2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 2:121

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ( توریت یا انجیل) اور وہ اس کو جیسے پڑھنا چا ہے اس طرح پڑھتے ہیں وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں2 اور جو لوگ قرآن کا نا کریں وہ نقصان اٹھائیں گے ا

ف 2 یہود کے افعال قبیحہ کا ذکر کرنے کے بعد اب ان سے نیک اور خدا ترس لوگوں کا ذکر کیا ہے کہ وہ توریت کو غور وفکر سے پڑھتے ہیں اس وجہ سے وہ اسلام سے شرف یاب ہوچکے ہیں۔ ان سے مراد عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہیں ،۔ (رازی۔ ابن کثیر) قرآن کا حق تلاوت بھی یہی ہے کہ اسے غور سے پڑھے اور پھر اس کی ہدایت پر عمل کرے چناچہ علما نے اس آیت کے یہ معنی کیے ہیں کہ اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور غلط تاویلات سے کام نہیں لیتے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 2:122–123

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے سرائیل کی اولاد میرا احسان یاد کرو جو میں تم پر کیا اور وہ جو میں ساراے جہان میں تم کو بڑا کیا

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا نہ اس کی طرف سے بدلا منظور کیا جائے گا نہ سفارش کچھ فائدہ دے گی نہ مدد ملے گی3

ف 3 یہاں سے دوبارہ اہل کتاب کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اوپر بیان کی ہوئی بد کرداریوں کی و جہ سے تم ظالم ٹھہرتے ہو سو اب امامت و قیادت امت جانشین ہوں گے۔ (ترجمان) اس سے دوبارہ آنحضرت ﷺ کی اتباع پر ابھارنا مقصود ہے۔ (شوکانی )
Ayah 2:124

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

اور (یادر کرو) جب ابراہیمی کو اس پروردگار نے کئی باتوں سے آزمایا اس نے باتو کو پورا کیا4 پروردگار نے فرمایا میں تجھ کو لوگوں کا سردار بناؤں گا کہ قیامت تک لوگ تیری پیروی کریں) ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا اور میری اولاد کو فرمایا جو ظالم ( بےانصاف ہیں ان تک یہ اقرار نہ پہنچے گا5

ف 4 ان کلمات کی تعیین میں علما کے مختلف اقوال منقول ہیں مناسک حج سنن فطرت دعوت توحید ہجرت وغیرہ سب امور اس کے تحت ذکر کئے گئے ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ جملہ آزمائشیں مرادہوں جن پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ثابت قدرم اور پکے نکلے سو اللہ تعالیٰ نے ان کو امامت اور پیشوائی کے شرف سو نوازا۔ ابن جریر) امام شوکانی لکھتے ہیں جب ان کلمات کا تعیین کسی مرفوع حدیث سے ثابت نہیں تو بہتر یہ ہے کہ بعد کی آیات کو ان کا بیان قرار دیا جائے۔ (شوکانی)5 جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کا امام بنادیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے حق میں دعا فرمائی چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور قیامت تک کے لیے سلسلہ نبوت ان کی اولاد میں کردیا۔ (دیکھئے عنکبوت آیت 27) مگر اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتادیا کہ تمہاری اولاد میں ظالم لوگ اس نعمت سے سرفراز نہیں ہو سکیں گے۔ اس سے گمراہ کتاب اور بنی اسمعیل کے مشرکین کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ ان کے عقائد و اعمال خراب ہوچکے ہیں۔ محض حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہونا ان کے کام نہیں آسکتا۔
Ayah 2:125

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور یاد کرو) جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوٹ کر آنے کی ( یا ثواب ک) اور امن کی جگہ ٹھہرائی اور ( لوگو کو حکم دیا کہ مقام ابراہیم ( علیہ السلام) کو نما کی جگہ بنا لو6 اور ہم نے ابراہیم ( علیہ السلام) اور اسمعیل ( علیہ السلام) کو حکم کیا کہ میرے گھر کو طواف اراعتکاف اور رکوع اور اسجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو

ف 6، مقام ابراہیم (علیہ السلام) کی تفسیر میں مختلف اقوال اور پھر وہاں کھڑے ہو کر دو رکعت نماز ادا کی جیسا کہ حاجی لوگ پڑھتے ہیں۔ نیز یہ آیت بھی حضرت عمر ؓ کے موافقات سے ہے جن کی تعداد اٹھار ہے۔_ (ابن کثیر )
Ayah 2:126

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

اور (یادرکھو) جب ابرہیم ( علیہ السلام) نے ( اپنے مالک سے) عرض کیا پروردگار اس جگہ کو ایک امن کا شہر بنا دے اور وہاں کے رہنے والوں میں سے جو ایمان لائیں اللہ اور پچھلے دن (قیامت پر) ان کو میوے کھانے کو دے ( اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور) فرمایا کافر کو بھی میں چند فائدہ اٹھانے دو گا ( کیونکہ دنیا میں اللہ مومن اور کافر سب کو روزی دیتا ہے پھر دوزخ کے عذب کی طرف اس کو کھینچ لاؤں گا اور ہو بڑا ٹھکانا ہے1

ف 1 اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا زکر ہے جو انہوں نے منصب امامت کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور میں فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور مکہ معظمہ کو ان والا شہر قرار دے دیا۔ اب حرم کی حدود میں اس کے درختوں کو کا ٹنا۔ شکار کو بھگانا وغیرہ جائز نہیں ہے۔ دوسری دعا میں مومنوں کے لیے پھلوں کے رزق کی دعا کی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رزق کا معاملہ امامت سے مختلف ہے۔ دنیا میں رزق ہر مومن کافر کو ملے گا مگر آخرت میں کفار کو سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا اسمعیل (علیہ السلام) کے مکہ سکونت اختیار کرلینے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پیدا ئش کے بعد کی تھی حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت اسمعیل (علیہ السلام) سے تیرہ سال چھوٹے تھے۔
Ayah 2:127

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور یادر کر) جب ابراہیم خانہ کعبہ کے پایوں کو اونچا کر رہا تھا ( یعنی بنا رہا تھا ( اور انکے ساتھ اسمعیل ( علیہ السلام) بھی ( وہ پتھر لالاکر دیتے اور ابراہیم ( علیہ السلام) بناتے تھے نوں نے دعا کی) پروردگار ہمارے یہ خدمت ہماری قبول فرمالے تو ( دعا کو) سنتا ہے ( دلی کی نیت کو) جانتا ہے

