2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 2:1
(2) سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں ان کو مقطعا کہا جاتا ہے کیونکہ یہ الگ الگ کرکے پڑھے جاتے ہیں خلفاء اربعہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود اور دیگر اکا بر صحا بہ کا خیال ہے کہ یہ حروف راز خداوندی ہیں جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور آنحضرت ﷺ نے بھی ان حروف کی تفسیر میں کوئی بات ثابت نہیں ہے مگر بعض صحابہ مثلا عبداللہ بن عباس اور بعض تابعین سے اس کی تاویل میں مختلف اقوال مروی ہیں مگر صحت سند کے ساتھ ثابت نہیں ہیں صرف ایک قول عبد الر حمن بن زید سے ثابت ہے کہ انہوں نے ان حروف کو اسمائے سورة قرار دیا ہے وکھوا لصحیح ( کشاف رازی۔ متآ خرین علماء نے ان حروف کو کو لطا ئف دقائق بیان کئے ہیں مگر یہ سب فنی کاوش الغازو تعمیہ کی حثیت رکھتی ہیں ایک احتمال کچھ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ اوائل سورة میں ان کے نزول سے تحدی مقصود ہو۔ اور عرب کے فصحا اور بلغا کو دعوت معارضہ دی گئی ہو کہ قرآن ان حروف تہجی سے مرکب ہے جن سے تم اپنا کلام ترکیب دیتے ہو اگر یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے تو تم بھی اس اس جیسا کلام بنا لاؤ ورنہ سمجھ لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے لیکن اس بارے میں تو قف اور سکوت بہتر ہے علامہ شوکانی فرماتے ہیں۔ ہر اس شخص کے لیے جو نجات کا خواہاں اور سلف صالحین کی پیروی کا خواہشمند ہے اتان جان لینا کافی ہے کہ ان حروف کے اتار نے میں کوئی ایسی حکمت ہے جس تک ہماری رسارئی ممکن نہیں ہے پس اس سے زیادہ گہرائی میں جانے کی سعی کرنا لا حا صل ہے۔ (فتح القدیر )
Ayah 2:2

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 2:2 in the Quran reader

ف 2 اس کتاب میں یعنی اس کے سچے ہونے میں اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی شک نہیں ہےڈرنے والوں کی راستہ بتاتی ہے4

(3) قرآن مجید کے جہاں اور بہت سے نام ہیں وہاں اس کا ایک نام الکتب بھی ہے یعنی وہ آخری کتاب جس کے نزول کی کتب سابقہ میں انبیا یا زبان پر خبری دی گئی ہے۔ ( خازن) گو یا ذالک الکتب فرماکر یہود مدینہ کی تردید کی ہے جو اس کے آخری کتاب ہونے کو منکر ہیں۔4 ہدایت کے ایک معنی تو رہنمائی وار شاد کے ہیں اس اعتبار سے تو قرآن پاک ھدی للناس ہے اور دسرے معنی تائید توفیق کے ہیں۔ یعنی ہدایت سے الفل فیضیاب ہونا اسی اعتبار سے قرآن کو ہدالمتقین فرمایا ہے (دیکھئے سورت قصص آیت 56) اور متقی کا لفظ وقاریہ سے مشتق ہے جس کے معنی بچاؤ اور حفا ظت کے ہیں مگر اصطلاح شریت میں متقی وہ ہے ہو ہر ایسی چیز سے اپنے آپ کو باز رکھے جس کے کرنے یا چھو ڑنے سے یہ اندیشہ ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مستحق ہوسکتا ہے ( الکشاف) او تقوی پیدا کرنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ انسان سلف صالحین یعنی صحابہ و تا بعین کی سیرت کا مطالعہ کرے اور اس کی اتباع اختیار کرے۔ ( ابن کثیر )
Ayah 2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ Open ayah 2:3 in the Quran reader

جو بن دیکھی باتوں پر یقین کرتے ہیں (اسی کو غیب کہتے ہیں ) (ف 5 اور نماز کو درستی سے ادا کرتے ہیں۔6 وہ جو ہم نے کو دیا خرچ کرتے ہیں۔7

ف 5 ایمان تصدیق کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اصلاح شریعت میں قول وفعل اور اقرار کے مجموعہ کو ایمان کہا جاتا ہے ابن ماجہ) اور یہاں الغیب سے وہ حقائق مراد ہیں جو عقل و حواس کی رسائی سے ماورا ہیں۔ مثلا ذات باری تعالیٰ و حی الہی عذاب قبر اور جملہ امور آخرت (قرطبی) پس اہل تقوی کی صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بیان پر اعتبار کرتے ہوئے ان حقائق پر ایمان رکھتے ہیں اور عقل و حواس سے ادراک و احساس کا مطالبہ نہیں کرتے۔6 یعنی اس کو صحیح اوقات میں ارکان وسنن کی حفاظت اور خشوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور نماز باجماعت میں صفیں سیدھی باندھتے ہیں کندھے سے کندھا پیر سے پیر اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر کھڑے ہوتے ہیں حدیث میں ہے۔ تسویتہ الصفوفہ من اقامتہ الصلوہ ( بخاری)7 ی نفقہ عام اور جملہ حقوق مالی کو شامل ہے۔
Ayah 2:4

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 2:4 in the Quran reader

اور جو یقین کرتے ہیں اس پر جو اترا تجھ پر اور جو اترا تجھ سے پہلے8 اور آخرت کا بھی یقین رکھتے ہیں ( قیامت اور حشر نشرکا)9

