Ayah 2:1سورة البقرۃ
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5
(لا ریب): شک نہیں ہے۔ یعنی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ (ھدی): ہدایت ہے۔ راستہ دکھانے اور منزل تک پہنچانے کو بھی ہدایت کہتے ہیں۔ (تقویٰ ): بچنا، ڈرنا، خوف۔ (اللہ سے اس طرح ڈرنا کہ اس میں اس کی رحمت پر بھی یقین ہو) ۔ (ایمان): زبان سے اقرار اور دل سے یقین کرنا۔ (غیب): انسان کے پانچوں حواس سے باہر جس کو صرف اللہ کے نبی ﷺ ہی اس کی مرضی سے بتا سکتے ہیں۔ (صلوٰۃ): اللہ کی عبادت کرنے کا وہ مخصوص طریقہ جس کو جیسے رسول مکرم ﷺ نے بتایا اس کو اسی طرح ادا کرنا۔ اسی کو عرف عام میں “ نماز ” کہتے ہیں۔ (انفاق): خرچ کرنا اپنے مال اور صلاحیتوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق خرچ کرنا اور اس میں کنجوسی سے کام نہ لینا۔ (اخرۃ): اس دنیا کی عارضی زندگی کے بعد ہمیشہ رہنے والی زندگی کو آخرت کہا جاتا ہے۔ (فلاح): کامیاب، کامیابی، اہل ایمان کی خصوصیت۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 5
الف، لام، میم ۔ ۔۔ ۔ ان کو اور ان جیسے حروف کو “ حروف مقطعات ” کہتے ہیں یعنی الگ الگ کر کے پڑھے جانے والے۔ معنی سے کٹے ہوئے۔ ایسے حروف جن کے معنی کے متعلق اتنا کہہ دینا کافی ہے “ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے کیا معنی ہیں ” اگر ان کے معنی جاننا ضروری ہوتا تو صحابہ کرام نبی مکرم ﷺ سے ضرور پوچھتے کہ ان کے معنی کیا ہیں۔ اس کی دو وجہ ہو سکتی ہیں (1) صحابہ کرام کے لئے یہ کوئی ایسی انوکھی اور نئی بات نہ تھی، جس کو پوچھنا ضروری ہوتا (2) دوسرے یہ کہ وہ جانتے تھے کہ یہ ان آیات میں سے ہیں جن کو قرآن حکیم نے “ متشابہات ” فرمایا ہے جن کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ اور ہو سکتا ہے رسول کریم ﷺ کو بطور ایک راز کے دیا گیا ہو، جس کی تبلیغ امت کے لئے روک دی گئی ہو اسی لئے آنحضرت ﷺ سے ان حروف کی تفسیر و تشریح میں کچھ منقول نہیں۔
عام طور پر مفسرین بھی ان ہی دو باتوں کی طرف گئے ہیں۔ کسی نے یہ کہا ہے کہ عرب کے شاعروں اور ادبی حلقوں میں اس طرح کے الفاظ کا استعمال عام سی بات تھی اور اس کے لئے وہ ان شاعروں کے کلام اور اشعار کو پیش کرتے ہیں۔ ۔۔ ۔ اور یہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں کی نظر عربوں کی روایات اور لٹریچر پر ہے وہ جانتے ہیں کہ عرب والے نہ صرف اس طرح کے ناموں سے اچھی طرح واقف تھے بلکہ وہ خود بھی اپنی بہت سی پسندیدہ چیزوں جیسے گھوڑے، جھنڈے، تلواریں، قصیدے اور خطبات کے نام ان ہی سے ملتے جلتے ناموں پر رکھتے تھے۔ قدیم زمانہ کے شاعروں کے کلام میں اس طرح کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے لئے حروف مقطعات کا استعمال کوئی نئی اور انوکھی بات نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس بات کو نہ صحابہ کرام ؓ نے دریافت کیا اور نہ ان اسلام کے دشمنوں نے پوچھا جن کا کام ہی اسلام کی ہر بات کا مذاق اڑانا اور قرآن سے دشمنی کرنا تھا۔
بعض علماء نے یہ فرمایا ہے کہ یہ حروف “ آیات متشابہات ” میں سے ہیں جن کے معنی اللہ ہی جانتا ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔
بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ہر کتاب کی ایک خصوصیت ہوتی ہے اور حروف مقطعات قرآن مجید کی ایک بہت بڑی خصوصیت ہے۔
بعض علما نے فرمایا کہ یہ ان سورتوں کے نام ہیں جن کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں۔
تمام مفسرین نے اپنے اپنے علم و فضل کے مطابق ان حروف کی وضاحت فرمائی ہے لیکن ایک بات پر سب متفق ہیں کہ “ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان حروف سے کیا مراد ہے ؟”
Ayah 2:2“ ذلک الکتب لا ریب فیہ ” ترجمہ : یہ وہ کتاب ہے جس میں شک و شبہ نہیں ہے۔
اسلام کی بنیاد ان ابدی اصولوں پر رکھی گئی ہے جسے انسان کی عقل سلیم تسلیم کرتی ہے۔ قرآن مجید کے دلائل اس قدر مضبوط ہیں کہ ان میں شک و شبہ، نفسیاتی الجھنوں اور قلب کی بےچینیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ عقل اس کو یقینی طور پر قبول کرتی ہے۔ جس کتاب میں شک و شبہ نہ ہو “ وہی اللہ کی کتاب ہے ” لہٰذا یہ قرآن کریم ہر طرح کے شک و شبہ ، قلبی اضطراب اور نفسیاتی الجھنوں سے پاک ہے پورا قرآن حکیم پڑھنے کے بعد اس میں کوئی بات ایسی نہیں ملے گی جس میں شک و شبہ یا تردد کی گنجائش ہو۔
اگر ذرا غور کیا جائے تو اس بات کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں ہے۔ انسان جو بھی علم اور معلومات حاصل کرتا ہے عام طور پر اس کی بنیاد مشاہدہ پر ہوتی ہے وہ جس طرح کسی چیز کو دیکھتا ہے اس کو اسی طرح بیان کرد یتا ہے اس کا علم ، معلومات اور مشاہدہ تبدیل ہوتا ہے تو بڑے بڑے اصول بھی تبدیل ہوجایا کرتے ہیں جیسے تقریباً دو ہزار سال تک انسان کی معلومات یہ تھی کہ زمین ساکن ہے اور آسمان ، چاند، سورج اور ستارے زمین کے اردگرد گھوم رہے ہیں۔ لیکن محض ایک دور بین کی ایجاد نے انسان کے سوچے ہوئے اس دو ہزار سال کے فلسفہ کو الٹ کر رکھ دیا اور انسان نے معلوم کرلیا کہ زمین تو خود سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ بعض حضرات نے تو اس فلسفہ کو اپنی علمی کتابوں تک میں داخل کر کے قرآن مجید کے حوالے سے آسمان ، چاند اور سورج کو بھی زمین کے گرد گھما دیا۔ حالانکہ قرآن کریم اور احادیث رسول اللہ ﷺ میں تو کہیں بھی یہ بات موجود نہیں ہے کہ زمین ساکن ہے اور آسمان اس کے گرد گھوم رہا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس علم کی بنیاد مشاہدہ پر ہوگی وہ اصول کبھی ابدی اصول نہیں کہلا سکتے کیونکہ جیسے ہی انسان کا مشاہدہ تبدیل ہوگا۔ اصول بھی بدل جائیں گے ۔ لیکن اللہ نے جس طرح اصول کو بیان فرما دیا چونکہ اس کی بنیاد مشاہدہ پر نہیں ہے اور وہ اصول اس علیم وخبیر ذات کی طرف سے ہیں جس نے انسانی عقلوں کو پیدا کیا ہے تو اس میں تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا کلام قرآن مجید سچائیوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے کہ حالات اور مشاہدہ کی تبدیلی سے اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔
قرآن مجید کی ابتداء ” لاریب “ سے کر کے اہل ایمان کو اور ساری دنیا کو بتا دیا گیا کہ وہ ” کتاب ہدایت “ جس کو تم شروع کر رہے ہو اس کی بنیاد یقین پر ہے شک و شبہ پر نہیں ہے۔
الغرض
سورة فاتحہ میں اللہ نے یہ طریقہ سکھایا تھا کہ اے لوگوں تم اپنے اللہ سے ” صراط مستقیم “ یعنی زندگی گزارنے کا وہ راستہ مانگو جس پر اس دنیا میں چل کر تمہیں آخرت کی ابدی زندگی کی کامیابیاں نصیب ہو سکیں اور ان بری راہوں سے بچ سکو جن پر چل کر سوائے دنیا اور آخرت کی تباہی کے اور کچھ نہیں مل سکتا۔ جب اللہ کے بندے نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں یہ درخواست پیش کی تو اللہ نے اس کے سامنے قرآن کریم رکھ کر یہ فرما دیا کہ یہ ہے وہ کتاب زندگی جو تمہاری رہبر و رہنما ہے اس پر چلو گے تو تمہیں تمہاری منزل مل جائے گی۔ لیکن اگر تم نے اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے بہت سے راستے اختیار کر لئے تو تم اپنی منزل سے بھٹک جاؤ گے۔
