Ayahs 2:1–3حروفِ مقطعات کی بحث :
الٓمّٓ: الٓمّٓ اور اسکے ہم مثل حروف مقطعات حقیقت میں ایسے اسماء ہیں جن کے مصداق وہ حروف تہجی ہیں جن سے مل کر کلمات بنتے ہیں۔ پس الف قال کے درمیان والے حرف پر دلالت کرتا ہے۔ اور لام اسکے آخری حرف پر دلالت کررہا ہے اور ان کے مشابہہ حروف کا یہی حال ہے۔
اسمیت کے دلائل : پہلی دلیل یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے ذاتی معنی پر دلالت کرتا ہے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ امالہ، تفخیم، تعریف وتنکیر (معرفہ ونکرہ ہونا) اسی طرح جمع اور تصغیر سے ان میں تبدیلی کی جاتی ہے۔
تیسری دلیل یہ ہے کہ نحوی حیثیت میں یہ معرب ہیں، البتہ ان میں سکون زَیْد وغیرہ اسماء کی طرح ہے۔ کہ اعراب کا مقتضی موجود نہ ہونے کی وجہ سے اعراب نہیں آسکتا۔
بعض نے ان کو مبنی کہا ہے۔ اس لئے کہ یہ اصوات کی طرح ہیں۔ مثلًا غاق۔ یہ کوے کی آواز کی حکایت ہے۔
جمہور علماء کا قول :
یہ ہے کہ یہ سورتوں کے نام ہیں۔
قول ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما : ان حروف سے اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔
قول ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ : یہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہیں۔
بعض کا قول : یہ ان متشابہات میں سے ہیں۔ جن کی تاویل سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ اور ان کو معجم ان کے ابہام واخفاء کی وجہ سے ہی کہا جاتا ہے۔
بعض دوسروں کا قول :
یہ اسماء ہیں جن کو شروع میں بطور تعدید کے لایا گیا ہے۔ گویا کہ قرآن مجید نے جن کو چیلنج کیا تھا ان کو قرآن بیدار کر رہا ہے۔ اور آمادہ کر رہا ہے کہ وہ اس نازل شدہ وحی پر غور کریں جس کا مقابلہ کرنے سے وہ اول سے آخر تک عاجز آچکے۔ جبکہ اس کلام کے موتی ان کلمات سے ہی پروئے گئے ہیں جن سے انکا اپناکلام بنتا ہے۔ تاکہ یہ غور و فکر ان کو اس پر یقین لانے کی طرف آمادہ کرے۔ اگر اب تک انہوں نے اپنا سر اسکے سامنے سرنگوں نہیں کیا۔ اور بار بار رجوع کے باوجود ان کو اپنی عاجزی ظاہر نہیں ہوئی۔ حالانکہ وہ کلام کے ماہرین ہیں۔ (تاکہ اب بھی جاگ کر اپنی عاجزی مان لیں) کیونکہ یہ تمام باتیں ثابت کر رہی ہیں کہ یہ کلام بشر نہیں بلکہ خالق اور قادر مطلق کا کلام ہے۔
نصیب والوں کے لئے تو یہ بات بڑا مقام رکھتی ہے۔ (آئو اور اپنا نصیبہ آزمائو)
دیگر بعض کا قول :
یہ ہے کہ ان سے سورتوں کو اس لئے شروع کیا گیا۔ تاکہ سب سے پہلے جو چیز سامع کے کانوں کو کھٹکھٹائے وہ ایک انوکھا انداز کلام ہو۔ جو دلائل اعجاز کیلئے ایک مقدمے کا کام دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حروف کے ذریعہ عمدہ اور نفیس کلام کرنے میں تمام عرب برابر تھے۔ خواہ ان پڑھ طبقہ ہو یا پڑھا لکھا طبقہ ہو۔
البتہ : حروف کے اسماء کو وہ لوگ استعمال کرتے تھے۔ جنہوں نے خود پڑھنا لکھنا سیکھایا اہل کتاب سے انکا میل جول تھا اور ان سے انہوں نے سیکھ لیا تھا۔ کسی امی کا ان اسماء حروف سے کلام کرنا اس طرح بعید تر تھا جس طرح کسی امی کا بغیر پڑھے لکھنا اور تلاوت کرنا۔
پس آپ ﷺ کا ان اسماء کو اپنے کلام میں استعمال کرنا۔ باوجود یکہ یہ بات مشہور و معروف تھی کہ آپ ﷺ نے اہل کتاب کے کسی بھی فرد سے کوئی چیز بھی حاصل نہیں کی۔ (یہ استعمال) وہی حکم رکھتا ہے جو ان واقعات وقصص کے بیان کرنے کا تھا جن سے قریش وغیرہ پہلے سے ناواقف تھے۔ اس سے تو یہ بات خود ثابت ہوگئی کہ یہ سب آپ کو وحی الٰہی سے حاصل ہوا۔ جو آپ کی نبوت کی واضح شہادت ہے۔
دلیل اعجاز کا دوسرا انداز :
یہ بات معلوم ہے۔ کہ ابتداء میں جو حروف وارد ہوئے ہیں۔ ان میں نصف تو حروف معجمہ کے اسماء ہیں جو درج ذیل ہیں۔ الالف، اللام، المیم، الصاد، الرائ، الکاف، الھائ، الیائ، العین، الطائ، السین، الحائ، القاف، النون۔
تعدادِ حروف :
حروف معجمہ کی تعداد انتیس ہے، اور مذکورہ بالا حروف انتیس سورتوں کے شروع میں آئے ہیں۔ پھر ایک اور لطیفہ یہ ہے کہ ان پائے جانے والے حروف میں حروف کی تمام اقسام پائی جاتی ہیں۔ جن کی تفصیل اس طرح ہے۔
نمبر 1۔ مہموسہ : میں سے، الصاد، الکاف، الھائ، السین ‘ الحائ ! نصف تعداد موجود ہے۔
نمبر 2 مجہورہ میں سے : الالف، اللام، المیم، الراء، العین، الطائ، القاف، الیائ، النون، نصف تعداد موجود ہے۔
نمبر 3 شدیدہ میں سے : الالف، الکاف، الطائ، القاف، نصف تعداد میں موجود ہیں۔
نمبر 4 رخوہ میں سے : اللام، المیم، الرائ، الصاد، الھائ، العین، السین، الحائ، الیائ، النون : نصف موجود ہیں
نمبر 5 مطبقہ میں سے : الصاد، الطائ، آدھے موجود ہیں۔
نمبر 6 منفتحہ میں سے : الالف، اللام، المیم، الرائ، الکاف، الھائ، العین، السین، الحائ، القاف، الیائ، النون، نصف پائے جاتے ہیں۔
نمبر 7 مستعلیہ میں سے : القاف، الصاد، الطائ، نصف پائے جاتے ہیں۔
نمبر 8 منخفضہ میں سے الالف، اللام، المیم، الرائ، الکاف، الھائ، الیائ، العین، السین، الحائ، النون، آدھے موجود ہیں۔
نمبر 9 قلقلہ میں سے القاف، الطائ، نصف تعداد موجود ہے۔
ان اجناس کی بقیہ اقسام میں ان حروف کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ کسی چیز کا اکثر اسکے کل کے قائم مقام شمار ہوتا ہے۔
گویا اللہ تعالیٰ نے اہل عرب پر ان حروف کو شمار کردیا جن پر انکا کلام مشتمل تھا (اور ان کو مقابلے کا چیلنج دیا مگر پھر بھی وہ مقابلے میں نہ آئے بلکہ عاجز ہوگئے) اور ان کو اس طرح لاجواب ومبہوت کردیا اور ان پر حجت قائم کردی (فھل من مبارز) پھر ان اسماء حروف کو الگ الگ سورتوں میں لایا گیا تاکہ جن کو چیلنج کیا گیا۔ بار بار اس کا اعادہ ہوتا رہے۔ اور ان کو متنبہ کیا جاتا رہے۔ اور یہ بات مختلف سورتوں میں لانے سے ہی حاصل ہوسکتی تھی، اکٹھا ذکر کرنے سے یہ مقصد اس طرح حاصل نہ ہوسکتا۔
غرضِ تکرار :
جن الفاظ یاقصص کو قرآن مجید میں دھرایا گیا ان کے دھرانے سے یہی غرض ہے کہ وہ بات دل میں اچھی طرح جم جائے اور خوب پختہ ہوجائے ( اور چیلنج بھی تازہ رہے)
طرز میں فرق کی وجہ :
پھر ان حروف کو ایک طرز پر نہیں لایا گیا۔ بلکہ حروف کی تعداد میں فرق رکھا گیا۔ مثلًا صٓ، قٓ، نٓ، طٰہٰ ، طٰسٓ، یٰسٓں، حٰمٓ، الٓمٓ، الٓمٓرٰ ، طٰسٓمّٓ ، الٓمٓصٓ، الٓرٰ ، کٓھٰیٰعٓصٓ، حٰمٓ، عٓسٓقٓ، گویا کبھی تو ایک حرف لائے، کبھی دو ، دو کبھی تین، تین، کبھی چار، چار اور کبھی پانچ، پانچ۔ جس طرح کہ ان کے ہاں کلام کے مختلف انداز تھے۔ اور جیسا کہ کلمات کی بِنائیں ایک حرف، دو حرف اور تین اور چار اور پانچ حروف سے آتی ہیں۔
ابتداء میں طرز :