ف 8 پہلی کتابوں پر ایمان لانا صرف یہ ہے کہ ان کے منزل من اللہ ہون نے کی تصدیق کی جائے مگر عمل صرف قرآن و حدیث پر کیا جائے۔ (ابن کثیر ) 9 ۔ آخرت نشاۃ ثانیہ سے عبارت ہے (مفردات) ۔ اور بعث بعد الموت اور امور آخرت پر یقین رکھنا ایمان کا جزو ہے
Ayah 2:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے پر ور دگار کی راہ پر ہیں اور یہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں۔1

ف 1 یعنی اہل تقوی جو مذ کو رہ صفات سے متصف ہوتے ہیں وہی کامل فلا سے سرفراز ہوں گے ( قرطبی) ابن عمر ؓ سے مرفو عا مروی ہے کہ آلم سے المفلحون تک اہل جنت کا ذکر ہے۔ اور پھر عظیم تک اہل دوزخ کا۔ (سلفیہ )
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہوئے ان کو برابر ہے تو ڈرائے یا نہ ڈرائے وہ نہ مانیں گے2

ف 2 یعنی جو اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں کافر قرار پاچکے ہیں ان کو انذار سے فائدہ نہیں ہوگا ( قرطبی) اس کے معنی یہ نہیں کہ انذار بالکل فضول ہے نہیں بلکہ منذر کو تو تبلیغ رسالتہ کا حق ادا کرنے کا ضرور ثواب ملتا ہے رہے گا اس لیے علیہم فرمایا کہ ان کے حق میں انذار اور عدم انذار برابر ہے۔
Ayah 2:7

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے3 اور ان کی آنکھوں پردہ ہے اور ان پر قیامت کے دن بڑ مار پڑے گی

ف 3 یعنی گنا ہوں کو کثرت سے ان کتے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور قبول حق کے استعداد جو فطرتا ہر شخص میں ودیعت کی گئ ہے ان سے سلب ہوچکی ہے اباان حق ناحق کی تمیز باقی نہیں ر ہی گویا ان کے دل ایسے ہوگئے ہیں فی سے کسی چیز کو بند کرکے اس پر مہر لگا دی جائے گا یا یہ کہا جائے کہ ختم ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مگر ہے ان کے مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مر فو عا مروی ہے کہ جب مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے پھر اس نے توبہ کرلی تو بڑھنے سے رک گیا اور گناہ سے بچنے کی کوشش کی تو اس کا دل صاف ہوگیا۔ اور اگر وہ گنا پر گنا کرتا گیا تو وہ سیاہ نقطہ پھیل کر سارے دل پر چھا گیا۔ فرمایا یہی زنگ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔ ( ابن جریر)3 یعنی گناہوں کو کثرت سے ان کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور قبول حق کے استعداد جو فطرتا ہر شخص میں ودیعت کی گئ ہے ان سے سلب ہوچکی ہے اباان حق ناحق کی تمیز باقی نہیں ر ہی گویا ان کے دل ایسے ہوگئے ہیں فی سے کسی چیز کو بند کرکے اس پر مہر لگا دی جائے گا یا یہ کہا جائے کہ ختم ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مگر ہے ان کے مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مر فو عا مروی ہے کہ جب مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے پھر اس نے توبہ کرلی تو بڑھنے سے رک گیا اور گناہ سے بچنے کی کوشش کی تو اس کا دل صاف ہوگیا۔ اور اگر وہ گناہ پر گناہ کرتا گیا تو وہ سیاہ نقطہ پھیل کر سارے دل پر چھا گیا۔ فرمایا یہی زنگ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔ ( ابن جریر )
Ayah 2:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

کچھ لوگوں ایسے بھی ہیں جو منہ تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر4 اور پچھلے دن قیامت پر مگر دل سے ان کو یقین نہیں ہے۔

ف 4 اہل ایمان اور کھلے ڈلے کفار کا ذکر نے کے بعد اس آیت میں ان منافقین کا ذکر ہو رہا ہے جو بظاہر ان کا دعوی کرتے تھے مگر حقیقت میں ان کے دل یقین و اذعان اور نور ایمان سے یکسر خالی تھے اور ان کی تمام ہمدرد دیاں کفر اور اہل کفر کے ساتھ تھیں، یہ بیان تا آخر رکوع 13 آیات میں پھیلا ہوا ہے۔
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

اور مومنوں سے دغا بازی کرتے ہیں وہ اپنے کو آپ دغادیتے ہیں اور نہیں سمجھتے5

ف 5 یعنی زبان سے اسلام کا اظہار کر کے اور دلوں میں کفر چھپاکر آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مسلم معاشرے میں کچھ مراعات سے بہرہ مند ہوں اور ان کے راز بھی معلوم کرتے رہیں میگر یہ لوگ خود فیر یبی میں مبتلا ہیں۔ گو یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں اتی مگر ایک نہ ایک دن ان کے نفاق کی سزا ان کو مل کر رہے گی۔
Ayah 2:10

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کا دل پہلے ہی سے) بیمار تھا اللہ تعالیٰ ان کی اور زیادہ بیمار کردیا6 اور جھوٹ بو لنے کی سزا میں دکھ کی مار پڑ گے۔

ف 6 یعنی شک ونفاق ریا کاری ارومومنوں سے حسد و بغض وغیرہ کے امراض قلبیہ میں مبتلا تھے ہی اب اسلامی اقتدار کی روز افزوں ترقی سے اور جل بھن رہے ہیں ( قرطبی) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بیماری یہ کہ جس دین کو دل نہ چاہتا تھا نا چار قبول کرنا پڑا۔ اور دوسری بیماری اللہ تعالیٰ نے یہ زیادہ کردی یکہ حکم دیا جہاں کا جب کے خیر خواہ تھے ان سے لڑنا پڑا۔ ( مو ضح)
Ayah 2:11

