2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 2:81

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے گناہ کیا اور گناہ کے پھیر میں آگئے وہی دوزخی ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے4

ف 5 اس آیت میں سیئہ اور خطیعتہ سے مراد بعض مفسرین نے شرک، بعض نے گناہ کبیرہ اور بعض نے ایسے صغائر مراد لیے ہیں جو کبا ئر کا موجب بن سکتے ہیں ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تمام اقوال تقریبا ہم معنی ہیں اور حدیث میں ہے : کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچتے رہوں اس لیے کہ یہ جمع ہو کر انسان کو ہلاک کر ڈالتے ہیں ان آیات میں یہود کے نظریہ کی تردید کی ہے کہ آخرت میں فلاح ونجات اور عذاب تمہاری خواہش کے مطابق نہیں ہوگا بلکہ اعمال سیئہ اور حسنہ کے مطابق فیصلہ ہوگا واحاطت بہ خطیئتہ کے معنی یہ ہیں کہ جس کے پاس قیامت کے دن کوئی نیکی بھی نہ ہوگی لہذا اس سے مراد کافر یا مشرک ہیں ورنہ گنہگار مومن جنہوں نے شرک نہ کیا ہوگا آخر سزا پاچکنے کے بعد شفاعت کی بنا پر عذاب سے نکال لیے جائیں گی جیسا کہ متعدد احادیث سے ثابت ہے اکثر صحابہ وتابعین اور اہلسنت والجماعہ کا یہی مسلک ہے۔ (قرطبی۔ رازی) عمل صالح کے لیے دیکھئے آیت 25 ۔
Ayahs 2:82–83

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنتی ہیں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور ( یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل ( تمہارے بزرگوں سے) کا قول لیا ( اور ہم نے کہا) اللہ کے سوا کسی کو نہ پو جو اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اور ناطے رشتے والوں سے اور یتیموں سے اور محتاجوں سے اور لوگوں سے نرمی کے ساتھ کرو ور نماز درستی سے ادا کرو اور زکوٰۃ نکالو پھر تم اپنے قول سے پھرگئے مگر تھوڑے ( جو اپنے قول پر قائم رہے) اور تم منہ پھیر نے والے ہوں1

ف 1 آیات سابقہ میں بنی اسرائیل کو وہ تاریخ احسانات یاد لائے گئے ہیں جو ان کے بزرگوں پر کئے گئے اور انہوں نے شکر گزاری کی بجائے کفر کیا جس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی بار عتاب نازل ہوا اب یہاں ان کو وہ عہد یاد لایا جا رہا ہے جو اصل احکام (عبادات ومعامالات) دیتے وقت ان سے لیا گیا تھا اور بتایا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس عہد کی پابندی نہ کو او اعراض واہمال کو اپنا شعار بنا لیا اسی قسم کا حکم سورتہ نساء (آیت :26) میں امت مسلمہ کو بھی دیا گیا ہے۔ اب ن کثیر عبادت کی چار قسمیں ہیں (1) بدنی جیسے طواف۔ رکوع سجدہ وغیرہ (2) مالی جیسے صدقہ خیرات کرنا اور نذرانیاز ماننا، (3) لسانی جیسے کسی کے نام وظیفہ جپنا یا اٹھتے بیٹھے چلتے پھر تے کسی کا نام لینا۔ (4) قلبی جیسے کسی پر بھروسہ رکھنا کسی سے خوف کھانا یا امید رکھانا۔ یہ سب عبادتیں اللہ کے لیے ہیں ان میں جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک بنایا وہ شرک کا مرتکب ہوگیا۔ سلفیہ) ماں باپ کے ساتھ نیکی کے ساتھ پیش آنے کو اللہ تعالیٰ علاؤ اس آیت کے متعدد دوسری آیات میں عبادت الہی کے ساتھ بیان فرمایا ہے جس سے ثابتج ہوتا ہے کہ حقوق العباد میں سب سے افضل عمل یہی ہے عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے دریا فت کیا سب سے افضل عمل کو نسا ہے ؟ فرمایا الصلوہ لوقھا کہ نمازوں کو اول وقت پر ادا کرنا۔ پوچھا پھر کو نسا : فرمایا بر الولدین ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا ، (ابن کثیر اور قولو اللناس حسنا میں ہر وہ چیز داخل ہے جس پر شرعی لحاظ سے حسن ہونے کا اطلاق ہوسکتا ہو اور یہ لفظ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بھی شامل ہے۔ (ابن کثیر) حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ل : کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھو اگر تم کچھ اور نہ کرسکو تو کم سے کم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی ہی سے پیش آجاؤ (صحیح مسلم۔ ترمذی) حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں پہلے احسان بالفعل کا حکم دیا ہے اور پھر قولو اللناس حسنا میں احسان قولی کا حکم ہے اس کے بعد اقیموا الصلوتہ اوتو الز کوہ میں اس عبادت اور احسان کو متعین کردیا ہے اور اس سے وہ نماز اور زکوہ مراد ہیں جو ان کے مذہب میں تھیں۔ پس یہ آیت ہر قسم کی عبادت بدنی مالی۔ قولی اور قلبی پر مشتمل ہے اور عبادات و معاملات کے اصول بحیثیت مجموعی اس آیت میں آجاتے ہیں۔
Ayah 2:84

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور ( یادر کر) جب ہم نے تم سے قول لیا اپنے خون نہ کرو اور اپنے لوگوں کو جلا وطن نہ کرو2 اور تم نے یہ قول منظور کیا

ف 2 یعنی آپس میں ایک دوسرے کو نہ قتل کرو اور نہ گھروں سے نکالو کیونکہ ملی زندگی اس کے بغیر ممکن نہیں یہاں قرآن نے آپس میں ایک دوسرے قتل کرنے کو اپنے تئیں قتل کرنا کہا ہے کیونکہ افرا ملت بمنزلہ ایک جسم کے ہوتے ہیں تو گو یا کسی کو قتل کرنا اپنے آپ کو قتل کرنا ہے۔ حدیث میں ہے : کہ اہل ایمان باہمی دوستی بیمار ہوتا ہے تو سارا دن بخار اور پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مسئلہ : اسلام میں خود کشی حرام اور کبیرہ گناہ ہے اسی طرح اپنے گھر کو چھوڑ کر بن باسی اختیار کرنا بھی ممنوع ہے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون نے چند صحا بہ کے ساتھ مل کر عہد کیا کہ وہ ٹاٹ کا لباس پہنیں گے اور گھر چھوڑ کر جنگلوں میں بھرتے رہیں گے انحضرت کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا : کہ یہ میری سنت اور ملت اسلام کے خلاف ہے جو میری سنت سے اعراض برتے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قرطبی۔ ابن کثیر )
Ayah 2:85

