Ayah 2:210ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآاَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ ط وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ ع
(کیا یہ لوگ منتظر ہیں کہ اللہ نمودار ہوجائے بدلیوں کے سایہ میں اور اس کے فرشتے اور معاملے کا فیصلہ کردیا جائے اور اللہ کی طرف معاملات لوٹائے جاتے ہیں) (210)
سب سے پہلے اس آیت کے الفاظ پر غور فرمائیے۔ ینظرون ‘ ینتظرون کے معنی میں ہے اور باقی الفاظ اپنے مفہوم ومعنی میں بالکل واضح ہیں۔ لیکن اگر ان میں سے ہر لفظ کا لغوی معنی مراد لیا جائے تو ہمارے مسلمہ عقائد کے اعتبار سے بڑی الجھن پیدا ہوگی۔ ہم اللہ کریم کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ جسم سے پاک ہے۔ کہیں آنا جانا ‘ دکھائی دینا یہ ساری جسم کی صفات ہیں۔ یہ لوگ اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں آئے اور ہم اس کو دیکھیں۔ بادلوں کے سائے میں آنے کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ جس طرح بادلوں کا جسم ہے اور وہ محدود ہے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے محدود جسم کے ساتھ اس طرح نمودار ہو کہ تخت سلطنت پر فائز ہو اور فرشتوں کی فوجیں اس کے ارد گرد ہوں۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی صفات کو جانتے ہوئے ہم یہ مفہوم مراد نہیں لے سکتے۔ اسی لیے علمائے سلف کی متفقہ رائے یہ ہے کہ ایسی تمام آیتیں متشابہات میں سے ہیں اور ان کا حقیقی مفہوم اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ ہمیں اس کے متعلق سکوت اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن علمائے متاخرین کا مسلک یہ ہے کہ ایسی آیات کی اس طرح تاویل کرنا جو ان کی شایان شان ہو ‘ صحیح ہے۔ چناچہ بعض مفسرین نے اس آیت کی اپنے اپنے طریقے سے تاویل فرمائی ہے اور سب سے آسان تاویل وہ ہے جس میں اللہ سے پہلے مضاف محذوف مانا گیا ہے۔ پھر اصل عبارت اس طرح ہوگی۔ ان یاتیہم امر اللہ و باسہ۔ امام بیضاوی ( رح) جیسے قدیم مفسرین نے اسی تاویل کو اختیار کیا ہے۔ لیکن ہماری اس سلسلے میں ایک عاجزانہ رائے ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اس آیت کریمہ کی تاویل کی ضرورت جب ہے جب کہ اسے پروردگار کا قول ٹھہرایا جائے لیکن یہاں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ کافروں یا منافقوں کی خواہش یا ان کے مطالبے کی حکایت ہے اور اس کی مثالیں قرآن کریم میں جابجا موجود ہیں۔ ان کی طرف سے یہ مطالبہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم تو اس وقت راہ راست پر آئیں گے اور اس وقت اسلام کی دعوت قبول کریں گے جب ہم یہود کی طرح جنھوں نے یہ کہا تھا : لن نومن حتی نری اللہ جہرۃ۔ ” ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے تاوقتیکہ اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھیں۔ “ ہم بھی اپنی آنکھوں سے اس طرح اپنے پروردگار کو دیکھیں کہ وہ شاہانہ جلال سے تخت سلطنت پر فائز ہو اور اس کے گردوپیش فرشتوں کا لشکرجرار ہو اور بادل اس کے سر پر سایہ کناں ہوں۔ اس کے بعد ہمارے لیے گنجائش کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا تو ہم اسلام کی دعوت کو قبول کرلیں گے۔ یہاں فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم اللہ کی ذات کو ” کہ انسانی نگاہوں کے لیے دنیا میں جس کا دیکھنا ممکن نہیں “ دیکھ کر ایمان لانا چاہتے ہو
معتبر ایمان کیا ہے ؟
تو پھر تمہارے اس ایمان کی قدروقیمت کیا ہوگی۔ کیونکہ اللہ کے یہاں اس ایمان کی قیمت ہے ‘ جو بن دیکھے لایا جائے۔ جو ایمان بالغیب کہلاتا ہے۔ اللہ کی ذات پر یقین اس کی صفات اور اس کی قدرتوں کے ذریعہ پیدا کرنا ایمان کا تقاضا ہے اور اگر غیب کی تمام حقیقتوں کو آنکھوں کے سامنے کھول دیا جائے تو پھر انسان کی آزمائش تو ختم ہوجاتی ہے۔ تو پھر جزا اور سزا کس بات پر ہوگی۔ یعنی تم ایک ایسا مطالبہ کر رہے ہو ‘ جس کو مان لینے کا نتیجہ ایمان کی حقیقت کو بےوقعت کردینا ہے اور تخلیق انسانی کا جو اصل مقصد ہے ‘ اسے ناکام کردینا ہے اور اگر فرض کیجئے ایسا ہوجائے کہ غیب کی ایک ایک حقیقت تمہاری آنکھوں کے سامنے کھول دی جائے تو پھر زندگی اور اس کائنات کی صف لپیٹ دی جائے گی۔ کیونکہ اصل امتحان ختم ہوجائے گا اور یہاں کا قیام بےمقصد ہو کر رہ جائے گا۔ تمہیں تو صرف اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیے کہ یہاں کا ایک ایک معاملہ تمہارا ایک ایک عمل اور مخلوقات کی ایک ایک ضرورت اللہ کی طرف لوٹائی جاتی ہے۔ جب تک دنیا قائم ہے تو اسی کے فیصلوں کے ساتھ قائم ہے اور جب قیامت برپا ہوگی تو تمہارے وہی معاملات جو اعمال کی شکل میں اللہ کی طرف لوٹائے گئے ہیں جزا اور سزا کا ذریعہ بنیں گے۔
ایک مفہوم اس آیت کا اور بھی ہوسکتا ہے۔ وہ یہ کہ جہاں تک بینات یا ہدایت کا تعلق ہے ‘ اس میں تو کوئی کمی باقی نہیں رہی۔ لیکن اگر کچھ لوگ اب بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں شاید اس بات کا انتظار ہے کہ اللہ تخت سلطنت پر فائز فرشتوں کے جلو میں اور بادلوں کے سایے میں ان کے سامنے آموجود ہو اور پھر اپنی قوت سے ان کے سروں کو اپنے سامنے جھکائے اور ان کی سرکشی کا انہیں مزا چکھائے لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں کہ یہ بات سراسر کائنات کی تخلیق کی سکیم کے خلاف اور جزا وسزا کے قانون کے بالکل برعکس ہے۔ تمہیں جو فیصلہ کرنے کے لیے ڈھیل پہ ڈھیل دی جارہی ہے وہ اسی لیے ہے تاکہ تم اپنی عقل ‘ اپنے حواس اور شعور سے کام لے کر ان بینات پر غور کرو اور پھر اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کرلو۔ لیکن اگر اس صورتحال کو الٹ دیا جائے تو پھر تو ہر معاملہ ختم ہو کر رہ جائے۔ اس طرح سے تم اپنی موت اور کائنات کی تباہی کو دعوت دے رہے ہو۔
Ayah 2:211سَلْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ کَمْ اٰتَیْنٰـھُمْ مِّنْ اٰیَۃٍ م بَیِّنَۃٍ ط وَمَنْ یُّـبَدِّلْ نِعْمَۃَ اللّٰہِ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ تْـہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُالْعِقَابِ ۔
( بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے ان کو کتنی کھلی کھلی نشانیاں دیں اور جو اللہ کی نعمت کو اس کے پانے کے بعد بدل ڈالے تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے) (211)
روئے سخن کس کی طرف ہے