شروع قرآن میں اس طرز کو اختیار کیا گیا کہ الٓمٓ جہاں بھی قرآن مجید میں واقع ہوا ہے۔ وہاں پوری آیت کے طور پر اس کو لایا گیا۔ اسی طرح الٓمٓصٓ کو ایک آیت کے طور پر لائے۔ مگر الٓمٓرٰ کو آیت شمار نہیں کیا گیا، اسی طرح الٓرٰ کو پانچ سورتوں میں آیت شمار نہیں کیا گیا۔ جبکہ طٰسٓم کو دونوں سورتوں میں پوری آیت کے طور پر شمار کیا۔ اسی طرح طٰہٰ ‘ یٰسٓ دونوں سورتوں میں دو آیتیں شمار کی جاتی ہیں۔ دوسری طرف صٓ، نٓ، قٓ، ان تینوں کو مستقل آیت کے طور پر شمار نہیں کیا جاتا۔ یہ علماء کوفہ کا مسلک ہے، یہ توقیفی علم ہے، اسمیں قیاس کا دخل نہیں جیسا کہ سورتوں کے نام ہیں، اسی لئے اس صورت میں تمام پر مکمل وقف کیا جائے گا کیونکہ ان کو مستقل معنیٰ پر محمول کیا جو ما بعد کا محتاج نہ رہا، اور یہ سورتوں کا نام نہ ماننے کی صورت میں ہے، بلکہ ان کو اسی طرح قرار دیا جائے جیسا کہ آوازوں کی تعبیرات ہیں یا پھر ان کو خبر قرار دے کر مبتداء کو محذوف مانا جائے جیسا کہ الٓمّٓ (آل عمران) یعنی ھذہ الٓمّٓ ۔ یہ الم ہے۔ پھر نیا کلام شروع کرتے ہوئے کہا اللّٰہ لا الہ الا ھو الحی القیوم : آل عمران : 2 :
دوسرا قول :
جنہوں نے ان کو سورتوں کے اسماء قرار دیا بقول ان کے انکا محل اعراب ہے۔ اس لئے کہ ان کے ہاں یہ دیگر تمام اسماء اعلام کی طرح ہونگے۔ ابتداء کی صورت میں مرفوع ہونگے، یا منصوب ومجرور بنیں گے۔ کیونکہ ان سے قسم اٹھانی درست ہے۔ پس یہ الفاظ لفظ اللہ کے قائم مقام ہونگے اللہ کا لفظ دونوں لغات کے ساتھ ہے۔
ایک اور قول :
جنہوں نے ان کو سورتوں کے نام قرار نہیں دیا ان کے ہاں انکا کوئی محل اعراب نہیں۔ جیسا کہ جملہ ابتدا ئیہ اور مفرد ات عددیہ کا کوئی محل اعراب نہیں ہوتا۔
اسم اشارہ کی تذکیر :
ذٰلِکَ الْکِتٰبُ : نمبر 1 : یعنی یہ وہی کتاب ہے جس کا وعدہ ان سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کی زبان سے کیا گیا، یا ذٰلک کا مشارالیہ الٓمّٓ ہے۔
سوال : اسم اشارہ مذکر اور مشارالیہ مؤنث ہے اور وہ سورت ہے۔
جواب : کتاب اگرچہ خبر ہے مگر یہ اسی کے معنی میں ہے۔ اور دونوں کی مراد ایک ہے۔ اس لئے مذکر ہونے میں لفظ کتاب کا حکم سورت کے لفظ پر لگادیا، اور اگر یہ صفت ہے تو پھر اس سے صراحۃً کتاب کی طرف اشارہ کردیا۔ کیونکہ اسم اشارہ سے ایسی جنس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس کی صفت ہے۔ محاورہ میں اس طرح کہتے ہیں۔
ھند ذٰلک الانسان اوذٰلک الشخص فعل کذا
کہ ہند وہ انسان ہے ذٰلک کی صفت سے مراد الانسان ہے اور ذالک کا اشارہ ہند کی طرف ہے۔ حالانکہ ہند مؤنث ہے۔
المو اسم اشارہ کو ملانے کی وجہ :
وجہ نمبر 1 : ذٰلک الکتاب کو الٓمّٓ کے ساتھ ملانے کی وجہ یہ ہے کہ اگر الٓمّٓ کو سورت کا نام قرار دیں تو الٓمّٓ مبتداہو گا۔ اور ذٰلک مبتداء دوم ہوگا۔ اور الکتاب اس کی خبر بنے گی، پھر جملہ مبتداء اول کی خبر ہوگی اور اس کا معنی یہ ہے کہ یہ وہی کتاب کامل ہے۔ گویا اس کے مقابلہ میں دوسری کتابیں ناقص ہیں۔ جیسا کہ کہتے ہیں۔ ھوالرجل یعنی رجولیت میں کامل وہی ہے۔ مردوں میں جتنی پسندیدہ خصلتیں ہوتی ہیں وہ سب اس میں جمع ہیں۔
نمبر 2: الٓمّٓ مبتداء محذوف کی خبر ہو یعنی : الٓمّٓ ایک جملہ ہے اور ذٰلک الکتاب دوسرا جملہ ہے۔
نمبر 3: اگر تم الٓمّٓ کو بمنزلہ اسم صوت کے قرار دو ۔ تو پھر الٓمّٓ مبتدا اور الکتاب اس کی خبر ہوگی۔ یعنی وہ اتاری ہوئی کتاب وہی کتاب کامل ہے۔
ریب کا مفہوم و معنی :
لَارَیْبَ : (اس میں شک نہیں) : یہ مصدر ہے رأب کا جب کسی چیز میں شک ہو۔
الریب کی حقیقت :
نفس کا قلق و اضطراب۔ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کا یہی مطلب ہے۔ ” دع ما یریبک الی ما لا یریبک “ جو چیز تمہیں اضطراب میں ڈالے اس کو ایسی چیز کے لیے چھوڑ دے جو تمہیں اضطراب میں نہ ڈالے، پس شک اضطراب ہے۔ سچائی اطمینان ہے۔ (احمد، ترمذی) کسی کام کا مشکوک ہونا یہی ہے کہ جس کے لیے نفس میں قلق ہو اور دل میں قرار نہ آئے۔
اور کسی کام کا سچا ہونا یہی ہے کہ اس میں دل مطمئن ہوتا اور سکون اختیار کرتا ہے۔ ” ریب زمان “ کا لفظ اسی سے ہے، اور اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو نفوس کو قلق میں مبتلا کردیں۔ اور ان کے مصائب کی تشخیص دلوں سے ہو۔ اب آیت میں ریب کی نفی بطور استغراق کے ہے۔ بہت سے لوگوں نے اس میں شک کیا۔
قرآن کے متعلق اس بات کی نفی کی گئی ہے، کہ اس کا شک سے تعلق نہیں۔ اور نہ یہ شک کا مقام ہے۔ کیونکہ اس کی دلالتیں اور براہین اس طرح روشن ہیں کہ شک کرنے والے کو اس میں پڑنا مناسب نہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ کوئی آدمی اس میں شک نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے لافیہ ریب “ نہیں فرمایا، جیسا کہ فرمان “۔ لافیھا غول الصافات آیت نمبر 47 لفظ ریب کے ساتھ حرف نفی لایا گیا کہ ریب کی قرآن سے نفی کی اور یہ ثابت کیا کہ قرآن برحق ہے باطل نہیں۔ جیسا کہ کفار گمان کرتے تھے۔
اگر ظرف کے قریب لایا جاتا تو اس مقصد سے وہ دور ہوجاتا وہ اس طرح کہ کوئی اور کتاب ہے جس میں شک ہے۔ مگر اس میں شک نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ” لا فیھا غول “ الصافات آیت نمبر 47 جنت کی شراب دنیا کی شرابوں پر فضیلت رکھتی ہے۔ اس طرح کہ وہ عقول کو خراب نہیں کرے گی، جس طرح کہ دنیا کی شراب خراب کرتی ہے۔
وقف کے متعلق مشہور قول :
یہ ہے حضرت نافع وعاصم رحمہما اللہ نے لاریب پر وقف کیا۔ اس صورت میں وقف کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ خبر کی نیت کرے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی۔ لَارَیْبَ فِیْہِ ۔ “ اس میں شک نہیں “
فِیْہِ ھُدًی : فیہ میں ابن کثیر مکی (رح) کے نزدیک ہر ھٓا اشباع کی ہے۔
حفص (رح) نے اس آیت فیہ مھانا (الفرقان آیت نمبر 69) میں ان کی موافقت کی ہے اور یہی اصل ہے۔ جیسا کہ کہیں۔ مررت بہ ومن عندہ وفی دارہ)
M : جس طرح فی دارہ اور من عندہٗ نہیں کہا جاتا اس طرح ضروری ہے کہ ” فیہ “ بھی نہ کہا جائے۔
جواب : سیبویہ (رح) نے فرمایا۔ جو انہوں نے کہا ہے (اگر اس کو مان لیں تو) تو تین حروف ساکنہ کا جمع کرنا لازم آتا ہے۔ ھا سے قبل یا اور خود ھآئ۔ کیونکہ اہل عرب کے ہاں ھا متحرک بھی بمنزلہ ساکن کے ہے۔ کیونکہ ھا حروف خفیہ میں سے ہے اور حرف خفی ساکن کے قریب ہے۔ اور یا اس کے بعد (دوسرے نمبر پر ہے) تو اشباع ساقط ہوجائیگا۔
ھدی : یہ فعل کا مصدر ہے جیسا کہ بکـٰی کا لفظ۔
تعریف ِہدایت :