ف 2 اس آیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر کا تذکرہ ہے۔ اس کی تعمیر پر مختلف ادوار گزر چکے ہیں۔ آیت سے ظاہر ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا سنگ بنیاد رکھا اور پھر اس کی تعمیر کی بعض مفسرین نے بیت اللہ (کعبہ) کی قدامت ثابت کرنے کے لیے اس کا آدم (علیہ السلام) سے بھی پہلے کا قرار دیا ہے بلکہ یہاں تک کہ منھامدت الا رض اور یہ کہ خانہ کعبہ آسمان سے نازل ہوا، طوفان نوح کے وقت دوبارہ آسمان پر آٹھا لیا گیا۔ آدم (علیہ السلام) اور ان کے بعد جملہ انبیاء اس کی زیارت سے مشرف ہوتے رہے۔ عرفہ کے مقام پر حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہ السلام) کا تعارف ہوا اور جدہ میں حضرت ام ما حوا (علیہ السلام) کی قبر ہے وغیرہ اسی طرح حضر اسود کے متعلق بھی عجیب و غریب حکایات نقل کردی ہیں مگر کعبہ کا شرف تو محض اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قبلہ قرار دیا ہے ورنہ وہ بھی ایک عمارت ہے جو مکہ کی پہاڑیوں کے پتھر سے تعمیر ہوئی ہے جیسا کہ انبیاء (علیہم السلام) جسم و لباس میں ہمارے جیسے بشر ہوتے ہیں مگر شرف نبوت سے سرفراز ہونے کی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں سے افضل اور ممتاز ہوجاتے ہیں چناچہ حضرت عمر ؓ نے حجر اسود کا استلام کرتے وقت فرمایا میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے جس میں نفع نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں ہے میں صرف اس لے ؛ ا ستلام کرتا ہوں کہ رسول ﷺ کو تیرا استلام کرتے دیکھا ہے۔ ابن لوگوں نے کعبہ حجراسود اور غلاف کعبہ کے متعلق مختلف قسم کی رسوم و بدعات اختیار جن کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ (المنار جاہلیت میں جب قریش نے بیت اللہ کی تعمیر کی تو آنحضرت ﷺ کی عمر مبارک 35 سال تھی۔ قریش کے نزاع پر آنحضرت ﷺ نے حجر اسود کو اس کے مقام پر اپنے دست مبارک سے کھا۔ دور اسلام میں پہلی مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے بیت اللہ دو برہ تعمری کیا اس کے بعد عبدالملک کے دور خلافت میں حجاز نے اس کی از سرنو تعمیر کی اور جاہلی طرز پر بنادیا۔ حدیث میں ہے کہ آخر زمانہ میں ایک حبشی خانہ کعبہ کو ویران کرے گا۔ (ابن کثیر )
Ayahs 2:128–129

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

ورہماری اولاد میں سے ایک گروہئیداکر جو تیرا تابعدار ہو اور ہم کو حج کے طریقے بتلادے اور ہمارے قصور معاف کردے بیشک بڑا معاف کرنے والا ہے مہربان ہے

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

ا پروردگار ہمارے اس گروہ میں) انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیج جو تیری آیتیں پڑھ کر ان کو سنائے اور کتاب ( قرآن شریف) اور حکمت حدیث شریف) ان کو سکھلائے اور ( شرک سے ان کو پاک کرے بیشک تو زبر دست ہے حکمت والا ہے

ف 3 یہ حضرت ابرا ہیم (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) کی دعا کی کا خاتمہ ہے رسولا سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں کیونکہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی دوریت میں انحضرت ﷺ کے سوا کوئی دوسرا نبی نہیں ہو۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا، عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں۔ زمانہ حمل میں میں آمنہ ؓ نے ایک خواب دیکھا تھا کہ ان کے اندر سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام محلات روشن ہوگئے ہیں۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت کا تو قرآن نے ذکر کیا ہ۔ اور خواب میں شام کی تخصیص اس لیے ہے کہ آخر زمانہ میں شام ہی اسلام کا مرکز بنے گا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول بھی شام میں ہوگا اور حدیث میں جس گرد کے تاقیامت رہنے کی خبر دی گئی ہے اوہ بھی شام میں ہوں گے۔ (ابن کثیر۔ بحوالہ مسند احمد) الکتاب سے مراد قرآن مجید اور الحکمتہ سے راد حدیث پاک ہے اور اسلام کی یہی دو بنیادی اصول ہیں کتاب سے مراد اس کے معانی ومطالب کی وضاحت سے پاک کرے اطاعت و اخلاص کی تعلیم دے۔ (قرطبی۔ فتح القدیر )
Ayah 2:130

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

پروردگار ہمارے اور ہم کو اپنا تابعداد کر3 اور ابراہیم ( علیہ السلام) کے طریق سے وہی نفرت کرے گا جو احمق ہوگا اور ہم اس کو دنیا میں چن لیا ( اس کو پیغمبری عنایت فرمائی) اور آخرت میں وہ نیک ہے4

ف 4 اس آیت میں کفار مکہ اور یہود کی تردید ہے مت ابراہیم (علیہ السلام) کے مدعی تھے مگر انہوں نے ملت ابراہیمی میں مختلف قسم کی بدعات اور محدثات شامل کر کے اصل دین سے انحراف اختیار کرلیا تھا۔ قرآن نے بتیا ہے کہ دین ابرہیم سے انحراف واقعی حماقت ہے حضرت ابرہیم (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے اور وہ آخرت میں سعادت مند اور صالحین کے زمرہ میں شامل ہوں گے۔ یعنی تمہارا یہ ادعا غلط اور مبنی پر حماقت ہے۔
Ayahs 2:131–132

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

جب پروردگار نے اس سے فرمایا اسلام پر مضبوط ہوجا تو کہنے لگا میں اللہ کا تابعدار بن گیا جو سارے جہان کا مالک ہے

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں اسمعیل اور اسحاق کو اور یعقوب ( علیہ السلام) نے بھی ( اپنے بارہ بیٹوں کو) اسی دین کی وصیت کی۔ بیٹا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہ دین یعقوب ( علیہ السلام) مرنے لگا جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا تم میرے بعد کس کو پو جو گے

ف 1 یہاں الدین " سے ملت اسلام مراد ہے جیسا کہ آیت کے خاتمہ میں صراحت ہے اس آیت میں دین اسلام یا توحید پر سختی سے کار بند رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ خاتمہ بھی اسی پر ہو۔ (فتح القدیر) اس حالت پر موت گر انسان کے اختیار کی چیز نہیں ہے کہ کو ن کہ نیک خاتمہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے عموم ہوتا یہ ہے کہ انسان اپنے دل لگاؤ کے ساتھ راستہ بھی اختیار کرلیتا ہے موت بھی اسی حالت پر ہوتی ہے کیونکہ اللہ کریم کی سنت یہی ہے کہ انسان نیک یا بد جو راستہ بھی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی کی توفیق دیدی جاتی ہے۔ ( دیکھئے آیت اللیل 5؛10) ( ابن کثیر تبصرف) ان آیات میں بھی یہود و نصاری اور مشرکین مکہ کی تردید جو اپنے آپ و حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ان کا دین بھی یہی یہودیت اور نصراینت تھا۔ قرآن نے بتایا ہے کہ تم ان بزرگوں پر بہتان باندھ رہے ہو ان کا دین بھی یہی اسلام تھا جس میں توحید اور اخلاص کی تعلیم دی گئی ہے۔
Ayahs 2:133–134

