2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 2:160–163

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

مگر نہوں نے توبہ کی اور نیک بن گئے اور کھول کر بیان کردیا تو ان کے قصور میں معاف کرتا ہوں اور میں بہت معاف کرنے والامہبر بان ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

و لوگ ( جیتے جی) کافر رہے اور کفر ہی میں مرگئے ان پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگو کی لعنت ہے3

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

وہ ہمیشہ اسی لعنت یا دوزخ) میں رہیں گے نہ ان کا عذاب اور نہ ہو فرصت ملے گی

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

( لوگو) تمہارا خدا وہی ایک خدا ہے اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں بہت رحم کرنے والا مہربان ہے4

ف 4 اوپر کی آیت میں کتمان حق پر وعید فرمائی ہے۔ اب اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ سب سے پہلے جس چیز کا اظہار ضروری ہے وہ مسئلہ توحید ہے۔ قرطبی ) ۔ ( نیز دیکھئے آل عمران آیت 1)
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بیشک عقلندوں کے لیے آسمان او زمین کی پیدا ئش میں اور رات دن کے ایر پھیر میں ( یعنی) ادل بدل میں کہ ایک کے بعد دوسرا اور کشتیوں میں جو لوگوں کے فائدہ کا سامان لیے کر سمندر میں چلتی ہیں اور مینہ میں جس کو اللہ نے آسماں سے بر سیا پھر مرے پیچھے زمین کو اس سے جلایا ( یعنی ترو تازہ کیا) اور سب قسم کے جانوروں کو اس میں پھیلا یا اور ہواؤں کے پھیر نے میں بادل ( ابر میں) جو آسمان اور زمین کے درمیان حکم تابع ہے ( خدا کی لعنت کی) نشانیاں ہیں1

ف 1 اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کے الا واحد ہونے کا بیان تھا اس آیت میں وحدنیت پر دلائل کا بیان ہے۔ قرآن نے ان امور ثمانیہ کو وجود باری تعالیٰ اور اس کی وحدانیت کے ثبوت میں متفرق طور پر جا بجا ذکر کیا ہے مگر یہاں ان سب کو جمع کردیا ہے۔ ان امو رر تکو ینیہ سے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے متعلق خود مشرکین کو بھی اعتراف تھا کہ ان کی خلق میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ (کبیر) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قریش نے نبی ﷺ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے کوہ صفا کو سونا بنا دے اگر اس نے ایسا کردیا تو ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ لوگ صفا کے سونا بن جانے کا کیسے مطالبہ کررہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت کے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں صرف عقل وفکر کی ضرورت ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:165

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کا شریک دوسروں کو بھی بناتے ہیں اور اللہ کے بارب ان سے محبت رکھتے ہیں اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ اللہ کی محبت سب سے زیادہ رکھتے ہیں2 اگر ان ظالموں کو وہ بات معلوم ہوتی جو (قیامت کے دن) اللہ کا عذاب دیکھتے وقت معلوم ہوگی کہ سب کچھ قدرت (اور اختیار) اللہ ہی کو ہے اور اللہ کا عذاب بیشک سخت ہے3

ف 2 اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل دیکھنے کے باوجود دنیا میں ایسے بدبخت لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو انداد بناتے ہیں اور ان کی نہ صرف عبادت کرتے ہیں بلکہ ان کی محبت میں ائنا فلو کرتے ہیں جتنی کہ مومنوں کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہے۔ ( فالمدد مضاف الی المفعول اعا کحب المو منین اللہ۔ (شوکانی) یہاں انداد سے وہ اصنام مراد ہیں جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے تھے۔ (قرطبی۔ روح) مگر یہ لفظ عام ہے اور ند ہر اس چیز کو کہہ سکتے ہیں جو انسان کے دل پر مسلط ہو کر اللہ تعالیٰ سے غافل اور مشغول کردے جیسے فرمایا : افرایت من اتخذ الھہ ھو اہ۔ کہ ان لوگوں نے اپنی خواہش کو معبود بنارکھا ہے۔ ( کبیر) آج کل جن جبتوں اور قبتوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ ان کو یہ لفظ بالا ولی شامل ہے کیونکہ عوام ان کی تعظیم و تکریم میں اللہ تعالیٰ کو بھول چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی شریعت کی تباع کی بجائے پیروں کی نذر نیاز اور قبر پرستی ہی دین بن گئی ہے۔ مشرکین اللہ تعا کے ساتھ محبت میں ان " انداد " کو بھی شریک کرلیتے ہیں مگر مومنین کی اللہ تعالیٰ سے محبت سراسر خالص اور ہر قسم کے شائبہ شرک سے پاک ہوتی ہے ( مدارج السا لیکن ج 3 ص 13 ۔ 14) نیز انداد کی تشریح کے لیے دیکھئے حاشیہ آیت 22 ۔ مومنین کی اللہ تعالیٰ سے محبت کا بیان۔ آل عمران حاشیہ آتی 31)3 یہاں جواب لو مخذوف ہے۔ ای لو یری الذین ظلمو افی الدنیا عذاب آلا خرتہ لعلموا حین یر ونہ ان لقوتہ۔ بعض نے لکھا ہے کہ یہاں یرھا بمعنی یعلم کے ہے۔ ای لو لیعلم الذعن ان القوتہ اور لو کا جواب مخذوف ہے۔ ای لتبینوا ضرراتخاذ ھم لالھتہ۔ یعنی اگر یہ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کی قوت وقدرت اور اس کے عذاب کی شدت کو صحیح طور پر جان لیں تو ان پر شرک کے مضرات از خود واضح ہوجائیں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ مشرک کے دل میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی شدت عذاب کا تصور نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ دوسروں کو صاحب قوت واقتدار سمجھ کر ان کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے۔ (شوکانی۔ کبیر)
Ayahs 2:166–167

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

جب وہ لوگ جن کو مانتے ہیں اپنے ماننے والوں سے الگ ہوجائیں گے یعنی گرہ چیلوں بیزار ہوجائیں گے) اور (آنکھوں سے) سے عذاب دیکھ لیں گے اور آپس کے تعلق اور محبت کے رشتے کٹ جائیں گے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

اور جو ماننے والے ہی وہ کہیں گے کاش ایک بار اور ہم دنیا میں جاتے اور ہم ان سے الگ ہوتے جیسے آج کے دن یہ ہم سے الگ ہوتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ انکے اعمال ان کو دکھلائے گا جو نرے افسوص ہی افسوس ہوں گے اور ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب نہ ہوگا4

ف 4 ان آیتوں میں قیامت کے دن مشرکین اور ان کے پیشواؤں کی حالت زار کا ذکر ہے کہ جن رؤسا اور پیشواؤں کی محبت یہ دم بھرتے ہیں قیامت کے دن وہ ان سے بیزاری اور لا تعلقی کا اظہار کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھتے ہی ان کے باہم تعلقات قطع ہوجائیں گے آخر کار یہ اپنے پیشواؤں کی دیدہ شوئی کو دیکھ کر بایں الفاظ اپنے غیظ وغضب کا اظہار کریں گے کے کاش ہمیں پھر دنیا میں لوٹا دیا جائے تو ہم بھی تم سے بیزاری کا اظہار کریں جس طرح آج تم ہم سے کر رہے ہو۔ ان کی بد اعمالیاں ان کے دلوں میں حسرت بن کر رہ جائیں گی۔ وما ھم بخا رجین من النار۔ سے ثاتب ہوتا ہے کہ کفار ابدی جہنمی ہیں اور یہ کہ جہنم کبھی فنا نہ ہوگا۔ (قربطی )
Ayah 2:168

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

زمین پر جو چیزیں حلال پاکیزہ ہیں ان کو کھاؤ اور شیطان کی راہوں پر مت چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے5