سیاق کلام سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا روئے سخن بھی منافقین کی طرف ہے۔ لیکن اس کے مفہوم کو اگر غور سے سمجھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساتھ ساتھ مسلمانوں سے بھی کچھ کہا جارہا ہے۔ بات لپیٹ کے کہی جارہی ہے لیکن روشنی کا سامان دونوں کے لیے ہے اور اس سے دو آیتیں پہلے خطاب بھی یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکہہ کر کیا گیا ہے جس میں منافقین اور مسلمان دونوں شریک ہیں۔ رسول کریم ﷺ کے صحابہ جس ایمان کامل اور اخلاص تام کے حامل تھے ‘ انہیں تو ایسی باتیں کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن چونکہ آئے دن اسلام کے قافلے میں نئے نئے لوگوں کو اضافہ ہو رہا تھا۔ تو یہ بات بالکل سامنے کی ہے کہ اسلام کی آغوش میں آنے والا ہر شخص ایک ہی سطح کا تو نہیں ہوسکتا۔ تربیت سے آہستہ آہستہ ان باتوں کی اصلاح ہوتی ہے جو اسلامی مزاج کے خلاف ہیں اور پھر آئندہ بھی امت مسلمہ کا قافلہ رکنے والا تو نہیں تھا۔ ان ہدایات کی ضرورت تو ہمیشہ باقی رہنے والی تھی۔ اس لیے وہ باتیں جو آج کچھ لوگوں میں موجود ہیں یا آئندہ کچھ لوگوں میں ہوسکتی ہیں ‘ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بنی اسرائیل کی تاریخ کا حوالہ دیا ہے۔ اس میں ممکن ہے یہ حکمت بھی شامل ہو کہ منافقین یا تو بنی اسرائیل ہی سے تعلق رکھتے تھے اور یا بیشتر ایسے تھے جن کے بنی اسرائیل سے گہرے تعلقات تھے اور وہ ان کے زیراثر ہونے کی وجہ سے اسلام کے بارے میں یکسو نہیں ہورہے تھے۔ مختصر یہ کہ منافقین ہوں یا کمزور مسلمان یا آئندہ ان کمزوریوں کے حامل مسلمان سب سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ ہم تمہیں معذب قوموں کی تاریخ پڑھنے کی دعوت نہیں دے رہے اور نہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ تم پرانی تہذیبوں کے کھنڈرات میں تاریخ تلاش کرتے پھرو بلکہ ہم تمہارے سامنے ایک ایسی قوم کو پیش کر رہے ہیں ‘ جو ایک زندہ قوم ہے لیکن اپنی بداعمالیوں کے باعث دوسروں کے لیے عبرت بن چکی ہے۔
بنی اسرائیل کو بطور عبرت پیش کیا جارہاہے
ذرا اس قوم کو دیکھئے ان کا انتساب اللہ کے ایک جلیل القدر نبی کی طرف ہے۔ ان کی تاریخ کا اصل آغاز حامل دعوت ہونے کے حوالے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے سے ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے برسوں تک فرعون کے سامنے کلمہ حق کہا اور اللہ کے دین کو قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس کے انکار بلکہ تمرد کے باعث جس طرح مختلف شکلوں میں اہل مصر پر عذاب آتے رہے اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے دور ہوتے رہے ان میں سے ایک ایک نشانی کو بنی اسرائیل نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر ہجرت کے ارادے سے نکلے تو ایک طرف بحرقلزم کی موجوں نے ان کا راستہ روک لیا اور دوسری طرف فرعون کی فوجیں سر پر آپہنچیں اور پھر جس طرح اللہ نے بحر قلزم میں بنی اسرائیل کے لیے راستے نکالے اور ان کے پار اترجانے کے بعد ان کی آنکھوں کے سامنے فرعون اور اس کی فوجوں کو غرق کیا وہ بھی انھوں نے بچشم سر دیکھا۔ پھر وادی تیہ اور صحرائے سینا میں جس طرح اللہ نے ان کے سر پر بادلوں کا چھتر تان دیا ‘ من وسلویٰ سے انھیں غذا پہنچائی۔ ایک چٹان سے ان کے لیے بارہ چشمے نکالے۔ کوہ طور کو ان کے لیے شق کیا۔ تورات جیسی کتاب عطا فرمائی۔ غرضیکہ بیشمار معجزات انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ ایسے کھلے کھلے معجزات دیکھنے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کی قوت ایمان میں کوئی کمی نہ رہتی ‘ ان کا ایک ایک عمل تقویٰ کی تصویر ہوتا لیکن اس کے برعکس ان کی بےاعتقادی ‘ ایمان کی کمزوری ‘ ناشکری کی عادت اور بےصبری کی خصلت برابر ان کے سروں پر مسلط رہی اور پھر اسی پر بس نہیں انھیں اللہ تعالیٰ نے کتاب ہدایت دے کر حامل دعوت امت کا منصب بخشا۔ ساری دنیا میں توحید کی امانت انھیں سپرد کی گئی۔ لیکن انھوں نے اس امانت کا حق ادا کرنے میں صدیوں تک جو کمزوریاں دکھائیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اللہ کی یہ نعمت یعنی کتاب اللہ اور شریعت کی نعمت اور حامل دعوت ہونے کا منصب آہستہ آہستہ بدل ڈالا۔ وہ رفتہ رفتہ اس بات کو بالکل بھول گئے کہ اللہ نے ہمارے سپرد جو عظیم ذمہ داری کی تھی ‘ ہم نے اس کے ساتھ کیا حشر کیا ہے۔ ہر دور میں نبی آتے رہے اور انہیں جنجھوڑتے رہے لیکن سلیمان (علیہ السلام) کے دور کے بعد جو بنی اسرائیل کا انتہائی عروج کا دور ہے۔ جب ان کے زوال میں انتہا درجے کی تیزی آگئی۔ ایک سلطنت کی بجائے دو سلطنتیں قائم کرڈالیں اور پھر آپس میں لڑ لڑ کر اس طرح کمزور ہوگئے کہ جب کوئی حکمران چاہتا ان پر چڑھ دورتا۔ حتی کہ بخت نصر نے ان کی بساط ہی لپیٹ کر رکھ دی۔ اس کے بعد بھی مختلف وقتوں میں دوسرے حکمران ان پر عذاب الٰہی بن کر مسلط ہوتے رہے۔ اس تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ یہ زندہ قوم تمہارے لیے اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ اللہ جب کسی امت کو شریعت دیتا ہے ‘ نبوّت اور کتاب سے نوازتا ہے تو انہیں ساتھ حکومت و سلطنت بھی عطا کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس نعمت کا حق ادا نہیں کرتے تو پھر اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔ اس کی شدت ملاحظہ کرنی ہو تو تاریخ کے مختلف ادوار میں بنی اسرائیل پر برسنے والے عذاب کے کوڑوں کو دیکھ لیجئے ‘ اس سے مسلمانوں کو متنبہ رہنا چاہیے کہ اب ہمیں بھی ایک حامل دعوت امت کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ ہمیں بھی ملک عظیم عطا کیا جارہا ہے۔ اگر ہم نے بنی اسرائیل کی طرح اس امانت اور نعمت کا حق ادا کیا تو ہمارا انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ اگلی آیت کریمہ میں اس بنیادی بیماری کی اطلاع دی گئی ہے جس میں عموماً قومیں اور افراد مبتلا ہوتے ہیں اور پھر اس میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بعد زندگی کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔
Ayah 2:212زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَیَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا م وَالَّذِیْنَ اتَّـقَوْا فَوْقَھُمْ یَوْمَ الْقَیٰـمَۃِ ط وَاللّٰہُ یَرْزُقُُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِحِسَابٍ
(مزین کردی گئی ہے دنیا کی زندگی کافروں کی نگاہوں میں اور یہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو ایمان لائے ہیں ‘ حالانکہ جو لوگ تقویٰ اختیار کیے ہوئے ہیں ‘ قیامت کے دن وہ ان پر بالا ہوں گے ‘ اور اللہ جسے چاہے بےحساب رزق دیتا ہے) (212)
حیات دنیا کی تزئین کا مفہوم
دعوت الی اللہ اور غلبہ دین کی خاطر انبیائے کرام کی جدوجہد ان کی قربانیوں ‘ ان کے ایثاروخلوص ‘ پھر ان کے متبعین کی وفاشعاریوں کو دیکھتے ہوئے بعض دفعہ حیرانی ہونے لگتی ہے کہ آخر یہ دعوت کفار کے لیے قابل قبول کیوں نہیں ہوتی ‘ اور اس دعوت کو نفوذ اختیار کرنے میں اس قدر تاخیر کیوں ہوتی ہے۔ اور ایسا بھی ہوا ہے کہ بعض انبیائے کرام کی طویل جدوجہد گنتی کے صاحب ایمان پیدا کرسکنے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن جب ہم اس حقیقت پر غور کرتے ہیں ‘ جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا ہے تو پھر یہ ہماری حیرانی ختم ہوجاتی ہے۔ ایک شخص جو من مرضی کی زندگی گزارتا ہے۔ ہر معاملے میں اس کی خواہشات اس کی رہنما ہوتی ہیں۔ حیوانوں کی طرح کھانا پینا اور عیش کرنا اس کی زندگی کا مقصد بنا رہتا ہے۔ کسی کی حق تلفی یا حق شکنی کرنا اس کے لیے کوئی تکلیف دہ بات نہیں ہوتی۔ وہ صرف عزت اور لذت کے فلسفے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ زندگی میں زندگی سے محظوظ ہونا زندگی کا اصل ہدف سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک اپنی خواہشات کو حاصل کرنا اصل مقصد ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور اجتماعی ذمہ داری ‘ کوئی اخلاقی قدر ‘ کوئی انسانی حق ‘ کوئی روحانی فلسفہ ‘ کائنات کے بارے میں کوئی سوال ‘ خالق کائنات سے متعلق کوئی سوچ ‘ زندگی کی ابتدا اور انتہاء کے بارے میں کوئی فکر اس کے دل و دماغ پر کبھی دستک نہیں دیتی۔ ایسے آدمی کو جب پیغمبر اچانک اللہ پر ایمان کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے ذہن میں نئے نئے سوالات اٹھاتا ہے۔ اسے زندگی کے مقاصد کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کے سامنے حقوق و فرائض کا در کھولتا ہے اور اسے سمجھاتا ہے کہ تم یہاں صرف کھانے پینے اور عیش و عشرت کے لیے نہیں بھیجے گئے ہو بلکہ تمہیں ایک خاص مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے۔ جس کے حصول کے لیے تمہیں ہر قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ تمہاری اپنی ذات تمہارا مقصود نہیں ہے بلکہ اللہ کی ذات اور اس کا دین تمہارا مقصد ہے۔ غور فرمائیے ‘ اس کی زندگی کا پہلا تصور جسے حیات دنیا سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور زندگی کا دوسرا تصور جسے اللہ کے رسول نے اس کے سامنے پیش کیا ہے ‘ دونوں کے درمیان کس طرح مشرق ومغرب کا فاصلہ ہے۔ ایک شخص جو زندگی کے پہلے تصور پر جان دیتا ہے اور وہ کسی طرح اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں اور اس زندگی میں اس کے لیے مزے ہی مزے ہیں۔ وہ اس دوسری زندگی کو کیسے قبول کرلے۔ جس کا حال یہ ہے کہ :
یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جاناں
وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری
یہی وہ حقیقی کشمکش ہے جو دنیا کے پرستاروں یعنی کافروں کو آخرت کی طرف دعوت دینے والوں کے قریب نہیں آنے دیتی اور جب وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ آخرت کے مسافر اور جنت اور اس کی نعمتوں کے دعوے دار اپنے پاس سوائے محرومیوں کے اور کچھ نہیں رکھتے۔ یہ معاشرے کے نہایت گرے پڑے لوگ مالی اعتبار سے نہایت نادار اور معاشرتی اعتبار سے نہایت بےکس اور سیاسی اعتبار سے نہایت بےاثر اور ظاہری وجاہتوں کے اعتبار سے درویش اور مسکین ہمیں جس مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔ وہ مستقبل اسی طرح کا ہوگا جس طرح کے یہ لوگ ہیں۔ چناچہ جب مسلمان انہیں غلبہ دین کے نتیجہ میں ملکوں کے ہاتھ آجانے کی خبر دیتے تھے ‘ تو وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے کہ یہ ہیں کل کے حکمران جنھیں آج جوتا پہننے کو نہیں ملتا اور جب وہ ان کے سامنے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرتے تو وہ تمسخر کرتے کہ ماشاء اللہ یہ ہیں جنت کے وارث جنہیں دو وقت کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ چناچہ دنیا کے اعتبار سے یہ فرقِ مراتب ان کے دل و دماغ کا ایسا حصہ بن جاتا ہے کہ وہ اس سے باہر نکل کر سوچنے پر قادر نہیں رہتے۔ ان کی اس بیماری کا ذکر کرنے کے بعد پروردگار فرماتے ہیں کہ کاش ان لوگوں کو اس بات کی خبر ہوتی کہ تم نے اپنے لیے زندگی کا جو رویہ اپنایا ہے ‘ غور کرو تمہارے چند امراء کی عیش پرستیوں کے سوا تمہیں اس رویے نے کیا دیا ہے۔ تم جن غریبوں پر ہنستے ہو یہ تمہارے اسی رویے نے پیدا کیے ہیں اور تمہیں اپنے معاشرے میں جو اونچ نیچ نظر آتی ہے ‘ یہ تمہارے ہی تصورات کا نتیجہ ہے۔ خود تمہارے اپنے گھروں میں تمہاری بیویاں جس طرح تم سے خیانت کرتی ہیں اور تم اپنی بیویوں سے خیانت کرتے ہو اور تمہاری اولاد جس طرح تمہاری گستاخیاں کرتی ہے اور تمہارا سماج جس طرح ظلم کی بنیادوں پر کھڑا ہے ‘ یہ سب کچھ تمہاری زندگی کے اس تصور نے پیدا کیا ہے ‘ جسے تم کسی قیمت پر چھوڑنا نہیں چاہتے اور زندگی کا وہ تصور جو پیغمبر تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے۔ اس میں بظاہر تمہیں ایثار و قربانی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا لیکن حقیقت میں اسی کے نتیجے میں وہ معاشرہ وجود میں آتا ہے جس کا ہر فرد پُراَمن زندگی گزارتا ہے اور وہ صرف اپنا پیٹ بھرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اسے دوسروں کے فاقوں کا بھی احساس ہوتا ہے۔ یہی احساس بڑھتے بڑھتے پورے معاشرے پر رحمت بن کر چھا جاتا ہے اور یہی لوگ جن پر تم آج ہنستے ہو ‘ یہی تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے کے بعد اس سوسائٹی کے بالا بلندلوگ ہوں گے ‘ جو اسلام کی بنیاد پر وجود میں آئے گی۔ اور یہی لوگ ہوں گے جو قیامت کے دن ان تمام لوگوں سے برتر ہوں گے جو آج انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یعنی دنیا کی زندگی میں بھی اللہ ان کو عزت دے گا اور انہی سے عزت کا صحیح مفہوم وجود میں آئے گا اور آخرت میں ان کے مقام و مرتبہ کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہوگا۔
بےحساب رزق کا مفہوم
آیت کے آخر میں مزید فرمایا : وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِحِسَابِ
” اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے۔ “
تقویٰ کی بنیاد پر زندگی گزارنے والے قیامت کے دن تو اللہ کی بےپایاں نعمتوں سے یقینا مالامال ہوں گے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا اگرچہ دارالابتلاء ہے دارالجزاء نہیں۔ اس لیے یہاں ہر عمل کا بدلہ ملنا ضروری نہیں۔ لیکن یہ اللہ کا کرم ہے کہ بعض دفعہ وہ دنیا ہی میں متقی لوگوں کے لیے اپنے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے۔ میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جنھوں نے اپنے کاروبار میں کبھی حرام کی آمیزش نہیں ہونے دی اور اللہ سے وعدہ کیا کہ وہ اپنی طرف سے اپنے کاروبار کو ہر طرح کے حرام سے پاک رکھیں گے۔ چناچہ چند سال تک تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمایا لیکن جب وہ ثابت قدم رہے ‘ تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر رزق کی فراوانی کے دروازے کھول دئیے۔
یہاں ایک بات یاد رہے کہ اللہ کا کوئی کام حساب کے بغیر نہیں ہوتا۔ صحرا میں پتہ بھی گرتا ہے تو وہ اسے جانتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے علم میں ہے۔ یہاں بِغَیْرِحِسَابْہمارے حوالے سے کہا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بعض دفعہ اتنی فراوانی سے عطا کرتا ہے کہ توقعات اور اندازوں اور قیاسوں اور گمانوں کے تمام پیمانے اسے ناپنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ یہاں یہی مراد ہے۔
Ayah 2:213کَانَ النَّاسُ اُمَّـۃً وَّاحِدَۃً قف فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ص وَاَنْزَلَ مَعَھُمُ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَااخْتَلَفُوْا فِیْہِ ط وَمَااخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ تْھُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًا م بَیْنَھُمْ ج فَھَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ ط وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَـقِیْمٍ
(لوگ ایک امت تھے۔ پھر اللہ نے نبیوں کو بھیجا، بشارت دینے والے اور ڈرانے والے اور ان پر کتاب برحق اتاری تاکہ وہ فیصلہ کریں لوگوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ اور کسی اختلاف نہیں کیا اس کتاب میں بجز ان لوگوں کے جنھیں کتاب دی گئی تھی۔ اس کے بعد کہ روشن دلیلیں ان کے پاس آگئیں ایک دوسرے سے حسد کی وجہ سے۔ پس اللہ نے ان لوگوں کو ہدایت بخشی جو ایمان لائے تھے ان سچی باتوں پر جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے اپنی توفیق سے۔ اور اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف) (213)
ایک فکری غلطی کا ازالہ
اس آیت کریمہ میں انسانی تاریخ کے بارے میں مختلف قوموں کے نام نہاد دانشوروں نے ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے جو مفروضے قائم کر رکھے ہیں اور پھر ان پر مختلف عمارتیں اٹھا رکھی ہیں ان پر ایک پہلو دار طریقے سے گفتگو فرمائی گئی ہے۔ اور بعض حقائق سے اس طرح پردہ اٹھایا گیا ہے کہ غور کرنے والوں کے لیے بہت کچھ عبرت اور ہدایت کا سامان ہے۔
سب سے پہلی غلط فہمی جسے علم و دانش کے سوداگروں نے عالمگیر شہرت دے رکھی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ وہ انسان کو بھی باقی مخلوقات پر قیاس کرتے ہیں۔ کہ جن کی زندگی کی ضروریات جسمانی غذا اور بقا کے سوا اور کچھ نہیں۔ انھیں اللہ نے حواس کی صورت میں رہنمائی عطا کی ہے لیکن اس راہنمائی میں وقت کے ساتھ ساتھ اور ضروریات کے مطابق ترقی کرنے کے بےحد امکانات رکھے ہیں۔ چناچہ حیوانوں کی مختلف اقسام کا جن لوگوں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے۔ وہ یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے حواس نے عہد بہ عہد کیسے ترقی کی ہے ؟ لیکن یہ ان کی ساری ترقی حیوانیت کی حدود سے باہر نکلنے نہیں پاتی۔ چناچہ ان نام نہاد دانشوروں نے انسان کو بھی محض ایک حیوان سمجھ کر اس کی ابتدائی زندگی کی تصویر بالکل اس طرح کھینچی ہے جس طرح حیوانوں کی کھینچی گئی ہے۔ وہ جس طرح غاروں سے اور پتھر کے دور سے نکل کر آبادی میں اور حضری حدود میں داخل ہوا ہے اور اپنی غذائی ضروریات کو جس طرح مرور زمانہ کے ساتھ بہتر بنایا ہے اسی پر وہ اس کی معنوی اور روحانی صلاحیتوں اور ضروریات کو قیاس کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ انسان پہلے مظاہر پرستی اور بت پرستی میں مبتلا رہا۔ آہستہ آہستہ انسانوں نے انسانوں کی پرستش شروع کی۔ آخر ایک وقت آیا جب وہ توحید کی عظمت کا قائل ہوا اور اس طرح اس نے اپنی معنوی اور روحانی ضرورتوں کا سفر طے کیا۔ لیکن اس آیت کریمہ میں دو باتیں ارشاد فرما کر ان کے ان تمام مفروضوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ ایک تو یہ بات کہ اگر انسان نے اللہ کی معرفت اور حقیقی مذہب کا شعور اپنی بنیادی صلاحیتوں کے ذریعے حاصل کیا ہوتا تو اس میں آپ کو مختلف تاریخی دوائر میں انسان مختلف حالتوں اور مختلف کیفیتوں میں مبتلا نظر آتا۔ لیکن امر واقع یہ ہے کہ انسان اپنی آغاز حیات میں آبادی کے پھیلنے کے باوجود بھی ایک امت اور ایک گروہ تھا۔ جن میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ کسی کا مذہب کچھ ہوتا اور کسی کا کچھ ‘ کوئی کسی کی پوجا کرتا اور کوئی کسی کی ‘ بلکہ تمام انسان اپنے بنیادی خیالات ‘ اپنے رب کی معرفت اور اپنے مقصد زندگی کے شعور میں بالکل یکساں تھے۔ اور دوسری یہ بات کہ انسانوں میں جو وحدت کا شیرازہ بکھرا ہے اور اختلاف کی نئی نئی صورتیں پیدا ہوئی ہیں یہ بعد کی بات ہے۔ یہاں اگرچہ اس اختلاف کا ذکر نہیں ہے ‘ لیکن قرآن کریم کے اسلوب کے شناسا لوگ یہاں فَاخْتَلَفُوْاکے لفظ کو محذوف مانتے ہیں۔ اور اس کی دلیل خود اس آیت کے اندر موجود ہے۔ اور قرآن کریم میں دوسری آیات میں بھی اس کے شواہد موجود ہیں۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ اس کی بہت ساری خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ” ایجاز “ بھی ہے۔ اس لیے اگر ایک لفظ ایک آیت کریمہ میں آجاتا ہے اور اسی آیت میں دوسری جگہ کی ضرورت کو پورا بھی کرتا ہے تو پھر اس لفظ کا تکرار نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ یہ اصول فصاحت و بلاغت کے خلاف ہے۔ اس آیت کریمہ میں اگلی ہی سطر میں فرمایا گیا ہے لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ یہاں اس لفظ کو ذکر کرنے کی وجہ سے آیت کے آغاز میں اس کو حذف کردیا گیا ہے۔ اور جہاں تک قرآنی شواہد کا تعلق ہے سورة یونس میں ارشاد فرمایا گیا ہے وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلاَّ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ فِیْمَا ھُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ” سب آدمی ایک ہی امت تھے ‘ پھر آپس میں اختلاف پڑگیا اور اگر اللہ تعالیٰ کا یہ ازلی فیصلہ نہ ہوتا کہ (اس عالم دنیا میں حق و باطل ‘ کھرا کھوٹا ‘ سچ اور جھوٹ ملے جلے چلیں گے) تو قدرت الٰہیہ ان سب جھگڑوں کا ایسا فیصلہ کردیتی کہ حق سے اختلاف کرنے والوں کا نام ہی نہ رہتا۔ “
سورة انبیاء میں ارشاد ہے اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ ” یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا رب ہوں اس لیے سب میری ہی عبادت کرتے رہو۔ “
اسی طرح سورة مومنون میں فرمایا اِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ ” یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا رب ہوں اس لیے مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔ “
ان دلائل اور شواہد کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ انسان کی ابتداء حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوئی اور وہ اللہ کے نبی تھے۔ ان کی اولاد پھیلی تو جب تک شیطان کو گمراہی پھیلانے میں کسی حد تک کامیابی نہیں ہوئی اس وقت تک انسانی جماعت اور امت میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ پھر شیطانی کارگزاری کے نتیجے میں انسانوں میں اختلافات پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے انبیائِ کرام کو مبعوث فرمایا۔ اور اس بات کو تسلیم کرنے میں تو کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ کے نبی انسانوں کے ان اختلافات کو جن کا تعلق انسانی احساسات مفادات اور مزاجوں سے ہے ختم کرنے کے لیے تشریف نہیں لاتے۔ وہ تو ان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے آتے ہیں جو دین اور شریعت کے حوالے سے پیدا ہوتے ہیں۔ توحید میں شرک کی آمیزش کی جاتی ہے ‘ اللہ کے آستانے کے ساتھ ساتھ دوسرے آستانے بنا لیے جاتے ہیں ‘ اللہ کی غیر مشروط اطاعت کرنے سے انحراف کیا جاتا ہے یا اس اطاعت میں اور قوتوں کی اطاعت شامل کرلی جاتی ہے ‘ عبادتیں بےروح ہوجاتی ہیں ‘ حقوق و فرائض کا تصور اور احساس دھندلا جاتا ہے اور انسانی زندگی اللہ کے راستے سے منحرف ہونے لگتی ہے تو دوبارہ اسے اللہ کے راستے پر ڈالنے ‘ صراط مستقیم پر چلانے ‘ توحید کو خالص اور بےمیل بنانے اور انسانوں میں ظلم اور حق تلفی ختم کرنے کے لیے اللہ کے نبی تشریف لاتے ہیں۔ ہمارے نام نہاد دانشوروں نے اختلاف کو جن دائروں میں تقسیم کر رکھا ہے یہاں مقصود وہ اختلاف نہیں بلکہ وہ اختلاف ہے جو بندے کو بندگی سے محروم کردیتا ہے۔ اور بندہ اپنے اللہ کے آستانے سے دور ہٹ جاتا ہے۔