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم تیرے اور تیرے باپ دادوں ابراہیم ( علیہ السلام) اور اسمعیل اور اسحاق ( علیہ السلام) کے ضاد کو پو جیں گے ایک ہی خدا ہے اور ہم اس کے فرما نبردار ہیں2

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

یہ ایک امت تھی جو گزر گئی ( یعنی ابراہیم ( علیہ السلام) اور یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کی اولاد) ان کا کیا ان کے لے اور تمہارا کیا تمہارے لیے اور ان کے کیے کی تم سے پوچھ نہ ہوگی3

ف 3 یہود کو تنبیہ کی ہے کہ وہ انبیا اور صلحاء کی طرف انتساب سے مغرور نہ ہوں یہ انتساب تمہارے کچھ کام نہیں آسکے گا بلکہ نجات کا مداد انسان کے خود اپنے اعمال پر ہے ان کے اعمال ان کے ساتھ گئے اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ ہوں گے سلسلہ بیان کے لیے دیکھئے آیت 141)
Ayah 2:135

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور مسلمانوں) سے کہتے ہیں یہودی یا عیسائی بن جاؤ سیدھی راہ پر آؤ ( اے پیغمبر) کہہ دے نہیں ہم تو اربراہم کے دین پر ہیں جو سیدی راہ پر تھا اور وہ مشرک نہ تھا4

ف 4 اہل کتاب مسلمانوں کو یہودیت اور نصرانیت کی دعوت دیتے اور ہدایت کو اپنے دین میں منحصر مانتے چناچہ مروی ہے کہ ایک یہو دی ابن صوریا اعور آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور کہنے لگا راہ ہدایت صرف وہ ہے جس پر ہم گامزن ہیں لہذا آپ بھی ہمارا طریق اختیار کرلیجئے۔ اس پر یہ آیت ہوئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) توملت حنیفی کے علمبردار تھے اور شرک و تقلید سے بیزار اور تم دونوں گروہ شرک اور تقلید آباء (بزرگان) کے پھندے میں گرفتار ہو (ابن کثیر) اسلام دراصل عقائد اور اصول و احکام کے مجموعہ سے عبارت سے دین وملت بھی عقائد و اصول سے عبادت ہے اس لحاظ سے تو شرائع اور احکام میں ہے۔ حضرت نواب صاحب لکھتے ہیں اسی طرح آجکل اہل تقلید ہم سے کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب برحق ہے تم بھی ہمراے مام کی تقلید اختیار کرلو راہ ہدایت پالو گے سو ان کو ہمارا جواب بھی یہی ہے کہ ہم کسی خاص امام کی تقلید کرنا نہیں چاہتے۔ ہم تو براہ راست رسول اللہ ﷺ کے متبع ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحی کے تابع تھے (ترجمان) یہود و نصاری اور مشرکین نے ملت حنیفی کو ترک کر کے کچھ رسوم وبدعات کی پابندی کو دین ہدایت سمجھ رکھا تھا اور دوسرے پر ضلالت اور گمرا ہی کا فتوی لگاتے تھے جیسا کہ آجکل اہل بدعت نے اصل کتاب وہ سنت کے ترک کے عید میلاد النبی۔ عید معراج اور کچھ ایصال ثوت کے طریقے ایجاد کر کے ان کو اشعائز اسلامیہ اور عبادات کا درجہ دے رکھا ہے اور بیت اللہ کی بجائے حج کے لے بزرگوں کے مقبروں پر جاتے ہیں نماز۔ روزہ زکوہ کے تارک ہوتے ہیں اگر کوئی توحید واصل دین کی طرف دعوت دے تو اس پر وہاہابیت (بےدینی کا فتوی لگا دیتے ہیں۔ (المنار تبصرف)
Ayah 2:136

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

(مسلمانو) تم کہو ہم تو اللہ تعالیٰ پر اور جو ہم پر اترا ( قرآن شریف) اور جو ابراہیم ( علیہ السلام) اور اسمعیل ( علیہ السلام) اور اسحاق ( علیہ السلام) اور یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر اترا5 اور جو موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور دوسرے پیغمبروں کو اپنے پروردگار سے ملا سب پر ایمان لائے ہم ان پیغمبروں سے کسی ایک کو بھی الگ نہیں کرے ت ( جیسے یہود کرتے ہیں کہ ایک کو ماتے ہیں

ف 5 الا سباط۔ یہ سبط کی جمع ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے ان میں سے ہر ایک کی اولاد سبط کہلاتی ہے یہ لفظ قبیلتہ کے مترادف ہے۔ مفردات )
Ayah 2:137

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

اور دوسرے کو نہیں مانتے ہیں اور ہم اسکے تابعدار ہیں۔ پھر اگر وہ ( یعنی یہود اور نصاری ٰ ) تمہاری طرح ایمان لائیں پاگئے اور اگر نہ مانیں تو ضد میں گرفتار ہیں قریب ہے ( وہ زمانہ) کہ اللہ انکے شر سے تم کو بےفکر کر دے گا اور وہ سنتا ( ہے انکی باتوں کو) جانتا ہے،1

