2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 2:240

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور بی بیاں چھوڑ جائیں یعنی مرنے لگیں تو وہ اپنی بی بیوں کے لیے ایک سال تک ان کو نہ نکالنے کی اور خرچ دینے کی وصیت کر جائیں اس پر بھی اگر وہ خود نکل کھڑی ہوں تو میت کے وارثو تم پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو وہ دستور کے موافق اپنے لیے کوئی کام کریں اور اللہ زبر دست حکمت والاف 2

وصیتہ لا زواجھم۔ یعنی جو لوگ وفات پاجائیں ان کی بیویوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ وصیت کی ہے یا مرنے سے قبل ان کو چاہیے کہ وصیت کر جائیں۔ ای اوھی اللہ وصیتہ اوفلیو صسو اوصیتہ۔ ) شوکانی) ابتدا میں یہ حکم تھا کہ جس عورت کا شوہر فوت ہوجائے۔ اسے ایک سال کے لیے شوہر والے مکان میں سکونت پذیر رہنے کے لیے حقوق حاصل ہیں اور اس مدت کے پورے مصارفف متوفی کے اولیاء کے ذمہ ہوں گے۔ ہاں اگر بیوی چاہے تو سال پورا ہونے سے پہلے رخصت ہوسکتی ہے اس صورت میں اولیاء قصوروار نہ ہوں گے اکثر علما کے نزدیک یہ دونوں حکم (نفقہ سنتہ وسکنی) ہی منسوخ ہیں سورت نساء آیت میراث 12 سے ایک سال کے مصارف اروحق سکونت کا وجوب منسوخ ہوگیا اوپر کی آیت 234 میں متوفی عنہا کی دعت چارماہ دس دن اور رسورت طلاق آیت 4 میں حاملہ کی عدت واضح حمل قرار پانے کے بعد ایک سال کی عدت بھی منسوخ ہوگئی۔ اب متوفی عنہا کے لیے لازم ہے کہ آیت 234 کے مطابق شوہر والے مکان میں چا رماہ دس دن عدت گزارے یا اگر حاملہ ہے تو وضح حمل تک اسی مکان میں رہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابو سعید خدری کی بہن ذلیعتہ بنت مالک کو اس کے شوہر کی وفات کے بعد حکم دیا تھا کہ امکثی فی بیتک حتی یبلغ الکتاب اجلتہ۔ اور بعد میں حضرت عثمان ؓ نے ایک مقدمہ میں اس حدیث کے مطابق فیصلہ بھی فرمایا۔ (ابن کثیر، شوکانی۔ بحوالہ سنن اربعہ ومؤطامالک)
Ayah 2:241

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور طلاق والیوں کو رواج کے موافق تحفہ ملے گا یہ لازم ہے پرہیز گاروں پر

ف 3 اوپر کی آیت 236 میں خاص صورت میں متعہ طلاق کا حکم تھا اب اس آیت میں ہر مطلقہ کے لیے متاع یعنی متعہ طلاق کا حکم دیا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلقہ عورت کو کچھ دے کر رخصت کرنا چاہیے تاہم اس کے وجوب پر ارتفاق نہیں ہے۔ ( درمنشور۔ ابن کثیر) یہاں تک نکاح و طلاق وغیرہ سے متعلقہ مسائل ختم ہوئے۔ (موضح) آخر میں ان معا شرتی مسائل کی اہمیت کے پیش نظر اہل عقل کو مخاطب کیا ہے
Ayahs 2:242–243

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے حکم تم سے بیان کرتا اس لے کہ تم سمجھو

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

اور اللہ کے حکموں کی مصلحت میں غور اور فکر کرو4 اے پیغمبر کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے موت کے ڈر سے ہزاروں ہی آدمی تھے تو اللہ نے راہ میں ان سے فرمایا مرجاؤ وہ مر مرگئے پھر ان کو جلایا بیشک اللہ بڑافضل کرتا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے5

۔5 یہ لوگ کون تھے اور کہاں سے نکلے تھے اس بارے میں آنحضرت ﷺ سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہے البتہ حضرت ابن عباس ؓ اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ اسرائلی تھے۔ جہاد میں قتل کے خوف یا طاعون سے بچنے کے لیے اپنے شہر سے بھاگے جن ایک مقام پر پہنچے تو اللہ کے حکم سے سب مرگئے، اتفاق سے اللہ تعالیٰ کے ایک نبی وہاں سے گزر ہوا اس نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کیا۔ (قرطبی۔ رازی) یو آیت کے شرو میں لفظ الم تر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قصہ نزول آیت کے وقت عام طور پر مشہور و معروف تھا۔ (فتح القدیر) یہ قصہ قیامت یے روز معاد جسمانی کی قطعی دلیل ہے اور جہاں ذکر کرنے سے مقصد جہاد کی ترغیب ہے۔ صحیحین میں حضرت عبدالر رحمن بن عوف سے روایت ہے کہ جس مقا پر وبا پھوٹ پڑے وہاں سے فراف کرنے سے آنحضرت ﷺ نے منع فرمایا ہے اور اس مقام پر جانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ (ابن کثیر )
Ayahs 2:244–245

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور ( مسلمانو) خدا کی راہ میں کافروں سے لڑو تم سے سن چکے کہ موت سے بھاگنا کچھ فائدہ نہیں اور جانے رہو کہ اللہ سنتا ہے جانتا ہے

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کون ہے وہ جو اللہ کی قرض حسنہ د یدے پھر خدا اس کو دونا تگنا بہت گنے کردے گا6 اور اللہ ہی روزی تنگ کرتا ہے اور کشادہ کرتا ہے اور اسی کے پا تم کو لوٹ جانا ہے

ف 6 جو اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دے یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے مال خرچ کرے اور اس میں ریاکاری یا کسی کو ستانے اور اس پر احسان رکھنے کا جذبہ کا رفرمانہ ہو ایسے خرچ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ قرض دیا ہے اور اس پر کئی گنا اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک مرفوع حدیث میں ہے ان اللہ یضاعف الحسنتہ الفر ائف حسنتہ۔ اللہ تعالیٰ ایک کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کی بیش لاکھ نیکیاں بنا دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ایک شخص ابو الد حادح نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا ایک باغ جس میں کھجور کے چھ سودرخت تھے اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا۔ ابن کثیر۔ شوکانی)
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

( اے بیمبر) کیا تو نے موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو نہیں دیکھا7 یعنی ان کے قصے پر نظر نہیں ڈالی جنہوں نے اپنے پیغمبر شموئیل یا شمعون یا یو شع) سے کہا ایک شخص کو ہمارا بادشا بنادو جس کی راہ نمائی میں ہم چلیں1 اور اللہ کی راہ میں لڑیں انہوں نے کہا میں تو سمجھتا ہو اگر تم پر لڑنا فرض ہو تو تم نہ لڑو گے اور اس وقت بودا پن کر کے اللہ کے گنہگار بنو گے بنی اسرائیل نے کہا سبب کیا جو ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں ہم تو اپنے گھر پار بال بچوں میں سے نکالے گئے پھر جب لڑنا انن پر فرح ہوا اور جہاد کا آگیا تو سب پھرگئے مگر کچھ تھوڑے لوگ رہ گئے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے نافر مانوں کو

ف 7 اوپر کی آیتوں میں جہاد اور نفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا ہے اس کے بعد ان آیات میں بنی اسرائیل کی ایک قوم کا قصہ بنان کیا ہے جنہوں نے حکم جہاد کی مخالفت کی اس وجہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ظآلم ٹھہر۔ اس قصہ سے مقصد جہاد کی ترغیب ہے۔ الملا شاہ رفیع الدین نے اس کا ترجمہ سرداران قوم کیا ہے اور یہی انسب ہے۔ عموما مفسرین نے اس کے معنی اشراف اور ؤسا کیے ہیں۔ (ابن جریر۔ رازی۔ ) اصل میں ملاء کے معنی پر کردینے کے ہیں اور اشراف و رؤسا بھی اپنی ہیبت اور رعب سے انکھیں پھیر دیتے ہیں ہی اس یے ان کا ملا کہا جاتا ہے۔ رازی)
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

ط اور ان کے پیغمبر نے ان سے کہا ہے اللہ نے طالوت سے کو تمہارا بادشاہ کیا وہ کہنے لگے طالوت ہمارا بادشاہ کیوں ہوسکتا ہے طالوت سے تو ہم زیادہ حق دار ہیں باشاہت کے2 اور اس کو مال و دولت کی فراغت بھی نہیں پیغمبر نے کہا اللہ نے تم پر حکومت کرنے کے لیے اس کو پسند کیا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ اللہ نے اس کو علم اور جسم کی کشائش تم سے زیادہ دی ہے اور تیسرا یہ کہ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی سلطنت دیتا ہے اور چوتھے ی کہ اللہ بڑی کشائش ولا ہے3