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

جب ان سے کہوں ( بھائی) ملک میں فساد مت پھیلاؤ تو کہتے ہیں اجی ہم تو سنوارنے والے ہیں7

ف 7 فساد دراصل صلاح کی ضد ہے اور اس کے معنی ہیں استقامت سے ہٹ جانا یہاں فساد سے مراد ہے کفر و معصیت کا ارتکاب حضرت عبدا اللہ مب مسعود ؓ اور دیگر صحا بہ نے یہی تفسیر کی ہے۔ ( ابن کثیر) یہ واقعہ ہے کہ ہر زمانے میں مفسد اور گم راہ لوگ نشر و اشاعت کے لیے خوبصورت عنوان تجویز کرتے رہے ہیں جیسا کہ آجکل دعا بتول سل غیر کے نام سے شرک ہو رہا ہے ( للنار) ۔ ہمارے زمانے میں بھی منافقوں کی چھوٹی ذریت پیدا ہوئی ہے جس کا دعوی تو مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا ہے۔ اور وہ خود کو پکے مسلمان سمجھتے ہیں مگر در اصل وہ اسلام کے ڈھانے اور اس کے عقائد و شرائع اور احکام کو نیست وبابود کرنے کی فکر میں جس ترقی کے یہ لوگ خواہاں ہیں وہ مسلمانوں کی ترقی نہیں بلکہ کفر زنفاق کی ترقی ہے۔ (ودحیدی)
Ayahs 2:12–13

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

سنو یہی لوگ فسادی ہیں پر نہیں سمجھتے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب ان سے کہو ایمان لاؤ جس طرح اور ( سچے) لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کیا ہم بھی اتو بن جائیں) جس چرح اتو ایمان لائے ہیں ہم بھی ایمان لاویں سن لو وہ خود اتو ہیں پر نہیں جانتے8

ف 8 منافقین کا ایک شیوہ وہ یہ بھی تھا کہ جو لوگ صدق دل سے اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو تکا لیف اور خطرات میں مبتلا کر رہے تھے ان کو بیوقوف سمجھتے۔
Ayahs 2:14–15

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب سچے ایما نداروں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایماندار ہیں اور جب اکیلے اپنے شیطا نوں کو ساتھ ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ( اجی) ہم تو دل لگی کرتے ہیں

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

اللہ جل شانہ ان سے دل لگی کرتا ہے اور ان کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے شرارت میں بھٹکتے ہوئے1

ف 1 عام محاروے میں ہر برے کام کی جزا یا جواب کو اسی برائی کا نام دے دیا جاتا ہے قرآن مجید کئی مقامات پر یہ محاورہ استعمال کیا ہے چناچہ اسی محاورہ کے مطابق کے مکر و فریب اور ہنسی مذاق کے مقابلہ میں جو انھیں مہلت دی اور اب ہر فورا گرفت نہ کی اس کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے ہنسی ٹھٹھہ کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ ان منافقین سے ہمارا یہ بر تاؤ اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہم ان سے خوش ہیں بلکہ یہ ہمارا غضب ہے اور یہ امہال دراصل ان کے ہنسی مزاح کا بد لہ ہے جو وہ مسلمانوں سے کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی سرکشی میں خوب قدم بڑھا لیں جیسے فرمایا ( :إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا : آل عمران آیت 178) ۔ ابن عباس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے استہزا کی یہ صورت آخرت میں پیش آئے گی قرطبی )
Ayah 2:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے راہ کے بدلے گمراہی مول لی تو نہ نفع ہوا ان کو سو داگری میں نہ انہوں نے راہ پائی،2

ف 2 یعنی ہدایت و ایمان کی راہ چھوڑکر اور کفر و ضلالت کی راہ اختیار کر کے انہوں نے بجائے فائے کے نقصان اٹھا یا ہے جو سنت کی راہ چھوڑ کر بد عت کی۔
Ayah 2:17

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی کہاوت (مثل) اس شخص کی سی ہے جس نے ( اندھیرے جنگل میں رات کو آگ سلگائی جب آس پاس روشنی پھیلی اور برابھلا دکھائی دینے لگا تو یکباری گی) اللہ تعالیٰ ان کی روشنی میٹ دی ( اور اس آگ کو بجھا دیا اور اندھیرے میں ان کو چھوڑ دیا کچھ نہیں دیکھتے3

ف 2 جب آنحضرت ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لا آئے تو کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا اور بعد میں منا فق ہوگئے۔ ان لوگوں کے حال کی یہاں مثال بیان فرمائی کہ ایمان لا کر انہوں نے کچھ روشنی کو کھو دیا اور نفاق کے اندھیرے میں پڑگئے اور وہ تمیز بھی جاتی رہی۔ ( فتح القدیر )
Ayah 2:18

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

بہرے گونگے اندھے ہیں۔ وہ راہ پر آنے والے نہیں4

ف 4 یعنی عقل و فکر کھو دیے میں زبان سے بھی بوجہ بز دلی کے اعتراف حق نہیں کرسکتے تو پھر راہ حق کی طرف سے کیسے رجوع ہوسکتے ہیں ؟
Ayah 2:19

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا ایسی مثال ہے جیسے مینہ برس رہا وہ آسمان سے اس میں اندھیرے ہیں اور گرج او بجلی مارے کڑ کے موت کے ڈر سے انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس رہے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ منکروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ ف