ف 6 اس آیت میں مسلمانوں کی ہدایت اور ایمان کی تعلیم فرمائی ہے یعنی قرآن پاک سے پہلے جتنی آسمانی کتابیں ہیں اور جنتے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہو گزرے ہیں سب پر مجملا ایمان لانا اور عمل کرنا ضرور ہے اس سلسلہ میں بعض انبیاء کے اسماء صراحت سے اور بقیہ کی طرف اجمالی اشارہ فرمادیا ایک حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو رات انجیل اور زبور کے سچا ہونے کا اقرا کرو مگر عمل صرف قرآن پر کرو کیونکہ قرآن کے نزول سے پہلی تما کتابیں منسوخ ہوگئی ہیں حضرت ابوہریرہ سے ایک اور روایت میں ہے کہ اہل کتاب عبرانی زبان تورات پڑھتے اور مسلمانوں کے سامنے عربی میں۔ اس کی تفیسری کر کے سناتے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب کرو بلکہ ان سے یہ کہو امنا بالللہ۔ (ابن کثیر۔ قرطبی) بعینیہ یہی بات اہل سنت کا گروہ اہل بدعت اور اصحاب تقلید سے کہتا چلا آرہا ہے کہ تم سب علماء اور اولیاء اسلام اور ائمہ دین کو مانو مگر قرآن وسنت کے سوا کسی کے قول کو سند نہ سمجھو عمل صرف قرآن پر کرو۔ (ت، ن) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ عموما فجر کی سنت کی پہلی رکعت میں یہ آیت اور دوسری رکعت میں آل عمران کی وہ آیت جس میں فقولوا شھدوا بانا مسلمون آتا ہے ہے پڑھا کرتے تھے۔ صحیح مسلم۔ ابوداؤد) 1 چناچہ یہ وعد سچا ہو۔ بنو قریظہ قتل ہوئے اور بن نضیر جلاوطن کردیئے گئے۔ (وحیدی)
Ayah 2:138

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

(مسلمانوں کہو) اللہ نے ہم کو رنگ دیا اور اللہ کے رنگ بہتر ہے اور ہم اسی کی پوجا کرتے ہیں2

ف 2 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے رنگ سے مراد اسلام یا وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ (وحیدی) اور اس کو صبغتہ اللہ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ نصاری نے عیسایت کے لیے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا تھا جب کوئی بچہ پیدا ہوتا یا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہوتا تو اس کو اس پانی سے غسل دیتے اور کہتے کہ اب پاک اور صحیح معنوں میں نصرانی ہوا ہے۔ اس رسم کا نام ان کے ہاں معمودیہ یعنی بتبسمہ دینا ہ۔ (قرطبی) چناچہ اس آیت میں ان کی تردید فرمائی کہ سب سے بہتر رنگ اللہ کا رنگ ہے یعنی دین اسلام ہے جسے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر تمام انبیاء لیکر مبعوث ہوئے ہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ اس کی پابندی کرویہاں صبغتہ اللہ منصوب علی الا غراء ہے (ابن کثیر۔ شوکانی)
Ayah 2:139

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

( اے پیغمبر ( علیہ السلام) کہہ دے کیا اللہ) کے بارے) میں ہم سے جھگڑا تے ہو اس کے دین اس کے کاموں میں) وہ ہمارا تمہارا دونوں کا مالک ہے ہم اور ہمارے اعمال اور تم تمہارے اعملا اور ہم خالص اسی کے ماننے ولے ہیں3

ف 3 یہود مسلمانوں سے نزاع کرتے کہ جملہ انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہوئے ہیں پھر یہ آخری نبی سے کیسے مبعوث ہوگئے ہمارا دین بہتر اور تمام انبیاء کا دین ہے۔ اس آیت میں ان کی تردید فرمائی ہے ہمارا تمہارا سب کا پروردگار ایک ہے اور ہم عبادت میں مخلص بھی ہیں پھر تمہار یہ کہنا کہ ہم بہتر ہیں صحیح نہیں ہے۔
Ayah 2:140

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم ( علیہ السلام) کا اور اسمعیل ( علیہ السلام) اور اسحاق ( علیہ السلام) اور یعقوب ( علیہ السلام) اور اس کی اولاد یہ سب یہودی تے یا نصارنی ( اے پیغمبر ( کہہ دے تم بڑے جاننے والے ہو یا خدا4 اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا کہ خدا کی گواہی کو جو اس کے پاس ہو چھپائے5 اور اللہ تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں

ف 4 یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں یہ بتایا ہے کہ یہ انبیاء نہ یہودی اور نصرانی ہونے کا دعوی کرتے ہو پھر تم ہی بتاؤ زیادہ علم تم کو ہے یا اللہ تعالیٰ کو ؟ 5 یعنی تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ انبیاء یہودی یا نصرانی نہیں تھے بلکہ سب کا دین وہی اسلام تھا جس کی طرف آج محمد ﷺ دعوت دے رہے ہیں۔ مگر بایں ہمہ تم اس شہادت کو چھپا رہے ہو نیز تمہیں اپنی کتابوں کو ذریعہ خوب معلوم ہے کہ نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے اور آخری نبی ہیں جب کے متعلق تمہاری کتابوں میں بشارت تیں موجود ہیں اور یہ بھی جانتے ہو کہ یہ قرآن واقعی اللہ تعالیٰ آخری کتاب ہے مگر تم ان سب شہادتوں کو محض تعصب اور حسد اور نغض کی بنا پر چھپا رہے ہو پھر بتاؤ کہ تم سے بڑھ کر بھی دنیا میں کوئی ظالم ہوسکتا ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی )
Ayah 2:141

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

یہ ایک امت تھی جو گزر گئی ( یعنی ابراہیم اور اسمعیل ( علیہ السلام) اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد) ان کا کیا ان کے لیے اور تمہارے لیے اور ان کے کیے کی تم سے پوچھ نہ ہوگی6

ف 6 اس آیت میں دوبارہ تنبیہہ اور تہدید کی ہے کہ آخری نجات اور سعادت کا تعلق تو کسب و عمل پر ہے اگر نجات چاہتے ہو تو عمل صالح میں ان انبیاء اور صالحین کی اتباع کرو ورنہ محض ان شخصیتوں کی طرف انتساب اور ان کی کرامتیں بیان کرنا مفید نہیں ہو سکے گا۔ ایک حدیث میں ہے کہ من ابطاء بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ / کہ جس کے عمل کنے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب آگے بڑھ سکے گا۔ (ابن کثیر) اس سے ان لوگوں کی عبرت حاصل کرنی چاہیے جو خود بےعمل رہ کر اپنے بزرگو کے اعمال پر تکیہ کر کے اپنے آپ کو بےبنیاد اور غلط قسم کی آرزؤں میں مگن رکھتے ہیں۔ (ترجمان )
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

اب قریب میں بیوقوف لوگ کہیں گے مسلما نوں کا جو قبلہ تھا اس سے پھرجانے کی کیا وجہ ہوئی1(اے پیغمبر کہہ دے پورب اور چھچم دونوں اللہ ہی کے ہیں جس کو وہ چاہتا ہے سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے2