ف 1 بایئبل میں اس نبی کا نام سموئیل (شموئیل) لکھا ہے جن کا زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تقریبا ایک ہزار سال بیشتر کا ہے۔ قدیم مفسرین نے اس واقعہ کی تفصیل میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کچھ عرصہ تو بنی اسرائیل کا کام ٹھیک چلتا رہا پھر ان میں بدعات نے راہ پالی حتی کہ بعض لوگ بتوں کی پوجا کرنے لگے تب اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا۔ جنہوں نے جالوگ بادشاہ کی سردکردگی میں ان کے بہت سے علاقے چھین لیے اور لاتعداد افراد کو غلام بنا لیا وہ لوگ بھاگ کر بیت المقد میں جمع ہوئے اور اپنے نبی حضرت شمو ئیل (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیجئے تاکہ اس کے زیر کمان ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرسکیں۔ شمو ئیل (علیہ السلام) نے انہیں اس بےجا مطالبہ سے باز رکھنے کی کوشش کی مگر وہ اس پر سختی سے مصر رہے چناچہ حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے طالوت کا انتخاب کردیا مگر وہ لوگ اس پر اعتراض کرنے لگے۔ (ابن کثیر۔ اقرطبی)2 اس لیے کہ بنی اسرائیل میں نبوت تولادی کی نسل میں چلی آرہی تھی اور بادشاہی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے یہودا کی نسل میں اور طالوت اس نسل سے نہ تھے بلکہ وہ ایک معمولی قسم کے فوجی تھے۔ اس پر بنی اسرائیل کے سرداروں نے اعتراض کیا۔ بائیبل نے طالوت کا نام ساؤل مذکور ہے اور لکھا ہے کہ وہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے بن یامین کی نسل سے تھے اور بنی اسرائیل میں ان جیسا خوبصورت اور قد آور کوئی شخص نہ تھا۔3 یعنی طالوت کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔ یہ علمی قابلیت اور جسمانی صلاحتیں کی وجہ سے تم پر فائق ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو موروثی طوپر بادشاہی کا حق نہیں ہے اور یہ کہ خلیفہ کا مالدار گھرانے سے ہونا بھی شرط نہیں ہے ہاں علم و فضل کے علاوہ فوجی صلاحتیوں کا مالک ہونا ضروری ہے تاکہ ملک کا دفاع کرسکے۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور سب کچھ جانتا ہے کہ کون سلطنت کے لائق ہے اور ان کے پیغمبر نے ان سے کہا طالوت کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تم وہ صندوق مل جا وے جس میں اللہ کی طرف سے تمہاری تسلی ہے اور موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارود ( علیہ السلام) کی اولاد جو چھوڑ مرے ان کی کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں فرشتے اٹھاکر لائی گے4 اگر تم ایمان رکھتے ہوتا اس میں یعنی صندوق کے اس طرح آجانے میں تمہارے لیے صاف نشانی ہے

ف 4 مفسرین کے بیان کے مطابق یہ تابوت سکینتہ ایک صندوق تھا جو بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) زمانے سے چلا آرہا تھا اور اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) اودسرے انبیاء کے کچھ متبرک آثار (بقیی) تھے۔ بنی اسرائیل اپنی لڑائیوں میں اسے آگے آگے رکھتے اور اسے دیکھ کر حوصلہ اور ہمت محسوس کرتے تھے مگر ان کی بد اعمالیوں کے باعث ان کے دشمن یہ تابوت ان سے چھین کرلے گئے تھے۔ انہوں نے اسے اپنے معبد میں بت کے نیچے رکھ دیا تھا اس وجہ سے ان میں وبا پھوٹ پڑی اور تقریبا پانچ شہر ویران ہوگئے۔ چناچہ انہوں نے اسے منحوس سمجھ کر اور رات کو بیل گاڑی پر رکھ کر بنی اسرائیل کی طرف دھکیل دیا۔ فرشتے بیلوں کو ہانک کر بنی اسرائیل کی بستی تک لے آئے اور وہ رات کے وقت طالوت کے گھر کے سامنے آموجود ہوا۔ اس سے بنی اسرائیل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ طالوت کے زیر قیادت اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے آمادہو گئے۔ (ابن کثیر۔ معالم) (نیز سکینتہ کے لیے دیکھئے التوبہ آیت 26 والفتح آیت 26) مگر قرآن کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تابوت کی آمد اعجازی حثیت کی حامل تھی اس لیے اسے ایتہ قرار دیا ہے۔ (رازی)
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب طالوت جو جوں سمیت اپنے مام سے نکلا تو کہنے لگا اللہ تم کو پانی کی ایک نہر سے آزمائے گا جو کوئی اس میں سے کر یا پیٹ بھر کر پی لے وہ میرا نہیں اور جو نہ پئے اس کو وہ میرا ہے1 مگر ایک چلو ہاتھ سے لے لے اور پی لے تو قباحت نہیں پھر سبھوں نے اس کا پانی پی لیا مگر تھوڑے لوگوں نے3 جب طالات اور اس کے ساتھ والے ایمندار نہر کے پار ہوئے تو کہنے لگے آج تو ہم کو جالوت اور اسکی فوجوں سے لڑنے کی طاقت نہیں3 جن لوگوں کو خدا سے ملنے کا یقین تھا انہوں کہا ایسابہت ہوا ہے کہ تھوڑی جماعت بڑی جماعت پر اللہ کے حکم غالب ہوگئی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

ف 1 اس نہر سے مراد دریائے اردن ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے جس کی فلسطین میں بہت اہمیت ہے۔ مطلب یہ تھا کہ جو شخص جہاد کی راہ میں بھوک پیاس اور تکالیف برداست کرنے کی ہمت رکھتا ہے وہ میرے ساتھ چلے اور جو یہ ہمت نہیں رکھتا وہ ابھی سے الگ ہوجائے۔2 اتنی تعداد جتنی غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تھی۔ یعنی تین سو تیرہ۔ حضرت براء کہتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر کے روز مسلمانوں کی تعداد اتنی تھی جتنی ان لوگوں کی جنہوں طالوت کے ساتھ نہر کو پار کیا۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)3 بعض نے لکھا ہے کہ یہ کہنے والے وہی لوگ تھے جنہوں نے نہر پر پہلے ہی اپنی بےصبری کا مضاہرہ کردیا تھا لیکن عبارت کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کے یہ بات ام مومنین نے کہی جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہر کو پار کیا تھا۔ ممکن ہے انہوں نے جالوت کے لشکر کی کثرت اور اپنی قلت کو دیکھ کر یہ کہہ دیا ہو۔
Ayahs 2:250–251

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

ف 1 اس نہر سے مراد دریائے اردن ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے جس کی فلسطین میں بہت اہمیت ہے۔ مطلب یہ تھا کہ جو شخص جہاد کی راہ میں بھوک پیاس اور تکالیف برداست کرنے کی ہمت رکھتا ہے وہ میرے ساتھ چلے اور جو یہ ہمت نہیں رکھتا وہ ابھی سے الگ ہوجائے۔2 اتنی تعداد جتنی غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تھی۔ یعنی تین سو تیرہ۔ حضرت براء کہتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر کے روز مسلمانوں کی تعداد اتنی تھی جتنی ان لوگوں کی جنہوں طالوت کے ساتھ نہر کو پار کیا۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)3 بعض نے لکھا ہے کہ یہ کہنے والے وہی لوگ تھے جنہوں نے نہر پر پہلے ہی اپنی بےصبری کا مضاہرہ کردیا تھا لیکن عبارت کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کے یہ بات ام مومنین نے کہی جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہر کو پار کیا تھا۔ ممکن ہے انہوں نے جالوت کے لشکر کی کثرت اور اپنی قلت کو دیکھ کر یہ کہہ دیا ہو۔

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

۔ پھر اللہ کے حکم سے ان کو یعنی جالوت والوں کو شکست دی اور داوؤد ( علیہ السلام) نے جا لوت کو مارڈالا اور خدا تعالیٰ نے اس کو یعنی داود ( علیہ السلام) کو بادشاہ ت اور پیغمبری دی اور جو چاہا اس کو سکھلایا4 اور اگر اللہ تعالیٰ بعضو کے ہاتھ سے بعضو کو نہ روکے تو زمین ( دنیا بگڑ جا وے لیکن اللہ کا فضل تمام جہان پر ہےف 5