ف 5 یہ مثال اللہ تعالیٰ نے منافقین کی دوسرے گروہ کی بیان فرمائی ہے یعنی وہ لوگ جو بظاہر ہر مسلمان تو ہوگئے تھے، مگر صعف ایمان کی وجہ سے ہمیشہ شک وتذبذب میں مبتلا رہتے تھے۔ راحت و آرام کی صورت میں مطمئن نظر آئے تے اور تکا لیف کا سامنا ہوتا تو شک میں پڑجاتے۔ اگلی آیت میں ان کے اسی تذبذب کو بیان فرمایا ہے کہ جب کبھی ان پر رشنی پڑتی ہے تو حل دیتے ہیں اور جب اندھیرا ہوتا ہے تو ٹھہر جاتے ہیں۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : دین اسلام میں آخرت اسی سے آبادی ہے۔ اور اول کڑک ہے اور بجلی ہے منا فق لوگ اول سختی سے ڈرجاتے ہیں اور ان کو آفت سامنے نظر آتی ہے اور جیسے بادل کی چمک میں کبھی اجا لا ہوتا ہے اور کبھی اندھیرا سی طرح منا فق کے دل میں کبھی اقرار ہے کبھی انکار۔ ( مو ضح)
Ayah 2:20

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریت ہے کہ بجلی ان کی آنکھوں کو اچک لے6 ہر بار جب ان پر چمکتی ہے تو اس کی روشنی میں چلتے ہیں اور جب اندھیرا ہوجاتا ہے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چا ہے تو ان کے کان بہرے کر دے ( بجلی کی کڑک سے) اور ان کی آنکھیں اندھی کر دے ( بجلی) کی چمک سے) بیشک اللہ تعالیٰ سب کو چھ کر ستا ہے

ف 6 اس آیت میں ان لوگوں کو متنبہ کیا ہے جو اپنی خداد او صلاحیتوں کو سلب کرلے اور تم اندھے گونگے اور بہرے بن کر وہ جاؤ۔ (جامع البیان )
Ayah 2:21

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

7 اے لوگو اپنے مالک کی بندگی کر8 جس نے بنایا تم کو اور تم سے پہلے ( اگلے) لوگوں کو تم پرہیز گارہو جاؤ گے۔ ف

ف 7 یہاں تک تو تمہید تھی کہ قرآن جو ہدایت کا اصلی سر چشمہ ہے اسے ماننے اور نہ ماننے کے اعتبار سے تین قسم کے لوگ ہیں اب آگے بنی نوع انسان کے سامنے وہ اصل بات پیش کی جا رہی ہے جو قرآنی دعوت کا حقیق نصب الیعن ہے اور جس کے لیے کتابوں کی تنزیل اور انبیاء کی بعثت کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے وہ ہے دعوت الہی التو حید یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اور اس کی عبادت اور دعا میں کسی کو شریک نہ سمجھنا۔ 8 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اعبدوا کے معنی ہیں وحدوا یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور شرک سے بچو۔ (ابن کثیر) جب آیت سے مقصد یہی ہے تو خلق کا ذکر تو محض اقامت حجت کے طور پر ہے یعنی جس اللہ کو خالق کائنات مانتے ہو اور اس کا امور تکوینی پر تصرف اور اختیار تسلیم کرتے ہو عبادت بھی اسی کی کرو اور حاجت کے لی دعا بھی اسی ایک سے مانگو۔ ابن کثیر۔ فتح القدیر ) 9 اس کا تعلق اعبدوا سے ہے یعنی توحید کا عقیدہ اختیار کر لوگے تو یقینا تمہارے اندر تقوی پیدا ہوجائے گا۔ قرآن میں لعل کا اعتبار عموما یقین کے معنوں میں ہوا ہے۔ ( المنار)
Ayah 2:22

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

امید رکھو جس نے زمین کو تمہارا بچھو نا بنایا اور آسمان کو چھت اور آسمان سے پانی بر ساکر1 میوے نکالے تمہارے کھا نے کو تو جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کے برابر کسی کو مت بناؤ ف۔2

ف 1 ۔ السماء سے مراد اس جگہ بادل ہے۔ ابن کثیر ) 2 اندادا کا واحد ند ہے جس کے معنی اور شریک کے ہیں یعنی جب تم جب تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور نفع و نقصان بھی اس کے قبضہ قدرت میں ہے تو پھر دوسرا کا ہمسر کیوں سمجھتے ہو شرک کے بہت سے شعبے ہیں اور آنحضرت نے اس کا سد باب کرنے کے لیے ہر ایسے قولو فعل سے منع فرمایا ہے جس میں شرک کا شائبہ تک بھی پایا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک آدمی نے آنحضرت ﷺ سے کہا ماشاء اللہ وما شئت اس پر آپ ﷺ نے فرمایا ؛ اجعلتنی للہ ندا کہ تو نے مجھے اللہ کا شریک ٹھہرا دیا ( نسائی ابن ماجہ) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے شرک بہت خفی ہے، ایک شخص کسی کی جان کی قسم کھاتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ فلاں بطخ نہ ہوتی تو گھر میں چور آجاتے وغیرہ کلمات بھی ایک طرح سے ند کے تحت آجاتے ہیں۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:23

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم کو شک ہے اس کلام میں جو ہم نے اتارا پنے بندے پر ( یعنی قران میں)3 تو ایک ہی سورت اس کے جوڑ کی بنا لاؤ اور جو حمایتی تمہا رے اللہ تعالیٰ کے سوا ہوں ان کو بھی بلا لو اور ان سے بھی ( اس سورت کے بنانے ہیں ) ۔ مدد لو اگر تم سچے ہو

ف 3 گزشتہ دو آیتوں میں توحید کی دعوت اور شرک کا رد ہے اب یہاں سے رسالت اور بنوت پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں قرآن کے معار ضہ کی دعوت دی جا رہی ہے اس سے پہلے یہی چیلنچ مکہ میں کئی بار دیا جا چکا ہے۔ (دیکھئے سورت یونس رکوع :5 سجفہ ہو و رکوع 2 وغیرہ)
Ayah 2:24