ف 5 سورت بقرہ میں یا یھا الناس کے لفظ کے ساتھ خطاب یہاں دوسری مرتبہ کیا گیا ہے۔ اوپر کی آتیوں میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو انداد بنانے سے تحذیر کا ذکر چلا آرہا ہے۔ ، مشرکین ان انداد کی تعظیم و تکریم میں اسقدر غلو کرتے کہ عبادت ودعا میں بھی انہی کو پکارتے اور ان کے نام پر بہت سے مویشی بھی حرام قرار دے دیتے۔ ان پر نہ سواری کرتے اور نہ ان کا گوشت کھاتے ان کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے۔ سورة انعام 138 ۔ 139) چناچہ اس آیت میں اس قسم کی تحریمات سے منع فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا۔ صحیح مسلم میں آنحضرت ﷺ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ جو مال بھی میں نے اپنے بندوں کو بخشا ہے وہ اس کے لیے حلال اور طیب ہے مگر شیاطین ان کو گمراہ کردیتے ہیں اور وہ حلال چیزوں کو حرام ٹھہرا لیتے ہیں چناچہ یہاں بھی فرمایا کہ شیطان کی اتباع کر کے ان کو حرام نہ ٹھہراؤ۔ سنن اور شرئع کے ماسوا معصیت۔ خطم الشیطان میں داخل۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ کے حضور میں یہ آیت تلاوت کی گئی تو سعد بن ابی وقاص نے عرض کیا، اللہ کے رسول ! دعا فرمایئے کہ میں مستجاب الدعوہ بن جاؤں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا۔ حلال اور طیب کھاؤ تو تمہاری دعاقبول ہوگی۔ (ابن کثیر) یعنی شیطان ایک طرف تو معاشرے میں اخلاقی برائیوں ( سؤ فحشاء) کو فروغ دیتے ہیں اودوسری طرف دین میں بدعات پیدا کر کے لوگوں کے عقائد و اعمال خراب کرتے ہیں۔ ہر وہ بات جو کتاب وسنت ثابت نہ ہو وہ ان تقو لو اعلی اللہ تعلمون میں داخل ہے بیان کے لیے دیکھئے سورت اعراف۔ آیت 28) ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ السؤ اس برائی کو کہتے ہیں جس میں کوئی جک حد شرعی معین نہ ہو اور فحشا وہ برائی ہے جس کے ارتکاب پر حد معتین ہو۔ (قرطبی)
Ayahs 2:169–170

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تو تم کو برائی اور بےشری کے کام اور اللہ پر بن سمجھے جھوٹ بولنے کو یعنی بہتان کرنے کو کہے گا6

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اورا جب ان سے یعنی مشرکوں سے یا یہودی سے) کہو اللہ نے جو حکم اتارا ہے اس پر چلو تو کہتے ہیں نہیں اس طریق پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے بزرگوں کو چلتے ہوئے پایا بھلا اگر ان کے بزرگ (باپ دادے) بےعقل اور گمرا ہوں1

ف 1 آج کل اہل بدعت کا بھی یہی حال ہے کہ کتاب وسنت کی بجائے آباؤ اجداد کے رسوم کو سند سمجھتے ہیں۔ بقول ابن عباس ؓ یہ آیت گو یہود کے حق میں نازل ہوئی مگر اس میں ان تمام لوگوں کی سخت مذت کی گئی ہے جو اپنے مذہبی پیشواؤں کے اقوال پر کسی نظرو استدلال ک کے بغیر چلے جارہے ہیں چونکہ تقلید کی تعریف بھی یہی ہے کہ کسی دوسرے کی بات کو اس کی دلیل معلوم کئے بغیر قبول کرلیا جائے۔ اس لیے جو لوگ ائمہ کے مسائل قیاسہ کو ان کی دلیل معلوم کیے بغیر واجب العمل سمجھتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ آیا وہ بھی اس مذمت کے تحت نہیں آجاتے۔ ( سلسلہ بیان کے لیے دیکھئے سورت اعراف آیت 28)
Ayah 2:171

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

( اور تیری) اور ان کافروں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص ایسے جا نور کے پیچھے چلا آئے جو صرف پکارنا اور چلانا سنتا ہے2 لیکن مطلب و طلب خاک نہیں سمجھتا پس آواز اس کے کان میں جاتی ہے) یہ کافر بہرے گونگے ہیں اس پے کچھ نہیں سمجھتے

ف 2 تر جمہ میں کی ہوئی وضاحت کے مطابق کفار کو گمراہی اور ضلالت میں ان جانوروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو راعی کی آواز تو سنتے ہوں مگر کچھ سمجھتے نہیں۔ ای مثلک یا محمد ومثل الذین کفروا الخ اور دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ کفار کو بتوں کے پکار نے میں اس راعی کے ساتھ تشببیہ دی گئی ہو جو بھیڑ بکریوں کے دور سے بلاتا ہے۔ ای مثل الذین کفروا ودعائھم الا صنام کمثل الذی الخ مفسرین نے اس مثل کے یہ دونوں مطلب بیان کیے ہیں مگر حاظ ابن کثیر نے پہلی تشبیہ کو پسند فرمایا ہے۔ البحر المحیط۔ ابن کثیر )
Ayah 2:172

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

مسلمانوں جا پاکیز ہم نے تم کو دی ہیں کھاؤ اور اگر تم خاص اللہ کی بندگی کام بھرتے ہو تو اسی کا شکر بجالوؤ3

ف 3 اس میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ایمان کو حلال اور پاکیزہ روزی کمانے اور کھانے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی دعا اور عبادت قبول نہیں ہوتی۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا لو گو ! اللہ تعال طیب ہے او طیب کے بغیر کچھ قبول نہیں فرماتا۔ اس نے پانے رسولوں کو بھی پاک غذاکھانے کا حکم دیا ہے۔ (دیکھئے آیت 5 سورت المومنون) اس کے بعد آنحضرت ﷺ ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے گرد آلود ہے اور اس کے بال پر اگندہ ہیں۔ ایسی حالت میں وہ ہاتھ اٹھاکر یا رب یادب پکارتا ہے مگر اس کا کھانا حرام ہے اور لباس حرام ہے پھر بھلا اس کی یہ دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر بحوالا صحیح مسلم )
Ayah 2:173

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون ( جو بہتا ہو) اور سور کا گوشت اور وہ جا نور جس پر کا ٹتے وقت) اللہ کے سوا اور کسی نام پکارا جائے حرام کیا ہے پھر جو کوئی لا چار ہوجائے لیکن نافرمانی اور سرکشی نہ کرتا ہو اور حد سے زیادہ نہ بڑھتے تو اس پر ان چیزوں کو بھی کھالینے کا) گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ف 4 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انما کلمہ حصر کے ساتھ صرف چار چیزوں کا کھانا حرام قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں سب جانوروں کا گوشت حلا ہے ماسوا ان کے جن کو حدیث میں حرام قرار دیا گیا ہے مثلا درندہ جانور اور پنجہ سے شکار کرنے والا پرندہ اور الحمر لا ھلیتہ یعنی گدھا۔ المیتتہ ہر اس حلال جانور کو کہا جاتا ہے جو بدوں ذبح شرعی کے مرگیا ہو عام اس سے کہ طبعی موت مراہو یا کسی حادثے سے ہلاک ہوگیا ہو (دیکھئے سورت الانعام آیت 145) اور حدیث میں ہے : احلت لنا میتتان الحوت والجر ادودمان الکبدو الطحال کہ دو مردو جانور ہمارے لیے حلال ہیں یعنی مردہ مچھلی اور ٹڈی اور دو خون جگر اور تلی۔ ( قرطبی بحوالہ دار قطنی) اور الدم سے دم مسفوح مراد ہے یعنی وہ خون جو جانور کی رگوں سے بہا دیا گیا ہو لہذا جو خون گوشت کے ساتھ ملا ہوتا ہے وہ بالا جماع حلال ہے حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں گو شت پکاتی تو ہنڈیا کے اور پر خون کی وجہ سے زردی سی آجاتی آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرمالیتے اور اس پر انکار نہ فرماتے۔ (قرطبی) سؤر کی چربی بھی گوشت کی طرح حرام ہے۔ سمندر کے مردہ جانوروں کے لیے دیکھئے۔ ( سورت المائدہ آیت) اور ما اھل لغیر اللہ میں وہ تمام جانور اور دوسری چیزیں آجاتی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی او کی نذر نیاز کے لیے مخصوص کردیا جائے ایسے جانور کا گوشت حرام ہے خواہ ذبح کے وقت کسی بزرگ یا قبر یابت کا نام لیا جائے اور خواہ اسے بسم اللہ واللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا جائے مفسرین نے اھل لغیر اللہ کی تفسیر میں عندالذیح یعنی ذبح وقت اس پر غیر اللہ کا نام لا جائے) کی قید لگائی ہے تو یہ اس وقت کے عمومی رواج کے پیش نظر لکھ دیا ہے اس طرح غیر شرعی تہواروں پر جو جانو ذبح کیے جاتے ہیں ہو بھی اھل لغیر اللہ میں داخل ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ سے استفسار کیا گیا عجمی لوگوں کے تہواروں میں ذبح ہونے والے جانوروں کا گوشت کھانا حلال ہے یا نہیں تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا جو جانور خاص اس دن کے لیے زبح ہوں ان کو مت کھاؤ۔ (قرطبی۔ کبیر) امام شوکانی فرماتے ہیں اس حکم میں وہ جانور بھی آجاتے ہیں جو فرط اعتقاد سے بزرگوں کی قبروں پر ذبح کئے جاتے ہیں۔ ) (فتح القدیر) سلسلئہ بیان کے لیے دیکھئے) سورت الا نعام آیت : ا 145) ایک حدیث میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کی وعید بھی آتی ہے۔ چناچہ فرمایا ھلعون من ذج لغیر اللہ۔ یعنی غیر اللہ تقرب حاصل کر کے لیے ذبح کرنے والا ملعون جامع صیغہ ج 3 ص 266) نیز تفسیر نیشاپوری میں ہے۔ اجمع العلماء لو ان مسلما ذبحتہ ویرید بذ بحھا التقرب الی غیر اللہ صادمرتد ا اوذبحتہ ذیبحتہ مرتد ؛ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اگر کوئی مسلمان غیر اللہ تقرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کرے تو وہ مرتد ہوجائے گا اور اس کا ذیبحہ مرتد کا ذیبحہ ہے۔ تفسیر عزیزی ص 611) نیز سورت الا نعام آیت 3)
Ayah 2:174