مقصد تک پہنچانے والی دلالت۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں ضلالت کا لفظ آیا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَۃَ بِالْھُدٰی (البقرہ آیت نمبر 16) فرمایا گیا “ ہدی للمتقین “ متقی۔ ہدایت یافتہ کو کہتے ہیں یہ اس طرح ہے جیسا کہ کہتے ہیں عزیز کو العزیز المکرم یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو عزت دے اور مکرم بنائے۔ اصل مقصود اس سے جو چیز اس میں پائی جاتی ہے یعنی عزت اس میں اس کا برقرار رہنا اور ہمیشگی طلب کی گئی ہے۔ جیسا کہ ” اھدنا الصراط المستقیم “ (الفاتحہ آیت نمبر 6) میں ہے۔ (کہ تو ہمیں ہدایت سے ہمیشہ وابستہ رکھ) اللہ تعالیٰ نے عنقریب متقی بننے والے کو متقین کا لباس زیب تن کرنے کی وجہ سے متقی فرما دیا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : من قتل قتیلا فلہ سلبہ (بخاری ومسلم) اس ارشاد میں عنقریب قتل ہونے والے کو قتیل فرما دیا بوجہ الباس قتل کے۔
اور حضرت ابن عباس۔ کا ارشاد ہے اذا اراد احد کم الحج فلیعجل فانہ یمرض المریض عنقریب قتل ہونے والے کو اور بیمار ہونے والے کو قتیل اور مریض فرمایا۔
عنوان کا فرق :
یہاں ھدی للضالین نہیں فرمایا۔ کیونکہ ان کے دو گروہ ہیں۔
نمبر 1: جن کا گمراہی پر قائم رہنا معلوم ہے۔
نمبر 2: جن کا انجام بالآخر ہدایت ہے۔
اور قرآن مجید اسی فریق ثانی کے لیے ہادی ہے۔ پس یہ عبارت کافی ہے۔ اگر اس سے زیادہ تفصیلی عبارت لائی جاتی تو یوں فرماتے، یہ ان لوگوں کے لیے ہدایت ہے جو گمراہی کے بعد ہدایت کی طرف جانے والے ہیں، “ پس کلام کو اس طریق سے مختصر لائے، جس کا ہم نے تذکرہ کردیا۔ (عنقریب متقی بننے والے کو متقی کہہ دیا)
نمبر 2: یہ بھی کہا گیا کہ ھدی للمتقین لائے حالانکہ یہ اس سورت کی ابتداء ہے۔ جو زہراوین میں سے ایک ہے۔ اور قرآن مجید کی چوٹی اور کوہان ہے۔ گویا ابتداء سورت اپنے اولیاء متقی بندوں کے ذکر سے فرمائی۔
المتقی۔ : یہ اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ اور عرب کا قول ہے وقاہ فاتقی۔ اس کا فا کلمہ وائو ہے اور لام کلمہ یا ہے۔ جب اس سے باب افتعال بنایا تو وائو کو تا کر کے تا میں ادغام کردیا۔ اتقٰی بن گیا۔ الوقایہ۔ پیش بندی۔ حفاظت کرنا۔ شریعت میں اس کا معنی کسی ایسے کام میں اپنے آپ کو مبتلا کرنے سے بچانا۔ جس کے کرنے یا چھوڑنے سے سزا کا مستحق ہو۔
تراکیب :
ترکیب 1: ہدی کا لفظ محلاً مرفوع ہے کیونکہ یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔
ترکیب 2: ذلک کی خبر ہے لاریب فیہ کے ساتھ مل کر
ترکیب 3: فیہ کی ھاؔ ذوالحال اور ھدی حال ہے۔
ترکیب 4: بلاغت کے اعتبار سے زیادہ پختہ بات یہ ہے کہ الٓمّٓ بذات خودمکمل جملہ ہے یا حروف معجمہ کا مجموعہ ہے جو مستقل بنفسہٖ ہے۔ ذلک الکتاب یہ دوسرا جملہ ہے لا ریب فیہ تیسرا جملہ ہے۔ اور ھدی للمتقین چوتھا جملہ ہے۔
انوکھا انداز بلاغت :
پھر اپنی ترتیب میں اس نے بلاغت کا انوکھا انداز پیدا کیا کہ حروف عطف کے بغیر ان کو اس شاندار ترتیب سے لایا گیا کہ ایک کی گردن گویا دوسرے سے ملی ہوئی ہے، دوسرا پہلے کے ساتھ معانقہ کرتے ہوئے مل رہا ہے اسی طرح تیسرا اور چوتھا۔
اس کی وضاحت اس طرح ہے اوّلا متنبہ کیا کہ یہ وہ کلام ہے جس سے چیلنج دیا گیا پھر اشارہ فرمایا کہ یہ انتہائی کمال والی قابل تعریف کتاب ہے تو اس سے چیلنج والی جانب کو پختہ کردیا۔ پھر نفی کی کہ شک کی کسی جانب بھی اس کے ساتھ ذرہ بھر بھی مشابہت نہیں پائی جاتی۔ پس یہ بات اس کے کمال کی شہادت ودستاویز بن گئی کیونکہ حق و یقین والا کمال سب سے بالاتر اور کامل ہے۔ جس طرح باطل و اشتباہ سے بڑھ کر کوئی نقص وعیب نہیں۔
ایک عالم کو کہا گیا کہ۔ تیری لذت کس بات میں ہے ؟
اس نے کہا ایسی دلیل میں جو وضاحت میں نزاکت کی چال چلے۔ اور ایسے اشتباہ میں جو رسوائی سے نڈھال کر دے۔ پھر خبردی کہ یہ متقین کے لیے ہدایت ہے۔ پھر اس کا یقین ہونا اس طرح پختہ کردیا کہ شک اس کی گرد کو بھی نہیں پاسکتا۔ اور وہ ایسا حق ہے کہ باطل اس کے سامنے اور پیچھے کسی طرف سے نہیں آسکتا۔ پھر اس گہری ترتیب اور عمدہ تنسیق کے ساتھ ساتھ چاروں میں سے کوئی ایک جملہ بھی ایک عظیم الشان نکتہ سے خالی نہیں۔
نکتہ عظیمہ :
اول جملہ میں حذف اور مطلوب کی طرف لطیف انداز سے اشارہ ہے۔ جبکہ دوسرے جملہ کے معرفہ میں قابل دید عظمت ہے۔ اور تیسرے جملہ میں ریب کے لفظ کو ظرف پر مقدم کیا کیا ٹھاٹھ ہے (پیچھے ذکر ہوا) اور چوتھے جملہ میں حذف ہے۔ اور ھدًی مصدر کو اسم فاعل کے مقام پر لایا گیا۔ گویا ہادی بنفس نفیس ہدایت ہے۔ پھر اس کو نکرہ لائے۔ اس میں یہ بتلادیا کہ یہ ایسی ہدایت ہے جس کی حقیقت کو پہنچا نہیں جاسکتا۔ اور متقین کا تذکرہ مختصر انداز میں کرلیا جیسے پہلے گزرا۔
الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ کی تفسیر :
الذین۔ نحو : نمبر 1 : یہ محلًا مرفوع ہے۔
نمبر 2: صفت کی صورت میں محل نصب میں ہے یعنی ھُمُ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ وہی جو ایمان رکھتے ہیں یا میری مراد الذین یومنون وہ ایمان والے ہیں۔
نمبر 3: الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ مبتداء اور اس کی خبراولٰٓپکَ عَلٰی ھُدًی۔
نمبر 4: یہ مجرور ہے اس طرح کہ متقین کی صفت ہے۔ یہ صفت متقین کی صفت کو کھولنے اور واضح کرنے کے لئے لائی گئی ہے۔ جیسے کہتے ہیں۔ زید الفقیہ المحقق۔ کیونکہ یہ اس چیز پر مشتمل ہے جس پر نیکیوں کی جڑ ہے۔ اور وہ نماز اور صدقہ ہے یہ دونوں بنیادی عبادات مالیہ اور بدنیہ کی جزء ہیں۔ (الصلٰوۃ عماد الدین) نماز کو دین کا ستون قرار دیا۔ (اور دوسری روایت میں) کفر واسلام کے درمیان فاصل نماز کا چھوڑ دینا قرار دیا گیا۔ اور زکوٰۃ کو اسلام کا پل فرمایا۔ (الزکوۃ قنطرۃ الاسلام) گویا ان کا مقام و مرتبہ ایسا ہے کہ تمام عبادات ان کے تابع ہیں۔ اسی لیے تو کلام کو مختصر فرمایا اور طاعات کے تذکرہ میں فقط عنوان پر اکتفا کیا اور اسکے ساتھ ساتھ ان دونوں عبادتوں کی فضیلت کو کھول دیا۔
نمبر 5: یا یہ صفت ہے جو متقین کے ساتھ لائی گئی جو مزید فائدہ کے لیے لائی گئی ہے مثلًا زید الفقیہ المتکلم الطبیب۔ اس صورت میں متقین سے مراد وہ لوگ ہونگے جو برائیوں سے گریزاں ہیں۔
یُؤْمِنُوْنَ : (تصدیق کرتے ہیں)
نحو : یہ امن مصدر سے باب افعال ہے۔ اور محاورہ ہے۔ امنت ” یعنی اس کی تصدیق کی اس کی حقیقت تکذیب و مخالفت سے امن میں ہونا ہے۔ باء سے یہ متعدی ہے۔ اس لیے کہ یہ اقرار واعتراف کے معنی کو اپنے اندر شامل کرنے والا ہے۔
بِالْغَیْبِ : (جوان سے پوشیدہ ہیں) ان چیزوں میں سے جن کی خبران کو نبی اکرم ﷺ نے دی۔