ف 4 انہی تین سو تیرہ میں سے ایک حضرت داؤد (علیہ السلام) تھے۔ اسرائیل روایات میں ہے کہ ان کے ہاتھ میں غلیل تھی جس سے انہوں نے یکے بعد دیگرے جالوت کو تین پتھر مارے جو اس کے ماتھے پر لگے اور وہ مرگیا۔ طالوت نے ان سے وعدہ کررکھا تھا کہا گر وہ جالوت کو قتل کردیں گے تو ان سے اپنی بیٹی کی شادی کر دے گا اور سلطنت میں انہیں اپنا سہیم بنالے گا چناچہ طالوت نے اپنا وعدہ پورا کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت دادؤد کے متعلق فرمایا : اور اللہ تعالیٰ نے اسے سلطنت دی، یعنی حضرت شمو ئیل (علیہ السلام) کے بعد نبوت (ابن کثیر) اور علمہ ممایشاء سے ان آیات کی طرف اشارہ ہے جو حضرت داؤد (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھیں۔ (معالم) علاوہ ازیں مطلق علم دین بھی مراد ہوسکتا ہے۔ ( رازی)5 نادان لوگ کہتے ہیں کہ لڑائی کرنا نبیوں کا کام نہیں۔ اس قصہ سے معلوم ہوا کہ جہاد ہمیشہ سے رہا ہے اور اگر جہاد نہ ہو تو مفسد لوگ شہروں کو ویران کر ڈالیں (موضح) اور جملہ ولو لا دفع اللہ الناس۔ الخ۔ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی گروہ قوت واقتدا کے نشے میں بد مست ہو کر انسانی حد سے آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کسی دوسرے گروہ کو اٹھا کر اس کی سرکوبی کرا دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین میں کبھی امن قائم نہ ہوسکتا۔ سلسلہ بیان کے لیے دیکھئے سورت حج آیت 40 ۔ (ابن کثیر) آیت میں مدافعت کرنے والوں سے انبیاء ائمہ اور نیک بادشاہ مراد ہیں جو شرائع کی حفاظت اور اس سے مدافعت کرتے رہتے ہیں۔ (رازی )
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں سچی ( یعنی یہ سب سچ قصے ہیں جو ہم تجھ کو سناتے ہیں اور تو بیشک پیغمبروں میں سے ہے کہ ان پڑھ ہو کر ایسے سچے واقعات بیان کرتا ہے

ف 6 یعنی پچھلی امتوں کے یہ وقعات جو ہم آپ سنا رہے ہیں آپ کے نبی صادق ہونے کی واضح دلیل ہیں کیونکہ آپ نے نہیں کسی کتاب میں پڑھا اور نہ کسی سے سنا۔ بھر بھی انہیں اس طرح ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں کہ بن اسرائیل بھی ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ (ابن کثیر، رازی )
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ پیغمبر یا سب پیغمبر ان میں ہم نے ایک کو دوسرے پڑائی دی1 ان میں سے کسی سے اللہ نے کلام کیا2 اور بعضوں کے درجے بلند کئے3 اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس جبریل سے ان کی مدد کی4 وہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے تھے اور اگر اللہ چاہتا تو بعد والے لوگ کھلی نشانیاں آجانے پر باہم اختلاف نہ کرتے لیکن اللہ نے نہ چاہا انھوں نے اختلاف کیا کوئی مومن ہوا کوئی کافر اور اگر اللہ چاہتا تو یہ پھوٹ نہ پڑتی لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وو کرتا ہے5

ف 1 تلک الرسل سے وہ رسول ﷺ مراد ہیں جن کا اس سورت میں ذکر آیا ہے۔ یہ عقیدہ کہ انبیاء درجات میں مختلف ہیں اور ان میں جو تفاضل پایا جاتا ہے اور پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں اور بالکل صحیح اور امت کا اجماعی عقیدہ ہے۔ رازی نے انہیں دلائل سے ثابت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جملہ انبیاء پر فضیلت حاصل ہے اور اس سلسلہ میں شبہات کے جوابات دیئے ہیں۔ (کبیر) لیکن صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : لا تفضلونی علی الانبیاء (کہ مجھے انبیاء پر فضیلت نہ دو ) جو بظاہر اس آیت کے معارض ہے علماء نے اس کے متعدد جوابات دیئے ہیں، واضح ترین جواب یہ ہے کہ میری فضیلت ایسے انداز سے بیان نہ کرو جس سے دوسرے کسر شان کا پہلو نکلتا ہو۔ امام شوکانی لکھتے ہیں کہ اس آیت سے انبیاء کے مابین تفاضل ثابت ہوتا ہے لیکن حدیث میں مقابلہ کی صورت میں تفاضل سے منع فرمایا ہے یا فضیلت جزوی مراد ہے۔ پس کتاب و سنت میں کوئی تعارض نہیں والحمد للہ علی ذلک۔ ابن کثیر، فتح القدیر) 2 جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ ۔ صحیح ابن حبان کی ایک حدیث میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا بھی نبی مکلم ہونا ثابت ہے۔ (ابن کثیر، کبیر) 3 چناچہ آنحضرت ﷺ نے لیلتہ الاسرا میں بحسب مراتب آسمانوں پر انبیاء کو دیکھا۔ (ابن کثیر ) 4 یہاں البینات سے مراد واضح دلائل اور معجزات ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے۔ ( دیکھئے آل عمران آیت 49) اور روح القدس سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ (بقرہ آیت 78) 5 یعنی انبیاء کے متبعین میں یہ اختلاف اور پھر اس اختلاف کی بنا پر باہم قتال اللہ تعالیٰ کی مشیت و حکمت سے ہے جس کی ہمارے فہم سے بالا تر ہے تقدیر کے متعلق ایک سائل کے جواب میں حضرت علی ؓ نے فرمایا : یہ ایک بھید ہے جو تم سے مخفی رکھا گیا ہے لہذا تم اسے معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو۔ فتح البیان) اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ کفر و ایمان میں لوگوں کا اختلاف تو پہلے سے چلا آتا ہے کوئی نبی ایسا نہیں کہ ساری امت اس پر ایمان لے آئی ہو لہذا ان کے انکار سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ (کبیر )
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

مسلمونو جو ہم نے تم کو دیا اسمیں سے خرچ کرو اس دن کے آنے سے پہلے جس دن کہ نہ خریدو فرخت ہوگی نہ دوسیتی نہ سفارش کو چھ کام دے گی بغیر اللہ کے حکم کے اور کافر ہی اپنی جانو پر ظلم کرتے ہیں6

ف 6 انسان پر سب سے زیادہ مشکل جان ومال کی قربانی ہے اور عموما شریعت کے احکام کا تعلق ان دونوں سے ہے۔ اس سورت میں پہلے قاتلو افی سبیل اللہ فرماکر جہاد کا حکم دیا اور آیت من ذالذی یقرض اللہ " سے جہاد کے لیے مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اس کے بعد قصہ طالوت سے پہلے حکم کی تاکید کی اور اس آیت میں دوسرے ام کو مؤکد کرنے کے لیے دوبارہ صرف مال کا حکم دیا۔ (کبیر) مقصد یہ کہ انسان دنیاوی اسباب و وسائل کو چھوڑ کر اکیلا ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگا لہذا آخرت میں نجات کے لیے صدقہ و خیرات ایسے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ۔ قیامت کے دن دنیاوی مودت نسبی تعلق، شفاعت وغیرہ یہ چیزیں کام نہیں آئیں گی۔ (ابن کثیر) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زکوہ کا منکر کافر ہے چناچہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعدد حضڑت ابوبکر الصدیق ؓ نے منکرین زکوہ سے جہاد کیا جیسا کہ کفار سے کیا جاتا ہے۔ (قرطبی )
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی سچا خدا نہیں زندہ ہے سب کا سنبھا لے والا نہ اونگھتا ہے نہ سو تا ہے اس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے بےاسکے حکم سے کون اس کے پاس سفارش کرسکتا ہے7 جو ان کے یعنی لوگوں کے پہلے گزرا اور جو ان کے بعد کا ہوگا وہ سب جانتا ہے اور وہ اس کے علم میں ہے کسی چیز کر نہیں جانتے مگر جتنا وہ چاہتا ہے8 اس کی کر سی کے اندر آسمان اور زمین سب آگئے ہیں اور نا کا تھامنا اس پر بھاری نہیں ہے اور وہ اونچا ہے بڑا1