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

اللنے نے کتاب (توریت میں ارتار اپنے پیغمبر کے نشان اور دوسرے احکام اس کو جو لوگ چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑا سامول لیتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کے سواکچھ نہیں بھرتے اور قیامت کے دن اللہ نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو تکلیف کا عذاب

ف 1 یہ آیات گو علمائے یہود کے حق میں نازل ہوئی ہیں جو دینوی مال وجاہ کے حصول کی خاطر توریت میں ذکر کیے ہوئے آنحضرت ﷺ کے اوصاف چھپا رہے تھے۔ (دیکھئے آیت 159) مگر اس سے وہ شخص مراد ہوسکتا ہے جو دینوی مفاد کی خاطر دین فروشی کرے ( قرطبی۔ بحر) ولا یکلمھم اللہ میں نفی خطاب بطریق لطف و عنایت ہے ورنہ بطریق عتاب وزجر تو باری تعالیٰ ان سے مخاطب ہوں گے۔ (دیکھئے المو منون آیت 108) الکتاب میں اختلاف بطریق تحریف یا ایمان ببعض الکتاب اور کفر بالبعض کی صورت میں۔ ( دیکھئے آیت 75 ۔ 85 ۔ 91)
Ayahs 2:175–177

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنہوں نے سچی راہ کے بدلے ( دنیا میں) گمراہی مول لی (اور آخرت) میں بخشش کے ندل تکلیف) دوزخ) کی آگ پر صبر کرنا انہی کا کام ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

یہ عذاب ان کو اس لیے ہوگا کہ اللہ نے کتاب ( توریت، انجیل یا قرآن سچی اتاری اور جن لوگوں نے اختلاف کیا وہ ضد میں سچائی سے) دورپڑے گئے ہیں1

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

نیکی یہی ہے کہ ( نماز میں اپنا منہ پورب کرلو پچھم کو نیک وہ شخص ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور پچھلے دن ( قیامت) اور سب فرشتون پر او کتاب ( یعنی قرآن) پر یا تمام آسمانی کتابوں پر) اور تمام پیغمبرو پر اللہ تعالیٰ کی محبت سے اپنا پسیہ باتے والوں اویتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور مانگنے والوں پر اور گر دنیں چھڑانے میں خرچ کیا اور نماز کو درستی سے ادار کرتا رہے اور زکوٰۃ دیتا رہے اور جب ( خدا کے بندوں سے) کوئی اقرار کیا تو اس کو پورا کیا اور سختی اور تکلیف اور لڑائی میں صبر کیا یہ لوگ ایمان واسلام کے دعوے میں) سچے ہیں اور یہی پرہیز گارے ہیں2

ف 2 ای لکن البر بؤ من امن) تحویل قبلہ کا حکم نازل ہو اتو یہ اہل کتاب اور بعض مسلمانوں پر بہت شاق گزرا۔ (ابن کثیر) اس میں بحث وجدال نے یہاں تک شدت اختیار کرلے کہ اس کو حق و باطل کا معیار سمجھا جانے لگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعال نے تحویل قبلہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نیکی یہ ہے نہیں کہ تم مشرق ومغرب کی طرف اپنا رخ کرتے ہو۔ اصل مقصود اور اصل نیکی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال کا ذکر فرمایا کہ ان پر عمل پیرا ہونا اصل نیکی اور تقوی۔ ہے (ابن کثیر۔ کبیر) دراصل یہ آیت جمیع انوع بر حاوی ہے اور اصول عقائد کے ساتھ اعمال واخلاق کے تمام بڑے شعبوں کا اس میں بیان ہے۔ ( البحر۔ المحیط) ایمان باللہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں آمد وصفات باری تعالیٰ کو بلاتا ویل مان کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا دل و زبان سے اقرار کیا جا وے اور لکتاب سے سب آسمانی کتابیں مراد ہیں جو انبیاء پر نازل کی گئیں۔ ان پر ایمان یہ بات خاص طور پر ضروری ہے معانی کے ساتھ ان کے الفاظ کے بھی منزل من اللہ سمجھا جائے۔ (دیکھئے سورت القیامہ آیت :18 ۔ 19) اور قرآن پاک کو اشرف الکتب اور آخری کتاب مانا جائے اور یہ کہ پہلی کتابوں کو مصداق اوان پر مہہین ہے۔ (المائد ہ۔ ایت 41) جملہ انبیاء کو بشر اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث مانا جائے اور آنحضرت کو خاتم النبین تسلیم کیا جائے۔ ( دیکھئے الا حزاب آیت 40) صبر درحقیقت ایک جامع صفت ہے جو جملہ اخلاق پر حاوی ہے۔ (راغب) مگر الباساء (مالی اور معاشی پر یشانیاں) الضرء (بدنی امراض) اور حین الباس (جنگ کی حالت) ان تین حالتوں میں صبر نہایت مشکل اور دشوار ہوتا ہے اس لیے ان حالتوں کو خاص طور پر ذکر کردیا ہے۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:178

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

مسلمانو جو لگ تم میں مارڈالے جائیں ان کا برابر کا بدلہ تم پر فرض ہے3 آزاد کے بدل آزاد غلام کے بدلے غلام عورت کے بدل عورت4 پھر جس خونی کو اس کے بھائی ( مقتول کے وارث) کی طرف سے چکھ بھی معافی دی جائے تو معف کرنے والا دستور کے مطابق ( یعنی بغیر سختی کے) قاتل سے خون بہا وصول کرے اور قاتل اچھے طور سے وارث کو دیت ادا کرے یہ ( عفو اور دیت کا حکم) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف کا طر سے آسانی ہے اور مہر بانی پھر اس کے بعد1 جو وئی زیادتی کرے ( یعنی خونی کو مارڈالے یا زخمی کرے) تو اس کو تکلیف کا عذاب ہوگا