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

اور تم خود اس کے گواہ ہو پھر تم وہی ہونا جو اپنو کو خون کرتے ہو اور ناحق زبر دستی بعضے لو لوگوں کی مدد لے کر اپنے لوگوں میں سے ایک تمہارے پاس آئیں تو تم چھڑائی ( فدیہ) بھر کر ان کو چھڑا لیتے ہو حالا ن کہ ان کا نکلالنا بھی تم پر حرام تھا کیا ( اللہ) کی کتاب میں سے کچھ مانتے ہو کچھ نہیں مانتے3 پھر جو لوگ تم میں ایسا کر کریں ان کا بدلہ اور کیا ہے یہی کہ دنیا میں رسوا ہوں اور قیامت کے دن سخت عذاب میں لوٹ پڑیں اور اللہ تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں ہے

ف 3 مدینہ منورہ میں یہود کے تین قبیلے تھے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریضہ۔ مدینہ کے عرب قبیلوں سے ان کے حلیفانہ تعلقات تھے۔ بنو قینقاع اور بنو نضیر قبیلہ خزرج اور بنو قر یظہ قبیلہ اوس کے حلیف تھے خزرج اور اوس کی آپس میں جنگ رہا کرتے تھی۔ جب کبھی ان کے درمیان لڑائی ہوتی تو وہ دنوں کو حلیف یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے یہودی اپنے دشمن کو مارتا اور کبھی دوسرے یہودی کو بھی قتل کر یتا اور اس کا گھر بار لوٹ لیتا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا یہ فعل توریت میں دیئے ہوئے احکام کو خلاف ہے لیکن لڑائی ختم ہوتی اور مغلوب قبیلے کے کچھ آدمی غالب کی قید میں آجاتے تو وہ خود ہی فدیہ دے کر غالب قبیلہ سے اپنے قیدی بھایئوں کو آزاد کراتے اور کہتے کہ ہمیں کتاب الہی کا حکم ہے کہ اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور انہیں قید سے آزاد کراؤ ،۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرماتے ہیں کہ تو یاد رکھتے ہو مگر اس چیز کو بھول جاتے ہو کہ تمہیں آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لڑنے اور ایک دوسرے سے نکا لنے سے بھی منع کیا گیا تھا۔ گو یا تم کتاب الہی کے جس حکم کو اپنی مرضی کے مطابق پاتے ہو اسے مانتے ہو اور جسے اپنی مرضی کے مطابق نہیں پاتے اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر تم واقعی خدا کے حکم پر چلتے ہو تو دونوں جگہ چلو۔ (ابن کثیر) اہل علم فرماتے ہیں کہ ان سے چا عہد لیے گئے تھے (1) قتل (2) اخراج اور ایک دوسرے کے خلاف مدد نہ کرنا اور قیدی کو فدیہ دے کر چھڑالینا وہ صرف فدیہ پر عمل کرتے اور باقی تین کی مخالفت کرتے اور بےمحابا ان کا ارتکاب کرتے۔ (قرطبی)
Ayahs 2:86–87

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی مول لی نہ ان کا عذاب لہکا ہوگا اور نہ ان کو مدد ملے گی

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے موسیٰ ٰ کو کتاب دی ( توریت شریف) اور اس کے بعد پیغمبر کا ہم نے تار باندھ دیا اور عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) بن مریم ( علیہ السلام) کو کھلی نشانیاں دیں اور اس کو ہم نے روح القدس سے مدد دی1 کیا پھر ہر بار جب کوئی رسول ایسا حکم لے کر آیا جس کو تمہارا جی نہ چاہتا تھا تو تم نے اکڑ فوں کی ( یعنی تکبر کیا اور شیخی میں آگئے) پھر بعضوں کو چھٹلایا بعضوں کو قتل کیا2

ف 1 یہاں الکتاب سے توریت مراد ہے جسے یہود نے بدل ڈالا تھا اور قفینا من بعدہ بالر سل کے معنی یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے پاس مسلسل پیغمبر آتے رہے جیسے فرمایا : ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا ( المومنون : 44) اور آخر کار بنی اسرائیل کے انبیاء کا یہ سلسلہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختمج ہوگیا اور بتینا سے معجزات مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے جسے مردوں کو زندہ کرنا مٹی سے پرن بنا کر اس میں روح پھونکنا کوڑی اور اندھے کو صحتیاب کرنا وغیرہ جن کا ذکر سورت آل عمران آیت 49) اور مائدہ (آیت 110) میں آیا ہے قر طبی۔ ابن کثیر) اور روح سے مراد حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ اور ان کو روح کے نام سے اس لیے پکارا گیا ہے کہ وہ امرتکوینی سے ظہور میں آئے تھے جیسا کہ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح کہا گیا ہے اور القدس سے ذات الہی مراد ہے اور اس کی طرف روح کی اضافت تشریفی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روح القدس سے انجیل مراد ہو جیسا کہ قرآن کو رحامن امرنا (42 ۔ 52) فرمایا ہے۔ مگر اس سے جبریل (علیہ السلام) مراد لینا زیادہ صحیح ہے ابن جریر نے بھی اس کو تر جیح دی ہے کیو کہ آیت (110 ۔ المائدہ) میں روح القدس اور انجیل دونوں الگ الگ مذکور ہیں اور ایک آیت (26 ۔ 193) میں حضرت جبر یل (علیہ السلام) کو الروح۔ الامین فرمایا ہے اور آنحضرت ﷺ نے حضرت حسان کے متعلق فرمایا اللھم ایدہ بروح القدس اے اللہ روح القدس سے اس کی تائید فرما۔ ایک دوسری حدیث میں ہے " وجبریل معک کہ جبریل تمہارے ساتھ ہیں معلوم ہوا کہ روح القدس جبریل (علیہ السلام) ہی ہیں ( فتح البیان۔ ابن کثیر)2 جن پیغمبروں کی انہوں نے تکذیب کی ان میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ شامل ہیں اور جب کو قتل کیا ان میں حضرت زکریا۔ اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) داخل ہیں۔ (قرطبی)
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارے دلوں پر چڑھا ہوا ہے3 ( نہی یہ بات نہیں ہے) بلکہ ان کے کفر ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کردی ہے تو بہت کم ان میں ایمان لاتے ہیں4

ف 3 یہود کہا کرتے ہمارے دلوں پر غلاف ہیں یعنی تمہاری کوئی بات ہم پر اثر نہیں کرتی جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے قلوبنا فی اکند مما تد عونا الیہ یعنی جو دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پر دہ میں ہیں) اما احمد جنبل نے مر فو عا ذکر کیا ہے ہے اور حضرت حذیفہ سے موقوفا مردی ہے کہ دل چار قسم کے کے ہیں ان سے ایک دل اغلف ہے یعنی کافر کا دل جس پر مہر لگادی گئی ہے اور ہو حق سے متاثر نہیں ہوتا بعض علمائے تفسیر نے غلف کے یہ معنی کیے ہیں کہ ہمارے دل علم و حکمت سے پر ہیں کسی دوسرے علم کی ان میں گنجائش نہیں ہے۔ اس پر قرآن نے فرمایا ہے کہ حق سے متاثر نہ ہونا فخر کی بات نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی لعنت کی علامت ہے (ابن کثیر)4 یعنی ان کے دلوں پر کفر غالب ہے اور ایمان ہے بھی تو بہت کمزور اور نہایت قلیل پس قلیلا مسدر مخدوف کی صفت ہے لایومنون الا ایمانا قلہلا۔ (قرطبی)
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب خدا کی طرف سے ایک کتاب ان کے پاس آئی ( یعنی قرآن شریف) جو سچا بتاتی ہے اس کتاب کو اجو ان کے پاس تھی ( یعنی توریت شریف کی تصدیق کرتی ہے) اور اس سے پہلے کافروں کے مقابلے میں اس کی مدد مانگا کرتے تھے جب وہ چیز آگئی جس کو پہچان چکے تھے تو لگے اس کا انکار کرنے خدا کی لعنت ( پھٹکار) کافروں پر5

