Ayah 2:12 حروف مقطّعات اور ان کا معنیٰ و مفہوم ؟ : ایسے حروف کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کو حروف تہجی کی طرح علیحدہ علیحدہ طور پر پڑھا جاتا ہے، ملا کر ایک کلمے کی طرح نہیں پڑھا جاتا۔ مکررات کو حذف کرنے کے بعد یہ کل چودہ حروف رہ جاتے ہیں جو انتیس مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں۔ ان کے معانی کے بارے میں حضرات مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ مثلا یہ کہ ان میں اعجاز قرآن کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن حکیم انہی معانی اور ان ہی حروف و کلمات سے مرکب ہے جن سے تمہارا اپنا روز مرہ کا کلام۔ مگر اس کے باوجود اگر تم لوگ اس کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت کی نظیر و مثال لانے سے بھی قاصر ہو اور قرآن حکیم کی زوردار تحدّی اور بار بار کے چیلنج کے باوجود۔ اور تمہاری حق سے کھلم کھلا عداوت و دشمنی اور اعلانیہ بغض وعناد کے باوصف تم لوگ اس کلام معجز نظام کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہو، جو خود تمہاری اپنی زبان میں ہے اور جس میں اپنی فصاحت و بلاغت پر تم لوگوں کو بڑا ناز ہے، جبکہ اس کلام حکیم کو اس نبی امی نے پیش فرمایا ہے جنہوں نے کبھی ایک حرف بھی با ضابطہ طور پر کسی انسان سے نہیں پڑھا۔ اور جو اپنے ہاتھ سے لکھنا بھی نہیں جانتے تھے۔ تو یہ کس قدر کھلا ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ قرآن حکیم کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں کے خالق ومالک حضرت حق جَلَّ جَلَاُلہ کا کلام ہے۔ اور جس طرح وہ خود بےمثل ہے اسی طرح اس کا کلام بھی بےمثل ہے۔ جبکہ بعض دوسرے حضرات کے نزدیک یہ حروف مقطّعات دراصل عربی فصاحت و بلاغت کے قدیم دستور کے مطابق اصل مقصود سے قبل یونہی بطور توطئہ و تمہید لائے جاتے ہیں۔ اور بعض نے ان کو مختلف سورتوں کے نام قرار دیا ہے اور بعض نے ان کلمات کے مختلف معانی بھی بیان کئے ہیں۔ مثلًا یہ کہ " المّٓ " کا معنی ہے " اَنَا اللّہ اَعْلَم " اور " اَلٓر " کا معنی ہے " اَنَا اللّہ اَرَی " وغیرہ۔ مگر ان تمام اقوال کا تعلق ظن وتخمین ہی سے ہے، کوئی مستقل سند اور ٹھوس ثبوت ان کے لئے موجود نہیں۔ اس لئے ثقہ اور محتاط علماء کرام کا کہنا یہی ہے کہ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے اسرار میں سے ایک سرّ ہے، جس کے حقیقی معنی وہی جانتا ہے۔ ہمارے ذمے بس یہ یقین و اعتقاد ہے کہ ان کی جو بھی مراد ہے وہ برحق ہے۔ چناچہ امام رازی (رح) جیسے محققین کا کہنا ہے۔ " اِنَّ ہٰذَا عِلْمٌ مَّسْتُوْرٌ وَسِرٌّ مَحْجُوْبٌ اِسْتَأثَرَ اللّٰہ تَعَالَی بِہٖ " ۔۔ (کبیر، محاسن، ابن کثیر وغیرہ) ۔ یعنی " یہ ایک ایسا مخفی علم اور پوشیدہ راز ہے جس کو اللہ پاک نے اپنے ساتھ خاص فرمایا ہے "۔ سو ایسے میں محض ظن وتخمین کی بنا پر ان کے پیچھے لگنے کی اور اپنے طور پر ان کے معانی و مطالب بیان کرنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسے تخمینی معانی و مطالب کی کوئی استنادی اور یقینی حیثیت ہوسکتی ہے کہ ان کی تصدیق کیلیے قرآن وسنت کی کوئی نص موجود نہیں۔ اور نص کے بغیر کسی چیز کو قطعی نہیں مانا جاسکتا کہ یقین کا ذریعہ بہرحال نص ہی ہوسکتی ہے۔
Ayah 2:23 شک و شبہ سے بالاتر کتاب : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کتاب حکیم میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں نہ اس کے منجانب اللہ ہونے میں اور نہ اس کے ان معانی و مضامین کے بارے میں جن پر یہ مشتمل ہے۔ مگر اس کے باوجود اگر کوئی اس میں کسی بھی طرح کا شک کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے فکر و ادراک کے قصور اور فساد طبع کا نتیجہ ہے۔ اگر نصف النہار میں کوئی سورج کے وجود میں شک کرنے لگے تو اس کا کیا علاج ہوسکتا ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ ورنہ یہ کتاب حکیم " آفتاب آمد دلیل آفتاب " کے مصداق اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل خود ہے۔ اور یہ اس نوعیت کی ایک اور صرف ایک ہی کتاب ہے۔ نہ اس سے پہلے اس کی کوئی نظیر و مثال ہوئی ہے اور نہ قیامت تک کبھی ممکن ہے۔ اور یہ پیغمبر کا علمی معجزہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس کتاب حکیم میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ جو شک کرتا ہے وہ دراصل اس کے اپنے فہم و ادراک کا قصور اور اس کی کج فہمی اور زیغ طبع کا نتیجہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔۔ ( معارف للکاندھلوی و محاسن للدمشقی وغیرہ ) ۔ " ریب " دراصل دل کے قلق اور اضطراب کو کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ۔۔ " دَعْ مَا یُرِیْبُکَ اِلٰی مَا لاَ یُرِیْبُکَ " ۔ یعنی " اس چیز کو جس میں کھٹکا اور اضطراب ہو چھوڑ کر اس چیز کو اپنایا کرو جس میں کوئی کھٹکا اور اضطراب نہ ہو "۔ (مسند احمد : ج 3، ص 153، طبع حلب عن انس بن مالک ؓ بہرکیف یہ کتاب حکیم ہر قسم کے شک وشبہ سے پاک اور اس سے اعلیٰ وبالا ہے۔
4 یہ کتاب سراسر ہدایت ہے : کہ اس کتاب حکیم کی طرف صدق نیت سے جس پہلو سے بھی رجوع کیا جائے گا یہ حق و ہدایت کی دولت اور علم و عرفان کی روشنی سے نوازے گی۔ پس لفظ " ھُدی " کا جو ترجمہ " ہدایت دینے والی " یا اس طرح کے بعض دوسرے الفاظ سے کیا جاتا ہے جیسا کہ عام طور پر اردو تراجم میں پایا جاتا ہے تو وہ اس لفظ کا پورا اور صحیح ترجمہ نہیں۔ کیونکہ " ہدایت دینے والی " وغیرہ تعبیرات دراصل ترجمہ ہیں " ہادی " کا، جو کہ اسم فاعل ہے۔ جبکہ یہاں " ہادی " نہیں " ھُدی " فرمایا گیا ہے۔ جو کہ اسم مشتق نہیں، مصدر ہے۔ اور مصدر کا حمل و اطلاق مبالغہ کے لئے ہوتا ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ میں اس لفظ کے اسی مصدری پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وَاللّٰہُ الْمُوَفِقُّ لِکُلّ خَیْرٍ وَہُوَ الْہَادِيْ اِلَی سَوَائ الِصِّرَاط۔ بہرکیف یہ کتاب سراسر ہدایت و راہنمائی اور ہر اعتبار سے اور ہر موقع پر راہ دکھانے والی کتاب عظیم ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ بہرکیف یہ کتاب حکیم ایسا سرچشمہ ہدایت اور مشعل راہ ہے کہ شکوک و شبہات اور اوہام و خرافات کی ظلمتیں اس سے دور ہوجاتی ہیں۔ اس کی ہر بات میزان عقل پر تلی ہوئی اور اس کا ہر بیان شافی و کافی اور مدلل و مبرہن ہے۔ سو یہ کتاب حکیم شک و ارتیاب کے مریضوں کے لیے دوائے شافی اور علاج وافی ہے۔ سو اس سے اعراض کرنے والے بڑے ہی محروم اور بدبخت ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔۔
5 تقویٰ و پرہیزگاری باعث سعادت و سرفرازی : سو قرآن حکیم کے متقیوں کیلئے ہدایت ہونے کا مطلب و مفہوم یہی ہے کہ فائدہ اس سے وہی حضرات اٹھا سکتے ہیں جن میں تقوی و پرہیزگاری اور خوف خداوندی کی یہ بنیادی صفت موجود ہو، ورنہ اس کتاب حکیم کی ہدایت و راہنمائی سب دنیا جہاں کے لئے عام ہے، اور یہ بات عقل و نقل کے عین مطابق ہے۔ سو اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جیسے ہسپتال میں ہر بیماری کا علاج و انتظام موجود ہوتا ہے، مگر فائدہ تو صرف انہی کو پہنچ سکتا ہے جو دوا اور علاج کی ضرورت محسوس کریں اور اس کے لیے وہ ہسپتال کی طرف رجوع کریں۔ اسی طرح اس کتاب ہدایت سے ہدایت کی دولت انہی لوگوں کو مل سکتی ہے، اور وہی اس سے صحیح طریقے سے اور بجا طور پر مستفید و فیضیاب ہوسکتے ہیں، جو ہدایت کے طالب ہوں، اور تقوی کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں، اور نور ہدایت کی صحیح اور سچی طلب اور تڑپ کے ساتھ اس کی طرف رجوع کریں، سو ایسوں کو یہ کتاب عزیز و حکیم دولت حق و ہدایت سے نوازتی، اور ایسا نوازتی ہے کہ اس کی دوسری کوئی نظیرو مثال ممکن ہی نہیں، اور جو اس کی طرف رجوع نہیں کرتے وہ محروم ہی رہتے ہیں، والعیاذ باللہ جل و علا۔ بہرکیف جو اس کی طرف رجوع کریں گے اور وہ خدا سے ڈرتے ہوں گے، ان کے لیے یہ سراسر ہدایت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔۔
Ayah 2:36 ایمان بالغیب ہی مدار صلاح و فلاح ہے : سو غیبی حقائق پر ایمان رکھنا، قرآن حکیم سے استفادہ کیلئے اولین تقاضا ہے۔ پس ہدایت وغوایت کے لئے یہی ایک بنیادی اور مرکزی نقطہ ہے کہ غیبی حقائق جیسے حضرت حق جل جلالہ کی ذات وصفات، جنت و دوزخ اور ملائکہ وغیرہ پر، دین حق کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق بن دیکھے سچے دل سے ایمان لایا جائے، ورنہ کل قیامت کے دن جب پردہ ہٹ جانے کے بعد یہ حقائق منکشف ہو کر سب کے سامنے آجائیں گے، تو اس وقت سب ہی ان کو مانیں گے، اور خوب مانیں گے، مگر وہ ماننا نہ تو کسی درجے میں معتبر ہوگا اور نہ ہی اس سے آج کے ان منکرین کو کسی بھی درجہ میں کوئی فائدہ پہنچ سکے گا۔ کیونکہ دیکھنے کے بعد کا وہ ماننا ایمان بالمشاھدہ ہوگا۔ جبکہ مطلوب ایمان بالغیب ہے یعنی بن دیکھے ماننا، قرآن پاک میں اس بنیادی نقطہ کو بار بار اور طرح طرح سے اجاگر کیا گیا ہے مثلاً سورة مریم میں ارشاد ہوتا ہے۔ { اَسْمِعْ بِہِمْ وَ اَبْصِرْ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لکِن الظَّالِمُوْنَ الْیَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ۔۔ (مریم : 38) " کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے یہ لوگ اس دن جبکہ یہ آپہنچیں گے ہمارے پاس، لیکن آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں (ڈوبے) پڑے ہیں " سو ایمان بالغیب دارین کی فوز و فلاح اور اصلاح و نجاح کی اصل اساس و بنیاد ہے ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَ ثَبِّتْنَا عَلَیْہ بِمَحْض مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن ۔ بہرکیف متقی اور پرہیزگار لوگوں کی صفات میں سب سے اہم اور بنیادی صفت ایمان بالغیب کی صفت ہے، جو کہ باقی صفات کیلئے اساس اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے یہاں سب سے پہلے اسی کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ اس سے استفادے کے لیے اولین شرط یہی ہے۔ اور جس درجے کا تقویٰ ہوگا اسی درجے کی سرفرازی ہوگی۔
7 اِقامت صلوٰۃ اور اس کی اہمیت : یعنی اس کو اس کے پورے حقوق و آداب کی رعایت و پاسداری کے ساتھ ادا کرتے ہیں، ایمان و عقیدہ کے بعد سب سے پہلا فریضہ اور اہم کام جو مومن کے ذمے عائد ہوتا ہے وہ ہے فریضہ صلوٰۃ کی ادائیگی، اسی لئے نماز کو ایمان و کفر کے درمیان فارق و فاصل قراردیا گیا ہے۔ " یُقِیْمُوْنَ "، " اِقَامَۃ " سے بنا ہے جس کے معنی بالکل سیدھا رکھنے کے ہیں، یعنی وہ اس کے حقوق، اور ارکان و واجبات وغیرہ کو پوری طرح ادا کرتے ہیں " اَی یَاْتُوْنَ بِہَا بِحُقُوْقِہَا " (جلالین، ابن کثیر، محاسن التاویل، وغیرہ) ۔ سو صرف نماز پڑھنا مقصود نہیں بلکہ اس کو قائم کرنا مقصود ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم میں نماز کے بارے میں جہاں بھی حکم وارشاد ہوا ہے وہاں پر نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ نماز قائم کرنے ہی کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورة ہود میں ارشاد فرمایا گیا ۔۔ { اَقِم الصَّلَاۃَ طَرَفَی النَّہَار وَ زُلَفًا مِّنَ اللَّیِلِ } ۔۔ ( ہود : 1 14) ۔ یعنی " نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں بھی "۔ نیز سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ۔۔ { اَقِم الصَّلَاۃَ لِدُلُوْک الشَّمْس اِلٰی غَسَق اللَّیِل } ۔۔ ( بنی اسرائیل : 78) یعنی " نماز قائم کرو سورج ڈھلنے سے لے کر رات کے اندھیرے تک "۔ اور اسی طرح دوسری مختلف آیات کریمات میں بھی اقامت صلاۃ ہی کا ذکر ہے۔ سو اصل مقصد اقامت صلاۃ ہے نہ کہ محض ظاہری طور پر نماز پڑھ لینا اور بس ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔۔
8 " ما رزقنا " کا مفہوم اور اس کا عموم و شمول : " ما رزقنا " سے اگرچہ عموماً مال و دولت ہی مراد لیا جاتا ہے لیکن کلمہ " ما " کا عموم اللہ پاک کی بخشی ہوئی سب ہی نعمتوں کو محیط اور شامل ہے، خواہ وہ مال و دولت اور روپیہ پیسہ ہو، یا علم و فضل اور زبان وبیان کی قوت، یا حکومت و اقتدار کا زور اور غلبہ ہو، یا جسمانی طاقت و استطاعت، یا دین و ھدایت کی دولت جو ان سب نعمتوں سے بڑھ کر ہے، سو یہ لوگ ایسی تمام ہی نعمتوں سے مخلوق کی بہتری اور بھلائی و خیرخواہی کا سامان کرتے، اور اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی چاہتے ہیں، کیونکہ رزق کے اصل معنی صرف روزی ہی کے نہیں، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ رزق کے معنی اصل لغت میں بخشش وعطاء کے ہیں، چناچہ مفسر مراغی مرحوم لکھتے ہیں " الرِّزْقُ ہُوَ الْعَطَائُ " اور عطاء کا مفہوم ان سب ہی امور کو شامل ہے۔ پس ان تمام نعمتوں کا وجوہ خیر میں صرف کرنا، اور ان کو حضرت حق جل مجدہ کی رضا و خوشنودی کا ذریعہ بنانا اصل مطلوب و مقصود ہے ۔ فَاِیَّاکَ نَسْال اللّٰہُمَّ التَّوْفِیْقَ لِذَالِکَ وَالسَّدَادَ وَالثَّبَاتَ عَلَیْہ ۔ سو انسان کو ملنے والی ہر نعمت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اور اسی کا عطیہ و احسان ہوتی ہے، اس لیے اس کا حق یہ ہے کہ انسان اس کو اللہ تعالیٰ کا عطیہ و احسان سمجھ کر اسی کی راہ میں اور اسی کی رضا کیلئے صرف کرے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔۔
9 " اِنفاق فی سبیل اللہ " کیلئے بنیادی شرائط اور اہل بدعت کے ایک مغالطے کا جواب : اس میں نفقات واجبہ و نافلہ کی وہ سب ہی صورتیں آجاتی ہیں، جو شریعت کی تعلیمات مقدسہ کی رو سے ایک مومن صادق سے مطلوب و مقصود ہوتی ہیں، مگر اس ضمن میں تین بنیادی شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ وہ مال حلال کا ہو، کیونکہ حرام مال سے کیا جانے والا صدقہ صحیح اور صریح احادیث نبویہ کی رو سے اللہ تعالیٰ کے یہاں شرف قبولیت حاصل نہیں کرسکتا۔ دوسرا یہ کہ اس انفاق میں نیت صحیح ہو کہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو، ریاء و نمود کے شوائب کے شامل ہوجانے سے نیک عمل اللہ پاک کے یہاں قابل قبول نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور تیسری بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ عمل سنت کے مطابق ہو، اس کے لئے کوئی بدعی طریقہ نہ اپنایا گیا ہو، کیونکہ ہر بدعی عمل صاف وصریح احادیث کی رو سے مردود ہے، پس اہل بدعت کے جن لوگوں نے اس آیت کریمہ کے عموم سے ان مختلف بدعات اور رسوم و رواج کے لئے دلیل کشید کرنے کی کوشش کی، جو کہ برصغیر کے بعض ملکوں میں مختلف ناموں سے پائی جاتی ہیں وہ سراسر باطل و مردود ہے، کیونکہ یہ وہ بدعات ہیں جن کا قرآن وسنت اور خیرالقرون میں کوئی ثبوت و وجود ہے ہی نہیں، نہ پیغمبر کے عمل سے ان کا کوئی ثبوت ملتا ہے، نہ صحابہ وتابعین کے دور میں ان کا کوئی وجود ہے، اور نہ ائمہ مجتہدین کے یہاں ان کا کوئی اتہ پتہ ہے، اور نہ ہی ارض حرمین شریفین اور دیار مقدسہ میں ان کا آج تک کوئی نام ونشان ہے، یہ برصغیر ہند و پاک وغیرہ کے کچھ عجمی ملکوں کی پیداوار ہے، یہاں تک کہ ان کے نام بھی عربی نہیں، بلکہ ان میں استعمال ہونے والے بعض حروف جیسے حرف " گ " اور حرف " چ " وغیرہ سرے سے عربی زبان ہی میں نہیں پائے جاتے، اس سب کے باوجود ان بدعی اعمال کو قرآنی آیت کا مصداق قرار دینا تحریف اور صریح ظلم نہیں تو اور کیا ہے ؟ والْعِیَاذ باللّٰہ جل وعلا ۔۔