ف 7 قرآن نے متعدد آیات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی شخص کسی کی شفاعت نہیں کرسکے گا۔ آنحضرت ﷺ بھی قیامت کے دن جو شفاعت فرمائیں گے اور آپ ﷺ کی شفاعت قبول بھی کی جائے گی تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد ہی ہوگی جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے تحت العرش فاخر ساجدا۔۔ لم یقال لی ارفع راسک وقل تسمع وشفع تشفح کہ میں عرش کے نیچے سجدہ میں گرجاؤں گا۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ سجدہ سے اٹھو جو بات کہو گے سنی جائے گی شفاعت کرو تو قبول کی جائے گی۔ اس آیت سے مطلقا شفاعت کی نفی نہیں کی جیسا کہ معتز اہل بدعت کا خیا ہے ہے۔ (کبیر۔ ابن کثیر)8 اللہ تعالیٰ کی کر سی کی وسعت کا بیان احادیث میں مذکور ہے یعنی یہ کہ سات آسمان اور زمین کی نسبت کر سی کے کے مقابلہ میں ہی ہے جو جنگل میں پڑے ل ہوئے ایک حلقہ کی ہوتی ہے پس صحیح یہ ہے کہ کہ کر سی کے لفظ کو اس کے ظاہر معنی پر محمول کیا جائے اور تاویل نہ کی جائے کیونکہ یہ آیات صفات اور ان کے ہم معنی احادیث صحیحہ میں سب سے بہتر طریق سلف صالح کا طریق ہے یعنی امر وھا کما جا ءت من غیر تقیید و لا تکبیف۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) حضرت ابن عباس ؓ اور بعض سلف سے منقول ہے کہ یہاں کرسی سے علم مراد ہے مشہور محدث علامہ سھیلی فرماتے ہیں سلف اگر یہ تاویل ثآبت بھی ہو تو ان کا مقصد کرسی کی تفسیر علم سے کرنا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اس کے علم وقدرت کے احاطہ کی طرف اشارہ ہے۔ (الروح ج 2 ص 375) 1 اس آیت کو ایتہ الکرسی کہا جاتا ہے متعدد احادیث میں اس کی فضیلت مذکور ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو اعظم ایتہ فی کتاب اللہ اور سیدہ ای القرآن وربع القرآن فرمایا ہے۔ رات کو سوتے وقت اسے پڑھنا لینا شیطان سے حفاظت کا ضامن ہے اور ہر نماز کے بعد پڑھنے والے شخص کو جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ طبرانی کی ایک روایت میں اس کے ساتھ سورت اخلاص کو ملالینے کا بھی ذکر ہے۔ یہ آیت دس جملوں پر مشمل ہے اور ہر جملہ اسماء حسنی یا صفات باری تعالیٰ کے بیان پر مشتمل ہے یہ خوبی اس کی فضیلت کے لئے کافی ہے۔ ایک روایت کی رو سے یہ آیت اسم اعظم پر مشتمل ہے ابن کثیر۔ شوکانی )
Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین میں زبردستی نہیں رہے نیک راہی اور گمراہی کھل گئی ہے2 پھر جو کوئی جھوٹے خدا کو نہ مانے3 اور اللہ پر ایمان لاوے اس نے مضبوطی کنڈا تھام لیا جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سنتا جانتا ہے

ف 2 حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ جاہلیت میں انصار مدینہ کے بعض لڑکے مختلف اسباب کے تحت یہو دی یا عیسائی ہوگئے تھے ان کے والدین مسلمان ہوئے تو انہوں زبر دستی ان کو دائرہ اسلام میں لانا چاہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ گو نزول خاص ہے مگر حکم عام ہے۔ (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اسلام میں جہاد زبر دستی منوانے کا نام جہاد ہے۔ (موضح بتصرف)
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ ایمان والوں کا مدد گا رہے ان کو کفر کے اندھیرے سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لاتا ہے4 اور کافرروں کے حمائیت طاغوت ہیں ان کو رشنی سے ایمان کی جو اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کی فطرت میں رکھی ہے نکال کر کفر کے اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ دوزخی ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے5

ف 3 طاغوت (برزن فعلوت) کا لفظ طغیان سے مشتق ہے جس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنی حد سے آگے بڑھ جانے کے ہیں اس سے مرا شیطان بھی ہوسکتا ہے ہے اور ہر معبود باطل بھی حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں طاغوت شیطان ہے۔ (ابن کثیر) نیز ہر وہ شخص جو راس الضلال بن کر لوگوں سے اپنی بندگی اور اطاعت کر اتا ہے اسے طاغوت کھا جاتا ہے۔ (ترجمان)4 قرآن پاک میں جہاں بھی ظلمات اور نور کے الفاظ آئے ہیں ان سے مراد کفر و ایمان ہی ہے ماسوائے آیت سورت الانعام وجعل الظلمات والنور کے کہ یہاں رات اور دن مراد ہیں۔ (کبیر) اس آیت میں نور کا لفظ بصیغہ واحد اوظلمات کا لفظ بصیغہ جمع استعمال ہوا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ حق ہمشہ ہر جگہ ایک ہی ہے اور کفر وشرک اور جہالت کی قسموں کا شمار نہیں ہے اور وہ سب باطل ہیں۔ (ابن کثیر) آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان پہلے کافر ہوتا ہے اور ایمان لانے کے بعد کفر کی تاریکی سے نکل کر ایمان کی روشنی میں داخل ہو تو ہے مگر یہ معنی مراد نہیں ہیں بلکہ جو شخص ابتدا سے ہی مسلمان ہے اس کے حق میں بھی توفیق و رحمت کے اعتبار سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کفر کی تاریکی سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لے لیا مثلا قرآن میں ہے : فلما امنوا کشفنا عنھم عذاب الخذی (یونس 18) حالانکہ ان پر تاحال عذاب نازل نہیں ہو اتھا اسی طرح فرمایا : وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ( النحل : 70) حالانکہ وہ کبھی پہلے ارذل لعمر میں تھے جس کی طرف وہ و بارہ لوٹائے گئے ہوں۔ حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے ایک شخص سے سنا کہ اس نے کہا اشھد ان محمد ارسول اللہ تو آپ نے فرمایا خرج من لنار (یہ شخص آگ سے نکل آیا) حالانکہ وہ پہلے آگ میں نہیں تھا۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا ترکت ملتہ قوم لا یومنون باللہ۔ کہ میں نے ان لوگوں کی ملت چھوڑ دی جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے حا لان کہ یوسف (علیہ السلام) کبھی بھی ان کی ملت میں داخل نہیں تھے۔ الغرض قرآن و حدیث میں اس قسم کے مح اور ات بکثرت مذکور ہیں۔ خوب سمجھ لو (کبیر)5 یعنی یہ کافر اور انکے باطل معبود سب جہنم میں ڈالے جائیں گے دیکھئے بقرہ 24 ۔ الا نبی اء 98 ۔ (کبیر، ابن کثیر )
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

اے پیمبر) کیا تو نے اس شخص کے قصے پر نظر نہیں ڈالی جو اس وجہ سے کہ خدا نے اس کو باد شاہت دی تھی ابراہم سے جھگڑا اس نے پر دگار کے بارے میں جب ابراہیم نے کہا میرے پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اس نے کہا میں بھی جلاتا اور مار تا ہوں ابراہیم نے کہا اچھا تو سورجھ کو پورب سے نکلتا ہے اگر تو خدا ہے تو اس کی پچھم کی طرف سے لا پس یہ سن کر وہ کافر منرود مردود ہکا بکا ( یعنی حیران اور خاموش رہ گیا اور اللہ ہٹ دھرم لوگوں کو راہ پر نہیں لگاتا6

ف 6 اوپر کی آیت میں بتایا گیا ہے کہ ہل ایمان اصحاب نور ہیں اور اہل کفر اصحاب ظلمت ہیں۔ اب تین قصے بیان کئے جن سے اہل ایمان اور اہل کفر کے احوال پر روشنی پڑتی ہے۔ امام رازی لکھتے ہیں پہلے قصہ سے صانع کا اور دوسرے دونوں قصوں سے حشر ونشر کا اثبات مقصود ہے اور کافر ان دونوں (مبد ومعد کے منکر ہیں۔ کبیر تبصرف) مفسرین نے اس بادشاہ کا نام نمرود بن کنعان لکھا ہے جو اہل (عراق) کا بادشاہ تھا اور صانع کی ہستی کا منکر تھا۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یہ منا ظرہ وجود با ری تعالیٰ میں تھا کہ اس علام کا کوئی صانع موجود ہے یا نہیں چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وجود باری تعالیٰ کی یہ دلیل دی کہ دنیا میں انسان سمیت تمام چیزیں پیدا ہوتی ہیں اور پھر وجود سے عدم چلی جاتی ہیں۔ اس معلوم ہوا کہ کوئی فاعل مختار ہستی موجود ہے جس کے تصرف سے یہ سب کچھ ہورہا ہے کیونکہ جہاں میں وجود فنا کا یہ سلسلہ از خود قائم نہیں ہوسکتا۔ نمرود دلیل کو سمجھ لینے کے باوجود ہٹ دھرمی اور ضد سے کام لیا اور جواب دیا کہ میں بھی یہ سب کچھ کرسکتا ہوں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی ضد اور ہٹ دھرمی بھانپ کر دوسری دلیل پیش کی کہ اللہ تعالیٰ تو رسورج کو مشرق سے مغرت کی طرف لے جارہا ہے اگر تم باوجود منکر اور خود خدائی کے دعویدار ہو تو اس نظام شمسی کو ذرابد کر دکھاؤ یعنی سورج کو مغرب سے مشرق کی طرف لے آؤ۔ اس پر وہ قطعی لاجواب ہو کر رہ گیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے منا ظرہ کی یہ نہایت بہتر ہے یہاں پہلی دلیل چھوڑ کر دوسری دلیل اختیار نہیں کی بلکہ پہلی دلیل کو دوسری دلیل کے لیے بمنزلہ مقدمہ قرار دے کر نمرود کے دعوی کا کلیتہ بطلان ظاہر کیا ہے۔ (ابن کثیر) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ مناظرہ آگ سے خروج کے بعد ہوا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ بتوں کو توڑنے کے بعد کا واقعہ ہے۔ (کبیر )
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا ونے اس شخص کے قصے پر نظر نہیں ڈالی جو ایک بستی پر گزرا جس کے چھت گرے پڑے دیوریں کھڑی تھیں اس نے کہا بھلا اجھڑنے کے بعد اللہ اس کے کیسے آباد کرے گا اللہ تعالیٰ نے اس کو سو برس تک مردہ رکھا پھر جلایا اٹھا فرمایا تو کتنی دیر یہاں رہا کہنے لگا ایک دن یا کچھ کم ایک سے فرمایا نہیں تو سو برس رہا اب اپنے کھانے پینے کو دیکھ بگڑاتک نہیں اور اپنے گدھے کو دیکھ اور یہ ہم نے اس واسطے کیا کہ تجھ کو لوگوں کے لیے یاک نمونہ بنادیں اور قدرت کا اور ہڈیوں کو دیکھ کر ہم ان کو کس طرح جلاتے ہیں یا ابھارتے ہیں اور ڈھانچہ بناتے ہیں پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں جب اس پر یہ بات کھل گئی تو کہنے لگا اب مجھ کو پورا یقن ہے کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے1