ف 3 زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص کسی دوسرے قبیلے کہ آدمی کو قتل کر ڈالتا تو اس قبیلہ کے لوگ صرف قاتل کو قتل کرنے پر اکتفا نہ کرتے بلکہ اس کے بدلے متعدد آدمیوں کو قتل کئے بغیر صبر نہ کرتے سعید بن جبر کہتے ہیں اسلام سے پہلے دو عرب قبیلوں کی آپس میں جنگ ہوئی تھی ابھی انہوں نے آپس میں بدلہ نہ لیا تھا کہ مسلمان ہوگئے۔ ایک قبیلہ والوں نے قسم کھائی کہ جب تک ہم اپنے غلام کے بدلے دوسرے قبیلہ کے آزاد آدمی کو اور عورت کے بدلے مدر کو قتل نہ کرلیں گے آرام سے نہ بیٹھیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ( ابن کثیر۔ شوکانی 9 اور بدلہ لینے میں تعداد سے منع فرمادیا ہے۔ القتلی اس کا واحد قتیل ہے جو معنی مقتول کے ہے۔ (م۔ ع)4 اس آیت سے بظاہر یہ ثابت ہوتا ہے کہ غلام کے بدلے آزاد عورت کے بدلے مرد قتل نہیں ہوسکتا۔ پہلے مسئلہ میں تو اختلاف ہے مگر دوسرے مسئلہ میں پر اتفاق ہے کہ عورت کا قاتل اگر مرد ہے تو عورت کے بدلے مرد قتل کیا جائے گا۔ حدیث میں ہے۔ المسلمون تیتکا فادماءھم کہ مرد عورت وضیع شریف الغرض سب مسلمانوں کے خون برابر ہیں۔ (قرطبی) اور الحر بالحر سے بظاہر یہ مفہوم نکلتا ہے کہ کافر کے بدلے مسلمان کو قتل کیا جاسکتا ہے یہ مسئلہ گومختلف فیہ ہے مگر صحیح یہ ہے کہ کافر کے بدلے مسلمان قتل نہیں ہوسکتا جیسا کہ بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے۔ (سلسلئہ بیان کے لیے دیکھئے لمائدہ ح آیت 45) 1 آیت میں فمن میں من سے مراد قاتل ہے اور اخیہ سے مقتول ( جو مسلمان ہونے کے اعتبار سے اس کا بھائی ہے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخفیف یعنی آسانی کے معنی یہ ہیں کہ پہلی امتوں میں دیت کا حکم نہ تھا بلکہ قصاص ہی لیا جاتا۔ اس امت کو اللہ تعالیٰ نے دیت کی اجازت عطا فرماکر آسانی کردی۔ (قرطبی) اور پھر اس کے بعد جو زیا دتی کرے یعنی دیت پر راضی ہوجانے یا خون معاف کردینے کے بعد بھی قاتل کو مار ڈالے تو اس کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔ حدیث میں ہے اگر کوئی شخص مارا گیا یا زخمی ہو اتو اسے تو اسے تین چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہے۔ قصاص لے یادیت یا معاف کردے۔ فان ارادالرہ نعتہ فخذواعلی ید یہ۔ یعنی اگر وہ تین کے علاوہ کوئی چوتھا فعل کرنا چاہے تو تم اس کے ہاتھ پکڑ لو اس کے لیے نار جہنم ہے۔ (ابن کثری۔ بحوالہ مسند احمد )
Ayah 2:179

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

عقلمند وقصاص کا قاعدہ تمہا رے ہیں زندگی ہے تاکہ تم ( خونرریزی سے) بچو ف

ف 2 قصاص میں زند گی کے معنی یہ ہیں کہ اس سزا کے خوف سے لوگ قتل سے رک جائیں گے اور کوئی دوسرے کے قتل پر جرات نہیں کرے گا۔ ، پس تتقون کے معنی یہ ہیں کہ تم دوسرے کو قتل کرنے سے بچو گے مگر اسے عام معنی پر محمول کرنا بہتر ہے کہ معصیت سے کنارہ کر کے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ علماء نے لکھا ہے کہ یہ آیت ایجاز اور جامعیت میں بےنظیر ہے۔ ( کبیر )
Ayah 2:180

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

2 تم کو حکم دیاجا تا ہے جب کوئی میں سے مرنے لگے اگر کچھ مال چھوڑنے والا ہو تو ماں باپ اور عزیزوں کے لیے واجبی طور سے وصیت یہ ایک حق ہے پرہیز گاروں پر3

ف 3 جاہلی عرف کے مطابق اولاد کے سوا کوئی وارث نہیں بن سکتا تھا لہذا اس آیت میں والدین اور اقربا کے لیے وصیت فرض کردی تاکہ یہ بالکل محروم نہ رہ جائیں مگر وصیت کا یہ حکم شروع زمانے میں دیا گیا تھا بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے میراث کا قانو نازل فرمادیا۔ (دیکھئے سورت النساء 1) تو ورثہ کے حق میں وصیت کا حکم منسوخ ہوگیا چناچہ آنحضرت ﷺ نے آیت میراث کے نازل ہو کے بعد فرمایا ان اللہ قد اعطی کل ذی حق حقہ فلا وصتیتہ لوارث۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دیدایا ہے۔ لہذا ابن کسی کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔ (ابن کثیر۔ قرطبی) البتہ غیروارث رشتہ داروں کے حق میں اب بھی وصیت جائز ہے مگر وصیت کا یہ حق کل مال کے ایک تہائی حصے سے زیادہ کے لیے نہیں ہے۔ چناچہ حضرت سعد نے اپنی بیماری کے دوران میں آنحضرت ﷺ سے وصیت کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا : لثلث والثنث کثیر۔ کہ ایک لیک ثلث (تہائی) کی اجازت ہے اور یہ بھی بہت ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ بخاری )
Ayahs 2:181–182

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جو وکئ وصیت سنے بعد اس کو بدل ڈالے ( یعنی اس میں کمی بشی کرے) تو اس کا گناہ انہی لوگوں پر ہوگا جو بدلیں بیشک اللہ تعالیٰ ( مردے کی وصیت سنتا ہے

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

جو کوئی وصیت بدلے اسکو جانتا ہے پھر جس کسی کی وصیت کرنے والے کی خطا یا عمدا اس کا قصول معلوم ہوا وہ وارثو اور موصی ل ہیں میں صلح کرادے تو (وصیت بدلنے کا) کچھ گناہ اس پر نہ ہوگا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے4

ف 4 فاصلح بینھم یعنی ورثہ کو سمجھابجھا کر ان میں صلح کر ادے وصیت کا بدلنا بڑا گناہ ہے اور اس میں کتمان یعنی وصیت کو چھپانا بھی داخل ہے لیکن اگر اس میں کسی کی حق تلفی ہو یا خلاف شریعت کسی امر کی وصیت کی جائے مثلا شراب پلانے کی ناچ کرنے کی کسی قبر پر چراغاں کرنے یا میلہ اور عرس وغیرہ کرانے کی تو ایسی وصیت کا تبدیل کرنا واجب او ضرور ہے۔ (وحیدی) حدیث میں ہے الجنف جی الوصیتہ من انکبا ئر کہ وصیت میں کسی کی حق تلفی کبیرہ گناہ ہے اور سنن نسائی میں ہے کہ آنحضر ﷺ نے ایسے شخص کو جنازہ کی نماز نہ پر ھنے کی سرزنش فرمائی ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک شخص ستر سال تک نیک عمل کرتا رہتا ہے مگر مرتے وقت وصیت میں ظلم کرجاتا ہے فرمایا : فیختم لہ لبشر ھملہ فید خل النار۔ کہ اس کا خاتمہ بہت برے عمل پر ہوتا ہے جس کی پاداش میں آگ میں چلا جاتا ہے (قرطبی۔ ابن کثیر )
Ayah 2:183

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

مسلمانوں جیسے اگلے لوگوں کو روزہ رکھنے کا ھکم دیا گیا تھا اسی طرح تم کو بھی گنتی کے کئی دن روزے رکھنے کا ھکم دیا گیا ہے اس لیے کہ تم گنا ہون سے بچو5

ف 5 اس آیت میں روزے کی فرضیت کا بیان ہے اگلے لوگوں سے جمیع امم سابقہ یا خاص کر یہود و نصاری مراد ہیں اور کما کتب میں تشبیہ فرض ہونے کے لیے اعتبار سے ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس تشبیہ وقت اور ہیئت کا اعتبار بھی مقصود ہو کیونکہ بعض آثار اور ابن حنظلہ کی مر فوع روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ ماہ رمضان کے روزے سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے۔ ) قرطبی، ابن کثیر) روزے کی فرضیت 2 ھ میں نازل ہوئی اور روزے نے موجود ہیئت بتدریج اختیار کی ہے ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر آنحضرت ﷺ حسب سابق عاشورہ اور ہر ماہ تین دن کا روزہ کھتے رہے حتی کہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے ابن کثیر) الصیام والصوم کے لغوی معنی ہر اس چیز سے رک جانے کے ہیں جو نفس کو مرغوب ہو۔ (مفردات) اور شریعت میں روزہ کی نیت سے صبح صادق سے سورج کے غروب ہونے کے بعد تک مفطرات ثلاثہ یعنی کھانے پینے اور جماع) سے رکے ہنے کا نام روزہ ہے لعلکم تتقون یہ روزے کی حکمت بیان فرمادی ہے کہ اسلامی روزے کا مقصد تعذیب نفس نہیں بلکہ دل میں تقوی یعنی جی کو روکنے کی عادت پیدا کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ حدیث میں الصیام جنتہ آیا ہے کہ روزہ گناہوں سے بچنے کے لیے ڈھال ہے اور صحیحین میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ماہ رمضان کو شھرالصبر فرمایا ہے یعنی نفس پر ہر طرح کی بندش کا مہینہ۔ (ترغیب) اور فرمایا کہ جو شخص روزہ کھ کر دوسرے کی غیبت کرتا ہے یا جھوٹ بولتا ہے اس کا روزہ نہیں ہے۔ (ترغیب )
Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