انبیائِ کرام کی دعوت کے دو مقاصد
مزید فرمایا کہ ہم نے جو انبیائِ کرام کو بھیجا تو ان کے پیش نظر دو مقاصد تھے نمبر ایک تبشیر اور نمبر دو انذار۔ ان کی دعوت کی اصل روح صرف یہ تھی کہ لوگو ! تمہیں اللہ کی بندگی اور اطاعت کرنی چاہیے۔ اور اگر تم واقعی اسی کی بندگی اور اطاعت کرتے ہو تو ہم تمہیں دنیوی اور اخروی کامیابیوں کی بشارت دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے دنیا میں تمہیں اس راستے میں تکلیفیں اٹھانی پڑیں اس لیے کہ شیطانی جتھے آسانی سے تمہیں اس راستے پر چلنے نہیں دیں گے اور کوئی بڑی بات نہیں کہ تم اس راستے میں قربان ہوجاؤ۔ لیکن جہاں تک اخروی کامیابی کا تعلق ہے وہ صرف تمہارے لیے ہے۔ تمہیں اللہ تمہارے ایمان و عمل پر جنت عطا کرے گا ‘ اپنی خوشنودی سے نوازے گا ‘ جنت میں اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا اور دنیا کے چند سالہ ایمان و اطاعت کے بدلے میں وہ اخروی نعمتیں نصیب ہوں گی جن کا نہ تمہارے دل و دماغ میں کبھی خیال گزرا ‘ نہ تمہاری آنکھوں نے کبھی انھیں دیکھا اور نہ تمہارے کانوں نے کبھی انھیں سنا۔ ایک مومن فرد اور ایک مومن جماعت کو بعض دفعہ دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابوں سے بھی نوازا جاتا ہے۔ لیکن ایک مومن کے لیے حقیقی خوشی اور بشارت جنت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی بشارت ہے۔ یہی وہ بشارتیں تھیں جس پر اہل ایمان ہمیشہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار رہتے تھے۔ اور آج بھی جو لوگ جان و تن کی آزمائش سے کامیابی سے گذرتے ہیں ان کے سامنے بھی جنت کی نعمتوں اور اللہ کی خوشنودی کے حصول کے سوا کوئی اور ہدف نہیں ہوتا۔ یہی ایک مومن کی اصل معراج تھی۔ افسوس یہ ہے کہ آج ہمارے نیک لوگ بھی اس حقیقی ہدف سے دور ہٹ گئے ہیں۔
پیغمبروں کا دوسرا کام انذار ہے۔ یعنی وہ دنیا کو اس بات سے ڈراتے ہیں کہ اگر تم اللہ اور رسول ﷺ کی دعوت پر ایمان نہیں لائو گے تو پھر یاد رکھو تمہیں جہنم سے واسطہ پڑے گا۔ اللہ کا غضب تم پر بھڑکے گا۔ جس کا غضب ساری کائنات کو ایک آن میں بھسم کرسکتا ہے۔ اور کوئی بڑی بات نہیں کہ تم دنیا میں ہی اس کے غضب کے مستحق ہو کر عذاب کا شکار ہوجاؤ۔ کتنی قومیں اللہ کے غضب کا شکار ہوئیں اور دنیا سے نیست و نابود کردی گئیں۔ اور قیامت کے دن تمہیں جب اس کے غضب اور ناراضگی سے واسطہ پڑے گا تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ تم کتنی بڑی غلطی کرچکے ہو۔ چناچہ اللہ کی بےپایاں عظمت اور اس کی ناراضگی کا ہولناک انجام جیسے جیسے انسانوں کے دل و دماغ میں اترتا جاتا ہے ویسے ویسے اللہ سے ان کا تعلق مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ وہ ہر برے عمل سے بچتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ برے عمل کے نتیجے میں اللہ کی ناراضگی پیدا ہوتی ہے اور ہر نیک عمل کی طرف لپکتے ہیں کیونکہ خوب سمجھتے ہیں کہ اسی کے نتیجے میں وہ حقیقی کامیابی نصیب ہوسکتی ہے جس کا تصور بھی دنیا میں ایک مومن کے لیے سب سے بڑی متاع ہے۔ ہم صحابہ کرام ( رض) اور بعض مجاہدین کے جو اس طرح کے واقعات پڑھتے ہیں کہ شدید بھوک میں انھیں کھانے کے لیے چند کھجوریں ملیں ‘ کھجوریں کھاتے ہوئے دیکھا کہ سامنے معرکہ کارزار برپا ہے تو خیال ہوا کہ اگر اس معرکے میں میں کام آگیا تو یقینا اللہ تعالیٰ مجھے جنت عطا فرمائیں گے ‘ جنت کی نعمتوں کا تصور کر کے اس نے کھجوریں اٹھا کر پھینک دیں اور کہا ” یہ کھجوروں کا ختم کرنا لمبی مدت ہے۔ کون اتنی مدت تک جنت سے دور رہے۔ “ چناچہ یہ کہہ کر برستی ہوئی تلواروں میں جا گھسے ‘ دادِ شجاعت دیتے ہوئے جان اللہ کے حوالے کردی اور جنت میں جا پہنچے۔ سید احمد شہید (رح) کے ساتھیوں میں ایک شخص کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ شدید بھوکا ہونے کی وجہ سے اسے تھوڑے سے چاول اور دودھ ملا تو اس نے اینٹوں کا چولہا بنا کر اس پر کھیر بنانا شروع کردی۔ اور لکڑی لے کر اس کو ہلانے لگا اور سامنے پہاڑ کی طرف دیکھا کہ دشمن گولیاں برساتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ اپنے آپ کو خطاب کر کے کہنے لگا ” دیکھ سامنے جنت سے حوریں اشارہ کر رہی ہیں کہ جلدی پہنچو ہم تمہاری منتظر ہیں۔ “ کہا ” میں کھیر پکانے اور کھانے میں وقت ضائع کروں گا تو جنت میں پہنچنے میں تاخیر ہوجائے گی۔ بھوکا رہنا منظور ہے لیکن یہ تاخیر گوارا نہیں۔ “ چناچہ لڑتے ہوئے جان دے دی اور اپنی منزل پر جا پہنچا۔ اللہ کے نبیوں کی دعوت ان دو بنیادوں پر اٹھائی جاتی ہے۔ لیکن ہماری دینی تنظیموں اور ہمارے مبلغین نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے دنیوی اسلامی برکات کے مضمون کو اس کثرت سے بیان کرنا شروع کیا کہ دنیوی برکات مقصد ہو کر رہ گئیں اور جنت کا جان افزا و روح پرور تصور پس پشت چلا گیا۔
اس کے بعد آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے ان نبیوں پر کتابیں اتاریں اور ان کی دینی ضرورت کے مطابق وہ تمام حقائق ان پر کھولے جن میں وہ اب تک اختلاف کر رہے تھے اور صراط مستقیم کی ایک ایک ضرورت اور نزاکت کو واضح کیا۔ جن کو کھو دینے کے باعث انسان گمراہی کے راستے پر پڑگئے تھے۔ انھوں نے عقائد ‘ احکام اور معاملات میں اپنی طرف سے اختلاف کے جو راستے نکالے ہیں ان کی حقیقت ان پر واضح فرمائی۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ اختلاف کرنے والے اس راہنمائی سے فائدہ اٹھا کر اپنے اختلافات سے تائب ہوجاتے اور انبیائِ کرام کی دینی راہنمائی کو قبول کر کے صراط مستقیم پر چل نکلتے انھوں نے یکسر اس ہدایت کو ماننے سے انکار کردیا۔ انبیائِ کرام نے اپنی دعوت کی ایک ایک بات اور کتابوں کے بیان کردہ ایک ایک حکم پر دلائل فراہم کیے۔ ان کے تمام اشتباہات کو ایک ایک کر کے حتم کرنے کی کوشش کی اور ان کے ایمان کی پختگی یا ایمان کی آسانی کے لیے معجزات بھی دکھائے۔ لیکن جن مخالفین کو ایمان نہ لانا تھا وہ کسی طرح بھی اپنی جگہ سے ہلنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اور یہ بات انسانی زندگی کے قرون اولیٰ ہی کی نہیں ‘ بلکہ ہر دور کی کہانی ہے۔ کیونکہ انسانوں نے ہدایت و ضلالت کا جتنا سفر بھی کیا ہے اس میں ہر جگہ یہی حقیقت کارفرما دکھائی دیتی ہے کہ انسانوں کا بگاڑ جب حد سے بڑھا تو اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول بھیجے۔ انھوں نے اپنی دلآویز شخصیت ‘ بےعیب کردار ‘ دل میں اتر جانے والے دلائل اور گنگ کردینے والے معجزات سے اپنی دعوت کو موثر بنایا۔ لیکن ان تمام بےپناہ مساعی کے باوجود ایمان نہ لانے والوں کو راہ راست پر نہ لایا جاسکا۔ تاریخ مذاہب کا طالب علم اس صورت حال کو دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے کہ آخر یہ راز کیا ہے ؟ کسی بات کو سمجھنے اور ماننے کے لیے علمی دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ایسے حقائق کو تسلیم کرنے کے لیے جو حواس اور عقل سے ماورا ہوں ایک ایسے مخبر ‘ راہنما اور ہادی کی ضرورت ہوتی ہے جس نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور جس کی سیرت و کردار میں کوئی جھول نہ ہو۔ لیکن جب یہ تمام ضرورتیں پوری ہوجائیں تو اسے مان کر نہ دینا یہ وہ سوال ہے جس کا کوئی جواب سمجھ نہیں آتا۔