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

اگر ایسا نہیں کرتے اور البتہ نہ کرسکو گے 4 تو اسی آگ سے بچو جس کے ایندھن آدمی اور5 پتھر ہیں ( بجانے لکڑیوں کو اس میں جلیں گے) وہ منکروں کے لیے تیار ہے۔6

یعنی نہ گز شتہ میں تم سے یہ کام ہوا اور نہ آئندہ میں کبھی ہوسکے گا یہ ایک دوسرا معجزہ ہے چناچہ آج تک کس نے بھی یہ چینچ قبول کرنے کی جرات نہیں کی۔ (ابن کثیر ) 5 حضرت عبد اللہ بن مسعود اور دیگر صحابہ سے مروی ہے کہ یہاں حجارہ سے گندھک کے پتھر مراد ہیں۔ یہی قول ابن عباس کا ہے امام باقر اور دیگر تابعین نے اس سے وہ اصنام اور انداد مراد لیے ہیں جن کی کفار پوجا کرتے تھے۔ (دیکھئے رسورت الا نبی اء آیت 98 ۔ ابن کثیر فتح القدیر)6 ای قد اعدت۔۔ یعنی متقد یر قد یہ جملہ حالیہ ہے جس نے ثابت ہوتا ہے کہ جہنم اس وقت بھی موجود ہے۔ احادیث سے جنت و دوزخ کا اس وقت موجود ہونا ثابت ہے اہل سنت اور سلف امت کا یہی کے خلاف ہے۔ (ابن کثیر۔ رازی )
Ayah 2:25

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور ( اے پیغمبر ( علیہ السلام) ان لوگوں کو خو شخبری سنا جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے، ان کے لیے باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہ رہی ہیں جب اس باغ کا کوئی میوہ ان کے کھانے کا دبا دیا جائے گا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو پہلے ہم کو مل جو میوے وہاں لائے جائیں گے ان کی صورتیں8 ملتی جلتی ہوں گی ( لیکن مزہ جدا جدا) اور ان کے لیے وہاں ستھری (پاکیزہ)9 عور تیں ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ ان باغو میں رہیں گے۔10

ف 7 کفار کو تہدید کے بعد اب ترغیب دی جا رہے ہے اور قرآن میں عمو ما یہ دونوں مقردن ہیں۔ اس اسلوب بیان کی وجہ سے اسے المثانی کہا جاتا ہے ( ابن کثیر) ایمان کے ساتھ عمل صالح کی تصریح سے مقصد یہ ہے کہ جنت میں جانے کے لیے عمل صالح بھی ضروری ہے۔ کسی عمل کے صالح ہونے کے یہ معنی ہیں کہ خلوص نیت کے ساتھ ہو اور سنت کے مطابق ہو۔ سنت کی مخالفت سے نیک عمل بدعت بن جاتا اور عدم خلوص سے نفاق پیا ہوتا ہے۔ اسی کو دوسرے الفاظ میں اسلام اور احسان سے تعبیر فرمایا ہے۔ (دیکھئے حاشیہ آیت 112) نفاق اور بدعت سے عمل برباد ہوجاتا ہے۔ (ابن کثیر)8 دینا کے میووں کے ہم صورت ہوں گے یا آپس میں ہم شکل ہوں گے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جنت کی نعمتوں کے نام تو دنیا والے ہی ہوں گے مگر ان کی حقیقت سے آگاہی ناممکن ہے حدیث میں : مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر۔ نہ ان کو آمکھ نے دیکھا نہ کان نے سنا اور نہ کبھی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال ہی آیا۔ ( ابن کثیر)9 یعنی جنتی عورتیں ہر قسم کی ظاہر اور باطنی آلائشوں سے پاک و صاف ہوں گی۔ (ابن کثیر)10 ۔ یہاں خلود کے معنی ہمیشگی کے ہیں اور یہی اس حققی معنی ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 2:26

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کے مثال بیان کرنے میں نہیں شرما تا جو ایمان والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ مثال ان کے مالک کی طرف ٹھیک ہے اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں بھلا اللہ تعالیٰ ایسی مثال کی کیا غرض پڑی تھی ( بات یہ ہے کہ) کہ اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے اس سے ( یعنی) اس مثال سے بہتیروں کو اور وہ راہ پر لاتا ہے بہتوں کو اور گمراہ انہیں کو کرتا ہے جو حکم نہیں مانتے

ف 1 ۔ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر مدعا کو واضح کرنے کے کے لیے مکڑی اور مکھی وغیرہ کی مثالیں بیان کی گئی ہیں اور ابتدا میں منافقین کی حالت سمجھانے کے لیے ان کے متعلق مثالیں بیان کی ہیں۔ کفار اور منافقین اعتراض کرتے تھے کہ اگر یہ قرآن کتاب الہی ہوتی تو اس قسم کے حقیر جانور وغیرہ کی مثالیں بیان نہ ہوتیں ان آیات میں انہی کے اعتراض کا جواب دیا ہے عھد اللہ سے مراد وہ وصیت بھی ہوسکتی ہے جو انبیاء کی زبانی آسمانی کتابوں میں اپنے اوا مر ونواہی بجا لانے کے لیے کی ہے اور ہوسکتا ہے کہ تورات میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لا نے کا جو عہد اہل کتاب سے لایا گیا ہے وہ مراد ہو۔
Ayahs 2:27–28

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

جو اللہ تعالیٰ کے اقرار کو پکا کر کے پھر توڑتے ہیں اور جس کے جوڑ نے کا للہ تعالیٰ نے حکم کیا اس کے پھوڑتے ہیں اور ملک میں فساد مچاتے ہیں یہی لوگ ٹوٹا اٹھائیں گے۔