پھر جو کوئی تم میں بیمار یا سفر میں ہو ( اور روزہ نہ رکھے) تو دوسرے دنوں میں وہ گنتی پوری کرلے اور جن کو روزے کی طاقت ہی نہیں تو وہ ہر روزے کے بدل ایک محتاجی کو کھان دیں6 پر جو کوئی نفل طور پر زیادہ نیکی کرے تو اس کے لیے اور اچھا ہے7 اور اگر تم سمجھوں تو روزہ رکھنا تمہارے حق میں بہتر ہے

ف 6 آیت میں یطیقونہ کے معنی حضرت ابن عباس اربعض علمانے جن میں امام بخاری بھی شامل ہیں یتجشمو نہ کئے ہیں یعنی جن کو رو سے سے سخت مشقت ہوتی ہے وہ رزہ رکھنے کی بجائے ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ بوڑھے مرد اور عورت کے لیے اب بھی یہ حکم باقی ہے۔ اکثر علمانے یطیقونہ کے معنی روزے کی طاقت رکھنا ہی کئے ہیں اور بعد کی آیت سے اسے منسوخ مانا ہے۔ (رازی۔ ابن کثیر) بہر حال یطیقو نہ کا دیا ہوا ترجمہ اور جن کو روزہ کھنے کی طاقت ہی نہیں ہے محل نظر ہے۔ الکشاف)7 مثلا ایک سے
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا1 راہ بتلاتا ہے لوگوں کو اور اس میں کھلی کھلی دلیلیں ہیں ہدایت کی اور حق کو ناحق سے پہچاننے کی پھر جو کوئی تم میں سے یہ مہینہ پائے ( یعنی صحیح مقیم ہو مسافر نہ ہو) وہ اس میں روزے رکھے اور جو کوئی بیمار یا مسافر ہو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے2 اللہ تم پر آسانی کرنا چاہتا ہے سختی کرنا نہیں چاہتا ( جب تو مریض اور مسافر کر افطار کی اجازتدی) اور یہ چاہتا ہے کہ تم رمضان کی گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی کرو اس احسان پر کہ تم کو سیدرستہ چلایا اور تاکہ تم اس کا شکر کرو3

ف 1 یعنی وہ ایام معدودہ ماہ رمضان ہے لہذا اس پورے مہینہ کے روزے رکھے جائیں۔ علاہ ازیں ماہ رمضان کی فضیلت یہ ہے کہ قرآن پاک تمام آسمانی کتابیں اس مہینہ میں انبیاء پر نازل ہوئی ہیں۔ علماء تفسری نے لکھا ہے کہ اولا قرآن پاک شہر رمضان میں شب قدر کو لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر بیت العزہ میں بتمعا مہ نازل کردیا گیا۔ (دیکھئے سورت القدر آیت 1) اس کے بعد 23 سال میں بتدریج حسب ضرور آنحضرت ﷺ پر نازل ہو تارہا۔ لہذایہ بھی صحیح ہے کہ قرآن مجید رمضان میں نازل کیا گیا اور یہ بھی کہ لیلتہ القدر میں نازل ہوا اور یہ بھی کہ 23 سال میں متفق طو پر نازل کیا گیا۔ (ابن کثیر) یہی وجہ ہے کہ آنحضرت رمضان میں قرآن پاک کا حضرت جبریل (علیہ السلام) سے دور فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری باب بد الوحی) اور بہت سے روایتوں میں ماہ رمضان کی راتوں میں قیام کی فضیلت آئی ہے اور فرمایا کہ اس سے سب پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں یہ قیام آنحضرت ﷺ نے 23 ۔ 25 ۔ 27 تین روز تراویح کی نماز باجماعت پڑھائی۔ فتح الباری ج 1 ص 59) میں بحوالہ قیام اللیل مر وزی بروایت جابر لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے آٹھ رکعت تراویح اور وتر سے قیام فرمایا۔ ارمضان میں قرآن کی تلاوت سے خصوصی شغف احادیث کے علاوہ تعامل سلف سے بھی ثابت ہے جس سے رمضان اور قرآن کا تعلق بخوبی واضح ہوجاتا ہے2 یعنی سفر یابیماری کو جہ سے اگر رمضان کا روزہ نہ رکھ سکے تو دوسرے دنوں میں رمضان کے دنوں کی گنتی پوری کرلے۔ ( ابن کثیر۔ فتح لقدیر)3 اس سے علماء نے عیدک الفطر میں تکبیرات کی مشروعیت اخذ کی ہے پہنچ کر نماز کے کھڑاہو نے تک تکبیریں کہتا رہے۔ الفاظ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر واللہ الحمد۔ (دراقطنی۔ ابن کثیر) (سلسلئہ بیان کے لیے دیکھئے سورت الا علی آیت 1، سورت الکوثر )
Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور ( اے پیغمبر) جب میرے بندے تجھ سے میرا حال پوچھیں ( کہ میں کہا ہوں دورہوں یا نزدیک تو کہہ دے) میں نزدیک ہو جب کوئی دعا کرنے والا مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں قبول کرتا ہوں لوگوں کو بھی چاہیے کہ میرا حکم پائیں ( ایمان لائیں4

ف 4 ایک شخص نے آنحضر ﷺ سے پوچھا کہ ہمارا رب نزدیک ہے تو ہم اس سے مناجات کریں دور ہے تو ہم اس کو پکاریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر) اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ترغیب ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کو سنتا ہے لہذا تمہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ماہ رمضان کے سلسلہ میں اس آیت کے اجانے کا مطلب یہ ہے کہ ماہ رمضان خصوص روزے کی حالت دعاؤں کے قبول ہونے کا خاص سبب ہے۔ ( ابن کثیر) ایک حدیث کے ضمن میں ہے کہ روزے دار کی دعا رائگاں نہیں جاتی۔ اس کی دعا کے لیے بھی آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ (ترمذی۔ نسائی) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ افطار کے وقت دعاقبول ہوتی ہے۔ مشکوہ۔ کتاب الدعوات) یہی وجہ ہے یہ ماہ رمضان کے دران میں کثرت استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ (ترغیب۔ درمنشور)
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

اور نیک کام کریں اور ایمان پر قائم رہیں سید ھا راستہ پانے کی امید رکھیں روزے کی را میں یعنی جس کی صبح کو آدمی روزہ رکھے تم کو اپنی عورت سے صحبت سے درست کردی گئی وہ تمہارا جو ڑا ہیں اور تم ان کے جوڑ ہو اللہ کو معلوم ہوگیا تم اپنی آپ چوری کرتے تھے تو اس نے تم کو معاف کردیا اور تمہاری خطا سے درگزر کیا اب ان سے صحبت کرو اور جو اللہ نے تمہارے لیے ( تمہاری قسمت میں لکھا ہے ( لڑکا یا لڑکی) اس کی خواہش رکھو اور کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری رات کی کالی دھاری سے تم کو صاف دکھائی دینے لگے6 پھر روزے کو رات تک پورا کرو7 اور جب تم مسجد میں اعتکاف بیٹھو تو رات کو بھی عورتوں سے صحبت نہ کرو فاللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں ان کے پاس بھی نہ جانا2 اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنے حکم صاف صاف لوگوں کو بتلاتا ہے تاکہ وہ حکم کا خلاف کرنے سے بچے رہیں