ف 5 نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے یہودی عرب کے مشرکین سے مغلوب ہوئے تو وہ دعا کیا کرتے تھے کہ نبی آخرالزمان جلد ظاہر ہوں تاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر ان کافروں پر غلبہ حاصل کریں اس صورت میں یستفحون کے معنی نصرت اور غلبہ حاصل کرنا ہو نگے۔ ابن کثیر) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے معنی خبر دینے کے ہوں یعنی وہ کہا کرتے تھے کہ عنقریب نبی آخرالزمان ظاہر ہوگا اور ہم اس کے ساتھ مل کر تم پر غالب آئیں گے چناچہ عاصم بن عمربن قتادہ انصاری روایت کرتے ہیں ہیں کہ ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے عرب کے قبائل میں ہم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق کوئی نہ جانتا تھا اس لیے کہ ہم یہودیوں کے ساتھ رہتے تھے اور ہو اہل کتاب تھے اور ہم بت پرست وہ ہم سے کبھی مغلوب ہوتے تو کہتے کہ ایک بنی کی بعثت ہونے والی ہے اور اس کا زمانہ آپہنچا ہے اس کے ساتھ مل کر ہم تمہیں عاد وارم کی طرح قتل کریں گے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی ہم نے آنحضرت ﷺ کی پیروی اختیار کرلی اور یہ یہود یوں کے بارے میں نازل ہوئی ابن جریر، فتح القدیر) بعض نے حضرت ابن عباس ؓ سے یستفتحون کے یہ معنی نقل کیے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے ظہور سے پہلے جب یہو دوں کا عرب سے مقابلہ ہوتا تو وہ آنحضرت ﷺ کے وسیلہ سے دعا کرتے اور کہتے کہ اے اللہ ہم بحق نبی امی تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں دشمنوں پر غلبہ عنایت کر مگر یہ روایت نہایت ضعیف ہے۔ قرطبی نے ابن عباس سے نقل کی ہے۔ (الباب القل سیوطی امستدک حاکم مع تلخیص ج 2 ص 263)
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

اللہ کی اتاری ہو یئ کتاب کا نکار کر کے برے بدلے پر انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ( یعنی جان کے آرام و راحت کو بیچ کر اس کے بدلے عذاب مول لیا) کوہ بھی ضد) حسد) سے (ضد اس بات پر آئی) کہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے وحی اتار تا ہے اب انہوں نے غصے پر غصہ کمایا اور کافروں کو ذلت کا عذاب ہوگا6

ف 6 یعنی انہوں نے جو قرآن اور محمد ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کیا اس کی وجہ ان کا صرف یہ حسد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری ان میں کیوں نہ بھیجا اور اپنے فضل سے ایک ان پڑھ قوم عرب کو کیوں نوازا ؟ ان کے حسد کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اللہ کا وہ ہر غضب مول لیا۔ پہلا غضب اس وجہ سے کہ انہوں نے تورات میں تحریفیں کیں انجیل اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا اور دوسرا غضب اس وجہ سے کہ وہ قرآن اور محمد ﷺ پر محض صد اور حسد کی وجہ سے ایمان نہ لائے اسی طرح یہود نے اور بھی بہت سے جرائم کے تھے جن کی وجہ سے ان پر اللہ کا غضب اترا ہے پس غضب علی غضب کے معنی پہلا اور دوسرا غضب نہیں ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا غضب نازل ہوا جس کی وجہ سے ان کو مغضوب علیہم فرما گیا گیا ہے۔ (قرطبی )
Ayah 2:91

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے کو اتارا قرآن) اس پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں ہم تو اسی پر ایمان لاتے ہیں ج وہم پر اترا ( یعنی توریت شریف پر) اور اس کے سوا ( یا اس کے بعد جو اترا اس کو) مانتے حالا ن کہ سچ ہے برحق ہے ان کی کتاب کو سچ بنانا ہے کہہ ( اے محمد) اگر تم توریت پر ایمان لاتے تھے پھر کیوں ( تمہارے بزرگوں نے) اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو قتل کیا1

ف 1 یعنی اول تو تمہارا قرآن کو نہ ماننا نے معنی بات ہے کہ کیونکہ وہ تورات کی تصدیق کرنے والی کتاب ہے پھر اگر تمہارا یہی دعوی ہے کہ تم صرف تورات کو مانتے ہو تم نے پہلے انبیاء کو کیوں قتل کیا حالانکہ تورات میں تمہیں انبیاء کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ تما انبیاء تمہیں تورات کی طرف دعوت دینے آئے ہیں معلوم ہوا کہ یہ تکذیب بغض وعناد اور تکبر کی وجہ سے کر رہے ہو۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:92

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور البتہ موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) تمہارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا جیسے2 عصا اور ید بیضا وغیرہ) پھر تم اس کے پیچھے بچھڑا لے بیٹھے3 ( اور اس کو بوجنے لگے) یہ تمہاری بےانصافی تھی

ف 2 یعنی تمہارا یہ دعوی کہ ہم صرف تورات کو مانتے ہیں ایک دوسری وجہ سے بھی غلط ہے کہ تم نے حضرت موسیٰ سے کیا سلوک کیا جو اپنی نبوت کی واضح نشانیاں اور ناقابل تردید دلیلیں لیے کر تمہارے پاس آئے تھے جیسے طوفان ٹڈی مینڈک، خون عصا۔ من وسلوی اور ابر کا سا دریا کا بھٹ کر در ٹکڑے ہوجا نا اور پتھر سے بارہ چشموں کا جا ری ہونا وغیرہ۔ (ابن کثیر)3 یعنی ان واضح نشانیوں کو دیکھ لینے کے بعد یا حضرت موسیٰ کے طور پر جا نے کے بعد۔ (ابن کثیر۔ فتح البیان)
Ayah 2:93

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور ( یاد کر جب ہم نے تم سے یعنی تمہاے بزرگوں سے اقرار لیا) توریت پر عمل کرنے کا) اور طو) پہاڑ تمہارے سرپرلٹکا یا ( اور ہم نے حکم دیا) وہ کتاب جو ہم نے تم کو دی مضبوط تھام لو اور اس جیں جو لکھا ہے وہ مان لو۔4 انہوں نے کہا ہم نے ( کان سے) سن لیا لیکن دل نہیں مانتا اور دل میں ان کے کفر کی وجہ سے بچھڑے کی الفت رچ گئی تھی اگر تم (بالفرض) ایمان رکھتے ہو یہ ایمان تم کو بری با کی طرف لے جاتا ہے5