نمبر 1: مثلاً بعث ونشر اور حساب وغیرہ کے معاملات (جو کہ غائب کے مفہوم میں ہیں) پس مصدر بمعنی اسم فاعل (غائب) لائے۔ جیسا کہتے ہیں۔ غاب الشیء غیبا۔ یہ اس صورت میں ہے جب تم اس کو یؤمنون کا صلہ بنائو۔
نمبر 2: اور اگر تم اس کو حال قرار دو ۔ تو پھر یہ پوشیدگی اور خفاء کے معنی میں ہوگا۔ یعنی وہ ایمان لاتے ہیں۔ اس حال میں کہ جس چیز پر ایمان لانا ہے۔ وہ ان سے غائب ہے۔ (مثلًا رسول اللہ وبعث وحشر کو دیکھا نہیں مگر ایمان لاتے ہیں) حقیقی طور پر یہ عبارت اس طرح ہے۔ متلبسین بالغیب یعنی غیب سے تلبس حاصل کرنے والے ہیں۔
صحیح ایمان یہ ہے کہ زبان سے اقرار کرے اور دل سے تصدیق کرے۔ عمل (حقیقت) ایمان میں داخل نہیں (البتہ ایمان کی علامت وثمرہ ضرور ہے)
اقامت کا مطلب :
وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ : (یعنی اس کو ادا کرتے ہیں)
نمبر 1: ادائیگی کو اقامت سے تعبیر کیا۔ حالانکہ قیام تو اس کا ایک رکن ہے۔ یہ اس طرح ہے جیسا کہ نماز کو قنوت سے تعبیر کیا۔ اور قنوت قیام ہی کو کہتے ہیں۔ رکوع اور سجود اور تسبیح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ چیزیں نماز میں پائی جاتی ہیں۔
نمبر 2: یا اقامت صلوۃ سے مراد تعدیل ارکان ہے۔ یہ ” اقام العود “ سے ہے جب لکڑی کو سیدھا کردیں۔
نمبر 3: یا نماز پر مداومت اور محافظت مراد ہے۔ پھر یہ۔” قامت السوق “ سے بنا ہے۔ جب بازار پر رونق ہوجائے۔ کیونکہ جب کسی چیز کی حفاظت کی جاتی ہے تو پھر وہ چالو مال کی طرح بن جاتی ہے۔ جس کی طرف رغبتیں متوجہ ہوتی ہیں۔ اور جب کسی چیز کو ضائع کیا جائے تو وہ اس کھوٹی اور نکمی چیز کی طرح ہے جس کی طرف طبیعت کی رغبت نہیں ہوتی۔
معنی صلوٰۃ :
اَلصَّلٰوۃَ ۔ نحو : الصلوٰۃ کا لفظ فعلۃ کے وزن پر صلّی سے بنا ہے جیسا کہ الزکوٰۃ کا لفظ زکی سے۔ اور وائو کیساتھ اس کی کتابت بطور تفخیم کے ہے۔ صلّی کا حقیقی معنی چوتڑوں کو حرکت دینا ہے۔ کیونکہ نمازی رکوع و سجود میں ان کو حرکت دیتا ہے۔ داعی (دعوت دینے والا) کو بھی مصل (بلانے والا) کہا جاتا ہے رکوع و سجدہ کرنے والے کے ساتھ خشوع میں مشابہت کی وجہ سے اس کو۔” مصل “ کہا جاتا ہے۔
وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ : (جو ہم نے ان کو دے رکھا ہے) یہاں ما بمعنی الذی ہے۔
انفاق سے مراد :
یُنْفِقُوْنَ : (وہ اس میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں) صدقہ کرتے ہیں۔ من تبعیضیہ داخل کرکے ممنوع فضول خرچی سے محفوظ کردیا۔ مفعول کو اس کی اہمیت پر دلالت کرنے کیلئے مقدم کیا۔
نمبر 1: مراد یہاں زکوٰۃ ہے، کیونکہ یہ اس صدقہ سے ملی ہوئی ہے جو کہ زکوٰۃ کی ہمدم ہے۔
نمبر 2: یا۔ زکوٰۃ سے مراد زکاۃ اور اسی طرح کے خرچہ جات ہوں جو بھلائی کے راستہ میں کئے ہیں کیونکہ یہاں زکوٰۃ کا لفظ بلا کسی قید کے آیا ہے۔ اور انفق الشیء اور انفدہ یہ دونوں ایک ہی معنی رکھتے ہیں جیسا کہ نفق الشیء اور نفد۔ چیز کا خرچ ہونا ختم ہونا کے معنی میں آتے ہیں۔
قاعدہ :
ہر وہ لفظ جس کا فاء کلمہ نون ہو اور عین کلمہ فاء ہو وہ نکلنے اور چلے جانے کے معنی میں آتا ہے۔
نکتہ :
اس آیت سے بطور دلالت یہ بات ثابت ہوگئی۔ کہ اعمال ایمان کا حصہ نہیں وہ اس لیے کہ یہاں صلوٰۃ و زکوٰۃ کو ایمان پر عطف کر کے ذکر کیا گیا۔ اور عطف مغایرت کو چاہتا ہے۔
Ayah 2:4وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے۔ جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے احباب اور ان جیسے دوسرے لوگ جو ہر اس وحی پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی ایمان لائے۔ اور آخرت پر ایسے یقین کا اظہار کیا جس سے یہ بات زائل ہوگئی کہ جنت میں یہودو نصاریٰ کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا۔ اور ان کو دوزخ کی آگ چند گنتی کے دنوں کے علاوہ نہیں چھوئے گی۔ نمبر 1: پھر اگر تم اس کا عطف الذین یؤمنون بالغیب پر کرو تو یہ من جملہ متقین میں داخل ہوجائیں گے۔
نمبر 2: اور اگر اس کا عطف متقین پر کرو تو پھر داخل نہ ہونگے۔ پس کلام اس طرح بنے گا۔
ھدی للمتقین وھدی للذین یومنون بما انزل الیک
نمبر 3: یا اس سے پہلے لوگوں کی صفت کرنا مقصود ہے۔ اور درمیان میں عاطف کو اسی طرح لایا گیا۔ جیسا کہ صفت کے درمیان لاتے ہیں۔ جیسا اس محاورہ میں۔
ھوالشجاع والجواد وہ بہادر اور سخی ہے۔
اور شاعر کا قول :
الی الملک القرم وابن الھمام ٭ لیث الکتیبۃ فی المزدحم
میں اس بادشاہ کی طرف جو توڑنے والا اور تلوار کے نیچے پلنے والا۔ لڑائی کے میدان میں لشکر کے دستے کا شیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ تمام ان صفات کے جامع ہیں۔
تذکرئہ کو کتب سابقہ :
بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ : یعنی قرآن مراد اس سے مکمل قرآن ہے۔ فقط وہ مقدار مراد نہیں جو ان کے ایمان لانے تک اتاری جاچکی تھی کیونکہ ایمان تو سارے قرآن پر لانا ضروری ہے۔
سوال : یہاں انزل کو لفظ ماضی سے تعبیر کیا اگرچہ ابھی بعض کے نزول کا انتظار ہے۔
جواب : موجود کو غیر موجود پر تغلیب دے کر ذکر کردیا۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب بعض نازل شدہ اور بعض کے نزول کا ابھی انتظار ہے تو تمام کو گویا نازل شدہ شمار کرلیا گیا۔ (کیونکہ اس کا اتارا جانا یقینی تھا)
Ayah 2:5وَمَآ اُنـْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ : یعنی انبیاء ( علیہ السلام) پر اتاری جانے والی تمام کتابیں
وَبِالْاٰخِرَۃِ نحو : یہ آخر کی مؤنث ہے جو کہ الاوّل کی ضد ہے۔ یہ صفت ہے اس کا موصوف محذوف ہے اور وہ لفظ دار ہے اس کی دلیل قصص آیت نمبر 83 تلک الدار الاٰخرۃ ہے اور یہ صفت غالبہ ہے۔ اسی طرح دنیا کا لفظ بھی (کہ اس کا موصوف محذوف ہے اور یہ صفت غالبہ ہے کیونکہ قریب تر ہے)
قراءت :
حضرت نافع (رح) فرماتے ہیں کہ ہمزہ کو حذف کر کے اس میں تخفیف کردی۔ اور اس کی حرکت لام کو دے دی۔
ھُمْ یُوْقِنُوْنَ : ایقان اصل میں شک وشبہ دور ہو کر کسی چیز کے متعلق پختہ علم ہوجانے کو کہتے ہیں۔
اُولٰٓپکَ عَلٰی ھُدًی۔ (یہی لوگ اپنے پروردگار کے سیدھے راستے پر ہیں) نحو : اگر اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کو مبتدا بنائیں تو جملہ محل رفع میں واقع ہے اور اگر اس کو مبتدا نہ بنائیں تو پھر اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔ ( اسم اشارہ کو صفات کے بعد لانا گویا موصوف کا صفات سمیت اعادہ ہے)
نمبر 2: یہ بھی جائز ہے کہ پہلا موصول متقین پر جاری ہو اور دوسرا موصول ابتدا کی وجہ سے مرفوع ہو۔ اور اولٰٓئک اس کی خبر ہو۔