ف 1 آنحضرت ہجرت کے بعد مدینہ پہنچے تو اصح قول کے مطابق سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے مگر آپ ﷺ کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم آجائے اس کے لیے اکثر دعا بھی فرماتے اور آسمان کی طرف نظر اٹھاکر بھی دیکھتے۔ آخر جب کعبہ کی جانب منہ کرنے کا حکم آگیا تو یہود منافقین اور مشرکین عرب سبھی نے نسخ قبلہ کے حکم پر تبصرے شروع کردیئے یہود نے اسے اپنے جسدو بغض پر محمول کی ا۔ منافقین نے شہ بےڈالنے شروع کیے کہ اگر یہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی ہوتے تو بیت اللہ المقدس کو چھوڑ کر کعبہ کو اپنا کیوں بناتے۔ یہود کے ہاں شرائع میں بھی محال ہے لہذا اس پہلے نسخ کو انہوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت پر طعن کا سبب بنایا قرآن نے ماولھم فرماکر جملہ اعترضات کے طرف اشارہ فرمادیا ہے۔ ( کبیر فتح القدیر)2 یہ ان کے شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب اداد حاکم مطلق ہے مشرق ومغرب سب جہات اسی کی ہیں جس طرف قبلہ بنانے کا حکم دینا چاہے دے سکتا ہے اصل بات اللہ تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری ہے اور کعبہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے لہذا نہ تو شرائع میں نسخ محال ہے اور نہ یہ امر آنحضرت ﷺ کی نبوت و صداقت پر طعن کا مو جب ہوسکتا ہے (کبیر)
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور جیسے ہم نے تم کو قبلہ بتادیا جیسے ہم نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو چن لیا)3 ویسے ہی ہم نے تم کو ( اے مسلمانوں) یاک بیچ بیچ کی امت بنایا4 تاکہ تم دوسرے لوگوں پر قیامت کے دن گواہ بنو اور پیغمبر ( یعنی محمد ﷺ ) تم گواہ ہوں5 اور (اے پیغمبر) جس قبلہ پر تو پہلے تھا ( یعنی کعبہ) ہم نے اسی کو دوبارہ) مقرر کردیا اس کی غرض یہ تھی کہ ہم کو یہ بات کھل جائے کہ کون پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھرجاتا ہے6 اور قبلہ کا بدلنا بھاری (شاق ہوا مگر ان پر جن کو اللہ نے راہ بتلائی اور اللہ تعالیٰ تمہاری نماز کو بےفائدہ کر دے یہ نہیں ہوسکتا7 اللہ تو لوگوں پر بڑی شفقت کرنے والا مہر بان ہے

ف 3 صراط مستقیم۔ اصل میں تو جملہ افکار واخلاق اور اعمال میں راہ اعتدال کا نام ہے یہاں اس امر کی طرف اشارہ کہ کعبہ کو قبا قرار دینا بھی صراط مستقیم کی طرف ہدایت میں داخل ہے یہود اور منافقین کے اعتراضات محض حسد کی بنا پر ہیں حدیث میں ہے کہ تین باتوں پر یہود مسلمانوں سے حسد کرتے ہیں کے کعبہ قبلہ ہونے پر۔ جمعہ کے دن پر اور امام کے پیچھے آمین کہنے پر۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)4 الوسط کے معنی بہتر اور افضل کے ہیں اور ابو سعید الخدری ؓ سے مرفو عا ثابت ہے کہ یہاں وسط بمعنی ہے جس کے معنی ثقہ اور قابل اعتماد بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی کہ اعتقاد واخلاص اور اعمال میں معتدل اور امم سابقہ کی افراط وتفریط سے پاک اور (قرطبی۔ ابن کثیر) کذالک اس تشبیہ کے ایک معنی تو یہ ہیں یہ جس طرح ہم نے تم پر ہدایت کی نعمت پوری کی ہے جس میں قبلہ کی طرف استقبال کا حکم بھی داخل ہے اسی طرح ہم نے تمہیں امت واسط بنا کر تم پر اپنی نعمت کا اتمام کردیا ہے اور دوسرے معن یہ ہیں کہ جس طرح ہم نے کعبہ کو قبلہ قرار دیا ہے جو سب قبیلوں سے افضل اور انبیاء کے امام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ ہے اس طرح ہم نے تمہیں سب امتوں سے افضل امت قرار دیا ہے۔ ( کبیر۔ ابن کثیر)5 یعنی تمہیں امت وسط قرار دینے سے غرض یہ ہے کہ تم کو دنیا اور آخرت میں لوگوں پر شاہد ہونے کا درجہ حاصل ہوجائے تم قیامت کے دن انبیاء کے حق میں گواہی دو کہ انہوں نے اپنی امتوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیا تھا اور آنحضرت ﷺ یہ گواہی دی کہ تم نے اس کے مطابق عمل کر کے دکھا یا حضرت جابر عبد اللہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں اور میری امت قیامت کے دن ایک بلند ٹیلے پر بیٹھے ہوں گے جب کبھی کوئی امت اپنے نبی کی تکذیب کرے کی تو ہم گواہی دیں گے کہ بیشک اس نبی نے اپنی امت کو اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچادیئے تھے۔ امت کی یہ شہادت پر مات محمد یہ سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں ان وقعات کا کیسے علم ہو اتو کہیں گے۔ جا ونا نبینافا خبرنا ان الرسل قد بلغوا۔ کہ ہمیں ہمارے پیغمبر نے خبر دی تھی کہ تمام انبیاء نے اپنی امتوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دیئے۔ (ابن کثیر بحوالہ بخاری وغیرہ) امت محمدی کی دنیا میں شہادت کے متعلق بھی احادیث وارد ہیں۔ ایک حدیث میں ہے اچھے اور برے لوگوں کی تمیز اور مغفرت تمہاری شہادت پر ہوگئی جس کی تم نے مذت کردی وہ برا ہے۔ ایک مرتبہ دو جنازوں کے بارے میں بھی آنحضرت ﷺ نے جنتی اور دوزخی ہونے کا حکم صحابہ کی شہادت پر ہی فرمایا تھا اور ساتھ ہی اس کی وجہ بیان فرمائی کہ انتم شھد اء اللہ فی الا رض کہ تم زمین میں اللہ کی طرف سے گواہ ہو۔ (ابن کثیر)6 یعنی پہلے بیت المقدس جو عارضی طور پر قبلہ قرار دیا تھا اور اب کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اس لیے لوگوں کے ایمان کی آزمائش ہوجائے اور تمہارے سامنے یہ واضح ہوجائے گا کہ کون متبع ہے او کون مرتد یہی وجہ ہے کہ بعض نے السابقول الا ولون۔ انہی انصار اور مہاجرین کو قرار دیا ہے جنہوں نے قبلین کی طرف نماز پڑھی ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