ابھی تک دو باتیں سامنے آئی ہیں۔
(1) قرآن کریم کی بنیاد یقین پر ہے۔ (2): یہ ان لوگوں کے لئے ہدایت و رہنمائی ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔
ھدی۔ ۔۔ ۔ ہدایت ہے :
ھدی (ہ د ی) ترجمہ۔ ۔۔ ۔ منزل کی راہ بتانا، منزل تک پہنچا دینا، ہدایت ، رہنمائی ، روشنی ، اس قدر صاف، واضح اور نمایاں روشنی جس کی چمک میں کسی قسم کی پیچیدگی ، ایچ پیچ اور الجھاؤ نہ ہو۔
” ھدی “ کے اس ترجمہ میں دو معنی بہت واضح ہیں۔
(1) منزل کی راہ بتانا۔ (2) اور منزل تک پہنچا دینا۔
یعنی اللہ کا پاک کلام منزل تک پہنچنے کے اصول بتاتا ہے اور اللہ کے رسول اپنے عمل اور کردار کی بلندی سے اپنے ماننے والوں کو ان کی سچی منزل تک پہنچا دیتے ہیں۔
اس بات کو اس مثال سے سمجھنا آسان ہوگا۔ فرض کیجئے ایک شخص کو کسی ایسی جگہ پہنچنا ہے جس سے وہ واقف نہیں ہے۔ وہ کسی سے راستہ پوچھتا ہے وہ بتا دیتا ہے کہ اس اس طرح جاؤ تو اپنی منزل تک پہنچ جاؤ گے وہ شخص اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑتا ہے۔ اس میں یہ امکان ہے کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ بھی سکے گا یا نہیں۔ لیکن اگر وہی شخص جس سے راستہ معلوم کیا ہے وہ اس کو اپنے ساتھ اپنی سواری پر بٹھا کر اس کی منزل تک پہنچا دیتا ہے تو اس کا پہنچنا بھی آسان ہوگا اور یقینی بھی۔
بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو کتاب ہدایت دے کر بھیجا ہے تا کہ وہ بھٹکے ہوئے انسانوں کو ہدایت کا راستہ دکھائیں اور ان کو آخرت کی منزل تک پہنچا کر اپنا فرض پورا کردیں۔ اللہ کی اسی سنت پر بہت سے رسول اور نبی تشریف لاتے رہے اور انسانوں کو گمراہی کے راستے سے ہدایت پر لاتے رہے۔ اللہ نے اپنی آخری کتاب اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی جس کے ذریعہ آپ نے ایمان لانے والوں کو دنیا و آخرت کی سچی منزل تک پہنچا یا۔ چونکہ یہ آخری کتاب اور آخری رسول ہیں اس لیے اللہ نے اس کی حفاظت کا وہ انتظام فرمایا جو اس سے پہلے کتابوں کے لئے ضروری نہ تھا۔
(1) اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کلام کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔
(2) تئیس سال میں تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن کو نازل کیا گیا تا کہ وہ آسانی سے یاد ہوجائے اور مومنوں کے سینے اس قرآن کے امین بن جائیں۔
(3) نبی کریم ﷺ کی سیرت کو ایک بہترین نمونہ زندگی بنا کر اس کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنا دیا گیا تا کہ آپ کی سیرت میں ڈھلنے والے لوگ بھی ساری دنیا کے لئے بےمثال بن جائیں۔
(4) آپ ﷺ نے مختصر مدت میں اپنے قول و عمل سے قرآن حکیم کی ایک ایک آیت کی عملی تفسیر کر کے لاکھو پاکیزہ نفوس انسانوں کو قرآن و سنت کا پیکر بنا دیا۔
(5) آپ ﷺ کے وہ جاں نثار صحابہ ؓ جو نزول قرآن کے امین اور نبی مکرم ﷺ کے قول و عمل کے شاہد و گواہ ہیں وہ ہدایت پا کر اس مقام تک پہنچ گئے جہاں ان کے متعلق آپ نے فرما دیا کہ میں نے تئیس سال میں جن صحابہ ؓ کو راہ ہدایت دکھائی ہے وہ ستاروں کی طرح روشن ہیں زندگی کی تاریک راہوں میں ان کی روشنی میں چلنے والے ہی منزل تک آسانی سے پہنچ جائیں گے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کے دامن کو بھی تھام لوگے ہدایت پا جاؤ گے۔
(6) اللہ نے صحابہ کی زندگی کو (معیار حق و صداقت کی ) کسوٹی بنا دیا اور کفار، مشرکین اور یہودو نصاریٰ سمیت قیامت تک آنے والے تمام انسانوں سے فرما دیا کہ اگر تم ان صحابہ رسول ﷺ کی طرح ایمان لاؤ گے تو ہدایت حاصل کرلو گے اور اگر اس سے منہ پھیر لوگے تو یہ تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی ہوگی جس کے مقابلہ میں اللہ ان کے لئے کافی ہوگا۔
اس سے معلوم ہوا کہ سچی ہدایت اللہ تعالیٰ کے کلام سے اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت و کردار سے اور آپ کی تیار کی ہوئی جماعت صحابہ کرام ؓ سے ہی ممکن ہے۔ یہی وہ صراط مستقیم ہے جس پر چل کر دنیا اور آخرت کی کامیابیاں نصیب ہو سکتی ہیں۔
ہدایت دینا اللہ کی طرف سے ہے لیکن اللہ کا قانون یہ ہے کہ :
(1) وہ ہدایت کے راستے پر چلانے کے لئے جبر اور زبردستی نہیں کرتا۔
(2) وہ ہدایت کے دروازے کسی کے لئے بند نہیں کرتا۔
(3) وہ کسی کو گمراہ نہیں کرتا بلکہ لوگ گم راہی کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں تو ان سے ہدایت کی توفیق چھین لیا کرتا ہے۔
اللہ نے ہدایت اور گمراہی ، جنت اور جہنم کے راستے کی اپنے کلام میں پوری طرح وضاحت کردی ہے اور اس کے اچھے اور برے انجام کو بھی بتا دیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص خود ہی گمراہ ہو کر اپنے لئے جہنم کا راستہ منتخب کرتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود اللہ کسی کے لئے توبہ کے دروازے اس وقت تک بند نہیں کرتا جب تک موت کے فرشتے سامنے نہ آجائیں۔
اسی طرح اللہ کسی کو گمراہ نہیں کرتا بلکہ لوگ خود ہی اپنے لئے گمراہی کے گڑھے کھود لیتے ہیں۔ فرمایا کہ جس کا دل چاہے وہ صراط مستقیم کو منتخب کر کے دامن مصطفیٰ ﷺ کو تھام لے اور جس کا دل چاہے اپنے لئے جہنم کا گڑھا تیار کرلے، جو آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھوں کی طرح چلنے کے عادی ہوں ان کو کون ہدایت دے سکتا ہے۔
قرآن حکیم سراسر ہدایت، نور اور روشنی ہے مگر وہ ان کے لئے راہ نما ہے جو اس سے ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ لوگ جو ” فاسقین “ یعنی اللہ کے نافرمان ہیں ان کو اس قرآ سے کچھ نہیں ملتا۔ کیونکہ جو لوگ ظلم و ستم ، جہالت ، حماقت اور اندھے پن کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ان کو قرآن کی ہدایت سے کچھ بھی نہیں ملتا۔ اس کی مثال اس بارش کے پانی کی طرح ہے جو درختوں پر برستا ہے تو درختوں کی پھبن اور خوبصورتی میں اضافہ ہوجاتا ہے، پھولوں کے پودوں میں گرتا ہے تو خوشبو مہک اٹھتی ہے لیکن جب وہی بارش کا پانی کسی گندگی، گندے نالے یا گندے تالاب میں گرتا ہے تو بدبو اور پھیل جاتی ہے، وہی بارش کا پانی کسی پتھر پر گرتا ہے تو اس سے بہہ جاتا ہے اور کوئی سبزہ پیدا نہیں ہوتا۔ غور کیا جائے تو اس سب میں قصور بارش کے پانی کا نہیں ہے بلکہ زمین کا ہے۔ بارش کے پانی کا کام تو زمین کے اندر کی صلاحیتوں کو ابھارنا ہے۔ جیسی زمین ہوگی ویسے ہی اس کے اثرات ظاہر ہوں گے۔