ف 5 ابتدا میں جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو افطار سے صرف نام عشاتک کھانا پینا اور عورت سے مقاربت جائز تھی۔ اگر کسی شخص نے عشا کی نماز پڑھ لی یا وہ اس سے پہلے سوگیا تو اس کا روزہ شروع ہوجاتا تھا پھر اگلے روز افطار یعنی سورج غروب ہونے تک کھانا پینا اور جماع اس پر حرام ہوتا تھا، بعض لوگ ضبط نہ کرسکے اور رات کو عشا کے بعد بیویوں سے مقاربت کر بیٹھے ایک انصاری قیس بن صرمہ کے متعلق روایت ہے وہ روزے کی حالت میں دن بھر کھیت میں کام کرتے رہے۔ افطار کے وقت گھر آئے اور بیوی سے پوچھا کوئی چیز کھانے کے لیے ہے ؟ بیوی بیوی نے جواب دیا نہیں۔ آپ ٹھہریئے میں جاکر پڑسیوں سے لاتی ہوں بیوی کے چلے جانے کے ان کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئے۔ بیوی کو دیکھ کر نہایت افسوس ہو۔ پھر اگلے دن روزہ رکھنا پڑا ابھی آدھا دن نہیں گزرا تھا کہ کمزوری کی وجہ سے غش کھاگئے، اس واقعہ کا علم آنحضرت ﷺ کو ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیح بخاری و ابوداؤد)6 صبح کو سفید دھاری سے مراد صبح صادق ہے۔ اس خیط اسود اور خیط بیض کے سمجھنے میں بعض صحابہ کرام کو غلط فہمی ہوگئی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس سے صبح کاذب مراد ہیں۔ (ابن کثیر) معلوم ہوتا ہے کہ قرآن فہمی کے لیے صرف عربی زبان جان لینا کافی نہیں ہے بلکہ حدیث کی بھی ضرورت ہے۔۔ مسئلہ : رمضان کا روزہ کھنے کے لیے رات کو نیت ضروری ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : من لم الصیام من ا اللیل فلا صیام لہ کہ جو شخص رات کو روزہ کی بختہ نیت کر اس کا روزہ نہیں ہے۔ (قرطبی ) 1 رمضان سے چونکہ اعتکاف کا خاص تعلق ہے اس لیے یہاں اعتاف کے احکام کی طرف اشارہ فرمادیا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہا محدثین کتاب الصیام کے بعد کتاب ال اعتکاف کا عنوان قائم کرتے ہیں معتکف کے لیے بیوی سے مقاربت یعنی جماع اور جماع کے داعی (بوس وکنار) سے مجتنب رہنا ضروری ہے۔ ہاں خانگی ضروریات کے سلسلہ میں عورت اپنے خاوند سے ملا قات کرسکتی ہے جیسا کہ بعض ازواج مطہرات نے مسجد میں آنحضرت ﷺ سے ملاقات کی اور بیوی خدمت بھی کرسکتے ہے۔ (ابن کثیر۔ فتح القدیر) اگر معتکف نے اپنی بیوی سے جماع کرلیا تو اس کا اعتکاف ختم ہوگیا اسے نئے سرے سے اعتکاف کرنا چاہیے۔ فتح البیان)2 یعنی یہ احکام اروبعہ (مباشرت کی اباحت، صبح تک کھانے پینے کی اجازت، طلوع فجر سے غروب آفتاب تک روزہ پورا کرنا، اعتکاف کی حالت میں عورت سے مقاربت کی ممانعت) حدود الہی ہیں۔ ان کی سختی سے پابندی کرو۔ (ابن کثیر) مسئلہ : احادیث میں سحر کے وقت کھانا کھا کا کر روزہ رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے فرمایا : تسحرو وفان فی السحروبرکتہ کہ سحری کھاؤ سحری کے کھانے میں برکت ہے۔ ایک حدیث میں ہے ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق صرف یہ ہے کہ ہم سحری کھاتے ہیں۔ لہذا سحرہ کے وقت کچھ کھائے بغیر روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ (ابن کثیر )
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھا جاؤ او نہ مال کا مقدمہ حاکموں تک اس لیے لے جاؤ کہ لوگوں کے مال میں سے یاک حصہ تم جان بوجھ کر ناحق ہضم کرلو3

ف 3 جو مال بھی جائز طریقے سے حاصل کیا جائے خواہ مالک کی راضامندی بھی شامل ہو تو وہ باطل (ناحق) طرق سے کھانا ہے۔ مثلا زنا کی اجرت نجومی کی فیس۔ شراب کی فروخت۔ لاٹری یا جوئے کے ذریعہ کمائی یا گانے بجانے اجرت۔ العرض تمام ناجائزومسائل اکل بالبابل کے تحت آجاتے ہیں۔ اسی طرح رشوت دیکر یا حکام کے سامنے جھوٹی گواہیاں پیش کر کے کسی کے مال پر قانونی تصرف حاصل کرلینا بھی حرام ہے محض حاکم کے فیصلہ سے کوئی حرام مال حلال نہیں ہوجاتا۔ حضرت ام سلمہ ؓ سے ررایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی فریق کے دلائل سن میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں تو میرے فیصلہ سے ایک کے لیے دوسرے کا مال حلال نہیں ہوجائے گا۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اس نے آگ کا ایک ٹکڑا حاصل کیا ہے۔ بخاری ومسلم) اس حدیث سے معلم ہوا کہ ظاہری بیانات کی بنا پر ناحق فیصلہ سے حرام چیز حلال نہیں ہوجاتی۔ صحابہ، تابعین اور ائمہ کرام یہی مذہب ہے۔ امام ابوحنیفہ سے ایک قول اس کے خلاف بیان کیا جاتا ہے۔ _ (قرطبی)
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

تجھ سے چاندوں کو پوچھتے ہیں تو کہہ چاند سے ( یعنی سے اس کے گھٹنے اور بڑھنے سے) لوگوں وقت معلوم ہوتے ہیں اور حج کا وقت معلوم ہوتا ہو ہے4 اور یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں چھت پر سے آؤ بلکہ نیکی اسی شخص کی ہے جو حرام کاموں سے بچا رہے اور گھروں میں دروازوں سے آیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ تم مراد کو پہنچو5

ف 4 اھلتہ یہ جمع ہلال کی ہے اور چاند کے پورا ہونے سے پہلے اسے ہلال کہا جاتا ہے۔ لوگوں نے اس کی کمی بیشی کا سبب دریافت کیا اللہ تعالیٰ نے مواقیت للناس فرما حکیمانہ انداز میں اس کے فوائد کی طرف اشارہ فرمادیا ہے چاند کے بڑھنے گھٹنے کے فائدے یہ ہیں کہ عبادات اور معاملات جیسے طلاق کی عدت حج، عید الفطر وغیرہ اس کے ساتھ معلق ہیں ان کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ (شوکانی)5 اس کا تعلق بھی چونکہ حج سے ہے اس لیے یہاں بیان فرمادیا جاہلیت میں توہم پرستی کا غلبہ تھا ان کے ہاں یہ رسم تھی کہ وہ حج کے لیے احرام باندھ لیتے اور پھر گھر میں آنے کی ضرورت پڑتی تو دروازے کی بجائے پیچھے سے چھت پر چڑھ کر آتے۔ کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ احرام باندھ لینے والے کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس کے اور آسمان کے درمیان کوئی چیز حائل ہو۔ اس آیت میں ان کی غلط رسم کی تردید فرمائی ہے۔ (شوکانی )
Ayah 2:190

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور جو لوگ تم سے لڑیں تم بھی اللہ کی راہ میں ( یعنی دین کی حمایت میں نہ دنیا کی غرض سے) ان سے لڑو اور زیاتی مت کرو اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا6

ف 6 اوپر کی آیت میں دو حکم مذ کور ہیں۔ (شو کانی) معرفت الہی میں استقامت جس کا تعلق علم سے ہے اور طاعت میں تقوی کے راہ اختیار کرنا جو عمل کے متعقل ہے۔ اس آیت میں جہاد کا حکم ہے جو عملا تقوی کی مشکل تریں صورت ہے۔ (کبیر) جملہ اہل علم اس امر پر متفق ہیں کہ ہجرت سے قبل قتال ممنوع تھا۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد یہ پہلا حکم ہے جو قتال کی اجازت میں نازل ہوا۔ اس آیت کے تحت جب تک کہ عام اجازت نازل نہیں ہوئی آنحضرت ﷺ انہیے لڑتے جو پہل کرتے اس کے بعد عام اجازت ہوگئی۔ اس آیت میں اعتدا۔ یعنی ہر قسم کے ظلم و زیادتی سے منع فرمادیا ہے۔ چناچہ حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ (جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو) تو حکمدیتے جاؤ اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو اللہ تعالیٰ کے منکر ہیں لڑو مگر خیانت بدعہدی اور مثلہ نہ کرو۔۔ بچوں، عورتوں اور دوریشوں (راہبوں) کو قتل نہ کرو۔ (صحیح مسلم) معلوم ہوا کہ یہ جملہ امور اعتدا میں داخل ہیں جس سے منع فرمایا ہے۔ ، (ابن کثیر، کبیر) بعض نے اس آیت کو بلا وجہ منسوخ قراردیدیا ہے۔ (کبیر)
Ayah 2:191