( اے پیمبر) ہم تیرا منہ بار بار آسمان کی طرف کرنا دیکھ رہے ہیں جو قبلہ تو پسند کرتا ہے وہی ہم تجھ کو دیں گے اب اپنا منہ مسجد حرام ( کعبہ) کی طرف پھیر لے اور مسلمانوں تم جہاں کہیں ہو اسی طرف اپنا منہ کیا کرو7 بیشک اہل کتاب جاننے ہیں کہ کعبہ کی طرف قبلہ ہونا ان کے مالک کی طرف سے حق ہے۔9 اور اللہ ان کے کاموں سے بیخبر نہیں ہے

ف 7 یعنی تمہیں دونوں قبلوں کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ (ابن کثیر) بخاری میں حضرت براء ؓ عہ بن عازب اور ترمذی ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ تحویل پر مسلمان ان لوگوں کو متعلق تشویش میں پڑگئے جو اس سے قبل وفات پاچکے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کو تسل دی۔ (ابن کثیر) نماز، نیت، قول اور عمل جو ارح پر مشتمل ہے اور ان تینوں کے مجموعہ کا نام ایمان سے اس لیے نماز کو ایمان فرمایا۔ (قرطبی)8 یہ تحویل قبلہ کا صل حکم ہے مکہ میں تو آنحضرت ﷺ دونوں رکنوں کے درمیان کھڑے ہو کر صخرہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے اس طرح نماز پڑھتے رہے کہ کعبہ بھی سامنے ہوتا اور دونوں طرف رخ ہوجاتا مگر مدینہ پہنچ کر بیک وقت دونوں کی طرف کرنا ممکن نہ رہا۔ آپ کو خواہش پر تحویل کا حکم آیا جیسا کہ مذ کور ہوا۔ (ابن کثیر) مسجد نبوی میں کعبہ کی طرف منہ کر کے سب سے پہلے نماز عصر ادا کی گئی۔ بعض علمان نے تفسیر نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ مسجد بنی سلمہ میں ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ تحویل کا حکم نازل ہوا اور آپ ﷺ نے ظہر کی آخری دو رکعت کی طرف رخ پھیر کر ادا کیں اس لیے کو مسجد البلتین کہا جاتا ہے یہ قصہ بعض روایات میں، مذکور ہے۔ (قرطبی)9 اس میں کو تہدید ہے۔ یعنی یہود اپنی کتابوں کی پیش کوئی کی بنا پر خوب جانتے ہیں کہ نبی آخرزلزمان کا قبلہ مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ ہوگا مگر وہ کفر حسد اور عناد کی بنا پر لتمان کر رہے ہیں۔ (ابن کثیر)
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر تو اہل کتاب کو ہر یاک نشانی ( معجزہ) بتلائے ( یار سارے جہان کی دلیلوں سے سمجھائے) تو بھی وہ تیرا قبلہ نہ لیں گے1 اور تو بھی ان کا قبلہ لینے والا نہیں2 یعنی اب پھر بیت المقدس کی طرف کبھی نہیں بدلے) اور خود اہل کتاب بھی ایک دوسرے کا قبلہ نہیں لیتے اور تجھ کو جو علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا اگر اس کے بعد کی خواہشوں پر چلے تو تیرا شمار بھی ظالموں میں ہوگا4

ف 1 یعنی وہ کعبہ کے قبلہ ہونے کو خوب جانتے ہیں مگر ان کا عباد اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ آپ ﷺ کے قبلہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔2 اور آپ بھی حکم وحی کے پابند ہونے کی وجہ سے ان کے قبلہ کو اختیار نہیں کرسکتے۔ (شوکانی)3 اور ان کے باہمی عباد کا یہ حال ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو پسند نہیں کرتے۔ یہود صخرہ کی طرف رخ کرتے ہیں اور نصاری بیت المقدس کی مشرق جانب کی طرف۔ (قرطبی)4 اس کے مخاطب تو آنحضرت ﷺ ہیں مگر مراد امت ہے اگر ایک شخص علم دین ہو کر اہل بد عت وہوی کی پیرعی کرتا ہے تو اس پر بھی عتاب ہے ( ابن کثیر۔ قرطبی) پھر کیا حال ہوگا ان علماء کا جو اہل بدعت کی مخالفت کی بجائے ا ان کی محفلوں (عیدمیلاد النبی، تعزیہ وغیرہ کے جلوس) میں شریک ہوتے ہیں۔ (المنار)
Ayah 2:146

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی و اس کو یعنی قگبلہ کے بدلنے کو یا حضرت محمد کی) ایسا پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو اور ایک فرقہ ان میں کا جان بوجھ کر حق بات چھپاتا ہے

ف 5 اوپر کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ اہل کتاب کعبہ کے قبلہ پر حق ہونے کو خوب جانتے تھے مگر بوجہ ضد اور ہٹ دھرمی کے انکار کرتے تھے اب اس آیت میں بتایا جارہا ہے کہ قبلہ کی طرح اہل کتاب کو آنحضرت ﷺ کے نبی آخرالز مان ہونے کچھ شبہ نہیں ہے مگر پھر بھی ان سے اہل علم کا ایک گروہ اس لیے فرمایا کہ اہل کتاب میں بعض علماء جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ بھی تھے جو آنحضرت ﷺ کی صداقت کے جاننے کے بعد مسلمان ہوگئے تھے ،_ (ابن کثیر۔ قرطبی)
Ayah 2:147

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

حق بات وہی ہے جو تیرا پروردگار فرمائے تو شک کرنے والوں میں مت شریک ہو6

ف 6 اس میں تنبیہ ہے کہ منافقین اور یہود کے پر وپکنڈے سے متاثر نہیں ہونا چاہیے آنحضرت ﷺ حق لے کر آئے ہیں جو شک وشبہ سے بالا تر ہے۔ (قرطبی۔ المنار)
Ayah 2:148

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر ایک دین والے کا یاک قبلہ ہے جدھر وہ منہ کرتا ہے تم ( اے مسلمانوں) نیکیاں کرنے میں آگے بڑھو7 تم جہاں رہو اللہ تم کو اکٹھا کرلے گا بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے8

ف 7 اب اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی ددر میں تعین قبلہ کے حکم کو اصول دین کو حیثیت حاصل نہیں ہوتی کہ اس میں رد وبد نہ ہو سکے دوسرے احکام کی طرح اس میں نسخ ہوتا رہا ہے۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ صخرہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نصاری بیت المقدس کی شرقی جانب کی طرف رخ کرت ہیں طرح ان پہلی امتوں کے لیے بھی ایک سمت مقرر تھی اس اصل تحت تمہارے لیے کعبہ کو قبلہ قرار دے دیا تمہیں چاہیے کہ نیک کاموں میں سبقت کرو۔ (ابن کثیر۔ المنار) اس میں اشارہ ہے کہ نماز بھی اول وقت ادا کرنے چاہیے حدیث میں ہے خیر الاعمال الصلوہ الاول قعتھا۔ کہ سب سے بہتر عمل اول وقت پر نماز ادا کرنے ہے۔ (بخاری مسلم) فائدہ۔ حاظ ابن تیمہ نے الردعلی المنطقیین (س 29) اور حافظ ابن القیم نے بدائع الفوا ئد (ج 2 ص 168 ۔ 173) میں محققا نہ طور پر ثاتب کیا ہے کہ بیت المقدس کو قبیلہ بنانا اجتہادی امرتھا اور اللہ تعالیٰ نے کسی بھی نبی کو حکم نہیں دیا کہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھیں، (کتاب الایمان ص 11) ج 8 یعنی آخر تم سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور جمع ہونا ہے اور نیک کاموں کے متعلق تم سے پوچھا جائے گا۔ (قرطبی)
Ayahs 2:149–150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