قرآن کریم بارش کے صاف شفاف پانی کی طرح سے ہے اگر کسی نے اپنے دل کی زمین کو گندگی کا ڈھیر بنا رکھا ہے اور ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑا ہوا ہے تو قرآن پاک اس گندگی میں پھولوں کی خوشبو اور مہک پیدا نہیں کرتا۔
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے پاک کلام سے ہمیں ہدایت و رہنمائی کے اصول بتادئیے ہیں اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ اللہ کے محبوب رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ان اصولوں پر جس طرح عمل کر کے دکھائیں اور بتائیں وہی اللہ کی مرضی اور مراد ہے۔
ان تمام حقائق کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ہمیں قرآن کو سمجھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں کی ضرورت نہیں ہے ” ہم قرآن کو اس کے الفاظ سے خود ہی سمجھ لیں گے اور خود ہی اپنے لیے نظام زندگی بنا لیں گے “ تو اس سے بڑا گمراہ اور کون ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کے ان سامریوں اور گمراہوں سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)
المقتین :
المقتین۔ ۔۔ ۔ المتقی کی جمع ہے (و۔ ق۔ ی) تقویٰ اختیار کرنے والے، ڈرنے والے، پرہیز گار، بچنے اور حفاظت کرنے والے۔
ھدی للمقتین یعنی یہ قرآن کریم ان لوگوں کے لئے ہدایت و رہنمائی ہے جو تقویٰ کے راستے پر چلتے ہیں۔
یہاں دو باتیں بنیادی طور پر سمجھ لی جائیں تو اس سے تقویٰ کا مطلب سمجھ لینا آسان ہوجائے گا۔
(1) ایک بات تو یہ ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جس کے ہر لفظ کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ اس کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں کرنا ممکن ہی نہیں ہے، اب مثلاً تقویٰ کا اردو میں ترجمہ عام طور پر ” ڈرنا “ کیا جاتا ہے حالانکہ اس لفظ کا یہ ترجمہ تقویٰ کے معنی کا حق ادا کر ہی نہیں سکتا وجہ یہ ہے کہ تقویٰ کی صحیح ترجمانی یہ ہے ” اللہ سے اس طرح ڈرنا کہ اس میں اللہ کی رحمت کی بھی پوری طرح امید شامل ہو “ اسی لئے ایمان کی صحیح تعریف یہ ہے الایمان بین الخوف والرجا یعنی ایمان تو ڈر اور امید کے درمیان کے راستے کو کہتے ہیں۔
(2) دوسری بات یہ ہے کہ یوں تو ہر لفظ کی اپنی ایک قیمت ہوتی ہے مگر بعض الفاظ قوموں کی تقدیر بن جایا کرتے ہیں اور ان الفاظ کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے ” الرہب “ اس کے معنی اور ” التقوی “ کے تقریباً ایک ہی معنی ہیں ” ڈرنا، خوف “ فرق صرف اتنا ہے کہ رہب ایسے ڈرنے کو کہتے ہیں جس میں خوف ہی خوف ہو اور اللہ کی رحمت سے کوئی امید نہ ہو۔ یہ وہ لفظ ہے جس کو یہود و نصاری نے گھڑ کر اپنا دین و ایمان بنا لیا تھا اور یہ سمجھ لیا تھا کہ اگر کسی کو اللہ تک پہنچنا ہے تو اس کو کو ساری دنیا سے کٹ کر جنگلوں میں جا کر اپنے معبود کو تلاش کرنا ہے اور اس کے لئے جو بھی تکلیف برداشت کرنا پڑے گی وہی محنت اور مشقت اس کو جنت کا حق دار بنا دے گی۔ اس غلط نظریہ نے ان کو ” رہبان “ (درویش) بنا دیا اور ” رہبانیت “ دنیا اور اس کی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر صرف چند عبادتوں میں لگ جانے کا نام بن گیا۔ اس رہبانیت کو انہوں نے اپنا مذہب بنا لیا تھا اور اسی کو دین داری سمجھنے لگے تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صاف صاف ارشاد فرمایا کہ ” رہبانیت کو ہم نے فرض نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود ہی اس کو گھڑ لیا تھا۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے رہبانیت سے سخت نفرت کا اظہار فرماتے ہوئے اس سے صحابہ کو روکا ہے کہ وہ یہود ونصاریٰ کے جیسے طریقے اختیار نہ کریں۔
امام راغب (علیہ السلام) نے ” رہبانیت “ کے معنی یہ لکھے ہیں۔
کسی شخص کا خوف سے عبادت میں لگ جانا اور اس میں غلو (حد سے بڑھ جانا) اختیار کرنا۔
علامہ محمود بن عمر زمخشری (علیہ السلام) کہتے ہیں ” راہبانیت “ راہبوں ( خوف سے دنیا چھوڑنے والوں) کے فعل کا نام ہے، بغیر افطار روزے رکھنا، ٹاٹ پہننا، گوشت نہ کھانا وغیرہ وغیرہ اس کی اصل رہب سے ہے (الفائق فی غریب الحدیث )
حضرت شاہ عبد القادر دہلوی (رح) رہبانیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
یہ فقیری اور ترک دنیا کی رسم نصاریٰ کی نکالی ہوئی رسم ہے ” جنگل میں تکیہ لگا کر بیٹھتے ، نہ بیوی رکھتے نہ بیٹا، نہ کھاتے نہ جوڑتے، محض عبادت میں لگے رہتے، خلق سے نہ ملتے اللہ نے بندوں پر یہ حکم نہیں رکھا (تفسیر موضح القرآن۔ سورة حدید)
سنن ابی داؤد میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :
” اپنی جانوں پر سختی نہ کرو کہ اللہ تم پر سختی کرے گا، بلاشبہ ایک قوم (راہبوں کی جماعت مراد ہے ) نے اپنی جانوں پر سختی کی تو اللہ نے ان پر سختی کی چناچہ گرجاؤں اور دیروں میں ان کے بقایا ہیں۔ “
مسند امام بن حنبل (رح) میں حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک چھوٹی سی لڑائی میں شریک تھے ہم میں سے ایک شخص کا گزر ایک ایسے غار پر ہوا جہاں کچھ پانی اور کچھ سبزہ تھا، اس نے دل میں کہا کہ اگر میں یہیں رہ جاؤں اور دنیا سے کٹ کر (اللہ کی عبادت و بندگی میں لگا رہوں تو ) میرے لئے بہتر ہوگا۔
چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کی اجازت مانگی، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے یہودیت یا نصرانیت دے کر نہیں بھیجا گیا میں ضیفیہ سمحہ (تمام الٹے سیدھے طریقوں سے ہٹ کر توحید کی طرف جھکا ہوا آسان راستہ) لے کر مبعوث ہوا یوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے اللہ کی راہ میں نکلنا یا ایک شام نکلنا دنیا بھر سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی ایک کا (جہاد کی ) صف میں کھڑے رہنا اس کی ساٹھ سال کی عبادت سے بڑھ کر ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
حضرت عثمان ابن مظعون ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ جب انہوں نے نبی کریم ﷺ سے رہبانیت یعنی ترک دنیا کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” میری امت کی رہبانیت مسجد میں بیٹھنا اور نماز کا انتظار کرنا ہے۔ “
اسی بناء پر فرمایا گیا ہے ” لا رہبانیۃ فی الاسلام “ اسلام میں رہبانیت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ رہبانیت کے الفاظ کا صرف یہی اثر نہ تھا کہ انہوں نے ترک دنیا کردیا تھا بلکہ ان کے فلسفے کے مطابق ان کو ان کا معبود شہروں میں مل ہی نہیں سکتا تھا اس لیے وہ اپنی عبادت گاہیں شہر سے باہر بناتے تھے۔ اب جو ہم شہروں میں ان کے عبادت خانے دیکھتے ہیں وہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی نقل ہے ورنہ شہروں میں عبادت خانوں کا ان کے ہاں کوئی تصور ہی نہ تھا اس کے لئے اگر ان کی پچھلی عمارتوں کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کی حقیقت کھل کر سامنے آسکتی ہے ۔ ہندوؤں ، بدھسٹوں، یہودیوں اور عیسائیوں وغیرہ کے تنگ و تاریک اور شہروں سے باہر تاریخی عبادت خانے اس کے گواہ ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ” الرہب “ کے لفظ نے رہبان اور رہبانیت کو جنم دیا اور اس طرح انسان تہذیب و تمدن سے دور ہوگیا اور ترک دنیا کو اس نے سب سے بڑی عبادت سمجھ لیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت کو لفظ الرہب کی جگہ “ التقویٰ ” عطا فرمایا۔ تا کہ ان کو اللہ کا خوف تو ہو مگر وہ خوف اور ڈراتنا غالب نہ آجائے کہ انسانی تہذیب و تمدن ہی کا جنازہ نکل جائے۔