تفسیر : ہدایت و فلاح کے ساتھ ان کو خاص کرنے کی وجہ اہل کتاب پر تعریض کرنا ہے۔ جن کو رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان نہ تھا۔ مگر اس کے باوجود وہ ہدایت پر ہونے کے دعویدار تھے۔ اور یہ طمع رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں فلاح پانے والے ہیں۔
علیٰ کی حکمت :
عَلٰی ھُدًی : میں استعلاء کا مفہوم ایک تمثیل ہے جو ہدایت پر ان کے پورے قابو کو ظاہر کرنے اور اس پر پختگی سے قائم رہنے کو ظاہر کرتا ہے اور ہدایت کو اس طرح انہوں نے تھام رکھا ہے کہ کوئی آدمی کسی چیز پر غالب اور سوار ہو۔ اس کی مثال ھوعلی الحق وعلی الباطل ہے اور اہل عرب نے اپنے اس قول میں اس استعلاء کی وضاحت کردی ہے۔ جعل الغوایۃ مرکبا (اس نے گمراہی کو سواری بنایا) امتطی الجھل (اس نے جہالت کو سواری بنایا) اقتعد غارب الھٰوی (وہ خواہشات کی کوہان پر بیٹھا) ۔
ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ : (یعنی ان کو ہدایت ان کے رب کی طرف سے ملی ہے) ھدی کا لفظ نکرہ لائے۔ تاکہ اس سے یہ فائدہ حاصل ہو کہ ان کو ہدایت کی ایسی قسم حاصل ہے کہ جس کی حقیقت کو پہنچا نہیں جاسکتا۔
مقدر سوال کا جواب :
گویا کلام اس طرح تھا۔ کہ وہ کونسی ہدایت پر ہیں۔ تو جواب دیا گیا۔ ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ کہ وہ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں) اس کی مثال ہے لقد وقعت علی لحمٍ ۔ یعنی عظیم گوشت پر واقع ہوا۔
وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : (یہی لوگ آخرت کے گھر میں من مانی مراد پائیں گے) اور جس سے وہ خوف زدہ ہیں اس سے وہ نجات پانے والے ہیں۔
فلاح کیا ہے ؟
فلاح : تمنا کو پالینا المفلح تمنا کو پانے میں کامیاب۔ گویا کہ وہ ایسا شخص ہے جس کے لیے کامیابی کے راستے کھل گئے ہیں۔ یہ مرکب خود شق اور فتح کے معنی پر دلالت کرتا ہے۔ اسی طرح وہ الفاظ جن کا فاء اور عین کلمہ اسی طرح ہو مثلًا۔ فلق، فلذ، فل (پھٹنا، ٹکڑا، کند) ان میں پھٹنے کا مفہوم موجود ہوتا ہے۔
سوال : یہاں عطف کے ساتھ لایا گیا مگر دوسری آیت نمبر 79 اسورئہ اعراف میں اُولٰٓپکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ 1 اُولٰٓپکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ میں بغیر عطف ذکر کیا۔ دونوں جملے مفہوم کے لحاظ سے مختلف ہیں۔
جواب : خبروں کا مختلف ہونا خود عطف کا مقتضی ہے اور اعراف والی آیت میں غفلت اور بہائم سے مشابہت ایک چیز ہے۔ پس دوسرا جملہ گویا پہلے کی تقریر و پختگی کے لیے لایا گیا ہے اور اگر عطف لایا جاتا تو یہ مقصد پورا نہ ہوسکتا۔
ھُمْ : یہ فصل کے لیے لائے۔ اس کا فائدہ یہ ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس کے بعد خبر ہے۔ صفت نہیں۔
نمبر 2: ہم تاکید ہے اور اس بات کو لازم کر رہی ہے کہ مسند کا فائدہ مسندالیہ کے لیے ثابت ہے کسی دوسرے کے لیے نہیں۔
نمبر 3: یہ مبتدا ہے اور المفلحون اس کی خبر ہے۔
نکتہ : غور کریں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے متقین کا ان چیزوں کے ساتھ مخصوص ہونا باربار ظاہر کیا۔ جس کو مختلف راستوں والے نہیں پاسکتے۔
اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ اسم اشارہ لائے۔ اور اسم اشارہ دو بار لایا گیا۔ اس میں متنبہ کردیا کہ جس طرح انہوں نے ہدایت کو ترجیح دی ہے۔ اسی طرح وہ ہدایت انکی فلاح کی ضامن ہے۔ المفلحون کو معرفہ لا کر یہ بتلایا کہ متقین وہی لوگ ہیں، جن کے متعلق تمہیں اطلاع ملی ہے کہ وہ آخرت میں کامیاب ہونگے۔ اس کی مثال اسی طرح ہے کہ تمہیں اطلاع ملے کہ تیرے شہر کے کسی انسان نے توبہ کی۔ تو تم سے کسی نے پوچھا وہ توبہ کرنے والا کون ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا گیا۔ کہ وہ زید تائب ہے یعنی وہ وہی ہے جس کی توبہ کی تم کو خبر دی گئی ہے۔ درمیان میں فاصلہ کیا تاکہ تم پر ان کے مراتب ظاہر کر دئیے جائیں۔ اور تمہیں اس چیز کی طلب کے لیے رغبت دلائی جائے جس چیز کی طرف انہوں نے رغبت کی۔ اور جس کی طرف انہوں نے قدم اٹھایا۔ تاکہ تو بھی پورے نشاط سے اس کی طرف قدم بڑھائے۔ اے اللہ لباس تقویٰ سے زینت عنایت فرما۔ اور ان لوگوں کے گروہ میں ہمارا حشر فرما جن کے تذکرہ سے تو نے سورة بقرہ شروع فرمائی۔ آمین
Ayah 2:6ربط : جب اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ بندوں کا اپنے قرب والی صفات کے ساتھ تذکرہ فرمایا اور واضح کردیا کہ کتاب مقدس ان کے لیے ہادی ہے تو اس کے پیچھے ان کے ضد و مخالف لوگوں کو ذکر کیا۔ اور وہ انتہائی سرکش و نافرمان لوگ جن کے متعلق ہدایت فائدہ مند نہیں۔ فرمایا : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کفر سخت انکار سے حق کو چھپانا۔ کفر کے حروف کی ترکیب چھپانے پر دلالت کرتی ہے اسی لیے کسان پر کافر کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اسی طرح رات پر۔
عدم عطف کی وجہ :
سوال : یہاں حرف عطف نہیں لائے جیسا کہ سورة انفطار آیت 13، 14 (اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ ) میں عطف کے ساتھ ذکر کیا۔
جواب : ان دونوں آیات میں پہلا جملہ اعمال نامے کے تذکرہ کی وضاحت کے لیے لایا گیا۔ المؤ منین کی خبر نہیں ہے۔ اور دوسرا جملہ کفار کے اعمال نامے کی وضاحت کے لیے آیا ہے پس دونوں جملوں کی مراد میں تفاوت پایا جاتا ہے اور یہ ایسی حد بندی ہے کہ اس میں عطف کی کوئی مجال نہیں۔
نمبر 2: مقدر مان کر اس کو مبتداء بنائیں تو پھر مراد کفار سے وہ معینہ لوگ ہونگے۔ جن کا ایمان نہ لانا اللہ کے علم میں ہے۔ مثلًا ابو جہل، ابو لہب وغیرہ۔ سَوَآئٌ عَلَیْھِمْئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ ۔ کوفی قراء کے ہاں دوہمزہ کے ساتھ ہے سواء بمعنی استواء ہے اس سے صفت اسی طرح لائی جاتی ہے۔ جس طرح مصادر سے لائی جاتی ہے جیسا اللہ تعالیٰ کے ارشاد سورة آل عمران آیت نمبر 64 میں ہے۔” الی کلمۃٍ سوائٍ “ ای مستویۃ (برابر) یہ خبر ہونے کی بنا پر مرفوع ہے کیونکہ۔ ” أأنذرتھم “ اس کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے گویا اس طرح کہا گیا۔ ان الذین کفروا مستو علیھم انذارک وعدمہ۔ بیشک کافروں پر آپ کا ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے۔
نمبر 2 : نحو : سواء خبر مقدم ہے اور أأ نذر تھم ام لم تنذرھم۔ محل ابتدا میں ہے۔ یعنی سواء علیھم انذارک وعدمہ اور یہ تمام اِنَّ کی خبر ہے
قاعدہ :
