2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsروح القرآن

Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

تو شیطان نے ان کو وہاں سے پھسلادیا اور ان کو نکلوا چھوڑا اس عیش و آرام سے جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کہ اتر جائوتم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔

فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِص وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّج وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ (البقرۃ : 36) (تو شیطان نے ان کو وہاں سے پھسلادیا اور ان کو نکلوا چھوڑا اس عیش و آرام سے جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کہ اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے ) حضرت آدم (علیہ السلام) کے گناہ کی حقیقت اور معصوم ہونے کا مفہوم درخت کے قریب نہ جانے کا حکم دے کر اللہ نے حضرت آدم اور حضرت حوا کی جو آزمائش کی تھی وہ اس میں ناکام ہوگئے اور اس ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنت چونکہ فرمانبرداری کے نتیجے میں ملتی ہے نافرمانی کی صورت میں نہیں اس لیے نافرمانی پر حضرت آدم اور حضرت حواکو وہاں سے نکلنے کا حکم دے دیا گیا۔ حضرت آدم پہلے انسان ہی نہیں پہلے پیغمبر بھی تھے، اس لیے یہ سوال پید اہوا کہ کیا پیغمبر اللہ کی نافرمانی کرسکتا ہے ؟ کیونکہ امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ ہر پیغمبر معصوم پیدا ہوتا ہے وہ کبھی اللہ کی نافرمانی یعنی گناہ کا ارتکاب نہیں کرتابعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گناہ صغیرہ اللہ کے نبیوں سے سرزد ہوسکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نبی کبیرہ اور صغیرہ ہر طرح کے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ اگر یہ عقیدہ واقعی صحیح ہے تو پھر حضرت آدم نبی ہوتے ہوئے بھی اس نافرمانی کے مرتکب کیسے ہوئے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نبی جان بوجھ کر عمداً اور ارادے کے ساتھ کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ وہ کبھی اللہ کا حکم بھول جائیں اور اس کے مخالف کام کربیٹھیں یا اللہ کا حکم کسی معاملے میں موجود نہ ہو، تو وہ اپنے اجتہاد سے کوئی ایسا کام کریں بعد میں وحی اس کے خلاف نازل ہو یا کسی شخص کی نیت سے آگاہ نہ ہونے کے باعث اس کی باتوں پر اعتماد کرکے ظاہر کے مطابق حکم دے دیں اور بعد میں اللہ کی جانب سے اس پر گرفت آئے اس طرح کی باتیں اللہ کے نبیوں سے سرزد ہوسکتی ہیں۔ قرآن کریم میں اس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ حضرت آدم کے واقعے کو دیکھئے قرآن کریم نے اگرچہ ان کی نافرمانی کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد فرمایا : عَصیٰ آدَمُ رَبَّہ ” آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی “ لیکن اس نافرمانی کے حوالے سے قرآن کریم نے جو تصریحات دی ہیں ان کو پیش نظر رکھیں تو دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اللہ کے کسی بھی پیغمبر سے اگر کسی ایسی لغزش کا صدور ہو جس میں شریعت کا کوئی حکم نہ ٹوٹے۔ البتہ نبوت کے مقام بلند کی نسبت سے اسے لغزش کہا جاسکتا ہو تو پروردگار بعض جگہ اسے گناہ سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ وہی کام اگر کوئی عام آدمی کرتا تو شاید اسے نیکی سمجھا جاتا لیکن جب وہی کام پیغمبر کرتا ہے تو اس کے رتبہ بلند کے باعث پروردگار اس پر گرفت فرماتے ہیں۔ کیونکہ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حکم کو کیسے بھول گئے ؟ لیکن اس طرح کی لغزشیں جنھیں زیادہ سے زیادہ خلاف اولیٰ یا اجتہادی غلطی کہا جاسکتا ہے۔ عصمت انبیاء کے خلاف نہیں ہوتیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہاں کہیں بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کے واقعہ کے سلسلے میں تصریحات کی گئی ہیں۔ ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس غلطی میں حضرت آدم کا ارادہ شامل نہ تھا۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا : فَنَسِیَ آدَمُ وَلَم نَجِدْ لَـہٗ عَزْماً ” آدم بھول گئے اور ہم نے ان میں ارادہ نہیں پایا “ یعنی جب حضرت آدم سے اس درخت کا پھل کھانے کا ارتکاب ہوا تو حضرت آدم نسیان کا شکار تھے۔ انھیں یاد ہی نہ رہا کہ مجھے اس درخت کا پھل کھانے سے روکا گیا ہے اور پروردگار جو دلوں کے بھید جانتا ہے وہ فرماتا ہے کہ آدم میں اس نافرمانی کا ارادہ موجود نہیں تھا اور ہم سب جانتے ہیں کہ بھول کر بےارادہ اگر آدمی کوئی گناہ کربیٹھے تو اس پر مواخذہ نہیں ہوتا اور بعض دفعہ اس فعل کا اعتبار ہی نہیں کیا جاتاآدمی روزے میں بھول کر کھا پی لے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ گہری نیند میں اگر نماز قضا ہوجائے تو اس کا مواخذہ نہیں ہوگا کیونکہ اس میں نماز چھوڑنے کا ارادہ نہیں پایا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے روکنے کے باوجود جب اس پھل کو کھالیا تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ بھول گئے اور ان کے اندر اللہ کی نافرمانی کا ارادہ موجود نہیں تھا۔ اس کا جواب پیش نظر آیت کریمہ میں موجود ہے اور دوسری آیات میں اس کی وضاحت ہے۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ آدم نے خود اس فعل کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ شیطان نے انھیں پھسلا دیا۔ سورة اعراف میں اس کی تفصیل موجود ہے کہ شیطان نے پہلا جال یہ پھینکا کہ اللہ کا نام لے کر قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا خیرخواہ بن کے آیا ہوں۔ مجھ پر اعتبار نہ کرو لیکن کیا اللہ کا نام لے کر بھی کوئی جھوٹ بول سکتا ہے ؟ اس لیے میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اس میں سراسر تمہاری بھلائی ہے۔ آدم (علیہ السلام) ابھی تک جنت کی پاکیزہ فضا میں رہنے کے عادی تھے۔ انھیں اپنی بیوی کے سوا کسی دوسرے شخص سے واسطہ نہ پڑا تھا۔ وہ مکروفریب کی چالوں کو نہیں سمجھتے تھے۔ انھیں گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ اللہ کا نام لے کر جھوٹ بھی بولا جاسکتا ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کا نام لیتا ہے وہ یقینا مومن ہوگا اور مومن تو کبھی جھوٹ نہیں بولتاچہ جائیکہ وہ اللہ کا نام لے کر جھوٹ بولے اور دوسرا جال اس نے یہ پھینکا کہ تم دونوں اللہ کی محبت کے اسیر ہو۔ اسی کا نام تمہارے ورد زبان رہتا ہے اسی کی محبت میں ڈوبے رہتے ہو اسی کی قربت تمہاری زندگی کا حاصل ہے۔ لیکن تمہیں معلوم نہیں کہ تم یہاں ہمیشہ نہیں رہ سکتے۔ یہ وصل کے لمحے ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ آدم وحوا یہ سن کر یقینا انتہائی پریشان ہوئے ہوں گے۔ تو ان کی پریشانی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کہا کہ تم محبت میں دیوانے ہوئے جاتے ہو اور تم اس جنت سے نکلنے کا صدمہ شائد برداشت نہ کرسکو کیونکہ یہ جنت ہی اصل میں اللہ کے قرب کی علامت ہے اس لیے میں تمہاری خیرخواہی میں یہ بات کہتا ہوں کہ جس درخت کا پھل کھانے سے تمہیں روکا گیا ہے۔ اگر تم وہ پھل کھالوتو تم ہمیشہ جنت میں رہنے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔ آپ جانتے ہیں کہ محبت ایک ایسا زور دار جذبہ ہے جس کے سامنے عقل کی باتیں یا دلائل نہیں ٹھہر سکتے جب شیطان نے انھیں قسمیں کھاکر یقین دلایا کہ جنت کا قیام اور تمہارے قرب کا دوام صرف اس پھل کے کھانے میں ہے تو حضرت آدم وحوا محبت کے نشہ میں مخمور ہونے کے باعث بالکل بھول گئے کہ ہمیں اس کے کھانے سے روکا گیا ہے۔ اور انھوں نے وہ پھل کھالیا۔ لیکن یہ پھل کھاتے ہوئے اللہ کی نافرمانی کا تصور ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ تھا۔ جیسے ہی انھوں نے یہ پھل کھایا جنت کی خلعت فاخرہ ان کے جسموں سے اتر گئی اور انھیں یہ حکم دیا گیا کہ تم اس جنت سے اتر جاؤ اور زمین پر چلے جاؤ وہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ اھبطوا کے حکم میں کون کون شامل ہیں ؟ یہاں حکم دیا گیا ہے اھبطوا ” تم سب اترجاؤ “۔ اس میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے کہ اترجانے کا یہ حکم کن کن لوگوں کو شامل ہے۔ یعنی اس کے مخاطب کون کون ہیں ؟ ایک رائے تو یہ ہے کہ اس کے مخاطب حضرت آدم اور حضرت حوا ہیں۔ اس پر سوال پید اہوا کہ یہ تو جمع کا صیغہ ہے حضرت آدم اور حضرت حوا تو دو ہیں۔ اگر وہ دوہی مراد ہوتے تو تثنیہ کا صیغہ ہونا چاہیے تھا۔ جواب دیا گیا کہ اس میں ذریت آدم بھی شریک ہے کہ تم اپنی اولاد سمیت زمین پر اتر جاؤ لیکن یہ جواب سراسر تکلف کے سوا کچھ نہیں۔ قرآن کریم میں اگرچہ بعض جگہ تثنیہ کا صیغہ بھی استعمال ہوا ہے، تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت آدم اور حضرت حوا نہیں بلکہ دو گروہ مراد ہیں۔ ایک گروہ حضرت آدم اور حضرت حوا کا اور دوسرا ابلیس اور اس کے پیروکاروں کا۔ یہاں بھی یہی مراد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم حضرت حوا اور ابلیس کو حکم ملا کہ تم سب زمین پر چلے جاؤ۔ ابلیس کو تو پہلے ہی مردود قرار دے کر وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا جاچکا تھا اور اس کو بھی فاھبط کے لفظ سے ہی تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم سب ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہ بات اولاد آدم کے بارے میں کہی گئی ہے۔ کہ زمین میں اولاد آدم یعنی انسان ایک دوسرے سے دشمنی کریں گے ایک دوسرے کو ماریں گے خوں ریزی کریں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں فطری تعلق دشمنی کا نھیں بلکہ انس اور محبت کا ہے۔ دشمنی ان میں شیطان کی کوششوں سے پید اہوتی ہے۔ اگر ایسے اسباب اور حالات نہ پیدا کیے جائیں، جن کی وجہ سے انسانوں میں لڑائی تک نوبت پہنچے تو انسان کبھی آپس میں لڑنا پسند نہیں کرتے بلکہ آپس میں محبت سے رہنا، ہمیشہ انسان کی خواہش رہی ہے۔ یہاں اصل میں یہ کہا جارہا ہے کہ اے آدم وحوا اور اے ابلیس ! تم سب زمین پر چلے جاؤ اور یہاں ابلیس نے آدم کو پھسلاکر جو دشمنی کا بیج بویا ہے، زمین پر یہ مزید برگ وبار لائے گا۔ وہاں شیطانی قوتیں انسان کو بہکا کردشمنی کا حق ادا کریں گی اور انسانوں میں جو اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بندے ہوں گے، وہ شیطانی قوتوں کا مقابلہ کرکے شیطان سے اپنی دشمنی کا ثبوت دیں گے۔ اور خود قرآن کریم نے بھی جابجا اس بات کو واضح کیا ہے کہ انسان اور شیطان میں عداوت فطری ہے، یہ انسان کی گمراہی ہے کہ وہ شیطان کی دشمنی کو سمجھنے کی بجائے اسے دوستی سمجھ لیتا ہے اور پھر اس کے ہتھے چڑھ کر اس کی خدمت بجا لاتا ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے جابجا شیطان کو عدو مبین قرار دیا ہے۔ اور حضرت آدم کو یہ بتادیا گیا تھا کہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن شیطان ہے۔ دیکھنا تجھے کہیں جنت سے نہ نکلوادے اور اولاد آدم کو بھی ایسی ہی ہدایت دی گئی تھی۔ سورة کہف میں ارشاد فرمایا گیا ہے : اَفَتَتَّخِذُوْ نَہٗ وَذُرِّیَّتَہٗٓ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِیْ وَھُمْ لَـکُمْ عَدُوٌّ (کہف۔ 50) ” تو کیا تم ابلیس اور اس کی اولاد کو میرے بالمقابل اپنا دوست بنائوگے۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں “۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ اب تمہیں زمین میں رہنا ہے۔ لیکن تمہارا یہ زمین کا قیام ہمیشہ نہیں، وہاں تمہیں ایک محدود وقت کے لیے رہنے کا سامان دیا گیا ہے۔ تمہاری اصل منزل یہی جنت ہے۔ لیکن یہ مت بھولنا کہ یہ جنت نافرمانوں کی جگہ نہیں۔ جن لوگوں نے زمین ہی کو جنت سمجھ لیا اور وہ شیطان کے ہتھے چڑھ گئے تو ان کا انجام نہائت اندوہناک ہوگا۔ زمین پر تم ایک کشمکش سے گزرو گے۔ شیطانی قوتیں تمہیں اللہ کے نائب کی حیثیت سے اللہ کی حاکمیت کو غالب کرنے کا موقع نہیں دیں گی۔ وہ قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ وہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر تمہارے لیے مشکلات پید اکریں گی۔ لیکن تمہیں اس چند روزہ زمین کے قیام میں جی لگانے کی بجائے اپنی منزل کی تیاری میں لگے رہنا ہے اور اس راستے میں جو بھی قربانی دینا پڑے اس سے دریغ نہیں کرنا تاکہ اللہ کی رضا تمہیں حاصل ہو اور تم پھر اپنی جنت گم گشتہ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤ۔
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب کی طرف سے چند کلمات، تو اس نے اس کی توبہ قبول کی۔ کیونکہ وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

فَتَلَقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِط اِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب کی طرف سے چند کلمات، تو اس نے اس کی توبہ قبول کی، کیونکہ وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے) (البقرۃ۔ 37) تلقی کا معنی اور مفہوم تلقٰیکامعنی ہے ” سیکھ لینا یا پالینا “ اسی کے فعل متعدی کا معنی ہوتا ہے ” سکھانا “۔ تو اس کا معنی ہوگا کہ آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے۔ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ یہ کلمات اللہ نے سکھائے۔ حالانکہ امر واقعہ یہی ہے کہ یہ کلمات اللہ نے عطا فرمائے اور سکھائے۔ تو کلام کی یہ تعبیر یقینا اپنے اندر کوئی معنویت اور حکمت رکھتی ہے۔ حقیقت تو اللہ جانتا ہے، لیکن جو بات بظاہر سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ ابلیس کی قسم پر اعتماد اور پروردگار سے گہری محبت کے جوش میں آکر آپ ممنوعہ درخت کا پھل تو کھا بیٹھے لیکن اس نافرمانی کے اثرات ظاہر ہونے پر جب اللہ کی ناراضگی کا خیال آیاتو آپ تڑپ اٹھے آپ کو اس سے پہلے ایسی کسی صورتحال سے چونکہ واسطہ نہیں پڑا تھا اس لیے آپ نہیں جانتے تھے کہ اللہ کی ناراضگی کو دور کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے معافی کے طلب گار ہونا چاہتے تھے لیکن اللہ کی ناراضگی کے احساس سے ز بان بند ہوچکی تھی۔ دل اس صدمے سے خون خون ہورہا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ اللہ کی ناراضگی کا سامنا کریں تو کیسے کریں۔ اس کی بےپایاں عنایات سامنے آتیں تو دل پر اور چوٹ لگتی۔ رات دن آہیں کھینچنے اور آنسو بہانے کے سوا کوئی کام نہ تھا۔ حضرت آدم اور حضرت حوا نے اپنی انابت و استغفار کا سارا سرمایہ آستانہ عالیہ پر ڈھیر کردیا تھا۔ لیکن زبان کو ابھی تک ہمت نہ ہورہی تھی کہ مناسب الفاظ سے اللہ سے بخشش کی دعامانگیں اور اس سے مغفرت کے طلب گارہوں۔ حضرت آدم کی یہ شکست و ریخت اور آپ کی درماندگی اور فروتنی اللہ کے حضور کام آئی رحمت حق کو جوش آیا اور حضرت آدم کو وہ کلمات سکھائے جو ایک طرف اللہ کی شان کے لائق ہیں اور دوسری طرف اس میں اپنی عاجزی اور درماندگی کا انتہائی اعتراف بھی ہے۔ بعض اہل علم نے بعض کمزور روایات کے سہارے مختلف قسم کے کلمات کا ذکر کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورة اعراف میں جب پروردگار نے خود حضرت آدم وحوا کے دعائیہ کلمات کو ذکر فرمایا ہے اور اسی پر توبہ کی قبولیت کی نوید بھی سنائی گئی ہے۔ تو اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ یہی وہ کلمات ہیں جو حضرت آدم نے پروردگار سے سیکھے تھے۔ وہ کلمات یہ ہیں۔ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (دونوں نے دعا کی ” اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا (جو کچھ ہم سے آپ کی نافرمانی ہوئی ہم اس کی کوئی توجیہ نہیں کرتے ہمیں اعتراف ہے کہ ہم نے اپنی ہی جانوں پر ظلم کیا یعنی جن جانوں کو آپ کی فرماں برداری کے سوا کوئی چیز زیب نہیں دیتی تھی ان سے آپ کی نافرمانی کا ارتکاب ہوا) اگر آپ نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کھایا تو ہم برباد ہونے والوں میں سے ہوجائیں گے) ان دعائیہ کلمات پر غور کیجئے ! ایک تو اپنی غلطی کا صاف صاف اعتراف ہے، توجیہ کی کوئی کوشش نہیں۔ دوسری یہ بات کہ آپ کی نافرمانی معمولی بات نہیں یہ ہمارے لیے ہلاکت، بربادی اور نامرادی ہے۔ توبہ کے دو بنیادی عناصر اس ہلاکت سے بچنے کے لیے اگر کوئی نسخہ شفا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ آپ ہی سے مغفرت کی بھیک مانگیں اور آپ ہی سے رحمت کی التجا کریں۔ آپ نے اگر ہماری مغفرت فرمادی اور ہم پر رحم فرمایا تو ہم بربادی سے بچ جائیں گے اور اگر آپ نے کرم نہ فرمایا تو ہماری بربادی میں کوئی دیر نہیں۔ یہ دو تصورات جو حضرت آدم کی توبہ کے سلسلے میں ہمیں عطا ہوئے ہیں یہ انسانیت کی جان ہیں کہ انسان نہ جانے دنیا کی کیسی کیسی کامیابیوں کو زندگی کا حاصل سمجھتا ہے اور کیسی کیسی دنیوی ناکامیوں کو اپنے لیے سم قاتل خیال کرتا ہے، یعنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے حوالے سے اس کا محور صرف دنیا اور دنیا کی کامیابیاں اور ناکامیاں ہیں۔ لیکن یہاں فرمایا گیا ہے کہ تمہارا اصل سرمایہ زندگی کے وہ اعمال ہیں جس کے نتیجے میں تمہیں اللہ کی رضا حاصل ہے اور تمہارے لیے اصل نامرادی اس چیز میں ہے جس کے نتیجے میں اللہ ناراض ہوجائے اور تم اس کی رحمت سے محروم کردئیے جاؤ۔ چناچہ ان کلمات کے ساتھ جب حضرت آدم اور حضرت حوا نے توبہ کی تو اللہ فرماتا ہے۔ فَتَابَ عَلَیْہِ اللہ تعالیٰ نے ان پر رجوع برحمت فرمایا اور ان کی توبہ قبول فرمائی۔ تاب کا معنی و مفہوم تَابَ کا اصل معنی ہے۔” لوٹنا اور رجوع کرنا “۔ لیکن جب اس کے ساتھ علیٰ کا صیغہ آتا ہے، تو اس میں رحمت کا مفہوم شامل ہوجاتا ہے۔ پھر اس کا معنی کیا جاتا ہے ” توبہ قبول کرنا “۔ دوسری بات یہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ تَابَکا فاعل جب بندہ ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے ” توبہ کرنا “ یعنی معصیت سے اطاعت کی طرف لوٹ آنا۔ کفر سے ایمان کی طرف آجانا۔ بد عملی سے نیک عملی کی طرف لوٹ آنا۔ گمراہی سے راہ راست کی طرف پلٹ آنا۔ لیکن جب تَابَ کا فاعل اللہ ہو، تو پھر اس کا معنی ہوتا ہے غضب سے رحمت کی طرف لوٹ آنا، ناراضگی سے خوشنودی کی طرف آجانا۔ یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ حضرت آدم نے جب توبہ کی تو اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ ان کی طرف لوٹ آیا۔ ناراضگی کی بجائے انھیں اللہ کی خوشنودی حاصل ہوگئی۔ اس کے بعد فرمایا انہ ھوالتواب الرحیم ” بیشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے “ تَوَّاب تَائب سے اسم مبالغہ ہے۔ بہت توبہ قبول کرنے والا اور یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ التائب کا معنی ہے توبہ کرنے والا یا توبہ قبول کرنے والا۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے تمام نام چونکہ توقیفی ہیں اس لیے تائب کو معنوی مناسبت کے باوجود اللہ کے ناموں میں شمار نہیں کیا جاتا۔ توبہ اسلام کا طرہ امتیاز … اس کی حقیقت آیت کے اس حصے سے بطور خاص اس تصور کی طرف اشارہ ہے جو اسلام کا طرّئہ امتیاز ہے باقی تمام مذاہب یہ تعلیم دیتے ہیں کہ انسان سے جب کوئی گناہ ہوجاتا ہے تو اس گناہ کی سزا ملناضروری ہے۔ کیونکہ جس طرح ہر چیز کا ایک لازمی نتیجہ ہوتا ہے اور وہ نکل کر رہتا ہے اسی طرح گناہ کا لازمی نتیجہ سزا ہے جسے بہرحال گناہ گا رکو بھگتنا ہوگا۔ کوئی آدمی ہزار کوشش کرے کہ میں دنیا میں گناہ کی زندگی چھوڑ کر نیکی کی زندگی اختیار کرلوں اور ایک نیک آدمی کی حیثیت سے باقی زندگی گزاروں۔ لیکن ان مذاہب کے نزدیک اس کا کوئی امکان نہیں۔ عیسائیت نے یہ امکان پیدا کرنے کے لیے کفارے کا عقیدہ اختراع کیا جو سراسر غیر حقیقت پسندانہ بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی۔ لیکن ہندو مت نے تو آواگون اور تناسخ کا عقیدہ دے کر انسانیت کو ایک ایسے گورکھ دھندے میں ڈال دیا ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ عیسائیت کے غلط تصور نے اگر مذہبی پیشوائی کو غلط رخ پہ ڈالا ہے اور عام عیسائیت پر چلنے والوں کو گناہوں پر دلیر کردیا ہے تو ہندو مت وغیرہ مذاہب نے انسانیت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ کوئی آدمی جب یہ سوچتا ہے کہ بری زندگی سے نکلنے کا اب کوئی راستہ نہیں ہے تو وہ مایوسی کی دلدل میں اتر جاتا ہے۔ اس کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا کہ وہ خودکشی کرلے یا گناہ پر گناہ کرتا چلاجائے۔ اسلام نے اس کے بالکل برعکس دو تصورات دئیے۔ ایک تو یہ کہ انسان کی معنوی اور روحانی زندگی پر بھی اسی قانون کی حکومت ہے جو پروردگار کا قانون کائنات کے باقی علاقات میں کارفرما ہے۔ ہم یہاں دیکھتے ہیں انسان بیمار ہوتے ہیں درختوں کو بیماریاں لگتی ہیں حیوانات مختلف امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ اگر بروقت بیماری کے علاج کی صحیح کوشش کی جائے تو شفا نہ ہو۔ مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے بھی بیمار ہونے پر کوئی معالج کبھی یہ نہیں کہ تاکہ ہر چیزکا ایک نتیجہ ہوتا ہے اس لیے یہ بیماری بھی نتیجہ خیز ہو کر رہے گی، اسے روکا نہیں جاسکتا۔ تو جس طرح ہر جسمانی بیماری کا علاج ممکن ہے اسی طرح معنوی اخلاقی اور روحانی بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہے۔ جس طرح جسمانی بیماریوں کے مختلف نام ہیں۔ اسی طرح معنوی اور روحانی بیماریوں کو بھی گناہ کی مختلف تعبیروں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ کائنات میں پروردگار کا ایک ہی نظام کارفرما ہے، جسمانی بیماریوں میں جس طرح علاج کو اس نے موثر تسلیم کیا ہے اسی طرح روحانی اور اخلاقی بیماریوں میں بھی کوئی شخص اگر اس سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کوشش کی بھی قدر فرمائی ہے۔ اور توبہ کے نام سے اس کا طریقہ بتایا ہے۔ دوسری بات وہ یہ کہتا ہے کہ نیکی پر جزاء اور بدی پر سزا یہ ان کا طبعی نتیجہ نہیں کہ جس کو ہم لازمی قراردیں بلکہ جزا اللہ کا فضل ہے جو سراسر اس کے اختیار میں ہے اور سزا بھی اس کے اختیار میں ہے وہ چاہے تو سز ادے اور چاہے معاف کردے۔ البتہ اس کا فضل اور اس کی رحمت اس کی حکمت کے ساتھ ہم رشتہ ہے۔ وہ چونکہ حکیم ہے اس لیے اپنے اختیارات کو اندھا دھند استعمال نہیں کرتا۔ جب کسی بھلائی پر انعام دیتا ہے تو یہ دیکھ کر ایسا کرتا ہے کہ بندے نے سچی نیت کے ساتھ اس کی رضا کے لیے بھلائی کی تھی۔ اور جس بھلائی کو رد کردیتا ہے اسے اس بناپررد کرتا ہے کہ اس کی ظاہری شکل بھلے کام کی سی تھی، مگر اندر اپنے رب کی رضا جوئی کا خالص جذبہ نہ تھا اسی طرح وہ سزا اس قصور پر دیتا ہے جو باغیانہ جسارت کے ساتھ کیا جائے اور جس کے پیچھے شرمساری کی بجائے مزید ارتکاب جرم کی خواہش موجود ہو۔ اور اپنی رحمت سے معافی اس قصور پر دیتا ہے جس کے بعد بندہ اپنے کیے پر شرمندہ اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح پر آمادہ ہو۔ بڑے سے بڑے مجرم کے لیے بھی اللہ کے ہاں مایوسی اور ناامیدی کا کوئی موقع نہیں بشرطیکہ وہ اپنی غلطی کا معترف اپنی نافرمانی پر نادم اور بغاوت کی روش چھوڑ کر اطاعت کی روش اختیار کرنے پر تیارہو۔
Ayahs 2:38–39

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے کہا ! اترو یہاں سے سب، تو اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے، تو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جو کفر کریں گے اور جھٹلائیں گے میری آیتوں کو وہی لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)

قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًاج فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِنِّی ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْابِاٰیٰتِنَا اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ ” ہم نے کہا ! اترو یہاں سے سب، تو اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے، تو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جو کفر کریں گے اور جھٹلائیں گے میری آیتوں کو وہی لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ (البقرۃ : 38 تا 39) حکم میں اعادہ کا مفہوم اس آیت کریمہ کا پہلا جملہ گزشتہ سے پیوستہ آیت میں بھی آچکا ہے۔ وہاں بھی اترنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہاں اسی حکم کا پھر اعادہ کیا گیا ہے۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ گزشتہ حکم ضرور دیا گیا تھا لیکن اس کا نفاذ نہیں ہوا تھا اگر اس کا نفاذ ہوچکا ہوتا تو دوبارہ حکم دینے کی نوبت نہ آتی اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ پہلی دفعہ یہ حکم حضرت آدم کی لغزش کے نتیجے کے طور پر دیا گیا تھا۔ جس میں ناراضگی کا اظہار تھا اور اب یہ حکم اس وقت دیا جارہا ہے جب پروردگار حضرت آدم اور حضرت حوا کی لغزش کو معاف فرماچکے ہیں۔ اور یہ حکم دے کر یہ بتایا جارہا ہے کہ دنیا میں تمہارا بھیجا جانا اس لیے نہیں ہے کہ وہ تمہارے لیے کوئی دارالعذاب ہے۔ بلکہ ہم اپنے سابقہ حکم کو برقرار رکھ کر معافی دینے کے باوجود یہ بتانا چاہتے ہیں کہ زمین پر تمہارا جانا میری حکمت کے مطابق ہے کیونکہ اللہ کی حکمت نے پہلے سے تمہیں خلافت ارضی کے لیے چن لیا تھا۔ اب تمہیں وہاں جانے کا جو حکم دیا جارہا ہے، وہ اس لیے دیا جارہا ہے تاکہ تم اپنی اصل ذمہ داری کے مقام پر پہنچو اور وہاں جاکر اپنے فرائض سنبھالو اور آیت کے دوسرے حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب آپ کو زمین پر جو اتارا جارہا ہے تو صرف آدم کی حیثیت سے نہیں اتارا جارہا بلکہ آپ کے سر پر نبوت کا تاج بھی رکھ دیا گیا ہے۔ اب آپ زمین پر نبی اور خلیفہ کے پروٹوکول کے ساتھ تشریف لے جائیں گے اور آپ کو وہ ساری آزادیاں اور سہولتیں میسر ہوں گی جو اس منصب کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ضروری ہیں آیت کے دوسرے حصے فَاِمَّا یَاْتِیَنَّـکُمْ الخ سے ایک نہائت اہم حقیقت واشگاف کی جارہی ہے کہ ہم نے آدم کو زمین پر اگرچہ حواس اور جوہرِ عقل جیسے آلات دے کر بھیجا ہے۔ جن سے وہ کام لے کر زندگی کے بیشتر معاملات کو حل کرسکتے ہیں۔ لیکن حق و باطل، خیر و شر کا معاملہ اتنا آسان نہیں کہ جو انسان کی فطرت اور عقل کے حوالے کرکے چھوڑ دیاجائے۔ اور مزید یہ کہ جنت میں حضرت آدم اور حوا جس طرح شیطان کے بہکاوے کا شکار ہوئے اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی کہ شیطان کے بہکاو وں کا مقابلہ صرف عقل سے ممکن نہیں اسی طرح اللہ کے احکام اور اللہ کی پسند اور ناپسند کا علم اور زندگی کے لیے ایک ایسی رہنمائی جو ہر طرح کی غلطیوں سے پاک ہو صرف حواس اور عقل سے تلاش نہیں کی جاسکتی اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کی طرف سے وحی کا سلسلہ جاری ہو اور اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے ایک ایسی روشنی کا انتظام کرے جس میں انسان آسانی سے زندگی کا سفر جاری رکھ سکے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں پروردگار یہ وعدہ فرما رہے ہیں کہ تم زمین پر چلے جاؤ لیکن تمہاری زندگی گزارنے کے لیے ہدایت اور رہنمائی میری طرف سے آئے گی۔ میں اس کے لیے پیغمبر بھیجوں گا، ان پر کتابیں نازل کروں گا جو ہر دور میں تمہاری رہنمائی کے لیے کافی ہوں گی۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ تمہاری دنیوی سلامتی اور اخروی سرخ روئی کا دارومدار صرف اس بات پر ہوگا کہ تم میری ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا نہیں کرتے۔ اگر تم نے خوش دلی اور حسن نیت کے ساتھ میری ہدایت کی پیروی کی تو پھر تمہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی چیز تمہیں غمگین کرسکے گی۔ خوف مستقبل کے اندیشوں کو کہتے ہیں۔ اور حزن ماضی میں پیش آنے والے صدمات اور فکر مندیوں کو۔ اللہ کی ہدایت کو قبول کرنے کے نتیجے میں دنیاہی میں ایک ایسا معاشرہ تیار ہوجاتا ہے جو مستقبل کے اندیشوں سے کبھی اندیشہ ناک نہیں ہوتا۔ اللہ پر توکل اور اس کی ہدایت پر چلنے کی وجہ سے ان کا مستقبل ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔ اگر کوئی تکلیف آتی بھی ہے تو وہ جنت کے پھولوں کی طرح کھل اٹھتی ہیں اور اگر کبھی کوئی بحران سر اٹھاتا ہے تو یا تو وہ ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا کیونکہ اللہ کی تائید ونصرت ان کے ساتھ ہوتی ہے اور یا اس کے نتیجے میں انھیں شہادت کا تمغہ نصیب ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر تم میں سے کسی نے محض اپنی عقل کو اپنی رہنمائی کے لیے کافی سمجھا یا لوگوں کے بتائے ہوئے طریقوں کو اپنا رہنما بنالیایا تم نے اللہ کی دی ہوئی رہنمائی میں پیوند کاری سے کام لیایا تم نے اللہ کی ہدایت کو اپنی خواہشات کے تابع بنالیا یا تم نے اللہ کی ذات کے ساتھ کوئی شریک بنالیے اور انھیں ہدایت اور رہنمائی کا حق دے دیاتو یہ تمام صورتیں اللہ کی رہنمائی سے انکار کے مترادف ہیں۔ کبھی اس انکار کی صورت کفر کی ہوتی ہے اور کبھی تکذیب کی۔ لیکن دونوں صورتوں میں گمراہی ان کا مقدر بن جائے گی۔ یہ گمراہی دنیا میں بھی ایک عذاب بن جاتی ہے۔ لیکن اصل عذاب جو اس گمراہی کے نتیجے میں ملے گا وہ قیامت کے دن جہنم کا عذاب ہے جس میں یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے اور کوئی ان کو نجات دینے والا نہیں ہوگا۔ اس رکوع میں بہت سے حقائق منکشف ہوئے ہیں۔ تشریح کے ضمن میں ہم موقع کی مناسبت سے وضاحت بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن آخر میں چند باتوں کی نشان دہی کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 1 سب سے پہلے تخلیق آدم کو ایک حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انسان کی ابتداء کے بارے میں بعض مفروضوں کے حوالے سے جو کچھ کہا جاتا ہے اس سے قطع نظر یہاں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ آدم کو اللہ نے دست قدرت سے بنایا اور اسے یہ اعزاز بخشا کہ فرشتوں تک نے اسے سجدہ کیا۔ اس طرح سے وہ اس کائنات کا گل سرسبد ٹھہرا اور اسے بتادیا گیا کہ یہ ساری کائنات تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے۔ لیکن تم خود صرف اللہ کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ تمہیں ہم نے قوت تسخیر دی ہے ارادہ شعور اور عقل سے نوازا ہے۔ پھر تمہیں ان قوتوں کو بروئے کار لانے کی آزادی بھی بخشی ہے۔ لیکن صرف ایک قدغن لگائی گئی ہے کہ تمہارا ہر استعمال اور تمہارا ہر ارادہ اور تمہاری ہر تسخیر کا نتیجہ اللہ کے احکام کے تابع ہونا چاہیے۔ 2 اس زمین پر تمہاری حیثیت اللہ کے نائب اور خلیفہ کی ہے۔ نائب اپنی ذات میں خودمختار نہیں ہوتا، تم بھی اس زمین پر خود مختارانہ زندگی نہیں گزاروگے۔ خلیفہ کے پاس جو بھی اختیارات ہوتے ہیں وہ ذاتی نہیں ہوتے بلکہ ان اختیارات کا سرچشمہ وہ حکمران ہوتا ہے، جس کا وہ خلیفہ اور نائب ہے۔ تمہیں چونکہ اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا ہے اس لیے دیکھنا اپنے اختیارات کو آزادانہ استعمال نہ کرنا بلکہ اس طرح استعمال کرنا جس طرح اختیارات دینے والے نے تمہیں ہدایت دی ہے۔ 3 آدم کا اصل امتیازی پہلو اس کی علم میں برتری ہے۔ جن میں سب سے مقدم علم اس ہدایت کا علم ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہے اور جس کے مطابق زندگی گزارنے کا انسان کو پابند ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ تمام علوم ہیں جن سے انسانی ضرورتیں وابستہ ہیں اور جن پر انسانیت کی بقا اور مفسدین کے دفاع کا دارومدار ہے۔ اس میں دنیا اور دین کی کوئی تقسیم نہیں۔ دین رہنمائی مہیا کرتا ہے، اس کی رہنمائی میں وجود میں آنے والی دنیا بھی دین بن جاتی ہے۔ امت مسلمہ کو جب دشمن قوتوں سے خطرہ لاحق ہوتا ہے تو تمام دفاعی علوم بھی دین کی طرح فرض اور واجب ہوجاتے ہیں۔ 4 آدم اور ابلیس کی کشمکش سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ غلطی آدم سے بھی ہوتی ہے اور ابلیس سے بھی۔ لیکن آدم کی آدمیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ غلطی پر کبھی اصرار نہیں کرتا تنبہ ہوجانے کے بعد فوراً توبہ کی طرف لپکتا ہے۔ اپنی اصلاح کرتا اور اللہ کو راضی کرنے میں اس وقت تک لگا رہتا ہے جب تک اس کی رضا کا یقین نہیں ہوجاتا۔ ابلیس کی غلطی کی بنیاد غلط فہمی، سہویا ناواقفیت نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیادذاتی سربلندی کا غرور ہوتا ہے۔ کبھی یہ غرور نام و نسب سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی دولت وامارت سے اور کبھی قوت و شوکت سے۔ گناہ کی یہ بنیاد اتنی مضبوط ہے کہ جس کے نتیجے میں سرکشی پیدا ہوئے بغیر نہیں رہتی اور جب ذہن سرکشی کا شکار ہوجاتا ہے تو پھر اس پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس واقعہ میں دیکھتے ہیں کہ حضرت آدم نے رورو کر نہ صرف مغفرت حاصل کرلی بلکہ نبوت کے سزاوار ٹھہرے۔ لیکن ابلیس سرکشی کا شکار ہوا معارضہ تک جاپہنچا اور راندئہ درگاہ ٹھہرا۔ 5 آدم اور ابلیس کی سرگزشت سے قریش اور یہود کو آئینہ دکھایا گیا ہے کہ اس آئینہ میں غور سے اپنی شکل پہچانو تم جس راستے پر چل رہے ہو یہ ابلیس کا راستہ ہے تو جس طرح ابلیس کو دونوں جہانوں کی رسوائی ملی اور آدم سرافراز ہوئے اسی طرح ذلت اور نکبت تمہارا مقدر بنے گی اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمان کامیاب اور کامران ٹھہریں گے۔ 6 قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے یہ حقیقت کھول دی گئی ہے کہ تم محض اپنی فطرت اور عقل کے بل بوتے پر راہ صواب اور صراط مستقیم نہیں پاسکوگے جب تک تم اللہ کی طرف سے آخری پیغمبر پر اترنے والی ہدایت اختیار نہ کرو۔ اسی میں تمہاری دنیا ہے اور اسی میں تمہاری عقبیٰ ۔ اور آج جب کہ دنیا تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے اور مسلمان زوال کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔ تو آج اس ہدایت کو آویزہ گوش اور زندگی کی رہنما بنانے کی شائد سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ؎ یہ بزم آب و گِل جتنی کہ برہم ہوتی جاتی ہے محمد کی شریعت اور محکم ہوتی جاتی ہے
Ayah 2:40

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

(اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میری اس نعمت کو جو میں نے تم کو عطا کی اور میرے عہد کو پوراکرو۔ میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو۔

یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَھْدِیْٓ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْج وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنَ ۔ (البقرۃ : 40) (اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میری اس نعمت کو جو میں نے تم کو عطا کی اور میرے عہد کو پوراکرو، میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو) گزشتہ رکوع سے پیوستہ رکوع میں انسانوں کو اللہ نے اپنی عبادت اور بندگی کی دعوت دی تھی اور بتایا تھا کہ ہر انسان اپنی ذات میں اللہ کا بندہ اور اس کا غلام ہے اور اللہ اس کا معبود اس کا آقا اور حاکم حقیقی ہے۔ اس کے بعد گذشتہ رکوع میں مزید یہ حقیقت واضح کی گئی کہ تم صرف اللہ کے بندے ہی نہیں ہو بلکہ تم اس زمین پر اللہ کے نائب اور خلیفہ بھی ہو۔ اس کائنات کا خالق ومالک چونکہ اللہ ہی ہے اس لیے یہ بات عقل اور فطرت کا تقاضا ہے کہ باقی کائنات کی طرح زمین پر بھی اللہ کی حاکمیت نافذ ہو اور اسی کے احکام کے مطابق زمین پر رہنے والے زندگی گزاریں۔ البتہ جن وانس اور باقی مخلوقات میں فرق یہ ہے کہ باقی تمام مخلوقات اللہ کے احکامِ تکوینی کے پابند ہیں، لیکن جن وانس چونکہ عقل و شعور کی نعمت کے ساتھ ساتھ اطاعت و معصیت اور شکروکفر کی آزادی سے بھی نوازے گئے ہیں۔ اس لیے ان پر اللہ کا قانون صرف تکوینی نہیں تشریعی بھی نافذ ہوگا اور تشریعی قانون کے لیے اللہ اپنے پیغمبر مبعوث کرے گا اور ان پر اپنی کتابیں اتارے گا۔ پیغمبر اللہ کے خلیفہ ہوں گے اور ان کے بعد اس خلافت کی ذمہ داریوں کو وہ لوگ ادا کریں گے جو پیغمبروں کے پیروکار اور ان کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے والے ہوں گے۔ اس طرح سے انسانوں کی یہ دوہری ذمہ داری ٹھہری کہ وہ انفرادی طور پر اللہ کی بندگی بھی کریں اور اجتماعی طور پر اہل ِ زمین پر اللہ کے احکام کو نافذ کرتے ہوئے خلافت کی ذمہ داریاں بھی ادا کریں۔ اب پیش نظر رکوع میں ایک ایسے گروہ کو خطاب کیا جارہا ہے جو تاریخ کے مختلف ادوار میں اللہ کے نبیوں کے ساتھ مل کر یا ان کی نیابت میں خلافت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا گیا تھا۔ اور وہ کام جو اللہ کے نبی دنیا میں کرنے کے لیے آتے ہیں یہ گروہ نبیوں کے ساتھ مل کر یا ان کی اقتدا میں اس کام کا مکلف بنایا گیا اور اس وقت کی تمام دنیا کی خیروفلاح کا ذمہ دار انھیں ٹھہراکر حامل دعوت ہونے کا شرف بخشا گیا۔ بظاہر اس کہانی کو بیان کرتے ہوئے تاریخ کے چند اوراق الٹے جارہے ہیں لیکن حقیقت میں چند اہم حقائق کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے۔ 1 آنحضرت ﷺ کی دعوت کے براہ راست مخاطب جو لوگ تھے، وہ تین قسم پر مشتمل تھے۔ (1) قریش، جو حضور کا اپنا خاندان تھا۔ (2) مدینہ منورہ کے اوس و خزرج، (3) اہل کتاب، یعنی بنی اسرائیل۔ ان میں سے یہ تیسرا گروہ یعنی بنی اسرائیل ان تینوں میں اہم حیثیت کا حامل تھا۔ بنی اسرائیل کا مفہوم اور ان کی مذہبی اور منصبی تاریخ ” اسرائیل “ درحقیقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام یا آپ کالقب ہے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے فرزند حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ عبرانی زبان میں اسر کا معنی ہے ” بندہ “ اور ایل کا معنی ہے ” اِلٰہ “۔ اس لحاظ سے اسرائیل کا معنی ہے ” عبداللہ یا بندہ خدا “۔ بنی اسرائیل چونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے مختلف بیٹوں کی اولاد تھے اس لیے وہ اپنے آپ کو بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کہلاتے تھے۔ البتہ اسرائیل کے معنی میں انھوں نے اپنی سرشت کے مطابق تبدیلی کی تھی۔ بجائے اس کو عبداللہ کے معنی میں لینے کے انھوں نے اس کا ترجمہ ” بطل اللہ “ کیا تھا اور اسی کو تقویت دینے کے لیے انھوں نے تورات میں ایک داستان بھی اختراع کردی۔ جس میں یہ دکھایا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اللہ سے کشتی ہوئی۔ اس طرح سے انھوں نے نبوت کی حقیقت کو پامال کرکے رکھ دیا اور نبی اور اللہ کے درمیان جو تعلق ہے اسے بالکل بدل ڈالا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں بنی اسرائیل میں اللہ کے نبی پید اہوتے رہے اور پھر ان میں چند ایسے جلیل القدر رسول بھی آئے جن پر اللہ نے اپنی کتابیں نازل فرمائیں۔ اور وہی کتابیں آج محرف شکل میں عہد عتیق اور عہد جدید کے نام سے یہود و نصاری کے پاس موجود ہیں۔ اسی نبوت و رسالت کے باعث اللہ نے اس خاندان کو عظمت بخشی۔ ان میں اگر ایک طرف علم کی ہمہ ہمی رہی تو ساتھ ہی مختلف ادوار میں یہ خاندان حکومتوں پر فائز بھی رہا اور زمین کے بڑے حصے کے لیے اللہ کے دین کا سرچشمہ اسی خاندان میں ابلتارہا اور یہی لوگ توحید کی علم برداری کا فرض انجام دیتے رہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان میں زوال آیا اور آنحضرت ﷺ کے زمانے تک پہنچتے پہنچتے یہ لوگ اس طرح زوال کا شکار ہوئے کہ باوجود اپنے پاس کتاب رکھنے کے کتاب کی روح سے بےبہرہ ہوگئے۔ احکام شریعت میں تبدیلیاں کیں اور اس کے اجتماعی نفاذ سے یکسر منحرف ہوگئے۔ ان کی اپنی عدالتوں اور پنچائیتوں میں ان کے بڑے لوگوں کی خواہشات قانون کی حیثیت اختیار کرگئیں۔ ان کے عوام نے اللہ کی حاکمیت کے تصور کو اس طرح بدل ڈالا کہ اپنے احبارو رہبان کو ربوبیت کے مقام پر فائز کردیا۔ شریعت کے چند وہ احکام باقی رہ گئے جن کا تعلق حاکمیت سے نہیں بلکہ عبودیت سے ہے اور زندگی کا پورا تانا بانارسم و رواج کی پابندیوں سے تیار کرڈالا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ حیرت انگیز حد تک انھیں اہل کتاب ہونے پر ناز تھا۔ اس لحاظ سے وہ اپنے سوا کسی اور کو راہ راست پر نہیں سمجھتے تھے۔ زندگی میں ہر طرح کی بدعملی کے باعث آخرت میں جواب دہی کے احساس سے بچنے کے لیے انھوں نے اس طرح کے اعتقادات اختیار کرلیے تھے کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں بلکہ اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ اس لیے قیامت کی باز پرس کا ہمیں کوئی اندیشہ نہیں۔ ان کا ذکر فرماکر پروردگار گفتہ آید درحدیثِ دیگراں کے طور پر امت مسلمہ کو متوجہ فرمارہا ہے کہ جس طرح تم سے پہلے بنی اسرائیل خلافت کا فرض انجام دینے کے لیے حامل دعوت امت کے طور پر اٹھائے گئے تھے آج تمہیں بھی ان کی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکامی کے باعث اسی ذمہ داری کے لیے اٹھایا جارہا ہے۔ تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اس گذشتہ امت کے احوال پر نظر رکھو۔ ہم تمہارے سامنے ان کی صدیوں پر پھیلی ہوئی تاریخ کے نمایاں ابواب کھولیں گے تاکہ تمہیں اچھی طرح اندازہ ہوجائے کہ جب کوئی قوم اس منصب پر فائز ہوتی ہے۔ تو وہ اگر اللہ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر کس طرح انعامات کی بارش ہوتی ہے اور اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے پہلو تہی کرتی ہے اور حُبِّ دنیا کی اسیر ہو کر دینی تقاضوں کو نظر انداز کرتی ہے تو پھر کس طرح مختلف شکلوں میں اللہ کے عذاب کا کوڑا اس پر برستا ہے۔ 