Ayah 2:410 " مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ " سے مراد اور اس کی عظمت شان : اس سے مراد ہے قرآن حکیم، (محاسن، مدارک، وغیرہ) ۔ سو یہی کتاب حکیم ہے جو اپنی اصلی شکل میں موجود و محفوظ ہے، اور جو گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کے اصل اور بنیادی مطالب و مضامین کی محافظ و امین ہے۔ اسی لئے اس کو دوسری جگہ " مُہَیْمِن " یعنی شرائع سابقہ کے اصول و مبادی کی پاسدار و نگہبان قرار دیا گیا ہے، اور صرف یہی وہ آسمانی کتاب ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت و عنایت سے ہر طرح کی تحریف و تغییر سے اب تک محفوظ و مامون ہے، اور قیامت تک محفوظ و مامون رہے گی، اور اب سلامتی و نجات صرف اسی سے وابستگی میں محصور و منحصر ہے، اس کے بغیر سلامتی و نجات کی کوئی راہ ممکن نہیں، فَالْحَمْدُ لِلّٰہ اَلَّذِیْ ہَدَانَا لِہٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلاَ اَنْ ہَدَانَا اللّٰہ ۔ بہرکیف قرآن حکیم کے نزول کے بعد ہدایت و نجات اس پر ایمان اور اس کی اطاعت و اتباع کے بغیر ممکن نہیں۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " آج اگر موسیٰ اور عیسیٰ خود بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اطاعت و اتباع کے بغیر چارہ نہیں تھا۔ اور قرآن کی شرح اور تفسیر سنت رسول ہے۔ اس لیے قرآن پر ایمان اور اس کی تعلیمات کو ماننے کا لازمی نتیجہ اور قطعی تقاضا سنت رسول کو ماننا اور اس کی پیروی کرنا ہے۔ اور یہی دو بنیادیں ہیں دین متین کی۔ اور اسی پر مدارو انحصار ہے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔۔
1 1 { مَااُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ " } سے مراد ؟ اور اس پر ایمان رکھنے کا مطلب ؟ : یعنی تورات، انجیل اور زبور وغیرہ جملہ آسمانی کتب جو اس سے قبل نازل ہوچکی ہیں، ان پر اجمالی ایمان رکھتے ہیں کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، اور اپنے اپنے وقتوں میں وہ مشعل راہ، اور ہدایت و نور کا منبع و سرچشمہ تھیں، مگر قرآن حکیم کے آجانے کے بعد وہ سب منسوخ ہوگئیں، کیونکہ یہ اللہ پاک کی طرف سے اس کی مخلوق کے لئے آخری ہدایت نامہ ہے، جو کہ اپنی کامل و مکمل شکل میں موجود ہے، اور جسے قیامت تک کے تمام انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے نازل فرمایا گیا ہے، سو یہی کتاب حکیم ہے جو سب کی جامع اور جملہ آسمانی کتابوں کے اصولی مباحث و مطالب کی امین و پاسدار، اور گزشتہ تمام کتب و صحف کی ناسخ ہے، (معارف القرآن وغیرہ) ۔ سو اب نجات صرف اسی کتاب حکیم کی پیروی و اتباع سے مل سکتی ہے، ورنہ نہیں۔
12 " اَلآخِرَۃ " سے مراد ؟ اور ایک قادیانی دجل و فریب کا جواب : " اَلآخِرَۃ " مونث ہے " اَلاٰخر " کی، جو کہ ضد ہے " الأول " کی اور یہ صفت ہے " الّدَّار " کی، یعنی " الدَّار الآخرۃ " اور اس کو " آخرہ " اس لئے کہتے ہیں کہ یہ دنیا کے مقابلے میں " آخرہ " ہے، (ابن کثیر، المراغی، المحاسن، الصفوۃ وغیرہ) جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر ارشاد فرمایا گیا ہے مثلاً ارشاد ہوتا ہے { وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ } الایۃ (العنکبوت : 64) ۔ پس اس کی وہ تاویل و تفسیر باطل و مردود ہے جو قادیانی دجالوں نے اپنی مطلب برآری کے لئے کی ہے۔ وَالْعِیَاذ باللَّہ الْعَظِیْمِ ۔ بہرکیف آخرت یعنی قیامت کا ایمان و یقین چونکہ ایک نہایت ہی اہم اور بنیادی عقیدہ ہے، اس لئے اس کو خاص طور پر اور الگ کرکے بیان فرمایا گیا ہے، کہ یہ وہ بنیادی عقیدہ ہے جس سے انسانی زندگی کا رخ ہی بدل جاتا ہے، اور جو لوگ اس کے یقین سے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہ قطعی طور پر صحیح راستے سے محروم اور خائب و خاسر ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللَّہ الْعَظِیْم ۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے ۔۔ { وَاِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُوْمِنَوْنَ بالْآخِرَۃ عَن الصِّرَاط لَنَاکِبُوْنَ } ۔۔ " اور بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں وہ قطعی طور پر سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں " (المومنون : 74) مگر عقیدہ آخرت کے اس انقلاب آفریں اثر کے لئے ضروری ہے کہ اس بارے میں محض سرسری ایمان و عقیدہ نہ ہو، بلکہ پکا اور پختہ یقین پایا جاتاہو، اسی لئے یہاں پر ایمان کا نہیں یقین کا ذکر فرمایا گیا ہے، اس لئے کہ آخرت کے پختہ ایمان و یقین ہی سے انسان کی زندگی میں حقیقی معنوں میں انقلاب برپا ہوسکتا ہے ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنَ الْیَقِیْن بالآخِرَۃ و بما یشرفنا بمرضاتک یا ذا الجلال والاکرام ۔۔
Ayah 2:513 سیدھی راہ سے مراد ؟ اور اس کی عظمت شان : یعنی اس عظیم الشان شاہراہ پر جو حقیقی منزل تک لے جانے والی صحیح اور صاف راہ ہے، جس میں کسی کجی یا ناکامی کا کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ یہ راہ رب رحمن کی طرف سے ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس راہ حق و ہدایت سے سرفرازی دراصل دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے اور اس سے محرومی درحقیت دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان و یقین کی راہ ہی صحت و سلامتی کی وہ راہ ہے، جس سے انسان کو اس دنیا میں حیات طیبہ کی سعادت نصیب ہوتی ہے، اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی نصیب ہوگی، وباللہ التوفیق۔ سو صراط مستقیم کے اپنانے پر دارین کی سعادت و سرخروئی موقوف ہے۔ اور اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ دراصل دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی اور دارین کی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔۔
Ayah 2:614 فلاح کا مفہوم اور اس کی عظمت شان کا بیان : یعنی ایسے لوگ اس اصل اور حقیقی کامیابی سے سرفراز ہوں گے جو ان کو دوزخ سے پناہ اور جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی کی شکل میں نصیب ہوگی، اور وہی ہوگی اصلی اور حقیقی کامیابی، کیونکہ وہاں پر مومن صادق کو وہ کچھ ملے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا، نہ کسی کان نے سنا ہوگا، اور نہ ہی کسی بشر کے دل پر اس کا گزر ہی ہوا ہوگا، جیسا کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے صاف اور صریح طور پر مروی ہے، اور وہاں پر مومن صادق کو وہ کچھ ملے گا جو اس دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتا، جس کے لئے دو بنیادی پہلوؤں کے اعتبار سے موازنہ کافی ہے۔ ایک یہ کہ وہاں پر اہل جنت کی ہر خواہش پوری ہوگی کیونکہ انہوں نے دنیا میں " خدا چاہی " زندگی گزاری تھی، تو اس کے صلے میں حضرت حق جلَّ جَلَالُہ اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت سے ان کو وہاں پر " من چاہی " زندگی عطاء فرمائے گا، جو وہ چاہیں گے وہ ان کو ملے گا، اور جو خواہش وہ کریں گے وہ پوری ہوگی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔۔ { ولَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہاَ مَا تَدَّعُوْنَ } ۔ (حمٓ السجدۃ۔ 3 1) اور ظاہر ہے کہ یہ شان دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کیلئے بھی ممکن نہیں، کیونکہ اس دنیا میں نہ ایسا کوئی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے جس کی ہر خواہش پوری ہو، اور دوسری امتیازی شان اہل جنت کی یہ ہوگی کہ ان کو وہاں پر " خلود و دوام " اور ہمیشہ کی زندگی نصیب ہوگی۔ نہ وہ نعمتیں کبھی ختم ہوں گی، اور نہ ہی جنتی کو ان سے کبھی محروم کیا جائے گا، اور وہاں پر " خُلُوْدٌ لَا مَوْتَ فِیْہ وَلا زَوَال " کا عالم ہوگا، جبکہ دنیا میں ان دونوں میں سے کسی ایک کا بھی کوئی سوال نہیں، سبحان اللہ، کیا کہنے رب کریم و وھّاب کی اس بخشش و عطا کے۔ اللہ نصیب فرمائے (آمین) ۔ سو اخروی فوز و فلاح اور نعیم جنت کے یہ وہ دو اہم اور بنیادی پہلو ہیں جو دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتے، کیونکہ دنیا میں کوئی بڑے سے بڑا بادشاہ بھی ایسا نہیں ہوسکتا جس کی ہر خواہش پوری ہو، اور دنیا کی کوئی نعمت بھی ایسی نہیں ہوسکتی جو کہ دائمی ہو۔ سو اس سے اخروی کامیابی اور وہاں کی دائمی شاہانہ زندگی کی عظمتوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پس اس منظر کو اگر سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اس دنیائے فانی کی کوئی کامیابی بھی درحقیقت پوری کامیابی نہیں، کیونکہ اول تو اس کی ہر کامیابی میں طرح طرح کے نقائص، عیوب، اور خطرات موجود ہوں گے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ نعمت جتنی بھی بڑی اور عظیم الشان کیوں نہ ہو، آخر فانی اور زائل ہونے والی ہی ہے۔ پس جو لوگ اس دنیائے دوں کی کسی بھی کامیابی کو اصل اور حقیقی کامیابی سمجھتے ہیں، وہ بڑے خطاکار اور برخود غلط ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللَّہ الْعَظِیْم ۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ اخروی کامیابی پانے والوں کیلئے اس دنیا میں محرومی اور ناکامی ہی ہے، نہیں اور ہرگز نہیں، بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ حضرت حق جل جلالہ جو اپنے نیک بخت اور سعادت مند بندوں کو آخرت کی اس حقیقی کامیابی سے بہرہ ور فرمائے گا، وہ اس سے پہلے اس دنیا میں بھی ان کو حیات طیبہ (پاکیزہ زندگی) اور سچی عزت و ناموری، اور دوسری طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا، اور سرفراز فرماتا ہے، مگر یہ ان کے عمل کا اصل اور پورا بدلہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک طرح کا زائد انعام و اکرام ہوتا ہے، جس سے وہ محض اپنی عنایت و مہربانی سے اپنے نیک بندوں کو ان کے ایمان و عمل صالح کی بناء پر یہاں نوازتا ہے۔ اصل اور پورا بدلہ تو وہ ان کو آخرت ہی میں عطاء فرمائے گا۔ پس اصل اور حقیقی کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے، جس کا تذکرہ قرآن حکیم میں جابجا اور طرح طرح سے فرمایا گیا ہے، مثلًا " سورة آل عمران " کی آیت 185 میں ارشاد ہوتا ہے { کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْت، وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃ، فَمَنْ زُحْزِحَ عَن النَّار وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ، وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا الاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ } ۔ (آل عمران۔ 185) " ہر جان نے موت کا مزہ بہرحال چکھنا ہے، اور تمہیں تمہارے پورے اجر (اے لوگو ! ) قیامت کے دن ہی مل سکیں گے، سو جو (خوش نصیب اس روز) دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ یقینی طور پر (حقیقی) کامیابی سے سرفراز ہوگیا، اور دنیا کی یہ زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں "۔ اَللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰی ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حقیقی فوز و فلاح ایمان و یقین کے بغیر ممکن نہیں۔
15 " کَفَرُوْا " کا اصل مفہوم اور کافروں کی وجہ محرومی : سو ہمارے اس ترجمہ سے وہ تمام اشکالات خود بخود ختم ہوگئے جو لفظ " کَفَرُوَا " کے ظاہری ترجمہ پر عموماً وارد ہوتے ہیں، اور حضرات مفسرین کرام کو ان کے جوابات کے لئے لمبی چوڑی وضاحت کی زحمت اٹھانا پڑتی ہے، کیونکہ ہمارے اس ترجمہ سے اصل مفہوم واضح ہوگیا کہ یہاں پر یہ بیان ان ضدی اور ہٹ دھرم کافروں سے متعلق ہے جو اپنے کفر پر اڑ گئے، اور وہ ایمان لانا چاہتے ہی نہیں، سو ایسے بدبختوں کو اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ زبردستی نور حق و ہدایت اور نعمت ایمان سے نہیں نوازتا، جیسا کہ " سورة ھود " کی آیت نمبر 28 میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَنُلْزِمُکُمُوْہَا وَاَنْتُمْ لَہَا کٰرِہُوْنَ } ۔ " کیا ہم اس (نعمت ہدایت) کو زبردستی تم سے چپکا دینگے جبکہ تم لوگ اس سے نفرت ہی کرتے ہو ؟ " استفہام یہاں پر انکاری ہے، یعنی ایسے نہیں ہوسکتا، کہ یہ زبردستی کا سودا تو سرے سے ہے ہی نہیں، یہ تو اللہ پاک کی وہ نعمت کبریٰ ہے جس سے وہ اپنی رحمت بےنہایت اور کرم بےغایت کی بناء پر اپنے بندوں کو محض ان ہی کے بھلے کے لئے نوازنا چاہتا ہے، مگر اس کے لئے اولین شرط اور بنیادی تقاضا یہ ہے کہ طلب صادق کا جوہر انسان کے اندر موجود ہو، تو پھر وہ ضدی اور ہٹ دھرم منکر و کافر لوگ جو اپنی ضد وعناد اور ہٹ دھرمی سے طلب صادق کے اس جوہر گراں بہا کو ہی ضائع کرچکے ہوں، وہ نور ہدایت کی نعمت سے کیونکہ سرفراز ہوسکتے ہیں ؟ پس ان لوگوں کی یہ محرومی اور بدنصیبی ان کی اپنی ہی اختیار کردہ ہے، اور اس کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ایسے ضدی اور ہٹ دھرم لوگ نور ایمان سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو طلب صادق اللہ تعالیٰ کی عنایات سے سرفرازی کا ذریعہ ہے، اور عناد و ہٹ دھرمی محرومی کا باعث۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم مِنْ کُلّ زَیْغٍ وَّ ضَلَالٍ وَّسُوْئٍ وَّ اِنْحِرَاف ۔ اور ہٹ دھرم لوگ چونکہ ماننا چاہتے ہی نہیں۔ اس لیے ان کے لیے ہمیشہ کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔
16 عناد و ہٹ دھرمی کا نتیجہ و انجام محرومی ۔ وَالْعِیَاذ باللَّہ : کیونکہ یہ لوگ ضد اور ہٹ دھرمی پر آئے ہوئے ہیں، اور ضد، ہٹ دھرمی، اور " میں نہ مانوں " (I never agree) کا لازمی اور منطقی نتیجہ یہی ہوتا ہے، کہ ایسے لوگ حق و ہدایت کی دولت سے محروم ہوجاتے ہیں، والعیاذ باللہ۔ سو اب یہ لوگ حق کے وضوح کے لئے ہر نشانی آجانے کے بعد بھی حق کو قبول نہیں کریں گے، جیسا کہ سورة یونس میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے پاس اگر ہر نشانی بھی آجائے تو بھی انہوں نے ایمان نہیں لانا، یہاں تک کہ یہ دیکھ لیں اس دردناک عذاب کو (جو ان کیلئے مقدر ہوچکا ہے) ( سورة یونس : 96 ۔ 97) سو عناد اور ہٹ دھرمی باعث محرومی ہے اور طلب صادق ذریعہ سرفرازی، زمین کا وہی خطہ سرسبز و شاداب ہوتا اور گل و گلزار بنتا ہے جو باران رحمت کو اپنے اندر جذب کرتا ہے، اور جس کی صلاحیت اور سختی کی بناء پر پانی اس کے اندر اتر ہی نہ سکے، وہ محروم کا محروم اور ویران کا ویران ہی رہتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم، سو بندے کو چاہئے کہ حق بات دل سے سنے اور مانے، وباللہ التوفیق۔
Ayah 2:717 " ختم قلوب " کا مفہوم اور اس کا سبب اور باعث : سو اس طرح انہوں نے اپنی فطری استعداد کو ضائع کرکے، اور اپنے آپ کو نور حق سے محروم کرکے، اپنی جانوں پر خود ظلم کیا، کہ حق و ہدایت سے محرومی درحقیقت ہر خیر سے محرومی ہے ـ ـــوَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ـ ورنہ اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ تو اپنے بندوں پر کبھی بھی اور کسی بھی طرح ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں کرتا، جیسا کہ کلام حکیم میں اس کی جابجا تصریح فرمائی گئی ہے، مثلاً سورة توبہ کی آیت نمبر 70 میں ارشاد فرمایا گیا { فَمَا کَان اللّٰہُ لِیَظْلِمَہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ } ۔ (توبہ : 70) " سو اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ (بدبخت) اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کر رہے تھے " اور یہی بات سورة عنکبوت آیت نمبر 40 اور سورة روم آیت نمبر 9 اور دوسرے مقامات پر بھی ارشاد فرمائی گئی ہے۔ اور اس کے علاوہ قرآن حکیم کے دوسرے بیشمار مواقع پر بھی اسی بات کو دوسرے مختلف طریقوں سے بیان فرمایا گیا ہے۔ سو " ختم قلوب " کی اس محرومی کا سبب اور باعث ان لوگوں کا خود اپنا عمل و کردار اور سوء اختیار ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو جس طرح کسی ظرف پر مہر لگنے سے نہ اس کے اندر کی کوئی چیز باہر نکل سکتی ہے، اور نہ باہر سے کوئی چیز اس کے اندر جاسکتی ہے، اسی طرح کا حال ایسے محروم دلوں کا ہوتا ہے، جو اپنی ہٹ دھرمی کی بناء پر اپنی فطری استعداد کو ضائع کردیتے ہیں، کہ نہ ان کے اندر کا کفر باہر نکل سکتا ہے اور نہ باہر سے ایمان و ہدایت کی روشنی کی کوئی کرن ان کے اندر جاسکتی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ ایسے ہٹ دھرم لوگ حق بات کو سننے اور ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ تو پھر ایسوں کو دولت ہدایت سے سرفرازی کیسے نصیب ہوسکتی ہے ؟۔
18ٓ " غشاوۃ " سے مقصود و مراد ؟: سو غشاوۃ یعنی آنکھوں کے اس پردے سے مراد وہ معنوی پردہ ہے جو انسان کو نور حق و ہدایت سے محروم کردیتا ہے والعیاذ باللہ، اور آنکھوں پر پڑنے والا ایسا پردہ جو اگرچہ ظاہر میں نظر نہیں آتا، لیکن وہ اتنا سنگین اور اس قدر سخت اور ہولناک ہے کہ انسان کو نور حق سے محروم کردیتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ ـ اور ظاہر ہے کہ جب ان کے دلوں پر مہر لگ گئی، اور ان کے کانوں پر ڈاٹ لگ گئے، اور ان کی آنکھوں پر پٹی بندھ گئی، تو پھر حق کی روشنی ان کو نصیب ہو تو کہاں سے، اور کیسے ہو ؟ کیونکہ اس کے سب منافذ بند، اور تمام راستے مسدود ہوگئے۔ پس ان کی آنکھیں، ان کے دل، اور ان کے کان، جو دنیاوی اشیاء کو دیکھنے سننے اور سمجھنے اور پرکھنے کے لئے تو بہت تیز ہیں، حق سے محروم، اور بند ہوگئے، جیسا کہ دوسری جگہ اس کی اس طرح تصریح فرما دی گئی { لَھُمْ قُلُوْبٌ لاَّ یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَلَھُمْ اَعْیُنٌ لاَ یُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُونَ بِھَا اُولٓئِکَ کَالْاَنَعاَم بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُوِلٓئِکَ ھُمُ الُغَافِلُوْنَ } ۔ (الاعراف : 179) " ان کے دل ہیں کہ جن سے یہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے یہ (سامان عبرت کو) دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں، جن سے یہ (حق کو) سنتے نہیں۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی کہیں بڑھ کر گمراہ۔ یہی لوگ ہیں جو (اپنے مقصد زندگی اور اپنے ہولناک انجام سے) غافل و (بےخبر) ہیں۔ اور یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے حق سے منہ موڑنے، اِعراض برتنے اور عناد و ہٹ دھرمی سے کام لینے کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
19 اَخیار و متقین کے مقابلے میں اشرار و منکرین کے انجام کا بیان : سو اس سے اخیار و متقین کے مقابلے میں اشرار و منکرین کے انجام کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے سو یہ ہے اشرار و کافرین کا انجام جو ان کو اپنے کئے کی پاداش میں بہرحال بھگتنا ہوگا۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اور یہ پرہیزگاروں کے بالمقابل ان کفار ناہنجار کے انجام بد اور مآل سو کا بیان ہے، جو حق سے محرومی کے باعث ان کو پیش آئے گا ۔ وَلاَحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ الاّ بِہٖ جَلَّ وَعَلاَ ۔ اور یہ عذاب اس قدر بڑا، اور اتنا سخت اور شدید ہوگا کہ اس دنیا میں اس کا تصور بھی کسی کے لئے ممکن نہیں۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم۔ سو جس کافر کا انجام یہ ہونے والا ہے، اس کو اگر حیات دنیا کی اس محدود و مختصر فرصت میں دنیا بھر کی دولت بھی مل جائے، تو بھی اس کو کیا ملا، اور اس کے مقابلہ میں جس مومن صادق کو اس کے ایمان و یقین کی برکت سے اور اس کے نتیجے میں دوزخ کے اس ہولناک عذاب سے بچا کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز کردیا گیا، اس سے بڑھ کر خوش نصیب اور کون ہوسکتا ہے، اگرچہ اس کو دنیا میں پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہ ہوا ہو، سو اصل دولت ایمان و یقین کی وہ دولت ہے جو دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن، اور حیات آفرین و سدا بہار دولت ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِنِعْمَۃ الْاِیْمَان اللّٰھُمَّ فَثَبِّتْنَا عَلَیْہ وزِدْ نَا مِنْہُ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمیْن وَیَا اَکْرَمَ الْاَکْرَمِیْنَ ۔ بہرکیف کفر و انکار اور عناد و ہٹ دھرمی کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ہے اور نہایت ہی ہولناک اور دائمی ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 2:820 منافقین کا ذکر اور ایک بدعی مغالطے کا جواب : سو یہاں سے تیسرے گروہ یعنی منافقین کا ذکر شروع ہوتا ہے، جو کہ زبانی کلامی تو ایمان کا دم بھرتے اور دعوی کرتے ہیں، مگر اندر سے یہ لوگ کافر اور منکر ہوتے ہیں۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم۔ یہ لوگ چونکہ مار آستین کی طرح کھلے کافروں سے بھی زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہوتے ہیں، اس لئے یہاں ان کا ذکر نسبتاً زیادہ تفصیل سے فرمایا گیا ہے، اور اسی بنا پر ان کا عذاب بھی زیادہ سخت ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ المُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْک الْاَسْفَل مِنَ النَّارِ } ۔ (النساء۔ 145) یعنی " منافق لوگ یقینی طور پر دوزخ کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوں گے "۔ اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں نے اس موقع پر یہ گوہر افشانی بھی کی ہے کہ " اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو بشر کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے انکار کا پہلو نکلتا ہے اسی لئے قرآن پاک میں جا بجا انبیاء کرام کے بشر کہنے والوں کو کافر فرمایا گیا اور درحقیقت انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کفار کا دستور ہے " ۔ فَاِنَّا لِلّٰہ وِاِنَّا اِلَیْہ رَاجِعُوْنَ ۔ کہاں کی بےتکیاں کہاں جوڑ دیں۔ نہ کوئی جوڑ نہ ربط۔ پھر یہ کہنا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر کھلا افترا ہے کہ قرآن پاک میں جا بجا انبیاء کرام کو بشر کہنے والوں کو کافر فرمایا گیا ہے، جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ قرآن پاک میں جا بجا تو درکنار کسی ایک مقام پر بھی ایسا نہیں فرمایا گیا، بلکہ اس کے برعکس امر واقعہ یہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیھم الَّصلٰوۃُ والسّلام نے اپنی بشریت کا اظہار و اعلان خود فرمایا، اور صاف وصریح طور پر، اور حصرو تاکید کے الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے، مثلاً سورة ابراہیم میں ہے ۔ { قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلَی مَنْ یَّشَاءُ مِنْ عِبَادِہ } ۔ ( سورة ابراہیم : 1 1) سو حضرات انبیاء کرام علیھم الّصلوٰۃ والسلام کا اجماعی قول کفار و مشرکین کے جواب میں اس طرح ذکر فرمایا گیا ہے یعنی رسولوں نے ان سے کہا کہ " لوگو ! واقعتا ہم تم ہی جیسے بشر ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے "۔ چناچہ اس نے ہم پر احسان فرما کر اور ہمیں منصب نبوت و رسالت کے لئے چن کر خاص شرف سے نواز دیا، سو اپنی اصل کے اعتبار سے ہم بھی تم ہی جیسے بشر اور انسان ہیں، البتہ وصف رسالت کے اعتبار سے تم سے ممتاز ہیں، اور خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا گیا کہ اپنی بشریت کا صاف اور صریح طور پر اعلان کرو اور کہو کہ میں صرف ایک انسان اور بشر رسول ہوں۔ کسی خدائی صفت کا کوئی شائبہ تک نہ مجھ میں ہے، اور نہ ہی میں نے کبھی اس طرح کوئی دعوی ہی کیا ہے ۔ { قُلْ ہَلْ کُنْتُ الاَّ بَشَرًا رَّسُوْلاً } ۔ (بنی اسرائیل : 93) اس ارشاد ربانی میں " ھَل " نافیہ اور " الا " استثنائیہ کے کلمات حصرو تاکید کے ساتھ اس حقیقت صادقہ کو مؤکد کر کے بیان فرمایا گیا ہے، اور بعض دوسرے مقامات پر تو آپ ﷺ کو { بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ } " تم ہی جیسا بشر " کے الفاظ کے ساتھ اپنی بشریت کے اعلان و اظہار کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے، مثلاً سورة کہف کی آخری آیت کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے۔ { قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحَی اِلَیَّ } ۔ (ان سے) " کہو کہ میں تو تم ہی لوگوں جیسا ایک (انسان اور) بشر ہوں، بس میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے " (الکہف : 1 10) ۔ سو وحی کے اس شرف و امتیاز کی بنا پر میرا مرتبہ و مقام سب سے بڑھ گیا ورنہ اپنی اصل کے اعتبار سے میں تم ہی جیسا ایک بشر اور انسان ہوں۔ اس کے علاوہ صحیح احادیث شریفہ کی بیشمار نصوص ایسی ہیں جن میں بشریت پیغمبر ﷺ کی اس حقیقت صادقہ کا واضح طور پر اعلان فرمایا گیا ہے۔ مثلًا صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اس بارے میں صاف اور صریح طور پر اعلان فرمایا : ۔ ” ِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ " ۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 58، صحیح مسلم ج 1 ص 2 12) ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : " اَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ یُوْشِکُ اَنْ یَأ تِیْنِی رَسُوْلُ رَبِّیْ فَاُجِیْبْ لَہ " (مسند احمد ج 6 ص 36 ولہ، و مسلم ج 2 ص 279، دارمی 424) اور ترجمان القرآن۔ " حِبْرُ ہٰذِہ الْاُمَّۃ " حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : " وَاِنَّہٗ لَبَشَرٌ " (دارمی ص 23) اور امُّ المومنین حضرت عائشہ ؓ آنحضرت ﷺ کے شمائل کے ضمن میں ارشاد فرماتی ہیں ۔ " مَاکَان الاَّ بَشرًا مِنَ الْبَشَر " ۔ " کہ آپ ﷺ عام انسانوں کی طرح ایک انسان ہی تھے " یعنی اپنی اصل فطرت اور طبیعت کے اعتبار سے، (شمائل ترمذی 24، الادب المفرد للبخاری، ص 79، موارد الظمآن ص 525) ۔ پس کس قدر ظلم ہے کہ اس طرح کی بیشمار نصوص کے باوجود، سلف و خلف سے ثابت و مروی اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق، بشریت انبیاء کے اس بنیادی عقیدے کا انکار کیا جائے۔ اور اس سے بڑھ کر ظلم و ستم یہ کہ اس انکار کو قرآن حکیم کی تفسیر کے نام سے رواج دینے کی کوشش کی جائے، اور اس سے بھی بڑھ کر یہاں تک افتراء پردازی کی جائے کہ قرآن پاک میں انبیائے کرام کو بشر کہنے والوں کو جا بجا کافر فرمایا گیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ اور اس طرح کی ہرزہ سرائی افتراء علی اللہ نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور اللہ تعالیٰ پر افترا باندھنے والوں سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے ؟ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّن اِفْتَرَی عَلَی اللَّہ کَذِبًا ۔ وَالْعَیَاذ باللَّہ الْعَزِیْز الرَّحْمٰن۔ سو ایسے لوگوں نے اس طرح تحریف قرآن کے سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کیا، وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ـ اَللّٰہُمَّ اَلْہِمْنَا مَرَاشِدَ أمُوْرِنَا وَأعِذْنَا مِنْ شُرُوْر اَنْفُسِنَا وَسَیِّئَات اَعْمَالِنَا یَا ذَا الْجَلاَل وَالاِکْرَامِ-