انسانی گمراہی کا اصل سبب بَغْیًا م بَیْنَھُمْ
یہاں پروردگار نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا بَغْیًا م بَیْنَھُمْ ” آپس کی ضد کی وجہ سے “ یعنی ان کا ایمان نہ لانا کسی دلیل کی کمزوری یا دعوت کی نارسائی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس کا صرف ایک ہی سبب تھا کہ یہ لوگ جس گروہی انانیت اور عصبیت میں مبتلا تھے اور جس تفاخر کے مرضـ کا شکار تھے وہ انھیں پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے نہیں دیتا تھا۔ ابو جہل نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات کہی کہ میں محمد ﷺ کو جھوٹا نہیں کہتا۔ مجھے معلوم ہے کہ انھوں نے جھوٹ کبھی نہیں بولا ‘ لیکن مشکل یہ ہے کہ بنی ہاشم بھی ہماری طرح ایک قبیلہ ہے۔ ہم نے ہمیشہ ان سے برابری کے لیے بڑھ چڑھ کر کارنامے سر انجام دیئے۔ انھوں نے شجاعت کی داستانیں رقم کیں تو ہم نے بھی کیں۔ انھوں نے سخاوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں ‘ انھوں نے حاجیوں کی خدمت کی تو ہم نے بھی کی ‘ انھوں نے بیت اللہ کے حقوق ادا کیے تو ہم نے بھی کیے۔ اب جب کہ ہم ان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوگئے ہیں تو وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ ہمارے خاندان میں نبوت آگئی ہے۔ اب اگر ہم ان کے نبی کو تسلیم کرلیں تو یہ ایک ایسا اعزاز اور امتیاز ہے جس میں ہم ان کے کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم خاندانی طور پر ان کی برابری کرنے سے محروم ہوگئے اور یہ بات میں کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔
بنی اسرائیل باوجود اس کے کہ حامل کتاب تھے ‘ صدیوں تک ان میں نبیوں کی تشریف آوری جاری رہی ‘ ان میں بڑے بڑے تعلیمی ادارے اور بڑے بڑے علماء موجود تھے۔ باایں ہمہ یہ واحد گروہ ہے جنھوں نے من حیث القوم اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ کیا تھی ؟ ہم مفروضوں پر بات نہیں کرتے۔ قرآن کریم کہتا ہے حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ ” ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو بغض اور حسد ہے وہ انھیں اسلام قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حضرت صفیہ ( رض) جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو میرے والد اور میرے چچا آپ ﷺ سے ملنے کے لیے گئے۔ دن بھر وہاں رہے ٗ آپ کو خوب جانچا پرکھا ‘ شام کو گھر پہنچے تو تخلیہ ہوتے ہی میرے چچا نے والد سے پوچھا کہ ” بھائی آپ کا اس نبوت کے دعویدار کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ “ والد نے کہا ” یہ یقینا اللہ کے وہی نبی ہیں جس کا ذکر ہماری کتابوں میں کیا گیا ہے۔ “ چچا نے پوچھا ” پھر اب کیا ارادہ ہے ؟ “ حضرت صفیہ فرماتی ہیں کہ میرے والد نے کہا ” جب تک جان میں جان ہے میں اس کی بات نہیں چلنے دوں گا اور ہر طرح سے اس کی مخالفت کروں گا۔ “ ان واقعات سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ گروہی انانیت اور عصبیت اس قدر بڑی بلا ہے کہ جو قوم اس کا شکار ہوجاتی ہے اس کے لیے بڑی سے بڑی حقیقت کو بھی تسلیم کرنا آسان نہیں رہتا۔ قرآن کریم نے ہر دور کی ہر قوم کے حوالے سے یہ ایک مستقل حقیقت بیان کی ہے جس نے لوگوں کو ہمیشہ حق کو قبول کرنے سے محروم رکھا۔ آج بھی مسلمان جس صورت حال سے دوچار ہیں اور اس کا سلسلہ آج شروع نہیں ہوا بلکہ اسلام کی آمد سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ البتہ صلیبی جنگوں نے اس میں تیزی پیدا کردی۔ اسلام کی ظاہری ‘ معنوی اور روحانی قوت نے ہمیشہ یہود و نصاریٰ کو اسلام دشمنی میں پوری طرح غالب نہیں آنے دیا۔ لیکن جہاں تک ان کے اندر کے مرض کا تعلق ہے وہ ہر دور میں یکساں رہا۔ ساری دنیا نے اسلام کی برکات سے فائدہ اٹھایا لیکن یہود بالخصوص اور نصاریٰ بالعموم اپنی گروہی انانیت اور قومی عصبیت کا بری طرح شکار رہے اور مزید رنگ و نسل کے تفاوت نے انھیں ناقابلِ شفا مریض بنادیا۔ آج امریکہ اور پورا یورپ جس طرح پوری قوت سے مسلمانوں کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے اس میں حقیقی اسباب کا تو نام و نشان موجود نہیں۔ مصنوعی اسباب پیدا کیے جاتے ہیں ‘ پھر ان کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اور پھر مسلمانوں کو نشانے پر رکھ لیا جاتا ہے۔ اقبال مرحوم نے چونکہ کہ اہل کتاب کو یورپ کے اندر رہ کر بڑی گہری نظر سے دیکھا اور ان کے فلسفے اور ان کی تہذیب کی بنیادوں کو سمجھنے کی کوشش کی اس کی رائے اس معاملہ میں ممکن ہے انتہا پسندی کہا جائے لیکن میرا ناقص خیال یہ ہے کہ خلاف واقعہ ہرگز نہیں۔ اس نے کہا تھا ؎
کرے قبول اگر دین مصطفیٰ انگریز
سیاہ روز مسلماں رہے گا پھر بھی غلام
مسلمانوں کو اپنی حیثیت کے ادراک کی ہدایت
آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا کہ پہلی امتوں کی تاریخ اپنے اتمام کو پہنچ گئی۔ اب تاریخ کا رشتہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے اہل کتاب چاہے کیسی ہی نسلی اور مذہبی برتری کا شکار رہیں ہم نے انھیں ہدایت کے سرچشمے سے بالکل محروم کردیا ہے اور اب مسلمانوں کو ان تمام حقائق کی ہدایت سے بہرہ ور فرمایا ہے جس میں دنیا ہمیشہ اختلاف کرتی رہی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری اور قرآن حکیم کے نزول سے وہ آخری ہدایت اور آخری شریعت مسلمانوں کے سپرد کی جا رہی ہے جو قیامت تک کے انسانوں کے لیے منارہ نور بنی رہے گی۔ اب نیا نبی اور نئی کتاب تو کوئی نہیں آئے گی۔ لیکن ہدایت کی تمام ضرورتیں قیامت تک اسی کتاب سے پوری ہوں گی اور آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ ہر دور کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا۔ اس لیے مسلمانوں کو اپنی خصوصی حیثیت کو سمجھ کر اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے کہ انھوں نے اگر پہلی امتوں کی طرح اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی تو نہ صرف یہ کہ وہ خود ہدایت سے محروم رہ جائیں گے بلکہ پوری نوع انسانی کی ہدایت کی جو عظیم ذمہ داری ان پر ڈالی گئی ہے اس کے ادا نہ کرنے کا وبال بھی ان پر پڑے گا۔ البتہ ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ پوری دنیا کو ہدایت دینا اور ان کی دینی ضرورتوں کو پورا کرنا اور اس کے لیے ان کے سامنے دعوت پیش کرنا یہ کوئی آسان کام نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے جب تک مکہ میں یہ کام کیا تو کوئی ایسی اذیت اور تکلیف ایسی نہیں جس کا ہدف آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور مسلمانوں کو نہ بنایا گیا ہو۔ پھر اسی ذمہ داری کے ساتھ جب ہجرت کر کے آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مدینے کی سرزمین ایک بھٹی کی طرح سلگ اٹھی۔ وہاں کے اہل کتاب اور منافقین نے ہمیشہ آپ ﷺ کو پریشان رکھا۔ اور مکہ والوں نے بیسیوں جنگوں میں آپ ﷺ کو آنے پر مجبور کیا۔ اسلامی دعوت کی تاریخ کے یہ وہ لازمی ابواب اور وہ ناگزیر سنتیں ہیں جن سے ہر دور میں مسلمان گزرتے رہے ہیں اور جب بھی دعوت الیٰ اللہ کا کام کیا جائے گا تو انہی جاں گسل مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو واضح ہدایات دی جا رہی ہیں۔