ف 4 یعنی ماننے کا اقرار کیا لیکن پورا نہ کیا (دجیز)5 یعنی درحقیت تم مومن ہو ہی نہیں اس لیے کہ ایمان کے ہوتے ہوئے تم بچھڑے کی پوچا جیسا کھلا شرک اروآنحضرت ﷺ کی تکذیب کر ہی نہیں سکتے تھے (فتح القدیر)
Ayah 2:94

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

(محمد ﷺ ) کہہ دے اگر آخرت کا گھر خاص تمہارے ہی لیے ہے اور لوگوں کے لیے نہیں ( یعنی صرف یہودی کا ہی نہیں جانیں گے اور لوگ سب دوزخ میں رہیں گے یہود ایسا (سمجھتے تھے) تو پھر سچے ہو تو موت کی آرزو کیا نہیں کرتے6

یعنی اگر تم اس دعوی میں سچے ہو کہ جنت میں تمہارے سوا کوئی نہیں جائے گا تو موت کی تمناکرو کیونکہ جس شخص کو یقین ہو کہ مرنے کے بعد فورا جنت میں پہنچ جائے گا وہ موت سے نہیں ڈرسکتا اب جریر اور بعض دوسرے علمائے تفسیر نے یہی معنی کیے ہیں اہل کتاب یعنی یہود کو دعوت مباہلہ دی گئی ہے کہ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو تو جو فریقین میں سے جھوٹا ہے اس کے لیے موت کی دعا کرو۔ حافظ ابن کثیر نے انہی دوسرے معنی کو صحیح کہا ہے اور لکھا ہے کہ اس کی نظیر سورة جمعہ کی آیات ( 6 تا 8) ہیں جن میں ان کو مباہلہ کی دعوت دی گئی ہے۔ جیسا کہ سورت آل عمراب آیت 21) میں نجران کے عیسائیوں کی دعوت مباہلہ دی گئی ہے اور جس طرح عیسائی ڈر گئے تھے یہود بھی بد دعا سے ڈرگئے اور تمنی نہ کی معلوم ہوا کہ ہو جھوٹے ہیں۔ حافظ ابن قیم (رح) نے بھی انہی دوسرے معنی کو تر جیح دی ہے۔
Ayah 2:95

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

مگر جو ( برے) کام وہ پہلے کرچکے ہیں ان کی وجہ سے موت کی آرزو کبھی نہیں کرنے گے اور اللہ تعالیٰ نے انصافوں کو خوب جانتا ہے7

ف 7 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر یہو ددی ایک دن بھی یہ آرزو کرتے تو روئے زمین پر کوئی یہو دی باقی نہ رہتا، یہ ویسی ہی بات ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے وفد نجران پر حجت قائم کرنے کے بعد جب انہیں دعوت مبادلہ دی تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اگر تم نے اس نبی سے مباہلہ کیا تو تم میں سے کوئی شخص بھی زندہ نہ بچ سکے گا۔ چناچہ انہوں نے جزیہ پر صلح کرلی (ابن کثیر )
Ayahs 2:96–97

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

اور (محمد) تو تو ان لوگوں کو سب سے زیادہ زندگی پر ریجھے ہوئے پائے گا یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی عذاب زیادہ ان میں کا ایک ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کی عمر ہزار برس کو ہو حالانکہ اتنی عمر پانا اس کو عذاب سے نہیں چھڑا سکتا اور اللہ تعالیٰ ان کے کام دیکھ رہا ہے

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

(محمد) کہ دے جو کوئی جبریل ( فرشتے کا دشمن ہو ( تو یہ) اس کی بےوقوفی ہے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں) اس نے تو خدا کے حکم سے قرآن کو تیرے دل اتارا ہے1 وہ اگلی کتابوں کو سچا بناتا ہے اور مسلمانو کو ٹھیک رستہ سوجھاتا ہے اور خوشخبری دیتا ہے طف 2

ف 1 یہاں قرآن کے نزول کا محل آنحضرت کے قلب مبارک یعنی دل کو قرار دیا ہے جس سے اشارہ ہے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو قرآن ایسے طریقہ سے پڑھا یا کہ انحضرت کے دل پر نقش ہوگیا۔ (رازی)2 علمائے تفسیر نے اس کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چند یہودی علماء نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ابا القاسم ہم آپ سے چند سولات کرتے ہیں اگر آپ نے ان کا جواب دے دیا تو ہم آپ کی تباع اختیار کرلے گے ان میں سے ایک یہ کہ اللہ کی نبی کی علامت بتایئے اور ہمیں یہ بھی بتایئے کہ اسرائیل یعنی یعقوب (علیہ السلام) نے کونسی چیز اپنے اوپر حرام کی تھی۔ آپ ﷺ نے ان سوالات کے صحیح صحیح جواب دیئے آخر میں کہنے لگے اچھا ہمیں یہ بتایئے کہ فرشتوں میں سے آپ کا دوست کون ہے ؟ یہ ہمارا آخری سوال ہے اس کے جواب پر یا تو ہم آپ سے سے مل جائیں گے یعنی ایمان لے آئیں گے اور یا آپ کو چھوڑ دیں گے۔ ، آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے دوست جبریل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا ہے جبریل ہی اس کے دوست رہے ہیں یہودی علماء کہنے لگے تب تو ہم آپ کا ساتھ نہیں دے سکتے اگر آپ کا دوست کوئی دوسرا فرشتہ ہوتا تو ہم آپ کی تصدیق کرتے اور آپ پر ایمان لے آتے فرمایا کیوں ؟ کہنے لگے یہ ہمارا دشمن ہے یہ حرب و قتال اور عذاب کا فرشتہ ہے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں بعض نے اس کی شان نزول میں حضرت عمر ؓ کا یہود سے مناظرہ ذکر کیا ہے جس میں یہود نے حضرت جبر یل (علیہ السلام) سے عداوت کا اظہار کیا اور حضرت عمر ؓ نے کہا انتم اکفر من الحمیر کہ تم گدھے سے بھی زیادہ ضدی اور سرکش ہو جبریل (علیہ السلام) اومیکایل (علیہ السلام) دونوں اللہ کے فرشتے ہیں اگر ایک سے دشمنیے تو سب سے دشمنی ہے اس پر یہ دو آیتیں نازل ہوئیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا لقدء افقک اللہ یا عمر ان آیات کا مفہوم یہ ہی کہ کسی شخص کو جبریل (علیہ السلام) سے دشمنی رکھنے کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ جبریل (علیہ السلام) یہ قرآن ازخود نہیں بلکہ ہمارے پاس سے اور ہمارے حکم سے لائے ہیں اس لحاظ سے کہ وہ ہماری طرف سے امامو ہیں۔ (رازی۔ ابن کثیر)
Ayah 2:98

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو شخص اللہ اور اس کے فرشتوں پیغمبروں اور جبر یل اور میکا ئیل کا دشمن ہو ( وہ گو یا اللہ کا دشمن ہے) تو اللہ بھی کافروں کا دشمن ہے طف 3