فعل کو مبتدا بنانا درست ہے باوجود اس بات کے کہ فعل ہمیشہ خبر بنتا ہے۔ کیونکہ یہ اس کلام کی جنس میں سے ہے۔ جس میں معنی کا لحاظ کرتے ہوئے لفظ کا لحاظ چھوڑا گیا ہے۔ (یعنی مصدر کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے مبتدا بن گیا، مجازًا) ہمزہ اور اَمْ دونوں معنی استواء کو خالص کر رہے ہیں، اور استفہام کے معنی سے بالکل خالی ہیں۔
سبیویہ (رح) کا قول :
اس حرف استفہام کو اسی طرح لایا گیا ہے (یعنی تاکید وتقریر کے لیے) جیسا کہ اس قول میں حرف نداء لایا گیا۔ اللّٰھم اغفرلنا ایتھا العصابۃ۔ یعنی یہ صورت میں استفہام ہے مگر حقیقت میں استفہام نہیں۔ جیسا کہ صورت میں تو نداء ہے مگر واقعہ میں نداء نہیں۔
الانذار : گناہوں پر ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعہ اللہ کے عذاب سے ڈرانا۔
لَایُؤْمِنُوْنَ : نحو : نمبر 1 : یہ جملہ ما قبل جملے کی تاکید ہے۔
نمبر 2: ان کی خبر ہے۔ اور اس سے قبل جملہ معترضہ ہے یا دوسری خبر ہے۔
حکمت اور انذار :
کفار کے اصرار کا علم ہونے کے باوجود انذار میں حکمت یہ ہے کہ ان پر حجت قائم ہوجائے اور رسالت کا پیغام عام ہو اور رسول اللہ ﷺ کو ثواب ملے۔
تفسیر ختم :
خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ : (ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے) زجاج (رح) نے فرمایا۔ الختم۔ ڈھانپنے کو کہتے ہیں کیونکہ کسی چیز پر پختگی طلب کرنے کے لیے مہر لگا کر اس چیز کو ڈھانپا جاتا ہے۔ تاکہ اس کی کسی کو اطلاع نہ ہو۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دلوں پر مہر لگا کر ان کو اس طرح کا بنادیا کہ ان میں جو کفر گھسا ہوا ہے۔ وہ نکل نہیں سکتا۔ اور جو ایمان ان میں نہیں ہے وہ ان میں داخل نہیں ہوسکتا۔
ختم وطبع کا نتیجہ :
مہر کا مقصد اہل حق کے نزدیک دل میں ظلمت اور تنگی کا پیدا کرنا ہے جب تک وہ ظلمت اس کے دل میں رہتی ہے۔ وہ ایمان نہیں لاتا۔
معتزلہ کا مذہب :
دِلوں کے متعلق فرشتوں کو اطلاع دینا ہے کہ جس سے یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ کفار ہیں، تاکہ وہ ان کے لیے خیر کی دعانہ کریں، بلکہ ان پر لعنت بھیجیں۔ بعض نے کہا۔ کہ خَتَمَ کی اسناد اللہ تعالیٰ کی طرف مجازی ہے۔ اور خاتم حقیقت میں کافر ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے جب اس کو قدرت اور اختیار دیا۔ تو اس کی طرف خَتَمَکا اسناد جس طرح فعل کی نسبت کی طرف کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ” بنی الامیرا لمدینۃ “ امیر نے شہر بنایا۔ کیونکہ فعل کی کئی ملابسات ہیں۔
نمبر 1: فاعل سے ملابست، مفعول بہٖ سے، مصدر، مکان، زمان اور مسبب لہ سے ملابست بس فعل کی نسبت فاعل کی طرف تو حقیقی ہے اور دوسروں کی طرف مجازی ہے۔ کیونکہ فعل کے ساتھ فاعل کی ملا بست میں مشابہت رکھتے ہیں، جیسا کہ آدمی شیر کے ساتھ جرأت میں مشابہت رکھتا ہے پس بطور استعارہ اس کو شیر کہہ دیتے ہیں یہ مسئلہ خلق افعال کی فرع ہے۔
سمع کی مراد :
وَعَلٰی سَمْعِھِمْ : (اور ان کے کانوں پر) نحو : سمع کو واحد لایا گیا۔ جس طرح عرب کے ہاں اس قول میں بطن واحد ہے۔ کلوا فی بعض بطنکم تعفوا : کیونکہ التباس کا خطرہ نہیں۔ سمع کا لفظ اصل کے لحاظ سے مصدر ہے کہا جاتا ہے کہ سمعت الشیء سمعا وسماعًا۔ مصدر کی جمع نہیں آتی۔ کیونکہ وہ اسم جنس ہوتا ہے۔ تو قلیل و کثیر سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں تثنیہ جمع کی محتاجی نہیں پس اصل کی جھلک رہتی ہے۔
نمبر 2: یہ بھی کہا گیا کہ اس کا مضاف محذوف ہے۔ یعنی ان کے سننے کے مقامات پر۔
قراءت : ایک قراءت وَعَلٰٰٓی اَسْمَاعِہِمْ ہے۔
وَعَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ : (اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے) نحو : رفع کے ساتھ خبر اور مبتدا ہے۔
البصر : آنکھ کی روشنی۔ وہ چیز جس سے دیکھنے والا دیکھتا ہے جس طرح کہ بصیرت نور قلب کو کہتے ہیں اور وہ چیز ہے جس سے غور وفکر کی جاتی ہے۔ الغشاوہ۔ ڈھکنا، یہ غشاہ یعنی اس کو غشی کے لفظ کی ترتیب کسی چیز پر مشتمل ہونے کیلئے آتی ہے جیسے العصابۃ (پٹی) العمامہ (پگڑی) القلادہ (ہار) اسماع بھی مہر کے معنی میں داخل ہے۔ تغشیہ (ڈھانپنے کے حکم میں داخل نہیں ہے اسکی دلیل سورة جاثیہ آیت نمبر 23۔ وَخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشَاوَۃً ہے۔ کہ سمع پر ختم کا لفظ لایا گیا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ سمعھم پر وقف ہے قلو بھم پر نہیں۔ جعل کو مضمر مان کر صرف غشاوہ اکیلے ہی کو نصب دیا ہے۔ علٰی سمعھم میں جار کو دوبارہ لائے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں جگہوں پر مضبوط مہر ہے۔
شیخ ابو منصور (رح) کا قول :
شیخ ابو منصور (رح) نے کہا، جب کافر نے حق کی بات نہیں سنی۔ اور اپنی طرف اور دیگر مخلوق کی طرف بھی نگاہ نہیں ڈالی کہ اس مخلوق کے حادث ہونے کے آثار کو دیکھ کر وہ معلوم کرلیتا۔ کہ اس کا کوئی بنانے والا ہے پس اللہ تعالیٰ نے اس کو اس طرح قرار دیا۔ گویا اس کی آنکھوں اور کانوں پر پردہ پڑا ہے۔ اگرچہ حقیقت میں ایسا نہ ہو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسماع ان کے ہاں تغشیہ کے حکم میں داخل ہے۔ آیت ہمارے حق میں اور معتزلہ کے خلاف حجت ہے کہ اللہ تعالیٰ اصلح کو بندوں کے لیے اختیار فرمانے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ میں نے انکے دلوں پر مہر لگا دی۔ اور اس میں شک نہیں کہ مہر کا چھوڑ نا ان کے لیے زیادہ اصلح ہو۔
Ayahs 2:7–10وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ : (اور آخرت میں ان کو بڑا عذاب ہونے والا ہے) عذاب کا لفظ نکال کی طرح ہے بناوٹ ومعنی ہر دو لحاظ سے کیونکہ تم کہو گے۔ اعذب عن الشیٔ یعنی جب وہ کسی چیز سے رک جائے جیسا کہتے ہیں نکل عنہ وہ اس سے باز آیا۔
عظیم و کبیر کا فرق :
یہ ہے کہ عظیم حقیر کے بالمقابل آتا ہے۔ کبیر صغیر کے مقابل آتا ہے گویا عظیم کبیر سے بڑھ کر ہے جیسا حقیر صغیر سے کمتر ہے۔ یہ دونوں اجسام واحداث کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلًا کہو گے رجل عظیم و کبیر۔ مراد یہ ہوگی کہ اس کا جسم بڑا ہے یا رعب بڑا ہے۔
نکرہ لانے کی وجہ :
غشاوۃ کو نکرہ لائے کہ ان کی آنکھوں پر ایک قسم کا پردہ ہے یہ وہ پردہ نہیں جس کو لوگ پردہ کہتے ہیں اور ان کے لیے بڑے دکھوں میں سے ایک بڑی قسم سے عذاب دیا جائے گا۔ جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
تذکرئہ منافقین :
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : (اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان لائے) ۔