21 ایمان کے دعوے کے باوجود بےایمان والعیاذ باللہ : کیونکہ ایمان صرف زبانی جمع خرچ اور ظاہری اعلان و اظہار کا نام نہیں، بلکہ ایمان عبارت ہے اس اعتقاد جازم سے جو دل کے اندر موجود اور اس کے رگ و ریشے میں پیوست ہو۔ اور اس کا اقرار و اظہار الفاظ اور زبان سے کیا جائے۔ تو پھر اعتقاد قلبی سے محروم، اس طرح کے برخود غلط لوگ مومن (ایماندار) کس طرح ہوسکتے ہیں ؟۔ سو ایسے لوگ اپنے ایمان کے بلند بانگ دعو وں کے باوجود دولت ایمان و یقین سے محروم ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ایمان بھی وہ معتبر ہے جو دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق ہو، ورنہ محض اور فی الجملہ ایمان تو مشرکین اور اہل کتاب بھی رکھتے تھے، مگر وہ ایمان اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل اعتبار نہیں کہ وہ معیار مطلوب کے مطابق نہیں۔ بہرکیف ایمان سے مقصود و مراد چونکہ وہ ایمان ہے جو کہ دل کے یقین اور اعتقاد و تصدیق سے پھوٹتا ہو اور اس سے یہ منافق لوگ چونکہ محروم ہیں اس لیے یہ لوگ ایمان کے دعوے کے باوجود نور ایمان و یقین سے محروم اور بےایمان ہیں۔ پس ایمان کا صرف دعویٰ درکار نہیں بلکہ اس کی اصل اور حقیقت مطلوب ہے جو عبارت ہے تصدیق قلبی اور اقرار لسانی سے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 2:922 منافق لوگ اور ان کی دھوکے بازی : کہ یہ لوگ دھوکہ دیتے ہیں اللہ کو اور ایمان والوں کو۔ یعنی اپنے خیال کے مطابق، کہ اپنے طور پر یہ لوگ یوں سمجھتے ہیں کہ اس طرح اندر کچھ اور باہر کچھ کی اس منافقانہ پالیسی سے یہ حقیقت حال کو پوشیدہ رکھ کر اپنی بڑی مہارت اور چالاکی دکھا رہے ہیں، حالانکہ یہ ان کی پرلے درجے کی حماقت تھی، اور ہے، بھلا اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کو جو کہ " عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْر " ہے کسی طرح کا کوئی دھوکہ دینا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ سو اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جو لوگ نور ایمان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں وہ کیسی کیسی حماقتوں کا ارتکاب کرتے ہیں، اور کیسی کیسی ٹھوکریں کھاتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللَّہِ ۔ اور جن کے باطن نور ایمان و یقین سے منور ہوتے ہیں، وہ کس اطمینان و سکون کے ساتھ بےخوف و خطر شاہراہ فوز و فلاح پر گامزن ہوتے ہیں، وہ اپنے خالق ومالک کے حقوق کو پہچانتے، اور صدق دل سے ان کے حضور جھکتے ہیں، اور اس طرح اپنے لیے سعادت دارین کا سامان کرتے ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِہٰذَا النُّوْر العَظِیْم ۔ سو ایمان و یقین کی دولت سعادت دارین سے سرفراز کرنے والی دولت ہے، اور اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سعادت دارین سے محرومی ہے اور ایسا محروم انسان ہر خیر سے محروم رہتا ہے والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ـ
23 منافقت کا وبال خود منافقوں پر : سو اس طرح سے ایسے لوگوں کی منافقت کا وبال خود انہی پر پڑتا ہے، کہ اللہ تعالیٰ کو تو دھوکہ دینا کسی کے بس میں نہیں ہے، کیونکہ اس کی شان ہے ۔ { یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُن وَمَا تُخْفِیْ الصُّدُوْرُ } ۔ یعنی " وہ آنکھوں کی چوری اور دلوں میں چھپی باتوں کو بھی جانتا ہے "، نیز اس کی شان ایسی ہے کہ وہ ذات اعلیٰ و اقدس چھپے بھیدوں اور اس سے بھی مخفی چیزوں کو جانتی ہے۔ { یَعْلَمُ السِّرَّ و َاَخْفٰی } تو پھر اس کو دھوکہ دینا ممکن ہی کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور اہل ایمان کو بھی یہ منافق لوگ دھوکہ اس لئے نہیں دے سکتے کہ ان کو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے اصل حقیقت سے آگاہ فرما دیتا ہے، جیسا کہ ان آیات کریمہ میں بھی اس کا نمونہ موجود ہے۔ پس دھوکا دراصل خود ان منافق لوگوں کو لگ رہا ہے کہ اس طرح سے ایک طرف تو یہ لوگ اپنی رسوائی کا سامان خود کرتے رہتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہ ۔ اور دوسری طرف یہ ایمان کی اس بےمثل دولت سے محروم ہو رہے ہیں جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے، اور جس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ مگر ان کو اس کا شعور و احساس بھی نہیں کہ کس خسارے اور گھاٹے کا سودا یہ بدبخت لوگ خود اپنے لیے کر رہے ہیں، اور اس کی اصل شکل و صورت کل آخرت کے اس جہاں میں ان سب کے سامنے آجائے گی، جو حیات دنیا کے اس متاع غرور کے فنا و انتہاء کے بعد رونما ہوگا، اور جس کو " عالم مشاہدہ " کہا جاتا ہے کہ وہ اس جہان فانی کے برعکس کشف حقائق کا جہان اور " عالم شہود " ہوگا۔ چناچہ اس ضمن میں میدان حشر میں ان بدبختوں کو جس ذلّت و رسوائی کا سامنا ہوگا اس کا منظر سورة حدید کی آیات 13 تا 15 میں نہایت وضاحت کے ساتھ اور بڑے عبرتناک اور سبق آموز انداز میں پیش فرمایا گیا ہے، سو اللہ پاک نے اس کو اپنی کتاب حکیم میں اتنی وضاحت سے اور اس قدر صراحت کے ساتھ پیشگی بیان فرما دیا، تاکہ جس نے بچنا ہو وہ بچ جائے کہ اس سے بچنے کا اور آخرت کی کمائی کا موقع یہ دنیاوی زندگی اور اس کی یہ فرصت محدود ہی ہے، اور بس۔ ورنہ اس وقت چیخنے چلانے اور کف افسوس ملنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ { لِیَہْلِکَ مَنْ ہَلَکَ عَنْ بَیِّنَۃٍ وَیَحیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَۃ }۔ سو انسان اچھا برا جو بھی کرتا ہے وہ دراصل اپنے ہی لیے کرتا ہے۔ اس کا نفع نقصان جو بھی کچھ ہوگا وہ خود اسی کو پہنچے گا ۔ فَاِیَّاکَ نَسْاَلُ اَللّٰہُمَّ التَّوْفِیْقَ لِمَا تُحِبُّ وَتُرْضٰی مِنَ الْقَوْل وَالْعَمَل بِکُل حَال مِنَ الاَحْوَالِ-
Ayah 2:1024 منافقوں کے دلوں کے ہولناک روگ کا بیان : یعنی کفر و نفاق کا وہ ہولناک روگ اور خطرناک بیماری جو کہ ظاہری اور حسی بیماریوں سے کہیں بڑھ کر مضر اور نقصان دہ بیماری ہے۔ کیونکہ ظاہری اور جسمانی بیماری کسی کو دوزخ میں نہیں لے جاتی۔ جبکہ کفر و نفاق کی یہ بیماری ایسے مریضوں کو دوزخ کے نچلے گڑھے میں گرا کر چھوڑے گی۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم۔ سو کتنے نادان اور برخود غلط ہیں وہ لوگ جو اپنی جسمانی بیماریوں کی فکر تو کرتے ہیں مگر نار جہنم سے ہم کنار کرنے والی ان خطر ناک روحانی بیماریوں کی پروا ہی نہیں کرتے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے دلوں میں کفر و نفاق اور کبر وعناد کا ایسا ہولناک روگ موجود ہے جس نے ان کے دل و دماغ کو معطل اور ان کی قوت فہم وادراک کو ماؤف و بےکار کردیا ہے۔ جس سے یہ لوگ اپنے نفع و نقصان کا فرق وتمیز کرنے کے بھی لائق نہیں رہے ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و شر ۔
25 منافقوں کے مرض میں اضافہ اور بڑھوتری : ان کے اپنے خبث باطن اور سوء اختیار کی بنا پر جس سے حق بات ان کے دلوں میں اترتی ہی نہیں۔ سو امہال خداوندی سے دھوکے میں پڑنا ایمان سے محرومی کا نتیجہ ہے۔ پس وہ مہلت جو کہ وہ اپنے کرم بےپایاں اور رحمت بےنہایت سے ان کو دے رہا ہے، تاکہ یہ لوگ اپنی اصلاح کرلیں، اور غلط روی سے باز آجائیں، مگر یہ الٹا اس کو اپنی سرکشی میں اضافے کا باعث بناتے ہیں، کہ اگر ہم لوگ غلط ہوتے تو ہم پر فوری عذاب کیوں نہ آجاتا، اور اس طرح فرصت عمر کے اس سنہری موقع کو یہ لوگ ضائع کررہے ہیں، جو پھر کبھی ہاتھ آنے والا نہیں۔ سو امہال خداوندی سے دھوکے میں مبتلا ہونا بڑا ہولناک خسارہ اور نہایت خطرناک شیطانی دھوکہ ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم الْعَزِیْز الرَّحْمٰن۔ پس عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس مہلت و فرصت سے فائدہ اٹھائے۔ وباللہ التوفیق۔ مرض کا اطلاق منافقت پر ہوتا ہے۔ اور حسد اور دل کی جلن پر بھی کہ یہ سب بھی امراض قلوب میں سے ہیں۔ (محاسن التاویل وغیرہ) اور ان کے مرض کے اضافے کو جو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا تو یہ اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جو لوگ اس طرح حق سے منہ موڑتے ہیں وہ اسی طرح محروم ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم
26 منافقوں کیلئے " عذاب الیم " کا بیان : ایسا دردناک، اور اس قدر ہولناک کہ اس کا یہاں پر تصور کرنا بھی کسی کیلئے ممکن نہیں، جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کی طرح طرح سے منظر کشی فرمائی گئی ہے، مثلاً سورة الفجر میں ارشاد ہوتا ہے { فَیَوْمَئِذٍ لاَّ یُعَذِّبُ عَذَابَہَ اَحَدُ وَلاَ یُوْثِقُ وَثَاقَہٗ اَحَدُ } " سو اس روز نہ تو اس کے عذاب جیسا عذاب کوئی دے سکے گا، اور نہ ہی اس کے جکڑنے جیسا کوئی جکڑ سکے گا " (الفجر : 26 ۔ 27) ۔ وَالْعِیَاذ باللَّہ الْعَزیْزِالرَّحْمَن ۔ سو منافق لوگ اپنے آپ کو بڑا تیز و طرار اور بہت کچھ سمجھتے جانتے ہیں، مگر ان کو اس کا احساس نہیں کہ اس طرح وہ اپنے لیے کس قدر ہولناک انجام کا سامان کررہے ہیں، اور وقت آنے پر ان کو کس قدر دردناک عذاب سے واسطہ پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ الیم دراصل اس عذاب کو کہا جاتا ہے جو ایذاء رسانی میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہو۔ ( محاسن التاویل وغیرہ) سو ان بدبختوں کو ایسے ہولناک عذاب سے دوچار ہونا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جو ایلام و ایذا میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
27 جھوٹ کی ہلاکت خیزی اور قباحت کا ایک مظہر : سو اس سے جھوٹ کے گناہ کی شدت و خطورت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، کہ منافقوں کے اس دردناک عذاب کی اصل علت کے طور پر یہاں اسی کذب کا ذکر فرمایا گیا ہے، اسی لئے صحیح حدیث میں وارد ہے کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے جب پوچھا گیا کہ کیا مومن " جبان " (بزدل) ہوسکتا ہے ؟ تو فرمایا، ہاں، یعنی مومن بزدل ہوسکتا ہے، اور جب پوچھا گیا کہ کیا مومن " بخیل " (کنجوس) ہوسکتا ہے ؟ تو فرمایا، ہاں، یعنی مومن بخیل اور کنجوس بھی ہوسکتا ہے، لیکن جب پوچھا گیا کہ کیا مومن " کذاب " (جھوٹا) ہوسکتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، یعنی مومن کذاب اور جھوٹا نہیں ہوسکتا، جس سے معلوم ہوا کہ ایمان اور کذب میں ایسا تضاد ہے کہ یہ دونوں وصف یکجا نہیں ہوسکتے، مگر افسوس کہ اس سب کے باوجود آج کے مسلم معاشرہ میں اس " ام المعاصی " یعنی جھوٹ کا ایسا دور دورہ اور اس قدر چلن اور رواج ہوگیا ہے کہ اس کا گناہ اور برائی ہونا ہی گویا نظروں سے بالکل اوجھل ہوگیا ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس کو دور حاضر کی نام نہاد سیاست کا ایک لازمہ و خاصہ اور تقاضا سمجھا جانے لگا ہے، اور ایسے لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ کتنے بڑے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللَّہ الْعَزِیْزِالرَّحْمٰن ۔ سو یہ لوگ چونکہ جھوٹ بولتے اور جھوٹ کو اپنا کمال سمجھتے تھے اس لیے ان کو ایسا دردناک عذاب ہوگا جو ان کے اس سنگین جرم کے عین مطابق ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 2:11–1228 کفر و نفاق، فساد فی الارض کی جڑ بنیاد، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ اللہ کی زمین میں فساد مت مچاؤ اپنے کفر و نفاق سے جو کہ فساد کی جڑ بنیاد ہے۔ وَالْعِیَاذ باللَّہِ ۔ کما قال ابن مسعود ؓ (ابن جریر، ابن کثیر، محاسن، صفوہ، وغیرہ) سو کفر و نفاق خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے، اگرچہ اس کے روگی اور علمبردار اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے اور بڑے خوشنما وعدے اور دعوے کرتے ہوں، اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ امن و صلاح کا مدارو انحصار اس پر ہے کہ ہر ایک کے حقوق کی صحیح تعیین و تشخیص سے آگہی حاصل ہو، اور اس کے مطابق ان تمام حقوق کو ادا کرنے کی سعی اور کوشش کی جائے، اور حقوق میں سب سے پہلا، سب سے مقدم اور سب سے بڑا حق اس خالق ومالک کا ہے، جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور بلاشرکت غیرے اس میں حاکم و متصرف ہے، پھر اس کے بعد مخلوق کے حقوق ہیں جو کہ اپنے درجات و مراتب کے مطابق مختلف ہیں، اور ان تمام حقوق کو جاننا دین کی تعلیمات مقدسہ کے بغیر ممکن نہیں، اور جب حقوق کا صحیح علم نہیں تو پھر ان کی ادائیگی کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ بس جو لوگ دین حق کی تعلیمات مقدسہ کی ہدایات اور ان کی روشنی سے غافل و محروم ہیں، وہ سراسر اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور وہ پرلے درجے کے فسادی ہیں، خواہ وہ اپنے طور پر اصلاح کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں، اور اصلاح کرنے والے وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال اور دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کی روشنی سے مستنیر و سرشار ہوں۔ اور جو لوگ دین و ایمان کی روشنی سے محروم ہیں وہ بہرحال فسادی ہیں خواہ وہ اصلاح کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں۔ کیونکہ پیغام حق و ہدایت کا انکار کرنے کے بعد انسان نہ اپنے خالق ومالک کا حق پہچان سکتا ہے اور نہ اس کی مخلوق اور خاص کر انسانی برادری کے حقوق کو پہچان سکتا ہے۔ تو پھر اصلاح کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ سو اصل اور حقیقی اصلاح صرف اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جبکہ پیغام الہی اور دستور خداوندی کی روشنی میں اور اسی کی ہدایت کے مطابق کی جائے۔ ورنہ وہ اصلاح نہیں فساد ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
29 منافقوں کے دھوکے کا ایک مظہر اور نمونہ : یہ منافقوں کی دھوکہ دہی کا ایک نمونہ و مظہر ہے کہ ایسے لوگ کہتے ہیں کہ ہم مصلح ہیں، اور ہم اپنے صلح کن رویے سے مسلمانوں سے بھی بنائے رکھتے ہیں، اور کفار سے بھی، اور دونوں کو خوش رکھتے ہیں، حالانکہ ہوتا اس کے بالکل برعکس یہ ہے کہ ایسے لوگ اس منافقانہ رویے سے دونوں ہی کا اعتبار کھو بیٹھتے ہیں، کہ نہ ان پر مسلمانوں کو اعتبار رہتا ہے اور نہ کھلے کفار کو، اور یہ ہر طرف سے بےوزن اور بےاعتبار ہو کر دونوں کے درمیان ڈانواں ڈول رہتے ہیں جیسا کہ قرآن حکیم نے دوسری جگہ خود انکا حال اس طرح بیان فرمایا ہے ۔ { مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذَالِکَ لا الی ہٰٓؤُلاَئ وَلاَ اِلٰی ہٰٓؤلاَ } ۔ مگر اس کے باوجود ان کو نہ اپنی اس ذلت آمیز صورت حال کا شعور و احساس ہوتا ہے، اور نہ ہی اس کے اسباب کے ازالہ کی کوئی فکر و پرواہ، اور اگر دیکھا جائے تو آج کے مسلم معاشرے میں بھی بہت سے عناصر اسی منافقانہ روش کا شکار، اور اس کے ذلت آمیز نتیجہ و انجام سے دو چار ہیں، اور وہ اس سے بچنے کی فکر کرنے کے بجائے الٹا اس کو اپنی سیاست اور چالاکی قرار دیتے ہیں، اور اس طرح وہ اپنی منافقت کی اس دلدل میں مزید پھنستے اور دھنستے چلے جاتے ہیں۔ سو منافقت محرومیوں کی محرومی اور ذلت و خواری کا باعث ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللَّہ الْعَظِیْمِ-