قرآن کریم کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے تقویٰ کو بنیاد قرار دیا ہے بلکہ زندگی کے تمام معاملات کو بالکل صحیح رکھنے کے لئے تقویٰ کی اہمیت کا اظہار فرمایا ہے۔
قرآن کریم میں یہ لفظ تقریباً دو سو مرتبہ استعمال کیا گیا ہے جس میں تقویٰ اختیار کر کے اپنی زندگی کے ہر معاملے کو درست کرنے کی تاکید کی گئی ہے خواہ اس کا تعلق تمدن ، تہذیب ، معاشرت، معیشت اور معاملات سے ہو یا عبادات سے ہو ہر چیز کی بنیاد تقویٰ کو قرار دیا گیا ہے۔
اس موقع پر ایک بات کی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگ علماء دین، صوفیائے کرام اور بزرگان دین کو بھی راہبوں کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان میں اور راہبوں میں کیا فرق ہے اور جس طرح ہم رہبانیت کو خلاف اسلام کہتے ہیں وہ ان بزرگوں کو اور ان کی بےبہا خدمات کو بھی خلاف شریعت کہتے ہیں۔ حالانکہ رہبانیت اور تصوف میں زمین و آسمانی کا فرق ہے۔ اور اس کا سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ یہ رہبانیت صرف اپنی ذات کو بنانے کی ایک کوشش ہے اس کے برخلاف صوفیائے کرام نے اپنی ذات کو مٹا کر دین کو زندگی عطا کی ہے یعنی وہ اسلام کی راہ میں خود مٹ گئے لیکن انہوں نے دین کو نہیں مٹنے دیا۔ آج ساری دنیا میں جہاں بھی مسلمان ہیں وہ نبی کریم ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ اولیاء اللہ، صوفیائے عظام ؓ اور علماء کرام (رح) کی بےلوث خدمات ہی کا صدقہ ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں وہ ممالک جہاں مسلمان اپنی تلواریں لے کر نہیں گئے وہیں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعد میں آنے والوں نے ان بزرگوں کے مزارات کو کاروبار میں اور ان کی پاکیزہ زندگی کو الف لیلی کی داستانیں بنا کر ان کی خدمات پر پانی پھیر دیا اور آج ان بزرگوں کے مزارات دنیا کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئے ہیں۔ اور یہ بزرگان دین ساری زندگی جن باتوں کو منع کرتے رہے آج وہی ساری حرکتیں ان کے مزارات پر ہوتی ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ہم موجودہ دور کے کاروباری لوگوں کو دیکھ کر ان بزرگوں سے نفرت کا اظہار کرنے لگیں جن کی خدمات دین کی عظمت کا نشان ہیں۔
Ayahs 2:3–5الذین یؤ منون بالغیب ۔ ۔۔ ۔ سے ھم المفلحون تک :
ترجمہ : وہ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے وہ خرچ کرتے ہیں اور جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے جو کچھ آپ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
اس بات کو نہایت تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے کہ اللہ نے جو کتاب نازل کی ہے اس کی بنیاد یقین پر ہے شک پر نہیں ہے اور یہ کتاب ان لوگوں کے لئے راہ ہدایت ہے جو تقویٰ کی صفت رکھتے ہیں۔ اب یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اہل تقویٰ کون لوگ ہیں ؟ اور ان کی کیا صفات ہیں۔ ۔۔ ۔ اس جگہ پانچ صفتیں بیان کی گئی ہیں۔
(1) وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔
ایمان سے مراد دین اسلام کی تمام سچائیوں کو زبان سے ماننا، دل سے اس پر یقین رکھنا اور پھر اس یقین کے مطابق عمل کا ارادہ کرنا۔
غیب ۔ تمام وہ حقیقتیں جن کو انسان نہ تو اپنے پانچوں حواس (دیکھنا، سننا، چکھنا اور چھوٹا ) سے اس کا پتہ لگاسکتا ہے اور نہ ہی اس کا مشاہدہ اور تجربہ کرسکتا ہے جیسے اللہ کی ذات صفات، فرشتے، وحی اور اس کی کیفیت ، لوح و قلم قیامت، حساب کتاب، جزاو سزا اور جنت و جہنم وغیرہ ان تمام باتوں کا تعلق غیب سے ہے جس صرف اللہ کے نبی اور رسول ہی وحی کے ذریعہ بیان کرسکتے ہیں اور ہمیں ان تمام باتوں پر ایمان لانا ہے اسی کو ایمان بالغیب کہتے ہیں۔
(2) اور وہ صلوٰۃ کو قائم کرتے ہیں۔
اقامت ۔ قائم کرنا۔ ۔۔ ۔ اقامت صلوٰۃ نماز (کے نطام ) کو قائم کرنا۔
الصلوٰۃ۔ اس کے بہت سے معنی آتے ہیں، دعا، دعاء رحمت ، درود اور نماز وغیرہ اس جگہ نماز مراد ہے ۔ نماز وہ نہیں ہے جس کو میں اور آپ متعین کرلیں بلکہ نماز وہی نماز ہوگی جس طرح نبی مکرم ﷺ نے پڑھی، پڑھ کر دکھائی اور اس کو پڑھنے کا طریقہ سکھایا جس کو صحابہ کرام ؓ نے نقل کیا اور وہ ہم تک پہنچی اور انشاء اللہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو ایمان لانے کے فوراً بعد شروع ہو کر زندگی کے آخری سانس تک جاری رہتی ہے اور یہ کسی حال میں کسی کو بھی معاف نہیں ہے۔ کھڑے ہو کر پڑھنا ضروری ہے ، اگر کسی شدید بیماری یا شدید عذر کی وجہ سے کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھ لے، اگر بیٹھ کر پڑھنا ممکن نہ ہو تو لیٹ کر اشاروں سے پڑھ لے۔ اگر اشاروں سے پڑھنا بھی ممکن نہ رہے اور ایک دن رات سے زیادہ یہی حالت رہے تو جب تک پڑھنے کی طاقت نہ آجائے اس کے لئے معافی ہے۔ اسی طرح وضو کے ساتھ نماز پڑھنا لازمی ہے لیکن اگر کسی شدید بیماری یا کسی شدید عذر کی وجہ سے وضو نہ کرسکتا ہو تو وہ تیمم کرسکتا ہے۔ لیکن نماز کسی حال اور کیفیت میں معاف نہیں ہے۔
نماز مومنوں کی معراج ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔ نماز کو آپ ﷺ نے اپنے آنکھوں کی ٹھنڈک فرمایا۔ نماز اللہ کے سامنے جھکنے، اظہار بندگی کرنے ، اللہ سے گہرا تعلق پیدا کرنے اور امت میں نظم و ضبط پیدا کرنے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔
لیکن “ اقامت صلوٰۃ ” نماز کو قائم کرنا ان سب باتوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ قرآن و سنت سے یہی ثابت ہے کہ نماز کو مسجدوں میں جا کر ادا کرنا اقامت صلوٰۃ ہے اسی لیے مفسرین نے لکھا ہے کہ اقامت کے معنی محض نماز پڑھنے کے نہیں بلکہ نماز کو ہر جہت اور ہر حیثیت سے درست کرنے کا نام ہے گھروں میں نماز پڑھی جاتی ہے اور مسجدوں میں نماز پڑھنا اللہ اور اس کے پاک رسول ﷺ کے حکم کی اطاعت ، میں اقامت صلوٰۃ ہے ۔ خلاصہ مضمون یہ ہوا کہ متقین وہ لوگ ہیں جو قواعد شرعیہ کے مطابق نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کے پورے آداب بھی بجا لاتے ہیں۔
(3) اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں۔