ف 3 یہود جو ن کہ میکا ئیل (علیہ السلام) کو اپنا دوست کہتے تھے اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان کا جبر یل کے ساتھ ذکر فرایا کہ ایک سے دشمنی بعینہ دوسرے سے دشمنی ہے بلکہ خود اللہ تعالیٰ سے دشمنی ہے کیونکہ یہ مقرب فرشتے اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : من عادی لی ولیا فقد بارزنینی بالعرب (بخاری) کہ جس نے میرے دوست سے دشمنی رکھی وہ گویا مجھ سے لڑنے نکلا یہی وجہ ہے کہ جبریل سے عداوت پر اللہ تعالیٰ نے غصہ کا اظہار فرمایا ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:99

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور ہم نے تجھ پر کھلی ( اور صاف) آیتیں اتاریں4 اور ان کو وہی نہیں مانتے ج و نافرمان تھے

ف 4 کھلی آیتیں یعنی واضح نشانیاں جن میں آنحضرت کی نبوت کا بین ثبوت موجود ہے۔ اما رازی لکھتے ہیں کہ قرآن پاک کے علاوہ آنحضرت ﷺ کے جملہ معجزات اس کے تحت آسکتے ہیں۔ (ابن کثیر۔ رازی )
Ayah 2:100

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

کیا یہ یہودی ایسے نہیں ہر بار جب کوئی قول وقرار کرتے ہیں تو ایک فرقہ ان میں اس قول و اقرار کو ردکر دیتا ہے بلکہ اکثر ان میں بےایمان ہیں5

ف 5 یہاں سے یہود کی ایک اور عادت کا بیان ہو رہا ہے یہود یوں سے نبی آخرالزمان کی مدد کرنے اور اس پر ایمان لانے کا بھی عہد لیا گیا تھا مگر وہ اس عہد سے پھرگئے اور کہنے لگے ہم سے قسم کا کوئی عہد نہیں لیا گیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو تسلی دی ہے کہ عہد شکنی تو ان لوگوں کا پرانا شیوہ ہے جب بھی ان سے کوئی عہد لیا گیا ان میں سے ایک گروہ نے اسے پس پشت ڈال دیا بلکہ ان میں بہت سے لوگ تو تورات پر سرے سے ایمان ہی نہیں رکھتے ایسے لوگ اگر اب عہد شکنی کرتے ہیں تو تعجب کی کیا بات ہے۔ (رازی)
Ayah 2:101

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس ایک رسول آیا (یعنی محمد صلعم) اس کتاب کو سچ بتاتا ہو اجو ان کے پاس ہے ( یعنی توریت کو کیونکہ میں آنحضرت ﷺ کی بشارت دی گئی تھی) تو اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو یعنی توریت کو) پیٹھ پیچھے ڈال دیا جیسے ان کو خبر ہی نہیں تھی6

ج 6 یعنی تورات اور دیگر آسمانی کتب لما معھم) میں نبی آخرالز مان کے جو اوصاف مذکور تھے وہ سب آنحضرت ﷺ میں موجود تھے۔ اس اعتبار سے آنحضرت تورات اور مامعھم کے مصداق تھے مگر یہود کی بدنصیبی کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی تکذیب کر کے تورات کو پس پشت ڈال دیا۔ گو یا اپنی کتاب کا بھی پتہ نہیں۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:102

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور سلیمان ( علیہ السلام) کی بادشاہت میں شیطان جو پڑھا کر تھے اس کی پیر سی کرنے لگے حالا ن کہ سلیمان کافرنہ تھے البتہ یہ شیطان کافر تھے جو لوگوں کا جادو سکھلاتے تھے اور وہ باتیں جو شہر بابل میں دو رفرشتوں ہاروت وماروت پر اتاری گئی تھیں او وہ دونوں ( یعنی ہاروت وماروت) کسی کو (جادو) نہیں سکھلاتے جب تک یہ نہیں کہہ لیتے ( ہم خدا کی) آزمائش میں پس تو کافر نہ ہو7 اس پر بھی ( جو لوگ اپنا ایمان جانا پسند کرتے ہیں) وہ ان سے ایسی باتیں سیکھتے ہیں جن کی و جہ سے جو رد خصم میں جدائی کر ادیں حالانکہ حکم خدا کے یہ جادو ہے کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور ایسی باتیں سیکھتے ہیں جن میں فائدہ کچھ نہیں نقصان ہی نقصان ہے اور البتہ یہودیوں یہ معلوم ہے کہ جو کوئی ( ایمان دے کر) جادو خریدے وہ آخرت میں بےنصیب ہے بیشک اگر وہ سمجھتے ہوتے تو بر بدلہ ہے جس کے عوض انہوں نے اپنی جا نوں کو بیچ ڈا لا