ف 1 یہاں اؤعطف کے لے ہے اور باعتبار معنی پہلے قصہ پر عطف ہے ای ھل رایت کالذی حاج اوکا لذی مرعلی قربیتہ " اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں کاف زائدہ ہو ای الم ترالذی مر علی قریتہ " (رازی۔ شوکانی) پہلے قصہ سے اثبات صانع مقصو تھا اب دسرے قصہ سے اثبات حشر ونشر مقصو ہے کما مر۔ (رازی) اس آیت میں جس شخص کا ذکر ہے حضرت علی ؓ سے ایک روایت کے مطا بق اس سے حضرت عزیر (علیہ السلام) مراد ہیں۔ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ کا اور بعض تابعین سے بھی مروی ہے اور جس بستی میں ان کا گزر ہوا۔ مشہور یہ ہے کہ اس مراد " بیت المقدس " ہے جب کہ بخت نصر نے اسے تباہ کر ڈلا تھا اور بنی اسرائیل کے بہت سے لوگوں قیدی بناکر لے گیا تھا۔ (ابن کثیر) اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے تو انہوں نے انی یحییی ھذ اللہ بعد موتھا (کہ اللہ تعالیٰ اسے کیسے زندہ کرے گا) بطور استبعاد یہ سوال کیسے کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) نے یہ سوال بطور استعباد نہیں کیا تھا کہ انہیں قیامت کے آنے اور دبارہ زندہ ہونے کے بارے میں کوئی شک تھا بلکہ اس سے طمانیت حاصل کرنا مقصو تھا اور وہ دوبارہ زندہ ہونے کا مشاہدہ کرنا چاہتے تھے جیسا کہ انبیاء کو ہر حقیقت کا عینی مشاہدہ کر دایا جاتا ہے۔ ان ہر دو واقعات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جس شخص کا دوست اور کارساز اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اسے کس طرح اندھیروں سے نکال روشنی کی طرف لے آتا ہے، (کبیر) مروی ہے کہ جب حضرعزیر (علیہ السلام) نے وفات پائی تھی اس وقت کچھ دن چڑھا ہوا تھا اور جب دوبارہ زندہ ہوئے تو سورج غروب ہورہا تھا اس لیے انہوں نے باوجود سو سال تک فوت رہنے کے یہ سمجھا کہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ گزرا ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

( اے بیغإبر جب ابرہیم نے کہا پروردگار مجھ کو دکھلادے (آنکھ سے) تو کیونکہ مردوں کو جلاوے گا ( خدا نے فرمایا کہ تجھ کو یقین نہیں ابرہیم نے کہا کہا کیوں نہیں مجھ کو تیرے فرمانے سے یقین تو ہے2 لیکن میں آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں اس لیے کہ میرے دل کو تسلی ہوجائے فرمایا اچھا تو چار پرندے لے لے پھر ان کو اپنے ساتھ ہلا لے پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ٹکڑا رکھ دے پھر انکو بلا اللہ کا نام لے کر وہ لپکتے ہوئے تیرے پاس آجویں گے3 اور یہ جان لے کہ اللہ زبردست حکمت ولا4

ف 6 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے، اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور حکم ان کے پاس آتے رہتے تھے ان کو مردوں کے جی آٹھنے میں کوئی شک نہ تھا لیکن آنکھ سے دیکھ لیا چاہنا انسانی عادت ہے کہ وہ علم کے بعد عینی مشاہدہ چاہتی ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے علم الیقین کے بعد عین الیقین کا مرتبہ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ (وحیدی۔ ابن کثیر)3 فصرھن کے معنی عموما املھن کئے گئے ہیں یعنی ان کو ہلالے شاہ صاحب اپنے فائدے میں لکھتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہلانے کو اس لیے فرمایا گیا تاکہ زندہ ہونے کے بعد وہ خوب پہچانے جاسکیں کہ واقعی وہی ہیں جو ذبح کر کے پہاڑ پر رکھے گئے تھے اور کوئی اشتباہ نہ رہے اس صورت میں ثم اجعل سے پہلے قطعھن مخذوف ماننا پڑے گا اور کہا جائے گا بعد کا جملہ چونکہ اس پر دلالت کررہا ہے اس لیے اسے حذف کردیا گیا ہے۔ (معالم صحابہ وتابعین اور اہل لغت کی ایک جماعت نے صرھن کے معنی قطھن بھی بتائے ہیں یعنی ان کو پارہ پارہ کردے چناچہ ابن جیریر طبری نے اس معنی پر بہت سے شواہد پیش کئے ہیں اصل میں یہ لفظ صار یصور یصیر سے امر کا صیغہ ہے جس کے معنی قطع کرنا بھی آئے ہیں اور مائل کرنا بھی اور اس میں قرات کے اختلاف نے اور زیادہ استباہ اور وسعت پیدا کردی اور علمائے لغت نے اسے اضداد میں ذکر کیا ہے۔ (اضداد ابی الطیب مجا زابی عبیدہ) اس جگہ سوال و جواب کے انداز اور سیاق کلام سے قطع کے معنی راجح معلوم ہوتے ہیں اور اس پر سلف مفسرین بھی تقریبا متفق نظر آتے ہیں واللہ اعلم۔ ان چار جانوروں کی تعین میں علمائے تفسیر کا اختلاف ہے بعض نے مور۔ مرغ۔ کوا اور کبوتر بتائے ہیں اور بعض نے دوسرے نام ذکر کیے ہیں اور پھر چار پہاڑوں پر ان کو الگ الگ رکھنے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر ہر ایک کا نام لے کر پکارنے کی کیفیت بھی بعض تابعین سے منقول ہے مگر حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں جانوروں کی یہ تعین لاطائل اور بےفائدہ ہے اس کی کچھ اہمیت ہوتی تو قرآن خاموش نہ رہتا (ترجمان نواب) تاہم ان جانوروں کے ذبح اور زندہ ہونے کی اجمالی کیفیت پر علمائے سلف کا اجماع ہے۔ (کبیر) اس اجماعی تفسیر کے خلاف سب سے پہلے ابو مسلم اصفہانی معتزلی نے اپنی ذاتی رائے سے اس کانیا مطلب بیان کیا ہے جسے آجکل کے جدت پسند طبقہ نے عمدا اختیار کیا ہے یعنی یہ کہ فھر ھن سے صرف ان جانوروں کو ہلا لینا مراد ہے کاٹنا اور ان کے اجزا کو بکھیر نامراد نہیں ہے آلوسی زادہ ان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں یہ تفسیر اجماعی کے خلا اور ایک قسم کی بکواس ہے۔ ارباب کے نزدیک یہ تفسیر قابل التفا نہیں ہے۔ ظاہر آیت کے خلاف ہونے کے علاوہ ان آثار صحیحہ راجھہ کے بھی خلاف ہے جن سے آیت کے ظاہری معنی کی تائید ہوتی ہے لہذا حق یہ ہے کہ جماعت کی اتباع کی جائے (روح المعانی)4 یعنی اللہ تعالیٰ جمیع ممکنات پر غلبہ اور قدرت حاصلی ہے اور وہ ہر چیز کے انجام اور غایت کو خوب جانتا ہے ( رازی )
Ayahs 2:261–262

