سال بعد آئے ہیں تو پھر فیصلہ کرواللہ کا سب سے قدیم گھر جو حضرت ابراہیم کا بھی قبلہ رہا وہ کون سا تھا ؟ اسی طرح غور سے دیکھو کہ حضرت ابراہیم کے ساتھ اس تعمیر میں حضرت اسماعیل بھی برابر کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ وہ اپنے باپ کے نقش قدم پر نہ صرف تعمیر میں شریک ہیں بلکہ دعائوں میں بھی شریک ہیں۔ لیکن تم نے ان دونوں بزرگوں کا تعلق بیت اللہ سے کاٹ کر رکھ دیا اور ذبیح اللہ بجائے حضرت اسماعیل کو قرار دینے کے حضرت اسحاق کو قرار دے رہے ہو۔ مزید غور کرو ! کہ ان دو مقدس معماروں کے دلوں میں کیا ارمان چٹکیاں لے رہے ہیں کہ جس گھر کی وہ بنیادیں اٹھا رہے ہیں۔ جیسے جیسے اس کی بنیادیں بلند ہورہی ہیں ویسے ویسے ان کے ارمان بھی اور ان کی پاکیزہ آرزوئیں بھی عرش الہٰی کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ وہ برابر اپنے رب سے دعا کررہے ہیں کہ یا اللہ ! تو ہماری دعائوں کو سننے والا ہے اور تو ہمارے دلوں کی کیفیتوں کو بھی جاننے والا ہے تجھ سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے کہ ہم کیا کیا آرزئوئیں رکھتے ہیں یہ گھر تو آپ کے حکم سے بن رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی آپ کی بےنیازیوں کو دیکھتے ہوئے ہم ڈرتے ہیں کہ ہماری تعمیری کاوشیں بار قبول پائیں گی یا نہیں۔ اس لیے ہم اپنی کاوشوں کی قبولیت کے لیے بھی سرتاپا دعا ہیں اور اس کے ساتھ وہ آرزوئیں بھی جو اس گھر کے مقاصد سے متعلق ہیں ان کی قبولیت کے لیے بھی ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔ وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاھِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُاس جملے سے گمان ہوتا ہے کہ ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) نے جو اللہ کے گھر کی تعمیر کی ہے وہ پہلے سے موجود بنیادوں کے اوپر کی ہے کیونکہ یہاں یہ نہیں فرمایا گیا کہ انھوں نے بنیادیں رکھی تھیں بلکہ یہ فرمایا جارہا ہے کہ وہ بنیادوں کو اٹھا رہے تھے۔ اس سے ان روایات کی تائید ہوتی ہے، جس کا ذکر ہم پہلے بھی کرچکے ہیں کہ پہلے یہ گھر ایک ٹیلے کی شکل میں تھا، جس کے نیچے اس کی بنیادیں دبی ہوئی تھیں۔ اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے جب اس ٹیلے کو کھودا تو اس کی بنیادیں نکل آئیں اس کے اوپر عظیم باپ بیٹے نے اللہ کے گھر کی تعمیر کی۔ اگلی آیات کریمہ میں ان آرزئوں کو مختصر طور پر بیان کیا گیا ہے، جو دونوں باپ بیٹے کے دلوں میں مچل رہی تھیں اور جنھوں نے بالآخر دعائوں کی صورت اختیار کرلی۔
Ayah 2:128

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہم دونوں کو تو اپنا مسلم (فرمانبردار) بنا اور ہماری ذریت میں سے تو اپنی امت مسلمہ (ایک فرمانبردار امت) اٹھا اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے والارحم فرمانے والا ہے