ف 7 یعنی یہود نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا اور سحر یعنبی جادو کی اتباع کرنے لگے ہیں یہ قصہ یو ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں شیاطین جادو کی نشر و اشاعت کرتے رہے حتی کہ وہ وعلوم یہود میں رواج پا گئے اور عوام میں مشہور ہوگیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی نہیں تھے بلکہ جادو گر تھے پھر عوام میں مشہور ہوگیا حضرت سلیمان (علیہ السلام) اللہ تعا لیے کے نبی نہیں تھے بلکہ جادو گر تھے پھر جب قرآن نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو انبیاء کی صف میں شامل کیا تا یہود نے ان کے جادو گر ہونے طعن دیا۔ اس پر یہ دو آتییں نازل ہوئیں اور انہوں نے بتایا کہ حضرت سلیمان کا دامن ان سے پاک ہے ہے کہ سحر وغرہ سیاطین کی تصنیف ہے دوسری قسم جادو کی وہ تھی جس کی یہود اتباع کرتے تھے کہ ہاروت وماروت دو فرشتے بابل شہر میں آدمی کی شکل میں رہتے تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے سحر کا علم دے کر بطور آزمائش کے بھیجا تھا چناچہ جو کوئی ان سے یہ علم سیکھنے جاتا تو وہ کہتے تم یہ علم نہ سیکھو تمہار ایمان جاتا رہے گا اس پر بھی اگر وہ اصرار کراتا تو وہ تو اسے سکھا دیتے۔ ( اب کثیر) اس مقام پر بعض مفسرین نے ہاروت وماروت کے متعلق عجیب و غریب داستانیں نقل کردی جن میں ایک عورت نا کا معاشقہ اور پھر زہرہ کے ستارہ بن جانے کا واقعہ بھی داخل ہے علمائے محققین نے ان قصوں کو یہود کی افسانہ طرازی قرار دیا ہے۔ حافظ اب کثیر کہتے ہیں : بعض صحانہ اور تابعین سے اس قسم کی روایات منقول ہیں مگر زیادہ سے زیادہ ہم ان کو نو مسلم یہو دی عالم کعبالاحبا کا قول دے دے سکتے ہیں۔ (ابن کثیر۔ البدایتہ ج 1 ص 237 ۔ 38) حافظ منذری (رح) بھی لکھتے ہیں ان الصحیح وقفہ علی کعب (ترغیب ج 2 ص 108) اس دور کے علا مہ احمد شاکر مصری نے تعلیق مسند احمد (ج 9 ص 35 ۔ 41) میں بڑی عمدہ بحث کر کے حاظ ابن کثیر کی تائید کی ہے حضرت الا میر قنوجی لکھتے ہیں : قرآن پاک کا ظاہر سیاق اجمال قصہ ہے۔ بسط و تفصیل نہیں اس لیے جس قدر قرآن میں آیا ہے اس پر ہم ایمان لاتے ہیں باقی خدا جا نے۔ (ترجمان ج 1 ص 36) مگر ہاروت ومارت کے متعلق یہ ساری بحث اس پر منحصر ہے کہ وما انزل علی اللکین میں ما مو صولہ ہو اور اس کا عطف ماتتلوا الشیاطین پر اور پھر ہاروت ماروت کو ملکین سے عطف بیان تسلیم کیا جائے لیکن اگر اس ما کو نافیہ مانا جائے وما کفر سلیمن پر اس کا عطف ہوتا آیت کے معنی یہ ہو نگے نہ تو حضرت سلیمان نے کفر کیا اور نہ دورفرشتوں پر کچھ نازل کیا گیا اس سے یہود کے ایک دسرے نظریے کی تردید ہوجائے گی کہ جادو گر وغیرہ جبریل اور مکا عیل لیکر حضرت سلیمان پر نازل ہوئے تے۔ اس صورت میں ہاروت وماروت شیاطین سے بدل ہوگا ہاروت وماروت جو جن یا انسانوں میں سے دو شیطان تھے لوگوں کو جا دو کی تعلیم دیتے تھے وللہ الحمد۔ رازی) فلا تکفر سے ثابت ہوتا ہے کہ جادو گری سیکھنا اور اگر وہ جادو کلمات کفر پر مشتمل ہے تو ایسا ساحر کافر ہوگا اور اس کی سزا قتل ہے۔ حدیث میں ہے حد ضربہ بالسیف کہ جادو گر کی سزا تلوار سے قتل کر ڈالنا ہے ورنہ نجوی می یا کاہن کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ہاں تعزیر ہوسکتی ہے۔ (قرطبی) کا ہن یا نجومی سے قسمت معلوم کرانا اور اس کی تصدیق کرنا کفر ہے (ابن کثیر بحوالہ المستدرک)8 یعنی بغض کا عمل۔ اس سے معلوم ہوا کہ جادو کا یہ اثر بی ہوتا ہے کہ دو آدمیوں میں دشمنی پیدا ہوجائے علاوہ ازیں جادو کی تا ثیر احادیث سے بھی ثابت ہے۔ اکثر علما نے حن و بغض کا عمل کرنا اسی طرح طلسمات شعبدات احاضرات اور مسمر یزم کو سحر میں داخل کیا ہے جو شخص متبع سنت ہو اس کو ان باتوں سے پرہیز کرنا لازم ہے بعض عورتیں ایسے تو ہمات میں گرفتار ہوتی ہیں اگر وسوسہ آئے تو یہ دعا پڑھے۔ اللھم لا یاتی بالحسنات الا انت ولا یصرف السیات لا انت ( وحیدی )
Ayahs 2:103–104

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر وہ (حضرت محمد) پر) ایمان لاتے اور پیز کرتے اور ان کو سمجھ ہوتی تو اللہ کے پاس جو ثواب ملتا وہ ان کے حق میں بہتر تھا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

ایمان والو تم راعنا یہ کہو انظرنا کہا کرو اور بات مانو اور کافر کو دکھ کی مار ہو یگ1

ف 1 حضرت ابن عباس ؓ فراماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بعض یہود بھی شامل ہوجاتے مسلمان کوئی بات سمجھنا چاہتا تو راعنا کہتا یعنی ہماری رعایت کریں اور ہماری طرف متوجہ ہوں یہود نے اپنے لہجہ میں اس کلمہ کو بطور شتم استعمال کرنا شروع کردیا اور اسے زبان سے دبابر راعنا کے معنی احمق بھی آتے ہیں۔ اس اشتباہ کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس مشتبہ کلمہ کے استعمال سے منع فر دیا اور اس کی بجائے انظرنا کی تعلیم دی (قرطبی)
Ayahs 2:105–106

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

اہل کتاب (یہود اور نصاریٰ ) اور مشرکوں میں سے جو کافر ہیں ان کا دل نہیں جاہتا تمہارے مالک کے پاس سے تم پر کچھ بھلائ اترے ( یعنی وہ تمہارے دلی دشمن ہیں بھلائی سے مراد ہو قسم کی بھلائی ہے ہے یا وحی) اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے انپنی مہربانی کے لیے خاص کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل بڑا ہے

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

ہم جو آیت منسوخ کردیتے ہیں یا بھلادیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی دوسری لے آتے ہیں2 کیا تجھ کو معلوم نہیں اللہ تعالیٰ سب کچھ کرسکتا ہے

ف 2 نسخ کے معنی کسی چیز کو نقل کرنے کے ہیں اور اصطلاح علماء میں ایک حکم شرعی کو دوسرے شرعی سے موقوف کردینے کو نسخ کہا جاتا ہے قرآن میں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت تبدیل کردینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (دیکھئے النحل آیت 101) نسخ کی دو صورتیں ہیں صرف نسخ حکم یا مع تلاوت جمہور علماء نے یہاں نسخ کی یہی دو صورتیں بیان کی ہیں۔ اس آیت میں یہود کی تردید ہے جو تورات کو ناقابل نسخ مانتے تھے اس بنا پر انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی کہ وہ توریت کے بعض احکام کو منسوخ ہیں۔ لہذا یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہوسکتا قرآن نے ان کے جواب میں فرمایا کسی کو موقوف قرار دے دینا کوئی عییب کی بات نہیں ہے۔ اللہ کو ہر چیز پر قدرت حاصل ہے اور خلق وامر سی کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جس طرح چاہے اپنی مخلوق اور احکام شریعت میں تصرف کرسکتا ہے یعنی نسخ بھی منجملہ مقددرات الہیہ کے ہے لہذا اس کا انکار کے لیے ہے ان کا موقوف کردینا بھی معنی پر مصلحت ہے۔ اگر کوئی حکم موقوف کردیا جاتا ہے یا اس کی تنزیل مؤخر کردی جاتی ہے تو اس کی بجائے بہتر یا اسی جیسا دوسرے حکم اتار دیا جاتا ہے۔ (المنار سلفیہ تبصرف) واضح رہے نسخ بہر دو صورت قرآن و حدیث میں جود ہے سلف اس پر متفق ہیں۔ سب سے پہلے ایک بدعتی فرقہ کے ایک سر کردہ عالم ابو مسلم اصفہانی (محمد بحر المتو فی 323 ھ) المعتزلی نے اس کا انکار کیا ہے اور علماء نے اس کی تردید کی ہے۔ (ترجمان نواب تبصرف) بعض نے نسخ کے معنی میں توسع سے کام لے کر تقید و تخصیص پر بھی اس کا اطلاق کردیا ہے اس بنا پر آیات منسوخہ کی تعداد بڑھ گئی ہے ابن العربی اور سیوطی کے نزدیک بائیس اور شاہ صاحب (رح) نے القوذ میں صرف پانچ آیتیں تسلیم کی ہے اور لکھا ہے کہ یہ بھی بحث طلب ہیں اب تیمیہ نے اس پر مفید لکھے یاد رہے کہ احادیث میں ناسخ تو موجود ہے مگر نسخ اجتہبا دی باطل ہے۔ (ترجمان )
Ayahs 2:107–108