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان 9 ی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے ساتھ بالیں نکلیں ہر بالی میں سو سو دانے اور اللہ جس کو چاہتا ہے اس سے دونا دیتا ہے یا اس سے زیاہد اور اللہ سمائی والا ہے جاننے والا

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ جس کو دیا اس کو ستاتے ہیں ان کو ان کے مالک کے پاس اپنا ثوب ملے گا اور نہ ڈر ہوگا ان کے نہ غم1

ف 1 یعنی یہ ثواب صر ان لوگوں کو حاصل ہوگا جو رضائے الہی کے لیے خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرنے کے بعد نہ کسی پر احسان جتلاتے ہیں اور نہ زبان وعمل سے کوئی تکلیف دیتے ہیں کسی کو کچھ دے کر احسان جتلا نا گناہ کبیرہ ہے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ احسان جتلانے والا ان تین شخصوں میں سے ایک ہوگا جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے دیکھے گا نہ ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ ( فتح البیان)
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

نرمی سے جواب دے دینا اور ماگنے وا والے کی باتوں سے درگزرنا اس خیرات بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہو2 اور للہ نے پرواہ ہے تحمل والا

ف 2 صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اچھی بات صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آؤ۔ (فتح البیان)
Ayah 2:264

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے ایمان والوں اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ستا کے بےکار مت کرو جس میں کچھ ثواب نہ ہو اس شخص کی طرح جو لوگوں کی دکھا وئے کی نیت سے خر کرتا ہے اور اللہ اور پچھلے دن پر اس کو یقین نہیں3 یعنی منا فق ہے تو اس میں مثال ایسی ہے جیسے پتھر کی چٹان پر تھوڑی سی مٹی ہو پھر زور کا منہ پڑھے اور اس کو صفا چٹ کردے قیامت کے دن ان لوگوں کو اپنی کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگے گا اور اللہ کافر ناشکرے لوگوں کو راہ پر نہیں لاتا۔4

ف 3 یعنی کسی کو صدقہ دینے کے بعد اس پر احسان جتلا کرے اسے تکلیف دے کر اس منافع کی طر اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو جو صرف ریاکاری کے جذبہ کے تحت اپنا مال خرچ کرتا ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ (ابن کثیر) سف 4 یعنی یہ ریا کار بظاہر اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ صدقہ اس مٹی کی طرح ہے جو کسی صاف چٹان پر جمع ہوئی ہو اور دیکھنے والا اسے قابل کاشت زمین خیال کرے لیکن جو نہی بارش ہو اس کی تمام مٹی دھل جائے اور وہ صاف چٹان کی چٹان رہ جائے ہ اسی طرح ریاکاروں کے عمل ان کے صحیفہ اعمال سے مٹ جائیں گے اور نہ انھیں ان کا کوئی اجر ملے گا۔ اوپر کی آتی میں مثال تھی مخلص مومن کے صدقہ و خیرات کی جو محض رضائے الہی کے لیے خرچ کرتا ہے اور مثال ہے ریاکار کے خرچ کرنے کی جس کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان نہیں ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:265

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی رضا مندی چاہنے کو دلوں میں ایمان رکھ کر اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو ایک ٹیلے پر ہو یعنی بلند زمین پر وہاں زور کامینہ پڑا تو دو نا میوہ پیدا ہو اور اگار زور کا مینہ نہ پڑے تو پھوہار5 اور اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

ف 5 یہ ریاکاروں کے مقابلہ میں مخلص مومنوں کی دوسری مثال ہے یعنی جو لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے خرچ کرتے ہیں اور دل کے اس اطمینان کے ساتھ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا وافر اجر عطا فرمائے گا اور ان کا عمل ضائع نہیں ہوگا۔ (کبیر) ان کے خرچ کرنے کی مثال اس باغ کی ہے جو کسی پر فضا اور بلند مقام پر ہو اگر اس پر زور کی بارش ہو تو وہ دوسرے باغوں سے دگنا پھل دے اور اگر زور کی بارش ہو تو ہلکی بارش ہی کا فی رہے۔ یہی حالت مومن کے عمل کی ہے وہ کسی صورت بھی ضائع نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزادے گا۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں : زور کے مینہ سے مراد زیادہ مال خرچ کرنا ہے اور طل (اوس) سے مراد تھوڑا مال۔ سو اگر نیت درست ہے تو بہت خرچ کرنا بہت ثواب اور تھوڑا بھی کام آتا ہے جیسے خالص زمین پر باغ ہے جتنا مینہ برسے گا اس کا فائدہ ہے بلکہ اوس بھی کافی ہے۔ اور نیت درست نہیں تو جس قدر زیادہ خرچ کرے ضائع ہے کیونکہ زیادہ مال دینے میں دکھا وابھی زیادہ ہے جیسے پتھر پر دانہ، جتنا زور کا مینہ برسے اور ضرر دے کہ مٹی دو ھوئی جائے (موضح)
Ayah 2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی بھی یہ بات کرے گا کہ اس کا یک باغ ہو کھجور اور انگرو کا اس کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں اور ہر طرح کہ میرے اس کو میسر نہوں اور بوڑھا ہوگیا ہو اس کے چھوٹ بال بال بچے ہوں ( یا ناتواں بچے اور عورتیں ا ایک دم اس باغ کو آگ کا بگو لا مامے اور باغ جل جاوے1 اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیتیں تم سے بنیان کرتا ہے اس لیے تم غور کرو

ف 1 یعنی نہ خود اس میں اتنی طاقت کہ باغ دوبارہ لگا سکے اور نہ اس کی اولاد اس قابل ہے کہ اس کی مدد کرسکے اسی طرح منافق صدقہ و خیرات کرتا ہے مگر ریاکاری سے کام لیتا ہے تو قیامت کے دن جو نہایت احتیاج کا وقت ہوگا اس کا ثواب ضائع ہوجائے گا۔ اور اس وقت ثواب حاصل کرنے کے لیے دوبارہ نیکی کا وقت بھی نہیں ہوگا صحیح بخاری میں حضرت ان عباس ؓ سے اس کی ایک دوسری تفسیر منقول ہے جسے حضرت عمر ؓ بھی پسند فرمایا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ مثال اس شخص کی ہے جو عمر بھر نیک عمل کر تارہتا ہے لیکن آخر عمر میں اس کی سیرت بد جاتی ہے اور نیک عمل کی بجائے برے عمل کرنے لگتا ہے اس طرح وہ اپنی پہلی نیکیاں بھی بر باد کرلیتا ہے اور قیامت کے دن جو کہ بہت تنگی کا وقت ہوگا وہ نیکی اس کے کچھ کام نہ آئے گی اور اس نازک وقت میں اس کا عمل اس سے خیانت کرے گا۔ (ابن کثیر) چناچہ آنحضرت ﷺ ایسے شخص کی حالت سے پناہ مانگا کرتے تھے ایک دعا میں ہے اللھم اجعل اوسع رزقک علی عندکبر سنی انقضاء عمری۔ کہ یا اللہ بڑھاپے کی عمر میں مجھ پر اپنا رزق وسیع فرمادے۔ (مستدرک)
Ayah 2:267

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے ایمان والوں جو اچھی عمدہ یا حلال چیزیں تم کماؤ ان میں سے خرچ کرو اور جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کیں اور خراب چیزدینے کا قصد نھی نہ کرو تم اس کو اللہ کی راہ میں خرچتے ہو اگر تم کو کوئی ایسی چیزدے تو نہ لو مگر ہاں آنکھ بند کر کے2 اور یہ جان رکھو کہ اللہ بےپروا ہے خوبیوں والا

ف 2 اوپر کی آیات میں بتایا ہے کہ صدق ہ و خیرات اور انفاق فی سبیل اللہ کی قبولیت کے لیے شرط یہ ہے کہ اخلاص و ایمان ہو اور یہ بھی بتایا ہے کہ ریاری احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے صدقہ ضائع ہوجاتا ہے اور پھر مثالوں سے وضاحت کر کے سمجھا یا ہے۔ (کبیر) اب اس آیت میں قبولیت صدقہ کے لیے ایک اور شرط بیان کی ہے کہ صدقہ میں دی جانے والی چیز کا عمدہ اور طیب ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ردی چیز دے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہ ہوگی حضرت برابن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب کھجور کا موسم آجاتا تو کچھلوگ کھجوروں کی ڈالیا لا کر مسجد نبوی کے ستونوں پر لٹکا جاتے۔ اصحاب صفہ میں سے کسی کو بھوک لگتی تو وہ اس میں حسب ضرورت کھجوریں تو ڑکر کھالیتا بعض لوگ نکمی اور سڑی ہوئی ڈالیاں لٹکا نے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر) گو شان نزول میں نفلی صدقہ کا ذکر ہے مگر یہ حکم فرض زکوہ اور نفلی صدقہ دونوں کو شامل ہے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دو قسم کی ردی کھجوروں (الجعرور، ابن ابی الحبیق) کو صدقہ میں قبول کرنے سے منبع فرمایا اور لفظ طیب جس طرح عمدہ مال کے معنی میں آتا ہے اسی طرح اس میں وہ مال بھی آجاتا ہے جو حلا طریقے سے کمایا ہوا ہو۔ پس معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں پاکیزہ اور حلال کے طریقے سے کما یا ہوا مال خرچ کرو۔ خبیث یعنی حرام مال سے صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ حدیث میں ہے لا یکسب عبد مالا مرید حرام فینفق منہ فیبارک لہ ولا یتصدق منہ فیقبل منہ۔ کہ جو شخص حرام مال میں سے خرچ کراتا ہے اس میں برکت نہیں ہوتی اور اگر اس سے صدقہ کرے تو اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:268

