2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاشرف الحواشی

Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر جس پر قرض ہے اس کا ہاتھ تنگ ہو (یعنی مفلس ہو بےچارہ تکلیف میں ہو) تو اس کو مہلت تک اس ہاتھ کشادہ ہو اور اگر اصل روپیہ بھی چوڑ دو یعنی کل معاف کردو یا اس میں سے کوئی حصہ تو اواراچھا ہے تمہارے لیے اگر سمجھوں8

ف 8 تنگد سست مقروض کو کشائش تک مہلت دینا یا معاف کردینا بڑی نیکی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا من انظر معسر ا او وضع عنہ الظلہ اللہ فی ظلہ۔ کہ جس نے اپنے قرض دار کو مہلت دی یا اسے اصل زر ہی معاف کردیا اس کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنا سایہ عنایت کرے گا (ابن کثیر بحوالہ صحیح مسلم )
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب تم کو لوٹ جانا ہوگا اللہ کے پاس (یعنی موت کا دن یا قیامت کا دن پھر ہر ایک شخص کو اس کے کاموں کا پو را بد لے ملے گا اور ان کا حق نہ مارا جائے گا9

ف 9 متعد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن کی سب سے آخری آیت ہے جو نبی ﷺ پر نازل ہوئی۔ آنحضرت ﷺ اس کے بعد بعض روایات کے مطابق اکیس روز اور بعض کے مطابق صرف نو روز رہے۔ نیز ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کو الربا اور الدین دنوں آیتوں کے درمیان لکھو۔ ابن کثیر۔ روح المعانی )
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

مسلمانو جب تم ایک مقرر میعاد پر ادھار کا معاملہ کرو تو اس کو لکھ لیا کرو اور جو تم میں لکھنے والا ہے1 اس کا چا ہے کہ انصاف سے لکھے اور لکھنے والے کو چاہیے جب اس کو لکھنے کے لیے کہیں جیسا کہ اللہ نے اس کو سکھلایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کو لا ئق بنایا وہ بھی لکھنے سے انکار نہ کرے اور لکھ دے اور لکھوادے وہ جس پر دینا ہو اور اللہ سے ڈرتا رہے جو اس کا مالک ہے اور جو دینا ہے وہ پورا پورا لکھو ادے اس میں کمی نہ کرے اگر جس پر دنیا وہ کم عقل ہو یا معذور مثلا دیوانہ ہو یا نابالغ یا بوڑھا جو سٹھیا گہا ہو ( یا لکھو انہ سکتا ہو مثلا گونگا ہو یا زبان سے ناواقف تو اس کا ولی وارث یا وکیل یا مترجم یا حاکم یا قاضی انصافے لکھوا دے اور اپنے لوگو میں سے یعنی مسلمانوں میں سے جن کو تم پسند کرو وہ مردوں کو گواہ کرلو اور اگر مرد گواہ نہ ہو سکیں تو ایک مرد اور دو عورتیں کو سہی3 اس لیے کہ اگر ایک بھول جاوے کیونکہ ان کا حفاظہ ناقص ہوتا ہے تو دوسری اس کو یاد دلادے اور جب گواہ گواہی کے لیے بلائے جاویں تو انکار نہ کریں اور معاملہ چھوڑا ہو یا بڑا اس کے لکھنے سے میعاد سمیت جی مت چراؤ یہ لکھاوٹ بہت انصاف کی بات ہے اللہ کے نزدیک اور اس سے گواہی کی مضبوطی ہوتی ہے اور آئندہ کوئی شبہ نہ کرو اس کی زیادہ امید نہ بندھ جاتی ہے مگر جب نقد سودا ہو اس ہاتھ دو اس ہاتھ لو تو نہ لکھنا کچھ گناہ نہیں تم پر3 اور سودا کرتے وقت گواہ کرلو اور لکھنے والے اور گواہ کو نقصان نہ پنچے4 اور اگر ایسا گرو یعنی منشی اور گواہ کو بقصان پہنچا یا تم پر گناہ لازم ہوگا اور اللہ سے ڈرتے رہو جو حکم اس نے دیا ہے بسرو چشم بجا لاؤ اور اللہ تعالیٰ تمہاری تعظیم کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے

ف 1 اس آیت کو ایتہ الدین کہا جاتا ہے۔ اور یہ قرآن کی سب سے لمبی آیت ہے۔ اس میں ادھار یا قرض کے معاملہ کے احکام بیان فرمائے ہیں اور اصولی طور پر باتیں ضروری قرار دی ہیں۔ ایک تو تحریر ہوجانی چاہیے دوسرے مدت کی تعین تیسرے گواہ بھی۔ عموما لوگ ادھا یا قرض کے معاملے میں تحریر کرنے اور گواہ بنانے کو معیوب اور باہمی نے اعتمادی کی علامت سمجھتے ہیں۔ آیت کے آخری میں اس کی حکمت بیان فرمادی گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبنی بر انصاف گواہی کو زیادہ درست رکھنے والی اور ہر قسم کے شک و شبہ بچانے والی چیز ہے۔ بنا بریں ایسے معلاملات میں اس قسم کی احتیاط مناسب ہے تاکہ آئندہ جھگڑا پیدا نہ ہو سکے۔ (ابن کثیر بتصرف) حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت سے بیع سلم کا جواز ثابت ہوتا ہے اور اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ (شوکانی) اور بیع سلم یا سلف یہ ہے کہ کسی چیز کی بیشگی قیمت دے کر کچھ مدت کے بعد اس چیز کو وصول کرنا احادیث میں اس کے شرائط مذکور ہیں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ آئے تو دیکھا کہ اہل مدینہ کھجور میں بیع سلف کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : من سلف فی تمر ففی کیل معلوم او وزن معلوم الی اجل معلوم۔ کہ جو شخص بھی بیع سلف کرے تو ناپ تول اور مدت کی تعین ہونی چاہیے۔ (ابن کثیر)2 یعنی جو دیانت وامانت اور اخلاق کے اعتبار سے تم میں قابل اعتبار سمجھے جاتے ہوں۔ قبول شہادت کے دس شرائط ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان عاقل اور بالغ ہو، غیر مسلم کی شہادت قابل قبول نہیں ہوگی۔ (معالم)3 یعنی اگر تجارت میں لین دین نقد ہو ادھار نہ ہو تو گواہ بنا لینے ہی کافی ہیں لکھنا ضروری نہیں ہے کیونکہ اس میں کلفت ہے اور یہ بھی واجب نہیں ہے۔ مستحب ہے۔ (شوکانی۔ خازن)4 یہاں یضار فعل، معروف بھی ہوسکتا ہے اور مجہول بھی۔ یہ ترجمہ مجہول قرات کی بنا پر ہے اور اگر صیغہ معروف کی قرات ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ لکھنے والے اور گواہی دینے والے کو چاہیے کہ نقصان نہ پہنچائے۔ ، مثلا لکھنے وال غلط بات لکھ دے جس سے صاحب حق یا مدیون کو نقصان پہنچے یا گواہ شہادت میں ہیر پھیر کرکے غلط گواہی دے اور کاتب اوشاہد کو نقصان پہنچانا یہ ہے کہ انہیں مشغولیت کے وقت تنگ کر کے بلا یا جائے وغیرہ۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر میں ہو اور تم کو کوئی لکھنے والا نہ ملے روپیہ کے بدل جو وصل کرنا ہے یا چیز کے بدل جو وقت پر لینا ہے1 ہاتھ گروی رکھ لو اگر ایک کو دوسرے کا اعتبار ہو تو گروی بھی ضروری نہیں لیکن جسکا اعتبار کیا گیا ہو اسکو چاہیے کہ دوسرے کی امانت ادا کردے اور اپنے مالک الہ سے ڈرتا رہے2 امانت میں خیانت نہ کرے اور گواہی کو مت چھپاؤ جب گواہی دینے کے لیے بلائے جاؤ اور گواہی کو چھپائے اس کا دل گنہگار ہے3 اور اللہ تمہارے کاموں کا جانتا ہے

ف 1 یہ بیع کی ایک دوسرے شکل ہے۔ یعنی اگر تم سفر میں قرض کا معاملہ کرو اور تمہیں لکھنے ولا یا ادوات تحریر میسر نہ ہوں تو تحریر کی بجائے مدیون کو چاہیے کہ صاحب دین کے پاس کوئی چیز رہن کرھ دے۔ سفر کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہ چیز زیادہ ترسفر میں پیش آسکتی ہے ورنہ رہن حضرت میں بھی جائز ہے۔ خود آنحضرت ﷺ نے اپنی زرہ ایک یہو دی کے پاس گروی رکھ کر عملا اس کی وضاحت کردو، ) صحیحین) پس سفر میں تورہن کی نص قرآن سے ثابت ہے اور حضر میں آنحضرت کے فعل سے۔ (شوکانی) یعنی قرضدار لینے والے کا اعتبار کرے اور اس کی کوئی چیز رہن رکھے بغیر اسے قرض دے دے تو سے بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کا قرض ادا کردے۔ حدیث میں ہے : علی الید ما اخذت حتی تؤ دیہ۔ کہ ہاتھ نے جو کچھ لیا ہے اس کے ذمہ ہے جب تک کہ ادا نے کردے۔ (ابن کثیر)3 اس میں اثم (گناہ) کی نسبت دل کی طرف کی ہے اس لیے کہ کتمان دل کا فعل ہے اور اسکے دواعی اولادل ہی ہوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ وعید ہے کہ کتمان شہادت اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس سے دل مسخ ہوجاتا ہے۔ نعوذباللہ من ذلک (شوکانی) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جھوٹی گواہی دینا اور اسی طرح گواہی کو چھپانا کبیرہ گناہ ہے۔ (ابن کثیر) سعیش بن مسیب اور ابن شہاب کا قول ہے کہ آیت ریا اور آیت دین سب سے آخر میں نازل ہوئی ہیں۔ (شوکانی )
Ayah 2:284

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور تم اپنے دل کی بات کھولو یا اس کو چھپاؤ اللہ اس کا حساب تم سے لے گا4 پھر جس وہ چاہے گا بخش دے گا اور جس کو چاہے گا عذاز کرے گا اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے

ف 4 اس سے معلوم ہوا کہ خیالات پر بھی محاسبہ ہوگا مگر ان سے مراد وہ خیالات ہیں جن پر انسان کو اختیا رہو اور جنہیں وہ دل میں جاگزیں کرلے اور جو خیالات انسان کی طاقت اور اختیار سے باہر ہوں اور ان کو اپنے دل میں جگہ نہ دے تو ان پر محاسبہ نہ ہوگا جیسا کہ اگلی آیت : لا یکلف اللہ۔ الخ میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت للہ مافی السموات۔۔۔ نازل ہوئی تو صحانہ پر گراں گزری اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ہم نماز، روزہ وغیرہ اعمال بجا لا رہے ہیں اس آیت کے مطابق تو بڑی مشکل پڑے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم بھی پہلے اہل کتاب کی طرح سمعنا وعصینا کہنا چاہتے ہو بلکہ تم یوں کہو سمعنا واطعنا غفر انک ربنا والیک المصیر۔ جب صحا بہ نے اس کا اقرار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت : امن الرسول۔۔ نازل فرمائی اور آیت : اوتخفوہ یحاسبکم بہ اللہ۔ کو منسوخ کردیا اور جب اگلی آیت لا یکلف اللہ۔۔۔۔ الخ نازل فرمائی تو اس کے ہر دعا ئیہ جملہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے قد فعلت (میں نے ایسا کردیا) فرمایا۔ (احمد۔ مسلم) واضح رہے کہ یہاں دوسری آیت سے پہلی کے منسوخ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ پہلی آیت میں جو ابہام تھا اس کی وضاحت فرما دی، حافظ اب القیم لکھتے ہیں کہ صحا بہ کرام نسخ کا لفظ وضاحت کے معنی میں بھی استعمال کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ انحضرت ﷺ نے فرمایا میرے لیے اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لوگوں کو وہ خیالات اور وساویس معاف کردیئے ہیں جو ان کے دلوں میں آئیں تاوقتیکہ انکو زبان پر نہ لائیں یا ان پر عمل نہ کریں۔ (ابن کثیر۔ شوکانی )
Ayah 2:285

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

یہ پیغمبر یعنی محمد) ایمان لائے اس کتاب پر جو ان کے مالک کی طر سے ان پر اتری اور ان کے ساتھ مسلمان بھی سب ایمان لائے اور اہ سے کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ہم اس کے کسی پیغمبر کو جدا نہیں سمجھتے5 اور کہتے ہیں اے پر ور دگار ہم نے تیرا ارشاد سنا اور مان لیا تسلیم کرلیا ہے سر اور آنکھوں سے ہمارے گناہ بخشدے دیا ہم کو تیری بخشش چاہیئے مالک ہمارے تیری میں ہی طرف ہم کو لوٹ کر جانا ہےف 6

ف 5 یعنی ایسا نہیں ہے کہ ہم بعض انبیاء کو مانتے ہوں اور بعض کا انکار کرتے ہوں بلکہ ہم تمام انبیا کو مانتے ہیں۔6 اس آیت اور اس سے اگلی آیت کی فضیلت میں متعدد احادیث ثابت ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے ورایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے رات کو سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہوگئیں، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آسمان کا ایک دروازہ کھلا اور ایک فرشتے نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی آپ ﷺ کو دونوروں کی بشارت ہو جو آپ ﷺ کو دیئے گئے اور آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے یعنی سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں اور سورت فاتحہ۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

اللہ کی شخص پر بوجھ نہیں ڈالتا جتنا وہ اٹھا سکے جو اچھا کام کیا اسی کو فائدہ ہو اور جو برا کام کیا اس کا وبال اس پر پڑے گا اے رب ہمارے بھول چوک پر ہم کو مت پکڑ اے پروردگار ہمارے اگلے لوگوں پر تو نے بھاری بوجھ لادا تھا ویسا ہم پر مت ڈال مالک ہمارے جس بوجھ کے اٹھانے کی طاقت نہیں وہ ہم سے مت اٹھوا اور ہمارے گناہوں کو معاف کردے اور ہمارے عیبوں کو ڈھانپ دے ہم کو رسوا نہ کر دنیا اور آخرت میں اور ہم پے رحم فرما ہم دوبارہ گناہ میں نہ پڑیں تو ہی ہمارا خداوند ہے حامی اور مددگار اور آقا اور صاحب تو ہماری مدد کر کافروں کے مقابل میں1

ف 1 مرسل روائیوں میں ہے کہ حضرت جبر یل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ کو تلقین کی کہ ان آیتوں کے خاتمہ پر آمین کہیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے آمین یارب العالمین فرمایا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ اس سورت کے خاتمہ پر سات مرتبہ اللھم ربنا ولک الحمد فرمایا۔ ( درمنشور) بعض صحا بہ سے بھی اس کے خاتمے پر آمین کہنا ثابت ہے اور ایک اروایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان آیتوں کے بعد آمین کی تر غیب دی۔ ( ابن کثیر )