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان اور زمین میں اللہ ہی کی باد شاہت ہے اور ( مسلمانوں) خدا کے سوانہ تمہا را کوئی حمایتی ہے نہ مدد گا

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم بھی اپنے رسول سے ایسی خواہشیں کرنا چاہتے ہو جیسے موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) سے پہلے کی گئی تھیں اور جو ایمان کے بدلے کفر لے وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا1

ف 1 یہود اعتراف کرتے اور بعض لوگ ازراہ عناد سوال کرتے ان آیات میں ایسے لوگوں کی مذمت فرمائی اور متنبہ کیا کہ پیش آمدہ مسائل کے علاوہ دور ازکار اور نے مسائل میں الجھنا جائز نہیں ہے صحیح بخاری میں ہے کہ سب سے بڑال مجرم مسلما نوں میں وہ ہے جس کے مسئلہ پوچھنے کی وجہ سے ایک حلال چیز مسلمانوں پر حرام کردی جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے کہ میں نے صحا بہ کرام سے بہتر کوئی قوم نہیں دیکھی انہوں نے آنحضرت سے از خود صرف بارہ سوال کیے جن کا قرآن میں یسئلو نک عن الشھر الحرام وغیرہ الفاظ سے ذکر ہوا ہے (ابن کثیری) متعدد احادیث میں قیل وقال کی مذمت آئی ہے۔ (ترجمان )
Ayah 2:109

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے لوگ دل میں حسد رکھ کر یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ہونے کے بعد پھر تم کو کافر بنادیں حالانکہ حق بات ان پر کھل چکی ہے تو اس وقت تک جانے دو اور درگزر کر جب تک کہ اللہ تعالیٰ دوسرا کوئی اپنا حکم بھیجے ( یعنی جہاد کا اور ان کے قتل اور لونڈیوں غلام بنانے کا جز یہ مقرر کرنے کا یا جلا وطن کرنے کا) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے2

ف 2 مروی ہے کہ جنگ احد میں مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو یہود اسلام کے خلاف نفرت پھیلانی شروع کردی اور بعض صحابہ کو یہو دیت کی دعوت دی اس پر یہ آتیں نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو صبر کی تلقین کی گئی کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے مقابلہ کے لیے دوسرا حکم نہ آجائے اس وقت تک عفو و درگزر سے کام لو اور ان کے اچھے حملوں اور حسد وبغض کی وجہ سے بےقابو نہ ہوں چناچہ یہ حکم بعد میں اجازت قتال کی صورت میں آگیا۔ (ابن کثیر) اس دور میں بھی علماء یہود و نصاری علم و تحقیق کے نام سے کتاب وسنت پر حملے کررہے ہیں اور مسلمانوں کو ان کے عقائد اور طریق سلف سے بر گشتہ کرکے بد عت و ضلالت کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے۔
Ayahs 2:110–111

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نمازی درستی سے ادا کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور جو نیک کام انپی بھلائی کلیے آگے بھیجو گے اس کا ثواب اللہ تعالیٰ کے پاس زیادہ پاؤ گے ( یعنی تمہارا عمل ضائع نہ کیا جائے گا) بیشک اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

( یہود) کہتے ہیں کہ یہود کے سوا اور نصاریٰ کہتے ہیں نصاریٰ کے سوا کوئی جنت میں نہ کیا جائے گا یہ ان کی من مانی آرزوئیں ہیں ( اے پیغمبر کہہ سے اگر سچے ہو تو اپنی سند لاؤ3

ف 3 یہود ہر آن اس کوشش میں رہتے کہ مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کردیا جائے کبھی کہتے کہ جنت صرف یہودیوں کے لیے ہے اور نصاری صرف اپنے آپ کو جنت کا حقدار ظاہر کرتے قرآن نے بتایا کہ یہ جھوٹے دغا باز ہیں اور ان کی یہ جھوٹی اور بےبنیاد قسم کی آرزوئیں ہیں جن کے صحیح ہونے کی سندان کے پاس نہیں ہے۔ فتح القدیر) نیز دیکھے (آیت :80) آجکل مسلمان بھی محض آوزؤں میں مبتلا ہیں اولیاء اللہ اور بندگوں کے نام کا ختم پڑھنے یا ان کے مقبروں پر پھول چڑھادینے کو نجات کے لے کافی سمجھتے ہیں حدیث میں العاجزمن اتبع جفسہ وتمنی علی اللہ لا مانی (رازی )
Ayah 2:112

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ جس نے اپنا منہ خدا کے سامنے جھکا دیا اور نیک بھی ہے ( یعنی سنت محمد کا پیر وہ ہے اور شریعت کا پابند اس کو اپنے مالک کے پاس اپنا ثواب ملے گا اور آخرت میں ایسے لوگوں کی نہ ڈر ہوگا نہ غم4

ف 4 بلی یعنی ان کا یہ دعوی جھوٹا ہے اخروی نجات کے لیے تو اخلاص وعمل شرط ہے من اسلم وجھہ اللہ اخلاص کی طرف اشارہ یت اور وھو محسن کے معنی یہ ہیں کہ عمل سنت کے مطابق ہو ورنہ وہ عمل بدعت اور مردود ہے (ابن کثیر) اور اخلاص نہ ہوگا تو ریا کاری اور منافقت ہے ( دیکھئے آیت :28 ۔ 38، )
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں نصاری ٰ کا دین کچھ نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں یہود کا دین کچھ منیں حالانکہ دونوں فرقے اللہ کی کتاب پڑھتے رہتے ہیں جاہل لوگ ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں5 تو اللہ تعالیٰ انکا جھگڑا قیامت کے دن چکا دے گا1

ف 5 اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وفد نجران کی آمد پر آنحضرت ﷺ کی مجلس میں چند یہودی علماء بھی جمع ہوگئے اور ان کا آپس میں جھگڑا شروع ہوگیا ہر ایک گروہ نے دوسرے کی کتاب اور نبی کی تکذیب کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان کا باہم تعصب اور عناد اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ ایک دوسرے پر کفر کا فتوی لگاتے ہیں حالانکہ یہ تعلیم یافتہ ہیں ہر فرقے کی کتاب میں دوسرے کی تصدیق موجود ہے۔ (ابن کثیر) نہا یت افسوس ہے آجکل امت محمدی میں گروہ بندی کا یہ عالم ہے کہ سب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر کفر کا فتوی لگاتے ہیں۔ (رازی ) 1 یعنی عرب کے کافر جو اپنے دین کے سوا جملہ ادیان کو باطل سمجھتے اور آنحضرت ﷺ کو بےدین اور صابی کہتے اہل کتاب کے جہلاء بھی مراد ہوسکتے ہیں اور یہود و نصاری کے علماء پر بھی طنز ہوسکتا ہے کہ یہ جاہلوں جیسی باتیں کرتے ہیں۔ ( معالم۔ وحیدی بتصرف)
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو خدا کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکے اور ان کو اجاڑنا چاہے یہ لوگ خود مسجدوں میں نہ آنے پائیں گے مگر ڈرتے ڈرتے وہ دنیا میں ذلیل ہوں گے2 اور آخرت میں بڑی مار کھائیں گے3