آیت کریمہ کے آخر میں باذنہ کا لفظ اور بعد کا جملہ خصوصی توجہ چاہتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس میں روئے سخن شاید اہل کتاب کی طرف ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس نبوت کی دعوت دے رہے ہیں اور جس کتاب کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں یہ آپ ﷺ کی ذاتی پسند نہیں اور نہ آپ ﷺ اس کے موجد اور مصنف ہیں اور نہ یہ ذمہ داری آپ ﷺ نے خود سے اختیار کی ہے۔ بلکہ اس ذمہ داری کے پیچھے اللہ کا حکم ‘ اس کا اذن ‘ اس کی توفیق اور اس کا اختیار کارفرما ہے۔ اس لیے اہل کتاب اگر آنحضرت ﷺ کی دعوت کا انکار کریں یا آپ ﷺ پر تنقید کریں تو انھیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی مخالفت اور تنقید کا ہدف کون ہے ؟ مزید فرمایا کہ اہل کتاب کو ساری ناراضگی یہ ہے کہ اللہ نے نبوت کی دولت آل اسماعیل کو کیوں عطا کی۔ یہ تو ہمارا نسلی اور نسبی حق تھا جو ہم سے چھین لیا گیا۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ نبوت اور ہدایت کا کلی اختیار باقی تمام اختیارات سمیت اللہ کے پاس ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ تمہیں آخر یہ اعتراض کرنے کا حق کس نے دیا ہے ؟
Ayah 2:214اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ ط مَسَّتْھُمُ الْبَاْسَآئُ وَالضَّرَّآئُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُاللّٰہِ ط اَلآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔
(کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تمہیں ان حالات سے سابقہ پیش نہیں آیا جن سے تمہارے اگلوں کو پیش آیا۔ ان کو آفتیں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ اس قدر جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب نمودار ہوگی ؟ بشارت ہو کہ اللہ کی مدد قریب ہے) (214)
مسلمانوں کی منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی قربانی کی طالب ہے
مسلمانوں کو ایک عظیم منصب اور کٹھن ذمہ داری سپرد کرنے کے بعد یہ آگاہی دی جا رہی ہے کہ تمہیں جس منصب پر فائز کیا جا رہا ہے اس کی ذمہ داریاں آسانی سے ادا ہونے والی نہیں ہیں۔ اس میں تمہیں اپنی ذات کو بدلنا ہے ‘ اپنے معاملات کی تطہیر کرنی ہے ‘ جس معاشرے میں شب و روز رہتے ہو ‘ اس کی اصلاح کا فرض انجام دینا ہے ‘ جس قوم کے تم فرد ہو اس سے کہیں کٹنا ہے اور کہیں جڑنا ہے ‘ اندھیرے تمہارے راستوں میں قدم قدم پر حائل ہوں گے لیکن تمہیں مشعل حق کو نہ صرف کہ بجھنے نہیں دینا بلکہ اس کی لو کو مدھم بھی نہیں ہونے دینا۔ حق سے وابستگی تمہیں اہل زمانہ سے بالکل الگ کر دے گی ‘ تمہیں اپنا ایک الگ گروہ اور برادری بنا کر رہنا ہے جس کی بنیاد صرف اللہ اور اس کے رسول کا تعلق ہے۔ ممکن ہے یہ کشمکش اس حد تک بڑھے کہ جان و تن کی قربانی کا سوال پیش آجائے اس میں اپنے آپ کو کٹوانا بھی ہے اور اپنے قریبی غیر مسلم عزیزوں کی گردنوں پر چھری چلانی بھی ہے۔ ایک ایسی زندگی ہے کہ اس میں قدم قدم پر ایثار اور قربانی کے تقاضوں کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور یہی قربانیاں ہیں جو ایک دن کامیابی کی مہک دیں گی۔ اور اسی کے نتیجے میں وہ برگ و بار پیدا ہوں گے جس سے روحانیت کی بہار آئے گی۔ اور یہی وہ دنیا ہے جس کے نتیجے کے طور پر آخرت کی نعمتیں میسر آئیں گی۔ ان تمام باتوں کا احساس انسان کو وہ حوصلہ اور توانائی عطا کرتا ہے جس کے بعد وہ اس کٹھن وادی کا مسافر اور اس قافلہ حق کا ہمراہی بنتا ہے۔ اور پھر اپنی جانفروشی اور جانثاری سے آگے بڑھتا ہوا کامیابی سے تمام مراحل سر کرتا ہے۔ چناچہ ان تمام باتوں کو پس منظر میں رکھتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں آئے جو پہلے لوگوں پر گزرتے تھے۔ یعنی جنت تمہاری منزل ہونی چاہیے۔ لیکن وہ منزل اتنی سستی نہیں کہ جو محض ایمان لانے اور خواہش کرنے سے مل جائے۔ اس کے لیے تمہیں ان تمام مراحل سے گزرنا ہوگا جس کا تذکرہ ہم نے ابھی کیا ہے۔ اور یہ اللہ کی ایسی لازمی سنت ہے کہ جب بھی کوئی اللہ کا رسول کسی قوم کی طرف مبعوث ہوا ہے اس رسول پر اور اس پر ایمان لانے والوں پر وہ قیامت یں گزری ہیں جو تاریخ مذاہب میں آج بھی جلی عنوانوں سے لکھی جاتی ہیں۔ نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے صدیوں تک ستائے گئے ‘ ابراہیم (علیہ السلام) کیسے کیسے جانگسل مراحل سے گزرے۔ گھر چھوٹا ‘ وطن بدر کیے گئے ‘ مختلف ملکوں کی خاک چھانی ‘ نہ جانے اس شب و روز کے سفر میں جان و تن پر کیا گزری ‘ جب اپنوں نے برداشت نہ کیا تو غیروں نے کیا برداشت کیا ہوگا۔ اللہ نے بڑھاپے میں اولاد دی تو ایک وقت آیا جب کہ ماں بیٹے دونوں کو وادی غیرذی ذرع میں چھوڑ آنے کا حکم ہوا۔ ایک دل درد مند رکھنے والے کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا آزمائش ہوسکتی ہے۔ لیکن چند ہی سالوں بعد اسی اکلوتے بیٹے کی قربانی مانگ لی گئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر کیا کیا مصیبتیں نہ گذریں۔ نبوت سے پہلے بھی غریب الوطنی کی آزمائش میں ڈالے گئے اور نبوت کے بعد ایک ایسے دشمن خدا سے واسطہ پڑا جسے اپنے تخت و تاج ‘ ملک کی وسعتوں اور بیشمار فوجوں کی قوت پہ ناز تھا۔ اس نے کس کس طرح آپ کے حوصلوں اور آپ کے عزائم کا قدم قدم پر امتحان لیا۔ پھر صحرائے سینا میں خود ایک ایسی قوم کی تربیت کے ذمہ دار بنائے گئے جن کے اندر غلامی کی طویل رات نے کوئی خوبی باقی نہ رہنے دی تھی۔ چالیس سال تک اسی صحرا میں مختلف صعوبتوں کا سامنا کرتے ہوئے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ حق کے راستے میں قربانیوں کا یہ سفر اس قدر طویل ہے کہ جسے تاریخ بھی پوری طرح محفوظ نہیں رکھ سکی۔ کتنے ایسے انبیاء گذرے ہیں جنھیں زندہ دیواروں میں چن دیا گیا ‘ اندھے کنوئوں میں لٹکا دیا گیا ‘ بھوک کی اذیت میں مبتلا کیے گئے ‘ پہاڑوں کی غاروں میں چھپ کر جان بچانی پڑی۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسے مقدس پیغمبر کا سر کاٹ کر بادشاہِ وقت نے محبوبہ کے سامنے پیش کیا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس قدر سازشوں میں مبتلا کیے گئے حتیٰ کہ یہود نے اپنے طور پر انھیں صلیب پر لٹکا دیا۔ یہ تو تاریخ کے وہ ابواب ہیں جن سے دنیا واقف ہے۔ اس کے علاوہ اس داستان کے کتنے گوشے ہیں جو وقت کی گرد میں ڈوب گئے۔ لیکن ان سے پھوٹنے والی روشنی ہمیشہ دنیا کو منور کرتی رہے گی۔ اس پوری تاریخ کو سمیٹ کر مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم جس عظیم کام کے لیے اٹھے ہو تمہارے سامنے یہ پوری تاریخ رہنی چاہیے تاکہ جب تم ان مراحل میں مبتلا کیے جاؤ تو تمہارے عزائم میں کمزوری نہ آنے پائے۔ اس کی بہترین وضاحت حضرت خباب ( رض) کے واقعہ سے ہوگی کہ ایک روز حضرت خباب ( رض) کو بےپناہ اذیتوں سے گذارا گیا ‘ جلتے کوئلوں پر لٹایا گیا ‘ گلیوں میں گھسیٹا گیا ‘ تشدد کی انتہا کردی گئی ‘ جب جان چھوٹی تو آپ ( رض) آنحضرت ﷺ کو تلاش کرتے ہوئے مسجد حرام میں پہنچے۔ دیکھا حضور ﷺ صحن کعبہ میں موجود ہیں۔ سلام کہہ کر بیٹھے تو ضبط کا یارا نہ رہا۔ بےساختہ آنسو جاری ہوگئے۔ ایک بچہ جس طرح شدید تکلیف میں اپنے ماں باپ سے شکایت کرتا ہے آپ ( رض) نے بھی آنحضرت ﷺ سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکار ! مصیبتوں کی انتہا ہوگئی ‘ اب تو برداشت جواب دیتی جا رہی ہے ‘ آپ ان بدبختوں کے لیے بددعا کیوں نہیں فرماتے کہ اللہ ان پر اپنا عذاب نازل فرمائے۔ یہ بات سن کر آنحضرت ﷺ کا چہرہ مبارک غصے سے تمتمانے لگا ‘ آپ ﷺ نے فرمایا ” خباب ! تم سے پہلے ایسے لوگ گذر چکے ہیں جنھیں اسلام لانے کی پاداش میں تم سے زیادہ اذیتیں پہنچائی گئیں۔ لوہے کی کنگھیوں سے ان کی ہڈیوں سے م اس نوچ ڈالا گیا لیکن انھوں نے شکایت نہ کی۔ خباب تم جلدی کر رہے ہو۔ وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالیٰ صورت حال تبدیل فرمادیں گے ‘ اسلام کو عمومی غلبہ ملے گا۔ آج جب کہ تمہیں ایک وقت کھانے کو ملتا ہے تو دو وقت فاقہ کرتے ہو۔ وہ وقت قریب آرہا ہے جب کہ مسلمان زکوٰۃ کا مال جھولیوں میں ڈال کر زکوٰۃ لینے والوں کو تلاش کریں گے۔ لیکن انھیں زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ملے گا۔ ایک مسافر تنہا اونٹ پر ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کرے گا لیکن راستے میں کوئی اسے میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کرے گا۔ لوگ سونا اچھالتے ہوئے نکل جائیں گے لیکن کوئی ان سے چھیننے کی حماقت نہیں کرے گا۔ اللہ کی حاکمیت پورے جزیرہ عرب پر غالب آجائے گی۔ اور یہ پھل ہوگا تمہاری ان محنتوں اور قربانیوں کا جن سے آج تم گذر رہے ہو۔ استقامت سے اس راستے پر چلتے رہو اور اللہ سے شکایت کرنے میں جلدی نہ کرو۔ یہی بات اس آیت کریمہ میں فرمائی جا رہی ہے کہ اس راستے میں آنے والی مشکلات تو اس راستے کی سنتیں ہیں جس طرح زمین کا سینہ اگر نہ چیرا جائے تو زمین سے روئیدگی نہیں پھوٹتی اور درخت کی ٹہنیاں نہ کاٹی جائیں تو نئے شگوفے نہیں نکلتے۔ اسی طرح حق کی گواہی کے لیے جب تک خون نہ بہے ‘ قربانیاں نہ دی جائیں اس وقت تک حق برگ و بار نہیں لاتا اور اللہ کی تائید و نصرت نازل نہیں ہوتی۔ رہی یہ بات کہ اس تائید و نصرت کے نازل ہونے کا وقت کونسا ہوتا ہے ؟ اسے یوں تو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن قرائن سے اسے کسی نہ کسی حد تک سمجھا ضرور جاسکتا ہے۔ اور اسباب کی دنیا میں اللہ کا جو قانون کارفرما ہے اسے دیکھتے ہوئے فی الجملہ ادراک بھی کیا جاسکتا ہے۔ دیگچی میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھ دیجئے پانی اس وقت تک نہیں ابلے گا جب تک مطلوب حرارت اسے نہیں پہنچے گی۔ ایثار و قربانی اور ایمان و اخلاص یہ وہ آگ ہے جس سے حق کی ہنڈیا ابلتی ہے۔ جب تک قافلہ حق کے لوگ اپنی ایک ایک صلاحیت اس راستے میں نچوڑ نہیں دیتے اللہ کی تائید ونصرت نہیں آتی۔ حدیبیہ کے موقع پر جب پانی ختم ہوگیا ‘ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے دعا کی درخواست کی ‘ آپ ﷺ نے اس انصاری کو مشکیزہ لانے کے لیے کہا جس میں آنحضرت ﷺ کے لیے پانی رکھا جاتا تھا۔ آپ ﷺ نے ایک پیالہ منگوا کر اس میں اپنا دست مبارک رکھا اور فرمایا یہ مشکیزہ اس پر الٹ دو ۔ اس میں پانی کے چند قطرے جو باقی رہ گئے تھے جیسے ہی آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں پر ٹپکے تو آپ ﷺ کی پانچوں انگلیوں سے پانچ فوارے پھوٹے۔ لوگوں نے اپنی ضرورت کے لیے پانی بھرنا شروع کیا۔ ڈیڑھ ہزار آدمی نے پیا ‘ جانوروں کو پلایا ‘ مشکیزے بھرے ‘ لیکن جب تک آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پیالے سے نہیں اٹھایا ‘ پیالہ پانی سے ابلتا رہا۔ یہ آپ ﷺ کے ہاتھ سے فواروں کا پھوٹنا اور پانی کا پھیل جانا آپ ﷺ کی دعا کا ثمر اور اللہ کی تائید و نصرت تھا۔ لیکن اس کے لیے مشکیزے سے پانی کے آخری قطرے بھی نچوڑ لینا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جب تک تم اپنے جسم و جان کے آخری قطرے بھی اللہ کے راستے میں نہیں نچوڑو گے اس وقت تک اللہ کی تائید نہیں آئے گی۔ اور جب ایسا کرو گے تو پھر تائید آنے میں ہرگز دیر نہیں ہوگی۔
بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں
وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُاللّٰہِ میں متذکرہ بالا حقیقت کی طرف ہی اشارہ کیا گیا ہے۔ کہ مخالفین کی جانب سے اس قدر اذیتیں پہنچائی جاتی ہیں اور اس قدر زندگی دشوار کردی جاتی ہے کہ جب وہ پوری طرح ناقابل برداشت ہوجاتی ہے تو رسول اور ان پر ایمان لانے والے بھی پکار اٹھتے ہیں کہ کب آئے گی اللہ کی مدد ؟ اس سے ایک تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جو لوگ معمولی محنت ‘ معمولی قربانی اور ایثار کرنے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی انقلاب آجانا چاہیے انھیں اللہ کی اس سنت پر غور کرنا چاہیے کہ اسلامی انقلاب کا برپا ہونا سراسر اللہ کی تائید و نصرت پر منحصر ہے۔ مسلمانوں کے کسی گروہ میں از خود یہ طاقت کبھی نہیں ہوسکتی کہ اپنی مرضی سے اتنا بڑا کارنامہ انجام دے دے۔ اور اس کی تائید و نصرت اس وقت تک نہیں آتی جب تک مسلمان اسباب کی حد تک بےبسی کا شکار نہیں ہوجاتے۔ اور سب کچھ اس راستے میں جھونک نہیں دیتے۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ مَتٰی نَصْرُاللّٰہِسے ایک طرح سے رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کی جانب سے اللہ پر اعتماد میں کمزوری کا اظہار ہے۔ حالانکہ معمولی غور و فکر سے بھی کام لیا جائے تو عقل اس بات کی تائید نہیں کرتی۔ ایک بچے کو شدید بھوک لگی ہو وہ بار بار اپنی امی کو پکارتا ہے کہ مجھے بھوک لگی ہے مجھے کھانا دیا جائے۔ لیکن جب اس کی یہ بھوک ناقابل برداشت ہونے لگتی ہے تو وہ اپنی امی کو چھوڑ کر کسی اور کے پاس نہیں جاتا۔ البتہ اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔ پہلے وہ زبان سے کہتا تھا اب وہ اپنی ماں سے لپٹ جاتا ہے۔ پہلے وہ عام انداز میں کہتا تھا اب وہ چیخنے لگتا ہے۔ لیکن اس کی چیخ میں بھی احتجاج نہیں بلکہ ایک اعتماد ہے کہ امی آپ کا گھٹنا چھوڑ کر میں اور کہاں جاؤں تو آپ کی طرف سے عطا کرنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ؟ آپ دیں یا نہ دیں مجھے بہرصورت آپ ہی سے مانگنا ہے۔
قسم آستاں کی نہ اٹھیں گے ہرگز
یہیں دن چڑھے گا یہیں رات ہوگی
یہی کیفیت قافلہ حق کے سالار اور قافلہ حق کے شرکاء کی ہوتی ہے۔ جیسے جیسے مسائل بڑھتے جاتے ہیں ‘ ویسے ویسے ان کی دعائوں میں تیزی آتی جاتی ہے۔ ان کی عبادت میں کثرت پیدا ہوجاتی ہے ‘ آنکھوں سے برکھا پہلے سے زیادہ برستی ہے ‘ دل پہلے سے زیادہ پگھلنے لگتے ہیں ‘ پھر جب وہ بےساختہ مَتٰی نَصْرُاللّٰہِ کہتے ہیں تو ادھر سے جواب آتا ہے اَلاَ اِنَّ نَصْرَاللّٰہِ قَرِیْبٌ ” بشارت ہو کہ اللہ کی مدد قریب ہے۔ “ اس کے بعد کفر کے قلعے سرنگوں ہوجاتے ہیں اور قافلہ حق کے بےخانماں ‘ بےسروسامان ‘ بےبس اور بےکس لوگ وقت کی قوت کی علامت بن جاتے ہیں۔