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَـکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّـکَص وَاَرِنَامَنَا سِکَنَا وَاتُبْ عَلَیْنَا ج اِنَّـکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۔ (البقرۃ : 128) (اے ہمارے رب ! ہم دونوں کو تو اپنا مسلم (فرمانبردار) بنا اور ہماری ذریت میں سے تو اپنی امت مسلمہ (ایک فرمانبردار امت) اٹھا اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے والارحم فرمانے والا ہے) دعا کی وضاحت تعمیر بیت اللہ کے دوران جو دعائیں بیت اللہ کے پاکیزہ معماروں کے لبوں تک آئیں اور انھیں اللہ کی کتاب میں ذکر فرماکر پروردگار نے لافانی کردیا۔ یہ دعائیں اپنی گہرائی اور گیرائی میں بےنظیر ہونے کے ساتھ ساتھ اس قدر بےساختہ اور فطری ہیں کہ آدمی ان کے سحر میں ڈوب جاتا ہے۔ سب سے پہلے غور فرمائیے ! دعا مانگنے والے عام انسان نہیں بلکہ ان میں ایک اللہ کے خلیل ہیں اور دوسرے اللہ کی رضا کے ذبیح۔ تاریخ ان کی عظمتوں کی گواہ ہے۔ لیکن وہ اللہ کی بارگاہ میں اس قدر عاجز اور سرافگندہ ہیں کہ باربار ربناان کے منہ سے بےساختہ نکل رہا ہے۔ انھیں دنیا کی قیادت و امامت کا منصب مل چکا ہے، لیکن بارگاہِ رب میں ان کی عاجزی کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھتی جارہی ہے اور پھر اپنے عظیم مقصد اور عظیم مقام کے حوالے سے کوئی چیز نہیں مانگ رہے بلکہ وہ چیز مانگ رہے ہیں جسے عام دیکھنے والی نگاہ بہت معمولی بات سمجھتی ہے۔ دعائوں کا انداز دعا کا شعور بخشتا ہے وہ پیغمبر ہیں، رسول ہیں، دنیا کے امام ہیں، لیکن صرف یہ درخواست کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اپنا مسلمان بنالے حالانکہ وہ نہ صرف کہ مسلمان ہیں بلکہ دنیا نے ان کی ذات اور ان کی زبان سے دین اسلام کی دولت پائی ہے اور جب بھی کوئی اسلام کے لیے اپنے اندر طلب یا تڑپ پاتا ہے تو وہ انھیں بزرگوں کی طرف نگاہیں اٹھاتا ہے اور انھیں کے نقوش قدم سے اللہ کے سامنے خودسپردگی کے انداز سیکھتا ہے۔ بایں ہمہ یہ دونوں باپ بیٹا اپنے لیے دعا کرتے ہیں کہ ” یا اللہ ! ہمیں اپنا مسلم اور فرمانبردار بنا “۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیش نظر دو باتیں ہیں ایک تو یہ بات کہ اگرچہ ہمیں اللہ نے بیشمار سعادتوں سے نوازا ہے اور دنیا کے لیے ہمیں ہدایت کا سرچشمہ بنایا ہے۔ لیکن اللہ کے سامنے ہماری حیثیت ایک فرمانبردار غلام کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ کی نوازشات اپنی جگہ اور ہماری حقیقت شناسی اپنی جگہ۔ اس کی ذات اور اس کی بارگاہ اتنی عظیم ہے کہ وہاں ہر ایک کو عاجزی اور فرمانبرداری کی تصویر بن کر حاضر ہونا پڑتا ہے اور جب کسی کو یہ زعم ہوجائے کہ میں اللہ کے یہاں مقبول اور محترم ہوں اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں باربار عاجزی سے اس طرح کی دعائیں مانگوں، سمجھ لیجئے وہ شخص برباد ہوگیا۔ اس لیے اللہ والوں کا حال پر میوہ شاخ کی طرح ہوتا ہے کہ جیسے جیسے وہ پھلوں اور میووں سے گراں بار ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے جھکتی چلی جاتی ہے۔ اللہ کے نبی اور ان کے راستے پر چلنے والے بھی اللہ کی نوازشات سے جیسے جیسے گراں بار ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے ان کی عاجزی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ وہ دوسروں کی فکر کے ساتھ ساتھ سب سے پہلے اپنی فکر کرتے ہیں۔ اپنے لیے بیش از بیش فرمانبرداری اور عاجزی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ اس لیے یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) نے سب سے پہلے اپنے فرمانبردار ہونے کی دعا مانگی۔ اللہ کے نبی بھی انسان ہوتے ہیں، وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح احساسات اور میلانات رکھتے ہیں۔ دوسرے انسانوں کی طرح انھیں بھی اپنی اولاد پیاری ہوتی ہے۔ لیکن ان میں اور دوسرے انسانوں میں فرق یہ ہے کہ دوسرے لوگ ہمیشہ اپنی اولاد کے لیے دنیا اسباب ِ دنیا اور زخارفِ دنیا کی دعائیں کرتے ہیں۔ لیکن اللہ کے نبیوں کی نگاہ میں دنیا سے کہیں بڑھ کر آخرت اور دین کی قدروقیمت ہوتی ہے۔ اس لیے وہ دنیا سے پہلے وہ چیز مانگتے ہیں جو آخرت میں کام آنے والی ہے۔ اس آیت کریمہ میں بھی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے جب اللہ سے مانگنے کے لیے دامن پھیلا یا تو اپنی اولاد کے لیے بھی وہی دولت مانگی جو اپنے لیے مانگی تھی کہ یا اللہ ! ہمیں بھی اپنا مسلمان بنا اور ہماری اولاد میں سے ایک امت مسلمہ یعنی فرمانبردار امت اٹھا۔ جن کی زندگی کا مقصد تیری فرمانبرداری تیرے دین کی سربلندی اور تیرے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینے کے سوا کچھ نہ ہو کیونکہ اسلام کا معنی فرمانبرداری اور خودسپردگی ہے۔ آدمی سب کچھ اپنے اللہ کے سپرد کردیتا ہے وہاں سے جو ہدایت ملتی ہے اس کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ اپنی ذات، اپنے احساسات، اپنے تصورات، اپنے تخیلات، اپنے دل و دماغ کی رعنائیاں، اعضاوجوارح کی توانائیاں، اپنا مال و دولت، اپنا اثرواقتدار، سب کچھ اللہ کے حوالے کردیتا ہے۔ ان تمام چیزوں کو اللہ کی ملکیت اور اپنے پاس امانت سمجھتا ہے۔ انھیں اس طرح استعمال میں لاتا ہے جس طرح اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ اس آیت میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) اپنی اولاد میں سے ایسی ہی امت اٹھانے کی دعا فرما رہے ہیں۔ امت ظاہر ہے ایک فرد کا نھیں ایک قوم اور ایک گروہ کا نام ہے۔ جسے زندگی گزارنے کے لیے ایک وطن چاہیے۔ زندگی میں تنظیم کے لیے ایک حکومت چاہیے۔ انفرادی اور اجتما عی اداروں کو چلانے اور نظم ونسق کی درستی کے لیے ایک آئین اور ایک قانون چاہیے۔ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وسائل چاہیئں۔ دشمنوں سے دفاع کے لیے طاقت اور قوت چاہیے۔ انھیں چیزوں سے امت باقی رہتی اور اپنا وجود منواتی ہے۔ انھیں چیزوں سے دنیا میں اسے ایک وقار اور ایک مقام ملتا ہے۔ یہاں یہ دعا مانگی جارہی ہے کہ الہٰی ! ہماری ذریت میں ایک امت اٹھا اور انھیں یہ ساری نعمتیں اور دولتیں عطا فرما، لیکن اسے تیری مُسلِمہ ہونا چاہیے ان کا وطن تیری بندگی اور تیری اطاعت کی سرزمین ہو۔ ان کا آئین اور قانون تیرے احکام پر مشتمل اور تیری رضا کے مطابق ہو۔ ان کے ادارے تیری حقانیت کے علمبردار ہوں، ان کی قوت تیری قوت ہو، جو تیرے دین کی محافظ اور بندگانِ خدا کی کفیل ہو۔ ان کے ملک اور ان کی ریاست کو دیکھ کر لوگوں کو اندازہ ہو کہ ایک ایسی ریاست جس کا انتساب اللہ کی طرف ہو اور جو اپنا حقیقی حاکم اللہ کو سمجھتی ہو وہ کس طرح کی ہوتی ہے، اس کے خدوخال کیسے ہوتے ہیں، اس کی ترجیحات کیسی ہوتی ہیں، جس طرح ایک فرد اپنی ذات اور اپنے مفادات کو کبھی نہیں بھولتاوہ امت بھی تیری ذات اور تیرے دین کے مفادات کو کبھی نظر انداز کرنے والی نہ ہو بلکہ جب دنیا پر خودفراموشی اور خدا فراموشی کا دورہ پڑے تو یہ امت اور اس کا ایک ایک فردتیری ذات کو یاد کرنے والا، یاد دلانے والا اور تیرے دین کا پیکر، مبلغ اور مناد ہو۔ جب دنیا کفر و باطل کی تاریکیوں میں ڈوب جائے اور ظلم کے اندھیرے گہرے ہوجائیں۔ تو اس کا ایک ایک فرد اس موذن کا کردار ادا کرے جس کی اذان سے ہر طرح کی تاریکیاں چھٹتیں ظلم کے پہرے ٹوٹتے اور نئی سحر طلوع ہوتی ہے۔ بقول اقبال : یہ سحر جو کبھی فردا ہے کبھی امروز نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود ہوتی ہے بندہ مومن کی اذاں سے پیدا یہاں اس حقیقت پر غور فرمائیے ! دعا مانگنے والے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) ہیں اور دونوں اپنی ذریت میں سے امت مسلمہ اٹھائے جانے کی دعا مانگ رہے ہیں۔ اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ ایسی امت مانگی جارہی ہے جو حضرت ابراہیم بواسطہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہو۔ دوسرے لفظوں میں جو حضرت اسماعیل کے صلب سے وجود میں آئے۔ ظاہر ہے جو امت حضرت اسماعیل کے صلب سے اور آپ کی ذریت ہوگی وہ بنی اسماعیل کہلائے گی اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسماعیل میں نبی آخرالزمان تشریف لائیں گے اور ان کی دعوت کے نتیجے میں وہ امت پیدا ہوگی جسے امت محمدیہ یا امت مسلمہ کہا جائے گا۔ اس میں بنی اسرائیل کا دور تک کوئی تعلق نہیں اس لیے ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ نبی آخرالزمان بنی اسرائیل میں سے آئیں گے، سراسر خودفریبی کے سوا کچھ نہیں اور مزید یہ بات بھی کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے اپنے آپ کو مسلم بنائے جانے کی دعا کی ہے اور اپنی پشت سے جس امت کو اٹھانے کی دعا کی ہے اسے بھی امت مسلمہ قرار دیا ہے۔ اس لحاظ سے نہ حضرت ابراہیم واسمٰعیل (علیہما السلام) کا یہودیت یا نصرانیت سے کوئی تعلق ہے نہ اس امت کا ان دونوں مذاہب سے کوئی تعلق ہے اراءۃ کا مفہوم وَاَرِنَا مَنَاسِکَنَاوَتُْبْ عَلَیْنَا مزید یہ دعا مانگی کہ ” یا اللہ ! ہمیں ہماری عبادت کے طریقے سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما “۔ اس میں ارنا کا لفظ قابل توجہ ہے۔ ” اراء ۃ “ کا معنی ہوتا ہے ” دکھانا “۔” اَرِ “ اسی سے امر ہے، تو اس کا معنی ہوگا ہ میں ” دکھا “۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ” الٰہی ! ہمیں ہماری عبادات کے طریقوں کی اس طرح آگاہی بخشئے کہ جیسے ہم ان طریقوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں “۔ یہ تعلیم اور آگاہی یقینا وحی الہٰی کے ذریعے سے ہوگی، لیکن اسے ہمارے دماغوں اور دلوں کے لیے اس قدر سہل واضح اور دل نشیں بنادے کہ جیسے ہم نے یہ طریقے اپنے کانوں سے نہیں سنے بلکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ اس لحاظ سے اراءۃ تعلیم اور تفہیم کے معنی ہی میں ہے، لیکن اس میں گہرائی اور گیرائی زیادہ ہے۔ دوسرا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ کی طرف سے بندوں کو جو رہنمائی ملتی ہے اس کا سابقہ انبیاء کے دور میں یہ طریقہ بھی رہا ہے کہ نبی کو خواب میں کوئی بات دکھا دی جاتی تھی اور نبی کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے اس لیے نبی اس خواب کے مطابق خود بھی عمل کرتا اور اپنی امت کو بھی حکم دیتا تھا جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کررہا ہوں اسی کو آپ نے حکم سمجھا اور آپ عمل پر کمربستہ ہوگئے اور یا ایسا ہوتا تھا کہ فرشتہ ظاہر ہو کر مطلوب کام کی طرف رہنمائی کردیتا تھا۔ یہاں یہ دونوں چیزیں بھی مراد ہوسکتی ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ آپ ہمیں اس طرح رہنمائی سے نوازئیے کہ اس میں کسی طرح کا اشتباہ باقی نہ رہے۔ مناسک کی تحقیق مَنَاسِکْ ۔ مَنْسَکْکی جمع ہے۔ نَسَکَ کے اصل معنی ” دھونے اور پاک کرنے “ کے ہیں نسک الثوب کے معنی ہیں ” کپڑے کو دھو کر پاک کیا۔ “ اسی سے نُسُکْ ہے۔ جس کے معنی ” قربانی “ کے ہیں۔ قربانی بندے کو گناہ کی آلودگی اور آلائشوں سے پاک کر کے اللہ تعالیٰ کا تقرب عطا کرتی ہے۔ اسی سے منسک ہے، جس کے معنی ” قربانی کے طریقہ “ کے بھی ہیں اور ” قربان گاہ “ کے بھی۔ اس کی جمع مناسک ہے جو حج کے تمام سلسلہ عبادات ومراسم پر حاوی ہے۔ سورة البقرۃ آیت 200 میں فرمایا : فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ ” جب تم حج کے مناسک ادا کرچکو توا للہ کو یاد کرو “۔ اس دعا میں مناسک سے مراد عمومی طور پر تمام عبادات کے طریقے بھی مراد لیے جاسکتے ہیں، لیکن خاص طور پر یہاں مناسکِ حج کا ذکر کیا جارہا ہے کیونکہ اللہ کے گھر کی تعمیر کے بعد یا اس کے دوران یہ دعائیں مانگی جارہی ہیں تو اس گھر سے عبادات بھی وابستہ ہیں اور حج کی عبادت تو اسی گھر کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ اس گھر کو بناتے ہوئے یہ دعائیں مانگی جاتیں اور ساتھ یہ فرمایا : وَتُبْ عَلَیْنَا ” تو ہماری توبہ قبول فرما “۔ توبہ کا مفہوم تَابَ کا معنی ” لَوٹنا “ ہوتا ہے۔ جب اس کا فاعل بندہ ہو تو اس کا مطلب ہے ” بندہ معصیت سے اطاعت کی طرف لوٹ آیا ہے یا اپنی سرکشی سے عبدیت کی طرف لوٹ آیا ہے یا شیطان کی چاکری سے اللہ کی فرمانبرداری کی طرف لوٹ آیا ہے “۔ لیکن جب اس کا فاعل اللہ ہو اور صلہ علیٰ کے ساتھ آئے تو پھر اس کا معنی ہوتا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ اپنے بندوں کی طرف لوٹ آیا ہے “ یعنی پہلے اگر ادھر سے بےالتفاتی تھی تو اب التفات ہونے لگا، پہلے اگر رحمت دور تھی تو اب اللہ کی طرف سے رحمت برسنے لگی، یہاں اللہ کی رحمت کی ہی دعا کی جارہی ہے۔ یا اللہ ! ہماری توبہ قبول فرما اور ہمارے ساتھ رحمت کا معاملہ فرما اور اپنی اس دعا کو اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ کہہ کر مزید حسب حال بنادیا ہے کہ الٰہی ! ہم تیرے عاجز بندے ہیں ہمیں صرف تیری عنایات پر بھروسہ ہے ہمارا دست سوال صرف آپ ہی کے سامنے پھیلتا ہے اور آپ کی شان بھی یہ ہے کہ آپ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتے ہیں اور رحم اور کرم فرمائی ہمیشہ آپ کا شیوہ ہے۔ اس لیے ہم پر بھی رحمت نازل فرما، رحم کا معاملہ فرما۔ اپنی عاجزی اور خودسپردگی کے واسطے سے جب اللہ کی رحمت کو متوجہ کرلیا اور اس کی صفات کے حوالے سے جب رحمت کے قرب کو محسوس کیا تو پھر وہ دعا مانگی جس کے نیتجے میں انسان کو دنیوی اور اخروی کامیابیاں نصیب ہونے والی تھیں اور انسانیت کو وہ روشن صبح نصیب ہونے والی تھی، جس سے انسانیت کا مقدر ہمیشہ کے لیے جگمگانے والا تھا۔