ف 2 ابن جریر لکھتے ہیں کہ اس سے بخت نصر اور عیسائی جنہوں نے بیت المقدس کی تخریب کی اور یہود کو اس سے روک دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی روایت ہے کہ عیسائیوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے محض عداوت کی بنا پر یہود کو بیت المقدس میں عبادت گزازنے سے روک دیا تھا۔ (قرطبی) مگر بخت نصر کا زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے 233 سال قبل کا ہے پھر دو اور ان کے مدد گا عیسائی کیسے مرادہو سکتے ہیں۔ (المنار۔ الجصاص) لہذا اس سے مراد یا تو وہ عیسائی ہوسکتے ہیں جنہوں نے نطوس یا یتطوس رومانی کے ساتھ مل کر بنی اسرائیل سے جنگ کی اور بیت المقدس کو ویران کیا اور یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو عمرہ سے روک دیا تھا جس کے نتیجہ میں صلح حدیبیہ ہوئی اور کسی مسجد میں لوگوں کو عبادت سے روکنا اس کو ویران کرنے کے مترادف ہے۔ (رازی۔ قرطبی) حافظ ابنالقیم لکھتے ہیں کہ آخری قول اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔ مسئلہ اہل کتاب کے معبودوں کی بےحرمتی تو ممنوع ہے مگر اولیاء اور بزرگان دین کے مقابر پر جو مساجد بنی ہوئی ہیں۔ یہ چونکہ عبادات بغیر اللہ کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں اس لیے ان کا گزانا ضروری ہے جیسا کہ انحضرت ﷺ نے مسجد ضرار کو گرا دینے کا حکم دیا تھا۔ (المنار بحوالہ الزواجر لا بن حجر مکی) اس میں پیش کوئی بھی کی ہے کہ آئندہ یہ مشرک بیت اللہ (کعبہ) میں چھپ چھپا کر ہی داخل ہو سکیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا اور 9 ھ میں الا لا حیجن بعدا لعام مشرک کا اعلان کردیا گیا۔ (ابن کثیر) 3 یہاں خزی سے ہر قسم کی رسوائی مرادہو سکتی ہے اور اس رسوائی کی یہ سزا یہود و نصاری اور مشرکین تینوں گروہ پاچکے ہیں۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور پورب اور پچھم دونوں اللہ کے ہیں تو جدھر تم منہ کرو ادھر ہی قبلہ ہے بیشک اللہ گنجائش والا ہے ( یعنی اس کی رحمت بہت وسیع اور سب کو شامل ہے) باخبر4

ف 4 بعض نے لکھا ہے تحویل قبلہ پر یہود نے اعتراض کیا تو ان کے جواب میں یہ آتی نازل ہوئی اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت سفر اور خوف کی حالت میں نماز کے متعلق ہے جس طرف موقع ملے اداہو سکتی ہے۔ ایک واقعہ ہے کہ صحابہ کرام نے سفر میں رات کے وقت غیر قبلہ کی طرف نماز ادا کی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ تمہاری نماز ہوگئی۔
Ayah 2:116

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور کہتے ہیں معاذ اللہ) خدا اولاد رکھتا ہے وہ پاک ہے ( سب سے نرالا کوئی اس کے جوڑ کا نہیں تو اس کی اولاد کہا ہوسکتی ہے آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اسکی ملک ہے سب اس کے تابعدار ہیںف 5

ف 5 اس آیت میں اور اس سے اگلی آیت میں یہو دونصاری اور مشرکین کی تردید ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت عزیر (علیہ السلام) اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رکھا تھا اور بتایا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور اس کے فرنبردار بندے اللہ تعالیٰ اس قسم کی نسبت سے پاک اور منزہ ہے۔ (ابن کثیر) قنوت کے معنی کے لیے دیکھئے آیت 238 ۔
Ayahs 2:117–118

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

نیا نکالنے والا (یعنی ایجاد کرنے ت والا) آسمان اور زمین کا اور جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو فرماتا ہے وہ ہوجاتا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور جو لوگ (عرب کا کافروں میں سے یا یہود و نصاری ٰ میں سے) جاہل میں ہیں وہ کہتے ہیں اللہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پا کوئی نشانی کیوں نہیں آتی اگلے لوگوں نے بھی ایسی ہی باتیں کیں جیسے یہ کرتے ان کے اور ان کے دل مل گئے جن لوگوں کو یقین ہے ان کو تو ہم نشانیاں دکھا چکے ہیں6

ف 6 ان فرق ثلاثہ عقیدہ توحید پر قدح کے بعد ان نبوت پر ان کا اعتراض نقل فرمایا ہے کے بےعلم لوگ اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ توحید و نبوت کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں تشا بھت قلو بھم۔ یعنی ان سب کی ذہن نتیں ایک جیسی ہیں اور فرمایا کہ قرآن کریم سے آنحضرت ﷺ کی صداقت رواضح ہے اگر یہ لوگ اہل یقین میں سے ہوتے تو یہی کافی تھے (المنار )
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

ہم نے تجھ کو سچائی کے ساتھ ( مسلمانوں کو) خوشخبری دینے ولا ہے اور کافروں کو) ڈرنے والا بنا کر بیھجا ہے اور دوزخیوں کو پوچھ تجھ سے نہ ہوگی7

ف 7 یعنی آپ سے اس کے متعلق باز پرس نہیں ہوگی کہ یہ لوگ مسلمان کیوں نہیں ہوئے۔
Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور یہود اور نصاریٰ تو تجھ سے کبھی راضی نہ ہو گے جب تک ان کے طریق پر نہ چلے کہہ دے اللہ کی راہ وہی سچی راہ ہے اور اگر علم آنے کے بعد تو ان کی خواہشوں پر چلے تو اللہ سے تیرا حمایتی او بچانے والا کوئی نہیں ہے1

ف 1 اس آیت میں سخت وعید اور تہدید ہے کہ یہود و نصاری کو خوش کرنے کے لیے اگر تم نے انے مشن کو چھوڑ دیا تو سمجھ ہو کہ بس تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی اس آیت کے مخاطب گو آنحضرت ﷺ ہیں مگر پوری امت کے اہل علم حضرات کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ وہ اہل بدعت اور بیروال مذاہب باطلہ کے پاس خاظر کے لیے سنت کی پیری میں کسی قسم کی مداہنت سے کام نہ لیں۔ (فتح القدیر)