اہل تقویٰ کی تیسری صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے دوسروں کی مدد کرتے ہیں، یعنی اللہ نے ان کو بھی مال دیا ہے اس پر وہ سانپ بن کر نہیں بیٹھ جاتے بلکہ اپنے سے زیادہ ضرورت مندوں کی بھلائی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے جہاں بھی مناسب جائز اور ضروری موقع ہوتا ہے وہ اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
متعدد حدیثوں میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بڑی فضیلتیں آئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کے بندوں پر خرچ کرنے سے دولت کم نہیں ہوتی بلکہ اس دنیا میں بڑھتی ہے اور آخرت میں تو اس سے کئی گنا زیادہ عطا کی جائے گی۔ بعض حضرات کا یہ خیال بھی مناسب ہے کہ اس آیت میں صرف مال ہی نہیں بلکہ اللہ نے مومن کو جو بھی صلاحتیں عطا کی ہیں ان سے بھی وہ دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
(4) اور وہ لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے نازل کیا گیا ہے۔
اہل تقویٰ کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ قرآن کریم پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ان کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ہیں جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت، حضرت داؤد (علیہ السلام) پر زبور اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل اتاری گئی ہے، ارشاد ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی مکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی اور رسول تشریف لائے وہ سب ایک ہی دین لے کر آئے اور ان سب کا ایک ہی پیغام تھا یہ اور بات ہے کہ قرآن کریم سے پہلے جتنی بھی کتابیں آئیں اس کے ماننے والوں نے ان کتابوں کی حفاظت نہیں کی، بلکہ ان کتابوں میں اپنی طرف سے بہت سی وہ باتیں شامل کردیں جو اللہ نے نازل نہیں کی تھیں۔ قرآن کریم نے ان میں سے بنیادی مقامات کو کھول کر بتا دیا ہے کہ انہوں نے کہاں کہاں اضافے کئے اور کہاں بہت چیزیں غائب کردیں۔ درحقیقت قرآن حکیم ان سب کتابوں کے لئے کسوٹی ہے، جس کو بھی یہ دیکھنا ہو کہ ان کتابوں میں اللہ کے احکامات کیا ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ قرآن کے مطابق ہوں تو وہ اللہ کا کلام ہے اور اگر قرآن کے بتائے ہوئے اصولوں کے برعکس ہوں تو وہ اللہ کا کلام نہیں ہے، لہٰذا قرآن ہمیں یہ سکھا رہا ہے کہ اے مومنو تم اللہ کے کلام پر ایمان لاؤ۔ لہٰذا ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں جو اللہ کا کلام ہے لیکن ان باتوں پر ایمان لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جو اللہ کا کلام نہیں ہے۔ اس مقام پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اللہ کی ان تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں جو اللہ نے نازل کی ہیں لیکن جہاں انسانوں کے ہاتھوں نے بہت سی باتوں کو خود گھڑ لیا ہے ہم اس پر ایمان نہیں لاتے۔ ہم سچائیوں پر ایمان لاتے ہیں جھوٹ پر نہیں۔
(5) اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔
اہل تقویٰ کی پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ مرنے کے بعد جب دوسری زندگی شروع ہوگی اس کو آخرت کہتے ہیں۔ اہل ایمان کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ دنیا اور اس کا نظام ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ ایک وقت آئے گا جب اس پورے نظام کو توڑ کر ایک اور جہان بنایا جائے گا جس میں کائنات کی ابتداء سے لے کر اس کے ختم ہونے تک جتنے بھی انسان ہوں گے ان کو اس جہان میں جمع کر کے ان سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا جس کے جیسے اعمال ہوں گے اس کے مطابق ان کو جنت یا جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کی یہ پانچ صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ جو لوگ تقویٰ کی ان باتوں کے پیکر ہوں گے وہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔
Ayahs 2:6–7لغات القرآن : آیت نمبر 6 تا 7
(کفروا): انہوں نے کفر کیا، دین اسلام کی سچائیوں سے انکار کیا۔ چھپایا۔ (سواء) : برابر ہے، یکساں ہے، ایک جیسا ہے۔ (انذرت): تو نے ڈرایا۔ اسی سے نذیر کا لفظ بنا ہے جو کہ بشیر کے لفط کے بالمقابل ہے۔ ۔ ۔ نذیر کے معنی ہیں ۔ آخرت کے عذاب سے شفقت و مہربانی کی بناء پر ڈرانے اور سمجھانے والا اور بشیر کے معنی ہیں “ خوشخبریاں سنانے والا ”۔ (ختم): اس نے مہر لگا دی۔ جب کسی چیز پر مہر یا سیل لگا دی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اب باہر سے کوئی چیز اندر اور اور اندے سے باہر نہیں آسکتی۔ دلوں پر مہر لگنے کا مطلب یہ ہے کہ حق نہ تو ان کے دلوں میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ان کے دلوں کا کفر باہر آسکتا ہے۔ (سمع): سننے کی طاقت، اس کی اہلیت۔ ۔۔ ۔ سہولت کے لئے اس کا ترجمہ “ کان ” کا کیا جاتا ہے۔ (ابصار): بصر کی جمع ہے ۔ ۔۔ ۔ دیکھنے کی طاقت ہے ۔ ۔۔ ۔ آنکھ ۔ ۔۔ آنکھیں ۔ (غشاوۃ): پردہ ، رکاوٹ ، حجاب ۔ ۔۔ ۔ یہ لفظ “ غشی ” سے بنا ہے جس کے معنی کسی چیز کو ڈھانپنے اور رکاوٹ ڈالنے کے آتے ہیں۔ (عذاب):۔ ۔۔ تکلیف ، مصیبت۔ ۔۔ یہ لفظ رحمت کے مقابلے میں آتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 6 تا 7
خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ شدید مخالفتوں ، مصیبتوں اور مشکلات کے باوجود دن رات اسلام کی سچائیوں اور اس کے نور کو پھیلانے کی جدو جہد فرما رہے تھے۔ آپ کی دلی تمنا اور آرزو تھی کہ کسی طرح مکہ مدینہ اور ساری دنیا کے لوگ ایمان قبول کرلیں، اس کے لئے آپ دن رات اس طرح اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش اور جان سوزی سے کام لیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ (اے میرے حبیب “ ﷺ ”) آپ تو اس غم میں اپنی جان گھلا ڈالیں گے کہ وہ ایمان کیوں نہیں مختلف روایات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ آپ ﷺ اسلام کا پیغام پہنچانے میں دن رات اپنے آرام کا خیال کئے بغیر اسی جدو جہد میں لگے رہتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کو معلوم ہوا کہ ایک قافلہ مکہ مکرمہ سے اس طرح گزر رہا ہے کہ وہ صبح ہونے سے پہلے روانہ ہوجائے گا، حالانکہ آپ دن بھر کے تھکے ہوئے اور ستائے ہوئے تھے اس کے باوجود آپ ﷺ فوراً روانہ ہوگئے اور آپ ﷺ نے اپنا فرض پورا کرنے کے لئے ان تک اللہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی۔ یہی آپ کی دن رات کی کوششیں تھیں نتیجہ یہ ہے کہ۔ جن کے مقدر میں اسلام کی سعادت تھی انہوں نے ایمان قبول کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوار لی اور اپنے دلوں کو نور ایمانی سے جگمگا لیا، روشن کرلیا۔ ۔۔ لیکن ان ہی میں سے کچھ ایسے بھی ضدی، ہٹ دھرم اور بد قسمت لوگ تھے جنہوں نے کلمہ حق قبول کرنے سے نہ صرف انکار کردیا تھا بلکہ دین اسلام اور سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے بغض وعناد کی حدوں کو پھلانگ گئے تھے اور آپ کی دشمنی میں اتنے آگے بڑھ چکے تھے کہ وہ اسلام کے اس پودے کو جڑ اور بنیاد سے ہی اکھاڑ پھینکنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان میں سچائی اور حق کی تڑپ اور جستجو ایک فطری بات ہے لیکن جب وہی شخص ذاتی فائدوں ، بری عادتوں ، کم نظری اور گھٹیا پن کا مزاج پیدا کرلیتا ہے تو وہ حق اور سچائی کا اس طرح مخالف ہوجاتا ہے کہ پھر بڑی سے بڑی سچائی بھی نہ اس کے دل میں اترتی ہے نہ کانوں سے سنائی دیتی ہے اور نہ آنکھیں اس کا مشاہدہ کرسکتی ہیں۔ نبی مکرم ﷺ کو ان آیات میں اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ آپ اللہ کے پیغام کو پہنچاتے رہیے جن کے دلوں میں اور ان کی روحوں میں سچائی قبول کرنے کی اہلیت ہوگی وہ اس کے ذریعے اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیں گے لیکن جو بدقسمت ہیں جیسے ابو جہل ، ابو لہب، عتبہ، شیبہ، اور ولید مدینہ منورہ کے یہودی کعب بن اشرف ، حی بن اخطب اور جدی بن اخطب وغیرہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دلوں اور اپنے کانوں پر تالے اور اپنی آنکھوں پر پردے ڈال رکھے ہیں، آپ ان کو برے اعمال کے برے نتائج سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ یہ تو ان لوگوں کی طرح ہیں جو بدپرہیزیاں کرتے کرتے اپنے آپ کو بیماری کے اس مقام تک پہنچا چکے ہیں جہاں ایک ماہر ڈاکٹر بھی کہہ اٹھتا ہے کہ اب اس مرض کا کوئی علاج نہیں ہے۔ بلکہ مرجانا ہی اس کا مقدر بن چکا ہے۔ یہ لوگ بھی روحانی اعتبار سے اس منزل تک پہنچ چکے ہیں جہاں ان کا کوئی علاج نہیں ہے۔ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے۔
اے نبی ﷺ آپ حق کی بات ہر شخص تک پہنچاتے رہئیے، جو کفر و انکار کا راستہ اختیار کریں گے بھیانک اندھیرے ان کا مقدر بن جائیں گے اور وہ لوگ جو اپنے دلوں کو اسلام کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی اطاعت و محبت کے چراغوں سے روشن کرلیں گے وہ خود ستاروں کی طرح چمک کر دنیا کے اندھیروں کو دور کردیں گے۔
خلاصہ کلام :
قرآن کریم کی سب سے پہلی اور بڑی سورت “ سورة بقرہ ” ہے اس کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئے ہدایت حاصل کرنے کی بنیادیں “ اللہ کا خوف، غیب پر ایمان ، نماز کا قائم کرنا، اللہ کے دئیے ہوئے رزق میں سے اللہ کے لئے خرچ کرنا، قرآن کریم اور اس سے پہلے نازل کئے ہوئے دین کے اصولوں اور کلام پر ایمان ، اور آخرت پر یقین رکھنا۔ قرار دیا ہے۔ یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے انسان کی نجات اور کامیابی ہوجاتی ہے۔
اسلام کے بعد کافروں کے مزاج کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ ایک چکنے گھڑے کی طرح سے ہوچکے ہیں جن کے دل و دماغ اور فکر پر اسلام کی سچائی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ۔۔ ۔ اور وہ اپنے آپ کو ان بدقسمتوں میں شامل کرچکے ہیں جن کے لئے مہربان رب بھی فرما دیتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ ان کی حرکتوں سے مایوس نہ ہوں یہ بڑے بدعمل لوگ ہیں۔ ۔۔ ۔ انہوں نے بدعملیاں کر کر کے اپنے آپ کو اس منزل اور مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں سے ان کی واپسی ناممکن ہے، ان کے دلوں اور کانوں پر مہریں لگ چکی ہیں اور آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں، اب ان میں سوچنے ، سننے اور حق بات کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔ لہٰذا آپ ﷺ یہ سوچ کر رنجیدہ نہ ہوں کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ آپ ﷺ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیے۔ کیونکہ ان کا برا انجام اور ایک زبردست عذاب طے کیا جا چکا ہے۔
پہلے رکوع میں مومنوں اور کافروں کے متعلق ارشاد فرمانے کے بعد دوسرے رکوع سے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں ایمان کا کوئی جذبہ نہیں ہوتا۔ ۔۔ ۔ یہ لوگ منافقت کے مرض میں مبتلا ہیں۔ ۔۔ ۔
بیمار ذہن و فکر کے لوگ جھوٹ بولتے بولتے اس کو سچ سمجھنے لگتے ہیں، اور اللہ اور اس کے نیک بندوں کو اپنے طرز عمل سے دھوکہ میں رکھ کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان مفادات کے حصول کو بڑی ہوشیاری سمجھنے لگے ہیں۔ ایمان کے نام پر بےایمانیاں، اصلاح کے نام پر فساد ، منہ پر کچھ اور پیٹھ پیچھے کچھ کہنا۔ ان کا کردار ہوتا ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کا انجام تو کافروں سے بھی بدتر ہے۔
ایسے لوگ کون ہیں یہاں تو اللہ نے ان کا نام نہیں بتایا لیکن قرآن حکیم میں ایسے لوگوں کو جگہ جگہ “ منافق ” فرمایا گیا ہے۔ ۔۔ ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ کے دوسرے رکوع میں ان کا بڑی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے اس لئے ان آیات کی تشریح سے پہلے منافقین کے متعلق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
منافقین کون ہیں ؟
منافق۔ ۔۔ ۔ کا لفظ نفق (ن۔ ف۔ ق) سے بنا ہے جس کے معنی ہیں زمین کے نیچے نیچے ایسی سرنگ اور راستہ بنانا جس میں ضرورت کے وقت چھپنا اور خفیہ راستوں سے نکل بھاگنا آسان ہو۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ عام طور پر چوہے اور کچھ جانور زمین کے اندر ایک سرنگ سی بنا لیتے ہیں جس کو جانور کا “ بل ” کہتے ہیں۔ یہ چوہے اور جانور ذرا سی آہٹ پا کر اپنے بلوں میں جا گھستے ہیں اور خطرہ ٹلتے ہی پھر سے باہر آجاتے ہیں۔ اسی طرح یہ منافق بھی ہیں جو اسلام دشمن ہوتے ہیں ۔ اپنے مفادات کے لئے مسلمانوں میں ملے جلے رہتے ہیں۔ جب اسلام اور مسلمانوں میں انہیں کوئی فائدے کی بات نظر آتی ہے تو ان کو جیسی کہنے لگتے ہیں۔ اور اگر کفر کی چمک دمک میں دل کشی نظر آتی ہے تو بلا تکلف ان کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک (نعوذ باللہ) ایسے لوگ جو مومن ہیں بہت ہی احمق اور ناعاقبت اندیش ہوتے ہیں “ جو آخرت کے ادھار پر اپنی دنیا بیچ دیتے ہیں اور مصلحتوں سے کام نہیں لیتے۔ ” کیونکہ ایک مومن تو اپنا سب کچھ لٹا کر اللہ کے دین، اس کی بقاء اور ترقی کو اپنی دنیا اور آخرت کی ترقی کا زینہ اور اپنے نبی کی شان پر قربان ہونے کو دین و دنیا کی کامیابی سمجھتا ہے۔ لیکن ان منافقین کے نزدیک “ یہ کوئی سمجھ داری کی بات نہیں ہوتی ” چناچہ اسی رکوع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ تم بھی اور مخلص مسلمانوں کی طرح ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو، ایمان لے آؤ تو وہ بڑی حقارت سے کہتے تھے کہ ہم ان کی طرح ایمان لائیں ؟ جو بیوقوف ، ناعاقبت اندیش ہیں (نعوذ باللہ) ۔ ۔۔ ۔ اللہ نے خود ہی ان کے جواب میں فرمایا کہ احمق اور غیر دانش مندیہ مخلص مومن مسلمان نہیں ہیں۔ ۔۔ بلکہ احمق اور جاہل تو وہ لوگ ہیں جو نبی کے جاں نثاروں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ صحابہ کرام ؓ کو ایسا کہنے والے خود ہی شرمندگی سے اپنی بوٹیاں نوچتے نظر آئیں گے۔ چناچہ فتح مکہ کا دن اس کا گواہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے جاں نثاروں کی گردنیں شکر ادا کرنے کے لئے اللہ کے سامنے جھکی ہوئی تھیں۔ ۔۔ ۔ اور کافر و منافق جو اپنے آپ کو عقل کا پیکر سمجھتے تھے ان کی گردنیں مسلمانوں کے سامنے شرمندگی سے جھکی ہوئی تھیں۔ یہ تو اس دنیا میں تھا آخرت میں ان منافقین کو جو شرمندگی ہوگی شاید اس دنیا میں اس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے اس کے برخلاف اس دن صحابہ کرام ؓ کا مقام انتہائی بلند ہوگا۔