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

ف 1 تم خدا کو کیسے نہیں مانتے پہلے تم میں جان جان نہ تھی پھر تم میں جان ڈالی2 پھر تم کو مار ڈالے گا پھر تم کو جلائے گا پھر تم کو اسی کی پاس جانا ہے۔

ف 2 ۔ تعجب اور انکار کے طور پر فرمایا کہ توحید کے دلائل کی وضاحت کے بعد تمہارا شرک قابل تعجب ہے۔ (بیضاوی) یہاں دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر ہے۔ انسان پہلے معدوم تھا پھر وجود میں آیا، عدم پہلی موت اور وجود پہلی زندگی ہے دوسری موت یہ معروف موت ہے اور دوسری زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ (فتح القدیر)
Ayah 2:29

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے سب کچھ جو زمین میں ہے بنایا پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا۔3 اور سات آسمان ہموار بنائے4 اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔

ف 3 ۔ یہی معنی اما بخاری نے ابو العالیہ سے اور ابن جریر نے ربیع بن انس (رح) سے رایت کیے ہیں۔ یہ یعنی استوی الی السمآء یا اس تو علی العرش اللہ کی صفت ہے اور صفات الہیہ کے بارے میں سلف تاویل کے قائل نہیں بلکہ ان کو ظاہری معنی پر محمول کرتے ہیں۔ (ترمذی) اس ایت سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین آسمان سے پہلے پیدا کی گئی۔ اور یہی بات حم السجدہ کی آیات سے ثابت ہوتی ہے مگر سورة اناز عات میں والا رض بعد ذالک دحھا بظاہر اس کے خلاف ہے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ تخلیق تو پہلے ہے مگر وحو بعد میں ہے۔ (ابن کثیر)4 حدیث میں ہے کہ دو آسمانوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ نیز) حدیث میں ہے کہ جس نے ظلم سے کسی کی ایک بالشت زمین پر بھی قبضہ کرلیا قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈلا جائے گا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمینیں بھی سات ہیں اور آیت " ومن الارض مثلھن سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ( ابن کثیر۔ قرطبی)
Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور ( اے پیغمبر وہ وقت یاد کر جب تیری مالک نے فرشتوں5 سے کہا میں زمین میں ایک نائب ( یعنی خلیفہ اور قائم مقام) بنا والا ہوں2 وہ بو لے کا تو ایسے شخص کو نائب بنائے گا جو زمین میں فساد کرے اور جو خون بہائے گا اور ہم ( ان آفتوں سے پاک رات دن) تعریف کے ساتھ تیری خوبی اور پاکی بیان کرتے ہیں رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( اس میں جو مصلحت ہے) جانتا ہوں تم نہیں جانتے

ف 5 ۔ اس آیت اور دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائ کہ انسان سے الگ اور مستقل ایک مخلوق ہیں اور تدبیر عالم ان کے سپرد ہے۔ اس کا ثبوت بہت سی احادیث سے ملتا ہے حکمائے اشراق بھی ملائکہ کو ایک مستقل نوع مانتے ہیں اس زمانہ کے طبیعین کہتے ہیں کہ ملائکہ کائنات عالم کو قوائے فطر یہ کا نام ہے یہ نظریہ دراصل قدیم علمائے طبیعین کا ہے جن سے آجکل کے تجدد پسند حضرات نے اخذ کیا ہے شیخ بو علی سینا اپنے رسالہ النبوت میں لکھتے ہیں فمن العادہ فی الشر یعتہ تسمتہ القوی اللطیفتہ الغیر المحسو ستہ ملائکتہ۔ شریعت اپنی اصطلاح میں قو سی لطیفہ غیر محسوستہ کو ملائ کہ سے تعبیر کرلیتی ہے مگر اس نظر یہ کو مان لینے سے ایمان باملائ کہ نے حقیقیت ہو کر رہ جاتا ہے۔6 ۔ خلیفہ سے مراد جنس آدم بھی ہوسکتی ہے اور انسان کے اللہ تعالیٰ کا خلیفہ (نائب) ہونے کی یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے تفو لض کردہ احکام اس کی مرضی کے مطابق چلائے آدم کے فقہ میں اس کو صیغہ فی الا رض قرار دینے سے اوپر کی آیت خلق لکم مافی الا رض جمیعا پر بھی دلیل قائم ہوگئی /(المنار) ۔ اور فرشتوں کا یہ استفسار دریافت حال کے لیے تھا نہ کہ بطور اعتراض یا حسد وبغض کے۔ (فتح البیان)7 جیسا کہ حدیث شفاعت کبری میں آدم (علیہ السلام) کے متعلق تحریر ہے اعلمک اسما کلی شیء ( ابن کثیر) اور یہ تعلیم القاء والہام کے ذریعے تھی۔ (فتح القدیر)
Ayah 2:31

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا ) ۔ آدم ( علیہ السلام) کو سارے7 نام بتا دیئے ( یعنی ہر ایک چیز کے نام ان معلوم ہوگئے) پھر ان چیزوں کو فرشتوں کے ساتھ رکھا اور فرمایا ان کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو۔8

ف 8 ۔ یعنی اس بات کہ تم میں اصلاح و انتظام کی صلاحیت ہے اور خلافت ارضی کا کام سنبھا سکتے ہو۔
Ayah 2:32

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

فرشتوں نے عرض کیا کو پاک ہے9 ہم کو کیا معلوم مگر جتنا تو نے سکھلایا بیشک تو ہی جاننے والا ہے اور حکمت والا۔

ف 8 سبحانک۔ کہ کلمہ تنز یہ یہ ہے یعنی تیری ذات ہر قسم کے نقائص سے پاک ہے اس میں فرشتوں نے اپنی عاجزی اور نادانی کا اعتراف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے کمال علم و حکمت کا اعتراف۔ (ابن کثیر)
Ayah 2:33