ربط : اللہ تعالیٰ نے سورت کو شروع فرمایا۔ ان لوگوں کے تذکرہ سے جو دین میں اخلاص اختیار کرنے والے ہیں۔ اور ان کی زبانیں اور دل حق کی موافقت کرنے والے ہیں پھر دوسرے نمبر پر ان لوگوں کا ذکر کیا جو دل و زبان سے کافر ہیں تیسرے نمبر پر منافقین کا ذکر کیا جو منہ سے ایمان لائے مگر دل ان کے مومن نہیں۔ یہ کفار کی خبیث ترین قسم ہے کیونکہ انہوں نے ایمان کے ساتھ کفر کو تمنا و استہزاء کی بناء پر ملالیا۔ اس لیے ان کے بارے میں سورة نساء کی آیت نمبر 45 1: ان المنٰٰفقین فی الدرک الاسفل من النار۔ اتری۔
قول مجاہد :
مجاہد (رح) فرماتے ہیں سورة بقرہ کی شروع کی چار آیات میں ایمان والوں کی تعریف اور دو آیات میں کفار کا تذکرہ اور تیرہ آیات میں منافقین کا تذکرہ ہے ان میں ان کے مکر خبائث۔ حماقت بتلائی اور ان کی جہالت کا پردہ چاک کیا اور مثال کے طور پر ان کی مجنونانہ حرکات ظاہر کیں اور ان کی سرکشی اور اندھے پن پر مہر لگا دی اور ان کو بہرہ گونگا اندھا قرار دیا اور ان کیلئے بدترین مثالیں بیان فرمائیں منافقین کے واقعہ کو اول سے آخر تک کفروا کے واقعہ پر عطف فرمایا۔ جیسا کہ جملہ کا عطف جملہ پر ہوتا ہے۔
الناس کا اصل أناس ہے ہمزہ کو بطور تخفیف کے حذف کرلیا۔ اور ہمزہ کا حذف لام تعریف کی صورت میں لازم کی طرح ہے۔ کیونکہ الا ناس۔ نہیں بولا جاسکتا اور اس کا اصل انسان ” واناسی، انس “ اس پر استشہاد کے لیے کافی ہے۔
انسان کی وجہ ٔ تسمیہ :
انسان کو انسان کہنے کی وجہ ان کا ظاہر ہونا اور اس لیے بھی کہ ایک دوسرے سے مانوس ہوتے ہیں۔ یعنی دیکھتے ہیں۔
جبکہ جن کو جن ان کے چھپنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ ناسٌ کا وزن فعال ہے، کیونکہ وزن کی بنیاد اصل پر ہوتی ہے یہ اسم جمع ہے لام تعریف اس میں جنس کے لیے آیا ہے۔ مَنْ موصوفہ ہے یَقُوْلُ ۔ اس کی صفت ہے گویا عبارت اس طرح ہے ناس یقولون کذا (لوگوں میں سے بعض لوگ اس طرح کہتے ہیں)
وجہ ذکر ایمان باللہ والیوم الآخرۃ :
یہاں ایمان باللہ اور یوم آخرت کو انہوں نے خاص طور پر ذکر کیا۔ حالانکہ وہ ایسا وقت ہے جو آکر رہے گا۔ اور وہ ایسا ہمیش ہے جس میں انقطاع نہیں اس کو یوم آخرت اس لیے فرمایا کیونکہ وہ ختم ہونے والے اوقات سے پیچھے آنے والا ہے۔
نمبر 2: نشر کے اس محدود وقت کے بعد ہے۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے۔ کیونکہ منافقین کو وہم پیدا ہوا کہ انہوں نے ایمان کی دونوں جانبین اول وآخر کا احاطہ کرلیا، اور یہ اس لئے کہ مسائل اعتقادیہ کا مرجع مبدأ ہے اور مبدأ کی حقیقت صانع کا علم اور اس کی صفات واسماء کا معلوم کرنا ہے اور معاد کے اٹھائے جانے کا علم، ، قبور سے اٹھانا، پل صراط، میزان اور آخرت کے دیگر تمام احوال ہیں۔ باء کی وجہ : باء کو دوبارہ لا کر اشارہ کردیا انہوں نے دونوں پر اپنے ایمان کے صحیح اور مستحکم ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ اس ارشاد الٰہی کے مطابق ہے۔ وَمَاھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ، (حالانکہ وہ مومن نہیں) گویا باء کو لا کر ان کے دعویٰ کی مکمل تردید کردی)
نحو : وَمَاھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ میں فاعل کی حالت کو ذکر کیا نہ کہ فعل کی اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِمیں فعل کی حالت کو ذکر کیا نہ کہ فاعل کی۔ کیونکہ مقصود ان کے دعوے کا انکار ہے اور انتہائی بلیغ ومؤکد انداز سے اس کی نفی ہے کہ ان کا گروہ مؤمنوں کی جماعت سے خارج ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد المائدہ آیت نمبر : 3 یریدون ان یخرجوا من النار وما ھم بخارجین منھا۔ میں اس طرح ہے۔ اور یہ انداز کلام۔ ” مایخرجون منھا “ کہنے کی نسبت زیادہ بلیغ ہے۔
ایک نکتہ :
ایمان کو دوسری آیت میں مطلقاً ذکر کیا۔ جبکہ پہلی میں مقید۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں احتمال ہیں۔
نمبر 1: تقیید مراد لیں اور اس پر دلالت آنے کی وجہ سے تقیید کو چھوڑ دیں۔
نمبر 2ـ: یہ بھی احتمال ہے کہ اصل ایمان کی نفی مراد لیں اور اس کے ضمن میں وہ نفی آجائے جو پہلے مذکور ہوئی ہے۔
ردِ کر امیہ :
آیت میں فرقہ کر امیہ (کے باطل عقیدہ) کی تردید ہے کہ ایمان صرف زبانی اقرار کو کہتے ہیں کیونکہ آیت میں منافقین کے ایمان کی نفی کی گئی ہے۔ حالانکہ اقرار تو ان کا موجود تھا۔ یہ آیت اہل سنت کے قول کی تائید کرتی ہے۔ کہ ایمان اقرار زبانی اور تصدیق جنانی کا نام ہے۔ ماجو نفی کی تاکید کے لئے لایا گیا اس کی خبر پر باء داخل ہے تاکہ سامع جب اول کلام سے غافل ہو تو شدت انکار پر اسی سے استدلال کرسکے۔
مَنْ ۔ لفظًا واحد ہے اسی لئے یقول کا فعل واحد لائے اور معنی کا لحاظ کرکے لائے۔
تفسیر یُخٰـدِعُوْنَ اللّٰہَ :
(اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دھوکے کا معاملہ کرتے ہیں)
نمبر 1: یعنی رسول اللہ ﷺ کو دھوکہ دیتے ہیں اس مضاف کو اسی طرح حذف کردیا جیسا فرمان خدا وندی سورة یوسف آیت نمبر 87 وَسْئَلِ الْقَرْیَۃَ (اے اہل قریہ) ابوعلی وغیرہ نے اسی طرح کہا۔ مطلب یہ ہوا کہ ایسی چیز ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔
مخادعت کا معنی :
ال خداع : نفس کے اندر جو کچھ ہو اس کے الٹ ظاہر کرنا۔
نکتہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کے مرتبہ کو معظم و بلند کیا۔ کہ آپ کے دھوکہ دئیے جانے کو اپنا خدا قرار دیا جیسا کہ سورة فتح آیت نمبر 10۔” میں اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَ یْدِیْھِمْ “ حضور ﷺ کے دست اقدس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ قرار دیا۔
نمبر 2: یہ بھی کہا گیا وہ اپنے زعم کے مطابق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ کی ذات ان میں سے ہے۔ جن کو دھوکہ دینا صحیح ہے یہ تمثیل اکثر دو سے زیادہ کے لیے استعمال ہوتی ہے مثلًا تم کہو گے۔ عاقبت اللص۔ میں نے چور کو سزا دی۔ یہ یخدعون بھی پڑھا گیا ہے۔
نحوی تحقیق :
نحو : نمبر 1: یہ یقول کا بیان ہے۔ نمبر 2 یا جملہ مستانفہ ہے۔ گویا کہا گیا کہ وہ جھوٹے ایمان کا کیوں دعویٰ کرتے ہیں اس میں ان کا کیا فائدہ ہے۔
جواباً کہا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دھوکہ کرتے ہیں اور اس میں ان کی منفعت یہ ہے۔ کہ کفار کی طرح ان سے لڑائی نہیں کی جاتی۔ اور مؤمنین کے احکامات ان پر لاگو ہیں۔ اور وہ غنائم سے حصہ پاتے ہیں۔ وغیرہ
صاحب الوقوف کا قول :