Ayahs 2:8–16لغات القرآن آیت نمبر 8 تا 16
(الناس): لو گ ، انسان، آدمی۔ (یقول): وہ کہتا ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ ” امنا “ کی وجہ سے اس طرح کیا جائے گا، ” وہ کہتے ہیں۔ ” (امنا): ہم ایمان لے آئے۔ (یوم آخر): آخری دن، قیامت کا دن۔ (یخدعون): اور یخدعون کے الفاظ ” خدع “ سے بنے ہیں دھوکہ دینا، دل میں بری بات چھپا کر بظاہر اچھا بننے کی کوشش کرنا تا کہ دوسرے اس سے دھوکہ کھا جائیں۔ (انفس): نفس کی جمع ہے۔ جان، ذات شخصیت۔ (ما یشعرون): وہ شعور نہیں رکھتے، انہیں سمجھ نہیں ہے، بیخبر ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا احساس اور خبر نہیں ہے۔ (مرض): بیماری ، بیماری ایک تو وہ ہوتی ہے جو انسان کی بےاعتدالیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جس کو محسوس کیا جاسکتا ہے لیکن عام طور پر روحانی بیماری سے انسان آنکھیں بند کئے رکھتا ہے۔ یہاں روحانی بیماری ہی مراد ہے۔ (زاد): زیادہ کیا، رسول مکرم ﷺ اور اہل ایمان صحابہ ؓ کو ترقی دے کر اللہ نے ان کے حسد کو اور بڑھا دیا۔ یا ان کی رسی کو اور دراز کردیا، ان کو ڈھیل دے دی۔ (الیم) : یہ لفظ الم سے بنا ہے ، دردناک ، انتہائی تکلیف دینے والیچیز۔ (یکذبون): یہ لفظ ” کذب “ سے بنا ہے جھوٹ، غلط بیانی، حقیقت کے خلاف ، نقصان پہنچانے والا، یعنی وہ جھوٹ بکتے ہیں۔ (قیل): کہا گیا، بتایا گیا۔ (فساد): تباہی ، بربادی۔ انسان زبان اور ہاتھ سے فساد مچاتا ہے، کبھی کبھی انسان فساد کرتا ہے مگر وہ اپنے خیال میں اس کو اپنا بڑا کارنامہ سمجھتا ہے۔ اللہ نے یہاں اسی سے روکا ہے۔ (مصلحون ): اصلاح کرنے والے، خیر خواہی اور بھلائی کرنے والے۔ (شعور): عقل، سمجھ۔ (انؤمن ): کیا ہم ایمان لائیں ؟ ۔ اس میں صحابہ کرام ؓ کو (نعوذ بااللہ) حقیر اور کم تر سمجھتے ہوئے ایسا کہتے تھے کہ ہم جیسے عزت اور دولت والے ان جیسے کمزوروں کی طرح ایمان لائیں۔ (السفھاء) : (سفیھ) کے معنی آتے ہیں احمق، ناسمجھ، ناعاقبت اندیش ، جو آگے کی نہ سوچتا ہو۔ (لقوا): وہ ملے، ملاقات کی۔ (خلوا): وہ تنہا ہوئے، اکیلے ہوئے۔ (مستھزءون): مذاق کرنے والے۔ (یستھزء): وہ مذاق کرتا ہے۔ وہ مذاق اڑاتا ہے۔ اس جگہ دونوں معنی لیے جاسکتے ہیں۔ (یمد): وہ کھینچتا ہے۔ (طغیان ): سرکشی کرنا، سر اٹھانا، اسی سے ہمارے ہاں یہ لفظ طغیانی کے معنی میں آتا ہے۔ ہم کہتے کہ سمندر میں طغیانی آگئی پانی اونچا اونچا ہوگیا۔ (یعمھون): عمہ اندھا بن جانا، اندھاپن۔ (الضللۃ): گمراہی ، راستہ کھو دینا، بھٹک جانا، یہ لفظ ہدایت کے بالمقابل آتا ہے ماربحت ۔ ۔۔ نفع نہ دیا، اس جگہ فمار بحت تجارتھم سے مراد ہے ان کو ان کی تجارت نفع نہ دے گی۔
تشریح : آیت نمبر 8 تا 16
جیسا کہ خلاصہ کلام میں اس بات کو بتا دیا گیا ہے کہ منافق وہ لوگ ہیں جو ظاہری طور پر مسلمان بنے رہتے ہیں۔ جو کچھ زبان سے کہتے ہیں اسے دل سے نہیں مانتے اور جو دل میں رکھتے ہیں اسے زبان پر نہیں لاتے ۔ ان کا انجام کافروں سے بھی زیادہ اندوہناک ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم میں فرمایا گیا ہے کہ ” منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے “ یعنی کافر تو اپنے کفر کی سزا کو بھگتیں گے لیکن منافق کو اس سے بھی زیادہ بڑی سزا دی جائے گی۔ ۔۔ ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک کافر اور مشرک تو اپنے کفرو شرک میں کھلا ہوا دشمن ہے اس کا حملہ اور خطرہ سامنے کی طرف سے ہوگا جس سے بچنا زیادہ آسان ہے لیکن آستین کے سانپ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جو اس طرح ڈس لیتے ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا اور دوسرے اس کے زہر سے تباہ ہوجاتے ہیں۔ ۔۔ ۔ جو اپنے آپ کو ظاہری طور پر مسلمان کہتے اور کہلاتے ہیں لیکن پس پردہ وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور اپنے دھو کے اور فریب کے جال بنتے رہتے ہیں۔ اس سے بھی آگے کی بات یہ ہے کہ وہ ایمان کے لحاظ سے اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ وہ صرف اللہ کے بندوں ہی کو غلط فہمی میں مبتلا نہیں رکھتے بلکہ وہ اللہ کو بھی اپنے طرز عمل اور روش زندگی سے دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا انجام کافروں سے بھی زیادہ ہیبت ناک ہونا کسی تعجب کی بات نہیں ہے۔ آج کے اس دور میں بھی اسلام اور مسلمانوں کو کافروں اور دشمنان اسلام سے اتنا بڑا خطرہ نہیں ہے جتنا ان لوگوں سے ہے جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور مسلمانوں کے لئے آستین کا سانپ بنے ہوئے ہیں، وہ لوگ جو اس ” ترقی یافتہ “ دور میں چند رسمی باتوں اور تھوڑے سے من پسند عمل اور نیک کاموں کے سوا اسلام کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو ” ضروری نہیں سمجھتے “ ایسے لوگ پہلے بھی تھے، آج بھی ہیں اور قیامت تک رہیں گے۔ جن کا کام یہ ہے یہ ان کے ہاتھوں، زبانوں اور عمل سے سوائے فساد کے اور کچھ بھی ظاہر نہیں ہوتا وہ جس کو قوم کی اصلاح کا نام دیتے ہیں وہ لاشعوری یا شعوری طور پر دین و دنیا کی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایمان والے، ایمان دار لوگ، نیک اور نیکیوں پر چلنے والے، دین اسلام اور مسلمانوں کے لئے اپنا سب کچھ لٹا دینے والے بےوقوف، ناسمجھ، بےعقل ، ناعاقبت اندیش، دیوانے اور معاشرے کے چھوٹے لوگ شمار ہوتے ہیں (نعوذ باللہ) اس کے برخلاف وہ لوگ جو دن رات گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، رشوت خور، جواری، شراب خور اور آخرت سے بیخبر لوگ وہ بہت اچھے اعلیٰ مقام رکھنے والے باعزت اور سمجھ دار لوگ سمجھے جاتے ہیں جن کا کام یہ ہے کہ جب وہ مجلسوں اور محفلوں میں بیٹھ کر دین کی باتیں کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ان سے زیادہ اسلام اور مسلمانوں کا مخلص کوئی نہیں ہے۔ لیکن جب وہ اپنے کاروبار زندگی یا تنہائیوں میں اپنے یار دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں ان کا رنگ ہی دوسرا ہوتا ہے اب وہ اسی دین کا مذاق اڑا کردیں اور دین داروں کو اپنے مذاق کا نشانہ بناتے ہیں۔ اللہ نے ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا ہے کہ اللہ خود ان کی زندگیوں کو مذاق بنا دے گا لیکن ابھی ان کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگ گھاٹے کے سوداگر ہیں جو روشنیوں کو چھوڑ کر اندھیروں کو اپنا رہے ہیں اور جو ایمان کا راستہ چھوڑ کر کفر و نفاق کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ نہ ان کو اس دنیا میں کچھ ہاتھ آئے گا، نہ قبر کی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں اور نہ آخرت ہی میں ان کو راحتیں نصیب ہوں گی۔