ا رتو جہاں سے نکلے ( یعنی جہاں ہو سفر میں) اپنا منہ مسجد کی طرف کر یہ بات حق ہے تیرے مالک کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں ہے

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

( اے پیمبیر) تو جہا سے نکلے اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر ( مسلمانو) تم جہاں (نماز) میں اپنے منہ اس طرف ( یعنی مسجد حرام کی طرف کرو تاکہ کہ لو گو کی تم پر اعتراض کو موقع نہ رہے9 مگر جو بےانصافی کرتے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرتے رہو اور ( دوسری غرض یہ ہے) کہ میں) شریعت کے سب احکام پورے کر کے) اپنا احسان تم پر پورا کروں اور تیسر غرض یہ ہے کہ تم راہ راست پر آجاؤ1

ف 9 مسجد حرام کی طرف متوجہ ہونے کے حکم کا تین بار اعادہ کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ چونکہ اسلام میں نسخ ہے اس لیے تکرار برائے تاکید بعض نے لکھا ہے کہ پہلی مرتبہ حکم اس شخص کو ہے جو قبلہ کے سامنے ہو اور دوسری مرتبہ اسے نظر نہ آتا ہو اور رتیسری مرتبہ نسخ قبلہ پر مفر ضین کے اعتراض کو ختم کرنا ہوجیسا کہ لئلایکون للناس علیکم حجتہ سے معلوم ہوتا ہے یعنی اہل کتاب کے لیے اس اعتراض کی گنجائش بھی نہ رہے کی نبی آخرالز مان کا قبلہ تو کعبہ ہوگا اور یہ بیت المقدس کی طرف ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔ (کبیر۔ ابن کثیر) 1 حتی کہ استفان کعبہ کا حکم بھی تمام نعمت کے طور پر ہے (المنار)
Ayah 2:151

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

یہ احسان اسی طرح کا ہے جیسے ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا تمہاری قوم میں سے جو ہماری آیتیں پڑھ کر تم کو ستانا ہے اور تم کو شرک اور کفر کی نجاست یا برے اخلاق اور عادات سے پاک کتاب ہے اور قرآن اور حدیث اور وہ باتیں جو تم نہیں جانتے تھے تم کو سکھالاتا ہے

ف 2 اس تشبیہ کا مفہوم یہ ہے کہ خانہ کعبہ کو قبلہ قرار دے کر ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کو شرف قبولیت بخشا ہے جو انھوں نے کعبہ کے بارے میں کی تھی جس طرح کہ نبی آخرالزمان کو مبعوث فرماکر ان کی اس دعا کو قبول کیا ہے جو انہوں نے بعثت رسول کے بارے میں کی تھی۔ قرآن میں الکتاب والحکمتہ سے مرادت کتاب وہ سنت ہے اور مالم تکونواتعلمون سے مسائل یا بعد الطبیعیات ( حشر ونشر مبدء نبوت وغیرہ ( مراد ہیں دیکھئے آیت :129)
Ayah 2:152

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

تم میری یاد کرتے رہو میں تم کو یادر کھوں گا اور اور میرا شکر کرتے رہو نا شکری نہ کرو3

ف 3 فاذکر ونی فار تفر یع لاکر اشارہ فرمایا ہے کہ مذکورہ انعامات کا تقاضا یہ ہے کہ میری شکرگزاری کے لیے مجھے دیا کرتے ہو ذکر الہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبر داری کا نان ہے ایک حدیث میں ہے من اطاع اللہ فقد ذکر اللہ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا ایسی احادیث میں ذکر کی بہت فضیلت آئی ہے ( ابن کثیر ) ، ( نیز دیکھئے سورت احزاب 41)
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

مسلمانوں صبر اور نماز سے مدد لو بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے4

ف 4 ذکر وشکر کے ساتھ صبر وصلوہ کی تعلیم دی ہے احکام شریعت پر عمل کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں اور مصائب برداشت کرنے پڑتے ہیں صبر صلوہ پر دوام ان مشکلات کا مقابلہ کرنے لیے ہرحال میں بہتری ہے تکلیف کی حالت میں صبر کرتا ہے اور خوشحالی میں شکر گزار رہتا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر )
Ayah 2:154

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردے مت کہو بلکہ زندہ ہیں لیکن تم کو خبر نہیں5

ف 5 اوپر کی آیت میں اقامت دین کے لیے صبر وصلوہ سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے اب یہاں جہاد کی ترغیب ہے۔ ( کبیر) جب غزوہ بدر میں کچھ صحابہ (چودہ) شہید ہوگئے تو بعض لوگ کہنے لگے فلاں مرگیا۔ اس سے زندگی کا عیش و آرام چھین گیا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شہدا کے متعلق کفا رنے اس قسم کی باتیں کیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (فتح البیان کبیر) شہیدوں کو بر زخی حیات حاصل ہے اور احادیث سے ثابت ہے کہ ان کی روحیں جنت میں عیش و آرام سے بسر کر رہے ہیں (دیکھئے آل عمران حاشیہ آیت 169 ۔ 170) اور قرآن و حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد برزخ ( قبر) میں ہر شخص کو زندگی حاصل ہے۔ دیکھئے سورت غافر حاشیہ آیت 11 ۔ 46) سورت نوح آیت 25، ابراہیم 27) مگر مومن کی روح راحت میں ہے اور کافر کی روح کو عذاب ہورہا ہے مروی ہے القبر روضتہ من ریاض الجنتہ او حفرہ من جفر الناد (مشکوہ) حا فظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد ہر مومن کی روح جنت میں چلی جاتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ نسئمتہ امومن طاتر تعلق فی شجر الجنتہ حتی یر جعہ الی حسد یوم یبعثہ (مسند احمد) کہ ہر مومن کی روح پرند کی شکل میں جنت میں درختوں میں جھولتی ہے اور بزخی زند گی انبیاء (علیہم السلام) کو علی الو جہ ال اکمل حاصل ہے مگر شہدا کی تعظیم و تکریم کے لیے قرآن نے خصو صیت سے ان کو احیا کہا ہے۔ (ابن کثیر )
Ayahs 2:155–156