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان کو ڈراتا ہے محتاجی سے اور انجیل کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی بخشش اور مہر بانی کا وعدہ کرتا ہے3 اور الہ فراخی والا سب جانتا

ف 3 اوپر کی آیت میں عمدہ مال خرچ کرنے کی تر غیب دی گئی تھی۔ اب یہاں شیطان کے وسوسہ سے ہو شیار رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ (کبیر) ڈراتا ہے محتا جی سے " یعنی انسان کے دل میں وہم اور سوسہ سے پیدا کرتا رہتا ہے کہ اگر نیک کاموں میں خرچ کروگے تو فقیر ہوجاؤ گے اور فحشاء یعنی بخل کی ترغیب دیتا ہے اور اس پر اکساتا رہتا ہے۔ اور فحشاء سے بدکاری اور بےحیائی کے کام بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ شیطان ان میں مال صرف کرنے کی ترغیب دیتا ہے مگر اس کے مقا بلہ میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ ہے کہ صدقہ خیرات تمہارے گناہوں کا کفارہ بھی ہوگا اور اس پر کئی گنا زیادہ اجر بھی ملے گا اور مال میں برکت بھی ہوگی۔ حدیث میں ہے کہ ہر رات فرشتہ پکارتا ہے الھم اعاط کل منفق خلفا کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اور زیادہ دے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا (ابن کثیر۔ رازی )
Ayah 2:269

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جس چاہتا ہے دین کی سمجھ دیتا ہے اور جس کو دین کی سمجھ ملی اسکو بڑنعمت ملیے4 اور جو عقل والے ہیں وہی نصیحت حاصل کرتے ہیں

ف 4 یہاں الحکمہ سے مراد دین دین کا صحیح فہم۔ علم وفقہ میں صحیح بصیرت اور خشیت الہی سب چیزیں ہوسکتی ہیں۔ حدیث میں ہے راس الحکمتہ مخافتہ اللہ کہ اللہ تعالیٰ کا خوف حکمت کی جڑ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مرفو عا مروی ہے کہ جن دو آدمیوں پر رشک کرنا چاہیے ان میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت دی اور وہ رات دن اس حکمت سے لوگوں کے فیصلے کرتا ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیحین)
Ayah 2:270

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور خدا کی تم جو خرچ کرو تھو ڑا وہاں بہتت قبول ہو نہ ہو یاکئیو منت اچھے کام کے لیے یابرے کام کے لیے اللہ کو معلوم اور ابے انصافوں کا5

ف 5 یعنی اللہ تعالیٰ ہرحال میں تمہاری نیت اور عمل سے واقف ہے۔ اس میں ایک طرف مخلصین کے لیے وعدہ ہے اور دوسری طرف ریاکار اور غیر اللہ کی نذریں ماننے والوں کے لیے وعید بھی ہے کہ ایسے لوگ ظالم ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کسی صورت رہائی نہیں ہوسکے گی۔ نذر یہ ہے کہ انسان اپنی مراد کے پوراہو جانے کی صورت میں اپنے اوپر کسی ایسے نفقہ یا کام کو لازم قرار دے لے جو اس پر لازم نہ ہو۔ (کبیر) پھر اگر یہ مراد جائز کام کی ہو اور اللہ تعالیٰ سے مانگی گئی ہو اور جس کام یا خرچ کی نذر مانی گئی ہے وہ بھی جائز ہو تو ایسی نذر کا پوراکر نا بھی واجب ہے ورنہ اس کا ماننا ارپورا کرنا لازم نہیں ہے۔
Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

کوئی مددگار نہیں ہے اور اگار سب کے سانے خیرات کر تو بھی اچھا ہے اور جو چپکے سے فقیرو کو دہ تو یہ تمہارے لیے اف 6 اور کفارہ ہے تمہارے گناہوں کا اور اللہ تعالیٰ تمہارے کا رموں سے خبر دار ہے

ف 6 یعنی صدقہ علا نیہ دینا بھی گو اچھا ہے مگر پوشیدہ طو پر دینا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے نفلی صدقات مراد ہیں۔ (شوکانی) اس کے بر عکس فرض زکوہ گوپوشیدہ طور پر دینا جائز ہے مگر اس کا اظہار افضل ہے۔ اما طبری لکھتے ہیں کہ اس امت کا اجماع ہے۔ (فتح الباری ج 6 ص 22) متعدد احادیث میں نفلی صدقت کو پوشیدہ طور پر دینے کی فضیلت آئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ نفلی صدقہ چھپا کردینے والا قیامت کے دن ان سات شخصو میں سے ایک ہوگا جنکو اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں جگہ دے گا جس روز کہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا۔ (بخاری مسلم )
Ayah 2:272

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

اے پیغمبر ( علیہ السلام) ان کو راہ پر لانا تیرا ذمہ نہی ہے بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے راہ پر لگاتا ہے اور تم جو مال پیسہ یا چیز) خیرات کرو گے وہ اپنے لیے اور تم تو جو خرچتے ہو الہ کے لیے خر چتے ہو اور تم جا مال خرچ کر وگے خیرات کے طور پر قیامت کے دن پورا بھر پاؤ اور تمہارا حق مارانہ جا وے گا1

ف 1 اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلم کے ساتھ صلہ رحمی جائز ہے اور اگر وہ محتاج ہو تو نفلی صدقات سے اس کی مدد کر نا بھی جائز ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ہمیں حکم دیتے کہ صدقات صرف مسلمانوں کو دیئے جائیں گے مگر جب یہ آتی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے ہر ضرورت مند سائل کو صدقہ دینے کی اجازت دے دی۔ البتہ قرآن نے بتایا کہ اجر تب ملے گا جب وہ صدقہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیا جائے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) لیکن واضح رہے کہ فرض زکوہ صرف مسلمانوں کا حق ہے غیر مسلم پر اس کا صرف کرنا جائز نہیں ہے اس پر تمام ائمہ کرام کا اجماع ہے۔ (معالم السنن) صدقہ فطر بھی صرف مسلمانوں کا حق ہے۔ صرف امام ابوحنیفہ کے نزدیک غیر مسلم پر صرف ہوسکتا ہے۔ (المغنی۔ ردالمختات)
Ayah 2:273

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

خیرات (اول تو ان محتاجوں کو دینی چاہیئے جو اللہ کی راہ جہاد کے لیے یا دین کا علم حاصل کرنے کے لیے رکے ہوئے ہیں ( اٹکے ہوئے ہیں گھرے بیٹھے ہیں کسی ملک کا سفر نہیں کرسکتے جو ان کا حال نہیں جانتا وہ ان کو مالدار سمجھتا ہے کیونکہ وہ مانگتے نہیں تو ان کا چہرہ دیکھ کر ان کو پہچان لیتا ہے کسی سے لپٹ کر نہیں مانگتے اور جو مال خرچ کروگے خیرات کے طور پر اللہ کو معلوم ہے 2

ف 2 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ ان سے مراد اصحاب صفہ ہیں۔ (شوکانی) مگر آیت اپنے عموم کے اعبتار سے ان سب فقرا کو شامل ہے جو مذکورہ صفات کے حامل ہوں اور آیت کا منشا یہ ہے کہ صدقہ و خیرات کے اولین یہ لوگ ہیں یعنی مجاہدین اور علم دین کے طالب علم۔ (ابن کثیر۔ وحیدی) شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ فی زمانہ ماننا جو لوگ علم دین کی نشر و اشاعت کے لیے وقف ہوچکے ہیں اگر ان کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہو تو ان کی مدد کی جائے۔ (موضح بتصرف) الحافا۔ یعنی وہ لپٹ کر سوال نہیں کرتے جیسا کہ بھکاریوں کی عادت ہے اور یہ عادت بہت بری ہے۔ (رازی۔ وحیدی) یہ جملہ دراصل تعفف (سوال نہ کرنا) کی تفسیر ہی ہے۔ علمائے تفسیر نے اس کے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ وہ بالکل سوا ہی نہیں کرتے (روح) ایک حدیث میں ہے مسکین وہ نہیں ہے جو لقمہ اور دو لقموں کے لیے دربدر پھرتا رہتا ہے بلکہ اصل مسکین وہ ہے جو لوگوں سے لپٹ کو سوال نہیں کرتا۔ نیز احادیث میں نے حاجت سوال کی بڑی مذمت آئی ہے چناچہ ایک حدیث کے ضمن میں ہے جس کے پاس دوپہر یا رات کا کھانا ہے پھر وہ لوگوں سے سوال کرتا ہے تو وہ دوزخ کے انتارے سمیٹتا ہے۔ ( ابو داؤد)
Ayahs 2:274–275