Ayahs 2:17–18لغات القرآن : آیت نمبر 17 تا 18
(مثل): مثال ، تشبیہ۔ (استوقد) : اس نے بھڑکایا، جلایا ، سلگایا۔ (نار ): آگ ، جہنم ، دوزخ۔ (اضاءت ): روشن ہوگئی۔ اس جگہ ترجمہ ہوگا، ” روشن ہوگیا “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو میں لفظ ” ماحول “ مذکر ہے۔ (ما حول) : ارد گرد، آس پاس۔ (ذھب): گیا، چونکہ، یہاں ذھب کے بعد ” ب “ آگئی ہے عربی قاعدہ سے اس کا ترجمہ ہوگا ” لے گیا “ ۔ (ترک): چھوڑ دیا، الگ کردیا۔ (ظلمات): اندھیریاں، اندھیرے۔ (ظلمۃ کی جمع ہے ) ۔ (لا یبصرون): وہ نہیں دیکھتے ہیں (وہ نہیں دیکھ سکتے ) ۔ (صم): بہرے ، (صم اصم کی جمع ہے ) جو سن نہ سکتے ہوں۔ (بکم ) : گونگے، (بکم ابکم کی جمع ہے ) جو دیکھ نہ سکتے ہوں۔ (عمی) : اندھے، (اعمیٰ کی جمع ہے ) جو بول نہ سکتے ہوں۔ (لا یرجعون ) : وہ نہیں لوٹیں گے۔ (رجوع کرنا۔ لوٹنا ، پلٹنا )
تشریح : آیت نمبر 17 تا 18
سورة بقرہ کی ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھنے والوں کو سمجھانے کے لئے منافقین کی ایک مثال دی ہے کہ آخرت سے بےنیاز ہو کر وقتی مفادات کے پیچھے بھاگنے والے لوگ اس شخص کی طرح ہیں جو کسی صحرا یا جنگل میں تنہا ہوں، رات ٹھنڈی اور تاریک ہو اور جس کا یہ گمان ہو کہ ساری رات اس کو اسی جگہ رہ کر بسر کرنی ہے ۔ اب وہ رات کی اذیت سے بچنے کے لئے دن بھر لکڑیاں چن چن کر جمع کرتا ہے تا کہ وہ رات کے وقت ان لکڑیوں کو جلا کر ان سے راحت حاصل کرسکے۔ عین اس وقت جب کہ آگ پوری طرح روشن ہوگئی اور اب وہ وقت آگیا ہے جب اس کو راحت اور آرام ملنے کی امید ہو سکتی تھی کہ اچانک بارش برس گئی یا کسی اور سبب سے آگ بجھ گئی، تصور کیجئے اب اس اندھیرے میں اس پر کیا کچھ نہ گزر جائے گی اور یہ رات اس کے لئے کس قدر ہیبت ناک اور اذیت ناک ہوگی۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ان منافقین کا انجام بھی اس سے مختلف نہ ہوگا۔ یہ بھی دنیا کی دولت کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ دن رات مال دولت جمع کر رہے ہیں اور اصل زندگی (آخرت کی زندگی ) کی ان کو کوئی فکر نہیں ہے حالانکہ اصلی راحت کی جگہ قبر، حشر اور جنت ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لئے آج جو کچھ بھی جمع کر رہے ہیں موت کے آتے ہیں وہ ان تمام اسباب اور راحتوں سے محروم ہوجائیں گے اور ان کی یہ دولت، عالی شان بلڈنگیں اور دنیاوی اسباب ان کے کسی کام نہ آسکیں گے اور قبر کی تاریکیاں ان کا مقدر بن جائیں گی۔ وہ وقتی فائدے جن کی بنیاد پر انہوں نے اپنے آپ کو دولت ایمان سے محروم کر رکھا ہے اور منافقت کے مرض میں مبتلا ہیں کسی کام نہ آسکیں گے۔ جب عین راحت و آرام کا وقت آئے گا تو وہ شدید کرب اور اذیت میں مبتلا ہو کر بہرے ، گونگے اور اندھوں کی طرح ہاتھ پیر ماریں گے اور ان کو اس بات کا موقع نہ مل سکے گا کہ وہ واپس لوٹ کر کوئی حسن عمل کرسکیں۔
Ayahs 2:19–20لغات القرآن : آیت نمبر 19 تا 20
(او): یا ۔ (ک): جیسا ، جیسی (حرف تشبیہ) ۔ (صیب): بارش، تیز بارش ، زوردار بارش۔ (السماء) : آسمان۔ بلندی، اونچی جگہ (اس کی جمع السموات آتی ہے) ۔ (رعد): کڑک، زور دار آواز۔ (برق) : بجلی۔ (اصابع ) : انگلیاں (اصبع کی جمع) ۔ (اذان ): کان (اذن کی جمع ہے ) ۔ (الصواعق): کڑک (الصاعقہ کی جمع ہے ، تیز آواز، کڑک) ۔ (حذر الموت): موت کا ڈر اور خوف۔ (محیط): گھیرنے والا۔ (یکاد): قریب ہے ۔ (یخطف): وہ اچک لیتا ہے، وہ چھین کرلے جائے گا۔ (مشوا): وہ چلے۔ (قاموا) : وہ کھڑے ہوئے ، وہ کھڑے رہ گئے۔ (اظلم): اندھیرا ہوگیا (اندھیرا چھا جانا) ۔ (شاء): اس نے چاہا۔ (قدیر): قدرت رکھنے والا (اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 19 تا 20
منافقین کی یہ دوسری مثال بیان فرمائی جارہی ہے فرمایا کہ جو لوگ ایمان کی کمزوری ، شک و شبہ اور ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ جو اسلام اور مسلمانوں کی ترقیات کو دیکھ کر ادھر بھی آنا چاہتے ہیں اور کفار سے ملنے والے فائدوں کو بھی چھوڑنا نہیں چاہتے۔ جب ان کو اسلام اور مسلمانوں کے طریقے اپنانے میں اپنا فائدہ نظر آتا ہے تو وہ اس طرف چل پڑتے ہیں اور جب ان کو دنیا کے مفادات میں چمک دمک نظر آتی ہے تو اس طرف ڈھلک جاتے ہیں۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کو اس بات پر کامل قدرت حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو ان کی سننے اور دیکھنے کی طاقتوں کو ختم کر دے۔ جب کہ وہ اس کی گرفت اور پکڑ سے باہر بھی نہیں ہیں مگر اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ کسی کو مہلت دئیے بغیر اس کو گرفت میں نہیں لیتا۔ وہ ان کو دنیا کی مختصر سی زندگی میں ڈھیل دے رہا ہے تا کہ وہ ان کی آزمائش کرسکے اور ان کا انجام ان کے اعمال کے مطابق ہو سکے۔
خلاصہ اور ربط آیات :
سورة بقرہ کے پہلے اور دوسرے رکوع (آیت نمبر ایک سے بیس تک ) اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی صفات، کافروں کا مزاج اور منافقین کی مکاریوں اور فریب کا ذکر کرنے کے بعد تینوں جماعتوں کا انجام بھی ارشاد فرمادیا۔
(1) مومنوں کے لئے فرمایا ” اولئک ھم المفلحون “ وہ سب کامیاب ہونے والے ہیں۔
(2) کافروں کا انجام ” لھم عذاب عظیم “ یعنی ان کو بڑا عذاب دیا جائے گا۔
(3) منافقین کے لئے فرمایا ” لھم عذاب الیم “ ان کو دردناک عذاب دیا جائے گا۔
آیت نمبر اکیس سے اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کے تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا تعلق کسی بھی فرقے اور جماعت سے ہو ان کی نجات اللہ کی بندگی اور اطاعت ہی میں ہے اور یہ اطاعت و بندگی درحقیقت اللہ کے شکر کے طور پر ہے کیونکہ اللہ نے تمام انسانوں کو جسم اور روح سے بنا کر ان کے جسم و روح کے تمام تقاضوں اور ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ جسم کے لئے اس ساری کائنات اور اس کی حلال و پاکیزہ چیزوں کو اور روح کی زندگی اور تابندگی کے لئے اپنا پاک کلام اپنے نیک بندوں کے ذریعہ پہنچایا۔ ۔۔ ۔ اور فرمایا کہ اللہ کا یہ انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے آخر میں ایک ایسے نبی (حضرت محمد ﷺ پر اپنا عظیم کلام بھیجا ہے جو ہر طرح کے شک و شبہ سے پاک اور قیامت تک ساری انسانیت کے لئے رہبر ورہنما ہیں۔