صاحب الوقوف نامی کتاب کے مصنف نے کہا کہ ” مؤمنین “ پر وقف لازم ہے کیونکہ وصل کرنے میں تقدیر عبارت یہ بن جائے گی۔ وما ھم بمؤمنین مخادعِین خدا کے وصف کی نفی ہوجائے گی جیسے کہ تم کہو۔ ماھوبرجل کا ذب وہ جھوٹا آدمی نہیں۔ حالانکہ یہاں تو مقصد ان کے ایمان کی نفی اور خدا کا ان کے لیے ثابت کرنا ہے۔
نمبر 2: جنہوں نے یخادعون کو یقول کی خبر سے حال قرار دیا اور یقول کو اس میں عامل قرار دیا تو ان کے مطابق تقدیر عبارت اس طرح ہوگی۔ یقول اٰمنا با للّٰہ مخادعین۔ وہ کہتے ہیں ہم تو اللہ پر ایمان لائے حالانکہ وہ دھوکہ دینے والے ہیں۔
نمبر 3: بمؤمنین : نحو : یہ یقول کی ضمیر سے حال ہے اور اس کا عامل اسم فاعل ہے اس صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی۔
وماھم بمؤمنین فی حال خدا عھم : (وہ اپنے دھوکہ کی حالت میں مومن نہیں ہوسکتے) اس صورت میں مؤمنین پر وقف بھی نہ ہوگا۔ پہلی ترکیب۔ سب سے بہتر ہے۔
” وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا “ (اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں) وہ رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین کو ایمان ظاہر کرکے اور کفر چھپا کر دھوکہ دیتے ہیں۔
وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ (حالانکہ وہ دھوکہ نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو) وہ یہ دھوکہ بازوں کے ساتھ ملا جلامعاملہ اپنی جانوں کے ساتھ کرتے تھے۔ کیونکہ اس کا نقصان انہی کو پہنچے گا۔ اور ان کے دھوکے کا نچوڑ آخرت کا عذاب ہے جو ان کی طرف لوٹ آیا۔ پس گویا انہوں نے اپنے آپ کو دھوکہ دیا۔ ابو عمرو۔ نافع اور ابن کثیر مکی نے۔ مطابقت کے لیے۔ ” مایخادعون “ پڑھا ہے
مگر پہلے لوگوں کو عذریہ ہے کہ خدع اور خادع۔ اس جگہ ایک معنی دیتے ہیں (اس لیے اسی طرح پڑہیں گے) ۔
نفس کی مراد :
النفس : کسی چیز کی ذات و حقیقت کو کہتے ہیں۔ پھر یہ دل اور روح کے لیے بھی کہا جانے لگا۔ کیونکہ نفس کا قیام انہی دو پر ہے۔ اسی طرح خون کو بھی نفس کہتے ہیں۔ کیونکہ نفس کا قوام خون سے ہے۔ اور پانی کو بھی نفس کہتے ہیں۔ کیونکہ نفس کو اس کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔” انفس “ سے یہاں مراد انکی ذاتیں ہیں۔ معنی یہ ہوگا۔ اپنی ذاتوں کو دھوکہ دینے کے سبب دھوکہ ان کو چمٹنے والا ہے۔ ان سے آگے تجاوز نہیں کرتا۔
Ayahs 2:11–12وَمَایَشْعُرُوْنَ : (اور وہ محسوس نہیں کرتے) ۔
نتیجہ :
ان کے دھوکہ کا نتیجہ دوسروں کی طرف سے ان کی طرف ہی لوٹنے والا ہے۔
معنی شعور :
الشعور : کسی چیز کا حس سے معلوم کرنا۔ یہ شعار سے لیا گیا ہے۔ شعار وہ کپڑا ہے جو جسم کے قریب ہوتا ہے (بنیان وغیرہ)
مشاعر الانسان : انسانی حواس کو کہتے ہیں کیونکہ شعور کے آلات یہی ہیں۔ اب معنی یہ ہوگا۔ ان کو اس کا ضررحسی چیز کی طرح پہنچ رہا ہے۔ اور وہ اپنی طویل غفلت کی وجہ سے اس شخص کی طرح ہوگئے ہیں جس میں حس ہی نہ ہو۔
فِیْ قُلُوْ بِھِمْ مَّرَضٌ : (ان کے دلوں میں بیماری ہے) یعنی شک ونفاق، شک، دو معاملوں میں تردد کو کہتے ہیں۔ اور منافق مترددہوتا ہے۔
حدیث میں فرمایا : مثل المنافق کمثل الشاۃ العائرۃ بین الغنمین۔ (احمد، مسلم، نسائی) منافق کی مثال اس بکری جیسی ہے جو دونوں گلوں سے الگ ہو۔
مریض :
موت و زندگی کے درمیان متردد ہوتا ہے۔ کیونکہ مرض صحت کی ضد ہے۔ اور فساد صحت کے مقابل ہے۔ اسی وجہ سے ہر بگاڑ کا نام مرض بن گیا۔ شک اور نفاق یہ دل کے فساد ہیں۔
فَزَا دَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا : (پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری بڑھا دی) یعنی غلبہ سے کمزوری اور اقتدار سے عاجزی اور بڑھ گئی یہ بھی کہا گیا۔ کہ اس سے مراد نفاق کا پیدا کرنا ہے جبکہ اس جیسا نفاق ان کے دلوں میں پہلے ہی تھا جیسا کہ زیادتی ایمان میں معلوم ہوچکا۔
وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌم : (اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے) ۔
نحویوں کا قول :
نحو : الیم فعیل کے وزن پر بمعنی مفعل ہے یعنی مولم (دردناک)
بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ : (اس سبب سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے) یعنی ٰامنا باللہ وبالیوم الاٰخر کے قول میں جھوٹ کے سبب۔ ما، فعل کے ساتھ مل کر مصدر کا معنی دے رہا ہے۔ کسی چیز میں پائی جانے والی حقیقت کے خلاف اس چیز کے متعلق خبر دینا۔
دیگر قرائ :
یُکَذِّبُوْنَ پڑھتے ہیں۔ یعنی ان چیزوں کی تکذیب کر کے جن کو آپ لے کر آئے ہیں۔ بعض نے کہا۔ یہ کذب میں مبالغہ کے لیے لایا گیا۔ شدید سے لائے، جیسا کہ صدق میں مبالغہ کے لیے کہتے ہیں۔ صدق۔ ان دونوں کی نظیربان اور بین کا لفظ ہے۔
وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ : (جب ان سے کہا گیا) اس کا عطف یقول اٰمنّا پر ہے کیونکہ جب تم اس طرح کہو گے۔ کہ لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے۔ (لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ ) (کہ زمین میں فساد مت مچائو) تو یہ تعبیر صحیح ہے۔
اصلاح و فساد :
الفساد : کسی چیز کا اس کی درست حالت اور فائدہ مند حالت سے نکل جانا اس کی ضد الصلاح ہے۔
الصلاح : صلاح کسی چیز کو اس کی درست ونفع بخش حالت میں پالینا۔
فساد فی الارض : سے مراد لڑائی اور فتنے کا بھڑکانا۔ کیونکہ اس کی وجہ سے زمین میں جو چیزیں ہیں۔ ان کو بگاڑنا۔ اور لوگوں کے حالات اور کھیتوں اور منافع دینی و دنیوی کو میانہ روی سے ہٹا نا ہے۔ منافقین کا زمین میں فساد یہ تھا۔ کہ وہ کفار کو مائل کرتے اور مسلمانوں کے راز کھول کر کفار کو مسلمانوں کے خلاف آمادہ برشرارت کرتے اور ابھارتے۔ اور یہ امر فتنوں کے بھڑکانے کا باعث بنتا تھا۔
قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ : (وہ کہتے ہیں بیشک ہم اصلاح کرنے والے ہیں) ہم مؤمنوں اور کافروں میں حسن سلوک سے درستگی واصلاح کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اصلاح کی صفت خاص ہم میں پائی جاتی ہے اور ہمارے ساتھ مخصوص ہے اس میں ممانعت کا کوئی شائبہ اور فساد کی کوئی صورت ملی ہوئی نہیں ہے۔
فائدہ : اٰمنَّا کا کلمہ کسی چیز میں حکم کو بند کرنے کے لیے آتا ہے۔ یا کسی چیز کو حکم میں بند کرنے کیلئے آتا ہے۔ جیسے کہتے ہیں۔ انما ینطلق زیدٌ۔ بیشک زید جانے والا ہے اور کوئی نہیں بیشک زید ہی کاتب ہے اور کچھ نہیں۔ مَا۔ کافہ ہے کیونکہ یہ ان کو عمل سے روک دیتا ہے۔
اَلآَ اِنَّھُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ : (سنو یہی لوگ فسادی ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں) بیشک وہی فسادی ہیں۔ مفعول کے معلوم ہونے پر حذف کردیا۔