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور ان کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انہوں نے تم کو جہاں سے نکالا (یعنی مکہ سے تم بھی ان کو وہٓں سے نکال باہر کرو7 او دیین کو خرابی قتل سے بد حر ہے8 اور مسجد حرام کے پاس ان سے مت لڑو جب تک وہ تم سے اس جگہ نہ لڑیں پھر اگر وہ مسجد حرام میں تم سے لڑیں تو تم بھی ان کو قتل کرو کافر کی یہی ( قتل اور اخراج) سزا ہے1

ف 7 چناچہ آنحضرت ﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو اس آیت آیت کے تحت حرم سے ہر شخص کا نکال دیا جو اسلام نہ لایا تھا اور پھر حرم مدینہ سے بھی یہود کو جلا وطن کردیا اور فرمایا : ییتقع دینان فی جز یرہ العرب۔ کہ اب عرب میں دودین اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ (شوکانی۔ کبیر)8 یعنی مکہ کے حرم یا ماہ حرام میں مقابلہ بیشک جرم ہے مگر الفتنہ یعنی شرک اور دین سے بر گشتہ کرنے کے لیے مسلمانوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنانا اس مقابلہ سے بھی جرم ہے لہذا کسی اند یشہ کے بغیر مشرکین کو قتل کرو گو یا اس آیت میں بھی حرم مکہ یا شہر حرم میں مقاتلہ کی مشروط اجازت دی ہے۔ کبیر۔ فتح القدیر) 1 یعنی سرزمین مکہ نے شک حرم یعنی جائے امن ہے اس میں قتل و قتال ممنوع ہے مگر جب ظلم وتشدد کی ابتدا ان (کفار) کی طرف سے ہوئی ہے تو اب لڑائی جائز ہے۔ پھر بھی فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ اسی کو قتل کرو جو ہتھیار اٹھائے اور باقی سب کے لیے امن عام کا اعلان فرمادیا۔ ابن کثیر۔ بخاری وغیرہ )
Ayahs 2:192–193

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ ( لڑنے سے) باز آئیں ( اور اسلام قبول کریں او اللہ قصوروں کو) بخشنے والا ( اپنے بندوں پر) مہربان ہے

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

ان سے یہاں تک لڑو کہ دین کی خرابی نہ رہے اور اللہ کا ایک دین ہوجائے2 (خدا کے سوا دوسرا کوئی نہ پوجا جائے) پھر اگر وہ کفریا مخالفت سے) باز جائیں تو اب ان پر کوئی زیاتی نہ ہوگی مگر جو ظلم کریں3

ف 2 یعنی ان سے اس وقت تک بر سر پیکار ہو جب تک کہ فتنہ شرک اور ظلم وستم) کا ہر طرح سے قلع قمع ہوجاتا اور اللہ تعالیٰ کا دین ہر طرح سے غالب نہیں آجاتا۔ ایک حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا، مجھے اس وقت تک لڑنے کا حکم ملا ہے جب تک وہ الا لہ الا اللہ کے قائل نہیں ہوجاتے جب وہ اس کے قائل ہوجا " ئیں گے تو ان کے جان ومال محفوظ ہیں۔ الایہ کہ ان پر اسلام کی رو سے کوئی حق عائد ہو تو اسے پورا کیا جائے گا۔ (ابن کثیر، بحوالہ صحیحین)3 یعنی اگر یہ شرک اور مسلمانوں کے ساتھ مقاتلہ سے باز جائیں تو اس کے بعد جو شخص ان سے جنگ کرے گا وہ ظالم ہے اور اسے اس زیادتی کی سزا ملے گی یہاں عدوان کا لفظ ایسی ہی سزا کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ابن کثیر )
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

حرمت کا مہینہ کے مقابل ہے اور دوسری بھی ادب کی سب چیزوں میں برابر کا بد لہ ہے پھر جو کوئی تم پر زیادتی کرے تم بھی اتنی ہی زیادتی اس پر کرو4 اور اللہ سے ڈرتے رہو ( ایسا نہ ہو کہ بدلہ اس کی برائی سے زیادہ ہوجائے) اور سمجھ لو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے ان کی مدد کرے گا

ف 4 آنحضرت ﷺ ذع القعدہ 2 ھ میں جب عمرہ کے لیے تشریف لے گئے تو کفار نے مزاحمت کی اور عمرہ سے روک دیا مگر آخر کار صلح ہوگئی اور قرار پایا کہ مسلمان آئندہ سال عمرہ کریں یہ معاہدہ صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ پھر جب دو سرے سال 7 ھ میں مسلمان عمرہ کے لیے روانہ ہوئے ان کو اندیشہ ہوا کہ ماہ حرام اور حرم مکہ میں لڑائی ممنوع ہے لیکن اگر کفار نے بد عہدی کی اور ہمیں عمرہ نہ کرنے دیا تو ہم کیا کریں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر کبیر) یعنی اگر کفار حرام مہینوں کا لحاظ نہ کریں تو تم بھی نہ کرو اور اگر وہ بد عہدی کریں تو تم بھی حرم مکہ کا لحاظ مت کرو۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) فائدہ واضح رہے کہ اشہر حرم (حرام مہینے) چار ہیں۔۔ ذوالقعدہ، 2 ۔ ذولعقدہ، 3 ۔ محرم، 4 ۔ رجبیعنی اللہ کی راہ میں جہاد اور مال خرچ کرنے سے دریغ کرنا گویا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈلنا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اسلام پھیل گیا اور اسے قوت حاصل ہوگئی تو انصار جمع ہوئے اور نہوں نے آپس میں مشہو رہ کیا کہ اب لڑائی بند ہوچکی ہے لہذا اگر ہم اہل و عیال میں رہ کر کچھ گھر کا دھندہ کرلیں تو اچھا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن کثیر) مگر آیت اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہے اور سب نیک کاموں میں مال خرچ کرنے کا حکم ہے اور دینی اور دینوی خطروں سے دور رہنے کا حکم ہے۔ (شوکانی )
Ayahs 2:195–196

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اور ان کی مدد کرے گا اور انکو قوت دے گا) اور اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو5 اور احسان کرو اللہ احسان کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور حج اور عمرے کو اللہ کے لیے پورا کرو6 پھر اگر تم ( بیماری کی وجہ سے) روکے جاؤ تو جو میسر ہو قربانی بھیجو7 اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے اپنے سر نہ منڈاؤ8 اگر تم میں کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو ( تو بال اتارنے کا) فدیہ دینا چاہیے روزہ یا خیرات یا قربانی9 پھر جب تم کو خاطر جمع ہو ( یعنی بیماری نہ رہے دشمن کا خوف جاتا رہے) اور کوئی عمرے کو حج سے10 ملا کر تمتع کرنا چاہے تو جیسے میسر آئے قربانی کرے پھر اگر قربانی کا مقدور نہ وہ تو تین روزے حج ( کے دونوں) میں رکھ لو اور سات جب لوٹ کر آؤ1 یہ پورے دس ہوئے2 یہ حکم یعنی تمتع جا ئز ہونا تمتع میں قربانی یا روزے واجب ہونا) اس شخص کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد کے پاس نہ رہتے ہوں3 اور اللہ سے ڈر و اور جانے رہو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے

ف 6 یعنی ان کے ارکان پوری طرح ادا کرو حج تو بلا اتفاق فرض ہے اور ارکان اسلام میں سے ہے مگر عمرہ کے وجوب میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک وجب ہے جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتاے اور بعض سینیت کے قائل ہیں احادیث میں دونوں طرح کا ثبوت ملتا ہے مگر احرام باندھ لینے کے بعد اس کا اتمام سب کے نزدیک واجب ہے۔ (شوکانی)7 روکے جاؤ یعنی خانہ کعبہ تک نہ پہنچ سکو تو ایک ہدی ( اونٹ۔ گائے۔ یا بکری) حسب ماتیسر جہاں روکے جاؤ ذبح کر کے احرام کھولاؤ اور آئندہ سال حج یا عمرہ کرلو۔8 اس کا عطف اتموالحج پر ہے اور یہ حکم حالت امن کے ساتھ مخصوص ہے یعنی حالت امن میں اس وقت تک سزا سر نہ منڈو تو (احرام۔ نہ کھو لو جب تک کہ حج وعمرہ کے اعمال پو ری طرح ادا کر کے فارغ نہ ہوجاؤ۔9 یعنی احرام باندھنے کے بعد تمہیں بیماری یا کسی عذر کی بنا پر سر منڈوانے کی ضرورت پیش آجائے تو سرمنڈوا کر تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو بطور فدیہ انجام دو ۔ (1) تین دن کے روزے (2) یاچھ مسکینوں کا کھانا کھلا نا (3) یا ایک جانور کی قربانی جیسا کہ کعب بن عجرہ کی حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ان کی تصریح فرمائی ہے۔ ( ابن کثیر)9 حج کی تین قسمیں ہیں۔ 1 ۔ حج افراد۔ یعنی میقات (مقرہ جگہ) سے صرف حج کی نیت سے احرام باندھے۔ 2 ۔ حج اور عمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کر کے احرام باندھے حج کی ان دونوں صوروتوں میں یوم الفحر ( 10 ذی الحجہ) سے پہلے احرام کھو لنا جائز نہیں ہے 3 ۔ حج تمتع یعنی میقات سے صرف عمرے کا احرام باندھے اور مکہ پہنچ کر عمرہ کر کے احرام کھول دے۔ پھر آٹھویں ذی الحجہ (یوم الترویہ) کو مکہ ہی سے حج کا احرام باندھ کر حج ادا کرے اور فارغ ہونے کے بعد یوم النحر یعنی دسویں تاریخ کو احرام کھلا جائے۔ آیت میں اس تیسری قسم (حج) کے احکام کا ذکر ہے۔ یعنی ایسی صورت میں حسب تو فیق دم تمتع (قربانی) ضرور جو کم از کم ایک بکری ہے سب ائمہ اس پر متفق ہیں۔ شوکانی۔ ابن کثیر ) 1 حج کے دنوں سے مراد ہے یوم عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ سے پہلے کے آٹھ دن یعنی تین روزے تو ان دو نوں میں رکھے اور سات روزے وطن پہنچ کر۔ (ابن کثیر)2 یہاں عشرہ کے بعد کا ملتہ کا لفظ بطور تاکید لا یا گیا ہے اور نے لکھا ہے کہ کاملتہ کے لفظ سے اس معنی کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ان روزوں سے ہدی یعنی قربانی کا پورا ثواب مل جائے گا۔ (قرطبی)3 یعنی حج تمتع کی اجا زت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اہل حرم نہ ہوں اور اہل حرم سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو مکہ کے اندر رہتے ہوں اور یا باہر رہتے ہوں مگر ان کی مسافت قصر صلوہ کی مسافت سے کی ہو۔ (ابن کثیر 9) اور بعض نے لکھا ہے کہ حدود میقات کے اندر رہنے والوں کو من لم کین الھلہ حاضری المسجدالحرام (جس کے گھر والے مسجد حرام کے پاس نہ رہتے ہوں) کہ جائے گا۔ (ابن کثیر، ابن جیریر )
Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے تو کئی مہینے ہیں جو مشہور ہیں4 یعنی شوال اور ذی قعدہ اور دن دن ذی الحجہ کے5 پھر جو کوئی ان دو نوں میں حج کا احرام باندے لے تو حج میں ( یعنی حج کو ختم ہونے تک شہوت کی باتیں اور گناہ اور جھگڑا نہ کرے6 اور جو نیک کام تم کرو گے اللہ کو معلوم ہوجائے گا اور راہ خرچ اپنے ساتھ رکھو اسی لیے کہ اچھا تو شہ یہی ہے ہے کہ بھیک مانگنے سے بچے7 اور عقلمند مجھ سے میرے عذاب اور غصہ سے ڈرتے ہو

ف 4 اشھر معلومات کی یہی تشریح حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور دیگر صحابہ وتابعین سے مروی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حج کا احرام بھی غرہ شوال سے پہلے نہ باندھا جائے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں من السنتہ ان لا یحرم باالحج الا فی اشھر الحج۔ کہ سنت یہ ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں کے سوا دوسرے مہینوں میں نہ باندھا جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول مرفوع حدیث کے حکم میں جسکی تائید حضرت جابر ؓ کی روایت سے بھی ہوتی ہے جو مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے مروی ہے اور یہی مسلک صحیح اور راحج ہے۔ (شوکانی، ابن کثیر) مسئلہ۔ عمرہ تو سارے سال میں جب چاہے کرسکتا ہے مگر حج کے لیے یہ مہینے مقرر ہیں اور عشرہ ذی الحجہ میں اس کے مناسک اتمام پاتے ہیں اور یوم النحر کی رات گزرجانے کے بعد حج ختم ہوجاتا ہے۔ (ابن کثیر) مسئلہ حج کا احرام تو مکہ کے اندر سے ہی باندھا جاسکتا ہے مگر عمرے کے احرام کے لیے باہر حل میں جانا ضروری ہے اور اس میں آفاقی اور مکی دونوں برابر ہیں ( متوطا)5 حج کو اپنے اوپر لازم کر نایہ ہے کہ حج کی نیت کے ساتھ احرام باندھ لے اور زبان سے البیک کیے۔ ( اب کثیر)6 یعنی حج میں یہ سب باتیں حرام ہیں۔ فث (شہوت کی باتوں) سے جماع اور تمام وہ چیزیں مراد ہیں جو جماع کی طرف مائل کرنے والی ہوں اور فسوق کا لفظ ہر قسم کے گناہ کو شامل ہے کہ جس نے حج کیا اور اس میں رفث وفسق نہیں کیا تو وہ گنا ہوں سے اس طرح پاک ہوگیا جیسے ماں کے پیٹ سے پید ہونے کے وقت تھا۔ (ابن کثیر)3 یہ معنی " التقوی کے لغوی معنی کی بنا پر ہیں۔ (روح المعانی) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اہل یمن حج کو نکلتے تو کوئی زاد راہ ساتھ نہ لیتے اور اپنے آپ کو متوکل کہتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی زاد راہ ساتھ نہ لینا اور اپنے آپ کو تکالیف میں ڈالنا کوئی نیکی نہیں ہے بلکہ بہترین زلو تقوی یعنی منھیات سے بچنا ہے۔ ابن جریر۔ ابن کثیر )
Ayah 2:198

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ( حج کے دنوں میں) اپنے پروردگار کا فضل و کرم چاہو8 پھر جب عرفات سے ( نویں تاریخ شام کو لوٹو تو ( مزدلفہ) میں آکر اللہ کی یاد کرو9 اور جیسے اللہ تعالیٰ نے تم کو بتلایا اسی طرح کرو اور اس سے پہلے تو تم گمراہ تھے

ف 8 ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ ایام حج کو ذکر الہی کے ایام سمجھتے۔ اس لیے ان میں کسب معاش کو گناہ خیال کرتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی حج کے دوران خریدو فروخت ممنوع نہیں ہے بلکہ یہ مال و دولت بھی اللہ تعالیٰ فضل و کرم ہے اس لیے روزی کمانا منع نہیں ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)9 نوذالحجہ کو عرفات میں وقوف کرنا (ازوال آفتاب تاغروب شمس) حج کا سب سے بڑارکن ہے ایک طویل حدیث کے ضمن میں ہے الحج عرفتہ کہ عرفات میں وقوف ہی حج ہے۔ یوم النحر کی صبح سے پہلے سے پہلے جس نے وقوف کرلیا اس کا حج ہوگیا۔ مشعر حرام سے مراد مزدلفہ اور حرم کے اندر ہونے کی وجہ سے اسے " الحرام " کہد دیا گیا ہے عرفات سے پلٹ کر حجاج رات یہاں بسر کرتے صبح کی نما غلس میں پڑھ کر قرب اطلوع آفتاب تک ذکر الہی میں مشغول رہتے۔ آیت میں اسی کا حکم ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی )
Ayah 2:199

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

ایک بات اور ہے کہ اسی مقام سے لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں10 اور اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگو بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

ف 10 عرفات کا میدان حرم کی حدود سے باہر اس لے قریش مزدلفہ سے آگے نہ جاتے۔ ان کو حکم دیا کہ سب لوگوں کے ساتھ عرفات پہنچ کر لوٹنا ضروری ہے۔ (ابن کثیر )