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

فرمایا ( اللہ تعالیٰ نے) اے آدم ( علیہ السلام) فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتادے ( آدم ( علیہ السلام) نے یہ نام بتلادیئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیوں میں تم سے نہیں کہا تھا میں آسمانوں اور زمین کو غیب کی باتیں جانتا ہوں اور جو تم کھولتے ہو۔ اور جو چھپائے ہو سب میں جانتا ہوں۔1

ف 1 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کا علم جزوی حثیت کا ہے اور وہ باوجود مقرب ہونے کے علم غیب نہیں رکھتے۔ حدیث عائشہ ؓ میں ہے کہ جو شخص یہ گمان کرے کہ آنحضرت ﷺ کل کی بات جانتے ہیں تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ (صحیح مسلم) پھر نجومیوں اور کا ہنوں کے متعلق یہ اعتقاد کہ وہ غیب کی باتیں جانتے ہیں صریح نادانی اور جہالت ہے۔ (وحیدی) اور کوئی غیب کی بات پوچھنے کے لیے کاہن یا نجومی کے پاس جانا اور اس کی تصدیق کرنا کفر ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)2 ۔ علم کے ذریعہ آدم (علیہ السلام) کی فضیلت ظاہر کرنے کے بعد اب فرشتوں پر اسے دوسرے اشرف یہ بخشا کہ ان کو آدم کو سامنے سجدہ کا حکم دیا۔ اس سجدہ سے مراد محض تسخیر نہیں ہے بلکہ اپنی ہبیت کے ساتھ ہے علما نے بیان کیا ہے کہ یہ سجدہ تعظیمی تھا جو پہلی امتوں میں جائز چلا آرہا تھا اسلام نے سے ممنوع اور حرام قرار دیا ہے۔ ورنہ سجدہ عبادت تو غیر اللہ کے لیے شرک ہے اللہ تعالیٰ اس کا حکم فرشتوں کو کیسے دے سکتے تھے اور صحابہ کرام نے آنحضرت سے اجازت مانگی کہ ہم آپ ﷺ کو سجدہ کرلیا کریں تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر میں کسی بشر کو دوسرے بشر کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو سب سے پہلے عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ ( قرطبی۔ فتح القدیر) مگر افسوس ہے جاہل صوفی اور عوام جب مشائخ کی خدمت میں حاضری دیتے ہیں تو ان کو سجدہ انہوں نے اپنا شعار بنا لیا ہے۔
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کے سجدہ کرو آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کرو2 تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے ( شیطان کا لقب ہے) اس کو نہ مانا اور شیخی میں آگیا وہ منکروں میں تھا۔3

ف 3 ۔ ابلیس کے متعلق اکثر علماء کا خیال یہ ہے کہ وہ فرشتوں میں سے تھا۔ ابن جریر نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ قرطبی اور آیت کان من الجن۔ (الکہف :5) کا جواب یہ دیا ہے کہ قرآن میں لفظ جن کا اطلاق فرشتوں پر بھی ہوا ہے۔ (اصافات :158) بعض نے لکھا ہے کہ اصل میں تو ابلیس جنوں میں سے تھا مگر بوجہ کثرت عبادت کے فرشتوں میں شمار ہونے لگا تھا اور اس کا نام عزازیل تھا پھر بعد میں نافرمانی کی وجہ سے ابلیس کے نام سے موسوم کردیا گیا جس کے معنی ناامید کے ہیں۔ (قرطبی۔ وحیدی) اور کان من الکا فرین کے معنی یہ ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں پہلے سے کافر تھا۔ (المنار )
Ayah 2:35

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا اے آدم ( علیہ السلام) تو انپی بی بی سمیت جنت میں رہ اور دونوں ( میاں بی بی) فراغت کے ساتھ اس میں سے کھاؤ جس جگہ چاہو مگر اس درخت کے پاس مت پھٹکو اگر ایسا کرو گے تو گنہگاروں میں شریک ہو گے۔4

ف 4 ۔ اس آیت میں آدم (علیہ السلام) کی تیسری فضیلت کا بیان ہے کہ فرشتوں سے سجدہ کروانے کے بعد انہیں جنت میں سکونت کی اجازت دی بعض نے اس جنت سے زمین پر کوئی باغ مراد لیا ہے مگر صحیح یہ ہے یہ جنت آسمان پر تھی پھر جس درخت کے قریب جا نے سے آدم کو منع فرمایا ہے اس کی تعبین میں اختلاف ہے حافظ ابن کثیر مختلف اقوال نقل کرنے بعد لکھتے ہیں قرآن نے اس کے نام یا خاصیت کی کوئی تصریح نہیں فرمائی اور نہ کسی حدیث سے اس کی تعیین ہوتی ہے پھر نہ اس کے جاننے میں کوئی علمی یا اعتقادی فائدہ پہناں ہے اور نہ اس کے نہ جاننے میں کوئی ضرور ہے لہذا بہتر یہ ہے کہ اس کی تعبین سے احتراز کیا جائے یہی رائے حافظ ابن القیم اور امام رازی کی ہے اور اکثر سنف امت کا بھی یہی قول ہے، عصمت انبیاء کے لیے دیکھئے سورت ص اور حوا کی پیدائش کے لیے نساء اور اعراف)
Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر ان دونوں کو شیطان سے پھسلا کر وہاں سے ہٹا دیا او جس مزے میں تھے اس میں سے نکلوا کر چھوڑا اور ہم نے حکم دیا تم سب اتر جاؤ ایک دوسرے کے دشمن اور تم کو زمین میں رہنا اور وہاں کے مزے اٹھانا ہے ایک مدت تک۔5