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مال رات اور دن چھپے اور کھلے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں انکوان کا ثواب اپنے مالک کے پاس ملے نہ ان کو در ہوگا نہ غم گیں ہوں گے

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ اپنی قبروں سے حشر کے دن اس طرح سے اٹھیں گے جیسے وہ شخص اٹھتا ہے جس کو آسیب نے لپٹ کر دیوانہ بنادیا ہو3 یہ عذاب ان کو اس وجہ سے ہوگا کہ کہتے تھے کسی چیز کا بیچنا بھی سود طرح ہے اور الہ نے بیچنے کو درست کیا ہے اور سود کو حرام کیا4 پھر جس شخص کو اس کے پروردگار کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور آئندہ وہ سود کھانے سے باز آیا تو جو جاہلیت کے زمانہ میں یا سود حرام ہونے سے پہلے1 کھا چکاوہ اس کا ہوگیا اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے کہ اس کو عذاب کرے یا معاف کردے2 اور جو کوئی سے نصیحت پہنچے کے بعد پھر سود کھا وے تو ایسے ہی لوگ دوزخی ہیں وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

ف 3 یعنی سود خوار قیامت کے دن مخبوط الحواس اور پاگل ہو کرا اٹھیں گے الربا (سود) کے لفظی معنی مطلق زیادتی کے ہیں اور اصلاح شریعت میں خاص شرح کے ساتھ جو اضافہ اصل (راس المال) پر لیا جاتا ہے اسے ربا کہتے ہیں۔ (راغب) یعنی کسی قرض پر بغیر کسی مالی معاوضہ کے محض مہلت بڑھادینے کے بنا پر زیادتی حاصل کی جائے (ابن العربی) جاہلیت میں عام طور پر سود کی صورت یہ تھی کہ جب ادائے قرض وقت آجاتا ہے تو صاحب مال کہتا یا تو قرض ادا کرو یا مہلت لے کر سود دینا منظو کرو۔ سود کی یہ شکل بالا جماع حرام ہے۔ شوکانی لفظ ربا اپنے وسیع ترمعنی کے اعتبار سے مذکورہ صورتکو بھی شامل ہے لیکن یہ کل ربا نہیں ہے بعض قبائل میں تجارتی سود بھی رائج تھا۔ علامہ طبری لکتے ہیں کہ کان ربا یتبایعون بہ جی الجاھلیتتہ۔ (ج 4 ص 107) یعنی جاہلیت میں ایک صورت ربا کی یہ بھی تھی جو خریدو فروخت میں ہوتا۔ علامہ سیوطی لکھتے ہیں : نزلت فی العباس ورجل من بنی المغیرتہ کانا شر یکین جی الجا ھلیتہ سلفافی الرباالی اناس من ثقیف (ایضا) کان بنو المغیرتہ یر جون لثقیف (درمنشور) یعنی ربا جس کی مذمت میں یہ آیات نازل ہوئی ہے وہ جاہلی دور میں بسلسلئہ کاروبار ( تجارت) تھا جو ثقیف اور بنو المغیرہ ؤغیرہ قبائل باہم بطور شرکت کیا کرتے اور جو سودی قرض کا لین دین جاری تھا موجود سودی نظام بھی اس کے تحت آتا ہے۔ نیز دیکھئے آل عمران آیت :130)4 یعنی ان کو یہ سزا اس لیے ملے گی کہ وہ سود اور تجارت میں کچھ فرق نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ آج کل بھی تجدد پسند طبقہ سود کو ایک کاروبارسمجھتا ہے حالانکہ تجارت اور سود میں بتعدد وجوہ فرق ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ تجارت میں مفع و نقصان دونوں کا احتمال موجود ہے مگر سود خوار مقروض سے اصل زر کے علاوہ ایک متعین رقم بہر حال وصول کرلیتا ہے۔ جو مفت خوری بد تریم شکل ہے۔ ( رازی) 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا ہے اب اس کا واپس کرنا ضروری نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : عفا اللہ عما سلف۔ پچھلا اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا۔ ابن کثیر، شوکانی) پس امرہ الی اللہ کا مطلب یہ ہے کہ سود کی تحریم یاماسلف کا عفو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے لہذا اس نے معاف فردیا ہے۔۔ (شوکانی) یہ مطلب ترجمہ میں دی گئی وضاحت کی بہ نسبت قابل ترجیح ہے۔2 سود خواروں کے لیے سخت وعید ہے، بعض نے ومن عاد کے یہ معنی کیے ہیں کہ تحریم کے بعد بھی اگر کوئی شخص بیع اور رباکو یکساں قرار گا اور سود کو حلال سمجھ کر کھائے گا ایسا شخص چونکہ کافر ہے اس لیے اسے ہمیشہ کے لیے دوزخی قرار دیا ہے۔ (شوکانی)
Ayah 2:276

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ سود کو مٹا دیتا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے3 اور اللہ تعالیٰ ناشکرے گناہ گار کو پسند نہیں کرتا4

ف 3 یعنی سود کا مال بظاہر کتنا ہی بڑھ جائے۔ اللہ تعالیٰ اس میں خیر و برکت عطا فرماتا چناچہ سود خوار پر دنیا بھی لعنت بھیجتی ہے اور آخرت میں بھی اسے وہ سزا ملے گی جو کسی دوسرے مجرم کو نہ ملے گی۔ ایک حدیث میں ہے کہ سود خواہ کتنا ہی بڑھ جائے انجام کا روبار وہ کم ہی ہوتا ہے۔ (ابن کثیر) اس کے مقا بلہ میں صدقہ و خیرات میں برکت ہوتی ہے۔ صحیحین وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ر ضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ جس شخص نے اپنی پاکیز ہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ دیا اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے اور بڑھاتا ہے حتی کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ (قرطبی )
Ayahs 2:277–278

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور نماز کو درستی سے ادا کیا اور زکوٰۃ دی ان کا ثوار ان کے مالک کے پاس ان کے ملے نہ ان کو ڈر ہوگا نہ غم

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

مسلمانو اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے لوگوں کے ذمہ پر اس کو چھوڑ دو اب نہ لو اگر تم ایمان رکھتے ہو5

ف 4 یعنی مالدار ہو کر اپنے بھائی کو بلا سود قرض نہ دے یہ نعمت الہی کی ناشکری ہے۔ (موضح بتصرف ) 5 یعنی حرمت ؟ آنے سے قبل جو کچھ وصول کرچکے سو کرچکے اب اس حرت کے بعد لوگوں کے ذمہ جو بھی سود ہوا ہے تم اسے لینے کا حق نہیں۔ رکھتے جنانچہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے وہ تمام سود باطل قرار دے دیئے جو قریش ثقیف اور دوسرے عرب قبائل میں سے بعض تاجروں کے اپنے قرض داروں کے ذمہ باقی تھے۔ حجتہ الوداع کے موقعہ پر آپ ﷺ نے اعلان فرمایا۔ جاہلیت کے تمام سود باطل قرار دیئے جاچکے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان یعنی حضرت عباس ؓ بن عبد المطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔ لہذا وہ سارے کا سارا باطل ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

پھر اگر ایسا نہیں کرتے یعنی سود نہیں چھوڑ تے تو اللہ اس کے رسول سے لڑنے کے لیے ہو شیار ہوجاؤ6 اور جو توبہ کرتے ہو ہوس کھانے سے تو اپنا اصل روپیہ لے لو نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ تم پر کوئی ظلم کرے7

ف 6 یعنی اس کے خلاف اعلان جنگ ہے اور وہ وعید ہے جو دوسرے کسی جرم کے بارے میں اللہ و رسول کی طرف سے نہیں دی گئی۔ حضرت ابن عباس ؓ ابن سرین حسن بصری اور بعض دیگر ائمہ کے نزدیک سود خوار کو توبہ پر مجبور کیا جائے کا گر پھر بھی روش نہ بدلے گا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ (ابن کثیر)7 اصل زر سے نائد وصول کرو یہ تمارا لوگوں پر ظلم ہوگا اور اگر تمہیں اصل زر بھی نہ ملے تو یہ لوگوں کا تم پر ظلم ہوگا اور یہ دونوں چیزیں ہی انصاف کے خلاف ہیں (ابن کثیر )