2 بنی اسرائیل چونکہ توحید نبوت اور آخرت کے ماننے والے لوگ تھے اور وہ اللہ کی نازل کردہ کتابوں کو تسلیم بھی کرتے تھے۔ لیکن ان کی بداعمالیاں اور کتاب اللہ میں ترمیم اور تحریف کی جرات اور پھر اللہ کی کتاب کی طرف بلانے والوں سے ان کی دشمنی کے رویے نے انھیں جس حد تک پہنچا دیا تھا اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے دور کے اس حدتک بگڑے ہوئے مسلمان تھے کہ جن میں اسلام کے نام کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہی تھی۔ لیکن انھیں اس بات پر فخر تھا کہ ہمیں دنیا میں ہمیشہ ایک خاص مقام حاصل رہا ہے اور مختلف ادوار میں ہم پر اللہ کے انعامات برستے رہے ہیں۔ اس رکوع میں اسی حوالے سے ان سے خطاب فرماکر انھیں ان کا اصل مقام اور منصب یاد دلایا گیا ہے۔ اور پھر انھیں دعوت دی گئی ہے کہ تمہارے مقام اور منصب کا تقاضا یہ ہے کہ تم سب سے پہلے آگے بڑھ کر اسلام کی دعوت کو قبول کرو۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی دعوت میں کوئی ایسی بات نہیں جو تمہارے لیے اجنبی ہو وہ کسی ایسی بات کا حکم نہیں دے رہے، جو سابقہ آسمانی کتابوں کی ہدایت کے خلاف ہو۔ اور دین کی جو بنیادیں سابقہ آسمانی کتابوں نے پیش کی ہیں ان میں سے کسی بات کا وہ انکار نہیں کررہے۔ اصول دین میں ان کی دعوت تمہاری دینی دعوت سے بالکل ہم آہنگ ہے اور ان میں سے کسی بات کا انکار کرنا تمہارے لیے ممکن نہیں۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ تم اس دعوت کو دوسروں سے آگے بڑھ کر قبول نہ کرو۔ 3 بنی اسرائیل سے مختلف ادوار میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا تھا اور آپ کی اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب کی علامتیں ان کی کتاب میں موجود تھیں ان کا حوالہ دے کر انھیں یاد دہانی کرائی جارہی ہے کہ دوسرے لوگ تو اس دعوت کو اس وقت قبول کریں گے جب دعوت ان کے دل و دماغ میں اترے گی لیکن تمہارے لیے یہ دعوت نہ صرف جانی پہچانی ہے بلکہ تم تو عہد و پیمان کے باعث بھی اس دعوت کو قبول کرنے کے پابندہو۔ لیکن تمہیں صرف اس لیے اسے قبول کرنے سے انکار ہے کہ تم نے حب دنیا میں مبتلا ہو کر جو طوراطوار اختیار کرلیے ہیں اور جس طرح تمہارے علماء نے مصنوعی سیادت و قیادت کا ایک بہروپ اختیار کررکھا ہے۔ اور جس طرح تم نے سادہ لوح عوام کو دین کا غلط تصور پیش کرکے اپنی عقیدت میں جکڑ کر اپنے لیے چڑھاؤوں اور نذر نیاز کر انتظام کررکھا ہے تمہیں اندیشہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے یہ سب کچھ ختم ہوجائے گا اور تمہارا بھرم کھل جانے سے تمہاری آمدنی کے سارے سلسلے ختم ہوجائیں گے اس لیے تم اس دعوت کو قبول کرنے سے انکاری ہو۔ اس طرح سے ایک تو ان کے ضمیر کو جھنجھوڑا تاکہ ان میں کسی کے ضمیر میں زندگی ہے تو وہ بیدار ہوجائے ورنہ جو لوگ ان کے علم سے متاثر ہونے کے باعث ہمیشہ ان سے رجوع کرتے ہیں ان کے سامنے ان کی اصل حقیقت واضح ہوجائے۔ اور اس طرح سے ان کو غلط فہمیاں پیدا کرنے کا جو موقع ملاہوا ہے وہ ختم ہوجائے۔ ان حقائق کو ذہن میں رکھ کر ہمیں آئندہ آیات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں چار باتیں تشریح طلب ہیں۔ 1: اُذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ ” اے بنی اسرائیل ! میری نعمت کو یاد کرو “۔ نعمت کا معنی ہوتا ہے ” احسان “ اور کبھی عام عطیہ کو بھی نعمت کہہ دیتے ہیں۔ لیکن یہاں اُذْکُرُوْاکے لفظ سے واضح ہوتا ہے کہ مراد وہ عام نعمتیں نہیں جو عام انسانوں کو میسر ہیں بلکہ وہ خاص افضال و عنایات ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں یا خاص قوموں کو نوازتا ہے۔ اس لحاظ سے جب دیکھیں تو قرآن کریم نے مختلف مقامات پر دو طرح کی نعمتوں کا ذکر کیا ہے۔ 1 اس وقت کی معلوم دنیا میں اللہ تعالیٰ نے صرف بنی اسرائیل کو اپنے دین کی سربلندی خلق خدا کی ہدایت اور لوگوں کی اصلاح کے لیے منتخب فرمایا۔ اور انھیں حامل دعوت ہونے کا شرف بخشا، توحید اور شریعت کی امانت ان کے سپرد کی گئی۔ اور انہی میں اللہ کے نبی مبعوث ہوتے رہے اور یہ ایک ایسا شرف ہے جسے حاصل کرنا کسی انسانی گروہ کے اختیار میں نہیں۔ یہ سراسر اللہ کی دین ہے جسے وہ عطاکردے۔ 2 حق و باطل کی کشمکش میں یقینا مشکلات پیش آتی ہیں۔ بنی اسرائیل کو بھی مختلف ادوار میں پیش آئیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کے بعد بنی اسرائیل کو بطور خاص حق کی علمبرداری کے لیے اٹھایا گیا۔ پھر جس طرح وقت کی ایک قاہر قوت کے ساتھ ان کا تصادم ہوا اور پھر جس طرح ان کا وطن چھوٹا اور پھر جس طرح ان کو صحرائی زندگی اختیار کرنا پڑی۔ یہ مشکلات کا حوصلہ شکن سلسلہ تھا لیکن قدم قدم پر جس طرح اللہ کی عنایات ان پر برستی رہیں اور جس طرح ہر مشکل میں اللہ نے ان کی دستگیری فرمائی اور پھر رفتہ رفتہ انھیں حکومتوں کا مالک بنادیا۔ اور ایک وقت آیا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی قوت بن گئے۔ یہ وہ عنایات اور احسانات ہیں جن کا قرآن کریم نے بھی جابجا ذکر کیا ہے۔ 3 الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ ” میری وہ نعمتیں یاد کرو، جو میں نے تم پر انعام کی ہیں “۔ نعمت بھی اللہ کا انعام ہوتا ہے۔ اور وہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا نہیں دے سکتا۔ لیکن اس کے بعد بطور خاص یہ فرمانا کہ میں نے تم پر انعام کیا۔ اس سے بنی اسرائیل کی ایک بہت بڑی گمراہی کی طرف اشارہ ہے۔ بنی اسرائیل کو جن تصورات نے بگاڑا اور جس کے نتیجے میں ان کی دینی زندگی داغ داغ ہوگئی وہ ان کا یہ تصور تھا کہ وہ ہر نعمت کو اپنی اہلیت اور استحقاق کا نتیجہ سمجھتے تھے۔ جب تک کوئی شخص اپنے محسن کی مہربانیوں کو احسانات سمجھتا ہے تو اس کے دل میں اپنے محسن کی قدر و عظمت ہوتی ہے۔ وہ اس کی اطاعت کرنے کا جذبہ رکھتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی عنائت کو اپنا حق سمجھ لیتا ہے تو پھر وہ محسن کو محسن سمجھنے سے انکار کردیتا ہے اور احسان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جذبات سرے سے پید اہی نہیں ہوپاتے۔ بنی اسرائیل نے بھی جب اللہ کے انعامات کو اپنے نسب کا نتیجہ سمجھا اور اس کو ذاتی استحقاق قرار دیاتو رفتہ رفتہ اللہ سے ان کا رشتہ ٹوٹتاچلا گیا۔ شروع شروع میں اطاعت کا جذبہ کمزور ہوا، اور پھر بڑھتے بڑھتے اللہ کے دین سے بےنیازی ان کا معمول بن گئی۔ اس سے بنی اسرائیل کو اگر ایک طرف انعامات کی یاد دہانی کرانی ہے تو ساتھ ہی ان کی بدعملی کے اصل سبب پر توجہ بھی دلانی ہے کہ شائد وہ اس طرح سے اپنی گمراہی کے سبب کو سمجھ کرتائب ہونے کی کوشش کریں۔ 