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

اور البتہ تم کو کچھ ڈر کچھ بھوک کچھ مال کچھ جا نوں کچھ پھلوں کے نقصان سے آزمائین گے اور صبر کرنے والوں کو خو شخبری دے

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

ان کو جب کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والے ہیں6

ف 6 مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان کو اذیت پہنچے خواہ کتنی معمولی کیوں نہ ہو۔ قرطبی۔ شوکانی) اناللہ۔۔ کلمہ بستر جاع ہے حضور قلب کے ساتھ یہ کلمہ زبان سے کہا جائے تو سہی اظہار عبودیت بھی ہے اور دوبارہ زندہ ہو کر جزائے اعمال کا اعتراف بھی۔ (قرطبی۔ شوکانی) اور آیت اذا صابتھم مصیبتہ میں کلمہ اذا میں اشارہ ہے کہ مصیبت پہنچتے ہی صبر کرنا اور یہ کلمہ کہنا چاہیے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے انما الصبر عند الصتد تمہ الا ولی (بخاری) کہ مصیبت جب تازہ ہو تو صبر ہے مصیبت پر ستر جاع کی احادیث میں فضیلت بھی آئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر مصیبت پر انا للہ۔۔۔ کے بعد یہ دعا بھی پڑھی جائے اللھم اجرنی فی مصیبتی ھذہ اوخلف لی خیرا منھا (اے للہ مجھے اس مصیبت کا اجر دے اور اس کے بدلے مجھے اس سے بہتر عطا فرما) تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے (ابن کثیر۔ بحوالہ مسلم )
Ayah 2:157

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

انہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور مہربانی ہے اور یہی (جنت کی) راہ پانے والیے ہیں7

ف 7 صلوہ کے بعد رحمتہ کا لفظ تا کید اور اشباع معنی کے لیے ہے جیسے آیت لا نسمع ستر ھم سلجو نھم میں سر کے بعد نحوی کے بعد کا لفظ ہے !
Ayah 2:158

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مروہ ( دو پہاڑ مکہ میں) اللہ تعالیٰ کے نشان ہیں جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اور ان دونوں کے بیچ پھیرے کر تو کچھ اور جو کوئی شوق سے نیک کام کرے تو اللہ قدر دارن ہے ( اس کی نیت کو) جانتا ہے1

ف 1 صفا اور مروہ مسجد حرام کے قریب دو چھوٹی پہاڑیوں کے نام ہیں۔ ان کے درمیان سعی کرنا حضرت ابراہیم کے زمانہ سے مناسک حج وعمرہ شامل تھا مگر زمانہ جاہلیت میں مشرکین نے حج اور عمرہ کے منا سک میں کئی رسوم شرکیہ شامل کرلی تھیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ صفا اور مروہ پر دو بت نصب کر رکھے تھے۔ ایک کا نام اساف اور دو سے کا نائلہ تھا جب ان کے درمیان سعی کرتے۔ تو ان بتوں کا استلام بھی کرتے۔ مسلمان ہونے کے بعد ان کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوا کہ یہ سعی محض جاہلیت کی ایک رسم ہے۔ اسے نہیں کرنا چاہیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ سعی کے ضرور ہونے پر تو مسلمان متفق تھے تاہم آیت کے ظاہری الفاظ دیکھ کر بعض لوگوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ سعی نہ بھی کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے چناچہ حضرت عروہ نے اپنی خالہ حضرت عائشہ ؓ کے سامنے اس شبہ کا اظہار کیا۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اگر آیت کا یہی مفہوم ہوتا تو قرآن میں ان لا یطوف بھما ہونا چاہیے تھا، پھر حضرت عائشہ ؓ نے مزید وضاحت کے لیے بیان فرمایا کہ عرب کے بعض قبائل (ازد، غسان) منات الطاغیہ بت کی پوجا کرتے تھے۔ یہ بت انہوں نے مشلل پہاڑی پر نصب کر رکھا تھا یہ لوگ حج کے لیے جاتے تو اس بت کے نام کا تلبیہ کرتے اور اس کا طواف کرتے اور مکہ میں پہنچ کر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو گناہ سمجھتے تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد اس بارے میں انہوں نے آنحضرت ﷺ نے مقرر فرمادی ہے۔ اب کسی کو اس کے ترک کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ نیز آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان اللہ کتب علیکم السعی فاسعوا کہ اللہ تعالیٰ نے سعی فرض کردی ہے۔ لہذا سعی کرو اور آنحضرت ﷺ نے حجتہ الوداع میں فرمایا : لتاخذوا اعنی منا سککم کہ مجھ سے منا سک حج سیکھ لو اور ان میں سعی بھی داخل ہے۔ (ابن کثیر۔ قرطبی )
Ayah 2:159

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

جو ہم نے اپنی قدرت کی کھلی نشانیاں اور ہدایت کی باتیں اتاریں اب اس کے بعد جو لوگ ان چھپاتے ہیں ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اوسب لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں2

ف 6 یعنی ایسا کرنے والا ملعون ہے۔ البینات سے مراد واضح دلائل اور الہدی سے احکام شریعت مراد ہیں۔ بعض نے لکھا ہے کہ دونوں سے ایک ہی مراد ہے۔ یہ آیت گو یہود کے حق میں نازل ہوئی ہے جو توریت میں ذکر کئے ہوئے آنحضرت ﷺ کے اوصاف اور شریعت کی بیان کردہ حدود کو چھپاتے تھے لیکن اس میں ہر شخص کے لیے وعید ہے جو حق کو جانتے ہوئے کسی دینوی مفاد کے لیے اسے چھپائے رکھتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ من سد عن عم فکتمتہ انجم یوم القیامتہ بلعام من نار۔ کہ جس شخص سے کوئی مسئلہ دریافت کیا گیا اور اس نے اسے جاتنے بو جھتے چھپا یا قیامت کے روز اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ (ابن کثیر) اگر کسی کو مسئلہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہو اور عوام میں فتنہ کا خوف ہو تو البتہ اسے عوام کے سامنے بیان کریں ورنہ جو لوگ اس حالت کفر میں مرگئے وہ ہمیشہ کے لیے لعنت کے عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ مسئلہ اس آیت کی رو سے علماء اس امر پر متفق ہیں کہ کفار پر عمومی لعنت کی جاسکتی ہے اور کسی کافر کا نام لیے کر بھی یہ فعل جائز ہے۔ (ابن کثیر۔ قرطبی )