ف 5 ۔ شیطان اس روغلانے کا سورت اعراف آیت :2) میں ذکر کیا ہے اس نے کچھ قسمیں کھا کر آدم اور حوا (علیہ السلام) کے دل میں وسوسہ پیدا کردیا اور الی حین کے معنی تاقیا مت کے ہے بعض علمانے یہاں شیطان کے جنت میں چلے جانے کے متعلق ایک عجیب و غریب قصہ نقل کیا ہے جو اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ (ابن کثیر)
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم ( علیہ السلام) نے اپنے مالک سے چند بتیں سیکھ لیں ( یعنی دعا کے چند الفاظ جو اللہ تعالیٰ کے چند الفاظ واللہ تعالیٰ ہی نے ان کے دل میں ڈالے)7 اور اللہ تعالیٰ نے اس کا قصور معاف کردیا بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے

ف 6 ۔ یہ کلمات وہی ہی جن کا ذکر سورة اعراف (آیت :23) میں ہے یعنی ربنا ظلمنا بعض تابعین نے کچھ ادعیہ ماثورہ بھی نقل کی ہیں اور ثلقی کے معنی بذریعہ وحی یا الہام اخذ کرلینے کے ہیں۔7 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کی تو بہ قبول فرمائی۔ خالص توبہ کے لیے تین امور شرط ہیں علم، حال اور عمل، گناہ کے ضرر کے احساس کو علم کہا جاتا ہے اور اس احساس کے بعد دل میں نو ندامت پیدا ہوتی ہے اسے حال کہتے ہیں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کہلا تا ہے اس جملہ معلوم ہو کہ گناہ کے اثرات لازمی اور طبعی نہیں جن کی لا محلا لہ سزا مل کر رہے گی کسی چیز کے مؤثر ہونے کا مدار اللہ تعالیٰ کے اختیار اور مشیت پر ہے۔ انسان کے تو بہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہ کے اثر کو ختم کردیا ہے جاتا ہے، (رازی)
Ayah 2:38

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا تم سب کے سب یہاں سے اترو۔8 اب اگر میری ہدایت و شریعت یا کتاب یا رسول تم تک آوے تو اس پر جو میری ہدایت پر چلیں گے ان کو نہ ڈر ہوگا نہ غم۔10

ف 8 ۔ تو نہ کی قبولیت کے بعد اس جملہ کا اعاد اس غرض سے ہے کہ اب تم زمین پر ہی رہو اب تمہیں نبوت سے سرفراز کیا جاتا ہے اصل میں اس کا تعلق پہلے اھبطوا کے ساتھ ہے دوبارہ ھبطوا کا جملہ لاکر اس ربط کی طرف اشارہ کردیا ہے۔9 ۔ مخاطب تو آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ ہیں مگر مراد انکی ذریت سے یعنی تمہارے پاس میری طرف سے انبیاء ورسل وحی کی ہدایت لے کر آتے رہیں گے۔ (ابن کثیر) ہدایت کا یہ سلسلہ آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگیا۔ انحضرت اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور قرآن مجید آخری کتاب ہدایت ہے۔ تاریخ بخاری اور مستدرک حاکم میں ہے کہ انبیاء کی کل تعداد ایک لا کگ چو بیس ہزار ہے جن میں سے تین سو پندرہ نبی مرسل ہیں۔ (قرطبی) آج ہمارے پاس ہدایت الہی کے دو نوشتے ہیں یعنی کتاب وسنت۔ ان کے ساتھ منسلک سے ہی ہم ضلا لت سے بچ سکتے ہیں۔10 ۔ حزن وہ افسوس جو مافات اور خوف آئندہ متوقع خطرے سے مقصدیہ ہے کہ متعین ہدایت آخرت میں تو دنیا کی زندگی پر افسوس کریں گے جیسا کہ کہ کفار کو افسوس ہوگا ( الانعام :27) اور قیامت کے احوال وشدا انہیں کو اندیشہ نہ ہوگا (النل :79 الا نبی اء :3)
Ayah 2:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جو لوگ نافرمانی کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلا دیں گے وہی دوزخی ہیں ہمیشہ دوزخ میں رہیں گےا

ف 1 ۔ یا یھا الناس سے لیے کر یہاں تک عمومی انعامات کا ذکر فرمائے ہیں اب خاص کر ان انعامات کا بیان ہے جو نبی اسرائیل پر کئے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا زمانہ یا لقب ہے جس کے معنی ہیں اللہ کا بندہ یا بر گزیدہ۔ بایں وجہ ان کی اولاد کی بنی اسرائیل کہا جاتا ہے بنی اسرائیل میں پہلے پیغمبر یوسف (علیہ السلام) اور آخرت پیغمبر عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ (قرطبی) یہاں سے لے کر ایک سو سنتالیس آیا تک دس انعامات دس قبائح اور دس سزاؤں کا ذکر ہے جو ان کی بد کر داریوں کی وجہ سے ان کو دی گئیں۔ (صفوہ)
Ayah 2:40

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے اسرائیل ( حضرت یعقوب و ابن اسحاق بن ابراہیم کی اولاد یاد کرو میرا احسان جو میں تم پر کیا اور پورا کرو وہ اقرار جو تم نے مجھ سے کیا ہے۔2 میں بھی اپنا اقرار جو تم سے کیا ہے پورا کروں گا اور میرا ہی ڈر رکھو۔

ف 2 بعض نے عہد اول سے خاص کر آنحضرت ﷺ کی اتباع کا عہد مراد لیا ہے مگر عموم پر محمول کرنا بہتر ہے۔ (قرطبی) بنی اسرائیل کی طرح متعدد آیات میں امت محمدی سے بھی ایفائے عہد کا تقاضا کیا گیا ہے۔