4 اَوْفُوْا بِعَھْدِیْٓ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ ’ ’ تم میرے عہد کو پوراکرو، میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا “۔ ان دو جملوں میں پروردگار نے بنی اسرائیل پر اپنے ایک احسان کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے اور ان کی ذمہ داریاں بھی ان کو یاد دلائی ہیں۔ دونوں جملے خود بول رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے کوئی عہد لیا ہے اور اس کے بدلے میں ان سے کوئی عہد کیا ہے۔ عہد ہمیشہ دو برابر کے افراد یا دو برابر کے گروہوں میں ہوتا ہے یا اگر جانبین میں مراتب کا تفاوت بھی ہو تو وہ اتنا نہیں ہو تاکہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کاروباری گفتگو نہ کرسکیں۔ لیکن جانبین اگر اس طرح کے ہوں کہ ایک طرف بادشاہ ہے اور دوسری طرف ایک مزدور۔ یا ایک طرف عطا کرنے والا ہے اور دوسری طرف ہاتھ پھیلانے والا۔ یا ایک طرف حاکم ہے اور دوسری طرف محکوم تو ان کے درمیان کبھی معاہدہ نہیں ہوتا۔ ہاں اس کی ایک ہی صورت ہے کہ بادشاہ، محسن یا حاکم خود کسی کو فریق مان لے اور محض عطا اور بخشش کے طور پر اس سے کوئی معاہدہ کرے کہ تم اگر یہ خدمت انجام دو گے تو ہم تمہیں اس پر یہ عطا کریں گے۔ جب کہ وہ محض ایک حکم کے ذریعے ہر طرح کی خدمت لینے کے مجاز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی جب بنی اسرائیل پر شریعت نازل کی تو ساتھ ہی ان سے یہ بھی فرمایا کہ اگر تم اس شریعت پر عمل کروگے تو اس کے نتیجے میں ہم تمہیں دنیاوآخرت کی فلاح و کامرانی سے نوازیں گے۔ یا قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے مومنوں سے ایک معاہدہ کیا اور اس معاہدے کا ذکر ہم نے تورات اور انجیل میں بھی کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہی معاہدہ اہل کتاب کے ساتھ بھی تھا۔ وہ معاہدہ کیا ہے ؟ ان اللہ اشتریٰ من المومنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ ” بیشک اللہ نے خرید لی ہیں مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس وعدے پر کہ اس کے بدلے میں ان کے لیے جنت ہوگی۔ “ اللہ کا اپنے بندوں سے یہ معاہدہ بندوں کے لیے اتنا بڑا اعزاز ہے کہ اس سے بڑے اعزاز کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن کریم نے اس معاہدے کو سورة مائدہ آیت نمبر 12 میں خود میثاقِ بنی اسرائیل سے یاد فرمایا ہے اور اس میں شریعت کی پابندیوں کے بدلے میں اپنی معیت اور اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا اور دوسرے ایک اور معاہدے کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس کی وضاحت ہمیں تورات کی کتاب استثنا سے بھی ملتی ہے اور قرآن کریم کی سورة اعراف سے بھی۔ میں دونوں کے حوالے عرض کرتا ہوں۔ کتاب استثنا 15-19 میں ہے : (خداوند تیرا خدا تیرے لیے ہی تیرے درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا، تم اس کی سننا ....... میں ان کے لیے انہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا) اب قرآن پاک میں اس عہد کی طرف اشارہ دیکھئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے لیے رحمت کی جو دعا کی، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔ وَرَحْمَتِیْ َوسِعَتْ کُلَّ شَیئٍط فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَ ھُمْ فِیْ التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِز یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْہِمْط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوْاالنُّورَالَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ لا اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (الاعراف : 156 تا 157) (اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے، میں اس کو لکھ رکھوں گا ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کریں گے، زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے۔ یعنی جو پیروی کرتے ہیں رسول نبی امی کی جن کو لکھا ہواپاتے ہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ ان کو حکم دیتے ہیں نیکی کا اور وہ روکتے ہیں منکر سے۔ اور ان کے لیے جائز کرتے ہیں پاکیزہ چیزیں اور حرام کرتے ہیں ان پر ناپاک چیزیں اور دفع کرتے ہیں ان پر سے بوجھ اور پھندوں کو جو ان پر تھے۔ پس جو ان پر ایمان لائے اور جنھوں نے ان کی حمایت کی اور مدد دی اور اس روشنی کی پیروی کی جو ان کے ساتھ اتاری گئی ہے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں) ان دونوں حوالوں میں آپ نے دیکھا ہے کہ بنی اسرائیل سے شریعت کی پابندی کے ساتھ ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا عہد بھی لیا تھا۔ اسی عہد کی بجاآوری پر حضور کی تشریف آوری کے بعد بنی اسرائیل پر رحمت کرنے کا وعدہ فرمایا تھا۔ اور قرآن کریم میں تو یہ بات بالکل واضح کردی گئی کہ نبی آخرالزمان پر ایمان ان کے ساتھ عقیدت واحترام، ان کا اتباع اور ان کی نصرت ( جس کے نتیجے میں اللہ کا دین غالب آجائے) ہی بنی اسرائیل اور تمام مسلمانوں کے لیے فلاح کی ضامن ہے۔ اسی وعدے کی یاد دلاکر بنی اسرائیل سے کہا جارہا ہے کہ آج اگر تم سلامتی چاہتے ہو اور دنیا اور آخرت کی تمہیں کامیابی درکا رہے تو پھر تمہیں اپنے عہد کو پورا کرنا چاہیے۔ 5 وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنَ ” اور مجھ ہی سے ڈرو “۔ اس جملے میں بھی ضمیر کو فعل سے اسی طرح پہلے لایا گیا ہے جس طرح اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ میں لایا گیا ہے۔ وہاں ہم بتاچکے ہیں کہ جہاں فعل کے مفعول کو فعل سے پہلے ذکر کیا جائے تو اس میں حصر کا معنی پیدا ہوجاتا ہے۔ اور یہ اس فعل کے اہتمام اور اس پر زور دینے کی ایک صورت ہوتی ہے۔ فارھبون اصل میں فارھبونی ہے۔ لیکن ضمیر متکلم کو فعل سے پہلے لاکر معنی میں زور پیدا کردیا گیا ہے۔ اگر فَارھَبُو نِی ہوتاتو اس کا معنی ہوتا ” پس مجھ سے ڈرو “ لیکن اب ضمیرمتکلم کی تقدیم سے معنی میں اہتمام پیدا ہوگیا تو اب اس کا معنی ہوگا ” پس مجھ ہی سے ڈرو “ اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدے پورا کرنے میں یقینا مشکلات پیش آئیں گی، یقینا بہت سارے مفادات سے ہاتھ اٹھانا پڑے گا، یقینا بہت سی مراعات سے کنارہ کش ہونا پڑے گا۔ ممکن ہے لوگ تمہارے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تمہاری سیادت و ریاست کو نقصان پہنچے۔ لیکن یاد رکھو یہ چیزیں اللہ کے مقابلے میں پرواہ کرنے کی نہیں ہیں۔ یہ ساری چیزیں چھوٹ جائیں اور اللہ راضی ہوجائے تو وہ سب کچھ عطا کرسکتا ہے۔ لیکن اگر وہ ناراض ہوگیا تو ساری ریاستیں اور سیادتیں اور مال و دولت کے انبار اور لوگوں کا رجوع اللہ کے غضب سے نہیں بچا سکے گا۔ اس لیے تمہیں ہر طرح کے خوف سے بےنیاز ہوکرصرف اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اللہ سے ڈرنے کا نبی آخرالزمان کی تشریف آوری کے بعد فوری تقاضا یہ ہے۔